22. Surah Al-Hajj

الحجThe Pilgrimage · 78 ayahsفی ظلال القرآن

Ayahs 22:1–2

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ١ۚ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَیْءٌ عَظِیْمٌ Open ayah 22:1 in the Quran reader

” لوگو ، اپنے رب کے غضب سے بچو ، حقیقت یہ ہے کہ قیامت کا زلزلہ بڑی (ہولناک) چیز ہے۔

یَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِیْدٌ Open ayah 22:2 in the Quran reader

جس روز تم اسے دیکھو گے ، حال یہ ہوگا کہ ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے سے غافل ہوجائے گی ، ہر حاملہ کا حمل گر جائے گا اور لوگ تم کو مدہوش نظر آئیں گے ، حالانکہ وہ نشے میں نہیں ہوں گے ، بلکہ اللہ کا عذاب ہی کچھ ایسا سخت ہو گا

درس نمبر 144 تشریح آیات 1……تا……24 یایھا الناس ……شدید (2) الفاظ کی شوکت کے ساتھ یہ ایک خوفناک آغاز کلام ہے ، انسان اس قدر خوفزدہ ہوجاتا ہے کہ دل کا نپنے لگتا ہے تمام انسانوں کو مخاطب کر کے زور دار آواز میں کہا جاتا ہے۔ ” لوگو “ ! ! یایھا الناس ” اللہ سے ڈرو ، اللہ سے ڈرو۔ “ اتقوا ربکم ۔ ” کس دن سے تمہیں ہم ڈراتے ہیں۔ “ ان زلزلۃ الساعۃ شی عظیم (22 : 1) ” قیامت کا زلزلہ بڑا ہی ہولناک ہے۔ “ اس زلزلے اور اس عظیم اور ہولناک چیز کی تفصیلات یہاں نہیں دی جاتیں ، اس سے اس کی خوفناکی اور بڑھ جاتی ہے۔ زلزلہ ہے ! عظیم ہے ! خوفناک ہے ! اسے الفاظ میں بیان ہی نہیں جاسکتا۔ بس اس سے ڈرو ” جس طرح ایک شخص پہلے بھاگو بھاگو کہنے کے بعد وجہ بتاتا ہے۔ “ اور بعد میں جو تفصیلات مختصر سی بتائی جاتی ہیں تو ان سے اس زلزلے کی خوفناکی میں شدید اضافہ ہوجاتا ہے۔ ایک ایسا منظر جس میں دودھ پلانے والیاں بچوں کو چھوڑ کر ادھر ادھر بھاگتی پھر رہی ہیں اور انہیں نہ کچھ نظر آتا ہے اور نہ سوجھتا ہے ، دوڑ ہی دوڑ ہے۔ اس خوفناکی اور دوڑ میں تمام حاملہ عورتوں کے حمل گر جاتے ہیں ، کوئی ادھر پڑی ہے کوئی ادھر اور لوگوں کی حالت یہ ہے کہ وہ مدہوش نظرآتے ہیں لیکن دراصل وہ نشے میں نہیں ہوں گے۔ ان کی خوابیدہ نظریں اور ڈگمگاتے قدم نشہ بتاتے ہیں لیکن ہیں وہ پریشان۔ یہ منظر حرکت اور افراتفری سے بھرا ہوا ہے۔ لوگوں کی موجیں ادھر سے ادھر بھاگ رہی ہیں لیکن پتہ نہیں کہ کیوں انسانوں کا سیلاب ہے۔ انسانی سوچ قرآنی انداز بیان کے اس منظر سے پیچھے رہ جاتی ہے اور تخلیل کی آنکھ انسانوں کے اس متلاطم سیلاب کے آخری حصے تک نہیں پہنچ سکتی۔ یہ اس قدر ہولناک منظر ہے کہ اس کے حجم اور ضخامت کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔ ایک عورت آگ میں بھی اپنے بچے کو سینے سے لگائے رکھتی ہے لیکن یہ کیا عظیم ہولناک منظرہو گا کہ عورتیں بچوں کو سینے سے اٹھا کر پرے پھینک دیں گی اور تمام حاملہ عورتیں حمل گرا دیں گی اور لوگ مدہوشی کی حالت میں ہوں گے۔ اصل بات یہ یہ کہ ولکن عذاب اللہ شدید (22 : 2) ” اور لیکن اللہ کا عذاب بہت سخت ہوگا۔ “ اس کے تصور سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جبکہ وہ آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں … یہ ہے آغاز سورة زلزلہ انگیز اور خوفناک ! ایسے مناظر کے ہوتے ہوئے بھی بعض لوگ ایسے سنگدل ہیں کہ وہ اللہ کے بارے میں بےتکی باتیں کرتے ہیں اور اللہ کا خوف ان کے دل میں نہیں ہے۔ ومن الناس ……السعیر (4) ” بعض لوگ ایسے ہیں جو علم کے بغیر اللہ کے بارے میں بحثیں کرتے ہیں اور ہر شیطان سرکش کی پیروی کرنے لگتے ہیں ، حالانکہ اس کے تو نصیب ہی میں یہ لکھا ہے کہ جو اس کو دوست بنائے گا اسے وہ گمراہ کر کے چھوڑے گا اور عذاب جہنم کا راستہ دکھائے گا۔ “ اللہ کے بارے میں بحث ! خواہ اللہ کے وجود کے بارے میں ہو ، اللہ کی وحدانیت کے بارے میں ہو ، اللہ کی قدرت کے بارے میں ہو ، اللہ کے علم کے بارے میں ہو ، اللہ کی صفات میں سے کسی صفت کے بارے میں ہو ، اور یہ دیکھتے ہوئے کہ انسان نے کن خوفناک مناظر سے دوچار ہونا ہے اور کن ہولناک مقامات سے گزرنا ہے ، کسی عقلمند آدمی کی جانب سے یہ بحث عجیب اور جسورانہ نظر آتی ہے ، یہ منظر ایک خاطی اور پر تقصیرات بندے کو ہلاک کر رکھ دیتا ہے۔ کاش کہ اللہ کے بارے میں بات کرنے الے علم معرفت اور یقین کی بات کرتے اور علی وجہ البصیرت کرتے ، لیکن وہ تو بغیر علم کے اپنے حدود سے بڑھ رہے ہیں اور یہ بحث وجدال شیطان مردود کی اطاعت کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔ انسانوں میں ہر وقت ایسے لوگ موجود ہوتے ہیں اور وہ اپنی خواہشات نفس کے اتباع میں ایسی باتیں کرتے ہیں۔ ویتبع کل شیطن مرید (22 : 3) ” اور وہ ہر شیطان سرکش کی پیروی کرنے لگتے ہیں۔ “ جو نافرمان ، مخالف حق اور متکبر ہے۔ کتب علیہ انہ من تولاہ فانہ یضلہ ویھدیہ الی عذاب السعیر (22 : 3) ” حالانک ہ اس کے تو نصیب میں لکھا ہے کہ جو اسے دوست بنائے گا اسے گمراہ کر کے چھوڑے گا اور عذاب جہنم کا راستہ دکھائے گا۔ “ تو اس کی دوستی کا حتمی نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ اپنے دوست کو جہنم رسید کر دے گا۔ آخر کوئی عقلمند شخص دیکھتے اور بوجھتے ہوئے ایسے شخص سے دوستی کیوں کرتا ہے اور اس سے ہدایات کیوں لیتا ہے ؟ لوگوں کی حالت یہ ہے کہ وہ بعث بعد الموت کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں اور پھر قیامت کے زلزلے میں بھی انہیں شک ہے۔ اگر ان کو انسان کے دوبارہ زندہ کئے جانے میں شک ہے تو انسان کی موجودہ زندگی اور خود اپنی زندگی کی نشو و نما کے نظام ہی کو دیکھ لیں۔ اور اپنے آپ کو اور اپنے اردگرد کے ماحول کو دیکھیں۔ ان کو بیشمار دلائل قیامت ملیں گے۔ لیکن لوگوں کی بدقسمتی یہ ہے کہ وہ ان دلائل پر سے غفلت کے ساتھ گزر جاتے ہیں۔ درس نمبر 144 تشریح آیات 1……تا……24 یایھا الناس ……شدید (2) الفاظ کی شوکت کے ساتھ یہ ایک خوفناک آغاز کلام ہے ، انسان اس قدر خوفزدہ ہوجاتا ہے کہ دل کا نپنے لگتا ہے تمام انسانوں کو مخاطب کر کے زور دار آواز میں کہا جاتا ہے۔ ” لوگو “ ! ! یایھا الناس ” اللہ سے ڈرو ، اللہ سے ڈرو۔ “ اتقوا ربکم ۔ ” کس دن سے تمہیں ہم ڈراتے ہیں۔ “ ان زلزلۃ الساعۃ شی عظیم (22 : 1) ” قیامت کا زلزلہ بڑا ہی ہولناک ہے۔ “ اس زلزلے اور اس عظیم اور ہولناک چیز کی تفصیلات یہاں نہیں دی جاتیں ، اس سے اس کی خوفناکی اور بڑھ جاتی ہے۔ زلزلہ ہے ! عظیم ہے ! خوفناک ہے ! اسے الفاظ میں بیان ہی نہیں جاسکتا۔ بس اس سے ڈرو ” جس طرح ایک شخص پہلے بھاگو بھاگو کہنے کے بعد وجہ بتاتا ہے۔ “ اور بعد میں جو تفصیلات مختصر سی بتائی جاتی ہیں تو ان سے اس زلزلے کی خوفناکی میں شدید اضافہ ہوجاتا ہے۔ ایک ایسا منظر جس میں دودھ پلانے والیاں بچوں کو چھوڑ کر ادھر ادھر بھاگتی پھر رہی ہیں اور انہیں نہ کچھ نظر آتا ہے اور نہ سوجھتا ہے ، دوڑ ہی دوڑ ہے۔ اس خوفناکی اور دوڑ میں تمام حاملہ عورتوں کے حمل گر جاتے ہیں ، کوئی ادھر پڑی ہے کوئی ادھر اور لوگوں کی حالت یہ ہے کہ وہ مدہوش نظرآتے ہیں لیکن دراصل وہ نشے میں نہیں ہوں گے۔ ان کی خوابیدہ نظریں اور ڈگمگاتے قدم نشہ بتاتے ہیں لیکن ہیں وہ پریشان۔ یہ منظر حرکت اور افراتفری سے بھرا ہوا ہے۔ لوگوں کی موجیں ادھر سے ادھر بھاگ رہی ہیں لیکن پتہ نہیں کہ کیوں انسانوں کا سیلاب ہے۔ انسانی سوچ قرآنی انداز بیان کے اس منظر سے پیچھے رہ جاتی ہے اور تخلیل کی آنکھ انسانوں کے اس متلاطم سیلاب کے آخری حصے تک نہیں پہنچ سکتی۔ یہ اس قدر ہولناک منظر ہے کہ اس کے حجم اور ضخامت کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔ ایک عورت آگ میں بھی اپنے بچے کو سینے سے لگائے رکھتی ہے لیکن یہ کیا عظیم ہولناک منظرہو گا کہ عورتیں بچوں کو سینے سے اٹھا کر پرے پھینک دیں گی اور تمام حاملہ عورتیں حمل گرا دیں گی اور لوگ مدہوشی کی حالت میں ہوں گے۔ اصل بات یہ یہ کہ ولکن عذاب اللہ شدید (22 : 2) ” اور لیکن اللہ کا عذاب بہت سخت ہوگا۔ “ اس کے تصور سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جبکہ وہ آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں … یہ ہے آغاز سورة زلزلہ انگیز اور خوفناک ! ایسے مناظر کے ہوتے ہوئے بھی بعض لوگ ایسے سنگدل ہیں کہ وہ اللہ کے بارے میں بےتکی باتیں کرتے ہیں اور اللہ کا خوف ان کے دل میں نہیں ہے۔
Ayahs 22:3–4

