Al-Hajj 22:11

Al-Hajj · from ayah 11

22:11

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰی حَرْفٍ ۚ— فَاِنْ اَصَابَهٗ خَیْرُ ١طْمَاَنَّ بِهٖ ۚ— وَاِنْ اَصَابَتْهُ فِتْنَةُ ١نْقَلَبَ عَلٰی وَجْهِهٖ ۚ۫— خَسِرَ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَةَ ؕ— ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ ۟وَمِنَ النَّاسِ مَنۡ يَّعۡبُدُ اللّٰهَ عَلٰى حَرۡفٍ‌ ‌ۚ فَاِنۡ اَصَابَهٗ خَيۡرٌ اۨطۡمَاَنَّ بِهٖ‌ ۚ وَاِنۡ اَصَابَتۡهُ فِتۡنَةُ اۨنقَلَبَ عَلٰى وَجۡهِهٖ‌ۚ خَسِرَ الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةَ ‌ ؕ ذٰ لِكَ هُوَ الۡخُسۡرَانُ الۡمُبِيۡنُ

اور لوگوں میں بعض ایسا بھی ہے جو کنارے پر (کھڑا ہو کر) خدا کی عبادت کرتا ہے۔ اگر اس کو کوئی (دنیاوی) فائدہ پہنچے تو اس کے سبب مطمئن ہوجائے اور اگر کوئی آفت پڑے تو منہ کے بل لوٹ جائے (یعنی پھر کافر ہوجائے) اس نے دنیا میں بھی نقصان اٹھایا اور آخرت میں بھی۔ یہی تو نقصان صریح ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And of the people is he who worships Allah on an edge. If he is touched by good, he is reassured by it; but if he is struck by trial, he turns on his face [to the other direction]. He has lost [this] world and the Hereafter. That is what is the manifest loss.

— Saheeh International

Juz 17 · Ruku 2 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hajj

All translations of 22:11

اور لوگوں میں کوئی ایسا ہے جو کنارے پر رہ کر اللہ کی بندگی کرتا ہے، اگر فائدہ ہوا تو مطمئن ہو گیا اور جو کوئی مصیبت آ گئی تو الٹا پھر گیا اُس کی دنیا بھی گئی اور آخرت بھی یہ ہے صریح خسارہ

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور لوگوں میں بعض ایسا بھی ہے جو کنارے پر (کھڑا ہو کر) خدا کی عبادت کرتا ہے۔ اگر اس کو کوئی (دنیاوی) فائدہ پہنچے تو اس کے سبب مطمئن ہوجائے اور اگر کوئی آفت پڑے تو منہ کے بل لوٹ جائے (یعنی پھر کافر ہوجائے) اس نے دنیا میں بھی نقصان اٹھایا اور آخرت میں بھی۔ یہی تو نقصان صریح ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

بعض لوگ ایسے بھی ہیں کہ ایک کنارے پر (کھڑے) ہو کر اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ اگر کوئی نفع مل گیا تو دلچسپی لینے لگتے ہیں اور اگر کوئی آفت آگئی تو اسی وقت منھ پھیر لیتے ہیں، انہوں نے دونوں جہان کانقصان اٹھا لیا۔ واقعی یہ کھلا نقصان ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور لوگوں میں وہ شخص بھی ہے جو ایک کنارے پر رہ کر اللہ کی عبادت کرتا ہے۔ چنانچہ اگر اسے (دنیا میں) کوئی فائدہ پہنچ گیا تو وہ اس سے مطمئن ہوجاتا ہے اور اگر اسے کوئی آزمائش پیش آگئی تو وہ منہ موڑ کر (پھر کفر کی طرف) چل دیتا ہے۔ ایسے شخص نے دنیا بھی کھوئی، اور آخرت بھی۔ یہی تو کھلا ہوا گھاٹا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور کچھ آدمی اللہ کی بندگی ایک کنارہ پر کرتے ہیں پھر اگر انہیں کوئی بھلائی پہنچ گئی جب تو چین سے ہیں اور جب کوئی جانچ آکر پڑی منہ کے بل پلٹ گئے، ف۳۲) دنیا اور آخرت دونوں کا گھاٹا یہی ہے صر یح نقصان

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور لوگوں میں سے کوئی ایسا بھی ہوتا ہے جو (بالکل دین کے) کنارے پر (رہ کر) اﷲ کی عبادت کرتا ہے، پس اگر اسے کوئی (دنیاوی) بھلائی پہنچتی ہے تو وہ اس (دین) سے مطمئن ہو جاتا ہے اور اگر اسے کوئی آزمائش پہنچتی ہے تو اپنے منہ کے بل (دین سے) پلٹ جاتا ہے، اس نے دنیا میں (بھی) نقصان اٹھایا اور آخرت میں (بھی)، یہی تو واضح (طور پر) بڑا خسارہ ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور لوگوں میں سے کوئی وہ ہے جو اللہ کی عبادت ایک کنارے پر کرتا ہے، پھر اگر اسے کوئی بھلائی پہنچ جائے تو اس کے ساتھ مطمئن ہوجاتا ہے اور اگر اسے کوئی آزمائش آپہنچے تو اپنے منہ پر الٹا پھرجاتا ہے۔ اس نے دنیا اور آخرت کا نقصان اٹھایا، یہی تو صریح خسارہ ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور لوگوں میں کوئی ایسا بھی ہے جو کنارے پر (کھڑا ہو کر) اللہ کی عبادت کرتا ہے۔ اگر اسے کچھ فائدہ ہو تو (اسلام سے) مطمئن ہوجاتا ہے اور اگر کوئی مصیبت پڑجائے تو الٹا پھرجاتا ہے۔ ایسے شخص نے دنیا کا بھی نقصان اٹھایا اور آخرت کا بھی۔ یہ ہے صریح خسارہ۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو خدا کی بندگی ایک کنارے پر کھڑے ہوئے کرتے ہیں۔ اگر ان کو کوئی فائدہ پہنچاتب تو ان کا دل خدا پر جمتا ہے اور اگر کوئی آزمائش پیش آگئی تو اوندھے ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے دنیا بھی کھوئی اور آخرت بھی۔ کھلا ہوا خسارہ درحقیقت یہی ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کی بندگی کرتے ہیں ایک کنارے پر رہ کر پھر اگر ان کو کوئی دنیاوی فائدہ مل گیا تو مطمئن ہوگئے اور اگر کوئی آزمائش آگئی تو یہ منہ اٹھا کر چل دئیے اس طرح وہ اپنی دنیا بھی کھو بیٹھتے ہیں اور آخرت بھی اور دنیا وآخرت دونوں کا یہ خسارہ ہی کھلا ہوا خسارہ ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اور انسانوں میں کوئی ایسا بھی ہوتا ہے جو اللہ کی پرستش کنارہ پر (کھڑا ہوکر) کرتا ہے پھر اگر اسے کوئی نفع پہنچ گیا (تو) وہ اس پر جما رہا اور اگر (کہیں) اس پر کوئی آزمائش آپڑی تو وہ منہ اٹھا کر واپس چل دیا۔ (یعنی) دنیا وآخرت (دونوں) کو کھو بیٹھا یہی انتہائی محرومی ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور لوگوں میں سے کوئی وہ بھی ہے جو اللہ کی عبادت کرتا ہے کنارے پر رہ کر تو اگر اسے کوئی فائدہ پہنچے تو اس پر مطمئن رہتا ہے اور اگر اسے کوئی آزمائش آجائے تو اپنے ُ منہ کے بل الٹا پھرجاتا ہے وہ خسارے میں رہا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی یہی تو کھلا خسارہ ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور لوگوں میں کوئی ایسا بھی ہے جو کنارے پر کھڑا ہو کر (شک و شبہ میں) اللہ کی عبادت کرتا ہے اگر اس کو کوئی دنیاوی فائدہ پہنچے تو مطمئن ہوجائے اور اگر کوئی آفت آپڑے تو منہ کے بل لوٹ جائے (اللہ سے منکر ہوجائے) (یعنی) پھر کافر ہوجائے تو اس نے دنیا میں بھی نقصان اٹھایا اور آخرت میں بھی ‘ یہی صریح نقصان ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And among people is he who worships Allah on the borderline; if any good befalls him, he is satisfied; but if a trial afflicts him, he utterly turns away. He will incur the loss of this world and the Hereafter. That indeed is a clear loss.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And among men there is one who worships Allah (standing) on the verge: so if some good thing happens to him, he is satisfied with it, and if a trial befalls him, he turns his face back. He loses both this world and the Hereafter. That is the manifest loss.

