22. Surah Al-Hajj

الحجThe Pilgrimage · 78 ayahsفی ظلال القرآن

Ayahs 22:42–44

وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌ وَّ ثَمُوْدُۙ Open ayah 22:42 in the Quran reader

” اے نبی ﷺ اگر وہ (یعنی کفار) تمہیں جھٹلاتے ہیں تو ان سیپ ہلے قوم نوح اور عاد اور ثمود

وَ قَوْمُ اِبْرٰهِیْمَ وَ قَوْمُ لُوْطٍۙ Open ayah 22:43 in the Quran reader

اور قوم ابراہیم اور قوم لوط

وَّ اَصْحٰبُ مَدْیَنَ١ۚ وَ كُذِّبَ مُوْسٰى فَاَمْلَیْتُ لِلْكٰفِرِیْنَ ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ١ۚ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ Open ayah 22:44 in the Quran reader

اور اہل مدین بھی جھٹلا چکے ہیں اور موسیٰ بھی جھٹلائے جا چکے ہیں۔ ان سب منکرین حق کو میں نے پہلے مہلت دی پھر پکڑ لیا۔ اب دیکھ لو کہ میری عقوبت کیسی تھی

درس نمبر 146 ایک نظر میں اس سے پہلے سبق کا خاتمہ اس پر ہوا تھا کہ نظریات ، عقائد اور ملت کے شعار کی مدافعت کے لئے جنگ کی اجازت ہے۔ جو لوگ اسلامی نظریہ حیات کے تقاضے پورے کریں گے ان کو اللہ کی طرف سے پوری پوری نصرت بھی حاصل ہوگی۔ بشرطیکہ انہوں نے خود اپنی جماعت کے اندر اسلامی نظام حیات قائم کر رکھا ہو۔ جب یہ بتا دیا گیا کہ اللہ کی نصرت کے استحقاق کے لئے شرائط و فرائض کیا ہیں تو اب رسول اللہ ﷺ کو اطمینان دلایا جاتا ہے کہ دست قدرت نے آپ کی اور آپ کے ساتھیوں کی حمایت میں کام شروع کردیا ہے جس طرح آپ سے قبل آپ کے بھائی رسولوں کے حق میں دست قدرت نے کیا اور ہر دور میں مکذبین کو بڑی سختی سے پکڑا۔ نیز مکذبین اور مشرکین کو بھی اس طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ اگر ان کا دل و دماغ کام کرتا ہے تو وہ غور و فکر کریں کیونکہ آنکھوں کا اندھا دراصل اندھا نہیں ہوتا ، بلکہ حقیقی اندھا وہ ہوتا ہے جس کے سینے میں دھڑکنے والا دل اندھا ہو۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کو یہ اطمینان دلایا جاتا ہے کہ اللہ اپنے رسولوں کو شیطان کی سازشوں سے بچاتا ہے۔ اس طرح وہ جھٹلانے والوں کی سازشوں سے بھی بچاتا ہے۔ نیز وہ شیطان کی مکاریوں کو باطل کر کے ، اپنی آیات کو سلیم الطبع لوگوں کے ذہن نشین کرا رہا ہے۔ رہے وہ لوگ جن کے دل مریض ہیں ، یا جن کے دل کافر ہیں تو وہ اسی طرح شک میں گرفتار رہیں گے یہاں تک کہ وہ اپنے برے انجام کو دیکھ لیں۔ یہ پورا سبق دست قدرت کے آثار اور کرشموں پر مشتمل ہے۔ اللہ کا ہاتھ دعوت اسلامی کو آگے بڑھانے کے لئے متحرک ہوگیا ہے لیکن نتائج سامنے تب آئیں گے جب وہ اصحاب دعوت اپنے فرائض کو بطرز احسن پورا کریں اور وہ تقاضے پورے کریں جن کے بارے میں پہلے وضاحت کردی گئی ہے یعنی اس سے پہلے سبق میں۔ درس نمبر 146 تشریح آیات 42……تا 57 وان یکذبوک ……کان نکیر (44) تمام رسولوں کے بارے میں یہ اللہ کی اٹل سنت ہے کہ رسول معجزات لے کر آئے اور ان کی قوموں نے ان کو جھٹلایا۔ اس لئے مشرکین مکہ کی طر سے رسول آخر الزمان ﷺ کی تکذیب کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن تمام جھٹلانے والوں کا انجام بھی تو معلوم ہے۔ انجام کے لئے بھی مشرکین مکہ تیار ہوجائیں۔ فقد کذبت قبلھم قوم نوح و عاد وثمود (32) وقوم ابرہیم و قوم لوط (22 : 33) ” اس سے پہلے قوم نوح ، اور عاد وثمود اور قوم ابراہیم اور قوم لوط نے جھٹلایا ہے “ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے علیحدہ فقرہ و کذب موسیٰ (اور موسیٰ جھٹلائے جا چکے ہیں) اس لئے کہ اس کی قوم نے انہیں نہیں جھٹلایا تھا بلکہ فرعون اور اس کے سرداروں نے جھٹلایا تھا۔ دوسرے اس لئے کہ جو معجزات حضرت موسیٰ لے کر آئے تھے وہ بہت ہی واضح تھے۔ نیز موسیٰ (علیہ السلام) کو بہت ہی بڑے واقعات پیش آئے۔ ان تمام پیغمبروں کے واقعات میں اللہ نے کافروں کو ایک وقت تک مہلت دی۔ جیسا کہ اب قریشک و مہلت دی جا رہی ہے اور اس کے بعد اللہ نے بڑی سختی سے ان کو پکڑا۔ یہاں سوالیہ انداز مزید ڈرانے اور اظہار تعجب کے لئے ہے۔ فکیف کان نکیر (22 : 33) ” اب دیکھ لو کہ میری عقوبت کیسی تھی۔ “ نکیر کا مفہوم ہے ایسا سخت انکار جس میں تبدیلی کا شائبہ ہو۔ اس سوال کا جواب معلوم ہے کہ خوفناک عذاب تھا۔ طوفان ، خسف تدمیر ، ہلاکت ، زلزلے ، تباہی طوفان اور کڑک کی وجہ سے خوف میں مبتلا کر کے ہلاک کرنا۔
Ayah 22:45

فَكَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ فَهِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا وَ بِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَّ قَصْرٍ مَّشِیْدٍ Open ayah 22:45 in the Quran reader

” کتنی ہی خطاکار بستیاں ہیں جن کو ہم نے تباہ کیا ہے اور آج وہ اپنی چھتوں پر الٹی پڑی ہیں ، کتنے ہی کنوئیں بیکار اور کتنے ہی قصر کھنڈر بنے ہوئے ہیں

گزشتہ ہلاک شدہ اقوام پر ایک نہایت سرسری نظر ڈالنے کے بعد اب گزشتہ ہلاک شدہ اقوام پر جامع تبصرہ۔ فکاین من ……مشید (45) ایسی ہلاک شدہ بستیاں بیشمار ہیں۔ انداز کلام ان اقوام کی ہلاکتوں کے مناظر کو ایک منظر کی صورت میں اس طرح پیش کرتا ہے کہ انسان کہتا ہے کہ وہ ہیں ہلاک شدہ بستیوں کے کھنڈرات۔ بڑے بڑے محل چھتوں کے اوپر پڑے ہیں۔ حالانکہ وہ دیواروں پر استوار تھے۔ جب کرے تو چھتیں نیچے اور تمام عمارتی ڈھانچہ ان کے اوپر۔ اس طر یہ منظر نہایت ہی و عشتاک ، دلدوز اور پرتاثیر بن جاتا ہے۔ یہ کہ یہ منظر اس کا مستحق ہے کہ اس کی سابق اور موجودہ صورتحال پر غور کیا جائے۔ کھنڈرات میں جب انسان پھرتا ہے تو وہ بہت ہی وحشتاک نظر آتے ہیں اور ان سے اگر کوئی عبرت حاصل کرنا چاہے تو عبرت حاصل کرسکتا ہے اور انسان میں خوف خدا پیدا ہو سکتا ہے۔ ان بڑے بڑے گائوں کے آثار ہمارے سامنے ہیں ، ان کی چھتوں پر ان کی بلڈنگیں گری ہوئی ہیں اور ان کے کنوئیں خالی پڑے ہیں نہ ان پر کوئی آنے والا نظر آتا ہے اور نہ جانے والا کسی وقت تو ان پر عوام کا بےحد اژدھام تھا۔ بڑی بڑی عمارات کھڑی ہیں ، لیکن کوئی انسان نہیں ، کوئی زندہ چیز بھی نہیں ہے ، تخلیل کے پردے پر صورتیں ابھرتی ہیں کہ کسی وقت تو یہاں گہما گہمی ہوگی ! ان مناظر کو دکھانے کے بعد قرآن کریم سخت تنبیہ کے ساتھ پوچھتا ہے کہ آیا مشرکین نے کبھی ان کھنڈرات پر غور نہیں کیا ؟
Ayah 22:46

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَتَكُوْنَ لَهُمْ قُلُوْبٌ یَّعْقِلُوْنَ بِهَاۤ اَوْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَا١ۚ فَاِنَّهَا لَا تَعْمَى الْاَبْصَارُ وَ لٰكِنْ تَعْمَى الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ Open ayah 22:46 in the Quran reader

” کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ ان کے دل سمجھنے والے یا ان کے کان سننے والے ہوتے ؟ حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں مگر وہ دل اندھے ہوجاتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔ “

