قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ ۟ۙقَدۡ اَفۡلَحَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَۙ
بےشک ایمان والے رستگار ہوگئے
— Fateh Muhammad Jalandhari
Certainly will the believers have succeeded:
— Saheeh International
Juz 18 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz
The Believers · Meccan · 118 ayahs · 6 rukus
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ ۟ۙقَدۡ اَفۡلَحَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَۙ
بےشک ایمان والے رستگار ہوگئے
— Fateh Muhammad Jalandhari
Certainly will the believers have succeeded:
— Saheeh International
Juz 18 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Muminoon
یقیناً فلاح پائی ہے ایمان والوں نے جو:
بےشک ایمان والے رستگار ہوگئے
یقیناً ایمان والوں نے فلاح حاصل کرلی
ان ایمان والوں نے یقینا فلاح پالی ہے۔
بیشک مراد کو پہنچے ایمان والے
بیشک ایمان والے مراد پا گئے،
یقینا کامیاب ہوگئے مومن۔
ایماندار لوگ کامیاب ہوگئے۔
فائز المرام ہوئے وہ اہل ایمان
بیشک فلاح پا لی ان ایمان والوں نے
یقیناً (وہ) مومنین فلاح پاگئے۔
کام نکال لے گئے اہل ایمان
یقینا ایمان والوں نے فلاح پائی۔
The believers have indeed attained true success:
Success is really attained by the believers
Success is really attained by the believers
Successful indeed are the believers.
Successful indeed are the believers
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Certainly will the believers have succeeded:
Triumphant indeed are the believers,
Successful indeed are the believers,
Blissful are the believers'-
The believers must (eventually) win through,-
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–11
دس آیتیں اور جنت کی ضمانت نسائی، ترمذی اور مسند احمد میں مروی ہے کہ حضرت رسول ﷺ پر جب وحی اترتی تو ایک ایسی میٹھی میٹھی، بھینی بھینی، ہلکی ہلکی سی آواز آپ کے پاس سنی جاتی جیسے شہد کی مکھیوں کے اڑنے کی بھنبھناہٹ کی ہوتی ہے۔ ایک مرتبہ یہی حالت طاری ہوئی۔ تھوڑی دیر کے بعد جب وحی اترچکی تو آپ نے قبلہ کی طرف متوجہ ہو کر اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر یہ دعا پڑھی کہ اے اللہ تو ہمیں زیادہ کر، کم نہ کر، ہمارا اکرام کر، اہانت نہ کر، ہمیں انعام عطا فرما، محروم نہ رکھ، ہمیں دوسروں پر کے مقابلے میں فضیلت دے، ہم پر دوسروں کو پسند نہ فرما، ہم سے خوش ہوجا اور ہمیں خوش کر دے۔ عربی کے الفاظ یہ ہیں۔ دعا (الہم زدنا…
Read the full tafseer →سورة الْمُؤْمِنُوْن 1 ایمان لانے والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے محمد ﷺ کی دعوت قبول کرلی آپ کو اپنا ہادی و رہبر مان لیا، اور اس طریق زندگی کی پیروی پر راضی ہوگئے جسے آپ نے پیش کیا ہے۔ فلاح کے معنی ہیں کامیابی و خوشحالی۔ یہ لفظ خسران کی ضد ہے جو ٹوٹے اور گھاٹے اور نا مرادی کے معنی میں بولا جاتا ہے۔ اَفْلَحَ الرّجل کے معنی ہیں فلاں شخص کامیاب ہوا، اپنی مراد کو پہنچا، آسودہ و خوشحال ہوگیا، اس کی کوشش بار آور ہوئی۔ اس کی حالت اچھی ہوگئی۔ قَدْ اَفْلَحَ " یقیناً فلاح پائی " آغاز کلام ان الفاظ سے کرنے کی معنویت اس وقت تک سمجھ میں نہیں آسکتی جب تک وہ ماحول نگاہ میں نہ رکھا جائے جس میں یہ تقریر کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
