22. Surah Al-Hajj

الحجThe Pilgrimage · 78 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 22:1

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ١ۚ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَیْءٌ عَظِیْمٌ Open ayah 22:1 in the Quran reader

لوگو ! اپنے پروردگار سے ڈرو کہ قیامت کا زلزلہ ایک حادثہ عظیم ہوگا

(1) یہ خطاب خاص وعام دونوں طریقوں پر ہوتا ہے باقی اس مقام پر عام ہے کہ اے لوگو اپنے رب سے ڈرو اور اس کی اطاعت کرو کیوں کہ قیامت کا زلزلہ ایک بڑی خوفناک چیز ہوگی۔
Ayah 22:2

یَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِیْدٌ Open ayah 22:2 in the Quran reader

(اے مخاطب) جس دن تو اس کو دیکھے گا (اس دن یہ حال ہوگا کہ) تمام دودھ پلانے والی عورتیں اپنے بچوں کو بھول جائیں گی اور تمام حمل والیوں کے حمل گرپڑیں گے اور لوگ تجھ کو متوالے نظر آئیں گے مگر وہ متوالے نہیں ہوں گے بلکہ (عذاب دیکھ کر) مدہوش ہو رہے ہوں گے بیشک خدا کا عذاب بڑا سخت ہے

(2) جس روز نفخہ اولی کے وقت تم لوگ اس زلزلہ کو دیکھو گے تو اس روز یہ حال ہوگا کہ تمام دودھ پلانے والیاں ہیبت کے مارے اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائیں گی اور تمام حمل والیاں اپنے پیٹ کے بچوں کو ایام پورا ہونے سے پہلے ہی ڈال دیں گی ، اور اے مخاطب تجھ کو لوگ نشہ کی سی حالت میں دکھائی دیں گے حالانکہ وہ کسی نشہ آور چیز کی وجہ سے نشہ میں نہ ہوں گے لیکن اللہ کا عذاب ہے ہی سخت چیز جس کے خوف کی وجہ سے لوگوں کی حالت نشہ والوں کی سی ہوجائے گی ،
Ayah 22:3

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ یَتَّبِعُ كُلَّ شَیْطٰنٍ مَّرِیْدٍۙ Open ayah 22:3 in the Quran reader

اور بعض لوگ ایسے ہیں جو خدا (کی شان) میں علم (و دانش) کے بغیر جھگڑتے ہیں اور ہر شیطان سرکش پیروی کرتے ہیں

(3) اور بعض آدمی ایسے ہیں یعنی نضر بن حارث جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں بغیر جانے بوجھے اور بغیر کسی حجت و دلیل کے جھگڑا کرتے ہیں اور ہر ملعون شیطان کے پیچھے ہو لیتے ہیں۔ شان نزول : (آیت) ”ومن الناس من یجادل“۔ (الخ) ابن ابی حاتم ؒ نے ابومالک ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت نضر بن حارث کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
Ayah 22:4

كُتِبَ عَلَیْهِ اَنَّهٗ مَنْ تَوَلَّاهُ فَاَنَّهٗ یُضِلُّهٗ وَ یَهْدِیْهِ اِلٰى عَذَابِ السَّعِیْرِ Open ayah 22:4 in the Quran reader

جس کے بارے میں لکھ دیا گیا ہے کہ جو اسے دوست رکھے گا تو وہ اسے گمراہ کر دے گا اور دوزخ کے عذاب کا راستہ دکھائے گا

(4) جس شیطان کے بارے میں یہ فیصلہ کیا جا چکا ہے کہ جو اس کا اتباع کرے گا تو اس کا کام ہی یہ ہے کہ وہ اس کو راہ حق سے بےراہ کر دے گا اور اس کو راہ حق سے بےراہ کر دے گا اور اس کا عذاب دوزخ کا راستہ بتلا دے گا یعنی ایسی باتیں اس سے کروائے گا، جس سے دوزخ واجب ہوجائے۔
Ayah 22:5

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَاِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ وَّ غَیْرِ مُخَلَّقَةٍ لِّنُبَیِّنَ لَكُمْ١ؕ وَ نُقِرُّ فِی الْاَرْحَامِ مَا نَشَآءُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤا اَشُدَّكُمْ١ۚ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰى وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلٰۤى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَیْلَا یَعْلَمَ مِنْۢ بَعْدِ عِلْمٍ شَیْئًا١ؕ وَ تَرَى الْاَرْضَ هَامِدَةً فَاِذَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَ رَبَتْ وَ اَنْۢبَتَتْ مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِیْجٍ Open ayah 22:5 in the Quran reader

لوگو ! اگر تم کو مرنے کے بعد جی اٹھنے میں کچھ شک ہو تو ہم نے تم کو (پہلی بار بھی تو) پیدا کیا تھا (یعنی ابتدا میں) مٹی سے پھر اس سے نطفہ بنا کر پھر اس سے خون کا لوتھڑا بنا کر پھر اس سے بوٹی بنا کر جس کی بناوٹ کامل بھی ہوتی ہے اور ناقص بھی تاکہ تم پر (اپنی خالقیت) ظاہر کردیں اور ہم جس کو چاہتے ہیں ایک معیاد مقرر تک پیٹ میں ٹھہرائے رکھتے ہیں پھر تم کو بچہ بنا کر نکالتے ہیں پھر تم جوانی کو پہنچتے ہو اور بعض (قبل از پیری) مرجاتے ہیں اور بعض (شیخ فانی ہوجاتے ہیں اور بڑھاپے کی) نہایت خراب عمر کی طرف لوٹائے جاتے ہیں کہ بہت کچھ جاننے کے بعد بالکل بےعلم ہوجاتے ہیں اور (اے دیکھنے والے) تو دیکھتا ہے (کہ ایک وقت میں) زمین خشک (پڑی ہوتی ہے) پھر جب ہم اس پر مینہ برساتے ہیں تو وہ شاداب ہوجاتی ہے اور ابھرنے لگتی ہے اور طرح طرح کی بارونق چیزیں اگاتی ہے

