Al-Hajj 22:10

Al-Hajj · from ayah 10

22:10

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ یَدٰكَ وَاَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ ۟۠ذٰ لِكَ بِمَا قَدَّمَتۡ يَدٰكَ وَاَنَّ اللّٰهَ لَـيۡسَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِيۡدِ

(اے سرکش) یہ اس (کفر) کی سزا ہے جو تیرے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے اور خدا اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

"That is for what your hands have put forth and because Allah is not ever unjust to [His] servants."

— Saheeh International

Juz 17 · Ruku 1 of surah · Ruku 8 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Hajj

All translations of 22:10

یہ ہے تیرا وہ مستقبل جو تیرے اپنے ہاتھوں نے تیرے لیے تیار کیا ہے ورنہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(اے سرکش) یہ اس (کفر) کی سزا ہے جو تیرے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے اور خدا اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ ان اعمال کی وجہ سے جو تیرے ہاتھوں نے آگے بھیج رکھے تھے۔ یقین مانو کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ﻇلم کرنے واﻻ نہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

(کہ) یہ سب کچھ تیرے اس کرتوت کا بدلہ ہے جو تو نے اپنے ہاتھوں سے آگے بھیجا تھا، اور یہ بات طے ہے کہ اللہ بندوں پر ظلم ڈھانے والا نہیں ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یہ اس کا بدلہ ہے جو تیرے ہاتھوں نے آگے بھیجا اور اللہ بندوں پر ظلم نہیں کرتا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یہ تیرے ان اعمال کے باعث ہے جو تیرے ہاتھ آگے بھیج چکے تھے اور بیشک اﷲ اپنے بندوں پر بالکل ظلم کرنے والا نہیں ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یہ اس کی وجہ سے ہے جو تیرے دونوں ہاتھوں نے آگے بھیجا اور (اس لیے) کہ بیشک اللہ ہرگز اپنے بندوں پر کچھ بھی ظلم کرنے والا نہیں ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(اور کہیں گے) یہ تیرے اپنے ہی اعمال کا بدلہ ہے جو تو نے آگے بھیجے تھے ورنہ اللہ اپنے بندوں پر کبھی ظلم نہیں کرتا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہ یہ ہے تیرے اپنے ہی ہاتھوں کی کرتوت اور اللہ اپنے بندوں پر ذرا بھی ظلم کرنے والا نہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ان کی مزید تذلیل کے لئے ان سے کہا جائے گا کہ یہ نتیجہ و بدلہ ہے تمہارے ان کاموں کا جو تم لوگوں نے خود اپنے ہاتھوں آگے بھیجے تھے اپنی آخرت کے لئے ورنہ اللہ کبھی ظلم نہیں کرتا اپنے بندوں پر

— مولانا اسحاق مدنی

کہ یہ تیرے ہی ہاتھ کے کرتوتوں کا بدلہ ہے اور یہ (ثابت ہی ہے) کہ اللہ بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اور اسے کہا جائے گا کہ) یہ سب کچھ تیرے اپنے ہاتھوں کے کرتوتوں کی وجہ سے ہے اور یہ کہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اے سرکش ! یہ اس کفر کی سزا ہے جو تیرے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے اور اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

That is the outcome of what your own hands have wrought, for Allah never wrongs His creatures.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(and will say to him) :All this is due to what your hands sent ahead, and that Allah is not unjust to His servants.

— Muhammad Taqi Usmani

(and will say to him) :All this is due to what your hands sent ahead, and that Allah is not unjust to His servants.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

That is because of what your hands have sent forth, and verily, Allah is not unjust to servants.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

(And unto him it will be said): This is for that which thy two hands have sent before, and because Allah is no oppressor of His slaves.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

"That is for what your hands have put forth and because Allah is not ever unjust to [His] servants."

— Saheeh International

(They will be told), "This is the result of what your hands have wrought. God is certainly not unjust to His servants."

— Muhammad Sarwar

This is due to what your two hands have sent before, and because Allah is not in the least unjust to the servants.

— Muhammad Habib Shakir

That is because of that which thy hands have sent forth, and verily Allah is not a wronger of His bondmen.

— Abdul Majid Daryabadi

(It will be said): "This is because of the deeds which thy hands sent forth, for verily Allah is not unjust to His servants.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 22:10

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 8–10

گمراہ جاہل مقلدلوگ چونکہ اوپر کی آیتوں میں گمراہ جاہل ملقدوں کا حال بیان فرمایا تھا یہاں ان کے مرشدوں اور پیروں کا حال بیان فرما رہے ہیں کہ وہ بےعقلی اور بےدلیلی سے صرف رائے قیاس اور خواہش نفسانی سے اللہ کے بارے میں کلام کرتے رہتے ہیں، حق سے اعراض کرتے ہیں، تکبر سے گردن پھیرلیتے ہیں، حق کو قبول کرنے سے بےپرواہی کے ساتھ انکار کرجاتے ہیں جیسے فرعونیوں نے حضرت موسیٰ ؑ کے کھلے معجزوں کو دیکھ کر بھی بےپرواہی کی اور نہ مانے۔ اور آیت میں ہے جب ان سے اللہ کی وحی کی تابعداری کو کہا جاتا ہے اور رسول اللہ کے فرمان کی طرف بلایا جاتا ہے تو تو دیکھے گا کہ اے رسول ﷺ یہ منافق تجھ سے دور چلے جایا کرتے ہیں۔…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 9–10