سورة مومنون مکہ میں اتری اور اس کی ایک سو اٹھارہ آیتیں ہیں اور چھ رکوع فضائل و خصوصیات سورة مومنون مسند احمد میں حضرت فاروق اعظم عمر بن خطاب کی روایت ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ پر جب وحی نازل ہوتی تھی تو پاس والوں کے کان میں ایسی آواز ہوتی جیسے شہد کی مکھیوں کی آواز ہوتی ہے۔ ایک روز آپ کے قریب ایسی ہی آواز سنی گئی تو ہم ٹھہر گئے کہ تازہ آئی ہوئی وحی سن لیں۔ جب وحی کی خاص کیفیت سے فراغت ہوئی تو آنحضرت ﷺ قبلہ رخ ہو کر بیٹھ گئے اور یہ دعا کرنے لگے اللھم زدنا ولا تنقصنا و اکرمنا ولاتھنا واعطنا ولا تحرمنا واثرنا ولا توثر علینا وارض عنا و ارضنا (یعنی یا اللہ ہمیں زیادہ دے کم نہ کر اور ہماری…
Read the full tafseer →قد افلح المومنون (1) اہل ایمان کو فلاح دنیا و آخرت کی بشارت لفظ مومنون ہرچند عام ہے لیکن یہاں اس کے مصداق اول وہی اہل ایمان ہیں جو اس دور میں حق کی خاطر ہجرت اور جہاد کی بازیاں کھیل رہے تھے۔ فرمایا کہ وہ فائز المراج ہوئے۔ یہ بشارت ہے تو مستقبل یس متعلق لیکن اس کو تعبیر ماضی کے صیغے سے فرمایا یہ جس سے مقصود اس کی قطعیت کا اظہار ہے اس لئے کہ جب اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک بات کا فیصلہ ہوچکا تو گویا وہ بات واقع ہوچکی۔ یہاں جس فالح کی بشارت اس کا حقیقی ثمرہ تو فلاح آخرت ہے۔ وہی اصل چیز ہے اور اہل ایمان کا نصب العین ہمیشہ وہی ہوتی ہے لیکن اس کے اندر تمکن فی الارض کی وہ بشارت بھی مضمر ہے جو پچھلی سورة…
Read the full tafseer →1-1فَلَاح کے لغوی معنی ہیں چیرنا، کاٹنا، کاشت کار کو فَلَاح کہا جاتا ہے کہ وہ زمین کو چیر پھاڑ کر اس میں بیج بوتا ہے، شریعت کی نظر میں کامیاب وہ ہے جو دنیا میں رہ کر اپنے رب کو راضی کرلے اور اس کے بدلے میں آخرت میں اللہ کی رحمت و مغفرت کا مستحق قرار پا جائے۔ اس کے ساتھ دنیا کی سعادت و کامرانی بھی میسر آجائے تو سبحان اللہ۔ ورنہ اصل کامیابی تو آخرت ہی کی کامیابی ہے۔ گو دنیا والے اس کے برعکس دنیاوی آسائشوں سے بہرہ ور کو ہی کامیاب سمجھتے ہیں۔ آیت میں ان مومنوں کو کامیابی کی نوید سنائی گئی ہے جن میں ذیل کی صفات ہوں گی۔ مثلًا اگلی آیات ملاحظہ ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
درس نمبر 145 تشریح آیات (1 تا 22) قد افلح خلدون (ا تا 11) یہ ایک پختہ وعدہ ہے بلکہ یہ عالم بالا کی ایک وہ ٹوک قرار داد ہے کہ مومنین فلاح پائیں گے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ اللہ تو کبھی اپنے عہد کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ پھر یہ اللہ کا فیصلہ ہے اور اللہ کے فیصلے کو کوئی رد نہیں کرسکتا کہ مومنین دنیا میں بھی فلاح پائیں گے اور آخرت میں بھی فلاح پائیں گے ۔ ایک مومن انفرادی طور پر فلاح پائے گا اور اہل ایمان کی جماعت بھی فلاح پائیں گی۔ ایسی کامیابی جسے ایک مومن اپنے دل اپنی حقیقی زندگی میں محسوس کرتے ہوں اور اس کے اندر فلاح کے وہ تمام مفہوم پائے جاتے ہوں جن سے دنیا با خبر ہے اور وہ مفاہیم بھی پائے جاتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1 " خشوع " کے معنی ہیں کسی کے سامنے خوف وہیبت کے ساتھ ساکن اور پست ہونا، چناچہ ابن عباس نے " خَاشِعُوْنَ " کی تفسیر " خائفون ساکنون " سے کی ہے۔ اور آیت (اَنَّكَ تَرَى الْاَرْضَ خَاشِعَةً فَاِذَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاۗءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ ) 41 ۔ فصلت :39) بھی دلالت کرتی ہے کہ " خشوع " میں ایک طرح کا سکون و تذلل معتبر ہے۔ قرآن کریم میں " خشوع " کو وجوہ، ابصار، اصوات وغیرہ کی صفت قرار دیا ہے۔ اور ایک جگہ آیت (اَلَمْ يَاْنِ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ ) 57 ۔ الحدید :16) میں قلب کی صفت بتلائی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اصل خشوع قلب کا ہے اور اعضائے بدن کا…