(5) اے مکہ والو ! اگر تم قیامت کے دن دوبارہ زندہ ہونے کے متعلق میں شک وشبہ میں ہو تو ذرا اپنی ابتداء آفرینش کے بارے میں غور کرلو، کیوں کہ ابتدا پیدا کرنے سے پھر تمہارا دوبارہ زندہ کرنا زیادہ مشکل نہیں کیوں کہ ہم نے پہلی بار تمہیں بواسطہ حضرت آدم ؑ مٹی سے بنایا، پھر اس کے بعد ہم نے تمہیں نطفہ سے بنایا اور پھر نطفہ کے بعد خون کے لوتھڑے سے پھر تازہ بوٹی سے جو کہ لوتھڑے میں سختی آنے کے بعد حاصل ہوتا ہے کہ اس بوٹی میں بعض کے پورے اعضا بنا دیتے ہیں اور بعض کو ناتمام ہی گرا دیتے ہیں تاکہ ہم قرآن کریم تمہاری ابتدائی پیدایش اور اس کی حقیقت کو ظاہر کردیں اور ہم رحم مادر میں جس نطفہ کو چاہتے ہیں گرنے سے ایک مدت تک ٹھہرائے رکھتے ہیں یا یہ کہ رحم مادر میں ہم جس بچہ کو چاہتے ہیں مہینوں کی ایک مدت معینہ یعنی وضع حمل تک ٹھہرائے رکھتے ہیں پھر اس مدت معینہ کے بعد ہم بچہ بنا کر ماں کے پیٹ سے باہر لاتے ہیں، تاکہ تم میں سے بعض اپنی بھری جوانی کی عمر کو پہنچ جائیں یعنی اٹھارہ سال سے لے کر تیس سال تک کے ہوجائیں اور تم میں بعض ایسے بھی ہوتے ہیں کہ بلوغت سے پہلے ہی ان کی روح قبض کرلی جاتی ہے۔ اور بعض تم میں وہ ہیں جو بڑھاپے کی عمر تک پہنچا دیے جاتے ہیں، یعنی زیادہ بڑھاپے کی حالت میں وہی سابقہ شیر خوار بچے کی حالت ہوجاتی ہے جس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ ایک چیز کی سمجھ اور اس سے باخبر ہوتے ہوئے پھر اسی چیز سے بےسمجھ اور بیخبر ہوجاتے ہیں۔ اور اے مخاطب ! تو زمین کو دیکھتا ہے کہ خشک ویران پڑی ہے پھر جب ہم اس پر پانی برساتے ہیں تو وہ سبزی کے ساتھ ابھرتی ہے یا ی کہ اس میں حرکت اور پانی سے ایک قسم کی تازگی پیدا ہوتی ہے اور سبزیوں کے ساتھ پھولتی ہے اور پانی کی وجہ سے ہر قسم کے خوش رنگ نباتات اگاتی ہے۔
Ayah 22:6

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّهٗ یُحْیِ الْمَوْتٰى وَ اَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌۙ Open ayah 22:6 in the Quran reader

ان قدرتوں سے ظاہر ہے کہ خدا ہی (قاد رمطلق ہے جو) برحق ہے اور یہ کہ وہ مردوں کو زندہ کردیتا ہے اور یہ کہ وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے

(6) یہ جو کچھ تمہاری حالت بدلنے پر اور زمین کی حالت کی تبدیلی سے قدرت خداوندی کا ظہور فرمایا یہ سب اس لیے کہ تاکہ تم اب جان لو اور اس بات کا اقرار کرلو کہ اللہ تعالیٰ ہی ہستی میں کامل ہے اور اسی کی عبادت برحق ہے اور وہ ہی جانوں میں جان ڈالتا ہے اور وہ ہی موت وحیات ہر چیز پر قادر ہے۔
Ayah 22:7

وَّ اَنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ لَّا رَیْبَ فِیْهَا١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ یَبْعَثُ مَنْ فِی الْقُبُوْرِ Open ayah 22:7 in the Quran reader

اور یہ کہ قیامت آنے والی ہے اس میں کچھ شک نہیں اور یہ کہ خدا سب لوگوں کو جو قبروں میں جلا اٹھائے گا

(7) اور یہ کہ قیامت آنے والی ہے اور اس کے آنے اور قائم ہونے میں ذرا بھی شبہ نہیں اور اللہ تعالیٰ قیامت میں جزا و سزا کے لیے قبروں میں پڑے لوگوں کو دوبارہ زندہ کرے گا۔
Ayah 22:8

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ لَا هُدًى وَّ لَا كِتٰبٍ مُّنِیْرٍۙ Open ayah 22:8 in the Quran reader

اور لوگوں میں کوئی ایسا بھی ہے جو خدا (کی شان) میں بغیر علم (و دانش) کے اور بغیر ہدایت کے اور بغیر کتاب روشن کے جھگڑتا ہے

(8) اور بعض آدمی ایسے ہوتے ہیں کہ دین الہی اور کتاب خداوندی میں بدون واقفیت علم ضروری بغیر دلیل اور بغیر کسی روشن کتاب کے اپنے گردن مٹکاتے ہوئے اور آیات خداوندی سے اعراض اور رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کو جھٹلاتے ہوئے جھگڑا کرتے ہیں۔
Ayah 22:9

ثَانِیَ عِطْفِهٖ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ لَهٗ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ نُذِیْقُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَذَابَ الْحَرِیْقِ Open ayah 22:9 in the Quran reader

(اور تکبر سے) گردن موڑ لیتا (ہے) تاکہ (لوگوں کو) خدا کے راستے سے گمراہ کر دے اس کے لئے دنیا میں ذلت ہے اور قیامت کے دن ہم اسے عذاب (آتش) سوزاں کا مزہ چکھائیں گے

(9) تاکہ دوسرے لوگوں کو دین الہی اور اطاعت خداوندی سے بےراہ کردیں ایسے شخص کے لیے دنیا میں رسوائی ہے یعنی بدر کے دن ذلیل ہو کر مارا جائے گا اور ہم قیامت کے دن جلتی ہوئی آگ کا عذاب یا سخت عذاب اس کو چکھائیں گے۔
Ayah 22:10

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ یَدٰكَ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۠ Open ayah 22:10 in the Quran reader

(اے سرکش) یہ اس (کفر) کی سزا ہے جو تیرے ہاتھوں نے آگے بھیجا تھا اور خدا اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں

(10) اور اس سے کہا جائے گا کہ بدر کے دن جو تو مارا گیا اور اب یہ سزا ملی یہ تیرے ہاتھ کے کیے ہوئے شرکیہ کاموں کا نتیجہ ہے ، (آیت) ”ومن الناس من یجادل فی اللہ“۔ سے لے کر یہاں تک یہ آیت نضر بن حارث کے متعلق نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ بغیر جرم و قصور کے اپنے بندوں کی گرفت کرنے والا نہیں۔
Ayah 22:11

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰى حَرْفٍ١ۚ فَاِنْ اَصَابَهٗ خَیْرُ اِ۟طْمَاَنَّ بِهٖ١ۚ وَ اِنْ اَصَابَتْهُ فِتْنَةُ اِ۟نْقَلَبَ عَلٰى وَجْهِهٖ١ۚ۫ خَسِرَ الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةَ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ Open ayah 22:11 in the Quran reader

اور لوگوں میں بعض ایسا بھی ہے جو کنارے پر (کھڑا ہو کر) خدا کی عبادت کرتا ہے اگر اسکو کوئی (دنیاوی) فائدہ پہنچے تو اس کے سبب مطمئن ہوجائے اور اگر کوئی آفت پڑے تو منہ کے بل لوٹ جائے (یعنی پھر کافر ہوجائے) اس نے دنیا میں بھی نقصان اٹھایا اور آخرت میں بھی یہی تو نقصان صریح ہے

