23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 23:1

قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 23:1 in the Quran reader

بلاشبہ ایمان والے کامیاب ہوئے

1۔ (افلح) کی اصلل ح ہے جس کے معنی ہیں پھاڑنا یعنی شق کرنا ، یہی وجہ ہے کہ زمین ہل چلانے کے معنوں میں یہ لفظ استعمال ہوتا ہے اور کسان کو ” فلاح “ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے اور ” فلاح “ کامیابی اور مطلوب کو پالینے کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے ، جس طرح ہل چلانے سے زمین کی مخفی قوتیں ‘ طاقتیں اور اصلی جوہر زمین سے باہر نکل آتے ہیں اسی طرح قوائے انسانی کا بھی حال ہے اور ظاہر ہے کہ انسان کے مخفی جوہروں کا باہر نکل آنا ہی حقیقت میں کامیابی ہے اور یہ بھی فلاح سے مراد صرف دنیوی ہی نہیں ہے بلکہ انسان کے مخفی قوی کا ظہور پذیر ہونا ہے بلکہ فلاح کے معنی الفوز والخیر کے ہیں یعنی دنیوی اور دینی دونوں کامیابیوں کو حاصل کرنا ہی فلاح کہلاتا ہے چناچہ تاج العروس میں ہے کہ ائمہ لغت کا اس پر اتفاق ہے کہ عربی زبان میں ” فلاح “ کے لفظ سے بڑھ کر دین اور دنیاوی دونوں بھلائیوں کو شامل رکھنے والا اور کوئی لفظ نہیں ہے اور ظاہر ہے کہ دینی ودنیوی ترقی کی اصل بنیاد اخلاق پر ہے اور اس جگہ اسی کا بیان ہے ۔ گویا قرآن کریم کی آغوش تربیت میں پرورش پانے والا انسان جن خوبیوں کا حامل ہوتا ہے ان ہی خوبیوں کے بیان سے اس سورت کا مضمون شروع ہو رہا ہے ۔ غور کیجئے کہ جو شخص بارگاہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام حاضر ہو کر ادب ونیاز کا پیکر بن جائے اور وہ اپنی دینی مصروفیات میں ایسا گھرا ہوا ہو کہ اسے بیکار اور بیہودہ مشاغل میں شرکت کی فرصت ہی نہ ملے اور جو اپنے مال اور نفس کے تزکیہ میں ہمہ وقت مشغول ومصروف ہو اور اپنی نفسانی اور شہوانی خواہشات کی تکمیل میں کسی بےراہ روی کا شکار نہ ہو جس امانت کی حفاظت اور جو دینی وملی ذمہ داری اسے سونپی جائے اس میں وہ خیانت کا مرتکب نہ ہو اور جو عہد و پیمان وہ خود کرے اس کو وہ ہر وقت اور ہر قیمت پر نبھانے کی کوشش کرے اس کے سر پر اگر فلاح و کامیابی کا تاج نہیں رکھا جائے گا تو اور کون ہے جو اس کا مستحق قرار پائے گا ؟ بلاشبہ فردوس بریں کی بہاریں اسی کے لئے چشم براہ ہوں گی ۔ لاریب اسلام اپنے ماننے والوں کو سیرت کے اس سانچے میں ڈھالنا چاہتا ہے اور نبی اعظم وآخر ﷺ کی آمد کا منشاء بھی اس گری ہوئی اور پٹی ہوئی انسانیت کو نظریاتی پستیوں سے نکال کر عروج بام تک پہنچانا تھا اور بحمد اللہ آپ نے یہی کام سرانجام دیا جس کا تذکرہ آج بھی اپنے اور پرائے کرنے پر مجبور ہیں اور دنیا نے دیکھا کہ فلاح و کامیابی اسی امت کے لئے لازم ہوئی جس کو نبی اعظم وآخر ﷺ نے تیار کیا تھا ۔ مزید تفصیل کے لئے سورة البقرہ کی آیت 5 کی تفسیر ملاحظہ کریں ۔ زیر نظر آیت میں بھی ایمان لانے والوں کی کامیابی کا ذکر کیا گیا ہے اور ایمان لانے والوں کے نشانات آنے والی آیات میں گنوائے گئے ہیں اور اس جگہ بیان کئے گئے نشانات کی تعدادساتھ ہے ۔
Ayah 23:2

الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَۙ Open ayah 23:2 in the Quran reader

