Explained with ayahs 77–78
سورة حج کو دوسجدوں کی فضلیت حاصل ہے
اس دوسرے سجدے کے بارے میں دو قول ہیں۔ پہلے سجدے کی آیت کے موقعہ پر ہم نے وہ حدیث بیان کردی ہے جس میں ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا " سورة حج کو دو سجدوں سے فضیلت دی گئی جو یہ سجدے نہ کرے وہ یہ پڑھے ہی نہیں "۔ پس رکوع سجدہ عبادت اور بھلائی کا حکم کرکے فرماتا ہے۔
امت مسلمہ کو سابقہ امتوں پر فضیلت
اپنے مال، جان اور اپنی زبان سے راہ اللہ میں جہاد کرو اور حق جہاد ادا کرو۔ جیسے حکم دیا ہے کہ اللہ سے اتنا ڈرو جتنا اس سے ڈرنے کا حق ہے، اسی نے تمہیں برگزیدہ اور پسندیدہ کرلیا ہے۔ اور امتوں پر تمہیں شرافت و کرامت عزت و بزرگی عطا فرمائی۔ کامل رسول اور کامل شریعت سے تمہیں…
Read the full tafseer →سوْرَةُ الْحَجّ 128
جہاد سے مراد محض " قتال " (جنگ) نہیں ہے، بلکہ یہ لفظ جد و جہد اور کشمکش اور انتہائی سعی و کوشش کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ پھر جہاد اور مجاہد میں یہ مفہوم بھی شامل ہے کہ مزاحمت کرنے والی کچھ طاقتیں ہیں جن کے مقابلے میں یہ جد و جہد مطلوب ہے۔ اور اس کے ساتھ فی اللہ کی قید یہ متعین کردیتی ہے کہ مزاحمت کرنے والی طاقتیں وہ ہیں جو اللہ کی بندگی اور اس کی رضا جوئی میں، اور اس کی راہ پر چلنے میں مانع ہیں، اور جد و جہد کا مقصود یہ ہے کہ ان کی مزاحمت کو شکست دے کر آدمی خود بھی اللہ کی ٹھیک ٹھیک بندگی کرے اور دنیا میں بھی اس کا کلمہ بلند اور کفر و الحاد کے کلمے پست کردینے کے لیے جان…
Read the full tafseer →وَجَاهِدُوْا فِي اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ ، لفظ جہاد اور مجاہدہ کسی مقصد کی تحصیل میں اپنی پوری طاقت خرچ کرنے اور اس کے لئے مشقت برداشت کرنے کے معنے میں آتا ہے۔ کفار کے ساتھ قتال میں بھی مسلمان اپنے قول فعل اور ہر طرح کی امکانی طاقت خرچ کرتے ہیں اس لئے اس کو بھی جہاد کہا جاتا ہے اور حق جہاد سے مراد اس میں پورا اخلاص اللہ کیلئے ہونا ہی ہے جس میں کسی دنیوی نام و نمود یا مال غنیمت کی طمع کا شائبہ نہ ہو۔
حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ حق جہاد یہ ہے کہ جہاد میں اپنی پوری طاقت خرچ کرے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت پر کان نہ لگائے۔ اور بعض حضرات مفسرین نے اس جگہ جہاد کے معنی عام عبادات اور احکام…
Read the full tafseer →روحانی تیاری کے ساتھ عملی جدوجہد کی ہدایت
ماجاھدوا فی اللہ حق جھادہ اوپر کی اخلاقی و روحانی تیاری کے ساتھ ساتھ یہ پورے تن من دھن کے ساتھ عملی جدوجہد کی ہدایت ہوئی۔ جہاد سے مراد یہاں قتال نہیں ہے۔ وہ مشروط بشرائط و حالات ہے۔ اس کا ذکر آیات 41-38 میں گزر چکا ہے۔ یہاں اس سے مراد ہر وہ جدوجہد ہے جو اللہ کے کلمہ کو بلند کرنے کے لئے بندے کے امکان میں ہو۔
فی اللہ میں مضاف محذوف ہے یعنی فی سبیل اللہ اور حق جھادہ سے مقصود یہ تنبیہ ہے کہ یہ جدوجہد نیم دلی اور کمزوری کے ساتھ مطلوب نہیں ہے بلکہ اس کے لئے جی جان کی بازی لگا دی جائے۔
ھواجتبکم وما جعل علیکم فی الدین من حرج یعنی جو خدا تم سے اس جہاد کا…
Read the full tafseer →78۔ 1 اس جہاد سے مراد بعض نے وہ جہاد اکبر لیا ہے جو اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے کفار و مشرکین سے کیا جاتا ہے اور بعض نے ادائے امر الٰہی کی بجاآوری، کہ اس میں بھی نفس امارہ اور شیطان کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ اور بعض نے ہر وہ کوشش مراد لی ہے جو حق اور صداقت کے غلبے اور باطل کی سرکوبی۔
78۔ 2 یعنی ایسا حکم نہیں دیا گیا جس کا متحمل نفس انسانی نہ ہو بلکہ پچھلی شریعتوں کے بعض سخت احکام بھی اس نے منسوخ کردیئے علاوہ ازیں بہت سی آسانیاں مسلمانوں کو عطا کردیں جو پچھلی شریعتوں میں نہیں تھیں۔
78۔ 3 عرب حضرت اسماعیل ؑ کی اولاد سے تھے، اس اعتبار سے حضرت ابراہیم ؑ عربوں کے باپ تھے اور غیر عرب بھی حضرت ابراہیم ؑ…
Read the full tafseer →35: جہاد کے لفظی معنی جد و جہد اور کوشش کے ہیں، اور یہ لفظ دین کے راستے میں ہر کوشش کو شامل ہے۔ اس میں مسلح جد و جہد یعنی اللہ کے راستے میں جنگ کرنا بھی داخل ہے، پر امن جد و جہد بھی، اور انسان اپنی اصلاح کے لیے جو محنت کرے، وہ بھی۔
36: آنحضرت صلی اللہ علیہ اپنی امت کے مومنوں کے حق میں گواہی دیں گے کہ یہ لوگ ایمان لے آئے یہ مضمون سورة بقرہ : 147 میں گذر چکا ہے وہاں اس کی تشریح دیکھ لی جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