سورة الْحَجّ 14 پہلے ان لوگوں کا ذکر تھا جو خود گمراہ ہیں۔ اور اس آیت میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو خود ہی گمراہ نہیں ہیں بلکہ دوسروں کو بھی گمراہ کرنے پر تلے رہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–10

ثَانِيَ عِطْفِهٖ ، عطف کے معنے جانب اور کروٹ کے ہیں یعنی کروٹ موڑنے والا۔ اس سے مراد اس کا اعراض کرنا ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ذلک بما قدمت یدک وان اللہ لیس بظلام للعبید (10) زبان حال کی شہادت ہم قرآن کے اس اسلوب کی وضاحت جگہ جگہ کرتے آئے ہیں کہ جہاں مقصود صورت حال کی تعبیر ہو وہاں بالعموم قیل اور یقال وغیرہ حذف کردیئے جاتے ہیں۔ یہاں بھی یہی صورت حال ہے۔ یعنی زبان حال خود ان پر گواہی دے گی کہ یہ تمہاری اپنی ہی بوٹی ہوئی بس بھری فصل کا حاصل ہے جو تمہارے سامنے آیا ہے۔ خدا نے تمہارے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں کی ہے۔ جو بوئے گا وہی کاٹے گا وان اللہ لیس بظلام اللعبید اس اسلوب کی وضاحت بھی متعدد جگہ ہوچکی ہے کہ جب مبالغہ پر نفی آئے تو اس سے مقصود مبالغہ فی النفی ہوتا ہے۔ اس وجہ سے لیس بظلام کے معنی ہوں گے اللہ تعالیٰ بندوں پر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 10–11

11۔ 1 حرف کے معنی ہیں کنارہ۔ ان کناروں پر کھڑا ہونے والا، غیر مستقر ہوتا ہے یعنی اسے قرار و ثبات نہیں ہوتا۔ اسی طرح جو شخص دین کے بارے میں شک و تذبذب کا شکار رہتا ہے اس کا حال بھی یہی ہے، اسے دین پر استقامت نصیب نہیں ہوتی کیونکہ اس کی نیت صرف دنیاوی مفادات کی رہتی ہے، ملتے رہے تو ٹھیک ہے، بصورت دیگر وہ پھر دین آبائی یعنی کفر اور شرک کی طرف لوٹ جاتا ہے۔ اس کے برعکس جو سچے مسلمان ہوتے اور ایمان اور یقین سے سرشار ہوتے ہیں۔ بعض روایات میں یہ وصف نو مسلم اعرابیوں کا بیان کیا گیا ہے (فتح الباری، باب مذکور)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 8–11

7: آنحضرت ﷺ کے مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد کئی واقعات ایسے پیش آئے کہ کچھ لوگ اس لالچ میں اسلام لائے کہ اسلام کی وجہ سے انہیں دنیا میں کچھ فوائد حاصل ہوں گے ؛ لیکن جب ان کی توقع پوری نہیں ہوئی ؛ بلکہ کوئی آزمائش آگئی تو دوبارہ کفر کی طرف لوٹ گئے، یہ آیت ان کی طرف اشارہ کررہی ہے کہ یہ لوگ حق کو حق ہونے کی وجہ سے قبول نہیں کرتے ؛ بلکہ دنیا کے مفادات کی خاطر قبول کرتے ہیں، اور ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی جنگ میں اس نیت سے ایک کنارے کھڑا ہوگیا ہو کہ دونوں لشکروں میں سے جس کا پلہ بھاری نظر آئے گا اسکے ساتھ ہوجاؤں گا ؛ تاکہ کچھ مفادات حاصل کرسکوں، سبق یہ دیا گیا ہے کہ اسلام پر عمل اس لالچ…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 8–10

ومن الناس ……بظلام للحمید (10) ان دلائل کی موجودگی کے بعد بھی اللہ کے بارے میں کلام کرنا عجیب و غریب لگتا ہے اور نہایت ہی برا فعل ہے۔ نیز یہ جھگڑا جو لوگ کرتے ہیں وہ اہل علم ہی نہیں ہیں۔ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے۔ نہ اس میدان میں انہیں کوئی خصوصی معرفت ہے۔ نہ وہ ایسی کسی کتاب سے دلیل لائے ہیں جو عقل کو روشن کردیتی ہو۔ حق کی وضاحت کرتی ہو اور یقینی راہ بتلاتی ہو۔ یہاں ایسے لوگوں کی مخصوص تصویر کشی بھی کی جاتی ہے جنہوں نے غرور کی وجہ سے گردن اکڑائی ہوئی ہے۔ ثانی عطفہ (22 : 9) ” گردن اکڑائے ہوئے “۔ اور اس کی بات دلیل کے ساتھ نہیں ہوتی بلکہ وہ اکڑ کر بات کرتا ہے۔ درجہ متکبر ہوتا ہے۔ لیضل عن سبیل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی جب سزا دیں گے تو کہا جائے گا کہ خدا کی طرف سے کسی پر ظلم و زیادتی نہیں۔ تیرے ہاتھوں کی کرتوت ہے۔ جس کا مزہ آج چکھ رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 8–10