جو اپنی نمازوں میں خشوع و خضوع رکھتے ہیں

ایمان لانے والوں کی پہلی نشانی جو اس جگہ بیان کی گئی اور ہر جگی اس کو اولیت دی گئی : 2۔ ایمان لانے والوں کو پہلا نشان اور اسلام کی عبادات کا پہلا رکن صلوۃ یعنی نماز ہے جو امیر و غریب ‘ بوڑھے اور جوان ‘ عورت اور مرد ‘ بیمار اور تندرست ‘ ظاہری نابینا یا ظاہر بینا سب پر یکساں فرض ہے اور یہی وہ عبادت ہے جو کسی شخص سے کسی حال میں ساقط نہیں ہوتی ۔ اگر کوئی شخص اسے کھڑے ہو کر ادا نہ کرسکے تو بیٹھ کر اگر بیٹھ کر نہ کرسکے تو لیٹ کر صرف اشارہ سے ادا کرے لیکن کسی حال میں بھی یہ معاف نہیں ہے ۔ اگر منہ سے نہ بول سکے تو فقط دل ہی میں اس کو ادا کرے اگر رک کر نہیں ادا کرسکتا تو اپنی سواری پر ہی ادا کرے اگر وقت کی شناخت نہ ہو سکے تو اندازہ سے ادا کرے اور اس کا اندازہ کیا ہوا وقت ہی نماز کا وقت ہوگا ۔ زیر نظر آیت میں نماز کو خشوع سے ادا کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے اس لئے جان لینا چاہئے کہ خشوع کیا ہے ؟ فروتنی ‘ عاجزی ‘ زاری کرنا اور گڑگڑانا نماز میں خشوع سے مراد خائف ہونا اور سکون کی حالت میں ہونا ہے مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی پوری توجہ نماز کے اندر مرکوز کر دے اور اللہ تعالیٰ کے سوا ہرچیز سے منہ پھیر دے ، وہ اپنی زبان سے جو تلاوت اور ذکر کرے ان کے معانی میں غور و تدبر کرے اور اس کے ظاہری آداب کا بھی خیال کرے کہ اس کی نگاہ سجدہ کی جگہ پر جم جائے دائیں بائیں ، اوپر نیچے مڑکر نہ دیکھے نہ خود مڑے اور نہ ہی نظر کو پھیرے اور جسم میں بےجا حرکت نہ کرے ‘ انگلیاں نہ چٹخائے ‘ کپڑوں کو لپیٹنے اور سنوارنے میں نہ لگا رہے ‘ داڑھی کے ساتھ نہ کھیلے ‘ سرہی کو نہ کھجلاتا رہے ‘ ناک میں انگلی نہ پھیرے اور دانت میں تنکا نہ چلائے یہ ساری باتیں استنباط کے طور پر بیان کی گئی ہے جو تجربہ سے حاصل ہوتا ہے ۔ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو نماز کے اندر داڑھی سے کھیلتے ہوئے دیکھا تو فرمایا ” اگر اس شخص کے دل میں عجزونیاز ہوتا تو اس کے ظاہری اعضاء بھی اظہار عجز کرتے “۔ (ترمذی ) اور احادیث کے دیکھنے سے یہ بات مزید واضح ہوجاتی ہے کہ فرض نماز کے اندر ایسی باتوں سے ضرور بچنا چاہئے جو خشوع و خضوع کے خلاف ہوں ، نماز کی جتنی حرکات ہیں خواہ وہ فرض وواجب ہیں یا سنت ومستحب ان سب کو اپنے اپنے مقام پر اور نہایت ہی پرسکون طریقہ سے ادا کرنا چاہئے مثلا رفع الیدین کرے تو سکون کے ساتھ ہاتھوں کو کانوں یا کندھوں تک اٹھا کر محاذ پر روک دے اور روک لینے کے بعد سکون و آرام کے ساتھ ہاتھوں کو واپس لائے وغیرہ اور اسی طرح نماز کی حرکات کو الترتیب کرنا بھی لازم وضروری ہے ، اس سورت کی نویں آیت کے بعد ہم نماز کے متعلق مزید بیان کریں گے اسی کو ملاحظہ فرمالیں ۔
Ayah 23:3

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَۙ Open ayah 23:3 in the Quran reader

جو نکمی باتوں سے رخ پھیرے ہوئے ہیں

ایمان والوں کی دوسری علامت کہ وہ لغو سے منہ پھیر لیتے ہیں : 3۔ لغو کیا ہے ؟ ہر وہ بات جو شمار کے قابل نہ ہو یعنی جو غور وفکر سے نہ کی جائے ، اس کا ذکر سورة البقرہ کی آیت 225 میں گزر چکا ہ کے ‘ اس جگہ سے مراد ہر وہ فعل ہے جو فضول اور بےفائدہ ہو۔ ایمان کی علامات ونشانات میں اس جگہ یہ ایمان کی دوسری علامت یا نشانی کے طور پر بیان ہوا ہے گویا جو شخص فضول ‘ بےفائدہ اور ثبت کام کرے وہ ایمان کے خلاف کرے گا ۔ اس لئے کہ ایمان والوں کو بتایا جا رہا ہے کہ مومن کا ہر لمحہ بڑا ہی قیمتی ہے اس کے کندھوں پر ایک بہت بڑا بار کراں ہے اس لئے اس کو اتنی فرصت کہاں کہ وہ بیکار اور فضول کاموں میں شرکت کرے ۔ معلوم ہوا کہ ساری لا یعنی باتیں اور ہر طرح کے کھیل وتماشے ‘ لعب ولہو لغو ہیں ۔ لیکن اس وقت بدقسمتی سے مسلمانوں کی اکثریت کو اس لغو کی چاٹ لگ چکی ہے جس کے ختم ہونے کی کوئی صورت بظاہر نظر نہیں آتی حالانکہ ایک سچے مسلمان کی شان یہ نہیں کہ ایک لمحہ بھی کسی غیر مفید بات کی طرف توجہ کرے لیکن سیروسیاحت کو لغو نہ سمجھ لیا جائے بلکہ اس کو تو اسلام نے ضروریات دین میں شمار کیا ہے تاہم اس میں اعتدال ضروری ہے ، مختصر یہ کہ دنیا کا ہر وہ کام جو فقط دنیا ہی تک محدود ہو اور آخرت میں نافع نہ ہو وہ بلاشبہ ” لغو “ ہے شور وغوغا اور ” رولا رپا “ ہے اس کے سوا کچھ نہیں ۔ لیکن آج کل بدقسمتی سے ہمارے زندگی میں لغویات زیادہ معقولات ان کی نسبت بہت کم ہیں ۔
Ayah 23:4