یایھا الذین ……النصیر (47)
ان دو آیات میں ایک پورا منہاج امت مسلمہ کے سامنے رکھ دیا گیا ہے۔ وہ فرئاض اور تقاضے بھی رکھ دیئے جو اس منہاج اور نظام کے ساتھ لازمی شرط کے طور پر لگے ہوئے ہیں۔ اس کی اہمیت کیا ہے ؟ اور ماضی اور حال میں اس کی جڑیں کہاں تک پھیلتی ہیں ، جب اس منہاج اور نظام کو اللہ کی خاہش کے مطابق قائم کردیا گیا ، یہ منہاج کیا ہے ؟
٭ اہل ایمان کو سب سے پہلے رکوع و سجود کا حکم دیا جاتا ہے۔ رکوع و سجود اسلام کے ممتاز بنیادی ارکان ہیں۔ قرآن کریم نماز کی تعبیر اکثر رکوع و سجود سے کرتا ہے کیونکہ یہ نماز کے اہم اجزاء اور نماز کا منظر پیش کرتے وقت ظاہری افعال ہیں جن کا تعلق منظر کشی سے ہے۔…
Read the full tafseer →7 اپنے نفس کو درست رکھنے اور دنیا کو درستی پر لانے کے لیے پوری محنت کرو جو اتنے بڑے اہم مقصد کے شایان شان ہو۔ آخر دنیاوی مقاصد میں کامیابی کیلئے کتنی محنتیں اٹھاتے ہو۔ یہ تو دین کا اور آخرت کی دائمی کامیابی کا راستہ ہے جس میں جس قدر محنت برداشت کی جائے انصافاً تھوڑی ہے (تنبیہ) لفظ " مجاہدہ " میں ہر قسم کی زبانی، قلمی، مالی، بدنی کوشش شامل ہے۔ اور " جہاد " کی تمام قسمیں (جہاد مع النفس، جہاد مع الشیطان، جہاد مع الکفار، جہاد مع البغات، جہاد مع المبطلین) اس کے نیچے مندرج ہیں۔
8 کہ سب سے اعلیٰ و افضل پیغمبر دیا اور تمام شرائع سے اکمل شریعت عنایت کی، تمام دنیا میں خدا کا پیغام پہنچانے کے لیے تم کو…
Read the full tafseer →ہُوَ اجْتَبٰٹکُمْ ”
اب نبوت محمد رسول اللہ ﷺ پر ختم ہوچکی ہے۔ آئندہ جبرائیل علیہ السلام کسی کے پاس وحی لے کر نہیں آئیں گے۔ انہوں نے جو وحی پہچانی تھی پہنچا دی ہے اور اللہ تعالیٰ کے تمام احکام محمد ﷺ نے تم لوگوں تک پہنچا دیے ہیں۔ اب ان احکام کو ‘ اس دعوت کو تمام نوع انسانی تک پہنچانے کے لیے اللہ نے تمہارا انتخاب کیا ہے۔ تمام انسانوں میں سے تمہیں چن لیا گیا ہے ‘ اس عظیم الشان مشن کے لیے تمہارا سلیکشن ہوگیا ہے۔ چناچہ تم اپنے نصیب پر فخر کرو اور اس کام میں لگ جاؤ۔
ہُوَ سَمّٰٹکُمُ الْمُسْلِمِیْنَ لا ”
اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کو ”مسلم“ کا خطاب دیا ہے اور تمہارے جد امجد ابراہیم علیہ السلام نے بھی…
Read the full tafseer →108 جہاد کرنے کا حق یہ ہے کہ دامے، درمے، سخنے ہر طرح سے جہاد کیا جائے۔ جہاد دراصل ہر اس بھرپور کوشش کا نام ہے جو امت دین کے لئے اور اس کی راہ میں رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے کی جائے۔ اس کا پہلا درجہ یہ ہے کہ انسان اپنے نفس سے جہاد کرے اور اسے مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کی مرضی اور اس کے دین کے تابع بنا دے۔ اس کا دوسرا درجہ اپنے اہل و عیال اور گھر بار کو پوری کوشش کے ساتھ اس راہ پر ڈالنا ہے۔ پھر اس کے بعد رشتہ داروں کی باری آتی ہے پھر عام لوگوں کی۔
جہاد کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ جہاں موقع اور ضرورت ہو انسان زبان سے لوگوں کو اس راہ کی طرف دعوت دے اسلام کی تبلیغ اشاعت کرے۔ اور جہاں موقع اور ضرورت ہو تو…
Read the full tafseer →132۔ مطلب یہ ہے کہ دین کے کاموں میں سستی اور بےدلی کو دخل نہ دو ، بلکہ ہر کام اللہ کا کام سمجھ کر پوری مستعدی، توجہ و استحضار قلب اور اخلاص نیت کے ساتھ ہو۔ قال الضحاک یعنی اعملوا بالحق للہ عزوجل (جصاص) قال اکثر المفسرین حق الجھاد ان تکون بینۃ خالصۃ صادقۃ للہ عزوجل (معالم) اے جھاد فیہ حقا خالصا لوجھہ (بیضاوی) (آیت) ” فی اللہ “ کو یہاں للہ کے بھی مرادف لیا گیا ہے۔ اے للہ من اجلہ (بیضاوی) (آیت) ” حق جہادہ “۔ کی ترکیب معکوس سمجھی گئی ہے اور حق کی اضافت جھاد کی طرف تاکید اور زور کلام کے لیے خیال کی گئی ہے۔ عکس واضیف الحق الی الجھاد مبالغۃ (بیضاوی) صوفیہ عارفین نے لکھا ہے کہ یہ آیت ہر قسم کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–78
آیت نمبر 73 تا 78
ترجمہ : اے لوگو ! یعنی مکہ والو ایک عجیب بات بیان کی جاتی ہے اس کو کان لگا کر سنو اور وہ بات یہ ہے کہ اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ جن کو تم خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو یعنی بندگی کرتے ہو غیر اللہ کی وہ بت ہیں وہ ایک مکھی کو تو پیدا کر ہی نہیں سکتے ذباب اسم جنس ہے اس کا واحد ذبابہ ہے اس کا اطلاق مذکر اور مؤنث دونوں پر ہوتا ہے گو اس تخلیق کے لئے سب کے سب جمع ہوجائیں اور اگر ان سے مکھی کچھ چھین لیجائے اس میں سے جو ان پر خوشبو اور زعفران لگی ہوئی ہے (جس میں وہ لتھڑے ہوئے ہوتے ہیں) تو اس کو وہ ان سے واپس نہیں لے سکتے ان کے عاجز ہونے کی وجہ سے، پھر کیوں بندگی کرتے ہیں (ان کی) اللہ کا…