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ یَتَّبِعُ كُلَّ شَیْطٰنٍ مَّرِیْدٍۙ Open ayah 22:3 in the Quran reader

بعض لوگ ایسے ہیں جو علم کے بغیر اللہ کے بارے میں بحثیں کرتے ہیں اور ہر شیطان سرکش کی پیروی کرنے لگتے ہیں

كُتِبَ عَلَیْهِ اَنَّهٗ مَنْ تَوَلَّاهُ فَاَنَّهٗ یُضِلُّهٗ وَ یَهْدِیْهِ اِلٰى عَذَابِ السَّعِیْرِ Open ayah 22:4 in the Quran reader

حالانکہ اس کے تو نصیب ہی میں یہ لکھا ہے کہ جو اس کو دوست بنائے گا اسے وہ گمراہ کر کے چھوڑے گا اور عذاب جہنم کا راستہ دکھائے گا۔

ومن الناس ……السعیر (4) اللہ کے بارے میں بحث ! خواہ اللہ کے وجود کے بارے میں ہو ، اللہ کی وحدانیت کے بارے میں ہو ، اللہ کی قدرت کے بارے میں ہو ، اللہ کے علم کے بارے میں ہو ، اللہ کی صفات میں سے کسی صفت کے بارے میں ہو ، اور یہ دیکھتے ہوئے کہ انسان نے کن خوفناک مناظر سے دوچار ہونا ہے اور کن ہولناک مقامات سے گزرنا ہے ، کسی عقلمند آدمی کی جانب سے یہ بحث عجیب اور جسورانہ نظر آتی ہے ، یہ منظر ایک خاطی اور پر تقصیرات بندے کو ہلاک کر رکھ دیتا ہے۔ کاش کہ اللہ کے بارے میں بات کرنے الے علم معرفت اور یقین کی بات کرتے اور علی وجہ البصیرت کرتے ، لیکن وہ تو بغیر علم کے اپنے حدود سے بڑھ رہے ہیں اور یہ بحث وجدال شیطان مردود کی اطاعت کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔ انسانوں میں ہر وقت ایسے لوگ موجود ہوتے ہیں اور وہ اپنی خواہشات نفس کے اتباع میں ایسی باتیں کرتے ہیں۔ ویتبع کل شیطن مرید (22 : 3) ” اور وہ ہر شیطان سرکش کی پیروی کرنے لگتے ہیں۔ “ جو نافرمان ، مخالف حق اور متکبر ہے۔ کتب علیہ انہ من تولاہ فانہ یضلہ ویھدیہ الی عذاب السعیر (22 : 3) ” حالانک ہ اس کے تو نصیب میں لکھا ہے کہ جو اسے دوست بنائے گا اسے گمراہ کر کے چھوڑے گا اور عذاب جہنم کا راستہ دکھائے گا۔ “ تو اس کی دوستی کا حتمی نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ اپنے دوست کو جہنم رسید کر دے گا۔ آخر کوئی عقلمند شخص دیکھتے اور بوجھتے ہوئے ایسے شخص سے دوستی کیوں کرتا ہے اور اس سے ہدایات کیوں لیتا ہے ؟ لوگوں کی حالت یہ ہے کہ وہ بعث بعد الموت کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں اور پھر قیامت کے زلزلے میں بھی انہیں شک ہے۔ اگر ان کو انسان کے دوبارہ زندہ کئے جانے میں شک ہے تو انسان کی موجودہ زندگی اور خود اپنی زندگی کی نشو و نما کے نظام ہی کو دیکھ لیں۔ اور اپنے آپ کو اور اپنے اردگرد کے ماحول کو دیکھیں۔ ان کو بیشمار دلائل قیامت ملیں گے۔ لیکن لوگوں کی بدقسمتی یہ ہے کہ وہ ان دلائل پر سے غفلت کے ساتھ گزر جاتے ہیں۔
Ayahs 22:5–6

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَاِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ وَّ غَیْرِ مُخَلَّقَةٍ لِّنُبَیِّنَ لَكُمْ١ؕ وَ نُقِرُّ فِی الْاَرْحَامِ مَا نَشَآءُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤا اَشُدَّكُمْ١ۚ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰى وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلٰۤى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَیْلَا یَعْلَمَ مِنْۢ بَعْدِ عِلْمٍ شَیْئًا١ؕ وَ تَرَى الْاَرْضَ هَامِدَةً فَاِذَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَ رَبَتْ وَ اَنْۢبَتَتْ مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِیْجٍ Open ayah 22:5 in the Quran reader

” لوگو ، اگر تمہیں زندگی بعد موت کے بارے میں کچھ شک ہے تو تمہیں معلوم ہو کہ ہم نے تم کو مٹی سے پیدا کیا ہے ، پھر نطفے سے ، پھر خلیہ سے ، پھر خون کے لوتھڑے سے جو شکل والی بھی ہوتی ہے اور بےشکل بھی (یہ ہم اس لئے بتا رہے ہیں) تاکہ تم پر حقیقت واضح کریں۔ ہم جس (نطفے) کو چاہتے ہیں ایک وقت خاص تک رحموں میں ٹھہرائیرکھتے ہیں ، پھر تم کو ایک بچے کی صورت میں نکال لاتے ہیں (پھر تمہیں پرورش کرتے ہیں) تاکہ تم اپنی جوانی کو پہنچو اور تم میں سے کوئی پہلے ہی واپس بلا لیا جاتا ہے اور کوئی بدترین عمر کی طرف پھیر دیا جاتا ہے تاکہ سب کچھ جاننے کے بعد پھر کچھ نہ جانے اور تم دیکھتے ہو کہ زمین سوکھی پڑی ہے ، پھر جہاں ہم نے اس پر مینہ برسایا کہ یکایک وہ پھبک اٹھی اور پھول گئی اور اس نے ہر قسم کی خوش منظر نباتات اگلنی شروع کردی۔ “

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّهٗ یُحْیِ الْمَوْتٰى وَ اَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌۙ Open ayah 22:6 in the Quran reader

یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ اللہ ہی حق ہے ، اور وہ مردوں کو زندہ کرتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے

یایھا الناس ……زوج بھیج (5) بعث بعد موت کی حقیقت کیا ہے۔ جسم کے اجزاء میں دوبارہ زندگی ڈالنا اور بس۔ تو انسانی سوچ کے مطابق بھی یہ چیز ابتدائی تخلیق سے آسان ہے ، لیکن اگر انسان اسے مشکل سمجھے تو اللہ کی نسبت سے تو یہ بہت ہی آسان ہے۔ کوئی مشکل چیز نہیں ہے۔ دوبارہپیدا کرنے میں بھی اللہ کو ایسا ہی ارادہ کرنا ہوگا کہ (کن) یعنی ہوجا کے تو وہ چیز ہوجائے گی۔ انما امرہ اذا ارادشیئا ان یقول لہ کن فیکون ” اس کا کام یہ ہے کہ جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اسے کہتا ہے ” ہوجا “ تو وہ ہوجاتی ہے “ ۔ قرآن کریم کا اندازہ کلام یہ ہے کہ وہ انسانوں کی سوچ اور قیاس کے مطابق ہی بات کرتا ہے۔ لوگوں کے طرز استدلال اور ان کی قوت ادراک کے مطابق بات کرتا ہے۔ چناچہ قرآن مجید ان کو دعوت دیتا ہے کہ وہ اپنے سامنے پھیلی ہوئی اور نظر آنے والی کائنات پر غور کریں۔ یہ ہر وقت ان مشہور اور نظر آنے والے واقعات کو دیکھتے رہیں جو ہر وقت ان کی نظروں کے سامنے سے گزرتے رہتے ہیں۔ اگر ان نظروں کے سامنے سے روز و شب گزرنے والے واقعات پر گہرا غور و فکر کیا جائے تو وہ سب واقعات انسان کو ایع معجزہ نظرآنے لگیں۔ بشرطیکہ وہ کھلے دل اور چشم بینا کے ساتھ ان کا گہرا مطالعہ کریں لیکن لوگوں کی حالت یہ ہے کہ وہ ان واقعات اور مناظر پر سے گونگے اور بہرے ہو کر گزرتے ہیں یا یہ واقعات اور مناظر لوگوں کے پاس ہو کر گزر جاتے ہیں اور لوگوں کو کوئی انتباہ نہیں ہوتا۔ سوال یہ ہے اور سب سے بڑا سوال کہ خود انسان کیا ہے ؟ کہاں سے آیا ہے ؟ کس طرح آیا ہے اور وہ کن کن ادوار سے گزرا ہے۔ فانا خلقنکم من تراب (22 : 5) ” ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا۔ “ انسان اس مٹی کا بیٹا ہے۔ اس مٹی سے وہ بنا ہے ، اس کا یہ جسم اسی مٹی سے ڈھالا گیا ہے ، مٹی ہی سے اس کی زنگدی کی نشو و نما ہوتی ہے۔ اس کے جسم میں جس قدر عناصر ہیں وہ زمین کے اندر موجود ہیں۔ صرف وہ ایک عنصر مٹی میں نہیں ہے یعنی ” حیات “ یعنی روح۔ یہ امر ربی سے ہے اور اس کے بارے میں ہمارا علم ابھی تک قلیل ہے۔ اس روح ہی کی وجہ سے یہ مٹی سے جدا ہوگیا ہے لیکن اصلاً ہے تو مٹی ہی ہے۔ اس کس جسمانی ساخت ، اس کی غذا اور تمام اجزائے جسم مٹی ہی سے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ مٹی میں اور انسان میں پھر یہ فرق کس طرح ہوگیا۔ مٹی کہاں اور انسان کہاں ؟ مٹی تو سادہ ذرات ہیں لیکن انسان تو تخلیق کے بعد (فسواھا) بھی ہے۔ یہ انسان فاعل بھی ہے اور فعالیت کا اثر بھی لیتا ہے۔ مئوثر بھی ہے اور متاثر بھی ہے۔ اس کے قدم زمین پر ہیں اور اس کی اڑان آسمانوں کی طرف ہے۔ وہ اپنی فکر سے مادہ سے آگے تخلیقات کرتا ہے۔ مادہ کے اندر بھی اس کی تخلیقات ہیں۔ کیا یہ ایک عظیم معجزہ اور عظیم انقلاب نہیں ہے کہ اللہ نے مٹی سے انسان بنا دیا۔ اسی انسانی مادے کو دوبارہ جمع کرنا اس کے لئے کیا مشکل ہے۔ عجیب مخلوق مادہ سے پیدا کردہ۔ ثم من نطفۃ ثم من علقۃ ثم من مضغۃ مخلقۃ لنبین لکم و نقر فی الارحام ما نشاء الی اجل مسمی ثم نخر جکم طفلاً (22 : 5) ’ پھر نطفے سے ، پھر خلیہ سے ، پھر خون کے لوتھڑے سے جو شکل والی بھی ہوتی ہے اور بےشکل بھی (یہ ہم اس لئے بتا رہے ہیں) تاکہ تم پر حقیقت واضح کریں۔ ہم جس (نطفے) کو چاہتے ہیں ایک وقت خاص تک رحموں میں ٹھہرائے رکھتے ہیں ، پھر تم کو ایک بچے کی صورت میں نکال لاتے ہیں۔ “ اب ذرا مٹی کے ان سادہ عناصر کو دیکھیے۔ پھر نطفے کو دیکھے جو زندہ مٹی کے خلیوں کی شکل میں ہوتا ہے۔ کس قدر تبدیلی آگئی۔ اسی کے اندر وہ عظیم راز مضمر ہے یعنی زندگی کا راز۔ وہ راز جس کے بارے میں آج تک انسان کوئی قابل ذکر معلومات حاصل نہیں کرسکا۔ اربوں سال گزر گئے ہیں۔ انسان یہ معلوم کرنے کی سعی میں ہے کہ روج کیا ہے ؟ حیات کیا ہے ؟ ان اربوں سالوں کے دوران ہر نطفے میں اربوں زندہ خلیے بنتے ہیں لیکن ان خلیوں کے ملاحظے سے بھی ہم عاجز ہیں چہ جائیکہ ہم ان کی تخلیق کو سمجھ سکیں اگرچہ انسان نظر کو بلند کرے اور محالات کے دامن کو پکڑ لے۔ پھر یہ نطفہ علقہ کس طرح بن جاتا ہے ، یہ خون کے لوتھڑے کی شکل کس طرح اختیار کرت ا ہے۔ اس کے بعد یہ خون بوٹی کی شکل میں کس طرح آتا ہے اور یہ بوٹی انسان کی شکل کس طرح اختیار کرتی ہے۔ نطفہ کیا ہے ، مرد کا پانی۔ ایک نطفے میں ہزارہا مادہ منویہ کے حیوانات ہوتے ہیں۔ ان ہزاروں لاکھوں حیوانات میں سے صرف ایک حیوان عورت کے انڈے میں داخل ہوتا ہے جو رحم مادر میں ہوتا ہے۔ وہ اس کے ساتھ متحد ہوتا ہے اور رحم کید یوار کے ساتھ لٹک جاتا ہے۔ اس بیضہ میں جو نہایت ہی باریک نکتے کے برابر ہوتا ہے اور جو رحم مادر کی دیواروں کے ساتھ پیوست ہوتا ہے۔ مادہ منویہ میں دوڑنیوالا یہ باریک حیوان پیوست ہوجاتا ہے بلکہ اس بیضہ کے اندر داخل ہوجاتا ہے۔ یہ کام ایک خود کار نظام کے مطابق ہوتا ہے۔ ان دونوں چیزوں میں قبولیت اللہ نے رکھی ہے۔ اس نکتے میں اللہ نے تمام انسانیخصائل اور عادات ودیعت کئے ہوئے ہیں۔ آنے والے انسان کی تمام خصوصیات کہ اس کا وزن کیا ہوگا ، لمباکتنا ہوگا ، جسامت کتنی ہوگی ، موٹاپا کتنا ہوگا ، خوبصورت ہوگا یا بدصورت ، صحت مند ہوگا یا بمیار۔ اسی کے اندر انسان کی اعصابی خصوصیات ، عقلی صلاحیتیں اور نفسیاتی حالات ودیعت کردیئے جاتے ہیں۔ اس کے میلانات ، جذبات ، رجحان ، اچھائی کی طرف یا برائی کی طرف اس چھوٹے سے حیوان کے اندر ہی موجود ہوتا ہے۔ کون یہ تصور کرسکتا ہے کہ رحم مادر کے اندر معلق بیضے اور اس چھوٹے سے حیوان کے ملاپ کے اندر یہ سب کچھ موجود ہے اور یہی نکتہ جو خوردبین سے نظرآتا ہے اس کے اندر پورا انسان موجود ہے جس کے جسم کی ساخت ہی پیچیدہ ہے۔ اس قدر کہ دنیا میں کوئی ایک انسان بھی دوسرے کا مکمل ہم شکل نہیں ہوتا اور آدم سے لے کر آج تک کوئی بھی دو انسان مکمل طور پر ہم شکل نہیں ہوتے۔ اب یہ نکتہ حلقہ سے مضغہ بنجاتا ہے۔ یہ گاڑھے خون کا ایک لوتھڑا ہوتا ہے ، اس کی کوئی شکل و صورت نہیں ہوتی۔ اس کے بعد یہ مضغہ پھر شکل اختیار کرتا ہے ، اور یہ ہڈیوں کے ہیکل کی شکل میں ہوجاتا ہے جس کے اوپر بھی گوشت چڑھتا ہے۔ اگر اس نے پیدا ہونا ہو ورنہ رحم مادر اسے باہر پھینک دیتا ہے۔ اگر اللہ نے اس کے لئے بحیثیت انسان دنیا میں آیا مقرر نہ کیا ہو۔ لنبین لکم ” تاکہ تم پر حقیقت واضح کریں۔ “ مضغہ اور طفل کے درمیان قرآن مجید جملہ معترضہ کہتا ہے تاکہ ہم تمہیں بتائیں کہ خون کے اس لوتھڑے کے اندر قدرت الہیہ نے کیا کیا کمالات رکھے ہیں۔ یہ ہے قرآن مجید کا نہایت ہی مئوثرانداز بیان۔ اس کے بعد پھر رحم مادر میں جنین کے حالات۔ ونقر فی الارحام مانشآء الی اجل مسمی (22 : 5) ” ہم جس نطفے کو چاہتے ہیں ایک خاص مدت تک رحموں میں ٹھہراتے ہیں۔ “ جن جنینوں کو اللہ تمام کردینا چاہتے ہیں وہ رحم مادر میں رہتے ہیں اپنے وقت وضع حمل تک ۔ ثم نخرجکم (طفلاً (22 : 5) ” پھر تم کو ایک بچے کی صورت میں نکال لاتے ہیں۔ “ ذرا آپ نطفہ معلقہ کو دیکھیں اور طفل مولود کو دیکھیں دونوں کے درمیان کس قدر فرق ہے۔ “ اگر اس زمانے کو دیکھا جائے تو بہت ہی تھوڑا ہے صرف 9 ماہ عموماً اور اگر نطفہ معلقہ کو دیکھا جائے اور طفل مولود کو دیکھا جائے تو دونوں کے درمیان بہت بڑا فرق ہے۔ نطفہ تو خوردبین کے بغیر نظر ہی نہیں آتا جبکہ بچہ ایک نہایت ہی پیچیدہ مکمل مخلوق کی شکل میں ہے جس کے اعضا وجوارح ہیں۔ جس کے اپنے خدو خال ہیں ، اپنی صفات اور صلاحیتیں ہیں اور جذبات و میلانات ہیں۔ یہ اس قدر بڑا فرق ہے کہ کوئی سمجھ دار ، ذی عقل اور مفکر انسان اس پر بار بار غور کئے بغیر اور قدرت الہیہ کو تسلیم کئے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا۔ اس کے بعد قرآن مجید اس طفل مولود کے حالات کے ساتھ ذرا آگے جاتا ہے۔ یہ بچہ روشنی دیکھتا ہے اور اس پوشیدہ مقام کو چھوڑ دیتا ہے جس کے اندر اس نے یہ معجزانہ طفر طے کیا اور جہاں یہ نظروں سے اوجھل رہا ۔ ثم لتبلغوا اشد کم (22 : 5) ” پھر تمہاری پرورش کرتے ہیں تاکہ تم جوانی کو پہنچو۔ “ اور اپنی جسمانی ساخت کو مکمل کرو ، اپنی عقل بلوغت تک جا پہنچو اور نفسیاتی طور پر ترقی یافتہ انسان بنو۔ اس مقام پر یہ بات غور طلب ہے کہ ایک نومولود بچے اور ایک مکمل نوجوان اور مضبوط انسان کے درمیان کس قدر درجات ہیں۔ ان کے درمیان کتنا عظیم فاصلہ ہے۔ زمانوں کے فاصلے سے بہت بعید۔ لیکن دست قدرت نے یہ تمام فاصلے طے کرا دیئے۔ اس بچے کو دست قدرت نے تمام انسانی خواص عطا کردیئے اور رحم مادر کے ساتھ معلق نطفہ جو ایک بےقدر پانی پر مشتمل تھا ، اب ایک مکمل انسان ہے۔ اس کے بعد پھر ومنکم من یتوفی ومنکم من یرنہ الی ار ذل العمر لکیلا یعلم من بعد علم شیئاً (22 : 5) ” اور تم میں سے کوئی پہلے بلا لیا جاتا ہے اور کوئی بدترین عمر کی طرف پھیر دیا جاتا ہے تاکہ سب کچھ جاننے کے بعد پھر کچھ نہ جانے۔ “ جو بلا لیا جاتا ہے یعنی جلدی مر جاتا ہے تو وہ اپنے اس انجام تک جا پہنچتا ہے جو ہر زندہ کا آخری انجام ہے۔ کسی کو نہایت ہی بدترین عمر کی طرف لوٹایا جاتا ہے تو یہ ہمارے لئے قابل غور فکر ہے کہ علم اور دانش مندی اور فہم و فراست اور کمال کے بعد وہ پھر ایک بچہ بن جاتا ہے۔ اس کے جذبات ، تاثرات اور حافظہ بچوں کی طرح ہوتا ہے ، وہ کوئی چیز ہاتھ میں نہیں پکڑ سکتا۔ حافظہ ختم ہوجاتا ہے ، اسے کوئی چیز یاد ہی نہیں رہتی۔ یوں بھی بچہ ہوتا ہے کہ وہ ہر حادثہ کو ایک اکیلا واقعہ سمجھتا اور دیکھتا ہے۔ دو واقعات کے درمیان کوئی ربط نہیں دیکھ سکتا۔ پھر وہ ہر بات کے بارے میں بار بار پوچھتا رہتا ہے ۔ کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکتا۔ کیونکہ جب آخری واقعہ دیکھتا ہے اس کی ابتدائی کڑیاں وہ بھول چکا ہوتا ہے۔ لکیلا یعلم من بعد علم شیئاً (22 : 5) ” تاکہ اسے جاننے کے بعد کچھ نہ جانے۔ “ اس کی گرفت سے وہ علوم بھی نکل جائیں جن کا وہ بہت ہی ماہر فن تھا اور کسی وقت تو وہ اللہ کی ذات وصفات میں بھی بحث کرتا تھا۔ اس کے بعد انسانوں کی تخلیق اور ان کی تربیت سے ذرا آگے بڑھ کر زمین کے اندر حیوانوں اور نباتات کے تخلیقی عمل پر بحث کی جاتی ہے۔ وتری الارض ھامدۃ فاذا انزلنا علیھا المآء اھتزت وربت و انبتت من کل زوج بھیج (22 : 5) ” اور تم دیکھتے ہو کہ زمین سوکھی پڑی ہے ، پھر جہاں ہم نے اس پر مینہ برسایا کہ یکایک وہ پھبک اٹھی اور پھول گئی اور اس نے ہر قسم کی خوش منظر نباتات اگلنی شروع کردی۔ “ ہمود موت وحیات کے درمیان ایک درجہ ہے۔ زمین بارش یا پانی ملنے سے قبل حالت ہمود میں ہوتی ہے۔ پانی حیوانات اور نباتات میں ایک بڑا عنصر ہے ، جب وہ نازل ہوتا ہے تو یہ زمین اھتزت و ربت (22 : 5) حرکت کرتی ہے۔ یہ عجیب حرکت ہے جسے قرآن نے قلم بند کردیا ہے۔ قبل اس کے کہ سائنسی آلات کے ذریعہ اس کا ملاحظہ کیا جائے ۔ جب خشک زمین کو پانی ملے تو یہ حرکت کرتی ہے ، ہلتی ہے ، پانی پیتی ہے ، پھول جاتی ہے۔ اس کے بعد اس میں سے نباتات پھوٹ کر نکلتے ہیں۔ من کل زوج بھیج (22 : 5) ” اس نے ہر قسم کے خوش منظر نباتات کے جوڑے اگلنا شروع کئے۔ “ اس سے زیادہ اور کوئی سین خوش منظر نہیں ہوتا کہ زمین جمود اور مردہ حالت سے ایک بار پھر زندگی بھرپور ہوجائے اور لہلہانے لگے۔ قرآن مجید تمام زندہ چیزوں ، انسان ، حیوانات اور نباتات کے درمیان ایک ہی آیت میں ایک ربط پیدا کردیتا ہے۔ وہ لوگوں کے فکر و نظر کو اس طرف متوجہ کرتا ہے کہ ان چیزوں کے درمیان ایک گہرا تعلق ہے اور وہ کیا ہے ؟ یہ قرابت اس بات کی دلیل ہے کہ زندگی کا حقیقی سبب ایک ہے ، وہ ایک ارادہ جو اسے جگہ جگہ نمودار کرتا ہے۔ زمین نباتات اور حیوانات اور انسان سب کے بارے میں یہ آیت :
Ayah 22:7