Read the full tafseer →آیت 1 قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ ” اس آیت کا یہ ترجمہ شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی کا ہے۔ مگر خود حضرت شیخ الہند رح کا کہنا ہے کہ انہوں نے ”موضح القرآن“ میں شاہ عبدالقاد ردہلوی کا ترجمہ ہی اختیار کیا ہے اور اس میں کہیں کہیں زبان کی تبدیلیوں کے علاوہ کوئی اور تبدیلی نہیں کی۔ گویا بنیادی طور پر یہ ترجمہ شاہ عبدالقادر دہلوی رح کا ہے اور میرے نزدیک لفظ فلح کی اصل روح کے قریب ترین ہے۔ ”فَلَاح“ کا ترجمہ بالعموم ”کامیابی“ سے کیا جاتا ہے ‘ لیکن اس کے مفہوم کو درست انداز میں سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ لفظ ”فلاح“ کے حقیقی اور لغوی معنی کو اچھی طرح ذہن نشین کرلیا جائے۔ اس مادہ کے لغوی معنی ہیں :…
Read the full tafseer →1 افلح (مادہ۔۔ل ح) میں تین باتیں بنیادی طور پر پائی جاتی ہیں (1) پھاڑنا (2) کامیابی اور (3) بقا (مقائیس اللغۃ) اور فلاح بمعنی کسان جو بیج بونے کے لئے زمین کو پھاڑتا، فصل پکنے پر کامیابی سے ہمکنار ہونا اور اس سے فائدہ اٹھانے پر اپنی مراد پاتا ہے۔ گویا افلح کے معنی ایسا کامیاب ہونا ہے جو کسی کے اپنے عمل اور محنت کے نتیجہ میں ہو۔ یہ سورت بالاتفاق مکی ہے اور اس دور میں نازل ہوئی جب مسلمانوں کے کامیابی ہونے کا تصور بھی محال تھا اور ان پر عرصہ حیات ہی تنگ کردیا گیا تھا اور اگر اسلام لانے سے پہلے کسی مسلمان کا کوئی کاروبار یا شغل تھا بھی تو اسلام لانے کے بعد وہ ختم ہوچکا تھا۔ دوسری طرف قریش مکہ تھے…
Read the full tafseer →1۔ فلاح کے مفہوم کی وسعت اور جامعیت پر حاشیہ سورة البقرہ کے رکوع اول میں (آیت) ” المفلحون “۔ کے تحت میں گزر چکا۔ فلاح کی پہلی شرط مومن ہونا ہے۔ بغیر ایمان یا صحت اعتقاد کے کوئی سا بھی عمل مقبول نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
بسم اللہ الرحمن الرحیم آیت نمبر 1 تا 22 ترجمہ : بلاشبہ مومنین کامیاب ہوئے جو اپنی نمازوں میں تواضع اختیار کرنے والے ہیں، قَدْ تحقیق کیلئے ہے اور جو لغو باتوں وغیرہ سے اعراض کرنے والے ہیں اور جو زکوۃ ادا کرنے والے ہیں اور جو حرام سے اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں لیکن اپنی بیبیوں سے یا ان عورتوں سے جن کے وہ مالک ہیں یعنی باندیوں سے کیونکہ ان کے پاس آنے میں (جماع کرنے میں) ان پر کوئی الزام نہیں ہاں جو ان کے علاوہ یعنی بیبیوں اور باندیوں کے علاوہ مثلاً استمنا بالید کا طالب ہو تو ایسے لوگ حد سے بڑھنے والے ہیں یعنی ایسی چیز کی طرف تجاوز کرنے والے ہیں جو ان کیلئے حلال نہیں ہے اور جو اپنی…
Read the full tafseer →قد افلہ المؤمنون۔ بیشک ان مؤمنوں نے (آخرت میں) فلاح پائی
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
(1۔ 2) بیشک ان مومنوں نے کامیابی اور نجات پائی اور ان موحدین نے توحید خداوندی کی وجہ سے مقام سعادت کو حاصل کرلیا اور یہی لوگ جنت کے وارث ہوں گے کافر جنت کے وارث نہیں ہوں گے یا یہ کہ ان مومنوں نے جو ایمان کے ذریعے تصدیق خدا وندی کرنے والے ہیں، فلاح اور کامیابی پائی اور فلاح کی دو قسمیں ہیں ایک کامیابی اور دوسرے اس کامیابی کی بقاء اور دوام (اور یہ دونوں اہل ایمان کو حاصل ہوں گی) اب اللہ تعالیٰ ان مومنین کے اوصاف بیان فرما رہے ہیں کہ جو اپنی نماز میں خشوع و خضوع کرنے والے ہیں، دائیں بائیں التفات نہیں کرتے اور تکبیر تحریمہ کے بعد نماز میں اپنے ہاتھ نہیں اٹھاتے۔ شان نزول : (آیت) ”۔ الذین ھم فی…
