22. Surah Al-Hajj

الحجThe Pilgrimage · 78 ayahsانوار البیان

Ayah 22:1

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ١ۚ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَیْءٌ عَظِیْمٌ Open ayah 22:1 in the Quran reader

لوگو ! اپنے پروردگار سے ڈرو کہ قیامت کا زلزلہ ایک حادثہ عظیم ہوگا

(22:1) الساعۃ۔ بمعنی قیامت۔ زلزلۃ الساعۃ۔ قیامت کے دن کا زلزلہ۔
Ayah 22:2

یَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِیْدٌ Open ayah 22:2 in the Quran reader

(اے مخاطب) جس دن تو اس کو دیکھے گا (اس دن یہ حال ہوگا کہ) تمام دودھ پلانے والی عورتیں اپنے بچوں کو بھول جائیں گی اور تمام حمل والیوں کے حمل گرپڑیں گے اور لوگ تجھ کو متوالے نظر آئیں گے مگر وہ متوالے نہیں ہوں گے بلکہ (عذاب دیکھ کر) مدہوش ہو رہے ہوں گے بیشک خدا کا عذاب بڑا سخت ہے

(22:2) ترونھا۔ ترون۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ رؤیۃ مصدر۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب۔ تم اس کو دیکھو گے۔ تم اس کو دیکھتے ہو۔ ھا ضمیر کا مرجع یا زلزلہ ہے یا الساعۃ ہے۔ اشارہ دونوں صورتوں میں اس دن کی ہولناکیوں کی طرف ہے۔ تذھل۔ ذھول مصدر (باب فتح) سے مضارع واحد مؤنث غائب۔ الذھول ایسی مشغولیت جو غم اور بھول پیدا کر دے۔ تذھل وہ بھول جائے گی۔ مرضعۃ۔ اسم فاعل واحد مؤنث ارضاع (افعال) مصدر۔ دودھ پلانے والی۔ مرضع دودھ پیتے بچے والی عورت اس میں تاء تانیث کی نہیں لگاتے کیونکہ یہ صفت اناث ہی کے لئے ہے۔ البتہ جب بچہ منہ میں پستان لیتا ہے اور دودھ پیتا ہے تو اس وقت اس عورت کو مرضعۃ کہتے ہیں۔ عما ارضعت۔ ای عن الذی ارضعتہ۔ یعنی ہر دودھ پلانے والی عورت اس زلزلہ کے وقت ماحول کی دہشت اور ہولناکیوں کو دیکھ کر اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی جس کو وہ دودھ پلا رہی ہوگی یا جس کہ دودھ پلایا کرتی ہوگی۔ تضع۔ وہ رکھ دے۔ وہ ڈال دے۔ وہ جنتی ہے۔ وہ ڈال دے گی۔ وہ گرا دے گی۔ وضع مصدر (باب فتح) سے مضارع واحد مؤنث غائب۔ سکری۔ شراب کے نشہ میں مست۔ سکر سے جو شراب کے نشہ کو کہتے ہیں۔ یا جمع مکسر ہے یا اسم جمع۔ دودھ پلاتی عورت کا دودھ پیتے بچے کو بھول جانا۔ حاملہ کا اپنے حمل کو گرا دینا۔ لوگوں کا مدہوش شرابیوں کی طرح حرکات کرنا۔ یہ سب تمثیلاً بیان کیا گیا ہے جس طرح اور جگہ ارشاد ہے کہ :۔ فکیف تتقون ان کفرتم یوما یجعل الولدان شیبا (73:17) سو تم اس دن کی مصیبت سے کیسے بچو گے جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا۔ مراد اس دن کی شدت ہولناکی ۔ سختی۔ دہشت کو مخاطب کے ذہن نشین کرنا ہے۔ اس میں زائد کی نفی نہیں ہے۔ ولکن عذاب اللہ شدید بلکہ اللہ کا عذاب ہی بڑا سخت ہوگا۔
Ayah 22:3

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ یَتَّبِعُ كُلَّ شَیْطٰنٍ مَّرِیْدٍۙ Open ayah 22:3 in the Quran reader

اور بعض لوگ ایسے ہیں جو خدا (کی شان) میں علم (و دانش) کے بغیر جھگڑتے ہیں اور ہر شیطان سرکش پیروی کرتے ہیں

(22:3) من یجادل فی اللہ۔ ای فی امر اللہ۔ جو اللہ کے بارے میں بغیر علم و دلیل کے جھگڑا کرتے ہیں۔ مثلاً ان کا یہ کہنا کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ کلام اللہ (القرآن) کو اساطیر الاولین کہنا۔ موت کے بعد حشر کے دن مردوں کو دوبارہ زندہ کرنا۔ اس کی وحدانیت وبعثت رسل وغیرہ کے بارہ میں جھگڑا کرنا۔ مرید۔ سرکش۔ باغی۔ ہر خیر سے خالی۔ صفت مشبہ کا صیغہ واحد مذکر۔ مرد مادہ۔ المارد والمرید۔ جنوں اور انسانوں سے اس شیطان کو کہا جاتا ہے جو ہر قسم کی خیر سے عاری ہوچکا ہو۔ یہ شجر امرد سے ماخوذ ہے ۔ جس کے معنی ہیں وہ درخت جس کے پتے نہ ہوں۔ رملۃ مرداء ریت کا وہ ٹیلہ جس پر کوئی چیز نہ اگتی ہو۔ قرآن مجید میں ہے ومن اھل المدینۃ مردوا علی النفاق (9:101) اور مدینہ والوں میں سے بعض لوگ نفاق پر اڑ کر ہر قسم کی خیر سے عاری ہوگئے ہیں۔ مختلف اقوال کے مطابق یہ آیت نضر بن حارث، ابوجہل ابی بن خلف کے حق میں نازل ہوئی تھی۔
Ayah 22:4

كُتِبَ عَلَیْهِ اَنَّهٗ مَنْ تَوَلَّاهُ فَاَنَّهٗ یُضِلُّهٗ وَ یَهْدِیْهِ اِلٰى عَذَابِ السَّعِیْرِ Open ayah 22:4 in the Quran reader

جس کے بارے میں لکھ دیا گیا ہے کہ جو اسے دوست رکھے گا تو وہ اسے گمراہ کر دے گا اور دوزخ کے عذاب کا راستہ دکھائے گا

(22:4) کتب علیہ۔ اس کے مقدر میں لکھا جا چکا ہے۔ اس کے متعلق یہ طے ہوچکا ہے (کہ جو اس کو دوست بنائے گا وہ اسے گمراہ کر کے رہے گا اور بھڑکتی ہوئی آگ کے عذاب کی طرف رہنمائی کرے گا) ۔ السعیر۔ دھکتی ہوئی آگ، دوزخ۔ سعر مصدر سے بروزن (فعیل) بمعنی مفعول ہے۔ سعیر بمعنی مسعور۔ سعرت النار کے معنی آگ بھڑکانا۔ مجازا لڑائی وغیرہ کے بھڑکانے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ السعار آگ کی تپش۔
Ayah 22:5

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَاِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ وَّ غَیْرِ مُخَلَّقَةٍ لِّنُبَیِّنَ لَكُمْ١ؕ وَ نُقِرُّ فِی الْاَرْحَامِ مَا نَشَآءُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤا اَشُدَّكُمْ١ۚ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰى وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلٰۤى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَیْلَا یَعْلَمَ مِنْۢ بَعْدِ عِلْمٍ شَیْئًا١ؕ وَ تَرَى الْاَرْضَ هَامِدَةً فَاِذَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَ رَبَتْ وَ اَنْۢبَتَتْ مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِیْجٍ Open ayah 22:5 in the Quran reader

لوگو ! اگر تم کو مرنے کے بعد جی اٹھنے میں کچھ شک ہو تو ہم نے تم کو (پہلی بار بھی تو) پیدا کیا تھا (یعنی ابتدا میں) مٹی سے پھر اس سے نطفہ بنا کر پھر اس سے خون کا لوتھڑا بنا کر پھر اس سے بوٹی بنا کر جس کی بناوٹ کامل بھی ہوتی ہے اور ناقص بھی تاکہ تم پر (اپنی خالقیت) ظاہر کردیں اور ہم جس کو چاہتے ہیں ایک معیاد مقرر تک پیٹ میں ٹھہرائے رکھتے ہیں پھر تم کو بچہ بنا کر نکالتے ہیں پھر تم جوانی کو پہنچتے ہو اور بعض (قبل از پیری) مرجاتے ہیں اور بعض (شیخ فانی ہوجاتے ہیں اور بڑھاپے کی) نہایت خراب عمر کی طرف لوٹائے جاتے ہیں کہ بہت کچھ جاننے کے بعد بالکل بےعلم ہوجاتے ہیں اور (اے دیکھنے والے) تو دیکھتا ہے (کہ ایک وقت میں) زمین خشک (پڑی ہوتی ہے) پھر جب ہم اس پر مینہ برساتے ہیں تو وہ شاداب ہوجاتی ہے اور ابھرنے لگتی ہے اور طرح طرح کی بارونق چیزیں اگاتی ہے