آیت 8 وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّلَا ہُدًی وَّلَا کِتٰبٍ مُّنِیْرٍ ” ایسے لوگ بغیر کسی علمی دلیل اور الہامی رہنمائی کے اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کے بارے میں بحث کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 9–10

9 اب شخص دراصل تین جرائم کا مرتکب ہوتا ہے ایک تو اس نے جہالت، تعصب اور ہٹ دھرمی کی بنا پر وحی الٰہی کا انکار کیا۔ جبکہ اس کے پاس نہ کوئی تجرباتی دلیل تھی، نہ عقلی اور نہ نقلی۔ دورے تکبر اور پندار نفس کا مظاہرہ کیا اور تیسرے اور لوگوں کو بھی راہ حق سے دور رکھنے کا سبب بنا۔ لہذا اس عذاب شدید سے بہتر واضح طور پر بتلا دیا جائے گا کہ یہ تمہارے اپنے ہی بھیجے ہوئے اعمال کا بدلہ ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کسی کو خواہ مخواہ عذاب دینے کا شوق نہیں اور نہ ہی کسی پر ظلم کرنا اللہ کے شایان شان ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–10

آیت نمبر 1 تا 10 ترجمہ : سب سے زیادہ مہربان بہت رحم والے اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں، اے مکہ وغیرہ کے لوگو اپنے رب یعنی اس کے عذاب سے ڈرو بایں طور کہ اس کی اطاعت کرو، بیشک قیامت کا زلزلہ یعنی زمین کی شدید حرکت جو کہ مغرب کی جانب سے طلوع شمس کے بعد ہوگی، اور وہ قرب قیامت ہوگا، لوگوں کو بےقرار کرنے (خوف زدہ کرنے) میں بڑی بھاری چیز ہوگی، وہ عذاب کی ایک قسم ہوگی، جس روز تم اس کو دیکھو گے اس (زلزلہ) کی وجہ سے بالفعل ہر دودھ پلانے والی عورت دودھ پیتے بچہ کو فراموش کر دے گی، یعنی بھول جائے گی، اور ہر حمل والی یعنی حاملہ اپنے حمل کو ساقط کر دے گی اور (اے مخاطب) تو لوگوں کو شدت خوف کی وجہ سے نشہ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ذلک بما قدمت یدک وان اللہ لیس بظلام للعبید۔ (اس سے کہا جائے گا) یہ تیرے ہاتھوں کے کئے ہوئے کاموں کا بدلہ ہے اور یہ بات ثابت ہے کہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔ یعنی قیامت کے دن جب ان کو عذاب دیا جائے گا تو ان سے کہا جائے گا کہ تم نے جو کفر و گناہ کیا تھا یہ تمہارے اسی کرتوت کی سزا ہے اور اللہ بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے یعنی انصاف کرنے والا ہے اور عدل کا تقاضا ہے کہ کفر و گناہ کی سزا دی جائے ظالم نہ ہونے سے بطور کنایہ یہ مراد ہے کہ عادل ہونا جیسے آیت لاَ یُحِبُّ اللّٰہُ الْجَہْرَ ۔۔ میں عدم محبت سے مراد ہے نفرت اور ناپسندیدگی۔ بخاری ‘ ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے حضرت ابن…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(10) اور اس سے کہا جائے گا کہ بدر کے دن جو تو مارا گیا اور اب یہ سزا ملی یہ تیرے ہاتھ کے کیے ہوئے شرکیہ کاموں کا نتیجہ ہے ، (آیت) ”ومن الناس من یجادل فی اللہ“۔ سے لے کر یہاں تک یہ آیت نضر بن حارث کے متعلق نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ بغیر جرم و قصور کے اپنے بندوں کی گرفت کرنے والا نہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاَنَّ اللّٰهَ لَيْسَ بِظَلَّامٍ لِّـلْعَبِيْدِ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة آل عمران (182) اور انفال (51) بعض اہل علم نے اس کی ایک اور توجیہ لکھی ہے کہ ”فَعَّالٌ“ کا وزن ہمیشہ مبالغہ کے لیے نہیں آتا، بلکہ بعض اوقات صرف نسبت کے لیے یعنی ”ذُوْ شَيْءٍ“ (کسی چیز والا) کے معنی میں بھی آتا ہے، جیسے ”سَمَّانٌ“ (گھی والا) ، ”قَطَّانٌ“ (روئی والا) ، ”حَدَّادٌ“ (لوہار) ، تَمَّارٌ (کھجوروں والا) ، مطلب یہ ہے کہ یہاں ”ظَلَّامٌ“ مبالغے کے لیے نہیں ہے، بلکہ مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ وہ ذات عالی ہے جس کی طرف ظلم کی نسبت بھی نہیں ہوسکتی۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ذٰلِکَ بِمَا قَدَّمَتْ یَدٰکَ (یہ تیرے ہاتھوں کے کئے ہوئے کاموں کا بدلہ ہے) دونوں جہان میں عذاب کا باعث وہی کفر و تکذیب ہے جس کو وہ آگے کما کر روانہ کرچکا اور الیدؔ سے اس کی تعبیر اس لئے فرمائی کیونکہ ہاتھ ہی آلہ الکسب ہے۔ وَ اَنَّ اللّٰہَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ (اور بیشک اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بالکل ظلم کرنے والے نہیں) بغیر گناہ کسی کو نہ پکڑیں گے اور کسی کے گناہ کے بدلے دوسرے کو نہ پکڑیں گے۔ اس کا عطف بماؔ پر ہے۔ ای وبِاَنَّ اللّٰہ۔ الظلام مبالغہ کا صیغہ لایا گیا کیونکہ اس کے ساتھ ملکر جمع کا لفظ عبید آرہا ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ اس کی طرف سے قلیل ظلم بھی گناہ کی قباحت اور…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 8–10

۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) وسلم روایت کیا کہ آیت بغیر علم ولا ھدی ولا کتاب منیر۔ یعنی ان ساری چیزوں سے مراد ایک ہی ہے کیونکہ کسی چیز کو زیادہ کہا جاتا ہے اگرچہ وہ ایک ہوتی ہے۔ 2۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) وسلم آیت ثانی عطفہ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ اعراض کرنے والا ہے تکبر کی وجہ سے اور وہ صرف دیکھتا ہے ایک جانب میں۔ 3۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) وسلم سے روایت کیا کہ آیت ثانی عطفہ کے بارے میں فرمایا کہ اپنے سر کو ٹیڑھا کرتے ہوئے منہ موڑتے ہوئے اعراض کرتے ہوئے وہ ارادہ نہیں کرتا سننے کا جو اس کو کہا گیا۔ 4۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ ذٰلِكَ : (اور ہم کہیں گے) یہ ] [ بِمَا : اس سبب سے ہے جو ] [ قَدَّمَتْ : آگے بھیجا ] [ يَدٰكَ : تیرے دونوں ہاتھوں نے ] [ وَان : اور یہ کہ ] [ اللّٰهَ : اللہ ] [ لَيْسَ بِظَلَّامٍ : ذرا بھی ظلم کرنے والا نہیں ہے ] [ لِـلْعَبِيْدِ : بندوں پر ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 8–10

معاندین کا متکبرانہ طرز عمل اور آخرت میں ان کا عذاب و رسوائی روح المعانی میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ یہ آیت ابو جہل کے بارے میں نازل ہوئی۔ بعض حضرات کا یہ قول بھی لکھا ہے کہ آیت کریمہ میں جس شخص کا ذکر ہے وہ اخنس بن شریق تھا اور بہت سے حضرات نے یوں فرمایا ہے کہ نضر بن حارث کے بارے میں نازل ہوئی۔ سبب نزول جو بھی ہو بہر حال آیت کا عموم ہر اس شخص کی مذمت اور دنیا و آخرت کی ذلت اور بد حالی کو شامل ہے جو اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں بےت کے سوال کرے اور اللہ کے بھیجے ہوئے دین کو قبول نہ کرے۔ نہ اس کے پاس علم ہے اور نہ اس کی عقل رہبر ہے اور نہ اس کے پاس کوئی کتاب ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کی طرف…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 3–10

اثبات حشر و نشر وابطال شبہات مجادلین و منکرین قیامت قال اللہ تعالیٰ ومن الناس من یجادل فی اللہ بغیر علم .... الیٰ .... وان اللہ لیس بظلام للعبید۔ (ربط) گزشتہ آیات میں تقویٰ کی تاکید اور قیامت کے بعض احوال اور اہوال کا ذکر فرمایا اب ان آیات میں اور لوگوں کی مذمت کرتے ہیں جو قیامت کے منکر ہیں اور قیامت اور قرآن کے بارے میں جہالت سے بغیر علم اور بغیر دلیل کے جھگڑا کرتے ہیں۔ بعد ازاں حشر و نشر کا اثبات اور منکرین قیامت کے شبہات کا ابطال فرماتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں اور لوگوں میں بعض ایسے بھی ہیں کہ جو اللہ کے بارے میں یعنی اس کی شان میں اور اس کی قدرت میں بدون کسی علم کے جھگڑتے ہیں یہ نصر بن حادث…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 9–10

17:۔ ” ثَانِيَ عِطْفِهٖ الخ “ یہ ” یُجَادِلُ “ کے فاعل سے حال ہے یعنی حق سے اعراض کرتے اور اللہ کے ذکر سے منہ موڑتے ہوئے وہ جھگڑا کرتا ہے ” لِیُضِلّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ “ یہ اس کے جدال کی غرض وغایت اور علت ہے۔ یعنی جدال سے اس کا مقصد لوگوں کو گمراہ کرنا ہے۔ متعلق یجادل علۃ لہ فان غرضہ من الجدال الاضلال عن سبیلہ تعالیٰ وان لم یعترف بانہ اضلال (روح ج 17 ص 122) ۔ 18:۔ ” لَهٗ فِی الدُّنْیَا خِزْيٌ الخ “ یہ تخویف دنیوی ہے۔ ” وَ نُذِیْقُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ الخ “ تخویف اخروی۔ ” ذٰلِکَ بِمَا قَدَّمَتْ الخ “ ای یقال لہ فی الاخرۃ اذا دخل النار (قرطبی ج 12 ص 16) جب آخرت میں وہ جہنم میں داخل ہوگا اس…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 8–17