Read the full tafseer →وجاہدوا فی اللہ حق جہادہ اور اللہ کے (راستہ) میں کوشش کرو۔ جیسی کوشش کرنے کا حق 1 ہے۔
جہد بالضم وسعت ‘ طاقت ‘ جَہد بالفتح مشقت ‘ بعض اہل لغت کے نزدیک جہد کا معنی ہے انتہائی کوشش۔ بعض کے نزدیک جہد اور جہد دونوں کے معنی ہیں وسعت اور طاقت لیکن مشقت اور انتہائی کوشش کے لئے صرف لفظ جہد کا استعمال ہوتا ہے جہاد اور مجاہدہ (باب مفاعلۃ) جہد سے ہی بنا ہے۔ یعنی طرفین سے انتہائی کوشش و مشقت۔ دشمن سے جنگ کرنے میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ طرفین سے غالب آنے کی انتہائی کوشش ہوتی ہے اور ہر فریق اپنی انتہائی وسعت و طاقت صرف کرتا ہے اور قولی و عملی جہاد کرتا ہے۔
فِی اللّٰہ یعنی اللہ کی راہ میں دین کو سربلند کرنے…
Read the full tafseer →(78) بلکہ اللہ کے کام میں خوب کوشش کیا کرو جیسا کہ کوشش کرنے کا حق ہے اسی نے تمہیں اپنے دین کے لیے منتخب فرمایا اور تم پر دین میں کسی قسم کی کوئی تنگی نہیں کی مثلا فرمایا کہ جو کھڑے ہونے کی طاقت نہ رکھے وہ بیٹھ کر نماز پڑھ لے اور جس میں بیٹھ کر بھی نماز پڑھنے کی طاقت نہ ہو وہ سیدھے لیٹ کر اشارہ سے پڑھ لے تم اپنے باپ حضرت ابراہیم ؑ کی ملت کا اتباع کرو اس اللہ نے قرآن کریم کے نزول سے پہلے کتب انبیاء کرام ؑ میں تمہارا لقب مسلمان رکھا اور اس قرآن میں بھی تاکہ رسول اکرم ﷺ تمہاری گواہی دینے اور تصدیق کرنے والے ہوں اور تم انبیاء کرام ؑ کے لیے ان کی قوموں کے مقابلہ میں گواہ ہو، لہذا پانچوں نمازوں کو…
Read the full tafseer →ڋوَجَاهِدُوْا فِي اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ : ”جِهَادِ“ ”جَھَدَ یَجْھَدُ“ (ف) میں سے باب مفاعلہ کا مصدر ہے۔ اس کا معنی ہے کسی کے مقابلے میں اپنی پوری کوشش صرف کرنا۔ یہ لفظ اصل میں اللہ کے راستے میں لڑائی کے متعلق بولا جاتا ہے، یہاں یہی مراد ہے، کیونکہ یہی سورة مبارکہ ہے جس میں سب سے پہلے کفار سے لڑنے کی اجازت دی گئی اور لڑنے والوں کو اللہ کی نصرت کی خوش خبری دی گئی۔ دیکھیے اس سورت کی آیت (39) ”ۧاُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا۔“ اب اس آیت میں اذن سے بڑھ کر جہاد کا حکم دے دیا ہے۔ (ابن عاشور) ویسے جہاد کا لفظ ہر اس کوشش پر بھی بولا جاتا ہے جو کفار کے مقابلے میں اسلام کی…
Read the full tafseer →فرمایا : اس سے تمام اوامر کی اطاعت کرنے اور تمام نواہی سے بازر ہنے کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی اللہ کی اطاعت میں خواہش نفس کو رد کرنے میں اپنے نفسوں سے جہاد کرو اور شیطان کے وسوسوں کو دور کرنے میں شیطان سے جہاد کرو اور ظالموں کے ظلم کو رد کرنے کے لئے ظالموں سے جہاد کرو اور کافروں کے کفر کو روکنے کے لئے کافروں سے جہاد کرو۔ ابن عطیہ نے کہا : مقاتل نے کہا یہ آیت منسوخ ہے اور اس کی ناسخ فاتقو اللہ ماستطعتم (التغابن :16) ہے اسی طرح ھبۃ اللہ نے کہا : حق جھادہ اور دوسری آیت میں حق تقتہ (آ ل عمران :102) ان اوامر میں استطاعت کی طرف تخفیف کے ساتھ منسوخ ہیں اور نسخ کی تقدیر کی ضرورت نہیں کیوں کہ حکم کی ابتدا…
Read the full tafseer →1۔ ابن مردویہ نے عبدالرحمن بن عوف ؓ سے روایت کیا کہ مجھ کو عمر ؓ نے فرمایا کیا ہم نہیں پڑھتے ہیں آیت وجاہدوا فی اللہ حق جہادہ۔ اس بارے میں جو ہم پڑھتے ہیں کیا آخری زمانہ میں جہاد نہ ہوگا۔ ؟ جیسے تم نے ابتدائی زمانہ میں جہاد کیا۔ میں نے کہا کیوں نہیں ؟ پھر پوچھا یہ جہاد کب ہوگا اے امیر المومنین ! فرمایا جب بنوا میہ امرا ہوں گے اور بنوالمغیرہ وزرا ہوں گے۔
2۔ بیہقی نے دلائل میں مسور بن مخرمہ سے روایت کیا کہ عمر ؓ نے عبدالرحمن بن عوف ؓ سے فرمایا پھر اسی طرح حدیث روایت کی۔
3۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے آیت وجاھدوا فی اللہ حق جہادہ۔ کے بارے میں فرمایا کہ محمد ﷺ کے دشمنوں سے جہاد کرو یہاں تک کہ وہ…