Read the full tafseer →قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ : ”قَدْ“ حرف ”لَمَّا“ کی نقیض ہے۔ ”لَمَّا“ کا مفہوم یہ ہے کہ متوقع کام ماضی میں ابھی تک نہیں ہوا، جیسا کہ فرمایا : (كَلَّا لَمَّا يَقْضِ مَآ اَمَرَهٗ) [ عبس : 23 ] ”ہرگز نہیں، ابھی تک اس (انسان) نے وہ کام پورا نہیں کیا جس کا اس نے اسے حکم دیا تھا۔“ جب کہ ”قَدْ“ ماضی کو حال کے قریب کردیتا ہے اور جملہ فعلیہ میں تاکید کا وہی فائدہ دیتا ہے جو جملہ اسمیہ میں ”إِنَّ“ اور ”لام تاکید“ دیتے ہیں۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ جس کام کی توقع تھی وہ ماضی قریب میں یقیناً واقع ہوچکا ہے۔ یعنی آگے ذکر کردہ صفات والے مومن یقیناً فلاح پاچکے ہیں۔ مستقبل میں حاصل ہونے والی کامیابی کو یقینی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قد افلح المومنون۔ بیہقی نے حضرت انس کی حدیث روایت کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :” جب اللہ تعالیٰ نے جنت عدن کو تخلیق فرمایا اور اپنے دست قدرت سے اس کے درخت لگائے اور اسے فرمایا تو بول تو اس نے کہا : قد افلح المومنون۔ (1) نسائی نے حضرت عبد اللہ بن سائب سے روایت کیا ہے فرمایا : میں فتح مکہ کے دن بنی پاک ﷺ کی بارگاہ میں حاضر تھا۔ آپ ﷺ نے کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھی (1) آپ ﷺ نے اپنے نعلین اتارے اور انہیں اپنی بائیں جانب رکھا اور سورة المومنون سے تلاوت کی جب حضرت موسیٰ یا حضرت عیسیٰٗ کے ذکر پر پہنچے تو آپ کو کھانسی آگئی آپ نے وہاں رکوع کردیا۔ امام مسلم…
Read the full tafseer →1۔ عبدالرزق واحمد وعنبسہ بن حمید والترمذی والنسائی وابن المنذر والعقیلی والحاکم وصححہ والبیہقی فی الدلائل والضیاء فی المختار نے عمر بن خطاب ؓ نعہ سے روایت کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ پر وحی اترتی تھی تو آپ کے سامنے شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ کی طرح آواز سنائی دیتی تھی ایک دن آپ پر کچھ نازل ہوا ہم کچھ دیر ٹھہرے رہے جب یہ کیفیت آپ سے دور ہوئی تو آپ نے اپنا رخ قبلہ کی طرف کیا اور اپنے ہاتھوں کو اٹھاکر یہ دعا فرمائی : اللہم زدنا ولا تنقصنا واکرمنا ولا تھنا واعطنا ولا تحرمنا وٓثرنا ولا تؤثر علینا وارض عنا وارضنا ترجمہ : اے اللہ ہم کو زیادہ کرلو اور ہم سے کم نہ کر اور ہم کو عزت دے اور ہم کو ذلیل نہ فرما…
Read the full tafseer →قَدْ اَفْلَحَ [ مراد پاگئے ہیں ] الْمُؤْمِنُوْنَ [ ایمان لانے والے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
اہل ایمان کی صفات اور ان کی کامیابی کا اعلان ان آیات میں اہل ایمان کی کامیابی کا اعلان فرمایا ہے اور اہل ایمان کی وہ صفات بیان فرمائی ہیں جن کا اہل ایمان کو کامیاب بنانے میں زیادہ داخل ہے۔ فرمایا (قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ ) (تحقیق اہل ایمان کامیاب ہوگئے) اس میں ان لوگوں کی تردید ہے جو دنیاوی چیزوں کو دیکھ کر کامیابی کا فیصلہ کرلیتے ہیں اور یوں سمجھتے ہیں کہ بادشاہ کامیاب ہے کوئی سمجھتا ہے مالدار کامیاب ہیں اور کوئی گمان کرتا ہے کہ بہت بڑی جائداد والا کامیاب ہے کسی کے نزدیک وزیر کامیاب ہے کسی کے نزدیک سفیر، کوئی جمال کو کامیابی کا سبب سمجھتا ہے اور کسی کا فیصلہ یہ ہے کہ جو شخص دنیاوی ہنر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
صفات مومنین مفلحین قال اللہ تعالیٰ ۔ قد افلح ال مومن ون .... الیٰ .... ہم فیہا خلدون۔ (ربط) گزشتہ سورت کے اخیر میں اعمال خیر کا حکم اور فلاح کی امید کا ذکر تھا۔ اب ان آیات میں مومنین صالحین کے لیے وقوع فلاح کی خبر دیتے ہیں کہ بلاشبہ وہ مسلمان کامیاب ہیں جن میں یہ سات صفتیں پائی جاتی ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں تحقیق فلاح پائی اہل ایمان نے جس کی پہلے ہی سے اہل ایمان کو امید اور توقع تھی۔ اہل ایمان سے اہل تصدیق اور اہل اطمینان مراد ہے۔ اب اس بشارت کے بعد ان مومنین کی صفات بیان کرتے ہیں۔ اول صفت خشوع ان میں سے پہلی صفت یہ ہے جو اپنی نماز میں خشوع اور خضوع اور عجزو زاری کرنے والے ہیں یعنی ان کے دل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
