Ayah 22:65الم تر ……رحیم (56)
اس زمین میں کس قدر قوت ہے ، کس قدر ثروت ہے ، اور ان قوتوں اور ذخا ئرکو اللہ نے انسانوں کے لئے مسخر کردیا ہے لیکن انسان اللہ کے ان انعامات سے غافل ہے۔ یہ ان انعامات میں رات اور دن ڈوبا ہوا ہے ، لیکن غافل پڑا ہے۔
اللہ نے زمین و آسمان کی تمام چیزوں کو انسان کے لئے مفید بنایا ہے اور مسخر کردیا ہے۔ اس کائنات کے طبیعی قوانین کو انسانی فطرت کے مطابق اور موافق بنایا ہے۔ اگر اللہ نے اس زمین کے طبیعی حالات کو انسان کے طبیعی حالات کے خلاف بنایا ہوتا تو انسان کے لئے یہاں زندہ رہنا مشکل ہوتا چہ جائیکہ وہ یہاں اس کائنات کے ذخیرہ سے کوئی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ اگر انسان کی جسمانی تربیت اس سے مختلف ہوتی اور اس کرہ ارض پر وہ چل نہ سکتی ہوا نہ کھینچ سکتی غذا نہ لے سکتی ، پانی نہ پی سکتی تو انسان یہاں ایک لمحے کے لئے بھی زندہ نہ رہ سکتا ۔ اگر انسان کا وزن اس طرح موزوں نہ ہوتا جس طرح کہ ہے تو اس کے قدم زمین پر نہ ٹکتے یا ہوا میں اڑ جاتا یا زمین میں دھنس جاتا۔ اگر زمین پر ہوا نہ ہوتی یا اس موجودہ حالت سے ذرا بھی کثیف ہوتی تو اس کا گلا گھٹ جاتا ، اور فوراً مر جاتا۔ لہٰذا یہ امر الٰہی ہی ہے اور اس لطیف وخبیر کا کارنامہ ہی ہے کہ اس نے ان فطری قوتوں کو انسان کے موافق بنایا اور انسان کو ان کے موافق۔
اللہ نے ایک طرف تو ان کو ایسی طاقت دی کہ وہ اس کرہ ارض کو مسخر کرسکے اور دوسری طرف کرہ ارض اور اس کے اندر پوشیدہ قوتوں کو ایسا بنایا کہ وہ انسان کے کنٹرول کرتا چلا گیا۔ جب بھی اسے کسی جدید قوت کی ضرورت پیش آئی ہے اس نے وہ جدید قوت ڈھنڈ نکالی ہے۔ جب اس کو خطرہ ہوا کہ زمین کی قوتوں میں سے کوئی ذخیرہ ختم ہونے والا ہے ، اس نے جدید ذخیرہ تلاش کرلیا۔ ابھی پٹرول کے ذخائر ختم نہ ہوئے تھے کہ اس نے ایٹمی قوت دریافت کرلیا اور ابھی اس پر پورا کنٹرول نہ ہوا تھا کہ ہائیڈروجن قوت دریافت کرلی۔ اگرچہ انسان کی مثال ابھی تک بچے کی سی ہے کہ جس کے ہاتھ میں آگ آجائے تو وہ خود بھی جلتا ہے اور دوسروں کو بھی جلاتا ہے۔ انسان اس وقت معتدل رہ سکتا ہے جب وہ اسلامی نظام زندگی کے سایہ میں زندگی بسر کرے۔ صرف اس صورت میں وہ اپنیقوتوں اور صلاحیتوں کو تعمیری کاموں میں صرف کرسکتا ہے اور منصب خلافت فی الارض کا فریضہ اچھی طرح ادا کرسکتا ہے۔
والفلک تجری فی البحر (22 : 56) ” اور اس نے کشتی کو قاعدے کا پابند بنایا ہے وہ اس کے حکم سے سمندر میں چلتی ہے۔ “ کیونکہ یہ قوانین قدرت اسی نے بنائے ہیں جن کے مطابق کشتی سمندر میں چلتی ہے اور انسان کو معلوم ہوا کہ اللہ نے یہ قوانین اس کائنات میں جاری کردیئے ہیں۔ چناچہ انسان نے کشتی کو اپنے مفادات کے مطابق چلانا شروع کردیا۔ اگر سمندر کا کوئی ضابطہ یا کشتی کا مزاج اس کے خلاف ہوتا تو ہم کشتی نہ چلا سکتے یا اگر انسان کی قوائے مدر کہ ایسی نہ ہوتیں جیسی ہیں تو ہمیں پتہ بھی نہ ہوتا کہ سمندروں میں اسط رح بڑے بڑے جہاز چلائے جاسکتے ہیں۔
ویمسک السمآء ان تفع علی الارض الا باذنہ (22 : 56) ” اور وہی آسمان کو اس طرح تھامے ہوئے ہے کہ اس کے اذن کے بغیر وہ زمین پر نہیں کرسکتا۔ “ کیونکہ اس نے اس کائنات کو بنایا اس طرح ہے کہ آسمان جس طرح کہ وہ ہے ، قائم رہے اور تمام کر ات سماوی ایک دور سے سے دور اپنی اپنی جگہ قائم رہیں۔ نہ وہ گریں اور نہ ان کے درمیان ٹکرائو ہو۔