Read the full tafseer →وَجَاهِدُوْا [ اور تم لوگ جدوجہد کرو ] فِي اللّٰهِ [ اللہ (کی راہ ) میں ] حَقَّ جِهَادِهٖ ۭ [ جیسا اس کی جدوجہد کا حق ہے ] هُوَ [ اس نے ] اجْتَبٰىكُمْ [ پسند کیا تم کو ] وَمَا جَعَلَ [ اور اس نے نہیں بنائی ] عَلَيْكُمْ [ تم لوگوں پر ] فِي الدِّيْنِ [ دین میں ] مِنْ حَرَجٍ ۭ [ کوئی بھی تنگی ] مِلَّـةَ اَبِيْكُمْ اِبْرٰهِيْمَ ۭ [ (پیروی کرو) اپنے باپ ابراہیم کے دین کی ] هُوَ [ اس نے ] سَمّٰىكُمُ [ نام رکھا تم لوگوں کا ] الْمُسْلِـمِيْنَ ڏ [ مسلمین (یعنی فرمانبرداری کرنے والے ) ] مِنْ قَبْلُ [ اس سے پہلے ] وَفِيْ ھٰذَا [ اور اس (قرآن ) میں ] لِيَكُوْنَ [ تاکہ ہوجائیں ] الرَّسُوْلُ [ یہ رسول ]…
Read the full tafseer →لفظ جہاد جہد سے مشتق ہے عربی زبان میں محنت و مشقت اور کوشش کو جہد کہا جاتا ہے یہ لفظ اپنے عام معنی کے اعتبار سے ہر اس محنت اور کوشش کو شامل ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے ہو، جہاد جو قتال یعنی جنگ کرنے کے معنی میں مشہور ہے وہ بھی اس محنت اور کوشش کا ایک شعبہ ہے مسلمان اپنے نفس سے جہاد کرتا ہے یعنی نفس کی نا گواریوں کے باو جود نیک کاموں میں لگتا ہے گناہوں کو چھوڑتا ہے نفس روڑے اٹکاتا ہے اور چاہتا ہے کہ جو بھی عمل ہو دنیا داری کے لیے ہو ذاتی شہرت اور حصول جاہ اور لوگوں سے تعریف کرانے کے لیے ہو اس موقعہ پر نفس سے جہاد کرنا ہوتا ہے، پوری طرح اس کے تقاضوں کو دباکر صرف اللہ تعالیٰ کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
خاتمہ سورت برترغیب اعمال و تاکید اعتصام بملت اسلام
قال اللہ تعالیٰ یایھا الذین امنوا ارکعوا واسجدوا .... الیٰ .... ونعم النصیر۔
(ربط) گزشتہ آیات میں شرک کا ابطال اور توحید و رسالت کا اثبات فرمایا اب ان آیات میں مسلمانوں کو اعمال خیر کی ترغیب اور دین اسلام پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہنے کی تاکید اکید فرماتے ہیں جو نجات اور فلاح کا ذریعہ ہیں اور اعمال خیر میں تمام خیرات و صدقات اور مکارم اخلاق اور محاسن اور افضل ترین عمل ہے اور ساتھ ساتھ یہ بتلایا کہ دین اسلام بہت آسان دین ہے اس پر عمل کرنا کوئی مشکل نہیں لہٰذا تم کو چاہئے کہ دن رات سرگرم عبادت رہو۔ اور ملت ابراہیمی پر قائم و دائم رہو اور اللہ کی…
Read the full tafseer →91:۔ ” وَجَاھِدُوْا الخ “ حکم جہاد کی طرف اشارہ۔ مشرکین مکہ تمہیں مسجد حرام سے روکتے ہیں اور خود اس میں شرک کرتے ہیں اس لیے تم ان سے جہاد کرو تاکہ اللہ کی توحید کا بول بالا ہو ہر طرف صرف معبود حق کی عبادت کا چرچا ہو اور دنیا سے شرک نیست و نابود ہوجائے۔ ” ھُوَ اجْتَبٰکُمْ الخ “ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اپنے دین کی تائید و نصرت کے لیے منتخب فرمایا ہے اور دین میں شدت اور تنگی نہیں کی بلکہ احکام میں حسب احوال رخصتوں کی گنجائش بھی رکھی ہے۔ ” مِنْ حَرَجٍ “ ضیق بل رخص لکم فی جمیع ما کلفکم من الطھارۃ والصلوۃ والصوم والحج بالتیمم و با الایماء و بالقصر والافطار لعذر السفر والمرض وعدم الزاد والراحلۃ (مدارک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں مشرکین کی برائی اور قباحت کا ذکر تھا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کو صحیح طریقے پر نہیں پہچانا وہ ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جنہیں کچھ اختیار حاصل نہیں۔ اس ضمن میں اللہ نے معبودان باطلہ کی بےبسی کو مکھی کی مثال دے کر بیان فرمایا کہ وہ تو مکھی جیسی حقیر چیز کو پیدا کرنے پر بھی قادر نہیں ، بلکہ اگر مکھی کوئی چیز چھین لے جائے تو اسے واپس لینے کی طاقت بھی نہیں رکھتے چہ جائیکہ وہ دوسروں کی حاجت براری کریں۔ اللہ کی ساری مخلوق خواہ وہ جاندار ہو یا بےجان اللہ کے سامنے عاجز ہے ، لہٰذا ان میں الوہیت کا پایا جانا بعید از قیاس ہے۔ مشرکین کی طرف سے ان کی پرستش نہایت ہی بےوقوفی کی…
Read the full tafseer →وَجَاہِدُوْا فِي اللہِ حَقَّ جِہَادِہٖ 0 ۭ ہُوَاجْتَبٰىكُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّيْنِ مِنْ حَرَجٍ 0ۭ مِلَّـۃَ اَبِيْكُمْ اِبْرٰہِيْمَ 0ۭ ہُوَسَمّٰىكُمُ الْمُسْلِـمِيْنَ 0ۥۙ مِنْ قَبْلُ وَفِيْ ھٰذَا لِيَكُوْنَ الرَّسُوْلُ شَہِيْدًا عَلَيْكُمْ وَتَكُوْنُوْا شُہَدَاۗءَ عَلَي النَّاسِ 0 ۚۖ فَاَقِيْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّكٰوۃَ وَاعْتَصِموْا بِاللہِ 0ۭ ہُوَمَوْلٰىكُمْ 0ۚ فَنِعْمَ الْمَوْلٰى وَنِعْمَ النَّصِيْرُ 78ۧ
جهد
الجَهْدُ والجُهْد : الطاقة والمشقة، وقیل : الجَهْد بالفتح : المشقة، والجُهْد : الوسع .