(22:5) فانا خلقنکم۔ تقدیر کلام یوں ہے فاخبرکم واعلمکم انا خلقنکم یعنی (اگر بعث بعد الموت کے متعلق تمہیں شک ہے تو میں تمہیں مطلع کرتا ہوں اور بتاتا ہوں کہ) ہم نے تمہیں پیدا کیا (مٹی سے) الخ۔ تراب۔ مٹی۔ نطفۃ۔ اصل میں تو آب صافی کو کہتے ہیں۔ لیکن اس سے مراد مرد کی منی لی جاتی ہے۔ علقۃ۔ جمے ہوئے خون کی ایک پھٹکی۔ خون کی وہ پھٹکی جو منی سے پیدا ہوتی ہے اس کی جمع علق ہے علقہ کو علقہ اس لئے کہتے ہیں کہ وہ اس رطوبت کے ساتھ جو اس میں لگی رہتی ہے معلق ہوتا ہے۔ خون کا لوتھڑا۔ مضغۃ۔ گوشت کا ٹکڑا۔ بوٹی، گوشت کا چھوٹا ٹکڑا جو چبانے کے لئے منہ میں ڈالا جائے۔ جنین کی وہ حالت جو علقہ کی حالت کے بعد ہونی ہے اسے مضغہ کہتے ہیں۔ مخلقۃ۔ اسم مفعول واحد مؤنث خلق (باب تفعیل) سے اور یہ صفت ہے مضغۃ کی مخلقۃ وغیر مخلقۃ کے متعلق مختلف اقوال ہیں۔ (1) سالم من العیوب۔ مکمل بغیر کسی نقص وعیب کے۔ اور غیر مخلقہ اس کے برکس جس میں جسمانی ساخت کے عیوب ہوں۔ (2) مخلقۃ۔ مکمل جس میں انسانی صورت کے تمام خدوخال نمایاں ہوچکے ہوں۔ اور غیر مخلقہ جس میں یہ تکمیل ابھی ادھوری ہو۔ یہ ادھورا پن کسی درجہ میں ہو جو مضغہ کی حالت میں یا اس کے بعد لیکن تکمیل سے قبل ساقط ہوجائے ۔ (3) مخلقۃ زندہ پیدا کیا ہوا۔ جو زندہ پیدا ہو اور غیر مخلقہ جو زندہ پیدا نہ ہو یا وہ جو بوجہ سقط حمل گرجائے۔ لنبین لکم۔ لام تعلیل کے لئے نبین۔ مضارع جمع متکلم تبیین (تفعیل) مصدر سے۔ تاکہ ہم (اپنی قدرت) کھول کر بیان کردیں۔ ظاہر کردیں تم پر۔ نقر۔ اقرار (افعال) سے مضارع کا صیغہ جمع متکلم۔ ہم قرار دیتے ہیں۔ ہم ٹھہرائے رکھتے ہیں۔ یعنی اس کو سقط (گرنے) سے محفوظ رکھتے ہیں۔ ما نشائ۔ جس کو ہم چاہتے ہیں۔ ثم لتبلغوا اشدکم۔ اس میں لام تعلیل کے لئے ہے جس کی علت محذوف ہے۔ تقدیر کلام یوں ہے ثم نمھلکم اونر بیکم لتبلغوا اشدکم (پھر ہم تم کو مہلت دیتے ہیں یا پرورش کرتے ہیں تمہاری) تاکہ تم اپنی جوانی کو پہنچ جائو۔ یتوفی مضارع مجہول واحد مذکر غائب توفی مصدر (باب تفعیل) اس کو وفات دی جاتی ہے یعنی فوت ہوجاتا ہے وفات پا جاتا ہے ومنکم من یتوفی اور تم سے کچھ (بڑھاپے سے قبل) مرجاتے ہیں۔ ارذل العمر۔ ارذل افعل التفضیل کا صیغہ ہے سب سے زیادہ نکما (رذیل نکما) ۔ رذالۃ مصدر۔ گھٹیا ہونا۔ نکما ہونا۔ ردی ہونا۔ ارذل العمر سے مراد سن خرافت ہے۔ جب بڑھاپے کی وجہ سے آدمی فاتر العقل ہوجاتا ہے۔ کیلا یعلم من بعد علم شیئا۔ کہ وہ جاننے کے بعد بھی کچھ نہ جانے یعنی شدت ضعیفی سے قوت حافظہ بھی جاتی رہتی ہے ۔ قوی دماغی انحطاط پذیر ہوجاتے ہیں۔ یادداشت کا خزانہ خالی ہوجاتا ہے۔ اور وہ جن امور کا وسیع علم رکھتا تھا۔ یوں بہکی بہکی باتیں کرنے لگتا ہے کہ معلوم ہوتا ہے اسے ان کا کچھ علم بھی نہیں۔ ھامدۃ۔ اسم فاعل واحد مؤنث ھمد وھمود مصدر۔ ھمدت النار آگ کا بجھ جانا۔ آگ کا ٹھنڈا ہونا۔ اور ھمدت الارض۔ زمین کا بنجر ہونا۔ بےآب وگیاہ ہونا۔ وتری الارض ھامدۃ (اے دیکھنے والے) تو دیکھتا ہے (کہ ایک وقت میں) زمین خشک پڑی ہوتی ہے۔ اور بےآب وگیا ہوتی ہے۔ فاذا۔ پھر جب۔ اھتزت۔ ماضی واحد مؤنث غائب۔ اس نے تروتازہ ہو کر حرکت کی۔ اھتزاز (افتعال) سے جس کے معنی جھومنے بل کھانے اور شاد ابی اور تروتازگی کی وجہ سے درخت کے ہلنے اور حرکت کرنے کے ہیں۔ ھز مادہ۔ الھز کے معنی کسی چیز کو زور سے ہلانے کے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے وھزی الیک بجذع النخلۃ (19:25) اور کھجور کے تنے کو پکڑ کر اپنی طرف ہلائو۔ اور فلما راھا تھتز کانھا جان (27:10) جب اس نے اسے دیکھا تو (اس طرح) بل کھا رہی تھی گویا سانپ ہے اور کہتے ہیں اھتزت النبات۔ نباتات (سبزے) کا لہلہانا۔ ربت۔ ربو مادہ۔ ربا یربوا (باب نصر) ربو مصدر سے۔ ماضی واحد مؤنث غائب وہ بڑھی، وہ پھولی، وہ ابھری۔ اسی سے ہے ربوۃ اونچی جگہ۔ ٹیلا۔ ربو سود کہ وہ بھی راس المال پر بڑھوتی ہے۔ انبتت۔ ماضی واحد مؤنث غائب انبات (افعال) وہ اگی۔ اس نے اگایا۔ نباتات اگی ہوئی چیزیں۔ من کل زوج۔ ای من کل نوع۔ من کل صنف۔ ہر قسم کی۔ بھیج۔ بھج مادہ۔ بھجۃ۔ خوش نمائی۔ فرحت و سرور کا ظہور۔ بھیج بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ بارونق ۔ تروتازہ۔ نفیس ۔ خوش نما۔ فرحت و سرور آور ۔ بھج (کرم) خوشنما اور تروتازہ ہونا۔ ابتھج (افتعال) کسی چیز پر اس قدر مسرور ہونا کہ چہرہ پر خوشی کے آثار ظاہر ہوجاویں۔ ابھج (افعال) خوش کرنا۔ قرآن مجید میں آیا ہے حدائق ذات بھجۃ (27:60) سرسبز باغ۔
Ayahs 22:6–8

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّهٗ یُحْیِ الْمَوْتٰى وَ اَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌۙ Open ayah 22:6 in the Quran reader

ان قدرتوں سے ظاہر ہے کہ خدا ہی (قاد رمطلق ہے جو) برحق ہے اور یہ کہ وہ مردوں کو زندہ کردیتا ہے اور یہ کہ وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے

وَّ اَنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ لَّا رَیْبَ فِیْهَا١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ یَبْعَثُ مَنْ فِی الْقُبُوْرِ Open ayah 22:7 in the Quran reader

اور یہ کہ قیامت آنے والی ہے اس میں کچھ شک نہیں اور یہ کہ خدا سب لوگوں کو جو قبروں میں جلا اٹھائے گا

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ لَا هُدًى وَّ لَا كِتٰبٍ مُّنِیْرٍۙ Open ayah 22:8 in the Quran reader

اور لوگوں میں کوئی ایسا بھی ہے جو خدا (کی شان) میں بغیر علم (و دانش) کے اور بغیر ہدایت کے اور بغیر کتاب روشن کے جھگڑتا ہے

(22:6) ذلک۔ یعنی انسان کی تخلیق اور اس کے مختلف مدارج اور بنجر زمین کو خوشنما اور لہلہاتا سبزہ زار بنادینا۔
Ayah 22:9

ثَانِیَ عِطْفِهٖ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ لَهٗ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ نُذِیْقُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَذَابَ الْحَرِیْقِ Open ayah 22:9 in the Quran reader

(اور تکبر سے) گردن موڑ لیتا (ہے) تاکہ (لوگوں کو) خدا کے راستے سے گمراہ کر دے اس کے لئے دنیا میں ذلت ہے اور قیامت کے دن ہم اسے عذاب (آتش) سوزاں کا مزہ چکھائیں گے

(22:9) ثانی۔ اسم فاعل۔ واحد مذکر۔ ثنی یثنی (ضرب) ثنی مصدر۔ عطفہ۔ اس کا شانہ۔ اس کا پہلو۔ عطف۔ مضاف ہ ضمیر واحد مذکر غائب مضاف الیہ۔ عطف کے معنی جانب وپہلو کے ہیں۔ اور اس کی جمع اعطاف ہے جیسے حمل کی جمع احمال ہے۔ عطف الانسان۔ سر سے لے سرین تک انسان کے دونوں جانب یعنی پہلو ہیں اور یہ بدن کا وہ حصہ ہے جس کو وہ موڑ سکتا ہے اور ثنی عطفہ کا استعمال منہ موڑنے اور سختی برتنے کے لئے ہوتا ہے۔ جیسے نای بجانبہ۔ (اس نے پہلو تہی کی) اور صعر بخدہ (اس نے اپنا گال پھلایا) جب اس کا تعدیہ بذریعہ علی ہوتا ہے تو اس کا استعمال شفقت اور میلان کے معنی میں ہوتا ہے چناچہ عطف علیہ (وہ اس پر مہربان ہوا) اور جب بذریعہ عن اس کا تعدیہ ہوتا ہے تو پھر اس کے معنی منہ موڑنے اور بےرخی کرنے کے ہوتے ہیں۔ جیسے عطفت عن فلان میں نے فلاں سے منہ موڑ لیا۔ ثانی عطفہ۔ ضمیر فاعل یجادل سے حال ہے (تکبر سے) پہلو کو موڑتا ہوا۔ لیضل عن سبیل اللہ۔ لیضل۔ لام تعلیل کے لئے ہے۔ یضل واحد مذکر غائب۔ تاکہ گمراہ کرے۔ تاکہ بہکاوے۔ (باب افعال) ۔ نذیقہ۔ مضارع جمع متکلم ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ ہم اس کو چھکائیں گے، اذاق یذیق اذاقۃ واذاقۃ (افعال ) چکھانا۔ ذائقۃ چکھنے والی۔ الحریق۔ آگ۔ احرق یحرق (افعال) کسی چیز کو جلانا۔ احترق (افعال) جل جانا جیسے فاصابھا اعصار فیہ نار فاحترقت۔ (2:266) تو (ناگہاں) اس باغ پر آگ کا بھرا ہوا بگولہ چلے اور وہ جل (کر راکھ کا ڈھیر ہو) جائے۔ حرق یحرق (تفعیل) جلانا ۔ قالوا حرقوہ (21:68) کہنے لگے اس کو جلادو۔ الحریق بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ بھی ہوسکتا ہے۔ اور فاعل اور مفعول دونوں کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ یعنی جلانے والا۔ جلا ہوا۔ تپ محرقہ۔ تیز بخار۔ جلا دینے والا بخار۔
Ayah 22:10

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ یَدٰكَ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۠ Open ayah 22:10 in the Quran reader

(اے سرکش) یہ اس (کفر) کی سزا ہے جو تیرے ہاتھوں نے آگے بھیجا تھا اور خدا اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں

(22:10) ذلک۔ ای یقال لہ ذلک۔ اس سے کہا جائے گا۔ ظلام۔ ظلم سے مبالغہ کا صیغہ ہے۔ بہت ظلم کرنے والا۔ عبید۔ عبد کی جمع ۔ بندے۔
Ayah 22:11

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰى حَرْفٍ١ۚ فَاِنْ اَصَابَهٗ خَیْرُ اِ۟طْمَاَنَّ بِهٖ١ۚ وَ اِنْ اَصَابَتْهُ فِتْنَةُ اِ۟نْقَلَبَ عَلٰى وَجْهِهٖ١ۚ۫ خَسِرَ الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةَ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ Open ayah 22:11 in the Quran reader

اور لوگوں میں بعض ایسا بھی ہے جو کنارے پر (کھڑا ہو کر) خدا کی عبادت کرتا ہے اگر اسکو کوئی (دنیاوی) فائدہ پہنچے تو اس کے سبب مطمئن ہوجائے اور اگر کوئی آفت پڑے تو منہ کے بل لوٹ جائے (یعنی پھر کافر ہوجائے) اس نے دنیا میں بھی نقصان اٹھایا اور آخرت میں بھی یہی تو نقصان صریح ہے

(22:11) علی حرف۔ حرف بمعنی کنارہ۔ رخ، احرف حروف جمع۔ یعنی وہ دائرہ دین کے وسط میں نہیں بلکہ کفرو اسلام کی سرحد پر کھڑا ہو کر بندگی کرتا ہے یعنی متذبذب حالت میں۔ خسر۔ اس نے گھاٹا پایا۔ وہ خسارہ میں رہا۔ خسر خسار و خسران مصدر۔
Ayah 22:12

یَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَضُرُّهٗ وَ مَا لَا یَنْفَعُهٗ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُۚ Open ayah 22:12 in the Quran reader