(11) اور بعض آدمی اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طریقے سے کرتے ہیں جیسے کہ کسی چیز کے کنارے پر کھڑے ہوں اور شک میں ہوں اور کسی نعمت کے انتظار میں مبتلا ہوں، یہ آیت بنوحلاف اور منافقین بنی اسد وغطفان کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ پھر اگر اس کو کوئی دنیاوی فائدہ پہنچ گیا تو ظاہری طور پر رسول اکرم ﷺ کے دین سے رضا مندی کا اظہار کردیا اور اگر کسی قسم کی کوئی سختی آگئی تو اپنے سابقہ مشرکانہ دین کو اختیار کرلیا جس سے دنیا و آخرت دونوں کو کھو بیٹھا، دنیا کی ذات کو برباد کیا اور آخرت میں جنت ہاتھ سے چھوٹی، یہ دنیا وا آخرت کے برباد ہونے کا نقصان واضح نقصان کہلاتا ہے۔ شان نزول : ومن الناس من یعبد اللہ“۔ (الخ) امام بخاری ؒ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ایک آدمی مدینہ منورہ آکر اسلام قبول کرلیتا تھا پھر اگر اس کی بیوی کے لڑکا پیدا ہوجائے اور اس کی گھوڑ بچہ دے دے تب تو کہتا تھا تب تو کہتا تھا کہ یہ دین اچھا ہے اور اگر اس کی بیوی کے لڑکا نہ پیدا ہوا اور اس کی گھوڑی نے بچہ نہ دیا تو کہتا کہ یہ دین برا ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ بعض آدمی اللہ تعالیٰ کی عبادت ایسے طور پر کرتا ہے جیسے کوئی چیز کے کنارا پر کھڑا ہو۔ اور ابن مردویہ ؒ نے عطیہ ؒ کے ذریعے سے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہودیوں میں سے ایک شخص مشرف بااسلام ہوا، اسلام لاتے ہی اس کی بینائی مال و اولاد سب چیزیں جاتی رہیں، اس نے اسلام سے برا شگون لیا اور کہنے لگا میرے اس دین سے مجھے نعوذ باللہ کوئی بھلائی نہیں حاصل ہوئی، میری نظر اور مال جاتا رہا، میرا لڑکا مرگیا، اور پر آیت مبارکہ نازل ہوئی ،
Ayah 22:12

یَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَضُرُّهٗ وَ مَا لَا یَنْفَعُهٗ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُۚ Open ayah 22:12 in the Quran reader

یہ خدا کے سوا ایسی چیز کو پکارتا ہے جو نہ اسے نقصان پہنچائے اور نہ فائدہ دے سکے یہی تو پرلے درجے کی گمراہی ہے

(12) اور یہ بنو حلاف اللہ تعالیٰ کی عبادت کو چھوڑ کر ایسی چیز کی عبادت کرنے لگے، جو نہ ان کو عبادت نہ کرنے کی صورت میں نقصان پہنچا سکتی ہے اور نہ عبادت کرنے کی صورت میں نفع پہنچا سکتی ہے یہ بھی حق و ہدایت سے انتہاء درجہ کی گمراہی ہے۔
Ayah 22:13

یَدْعُوْا لَمَنْ ضَرُّهٗۤ اَقْرَبُ مِنْ نَّفْعِهٖ١ؕ لَبِئْسَ الْمَوْلٰى وَ لَبِئْسَ الْعَشِیْرُ Open ayah 22:13 in the Quran reader

(بلکہ) ایسے شخص کو پکارتا ہے جس کا نقصان فائدے سے زیادہ قریب ہے ایسا دوست بھی برا اور ایسا ہم صحبت بھی برا

(13) اور یہ بنو حلاف ایسی چیزوں کی عبادت کر رہے ہیں کہ ان کا نقصان بہ نسبت اس کے نفع کے بہت جلد واقع ہونے والا ہے ایسا کارساز بھی بہت برا ہے اور ایسا رفیق بھی برا یعنی جس معبود کی عبادت اس کے پرستش کرنے والے کے لیے نقصان و عذاب کا باعث ہو تو ایسا معبود بہت برا ہے۔
Ayah 22:14

اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ Open ayah 22:14 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے خدا انکو بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں چل رہی ہیں کچھ شک نہیں کہ خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے

(14) اور اللہ تعالیٰ تو ایسا منعم حقیقی ہے کہ جو لوگ رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لائے اور اچھے کام کیے اللہ تعالیٰ ان کو ایسے باغات میں داخل فرمائے گا جن کے درختوں اور محلات کے نیچے سے دودھ، شہد، شراب، اور پانی کی نہریں جاری ہوں گی اور اللہ تعالیٰ جو ارادہ کرتا ہے کر گزرتا ہے کہ جس کو چاہے بدبخت بنائے اور جس کو چاہے سعادت سے بہرہ مند فرمائے۔
Ayah 22:15

مَنْ كَانَ یَظُنُّ اَنْ لَّنْ یَّنْصُرَهُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ فَلْیَمْدُدْ بِسَبَبٍ اِلَى السَّمَآءِ ثُمَّ لْیَقْطَعْ فَلْیَنْظُرْ هَلْ یُذْهِبَنَّ كَیْدُهٗ مَا یَغِیْظُ Open ayah 22:15 in the Quran reader

جو شخص یہ گمان کرتا ہے کہ خدا اس کو دنیا اور آخرت میں مدد نہیں دے گا تو اس کو چاہیے کہ اوپر کی طرف (یعنی اپنے گھر کی چھت میں) ایک رسی باندھے پھر (اس سے اپنا) گلا گھونٹ لے پھر دیکھے کہ آیا یہ تدبیر اس کے غصے کو دور کردیتی ہے

(15) اور ان ہی لوگوں کے بارے میں اگلی آیت نازل ہوئی ہے کیوں کہ یہ کہا کرتے تھے کہ ہمیں اس بات کا ڈر ہے کہ نعوذ باللہ محمد ﷺ کی دنیا میں مدد نہیں کی جائے گی تو آپ کی پیروی کرنے سے ہمارے اور یہود کے درمیان جو تعلقات ہیں وہ ختم ہوجائیں گے، اس پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو شخص اس بات کا خیال رکھتا ہو کہ اللہ تعالیٰ رسول اکرم ﷺ کی غلبہ ونصرت و شوکت کے ساتھ دنیا وآخرت میں مدد نہیں فرمائے گا تو وہ ایک رسی اپنے مکان کی چھت میں باندھ کر اس سے اپنا گلا گھونٹ لے اور پھر اپنے متعلق غور کرے کہ اس کے اس فعل نے جو اس کو رسول اکرم ﷺ پر غصہ تھا اس کا تدارک کیا یا نہیں۔ اور اس آیت کی ایک اور طریقہ پر تفسیر کی گئی کہ جو شخص اس بات کا خیال رکھتا ہو کہ اللہ تعالیٰ رسول اکرم ﷺ کو دنیا میں رزق عطا کرکے اور آخرت میں ثواب دے کر مدد نہیں فرمائے گا تو وہ اپنے مکان کی چھت میں ایک رسی باندھ کر اپنا گلا گھونٹ لے اور اس رسی کو کاٹ ڈالے، اس کے بعد دیکھے کہ اس کا گلا گھٹنے لگے اس کو جو رسول اکرم ﷺ کے بارے میں غیظ وغضب تھا وہ ختم کیا یا اب بھی باقی ہے۔
Ayah 22:16