علم فلکیات میں جس قدر ترقی ہوئی ہے اس سے صرف اس بات میں اضافہ ہوا ہے کہ یہ پیچیدہ نظام کائنات جس کے مطابق یہ پوری کائنات کھڑی ہے ، خلاق کائنات اللہ جل شانہ کا جاری کردہ ہے۔ اگرچہ بعض نادان انسان یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ اپنی تحقیقات کے ذریعے نظام فلکی کی جو تفسیر اور تعبیر کرتے ہیں اس سے دست قدرت کی نفی ہوتی ہے ، یہ بہرحال ان کا وہم اور سوچ کی کمی اور غور و فکر کی کجی ہے۔ پہلے تو یہ بات ہے کہ جس قدر فلکیاتی نظریات آج تک پیش ہوئے ہیں یہ محض مفروضے ہیں لیکن اگر ہم ان کو حقیقت بھی مان لیں تو ان میں سے کوئی مفروضہ بھی یہ ثابت نہیں کرتا کہ اس قانون کو کسی نے وضع نہیں کیا ہے یا یہ کہ ان قوانین کے جاری وساری رہنی میں کسی مدبر کے دست قدرت کا دخل نہیں ہے۔
ویمسک السمآء ان تفع علی الارض (22 : 56) ” وہی آسمان کو اس طرح تھامے ہوئے ہے کہ وہ زمین پر نہیں گرتا۔ “ یعنی اس قانون کے عمل میں سے جو اس کائنات میں جاری کردیا گیا ہے یہی اس کی صنعت کاری ہے۔ الا باذنہ ” مگر اس کے حکم کے سوا۔ “ یعنی جب اس کا حکم ہوا کہ جو قانون اللہ نے جاری کیا ہے وہ معطل ہوجائے تو پھر یہ قانون قدرت معطل ہوجائے گا اور یہ نظام درہم برہم ہوجائے گا۔
……
اب قرآن مجید اس کائنات کے دلائل تکوینی بیان کرتے ہوئے ، اس کائنات سے نفس انسانی کی طرف آتا ہے جو اس کائنات کا حصہ ہے۔ اب عالم انسانی کے اندر موت وحیات کے عجیب قوانین قدرت بیان کئے جاتے ہیں۔
Ayah 22:66وھو ……لکفور (66)
انسان کے ڈھانچے میں زندگی ڈالنا یعنی پہلے انسان ڈھانچے میں تو ایک عظیم معجزہ ہے ، اور رات اور دن جن چیزوں میں اللہ تعالیٰ زندگی ڈالتا ہے اس سے اس معجزے کی تجدید ہوتی رہتی ہے۔ یہ ” حیات “ کیا چیز ہے۔ ابھی تک یہ امور غبیبہ سے ہے اور عقل اس کے بارے میں حیراں ہے۔ اس میں بہرحال تامل و تدبر اور سائنسی تحقیق کے لئے بڑی گنجائش ہے۔
پھر موت بھی ایک دوسرا معجزہ ہے کہ انسان اس کی حقیقت سے آج تک عاجز ہے۔ موت نہایت ہی مختصر ٹائم میں واقع ہوجاتی ہے۔ لیکن زندگی اور موت کے آثار میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ انسان کے لئی اس میں غور و فکر کے وسیع امکانات ہیں۔
اب تیسرا مرحلہ کہ موت کے بعد زنگدی کیسے ہوگی۔ یہ بھی اللہ کے پوشیدہ علوم میں سے ایک غیب ہے۔ لیکن اس پر دلیل بہت آسان ہے کہ جب ایک چیز کو پہلے پیدا کردیا گیا ، تو دوسری بار اس کی پیدائش میں کیا مشکلات ہو سکتی ہیں۔ اس میں بھیانسان غو رو فکر کرسکتا ہے۔ لیکن انسان کی حالت یہ ہے کہ وہ غور و فکر ان موضوعات پر نہیں کرتا اور اللہ کا شکر ادا نہیں کرتا۔
ان الانسان لکفور (22 : 66) ” بیشک انسان ناشکرا ہے۔ “ بڑا منکر حق ہے۔ قرآن مجید نے یہ تمام دلائل اس موضوع کے گرد پیش کئے ہیں کہ جن لوگوں پر ظلم ہوگا ، اللہ ان کی مدد رکے گا اور لوگوں کو چاہئے کہ وہ اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنے خلاف ہونے والی جارحیت کا جواب دیں۔ یہ طرز استدلال قرآن کریم کے اس اسلوب کے مطابق ہے کہ قرآن اس کائنات کے قوانین فطرت اور مظاہر قدرت کو دلوں میں ولولہ پیدا کرنے کے لئے استعمال کرتا ہے کیونکہ نظام اسلامی کے اندر موجود قوانین عدل کو پوری کائنات کے اندر موجود قوانین فطرت کی تائید حاصل ہے۔
……
اس کائنات کے مظاہر فطرت اور قوانین قدرت کے بیان کے اس فیصلہ کن موڑ پر پہنچ کر اب قرآن مجید نبی ﷺ کو ہدایت کرتا ہے کہ آپ مشرکین کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنی راہ پر چلیں۔ مشرکین کے نزاع اور جدال کی پرواہ نہ کریں۔ اللہ مشرکین کو یہ طاقت نہیں دیتا کہ وہ آپ کو اپنی راہ سے روک سکیں۔ یہ راہ آپ کے لئے اللہ نے چنی ہے اور اس راہ میں آپ صرف دعوت ہپنچانے تک محدود رہیں۔ اصل فیصلہ تو اللہ خود قیامت میں کرے گا۔
Ayahs 22:67–69لکل امۃ جعلنا ……اللہ یسیر (96)