2:۔ ” قَدْ اَفْلَحَ الخ “ کے مفہوم میں دو باتیں داخل ہیں ایک مطلوب و مقصود کو پالینا۔ دوم جس سے ڈر یا خطرہ ہو اس سے محفوظ ہوجانا۔ والفلاح الظفر بالمطلوب والنجاۃ من الرھوب ای فاذوا بما طلبوا ونجو مما ھربوا (مدارک ج 3 ص 87) ۔۔ سورة حج کی ابتدا میں ” اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةَ شَیْءٍ عَظِیْمٍ “ سے جس خوفناک عذاب کی وعید سنائی گئی اس سے وہ مومنین محفوظ رہیں گے جو اپنے اندر اوصاف ذیل پیدا کرلیں گے (1) خدا سے ڈر کر نماز قائم کریں۔ (2) ہر قسم کے شرک سے بچیں اور (3) مخلوق خدا پر ظلم نہ کریں۔ یہ تینوں امور عذاب خداوندی سے بچنے کا ذریعہ ہیں۔ 3:۔ ” اَلْمُوْمِنُوقنَ الخ “ المومنون سے وہ لوگ مراد ہیں جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
نام اور کوائف : اس سورة کا نام اس کی پہلی آیت میں آمدہ لفظ المومنون کے نام رکھا گیا ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی۔ مفسرین کے قول کے مطابق یہ سورة سابقہ سورة الحج کے معاً بعد نازل ہوئی۔ سورة ہذا ایک سو اٹھارہ آیات ، چھ رکو ، 1840 الفاظ اور 4801 حروف پر مشتمل ہے۔ گزشتہ سورة کے ساتھ ربط : گزشتہ سورة کے آخری رکوع میں ہم پڑھ چکے ہیں یایھا الذین امنوا ارکعوا واسجدوا واعبدوا ربکم وافعلوا الخیر لعلکم تفلحون ، اے ایمان والو ! رکوع و سجود کرو اور اپنے پروردگار کی عبادت کرو۔ اور بھلائی کے کام کرو تاکہ تم فلاح پاجائو۔ اب اس سورة کی ابتداء میں بھلائی کے کاموں کی تشریح کی گئی ہے جن پر دنیا وآخرت کی…
Read the full tafseer →قَدْاَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ 1ۙ فلح الفَلْحُ : الشّقّ ، وقیل : الحدید بالحدید يُفْلَح أي : يشقّ. والفَلَّاحُ : الأكّار لذلک، والفَلَاحُ : الظَّفَرُ وإدراک بغية، وذلک ضربان : دنیويّ وأخرويّ ، فالدّنيويّ : الظّفر بالسّعادات التي تطیب بها حياة الدّنيا، وهو البقاء والغنی والعزّ ، (ل ح ) الفلاح کے معنی پھاڑ نا کے ہیں مثل مشہور ہے الحدید بالحدید یفلح لوہالو ہے کو کاٹتا ہے اس لئے فلاح کسان کو کہتے ہیں ۔ ( کیونکہ وہ زمین کو پھاڑتا ہے ) اور فلاح کے معنی کامیابی اور مطلب وری کے ہیں اور یہ دو قسم پر ہے دینوی اور اخروی ۔ فلاح دنیوی ان سعادتوں کو حاصل کرلینے کا نام ہے جن سے دنیوی زندگی خوشگوار بنتی ہو…
Read the full tafseer →ترکیب : الذین المؤمنون کی صفت یا بدل والذین اس پر معطوف الا علی ازواجہم فی موضع نصب لان المعنی صانواھاعن کل فرج الاعن فروج ازواجھم اور حال بھی ہوسکتا ہے ای الاوالین علی ازواجھم او قوامین علیھن من قولک کان فلاں علی فلانۃ ھم فیہا خالدون جملہ حال مقدر ہے فاعل سے یا مفعول سے۔ تفسیر : یہ سورة بھی مکہ میں ہجرت سے پیشتر نازل ہوئی ہے۔ احمد و ترمذی و نسائی نے روایت کی ہے جس کا اخیر جملہ یہ ہے کہ نبی ﷺ نے وحی کے بعد فرمایا کہ مجھ پر دس آیات یعنی اس سورة کا اول ایسی نازل ہوئی ہیں جو ان پر عمل کریگا جنت میں داخل ہوگا۔ سورة حج کے آخیر میں تھا کہ اے امت محمد ﷺ تم کو خدا نے برگزیدہ کیا ہے کہ تم اور لوگوں…
Read the full tafseer →قَدْاَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ ۔ (المومنون : 1) (بےشک فلاح پائی ہے ایمان والوں نے۔ ) اس سورة کا آغاز اگرچہ ایک سپاٹ انداز میں کیا گیا ہے۔ لیکن جن کی نگاہوں میں وہ زمانہ اور وہ حالات ہیں جب یہ سورة نازل ہوئی ہے تو ان کے لیے سمجھنا مشکل نہیں کہ اس بےتکلف انداز میں درحقیقت کن حقائق کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ حقیقت کا ادراک تو اللہ کے سوا کسی اور کو نہیں ہوسکتا۔ لیکن جو باتیں انسانی فکر بہ ادنیٰ تجسس جان سکتی ہے ان میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں۔ فلاح کی حقیقت 1 یہاں فلاح سے مراد درحقیقت وہ فلاح نہیں جس کا تصور اشرافِ قریش کے دل و دماغ پرچھایا ہوا تھا۔ ان کا خیال یہ تھا کہ فلاح دراصل دنیوی عیش و عشرت،…