یہ خدا کے سوا ایسی چیز کو پکارتا ہے جو نہ اسے نقصان پہنچائے اور نہ فائدہ دے سکے یہی تو پرلے درجے کی گمراہی ہے

(22:12) ذلک، ای ذلک الدعائ۔ یہ پکار ۔ یہ دعا۔
Ayahs 22:13–15

یَدْعُوْا لَمَنْ ضَرُّهٗۤ اَقْرَبُ مِنْ نَّفْعِهٖ١ؕ لَبِئْسَ الْمَوْلٰى وَ لَبِئْسَ الْعَشِیْرُ Open ayah 22:13 in the Quran reader

(بلکہ) ایسے شخص کو پکارتا ہے جس کا نقصان فائدے سے زیادہ قریب ہے ایسا دوست بھی برا اور ایسا ہم صحبت بھی برا

اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ Open ayah 22:14 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے خدا انکو بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں چل رہی ہیں کچھ شک نہیں کہ خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے

مَنْ كَانَ یَظُنُّ اَنْ لَّنْ یَّنْصُرَهُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ فَلْیَمْدُدْ بِسَبَبٍ اِلَى السَّمَآءِ ثُمَّ لْیَقْطَعْ فَلْیَنْظُرْ هَلْ یُذْهِبَنَّ كَیْدُهٗ مَا یَغِیْظُ Open ayah 22:15 in the Quran reader

جو شخص یہ گمان کرتا ہے کہ خدا اس کو دنیا اور آخرت میں مدد نہیں دے گا تو اس کو چاہیے کہ اوپر کی طرف (یعنی اپنے گھر کی چھت میں) ایک رسی باندھے پھر (اس سے اپنا) گلا گھونٹ لے پھر دیکھے کہ آیا یہ تدبیر اس کے غصے کو دور کردیتی ہے

(22:23) فائدہ : آیت 12 میں ہے یدعوا من دون اللہ ما لا یضرہ وما لا ینفعہ اور آیت 13 میں ہے یدعوا لمن ضرہ اقرب من نفعہ۔ یعنی پکارتا ہے اس کو کہ ضرر اس کا قریب تر ہے بہ نسبت اس کے نفع کے ۔ یعنی جہاں تک اس کا مذموم معبود کو پکارنے کا تعلق ہے اس فعل سے نقصان تو لازم آگیا۔ کیونکہ غیر اللہ کو پکارنا حرام ہے اور باعث زیاں ہے۔ جہاں تک اس فعل سے نفع کی امید ہے تو وہ ایک موہوم امر ہے اگر کوئی نفع بالفرض ہو بھی جائے تو وہ من جانب اللہ ہوتا ہے جو سنت اللہ کے تحت اس کی قسمت میں ازل سے لکھا جا چکا ہے ۔ لہٰذا جس من دون اللہ کو یہ پکارتا ہے اس سے نقصان ہی نقصان لازم ہے۔ اس طرح یہ آیت ماقبل سے متضاد نہیں ہے بلکہ اس کی تائید کرتی ہے کہ ما لا یضرہ وما لا ینفعہ۔ یا یوں سمجھئے کہ اس معبود باطل سے نقصان (ضرر) تو قریب تر ہے اور نفع بعید تر۔ اور عربی میں بعید کا اطلاق بےاصل اور غیر موجود شے پر بھی ہوتا ہے۔ جیسے قرآن مجید میں ہےء اذا متنا وکنا ترابا ذلک رجع بعید (50:3) ای لا رجع اصلا۔ واپسی اصلا ہے ہی نہیں۔ یہاں بھی نفع کا بعید ہونا سے مراد ہے اس میں نفع ہے ہی نہیں۔ بئس۔ برا ہے۔ فعل ذم ہے۔ اس کی گردانی نہیں آتی۔ بئس اصل میں بئس تھا بروزن فعل (سمع) عین کلمہ کی اتباع میں اس کے فا کلمہ کو کسرہ دیا پھر تخفیف کے لئے عین کلمہ کو ساکن کرلیا گیا۔ بئس ہوگیا۔ مولی۔ اسم مفرد موالی جمع۔ کارساز ۔ حمایتی۔ دوست۔ عشیر۔ رفیق۔ ہم صحبت۔ ساتھی۔ شریک، بمعنی معاشر میل جول رکھنے والا۔
Ayah 22:16

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یُّرِیْدُ Open ayah 22:16 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے اس قرآن کو اتارا ہے (جس کی تمام) باتیں کھلی ہوئی (ہیں) اور یہ (یاد رکھو) کہ جس کو خدا چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے

(22:16) کذلک۔ ایسے ہی۔ اسی طرح۔ مثل ذلک الانزال۔ جس طرح ہم نے یہ (مندرجہ بالا) باتیں کھلی کھلی بیان کی ہیں اسی طرح (انزلنہ) ہم نے سارا قرآن نازل کیا ہے۔ ہ ضمیر کا مرجع القرآن ہے۔ ایت بینت۔ موصوف صفت ہو کر انزلنا سے حال ہے اور بدیں وجہ منصوب ہے۔
Ayah 22:17

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الصّٰبِئِیْنَ وَ النَّصٰرٰى وَ الْمَجُوْسَ وَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا١ۖۗ اِنَّ اللّٰهَ یَفْصِلُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 22:17 in the Quran reader

جو لوگ مومن (یعنی مسلمان) ہیں اور جو یہودی ہیں اور ستارہ پرست اور عیسائی اور مجوسی اور مشرک خدا ان (سب) میں قیامت کے دن فیصلہ کر دے گا بیشک خدا ہر چیز سے باخبر ہے

(22:17) ھادوا۔ ماضی جمع مذکر غائب ھود مصدر (باب نصر) وہ یہودی ہوئے ھود۔ پشیمان ہونا۔ حق کی طرف لوٹنا۔ (بچھڑے کی پوجا سے توبہ کرنے کی بناء پر یہود کہلائے) یہودی ہونا۔ ھود۔ یہودیوں کی جماعت۔ الصابئین۔ ستارہ پرستوں کا ایک گروہ۔ المجوس۔ مجوسی کی جمع۔ مجوسیت مصدر۔ آتش پرست۔
Ayah 22:18

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یَسْجُدُ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ وَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ وَ النُّجُوْمُ وَ الْجِبَالُ وَ الشَّجَرُ وَ الدَّوَآبُّ وَ كَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ١ؕ وَ كَثِیْرٌ حَقَّ عَلَیْهِ الْعَذَابُ١ؕ وَ مَنْ یُّهِنِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّكْرِمٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُؕ۩ Open ayah 22:18 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو (مخلوق) آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور چار پائے اور بہت سے انسان خدا کو سجدہ کرتے ہیں اور بہت سے ایسے ہیں جن پر عذاب ثابت ہوچکا ہے اور جس شخص کو خدا ذلیل کرے اس کو کوئی عزت دینے والا نہیں بیشک خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے

(22:18) الم تر۔ الف استفہامیہ۔ لم تر۔ نفی حجد بلم۔ تر اصل میں تری تھا لم کی وجہ سے ی حرف علت گرگیا کیا تو نہیں دیکھتا۔ الدواب۔ دابۃ کی جمع ہے۔ رینگنے والے جانور۔ پائوں چلنے والا جانور ۔ مذکر ومؤنث دونوں کے لئے مستعمل ہے اگرچہ عرف عام میں یہ لفظ گھوڑے کے لئے مخصوص ہے مگر سب جانوروں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ قرآن کریم میں جہاں بھی دابۃ کا لفظ آیا ہے تو اس میں ہر ایک حیوان داخل ہے۔ یھن۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ اھانۃ (افعال) مصدر۔ وہ اہانت کرتا ہے ۔ یا ذلیل کرتا ہے ۔ وہ اہانت کے یا ذلیل کرے۔ مضارع مجزوم بوجہ عمل من ہے (جو اسمائے متضمن بمعنی حرف شرط میں سے ہے۔ اسمائے شرطیہ کو کلم المجازات بھی کہتے ہیں۔ اور یہ نو ہیں :۔ (1) من۔ (2) مھما۔ (3) ما۔ (4) ای۔ (5) حیثما۔ (6) اذ ما۔ (7) متی۔ (8) اینما۔ (9) انی۔ (نہ اسم جازم آمد فعل را) جیسے ومن یفعل ذلک یلق اثاما۔ (25:68) اور جو یہ کام کرے گا تو وہ (اس کی) سزا پائے گا۔ مکرم۔ اسم فاعل۔ واحد مذکر اکرام مصدر۔ عزت دینے والا۔ فائدہ سجدہ سے مراد سرافگندہ ہونا۔ مطیع ومنقاد ہونا ہے من فی السموت والارض سے مراد زمین و آسمان کی ہر چیز ہے۔ سورج۔ چاند، ستارے۔ پہاڑون ۔ چوپائوں اور فرماں بردار انسانوں کا ذکر ان کو منفر کرنے کے لئے کیا گیا ہے۔ جیسے کہ کہیں ساری قوم آئی اور زید اور بکر بھی آئے ۔ سجدہ تکوینی اور تسخیری (غیر اختیاری) بھی ہے اور شرعی واختیاری بھی۔ اول الذکر کے تحت جملہ مخلوق غیر ذوی العقول اور ایک حد تک ذوی العقول مخلوق (جہاں تک کہ ان کا اپنا کوئی اختیار نہیں مثلاً پیدائش ۔ مرگ۔ بچپن سے جوان ہوجانا۔ یا جوان سے بوڑھا ہوجانا وغیرہ) شامل ہے۔ اور ثانی الذکر میں صرف ذوی العقول کو مکلف گردانا گیا ہے۔ اطاعت و فرمانبرداری کی اہمیت ان کے ذہن نشین کرائی جاتی ہے پھر وہ اپنے اختیار سے اسے اپناتے ہیں اور کثیر من الناس کے زمرہ میں شامل ہوجاتے ہیں یا انکار کر کے کثیر حق علیہ العذاب میں جا ملتے ہیں۔
Ayah 22:19

هٰذٰنِ خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوْا فِیْ رَبِّهِمْ١٘ فَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِیَابٌ مِّنْ نَّارٍ١ؕ یُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِمُ الْحَمِیْمُۚ Open ayah 22:19 in the Quran reader

یہ دو (فریق) ایک دوسرے کے دشمن اپنے پروردگار (کے بارے) میں جھگڑتے ہیں تو جو کافر ہیں ان کے لئے آگ کے کپڑے قطع کئے جائیں گے (اور) ان کے سروں پر جلتا ہوا پانی ڈالا جائے گا

(22:19) ھذان خصمن۔ یہ دو فریق۔ یعنی فریق المومنین وفریق لکفار۔ بعض نے حضرت ابو ذر کی روایت پر وہ لوگ مراد لئے ہیں جنہوں نے میدان بدر میں ایک دوسرے کو دعوت مبارزت دی۔ مسلمانوں کی طرف سے حضرت علی ؓ۔ حضرت حمزہ اور حضرت عبیدہ بن حارث ؓ اور کفار کی طرف سے عتبہ بن ربیعہ اور شیبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ تھے۔ اختصموا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ انہوں نے جھگڑا کیا ۔ اختصام (افتعال) مصدر جھگڑا کرنا۔ یہاں خصمن کے بعد جمع کا صیغہ تعداد افراد کی وجہ سے لایا گیا ہے۔ قطعت۔ ماضی مجہول۔ واحد مؤنث غائب تقطیع (تفعیل) مصدر ۔ پھاڑی جاتی ہے یا پھاڑی جائے گی۔ قطع کی جائے گی۔ قطعت ثیاب۔ کپڑے کاٹیں جائیں گے۔ یعنی ان کے ناپ کے مطابق آگ کے کپڑے بنائے جائیں گے۔ یعنی کپڑوں کی طرح آگ ان کے گرد لپیٹ دی جائے گی۔ ماضی بمعنی مضارع۔ یصب۔ مضارع مجہول واحد مذکر غائب۔ صب مصدر (باب نصر) بہایا جائے گا۔ انڈیلا جائے گا۔ گرایا جائے گا (پانی) ۔ الحمیم۔ نہایت گرم پانی۔ اسی اعتبار سے نہایت قریبی دوست کو بھی حمیم کہا جاتا ہے کیونکہ وہ اپنے دوست کی حمایت میں گرمی دکھاتا ہے۔ ولا یسئل حمیم حمیما (70:10) اور کوئی دوست کسی دوست کو نہ پوچھے گا۔
Ayahs 22:20–21