ہر قوم اور ہر امت کا ایک منہاج فکر ، منہاج عقیدہ اور ایک منہاج عمل اور ایک نظام زندگی ہوتا ہے۔ یہ نظام ان قوانین کے تابع ہوتا ہے جو اللہ نے انسانوں کے اندر جاری کئے ہیں جن کے مطابق انسان ماحول سے متاثر ہوتا ہے اور بعض چیزوں کو قبول کرلیتا ہے۔ یہ قوانین تخلیقی قوانین ہیں اور اللہ نے پیدائش کے وقت سے انسان کے اندر ان کا داعیہ رکھا ہے۔ جو امت دل کھول کر ان قوانین فطرت کو سمجھتی ہے اور ان کے مطابق اس کائنات اور نفس انسانی کے اندر دلائل ہدایت تلاش کرتی ہے ، وہ امت ہدایت یافتہ امت ہے کیونکہ وہ اس کائنات سے وہ قوانین دریافت کرلیتی ہے جس کے مطابق وہ اللہ کی معرفت اور اس کی اطاعت کے مقام تک پہنچ جاتی ہے۔ جو امت ان قوانین فطرت اور قوانین نفس سے آنکھیں بند کرلیتی ہے اور اسے ان میں خدا تک پہنچنے کی راہ نظر نہیں آتی ، وہ امت امت ضلالہ ہے اور اس نے خود اعراض کیا ہے اور سرکشی کی راہ اپنائی ہے۔
اس طرح اللہ نے ہر امت کے لئے کچھ مناسک رکھے ہیں ، جن پر وہ عمل کرتی ہے ، ایک مناج رکھا ہے جس پر وہ چلتی ہے ۔ لہٰذا مشرکین کے ساتھ مجادلہ میں اب وقت ضائع نہ کیا جائے ، کیونکہ وہ خود اپنے آپ کو راہ ہدایت اختیار کرنے سے روک رہے ہیں۔ وہ مناج ضلالت میں دور تک چلے گئے ہیں لہٰذا اللہ بھی یہ نہیں چاہتے کہ ان لوگوں کو اسلام کے خلاف مجادلے اور مباحثے کا موقع ملے۔ وہ تو چاہتے ہی یہ ہیں ، اے پیغمبر آپ اپنی راہ پر آگے بڑھیں۔ آپ کی راہ سیدھی ہے اور نظام مستقیم ہے۔
وادع الی ربک انک لعلی ھدی مستقیم (22 : 86) ” تم اپنے رب کی طرف دعوت دو ، یقینا تم سیدھے راستے پر ہو۔ “ آپ اپنے منہاج پر مطمئن ہوجائیں اور استقامت کے ساتھ اس پر گامزن رہیں۔ اگر کوئی آپ سے مجادلہ کرے تو بات مختصر کریں اور جہاد کا وقت آیات کلامی پر بحثوں میں ضائع نہ کریں۔
وان جدلوک فقل اللہ اعلم بما تعملون (22 ، 86) ” اگر وہ تم سے جھگڑیں تو کہہ دو کہ جو کچھ تم کر رہے ہو ، اللہ کو خوب معلوم ہے۔ “ بحث و مباحثہ تب فائدہ مند ہوتا ہے کہ مخاطب ماننے کے لئے تیار ہو ، اور وہ حقیقت معلوم کرنا چاہتا ہو۔ ایسے افراد کے ساتھ مباحثہ مفید نہیں ہوتا جو اپنی بات پر مصر ہوں اور وہ اس کائنات میں پائے جاین الے تمام دلائل کو جو انفس و آفاق میں موجود ہیں اور قرآن ان کی طرف بار بار متوجہ کرتا ہے ، یکسر رو کر کے مکابرہ کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اللہ کے حوالے کر دو ، یہ اللہ ہی ہے جو تمام امتوں کے طریقوں کا فیصلہ قیامت میں کرے گا۔
اللہ یحکم بینکم یوم القیمۃ فیما کنتم فیہ تختلفون (22 : 96) ” اللہ قیامت کے روز تمہارے درمیان سب باتوں کا فیصلہ کر دے گا جن میں تم اختلاف کرتے رہے ہو۔ “ اللہ وہ جج ہے جس کے فیصلے پر کسی کو اعتراض نہیں ہو سکتا کیونکہ قیامت کے فیصلے کے لخاف تو کوئی اپیل نہ ہوگی۔ یہ تو سپریم فیصلہ ہوگا۔
اللہ علم کامل کے ساتھ فیصلہ کرے گا۔ اس کی کوئی سبب یا کوئی دلیل جھوٹ نہیں ہو سکتی۔ عمل و شعور میں سے کوئی بات اس سے مخفی نہیں رہ سکتی۔ وہ تو آسمانوں و زمین میں سب کچھ جانتا ہے اس میں لوگوں کے اعمال اور نیات سب شامل ہیں۔
Ayah 22:70الم تعلم ان اللہ یعلم ما فی السمآء والارض ان ذلک فی کتب ان ذلک علی اللہ یسیر (22 : 08) ” کیا تم نہیں جانتے کہ آسمان و زمین کی ہر چیز اللہ کے علم میں ہے ؟ سب کچھ ایک کتاب میں درج ہے۔ اللہ کے لئے یہ کچھ بھی مشکل نہیں ہے “۔ اللہ کا علم نہایت کامل اور نہایت ہی باریک ہے اور اس پر اس کائنات کی کوئی شے مخفی نہیں ہے۔ وہ ایسی چیز سے متاثر نہیں ہوتا ، جس کی وجہ سے کوئی چیز محو ہوجاتی ہے یا بھول جاتی ہے۔ یہ سب کچھ تو ایک کتاب میں قلم بند ہے اور یہ ریکارڈ رکھنا اللہ کے لئے کچھ مشکل نہیں ہے۔