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یُّرِیْدُ Open ayah 22:16 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے اس قرآن کو اتارا ہے (جس کی تمام) باتیں کھلی ہوئی (ہیں) اور یہ (یاد رکھو) کہ جس کو خدا چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے

(16) اور ہم نے اسی طرح اس قرآن کریم کو بذریعہ جبریل امین نازل کیا ہے جس میں حلال و حرام کی واضح آیات ہیں اور جو شخص ہدایت کا اہل ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے اپنے دین کی طرف ہدایت کرتا ہے۔
Ayah 22:17

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الصّٰبِئِیْنَ وَ النَّصٰرٰى وَ الْمَجُوْسَ وَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا١ۖۗ اِنَّ اللّٰهَ یَفْصِلُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 22:17 in the Quran reader

جو لوگ مومن (یعنی مسلمان) ہیں اور جو یہودی ہیں اور ستارہ پرست اور عیسائی اور مجوسی اور مشرک خدا ان (سب) میں قیامت کے دن فیصلہ کر دے گا بیشک خدا ہر چیز سے باخبر ہے

(17) اس میں کوئی شک نہیں کہ جو لوگ رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لائے اور مدینہ منورہ کے یہودی اور صائبین جو نصاری کا ایک فرقہ ہے اور نجران کے عیسائی یعنی سید وعاقب اور سورج اور آگ کی پوجا کرنے والے اور مشرکین عرب اللہ تعالیٰ ان سب کے درمیان قیامت کے روز عملی فیصلہ فرما دے گا اللہ تعالیٰ ان کے اختلاف اور ان کے اعمال سے واقف ہے۔
Ayah 22:18

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یَسْجُدُ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ وَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ وَ النُّجُوْمُ وَ الْجِبَالُ وَ الشَّجَرُ وَ الدَّوَآبُّ وَ كَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ١ؕ وَ كَثِیْرٌ حَقَّ عَلَیْهِ الْعَذَابُ١ؕ وَ مَنْ یُّهِنِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّكْرِمٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُؕ۩ Open ayah 22:18 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو (مخلوق) آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور چار پائے اور بہت سے انسان خدا کو سجدہ کرتے ہیں اور بہت سے ایسے ہیں جن پر عذاب ثابت ہوچکا ہے اور جس شخص کو خدا ذلیل کرے اس کو کوئی عزت دینے والا نہیں بیشک خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے

(18) اے محمد ﷺ آپ کو قرآن کریم کے ذریعے اس عجیب بات کا علم نہیں ہوا کہ اللہ کے سامنے سب اپنی اپنی حالت کے مطابق عاجزی کرتے ہیں جو مخلوقات کہ آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں جیسا کہ مومنین اور سورج چاند اور ستارے پہاڑ اور درخت اور چوپائے (مگر انسان باوجود سب سے زیادہ عاقل ہونے کے ان میں سے) بہت سے تو فرمانبردار ہیں، ان کے لیے جنت ثابت ہوگئی، اور وہ مومنین ہیں اور بہت ایسے ہیں (کہ بوجہ تابعدار نہ ہونے کے ان پر دوزخ کے عذاب کا حق ثابت ہوگیا جیسا کہ کافر جس کو اللہ بدبختی میں مبتلا کر کے ذلیل و خوار کرے اس کو کوئی عزت دینے والا نہیں کہ اس کو سعادت دے دے۔ یا یہ کہ جسے اللہ تعالیٰ برائیوں کے ذریعے ذلیل کرے اسے مغفرت خداوندی کے بغیر کوئی عزت دینے والا نہیں اللہ تعالیٰ کو اختیار ہے جو چاہے سو کرے خواہ کسی کو اہل بدبختوں میں سے بنائے یا سعادت والوں میں سے اور خواہ کسی کو اہل معرفت میں سے کرے یا غیرمعرفت میں سے۔
Ayahs 22:19–21

هٰذٰنِ خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوْا فِیْ رَبِّهِمْ١٘ فَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِیَابٌ مِّنْ نَّارٍ١ؕ یُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِمُ الْحَمِیْمُۚ Open ayah 22:19 in the Quran reader

یہ دو (فریق) ایک دوسرے کے دشمن اپنے پروردگار (کے بارے) میں جھگڑتے ہیں تو جو کافر ہیں ان کے لئے آگ کے کپڑے قطع کئے جائیں گے (اور) ان کے سروں پر جلتا ہوا پانی ڈالا جائے گا

یُصْهَرُ بِهٖ مَا فِیْ بُطُوْنِهِمْ وَ الْجُلُوْدُؕ Open ayah 22:20 in the Quran reader

اس سے ان کے پیٹ میں اندر کی چیزیں اور کھالیں گل جائیں گی

وَ لَهُمْ مَّقَامِعُ مِنْ حَدِیْدٍ Open ayah 22:21 in the Quran reader

اور ان (کے مارنے ٹھونکنے) کے لئے لوہے کے ہتھوڑے ہوں گے

(19۔ 20۔ 21) یہ دو دین والے فرقے ہیں یعنی مسلمان اور یہود و نصاری جنہوں نے اپنے پروردگار کے دین کے بارے میں اختلاف کیا ان میں سے ہر ایک نے کہا کہ میں اللہ تعالیٰ اور اس کے دین سے زیادہ واقف ہوں چناچہ اللہ تعالیٰ نے انکے درمیان اس طرح فیصلہ فرما دیا کہ جو لوگ رسول اللہ ﷺ اور قرآن کریم کے منکر تھے یعنی یہود و نصاری ان کے لیے آگ کے کرتے اور جبے تیار کیے جائیں گے اور ان کے سر کے اوپر سے تیز کھولتا ہوا گرم پانی ڈالا جائے گا۔ اس سے ان کے پیٹ کی چربی اور کھال وغیرہ سب گھل جائے گی اور ان کے مارنے کے لیے لوہے کے گرم گزر ہوں گے۔ شان نزول : (آیت) ھذان خصمن“۔ (الخ) امام بخاری ؒ ومسلم ؒ نے حضرت ابوذر ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ آیت مبارکہ حضرت حمزہ ؓ ، عبیدہ ؓ علی بن ابی طالب ؓ اور عتبہ، شیبہ، ولید بن عتبہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اور امام حاکم ؒ نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا فرماتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ ہمارے بارے میں نازل ہوئی ہے غزوہ بدر میں ہم نے جو مبارزت کی، نیز امام حاکم ؒ نے دوسرے طریقے سے حضرت علی ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت مبارکہ ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے بدر کے دن جنگ کی یعنی حضرت حمزہ ؓ ، حضرت علی ؓ ، حضرت عبیدہ ؓ اور عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ولید بن عتبہ، اور ابن جریر ؒ نے عوفی کے واسطہ سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی ہے انہوں نے مسلمانوں سے کہا کہ ہم تم سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے قریب ہیں اور ہماری کتاب بھی مقدم ہے اور ہمارا نبی بھی تمہارے نبی سے مقدم ہے، مسلمانوں نے ان کے جواب میں کہا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے قرب کے زیادہ مستحق ہیں ہم رسول اکرم ﷺ پر اور تمہارے نبی پر اور اللہ تعالیٰ نے جو کتاب نازل کی ہے سب پر ایمان لائے ہیں۔
Ayah 22:22

كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَا مِنْ غَمٍّ اُعِیْدُوْا فِیْهَا١ۗ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ۠ Open ayah 22:22 in the Quran reader

جب وہ چاہیں گے کہ اس رنج (و تکلیف کی وجہ) سے دوزخ سے نکل جائیں تو پھر اسی میں لوٹا دیے جائیں گے اور (کہا جائے گا کہ) جلنے کے عذاب کا مزہ چکھتے رہو

(22) وہ لوگ جس وقت دوزخ کے عذاب سے گھبرا کر باہر نکلنا چاہیں گے تو پھر اسی دوزخ میں دھکیل دیے جائیں گے اور گرز مارے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا یہ سخت ترین جلنے کا عذاب جھیلتے رہو۔
Ayah 22:23

اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ لُؤْلُؤًا١ؕ وَ لِبَاسُهُمْ فِیْهَا حَرِیْرٌ Open ayah 22:23 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے خدا ان کو بہشتوں میں داخل کر دے گا جن کے تلے نہریں بہہ رہی ہیں وہاں ان کو سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور موتی اور وہاں ان کا لباس ریشمی ہوگا

(23) اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو کہ رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کیے ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے محلات اور درختوں کے نیچے سے ددودھ، شہد، پانی، اور شراب کی نہریں جاری ہوں گی، اور ان کو جنت میں سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے اور لباس ریشم کا ہوگا۔
Ayah 22:24

وَ هُدُوْۤا اِلَى الطَّیِّبِ مِنَ الْقَوْلِ١ۖۚ وَ هُدُوْۤا اِلٰى صِرَاطِ الْحَمِیْدِ Open ayah 22:24 in the Quran reader

اور انکو پاکیزہ کلام کی ہدایت کی گئی اور (خدائے) حمید کی راہ بتائی گئی

(24) ان کو دنیا میں کلمہ طیب یعنی ”لا الہ الا اللہ“۔ کی ہدایت ہوگئی تھی اور ان کو اس اللہ کے رستہ کی ہدایت ہوگئی تھی جو لائق حمد وستایش ہے یہ اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاری اور مسلمانوں کے درمیان ان کے اختلاف کے بارے میں فیصلہ فرمایا ہے۔
Ayah 22:25

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ الَّذِیْ جَعَلْنٰهُ لِلنَّاسِ سَوَآءَ اِ۟لْعَاكِفُ فِیْهِ وَ الْبَادِ١ؕ وَ مَنْ یُّرِدْ فِیْهِ بِاِلْحَادٍۭ بِظُلْمٍ نُّذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ۠ Open ayah 22:25 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہیں اور (لوگوں کو) خدا کے راستے سے اور مسجد محترم سے جسے ہم نے لوگوں کے لئے یکساں (عبادت گاہ) بنایا ہے روکتے ہیں خواہ وہاں کے رہنے والے ہوں یا باہر سے آنے والے اور جو اس میں شرارت سے کجروی (وکفر) کرنا چاہے اس کو ہم درد دینے والے عذاب کا مزا چکھائیں گے

(25) بیشک جن لوگوں نے رسول اکرم ﷺ اور قرآن حکیم کے ساتھ کفر کیا جیسا کہ حضرت ابو سفیان اور ان کے ساتھی (اس واقعہ تک حضرت ابوسفیان اسلام نہیں لائے تھے) اور لوگوں کو دین خداوندی اور اطاعت خداوندی سے روکتے ہیں اور مسجد حرام سے بھی روکتے ہیں جب کہ رسول اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام حدیبیہ کے سال عمرہ کے لیے تشریف لے جارہے تھے حالانکہ جس مقام کو ہم نے سب آدمیوں کے لیے حرم اور قبلہ بنایا ہے اس میں سب برابر ہیں اس حرم کے اندر رہنے والا بھی اور باہر سے آنے والا بھی اور جو شخص حرم میں کسی خلاف دین کام کی ظلم کے ساتھ ابتدا کرے گا تو ہم اسے دردناک عذاب دیں گے یعنی سخت ترین اس کو سزا دیں گے تاکہ اس کو پھر کسی پر ظلم کرنے کی جرأت نہ ہو، یہ آخری آیت عبداللہ بن انس بن حنظل کے بارے میں نازل ہوئی ہے اس نے مدینہ منورہ میں ایک انصاری کو جان بوجھ کر قتل کردیا اور پھر اسلام سے مرتد ہو کر مکہ مکرمہ میں جا کر پناہ حاصل کی، اس پر یہ آیت نازل ہوئی یعنی جو شخص قصدا قتل ظلم وشرک کا ارتکاب کر کے مکہ مکرمہ میں پناہ لے گا تو ہم اس کو درد ناک سزا دیں گے یعنی اسے کھانے پینے کو کچھ نہیں دیا جائے گا اور نہ کسی قسم کی پناہ دی جائے گی تاوقتیکہ حرم سے باہر سے نہ نکلے پھر اس پر دفعہ گرائی جائے گی۔ شان نزول : (آیت) ”ومن یرد فیہ“۔ (الخ) ابن ابی حاتم ؒ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ بن انیس کو دو افراد کے ساتھ بھیجا ایک ان میں مہاجر تھے، دوسرے انصاری چناچہ تینوں نے آپس میں نسب پر فخر کیا، عبداللہ بن انیس کو غصہ آیا اور اس نے انصاری کو قتل کردیا پھر اسلام سے مرتد ہو کر مکہ مکرمہ بھاگ گیا، اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 22:26

وَ اِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰهِیْمَ مَكَانَ الْبَیْتِ اَنْ لَّا تُشْرِكْ بِیْ شَیْئًا وَّ طَهِّرْ بَیْتِیَ لِلطَّآئِفِیْنَ وَ الْقَآئِمِیْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ Open ayah 22:26 in the Quran reader

جب ہم نے ابراہیم کے لئے خانہ کعبہ کو مقام مقرر کیا (اور ارشاد فرمایا) کہ میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کیجئیو اور طواف کرنے والوں اور قیام کرنے والوں اور رکوع کرنے والوں (اور) سجدہ کرنے والوں کے لئے میرے گھر کو صاف رکھا کرو