وقیل : الجهد للإنسان، وقال تعالی: وَالَّذِينَ لا يَجِدُونَ إِلَّا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–78
بتوں کی حقیقت تو معلوم ہوگئی اب رہے وہ لوگ کہ جو خدا کے برگزیدہ ہیں ملائکہ و انبیاء جن کو کہ اکثر بت پرست یا مشرکین پوجتے ہیں اور معبود حقیقی کے برابر ان کے درجات تسلیم کر کے ان سے حاجات کا سوال کرتے ہیں جیسا کہ عیسائی حضرت مسیح (علیہ السلام) کو اور ہنود اپنے بزرگوں کو آج کل کے جاہل مسلمان اولیائِ کرام اور بزرگان دین کو پوجتے ہیں اور عرب کے مشرکین اور صائبین ملائکہ کو پوجتے تھے پس ان کی نسبت فرماتا ہے اللہ یصطفٰی من الملائکۃ رسلاومن الناس کہ ملائکہ اور لوگوں میں سے جو ممتاز اور رسول ہیں ان کو بھی تو اللہ ہی نے برگزیدہ کیا ہے یعنی ان کے کمالات اپنے گھر کے نہیں ان کی بزرگی اللہ کی عطا کی ہوئی…
Read the full tafseer →وَجَاھِدُوْافِی اللّٰہِ حَقَّ جِھَادِہٖ ط ھُوَاجْتَبٰکُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَیْکُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حََرَجٍ ط مِلَّۃَ اَبِیْکُمْ اِبْرٰھِیْمَ ط ھُوَسَمّٰکُمُ الْمُسْلِمِیْنَ 5 لا مِنْ قَبْلُ وَفِیْ ھٰذَا لِیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ شَھِیْدًا عَلَیْکُمْ وَتَکُوْنُوْاشُھَدَآئَ عَلَی النَّاسِصلے ج فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ وَاعْتَصِمُوْابِاللّٰہِط ھُوَ مَوْلٰکُمْ ج فَنِعْمَ الْمَوْلٰی وَنِعْمَ النَّصِیْرُ ۔
(الحج : 78)
(اور اللہ کی راہ میں سرتوڑ کوشش کرو جس طرح کوشش کرنے کا حق ہے۔ اس نے تم کو چن لیا ہے (حق کی پاسبانی اور اشاعت کے لیے) اور دین کے معاملے میں اس نے تم پر کوئی تنگی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : پچھلی آیت کے آخر میں حکم ہے کہ نیکی کے کام کرتے رہو۔ اب حکم ہوا ہے کہ نیکی پوری محنت سے کرو اور نیکی ملّت ابراہیم اور نبی آخر الزّمان کے طریقہ کے مطابق ہونی چاہیے۔ اس کے لیے کوشش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
جہاد کا لفظ ” جُہَدْ “ سے نکلا ہے جس کے معنی ہے ” کوشش کرنا “ مسلم اور غیر مسلم کی کوشش میں بنیادی فرق یہ ہے کہ غیرمسلم کی کوشش صرف دنیا کے لیے ہوتی ہے ایسا شخص بظاہر نیکی کا کام بھی کرے تو اس کے پیچھے بھی دنیا کا مقصد کار فرما ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں مسلم کی یہ خوبی ہے کہ وہ جو کچھ کرتا ہے اپنے رب کے حکم کے مطابق اور اس کی رضا کے حصول کی خاطر کرتا ہے۔ کیونکہ اس کو حکم…
Read the full tafseer →78: وَجَاھِدُوْا ( اور تم جہاد کرو) اس میں غزوہ کا حکم دیا۔ نمبر 2۔ نفس و خواہشات سے جہاد کرو اور یہ جہاد اکبر ہے۔ نمبر 3۔ سچی بات ظالم حکمران کے سامنے کرنا۔ فِی اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کی خاطر) اللہ تعالیٰ کی ذات کی خاطر اور اسی کے سبب سے۔ حَقَّ جِھَادِہٖ جیسا جہاد کا حق ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈرا جائے محاورہ میں کہا جاتا ہے : ھو حق عالم وجدّ عالم ای عالم حقًا وجدًا ( وہ زبردست عالم ہے) حق جھادہٖ اسی سے ہے قیاس کا تقاضا یہ تھا حق الجھاد فیہ یا حق جھادکم فیہ۔ حقیقی جہاد تمہارا اس میں ہے۔ لیکن اضافت ادنیٰ ملا مست کی وجہ سے کردی جاتی ہے۔ اور…
Read the full tafseer →وجاھدوا فی اللہ حق جھادہ کی تفسیر۔
78۔ وجاھدوا فی اللہ حق جھادہ۔ اللہ کے راستے میں دشمن کے خلاف لڑنا جیسا کہ لڑنے کا حق ہے اتنی طاقت کے ساتھ لڑنا کہ اپنی آخری حد تک کی طاقت لگ جائے۔ ابن عباس کا قول ہے کہ اللہ کے دین میں کسی برا کہنے والے کی ملامت سے نہ ڈرنا ہی حق جہاد ہے۔ جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے، یجاھدون فی سبیل اللہ ولایخافون لومۃ لائم، ضحاک اور مقاتل کا بیان ہے کہ اللہ کے لیے کام کرو، جیسا کہ کام کرنے کا حق ہے اور اس کی عبادت کرو جیسا کہ عبادت کا حق ہے مقاتل بن سلیمان کا بیان ہے کہ یہ اس آیت سے منسوخ ہے، فاتقواللہ ماستطعتم۔
اکثر مفسرین کا قول ہے کہ حق جہاد یہ ہے کہ نیت خالص اللہ کے لیے ہو۔…