انسانی عقل تو تھک جاتی ہے۔ خصوصاً اس کلیاتی نظام پر غور کرتے ہوئے بھی عقل تھک جاتی ہے۔ پھر جب ہم اس پوری کائنات کے بارے میں اللہ کے علم کی جامعیت پر غور کرتے ہیں اور اسے حاطہ تصور میں لاتے ہیں اور محسوس کرتے ہیں کہ بیشمار اشیاء اشخاص ، اعمال ، نیات ، خیالات اور حرکات ، عالم منظور میں اور عالم مخفی میں ہیں تو ہمارے تصور کا دامن تار تار ہوجاتا ہے ، لیکن اللہ کے علم وقدرت کے حوالے سے یہ تو شے یسیر ہے۔
ان ذلک علی اللہ یسیر (22 : 08) ” یہ اللہ کے لئے مشکل نہیں ہے۔ “ رسول اللہ ﷺ کو یہ ہدیات دینے کے بعد کہ آپ مشرکین کو بحثو جدال کا کوئی موقع ہی نہ دیں کہ وہ آپ کی راہ مستقیم پر بحث کریں۔ اب حضور اکرم ﷺ کو سمجھایا جاتا ہے کہ خود ان کی جو راہ ہے اور جو منہاج ہے اس میں تو بحث کی گنجائش ہے اور اس میں تو ٹیڑھ ، ضعف ، جہالت ، ظلم اور دوسرے تمام نقائص موجود ہیں اور یہ کہ یہ لوگ باطل پرست ہونے کی وجہ سے اللہ کی نصرت اور معاونت سے بھی محروم ہیں۔ کوئی مددگار ان کا نہیں ہے۔
Ayah 22:71ویعبدون ……من نصیر (17)
حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں جس صورتحال یا قانن یا معاشرے کو اللہ کی طرف سے کوئی سند حاصل نہ ہو اس میں کوئی قوت نہیں ہوتی۔ جس چیز کی پشت پر اللہ کی قوت نہ ہو وہ کمزور ہے۔ اس کے اندر قوت کا بنیادی عنصر ہی موجود نہیں ہے جو سلطان الٰہی ہے۔
یہ لوگ بت پرست ، انسان پرست یا شیطان پرست ہیں۔ ان سب چیزوں پر خدائی ہاتھ موجود نہیں ہے اس لئے ایسے لوگ حقیقی قوت سے محروم ہوتے ہیں۔ یہ لوگ مذکورہ بالا چیزوں کی بندگی کسی دلیل ، کسی علم اور کسی یقین کی اساس پر نہیں کرتے۔ محض وہم اور خرافات کی بنیاد پر ان چیزوں کو مانتے ہیں۔ جبیہ اللہ کی نصرت اور مدد سے محروم ہوگئے تو اب دنیا و آخرت میں ان کا کوئی نصیر و مددگار نہیں ہے۔
تعجب انگیز بات یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ کے سوا ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہیں جس پر اللہ کی طرف سے کوئی سند جواز نہیں ہے ، نہ علم ہے ان کو ، پھر یہ دعوت حق بھی سننے کے لئے تیار نہیں ، نہ اسے قبول کرتے ہیں ، بلکہ یہ لوگ ضد میں آ کر گناہ کے کام پر آمادہ ہوئے ہیں اور اس قدر ضد اور عناد میں آگئے ہیں کہ یوں نظر آتا ہے کہ ان کے سامنے الٰہی پیش کرنے والے پر یہ لوگ ٹوٹ پڑیں اور اس کو چبا کر کھا جائیں۔
Ayah 22:72واذا ……ایتنا ط
یہ لوگ دلیل کا جواب دلیل سے نہیں دیتے۔ نہ دلیل کو دلیل سے رد کرتے ہیں بلکہ یہ دلیل کے مقابلے میں غصہ کر کے مخالف کو کھا جانا چاہتے ہیں اور یہ دلیل نہ ہونے کی علامت ہے اور سرکشوں کی آخری دلیل یہ ہوتی ہے کہ وہ لڑ پڑتے ہیں اور تشدد کرتے ہیں۔ وہ حق کا کلمہ سننا ہی نہیں چاہتے۔ ڈنڈے کی دلیل سے بات کرتے ہیں کیونکہ ان کو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے پاس ڈنڈے کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید ان کو یہ جواب دیتا ہے :
قل افانبئکم ……(27)
” ان سے کہو میں بتائوں تمہیں کہ اس سے بد تر چیز ہے ؟ آگ ، اللہ نے اسی کا وعدہ ان لوگوں کے حق میں رکر رکھا ہے جو قبول حق سے انکار کریں اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔ “
یہ کہ تم دلیل کا جواب ڈنڈے سے دیتے ہو تو پھر قوت کے مقابلے میں ایک بڑی قوت ہے۔ اس کا سامنا کرو اور انتظار کرو انجام کا۔ لیکن یاد رکھو کہ وہ بہت ہی برا نجام ہے۔
……