— Muhammad Taqi Usmani

And among men there is one who worships Allah (standing) on the verge: so if some good thing happens to him, he is satisfied with it, and if a trial befalls him, he turns his face back. He loses both this world and the Hereafter. That is the manifest loss.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And among mankind is he who worships Allah as it were upon the edge: if good befalls him, he is content therewith; but if a Fitnah strikes him, he turns back on his face. He loses both this world and the Hereafter. That is the evident loss.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And among mankind is he who worshippeth Allah upon a narrow marge so that if good befalleth him he is content therewith, but if a trial befalleth him, he falleth away utterly. He loseth both the world and the Hereafter. That is the sheer loss.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And of the people is he who worships Allah on an edge. If he is touched by good, he is reassured by it; but if he is struck by trial, he turns on his face [to the other direction]. He has lost [this] world and the Hereafter. That is what is the manifest loss.

— Saheeh International

Some people worship God to achieve worldly gains. They are confident when they are prosperous, but when they face hardships they turn away from (worship). They are lost in this life and will be lost in the life to come. Such loss is indeed destructive.

— Muhammad Sarwar

And among men is he who serves Allah (standing) on the verge, so that if good befalls him he is satisfied therewith, but if a trial afflict him he turns back headlong; he loses this world as well as the hereafter; that is a manifest loss.

— Muhammad Habib Shakir

And of mankind is he who worshippeth Allah as on edge; if there befalleth him good, he in contented therewith, and if there befalleth him a trial, he turneth round on his face; he loseth the world and the Hereafter: that indeed is a loss manifest!

— Abdul Majid Daryabadi

There are among men some who serve Allah, as it were, on the verge: if good befalls them, they are, therewith, well content; but if a trial comes to them, they turn on their faces: they lose both this world and the Hereafter: that is loss for all to see!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 22:11

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 11–13

شک کے مارے لوگ " حرف " کے معنی شک کے ایک طرف کے ہیں۔ گویا وہ دین کے ایک کنارے کھڑے ہوجاتے ہیں فائدہ ہوا تو پھولے نہیں سماتے، نقصان دیکھا بھاگ کھڑے ہوئے۔ صحیح بخاری شریف میں (ابن عباس سے مروی) ہے کہ اعراب ہجرت کرکے مدینے پہنچتے تھے اب اگر بال بچے ہوئے جانوروں میں برکت ہوئی تو کہتے یہ دین بڑا اچھا ہے اور اگر نہ ہوئے تو کہتے یہ دین تو نہایت برا ہے۔ ابن حاتم میں آپ سے مروی ہے کہ اعراب حضور ﷺ کے پاس آتے اسلام قبول کرتے واپس جاکر اگر اپنے ہاں بارش، پانی پاتے، جانوروں میں، گھر بار میں برکت دیکھتے تو اطمینان سے کہتے بڑا اچھا دین ہے اور اگر اس کے خلاف دیکھتے تو جھٹ سے بک دیتے کہ اس دین میں سوائے نقصان…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 11–12

سورة الْحَجّ 15 یعنی دائرہ دین کے وسط میں نہیں بلکہ کنارے پر، یا بالفاظ دیگر کفر و اسلام کی سرحد پر کھڑا ہو کر بندگی کرتا ہے۔ جیسے ایک مذبذب آدمی کسی فوج کے کنارے پر کھڑا ہو، اگر فتح ہوتی دیکھے تو ساتھ آ ملے اور شکست ہوتی دیکھے تو چپکے سے سٹک جائے۔ سورة الْحَجّ 16 اس سے مراد ہیں وہ خام سیرت، مضطرب العقیدہ اور بندۂ نفس لوگ جو اسلام قبول تو کرتے ہیں مگر فائدے کی شرط کے ساتھ۔ ان کا ایمان اس شرط کے ساتھ مشروط ہوتا ہے کہ ان کی مرادیں پوری ہوتی رہیں، ہر طرح چین ہی چین نصیب ہو، نہ خدا کا دین ان سے کسی قربانی کا مطالبہ کرے، اور نہ دنیا میں ان کی کوئی خواہش اور آرزو پوری ہونے سے رہ جائے۔ یہ ہو تو خدا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 11–13

خلاصہ تفسیر اور بعض آدمی اللہ کی عبادت (ایسے طور پر) کرتا ہے (جیسے کوئی کسی چیز کے) کنارہ پر (کھڑا ہو اور موقع پا کر چل دینے پر تیار ہو) پھر اگر اس کو کوئی (دنیوی) نفع پہنچ گیا تو اس کی وجہ سے (ظاہری) قرار پا لیا اور اگر اس پر کچھ آزمائش ہوگئی تو منہ اٹھا کر (کفر کی طرف) چل دیا (جس سے) دنیا و آخرت دونوں کو کھو بیٹھا یہی ہے کھلا نقصان (دنیا کا نقصان تو دنیاوی آزمائش جو کسی مصیبت سے ہوتی وہ ظاہر ہی ہے اور آخرت کا نقصان یہ ہوا کہ اسلام اور) خدا کو چھوڑ کر اسی چیز کی عبادت کرنے لگا جو (اس قدر عاجز اور بےبس ہے کہ) نہ اس کو نقصان پہنچا سکتی ہے نہ نفع پہنچا سکتی ہے (یعنی اس کی عبادت نہ کرو تو کوئی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