افلم یسیروا فی ……فی الصدور (46) گزشتہ زمانے کی ہلاک شدہ اقوام کے کھنڈرات کا تصور ہی مفید اور عبرت آموز ہوتا ہے۔ انسان ان کو پھٹی پھٹی نظروں سے حیرانی کے ساتھ دیکھتا ہے اور یہ کھنڈرات انسان کو خاموشی کی زبان سے بہت کچھ بتاتے ہیں۔ افلم یسیروافی الارض (22 : 36) ” کیا یہ زمین میں چلے پھرے نہیں ؟ “ کہ دیکھیں اور انہیں معلوم ہو کہ کیا کیا لوگ یہاں رہ گئے ہیں۔ یہ کھنڈر ان کو خاموشی کی زبان میں بہت کچھ بتا دیں گے اور کہہ دیں گے کہ دیکھو کہ ہم دیکھنے والوں کے لئے عبرت ہیں فتکون لھم قلوب یعقلون بھا (22 : 36) ” کہ ان کے دل و دماغ سمجھنے والے ہوتے۔ “ تاکہ وہ سمجھیں کہ ان مٹے ہوئے کھنڈرات کی پشت پر تاریخ کیا ہے۔ یہ اللہ کی کس سنت کا پتہ دے رہے ہیں ، جو کبھی بدلتی نہیں ہے۔ او اذان یسمعون بھا (22 : 36) ” یا ان کے کان سننے والے ہوتے “ تاکہ وہ ان کھنڈرات سے پوچھتے کہ ان کے باسی کہاں گئے ، یہ کنوئیں کیوں خالی پڑے ہیں اور یہ محل کیوں برباد ہوئے۔ کیا ان لوگوں کے پاس عقل نہیں ہے ؟ یہ دیکھتے ہیں لیکن کوئی بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی۔ یہ سنتے ہیں لیکن کوئی عبرت نہیں لیتے۔ فانھا لاتعمی الابصار ولکن تعمی القلوب التی فی الصدور (22 : 36) ” حققیت یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں مگر دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں ہوتے ہیں۔ “ یہاں دلوں کی جگہ کا بھی تعین کردیا جاتا ہے مزید تاکید کی خاطر کہ وہ سینوں میں ہیں اور ان کے سنیوں میں جو دل ہیں وہ اندھے ہیں ، اگر یہ دل اندھے نہ ہوتے تو وہ نصیحت آموزی میں بڑے پر جوش ہوتے ، وہ عبرت لیتے اور ان لوگوں جیسے انجام سے ڈر کر ایمان کی طرف مائل ہوتے ، کیونکہ اس قسم کے کھنڈرات ان کے اردگرد کئی مقامات پر ہیں۔ لیکن ان لوگوں کا رویہ بالکل الٹا ہے۔ عبرت لینے ، ایمان لانے ، عذاب الٰہی سے ڈرنے کے بجائے یہ لوگ مطالبہ کرتے ہیں کہ یہ عذاب ہم پر جلدی آجائے حالانکہ اللہ نے کسی حکمت کی وجہ سے اسے مئوخر کردیا ہے۔
Ayah 22:47

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ وَ لَنْ یُّخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهٗ١ؕ وَ اِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ Open ayah 22:47 in the Quran reader

” یہ لوگ عذاب کے لئے جلدی مچا رہے ہیں۔ اللہ ہرگز اپنے وعدے کے خلاف نہ کرے گا ، مگر تیرے رب کے ہاں کا ایک دن تمہارے شمار کے ہزار برس کے برابر وہا کرتا ہے

ویستعجلونک …مما تعدون (47) ہر زمانے میں ظالموں کا یہی انداز ہوتا ہے۔ وہ زمانہ ماضی کے ظالموں کے کھنڈرات اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔ ان کی تاریخ پڑھتے ہیں اور ان کے انجام ان کے سامنے ہوتے ہیں لیکن پھر بھی وہ اسی راہ پر چلتے ہیں ، جس کا انجام وہ دیکھتے ہیں۔ جب ان کو اس طرف متوجہ کیا جائے کہ دیکھو تمہارے آبائو اجداد اس انجام سے دوچار ہوئے تھے ، یہی تمہارا بھی ہو سکتا ہے تو یہ لوگ اسے مسجد سمجھتے ہیں۔ اس کے بعد اللہ نے جو انہیں مہلت کی ایک گھڑی دے رکھی ہے تو یہ کبرو غرور میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور سرکشی کی آخری حد پر پہنچ جاتے ہیں۔ جس بات سے انہیں ڈرایا جاتا ہے اس کے ساتھ مذاق کرتے ہیں اور مذاق میں بھی اس قدر آگے بڑھ جاتے ہیں کہ مطالبہ کرتے ہیں کہ لائو وہ عذاب جس سے تم ہمیں ڈراتے ہو۔ ولن یخلف اللہ وعدہ (22 : 83) ” اللہ ہرگز وعدے کے خلاف نہ کرے گا۔ “ عذاب ضرور اپنے وقت پر آئے گا ، اس کی حکمت اور اس کی تقدیر اور منصوبے کے مطابق۔ لوگوں کی طرف سے تاوانی کا مظاہرہ ہو رہا ہے لیکن اللہ اسے اپنے وقت پر لائے گا۔ لوگوں کا وقت کا حساب اور ہے اور اللہ کا اور ہے۔ و ان یوما عند ربک کالف سنۃ مما تعدون (22 : 83) ” مگر تیرے رب کے ہاں کا ایک دن تمہارے شمار کے زہار برس کے برابر ہوا کرتا ہے۔ “ یہ کھنڈرات اور ان میں ہلاک شدہ اقوام کو بھی اللہ نے مہلت دی تھی لیکن ان کے لئے بھی یہ مہلت مفید نہ رہی کیونکہ اللہ کی سنت کے مطابق ان کی بربادی کا فیصلہ ہوچکا تھا۔ تعجب ہے کہ مشرکین مکہ عذاب طلب کرتے ہیں اور اللہ کے ڈراوے کے ساتھ مذاق کرتے ہیں ، محض اس لئے کہ ان کو اللہ نے مہلت دے دی ہے۔
Ayah 22:48

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَمْلَیْتُ لَهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ اَخَذْتُهَا١ۚ وَ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 22:48 in the Quran reader

” کتنی ہی بستیاں ہیں جو ظالم تھیں ، میں نے ان کو پہلے مہلت دی ، پھر پکڑ لیا اور سب کو واپس تو میرے ہی پاس آنا ہے

وکاین من ……المصیر (84) یہاں تک تو اللہ تعالیٰ کی اس سنت کا بیان تھا جو اس نے تکذیب کرنے والوں کے لئے اس کائنات میں جاری کر رکھی ہے اور اسی کے مطابق امم سابقہ کو ہلاک کیا گیا۔ اب خطاب کا رخ رسول اللہ کی طرف جاتا ہے کہ آپ لوگوں کو بہرحال قیامت کے انجام بد سے ڈراتے ہی رہیں اور صاف صاف کہہ دیں کہ میں تو نذیر مبیں ہوں۔
Ayahs 22:49–51

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَاۤ اَنَا لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 22:49 in the Quran reader

” اے نبی ﷺ کہہ دو کہ ” لوگو ، میں تو تمہارے لئے صرف وہ شخص ہوں جو (برا وقت آنے سے پہلے) صاف صاف خبردار کردینے والا ہو

فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 22:50 in the Quran reader

پھر جو ایمان لائیں گے اور نیک عمل کریں گے ان کے لئے مغفرت ہے اور عزت کی روزی

وَ الَّذِیْنَ سَعَوْا فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ Open ayah 22:51 in the Quran reader

اور جو ہماری آیات کو نیچا دکھانے کی کوشش کریں گے وہ دوزخ کے یار ہیں۔ “

قل یایھا ……الجحیم (15) یہاں قرآن مجید رسول اللہ ﷺ کے فریضے کو صرف خبردار کرنے تک محدود کردیتا ہے۔ انما انا لکم نذیر مبین (22 : 93) ” میں تو صرف وہ شخص ہوں جو وقت سے پہلے خبردار کردینے والا ہو۔ “ کیونکہ حالات ایسے تھے کہ لوگ تکذیب کر رہے تھے۔ مذاق کر رہے تھے اور یہ مطالبہ کر رہے تھے کہ جس عذاب سے آپ ڈراتے ہیں اسے جلدی ہی لے آئیں ! اس لئے بتایا گیا کہ میں تو صرف ڈرانے والا ہوں اور جو لوگ میری بات کو مان لیں گے اور پھر ایمان کے تقاضے بھی پورے کریں یعنی وعملوا الصلحت (22 : 05) ” نیک عمل کریں “ تو ان کی جزاء یہ ہوگی کہ اللہ ان کے سابقہ گناہ معاف کر دے گا اور رزق کریم (22 : 05) رزق کریم ” عزت کی روزی۔ “ یعنی ان کے رزق کا ایسا ذریعہ ہوگا جو باعزت ہوگا اور ذریعہ بھی صاف ہوگا۔ رہے وہ لوگ جو اللہ کی آیات کو لوگوں کے دلوں تک پہنچنے سے روکتے ہیں اور عوام کو ان پر عمل پیرا ہونے سے بھی روکتے ہیں۔ اللہ کی آیات سے مراد سچائی کے دلائل اور اللہ کی شریعت ہے ، تو ایسے لوگوں کو اللہ نے جہنم کا مالک بنا دیا ہے۔ ابھی ملکیت اللہ نے ان کو دی ہے۔ یعنی اہل ایمان کے لئے تو رزق کریم ہے اور ان کے لئے جہنم کے مالکانہ حقوق ہیں۔ اللہ تعالیٰ دعوت اسلامی کو جھٹلانے والوں کی تکذیب سے بچاتے ہیں اور اس کی راہ میں روڑے اٹکانے والوں کی رکاوٹوں کو دور کرتے ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ دعوت اسلامی کو شیطان کی سازشوں سے بھی بچاتے ہیں۔ رسول بہرحال بشر ہوتے ہیں اور انسانوں کی کچھ آرزوئیں ہوتی ہیں۔ شیطان دعوت اسلامی کے حاملین تک ان آرزئوں اور خواہشات کی راہ سے پہنچتا ہے۔ رسول اگرچہ معصوم ہوتے ہیں لیکن ان کے دلوں میں چونکہ یہ خواہش ہوتی ہے کہ ان کی دعوت جلدی پھیلے ، اس کو کامیابی حاصل ہو ، اس راہ میں جو رکاوٹیں ہیں وہ دور ہوں ، شیطان ایک داعی کی ان معصومانہ خواہشات کی راہ سے حملہ آور ہوتا ہے اور دعوت کو اس کے اصول اور اس کی اقدار و روایات سے ہاٹنے کی کوشش کرتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ بھی اپنے رسولوں کے کام پر نظر رکھے ہوئے ہوتا ہے اس لئے وہ ان شیطانی چالوں کو باطل کردیتا ہے ، رسولوں کو بتا دیتا ہے کہ دعوت اسلامی کے اصول یہ ہیں ، اس کے پیمانے یہ ہیں۔ اس طرح اللہ دعوت کے دلائل کو محکم کردیتا ہے اور دعوت کے سلسلے میں تمام شبہات کو دور کردیتا ہے اور اس کی قدریں اور ذرائع متعین کردیئے جاتے ہیں۔
Ayahs 22:52–54