یُصْهَرُ بِهٖ مَا فِیْ بُطُوْنِهِمْ وَ الْجُلُوْدُؕ Open ayah 22:20 in the Quran reader

اس سے ان کے پیٹ میں اندر کی چیزیں اور کھالیں گل جائیں گی

وَ لَهُمْ مَّقَامِعُ مِنْ حَدِیْدٍ Open ayah 22:21 in the Quran reader

اور ان (کے مارنے ٹھونکنے) کے لئے لوہے کے ہتھوڑے ہوں گے

(22:20) یصھر۔ مضارع مجہول واحد مذکر غائب صھر مصدر (باب فتح) پگھلادیا جائے گا۔ گلا دیا جائے گا۔ صھر گرم چیز۔ صھر رشتہ داری۔ اپنائیت ۔ خسر الی رشتہ دار اصھار (افعال) داماد بنانا۔ نکاح یا نسب کے ساتھ ملا لینا۔ مصاھرۃ دامادی اور سمدھیانہ۔ فجعلہ نسبا وصھرا۔ پھر اس کو خاندان والا۔ سسرال والا بنایا۔ الجلود۔ جلد کی جمع۔ کھالیں ۔ چمڑے۔ ای وتصھر بہ الجلود اور گل جائیں گے ان کے چمڑے ۔ ان کی کھالیں۔ الف لام قائم مقام اضافت ہے۔ ای جلودہم۔ مقامع۔ مقمع کی جمع۔ اسم آلہ۔ گرز۔ ہتھوڑے۔ مقمع ہر اس چیز کو کہا جاتا ہے۔ جس سے پیٹ پیٹ کر کسی کو مطیع اور مقہور کیا جائے۔ اسی سے ہے قمعتہ فانقمع (باب انفعال) میں نے اسے روکا پس وہ رک گیا۔
Ayahs 22:22–23

كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَا مِنْ غَمٍّ اُعِیْدُوْا فِیْهَا١ۗ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ۠ Open ayah 22:22 in the Quran reader

جب وہ چاہیں گے کہ اس رنج (و تکلیف کی وجہ) سے دوزخ سے نکل جائیں تو پھر اسی میں لوٹا دیے جائیں گے اور (کہا جائے گا کہ) جلنے کے عذاب کا مزہ چکھتے رہو

اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ لُؤْلُؤًا١ؕ وَ لِبَاسُهُمْ فِیْهَا حَرِیْرٌ Open ayah 22:23 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے خدا ان کو بہشتوں میں داخل کر دے گا جن کے تلے نہریں بہہ رہی ہیں وہاں ان کو سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور موتی اور وہاں ان کا لباس ریشمی ہوگا

(22:22) منہا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع نار ہے۔ بعض کے نزدیک یہ ضمیر ثیاب کے لئے ہے لیکن صاحب روح المعانی نے اسے رکیک (کمزور) کہا ہے۔ غم۔ رنج۔ اندہ۔ حزن۔ کرب۔ غم کے بنیادی معنی کسی چیز کو چھپا لینے کے ہیں۔ اسی سے الغمی ہے۔ جس کے معنی غبار اور تاریکی کے ہیں۔ اسی لئے بادل کو الغمام کہتے ہیں کہ وہ سورج کی روشنی کو چھپا لیتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے۔ ان یاتیہم اللہ فی ظلل من الغمام (2:210) کہ خدا ان کے پاس بادل کے سائبانوں میں آجائے۔ اور غمۃ الامر۔ بمعنی کسی معاملہ کا پیچیدہ اور مشتبہ ہونا ہے جیسے قرآن مجید میں آیا ہے ثم لا یکن امرکم علیکم غمۃ (10:71) پھر تمہارا معاملہ تم پر مشتبہ نہ رہے۔ یعنی تمہارے لئے قلق اور اضطراب کا موجب نہ ہو۔ من غم۔ منھا سے بدل اشتمال ہے یا یخرجوا کا مفعول لہ بمعنی من اجل ۔ اعیدوا۔ ماضی مجہول۔ جمع مذکر غائب۔ اعادۃ مصدر۔ وہ لوٹا دئیے گئے۔ یہاں ماضی بمعنی مضارع مستقبل ہے۔ وہ لوٹا دئیے جائیں گے۔ وذوقوا۔ وائو کے بعد قیل لہم محذوف ہے۔ سورة السجدہ میں ہے کلما ارادوا ان یخرجوا منھا اعیدوا فیھا وقیل لہم ذوقوا عذاب النار الذی کنتم بہ تکذبون۔ (32:20) ۔ ذوقوا۔ فعل امر۔ جمع مذکر حاضر۔ ذوق مصدر سے۔ تم چکھو۔ عذاب الحریق۔ مضاف مضاف الیہ۔ حریق حرق سے بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے اور فاعل ومفعول (جلانے والا۔ جلا ہوا) دونوں کے معنی دیتا ہے۔ یہاں بمعنی آگ کے آیا ہے۔ (22:20) یحلون۔ مضارع مجہول جمع مذکر غائب تحلیۃ (تفعیل) مصدر وہ زیور پہنائے جائیں گے۔ حلیۃ بمعنی زیور۔ جیسے او من ینشؤا فی الحلیۃ (43:18) کیا وہ جو زیور میں پرورش پائے۔ اساور۔ سوار کی جمع۔ کنگن۔ پونچیاں۔ لؤلؤا۔ لؤ لؤ مفرد لالی جمع۔ موتی۔ فیھا ای فی الجنۃ۔ حریر ریشم۔
Ayah 22:24

وَ هُدُوْۤا اِلَى الطَّیِّبِ مِنَ الْقَوْلِ١ۖۚ وَ هُدُوْۤا اِلٰى صِرَاطِ الْحَمِیْدِ Open ayah 22:24 in the Quran reader

اور انکو پاکیزہ کلام کی ہدایت کی گئی اور (خدائے) حمید کی راہ بتائی گئی

(22:24) ھدوا۔ ماضی مجہول۔ جمع مذکر غائب۔ ھدایۃ مصدر (باب ضرب) ان کو ہدایت کی گئی۔ ان کو راستہ بتایا گیا۔ وھدوا الی الطیب من القول۔ ان کی راہنمائی کی گئی تھی کلمہ طیبہ کی طرف (بعض نے قرآن مراد لیا ہے۔ ماحصل ایک ہی ہے) صراط الحمید۔ مضاف مضاف الیہ۔ الحمید سے مراد ذات خداوند تعالیٰ ہے کہ سزاوار حمد وثنا ہے اور صراط (راستہ) سے مراد اسلام ہے۔ وھدوا۔ اور یہ باتین یعنی نہروں والے باغ، سونے اور موتیوں کے زیورات اور ریشمی لباس ان کو اس وجہ سے نصیب ہوں گی کہ دنیا میں اللہ کی طرف سے ان کو کلمہ طیبہ گامزن فرما دیا گیا تھا۔ حمید بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے بمعنی مفعول یعنی محمود ہے اور اللہ تعالیٰ کے اسما حسنی میں سے ہے کیونکہ وہی حقیقی طور پر مستحق حمد ہے۔
Ayah 22:25

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ الَّذِیْ جَعَلْنٰهُ لِلنَّاسِ سَوَآءَ اِ۟لْعَاكِفُ فِیْهِ وَ الْبَادِ١ؕ وَ مَنْ یُّرِدْ فِیْهِ بِاِلْحَادٍۭ بِظُلْمٍ نُّذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ۠ Open ayah 22:25 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہیں اور (لوگوں کو) خدا کے راستے سے اور مسجد محترم سے جسے ہم نے لوگوں کے لئے یکساں (عبادت گاہ) بنایا ہے روکتے ہیں خواہ وہاں کے رہنے والے ہوں یا باہر سے آنے والے اور جو اس میں شرارت سے کجروی (وکفر) کرنا چاہے اس کو ہم درد دینے والے عذاب کا مزا چکھائیں گے

(22:25) جعلنہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب المسجد الحرام کے لئے ہے۔ سواء برابر۔ اسم مصدر ہے بمعنی استواء یعنی دونوں طرف سے بالکل برابر ہونا۔ اس کا تثنیہ وجمع نہیں آتا ہے۔ سوائ۔ جعلنہ کی ضمیر ہ سے (ضمیر مفعول) سے حال ہے، جسے ہم نے بنایا سب لوگوں کے لئے برابر۔ العاکف فیہ۔ خواہ عاکف اس میں والباد۔ خواہ باہر سے آنے والا ہو۔ العاکف۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ رہنے والا۔ باشندہ۔ متوطن، مجاور۔ لگ بیٹھنے والا جم کر بیٹھنے والا۔ عکوف مصدر۔ جس کے معنی ہیں تعظیما کسی پر متوجہ ہونا اور اس سے وابستہ رہنا۔ شریعت کی اصطلاح میں اعتکاف کے معنی ہیں عبادت کی نیت سے مسجد میں رہنا اور اس سے باہر نہ نکلنا۔ قرآن مجید میں ہے وانتم عکفون فی المسجد (2:81) جب تم مسجدوں میں اعتکاف بیٹھے ہو۔ اور یعکفون علی اصنام لہم (7:138) یہ اپنے بتوں کی عبادت کے لئے بیٹھے رہتے تھے۔ عکف یعکف جب علی کے ساتھ آئے تو اس کے معنی ہوتے ہیں کسی چیز کی طرف اس طرھ لگ کر بیٹھ جانا کہ پھر اس کی طرف سے منہ ہی نہ موڑے۔ البادبادیہ نشین۔ باہر سے آنے والا۔ بداوۃ مصدر جس کے معنی صحرا میں اقامت اختیار کرنے کے ہیں اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر فائدہ :۔ ان الذین کفروا کی خبر محذوف ہے تقدیر کلام یوں ہے ان الذین کفروا ویصدون عن سبیل اللہ نذقہم من عذاب الیم۔ جیسا کہ اگلی آیا سے عیاں ہے۔ ومن یرد فیہ بالحاد بظلم نذقہ من عذاب الیم۔ من یرد۔ جو کوئی بھی ارادہ کرے گا۔ یرد مضارع مجزوم واحد مذکر غائب ارادۃ مصدر (افعال) سے۔ چاہے۔ ارادہ کرے یا ارادہ کرتا ہے یا کرے گا۔ نیز ملاحظہ ہو (22:18) ۔ فیہ ای فی المسجد الحرام۔ الحاد۔ کج روی۔ بروزن (افعال) مصدر ہے۔ اللحد اس گڑھے یا شگاف کو کہتے ہیں جو قبر کی ایک جانب بنایا جاتا ہے۔ لحد القبر والحدہ قبر میں لحد بنانا اور لحد المیت میت کو لحد میں اتارنا۔ الحد فلان فلاں حق سے پھر گیا۔ ملحد حق سے پھرنے والا۔ الحاد دو قسم پر ہے (1) ایک ذات الٰہی کے ساتھ کسی کو شریک کرنا یہ الھاد ایمان کے منافی ہے اور انسان کے عقیدہ وایمان کو باطل کردیتا ہے۔ (2) اسب اس میں شرک کر کے الحاد کرنا۔ اس سے سرے ایمان باطل نہیں ہوتا لیکن اس کے عروہ (حلقہ) کو کمزور کردیتا ہے چناچہ آیت ہذا ومن یرد فیہ بالحاد بظلم نذقہ من عذاب الیم۔ اور جو اس میں شرارت سے کج روی وکفر کرنا چاہے اس کو ہم درد دینے والے عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔ اور الذین یلحدون فی اسمائہ (7:180) جو لوگ اس کے ناموں کے وصف میں کج روی اختیار کرتے ہیں۔ ہر دو میں دوسری قسم کا الحاد مراد ہے ۔ اسماء الٰہی میں الحاد کی بھی دو صورتیں ہیں۔ (الف) ایک یہ کہ باری تعالیٰ کو ان اوصاف کے ساتھ متصف کرنا جو شان الوہیت کے منافی ہوں۔ (ب) دوم یہ کہ صفات الٰہی کی ایسی تاویل کرنا جو اس کی شان کے زیبا نہ ہو۔ ملتحد (مصدر میمی یا التحاد سے اسم ظرف) بمعنی پناہ گاہ ہے۔ اور التحد السھم عن الھدف۔ بمعنی تیر نشانے سے ایک جانب ہوگیا۔ یعنی نشانے سے ہٹ گیا۔ بظلم ای بغیر حق۔ ناحق۔ نذقہ۔ مضارع مجزوم (ملاحظہ ہو 22:18) جمع متکلم ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ ہم اس کو چکھائیں گے۔ ومن یرد فیہ بالھاد بظلم نذقہ من عذاب الیم اور جو کوئی بھی اس (مسجد حرام کے) اندر ناحق بےدینی وکج روی کا ارادہ کرے گا ہم اس کو دردناک عذاب (کا مزہ) چکھائیں گے۔
Ayah 22:26