اب اس سورة کا اعلان عام ، تمام لوگوں کے لئے قرار داد ، جبراً بآواز بلند کہ لوگو ذرا اپنے معبودوں پر غور تو کرو۔ اللہ کے سوا جو شخص جس قسم کا الہ پوجتا ہے اس سے مدد طلب کرتا ہے جس شکل و صورت میں ہو وہ پکارے جانے الا۔ اللہ ان کے ضعف اور کمزوری کو ایک واضح مثال سے ظاہر کرتا ہے جسے دیکھا اور سنا جاسکتا ہے۔ مثال کیا ہے ایک چلتے پھرتے محترک منظر کی تصویرکشی ہے۔ اس منظر کو دیکھ کر آنکھیں روشن ہوجاتی ہیں اور دل خوش ہوتا ہے۔ ذرا اس منظر میں ان خدائوں کی بیچارگی کا نظارہ کرو۔
Ayah 22:73یایھا الناس ……والمطلوب (27)
یہ عام پکار ہے ، بلند آواز سے اعلان عام ہے۔
یا یھا الناس (22 : 38) اے لوگو ، جب لوگ جمع ہوگئے تو ان کے سامنے ایک مثال ہے۔ ایک عجیب منظر کی شکل میں ۔ یہ کوئی مخصوص مجلس نہیں ہے ، نہ کوئی اتفاقی بات ہے بلکہ لوگوں کو بلایا گیا ہے۔
ضرب مثل فاستمعوا لہ (22 : 8) ” مثال دی جاتی ہے غور سے سنو ، اس کو۔ “ یہ مثال ایک قاچدہ اور اصول مقرر کرتی ہے اور حقیقت بتاتی ہے۔
ان الذین ……اجتمعوالہ (22 : 38)
” جن معبودوں کو تم خدا کو چھوڑکر پکارتے ہو وہ سب مل کر ایک مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں تو نہیں کرسکتے۔ ‘ یعنی اللہ کے سوا تم جن بتوں کو پوجتے ہو ، یا جن اشخاص کی بندگی کرتے ہو ، یا رسومات اور تاقلید کی بندگی کرتے ہو ، جن سے تم نصرت طلب کرتے ہو ، جن سے تم امداد طلب کرتے ہو اور جن سے تم عزت طلب کرتے ہو ، یہ سب کے سب اگر مل جائیں تو ایک مکھی کی تخلیق بھی نہیں کرسکتے۔ مکھی اللہ کی مخلوقات میں سے بہت ہی صغیر و حقیر مخلوق ہے لیکن جن کو یہ الہ اور خدا کہتے ہیں وہ اس پر بھی قادر نہیں۔ اگرچہ وہ سب کے سب ایک دوسرے کی مدد پر جمع ہوجائیں تو اللہ کی مخلوقات میں سے اس نہایت ہی معمولی چیز کو وہ نہیں پیدا کرسکتے۔
جہاں تک مکھی کی تخلیق کا تعلق ہے وہ تو اونٹ اور ہاتھی جیسے بڑے حیوانات کی طرح مشکل اور محال ہے۔ کیونکہ مکھی کے اندر بھی وہی راز حیات ہے جو اونٹ اور ہاتھی کے اندر ہے لہٰذا محض محال ہونے میں تو چھوٹی بڑی مخلوق برابر ہے۔ لیکن قرآن کے معجزانہ انداز بیان نے یہاں مکھی جیسی صغیر و حقیر چیز کو مثال کے لئے منتخب کیا ہے کیونکہ اگر کوئی مکھی کی تخلیق سے عاجز ہے تو اس کی عاجزی بمقابلہ اونٹ یا ہاتھی زیادہ سہولت سے سمجھ میں آتی ہے ، یہ محض تعبیری انداز ہے ورنہ حقیقت تو دونوں کی ایک ہے۔ قرآن کریم کا یہ نہایت انوکھا اسلوب ہے۔
اب ذرا ان معبودوں کی کمزوری کی سمت میں ایک قدم اور آگے جائیے۔
وان یسلبھم الذباب شیئالا یستنقذوہ منہ (22 : 38) ” بلکہ اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے جائے تو وہ اسے چھڑا بھی نہیں سکتے۔ ‘ ان معبودوں کی حالت تو یہ ہے کہ اگر مکھی ان سے کوء چیز چھین کرلے جائے تو یہ اسے نہیں چھڑا سکتے ۔ چاہے بت ہوں ، چاہے اشخاص اور اولیاء ہوں۔ بلکہ بڑے بڑے فرعونوں سے مکھی انگر کوئی چیز اٹھا کرلے جائے تو وہ اسے پکڑ نہیں سکتے۔ یہاں بھی مکھی کو اختیار کیا گیا تاکہ اس صغیر و حقیر چیز کا سایہ ان بتوں پر پڑے اور ان کی بیچاگری اچھی طرح واضح ہوجائے۔ جبکہ اس کے اندر خطرناک بیماری ہوتی ہے اور وہ ہم سے نفیس چیزیں اڑا کرلے جاتی ہے۔ یہ کبھی ہم سے آنکھیں لے لیتی ہے ، کبھی اس کی وجہ کوئی عضو شل ہوجاتا ہے۔ کبھی کبھار تو آدمی اس بیمار سے جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ یہ سل ٹائیفائیڈ ، ڈائینٹری اور ہیضے کے جراثیم کی حامل ہے ، لیکن ہم سے وہ چیزیں لے جاتی ہے جو ہم اس سے واپس نہیں لے سکتے۔
قرآن کا معجزانہ انداز کلام اس قسم کے ایک لفظ اور مفہوم کا انتخبا کر کے اس طرح کی فضا پیدا کر یدتا ہے۔ اگر قرآن مجید میں کہتا کہ اگر درندے ان سے کوئی چیز لے جائیں تو یہ چھڑا نہیں سکتے تو اس سے ضعف کے مقابلے میں قوت کا تصور آتا ، حالانکہ درندے مکھی سے زیادہ قیمتی شے نہیں چھین سکتے لیکن مکھی کے لفظ سے ان کی بیچارگی اور حقارت کا تصور زیادہ گہرا ہوتا ہے۔