مذ بذبین کا کردار ان کٹر مشرکین کا ذکر کرنے کے بعد، جو شرک کی حمایت میں لڑائی ٹھانے ہوئے تھے، اب یہ ان لوگوں کا ذکر ہے جو بکی وقت یزدان اور راہرمن، اللہ اور غیر اللہ، حق اور باطل دونوں سے تعلق باقی رکھنا چاہتے تھے۔ یکسو ہو کر نہ وہ اہل ایمان کے اندر شامل ہونا چاہتے تھے نہ مشرکین کے اندر، وہ ان دونوں صفوں سے الگ کھڑے ہو کر پانی مصلحت اور مفاد کو دیکھتے تھے۔ جس حد تک ان کو مسلمانوں کی ہمنوائی میں فائدہ نظر آتا ان کی ہمنوائی کرتے اور جب دیکھتے کہ شرک اور اہل شرک کی تائید میں فائدہ ہے، ان کے ساتھی بن جاتے۔ اس قسم کے دور رنگے اسلام کی ابھرتی ہوئی طاقت کو دیکھ کر، اس دور میں، مشرکین اور اہل کتاب کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 10–11

11۔ 1 حرف کے معنی ہیں کنارہ۔ ان کناروں پر کھڑا ہونے والا، غیر مستقر ہوتا ہے یعنی اسے قرار و ثبات نہیں ہوتا۔ اسی طرح جو شخص دین کے بارے میں شک و تذبذب کا شکار رہتا ہے اس کا حال بھی یہی ہے، اسے دین پر استقامت نصیب نہیں ہوتی کیونکہ اس کی نیت صرف دنیاوی مفادات کی رہتی ہے، ملتے رہے تو ٹھیک ہے، بصورت دیگر وہ پھر دین آبائی یعنی کفر اور شرک کی طرف لوٹ جاتا ہے۔ اس کے برعکس جو سچے مسلمان ہوتے اور ایمان اور یقین سے سرشار ہوتے ہیں۔ بعض روایات میں یہ وصف نو مسلم اعرابیوں کا بیان کیا گیا ہے (فتح الباری، باب مذکور)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 8–11

7: آنحضرت ﷺ کے مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد کئی واقعات ایسے پیش آئے کہ کچھ لوگ اس لالچ میں اسلام لائے کہ اسلام کی وجہ سے انہیں دنیا میں کچھ فوائد حاصل ہوں گے ؛ لیکن جب ان کی توقع پوری نہیں ہوئی ؛ بلکہ کوئی آزمائش آگئی تو دوبارہ کفر کی طرف لوٹ گئے، یہ آیت ان کی طرف اشارہ کررہی ہے کہ یہ لوگ حق کو حق ہونے کی وجہ سے قبول نہیں کرتے ؛ بلکہ دنیا کے مفادات کی خاطر قبول کرتے ہیں، اور ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی جنگ میں اس نیت سے ایک کنارے کھڑا ہوگیا ہو کہ دونوں لشکروں میں سے جس کا پلہ بھاری نظر آئے گا اسکے ساتھ ہوجاؤں گا ؛ تاکہ کچھ مفادات حاصل کرسکوں، سبق یہ دیا گیا ہے کہ اسلام پر عمل اس لالچ…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 11–13

ومن الناس ………العشیر (13) عقیدہ اور نظریہ ایک مومن کی زندگی کا سرمایہ ہوتا ہے اور اسی پر مومن کی زندگی قائم ہوتی ہے۔ ایک مومن کے ماحول میں زندگی کے سمندر میں اضطرابات اور تلاطم آتے اور جاتے رہتے ہیں اور تیز طوفانی ہوائیں چلتی رہتی ہیں لیکن مومن ہے کہ وہ سمندر کے بیچ میں ایک چٹان کو مضبوطی سے پکڑ کر جم جاتا ہے۔ اس کے ماحول کے اردگرد سے ایک ایک سہارا گرتا جاتا ہے لیکن وہ ہے کہ اس نے ایک مضبوط سہارا پکڑ رکھا ہوتا ہے اور اس کے پائوں کو کوئی تزلزل نہیں ہوتا۔ ایک سچے مومن کی زندگی میں نظریہ کی یہ قدر و قیمت ہوتی ہے لہٰذا اسے اس پر جم جانا چاہئے۔ ضروری ہے کہ وہ اسے مضبوطی سے پکڑ لے۔ اسے اس پر یقین…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی بعض آدمی محض دنیا کی غرض سے دین کو اختیار کرتا ہے اور اس کا دل مذبذب رہتا ہے۔ اگر دین میں داخل ہو کر دنیا کی بھلائی دیکھے، بظاہر بندگی پر قائم رہے اور تکلیف پائے تو چھوڑ دے، ادھر دنیا گئی ادھر دین گیا، کنارے پر کھڑا ہے۔ یعنی دل ابھی اس طرف ہے نہ اس طرف، جیسا کوئی مکان کے کنارے کھڑا ہو جب چاہے نکل بھاگے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 11–12

آیت 11 وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّعْبُدُ اللّٰہَ عَلٰی حَرْفٍ ج ” انسانی دل کے اس روگ کی نشان دہی سورة البقرۃ کی آیت 10 میں ان الفاظ میں کی گئی ہے : فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَرَضٌ ”ان کے دلوں میں مرض ہے“۔ یہ وہ لوگ ہیں جو حق کا ساتھ دینا تو چاہتے ہیں ‘ لیکن اس کے لیے اپنی جان جوکھوں میں ڈالنے کو تیار نہیں۔ وہ گہرے پانی میں جانے کا خطرہ مول لینے کے بجائے کنارے پر رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ مبادا کہ اس سفر میں کوئی گزند پہنچ جائے یا کوئی مالی نقصان اٹھانا پڑجائے۔ وہ لوگ بڑی چالاکی کے ساتھ اس قسم کے سب خطرات سے خود کو محفوظ فاصلے پر رکھ کر حق کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں ‘ لیکن اس راستے میں ایسا طرز عمل قابل قبول…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

10 یعنی کفر اور اسلام کی سرحد پر ہی کھڑا رہتا ہے۔ اسلام میں داخل ہوتا ہی نہیں اور اس انتظار میں وہاں کھڑا ہے کہ اگر اسلام لانے سے کوئی مادی فائدہ پہنچنے کی توقع ہے تو پھر تو اسے اسلام گوارا ہے لیکن اگر اسلام میں داخل نہ ہونے میں کوئی مشکل یا مادی نقصان نظر آرہا ہو تو اس۔۔ سے فوراً کفر کی طرف نکل بھاگے۔ جیسا کہ عموماً منافقوں کا حال ہوتا ہے۔ گویا ایسے لوگوں کا مطمع نظر صرف مادی فوائد ہوتے ہیں۔ وہ جس طرف نظر آئیں ادھر ہی لڑھک جاتے ہیں۔ ایسے لوگ دینی اور دنیوی دونوں لحاظ سے خسارہ میں رہتے ہیں۔ دینی نقصان تو واضح ہے کہ ایسے لوگ جہنم کے سب سے نچلے طبقہ میں داخل کئے جائیں گے اور دنیوی نقصان یہ ہوتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