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّ لَا نَبِیٍّ اِلَّاۤ اِذَا تَمَنّٰۤى اَلْقَى الشَّیْطٰنُ فِیْۤ اُمْنِیَّتِهٖ١ۚ فَیَنْسَخُ اللّٰهُ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ ثُمَّ یُحْكِمُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌۙ Open ayah 22:52 in the Quran reader

” اور اے نبی ، تم سے پہلے ہم نے نہ کوئی رسول ایسا بھیجا ہے نہ نبی (جس کے ساتھ یہ معاملہ نہ پیش آیا ہو کہ) جب اس نے تمنا کی ، شیطان اس کی تمنا میں خلل انداز ہوگیا۔ اس طرح جو کچھ بھی شیطان خلل اندازیاں کرتا ہے ، اللہ ان کو مٹا دیتا ہے اور اپنی آیات کو پختہ کردیتا ہے ، اللہ علیم ہے اور حکیم

لِّیَجْعَلَ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْقَاسِیَةِ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَفِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍۙ Open ayah 22:53 in the Quran reader

(وہ اس لئے ایسا ہونے دیتا ہے) تاکہ شیطان کی ڈالی ہوئی خرابی کو فتنہ بنا دے ان لوگوں کے لئے جن کے دلوں کو (نفاق کا) روگ لگا ہوا ہے اور جن کے دل کھوٹے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ظالم لوگ عناد میں بہت دور نکل گئے ہیں

وَّ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَیُؤْمِنُوْا بِهٖ فَتُخْبِتَ لَهٗ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 22:54 in the Quran reader

اور علم سے بہرہ مند لوگ جان لیں کہ یہ حق ہے تیرے رب کی طرف سے اور وہ اس پر ایمان لے آئیں اور ان کے دل اس کے آگے جھک جائیں ، یقینا اللہ ایمان لانے والوں کو ہمیشہ سیدھا راستہ دکھا دیتا ہے۔ “