وَّ اَنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ لَّا رَیْبَ فِیْهَا١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ یَبْعَثُ مَنْ فِی الْقُبُوْرِ Open ayah 22:7 in the Quran reader

اور یہ (اس بات کی دلیل ہے) کہ قیامت کی گھڑی آ کر رہے گی ، اس میں کوئی شک کی گنجائش نہیں ، اور اللہ ضرور ان لوگوں کو اٹھائے گا جو قبروں میں جا چکے ہیں

ذلک بان اللہ ھو ……فی القبور (7) یہ بات یعنی انسان کو مٹی سے پیدا کرنا ، پھر جنین کو مذکورہ بالا مختلف مراحل سے گزارنا ، پھر بچے کا مختلف مراحل حیات طے کرنا ، پھر خشک اور مردہ زمین کو بارش کے بعد زندہ کرنا ، ان سب امور سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اللہ حق ہے۔ اس لئے کہ ان باتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ خلاق کائنات نے جو قانون قدرت اس دنیا کے لئے وضع کیا ہے ، وہ حق ہے۔ اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی اور زندگی کا یوں ترتیب کے ساتھ مرحلہ وار ترقی کرتے چلے جانا اس بات کی دلیل ہے کہ ایک واحد خالق اور مدبر کا ارادہ اس کائنات میں کام کر رہا ہے۔ یعنی زندگی اور اس پوری کائنات کے اندر جاری وساری قوانین فطرت میں اور اللہ کی سچائی میں گہرا ربط ہے۔ انہ یحی الموتی (22 : 6) ” اور یہ کہ وہ مردوں کو زندہ کرتا ہے۔ “ مردوں کو زندہ کرتا ہے یعنی جس طرح پہلے اس نے زمین سے انسان کو پیدا کیا اسی طرح دوبارہ اسی مٹی کو زندگی دینا اس کے لئے مشکل نہیں ہے۔ وان اللہ یبعث من فی القبور (22 : 8) ” اور یہ کہ اللہ ان لوگوں کو اٹھائے گا جو قبروں میں ہیں۔ “ تاکہ وہ اس انجام تک پہنچیں جس کے وہ مستحق ہیں۔ کیونکہ اس کائنات کی حکمت تدبیر اور حکمت تخلیق کا تقاضا یہ ہے کہ مردوں کو اٹھایا جائے۔ یہ مختلف مراحل جن سے جنین گزرتا ہے ، پھر جن سے ایک بچہ گزرتا ہے ، جب وہ آنکھ کھولتا ہے یہ تمام مراحل یہ بات ثابت کرتے ہیں کہ جو ارادہ مدبرہ یہ سب کام کرتا ہے وہ اس انسان کو موجودہ حالت سے نکال کر لازماً دارالکمال تک پہنچائے گا۔ حیات ارضی میں انسان کمال تک نہیں پہنچتا کیونکہ وہ ایک مقام تک پہنچ کر کھڑا ہوجاتا ہے اور پھر وہ زوال کی طرف آتا ہے۔ لکیلا یعلم بعد علم شیئاً ” تاکہ وہ جاننے کے بعد کچھ نہ جانے۔ “ اس کی روشنی میں ایک اور جہاں اور ایک جنم انسان کے لئے ضروری ہے جس میں وہ کمال حاصل کرے۔ تخلیق انسان اور حیوانات و نباتات اور ان کے یہ مدارج اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ ان کو پیدا کرنے الا ان کو دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے۔ دوسرے یہ کہ عملاً ان کو اٹھا کر دوسرے جہاں تک لے جائے گا تاکہ وہ وہاں درجہ کمال تک پہنچ جائیں۔ اسی طرح تخلیق کا اصول اور بعث بعد الموت کا ضابطہ باہم مل جاتے ہیں اور پھر آخرت میں حساب و کتاب بھی ان کا ایک طبیعی انجام قرار پاتا ہے اور ان تمام امور سے خالق مدبر کا ثبوت بھی ملتا ہے جس کا ہاتھ ان تمام امور میں کام کرتا ہے۔ ان بیشمار دلائل کے باوجود بعض لوگ پھر بھی اللہ کے بارے میں کلام کرتے ہیں۔
Ayahs 22:8–10

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ لَا هُدًى وَّ لَا كِتٰبٍ مُّنِیْرٍۙ Open ayah 22:8 in the Quran reader

بعض اور لوگ ایسے ہیں جو کسی علم اور ہدایت اور روشنی بخشنے والی کتاب کے بغیر خدا کے بارے میں جھگڑتے ہیں

ثَانِیَ عِطْفِهٖ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ لَهٗ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ نُذِیْقُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَذَابَ الْحَرِیْقِ Open ayah 22:9 in the Quran reader

گردن اکڑائے ہوئے ، تاکہ لوگوں کو راہ خدا سے بھٹکا دیں۔ ایسے شخص کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور قیامت کے روز اس کو ہم آگ کے عذاب کا مزا چکھائیں گے

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ یَدٰكَ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۠ Open ayah 22:10 in the Quran reader

یہ ہے تیرا وہ مستقبل جو تیرے اپنے ہاتھوں نے تیرے لئے تیار کیا ہے ورنہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں

ومن الناس ……بظلام للحمید (10) ان دلائل کی موجودگی کے بعد بھی اللہ کے بارے میں کلام کرنا عجیب و غریب لگتا ہے اور نہایت ہی برا فعل ہے۔ نیز یہ جھگڑا جو لوگ کرتے ہیں وہ اہل علم ہی نہیں ہیں۔ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے۔ نہ اس میدان میں انہیں کوئی خصوصی معرفت ہے۔ نہ وہ ایسی کسی کتاب سے دلیل لائے ہیں جو عقل کو روشن کردیتی ہو۔ حق کی وضاحت کرتی ہو اور یقینی راہ بتلاتی ہو۔ یہاں ایسے لوگوں کی مخصوص تصویر کشی بھی کی جاتی ہے جنہوں نے غرور کی وجہ سے گردن اکڑائی ہوئی ہے۔ ثانی عطفہ (22 : 9) ” گردن اکڑائے ہوئے “۔ اور اس کی بات دلیل کے ساتھ نہیں ہوتی بلکہ وہ اکڑ کر بات کرتا ہے۔ درجہ متکبر ہوتا ہے۔ لیضل عن سبیل اللہ (22 : 9) ” تاکہ لوگوں کو خدا کی راہ سے بھٹکا دے۔ “ ایسے لوگ صرف اس پر اکتفا نہیں کرتے کہ وہ خود گمراہ ہوں بلکہ دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔ لہٰذا ایسا غرور اور ایسی کرخت بڑائی اور گردن فرازی کا توڑنا ضروری ہے اس طرح کہ وہ ریزہ ریزہ ہوجائے۔ لہ فی الدنیا خزی (22 : 9) ” ایسے شخص کے لئے دنیا میں رسوائی ہے۔ “ رسوائی اور شرمنگدی کبر اور غرور کے عین متضاد حالت ہے۔ اللہ کا یہ قانون ہے کہ وہ ان منکرین ، گردن فرازوں اور اکڑ والوں اور گمراہ ہونے والوں اور ایک دوسرے کو گمراہ کرنے والوں کی اس اکڑ کو توڑ کر رکھ دیتا ہے ، اگرچہ ایک زمانے کے بعد۔ ہاں ایسے لوگوں کو اللہ مہلت دیتا ہے تاکہ جب زوال آئے تو وہ بہت زیادہ شرمندہ اور ذلیل ہوں اور اس تذلیل کا ان پر زیادہ اثر ہو۔ رہا آخرت کا عذاب تو وہ بہت ہی سخت اور بہت ہی درد ناک ہے۔ ونذیقہ یوم القیمۃ عذاب الحریق (22 : 9) ” اور قیامت کے دن ہم اسے جلنے کا عذاب چکھائیں گے۔ “ چند لمحے بھی نہیں گزرتے کہ یہ دھمکی حقیقت کا روپ اختیار کرلیتی ہے یوں کہ دوران کلام انداز کلام کو اچانک حکایتی انداز سے خطاب میں بدل دیا جاتا ہے۔ ذلک بما قدمت یدک و ان اللہ لیس بظلام للعبید (22 : 10) ” یہ ہے تیرا یہ مستقبل جو تیرے اپنے ہاتھوں نے تیرے لئے تیار کیا ہے ورنہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔ “ گویا ایک ہی لمحے میں اس کی سرزنش بھی ہوگئی اور وہ عذاب میں بھی جاگرا۔ …… اب قرآن کریم لوگوں میں سے بعض دوسروں قسم کے لوگوں کا نمونہ پیش کرتا ہے۔ اگرچہ اس قسم کے لوگ اس وقت دعوت اسلامی کے مقابلے پر تھے ، لیکن ایسے نمونے ہر دور میں موجود رہتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو یہودی مزاج رکھتے ہیں اور نظریہ کو بھی تاجرانہ انداز میں لیتے ہیں اور شہر مارکیٹ میں کھڑے نظر آتے ہیں۔
Ayahs 22:11–13