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوْنَۙ Open ayah 23:4 in the Quran reader

جو زکوٰۃ ادا کرنے میں سرگرم ہیں

ایمان والوں کی تیسری نشانی کہ وہ زکوۃ کو باقاعدہ ادا کرتے ہیں : 4۔ نماز کے بعد اسلام کا دوسرا اہم رکن زکوۃ ہے ، نماز کا تعلق دراصل خالق و مخلوق کے باہمی سلسلہ اور رابطہ سے ہے جس کا سب سے بڑا فائدہ نظام جماعت کا قیام ہے اور اسلامی عبادت کا دوسرا رکن زکوۃ ہے جو آپس میں انسانوں کے درمیان ہمدردی اور باہم ایک دوسرے کی امداد اور معاونت کا نام ہے جس کا ہم فائدہ نظام جماعت کے قیام کے لئے مالی سرمایہ بہم پہنچانا ہے ۔ جس طرح نماز میں فرض ونفل کی تقسیم رکھی گئی ہے اور فرض کو لازم وضروری قرار دیا گیا ہے اور نفل کو ہر انسان کی مرضی ورضا پر چھوڑ دیا گیا ہے اور اس کی ترغیب دی گئی ہے اسی طرح سے زکوۃ ہی کی ایک صورت کو ” صدقہ “ کہا گیا ہے اور پھر زکوۃ لازم وضروری قرار دی گئی ہے اور ” صدقہ “ کو انسان کی مرضی پر چھوڑ دیا گیا ہے اور اس کے لئے ترغیب دی گئی ہے ۔ زکوۃ بھی نماز کی طرح سارے آسمانی مذاہب میں تسلیم کی گئی ہے اور اس کو ضروری قرار دیا گیا ہے لیکن نبی اعظم وآخر ﷺ کی بعثت کے وقت سارے مذاہب میں سے تقریبا اس کا تصور مٹ چکا تھا اور وہ برائے نام ہی باقی رہ گئی تھی آپ ﷺ نے آکر نظام صلوۃ کی طرح نماز زکوۃ کو بھی واضح کیا اور بتدریج اس کو لازم ٹھہرا دیا جس طرح نماز ہر مذہب کا جزولاینفک تھی اسی طرح زکوۃ بھی تمام مذاہب آسمانی کا جزو رہی ہے ۔ ” زکوۃ “ ستھرائی ‘ پاکیزگی گویا زکوۃ ” تزکیۃ “ سے اسم ہے اور زکوۃ ذات اور معنی دونوں کے درمیان مشترک اسم ہے ، بس ذات تو نصاب کی وہ مقدار ہے جس کو زکوۃ دہندہ نکال کردیتا ہے اور معنی زکوۃ دہندہ کا فعل ہے جس نام تزکیہ ہے ۔ (کشاف ج 2 ص 61 طبع مصر) ” زکوۃ “ مال کی اس مقدار کا نام بھی ہے جو فقیروں و مساکین کا حق ہے اور ترکیب اس جگہ طہارت کو بتلا رہی ہے یعنی وہ لوگ جو تزکیہ نفس کا ایک حصہ ہے یا ایک جزو ہے اور زیر نظر آیت میں ” کل “ مراد ہے جس پر (فاعلون) کا لفظ دلالت کرتا ہے اور نفس کی پاکیزگی اور طہارت کی بدولت انسان اس حیثیت میں ہوتا ہے کہ دنیا میں اوصاف حمیدہ کا مستحق قرار پائے اور آخرت میں بھی اجروثواب کا اور اس کی صورت یہ ہے انسان اس چیز کی کوشش میں لگ جائے جس میں اس کی پاکیزگی ہے اور ظاہر ہے کہ تزکیہ کی نسبت کبھی تو بندہ کی طرف ہوتی ہے کیونکہ وہ اس کا اکتساب کرتا ہے جیسے قرآن کریم میں (قد افلح من زکھا) ” مراد کو پہنچا جس نے تزکیہ حاصل کیا “ اور کبھی اللہ تعالیٰ کی طرف اس کی نسبت ہوتی ہے جیسا کہ ارشاد الہی ہے (آیت) ” بل اللہ یزکی من یشآئ “ ” اللہ تعالیٰ ہی پاک کرتا ہے جس کو چاہتا ہے “ اور کبھی رسول کی طرف کہ وہی لوگوں کی طرف تزکیہ کے پہنچنے میں واسطہ ہے جیسے (آیت) ” تطھرھم وتزکیھم بھا “ ” کہ ان کو اس کے ذریعہ پاک کرے اور تربیت دے ۔ “ ” یاد رہے کہ جس طرح عام کا آغاز آپ ﷺ کی بعثت کے ساتھ ہی شروع ہوگیا اور مدینہ منورہ میں آکر وہ رفتہ رفتہ تکمیل کو پہنچی اسی طرح زکوۃ یعنی مطلق مالی خیرات کی ترغیب تزکیہ نفس کے حاصل کرنے کے لئے آپ ﷺ کی بعثت کے ساتھ ہی شروع ہوئی لیکن اس کا پورا نظام آہستہ آہستہ فتح مکہ کے بعد قائم ہوا مطلب یہ ہے کہ زکوۃ کا حکم عام جو خیرات و صدقہ کے لئے بولا جاتا ہے جس میں مقدار معین نہیں کی جاتی وہ تو شروع سے چلا آرہا تھا لیکن باقاعدہ مقدار معین اور ہر سال کے بعد اس کا ادا کرنا اور ساری اجناس میں الگ الگ حیثیت سے مقرر کرنا یعنی فصلوں کی پیداوار ‘ سونا چاندی اور جانوروں کی ساری اقسام سب اموال میں داخل ہے اور سب کی زکوۃ کی صورتیں بھی الگ الگ مقرر کی گئی ہیں یعنی ان چیزوں میں نصاب بھی الگ الگ ہے اس کی تشریح 8 ہجری کے بعد ہوئی اور اس کے مصارف کا ذکر بھی 8 ہجری کے بعد کی صورتوں میں کیا گیا جیسا کہ پیچھے سورة التوبہ میں اس کی وضاحت بیان کی جا چکی ہے ۔ انشاء اللہ العزیز کسی مناسب مقام پر اس پر مزید گفتگو ہوگی ۔
Ayah 23:5