ربط آیات : ابتدائے سورة میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے زلزلے اور اس کی ہولناکی کا ذکر کیا۔ اس وقت انسانوں پر ایک قسم کی مدہوشی طاری ہوگی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے قوع قیامت کے بارے میں دو دلائل بیان فرمائے۔ ایک دلیل خود انسان کی تخلیق سے تعلق رکھتی ہے جب کہ دوسری دلیل زمین کی روئیدگی کے متعلق ہے یہ دونوں دلیلیں قیامت کی آمد کا پتہ دیتی ہیں اور اس بات میں شک وشبہ کی کو گی گنجائش نہیں۔ اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ جو لوگ قبروں میں پڑے ہوئے ہیں۔ ان کو یقینا دوبارہ اٹھایا جائے گا۔ اور پھر حساب کتاب کی منزل آئے گی۔ جھگڑالو لوگ : اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے کافروں ، مشرکوں اور منافقوں کا رد فرمایا۔…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ يَدٰكَ وَاَنَّ اللہَ لَيْسَ بِظَلَّامٍ لِّـلْعَبِيْدِ۝ 10ۧ قدم وأكثر ما يستعمل القدیم باعتبار الزمان نحو : كَالْعُرْجُونِ الْقَدِيمِ [يس/ 39] ، وقوله : قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ [يونس/ 2] ، أي : سابقة فضیلة، وهو اسم مصدر، وقَدَّمْتُ كذا، قال : أَأَشْفَقْتُمْ أَنْ تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْواكُمْ صَدَقاتٍ [ المجادلة/ 13] ( ق د م ) القدم عموما القدیم کا لفظ قدم باعتبار زمانہ یعنی پرانی چیز کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : كَالْعُرْجُونِ الْقَدِيمِ [يس/ 39] کھجور کی پرانی شاخ کی طرح ۔ اور آیت کریمہ : قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ [يونس/ 2] ان کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 8–13

تفسیر : قیامت کے دلائل بیان کر کے پھر انہیں بےہودہ لوگوں کے جاہلانہ حجت و مجادلہ کا ذکر فرماتا ہے۔ قال و من الناس من یجادل فی اللہ بغیر علم ولاھدی ولا کتاب منیر۔ بعض کہتے ہیں پہلی آیت ومن الناس الخ نضربن حارث کے حق میں اور یہ ابوجہل کے حق میں نازل ہوئی۔ بعض کہتے ہیں دونوں جگہ نضر مراد ہے محض ذم کے مبالغہ کے لیے اس کا اعادہ کیا۔ انسان کسی مقصد پر جو حجت قائم کرتا ہے یا کوئی عقیدہ دل میں جماتا ہے۔ تو یا علم بالبد یہیات یا استدلال و نظر سے یا وحی والہام سے پھر جس کو یہ تینوں باتیں کسی بات کی طرف ہدایت نہ کریں اور وہ اس پر جھگڑے تو سخت نادان ہے بغیر علم میں بدیہیات ولا ھدی میں نظریات اور ولا کتاب…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ذٰلِکَ بِمَا قَدَّمَتْ یَدٰکَ وَاَنَّ اللّٰہَ لَیْسَ بِظَلاَّمٍ لِّلْعَبِیْدِ ۔ (الحج : 10) (اور اسے بتایا جائے گا کہ) یہ سزا ہے اس کی جو تیرے دونوں ہاتھوں نے آگے بھیجا، بلاشبہ اللہ تعالیٰ بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں۔ ) آخرت کا عذاب کرتوتوں کا نتیجہ ہے اس آیت کریمہ میں یہ تصور کارفرما ہے کہ آخرت میں ہر شخص کو جس صورتحال سے دوچار ہونا پڑے گا وہ اچانک پیدا نہیں ہوگی بلکہ وہ نتیجہ ہوگا ان اعمال اور کرتوتوں کا جو اس نے دنیا میں کیے ہوں گے۔ یہ دنیا ایک کھیتی ہے یہاں آدمی جو کچھ کرتا ہے وہ بیج کی مانند اس میں بویا جاتا ہے۔ بعض اعمال تو ایسے ہوتے ہیں جس کی فصل دنیا میں ہی لہلہانے لگتی ہے اور ان…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 9–10

کے ستر حصوں میں سے ایک ہے آپ سے عرض کیا گیا ‘ اے اللہ کے رسول ﷺ جلانے کو تو یہی آگ کافی تھی۔ آپ نے فرمایا دوزخ کی آگ کو دنیا کی آگ سے انہتر ڈگری بڑھا دیا گیا ہے۔ ہر ڈگری دنیا کی آگ کے برابر ہوگی۔ “ ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم ﷺ نے فرمایا دو صور پھونکنے کا عرصہ چالیس ہوگا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے ان کے شاگردوں نے پوچھا چالیس دن ؟ ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ میں یہ نہیں کہتا۔ انہوں نے استفسار کیا چالیس ماہ ؟ حضرت ابوہریرہ ؓ نے جواباً فرمایا میں یہ نہیں کہتا۔ انہوں نے پھر پوچھا چالیس سال ہیں ؟ ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں میں یہ بھی نہیں کہتا۔ یعنی ابوہریرہ ؓ بھول گئے کہ نبی ﷺ نے کتنی مدت…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