16۔ (کفر کی طرف) مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کے نزدیک مذہب کی صداقت وحقانیت بجائے خود کوئی معنی ہی نہیں رکھتی۔ اگر مسلمان رہنے سے انہیں کوئی دنیوی منافع حاصل ہورہے ہیں تو یہ بھی اپنے کو مسلمان کہیں گے اور مسلمان سمجھیں گے۔ لیکن اگر وقتوں اور دشواریوں کا سامنا ہوا تو بس یہ جھٹ سے الگ ہوگئے۔ اور کھلم کھلا بھی اپنی بےدینی کا اظہار کرنے لگے۔ آج دنیا کے 40 کروڑ مسلمانوں کے اندر بھی یہ مرض کس کثرت سے پھیلتا جارہا ہے کہ اسلام کی قدر گویا صرف منافع دنیوی کے لحاظ سے، اور اس کی قیمت صرف مصالح مادی کے تناسب سے ہے۔ (آیت) ” من یعبداللہ علی حرف “۔ یعنی اسلام اس نے قبول تو کرلیا ہے لیکن ایسی بےدلی کے ساتھ اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 11–22

آیت نمبر 11 تا 22 ترجمہ : اور بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ اللہ کی بندگی ایک کنارے پر کھڑے ہو کر کرتے ہیں یعنی اس کی عبادت تذبذب کے ساتھ کرتے ہیں شک کے ساتھ عبادت کرنے والے کی حالت کو عدم ثبات میں اس شخص کی حالت کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جو پہاڑ کے کنارہ پر کھڑا ہو، لہٰذا اگر اس کو کوئی خیر پہنچ گئی یعنی اس کے جان و مال میں صحت و سلامتی تو اس دین پر مطمئن ہوجاتے ہیں اور اگر کوئی آفت یعنی اس کی جان و مال میں محنت اور مرض لاحق ہوگیا تو وہ منہ اٹھا کر چلدیتا ہے یعنی کفر کی جانب پلٹ جاتا ہے، جس دنیا کے ملنے کی امید تھی اس کے نہ ملنے سے دنیا کا نقصان ہوا اور کفر کی وجہ سے آخرت کا نقصان ہوا، یہی کھلا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ومن الناس من یعبد اللہ علی حرف اور بعض آدمی اللہ کی عبادت (ایسے طور پر) کرتا ہے (جیسے) کنارہ پر کھڑا ہو۔ اہل تفسیر نے لکھا ہے حرف کا معنیٰ کنارہ مراد ہے۔ شک۔ شک کرنے والا منافق دونوں گروہوں کے کنارے پر ہوتا ہے مؤمنوں کے گروہ کے کنارے پر اور کافروں کے گروہ کے بھی کنارے پر۔ کبھی ادھر مڑ جاتا ہے کبھی ادھر گویا منافق فوج کے آخری کنارے پر ہوتا ہے اگر فتح محسوس کرتا ہے تو ٹھہرا رہتا ہے۔ اگر شکست محسوس کرتا ہے تو بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔ ابن ابی حاتم اور بغوی نے بیان کیا ہے کہ اس آیت کا نزول ان بدوی دیہاتیوں کے متعلق ہوا جو صحرا کو چھوڑ کر مدینے میں آکر مسلمان ہوجاتے اور وہیں رہ پڑتے تھے ‘ اگر قیام مدینہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(11) اور بعض آدمی اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طریقے سے کرتے ہیں جیسے کہ کسی چیز کے کنارے پر کھڑے ہوں اور شک میں ہوں اور کسی نعمت کے انتظار میں مبتلا ہوں، یہ آیت بنوحلاف اور منافقین بنی اسد وغطفان کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ پھر اگر اس کو کوئی دنیاوی فائدہ پہنچ گیا تو ظاہری طور پر رسول اکرم ﷺ کے دین سے رضا مندی کا اظہار کردیا اور اگر کسی قسم کی کوئی سختی آگئی تو اپنے سابقہ مشرکانہ دین کو اختیار کرلیا جس سے دنیا و آخرت دونوں کو کھو بیٹھا، دنیا کی ذات کو برباد کیا اور آخرت میں جنت ہاتھ سے چھوٹی، یہ دنیا وا آخرت کے برباد ہونے کا نقصان واضح نقصان کہلاتا ہے۔ شان نزول : ومن الناس من یعبد اللہ“۔ (الخ) امام…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ۧوَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰي حَرْفٍ۔۔ :”حَرْفٍ“ کا معنی کنارا ہے، یعنی وہ دین کے دائرے کے وسط میں داخل نہیں ہوتا، بلکہ کنارے ہی پر رہتا ہے، یا اس کے دل میں ایمان جاگزیں نہیں ہوتا، صرف زبان اسلام کا اقرار کرتی ہے، جیسے کوئی شخص کسی لشکر کے کنارے پر رہے، اگر فتح نظر آرہی ہو تو جا ملے، ورنہ فرار اختیار کرے۔ یہ آیت ان اعراب (بادیہ نشین) لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو صحرا سے ہجرت کرکے آتے۔ پھر اگر جان و مال میں برکت ہوتی تو اسلام پر بڑے اطمینان کا اظہار کرتے اور اگر تکلیف اور دکھ میں مبتلا ہوجاتے تو مرتد ہو کر واپس بھاگ جاتے۔ بعض ”مؤلفۃ القلوب“ کی بھی یہی حالت تھی۔ (کبیر) اور…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّعْبُدُ اللّٰہَ عَلٰی حَرْفٍ (اور بعض آدمی اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرتے ہیں جیسے وہ کنارے پر کھڑے ہیں) دین کے ایک کنارے پر نہ اس کے درمیان اور مرکز میں۔ یہ درحقیقت ایک مثال ہے کہ وہ اپنے دین کے متعلق قلق و اضطراب کا شکار ہیں۔ سکون و اطمینان میسر نہیں۔ فَاِنْ اَصَابَہٗ خَیْرُ (اگر ان کو کوئی بھلائی پہنچ گئی) جسمانی صحت اور معیشت میں وسعت اطْمَاَنَّ (تو اس نے قرار پالیا) قرار پکڑا اور پر سکون ہوا۔ بِہٖ (اس پر) اس بھلائی پر جو اس کو میسر ہوئی یا اس دین پر پس اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے لگا۔ وَاِنْ اَصَابَتْہُ فِتْنَۃُ (اور اگر اس کو کوئی آزمائش مصیبت آگئی) برائی اور…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 11–14