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ Open ayah 23:5 in the Quran reader

جو اپنے ستر کی نگہداشت سے کبھی غافل نہیں ہوتے

ایمان والوں کی چوتھی نشانی یہ ہے کہ وہ ستر کی نگہداشت سے کبھی غافل نہیں ہوتے : 5۔ (فروج) جمع ہے فرج کی اور فرج دراصل شگاف کو کہتے ہیں اور زیادہ تر اس کا استعمال دونوں ٹانگوں کے درمیان کے مقام پر ہی کیا گیا ہے اس لئے اس کے معنی ” شرمگاہ “ کے کئے ہیں اور اس کو عورت یعنی پردے کی جگہ اور ستر کے لفظ سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے ۔ شرمگاہ کی حفاظت سے مراد ہر وہ فعل ہے جس سے قوت شہوانی حرکت میں آئے خواہ وہ زبان سے ہو ‘ ہاتھ سے ہو ‘ نظر سے ہو ‘ کان سے ہو ‘ دماغ سے ہو یا وہ پاؤں سے ہو اور حقیقت اس کی سب پر واضح ہے کیونکہ کوئی انسان اس سے مستثنی نہیں ہے اور پھر انسان کی دونوں اصناف یعنی مرد و عورت سب کے لئے برابر کا حکم ہے اور دونوں ہی کو ایک دوسرے کی ضرورت کے ساتھ منسلک کردیا گیا ہے اس لئے اس کے حلال طریقہ کو اس سے مستثنی کردیا گیا اور حرام سے بچنے کی تاکید کی گئی گویا نفسانی خواہشات کا ازالہ لازم وضروری تھا اس لئے اس کی تکمیل کلیۃ ممنوع نہیں ہے کہ کوئی مسلمان مرد و عورت بھی جو گیوں ‘ راہبوں اور سنیاسیوں کی طرح شادی ہی سے کنارہ کش ہوجائے اور ایسا بھی نہیں کہ وہ انسانیت کے دائرہ سے نکل کر حیوانیت کے دائرہ میں چلا جائے اور مست ہاتھیوں کی طرح لوگوں کی عزت وآبرو برباد کرے اور انسانی معاشرہ کو حرام سے ناپاک کرنے کی کوشش کرے بلکہ اس کا معروف طریقہ ازدواجی زندگی اختیار کرکے اس کے ازالہ کے لئے ایک حلال و جائز طریقہ مقرر کردیا جیسا کہ آنے والی آیت میں اس استثناء کا ذکر کردیا بلکہ شریعت اسلامی نے اس استثناء کو حفاظت فرج قرار دے دیا اور اس کی وضاحت کردی کہ دراصل نکاح ہی وہ چیز ہے جس سے شرمگاہ کی حفاظت کی جاسکتی ہے بشرطیکہ کسی انسان کی وہ شہوانی قوت کسی سبب سے زائل نہ ہوچکی ہو جیسا کہ بعض اوقات فطری کمزوری کے باعث ایسا ہوجاتا ہے اور کبھی کسی بیماری کے باعث بھی ایسی کمزوری لاحق ہوجاتی ہے ۔
Ayah 23:6

اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ Open ayah 23:6 in the Quran reader

ہاں ! اپنی بیبیوں سے زنا شوئی کا علاقہ رکھتے ہیں یا ان سے جو ان کی ملکیت میں آگئیں تو ان سے علاقہ رکھنے پر ان کے لیے کوئی ممانعت نہیں