Read the full tafseer →78:۔ جہاد کے معنی محنت ومشقت کے ہیں ‘ خواہ وہ محنت ومشقت دین کی لڑائی میں ہو یا دین کے اور کاموں میں ہو ‘ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوسعید خدری ؓ کی روایت کئی جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ‘ ضعف اسلام کے سبب سے جہاں مسلمانوں کو ہاتھ پیر سے دین کی لڑائی کے لڑنے اور خلاف شریعت بات کے مٹانے کی قوت نہ ہو تو زبانی نصیحت سے خلاف شریعت بات کو مٹانے کی کوشش کی جاوے اگر یہ قوت بھی نہ ہو تو ایماندار شخص کے لیے یہ ضعیف درجہ ایمان کا ہے کہ اس خلاف شریعت بات کو دل سے برا جانے ‘ اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے کہ اس ضعف اسلام کے زمانہ میں زبانی وعظ ونصیحت کی محنت ومشقت کا بار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
آیت 77
اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو نماز کا حکم دیتا ہے اور اس نے رکوع و سجود کا، ان کی فضیلت اور ان کے رکن نماز ہونے کی بنا پر خاص طور پر ذکر کیا ہے۔ نماز اس کی عبادت ہے جو آنکھوں کی ٹھنڈک اور غمزدہ دل کے لئے تسلی ہے۔ اس کی ربوبیت اور بندوں پر اس کا احسان ان سے تقاضا کرتے ہیں کہ وہ عبادت کو اس کے لئے خالص کریں۔ نیز اللہ تعالیٰ عمومی طور پر ان کو بھلائی کے کاموں کا حکم دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے فلاح کا انہی امور سے وابستہ کیا ہے، چناچہ فرمایا : (لعلکم تفلحون) یعنی تم اپنے مطلوب و مرغوب کے حصول اور ناپسندیدہ اور خوفناک امور سے نجات پانے میں کامیاب ہوجاؤ گے۔ پس اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–78
جہاد فی سبیل اللہ
قول باری ہے (وجاھدوا فی اللہ حق جھادہ ھوا جتبکم وما جعل علیکم فی الدین من حرج ملۃ ابیکم ابراہیم اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ جہاد کرنے کا حق ہے اس نے تمہیں اپنے کام کے لئے چن لیا ہے اور دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔ قائم ہو جائو اپنے باپ ابراہیم کی ملت پر) ایک قول کے مطابق آیت کا مفہوم یہ ہے کہ ” اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ جاد کرنے کا حق ہے اور اپنے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت کی پیروی کرو۔ “ اسی بنا پر (ملۃ ابیکم) منصوب ہے بعض مفسرین کا قول ہے کہ اس کے منصوب ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یہاں کملۃ ابیکم مراد ہے۔ تاہم جب حرف جار محذوف ہوگیا تو اسم فعل کے ساتھ…
Read the full tafseer →146 دین حنیف میں کوئی تنگی نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس نے دین کے معاملے میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔ جس سے تمہیں دین کے کسی بھی حکم پر چلنا مشکل ہو ‘ جیسا کہ پہلی امتوں میں تھا ‘ بلکہ اس نے تمہارے لئے اس دین حق میں طرح طرح کی آسانیاں رکھی ہیں ‘ سفر میں نماز آدھی کردی ‘ روزہ چھوڑنے کی اجازت دے دی ‘ بیماری کی حالت میں نماز کا قیام معاف فرما دیا ‘ اور بیٹھ کر پڑھنے کی اجازت دے دی ‘ اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو لیٹ کر اور اشارہ سے بھی ادا کرسکتے ہو ‘ پانی نہ ملنے یا استعمال نہ کرسکنے کی صورت میں تیمم کی اجازت دے دی وغیرہ وغیرہ، پس تم لوگ ہمیشہ اپنے اسی خالق ومالک کے حضور جھکے رہو اور دل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–78
اللہ کی حاکمیت اور اللہ کے لیے انسان کی بندگی
تشریح : اخلاقیات کا ایک بہت بڑا سبق اللہ تعالیٰ دہرا رہے ہیں۔ وہ یہ کہ مسلمان کے لیے اصول بنا دیا گیا ہے کہ ظلم و زیادتی کا جواب اتنا ہی دیں جتنی زیادتی ان پر کی گئی ہو۔ کیونکہ اللہ ظلم کو پسند نہیں کرتا اس لیے اس نے وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ مظلو موں کی مدد ضرور کرتا ہے۔ یہ وعدہ اور یہ اخلاقی اصول کسی معمولی ہستی کے بنائے ہوئے نہیں بلکہ یہ اس رب العلمین کے بنائے ہوئے ہیں جس نے انسان کو پیدا کیا پھر اسکی نشوونما اور آرام و سکون کے لیے آسمانوں کو بلند کیا زمین بنائی اس میں ہر قسم کے چرند ‘ پرند ‘ حیوانات ‘ نباتات ‘ چاند، سورج، ستارے ‘ ندی نالے، دریا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–78
(رکوع نمبر 10)
اسرارومعارف