۔ البخاری وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ومن الناس من یعبد الہ علی حرف، کے بارے میں فرمایا کہ ایک آدمی مدینہ منورہ میں آتا تھا۔ اگر اس کی بیوی بچہ جنتی اور اس کی گھوڑی کے بچہ پیدا ہوتا تھا۔ تو کہتا کہ یہ دین صالح ہے۔ اور اگر اس کی بیوی بچی نہ جنتی اور اس کی گھوڑی بچہ نہ دیتی تو کہتا کہ یہ دین برا ہے۔ ایمان پختہ اور مضبوط ہونا ضروری ہے 2۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے سند صحیح کے ساتھ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ کچھ دیہاتی لوگ نبی ﷺ کے پاس آکر مسلمان ہوجاتے تھے۔ جب وہ اپنے شہروں کو لوٹتے اور اس سال خوب بارش ہوتی خوب سرسبزی ہوتی اور خوب بچے ہوتے تو کہتے کہ ہمارا دین…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَمِنَ النَاسِ : اور لوگوں میں سے ] [ مَنْ : وہ (بھی ہے) جو ] [ يَّعْبُدُ : بندگی کرتا ہے ] [ اللّٰهَ : اللہ کی ] [ عَلٰي حَرْفٍ : ایک کنارے پر ] [ فَان : پھر اگر ] [ اَصَابَهٗ : آ لگے اس کو ] [ خَيْرُۨ: کوئی بھلائی ] [ اطْـمَان : تو وہ مطمئن ہوتا ہے ] [ بِهٖ : اس سے ] [ وَان : اور اگر ] [ اَصَابَتْهُ : آ لگے اس کو ] [ فِتْنَةُۨ: کوئی آزمائش ] [ انقَلَبَ : تو وہ الٹا پھرجاتا ہے ] [ عَلٰي وَجْهِهٖ : اپنے منہ کے بل ] [ خَسِرَ : اس نے نقصان اٹھایا ] [ الدُّنْيَا : دنیا میں ] [ وَالْاٰخِرَةَ : اور آخرت میں ] [ ذٰلِكَ : یہ ] [ هُوَ الْخُسْرَان الْمُبِيْنُ : ہی صریح خسارہ ہے ] نوٹ۔ 2: کنارے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 11–13

طلب دنیا کے لیے اسلام قبول کرنے والوں کی تباہی صحیح بخاری ج 2 ؍ ص 649 میں حضرت ابن عباس ؓ کا بیان نقل کیا ہے کہ بعض مرتبہ ایسا ہوتا تھا کہ ایک شخص مدینہ منورہ آیا اس کی بیوی کو حمل تھا اس کے ہاں لڑکا پیدا ہوگیا اور اس کے گھوڑوں کے بھی بچے پیدا ہوگئے تو اس پر وہ کہتا تھا کہ واقعی یہ دین (یعنی اسلام) اچھا دین ہے اور اگر بیوی کے ہاں لڑکا پیدا نہ ہوا اور گھوڑی نے بچے نہ دیئے تو کہتا تھا کہ یہ اچھا دین نہیں ہے اس قسم کے لوگوں کے بارے میں آیت بالا نازل ہوئی۔ صاحب روح المعانی نے بحوالہ تفسیر ابن مردویہ حضرت ابو سعید ؓ سے نقل کیا ہے کہ ایک یہودی نے اسلام قبول کرلیا اس کے بعد اس کی بینائی جاتی رہی اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 11–13

مذمت مذبذبین و مترد دین دربار دین متین قال اللہ تعالیٰ ومن الناس من یعبد اللہ علی حرف .... الیٰ .... ولبئس العشیر۔ (ربط) گزشتہ آیات میں منکرین اور مجادلین کی مذمت تھی۔ جو کھلم کھلا اور صریح طور پر قیامت کے منکر تھے۔ اب ان آیات میں مذبذبین اور متردوین کی مذمت بیان کرتے ہیں جو محض دنیاوی طمع پر اسلام لے آئے ہیں مگر ان کے دل میں ابھی تک تردد باقی ہے ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ مدینہ میں کچھ لوگ آتے اور اسلام لے آتے پس اگر انہیں وہاں مال اور اولاد کی ترقی معلوم ہوتی تو کہتے دین اسلام اچھا دین ہے اور اگر کچھ اس کے خلاف ہوتا تو کہتے کہ اسلام کچھ اچھا دین نہیں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں متزلزل اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

19:۔ ” وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّعْبُدُ اللّٰهَ الخ “ یہ زجر ثانی ہے اس میں مذبذب لوگوں کا حال بیان کیا گیا ہے جو اللہ پر پورا پورا ایمان ویقین نہیں تکھے۔ ” علی حرف “ ای طرف من الدین۔ یعنی وہ دین اسلام کے کنارے پر کھڑے ہو کر اللہ کی عبادت کرتے ہیں اگر انہیں کوئی دنیوی فائدہ حاصل ہوجائے یا مالی وسعت یا بدنی راحت مل جائے تو ظاہری طور پر مطمئن ہوجاتے ہیں اور اسی حال میں رہتے ہیں لیکن اگر کوئی نقصان ہوگیا کوئی تکلیف پہنچ گئی مال یا جان پر کوئی آفت آگئی تو فوراً دین اسلام کو چھوڑ کر مرتد ہوجاتے ہیں اور اللہ کی خالص عبادت ترک کر کے جس میں دون اللہ کی طرف کسی نے بلایا اسی کے سامنے جھک جاتے ہیں۔ 20:۔ ”…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 8–17

ربط آیات : ابتدائے سورة میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے زلزلے اور اس کی ہولناکی کا ذکر کیا۔ اس وقت انسانوں پر ایک قسم کی مدہوشی طاری ہوگی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے قوع قیامت کے بارے میں دو دلائل بیان فرمائے۔ ایک دلیل خود انسان کی تخلیق سے تعلق رکھتی ہے جب کہ دوسری دلیل زمین کی روئیدگی کے متعلق ہے یہ دونوں دلیلیں قیامت کی آمد کا پتہ دیتی ہیں اور اس بات میں شک وشبہ کی کو گی گنجائش نہیں۔ اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ جو لوگ قبروں میں پڑے ہوئے ہیں۔ ان کو یقینا دوبارہ اٹھایا جائے گا۔ اور پھر حساب کتاب کی منزل آئے گی۔ جھگڑالو لوگ : اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے کافروں ، مشرکوں اور منافقوں کا رد فرمایا۔…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّعْبُدُ اللہَ عَلٰي حَرْفٍ۝ 0ۚ فَاِنْ اَصَابَہٗ خَيْرُۨ اطْـمَاَنَّ بِہٖ۝ 0ۚ وَاِنْ اَصَابَتْہُ فِتْنَۃُۨ انْقَلَبَ عَلٰي وَجْہِہٖ۝ 0ۣۚ خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَۃَ۝ 0ۭ ذٰلِكَ ہُوَالْخُسْرَانُ الْمُبِيْنُ۝ 11 حرف حَرْفُ الشیء : طرفه، وجمعه : أحرف وحروف، يقال : حرف السیف، وحرف السفینة، وحرف الجبل، وحروف الهجاء : أطراف الکلمة، والحروف العوامل في النحو : أطراف الکلمات الرابطة بعضها ببعض، وناقة حرف «3» ، تشبيها بحرف الجبل، أو تشبيها في الدّقة بحرف من حروف الکلمة، قال عزّ وجلّ : وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ عَلى حَرْفٍ [ الحج/ 11] ، قد فسّر ذلک بقوله بعده :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 8–13