مثال کا خاتمہ ان الفاظ پر ہوتا ہے۔
ضعف الطالب و المطلوب (22 : 38) ” مدد چاہنے والے بھی کمزور اور جن سے مدد چاہی جاتی ہے وہ بھی کمزور۔ “ تاکہ مکھی کے لفظ سے جو ضعیفی کی فضا بنی ہے وہ ثابت بھی ہوجائے۔ اب فضا تیار ہے ، انسانی سوچ اور فکر میں ان الموں کی حقارت اور بیچارگی بیٹھ گئی ہے ، ایسی فضا میں قرآن اللہ کی قوت کا اعلان کرتا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی افسوس کی بات ہے کہ انسان نے اللہ کی اس عظیم قوت کا اندازہ نہیں لگایا۔
Ayah 22:74ما قدروا اللہ حق قدرہ ط ان اللہ لقوی عزیز (47)
٭لوگوں نے اللہ کی قدر نہیں کی کہ وہ اللہ کے ساتھ ایسے عاجز ، حقیر اور بیچارہ چیزوں کو شریک کرتے ہیں ، جو اگر سب کے سب بھی جمع ہوں تو مکھی پیدا نہیں کرسکتے۔
٭انہوں نے اللہ کی کوئی قدر نہ پہنچانی۔ حالانکہ وہ اللہ کے آثار قدرت دیکھتے ہیں ، اس کی عجیب و غریب مخلوق کی طرف دیکھتے ہیں اور پھر اس کے ساتھ ایسے الہوں کو شریک کرتے ہیں جو مکھی کا مقابلہ بھی نہیں کرسکتے۔
٭ انہوں نے اللہ کی قدر نہیں پہچانی کی وہ مدد طلب کرتے ہیں تو ان سے جن میں مدد دینے کی قوت ہی نہیں ہے بلکہ اگر ان سے مکھی کوئی چیز لے کر بھاگے تو وہ اسے بھی نہیں چھڑا سکتے۔
یہ ایسے حالات میں ایک سخت تنبیہ ہے کہ جہاں سامع خشوع و خضوع کے لئے تیار ہوگیا ہے۔ لوہا گرم ہے اور ضرب لگا دی گئی ہے۔ ایسے حالات میں خدا کے اختیارات کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔ اللہ ملائکہ میں سے پیغام لانے والے مقرر کرتا ہے اور انسانوں سے پیغام دینے والے مقرر کرتا ہے اور یہ انتخاب اپنے علم اور قدرت کی وجہ سے کرتا ہے۔
Ayahs 22:75–76اللہ یصطفی من ……الامور (67)
ملائکہ اور رسولوں کو جو اختیارات دیئے گئے ہیں وہ صاحب قوت بادشاہ کے دربار سے ملے ہیں۔ حضرت محمد ﷺ اس عزیز و جابر کے نمائندے ہیں۔ ان کے پاس بادشاہ کے اختیارات ہیں۔ ان کے مقابلے میں ان لوگوں کی کیا حیثیت ہے جو ان بیچارہ بتوں کے آگے جھکتے ہیں۔ اللہ توسیع وبصیر ہے ، سنتا ہے اور دیکھتا ہے ۔ جو لوگوں کے سامنے ہو وہ بھی جو ان کے پیچھے ہو ، یا ان سے خفیہ ہو اس کو بھی۔ اس کا علم کامل و شامل ہے۔ اس سے کوئی قریب و بعید کی چیز غائب نہیں ہو سکتی۔ تمام باتوں اور مقدموں کا رجوع اور آخری فیصلے کا اختیار اللہ ہی کا ہے۔
ہر قوم کے مناسک ہوتے ہیں اور مشرکین کے یہ مناسک ہیں جو مکھی سے بھی فروتر ہیں اور ان کی بندگی کی رسمیں کس قدر پوچ ہیں۔ امت مسلمہ کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ تم تو ایک اعلیٰ اور برتر پیغام کے حامل ہو ، اس پیغام کو اور اس دعوت کو غالب کرنے کے لئے عبادات کرو اور جہاد کرو۔
Ayahs 22:77–78یایھا الذین ……النصیر (47)
ان دو آیات میں ایک پورا منہاج امت مسلمہ کے سامنے رکھ دیا گیا ہے۔ وہ فرئاض اور تقاضے بھی رکھ دیئے جو اس منہاج اور نظام کے ساتھ لازمی شرط کے طور پر لگے ہوئے ہیں۔ اس کی اہمیت کیا ہے ؟ اور ماضی اور حال میں اس کی جڑیں کہاں تک پھیلتی ہیں ، جب اس منہاج اور نظام کو اللہ کی خاہش کے مطابق قائم کردیا گیا ، یہ منہاج کیا ہے ؟
٭ اہل ایمان کو سب سے پہلے رکوع و سجود کا حکم دیا جاتا ہے۔ رکوع و سجود اسلام کے ممتاز بنیادی ارکان ہیں۔ قرآن کریم نماز کی تعبیر اکثر رکوع و سجود سے کرتا ہے کیونکہ یہ نماز کے اہم اجزاء اور نماز کا منظر پیش کرتے وقت ظاہری افعال ہیں جن کا تعلق منظر کشی سے ہے۔ کیونکہ قرآن کریم کا اسلوب اظہار مناظر کی شکل میں ہے جو ایک دلنشین انداز ہے۔ شعور پر اس کا زیادہ اثر ہوتا ہے۔