10: ذٰلِکَ بِمَا قَدَّمَتْ یَدٰکَ (یہ تیرے ہاتھوں کے کئے ہوئے کاموں کا بدلہ ہے) دونوں جہان میں عذاب کا باعث وہی کفر و تکذیب ہے جس کو وہ آگے کما کر روانہ کرچکا اور الیدؔ سے اس کی تعبیر اس لئے فرمائی کیونکہ ہاتھ ہی آلہ الکسب ہے۔ وَ اَنَّ اللّٰہَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ (اور بیشک اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بالکل ظلم کرنے والے نہیں) بغیر گناہ کسی کو نہ پکڑیں گے اور کسی کے گناہ کے بدلے دوسرے کو نہ پکڑیں گے۔ اس کا عطف بماؔ پر ہے۔ ای وبِاَنَّ اللّٰہ۔ الظلامؔ مبالغہ کا صیغہ لایا گیا کیونکہ اس کے ساتھ ملکر جمع کا لفظ عبیدؔ آرہا ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ اس کی طرف سے قلیل ظلم بھی گناہ کی قباحت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

10۔ ذالک بماقدمت یداک وان اللہ لیس بظلام للعبید۔ وہ گناہ کے بغیر سزا دے یہ اس کی شان نہیں اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں پر تصر کا اختیار ہے جس طرحچا ہے کرے۔ اس کا سارے کا سارافیصلہ عدل ہی ہے وہ ظالم نہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 5–10

دلائل حشرو نشر : 5۔ 10:۔ اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے منکرین حشر نضر بن حارث اور اس کے ساتھیوں کا ذکر فرما کر یہاں اخیر رکوع تک دو دلیلیں حشر کی بیان فرمائی ہیں ‘ پہلی دلیل کا حاصل یہ ہے کہ جس اللہ میں یہ قدرت ہے کہ اس نے پانی مٹی کا کام لے لیا ‘ اس کو مٹی سے مٹی کا کام لینا کون سی عقل سے یہ لوگ مشکل بتاتے ہیں کیونکہ ماں کے پیٹ میں اس نے پانی جیسی پتلی چیز نطفہ سے آدمی کا پتلا بنا کر اس پتلے میں روح پھونک دی ہے ‘ حشر میں تو مٹی سے مٹی کا پتلا بنایا جا کر اس پتلے میں روح پھونک دی جائے گی۔ دوسری دلیل کا حاصل یہ ہے کہ جو زمین اللہ کہ حکم سے اس طرح کے جاندار صاحب عقل لوگوں سے بڑھ کر کام کرتی ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 10 (ذلک) یعنی یہ دنیاوی اور اخروی عذاب جس کا ذکر کیا گیا اور اس میں بعد کا جو معنی پایا جاتا ہے (اور وہ ہے (ذلک) کے اندر موجود لام کا معنی جو بعد کی طرف اشارہ کے لئے وضع کیا گیا ہے) وہ اس امر پر دلیل ہے کہ کفار ہول اور قباحت کی انتہاء پر ہوں گے۔ (بما قدمت یدک) یعنی اس سبب سے، جو تیرے ہاتھوں نے کفر اور معاصی کا اکتساب کیا ہے۔ (وان اللہ لیس بظلام للعبید) اور حقیقت امر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ان کے پہلے گناہوں کے بغیر عذاب نہیں دے گا۔ اس کا اجمالی معنی یہ ہے کہ اس کافر کو، جو ان صفات سے متصف ہے جن کا ذکر مذکورہ دو آیتوں میں گزر چکا ہے، کہا جائے گا کہ یہ عذاب اور رسوائی جس کا تو…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 6–18

قرآن میں سجدہ ہائے تلاوت کی تعداد ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ سلف اور فقہاء امصار کا سورة حج کے پہلے سجدے کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے سب کا قول ہے کہ پہلا سجدہ واجب ہے البتہ سورة حج کے دوسرے سجدے نیز مفصل یعنی سورة قاف سے لے کر آخر قرآن تک کے سجدوں کے متعلق اختلاف رائے ہے۔ ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ قرآن میں چودہ سجدے ہیں۔ ان میں سے ایک سورة حج کا پہلا سجدہ اور مفصل کے تین سجدے ہیں۔ سفیان ثوری کا بھی یہی قول ہے۔ امام مالک کا قول ہے کہ قرآن کے عزائم سجود یعنی واجب سجدے گیارہ ہیں۔ مفصل کے اندر کوئی سجدہ نہیں ہے۔ لیث بن سعد کا قول ہے :” میرے نزدیک یہ بات مستحب ہے کہ قرآن میں تمام مقامات سجود پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 10–11