وما ارسلنا ……صراط مستقیم (45) اس آیت کے نزول میں بہت سی روایات وارد ہیں اور ان کو بیشمار مفسرین نے نقل کیا ہے۔ ابن کثیر نے کہا ہے کہ یہ سب روایات مرسل ہیں اور ان میں سے کسی کی سند صحیح نہیں ہے۔ واللہ اعلم ! ان روایات میں سے جو زیادہ مفصل ہے (ابن ابو حاتم کی ہے اس نے موسیٰ ، ابو موسیٰ ، کوفی ، محمد ابن اسحاق شعبی ، محمد ابن فلج ، موسیٰ ، عقبہ ، ابن شہاب کی سند سے نقل کیا ہعے۔ ابن شہاب کہتے ہیں کہ جس زمانے میں سورة نجم نازل ہوئی تو مشرکین کہتے تھے کہ اگر یہ شخص ہمارے الموں کا ذکر اچھے الفاظ میں کرے تو ہم اس کی باتوں کا اقرار کرلیتے اور اس کے ساتھیوں کو بھی مان لیتے۔ لیکن یہ یہود و نصاریٰ پر اس طرح تنقید نہیں کرتا جس طرح ہمارے الموں کو گالیاں دیتا ہے اور شر سے ذکر کرتا ہے۔ اس زمانے میں رسول اللہ ﷺ کو یہ بات شاق گزرتی تھی کہ مشرکین مکہ آپ کو جھٹلاتے تھے اور آپ کے پیروکاروں کو اذیتیں دیتے تھے۔ ان لوگوں کی ضلالت پر آپ بہت ہی دل گرفتہ تھے۔ آپ کے دل میں بڑی خواہش تھی کہ یہ لوگ ہدایت قبول کرلیں۔ جب سورة نجم نازل ہوئی تو آپ نے تلاوت کی۔ افرء یتم اللت ……لہ الانثی (12) (35 : 91-12) توعین اس وقت شیطان نے ان بتوں کے ذکر کے ساتھ ہی اپنی طرف سے چند کلمات ادا کئے۔ اس نے کہا : انھن لھن الغرانیق العلیٰ و ان شفاعتھن لھی التی ترتجی یہ الفاظ شیطان نے اپنی طرف سے بطور فتنہ ملا دیئے۔ یہ الفاظ مکہ کے ہر مشرک کے دل میں بیٹھ گئے۔ چناچہ انہوں نے ان کو نقلک رنا شروع کردیا اور ایک دور سے کو خوشخبریاں دینے لگے۔ انہوں نے کہا کہ محمد نے اپنا دین چھوڑ دیا ہے اور اپنے پہلے دین اور اپنی قوم کے دین پر آگیا ہے۔ جب رسول اللہ ﷺ سورة نجم کی تلاوت کر کے آخر میں پہنچے تو آپ نے سجدہ کیا اور جو مسلم اس کو سن رہے تھے انہوں نے بھی سجدہ کیا اور جو مشرک سن رہے تھے انہوں نے بھی سجدہ کیا۔ ولید ابن مغیرہ ایک بڑا آدمی تھا۔ اس نے اپنے ہاتھ میں مٹی لی اور اس پر سجدہ کرلیا۔ دونوں گروہوں کو تعجب ہوا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے سجدے کے ساتھ سجدہ کرلیا۔ مسلمانوں کا تعجب تو اس بات پر تھا کہ مشرکین ان کے ساتھ سجدہ ریز ہوگئے بغیر ایمان لانے اور یقین کرنے کے۔ یہ اس لئے کہ شیطان نے جو الفاظ ادا کئے تھے وہ مسلمانوں نے نہیں سنے تھے۔ صرف مشرکین نے سنے تھے۔ اس لئے مشرکین مطمئن ہوگئے کیونکہ شیطان نے رسول اللہ ﷺ کی امنیہ (قرأت) میں اپنے فقرے ملا دیئے اور مشرکین کو تسلی دی کہ یہ الفاظ رسول اللہ ﷺ نے سورة میں تلاوت کیے ہیں تو انہوں نے اپنے الموں کی تعظیم میں سجدہ کرلیا۔ یہ بات لوگوں میں پھیل گئی۔ اس بات کو شیطان نے بہت ہی پھیلایا یہاں تک کہ یہ خبر حبشہ میں پہنچ گئی اور وہاں جو مسلمان تھے انہوں نے سنی۔ وہاں مسلمان عثمان ابن مظعون کی قیادت میں ھتے۔ ان کو یہ بات پہنچی کہ اہل مکہ مسلمان ہوگئے ہیں۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ یکجا نماز پڑھی ہے اور ان کو یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ولید ابن مغیرہ نے اپنی ہتھیلی پر مٹی اٹھا کر اس پر سجدہ کیا۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ اب مسلمان مکہ میں امن و چین سے ہیں۔ چناچہ یہ مہاجرین بڑی جلدی سے وہاں سے لوٹے۔ اللہ نے شیطان کے الفاظ کو منسوخ کردیا ، اپنی آیات کو مستحکم کردیا اور اس افتراء سے قرآن کو محفوظ کردیا۔ اس موقعہ پر یہ آیت نازل ہوئی۔ وما ارسلنا ……شقاق بعید (22 : 35) ” اور اے نبی ﷺ ، تم سے پہلے ہم نے نہ کوئی رسول ایسا بھیجا ہے نہ نی (جس کے ساتھ یہ معاملہ نہ پیش آیا ہو کہ ) جب اس نے تمنا کی ، شیطان اس کی تمنا میں خلل انداز ہوگیا۔ اس طرح جو کچھ بھی شیطان خلل اندازیاں کرتا ہے ، اللہ ان کو مٹا دیتا ہے اور اپنی آیات کو پختہ کردیتا ہے ، اللہ علیم ہے اور حکیم۔ (وہ اس لئے ایسا ہونے دیتا ہے) تاکہ شیطان کی ڈالی ہوئی خرابی کو فتنہ بنا دے ان لوگوں کے لئے جن کے دلوں کو (نفاق کا) روگ لگا ہوا ہے اور جن کے دل کھوٹے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ظالم لوگ عناد میں بہت دور نکل گئے ہیں۔ “ جب اللہ نے اپنا فیصلہ بتا دیا اور شیطان نے جو شوشہ چھوڑا تھا اس سے برأت کردی تو مشرکین الٹے پائوں پھرگئے اور گمراہی اختیار کر کے مسلمانوں کے ساتھ عداوت شروع کردی بلکہ اور سختی شروع کردی۔ ابن کثیر کہتے ہیں کہ بغوی نے اپنی تفسیر میں ابن عباس کے کلام کی پوری روایات جمع کی ہیں اور محمد ابن کعب قرظی نے بھی اس طرح جمع کی ہیں اور پھر یہاں انہوں نے سوال کیا ہے کہ یہ واقعہ اس طرح یکونکر ہو ہے جبکہ اللہ نے اس معاملے میں حضرت محمد ﷺ کو عصمت کی ضمانت دی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے مختلف لوگوں کے جوابات نقل کئے ہیں۔ سب سے گہرا جواب یہ ہے کہ شیطان نے مشرکین کے کانوں میں یہ فقرے ڈال دیئے تھے۔ مشرکین نے یہ سمجھا کہ شاید یہ فقرے بھی حضرت محمد ﷺ نے تلاوت کئے ہیں حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ یہ حضرت شیطان نے ادا کے اور رسول اللہ ؐ نے یہ نہیں ادا کئے۔ امام بخاری کہتے ہیں کہ ابن عباس نے کا ہے۔ فی امنیتہ کا معنی یہ ہے کہ شیطان نے آپ کی باتوں میں یہ فقرے ڈال دیئے۔ اللہ نے ان کو باطل کردیا اور اپنی آیات کو محکم کردیا۔ مجاہد کہتے ہیں اذا تمنی کے معنی ہیں اذا قال لہٰذا کہا جاتا ہے امنیۃ قراتہ یعنی اس کا پڑھنا۔ بغوی کہتا ہے کہ اکثر مفسرین نے کہا ہے کہ تمنی کے معنی میں تلا یعنی تلاوت کی اور اللہ کی کتاب پڑھی۔ القی الشیطن فی امنیتہ کے معنی ہیں ” شیطان نے ان کی ملاوٹ میں ڈال دیا۔ ‘ ابن جریر کہتے ہیں کہ تمنی کے معنی ہیں (تلا) یعنی تلاوت کی اور کلام کے مفہوم کو بیان کرنے کے لئے یہ بات زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے۔ یہ ہے خلاصہ کلام روایات اور ان احادیث کا جن کو حدیث ” غرانیق “ کہتے ہیں۔ یہ حدیث سند کے اعتبار سے کوئی بنیاد نہیں رکھتی۔ علمائے حدیث کہتے ہیں۔ اہل صحاح نے اس حدیث کو نہیں لیا نہ اس کی کوئی سند صحیح و متصل ہے ثقہ راویوں سے۔ ابوابکر بزار کہتے ہیں۔ یہ حدیث ہمارے علم میں نہیں کہ کسی جگہ نبی ﷺ سے قابل ذکر اسناد متصل سے نقل کی گئی ہو اور موضوع کے اعتبار سے تو یہ اسلام کے بنیادی اصول سے ٹکراتی ہے۔ یعنی نبی ﷺ کے بارے میں عقیدہ عصمت سے کہ یہ بھی ممکن ہے کہ تبلیغ رسالت کے کام میں شیطان دخیل ہو سکتا ہے۔ مستشرقین اور اسلام پر تنقید کرنے والوں نے اس حدیث میں بڑی دلچسپی لی ہے۔ اس کی انہوں نے بڑی اشاعت کی ہے اور اس کے اردگرد انہوں نے مزید مخالفانہ اقوال جمع کئے ہیں۔ حالانکہ انہوں نے کوئی قابل حجت بات نہیں کی بلکہ اس موضوع پر بات کرنا بھی فضول معلوم ہوتا ہے۔ خود ان آیات کے اندر ایسی شہادتیں موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی ایسی بات ہونا ممکن ہی نہیں ہے۔ یا ایسا کوئی انفرادی واقعہ ہوا ہے جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پیش آیا ہو۔ آیات کا خلاصہ تو یہ ہے کہ اس میں جو بات کہی گئی ہے وہ تمام رسولوں کو پیش آتی رہی ہے۔ ” اے نبی تم سے پہلے ہم نے نہ کوئی رسول ایسا بھیجا ہے اور نہ نبی کہ جب اس نے تمنا کی تو شیطان اس کی تمنا میں خلل انداز ہوگیا۔ اس طرح شیطان جو کچھ خلل اندازیاں کرتا ہعے اللہ ان کو مٹا دیتا ہے اور اپنی آیات کو پختہ کردیتا ہے۔ “ لہٰذا اس آیت میں جس بات کا ذکر ہوا ہے وہ تمام انبیاء و رسل کے درمیان صفت مشترکہ ہے اور اس کا تعلق ان کی صفت بشریت سے ہے اور یہ بات اس عصمت کے خلاف نہیں ہے جو رسولوں کے لئے مقرر ہے۔ یہی وہ بات ہے جس کے بیان کی ہم یہاں کوشش کریں گے انشاء اللہ۔ اصل مراد تو اللہ ہی جانتا ہے ہم جو تفسیر بیان کرتے ہیں اپنے انسانی قوائے مدرکہ کسی حد تک ہی کرتے ہیں۔ جب رسولوں کو یہ ڈیوٹی سپرد کی جاتی ہے کہ وہ اللہ کے پیغام کو لوگوں تک ہنچائیں۔ ان کے نزدیک محبوب ترین شے یہ ہوتی ہے کہ لوگ ان کی دعوت پر جمع ہوجائیں اور اس بھلائی کا ادراک کرلیں جو وہ اللہ کی طرف سے لے کر آئے ہیں اور ان کے تابع ہوجائیں۔ لیکن دعوت کے مقابلے میں بہت ہی مشکلات اٹھ کھڑی ہوتی ہیں۔ رسول انسان ہوتے ہیں اور انسانوں کی زندگی محدود ہوتی ہے اور اس حقیقت کو وہ اچھی طرح جانتے ہیں۔ ان کی تمنا یہ ہوتی ہے کہ لوگوں کو برق رفتاری سے اپنی دعوت کی طرف کھینچ لائیں۔ مثلاً ان کے دلوں میں یہ بات آئی ہے کہ اگر وہ لوگوں کے ساتھ مصالحت کریں اور جو باتیں ان کے لئے چھوڑنا مشکل ہیں ، مثلاً ان کی عادات ، رسومات ، موروثی شعائر ، ان پر وہ خاموش ہوجائیں۔ وقتی طور پر ، اور شاید اس طرح لوگ دعوت کی طرف آجائیں اور جب وہ دعوت کو قبول کرلیں تو ان کے لئے ممکن ہوگا کہ وہ یہ موروثی عادات چھوڑ دیں ، جو اب ان کے لئے بہت عزیز ہیں۔ مثلاً معمولی معمولی باتوں پر وہ ان کے ساتھ نرمی کریں اور کسی انکل سے ان کو دعوت کے اندر لے آئیں۔ اس امید پر کہ اندر لا کر پھر انکی تربیت کردی جائے گی اور اس طرح ان کی خلاف اسلام عادات چھوٹ جائیں گی۔ غرض رسول اور نبی اس قسم کی بہت سی تمنائیں کرتے رہے ہیں جن کا تعلق ان کی دعوت کی نشر و اشاعت سے ہوتا ہے جبکہ اللہ کی مرضی یہ تھی کہ دعوت کے حاملین دعوت کو اس کے پورے اصولوں پر جم کر چلائیں۔ دعوت اسلامی کے باریک اقدار کے مطابق اور اس پیمانے کے مطابق کہ من شاء فلیومن ومن شاء فلیکفر ” جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے۔ “ کیونکہ اللہ کی تقدیر میں دعوت اسلامی کی کارکردگی یہ ہے کہ وہ خالص اصول انداز کی ہو اور اس میں انسانوں کی کسی تدبیر اور خواہش کی آمیزش نہ ہو کہ دعوت حقیقی اصول پر انہی پیمانوں کے مطابق اگرچہ اس طریقے کے مطابق آغاز میں تعداد کا خسارہ ہوگا۔ کیونکہ دعوت اگر اپنے اصول پر مبنی پیمانوں کے مطابق کوئی رہے تو اخرکار یہ اشخاص بھی دعوت کو قبول کرلیں گے۔ بلکہ ان اشخاص ہے بھی زیادہ با اثر اور اچھے دعوت کو قبول کریں گے اور دعوت اور دعوت بھی خالص صحیح وسالم رہے گا ، اپنی راہ پر سیدھی ہوگی اور اس کے اندر کوئی کجی کوئی پیدا نہ ہوگی۔ نہ اس میں کسی طرح کوئی جھکائو ہوگا۔ انسان کی ان خواہشات اور ان خواہشات کے اظہار کے لئے رسول جو کلمات استعمال کرتا ہے خواہش کا اظہار کرتا ہے اس میں شیطان کو موقعہ مل جاتا ہے کہ وہ سازش کر کے دعوت کو اپنی اصلی راہ سے ہٹا دے۔ اس طرح شیطان دعوت کے پھیلانے کے اجتہادی معاملات میں شبہات پیدا کرتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ شیطان کی کار ستانیوں کا دفعیہ کردیتا ہے اور ایسے معاملات میں اللہ کی طرف سے حکم محکم آجاتا ہے اور رسولوں کو کہا جاتا ہے کہ وہ اس محکم فیصلے / عوام تک پہنچا دیا اور رسولوں اور نبیوں کے دلوں میں اجتہادی امور میں جن کا تعلق دعوت کے پھیلانے سے ہوتا تھا جو لغزش ہوگئی تھی اللہ کی طرف سے اس کا بیان آجاتا ہے ، جس طرح رسول اللہ ﷺ کے بعض تصرفات میں بیان آیا ہے۔ یہ شیطان کی سازش ہوتی ہے اور اللہ کو اس کو باطل کر دیات ہے اور حکم محکمہ آجاتا ہے اور شبہ نہیں رہتا ، اجتہادی عمر کی جگہ محکم آیت آجاتی ہے۔ اللہ علیم و حکیم ہے۔ جن لگوں کے دلوں میں نفاق اور انحراف کی بیماری ہے یا جن کے دل پتھر بن گئے ہیں یعنی کفار اور معاندین ، وہ ایسے معاملات میں بحث وسوال کا موقعہ پا لیتے ہیں۔ ان الظلمین لفی شقاق بعید (22 : 35) ” حقیقت یہ ہے کہ ظالم لوگ عناد میں دور نکل گئے ہیں۔ “ رہے وہ لوگ جن کو علم و معرفت دی گئی ہے تو ان کے دل اس بیان اور حکم فیصل پر مطمئن ہوجاتے ہیں اور وہ اللہ کے حکم کی حکمت کو پا لیتے ہیں۔ ان اللہ لھاد الذین امنوآ الی صراط مستقیم (22 : 35) ” یقینا اللہ ایمان لانے والوں کو ہمیشہ سیدھا راستہ راستہ دکھاتا ہے۔ “ نبی ﷺ کی زندگی میں اور دعوت اسلامی کی تاریخ میں ہم ایسی مثالیں پاتے ہیں۔ ان کی روشنی میں ہمیں اس تاویل کی ضرورت نہیں پڑتی ہے جس طرح ابن جریر نے اشارہ کیا ہے۔ قصہ ابن ام مکتوم یہ بات نظر آتی ہے۔ وہ ایک اندھے اور فقیر تھے۔ رسول اللہ کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ اے اللہ کے رسول مجھے پڑھائیں اور وہ علم سکھائیں جو آپ کو اللہ نے سکھایا ہے۔ وہ بار بار اس بات کو دہراتے رہے۔ اس وقت رسول اللہ ولید ابن مغیرہ کے ساتھ گفتگو فرما رہے تھے اور وہ قریش کے ممتاز اکابرین میں تھے اور آپ کی خواہش یہ تھی کہ وہ مسلمان ہوجائیں۔ ابن ام مکتوم کو معلوم نہ تھا کہ حضور ﷺ ایسے ہی اہم معاملے میں مشغول ہیں۔ رسول اللہ نے اس موقعہ پر ان کی بار بار کی مداخلت کو ناپسند کیا اور ان سے منہ موڑ یا۔ چناچہ اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے سورة نازل کی جس میں رسول اللہ ﷺ سے ذرا سخت بات کی گئی۔ عبس وتولی ……ذکرہ (21) (08 : 1 تا 21) ترجمہ :۔ ” مسترد ہوا اور بےرخی برتی اس بات پر کہ وہ اندھا اس کے پاس آگیا۔ تمہیں کیا خبر شاید وہ سندھر جائے یا نصیحت پر دھیان دے اور نصیحت کرنا اس کے لئے نافع ہو ، جو شخص بےپروائی برتتا ہے اس کی طرف تم توجہ کرتے ہو حالانکہ اگر وہ نہ سدھرے تو تم پر اس کی کیا ذمہ داری ہے اور جو خود تمہارے پاس دوڑا آتا ہے اور وہ ڈر کر رہا ہوتا ہے۔ اس سے تم بےرخی برتتے ہو۔ ہرگز نہیں۔ یہ تو ایک نصیحت ہے جس کا جی چاہے قبول کرے۔ “ یوں اللہ تعالیٰ نے دعوت اسلامی کو اپنے صحیح اور نہایت ہی دقیق اقدار اور پیمانوں کی طرف لوٹا دیا اور یوں رسول اللہ کے اس طرز عمل کی تصحیح کردی جو آپ نے اکابرین قریش کی بات محض اس لئے اختیار یہ ہے کہ وہ اسلام لے آئیں اور ان کے ساتھ عام کی ایک بڑی تعداد اسلام قبول کرلے۔ اللہ نے اس پر دعوت کا جو صحیح اوصول اور طریقہ بنایا وہ یہ تھا کہ اکابر قریش کے اسلام قبول کرنے کے مقابلے میں یہ بات اہم ہے کہ دعوت اسلامی اپنے صحیح خطوط پر کام کرے اس طرح شیطان کے اس وسوسے کو باطل کردیا جو اس نے رسول اللہ کی اس خواہش کے راستے سے ڈال دیا تھا کہ اکابر قریش اگر اسلام قبول کرلیں تو دعوت جلدی پھیل جائے گی۔ اللہ نے اپنی آیات محکمہ نازل کر کے اس رویہ کو درست کردیا اور اہل ایمان کے دل پر مطمئن ہوگئے۔ اس کے بعد نبی ﷺ ابن ام مکتوم کی بہت قدر کرتے تھے۔ جب بھی اس کو دیکھتے ، یہ فرماتے ہیں شخص ہے جس کی وجہ سے اللہ نے مجھے جھڑکا ہے۔ آپ سے حضور ﷺ ہمیشہ پوچھتے تمہیں کچھ ضرورت ہے۔ وہ دفعہ آپ نے اپنی عدم موجودگی میں انہیں مدینہ اپنا خلیفہ بنایا۔ امام مسلم نے اپنی صحیح میں روایات کی ہے۔ بواسطہ ابوبکر ، ابن ابوشیبہ ، محمد ابن عبداللہ اسد ، اسرائیل ، ہندم ابن شروع ۔ اس کے بعد دوالد سعد ابن ابو وقاص سے وہ کہتے ہیں ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے ، چھ آدمی تھے۔ مشرکین نے کہا ان کو ذرا ہٹا دو یہ ہم سے آگے بڑھتے ہیں کہتے ہیں اس وقت میں تھا ، ابن سعود تھے۔ ہذیل کا ایک شخص تھا۔ بلال تھے اور دو دور سے لوگ تھے جن کا نام میں بھول گیا۔ اس حضور کے دل میں کوئی بات آئی۔ اللہ جانتا ہے کہ کیا بات آئی۔ حضور نے دل میں کوئی بات کی۔ تو اللہ نے یہ آیت نازل کی۔ ولا تطرد الذین یدعون ……وجھہ ” اور ان لوگوں کو نہ بھکائو ، جو اپنے اپنے کو صحبح کو شامل پکارتے ہیں اور صرف اللہ کی رضا منادی چاہتے ہیں۔ “ یہاں بھی اللہ نے دعوت اسلامی کے نہایت ہی باریک ناپ و تول کرنے والے پیمانے واپس کردیئے اور شیطان نے اس نکتے پر جو وسوسہ اندازی کی تھی ، اس کے اظہار سے قبل اللہ نے اس کی تصویر کردی۔ شاید حضور نے یہ سوچا کہ آئندہ اکابرین قریش کے ساتھ یہ غریب لوگ مجلس میں نہ بیٹھیں جب کہ اللہ کے نزدیک دعوت اسلامی اسلامی کی اقدار کی افادیت ان اکابر قریش کے مقابلے میں زیادہ اچھی تھی۔ نیز دعوت کی اقدار اور پیمانوں کی اہمیت ان ہزار لوگوں کے اسلام سے بھی زیادہ تھی جو ان اکابرین قریش کی بیعت میں تحریک کا ساتھ دیتے اور جن کی تمنا رسول اللہ کرتے تھے۔ اللہ تحریک کے لئے حقیقی قوت کے مراکز کو خوب جانتے تھے۔ تحیک کے لئے اصل قوت یہ تھی کہ وہ اپنی راہ پر استقامت کے ساتھ چلے اور کسی شخص یا کسی رسم و رواج کی کوئی پرواہ نہ کیر۔ زینب بنت بخش کے واقعہ میں بھی یہی پیش آیا۔ آپ کی پھوپھی زاد بہن تھیں ، رسول اللہ نے ان کو زید بن حارثہ کی زوجیت میں دے دیا تھا۔ زید حضور کے معنی تھے اور زید ابن محمد کے نام سے مشہور تھے۔ زینب کے ساتھ نکاح بعد ان کی ازدواجی زندگی کی کامیاب نہ ہوئی۔ جاہلیت کا رواج یہ تھا کہ اگر متنبیٰ فوت ہوجائے یا اپنی بیوی / طلاق دے تو اس کے ساتھ اس کا منہ بولا باپ نکاح نہ کرتا تھا۔ اس کو معیوب سمجھا جاتا تھا۔ اللہ کا ارادہ یہ تھا کہ اس رسم کو ختم کردیا جائے۔ جس طرح بیٹے کی نسبت والد کے بغیر کسی دوسرے کی طرف کرنے کی رسم کو ممنوع قرار دے دیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا تھا کہ اگر زید اپنی بیوی کو طلاق دے دے تو آپ اس کے ساتھ نکاح کرلیں تاکہ اس رسم کا ابطال ہوجائے۔ لیکن نبی ﷺ نے اس بات کو اپنے دل میں خفیہ رکھا اور کسی کو نہ بتایا۔ زید جب بھی اپنی بیوی کی شکایت کرتے رسول اللہ : ان کو یہی مشورہ دیتے کہ ” تم اپنی بیوی کو رکھو۔ “ حضور ﷺ کا مطلب یہ تھا کہ اگر زید طلاق دیتے ہیں تو مجھے اس سے نکاح کرنا ہوگا اور اس بات کو مطابق رواج عرب پسند نہیں کرتے۔ حضور اکرم ﷺ نے اس بات کو اس طرح مخفی رکھا یہاں تک کہ زید نے تنگ آ کر زینب کو طلاق دے دی۔ اللہ نے اس کے بارے میں قرآن نازل فرمایا اور اس میں اس بات کی وضاحت کردی جو حضور اکرم ﷺ کے دل میں تھی اور متنبیٰ کے سلسلہ میں اسلامی شریعت کا جو منشا تھا وہ پورا کردیا گیا۔ چناچہ اللہ نے فرمایا : واذ تقول للذی …… اللہ مفعولا (33 : 83) ” اے نبی آیا کرو وہ موقع جب تم اس شخص سے کہہ رہے تھے جس پر اللہ نے اور تم نے احسان کیا تھا کہ ” اپنی بیوی کو نہ چھوڑا اور اللہ سے ڈر “ اس وقت تم اپنے دل میں وہ بات چھپائے ہوئے تھے جسے اللہ کھولنا چاہتا تھا تم لوگوں سے ڈر رہے تھے حالانکہ اللہ اس کا زیادہ حقدار ہے کہ تم اس سے ڈرو ۔ پھر جب زید اس سے اپنی حاجت پوری کرچکا تو ہم نے اس (مطلقہ خاتون) کا تم سے نکاح کردیا تاکہ مومنوں پر اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے معاملہ میں کوئی تنگی نہ رہے جبکہ وہ ان سے اپنی حاجت پوری کرچکے ہوں۔ اور اللہ کا حکم تو عمل میں آنا ہی چاہئے تھا۔ “ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ اگر حضرت محمد ﷺ اپنے اوپر نازل ہونے والے کلام میں سے کسی چیز کو چھپاتے تو وہ اس آیت کو چھپاتے۔ وتخفی فی نفسک ما اللہ مبدیہ وتخشی الناس واللہ احق ان تخشہ (33 : 83) ” اس وقت تم اپنے دل میں وہ بات چھپائے ہوئے تھے جسے الہل کھولنا چاہتا تھا ، تم لوگوں سے ڈر رہے تھے ، حالانکہ اللہ اس کا زیادہ حقدار ہے کہ تم اس سے ڈرو۔ “ اس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی شریعت اور اس کے احکام کو نافذ کردیا اور اس بات کو بھی کھول کر رکھ دیا جو رسول اللہ ﷺ کے دل میں خلجان برپا کر رہی تھی کہ لوگ متنبی کی بیوی سے نکاح کو برا خیال کرتے ہیں۔ اللہ نے یہاں بھی شیطان کی راہ کو بند کردیا اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری تھی ، یا جن کے دل دعوت اسلامی کے لئے سخت تھے وہ اس واقعہ کو بھی سامان فتنہ بتاتے رہے اور آج تک اسلام کے دشمن اسے سامان فتنہ بنا رہے ہیں۔ یہ ہے وہ بات جس پر اس آیت کی تفسیر میں ہمارا دل مطمئن ہوگیا ہے۔ اللہ ہی صحیح راستہ بتانے الا ہے۔ رسول اللہ کے بعد دعوت اسلامی کی لیڈر شپ بھی بعض اوقات یہ کوشش کرتی ہے کہ انتہائی با اثر لوگوں کو دعوت اسلامی کی طرف مائل کیا جائے اور ابتداء میں دعوت کے تقاضے میں سے بعض امور میں چشم پوشی کی جائے۔ یہ کام وہ اس جذبے کے تحت کرتے ہیں کہ دعوت اسلامی کو فروغ حاصل ہو اور وہ جلدی غلبہ حصال کرے۔ اس لیڈر شپ کا خیال یہ ہوتا ہے کہ یہ امور دعوت کے بنیادی امور نہیں ہوتے۔ یہ لوگ ان با اثر لوگوں کے ساتھ ان امور میں نرمی کرتے ہیں تاکہ یہ لوگ دعوت سے متنفر نہ ہوجائیں اور اس کی مخاصمت اختیار نہ کریں۔ یہ لوگ بعض ایسے وسائل اور ذرائع بھی اپناتے ہیں جو دعوت اسلامی کے باریک پیمانوں اور اقدار کے ساتھ بےجوڑ ہوتے ہیں نہ یہ امور دعوت اسلامی کے سیدھے سادے طریقے سے لگا کھاتے ہیں یہ کام وہ اس لئے کرتے ہیں کہ دعوت جلدی پھیل جائے اور کامیاب ہوجائے۔ یہ لوگ ان امور کو اپنانے کے لئے دعوت کی مصلحت کے تحت بطور اجتہاد یہ کام کرتے ہیں حلاان کہ دعوت اسلامی کی مصلحت تو اس میں ہے کہ اس کے حقیقی منہاج سے ذرہ برابر انحراف نہ کیا جائے نہ کم اور نہ زیادہ کسی بات میں بھی۔ رہے نتائج تو وہ تو امر غیبی ہیں۔ ان کے بارے میں صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ لہٰذا کسی حامل دعوت کو نتائج کا حساب و کتاب اپنے ہاتھ میں نہیں لینا چاہئے۔ حاملین دعوت کا فریضہ صرف یہ ہے کہ وہ دعوت اسلامی کو لے کر سیدھے چل پڑیں۔ دعوت اسلامی کے حقیقی راستے پر چلنے میں ہی کامیاب ہے۔ قرآن کریم صراحت سے کہتا ہے کہ قرآن مجید حاملین دعوت اسلامی پر ان کی آرزئو وں اور تمنائوں کے راستے سے داخل ہوتا ہے تاکہ اس طرح وہ دعوت اسلامی کی صفوں کے اندر داخل ہوجائے۔ جہاں تک انبیاء کا تعلق ہے تو ان کی عصمت کی ضمانت تو اللہ نے دے دی تھی۔ شیطان کے لئے ممکن نہ رہا کہ وہ انبیاء کی فطری تمنائوں کی راہ سے دخل اندازی کرسکے۔ لیکن بعد میں آنے والی لیڈر شپ کو یہ بات معلوم نہیں ہے۔ اسے چاہئے کہ وہ بہت زیادہ چوکنی رہے اور بہت احتیاط سے کام لے۔ یہ نہ ہو کہ وہ اپنے خیال میں کوئی کام اسلام کی بہترین دعوت کے پھیلنے اور کامیاب ہونے کے لئے کر رہے ہوں اور اس میں دعوت کی مصلحت سمجھتے ہوں اور دراصل وہ شیطانی مداخلت ہو۔ داعیان کو چاہئے کہ دعوت کی مصلحت کا لفظ ہی اپنی ڈکشنریوں سے نکال دیں کیونکہ یہ لغزش کا مقام ہے ، اس مقام سے شیطان حملہ آور ہوتا ہے۔ جب شیطان افراد کی مصلحتوں کی راہ سے اندر نہیں آسکتا تو پھر وہ دعوت کی مصلحت کی راہ سے حملہ کرتا ہے۔ دعوت کی مصلحت اب ایک بت بن گیا ہے۔ آج کل داعیان حق اس کو بہت پوجتے ہیں لیکن اس لباس میں وہ دعوت کے اصل منہاج سے جی چراتے ہیں۔ لہٰذا دعوت اسلامی کی لیڈر شپ کو چاہئے کہ وہ دعوت کے اصل منہاج کو نہ بھولیں اور اس منہاج پر خوف غور کریں اور خصوصاً اس بات کی طرف توجہ نہ کریں کہ فلاں فلاں کام نہیں کرنا چاہئے کیونکہ اس میں دعوت کے لئے خطرہ ہے ، یا کارکنان کے لئے خطرہ ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اصل خطرہ یہی ہے کہ دعوت اسلامی کے حاملیں دعوت کا حقیقی منہاج چھوڑ دیں ، کسی ھی وجہ سے ، اور صحیح راستے سے انحراف کریں خواہ یہ انحراف قلیل ہو یا کثیر ہو۔ اللہ اپنی دعوت کی مصلحت کو ہم سے زیادہ جانتا ہے اور پھر دعوت کے بچانے اور کامیاب کرانے کے ہم ذمہ دار اور مکلف ہیں ہیں ہمارا فریضہ صرف ایک ہے کہ ہم اپنے منہاج سے انحراف نہ کریں اور اپنے صراط مستقیم سے بالکل ادھر ادھر نہ ہوں۔ آخر میں تنبیہ آتی ہے کہ تم دعوت اسلامی کو شیطانی وسوسوں سے بچانے کی سعی کرو۔ یہ تمہاری ذمہ داری نہیں ہے کہ لوگ مانیں یا دعوت کامیاب ہوجائے۔ اگر کفار اس کو نہیں مانتے وہ دراصل اس کے بارے میں شک میں ہیں اور ان کے انتظار میں درد ناک اور توہین آمیز عذاب ہے۔
Ayahs 22:55–57

وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُ حَتّٰى تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً اَوْ یَاْتِیَهُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَقِیْمٍ Open ayah 22:55 in the Quran reader

” انکار کرنے والے تو اس کی طرف سے شک ہی میں پڑے رہیں گے یہاں تک کہ یا تو ان پر قیامت کی گھڑی اچانک آجائے ، یا ایک منحوس دن کا عذاب نازل ہو جائے

اَلْمُلْكُ یَوْمَئِذٍ لِّلّٰهِ١ؕ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 22:56 in the Quran reader

اس روز بادشاہی اللہ کی ہوگی ، اور وہ ان کے درمیان فیصلہ کر دے گا۔ جو ایمان رکھنے والے اور عمل صالح کرنے والے ہوں گے وہ نعمت بھری جنتوں میں جائیں گے

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا فَاُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ۠ Open ayah 22:57 in the Quran reader

اور جنہوں نے کفر کیا ہوگا اور ہماری آیات کو جھٹلایا ہوگا ان کے لئے رسوا کن عذاب ہوگا۔ “

ولا یزال ……مھین (65) یہ ان لوگوں کا انجام ہے جو اس قرآن کے ساتھ یہ سلوک کرتے ہیں۔ قرآن کریم نے اس مضمون کا ذکر اس تصریح کے بعد کیا ہے کہ انبیاء و رسل دعوت کے سلسلے میں نہایت شوق اور تمنا رکھتے ہیں اور شیطان ان کی راہ میں رکاوٹیں ڈالتا ہے کیونکہ لوگ جن کے بارے میں انبیاء تمنا کرتے ہیں ، ان کے دلوں میں شک رہتا ہے اس لئے کہ ان کے دلوں کے اندر دعوت اسلامی اچھی طرح بیٹھ نہیں سکی۔ یہ اسی طرح شک میں رہیں گے یہاں تک کہ اچانک قیامت آجائے یا ان پر کوئی منحوس دن آجائے۔ یعنی قیامت کے بعد کا عذاب قیامت کے دن کے لئے یوم عظیم استعمال ہوا ، کیونکہ اس کے بعد کوئی دوسرا دن نہ ہوگا۔ اس دن میں تمام اختیارات اللہ وحدہ کے پاس ہوں گے یہاں کسی کی بادشاہت نہ ہوگی۔ دنیا کی ظاہری بادشاہت بھی کسی کے پاس نہ ہوگی۔ صرف اللہ کا حکم چلے گا۔ اس دن تمام لوگوں کے فیصلے ان کی مقررہ جزاء عمل کے مطابق اللہ کرے گا۔ فالذین امنوا و عملوا الصلحت فی جنت النعیم (22 : 65) ” جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے وہ جنات نعیم (نعمتوں والی جنتوں) میں ہوں گے۔ “ والذین کفروا و کذبوا بایتنا فائولئک لھم عذاب مھین (22 : 85) ” اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا ہوگا ، ان کے لئے رسوا کن عذاب ہوگا۔ “
Ayahs 22:58–59

وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ قُتِلُوْۤا اَوْ مَاتُوْا لَیَرْزُقَنَّهُمُ اللّٰهُ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 22:58 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی ، پھر قتل کردیئے گئے یا مر گئے ، اللہ ان کو اچھا رزق دے گا اور یقینا اللہ ہی بہترین رازق ہے

لَیُدْخِلَنَّهُمْ مُّدْخَلًا یَّرْضَوْنَهٗ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَلِیْمٌ حَلِیْمٌ Open ayah 22:59 in the Quran reader

” ۔ وہ انہیں ایسی جگہ پہنچائے گا جس سے وہ خوش ہوجائیں گے بیشک اللہ علیم اور حلیم ہے۔ “