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰى حَرْفٍ١ۚ فَاِنْ اَصَابَهٗ خَیْرُ اِ۟طْمَاَنَّ بِهٖ١ۚ وَ اِنْ اَصَابَتْهُ فِتْنَةُ اِ۟نْقَلَبَ عَلٰى وَجْهِهٖ١ۚ۫ خَسِرَ الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةَ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ Open ayah 22:11 in the Quran reader

” اور لوگوں میں کوئی ایسا ہے جو کنارے پر رہ کر اللہ کی بندگی کرتا ہے ، اگر فائدہ ہوا تو مطمئن ہوگیا اور جو کوئی مصیبت آگئی تو الٹا پھر گیا۔ اس کی دنیا بھی گئی اور آخرت بھی ۔ یہ ہے صریح خسارہ۔

یَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَضُرُّهٗ وَ مَا لَا یَنْفَعُهٗ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُۚ Open ayah 22:12 in the Quran reader

پھر وہ اللہ کو چھوڑ کر ان کو پکارتا ہے جو نہ اس کو نقصان پہنچا سکتے ہیں نہ فائدہ۔ یہ ہے گمراہی کی انتہا

یَدْعُوْا لَمَنْ ضَرُّهٗۤ اَقْرَبُ مِنْ نَّفْعِهٖ١ؕ لَبِئْسَ الْمَوْلٰى وَ لَبِئْسَ الْعَشِیْرُ Open ayah 22:13 in the Quran reader

وہ ان کو پکارتا ہے جن کا نقصان ان کے نفع سے قریب تر ہے ، بدترین ہے اس کا مولیٰ اور بدترین ہے اس کا رفیق۔ “

ومن الناس ………العشیر (13) عقیدہ اور نظریہ ایک مومن کی زندگی کا سرمایہ ہوتا ہے اور اسی پر مومن کی زندگی قائم ہوتی ہے۔ ایک مومن کے ماحول میں زندگی کے سمندر میں اضطرابات اور تلاطم آتے اور جاتے رہتے ہیں اور تیز طوفانی ہوائیں چلتی رہتی ہیں لیکن مومن ہے کہ وہ سمندر کے بیچ میں ایک چٹان کو مضبوطی سے پکڑ کر جم جاتا ہے۔ اس کے ماحول کے اردگرد سے ایک ایک سہارا گرتا جاتا ہے لیکن وہ ہے کہ اس نے ایک مضبوط سہارا پکڑ رکھا ہوتا ہے اور اس کے پائوں کو کوئی تزلزل نہیں ہوتا۔ ایک سچے مومن کی زندگی میں نظریہ کی یہ قدر و قیمت ہوتی ہے لہٰذا اسے اس پر جم جانا چاہئے۔ ضروری ہے کہ وہ اسے مضبوطی سے پکڑ لے۔ اسے اس پر یقین ہونا چاہئے کہ یہ عقیدہ سچا عقیدہ ہے۔ اس کے بارے میں اس کے اندر کوئی تذبذب نہ ہو ، اور اس پر وہ کسی عطا اور جزاء کا طلبگار بھی نہ ہو ، کیونکہ مومن کے لئے اس کا نظریہ اس کا حاصل ہوتا ہے۔ یہ عقیدہ اور نظریہ ہی اس کی پناہ گاہ ہوتا ہے ، یہی اس کا سہارا ہوتا ہے۔ یہ اس کا صلہ ہوتا ہے اس لئے کہ اس کی وجہ سے اس کے دل کو نور ملا ہے اور وہ راہ ہدایت پر آگیا ہے اور یہ اس پر مطمئن ہوگیا ہے۔ ایک مومن جب اسلامی نظریہ حیات کی پناہ گاہ میں ہوتا ہے اور دیکھتا ہے کہ اس کے اردگرد اس کے ماحول میں لوگ مارے مارے پھر رہے ہیں ، درخت کے گرے ہوئے پتوں کی طرح باد خزاں کبھی انہیں ادھر لے جاتی ہے اور کبھی ادھر۔ طوفانی ہوائوں کے بگولے انہیں اڑاتے پھرتے ہیں اور وہ سخت قلق اور بےچینی کا شکار ہیں جبکہ یہ اپنے نظریہ پر قائم و دائم اور مطمئن ہیں۔ وہ ثابت قدم ہیں ، ان کی حرکات میں سکون اور ٹھہرائو ہے اور وہ رضائے الٰہی کے لئے رات اور دن کام کرتے ہیں۔ جن لوگوں کے بارے میں یہاں بات ہو رہی ہے ، وہ ایسے لوگ ہیں جو نظریات کی تجارت کرتے ہیں ، ایمان و ضمیر کو لے کر بازار میں پھرتے ہیں۔ فان اصابہ خیر اطمان بہ (22 : 11) ” اگر فائدہ ہوا تو مطمئن ہوگیا۔ “ اور یہ کہا کہ بس ایمان میں تو خیر ہی خیر ہے۔ اب یہ شخص اس نظریہ سے منافع کماتا ہے۔ تھنوں سے دودھ نکالتا ہے۔ فصل بوتا ہے اور کاٹتا ہے اور اس کی تجارت بازار میں ہوتی ہے اور وہ اس کو جاری رکھتا ہے۔ وان اصابتہ فتنۃ انقلب علی وجھہ خسر الدنیا و الاخرۃ (22 : 11) ” اور اگر کوئی مصیبت آگئی تو الٹا پھر گیا۔ اس کی دنیا بھی گئی اور آخرت بھی۔ “ دنیا تو اس طرح گئی کہ اس پر معمولی مصیبت آئی اور وہ اسے انگیز نہ کرسکا۔ اپنے مقام پر ثابت قدم نہ رہ سکا۔ اس نے برے حالات میں اللہ کی طرف رجوع نہ کیا اور آخرت یوں گئی کہ اس نے پہلے ایمان اور نظریہ کو چھوڑ دیا اور راہ ہدایت کے بجائے راہ ضلالت کو اختیار کرلیا۔ یہاں قرآن مجید ایسے لوگوں کے بارے میں یہ کہتا ہے کہ یہ لوگ اللہ کی بندگی ایک طرف ہو کر کرتے ہیں۔ یہ اسلامی نظریہ حیات کو مضبوطی سے نہیں پکڑتے ، دعوت کے کاموں میں ثابت قدم نہیں ہوتے ، ان کی پوزیشن کو اس طرح بتایا جاتا ہے کہ وہ نظریاتی موقف میں ایسی جگہ کھڑے ہوتے ہیں کہ ایک معمولی سے جھٹکے سے گر جائیں۔ بس ذرا سی مشکلات آئیں اور یہ بھاگ نکلے۔ ان کا کنارہ پر کھڑا ہونا ہی اس مقصد کے لئے تھا کہ بھاگنا آسان ہو۔ واقعہ یہ ہے کہ نفع و نقصان سے چیزوں کا ناپنا تجارتی کاروبار میں ہوا کرتا ہے۔ نظریات میں دنیوی سود و زیاں کا معیار نہیں چلتا۔ نظریات میں تو یہ دیکھنا چاہئے کہ حق کیا ہے اور باطل کیا ہے۔ حق کا ساتھ دینا چاہئے کہ نظریات میں حق وہ ہے جس پر ایک کارکن اپنی تحریک بصیرت سے مطمئن ہو۔ اس کا نفع یہی ہوتا ہے کہ انسان کو حق مل جائے۔ انسان دل سے اس پر مطمئن ہو اور اس میں اسے قلبی سکون اور راحت مل جائے۔ پس یہی منزل مقصود ہوتی ہے ایک مومن کی۔ اس پر ایک سچا مومن کوئی خارجی جزاء نہیں چاہتا۔ سچا مومن اپنے رب کی عبادت اس لئے کرتا ہے کہ اس نے اسے ہدایت بخشی ہے۔ اس لئے کرتا ہے کہ اس کے لئے ایمان محبوب بنا دیا گیا ہے اور وہ ایمان اور نظریہ کے ساتھ محبت کرتا ہے۔ اگر اس پر کوئی دنیاوی فائدہ بھی مل جائے تو یہ جزاء خیر ہے۔ یہ مومن کے لئے بندگی اور ایمان پر صلہ ہوگا۔ ایک سچا مومن اپنے خدا کو سود و زیاں کے زاویہ سے نہیں آزماتا۔ وہ تو جب اسلام کو قبول کرتا ہے تو اس کے ساتھ ہی ہر آزمائش کو بھی قبول کرتا ہے۔ وہ راضی ہوتا ہے کہ رب اسے جس طرح چاہے آزمائے وہ تیار ہے۔ خواہ اس پر خوشحالی ہو اور رب اسے آزمائے ، چاہے اس پر بدحالی ہو ار رب اسے اس میں آزمائے ، وہ ہر حال میں راضی ہو۔ یہ سودا بازار کے بائع اور مشتری کا سودا نہیں ہوتا کہ اس میں ہر وقت وہ سود زیاں کا حساب کرتا رہے ، بلکہ یہاں تو خالق کے سامنے سر تسلیم خم کرنا ہے۔ اللہ کا اختیار ہے کہ جو چاہے کرے ، کیونکہ اللہ ہی ہے جس نے مومن کو بنایا ہے۔ جو شخص اپنے ایمان اور نظریہ سے دست بردار ہو کر الٹا چلا جاتا ہے وہ ایسے خسارے میں پڑجاتا ہے جس میں کوئی شک نہیں ہے۔ ذلک ھو الخسران المبین (22 : 11) ” اور یہ صریح خسارہ ہے۔ “ اس کی زندگی کا اطمینان جاتا رہا ، اعتماد جاتا رہا ، سکون جاتا رہا اور رضائے الٰہی سے بھی محروم ہوگیا۔ صحت ، مال اور اولاد کے خسارے کے ساتھ ساتھ آخرت کا خسارہ تو بہت بڑا خسارہ ہے۔ دنیا کے اس خسارے کے ساتھ ساتھ اللہ اپنے بندوں کو آزماتا ہے۔ ان کے اعتماد ، ان کے بھروسے سے ، ان کے صبر ، ان کے اخلاص ، اور ان کے اس حوصلے کو آزماتا ہے کہ یہ لوگ اللہ کی تقدیر کے فیصلے ماننے کے لئے تیار ہیں یا نہیں اور آخرت کا خسارہ تو بہت بڑا خسارہ ہے کہ وہ آخرت کی دائمی نعمتوں سے محروم ہوگیا۔ اللہ کی رضا مندی اور اللہ کے قرب سے محروم ہوگیا ہے۔ یہ ہے خسران مبین لیکن یہ شخص جو اللہ کو ایک طرف ہو کر پوجتا ہے ، یہ جائے گا کہاں ؟ اللہ سے دور ہو کر یہ کہاں جائے گا ؟ یدعوا من دون اللہ مالا یضرہ ومالا ینفعہ (22 : 12) ” پھر وہ اللہ کو چھوڑ کر ان کو پکارتا ہے جو اس کو نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں اور نہ فائدہ۔ “ یہ بتوں کی پرستش کرے گا ، یا کسی شخصیت کی پرستش کرے گا جیسا کہ جاہلیت اولیٰ میں رواج تھا۔ دور جدید میں یہ کسی پارٹی ایک سی ڈکٹیٹر یا کسی مفاد کے پیچھے دوڑے گا جس طرح جدید جاہلیت کی صورت ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ جب بھی لوگوں نے اللہ وحدہ کو پکارنا ترک کیا اور اللہ کی رضا اور اس کے نظام جاہلیت کی صورت ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ جب بھی لوگوں نے اللہ وحدہ کو پکارنا ترک کیا اور اللہ کی رضا اور اس کے نظام زندگی پر چلنا ترک کیا۔ تو ان کا انجام کیا ہوتا ہے ؟ ایسے لوگ یکسوئی اور یک جہتی سے محروم ہو کر منتشر ہوجاتے ہیں۔ ذلک ھو الضلل البعید (22 : 13) ” وہ ان کو پکارتا ہے جن کا نقصان ان کے نفع سے قریب تر ہے۔ “ یعنی بت یا شیطان ، یا آستانے۔ ان سب چیزوں کی مضرت زیادہ قریب ہے اور نفع بعید ہے۔ مضرت تو یہ ہے کہ انسانی دل و دماغ میں انتشار پیدا ہوتا ہے۔ وہم ذلت اور پسماندگی اس کے نصیب میں آتی ہے اور آخرت کا نقصان تو بہت ہی عظیم ہے۔ لئس المولی (22 : 13) ” ایسا آقا بہت ہی برا ہوتا ہے۔ “ یعنی ایسا جو نہ نفع پہنچا سکتا ہے اور نہ نقصان۔ ولبئس العشیر (22 : 13) ” بدترین ہے اس کا رفیق۔ “ یعنی یہ ساتھی جس سے یہ نقصان اٹھایا جا رہا ہے اس میں بت بھی شال ہیں اور انسان بھی شامل ہیں۔ کیونکہ بعض لوگ انسانوں کو بھی الہ یا شبہ الہ بناتے رہتے ہیں۔ ہر دور میں ایسے انسان الہ ہوا کرتے ہیں اور مومنین کے لئے جو انعامات ہیں وہ بہت ہی عظیم ہیں ، قیمتی ہیں۔ اگر دنیا میں کوئی مسلمان سب کچھ دائو پر لگا دے تو بھی ان کے لئے جو اجر رکھا گیا ہے وہ پھر بھی زیادہ عظیم اور قیمتی ہے۔
Ayah 22:14

اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ Open ayah 22:14 in the Quran reader

اس کے برعکس) اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے ، یقینا ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی۔ اللہ کرتا ہے جو کچھ چاہتا ہے

ان اللہ ……مایرید (14) اس لئے اگر فتنوں میں سے کسی فتنے میں کوئی مومن مبتلا ہوجائے یا آزمائشوں میں سے کوئی آزمائش اس پر آجائے تو اسے چاہئے کہ وہ ثابت قدمی کا مظاہرہ کرے اور اس کے اندر کوئی تزلزل پیدا نہ ہو۔ امید رکھے کہ اللہ ضرور اس کی امداد کرے گا اور اللہ اس بات پر قادر ہے کہ اس کی اس مصیبت اور آزمائش کو دور کرے اور اس کو جزائے خیر دے۔ جو شخص یہ بھروسہ نہ رکھتا ہو کہ دنیا و آخرت میں اللہ اس کی مدد کرے گا ، اور وہ مشکلات میں اللہ کی امداد سے مایوس ہوجائے۔ اگرچہ یہ سختیاں حد سے بڑھ جائیں ، تو ایسا شخص اپنے بارے میں جو چاہے ، کرے۔ جس طرف چاہے اپنے نفس کو لے کر نکل جائے وہ جو جتن بھی کرے ، اس کی مشکلات کو اللہ کے سوا کوئی دوسرا دور نہ کرسکے گا۔
Ayah 22:15

مَنْ كَانَ یَظُنُّ اَنْ لَّنْ یَّنْصُرَهُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ فَلْیَمْدُدْ بِسَبَبٍ اِلَى السَّمَآءِ ثُمَّ لْیَقْطَعْ فَلْیَنْظُرْ هَلْ یُذْهِبَنَّ كَیْدُهٗ مَا یَغِیْظُ Open ayah 22:15 in the Quran reader

” جو شخص یہ گمان رکھتا ہو کہ اللہ دنیا اور آخرت میں اس کی کوئی مدد نہ کرے گا ، اسے چاہئے کہ ایک رسی کے ذریعے آسمان تک پہنچ کر شگاف لگائے پھر دیکھ لے کر آیا اس کی تدبیر کسی ایسی چیز کو رد کرسکتی ہے جو اس کو ناگوار ہے۔ “

من کان یظن ……ما یغیظ (15) یہ ایک نہایت ہی متحرک منظر ہے جس میں انسان کے نفسیاتی غیض و غضب کو ظاہر کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ ایسے حالات میں ہونے والی حرکتوں کو بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ ایسے حالات کو مجسم کر کے پیش کیا جاتا ہے جن میں انسان کا غصہ اور بےچینی اپنی انتہا پر ہو۔ ایک ایسا شخص جس پر مشکلات آرہی ہوں اور اس کا تعلق رب تعالیٰ سے نہ ہو ، یہ وہ شخص ہے جو مصیبت کے وقت ہر طرف سے مایوس ہوجاتا ہے۔ اسے کسی طرف کوئی امید کی کرن نظر نہیں آتی ، کسی طرف سے باد نسیم کے کسی جھونکے کے لئے کوئی کھڑکی نظر نہیں آتی۔ یہ شخص ضیق نفس اور دلی درد سے ناقابل برداشت حد تک تنگ آجاتا ہے اور مایوسی کی اس حالت میں اسے رنج و الم اور پریشانی اور بےاطمینانی مزید تکلیف دیتی ہے۔ چناچہ ایسے شخص کو قرآن کہتا ہے کہ اگر وہ بہت تنگ ہے تو کسی رسی کے ذریعے آسمانوں تک پہنچے ، اسی رسی کے ساتھ یہ لٹک جائے یا تو یہ خدکشی کرلے گا اور باہر گر جائے گا ، یا اس کے ذریعہ اس کی جان نکل جائے گی۔ پھر وہ دیکھ لے کہ آیا ایسی تدابیر سے وہ اپنے آپ کو اس بری حالت سے نکال سکتا ہے۔ یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ مسلسل مصائب صرف ایک ہی صورت میں برداشت کئے جاسکتے ہیں کہ انسان کو رحمت خداوندی کی امید ہو۔ مصائب و مشکلات صرف اس صورت میں دور ہو سکتی ہے کہ انسان اللہ کی طرف توجہ کرے۔ مصیبتوں اور مشکلات پر قابو پانے اور ان سے نکلنے کی واحد صورت یہی ہے کہ انسان صرف اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرے ، کسی مایوس شخص کی ہر حرکت زیادہ مایوسی اور زیادہ مصیبتوں کا باعث ہوتی ہے اور مصیبت زدہ شخص جب مایوس ہوتا ہے تو اسے مصیبت زیادہ تنگ کرنے لگتی ہے۔ لہٰذا میں ان تمام لوگوں کو دعوت دیتا ہوں جو مصائب اور تکالیف کی چکی میں پس رہے ہیں کہ وہ اللہ سے امداد طلب کریں۔ صرف یہی راستہ ہے جس سے وہ اطمینان پا سکتے ہیں اور اللہ کی رحمت کی باد نسیم ان پر چل سکتی ہے۔ ………… ہدایت و ضلالت کے حالات اور ہدایت و ضلالت کی مثالوں کے ایسے ہی بیانات کی خاطر اللہ نے یہ قرآن نازل کیا ہے تاکہ لوگ اس قرآن کے لئے اپنے دل کھول دیں اور اللہ ان کو ہدایت نصیب کرے۔
Ayah 22:16

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یُّرِیْدُ Open ayah 22:16 in the Quran reader

” ایسی ہی کھلی کھلی باتوں کے ساتھ ہم نے اس قرآن کو نازل کیا ہے اور اللہ جسے چاہتا ہے ، ہدایت دیتا ہے۔ “

وکذلک ……من یرید (16) اللہ نے ہدایت اور ضلالت کا فیصلہ پہلے ہی کردیا ہے ، جو ہدایت طلب کرے گا ، تو اللہ کا ارادہ اس کی ہدایت کی شکل میں حقیقت کا روپ اختیار کرلے گا۔ یہ اللہ کی سنت کے مطابق ہوگا ، اور جس نے ضلالت طلب کی تو اسے ضلالت ملے گی۔ یہاں اللہ نے صرف ہدایت ہی کا ذکر فرمایا ہے۔ کیونکہ ان آیات میں مضمون ہدایت ہی کا ہے کہ وہ ایک صحتمند دل میں کس طرح داخل ہوتی ہے۔ رہے وہ فرقے اور مذاہب جو ایک دوسرے کے ساتھ الجھے ہوئے ہیں ، ان میں سے حق پر کون ہے ؟ تو اس کا فیصلہ اس دنیا میں ہونا تو مشکل ہے ، قیامت کے دن اللہ ان کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ ان کے عقائد میں حق کہاں ہے اور باطل کیا ہے ؟
Ayah 22:17

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الصّٰبِئِیْنَ وَ النَّصٰرٰى وَ الْمَجُوْسَ وَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا١ۖۗ اِنَّ اللّٰهَ یَفْصِلُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 22:17 in the Quran reader