وَ اِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰهِیْمَ مَكَانَ الْبَیْتِ اَنْ لَّا تُشْرِكْ بِیْ شَیْئًا وَّ طَهِّرْ بَیْتِیَ لِلطَّآئِفِیْنَ وَ الْقَآئِمِیْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ Open ayah 22:26 in the Quran reader

جب ہم نے ابراہیم کے لئے خانہ کعبہ کو مقام مقرر کیا (اور ارشاد فرمایا) کہ میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کیجئیو اور طواف کرنے والوں اور قیام کرنے والوں اور رکوع کرنے والوں (اور) سجدہ کرنے والوں کے لئے میرے گھر کو صاف رکھا کرو

(22:26) واذ۔ واذکر حین۔ اور یاد کر جب۔ بوانا۔ ماضی جمع متکلم۔ تبویۃ (تفعیل) سے ہم نے جگہ دی۔ ہم نے مناسب مقام تیار کیا۔ ہم نے مناسب مقام کا تعین کیا۔ جیسے کہ تبوی المؤمنین مقاعد للقتال (3:121) تاکہ مؤمنوں کو لڑائی کے لئے مناسب مورچوں پر متعین کرے۔ البواء (مادہ ب و ع) کے اصل معنی کسی جگہ کے اجزاء کا مساوی (ساز گار۔ موافق) ہونے کے ہیں۔ لہٰذا مکان بواء کے معنی ہیں وہ مقام جو اس جگہ پر اترنے والے کے لئے سازگار و موافق ہو۔ بوأت لہ مکانا۔ میں نے اس کے لئے جگہ کو ہموار اور درست کیا واذ بوانالابراہیم مکان البیت اور یاد کرو وہ وقت جب کہ ہم نے (حضرت) ابراہیم کے لئے بیت اللہ (کی تعمیر کے لئے ) جگہ مقرر کردی بعض نے اسے باء یبوء بواء سے لیا ہے۔ یعنی لوٹنا۔ چناچہ مدارک التنزیل میں ہے۔ جعلنا لابراہیم مکان البیت مباء ۃ ای مرجعا یرجع الیہ للعمارۃ والعبادۃ۔ اور روح المعانی میں ہے۔ جعلنا مکان البیت مباء ۃ لجدہم ابراہیم (علیہ السلام) ای مرجعا یرجع الیہ للعمارۃ والعبادۃ۔ یعنی ہم نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے بیت اللہ کو مباء ۃومرجع (یعنی بار بار لوٹ آنے کی جگہ) بنادیا۔ کیونکہ اس کی تعمیر کے لئے عبادت کے لئے وہ بار بار وہاں آتے تھے۔ الزجاج نے لکھا ہے کہ ۔ المعنی بینا لہ مکان البیت لیبنیہ ویکون مباء ۃ لہ ولعقبہ یرجعون الیہ ویحجونہ۔ لیکن قرآن مجید میں اکثر اول الذکر معنی میں ہی بوا کا استعمال ہوا ہے مثلاً آیت شریف (3:121) متذکرہ بالا۔ یا جیسے کہ والذین امنوا عملوا الصلحت لنبؤنہم من الجنۃ غرفا (29:58) اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے انہین ہم جنت کے بالا خانوں میں ٹھہرائیں گے۔ یا جگہ دیں گے) یا والذین ھاجروا فی اللہ من بعد ما ظلموا لنبوئنہم فی الدنیا حسنۃ (16:41) جن لوگوں نے اللہ کے واسطے ہجرت کی بعد اس کے کہ ان پر ظلم ہوچکا تھا ہم ان کو دنیا میں بہت اچھا ٹھکانہ دیں گے۔ عمرو بن معدی کرب کا شعر ہے :۔ کم من اخ لی ماجد ۔ بواتہ بیدی لحدا کتنے ہی میرے شریف و بزرگ بھائی تھے۔ کہ میں نے ان کو اپنے ہاتھوں سے لحد میں اتارا ان لا تشرک بی۔ میں ان مفسرہ ہے اور اس فعل کے بعد آتا ہے جو قول کے معنی پر مشتمل ہو۔ خواہ لفظا ہو۔ جیسے فاوحینا الیہ ان اصنع الفلک باعیننا (23:27) پھر ہم نے اس کو حکم بھیجا کہ کشتی بنا۔ خواہ دلالت معنوی ہو جیسے وانطلق الملا منہم ان امشوا (38:6) اور ان میں سے کئی پنچ چل کھڑے ہوئے کہ چلو (یعنی اٹھ کر چلنے کا مطلب گویا یہ کہنا ہے کہ تم بھی چلو۔ یہاں اس آیت میں قلنا لہ۔ مقدر ہے۔ گویا تقدیر کلام ہے : واذ بوانا لابراہیم مکان البیت قلنا لہ ان لا تشرک بی شیئا۔۔ اس کو حکم دیا کہ میرے ساتھ شریک نہ کرنا۔ طھر۔ فعل امر واحد مذکر حاضر۔ تطھیر (تفعیل) مصدر۔ تو پاک رکھ۔ ای من الشرک والاوثان والاقذار۔ یعنی شرک سے ۔ بتوں سے اور گندگی سے اسے پاک رکھو۔ طائفین۔ طائف کی جمع ۔ طواف کرنے والے۔ قائمین۔ قیام کرنے والے۔ قائم کی جمع رکع۔ رکوع کرنے والے۔ راکع کی جمع۔ السجود۔ سجدہ کرنے والے۔ ساجد کی جمع۔
Ayah 22:27

وَ اَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَاْتُوْكَ رِجَالًا وَّ عَلٰى كُلِّ ضَامِرٍ یَّاْتِیْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍۙ Open ayah 22:27 in the Quran reader

اور لوگوں میں حج کے لئے ندا کردو کہ تمہاری طرف پیدل اور دبلے دبلے اونٹوں پر جو دور (دراز) راستوں سے چلے آتے ہوں (سوار ہو کر) چلے آئیں

(22:27) اذن۔ فعل امر واحد مذکر حاضر۔ تو پکار ۔ تو اعلان کر۔ تاذین (تفعیل) سے۔ الاذان ای الاعلام والاعلان۔ یاتوک۔ مضارع مجزوم (بوجہ جواب امر) جمع مذکر غائب ک واحد مذکر حاضر۔ وہ تیرے پاس آئیں گے۔ (یعنی اس گھر کی طرف آئیں گے جسے تو نے تعمیر کیا ہے یعنی بیت الحرام ۔ رجالا۔ پائوں چلتے ہوئے۔ پائوں پیادہ۔ راجل کی جمع ہے جیسے راکب کی جمع رکاب۔ رجل سے مشتق ہے جس کے معنی پائوں کے ہیں۔ اسی مناسبت سے پائوں پیادہ کو راجل کہتے ہیں۔ یاتوک سے موضع حال میں ہے لہٰذا منصوب ہے۔ ضامر۔ اسم فاعل واحد مذکر ۔ دبلا۔ جس کی کمر پتلی ہو اور پیٹ بیٹھ گیا ہو۔ ضمور سے یہاں مراد سواری کا وہ جانور (اونٹ یا گھوڑا) جو دیر تک یا دور تک سواری دینے کے سبب دبلا ہوگیا ہو۔ مذکر ومؤنث دونوں کے لئے مستعمل ہے۔ یاتین۔ مضارع جمع مؤنث غائب۔ وہ آئیں گی۔ ضامر کی صفت میں ہے یعنی جو دور دراز شاہراہوں سے آرہی ہوں گی (یاتین من کل فج عمیق) ۔ فج۔ الفج دو پہاڑوں کے درمیان کشادگی کو کہتے ہیں۔ اس کے بعد وسیع راستہ کے معنی استعمال ہونے لگا۔ اس کی جمع فجاج ہے۔ قرآن مجید میں ہے فیھا فجاجا سبلا (21:31) اس میں کشادہ راستے۔ عمیق۔ عمق سے بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے العمق کے معنی نیچے کی طرف دوری یعنی گہرائی کے ہیں۔ اس لئے بہت گہرے کنویں کو بئر عمیق کہتے ہیں۔ راستہ کی صفت ہو تو اس کے معنی دور دراز کے لئے جاتے ہیں۔
Ayah 22:28

لِّیَشْهَدُوْا مَنَافِعَ لَهُمْ وَ یَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ فِیْۤ اَیَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِ١ۚ فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْبَآئِسَ الْفَقِیْرَ٘ Open ayah 22:28 in the Quran reader

تاکہ اپنے فائدے کے کاموں کے لئے حاضر ہوں اور (قربانی کے) ایام معلوم میں چہار پایاں مویشی (کے ذبح کے وقت) جو خدا نے ان کو دیے ہیں ان پر خدا کا نام لیں اس میں سے تم بھی کھاؤ اور فقیر درماندہ کو بھی کھلاؤ