تفسیر : قیامت کے دلائل بیان کر کے پھر انہیں بےہودہ لوگوں کے جاہلانہ حجت و مجادلہ کا ذکر فرماتا ہے۔ قال و من الناس من یجادل فی اللہ بغیر علم ولاھدی ولا کتاب منیر۔ بعض کہتے ہیں پہلی آیت ومن الناس الخ نضربن حارث کے حق میں اور یہ ابوجہل کے حق میں نازل ہوئی۔ بعض کہتے ہیں دونوں جگہ نضر مراد ہے محض ذم کے مبالغہ کے لیے اس کا اعادہ کیا۔ انسان کسی مقصد پر جو حجت قائم کرتا ہے یا کوئی عقیدہ دل میں جماتا ہے۔ تو یا علم بالبد یہیات یا استدلال و نظر سے یا وحی والہام سے پھر جس کو یہ تینوں باتیں کسی بات کی طرف ہدایت نہ کریں اور وہ اس پر جھگڑے تو سخت نادان ہے بغیر علم میں بدیہیات ولا ھدی میں نظریات اور ولا کتاب…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 11–12

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّعْبُدُاللّٰہَ عَلٰی حَرْفٍ ج فَاِنْ اَصَابَـہٗ خَیْرُ نِ اطْمَاَنَّ بِہٖ ج وَاِنْ اَصَابَتْـہُ فِتْنَۃُ نِ انْقَلَبَ عَلٰی وَجْھِہٖ قف ج خَسِرَالدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃَ ط ذٰلِکَ ھُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ ۔ (الحج : 11) (اور لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو اللہ کی بندگی ایک کنارے پر کھڑے ہوئے کرتے ہیں، پس اگر کوئی انھیں کوئی فائدہ پہنچے تب تو وہ اس سے مطمئن ہوجاتے ہیں اور اگر کوئی آزمائش پیش آگئی تو فوراً ( دین سے) منہ موڑ لیتے ہیں، انھوں نے دنیا بھی کھوئی اور آخرت بھی، یہی تو کھلا ہوا خسارہ ہے۔ ) ہر چیز کے کنارے اور دہانے کو حرف کہتے ہیں۔ حَرْفُ کُلِّ شَیْ ئٍ طَرْفُـہٗ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کے دن کا انکار کرنے والا نیکی کرنے کے معاملہ میں مخلص اور مستقل مزاج نہیں ہوتا۔ انسان اخلاص کے ساتھ نیکی کرے گا تو اسے قیامت کے دن اپنے سامنے پائے گا اگر نمودونمائش کے لیے کرے گا تو دنیا وآخرت میں نقصان پائے گا۔ مشرک، منافق اور قیامت پر یقین نہ رکھنے والے کی یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس وقت تک کرتا ہے جب تک اسے کوئی فائدہ پہنچتا ہے۔ اگر اسے فائدہ حاصل ہو تو اللہ کی عبادت میں لگا رہتا ہے۔ اگر اسے کوئی آزمائش آجائے تو وہ الٹے پاؤں پھرجاتا ہے۔ ایسے لوگ دنیا اور آخرت میں نقصان اٹھائیں گے۔ یہ ایسا کھلا اور بڑا نقصان ہے جس کی تلافی ممکن نہیں۔ پہلے پارے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

دین میں مضطرب لوگ : 1 1: وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّعْبُدُ اللّٰہَ عَلٰی حَرْفٍ (اور بعض آدمی اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرتے ہیں جیسے وہ کنارے پر کھڑے ہیں) دین کے ایک کنارے پر نہ اس کے درمیان اور مرکز میں۔ یہ درحقیقت ایک مثال ہے کہ وہ اپنے دین کے متعلق قلق و اضطراب کا شکار ہیں۔ سکون و اطمینان میسر نہیں۔ نحو : یہ حال ہے ای مضطربًا۔ فَاِنْ اَصَابَہٗ خَیْرُ (اگر ان کو کوئی بھلائی پہنچ گئی) جسمانی صحت اور معیشت میں وسعت اطْمَاَنَّ (تو اس نے قرار پالیا) قرار پکڑا اور پر سکون ہوا۔ بِہٖ (اس پر) اس بھلائی پر جو اس کو میسر ہوئی یا اس دین پر پس اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے لگا۔ وَاِنْ اَصَابَتْہُ فِتْنَۃُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

11۔ ومن الناس من یعبداللہ علی حرف، ان آیات کا نزول ان بدوی دیہاتیوں کے متعلق ہوا جو صحرا کو چھوڑ کر مدینے میں آکر مسلمان ہوجاتے اور وہی رہ پڑتے۔ اگر قیام مدینہ کے زمانے میں ان کی صحت درست رہتی، بیویوں کے کے لڑے پیدا ہوتے اور گھوڑیوں کے خوبصورت بچھڑے ہوتے تو کہتے یہ اچھا مذہب ہے اور اس سے مجھے بڑافائدہ ہوا اور اگر اس کے خلاہوتا یعنی ان کی صحت بگڑجاتی، عورتوں کے ہاں لڑکیاں پیدا ہوتیں تو کہتے کہ ہم اس مذہب میں داخل ہوئے ہم کو کوئی بھلائی حاصل نہیں ہوئی۔ یہ کہہ کر اسلام سے مرتد ہوجاتے اور اسلام سے منہ موڑ لیتے۔ یہی فتنہ ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ومن الناس من یعبداللہ علی حرف۔ بعض اہل تفسیر نے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 11–13

11۔ 13:۔ صحیح بخاری ‘ مصنف ابن ابی شیبہ ‘ تفسیر ابن المنذر ‘ تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ 2 ؎ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ مدینہ منورہ کے آس پاس کے کچھ دیہاتی لوگ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آن کر اسلام لے آتے تھے اور پھر اپنے اپنے گاؤں کو چلے جاتے تھے ‘ گاؤں میں چلے جانے کے بعد اگر ان کے مال یا اولاد میں کچھ ان کو بہبودی نظر آتی تھی تو اسلام پر قائم رہتے تھے اور کہتے تھے بلاشک یہ دین اچھا ہے اور اگر اسلام کے بعد اتفاق سے کوئی سختی پیش آتی تھی تو اسلام کی مذمت کرنے لگتے تھے اور اسلام سے پھرجاتے تھے ایسے لوگوں کی شان میں اللہ تعالیٰ نے یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 11–13

آیت 11 یعنی لوگوں میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو ضعیف الایمان ہے جس کے دل میں ایمان داخل نہیں ہوا، ایمان کی بشاشت اس کے دل میں جاگزیں نہیں ہوئی۔ بلکہ وہ یا تو خوف سے ایمان لایا ہے یا محض عادت کی بنا پر اور وہ بھی اس طریقے سے کہ وہ سختیاں برداشت کرنے کی ہمت نہیں رکھتا۔ (فان اصابہ خیر اطمان بہ) یعنی اگر اسے وافر رزق مل رہا ہے اور اسے کوئی تکلیف نہیں پہنچی، تو وہ ایمان پر نہیں، بلکہ پہنچنے والی بھلائی پر مطمئن ہوتا ہے۔۔۔. اور اللہ تعالیٰ بسا اوقات اسے عافیت میں رکھتا ہے اور اسے ایسے فتنوں میں مبتلا نہیں کرتا جو اسے اس کے دین سے پھیر دیں۔ (وان اصابتہ فتنٓ) اس کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے یا کوئی محبوب چیز…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 6–18