” جو لوگ ایمان لائے اور جو یہودی ہوئے اور صابئی اور نصاریٰ اور مجوس اور جن لوگوں نے شرک کیا ، ان سب کے درمیان اللہ قیامت کے روز فیصلہ کر دے گا ، ہر چیز اللہ کی نظر میں ہے۔ “

ان الذین امنوا ……شی ئٍ شھید (17) ان فرقوں کا تعارف اور تعریف پہلے گزر چکی ہے۔ یہاں ان کا ذکر اس اصول کے حوالے سے ہے کہ اللہ جس کو چاہتا ہے ، ہدایت دیتا ہے اور اس کو یہ بھی معلوم ہے کہ ہدایت پر کون ہیں اور ضلالت پر کون ہیں ؟ آخرت میں اللہ ہی سب کا حساب و کتاب کرنے الا ہے۔ آخری فیصلہ اسی کے ہاتھ میں ہے اور ہر چیز پر اللہ گواہ ہے۔ لوگ اگر اپنی فکر ، اپنی خواہشات اور اپنے ذاتی میلانات کے پچیھے دوڑ رہے ہیں تو دوڑتے رہیں۔ یہ پوری کائنات اپنی فطرت کے ساتھ اللہ کے قوانین قدرت کی مطیع ہے اور اس کے سامنے سجدہ ریز ہے۔ نافرمان اگر کوئی ہے تو انسان ہے۔
Ayah 22:18

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یَسْجُدُ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ وَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ وَ النُّجُوْمُ وَ الْجِبَالُ وَ الشَّجَرُ وَ الدَّوَآبُّ وَ كَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ١ؕ وَ كَثِیْرٌ حَقَّ عَلَیْهِ الْعَذَابُ١ؕ وَ مَنْ یُّهِنِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّكْرِمٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُؕ۩ Open ayah 22:18 in the Quran reader

” کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ کے آگے سربسجود ہیں وہ سب جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں ، سورج اور چاند اور تارے اور پہاڑ اور درخت اور جانور اور بہت سے انسان اور بہت سے وہ لوگ بھی جو عذاب کے مستحق ہوچکے ہیں ؟ اور جسے اللہ ذلیل و خوار کر دے اسے پھر کوئی عزت دینے والا نہیں ہے ، اللہ کرتا ہے جو کچھ چاہتا ہے۔ “

الم تر …………ما یشآء (18) جب انسان اس آیت پر غور کرتا ہے تو ایک کثیر التعداد مخلوق خدا ، جو نظر آتی ، جو نظر نہیں آتی ، آسمانوں میں اور اجرام فلکی میں ، وہ چیزیں جو نظر آتی ہیں اور جو نظر نہیں آتی ہیں ، پھر جو نہایت ہی حساس آلات کی مدد سے نظر آتی ہیں ، لاتعداد پہاڑ ، درخت ، زمین پر چنلے والے حیوانات ، اور پرندے چرندے ، غرض مخلوقات الٰہی کا یہ سیلاب اللہ کے سامنے سربسجود ہے۔ صرف اللہ کی طرف متوجہ ہے۔ نہایت ہی اتحاد اور یکجہتی کے ساتھ اللہ کی طرف متوجہ ہے لیکن اگر اس مخلوق میں کوئی نافرمان ہے تو وہ انسان ہے۔ یہ واحد مخلوق ہے جو جسورانہ انداز میں نافرمانی کرتی ہے۔ وکثیر من الناس وکثیر حق علیہ العذاب (22 : 18) ” بہت سے انسان اور بہت سے وہ لوگ بھی عذاب کے مستحق ہوچکے ہیں۔ “ یعنی اللہ کی طرف جھکنے والی اور سجدہ ریز ہونے والی اس مخلوق میں انسان ہی ایک عجیب چیز نظر آتا ہے۔ چناچہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ جس پر میرا عذاب حق ہوگیا یعنی وہ اس کا مستحق ہوگیا تو وہ ذلیل ہوگیا۔ ومن یھن اللہ فما لہ من مکرم (22 : 18) ” اور اللہ جسے ذلیل و خوار کر دے اسے پھر کوئی عزت دینے والا نہیں ہے “۔ لہٰذا عزت وہی ہے جو اللہ دے۔ طاقت وہی ہے جو اللہ نے دی ہو۔ جو اللہ کے سوا کسی کے سامنے بھی جھکا دو ذلیل و خوار ہوا۔ اب قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر جس میں اللہ کا اکرام اور اللہ کی تذلیل صاف صاف یوں نظرتی ہے جیسا کہ ہماری آنکھوں کے سامنے اسکرین پر یہ سب کچھ موجود ہے ، ذرا اسکرین پر دیکھیے۔
Ayahs 22:19–24

هٰذٰنِ خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوْا فِیْ رَبِّهِمْ١٘ فَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِیَابٌ مِّنْ نَّارٍ١ؕ یُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِمُ الْحَمِیْمُۚ Open ayah 22:19 in the Quran reader

یہ دو فریق ہیں جن کے درمیان اپنے رب کے معاملے میں جھڑا ہے۔ ان میں سے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ان کے لئے آگ کے لباس کاٹے جا چکے ہیں ، ان کے سروں پر کھولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا

یُصْهَرُ بِهٖ مَا فِیْ بُطُوْنِهِمْ وَ الْجُلُوْدُؕ Open ayah 22:20 in the Quran reader

جس سے ان کی کھالیں ہی نہیں پیٹ کے اندر کے حصے تک گل جائیں گے

وَ لَهُمْ مَّقَامِعُ مِنْ حَدِیْدٍ Open ayah 22:21 in the Quran reader

اور ان کی خبر لینے کے لئے لوہے کے گرز ہوں گے۔

كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَا مِنْ غَمٍّ اُعِیْدُوْا فِیْهَا١ۗ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ۠ Open ayah 22:22 in the Quran reader

جب کبھی وہ گھبرا کر جہنم سے نکلنے کی کوشش کریں گے پھر سای میں دھکیل دیئے جائیں گے کہ چکھو اب جلنے کی سزا کا مزہ

اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ لُؤْلُؤًا١ؕ وَ لِبَاسُهُمْ فِیْهَا حَرِیْرٌ Open ayah 22:23 in the Quran reader

(دوسری طرف) جو وگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے ان کو اللہ ایی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ وہاں وہ سونے کے کنگنوں اور موتیوں سے آراستہ کئے جائیں گے اور ان کے لباس ریشم کے ہوں گے

وَ هُدُوْۤا اِلَى الطَّیِّبِ مِنَ الْقَوْلِ١ۖۚ وَ هُدُوْۤا اِلٰى صِرَاطِ الْحَمِیْدِ Open ayah 22:24 in the Quran reader

وھدوا الی ……صراط الحمید (24) ترجمہ :۔ ” ان کو پاکیزہ بات قبول کرنے کی ہدایت بخشی گئی اور انہیں خدائے ستودہ صفات کا راستہ دکھایا گیا۔ “ اللہ کی ذات کے بارے میں دو فریق وجود میں آگئے ۔ ایک گروہ ایسا ہے ، جو بغیر ہدایت کے ، بغیر دلیل کے اور بغیر کتاب منیر کے اللہ کے بارے میں گفتگو کرتا ہے اور دوسرا گروہ جن کو آیات و ہدایات میں سے کوئی بات نظر نہیں آتی دونوں فریق اپنے انجام کو دیکھ لیں۔ جو لوگ اللہ کے بارے میں بغیر علم اور بغیر کتاب منیر کے بات کرتے ہیں وہ اپنا انجام دیکھ لیں۔

ھذن خصمن ……فیھا حریر (23) یہ ایک عجیب ، خوفناک اور چیخ و پکار سے بھرپر منظر ہے۔ حرکت سے بھرپور ۔ قرآن کریم کا بہترین طرز تعبیر ذہن کے اندر یہ طویل تخیلاتی منظر اس طرح پیدا کردیتا ہے کہ اسکرین پر واضح نظر آتا ہے۔ یہ منظر بار بار دامن خیال کو پکڑتا ہے اور خیال اس سے دامن نہیں چھڑا سکتا۔ آگ کے لباس کاٹے جا رہے ہیں ، جدا جدا ہر شخص کے لئے۔ دوزخیوں کے سروں پر سخت گرم پانی ڈالا جا رہا ہے۔ پانی ڈالتے ہی ان کے چمڑے بلکہ جسم کے اندر کے حصے بھی گل سڑ جاتے ہیں۔ لوہے کے کوڑے ہیں اور آگ میں گرم ہو رہے ہیں ۔ عذاب سخت سے سخت ہو رہا ہے۔ حد برداشت سے بڑھ جاتا ہے ۔ لوگ گھبرا رہے ہیں ، ، دوڑتے ہیں اور جہنم سے نکلنے کی سعی لاحاصل کر رہے ہیں لیکن سختی سے ان کو پھر اندر دھکیل دیا جاتا ہے۔ سختی سے ان کو ملامت کی جاتی ہے۔ وذوقوا عذاب الحریق (22 : 22) ” چکھو جلنے کا مزہ “۔ ان تمام مناظر کو خیال بار بار دہراتا ہے۔ یہاں تک کہ بھاگنے کی کوشش اور سختی کے ساتھ وہ لوگوں کا جہنم میں وبال کردیا جانا ، یہی خیال ذہن میں دوڑتا ہے کہ اچانک ایک دوسرا منظر آجاتا ہے ، وہ ہے دو رفیقوں میں سے دوسرے فریق کا منظر۔ ایک فریق کی حالت تو ابھی دیکھ چکے۔ اب اسکرین پر اہل جنت کا نقشہ آتا ہے۔ باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ ان کے لباس آگ سے نہیں بلکہ ریشم سے سئے جا رہے ہیں۔ اس لباس کے ساتھ ساتھ ان کے جسم کو خوبصورت بنانے کے لئے زیورات بھی ہیں۔ سوین کے اور موتیوں کے۔ پھر لباس پر لباس اور وہ شیریں کلام ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کے صراط مستقیم پر ہیں۔ نہ ان کی بات سخت ہے اور نہ ان کی راہ پر مشقت ہے۔ گویا شیریں کلامی اور حق گوئی اور راہ ربست پر ہونا جنت کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ یہ اطمینان ، یسر اور توفیق ربانی کی نعمت ہے۔
Ayah 22:25

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ الَّذِیْ جَعَلْنٰهُ لِلنَّاسِ سَوَآءَ اِ۟لْعَاكِفُ فِیْهِ وَ الْبَادِ١ؕ وَ مَنْ یُّرِدْ فِیْهِ بِاِلْحَادٍۭ بِظُلْمٍ نُّذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ۠ Open ayah 22:25 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کیا اور جو (آج) اللہ کے راستے سے روک رہے ہیں اور اس مسجد حرام کی زیارت میں مانع ہیں جسے ہم نے سب لوگوں کے لئے بنایا ہے ، جس میں مقامی باشندوں اور باہر سے آنے والوں کے حقوق برابر ہیں (ان کی روش یقینا سزا کی مستحق ہے۔ ) اس (مسجد حرام) میں جو بھی راستی سے ہٹ کر ظلم کا طریقہ اختیار کرے گا اسے ہم درد ناک عذاب کا مزا چکھائیں گے