(22:28) لیشھدوا۔ لام تعلیل کا ہے۔ یشھدوا مضارع منصوب بوجہ عمل لام جمع مذکر غائب۔ تاکہ وہ حاضر آویں۔ بمعنی حاصل کریں۔ یہ یا تو اذن سے متعلق ہے یا یاتوک سے۔ منافع لہم۔ اپنے فائدے۔ دینی۔ رضوان اللہ۔ دنیوی : ذبائح کے گوشت پوست سے حاصل کردہ فائدے اور تجارت (جیسا کہ (2:198) میں ہے لیس علیکم جناح ان تبتغوا فضلا من ربکم۔ تمہیں اس باب میں کوئی مضائقہ نہیں کہ تم اپنے پروردگار کے ہاں سے تلاش معاش کرو۔ یذکروا۔ مضارع منصوب اس کا عطف فعل منصوب ہے یشھدوا پر ہے۔ تاکہ نام لیویں۔ تاکہ ذکر کریں۔ ایام معلومت۔ اس سے مراد قربانی کی تاریخیں ہیں یعنی 10 ۔ 11 ۔ 12 ۔ ذوالحجہ۔ اور بعض کے نزدیک جملہ ایام تشریق ایام معلومات ہیں۔ یعنی 10 ۔ 11 ۔ 12 ۔ 13 ۔ ذوالحجہ۔ حضرت امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک ذوالحجہ کا پہلا سارا عشرہ ہی ایام معلومات ہے۔ بھیمۃ۔ چوپایہ جانور۔ عرف عام میں درند اور پرند کے علاوہ باقی جانوروں کو بھی بہیمہ کہا جاتا ہے البھمۃ کے معنی ٹھوس چٹان کے ہیں اور تشبیہ کے طور پر بہادر آدمی کو بہمہ کہا جاتا ہے۔ نیز ہر وہ حسی یا عقلی چیز جس کا عقل اور حواس سے ادراک نہ ہو سکے اسے مبہم کہتے ہیں۔ سیاہ رات کو لیل بھیم (فعیل بمعنی مفعل ای مبہم) کہتے ہیں کیونکہ تاریکی کے باعث اس کا معاملہ بھی مبہم ہوتا ہے۔ الانعام۔ مویشی۔ بھیڑ۔ بکری۔ گائے۔ بھینس۔ اونٹ۔ مویشی کو اس وقت تک انعام نہیں کہا جاسکتا جب تک ان میں اونٹ داخل نہ ہوں۔ مجازا یہ لفظ ان کے لئے علیحدہ علیحدہ بھی بول سکتے ہیں۔ انعام نعم کی جمع ہے۔ یذکروا۔ فعل ہے اسم اللہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول۔ فی ایام معلومت ظرف زمان۔ علی ما رزقہم متعلق فعل۔ من بھیمۃ الانعام تعریف ہے ما رزقہم کی۔ تاکہ ایام معلومات میں گائے بکری بھینس ۔ بھیڑ۔ اونٹ جیسے چوپایوں کو جنہیں اس نے ان کو بطور (حلال) رزق کے عطا کیا ہے (نحر یعنی ذبح کرتے وقت) وہ اللہ کا نام لیویں ۔ کلوا۔ فعل امر جمع مذکرحاضر۔ تم کھائو۔ مفسرین نے تصریح کی ہے کہ یہاں صیغہ امر استحبابی ہے فرضیت کے مفہوم میں نہیں۔ اطعموا۔ فعل امر جمع۔ مذکر حاضر۔ تم کھلائو۔ البائس۔ بھوکا۔ بےحال والا۔ مصیبت زدہ۔ بؤس سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر یہاں بحالت مفعول آیا ہے۔ الفقیر۔ فقر سے بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے محتاج ۔ ضرورت مند۔ اس کی جمع فقراء ہے۔
Ayah 22:29

ثُمَّ لْیَقْضُوْا تَفَثَهُمْ وَ لْیُوْفُوْا نُذُوْرَهُمْ وَ لْیَطَّوَّفُوْا بِالْبَیْتِ الْعَتِیْقِ Open ayah 22:29 in the Quran reader

پھر چاہے کہ لوگ اپنا میل کچیل دور کریں اور نذریں پوری کریں اور خانہ قدیم (یعنی بیت اللہ) کا طواف کریں

(22:29) اس کا عطف یذکروا پر ہے۔ ثم۔ پھر۔ یعنی جب تم جانور کی قربانی سے فارغ ہو چکو۔ لیقضوا۔ فعل امر جمع مذکر غائب تو انہین چاہیے کہ دور کریں۔ القضاء کے معنی قولا یا عملا کسی کام کا فیصلہ کردینا۔ قضاء قولی وعملی میں سے ہر ایک کی دو قسمیں ہیں ۔ (1) قضاء الٰہی ۔ (2) قضاء بشری۔ (1) قضاء الٰہی قضاء قولی کی مثال۔ وقضی ربک ان لا تعبدوا ایاہ (17:23) پھر دو دن میں سات آسمان بنا دئیے۔ (2) (1) قضاء بشری۔ قولی کی مثال۔ قضی الحاکم بکذاحاکم نے فلاں فیصلہ کیا (کیونکہ حاکم ہمیشہ زبان کے ساتھ فیصلہ دیتا ہے (2) قضاء بشری کی عملی کی مثال : فاذا قضیتم مناسککم (2:200) پھر جب تم حج کے تمام ارکان پورے کر چکو۔ آیت ہذا میں قضاء بشری عملی کی مثال ہے ۔ ثم لیقضوا تفثہم میں تفثہم کا مضاف محذوف ہے عبارت یوں ہے۔ ثم لیقضوا ازالۃ تفثہم۔ پھر انہیں چاہیے کہ اپنی میل کچیل پوری طرح دور کریں۔ تفثہم۔ مضاف، مضاف الیہ ۔ ان کا میل کچیل۔ تفث کے اصل معنی اس غبار اور میل کچیل کے ہیں جو سفر میں آدمی پر چڑھ جاتا ہے لیکن حج کے بیان میں اس سے مراد احرام کھولنا حجامت بنانا۔ نہانا وغیرہ کے ہیں وہ پابندیاں جو کہ احرام کی حالت میں عائد کی گئی تھیں جن سے بدن پر میل کچیل آجانا ایک قدرتی امر ہے۔ لیوفوا۔ فعل امر جمع مذکر غائب ایفاء (افعال) مصدر سے۔ چاہیے کہ وہ پوری کریں۔ نذورہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کی نذریں۔ اپنی نذریں۔ اپنی منتیں۔ ولیطوفوا۔ فعل امر۔ جمع مذکر غائب تطوف (تفعل) مصدر چاہیے کہ وہ طواف کریں (طواف زیارت یعنی طواف افاضہ کی طرف اشارہ ہے) ۔ عتیق۔ پرانا ۔ قدیم۔ دشمنوں سے محفوظ کہ اس پر کسی جابر کا قبضہ نہیں ہوا۔ عزت وشرف والا۔
Ayah 22:30

ذٰلِكَ١ۗ وَ مَنْ یُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللّٰهِ فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١ؕ وَ اُحِلَّتْ لَكُمُ الْاَنْعَامُ اِلَّا مَا یُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَ اجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِۙ Open ayah 22:30 in the Quran reader

یہ (ہمارا حکم ہے) اور جو شخص ادب کی چیزوں کی جو خدا نے مقرر کی ہیں عظمت رکھے تو یہ پروردگار کے نزدیک اسکے حق میں بہتر ہے اور تمہارے لئے مویشی حلال کردیے گئے ہیں سوا انکے جو تمہیں پڑھ کر سنائے جاتے ہیں تو بتوں کی پلیدی سے بچو اور جھوٹی بات سے اجتناب کرو

(22:30) ذلک۔ اس کی کئی صورتیں ہوسکتی ہیں۔ (1) یہ محل رفع میں ہے۔ مبتدا جس کی خبر محذوف ہے ای ذلک حکم اللہ وامرہ۔ (2) یہ خبر ہے جس کا مبتدا محذوف ہے۔ ای اللازم ذلک۔ اولواجب ذلک۔ (3) یہ مفعول ہے اور اس کا فعل محذوف ہے۔ اور تقدیر کلام یوں ہے۔ اتبعوا ذلک او احفظوا ذلک۔ اور ذلک کا اشارہ احکام متذکرہ بالا کی طرف ہے۔ من یعظم۔ من شرطیہ۔ یعظم مضارع مجزوم (بوجہ عمل من) واحد مذکر غائب تعظیم (تفعیل) مصدر۔ جو بڑا سمجھے گا۔ جو تعظیم کرے گا۔ ادب کرے گا۔ حرمت اللہ۔ مضاف مضاف الیہ حرمت۔ جمع ہے اس کا واحد حرمۃ اور حرمۃ اور حرمۃ ہے۔ حرم بھی جمع آئی ہے۔ الحرمۃ۔ ہر وہ باحرمت شے جس کی بےحرمتی ممنوع نہ ہو۔ الحرام وہ ہے جس سے روک دیا گیا ہو۔ منع کردیا گیا ہو۔ جس کی بےادبی وبحرمتی ممنوع ہو جیسے مسجد حرام وغیرہ۔ وہ مقدس وقابل تعظیم ہوئی۔ اور جس چیز کا استعمال یا اس کا کرنا ممنوع ہوا۔ جیسے مردے کا گوشت کھانا یا زنا کرنا۔ وہ ناپاک اور ناقابل نفرین ہوئی۔ حرمت اللہ۔ اللہ کی حرمتیں (جن کا ادب ضروری ہو) ۔ فھو۔ ھو ضمیر واحد مذکر غائب۔ ای التعظیم۔ احلت۔ ماضی مجہول۔ واحد مؤنث غائب۔ وہ حلال کردی گئی۔ (حرام کی ضد) احلال (افعال) مصدر۔ الا ما یتلی علیکم۔ سوائے ان (چوپایوں) کے جن کی حرمت کے متعلق تمہیں بتادیا گیا ہے۔ مثلاً حرمت علیکم المیتۃ والدم ولحم الخنزیر ومام اھل بہ لغیر اللہ بہ۔۔ الآیۃ (5:3) اور تم پر حرام کئے گئے ہیں۔ مردار اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جانور جو غیر اللہ کے لئے نامزد کردیا گیا ہو۔۔ الخ۔ فاجتنبوا۔ پس تم بچو، تم پرہیز کرو اجتناب مصدر سے۔ فعل امر جمع مذکر حاضر حاضر کا صیغہ ہے۔ الرجس۔ ناپاک، پلید۔ گندہ۔ عقوبت۔ عذاب۔ بلا۔ اس کی جمع ارجاس ہے۔ رجس کی چار صورتیں ہیں :۔ (1) طبعی۔ (2) عقلی۔ (3) شرعی۔ (4) ہر سہ کی رو سے۔ عقلی۔ مثلاً شرک۔ ولحم خنزیر۔ شرعی۔ جیسے جواوشراب۔ اور تینوں (طبعی۔ عقلی۔ شرعی) کا مجموعہ جیسے مردار۔ کہ اس سے انسان کو طبعاً بھی نفرت ہے اور عقلی وشرعی لحاظ سے بھی ناپاک ہے۔ الاوثان۔ وثن کی جمع۔ بت۔ مورتی۔ ہر وہ چیز جس کی خدا کے سوا پرستش کی جائے وہ وثن ہے۔ مثلاً بت۔ مورتی۔ پتھر۔ قبر۔ جھنڈا۔ وغیرہ اوثان ہیں جب ان کی پوجا کی جائے۔ الزور۔ سینہ کے بالائی حصہ کو کہتے ہیں۔ اور زرت فلانا کے معنی ہیں میں نے اپنا سیبہ اس کے سامنے کیا یعنی اس سے ملاقات کی۔ نیزالزور کے معنی سینہ کے ایک طرف جھکا ہونے کے بھی ہیں۔ اور آیت کریمہ تز اور عن کھفہم (18:17) کے معنی یہ ہیں کہ سورج ان کے غار سے ایک طرف کو ہٹ کر نکل جاتا ہے۔ الزور کو جھوٹ اس لئے کہتے ہیں کہ یہ حق سے ہٹ کر ہوتا ہے۔ قول الزور۔ جھوٹ کی بات۔
Ayah 22:31