لوگو اس بات پر غور کرو اور اچھی طرح سوچو کہ اللہ جل جلالہ کے علاوہ جس جس کی پوجا کی جاتی ہے اگر وہ سب معبودان باطلہ اکھٹے ہو کر بھی کوشش کریں تو ایک مکھی جیسی حقیر مخلوق بھی بنا نہیں سکتے نہ صرف یہ بلکہ ان پر جو چڑھاوے چڑھاتے ہو ان کے سامنے پڑی ہوئی اشیاء کو مکھی کھاتی رہتی ہے وہ تو مکھی اڑا بھی نہیں سکتے کہ اپنے شے کو اس سے بچا لیں بھلا وہ تمہاری مدد کریں گے ، کتنے حقیر ہیں ان سے مانگنے والے اور کس قدر بےبس یہ تمہارے مطلوب ومعبود بنے ہوئے ہیں ، افسوس کہ تم نے اللہ جل جلالہ کی عظمت کو نہ جانا اور اس کی قدر نہ کرسکے لیکن اے کفار تمہارے نہ ماننے سے اس کی عظمت میں کوئی…
Read the full tafseer →8 ۔ لفظ جہاد کو عموماً اللہ کی راہ میں قتال (جنگ) پر بولا جاتا ہے بلکہ یہ جہاد اکبر ہے لیکن اس کے لفظی معی کوشش کرنے کے ہیں اس لئے یہ لفظ قتال سے وسیع تر معنی رکھتا ہے اور اس کے تحت وہ تمام کوششیں آجاتی ہیں جو جان و مال، زبان و قلم اور دوسرے ہر ممکن ذریعے سے اللہ کے دین کی اشاعت و ترقی کے لئے کی جائیں بلکہ نفسانی خواہش کا مقابلہ بھی جہاد میں داخل ہے۔ (ایک روایت میں ہے ” المجاہد من جاھد نفسہٗ فی طاعۃ اللہ۔ “ مجاہد وہ ہے جس نے اپنے نفس واللہ کی طاعت پر جھکانے کے لئے اس سے جہاد کیا۔ (فتح القدیر بحوالہ ترمذی) 9 ۔ دین میں کسی مشکل کے نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ انسان جو جی میں آئے کرتا پھرے بلکہ…
Read the full tafseer →(22:78) اجتبکم۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ اس نے تم کو پسند کیا۔ اجتباء مصدر (افتعال) سے۔ ج ب۔ ی مادہ۔
حرج۔ تنگی۔ مضائقہ۔ گناہ۔ الحرج والحراج کے اصل معنی اشیاء کے مجتمع یعنی جمع ہونے کی جگہ کو کہتے ہیں۔ اور جمع ہونے میں چونکہ تنگی کا تصور موجود ہے اس لئے تنگی اور گناہ کو بھی حرج کہتے ہیں۔ جیسا کہ آیہ ہذا میں :۔ وما جعل علیکم فی الدین من حرج۔ اور اس نے تم پر دین (کی کسی بات) میں تنگی نہیں کی۔
ملۃ ابیکم۔ ابیکم۔ مضاف مضاف الیہ دونوں مل کر مضاف الیہ ملۃ مضاف تمہارے باپ (ابراہیم) کی ملت۔ ملت سے مراد دین ۔ دستور اور اکثر اس سے مراد دین الٰہی ہی لیا جاتا ہے۔ بعض جگہ قرآن مجید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–78
لغات القرآن : آیت نمبر 73 تا 78 :
ضرب (بیان کیا گیا۔ مارا گیا) ‘ استمعوا (غور سے سنو) ‘ لن یخلقوا (وہ ہرگز پیدا نہ کریں گے۔ وہ ہرگز پیدا نہیں کرسکتے) ‘ ذباب مکھی۔ کوئی ایک مکھی) ‘ یسلب (وہ کھینچ لیتا ہے۔ وہ چھین لیتا ہے) ‘ لایستنقذوہ (وہ نہ چھڑا سکیں گے) ‘ الطالب (چاہنے والا) ‘ مطلوب (چاہا گیا) ‘ یصطفی (وہ منتخب کرتا ہے) ‘ افعلوا (تم کرو) ‘ الخیر (بھائی ۔ نیک کام) ‘ اجتبی (اس نے چنا۔ منتخب کیا) ‘ حرج (تنگی) ‘ سمی (اس نے نام رکھا) ‘ شھید (گواہ) ‘ اعتصموا (تم مضبوط تھام لو) ‘ مولی (مالک) ‘ نعم المولی (بہترین مالک) ‘ نعم النصیر (بہترین مدد گار) ۔
تشریح : آیت نمبر 73 تا 78 :
اللہ وہ ہے جو کائنات…
Read the full tafseer →مسلمانوں کی عزت اور قیامت میں مسلمانون کی ایک خاص گواہی کا ذکر۔
(ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ خدا کی راہ میں جہاد کروجیسا کہ اس کے جہاد کا حق ہے یعنی صاف دل اور خالص نیت سے ہو، جہاد دوقسم کے ہیں : ایک تو ظاہردشمن یعنی مشرکیوں اور باغیوں کے ساتھ جہاد کرنا۔ دوسرا باطنی دشمن یعنی نفس کے ساتھ جہاد کرنا ہے ، پھر فرمایا کہ امت محمدیہ کے دین دار لوگو ! اللہ تعالیٰ نے اس آخری آسان شریعت پر عمل کرنے کے لیے تم کو پسند فرمایا ہے اس لیے احکام دین میں تم پر کسی قسم کی سختی بھی نہیں کہ پچھلی شریعتوں میں بعض باتیں سخت تھیں۔ مثلا پچیس روپے سینکڑہ زکوۃ، یا نماز کے لیے خاص جگہ کا مقرر ہونا۔ اس شریعت میں زکوۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–78
[53] یعنی جب آخرت میں تمام انسانوں کو حساب کے لئے جمع کیا جائے گا اس وقت نبی ﷺ گواہی دیں گے کہ جو احکام اللہ نے آپ کو دیئے تھے وہ آپ نے بےکم وکاست اپنی امت کو پہنچا دیئے اور عملاً ان کے مطابق کام کر کے دکھا دیا۔ اس کے بعد رسول کے قائم مقام ہونے کی حیثیت سے امت محمدیہ کو تمام انسانوں پر گواہی دینی ہوگی کہ نبی ﷺ نے جو کچھ انھیں پہنچایا ہے اور عملاً کر کے دکھایا اس کے پہنچانے اور اس پر عمل کر کے دکھانے میں اس سے کوئی کوتاہی نہیں ہوئی ہے۔
[54] اللہ کی رسی سے مراد قرآن مجید ہے، نبی ﷺ نے قرآن مجید کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے ہو حبل اللہ المتین (یہ اللہ کی مضبوط رسی ہے) قرآن کو اللہ کی رسی اس لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–78