(26) اور ان لوگوں کے سامنے وہ واقعہ بھی بیان کیجیے جب کہ ہم نے حضرت ابراہیم ؑ کو خانہ کعبہ کی جگہ بتا دی یعنی ایک بادل بھیجا جو اس جگہ کے چاروں طرف رک گیا درمیان میں وحی کے ذریعے حضرت ابراہیم ؑ نے بیت اللہ کی تعمیر فرمائی اور ہم نے انکو حکم دیا کہ میرے ساتھ ان بتوں میں سے کسی کو شریک مت ٹھہرانا اور میری اس مسجد کو طواف کرنے والوں کے لیے اور تمام شہروں کے نمازیوں کے لیے نماز میں قیام و سجود و رکوع کرنے والوں کے لیے خواہ وہ کسی طرح کریں بتوں کی گندگی سے پاک رکھنا۔
Ayah 22:27

وَ اَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَاْتُوْكَ رِجَالًا وَّ عَلٰى كُلِّ ضَامِرٍ یَّاْتِیْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍۙ Open ayah 22:27 in the Quran reader

اور لوگوں میں حج کے لئے ندا کردو کہ تمہاری طرف پیدل اور دبلے دبلے اونٹوں پر جو دور (دراز) راستوں سے چلے آتے ہوں (سوار ہو کر) چلے آئیں

(27) اور اپنی اولاد میں حج کی فرضیت کا اعلان کر دو ، اس اعلان سے لوگ تمہارے پاس چلے آئیں گے، پیدل بھی اور جو اونٹنیاں سفر کی وجہ سے دبلی ہوگئی ہیں ان پر سوار ہو کر جو کہ دور دراز رستوں سے پہنچی ہوں گی۔ شان نزول : (آیت) ”وعلی کل ضامر“۔ (الخ) ابن جریر ؒ نے مجاہد ؒ سے روایت کیا ہے کہ حج کے زمانہ میں لوگ سواری پر سوار نہیں ہوتے تھے، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی یعنی لوگ تمہارے پاس چلے آئیں گے پیادہ بھی اور کمزور اونٹنیوں پر بھی سوار ہونے اور کرایہ پر سواری کرنے کی اجازت دی۔
Ayah 22:28

لِّیَشْهَدُوْا مَنَافِعَ لَهُمْ وَ یَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ فِیْۤ اَیَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِ١ۚ فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْبَآئِسَ الْفَقِیْرَ٘ Open ayah 22:28 in the Quran reader

تاکہ اپنے فائدے کے کاموں کے لئے حاضر ہوں اور (قربانی کے) ایام معلوم میں چہار پایاں مویشی (کے ذبح کے وقت) جو خدا نے ان کو دیے ہیں ان پر خدا کا نام لیں اس میں سے تم بھی کھاؤ اور فقیر درماندہ کو بھی کھلاؤ

(28) تاکہ اپنے فوائد اخروی اور دنیوی کے لیے حاضر ہوں، فوائد آخرت دعا اور اللہ کی عبادت اور فوائد دنیا نفع اور تجارت تاکہ ایام مقررہ یعنی ایام تشریق میں ان مخصوص قربانی کے جانوروں پر اللہ تعالیٰ کا نام لیں جو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو دیے ہیں اور قربانی کے جانوروں میں سے تم خود بھی کھایا کرو، اور مصیبت زدہ محتاج کو بھی کھلایا کرو۔
Ayah 22:29

ثُمَّ لْیَقْضُوْا تَفَثَهُمْ وَ لْیُوْفُوْا نُذُوْرَهُمْ وَ لْیَطَّوَّفُوْا بِالْبَیْتِ الْعَتِیْقِ Open ayah 22:29 in the Quran reader

پھر چاہے کہ لوگ اپنا میل کچیل دور کریں اور نذریں پوری کریں اور خانہ قدیم (یعنی بیت اللہ) کا طواف کریں

(29) پھر قربانی کے بعد لوگوں کو ارکان حج پورے کردینے چاہئیں یعنی سرمنڈوا ڈالیں اور ناخن اور لب بنوالیں اور رمی جمار کریں اور جو چیزیں انہوں نے اپنے اوپر واجب کرلی ہیں ان کو پورا کریں اور اس کے محفوظ گھر یعنی خانہ کعبہ کا ان ہی دنوں میں طواف کریں جو کہ فرض ہے اس گھر کو عتیق اس معنی کے اعتبار سے کہا کہ یہ ہر ایک ظالم و جابر کے ظلم سے آزاد ہے یا یہ کہ حضرت نوح کے زمانہ میں جو طوفان آیا تھا اس سے اللہ تعالیٰ نے اس کو محفوظ فرما لیا تھا یا یہ کہ (عتیق کے معنے قدیم کے ہیں) اور یہ سب سے پہلا گھر ہے یہ کہ جو اس کے گرد طواف کرتا ہے وہ گناہوں سے پاک وآزاد ہوجاتا ہے۔
Ayah 22:30

ذٰلِكَ١ۗ وَ مَنْ یُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللّٰهِ فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١ؕ وَ اُحِلَّتْ لَكُمُ الْاَنْعَامُ اِلَّا مَا یُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَ اجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِۙ Open ayah 22:30 in the Quran reader

یہ (ہمارا حکم ہے) اور جو شخص ادب کی چیزوں کی جو خدا نے مقرر کی ہیں عظمت رکھے تو یہ پروردگار کے نزدیک اسکے حق میں بہتر ہے اور تمہارے لئے مویشی حلال کردیے گئے ہیں سوا انکے جو تمہیں پڑھ کر سنائے جاتے ہیں تو بتوں کی پلیدی سے بچو اور جھوٹی بات سے اجتناب کرو

(30) یہ بات تو جو احکام مذکورہ اور واجبات کی ادائیگی کے بارے میں تھی ہوچکی، اب یہ کہ جو احکام حج کی توقیر کرے گا سو یہ اس کے حق میں اس کے رب کے نزدی ثواب کے اعتبار سے بہتر ہے اور ان مخصوص جانوروں کا ذبح کرنا اور ان کے گوشت کا کھانا تمہارے لیے حلال کردیا گیا، سوائے ان بعض جانوروں کے جن کی حرمت سورة مائدہ میں تمہیں بتا دی گئی ہے، جیسا کہ مردار، خون، سؤر کا گوشت کہ ان کا کھانا تمہارے لیے حرام ہے، لہذا تم شراب خوری اور بت پرستی کو بالکل قطعا چھوڑ دو ، اور علاوہ اس کے تم باطل اور جھوٹی بات کو بھی چھوڑ دو کیوں کہ کفار زمانہ جاہلیت میں اپنے حج کے تلبیہ میں یہ الفاظ کہا کرتے تھے، ”۔ لبیک اللہم لبیک لبیک لا شریک الا شریکا ھو لک تملکہ وما ملک“۔ اللہ تعالیٰ نے اس بےہودہ بات سے ان کو روک دیا خالص اللہ تعالیٰ کے لیے تلبیہ پڑھو اور خاص اسی کے لیے حج کرو۔
Ayah 22:31