Read the full tafseer →فہم القرآن ربط سورة : سورة حج کا اختتام اس بات پر ہوا۔ اللہ تعالیٰ کے راستے میں ” حَقَّ جِہَادِہٖ “ کے اصول پر جہاد کرنا، لوگوں پر شہادتِ حق قائم کرنا، نماز کی پابندی، زکوٰۃ کی ادائیگی اور ہر حال میں دین کے ساتھ وابستہ رہنے والے کا دنیا میں صلہ یہ ہے کہ ایسے مسلمانوں کی اللہ تعالیٰ مدد کرتا ہے اور وہی بہترین مدد کرنے والا ہے۔ ظاہر ہے جن کی اللہ تعالیٰ مدد کرے وہی دنیا اور آخرت میں کامیاب ہوں گے۔ سورۃ المومنون مکہ معظمہ میں اس وقت نازل ہوئی جب کفار اور مشرکین مسلمانوں کے بارے میں یہ گمان کیے بیٹھے تھے کہ یہ لوگ حالات کی کسمپرسی کی وجہ سے بہت جلد ختم ہوجائیں گے۔ کیونکہ کفار اور مشرکین نے ہر طرف…
Read the full tafseer →1: قَدْاَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ ۔ (تحقیق ایمان والے کامیاب ہوگئے)
Read the full tafseer →1۔ قد افلح المومنون۔ قد حرف تحقیق و تاکید کے لیے ہے۔ محققین کے نزدیک قد ماضی کو حال کے قریب کردیتا ہے یہ اس بات پر دلالت کرت ا ہے کہ کہ کامیابی ان کو حاصل ہوچکی ہے۔ فلاح نجات اور بقاء کو کہتے ہیں ابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے کہ توحید کی تصدیق کرنے والے سعادت یاب ہوں گے اور جنت میں ہمیشہ رہیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
1۔ 11:۔ امام احمد بن حنبل ‘ ترمذی ‘ نسائی اور مستدرک حاکم میں حضرت عمر ؓ سے صحیح روایت 1 ؎ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اس سورت کے شروع کی یہ دس آیتیں جب نازل ہوئیں تو آنحضرت ﷺ نے 2 ؎ دعا مانگی ‘ جس دعا کا حاصل یہ ہے کہ یا اللہ اپنی نعمت کو روز بروز ہم پر بڑھا اور اپنی نعمت سے ہم کو محروم نہ رکھ اور اپنی رضا مندی کے کام ہم سے لے اور پھر آپ نے ان آیتوں کو پڑھ کر فرمایا جو کوئی اس دس آیتوں کے موافق عمل کرے گا بلا شک جنت میں داخل ہوگا۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور صحابہ ؓ نے ان آیتوں کی جو تفسیر 3 ؎ کی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آدمی کا ایمان مضبوط ہونا چاہیے اور نماز پڑھتے وقت ادھر ادھر نظر نہ ڈالنی چاہیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
آیت نمبر 1 یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کی تعریف و تعظیم اور ان کی فلاح وسعادت کا ذکر ہے، نیز اس امر کا بیان ہے کہ وہ فلاح وسعادت کیسے حاصل کرسکتے ہیں اور اس ضمن میں اہل ایمان کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ان مذکورہ صفات سے متصف کریں۔ پس بندہ مومن ان آیات کی میزان پر اپنے آپ کا وزن کرے، اور یہ معلوم کرے کہ اس کے پاس اور دوسروں کے پاس قلت و کثرت یا اضافے اور کمی کے اعتبار سے کتنا ایمان ہے۔ پس فرمایا (قد افلاح المومنون) یعنی اہل ایمان کامیابی اور سعادت سے بہرہ مند ہوئے اور انہوں نے ہر دو چیز حاصل کرلی جس کا حصول اہل ایمان کا مقصود و مطلوب ہے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
نماز میں خشوع وخضوع قول باری ہے (قد افلح المومنون الذین ھم فی صلوتھم خاشعون) یقینافلاح پائی ہے ایمان لانے والوں نے جو اپنی نماز میں خشوع و خضوع اختیار کرتے ہیں) ابن عون نے محمد بن سیرین سے روایت کی ہے کہ حضو ر ﷺ جب نماز پڑھتے تو اپنا سر مبارک آسمان کی طرف اٹھاتے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے اپنا سرجھکا لیا۔ ہشام نے مجھ سے روایت کی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو لوگوں نے اپنی آنکھیں جھکا لیں۔ ہر شخص یہ پسند کرتا ہے کہ اس کی نگاہ اس کی سجدے کی جگہ سے آگے نہ جائے۔ ایک جماعت سے مروی ہے کہ نماز میں خشوع سے مراد یہ ہے کہ نگاہ سجدے کی جگہ سے آگے نہ جائے۔ ابراہیم، مجاہد اور زہری سے مروی ہے کہ خشوع…