درس نمبر 741 ایک نظر میں اس سے پہلے سبق کا خاتمہ اس مضمون پر ہوا تھا کہ آخرت میں مومنین اور مکذبین کا خاتمہ کیا ہوگا ، جہاں بادشاہت صرف اللہ وحدہ کی ہوگی۔ مضمون یہ چل رہا تھا کہ اللہ ہمیشہ اپنے رسولوں کی حفاظت کرتا ہے اپنی دعوت کو خود بچاتا ہے اور جو ایمان لاتا اسے اجر دیتا ہے جو کفر کرتا ہے اسے سزا دیتا ہے۔ اس سبق کا آغاز ہجرت سے ہوتا ہے ، ا سے قبل مہاجرین و انصار کو جہاد کی اجازت دے دی گئی ہے ، کیونکہ اسلامی نظریہ حیات کا دفاع بغیر جہاد کے ممکن نہیں۔ جب تک وہ جہاد نہ کریں گے نہ وہ اللہ کی بندگی کرسکتے ہیں ، نہ عبادات ، نہ اپنی جان کی حفاظت کرسکتے ہیں نہ اپنے دین کی ۔ کیا وہ دیکھتے نہیں کہ انہیں اپنے شہر سے بغیر کسی جرم کے نکال دیا گیا ہے۔ ہاں انہوں نے یہ ” جرم “ ضرور کیا تھا کہ وہ صرف اللہ کو رب مانتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کو تسلی دیتے ہیں کہ انہوں نے اپنا شہر چھوڑا اور مال و جائیداد کو چھوڑا تو اللہ ہی اس کام کا اجر نہیں دے گا۔ اسی حوالے سے ایک عام اصولوں کے طور پر بتا دیا جاتا ہے کہ جس پر کوئی ظلم ہو تو وہ اس کے بدلے اسی قدر ظلم کرسکتا ہے۔ اس صورت میں اگر ظالم مزید ظلم پر اتر آئے اور پھر ظلم کرے تو اللہ مظلوموں کے ساتھ ہوگا۔ اس وعدے پر اللہ تعالیٰ دلائل بھی دیتا ہے کہ اللہ مدد کرسکتا ہے کیونکہ اللہ ہی اس پوری کائنات کو چلا رہا ہے اور جس سنت اور ناموس کے مطابق یہ کائنات چل رہی ہے اس کا ایک حصہ اور تقاضا یہ بھی ہے کہ مظلوم کی امداد کی جائے۔ اس کے بعد خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے کہ ہر امت کا ایک منہاج ہے ، اس کو اس پر چلنے کا حکم دیا گیا ہے اور اسے اس کے لئے تیار کیا گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے کہا جاتا ہے کہ مشرکین کو یہ صاف صاف بتا دیں اور ان کو موقع نہ دیں کہ وہ آپ کے ساتھ کوئی تنازعہ کریں۔ اگر وہ پھر بھی مجادلہ پر اتر آئیں تو معاملے کو خدا پر چھوڑ دیں۔ وہ قیامت کے دن فیصلہ کرے گا کیونکہ اصل علم تو اس کے پاس ہے جو آسمان و زمین کی ہر چیز کو جانتا ہے۔ یہ لوگ جن بتوں کی عبادت کرتے ہیں ، اس پر ان کے پاس کیا ثبوت ہے ، یہ بغیر ثبوت کے اضنے موقف پر اس لئے ڈٹے ہوئے ہیں کہ ان کو کلمہ حق کے سننے ہی سے نفرت ہے اور یہ نفرت ان پر اس قدر غالب ہے کہ جو لوگ ان کو آیات سناتے ہیں خطرہ یہ ہوتا ہے کہ یہ ان پر حملہ نہ کردیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو تنبیہ کرتے ہیں کہ جلدی نہ کرو ، تمہارے لئے آگ تیار ہے اور وقت جلدی ہی آنے والا ہے۔ اس کے بعد ان الموں کے ضعف کو بیان کیا ہے جو اللہ کے سوا پکارے جاتے ہیں اور یہ تمام انسانوں کے نام ایک پیغام عام کے انداز میں بیان کیا جاتا ہے۔ ان الموں کی بیچارگی کو بڑے توہین آمیز انداز میں بیان کیا جاتا ہے کہ یہ الہ مکھی کا مقابلہ بھی نہیں کرسکتے۔ یہ سبق اس بات پر ختم ہوتا ہے کہ امت مسلمہ کو اپنے فرئاض ادا کرنے چاہئیں۔ فرائض ہیں کیا ؟ یہ کہ وہ پوری انسانیت کی نگران ہے۔ اس کے لئے اخلاقی تیاری رکوع ، سجود اور فعل خیرات ہے اور نماز کا نظام قائم کرنا اور زکوۃ کا نظام قائم کرنا اور اللہ پر بھروسہ کرنا۔ اس کے ساتھ یہ سورة بھی ختم ہوتی ہے۔ درس نمبر 741 تشریح آیات والذین ھاجروا ……حلیم (95) اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ انسان ان تمام باتوں کو ترک کر دے ، جن کو نفس انسانی چاہتا ہے ، جن کو وہ بےحد عزیز سمجھتا ہے اور جن پر وہ بےحد حریص ہوتا ہے۔ فیملی ، شہر ، وطن ، ماضی کی یادیں ، مال اور زندگی کا ساز و سامان۔ ان سب باتوں کو اپنے نظریہ پر قربان کرنا اور اللہ کی رضامندی حاصل کرنا اور اللہ کے ہاں جو کچھ اجر ہے اس کی طرف دیکھنا ، یہ ایسا کام ہے کہ یہ دنیا و مافیا سے زیادہ قیمتی ہے۔ ہجرت کا حکم فتح مکہ سے قبل تھا اور اس وقت شروع ہوا تھا جب اسلامی حکومت مدینہ میں قائم ہوگئی تھی۔ فتح مکہ کے بعد اگر کوئی دوسرے علاقوں کو چھوڑ کر مدینہ آتا تو اسے ہجرت نہ سمجھا جاتا تھا۔ البتہ اسے جہاد اور نیک عمل ضرور سمجھا جاتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ فتح مکہ کے بعد اگر کوئی جہاد کرے تو اسے اچھا عمل سمجھا جائے گا اور ثواب ہوگا۔ والذین ……رزقاً حسناً (22 : 85) ” جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی پھر قتل کردیئے گئے یا مر گئے ، اللہ ان کو اچھا رزق دے گا۔ “ خواہ وہ شہید ہوئے یا اپنی موت آپ مر گئے ۔ کیونکہ انہوں نے اپنا ملک اور مال و دولت چھوڑ دیا اور اس انجام کے لئے تیار ہو کر نکل آئے۔ انہوں نے شہادت کو ترجیح دی اور دنیا کے تمام عزیز ترین مال و دولت اور ملک کو قربان کردیا۔ اس لئے اللہ نے بھی ہر حال میں ان کے لئے عظیم اجر کا فیصلہ کردیا۔ وان اللہ لھو خیر الرزقین (22 : 85) ” اللہ ان کو اچھا رزق دے گا بیشک اللہ اچھا رزق دینے والوں میں سے ہے۔ “ اور یہ اللہ نے ان کے لئے جس رزق کا اعلان کیا ہے وہ اس سے بہت زیادہ اچھا ہے جو انہوں نے چھوڑا ہے۔ لید خلنھم مدخنا یرضونہ (22 : 95) ” اور انہیں ایسی جگہ پہنچائے گا جس سے وہ خوش ہوں گے۔ “ وہ اس جگہ کی طرف نکلے جس پر اللہ رضای تھا لہٰذا ان کو ایسی جگہ داخل کرے گا جہاں وہ راضی ہوں گیغ۔ یہ بات ان کے لئے بہت بڑا اعزاز ہے کہ اللہ ان کے لئے ان کی مرضی کی جگہ تیار کرے گا ، حالانکہ وہ اللہ کے بندے ہیں اور وہ خالق ہے۔ وان اللہ لعیم حلیم (22 : 95) ” بیشک اللہ علیم و حلیم ہے۔ “ اللہ کے علم میں ہیں وہ مظالم جو ان پر ہوتے رہے۔ اللہ کے علم میں یہ بھی ہے جو وہ چاہتے ہیں اور حلیم اس طرح کہ وہ سب کو مہلت دیتا ہے اور پھر وہ ظالم اور مظلوم دونوں کو پوری پوری جزاء دے گا۔ انسانوں کا معاملہ یہ ہے کہ جن پر مظالم ڈھائے جائیں تو وہ کبھی صبر کرتے ہیں اور کبھی صبر نہیں کرتے۔ جب صبر نہیں کرتے تو وہ ظلم کا جواب دیتے ہیں۔ وہ بھی ان اذیتوں کے مقابلے میں دشمنوں کو دیسی ہی اذیتیں دیتے ہیں۔ اگر ظالم پھر بھی باز نہیں آتے تو اللہ یہ ذمہ داری اپنے اوپر لے لیتا ہے کہ وہ مظلوموں کی نصرت کرے گا۔
Ayah 22:60

ذٰلِكَ١ۚ وَ مَنْ عَاقَبَ بِمِثْلِ مَا عُوْقِبَ بِهٖ ثُمَّ بُغِیَ عَلَیْهِ لَیَنْصُرَنَّهُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 22:60 in the Quran reader

” یہ تو ہے ان کا انجام اور جو کوئی بدلہ لے ، ویسا ہی جیسا اس کے ساتھ کیا گیا ، اور پھر اس پر زیادتی بھی کی گئی ہو ، تو اللہ اس کی مدد ضرور کرے گا۔ اللہ معاف کرنے والا اور درگزر کرنے والا ہے۔ “

ذلک ……غفور (06) اس نصرت کی شرط یہ ہے کہ سزا بطور قصاص دی گئی ہو ، اس میں زیادتی نہ ہو اور نہ ہی سرکشی کر کے سزا کو ظلم سے بدل دیا گیا ہو۔ سزا میں غلونہ کیا گیا ہو۔ اس سزا کے جواز کے بعد یہ جملہ آیا ہے کہ اللہ غفور و رحیم ہے۔ اللہ ہر جرم کو معاف بھی کرسکتا ہے لیکن انسانوں کی حالت یہ ہے کہ وہ بعض اوقات کسی قیمت پر جرم کو معاف نہیں کرتے اور قصاص اور سزا کے نفاذ کو ترجیح دیتے ہیں۔ لیکن اللہ نے ان کو یہ حق دیا ہے۔ معاف نہ کرنا انسان کی بشری کمزوری ہے۔ ایک شخص پر ظلم ہو ، وہ اس کے بدلے متوازن قصاص لے ، لیکن ظالم اگر پھر ظلم پر اتر آئے تو اللہ کی نصرت کا وعدہ اس شخص کے ساتھ ہے جس نے قصاص لیا۔ ظالم اور باغی کے ساتھ نہیں ہے لیکن اس وعدے کو اللہ تعالیٰ اس کائنات کے تکوینی نوامیس قدرت کے ساتھ مربوط کرتے ہیں ، یہ کیوں ؟ اس لئے کہ یہ کائناتی قوانین قدرت اس بات پر گواہ ہیں کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اور وہ نصرت کرسکتا ہے۔ دوسرے یہ کہ جس طرح یہ قوانین قدرت اٹل ہیں اور نہایت باریکی سے اپنے فرائض کو پورا کر رہے ہیں اسی طرح اللہ کی نصرت بھی ایک کائناتی حقیقت ہے۔ اس میں یہ ممکن ہی نہیں کہ ایسا نہ ہو۔
Ayah 22:61