اس استثناء کا ذکر جس کا بیان پیچھے گزر چکا یعنی ازالہ خواہشات کی جائز صورت : 6۔ زیر نظر آیت میں اس طریقہ استثناء کا بیان ہے جو نفسانی خواہشات کی تکمیل کے لئے جائز اور روا رکھا گیا ہے وہ ایک اور صرف ایک ہے جس کا نام اسلامی قانون میں نکاح ہے اور چونکہ نکاح میں آنے والی عورتیں دو قسم کی موجود تھیں اس لئے ان دونوں قسم کی عورتوں کو اس سے مستثنی کردیا گیا ایک وہ جو آزاد عورتیں ہیں اور دوسری وہ جو مملوکہ عورتیں ہیں جب ان میں سے کسی کے ساتھ نکاح ہوگیا اور وہ ازدواجی زندگی کے لئے مخصوص ہوگئیں تو اب ان کے علاوہ اگر ازالہ کے لئے مختص ہیں جہاں اس خواہش کا پورا کرنا جائز اور درست ٹھہرا ۔ یہ وضاحت اس لیے ضروری ہوئی کہ اکثر مفسرین نے اور علمائے اسلام نے یہ سمجھ لیا ہے کہ کوئی عورت جب ملک یمین ہوگئی تو اب نکاح کئے بغیر بھی خواہش نفسانی کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے حالانکہ ان کی یہ بات قطعا درست نہیں اور اس کی تفصیل ہم پیچھے سورة النساء کی آیت 3 کے تحت میں بیان کر آئے ہیں وہاں سے ملاحظہ کرلیں ۔ اس جگہ اتنی بات مزید عرض ہے کہ قرآن کریم نے لونڈیوں کا ذکر الگ کرکے ان کے ساتھ آزاد مردوں کے نکاح کو حرام تو نہیں کہا لیکن سخت شرائط کے ساتھ مشروط کر کے یہ بتا دیا ہے کہ ان کی حیثیت آزاد عورتوں سے الگ ہے اس لئے سوائے سخت مجبوری کے ان کے ساتھ نکاح نہ کیا جائے کیوں ؟ اس لئے کہ جب نکاح ہوا تو پھر اولاد بھی ہوگی اور لونڈی غلام تو بکاؤ مال ہے اگر اس کو بیچ دیا گیا تو زیادہ سے زیادہ نکاح فسخ ہوگیا لیکن اس اولاد کا کیا ہوگا اور اس کی پرورش کے لئے بہت سی مشکلات کھڑی ہوجائیں گی اور یہ بھی کہ اولاد کو جو آزاد مرد سے ہے فروخت بھی نہیں کیا جاسکے گا اور اس ماں کی مامتا کا کیا بنے گا اس طرح کی اور بھی بہت سی قباحتیں پیدا ہوں گی لہذا اس سے پرہیز بہتر ہے ہاں ! خوبی کی بات یہ ہے جس مملوکہ سے نکاح کے لئے خیال پیدا ہوا اس کو آزاد کرکے اس سے نکاح کرلیا جائے تو یہ ایک نیکی اور خوبی کی بات ہوگی چناچہ سورة النور میں اس کی مزید وضاحت بیان کی گئی ہے ، سمجھنے کی بات صرف یہ ہے کہ جب قرآن کریم ہم کو مساوات اسلامی کی ہدایت دیتا ہے تو نکاح کے لئے اس کو سوائے اشد ضرورت کے ممانعت کیوں یا کم از کم یہ کہ اس کو پسند نہیں کیا ؟ کیا اسلام میں لونڈی اور غلام کو تحقیر کی نظر سے دیکھا جاتا ہے ؟ ہرگز نہیں اسلام تو تحقیر کی نظر سے دیکھے جانے کی ممانعت کرتا ہے اور اس ممانعت کے باعث اس نے پسند نہیں کیا کہ ایک آزاد مرد کسی لونڈی سے نکاح نہ کرے تو یہ بہتر ہے اس لئے کہ نکاح کرنے والے کی اگر وہ ملک یمین ہے تو نکاح کرنے سے پہلے وہ اس کو آزاد کردے تاکہ اس کو صحیح حقوق مل سکیں اور کسی دوسرے سے اس کا نکاح کرنے پر وہ تیار ہو تو اس کو کسی دوسرے سے نکاح میں دینے کی بجائے اس کو آزاد کردے تاکہ وہ اپنی مرضی کے مطابق ازدواجی زندگی حاصل کرے اس غرض وغایت کا پتہ ہم کو نبی کریم ﷺ کے اسوہ حسنہ سے ملتا ہے کہ آپ ﷺ نے کسی لونڈی کو لونڈی رکھ کر نکاح نہیں کیا بلکہ اس کو آزاد کر کے اس سے نکاح کیا ہے جیسا کہ سب کو معلوم ہے کہ ام المومنین صفیہ ؓ ملک یمین میں داخل تھیں لیکن آپ ﷺ نے ان کو آزاد کرکے نکاح فرمایا اور قریشی خاندان کی بیبیوں کے برابر ان کو حقوق دیئے اور یہ حالت سیدہ ماریہ قبطیہ کی تھی جن کے بطن سے آپ ﷺ کے بیٹے سیدنا ابراہیم پیدا ہوئے تھے بلاشبہ شاہ مصر نے انہیں بطور ایک لونڈی کے آپ ﷺ کی طرف بھیجا تھا اور آپ ﷺ نے ان کو آزاد کرکے ان سے نکاح فرمایا وہ حجاب میں رہتی تھیں اور ان کے نکاح میں آنے کے باعث ہی وہ آپ ﷺ کی وفات کے بعد نکاح ثانی نہ کرسکیں اور ان کی وفات تک ان کو باقاعدہ ازواج مطہرات کے ساتھ نان ونفقہ دیا گیا اور یہی حال سیدہ ریحانہ کا تھا گویا اس طرح آپ ﷺ نے اپنے اسوہ حسنہ سے ثابت کردیا کہ ایک سچے مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی ملک یمین کو آزاد کر کے اس سے نکاح کرے اور اس کو باقاعدہ آزاد بیوی کے حقوق دے چناچہ بخاری شریف کی ایک حدیث میں بیان ہوا کہ ” الرجل تکون لہ امہ فیعلمھا فیحسن تعلیمھا ویودبھا ثم یعتقھا فیتزوجھا فلہ اجران “۔ ” جس شخص کے پاس لونڈی ہو پھر وہ اس کو تعلیم دے اور اچھی تعلیم دے اور اس کو آداب سکھائے اور اچھے آداب سکھائے اور اسے آزاد کرے اور اس سے نکاح کرے تو اس کے لئے دوگنا اجر ہے ۔ “ اس لئے واضح ہو گای کہ لونڈیوں کے ساتھ نکاح کرنے میں جو ناپسندیدگی تھی وہ اس باعث تھی کہ ان کو آزاد کیا جائے اور مسلمان ان کو آزاد کرنے کے بعد ان کو زوجیت میں لیں تاکہ ان عورتوں کے برابر حقوق ملیں اور وہ لونڈی رہ کر تحقیر کا باعث نہ ہوں اور یہ قدروقیمت آپ ﷺ نے اپنے اسوہ حسنہ سے لوگوں کو سکھائی لیکن ہمارے مفسرین نے اس حکمت کو سمجھنے کی کوشش نہ کی اور لونڈی کے ساتھ بغیر نکاح کئے ہیں ازدواجی تعلق قائم کرنے کی اجازت کا مفہوم سمجھا سمجھایا گیا جو اسلامی تعلیمات کے سخت خلاف تھا لیکن رواج کا سیلاب اتنا سخت ہے کہ یہ بڑوں بڑوں کو بہاکر لے جاتا ہے اور جس طرح بہت سی باتوں میں ایسا ہوا اس میں بھی رواج کے سیلاب نے اپنا کام کر دکھایا اور اس رواج کے خلاف دینے والوں کو ٹیڑھی نظر سے دیکھا گیا والی اللہ المشتکی ۔ واللہ المستعان علی ما یصفون :
Ayah 23:7

فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْعٰدُوْنَۚ Open ayah 23:7 in the Quran reader

اور جو کوئی اس کے علاوہ دوسری صورت نکالے تو ایسی صورتیں نکالنے والے ہی ہیں جو حد سے باہر ہو گئے

خواہش نفسانی کے اسی طرح ازالہ کے خلاف جو بھی کیا جائے وہ حد سے تجاوز کرنا ہے : 7۔ لوگوں نے اس وقت بھی جب قرآن کریم کا نزول ہوا اس خواہش کے ازالہ کے لئے بہت سی صورتیں اختیار کی ہوئی تھیں اور آج بھی امت مسلمہ کے علاوہ دوسرے لوگوں نے بہت سی صورتیں اختیار کرلی ہیں اور اس معاملہ کو اتنی وسعت دے رکھی ہے کہ سوائے ایک جبر کے باقی کوئی ممانعت ہی نہیں رکھی اور یہاں تک کہ اس مسئلہ کو انسانیت سے اٹھا کر خالصتا حیوانیت کا مسئلہ قرار دے دیا ہے اور تجاوز کی حدود کو پھلانگ کر اتنے دور نکل چکے ہیں کہ ذوالارحام کی فہرست کو بھی منسوخ کردیا ہے اور فریقین کی رضا سے سب کچھ جائز ہے ۔ رہے وہ لوگ جو اسلام کے اقراری ہیں ان میں سے ایک گروہ تو متعہ کے ذریعہ سے اپنی من مانیاں کرتا ہے اور اس کے فضائل میں وہ مبالغہ آرائیاں کی گئی ہیں کہ یہاں پہنچ کر اس سلسلہ کی ساری اسلامی تعلیمات کا وہ صفایا کردیتا ہے اور غیرت ایمانی اور حمیت انسانی کا جنازہ نکال دیتا ہے حالانکہ اس کی ممانعت کے لئے صرف یہی آیت کافی تھی جس میں بڑی وضاحت سے بیان فرمایا دیا گیا کہ (آیت) ” فمن ابتغی ورآء ذلک فاولئک ھم العدون “۔ ” پس جو کوئی اس کے علاوہ دوسری صورت نکالے تو ایسی صورتیں نکالنے والے ہی ہیں جو حد سے باہر ہوگئے ۔ “ لیکن افسوس کہ جب کوئی مسئلہ کسی مکتب فکر کے نام سے موسوم ہوجاتا ہے اور وہ مکتب فکر اس کو تسلیم کرلیتا ہے اور اس کو ایک فکر کی حمایت حاصل ہوجاتی ہے تو پھر اس کی ساری کی ساری بدصورتی خودبخود ختم ہو کر رہ جاتی ہے اور اس طرح ضد میں آکر وہ اپنی ساری بےحیائی کے باوجود پھلتا پھولتا رہتا ہے اور پھر کوئی شخص اس کو برا نہیں کہہ سکتا کیونکہ اس کو ایک مکتب فکر سے سند جواز حاصل ہوجاتی ہے ۔ شیعہ گروہ اپنی ساری کفریات کے باوجود اسلامی گروہ میں شمار کئے جاتے ہیں اور متعہ ان کے ہاں عمل مستحسن شمار کیا جاتا ہے خصوصا جب معمر مرد چھوٹی عمر کی باکرہ کنواری سے متعہ کرے اور انہوں نے یہاں تک لکھا ہے کہ ” ولا باس بالتمتع بالھاشمیۃ “ (تہذیب الاحکام ج 7 ص 271 مطبوعہ نجف اشرف) ” خاندان نبوت کی خواتین کے ساتھ بھی متعہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔ “ سر کو پیٹ لو اور دوسری مثال کے طور پر آپ ایک حلالہ ہی کو لے لیں کہ کتنی بڑی جسارت ہے کہ ایک آدمی عالم کہلانے والا اپنی مسند فتوی پر بیٹھ کر سودا طے کرتا ہے اور سودے میں نقد بہ نقد وصول کرکے مذہب کے نام سے دوسرے کی بیوی ہتھیا لیتا ہے اور مکمل طور پر بےغیرتی کا مظاہرہ کرنے کے بعد صبح کو وہ عورت عورت والے کے سپرد کرکے اس کو ممنون کرتے ہوئے تاریخوں کی ادلی بدلی سے اس کے ساتھ نکاح کردیتا ہے اور کتنا دیوث ہے وہ مرد جس نے اپنی بیوی بھی بخوشی پیش کی اور ساتھ ہی ہزاروں روپے بھی دیئے تاکہ اس کی حرام کردہ چیز کو وہ دوبارہ حلال کردے لیکن یہ کام کھلے بندوں کیا کرایا جا رہا ہے کیوں ؟ اس لئے کہ اس کو ایک بہت بڑے مکتب فکر کی حمایت حاصل ہے اور مذہب کے نام پر یہ سب کچھ برداشت کرلیا جاتا ہے اور اس سے بھی بڑھ کر بےغیرتی اور بےحیائی کی صورت یہ ہے کہ ایک بدکار اٹھتا ہے اور وہ ایک لڑکی کو اپنی ہوس کا نشانہ بناتا ہے جس کے نتیجہ میں وہ حاملہ ہوجاتی ہے اور جب حمل ظاہر ہوجاتا ہے تو لڑکی والے سرجوڑتے ہیں کی اب کیا کیا جائے اور سمجھتے ہیں کہ شاید ہمارے اس قضیہ کا حل کسی ملاں کے پاس ہو وہ اس کو بڑی عزت واحترام کے ساتھ الگ بلاتے ہیں اور صورتحال بیان کردیتے ہیں ملاں ان کو کہتا ہے کہ اس کا حل ایک ہی ہے کہ اسی بدکار سے جس کا اس نے حمل اٹھایا ہے نکاح کر دو یہی تمہارے مسئلہ کا آسان اور بہتر حل ہے وہ ایک رقم اپنے فتوی کی حاصل کرتا ہے اور دوسری نکاح پڑھنے کی اور رات کے وقت پرسکون ماحول میں گاؤں ‘ بستی ‘ محلے اور شہر کے چند وڈیروں کو گواہ بنا کر اس زانی سے اس کا نکاح کردیتا ہے اور اس طرح اس حرام کو ان دونوں فریقوں کے لئے حلال کر کے دکھا دیتا ہے اور اسی طرح کی اور بھی کتنی ہی باتیں ہیں جو خواہشات نفسانی کے ازالہ کے لئے تجویز کرلی گئی ہیں جن کا شریعت اسلامی میں کوئی جواز نہیں ہے لیکن مذکورہ حلالہ کو سواد اعظم کی حمایت حاصل ہے اس لئے اب کون ہے جو اس کو برا کہے اور کون ہے جو اس کو برا مانے ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون “۔
Ayah 23:8