حُنَفَآءَ لِلّٰهِ غَیْرَ مُشْرِكِیْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّیْرُ اَوْ تَهْوِیْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ مَكَانٍ سَحِیْقٍ Open ayah 22:31 in the Quran reader

صرف ایک خدا کے ہو کر اور اسکے ساتھ شریک نہ ٹھہرا کر اور جو شخص (کسی کو) خدا کے ساتھ شریک مقرر کرے تو وہ گویا ایسا ہے جیسے آسمان سے گرپڑے پھر اس کو پرندے اچک لے جائیں یا ہوا کسی دور جگہ اڑا کر پھینک دے

(31) اور حج وتلبیہ میں اس کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہراؤ کیوں کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتا ہے گویا کہ وہ آسمان سے گر پڑا پھر رستہ میں پرندے اس کی بوٹیاں نوچ کر جہاں چاہا سو لے گئے یا اس کو ہوا نے کسی دور دراز جگہ میں لے جا کر پھینک دیا۔
Ayah 22:32

ذٰلِكَ١ۗ وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآئِرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوْبِ Open ayah 22:32 in the Quran reader

یہ (ہمارا حکم ہے) اور جو شخص ادب کی چیزوں کی جو خدا نے مقرر کی ہیں عظمت رکھے تو یہ (فعل) دلوں کی پرہیزگاری میں سے ہے

(32) یہ بات بھی ہوچکی یعنی جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرے اس کے لیے تباہی اور دوری ہے اب یہ سنو کہ جو شخص مناسک حج کا پورا لحاظ کرے گا اور سب سے اچھی اور عمدہ قربانی کرے گا تو یہ عمدہ قربانی قلوب کی اور آدمی کے خلوص سے حاصل ہوگی۔
Ayah 22:33

لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ مَحِلُّهَاۤ اِلَى الْبَیْتِ الْعَتِیْقِ۠ Open ayah 22:33 in the Quran reader

ان میں ایک وقت مقرر تک تمہارے لئے فائدے ہیں پھر ان کو خانہ قدیم (یعنی بیت اللہ) تک پہنچنا (اور ذبح ہونا) ہے

(33) تمہیں ان جانوروں سے ان پر سواری کر کے اور ان کے دودھ سے فوائد حاصل کرنا جائز ہے جب تک کہ شرعی قاعدے سے تم ان کو قربانی کے لئے وقف نہ کردو اور پھر اس کے حلال ہونے کا موقع بیت عتیق کے قریب ہیں یعنی کل حرم کہ حج کی قربانی منی میں ذبح کی جائے گی۔
Ayah 22:34

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِّیَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِ١ؕ فَاِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَلَهٗۤ اَسْلِمُوْا١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ Open ayah 22:34 in the Quran reader

اور ہم نے ہر ایک امت کے لئے قربانی کا طریق مقرر کردیا ہے تاکہ جو مویشی چارپائے خدا نے انکو دئیے ہیں (انکے ذبح کرنے کے وقت) ان پر خدا کا نام لیں سو تمہارا ایک ہی معبود ہے تو اسی کے فرمانبردار ہوجاؤ اور عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دو

(34) اور ہم نے مسلمانوں میں ہر ایک کے لیے قربانی کرنا اور ان کے حج وعمرہ کے لیے قربانی کی جگہ اس لیے مقرر کی ہے تاکہ وہ ان حلال جانوروں پر اللہ تعالیٰ کا نام لیں جو اس نے ان کو عطا کیے ہیں۔ سو تمہارا معبود ایک ہی اللہ وحدہ لاشریک ہے سو مؤحد خالص بن کر اسی کی عبادت کرو۔
Ayah 22:35

الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ الصّٰبِرِیْنَ عَلٰى مَاۤ اَصَابَهُمْ وَ الْمُقِیْمِی الصَّلٰوةِ١ۙ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 22:35 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں کہ جب خدا کا نام لیا جاتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور (جب) ان پر مصیبت پڑتی ہے تو صبر کرتے ہیں اور نماز آداب سے پڑھتے ہیں اور جو (مال) ہم نے انکو عطا فرمایا ہے اس میں سے (نیک کاموں میں) خرچ کرتے ہیں

(35) اور آپ ایسے لوگوں کو جو خلوص کے ساتھ عبادت میں کوشش کرتے ہیں جنت کی خوشخبری سنا دیجیے کہ جب ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی حکم دیا جاتا ہے تو ان سے ڈر جاتے ہیں۔ اور مشقتوں اور مصیبتوں پر صبر کرنے والوں کو بھی جنت کی خوشخبری سنا دیجیے اور ایسے پانچوں نمازوں کے تمام ارکان وآداب وضو، سجود، رکوع، قیام اور اوقات کی پوری رعایت رکھنے والوں کو بھی جنت کی خوشخبری سنا دیجیے اور جو کچھ ہم نے ان لوگوں کو مال دیا ہے، اس میں سے صدقہ و خیرات کرتے اور اس کی زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔
Ayah 22:36

وَ الْبُدْنَ جَعَلْنٰهَا لَكُمْ مِّنْ شَعَآئِرِ اللّٰهِ لَكُمْ فِیْهَا خَیْرٌ١ۖۗ فَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهَا صَوَآفَّ١ۚ فَاِذَا وَجَبَتْ جُنُوْبُهَا فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَ الْمُعْتَرَّ١ؕ كَذٰلِكَ سَخَّرْنٰهَا لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 22:36 in the Quran reader

اور قربانی کے اونٹوں کو بھی ہم نے تمہارے لئے شعائر خدا مقرر کیا ہے ان میں تمہارے لئے فائدے ہیں تو (قربانی کرنے کے وقت) قطار باندھ کر ان پر خدا کا نام لو جب پہلو کے بل گرپڑیں تو ان میں سے کھاؤ اور قناعت سے بیٹھ رہنے والوں اور سوال کرنے والوں کو بھی کھلاؤ اس طرح ہم نے ان کو تمہارے زیر فرمان کردیا ہے تاکہ تم شکر کرو