Read the full tafseer →1 ایمان سعادت دارین سے سرفرازی کے لیے اولین شرط ایمان : سو اس سے واضح فرمادیا گیا کہ سعادت دارین اور حقیقی فوزوفلاح سے سرفرازی کے لئے اولین شرط ایمان ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک فلاح پائی ایمان والوں نے "۔ یعنی وہ اس حقیقی کامیابی سے ہمکنار ہوگئے جو کہ کامل بھی ہے اور دائمی بھی۔ اور جس سے انسان کو اس دنیا میں حیات طیبہ یعنی پاکیزہ زندگی کی سعادت نصیب ہوتی ہے اور آخرت میں جنت کی سدا بہار نعمتوں سے سرفرازی۔ اور یہی ہے اصل اور حقیقی کامیابی ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔ سو " قد " کے حرف تاکید اور { اَفْلَحَ } کے صیغہ ماضی سے واضح فرما دیا گیا کہ جن باتوفیق لوگوں کی صفات یہ اور یہ ہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
مؤمنوں کی صفات اور وعدہ جنت الفردوس تشریح : یہاں پر ان سات فرائض کا ذکر کیا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر فرض کیے ہیں۔ اگر بندہ واقعی اپنے آقا کا نمک حلال، یعنی فرمانبردار غلام ہے تو پھر وہ اپنے مالک کے دیے گئے احکامات سے کبھی غافل نہیں ہوسکتا بلکہ ان کی بجا آوری میں ہرگز تھوڑی سی بھی غفلت یا لاپرواہی نہیں کرسکتا۔ اللہ ہمارا مالک ہے اس نے ہی ہمیں پیدا کیا ہے اسی کے پاس واپس جانا ہے۔ اسی نے ہمارے کیے گئے کاموں کا حساب لینا ہے۔ وہی اس کے بدلے میں جنت یا جہنم دے گا۔ وہی ہر وقت ہر جگہ ہر صورت میں ہمیں دیکھ رہا ہے۔ ہم اس کی نگاہ سے ہرگز چھپ نہیں سکتے۔ خلاصہ یہ ” کہ مسلم پر واجب ہے کہ جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
سورة المؤمنون : (رکوع نمبر 1) اسرارومعارف سورة مومنون بھی مکی سورتوں میں شمار کی گئی ہے اور اسی سابق مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے ایمان لانے والوں کے اوصاف کا تذکرہ فرماتے ہوئے شروع ہوتی ہے کہ جنہیں ایمان نصیب ہوا وہ فلاح پاگئے کامیاب ہوگئے فلاح کا ترجمہ اردو میں تو کامیابی ہی ہے مگر عربی زبان کے اعتبار سے اس کا معنی بہت وسیع ہے فلاح سے مکمل کامیابی مراد ہے ہر کام میں ہر وقت اور ہر عالم میں ، دنیا ہو دنیا کی تجارت ، سیاست یا امور ذاتی ہر جگہ کامیاب موت کے لمحات ہوں یا برزخ کا عرصہ کامیاب ، میدان حشر ہو یا آخرت کی زندگی کامیاب اور یہ کامیابی ایمان کا پھل ہے رہا یہ سوال کہ دنیا میں کون ہے جسے…
Read the full tafseer →1 ۔ یہ پوری کی پوری سورت بالاتفاق مکی ہے۔ حضرت عبد اللہ ؓ بن سائب سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے مکہ میں فجر کی نماز میں یہ سورة شروع کی، جب موسیٰ ( علیہ السلام) و ہارون ( علیہ السلام) ، یا عیسیٰ ( علیہ السلام) کے ذکر پر پہنچے تو آپ ﷺ کو کھانسی آئی اور آپ ﷺ نے رکوع فرمایا (نسائی مسلم) اس سورت کی پہلی دس آیتوں پر عمل کے بدلے جنت کی خوشخبری دی گئی ہے۔ (قرطبی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
لغات القرآن آیت 1 تا 11 : افلح (وہ کامیاب ہوا۔ اس نے فلاح پائی) ‘ خاشعون (خاشع) اللہ کے خوف سے ڈرنے والے۔ اللغو (فضول بات۔ ایسی بات جس کا فائدہ کوئی نہ ہو) ‘ فروج (فرج) شرم گاہیں ‘ ملکت ایمان (باندیاں) ‘ غیر ملومین (الزام نہیں ہے) ‘ ابتغائ (جس نے تلاش کیا) ‘ وراء (پیچھے۔ علاوہ) العادون (حد سے بڑھنے والا) ‘ راعون (رعایت کرنے والے۔ خیال رکھنے والے) ‘ الوارثون (وارث) مالک۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 11 : دنیاداروں نے کامیابی ‘ ناکامی ‘ خیرو فلاح ‘ نفع و نقصان اور چھوٹائی بڑائی کے کچھ ایسے پیمانے مقرر کر رکھے ہیں کہ اگر ایک شخص مال و دولت ‘ عیش و آرام ‘ بلندو بالا بلڈنگوں ‘ اونچی حویلیوں اعلی سواریوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