حُنَفَآءَ لِلّٰهِ غَیْرَ مُشْرِكِیْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّیْرُ اَوْ تَهْوِیْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ مَكَانٍ سَحِیْقٍ Open ayah 22:31 in the Quran reader

صرف ایک خدا کے ہو کر اور اسکے ساتھ شریک نہ ٹھہرا کر اور جو شخص (کسی کو) خدا کے ساتھ شریک مقرر کرے تو وہ گویا ایسا ہے جیسے آسمان سے گرپڑے پھر اس کو پرندے اچک لے جائیں یا ہوا کسی دور جگہ اڑا کر پھینک دے

(22:31) حنفائ۔ حنیف کی جمع۔ جس کے معنی ہیں ایک طرف ہونے والا۔ حنف سے جس کے معنی گمراہی سے استقامت کی طرف مائل ہونے کے ہیں۔ بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے ۔ جو کوئی ایک راہ حق پکڑے اور سب باطل راہیں چھوڑ دے۔ وہ حنیف کہلاتا ہے حنفاء للہ اور غیر مشرکین بہ۔ دونوں احتنبوا سے حال ہیں اور تاکید کے لئے آئے ہیں۔ خر۔ ماضی واحد مذکر غائب خر سے (باب ضرب) وہ گرپڑا۔ قرآن مجید میں ہے یخرون للاذقان سجدا (17:107) وہ ٹھوڑیوں کے بل سجد میں گرپڑتے ہیں۔ فکانما خر من السمائ۔ ای صورۃ حال من یشرک باللہ کصورۃ حال من کر من السمائ۔ جو شخص اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتا ہے اس کی صورت حال اس شخص کی صورت حال کے مانند ہے جو آسمان سے گرپڑا ہو ! فتخفطہ۔ فا۔ پس۔ پھر۔ تخطف خطف سے (باب سمع) مضارع کا صیغہ واحد مؤنث غائب ہے۔ یہ باب سمع اور ضرب دونوں سے آتا ہے۔ لیکن قرآن مجید میں باب سمع سے آرہا ہے۔ مثلاً الا من خطف الخطفۃ (37:10) ہاں جو کوئی (فرشتوں کی بات کو) چوری سے جھپٹ لینا چاہتا ہے۔ اور یکاد البرق یخطف ابصارہم (2:20) قریب ہے کہ بجلی کی چمک ان کی آنکھوں کی بصارت کو اچک لے جائے) ۔ خطف کے معنی کسی چیز کو اچک لینا یا جلدی سے جھپٹ لینا کے ہیں۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب فعل خر کے فاعل کی طرف راجع ہے۔ صاحب ضیاء القرآن فتخطفہ الطیر کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :۔ جو بدبخت کسی کو کسی حیثیت سے خدا کا شریک ٹھہراتا ہے وہ تباہ و برباد ہو کر رہے گا۔ اس کی مثال یوں سمجھوگویا اس کو آسمان کی بےاندازہ بلندی سے نیچے پھینک دیا گیا ہو کیا ایسے شخص کے بچنے کا کوئی امکان ہے ہرگز نہیں۔ یا کوئی شکاری پرندہ اسے ہوا ہی میں دبوچ کر اپنا نوالہ بنا لے گا۔ ورنہ اتنی بلندی سے جب زمین پر گرے گا تو اس کی ہڈیاں چور چور ہوجائیں گی اور اس کا گوشت ریزہ ریزہ ہوجائے گا۔ دونوں صورتوں میں اس کی ہلاکت یقینی ہے۔ تھوی۔ ھوی سے (باب ضرب سے) مضارع کا صیغہ واحد مؤنث غائب ہے۔ جس کے معنی اوپر سے نیچے کی طرف گرنا۔ پھینک دینا کے ہیں۔ تھوی بہ الریح اس کو ہوا نیچے کو پھینک دیتی ہے یا گرا دیتی ہے اھواہ اس نے فضا میں لے جا کر اسے نیچے دے مارا اور قرآن مجید میں ہے والمؤتفکۃ اھوی (53:53) اور اس نے الٹی بستیوں کو دے پٹکا۔ اوپر سے نیچے کی طرف گرنے کی رعایت سے اس کو جھکنے اور مائل ہونے کے معنی میں بھی لیا گیا ہے مثلاً فاجعل افئدۃ من الناس تھوی الیہم (14:37) سو تو کچھ لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف مائل کر دے۔ سحیق۔ سحق سے بروزن فعیلبمعنی فاعل۔ دور۔ بعید ۔ دوسری جگہ قرآن مجید میں آیا ہے فسحقا الاصحب السعیر (47: 11) سو دوزخیوں کے لئے دوری ہے۔
Ayah 22:32

ذٰلِكَ١ۗ وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآئِرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوْبِ Open ayah 22:32 in the Quran reader

یہ (ہمارا حکم ہے) اور جو شخص ادب کی چیزوں کی جو خدا نے مقرر کی ہیں عظمت رکھے تو یہ (فعل) دلوں کی پرہیزگاری میں سے ہے

(22:32) ذلک۔ ای الذی ذکر من اجتناب الرجس وقول الزور۔ (ملاحظہ ہو 22:3) ۔ شعائر اللہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ اللہ کی نشانیاں ۔ اللہ کے نام کی چیزیں شعائر اللہ وہ چیزیں اور نشانات ہیں جو خدا کے نام سے نامزد ہیں۔ اور جن کی عظمت و احترام کا خدا نے حکم دیا ہے۔ شعائر شعیرۃ کی جمع ہے شعیرۃ بروزن فعیلۃ بمعنی مفعلۃ (یعنی مشعرۃ ) ہے اور مشعرۃ کے معنی نشانی کے ہیں۔ حضرت الامام شاہ ولی اللہ (رح) اپنی کتاب حجۃ اللہ البالغہ حصہ اول باب 7 (شعائر اللہ کی تعظیم و احترام) میں فرماتے ہیں :۔ ” شعائر الھیہ سے ہماری مراد وہ ظاہری و محسوس امور اور اشیاء ہیں جن کا تقرر اسی لئے ہوا ہے کہ ان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جائے۔ ان امورواشیاء کو خدا کی ذات سے ایسی مخصوص نسبت ہے کہ ان کی عظمت و حرمت کو لوگ خود اللہ تعالیٰ کی عظمت و حرمت سمجھتے ہیں۔ اور ان کے متعلق کسی قسم کی کوتاہی کو ذات الٰہی کے متعلق کوتاہی سمجھتے ہیں “۔ پھر آگے چل کر فرماتے ہیں :۔ بڑے بڑے شعار الٰہیہ چار ہیں ! قرآن حکیم۔ کعبۃ اللہ۔ نبی کریم ﷺ ۔ نماز۔ قرآن حکیم میں ہے :۔ ان الصفا والمروۃ من شعائر اللہ (2:158) بیشک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ اور والبدن جعلنھا لکم من شعائر اللہ (22:36) اور قربانی کے فربہ جانوروں کو ہم نے تمہارے لئے اللہ کی نشانیوں سے بنایا ہے۔ شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلوی (رح) اپنی تفسیر فتح العزیز میں۔ کعبہ، عرفہ، مزدلفہ جمار ثلاثہ، صفا، مروہ، منیٰ ، جمیع مساجد، ماہ رمضان، اشہر حرم، عید الفطر، عید النحر ایام تشریق۔ جمعہ، اذان، اقامت، نماز جماعت، نماز عیدین۔ سب کو شعائر اللہ میں سے گردانتے ہیں : فانھا۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع تعظیم شعائر اللہ ہے۔ تقوی القلوب۔ مضاف مضاف الیہ۔ دلوں کی پرہیزگاری۔ یعنی شعائر اللہ کی تعظیم دلوں کی پرہیزگاری والے افعال میں سے ہے۔
Ayah 22:33

لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ مَحِلُّهَاۤ اِلَى الْبَیْتِ الْعَتِیْقِ۠ Open ayah 22:33 in the Quran reader

ان میں ایک وقت مقرر تک تمہارے لئے فائدے ہیں پھر ان کو خانہ قدیم (یعنی بیت اللہ) تک پہنچنا (اور ذبح ہونا) ہے

(22:33) فیھا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع کیا ہے اس کے متعلق مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں :۔ (1) اس کا مرجع بھیمۃ الانعام (آیہ 28) ہے اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ ان جانوروں سے تم فائدہ اٹھا سکتے ہو ان کا دودھ پی سکتے ہو، ان پر سواری کرسکتے ہو، ان سے بچے لے سکتے ہو، ان کا گوشت کھا سکتے ہو۔ ان کی اون اور کھال سے نفع اٹھا سکتے ہو لیکن الی اجل مسمی ایک مقررہ وقت تک ۔ یعنی جب تم ان کو حرم شریف میں قربانی دینے کے لئے مقرر کردو تو پھر تم ان سے یہ منافع حاصل نہیں کرسکتے۔ لا یجوز رکوبھا ولا الحمل علیھا ولا شرط لبنھا الابضرورۃ (امام ابوحنیفہ) یعنی قربانی کے جانوروں پر سوار ہونا۔ بوجھ لادنا۔ اور ان کا دودھ پینا ۔ بجز اشد ضرورت کے جائز نہیں۔ (2) اس کا مرجع شعائر اللہ۔ اور حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ شعائر اللہ (آیت 32) سے مراد البدن والھدایا۔ قربانی اور بدی کے جانور ہیں۔ اور منافع سے مراد الرکوب عند الحاجۃ وشرب البانھا عند الضرورۃ ہے اور الی اجل مسمی سے مراد الی تنحر ان کے نحر ہوجانے تک ہے۔ (3) تیسری صورت یہ کہ شعائر اللہ سے مراد جملہ مناسک حج ومشاہد مکہ ہیں اور الی اجل مسمی سے مراد محلھا الی البیت یعنی تمہارے لئے ان مناسک کی ادائیگی کے دوران ثواب واجر ہے ایام حج کے ختم ہونے تک۔ جب بیت اللہ شریف میں طواف زیارت کے بعد تم احرام کھولتے ہو۔ ثم۔ پھر ۔ اس کے بعد (یعنی پہلی چیز کا دوسری چیز سے متاخر ہونا) عام طور پر الترا کی فی الرتبۃ کے لئے بھی بولا جاتا ہے ایسے موقع پر اس کے معنی ہوتے ہیں اس سے بھی بڑھ کر۔ چناچہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں :۔ فعار ثم عار ثم عار شقاء المرء من اکل الطعام شرم کی بات ہے بہت ہی شرم کی بات ہے۔ بہت ہی شرم کی بات ہے کہ آدمی کھانا کھا کر بیمار ہوجائے (بہ ترتیب سعودی) محلھا۔ مضاف مضاف الیہ۔ محل ظرف مکان۔ یا اسم ظرف زمان۔ قربانی کے جانور کی حلال ہونے کی جگہ۔ قربان گاہ ۔ ذبح کرنے کا مقام۔ حدود حرم۔ اس صورت میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع البدن والھدیا (قربانی کے جانور) ہوں گے۔ الخازن لکھتے ہیں :۔ محلھا ای محل الناس من احرامہم یعنی لوگوں کے احرام کھولنے کا موقع۔ الی۔ بمعنی عند۔ نزدیک۔ الی البیت العتیق سے مراد کل حرم ہے یعنی ذبح کی جگہ حدود حرم کے اندر ہے۔ ثم محلھا الی البیت العتیق۔ پھر ان کو ذبح کرنے کا مقام یا وقت بیت العتیق کے قریب ہے۔ اور یہ (ان بھیمۃ الانعام سے) فوائد کا نقطہ عرج ہے الی اجل مسمی تک ان کے دنیوی فوائد تھے۔ یعنی ان پر سواری کرنا۔ ان کا گوشت کھانا۔ ان کا دودھ پینا ان کی اون وغیرہ سے منافع حاصل کرنا۔ اور اب قربان گاہ پر آکر ان کے منافع کی انتہا ہے۔ ان کو قربان کر کے منافع دینی یعنی ثواب اخروی حاصل ہوتا ہے اور یہ دنیوی منافع سے عظیم تر ہے ۔ علامہ عبد اللہ یوسف علی نے ثم کا ترجمہ آخر کار۔ آخر میں۔ کیا ہے۔ یعنی البدن اور الھدایا کی تعظیم ومنفعت بیان کرنے کے بعد اب آخر کار ان کو قربان گاہ لا کر ذبح کر کے تکمیل مناسک کرتا ہے۔
Ayah 22:34