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 22:61 in the Quran reader

” یہ اس لئے کہ رات سے دن اور دن سے رات نکالنے والا اللہ ہی ہے اور وہ سمیع وبصیر ہے۔ “

ذلک بان اللہ ……بصیر (16) یہ ایک طبیعی کائناتی منظر ہے اور رات دن ہماری نظروں کے سامنے سے گزرتا ہے۔ گرمیوں اور سردیوں کی صورت میں ہم اس کے آثار دیکھتے ہیں۔ سورج کے غروب کے وقت رات دن میں داخل ہوجاتی ہے اور سورج کے طلوع کے وقت دن رات میں داخل ہوجاتا ہے۔ اسی طرح رتا دن میں داخل ہوتی ہے اور سردیوں میں دن کے حدود کو چھوٹا کردیتی ہے اور دن رات میں داخل ہوتا ہے ، گرمیوں میں اور رات کی حدود کو چھوٹا کردیتا ہے۔ انسان ان مناظر کو رات اور دن دیکھتا رہتا ہے کہ دن رات میں اور رات دن میں داخل ہو رہے ہیں لیکن بہت زیادہ انس کی وجہ سے اور بہت زیادہ تکرار کی وجہ سے یہ عجیب و غریب مناظر ہمارے لئے دلکش نہیں رہے اور ہم اس نظام پر غور نہیں کرتے کہ یہ نظام کس قدر باریکی سے چل رہا ہے۔ اس میں ایک منٹ کے لئے بھی خلل نہیں پڑتا۔ کبھی یہ نظام موقوف نہیں ہوتا۔ یہ امر شہادت ہے قادر مطلق کی قدرت پر جس نے یہ نظام جاری کیا ہے۔ قرآن کریم اس منظر کی طرف ہمیں متوجہ کرتا ہے کہ تم ایسے مناظر کو بہت غفلت سے کیوں دیکھ کر گزر جاتے ہو ، تاکہ وہ بتا سکے کہ اللہ کی قدرت کا کیا عالم ہ۔ ایک طرف سے وہ ان کی بساط لپیٹ لیتا ہے ، رات کو بجھا دیتا ہے اور دوسری طرف سے وہ تاریکی کو دور کر کے دن کا اجالا پھیلا دیتا ہے۔ یہ نظام اس قدر باریک ہے کہ اس میں کوئی خلیل نہیں پڑتا ، صدیاں گزر گئیں۔ یہی حال اس نصرت کا ہے جس کا اعلان مظلوموں کی حمایت میں ہوا ہے۔ یہ اس طرح یقینی ہے جس طرح رات اور دن کا یہ نظام یقینی ہے۔ اس طرح اللہ جباروں کی سلطنت کے نظام کو اب لپیٹ رہا ہے اور دنیا میں صالح اور عادل لوگوں کا نظام زندگی نافذ کر رہا ہے۔ یہ سیاسی انقلاب بھی انقلاب روز و شب کی طرح یقینی اور اٹل ہے اور ایک تکوینی سنت ہے۔ یہ سنت بھی رات اور دن جاری وساری ہے لیکن لوگ اس سے غافل ہیں۔ جس طرح وہ اس کائنات میں دلائل کونیہ سے غافل ہیں حالانکہ یہ دلائل ایک کھلی کتاب کی شکل میں ہر لمحہ ان کی آنکھوں کے سامنے ہیں۔
Ayah 22:62

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ هُوَ الْبَاطِلُ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ Open ayah 22:62 in the Quran reader

” یہ اس لئے کہ اللہ ہی حق ہے اور وہ سب باطل ہیں جنہیں اللہ کو چھوڑ کر یہ لوگ پکارتے ہیں اور اللہ ہی بالا دست اور بزرگ ہے۔ “

ذلک بان اللہ ……العلی الکبیر (36) اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اللہ حق ہے اور حق اس نظام کائنات کو کنٹرول کرتا ہے۔ اللہ کے سوا جو کچھ بھی ہے وہ باطل ہے۔ باطل میں خلل پڑتا رہتا ہے اور حق قائم و دائم رہتا ہے لہٰذا یہ اہل حق کی مدد کے لئے کافی دلیل ہے اور یہی بات اس نصرت کی ضمانت ہے۔ یہ باطل اور ظلم کے خلاف اللہ کی نصرت پر دلیل بھی ہے اور یہ اس بات پر بھی دلیل ہے کہ اللہ کے تکوینی فیصلے جس طرح اصل ہوتے ہیں اسی طرح اللہ کی نصرت کا یہ وعدہ بھی اٹل ہے۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ یہ وعدہ پورا نہ ہو کیونکہ اللہ ان سرکشوں سے بڑا بادشاہ ہے او وہ ان جباروں سے بہت بڑا ہے۔ وان اللہ ھوا لعلی الکبیر (22 : 26) ” اور اللہ ہی بالا دست اور بزرگ ہے۔ “ لہٰذا وہ اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ ظلم بلند رہے اور طویل عرصے تک عوام پر ظلم ہوتا رہے۔ …… یہ مضمون کہ دلائل کائنات اللہ کی لامحدود وقدرت پر شاہد عادل ہیں ، ذرا آگے بھی جاری رہتا ہے۔
Ayah 22:63

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١٘ فَتُصْبِحُ الْاَرْضُ مُخْضَرَّةً١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌۚ Open ayah 22:63 in the Quran reader

” کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ آسمان سے پانی برساتا ہے اور اس کی بدولت زمین سرسبز ہوجاتی ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ وہ لطیف وخبیر ہے۔ “

الم تر ……خبیر (46) آسمانوں سے بارش برسنا ، زمین کا سرسبز اور شاداب ہونا ، صبح و شام ایسے منظار کا دہرایا جانا ، یہ ایک ایسا عمل ہے جو ہمارے سامنے بار بار دہرایا جاتا ہے اور ہم اس سے اس قدر مانوس ہوگئے ہیں کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ، لیکن اگر ہم اپنے شعور کو ایک شاعر کی طرح بیدار کرلیں تو یہ منظر دلوں اور دماغوں کے اندر بیشمار احساسات پیدا کر یدتا ہے۔ انسان محسوس کرتا ہے کہ یہ چھوٹا سا پودا جو زمین کو پھاڑ کر سرباہر نکالتا ہے ، مٹی اور کیچڑ سے باہر آتا ہے ، یہ ایک چھوٹا سا بچہ ہے اور اس دنیا کی طرف نکل کر ہنستا ہے اور اس کے منہ پر فرحت بخش تبسم ہوتا ہے۔ نظر آتا ہے کہ یہ چھوٹا سا پودا اپنی اس خوشی میں کہیں اڑ نہ جائے۔ جو لوگ ایسا شعور رکھتے ہیں وہی اس آیت کو سمجھ سکتے ہیں۔ ان اللہ لطیف خبیر (22 : 36) ” اللہ لطیف وخبیر ہے۔ “ لطیف کے معنی ہیں کہ نہایت ہی باریکی کو بھی دیکھتا ہے اور اس سے خبردار ہے۔ وہ اس منظر کو نہایت ہی لطف اور گہرائی سے دیکھتا ہے اور ان مناظر کی حقیقت اور مزاج کا خالق ہے اور واقف ہے۔ یہ اللہ کا لطف و کرم ہے کہ یہ چھوٹا سا پودا زمین سے باہر آتا ہے حالانکہ یہ نہایت ہی ضعیف اور بےطاقت ہوتا ہے لیکن دست قدرت اسے ہوا میں بلند کرتا جاتا ہے اور زمین کی اجاذبیت اور کشش ثقل کے باوجود اس کے اندر اٹھنے اور پھینلے کا شوق ہوتا ہے۔ یہ قدرت الہیہ کا لطف و کرم ہے کہ عین وقت پر بارش ہوتی ہے ، مناسب مقدار میں ہوتی ہے اور یہ پانی نہایت ہی میکان کی طریقے سے مٹی سے ملتا ہے اور نباتاتی عمل شروع ہوتا ہے اور پھر زندہ نباتی خلیے روشنی کی طرف سفر شروع کرتے ہیں۔ یہ پانی اللہ کے آسمان سے اللہ کی زمین پر نازل ہوتا ہے۔ اللہ ہی اس میں زندگی پیدا کرتا ہے۔ اللہ ہی اس میں غذا اور ثروت پیدا کرتا ہے۔ اللہ ہی زمین و آسمان اور مافیہا کا مالک ہے۔ وہ زمین و آسمان اور مافیھا سے غنی ہے۔ یہ زندہ چیزوں کو پانی اور نباتات کا رزق دیتا ہے لیکن وہ خود رزق اور مرزوق دونوں سے غنی ہے۔
Ayah 22:64

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ۠ Open ayah 22:64 in the Quran reader

” اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے ، بیشک وہی غنی وحمید ہے۔ “

لہ ما فی ……الحمید (46) اسے زمین و آسمان کی کسی مخلوق کی حاجت نہیں ہے۔ وہ تو غنی ہے ، حمید ہے ، محمود ہے ، اور تمام مخلوق پر اس کا کرم ہے۔ مزید بات اس مضمون پر آگے بڑھتی ہے کہ لوگوں کے لئے اسی کائنات میں سوچنے کی کی چیزیں ہیں جو ان کی نظروں کے سامنے بڑی ہیں۔