درس نمبر 145 ایک نظر میں پچھلے سبق کا خاتمہ اس پر ہوا تھا کہ ذات باری کے بارے میں لوگوں کے دو گروہ ہیں۔ کافروں کا انجام قیامت میں کیا ہوگا اور اہل ایمان کے حالات کیسے ہوں گے۔ اسی حوالے سے کفار نے اس طرز عمل پر بحث کی جاتی ہے جو انہوں نے اس دنیا میں اختیار کر رکھا ہے کہ وہ لوگوں کو مسجد حرام کی زیارت سے اب روکنے لگے ہیں۔ مکہ میں تو انہوں نے دعوت اسلامی کی راہ روکنے کی بےحد جدوجہد کی ، مگر جب یہ تحریک مدینہ منتقل ہوگئی تو انہوں نے مسلمانوں کو زیارت حرم سے روک دیا۔ اس حوالے سے بتایاج اتا ہے کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اس حرم کو تعمیر کیا تھا تو ان کے پیش نظر کیا مقاصد تھے۔ انہوں نے کن مقاصد کے لئے اس کی تعمیر کے بعد لوگوں میں اعلان کیا تھا کہ وہ اس حرم کی زیارت کے لئے آزادانہ آئیں۔ اس گھر کی تعمیر ہی عقیدہ توحید پر ہوئی تھی۔ یہ توحید کا گھر تھا۔ اس میں شرک کرنے کا تو جواز ہی نہیں ہے۔ پھر یہ گھر تمام انسانوں کے لئے تھا۔ خواہ اس میں کوئی مقیم ہو یا باہر سے آئے۔ یہ سب کی مشترکہ جگہ ہے۔ کوئی وہاں کسی کو روک نہیں سکتا۔ کوئی اس کا مالک نہیں ہو سکتا۔ یہاں بعض شعائر زیارت و حج بھی بیان کردیئے جاتے ہیں اور یہ بھی بتا دیا جاتا ہے کہ ان کے پیچھے خدا خوفی اور خدا کے ساتھ تعلق کا کیا جذبہ ہے۔ آخر میں بتایا جاتا ہے کہ حرم کے اندر کسی کو اجازت نہیں ہے کہ وہ کسی پر کوئی بھی زیادتی کرے۔ خصوصاً وہ لوگ جو حرم کو ان مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں جن کے لئے وہ بنا نہیں ہے۔ ان کو تو کوئی حق ہی نہیں ہے کہ وہ اس کے متولی ہوں۔ اس حرم کو آزاد کرنے کے لئے جو بھی اٹھے گا اور اس مشن کے تقاضے پورے کرے گا تو اللہ تعالیٰ کی نصرت اس کے شامل حال ہوگی۔ یہ جارحیت نہ ہوگی بلکہ مقاصد حرم پر دست درازی کرنے والوں کے مقابلے میں مدافعت ہوگی۔ درس نمبر 145 تشریح آیات 25……تا……41 ان الذین ……… الیم (25) یہ مشرکین قریشی کی کارروائی تھی کہ لوگوں کو وہ اللہ کے دین سے اور مسجد حرام سے روکتے تھے ، حالانکہ مسجد حرام بنی ہی لوگوں کے لئے تھی چاہے وہ اس میں بسنے والے ہوں یا باہر سے زیارت کے لئے آنے والے ہوں۔ دین الٰہی وہ وسیلہ ہے جس کے ذریعہ انسان اللہ تک پہنچ سکتا ہے۔ پھر لوگوں کے لئے یہ ایک نظام زندگی ہے جس کے مطابق انہوں نے زندگی بسر کرنی ہے کیونکہ یہ ان کی زندگی کا منہاج ہے۔ قریش لوگوں کو دین اسلام سے بھی روکتے تھے اور مسجد حرام سے بھی روکتے تھے۔ حج و عمر سے بھی مسلمانوں کو روکتے تھے حالانکہ مسجد حرام کو اللہ نے دار امن وامان قرار دیا تھا جس میں مکہ کے باشندے اور باہر کے لوگ سب مساوی تھے۔ یہاں کسی کو کوئی امتیازی پوزیشن حاصل نہ تھی۔ نہ اس میں کوئی مالک بن سکتا تھا اور نہ امتیازی حقوق حاصل کرسکتا تھا۔ یہ وہ مقام احرام تھا جسے اللہ تعالیٰ نے ایک پرامن خطہ قرار دینے کے لئے سب سے پہلے مکہ مکرمہ کو منتخب کیا۔ اس خطے میں لوگ اسلحہ پھینکتے تھے ، باہم سخت عداوت رکھنے والے دو شخص بھی یہاں امن سے رہتے تھے۔ یہاں ہر قسم کی خونریزی ممنوع تھی۔ یہ کسی کی جانب سے کوئی مہربانی نہ تھی بلکہ تمام انسانوں کا یہ حق تھا اور اس حق میں سب برابر تھے۔ فقہاء کے درمیان اس بارے میں اختلاف ہے کہ مکہ کے وہ گھر جن میں ان کے مالک رہائش نہیں رکھتے ، آیا ان کا کوئی مالک ہو سکتا ہے یا نہیں۔ اور اگر ملکیت کا جواز بھی ثابت ہو تو آیا ان مکانات کا کرایہ لیا جاسکتا ہے یا نہیں۔ امام شافعی “ اس طرف گئے ہیں کہ ملکیت بھی جائز ہے ، وراثت بھی جائز ہے ، کرایہ پر دینا بھی جائز ہے۔ وہ حضرت عمر ابن الخطاب کی روایت سے استدلال کرتے ہیں کہ انہوں نے صفوان ابن امیہ سے ایک مکان مکہ میں چار ہزار درہم کے عوض خریدا تھا اور اس سے انہوں نے جیل خانہ بنایا تھا۔ اسحاق ابن راہویہ اس طرف گئے ہیں کہ نہ ان کا کوئی وارث ہو سکتا ہے اور نہ ہی کرایہ پر دیئے جاسکتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر فوت ہوئے اس حال میں کہ مکہ کے میدان شاملات کہلاتے تھے ، جس کو ضرورت ہوتی وہ اس میں رہتا اور جس کی ضرورت سے زیادہ ہوتے وہ دوسرے کو اس میں بسا دیتا۔ عبدالرزاق نے مجاہد ، اس کے باپ سے ، عبداللہ ابن عمر سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا کہ مکہ کے مکانات کو بچینا جائز نہیں ہے اور نہ ان کا کرایہ لینا جائز ہے۔ انہوں نے ابن جریج سے بھی نقل کیا ہے کہ عطاء حرم میں مکانات کو کرایہ پر دینے سے منع کرتے تھے اور انہوں نے مجھے بتایا کہ حضرت عمر ابن الخطاب مکہ کے مکانات کے دروازے لگانے سے منع کرتے تھے تاکہ حجاج ان کے صحنوں میں ٹھہر سکیں۔ سب سے پہلے سہیل ابن عمرو نے دروازہ لگایا۔ حضرت عمر ابن الخطاب نے اس معاملے میں اسے لکھا۔ اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ امیر المومنین میں ایک تاجر آدمی ہوں اس لئے میں نے دو دروازے لگائے ہیں تاکہ میں اپنی سواریاں یہاں بند کروں۔ تو اس پر انہوں نے کہا کہ تمہیں اس کی اجازت ہے۔ مجاہد کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت عمر نے اہل مکہ سے کہا ، اپنے گھروں کے سامنے گیٹ نہ لگائو تاکہ حج کو آنے والا جہاں چاہے اتر جائے۔ امام احمد بن حنبل نے ایک متوسط مذہب اختیار کیا ہے کہ ملکیت اور وراثت تو ان میں چلے گی مگر کرایہ پر دینا جائز نہ ہوگا۔ یوں انہوں نے دلائل میں تطبیق کردی ہے۔ یوں اسلام نے تمام مذاہب کے مقابلے میں سب سے پہلے ایک خطے کو دار الامن قرار دیا۔ بلکہ اسے تمام انسانوں کا شہر قرار دیا اور اس میں ملکیت اور دوسری حد بندیوں کو ناجائز قرار دیا۔ چناچہ اس صاف ستھرے اور سیدھے طریقے میں جو شخص ٹیڑھ پیدا کرتا ہے اس کو قرآن کریم دھمکی دیتا ہے کہ اسے سخت سزا دی جائے گی۔ ومن یردفیہ بالحاد بظلم نذقہ من عذاب الیم (22 : 25) ” اس میں جو بھی راستی سے ہٹ کر ظلم کا طریقہ اختیار کرے گا اسے ہم درد ناک عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔ “ یہ سزا تو اس شخص کے لئے ہے جو ارادہ کرے اور جو ارادہ کر کے ظلم کا ارتکاب بھی کرے تو اس کی سزا پھر بہت زیادہ ہوگی۔ صرف ارادے پر سزا کا اعلان بہت زیادہ تاکید کی خاطر ہے۔ یہ قرآن مجید کی نہایت ہی دقیق تعبیر ہے۔ پھر قرآن مجید کے گہرے تاکیدی انداز کا ثبوت اس سے بھی ملتا ہے کہ اس جملہ میں لفظ ان کی خبر کا ذکر نہیں کی اگیا۔ ان الذین کفروا ویصدون عن سبیل اللہ والمسجد الحرام (22 : 25) یہاں اس بات کا ذکر نہیں ہے کہ ان کفار کے بارے میں حکم کیا ہے ؟ ان کا کیا انجام ہوگا ؟ ان کو کیا سزا ملے گی ؟ کفر کے ذکر ہی سے معلوم ہوجاتا ہے کہ ان کی جزاء کیا ہے جبکہ وہ یہاں سے لوگوں کو روک رہے ہیں اور اسلام کی راہ بھی روک رہے ہیں۔ اب روئے سخن اس گھر کی تعمیر اور تاریخ کی طرف ، جس پر مشرکین کا قبضہ ہے۔ اس میں یہ لوگ بتوں کو پوجتے ہیں اور اہل توحید کو حق زیارت سے بھی محروم کر رہے ہیں محض اس لئے کہ وہ شرک سے پاک ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ رب تعالیٰ کی ہدایات اور احکام کے مطابق یہ کعبہ کس طرح وجود میں آیا یہ کہ یہ بنایا ہی اس لئے گیا تھا کہ یہ توحید کی بنیاد ہوگا اور اس کا استعمال یہ ہوگا کہ اس میں اللہ وحدہ کی پرستش کی جائے گی اور یہ کہ وہ یہاں کے مقیم لوگوں اور زائرین دونوں کے لئے مخصوص ہوگا۔