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ Open ayah 23:8 in the Quran reader

نیز جن کا حال یہ ہے کہ اپنی امانتوں اور عہدوں کا پاس رکھتے ہیں

ایمان والوں کی پانچویں نشانی یہ ہے کہ وہ امانت اور عہد کو پورا کرتے ہیں : 8۔ آپس میں لین دین کے معاملوں میں جو اخلاقی جوہر مرکزی حیثیت رکھتا ہے وہ امانت ودیانت ہے اس سے مقصود یہ ہے کہ انسان اپنے کاروبار میں ایماندار ہو اور جس کا حق جس کسی پر جتنا ہو اس کو پوری دیانت سے رتی رتی دے دے اس کو عربی میں امانت کہتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے خود اپنی شرعی تکلیف کو جسے اس نے نوع انسانی کے سپرد کیا ہے امانت کے لفظ سے ادا کیا ہے جیسا کہ ارشاد فرمایا کہ ” ہم نے اپنی امانت آسمانوں پر اور زمین پر اور پہاڑوں پر پیش کی تو انہوں نے اس کو اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے وہ ڈر گئے اور انسان نے اس کو اٹھا لیا بلاشبہ وہ ظالم اور نادان ہے ۔ “ (الاحزاب 33 : 73) اس سے ظاہر ہوگیا کہ یہ پوری شریعت ایک اللہ رب العزت کی امانت ہے جو ہم انسانوں کے سپرد ہوئی ہے اس لئے ہمارا فرض ہے کہ ہم اس کے مطابق اپنے مالک کا پورا پورا حق ادا کریں اور اگر ہم ایسا نہ کریں تو بلاشبہ خائن ٹھہریں گے ۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ ” جس میں امانت نہیں اس میں ایمان نہیں ۔ “ (کنزالعمال ج 2 ص 15) ایک حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا ” جس سے مشورہ طلب کیا گیا اس کو امانت سپرد کی گئی ۔ “ (ادب المفرد بخاری) اس طرح نبی اعظم وآخر ﷺ نے فرمایا کہ ” مجلس میں جو باتیں ہوں وہ ایک طرح کی امانت ہیں “ (ابوداؤد باب فی نقل الحدیث) ایک حدیث میں ہے آپ ﷺ نے فرمایا ” جو شخص کسی سے بات کرتے وقت احتیاط ادھر ادھر دیکھے اور اس کی غرض یہ ہو کہ کوئی اور تو اس کو سن نہیں رہا تو وہ بات امانت ہوگی ۔ “ (ابوداؤد کتاب الادب) امانت میں خیانت کے متعلق آپ نے ارشاد فرمایا کہ ” جو شخص امانت میں خیانت کرتا ہے وہ نفاق سے کام لیتا ہے ۔ “ (صحیح بخاری کتاب ال ایمان باب علامات المنافق) حجۃ الوداع کے مشہور ومعروف خطبہ میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ” عورتوں کے متعلق اللہ ڈرو کیونکہ تم نے ان کو اللہ کی امانت اور عہد کے ساتھ اپنی زوجیت میں لیا ہے ۔ “ (صحیح مسلم حجۃ الوداع) دوسری بات جو اس جگہ اس آیت میں بیان کی گئی وہ عہد کی پابندی ہے اور عام طور پر لوگ عہد کے معنی صرف قول وقرار کے سمجھتے ہیں لیکن اسلام کی نگاہ میں اس کی حقیقت بہت وسیع ہے وہ اخلاق ‘ معاشرت ‘ مذہب اور معاملات کی ان تمام صورتوں پر مشتمل ہے جن کی پابندی انسان پر عقلا ‘ شرعا ‘ قانونا اور اخلاقا فرض ہے اور اس لحاظ سے یہ مختصر سا لفظ انسان کے بہت سے عقلی ‘ شرعی ‘ قانونی ‘ اخلاقی اور معاشرتی فضائل کا مجموعہ ہے اس لئے قرآن کریم میں بار بار اس کا ذکر آیا ہے اور مختلف حیثیتوں سے آیا ہے اور تمام عہدوں میں سب سے پہلے انسان پر اس عہد کا پورا کرنا واجب ہے جو اللہ اور بندوں کے درمیان ہوا ہے یہ عہد ایک تو وہ فطری معاہدہ ہے جو روز الست بندوں نے اپنے رب سے باندھا اور جس کا پورا کرنا انسانوں کی زندگی کا پہلا فرض ہے اور اس کے بعد آپس کے عہد و پیمان ہیں ۔ گویا ہر وہ قول وقرار جو بندہ اللہ سے کرتا ہے یا بندہ بندہ سے کرتا ہے پورا کرنا حق العباد کو ادا کرنا ہے جس کے مجموعہ کا نام دین ہے اور اس سے ظاہر ہے کہ جو ان عہدوں کو پورا نہیں کرتا وہ دین کی روح سے محروم ہے لیکن افسوس کہ آج کل نہ حقوق اللہ کی کوئی پروا کی جاتی ہے اور نہ ہی حقوق العباد کی اور نہ ہی ان باتوں کو کوئی عہد و پیمان سمجھنے کے لئے تیار ہے ۔ بلاشبہ قرآن کریم کے بیان کے مطابق یہ مسلمانوں کا امتیازی نشان ہے لیکن اس وقت اس کا عکس مسلمانوں کا امتیازی نشان سمجھا جانے لگا ہے اور اس پر جتنا افسوس کیا جائے اتنا ہی کم ہے ۔ آیت 2 سے آیت 8 تک کا خلاصہ ایک بار پھر ذہن نشین کرلیجئے پھر آگے بڑھیں گے کیونکہ ان آیات میں اسلامی زندگی کے نقش ونگار بیان کئے گئے ہیں ذرا غور کرو کہ اسلامی زندگی کے نقش ونگار کیا ہیں ؟ ا : نماز کی محافظت اور اس کا خشوع و خضوع سے ادا کرنا ” خشوع “ کا پورا مفہوم کسی ایک لفظ میں ادا نہیں کیا جاسکتا تم کسی باہیبت واجلالی مقام پر کھڑے ہوجاؤ تو تمہارے ذہن پر جسم پر کیسی حالت طاری ہوجائے گی ؟ ایسی ہی حالت کو عربی زبان میں ” خشوع “ کی حالت کہتے ہیں ۔ ب : ہر اس بات سے مجتنب رہنا جو نکمی اور گھٹیا ہو صرف انہی باتوں کا اشتعال رکھنا جو دین و دنیا میں نافع ہوں ۔ ج : اپنی کمائی اپنے بھائیوں کیلئے خرچ کرنا جو محتاج ہوں اور بھائیوں سے مراد جنس انسانیت کے لوگ ہیں ۔ د : زنا سے کبھی آلودہ نہ ہونا اور نہ کوئی ایسی حرکت کرنا جو خلاف اصول اسلامی ہے ۔ ہ : امانت ودیانت کے ساتھ اپنے عہدوں کو پورا کرنا ۔ آیت سات ‘ آٹھ سے معلوم ہوا کہ قرآن کریم کے نزدیک اتحاد وتناسل کا جائز طریقہ ایک اور صرف ایک ہی ہے اور وہ ازدواج کا طریقہ ہے علاوہ ازیں جو طریقہ بھی اختیار کیا جائے گا ‘ ناجائز ہوگا خواہ کسی شکل اور کسی نوعیت کا ہو ۔ تمام دنیا کی طرح عرب میں بھی اس وقت غلامی کی رسم جاری تھی اور لونڈی غلاموں کے معاملہ کو ملک یمین سے تعبیر کرتے تھے یعنی کسی چیز پر قابض ہوجانے سے یہاں فرمایا وہ زناشوئی کا علاقہ بجز منکوحہ عورتوں کے اور کسی سے نہیں رکھتے ان کی بیبیاں ہوں جو سوسائٹی کے آزاد افراد میں سے ہیں یا لونڈیاں ہوں جوان کے نکاح میں آگئی ہوں چونکہ وقت کی سوسائٹی میں آزاد اور غلام افراد کی یہ دو قسمیں پیدا ہوگئی تھیں اس لئے اس کا ذکر ناگزیر تھا باقی رہی یہ بات کہ خود قرآن کریم نے رسم غلامی کے باب میں کیا حکم دیا اور کس طرح اسے مٹانا چاہا ؟ تو اس کا جواب سورة محمد کی تشریحات میں ملے گا ۔ انشاء اللہ :