قرآن میں سجدہ ہائے تلاوت کی تعداد ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ سلف اور فقہاء امصار کا سورة حج کے پہلے سجدے کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے سب کا قول ہے کہ پہلا سجدہ واجب ہے البتہ سورة حج کے دوسرے سجدے نیز مفصل یعنی سورة قاف سے لے کر آخر قرآن تک کے سجدوں کے متعلق اختلاف رائے ہے۔ ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ قرآن میں چودہ سجدے ہیں۔ ان میں سے ایک سورة حج کا پہلا سجدہ اور مفصل کے تین سجدے ہیں۔ سفیان ثوری کا بھی یہی قول ہے۔ امام مالک کا قول ہے کہ قرآن کے عزائم سجود یعنی واجب سجدے گیارہ ہیں۔ مفصل کے اندر کوئی سجدہ نہیں ہے۔ لیث بن سعد کا قول ہے :” میرے نزدیک یہ بات مستحب ہے کہ قرآن میں تمام مقامات سجود پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 10–11

25 اور اللہ کبھی ظلم نہیں کرتا اپنے بندوں پر : بلکہ وہ تو کرم ہی کرم فرماتا ہے مگر اس کا کیا کیا جائے کہ بندے خود اس سے منہ موڑ لیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اللہ اپنے بندوں پر کبھی ظلم نہیں کرتا۔ نہ وہ کسی کو بغیر جرم کے سزا دیتا ہے اور نہ کسی کو اس کے جرم سے زیادہ سزا دیتا ہے۔ اور نہ ہی وہاں اس کا کوئی خدشہ اور امکان ہے کہ جرم کسی کا ہو اور سزا کسی اور کو ملے۔ سو ایسی کوئی بھی صورت وہاں متصور نہیں۔ مگر وہ کسی مجرم کو اس کے جرم کی سزا دیئے بغیر چھوڑتا بھی نہیں کہ یہ اس کی شان عدل کے تقاضوں کیخلاف ہے۔ لہذا اب تم لوگ اپنے ہاتھوں کی کمائی کا بھگتان بھگتو ۔ والعیاذ باللہ -

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 5–13

مرنے کے بعد زندہ ہونے کے ثبوت تشریح : جب انسان نے خود پر غور کیا تو معلوم ہوا یہ تو بڑی ہی عجیب و غریب فیکٹری ہے۔ جس میں جدید سائنس کی رو سے ایک سو چھبیس عناصر شامل ہیں۔ آگ ‘ پانی ‘ ہوا ‘ مٹی ‘ ہائیڈروجن ‘ ریڈیم ‘ کاربن ‘ نائٹروجن وغیرہ وغیرہ اور یہی اجزا ہر جاندار چرند پرند غرض ذی روح اور غیر ذی روح سب انہیں کا مرکب ہیں۔ فرق انسان میں اور باقی تمام مخلوقات میں صرف یہ ہے کہ انسان کو رب العزت نے علم اور ارادہ دیا ہے جو کہ اور کسی بھی مخلوق کو نہیں دیا گیا اور اسی وجہ سے انسان اشرف المخلوقات کہلایا۔ اسی علم کی وجہ سے آج انسان کو یہ نکتہ معلوم ہوا کہ انسان کی تخلیق میں ڈارون کا اصول غلط ہے۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 11–22

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف دین یا مذہب وہ راستہ اور طریقہ ہے جسے اختیار کرکے بندہ اپنے مالک کی رضا مندی اور خوشنودی حاصل کرتا ہے ، یہ اسلام ہے مگر کفر نے الگ سوچ دی ہے ہر کافرانہ رسم کے ساتھ کوئی دنیا کا فائدہ جوڑ دیا گیا ہے یا کسی دنیاوی نقصان سے بچنے کا تصور چناچہ کافر کا دین بھی دنیا حاصل کرنے کا ایک ذریعہ بن گیا تو فرمایا بعض لوگ اسلام بھی اسی انداز سے قبول کرتے ہیں اور عبادات اس لیے کرتے ہیں کہ انہیں دنیا کے فوائد حاصل ہوں گے حالانکہ دنیا کا اپنا ایک نظام ہے جس میں روزی ، عمر ، صحت وبیماری ، عزت وذلت ، اپنے اپنے نصیب سے حالات پیش آتے رہتے ہیں ، فرق صرف یہ پڑتا ہے کہ مومن پر بظاہر مصبیت…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 9 ۔ یعنی دین کے اندر نہیں آتا بلکہ کنارے یا بالفاظ دیگر کفر و اسلام کی سرحد پر کھڑا ہو کر اللہ تعالیٰ کی بندگی کرتا ہے۔ جیسے کوئی لشکر کے کنارے پر رہے۔ اگر فتح ہو تو ساتھ آملے اور شکست ہو تو بھاگ جائے۔ یہ اس کیفیت کا ذکر ہے جو تذبذب اور دلی بےاطمینانی سے حاصل ہوتی ہے۔ یہ آیت ان اعزاب (بادیہ نشین) کے بارے میں نازل ہوئی جو صحرا سے ہجرت کرکے آتے پھر اگر جان و مال میں برکت ہوتی تو اسلام پر بڑے اطمینان کا اظہار کرتے اور اگر تکلیف اور دکھ میں مبتلا ہوجاتے تو مرتد ہو کر واپس بھاگ جاتے۔ بعض ” مئولفۃ القلوب “ کی بھی یہی کیفیت تھی۔ (کبیر) 10 ۔ یعنی مرتد ہوگیا اور پھر کفرو شرک کی طرف پلٹ گیا۔ 1 ۔ آخرت…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(22:11) علی حرف۔ حرف بمعنی کنارہ۔ رخ، احرف حروف جمع۔ یعنی وہ دائرہ دین کے وسط میں نہیں بلکہ کفرو اسلام کی سرحد پر کھڑا ہو کر بندگی کرتا ہے یعنی متذبذب حالت میں۔ خسر۔ اس نے گھاٹا پایا۔ وہ خسارہ میں رہا۔ خسر خسار و خسران مصدر۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 11–16