٭ممتاز ترین عبادت کے ممتاز ترین ارکان کے بعد ایک عام حکم جو پوری زندگی کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ بندگی جو نماز سے زیادہ جامع ہے۔ کیونکہ عبادت میں فرئاض بھی شامل ہیں اور ہر وہ عمل بھی شامل ہے جس کے بارے میں اللہ کا کوئی حکم ہے اور اللہ کی رضامندی کے لئے اس کی تعمل ہو۔ اسی طرح انسانی زنگدی کی تمام حرکات کو عبادت میں تبدیل کیا جاسکتا ہے اگر یہ حرکات اللہ کی رضامندی کی نیت سے کی جائیں یہاں تک کہ زندگی کے وہ امور جن کا تعلق لذت سے ہے وہ بھی عبادت بن سکتے ہیں اگر ان پر اللہ کا ذکر کیا جائے ، اللہ کا شکر ادا کیا جائے اور یہ نیت کی جائے کہ یہ نعمتیں استعمال کر کے ہم مزید عبادت اور جہاد کریں گے۔ محض نیت سے ہر چیز عبادت بن سکتی ہے اور محض نیت سے خالص عبادت کھیل بن سکتی ہے۔
٭یہ کہ اسلام خیر ہی خیر ہے ، تمام اچھائی کے کام اسلامی نظام زندگی ہے۔ نماز ، بندگی اور خیر خلاصہ ہے اسلامی نظام کا۔
اب اس اسلام کو عملی دنیا میں نافذ کرنا ہے اور اس میں تم کامیاب اس طرح ہو سکتے ہو کہ خیر کے کام کرو۔ اللہ کی بندگی اور عبادت سے تمہارا تعلق باللہ مضبوط ہوگا اور اچھے کام کرنے سے تمہاری عملی زندگی درست ہوگی۔ اس سے تمہاری اجتماعی زندگی کا رخ ایمان کی راہ پر پڑجائے گا۔ جب امت کی تربیت یوں ہوگئی کہ اس کا تعلق باللہ عبادت کے ذریعہ پختہ ہوگیا۔ اس کی عملی زندگی اللہ کی اطاعت اور عمل خیر کے ذریعے استوار ہوگئی تو تب امت یا امت میں سے کوئی جماعت اس ذمہ داری کے سرانجام دینے کیلئے تیار ہوگی جو اسلامی نظام کے قیام کا واحد طریقہ ہے اور وہ کیا ہے ؟
وجاھدوا فی اللہ حق جھادہ (22 : 88) ” اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ جہاد کرنے کا حق ہے۔ “ یہ نہایت ہی جامع تعبیر ہے ، جہاد کا حق ادا کرو ، اس سے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ یہ ذمہ داری بہت ہی بڑی ہے۔ اس کے لئے بہت بڑی تیاری کی ضرورت ہے اور اس کے بہت بڑے تقاضے ہیں۔ اللہ کے راستے میں جہاد کرو جس طرح جہاد کرنے کا حق ہے ، اللہ کے دشمنوں سے جہاد کرو خود اپنے نفس کے ساتھ جہاد کرو ، شر و فساد اور ہر برائی کے خلاف جہاد کرو۔ اللہ کی راہ میں جہاد کا حق ادا کرو ، تمہیں تو تیار ہی جہاد کے لئے اس عظیم ڈیوٹی کے لئے کیا گیا ہے۔ تمام انسانوں میں سے تمہارا انتخاب ہوا ہے۔
ھو اجتبکم (22 : 88) ” اس نے تمہیں چنا ہے “ پھر اللہ نے جو تمہیں چن لیا ہے تو تمہاری ذمہ داری دوسروں کے مقابلے میں بڑھ گئی ہے۔ اب استعفی اور فرار کی تو کوئی راہ باقی نہیں رہی۔ یہ تو اس امت اور جماعت کے لئے اللہ کی طرف سے اکرام ہے اور چاہئے کہ ہم اللہ کا شکر ادا کریں اور اس کام کو اچھی طرح انجام دیں۔
پھر اللہ کی رحمت بھی اس کے ساتھ شامل ہے۔ کام بھی آسان ہے۔
وما جعل علیکم فی الدین من حرج (22 : 88) ” دین میں تم پر کوئی تنگئی نہیں رکھی گئی۔ “ یہ دین اور اس کے فرائض اس کی عبادات ، اس کے قوانین اور اس کے اخلاق میں انسانی فطرت کو مدنظر رکھا گیا ہے اور انسان کی فطری قوتوں کو تعمیری کاموں میں لگایا گیا ہے۔ ان کو اس طرح بند نہیں کیا گیا جس طرح گیس کو بند کیا جاتا ہے اور نہ ان قوتوں کو حیوانات کی طرح آزاند چھوڑا گیا ہے۔ پھر یہ دین ایک ایسا منہاج ہے کہ اس کی جڑیں ماضی کی تاریخ میں بیھ دور تک موجود ہیں۔
ملۃ ابیکم ابرھیم (22 : 88) ” قائم ہو جائو اپنے باپ ابراہیم کی ملت پر۔ “