25 اور اللہ کبھی ظلم نہیں کرتا اپنے بندوں پر : بلکہ وہ تو کرم ہی کرم فرماتا ہے مگر اس کا کیا کیا جائے کہ بندے خود اس سے منہ موڑ لیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اللہ اپنے بندوں پر کبھی ظلم نہیں کرتا۔ نہ وہ کسی کو بغیر جرم کے سزا دیتا ہے اور نہ کسی کو اس کے جرم سے زیادہ سزا دیتا ہے۔ اور نہ ہی وہاں اس کا کوئی خدشہ اور امکان ہے کہ جرم کسی کا ہو اور سزا کسی اور کو ملے۔ سو ایسی کوئی بھی صورت وہاں متصور نہیں۔ مگر وہ کسی مجرم کو اس کے جرم کی سزا دیئے بغیر چھوڑتا بھی نہیں کہ یہ اس کی شان عدل کے تقاضوں کیخلاف ہے۔ لہذا اب تم لوگ اپنے ہاتھوں کی کمائی کا بھگتان بھگتو ۔ والعیاذ باللہ -

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 5–13

مرنے کے بعد زندہ ہونے کے ثبوت تشریح : جب انسان نے خود پر غور کیا تو معلوم ہوا یہ تو بڑی ہی عجیب و غریب فیکٹری ہے۔ جس میں جدید سائنس کی رو سے ایک سو چھبیس عناصر شامل ہیں۔ آگ ‘ پانی ‘ ہوا ‘ مٹی ‘ ہائیڈروجن ‘ ریڈیم ‘ کاربن ‘ نائٹروجن وغیرہ وغیرہ اور یہی اجزا ہر جاندار چرند پرند غرض ذی روح اور غیر ذی روح سب انہیں کا مرکب ہیں۔ فرق انسان میں اور باقی تمام مخلوقات میں صرف یہ ہے کہ انسان کو رب العزت نے علم اور ارادہ دیا ہے جو کہ اور کسی بھی مخلوق کو نہیں دیا گیا اور اسی وجہ سے انسان اشرف المخلوقات کہلایا۔ اسی علم کی وجہ سے آج انسان کو یہ نکتہ معلوم ہوا کہ انسان کی تخلیق میں ڈارون کا اصول غلط ہے۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–10

سورة الحج : (رکوع نمبر 1) اسرارومعارف سورة حج کی کچھ آیات مکی ہیں اور کچھ مدنی ، یہ اس کے عجائبات میں سے ہے کہ بعض آیات کا نزول شب کو ہوا بعض کا دن کو ، بعض سفر میں نازل ہوئیں تو کچھ حضر میں کئی آیات حالت جنگ میں نازل ہوئیں تو کئی حالت امن میں ، بعض آیات ناسخ ہیں تو دوسری کئی منسوخ ، بعض آیات متشابہات میں سے ہیں تو بعض محکم ، غرض یہ سورة مبارکہ مفسرین کرام کے مطابق تمام اصناف تنزیل پر مشتمل ہے ۔ کفار کی ہٹ دھرمی اور اس کے نتیجے میں آخرت کی رسوائی پھر آپ ﷺ کا رحمت العلمین ہونا مگر کفار کی محرومی اور قیامت سے انکار کی بات چل رہی تھی ، گذشتہ سورة کے اختتام پر تو فرمایا گیا کہ یہ اللہ جل جلالہ کا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(22:10) ذلک۔ ای یقال لہ ذلک۔ اس سے کہا جائے گا۔ ظلام۔ ظلم سے مبالغہ کا صیغہ ہے۔ بہت ظلم کرنے والا۔ عبید۔ عبد کی جمع ۔ بندے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–10

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 10 الساعۃ (قیامت۔ گھڑی) ‘ تذھل (غافل ہو جائیگی۔ بھول جائیگی) ‘ مرضعۃ (دودھ پلانے والی) ‘ تضع (ضائع کردیگی۔ گرادیگی) ‘ ذات حمل (حاملہ عورت) ‘ سکری (سکران) نشے۔ یجادل (جھگڑتا ہے) ‘ یتبع (اتباع کرتا ہے۔ پیچھے لگ جاتا ہے) ‘ مرید (سرکش۔ ضدی) ‘ تولی (دوست ہوا) ‘ السعیر (اگ ۔ جھنم) ‘ ریب (شک وشبہ) ‘ البعث (دوبارہ زندہ ہونا۔ جی اٹھنا) ‘ تراب (مٹی) ‘ نطفۃ (بوند) ‘ علقۃ (جما ہوا خون۔ لوتھڑا) ‘ مضغۃ (گوشت کا لوتھڑا۔ گوشت کی بوٹی) ‘ مخلقۃ (شکل صورت والا) ‘ نقر (ہم روکتے ہیں۔ ہم ٹھراتے ہیں) ‘ ارحام (رحم) (رحم) ‘ طفل (بچہ) ‘ اشد (قوت ۔ کمال) ‘ یرد (لوٹادیا گیا) ‘ ارذل العمر (نکمی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 8–10