(ف 1) ان آیات میں کئی چیزیں بیان کی ہیں ، پہلے تو یہ تاکید فرمائی کہ رکوع اور سجود سے اللہ کی عبادت کرو اور اس قسم کے نیک افعال جاری رکھو ، کہ نجات اور روحانی کامیابی کے لئے یہ ضروری ہیں پھر جہاد کی تلقین کرکے یہ نکتہ سمجھایا کہ عبادت سے غرض تحفظ دین کا جذبہ پیدا کرنا ہے یعنی نیاز مندی اور عقیدت کے معنے یہ ہیں کہ جب دشمنان دین تمہاری نمازوں سے تمہیں روکیں ، اور تمہارے دین کو مٹانا چاہیں اور ان تعلقات کا امتحان لینا چاہیں تو تم نے اپنے مولا سے استوار کر رکھے ہیں تو پھر میدان جہاد میں کود پڑو ۔
اس کے بعد اسلام کی خوبی اور فضیلت بیان کی کہ اس میں کہیں دشواری تنگی موجود نہیں ، نہایت سہل اور آسمان…
Read the full tafseer →(78) اور اللہ کے دین کے لئے محنت اور کوشش کیا کرو جیسا محنت کرنے کا حق ہے اس نے تم کو دینی خدمت کے لئے منتخب اور پسند فرمایا کے دین کے بارے میں تم پر کسی قسم کی تنگی نہیں رکھی تم اپنے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت پر قائم رہو اور اس کے دین کی پیروی کرو اس اللہ تعالیٰ نے تمہارا لقب اور تمہارا نام اس قرآن کریم کے نازل ہونے سے پہلے بھی اور اس قرآن کریم میں بھی مسلمان رکھا ہے تاکہ رسول تمہارے بارے میں گواہ ہوں اور تم اے امت ِمحمدیہ دوسرے لوگوں کے مقابلے میں گواہ ہو تم لوگ نماز کی پابندی رکھو اور زکوٰۃ ادا کرتے رہو اور اللہ تعالیٰ ہی کو مضبوط پکڑے رہو۔ وہی تمہارا مالک اور تمہارا کارساز ہے سو…
Read the full tafseer →ف 4۔ چناچہ ابراہیم (علیہ السلام) کی زبان سے کہلوایا امة مسلمة لک اور شاید اور کتب منزلہ میں بھی ہو، اور قرآن میں تو جا بجا آیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا مقرر کیا ہوا عنوان معنوں سے خالی نہیں ہوسکتا، تو بالضرور امت محمدیہ میں مادہ انقیاد و اتباع کا زیادہ ہوگا۔5۔ یعنی ہمت و عزم کے ساتھ دین کے کاموں میں غیر اللہ کی رضا وعدم رضاءیا اپنے نفس کی مصلحت یا مضرت کی طرف التفات مت کرو۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد جاری رکھنے کا حکم عام :
78۔ ” اور اللہ کی راہ میں کوشش کرتے رہو جو اس کی کوشش کا حق ہے “ ” اور اللہ کی راہ میں جان لڑا دو اور اس کی راہ میں جان لڑا دینے کا جو حق ہے پوری طرح ادا کرو ۔ “ عام طور پر اسلام کے سلسلہ عبادات میں جہاد کا نام فقہاء امت کی تحریروں میں نہیں آتا مگر قرآن کریم اور احادیث نبوی میں اس کی فرضیت اور اہمیت بہت سے دوسروں فقہی احکام اور عبادات سے بدرجہا زیادہ ہے اس لئے ضرورت ہے کہ اس فریضہ عبادات کو اپنے موقع پر جگہ دی جائے اور اس کی حقیقت پر ناواقفیت کے جو توبرتو پردے پڑگئے ہیں ان کو اٹھایا جائے اور فی زماننا جو اس کا مفہوم سمجھ لیا گیا ہے اس کی بھی…
Read the full tafseer →وَجَاهِدُوا فِي اللَّـهِ حَقَّ جِهَادِهِ (And struggle for (seeking the pleasure of) Allah, a struggle that is due to him - 22:78) The words جِھَاد - (jihad) and مُجَاھِدہ (mujahadah) mean to exert one's utmost effort to achieve an objective and to take pains for it. (That is why the word is translated above as 'struggle' ). While waging war against the infidels the Muslims make supreme efforts, and for this reason it is called jihad, and حَقّ جِھَادہٖ struggle that is due to Him) means that all these efforts and sacrifices should aim solely at winning the favours and goodwill of Allah Ta’…
Read the full tafseer →128. The Arabic word jihad is very comprehensive. It includes every kind of effort, exertion, conflict and war. Jihad for the cause of Allah means that it should be performed for His service and for His approval against those who prevent others from following His Way. The performance of jihad also requires that one should first of all fight against his own self in order to subdue it. For there can be no true jihad unless one fights against his evil self and subdues his desires and lusts to the obedience of Allah. The Prophet (peace be upon him) himself has emphasized the need for this jihad.…
Read the full tafseer →