مسلمانوں کی جنت میں جانے کی شرائط۔ (ف 1) یہ سورت مومنون مکیہ ہے۔ مسند امام احمد بن حنبل ، ترمذی، نسائی میں حضرت عمر سے روایت ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے کہ اس سورت کے شروع کی دس آیتیں جب نازل ہوئیں تو نبی ﷺ نے دعا مانگی اس دعا کا حاصل یہ ہے کہ یا اللہ اپنی نعمت کو روز بروز ہم پر بڑھا ، اور اپنی نعمت سے ہم کو محروم نہ رکھ، اور اپنی رضامندی کے کام ہم سے لے اور پھر آپ نے آیتوں کو پڑھ کر فرمایا جو کوئی ان دس آیتوں کے موافق عمل کرے گا بلاشک جنت میں داخل ہوگا، ان آیتوں میں فرمایا کہ بیشک ایمان والے کامیاب ہوئے وہ جو اپنی نمازوں میں عاجزی کیا کرتے ہیں خشوع کا مطلب ، نماز میں عاجزی سے کھڑا ہو اور دنیا سے…
Read the full tafseer →(1) بلاشبہ ! وہ ایمان والے اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے۔ یعنی جن کی صفات آگے بیان ہوتی ہیں۔
Read the full tafseer →ف 1۔ یعنی ان مسلمانوں نے فلاح پائی جو تصحیح عقائد کے ساتھ صفات ذیل کے ساتھ بھی موصوف ہیں۔
Read the full tafseer →1۔ (افلح) کی اصلل ح ہے جس کے معنی ہیں پھاڑنا یعنی شق کرنا ، یہی وجہ ہے کہ زمین ہل چلانے کے معنوں میں یہ لفظ استعمال ہوتا ہے اور کسان کو ” فلاح “ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے اور ” فلاح “ کامیابی اور مطلوب کو پالینے کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے ، جس طرح ہل چلانے سے زمین کی مخفی قوتیں ‘ طاقتیں اور اصلی جوہر زمین سے باہر نکل آتے ہیں اسی طرح قوائے انسانی کا بھی حال ہے اور ظاہر ہے کہ انسان کے مخفی جوہروں کا باہر نکل آنا ہی حقیقت میں کامیابی ہے اور یہ بھی فلاح سے مراد صرف دنیوی ہی نہیں ہے بلکہ انسان کے مخفی قوی کا ظہور پذیر ہونا ہے بلکہ فلاح کے معنی الفوز والخیر کے ہیں یعنی دنیوی اور دینی دونوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
What is Falah? How and from where can it be obtained? قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ Success is really attained by the believers - 23:1. The word falah (translated above as 'success' ) has been used in the Qur'an and Sunnah on numerous occasions. The call to prayers invites every Muslim towards falah five times a day. The word signifies the attainment of all desires as well as protection from all misfortunes. (Qamus). It is so comprehensive in its connotation that it may be regarded as the acme of one's desire - but the total falah, where no desire remains unfulfilled or complete immunity…
Read the full tafseer →1.“Believers”, who have attained true success, are those who have accepted the message of Muhammad (peace be upon him), and have acknowledged him as their guide and followed the way of life taught by him. This assertion cannot be fully appreciated unless one keeps in view the background in which it was made. On the one hand, there were the well-to-do and prosperous chiefs of Makkah, the opponents of Islam, whose business was thriving and who were enjoying every good thing of life, and on the other hand, there were the followers of Islam, majority of whom were either poor from the beginning,…
Read the full tafseer →