لغات القرآن آیت نمبر 11 تا 16 : حرف (کنارہ) ‘ اصاب (پہنچ گیا) ‘ انقلب (پلٹ گیا) ‘ الضلال البعید (دور کی گمراہی۔ انتہا درجہ کی گمراہی) ‘ اقرب (زیادہ قریب) ‘ المولی (دوست) ‘ العشیر (ساتھی۔ رفیق) ‘ یظن (وہ گمان کرتا ہے) ‘ یمدد (وہ باندھتا ہے) ‘ یقطع (وہ کاٹتا ہے) ‘ کید (تدبیر) یغظ (غصہ دلاتا ہے) ‘ تشریح آیت نمبر 11 تا 16 : دنیا میں ہر شخص کسی نہ کسی ڈھنگ سے اچھی یا بری زندگی گذار ہی لیتا ہے۔ وہ زندگی میں کامیاب ہونے کے لیے خوب محنت کرتا ہے۔ بھاگ دوڑ میں لگا رہتا ہے کوئی کامیاب ہوتا ہے اور کسی کو زندگی بھر حسرتوں کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ دیکھا یہ جاتا ہے کہ اس کے ہر عمل کے پیچھے اعتقاد اور یقین…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 11–13

(ف 1) شان نزول۔ صحیح و بخاری وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس کی روایت ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے کہ مدینہ منورہ کے آس پاس کے کچھ دیہاتی لوگ نبی ﷺ کی خدمت میں آن کر اسلام لے آتے تھے اور پھر اپنے اپنے گاؤں کو چلے جاتے تھے گاؤں میں چلے جانے کے بعد اگر ان کے مال یا اولاد میں کچھ ان کو بہبودی نظر آتی تھی تو اسلام پر قائم رہتے تھے اور کہتے تھے بلاشک یہ دین اچھا ہے اور اگر اسلام کے بعد اتفاق سے کوئی سختی آجاتی تو اسلام کی مذمت کرنے لگتے تھے اور اسلام سے پھرجاتے تھے ایسے لوگوں کے حق میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں جس کا مطلب یہ ہے کہ بعضے دیہاتی لوگوں کے دائرہ اسلام میں داخل ہونے کا طریقہ یہ ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 7–11

[10] یعنی اللہ کی بندگی تو کرتا ہے مگر دل کے جماؤ سے نہیں۔ اس کی حالت اس مذبذب آدمی کے مانند ہے جو کسی فوج کے کنارے پر کھڑا ہو۔ اگر فتح ہوتی دیکھے تو ساتھ آ ملے اور شکست ہوتی دیکھے تو چپکے سے کھسک جائے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 9–12

(ف 1) مشرکین کا ایک طبقہ وہ ہوتا ہے جنہیں کچھ تو اللہ سے تعلق ہوتا ہے اور کچھ اپنے بتوں اور دیوتاؤں سے ، کبھی وہ خانقاہ ہیں سر بسجود نظر آتے ہیں ، اور کبھی صحن مسجد میں کبھی خدا کے سامنے جھکتے ہیں ، کبھی اپنے دیوتاؤں کی شرن میں ، انہیں اگر خدا کی عبادت پر آمادہ بھی کیا جائے ، تو وہ صرف آزمائش وامتحان کی حد تک قائم رہتے ہیں ، یعنی جب تک ان کی سنی گئی اور کام ہوتے رہے ، خدا کو مانتے رہے اور اس کا شکریہ ادا کرتے رہے ، اور جہاں اللہ تعالیٰ نے ذرا امتحان میں ڈال دیا ، جھٹ سے الگ ہوگئے کہ خدا ہماری نہیں سنتا یہ بدبخت نہیں جانتے کہ خدا آزمائشوں اور تجربوں سے بالا ہے ، وہ اگر ہماری آرزوؤں کو سن…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(11) اور لوگوں میں سے کوئی شخص ایسا بھی ہے جو اللہ تعالیٰ کی عبادت اسی طرح کرتا ہے جیسے کوئی کسی چیز کے کنارے پر کھڑا ہوا ہو پھر اس کو دنیوی نفع پہنچ گیا تو اس نفع کی وجہ سے ظاہری طور پر ٹھہرا رہا اور دین پر قائم رہا اور اگر اس پر کوئی امتحان و آزمائش آگئی تو اپنے منہ کے بل الٹا پھر گیا۔ ایسے شخص کی حالت یہ ہے کہ وہ دنیا اور آخرت دونوں کھو بیٹھا۔ یہ دونوں جہان کا نقصان یہی تو کھلا ہوا خسارہ اور گھاٹا ہے۔ اس آیت میں منافقوں اور اصحاب اغراض کی حالت بیان فرمائی۔ جیسا کہ بعض دیہاتی لوگ آکر ایمان لاتے تھے اگر ایمان کے بعد اولاد اور مال میں کچھ ترقی ہوجاتی تو دین پر ظاہری طور سے قائم رہتے اور اگر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 7–11

ف 7۔ یہ امور مذکورہ کی حکمت ہیں، یعنی ہم نے وہ تصرفات مذکورہ اس لئے ظاہر کئے کہ اس میں منجملہ اور حکمتوں کے ایک حکمت اور غایت یہ تھی کہ ہم کو قیامت کا لانا اور مردوں کو زندہ کرنا منظور تھا، تو ان تصرفات سے ان کا امکان لوگوں پر ظاہر ہوجاوے گا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اب ان دوگلی پالیسی والوں کو ذکر ہورہا ہے جو انہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے : 11۔ اسلام کی نظر میں دنیا کے سارے لوگ تین گروہوں میں تقسیم کئے گئے ہیں ۔ ایک گروہ وہ ہے جو سچے دل سے اسلام کو قبول کرتا ہے اور دوسرا گروہ وہ ہے جو کھلا مخالف ہے اور اس کی مخالفت کوئی چھپی ہوئی بات نہیں بلکہ سب لوگ جانتے ہیں کہ یہ لوگ اسلام کے خلاف ہیں لیکن ایک تیسرا گروہ وہ ہے جو بظاہر اسلام لے آتا ہے لیکن اندر سے وہ کفر کو پسند کرتا اور ان لوگوں کے ساتھ دلی تعلق رکھتا ہوا نظر آتا ہے ۔ اس گروہ کے لوگ زبان سے اسلام کے اقراری ہوتے ہیں اور مسلمانوں کے ساتھ اس کی رسم و رواج اور عبادات تک میں شریک ہوتے ہیں لیکن ان کی یہ شرکت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 11–14

Commentary (And among men there is one who worships Allah (standing) on the verge - 22:11.) Bukhari and Ibn Abi Haim have related from Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ that when the Holy Prophet ﷺ migrated to Madinah, people flocked to him and accepted the new religion. But there were some among them whose conversion to Islam was far from being genuine, and whose sole motive for their action was to seek self-advancement, and they lacked conviction. If, after becoming Muslims, favorable circumstances resulted in an increase in their prosperity and their children, they thought Islam was a very good…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 11–12

15. This type of man is a time server, who stands on the boundary line between Islam and kufr so that he may join the winning side whether it be Islam or kufr. 16. As this type of man has a weak character and wavers between kufr and Islam he becomes the slave of his self. He accepts Islam for the sake of self interest. He is faithful to it if all his wishes are fulfilled and he has a life of ease and comfort, he is well-pleased with his Allah and is firm in his faith. On the contrary, if his faith demands some sacrifice from him, or he is visited by some affliction, or encounters some…

Read the full tafseer →