(36) اور قربانی کے اونٹ اور گائے کو ہم نے تمہارے لیے مسخر کیا ہے اور یہ حج کے ارکان میں سے ہیں تاکہ تم ان کو ایام حج میں ذبح کرو، یہ قربانیاں تمہارے لیے باعث ثواب ہیں، سو تم ان کو تمام عیبوں سے درست کرکے ان کے ذبح کرنے کے وقت ان پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا کرو یا یہ کہ (اونٹ کا) بایاں پیر باندھ کر اور تین پیروں پر اس کو کھڑا کرکے اس کے ذبح کے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لیا کرو، اور پھر جب وہ ذبح ہونے کے بعد کسی کروٹ کے بل گر پڑیں تو تم ان قربانیوں میں سے خود بھی کھاؤ اور اس سے سوال کرنے والے کو بھی دو جو معمولی سی چیز پر قناعت کرجاتا ہے اور اس کو بھی دو جو تمہارے سامنے آجاتا ہے پر مانگتا نہیں، ہم نے ان جانوروں کو اس طرح جیسا کہ بیان کیا ہے تمہارے حکم کے تابع کردیا ہے تاکہ تم اللہ تعالیٰ کی اس نعمت اور اس اجازت کا شکر ادا کرو۔
Ayah 22:37

لَنْ یَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَ لَا دِمَآؤُهَا وَ لٰكِنْ یَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 22:37 in the Quran reader

خدا تک نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون بلکہ اس تک تمہاری پرہیزگاری پہنچتی ہے اسی طرح خدا نے ان کو تمہارا مسخر کردیا ہے تاکہ اس بات کے بدلے کہ اس نے تم کو ہدایت بخشی ہے اسے بزرگی سے یاد کرو اور (اے پیغمبر) نیکو کاروں کو خوشخبری سنا دو

(37) اللہ تعالیٰ کے پاس نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون زمانہ جاہلیت میں لوگ قربانی کے گوشت کو بیت اللہ کی دیواروں پر رکھ دیا کرتے تھے اور ان کے خون سے بیت اللہ کی دیواروں کو ملوث کردیا کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے اس چیز سے ان کو روک دیا کہ اللہ تعالیٰ خون اور گوشت کو قبول نہیں کرتا بلکہ وہ تمہارے پاکیزہ اور صاف اعمال کو قبول کرتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ان جانوروں کو تمہارے تابع کردیا ہے تاکہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرو کہ اس نے تمہیں اپنے دین اور سنت کی توفیق عطا فرمائی۔ شان نزول : (آیت) ”لن ینال اللہ لحومہا“۔ (الخ) ابن ابی حاتم ؒ نے ابن جریج ؒ سے روایت نقل کی ہے کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ بیت اللہ کو اونٹوں کے گوشت اور اس کے خون سے ملوث کردیا کرتے تھے تو صحابہ کرام ؓ یہ دیکھ کر کہنے لگے تو ہم اس چیز کے زیادہ مستحق ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، یعنی اللہ تعالیٰ کے پاس نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون۔
Ayah 22:38

اِنَّ اللّٰهَ یُدٰفِعُ عَنِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُوْرٍ۠ Open ayah 22:38 in the Quran reader

خدا تو مومنوں سے انکے دشمنوں کو ہٹاتارہتا ہے۔ بیشک خدا کسی خیانت کرنے والے اور کفران نعمت کرنے والے کو دوست نہیں رکھتا

(38) اور قول و فعل سے نیکی کرنے والوں کو جنت کی خوشخبری سنا دیجیے یا یہ کہ خلوص کے ساتھ قربانی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیجیے۔ یقینا اللہ تعالیٰ رسول اکرم ﷺ پر اور قرآن کریم پر ایمان رکھنے والوں سے ان کفار مکہ کے مظالم کو ہٹا دے گا بیشک اللہ تعالیٰ کسی دھوکے باز کفر کرنے والے کو نہیں چاہتا۔
Ayah 22:39

اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى نَصْرِهِمْ لَقَدِیْرُۙ Open ayah 22:39 in the Quran reader

جن مسلمانوں سے (خواہ مخواہ) لڑائی کی جاتی ہے ان کو اجازت ہے (کہ وہ بھی لڑیں) کیونکہ ان پر ظلم ہو رہا ہے اور خدا (انکی مدد کرے گا وہ) یقینا انکی مدد پر قادر ہے

(39) اب مسلمانوں کو کفار مکہ کے ساتھ لڑنے کی اجازت دے دی گئی جن سے لڑائی کی جاتی ہے اس وجہ سے کہ کفار مکہ نے ان پر بہت ظلم کیا ہے بیشک اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ان کے دشمنوں پر غالب کردینے پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ شان نزول : (آیت) ”اذن للذین یقتلون“۔ (الخ) امام احمد ؒ نے اور ترمذی ؒ نے تحسین ؒ اور امام حاکم ؒ نے تصحیح کے ساتھ ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اکرم ﷺ مکہ مکرمہ سے ہجرت کرکے چلے تو حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا ان لوگوں نے اپنے نبی کو نکال دیا تاکہ وہ ہلاک ہوں اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی یعنی اب لڑنے کی ان لوگوں کو اجازت دی گئی۔
Ayah 22:40

اِ۟لَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ بِغَیْرِ حَقٍّ اِلَّاۤ اَنْ یَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَ بِیَعٌ وَّ صَلَوٰتٌ وَّ مَسٰجِدُ یُذْكَرُ فِیْهَا اسْمُ اللّٰهِ كَثِیْرًا١ؕ وَ لَیَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 22:40 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں کہ اپنے گھروں سے ناحق نکال دئیے گئے (انہوں نے کچھ قصور نہیں کیا) ہاں یہ کہتے ہیں کہ ہمارا پروردگار خدا ہے اور اگر خدا لوگوں کو ایک دوسرے سے نہ ہٹاتا رہتا تو (راہبوں کے) صومعہ اور (عیسائیوں کے) گرجے اور یہودیوں کے عبادت خانے اور مسلمانوں کی مسجدیں جن میں خدا کا بہت سا ذکر کیا جاتا ہے ویران ہوچکی ہوتیں اور جو شخص خدا کی مدد کرتا ہے خدا اس کی ضرور مدد کرتا ہے بیشک خدا توانا اور غالب ہے

(40) جن کو کفار مکہ نے ان کے گھروں سے بےوجہ بغیر کسی جرم کے نکالا، محض اتنی بات پر کہ وہ یوں کہتے ہیں۔ ”لا الہ اللہ محمد الرسول اللہ“۔ اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کا ایک دوسرے سے زور نہ توڑتا رہتا تو نصاری کے خلوت خانے اور عبادت خانے اور یہود کے عبادت خانے اور مجوسیوں کے آتش کدے اور مسلمانوں کی وہ مسجدیں جس میں تکبیر وتہلیل کثرت سے کی جاتی ہے، سب منہدم ہوجاتیں کہ انبیاء کرام کی بدولت مسلمانوں سے اور مسلمانوں کی بدولت کافروں سے اور مجاہدین کی بدولت جہاد نہ کرنے والوں سے تکالیف کو دور کرایا، اللہ تعالیٰ دشمن کے مقابلہ میں اس شخص کی مدد کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے نبی کی مدد کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی مدد کرنے اور اس شخص کی مدد کرنے میں جو کہ اس کے نبی کی مدد کرے، بڑی طاقت والا اور اپنے نبی کے دشمنوں کو سزا دینے میں بڑا غالب ہے۔