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِّیَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِ١ؕ فَاِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَلَهٗۤ اَسْلِمُوْا١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ Open ayah 22:34 in the Quran reader

اور ہم نے ہر ایک امت کے لئے قربانی کا طریق مقرر کردیا ہے تاکہ جو مویشی چارپائے خدا نے انکو دئیے ہیں (انکے ذبح کرنے کے وقت) ان پر خدا کا نام لیں سو تمہارا ایک ہی معبود ہے تو اسی کے فرمانبردار ہوجاؤ اور عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دو

(22:34) منسکا۔ النسک کے معنی عبادت کے ہیں اور ناسک عابد کو کہا جاتا ہے مگر یہ لفظ ارکان حج کے ادا کرنے ساتھ مخصوص ہوچکا ہے۔ منسکا بفتح سین مصدر میمی بمعنی قربانی کرنا۔ اور بکسر میم قربانی کی جگہ یا شریعت، عبادت کا طریقہ۔ آیت ہذا میں اس کا مطلب قربانی کرنا یا قربانی ہے۔ یعنی ہر امت کے لئے ہم نے ایک قربانی مقرر کردی ہے۔ آیت (22:67) ولکل امۃ جعلنا منسکا ہم نا سکوہ۔ ہر امت کے لئے ہم نے ایک شریعت مقرر کردی ہے جس کے مطابق وہ عبادت کرتے ہیں۔ لیذکروا۔ تاکہ وہ ذکر کریں۔ لام تعلیل کا ہے۔ یذکروا مضارع منصوب جمع مذکر غائب۔ اسلموا۔ سلام سے فعل امر جمع مذکر حاضر۔ تم حکم بردار ہو۔ تم تابعداری کرو۔ المخبتین۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ اخبات مصدر (باب افعال) ۔ عاجزی کرنے والے۔ خشوع کرنے والے۔ الخبت۔ نشیبی اور نرم زمین کو کہتے ہیں۔ اور اخبت الرجل کے معنی نشیبی یا نرم زمین کے قصد کرنے یا وہاں اترنے کے ہیں۔ دوسری جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ واخبتوا الی ربہم (11:23) اور انہوں نے اپنے پروردگار کے آگے عاجزی کی۔
Ayah 22:35

الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ الصّٰبِرِیْنَ عَلٰى مَاۤ اَصَابَهُمْ وَ الْمُقِیْمِی الصَّلٰوةِ١ۙ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 22:35 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں کہ جب خدا کا نام لیا جاتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور (جب) ان پر مصیبت پڑتی ہے تو صبر کرتے ہیں اور نماز آداب سے پڑھتے ہیں اور جو (مال) ہم نے انکو عطا فرمایا ہے اس میں سے (نیک کاموں میں) خرچ کرتے ہیں

(22:35) وجلت۔ ماضی واحد مؤنث غائب۔ وجل مصدر (باب سمع) (ان کے دل) ڈر جاتے ہیں۔ الوجل کے معنی دل ہی دل میں خوف محسوس کرنے کے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے قالوا لا تو جل (15:53) (مہمانوں نے کہا) ڈرئیے نہیں۔ (1) اذا ذکر اللہ وجلت قلوبہم۔ (2) والصبرین علی ما اصابہم۔ (3) والمقیمی الصلوۃ۔ (4) ومما رزقنہم ینفقون۔ یہ المخبتین کی صفات ہیں۔
Ayah 22:36

وَ الْبُدْنَ جَعَلْنٰهَا لَكُمْ مِّنْ شَعَآئِرِ اللّٰهِ لَكُمْ فِیْهَا خَیْرٌ١ۖۗ فَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهَا صَوَآفَّ١ۚ فَاِذَا وَجَبَتْ جُنُوْبُهَا فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَ الْمُعْتَرَّ١ؕ كَذٰلِكَ سَخَّرْنٰهَا لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 22:36 in the Quran reader

اور قربانی کے اونٹوں کو بھی ہم نے تمہارے لئے شعائر خدا مقرر کیا ہے ان میں تمہارے لئے فائدے ہیں تو (قربانی کرنے کے وقت) قطار باندھ کر ان پر خدا کا نام لو جب پہلو کے بل گرپڑیں تو ان میں سے کھاؤ اور قناعت سے بیٹھ رہنے والوں اور سوال کرنے والوں کو بھی کھلاؤ اس طرح ہم نے ان کو تمہارے زیر فرمان کردیا ہے تاکہ تم شکر کرو

(22:36) البدن۔ البدن جمع ہے جس کا واحد بدنہ ہے جس طرح ثمر اور ثمر ثمرۃ کی جمع ہے یہ بدانۃ سے ماخوذ ہے جس کا معنی موٹا تازہ ہونا ہے اس کا اطلاق صرف اونٹ پر ہوتا ہے یا گائے پر بھی۔ اس میں علما کا اختلاف ہے لیکن یہاں جو ذبح کا طریقہ بیان ہو رہا ہے وہ اونٹ کے ساتھ مخصوص ہے اس لئے یہاں بدن سے مراد اونٹ ہی ہے۔ صواف۔ صف سے ماخوذ ہے اسم فاعل جمع مؤنث کا صیغہ ہے۔ اس کا واحد صافۃ ہے یہاں صواف بمعنی مصفوفۃ (اسم مفعول) ہے۔ یعنی ایک قطار میں کی ہوئیں۔ بعض نے بمعنی مصفۃ (اسم فاعل) یعنی قطار باندھنے والیاں بیاں کیا ہے۔ قاموس میں ہے۔ صافۃ وہ اونٹ جس کا بایاں ہاتھ باندھ دیا جائے۔ اور وہ اپنے دونوں پائوں پر اور دائیں ہاتھ کے سہارے کھڑا ہو۔ (اونٹ کو نحر کرنے کا طریقہ یہی منقول ہے) ۔ صواف۔ حال ہے علیھا کی ضمیر واحد مؤنث غائب ھا سے۔ وجبت۔ ماضی واحد مؤنث غائب وجبۃ مصدر (باب ضرب) (جب وہ) گرپڑیں وجب الحائط۔ دیوار گر پڑی۔ جنوبہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کے پہلو۔ جنب کی جمع۔ فاذا وجبت جنوبھا۔ ای فاذا وقعت علی الارض جب وہ زمین پر پہلو کے بل گرپڑیں (بعد از نحر) ۔ القانع۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ قناعت کرنے والا۔ وہ فقیر جو گھر میں بیٹھا رہے اور کسی کے آگے دست سوال دراز نہ کرے۔ الجالس فی بیتہ المتعفف یقنع بما یعطی ولا یسئل۔ المعتر۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ اصل میں معترر تھا۔ اعترار (افتعال) مصدر سے عر مادہ۔ مانگنے کے درپے۔ بھیک مانگنے کے لئے سامنے آنے والا۔ سائل ۔ سخرنھا۔ ماجی جمع متکلم ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب ضمیر کامرجع البدن ہے (اونٹ جن کا ذکر اوپر ہوا ہے ) ۔
Ayah 22:37

لَنْ یَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَ لَا دِمَآؤُهَا وَ لٰكِنْ یَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 22:37 in the Quran reader

خدا تک نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون بلکہ اس تک تمہاری پرہیزگاری پہنچتی ہے اسی طرح خدا نے ان کو تمہارا مسخر کردیا ہے تاکہ اس بات کے بدلے کہ اس نے تم کو ہدایت بخشی ہے اسے بزرگی سے یاد کرو اور (اے پیغمبر) نیکو کاروں کو خوشخبری سنا دو

(22:37) لن ینال۔ مضارع منفی تاکید بلن۔ ہرگز نہیں پہنچتا۔ دماؤھا۔ مضاف مضاف الیہ۔ دماء مصدر دم کی جمع ہے ان کے خون ۔ کذلک۔ اس طرح۔ (جیسا کہ اوپر بیان ہوا ہے خاص کر کہ اونٹ کو کس طرح کھڑا کر کے نحر کیا جائے۔ لتکبروا اللہ۔ لام تعلیل کا ہے۔ تکبروا مضارع جمع مذکر حاضر۔ تکبیر (تفعیل) مصدر۔ تاکہ تم اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرو۔ یعنی اس کا شکر ادا کرتے ہوئے اور حمد بیان کرتے ہوئے اس کو بزرگی سے یاد کرو۔ علی ما ھدکم۔ اس بارے میں جس میں اس نے تمہاری راہنمائی کی ہے۔ یعنی اس کو تسخیر کرنے کے متعلق اور اس سے فوائد دنیوی اور دینی حاصل کرنے کے متعلق جو طریقے اس نے بتائے ہیں۔ ارشدکم الی طریق تسخیرھا وکیفیۃ التقرب بھا۔
Ayah 22:38

اِنَّ اللّٰهَ یُدٰفِعُ عَنِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُوْرٍ۠ Open ayah 22:38 in the Quran reader

خدا تو مومنوں سے انکے دشمنوں کو ہٹاتارہتا ہے۔ بیشک خدا کسی خیانت کرنے والے اور کفران نعمت کرنے والے کو دوست نہیں رکھتا

(22:37) یدافع۔ دافع یدافع مدافعۃ (باب مفاعلۃ) الدفع دفع کرنا ہٹا دینا۔ جب اس کا تعدیہ الی کے ساتھ ہو تو اس کے معنی دے دینے اور حوالہ کردینے کے ہیں مثلاً فادفعوا الیہم اموالہم (4:6) تو ان کا مال ان کے حوالے کر دو ۔ اور جب اس کا تعدیہ عن کے ساتھ آئے تو اس کے معنی مدافعت کرنا۔ حمایت کرنا کے ہیں۔ مثلاً آیت ہذا۔ یہاں باب مفاعلہ سے آیا ہے۔ جس میں باہم مقابلہ کا مفہوم پایا جاتا ہے یعنی کافر مسلمانوں کو اذیت پہنچانا چاہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کے مقابل پر ان کی مدافعت کرتا ہے۔ ان اللہ یدافع عن الذین امنوا۔ خدا مؤمنوں سے (ان کے دشمنوں کو) ہٹاتا رہتا ہے یا دشمنوں کے مقابلہ میں مومنوں کی حمایت کرتا رہتا ہے۔ خوان۔ اسم فاعل خیانۃ سے مبالغہ کا صیغہ ہے بہت خیانت کرنے والا۔ بڑا دغا باز۔ خائن خیانت کرنے والا۔ کفور۔ کافر ۔ فعول کے وزن پر مبالغہ کا صیغہ ہے ۔ سخت منکر ۔ بڑا احسان فراموش۔