یہ دین تو توحید کا سرچشمہ ہے اور اس کا سرا حضرت ابراہیم سے ملتا ہے۔ لہٰذا ایسا نہیں ہے کہ اس کی جڑیں زمین پر نہ ہوں اور اس کی تاریخ کے اندر بھی کوئی بڑا خلا (GAP) نہیں ہے جس طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے پہلے کی رسالتوں میں تھا اور نام بھی اس کا تاریخی ہے کہ حضرت ابراہیم نے تمہیں مسلمان کا نام دیا ہے اور اس ملت کا نا ملت اسلامیہ رکھا ہے۔
اسلام کا مفہوم ہی یہ ہے کہ چہرے ، نیت اور اعمال سب کو خدا کی طرف موڑ دو ۔ لہٰذا امت مسلمہ کا روزل اول سے ایک ہی نظریہ ، ایک ہی عقیدہ اور ایک ہی قبلہ ہے۔ حضرت ابراہیم سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک ایک ہی سلسلہ ، ایک ہی نظام اور ایک ہی پیغام ہے۔ حضرت محمد ﷺ کو سب سے آخر میں یہ امانت دی گئی اور حکم دیا گیا کہ یہ پیغام تمام انسانیت تک پہنچانا ہے۔
لیکون الرسول شھیدا علیکم و تکونوا شھدآء علی الناس (22 : 88) ” تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ ہو۔ “ تو رسول امت پر گواہ ہے یعنی وہ اس کے لئے نظام وضع کرے گا ، صحیح و غلط اور نیک و بد کی تمیز سکھائے گا ، اور یہی فریضہ یہ امت دوسرے لوگوں کے حوالے سے ادا کرے گی۔ یہ امت گویا پوری انسانیت کی نگراں ہے۔ اس امت کی شرعی قدریں اس کا تقاضا کرتی ہیں کہ اس کی تربیت اور اس کی سوچ بھی اس لائن پر ہے۔ یہ امت ، امت مسلمہ نہ ہوگی اگر وہ تمام انسانیت کی نگرانی نہ کرے اور اپنا اصلی فریضہ نہ ادا کرے۔
امت مسلمہ نے جب تک اسلامی نظام زندگی کو اپنے ہاں اپنی زندگی وں میں نافذ کئے رکھا ، وہ پوری دنیا کی نگران رہی۔ جب اس امت نے شریعت کے نظام سے انحرامف کیا اور اپنے فرئاض ادا کرنے ترک کردیئے تو اللہ تعالیٰ نے اسے مقام قیادت سے ہٹا کر دوسروں کا دم چھلا بنا دیا اور اب وہ ہمیشہ ایسے ہی رہے گی جب تک وہ اسلامی نظام کی حامل نہیں ہوتی۔
یہ فریضہ وہ تب تک ادا نہیں کرسکتی جب تک اس کے لئے تیاری نہ کرے اور تیاری کا نسخہ لالہ بتاتے ہیں۔ یہ کہ نماز پڑھو ، یہ کہ زکوۃ دو اور یہ کہ اللہ پر مکمل بھروسہ کرو۔
فاقیموا الصلوۃ ……النصیر (22 : 88) ” پس نماز قائم کرو ، زکوۃ دو اور اللہ سے وابستہ ہو جائو۔ وہ ہے تمہارا مولیٰ بہت ہی اچھا ہے وہ مولیٰ اور بہت ہی اچھا ہے وہ مددگار۔ “
٭نماز ایک فانی اور کمزور انسان کا رابطہ اس ذات کے ساتھ استوار کرتی ہے جو قوی ہے اور مقتدر قوت ہے۔
٭ زکوۃ امت مسلمہ اور جماعت مسلمہ کے افراد کے درمیان صلہ رحمی کا قیام ہے۔ حاجات اور ضروریات میں افراد جماعت کی کفالت کا انتظام ہے تاکہ فساد پیدا نہ ہو۔
٭ اور اللہ پر بھروسہ وہ مضبوط رسی ہے جس کو کبھی ہاتھ نہ چھوڑنا چاہئے۔
یہ ہیں وہ سامان جنگ جن کے ذریعہ یہ امت وہ فریض شہادت علی الناس ادا کرسکتی ہے۔ جس کے لئے اسے اٹھایا گیا تھا اور ان اخلاقی اسلحہ کے علاوہ امت کے لئے عمومی ہدایت ہے کہ وہ حد استقامت تک روایتی زمینی اسلحہ بھی جمع کرسکتی ہے۔ قرآن اس سے غافل نہیں رہا ہے۔ لیکن یہاں اللہ تعالیٰ اس قوت ، اس فوجی تربیت اور اس ساز و سامان کے جمع کرنے پر زور دیتا ہے جو امت مسلمہ کا واحد اسلحہ ہے اور کسی اور کے پاس نہیں ہے۔ یعنی اللہ کے ساتھ رابطہ ، صلاح اور اصلاح اور نظر بلند اور سر بلندی۔
اسلامی نظام کے پیش نظر اصل مقصد یہ ہے کہ انسانیت کو اس کمال تک پہنچایا جائے جو اس زمین میں حاصل کرنا ممکن ہو۔ اسلام یہاں محض جانوروں کی طرح حیوانی ترقی پر زور نہیں دیتا بلکہ روحانی ترقی پر بھی زور دیتا ہے۔
انسانیت کی بلند اقدار انسان کی مادی ضروریات کو بھی پیش نظر رکھتی ہیں لیکن وہ اپنی سرگرمیوں کو صرف مادی ضروریات تک محدود نہیں رکھتیں اور یہی اسلام کا مطالبہ ہے امت مسلمہ سے کہ دنیا کی قیادت اسلام کے جامع نظام کی روشنی میں کی جائے۔ صدق اللہ العظیم