(ف 1) شان نزول۔ یہ آیت ابوجہل وغیرہ ایک جماعت کفار کے حق میں نازل ہوئی جو اللہ تعالیٰ کی صفات میں جھگڑا کرتے، اور اس کی طرف ایسے اوصاف کی نسبت کرتے تھے جو اس کی شان کے لائق نہیں اس پر یہ آیت نازل فرمائی کہ یہ مشرک اللہ کی قدرتین آنکھوں سے دیکھ کر دوبارہ پیدائش کو جھٹلاتے ہیں اور حشر کا ذکر سن کر طرح طرح ایسی بےسند مکڑائی کی باتیں (فضول ) جو بناتے ہیں کہ جن باتوں کے سبب سے خود بھی گمراہی میں پھنستے ہیں اور دوسروں کو اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکتے ہیں ان کی یہ باتیں دنیا میں ان کو رسوا اور عقبی میں سخت عذاب کا سزا وار ٹھہراویں گی کیونکہ ظلم کے طور پر تو اللہ تعالیٰ کسی کو سزا دینا نہیں چاہتا لیکن…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 7–11

[10] یعنی اللہ کی بندگی تو کرتا ہے مگر دل کے جماؤ سے نہیں۔ اس کی حالت اس مذبذب آدمی کے مانند ہے جو کسی فوج کے کنارے پر کھڑا ہو۔ اگر فتح ہوتی دیکھے تو ساتھ آ ملے اور شکست ہوتی دیکھے تو چپکے سے کھسک جائے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 9–12

(ف 1) مشرکین کا ایک طبقہ وہ ہوتا ہے جنہیں کچھ تو اللہ سے تعلق ہوتا ہے اور کچھ اپنے بتوں اور دیوتاؤں سے ، کبھی وہ خانقاہ ہیں سر بسجود نظر آتے ہیں ، اور کبھی صحن مسجد میں کبھی خدا کے سامنے جھکتے ہیں ، کبھی اپنے دیوتاؤں کی شرن میں ، انہیں اگر خدا کی عبادت پر آمادہ بھی کیا جائے ، تو وہ صرف آزمائش وامتحان کی حد تک قائم رہتے ہیں ، یعنی جب تک ان کی سنی گئی اور کام ہوتے رہے ، خدا کو مانتے رہے اور اس کا شکریہ ادا کرتے رہے ، اور جہاں اللہ تعالیٰ نے ذرا امتحان میں ڈال دیا ، جھٹ سے الگ ہوگئے کہ خدا ہماری نہیں سنتا یہ بدبخت نہیں جانتے کہ خدا آزمائشوں اور تجربوں سے بالا ہے ، وہ اگر ہماری آرزوؤں کو سن…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(10) اس سے کہا جائے گا یہ اس کئے کا بدلہ ہے جس کو تیرے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے اور یہ واقعہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔ صاحبِ مدارک نے فرمایا کہ یہ آیت ابو جہل کی حرکات قبیحہ کے سلسلے میں نازل ہوئی ہے۔ تین باتیں اس کی جہالت کے متعلق فرمائیں۔ علم نہی۔ یعنی علم ضروری اور بدیہی بھی نہیں۔ دلیل عقلی سے بھی یکسر خالی اور کوئی روشن کتاب یعنی دلیل نقلی بھی نہیں اور باوجود اس کم مایگی اور حماقت و جہل کے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی قدرت کے بارے میں جھگڑا اور موشگافی کرتا ہے اور ہر قسم کے دلائل سے عاری اور خالی ہوتے ہوئے بھی تکبر کا یہ عالم کہ سیدھے منہ بات نہیں کرتا۔ پہلو پھیر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 7–11

ف 7۔ یہ امور مذکورہ کی حکمت ہیں، یعنی ہم نے وہ تصرفات مذکورہ اس لئے ظاہر کئے کہ اس میں منجملہ اور حکمتوں کے ایک حکمت اور غایت یہ تھی کہ ہم کو قیامت کا لانا اور مردوں کو زندہ کرنا منظور تھا، تو ان تصرفات سے ان کا امکان لوگوں پر ظاہر ہوجاوے گا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ان سے کہا جائے گا کہ یہ سب کچھ تمہارا ہی بویا ہوا ہے اللہ تو کسی پر ظلم نہیں کرتا : 10۔ فرمایا قیامت کے روزان رسوائے زمانہ کو جب اکٹھا کر لیاجائے گا تو دنیا کی اس ساری عیش و عشرت اور حشم جاہ سے خالی ہاتھ ہوں گے اور وہ سب کچھ ان کو نظر نہیں آئے گا ‘ جس کے بل پر وہ بڑے بنے بیٹھے تھے تو حیران سراسیمہ ہو کر رہ جائیں گے تو ان سے کہا جائے گا کہ اب حیران وسراسیمہ کیوں ہو ؟ یہ سب کچھ تمہارا ہی تو کیا دھرا ہے جو دنیا میں تم نے بویا اب یہی کاٹو گے یہ ساری حیرانی و سراسیمگی تمہارے استکبار اور عیش و عشرت ہی کا تو نتیجہ ہے ۔ جو کچھ تم نے کیا تھا آج وہی کچھ تمہارے سامنے پیش کیا جائے گا اللہ تعالیٰ تو اپنے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 9–10

ثَانِيَ عِطْفِهِ (Turning his side away - 22:5) The word عِطْفِ ` itf means ` side of the body', and the expression means ` to turn on one's side' - in other words ` to oppose'.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 9–10

14. Verse 3 mentioned those people who have themselves gone astray, but verse 9 mentions those who have not only deviated from the right way themselves but are also bent upon misleading others from it.

Read the full tafseer →