23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 23:10

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَۙ Open ayah 23:10 in the Quran reader

تو یقینا ایسے ہی لوگ ہیں جو اپنا ورثہ پانے والے ہیں

(سابقہ آیت کی تفسیر ) نماز کے اوقات دوسرے مذہبوں میں : اسی لئے اوقات کے تقرر اور تعیین کی اس مصلحت کو دنیا کے تمام مذہبوں نے یکساں تسلیم کیا ہے اور اپنے اپنے نطریوں اور اصولوں کے مطابق عبادتوں کے مختلف اوقات مقرر کر رکھے ہیں ‘ ہندو آفتاب کے طلوع و غروب کے وقت پوجا پاٹ کرتے ہیں ‘ زردشتی صرف طلوع آفتاب کے وقت زمزمہ خواں ہوتے ہیں ۔ رومن کیتھولک عیسائی صبح کو طلوع آفتاب سے پہلے ‘ پھر شام کو ‘ پھر رات کو سوتے وقت دعا مانگتے ہیں ‘ یہودیوں میں تین وقت کی نمازیں ہیں جن کو ” تفلا “ کہتے ہیں ‘ دانیال نبی کی کتاب میں ہے : ” جب دانیال کو معلوم ہوا کہ نوشتہ پر دستخط ہوگئے تو وہ اپنے گھر آیا اور اپنی کو ٹھری کا دروازہ جو بیت المقدس کی طرف تھا ‘ کھول کر اور دن بھر میں تین مرتبہ گھنٹے ٹیک کر خدا کے حضور میں جس طرح سے پہلے کرتا تھا دعا اور شکر گزاری (حمد) کرتا رہا۔۔۔۔ پر ہر روز وہ تین بار دعا مانگتا ہے ۔ “ (6۔ 10 تا 13) حضرت داؤد (علیہ السلام) کی زبور میں ان تین وقتوں کی تعیین ان لفظوں میں ملتی ہے : ” پر میں خدا کو پکاروں گا ‘ تب خدا مجھے بچا لے گا ‘ شام کو اور صبح کو اور دوپہر کو میں فریاد کروں گا اور نالہ کروں گا سو وہ میری آواز سن لے گا ۔ “ (55۔ 16 ‘ 17) اسلامی اصطلاح میں ہم ان کو فجر ‘ ظہر اور مغرب کی نمازیں کہہ سکتے ہیں ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے دعاؤں اور نمازوں کی اہمیت اور زیادہ بڑھائی ‘ لوقا کی انجیل میں ہے : ” پھر اس نے (حضرت عیسیٰ نے) اس غرض سے کہ ہر وقت دعا کرتے رہنا اور ہمت نہ ہارنا چاہئے ان سے یہ تمثیل کہی ۔ “ تمثیل (18 : 1) میں درج ہے : حواریوں کے اعمال سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت میں بھی نماز کے کچھ اوقات وہی تھے جو یہودیوں میں تھے اور کچھ اور زیادہ تھے ‘ ظہر کی نماز ان کے ہاں بھی تھی چناچہ اعمال میں ہے : ” پطرس دوپہر کے قریب کو ٹھے پر دعا مانگنے گیا ۔ “ (اعمال 10 : 9) ” پس پطرس اور یوحنا ایک ساتھ دعا کے وقت تیسرے پہرہیکل کو چلے ۔ “ (اعمال 3 : 1) یونانی میں تیسرے پہر کے بجائے ” نویں گھڑی کو “ لکھا ہے ‘ جس کو ہم عصر کہتے ہیں ‘ پھر اسی وقت کی نماز کا ذکر اعمال 10 : 30 میں بھی ہے ۔ ایک دفعہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے کسی شاگرد نے نماز کی خاص دعا دریافت کی ‘ آپ نے بتائی اور فرمایا کہ دعا کا بہترین وقت آدمی رات ہے ۔ ” اور ایسا ہوا کہ وہ ایک جگہ دعا مانگ رہا تھا ‘ جب مانگ چکا ‘ ایک نے اس کے شاگردوں میں سے اس سے کہا کہ اے خداوند ہم کو دعا مانگنا سکھا ‘ جیسا کہ یوحنا (حضرت یحییٰ علیہ السلام) نے اپنے شاگردوں کو سکھایا اس نے ان سے کہا جب تم دعا مانگو تو کہو ۔۔۔۔ اس نے ان سے کہا ‘ تم میں سے کون ہے جس کا ایک دوست ہو اور وہ آدمی رات کو اس کے پاس آکے کہے اے دوست ! مجھے تین روٹی ادھار دے ۔ “ (لوقا : 11) اس تمثیل میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے رات کی نماز کی تعلیم دی ہے چناچہ جس شب کو انہوں گرفتار کیا گیا وہ ایک جماعت کے ساتھ اسی نماز تہجد میں مصروف تھے۔ (لوقا 22 : 939 صبح کی نماز کا ذکر بھی انجیل میں موجود ہے ، مرقس کے پہلے باب کی 35 آیت میں ہے ” اور بڑے تڑکے پو پھٹنے سے پہلے وہ اٹھ کے نکلا اور ایک ویران جگہ میں گیا اور وہاں دعا مانگی بلکہ عربی ترجمہ سے جو براہ راست یونانی سے ہوا ہے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) دواما اس وقت نماز پڑھا کرتے تھے چناچہ اس میں اس آیت کا عربی ترجمہ یہ ہے ” وفی الصبح باکراقام وخرج الی موضع خلاء وکان یصلی ھناک “ یعنی وہ وہاں نماز پڑھا کرتے تھے ۔ اب ان اوقات کو جو یہودی اور عیسوں کتابوں میں مذکور ہیں ہم جمع کرلیں تو وہی اسلامی نماز کے اوقات ہوجائیں گے جن میں سے صبح (فجر) دوپہر (ظہر) اور شام (مغرب) کا ذکر زبور (55۔ 16 ‘ 17) میں صبح کا مرقس (1۔ 35) میں ‘ عصر کا اعمال (3۔ 1 ‘ 10۔ 3 ‘ 30) میں ہے اور عشاء (رات) کی نماز کا لوقا (11 ‘ 22 ‘ 39) میں !۔ نماز کے لئے مناسب فطری اوقات : اصل یہ ہے کہ حق تو یہ تھا کہ انسان بھی فرشتوں کی طرح شب وروز صرف دعا و نماز میں مصروف رہتا مگر انسان کی فطری ونوعی ضرورتوں کے سبب سے ایسا ہونا ممکن اور ممکن اور مناسب نہ تھا اس لئے شریعت نے اس کی تلافی اس طرح کی کہ اس کے لئے چند مناسب اوقات مقرر کردیئے ‘ ہر انسان ہر روز مختلف قسم کے کاموں میں اپنی عمر کے یہ 24 گھنٹے بسر کرتا ہے ‘ صبح کو بیدار ہوتا ہے ‘ دوپہر تک کام کرکے تھوڑی دیر سستاتا ہے ‘ پھر سہ پہر تک وہ اپنا بقیہ کام انجام دیتا ہے اور اس کو تمام کرکے سیروتفریح اور دلچسپ مشاغل میں دل بہلاتا ہے ‘ شام ہوتی ہے تو گھر آکر خانگی زندگی کا آغاز کرتا ہے اور کھا پی کر تھوڑی دیر کے بعد طویل آرام اور غفلت کی نیند کے لئے تیار ہوتا ہے ‘ اسلامی نمازوں کے اوقات پر ایک غائر نظر ڈالنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے روزانہ کے ان مختلف انسانی مشاغل کے ہر آغاز پر ایک وقت کی نماز رکھی ہے تاکہ پورے اوقات خدا کی یاد ہی میں محسوب ہوں ‘ نور ظہور کے وقت جب صبح کی نسیم سحری حی علی الصلوۃ کا نغمہ جانفزا سناتی ہے اور ہر شے کی زبان سے عالم کے صانع کی تسبیح وتحمید کا ترانہ بلند ہوتا ہے ، تو یہ وقت غافل انسانوں کے سرجھکانے کے لئے بھی نہایت موزوں ہے کہ کتاب زندگی میں حیات امروزہ کا ایک نیا ورق اس وقت کھلتا ہے ‘ اس لئے مناسب ہے کہ اس دن کے کارناموں کی لوح پر سب سے پہلے سجدہ نیاز کا طغرا نقش ہو۔ اس کے بعد انسان اپنی محنت ومشقت کا آغاز کرتا ہے اور دوپہر تک اس میں مصروف رہتا ہے ‘ دوپہر کا روزانہ کاروبار کا نصف حصہ ختم کرکے آدمی تھوڑی دیر کے لئے آرام کرتا ہے ‘ اس موقع پر بھی اس کو خدا کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ دن کا آدھا کام بخیر و خوبی ختم ہوگیا ، پھر سہ پہر کے بعد جب اپنے اس دن کا کام ختم کرکے سیروتفریح اور ذاتی آرام کے کام شروع ہوتے ہیں تو یہ وقت بھی ایک دفعہ اللہ کا نام لینے کا ہے ‘ اس کے بعد شام ہوتی ہے اور دنیا کے انقلاب کا دوسرا منظر پیش کرتی ہے ‘ دن بھر کے کاموں کے بعد اب آرام و سکون کا دور شروع ہوتا ہے اس لئے ضرور ہے کہ اس کا سرنامہ بھی عبودیت کا سجدہ ہو۔ پھر سوتے وقت جب انسان اپنی بااحساس زندگی سے کچھ دیر کے لئے بیخبر ہونے لگتا ہے تو مناسب ہے کہ وہ اللہ کا نام لے کر اس جہان سے بیخبر ہو ‘ کیونکہ اسے کیا معلوم کہ اس وقت کی ان بند ہونے والی آنکھوں کو پھر کبھی کھلنا بھی نصیب ہوگا ‘ اسی طرح آخر عمر تک روزانہ کام کے یہ پہئے اپنی جگہ پر گھومتے رہتے ہیں۔ صبح سے دوپہر تک انسان کی مصروفیت کے اصلی گھنٹے ہیں ‘ اسی لئے صبح سے زوال تک کوئی فرض نماز نہیں رکھی گئی ‘ اسی طرح عشاء سے لے کر صبح تک کوئی فرض نماز نہیں ہے یہ وقت صرف خواب راحت کے لئے موزوں ہے ۔ ان خاص اوقات کو چھوڑ کر بقیہ اوقات تمام ترانسان کے کام ہیں ‘ انہیں کام کے اوقات کے شروع میں نماز پنچ گانہ مقرر ہوئی ہے ۔ اسلامی اوقات نماز میں ایک نکتہ : اوقات نماز کی تعین میں اسلام کے لئے ایک اور اصول کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری تھا ‘ دنیا کے مشرکانہ مذاہب کی تاریخ پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانوں کے شرک کا سب سے بڑا مظہر جسد کائنات کا سب سے زیادہ تابناک چہرہ (آفتاب) ہے ‘ ہندوستان ‘ ایران ‘ بابل ‘ عرب ‘ مصر ‘ شام ‘ روم ‘ یونان ‘ ہر جگہ سورج کی پرستش کی جاتی تھی ‘ جس کی روشنی قلوب انسانی کی تاریکی کا سب سے بڑا سبب بنتی تھی ‘ آفتاب پرست قوموں میں آفتاب کی پرستش کے خاص اوقات مقرر تھے ‘ جب وہ صبح کو اپنے شاہانہ جاہ و جلال کے ساتھ نمودار ہوتا ہے پھر جب وہ آہستہ آہستہ مملکت نیمروز کو فتح کر کے دنیا پر اپنے فاتحانہ تسلط کا اعلان کرتا ہے ‘ پھر شام کو جب وہ عالم کائنات سے رخصت ہو کر نقاب شب میں اپنا چہرہ چھپا لیتا ہے۔ سب سے پہلا موحد جس نے آفتاب پرستی گل کیا حضرت ابراہیم خلیل اللہ تھے ( سورة الانعام : 19) ملت ابراہیمی میں نماز کے وہ اوقات مقرر کئے گئے ‘ جب ستارہ پرستوں کے خدائے اعظم (آفتاب) کے ظہور اور عروج کا نہیں بلکہ اس کے زول اور غروب کا وقت ہوتا ہے تاکہ یہ اوقات خود زبان حال سے شہادت دیں کہ یہ آفتاب پرستی کے باطل عقیدہ کے خلاف اس خدائے برحق کی عبادت ہے جس کے آستانہ کمال کے سجدہ سے خود آفتاب کی پیشانی بھی داغ دار ہے ‘ دین محمدی ‘ ملت ابراہیمی کا دوسرا نام ہے ‘ اس لئے اس میں بھی نماز کے اوقات وہی رکھے گئے جو ملت ابراہیمی میں تھے ، دن نکلنے سے پہلے جب باطل پرستی کا یہ دیوتا (آفتاب) پردہ عدم میں روپوش ہوتا ‘ دوپہر کے بعد جب یہ اپنے انتہائی عروج کو پہنچ کر انحطاطا اور تنزل کی طرف جھکتا ہے اس انحطاط اور تنزل کے بھی دو تین دور ہوتے ہیں جب سر (سمت الراس) سے نیچے اترتا ہے ‘ جس کو زوال کہتے ہیں جب آنکھوں کے دائرہ تقابل سے نیچے اترتا ہے جس کو عصر کہتے ہیں اور پھر جب دائرہ نظر (افق) سے نیچے گرتا ہے جس کو مغرب کہتے ہیں ‘ آفتاب کے ان تینوں اوقات انحطاط میں ایک ایک نماز ادا ہوتی ہے ‘ خوب اچھی طرح ڈوبنے کے بعد جب وہ تاریکی کی قبر میں مدفون ہوجاتا ہے اس وقت عشاء کی نماز ادا کی جاتی ہے ‘ اسی لئے قرآن پاک میں نماز کے اوقات کے ذکر میں آفتاب کے ڈھلنے اور تاریک ہونے کا خاص طور سے ذکر آیا ہے ۔ (آیت) ” اقم الصلوۃ لدلوک الشمس الی غسق الیل وقران الفجر “۔ (بنی اسرائیل : 78) ” نماز کھڑی کر آفتا کے انحطاط کے وقت ‘ رات کی تاریکی تک (ظہر ‘ عصر ‘ مغرب ‘ عشاء ‘ اور فجر کی نماز ۔ “ غرض یہی سبب ہے کہ اسلام میں کوئی فرض نماز صبح سے دوپہر تک نہیں رکھی گئی کہ یہ آفتاب کے عروج کا وقت ہے بلکہ تمام نمازیں آفتاب کے ہر تدریجی انحطاط ‘ تنزل اور روپوشی کے اوقات میں ہیں ‘ نیز یہی سبب ہے کہ اسلام میں آفتاب نکلتے وقت ‘ اس کے عروج و کمال کے وقت اور اس کے ٹھیک ٹھیک غروب کے وقت نماز پڑھنا منع ہے کہ یہ آفتاب پرستوں کی عبادت کے خاص اوقات ہیں ۔ (صحیح مسلم کتاب الصلوۃ الاوقات التی نہی عن الصلوۃ فیھا) اسلام میں طریق واوقات نماز : نماز کس طرح اور کن کن اوقات میں اور کتنی کتنی رکعتیں کرکے پڑھنی چاہئے اور اس کے کیا کیا آداب و شرائط ہیں ‘ ان سب کے لئے قرآن پاک میں ایک جامع آیت ہے جو لڑائی کی حالت میں نماز ادا کرنے کی تفصیل کے سلسلہ میں مذکورہ ہے ۔ (آیت) ” حافظوا علی الصلوت والصلوۃ الوسطی وقوموا للہ قانتین ، فان خفتم فرجالا اور کبانا فاذا امنتم فاذکروا اللہ کما علمکم مالم تکونوا تعلمون۔ (البقرہ : 238) ” نمازوں پر اور بیچ کی نماز پر پابندی کرو اور اللہ کے لئے (نماز میں) ادب سے کھڑے ہو ‘ پھر اگر (دشمنوں کا) خوف ہو تو پیادہ ہو کر یا سوار ہو کر (نماز پڑھو) پھر جب تم کو امن ہوجائے تو اللہ کو اس طرح یاد کرو جس طرح اس نے تم کو سکھایا جس سے تم پہلے واقف نہ تھے ۔ “ اس آیت پاک سے یہ بات بتصریح ظاہر ہوتی ہے کہ ان باتوں کی کہ ہم کو نماز کس طرح اور کن اوقات میں اور کتنی رکعتوں کے ساتھ پڑھنی چاہئے ‘ خود اللہ تعالیٰ نے اسی طرح تعلیم فرمائی ہے ‘ جس طرح خود قرآن پاک کی اس اجمال کی تفصیل سنت نبوی کے ذریعہ احادیث میں تحریرا اور مسلمانوں کے نسلا بعد نسل متفقہ تواتر عمل میں عملا موجود ہے اور قرآن پاک میں اس کے علمی حوالے اور متعلقہ احکام مذکور ہیں ۔ نمازوں کی پابندی ونگرانی : اس سلسلہ میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ ہم نمازوں کی پابندی سے ادا کریں ‘ ان کی نگہداشت رکھیں اور ان پر مداومت کریں ۔ قرآن پاک میں نماز کی پابندی ‘ نگہداشت اور مداومت کے لئے ایک خاص لفظ ” محافظت “ کا استعمال کیا گیا ہے جس کے لفظی معنی نگرانی کے ہیں اور جس کی وسعت میں پابندی سے ادا کرنا وقت پر ادا کرنا اور بشرائط ادا کرنا سب داخل ہیں ‘ فرمایا : (آیت) ” حافظوا علی الصلوت) (البقرہ : 238) نمازوں کی نگرانی رکھو ، (آیت) ” والذین ھم علی صلاتھم یحافظون “۔ (المعارج : 29) اور جو اپنی نماز کی نگرانی رکھتے ہیں ۔ (آیت) ” والذین ھم علی صلوتھم یحافظون “۔ (المومنو : 9) اور جو لوگ اپنی نمازوں کی نگرانی رکھتے ہیں۔ (آیت) ” وھم علی صلاتھم یحافظون “۔ (الانعام : 92) اور وہ اپنی نماز کی نگرانی رکھتے ہیں۔ ایک آیت میں یہ بھی فرمایا : (آیت) ” الذین ھم علی صلاتھم دآئمون “۔ (المعارج : 30) جو اپنی نماز ہمیشہ ادا کرتے ہیں ۔ ان آیتوں سے ثابت ہوا کہ نماز ایسا فرض ہے جو کسی مسلمان سے کسی حال میں معاف نہیں ہو سکتا اور اس کو ہمیشہ پابندی کے ساتھ وقت پر اور اس کے سارے شرائط کے ساتھ ادا کرنا چاہئے ۔ نماز کے اوقات مقرر ہیں : اس کے بعد یہ مسئلہ ہے کہ نماز کے لئے اللہ تعالیٰ نے کچھ اوقات مخصوص فرمائے ہیں ارشاد ہے : (آیت) ” ان الصلوۃ کانت علی المؤمنین کتابا موقوتا “۔ (النسائ : 103) بلاشبہ نماز مسلمانوں پر مقررہ اوقات میں فرض ہے ۔ اس آیت پاک سے معلوم ہوا کہ ہماری فرض نمازوں کے لئے اوقات مخصوص ہیں ۔ وہ اوقات کیا ہیں ؟ ادائے نماز کے لئے قرآن نے زیادہ تر تین لفظ استعمال کئے ہیں ۔ (صلوۃ) یا (اقامت صلوۃ) (تسبیح) اور (ذکر اللہ) پہلا لفظ (اقامت صلوۃ) نماز کے لئے مخصوص ہے لیکن دوسرا اور تیسرا لفظ عام تسبیح وتحمید اور یاد الہی کے لئے بولا جاتا ہے جس کا جزء اعظم تسبیح وتحمید ہے ، احادیث میں بھی تسبیح کے معنی نماز پڑھنے کے ہیں اور اشعار عرب ولغت عرب سے بھی اس کا ثبوت ملتا ہے ، قرآن میں جب اس لفظ (تسبیح) کے ساتھ وقت کی تخصیص ہوگی تو اس سے کسی شبہ کے بغیر نماز کے علاوہ کوئی اور چیز مراد نہیں ہوسکتی کیونکہ وقت مخصوص کے ساتھ اسلام میں نماز کے علاوہ کوئی عام تسبیح فرض نہیں ہے البتہ اوقات کی تخصیص کے بغیر قرآن نے جہاں تسبیح کا حکم دیا ہے اس سے خدا کی عام یاد وتوسیف مراد ہو سکتی ہے ۔ اس تمہید کے بعد حسب ذیل آیتوں پر نظر کرنی چاہئے : 1۔ (آیت) ” قم الیل الا قلیلا ، نصفہ اوانقص منہ قلیلا ، اوزدعلیہ ورتل القران ترتیلا “۔ (المزمل : 2 ‘ 3 ‘ 4) ” رات کو کھڑا رہا مگر کچھ کم یا آدھی رات یا اس سے کچھ گھٹا دے یا بڑھا لے اور قرآن (اس میں) ٹھہر ٹھہرکر پڑھ “۔ 2۔ (آیت) ” وسبح بحمد ربک بالعشی والابکار “۔ (ال مومن : 55) ” اور اپنے رب کی حمد سہ پہر اور صبح کو کر ۔ “ 3۔ (آیت) ” وسبحوہ بکرۃ واصیلا “۔ (الاحزاب : 42) ” اور تم اس کی پاکی صبح کو اور سہ پہر کو کیا کرو۔ “ 4۔ (آیت) ” وتسبحوہ بکرۃ واصیلا “۔ (الفتح : 9) ” اور تم اس کی پاکی صبح کو اور سہ پہر کو بیان کرو۔ “ 5۔ (آیت) ” واذکر ربک فی نفسک تضرعا وخیفۃ ودون الجھر من القول بالغدو والاصال ولا تکن من الغافلین “۔ (الاعراف : 205) ” اور تو اپنے پروردگار کو اپنے دل میں گڑ گڑا کر اور پست آواز میں صبح کو اور دوپہر کو یاد کر اور بھولنے والوں میں سے نہ ہو ۔ “ 6۔ (آیت) ” ولا تطرد الذین یدعون ربھم بالغدۃ والعشی “۔ (الانعام : 52) ” اور اے رسول ! ان کو مت نکال جو اپنے پروردگار کو صبح اور سہ پہر کو پکارتے ہیں۔ “ 7۔ (آیت) ” فی بیوت اذن اللہ ان ترفع ویذکر فیھا اسمہ یسبح لہ فیھا بالغدو الاصال رجال “۔ الخ (النور : 36 ‘ 37) ” ان گھروں میں جن کے بلند کرنے کا حکم اللہ نے دیا ہے اور ان میں اللہ کا نام لیا جاتا ہے اور ان میں وہ لوگ جن کو دنیا کا کاروبار اللہ سے غافل نہیں کرتا صبح اور سہ پہر کو اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں ۔ “ 8۔ (آیت) ” واصبر نفسک مع الذین یدعون ربھم بالغدۃ والعشی “۔ (الکہف : 28) ” اور تو (اے رسول) اپنے کو ان لوگوں کے ساتھ روکے رہ جو اپنے پروردگار کو صبح اور سہ پہر کے وقت پکارتے ہیں ۔ “ 9۔ (آیت) ” وسبح بحمد ربک حین تقوم ، ومن الیل سبح وادبار النجوم “۔ (الطور : 48 ‘ 49) ” اور تو اپنے پروردگار کی حمد کی پاکی بیان کر ‘ جب تو اٹھتا ہے اور رات کے کچھ حصہ میں اس کی تسبیح کر اور ستاروں کے پیٹھ پھیرتے وقت ۔ “ 10۔ (آیت) ” واقم الصلوۃ طرفی النھار وزلفا من الیل “۔ (ہود : 114) ” اور نماز کو قائم کردن کے دونوں کناروں میں اور رات کے کچھ ٹکڑوں میں۔ “ 11۔ (آیت) ” اقم الصلوہ لدلوک الشمس الی غسق الیل و قرآن الفجر ان قران الفجر کان مشھودا ، ومن الیل فتھجدبہ نافلۃ الک “۔ (بنی اسرائیل : 78 ‘ 79) ” نماز قائم کر آفتاب کے جھکاؤ کے وقت رات کی ابتدائی تاریکی تک اور فجر کا پڑھنا ‘ بیشک فجر کا پڑھنا پر حضور ہے اور رات کو کچھ دیر جاگ کر مزید نماز پڑھ ۔ “ (تہجد) 12۔ (آیت) ” واذکر اسم ربک بکرۃ واصیلا ، ومن الیل فاسجدلہ وسبح لیلا طویلا “۔ (الدھر : 25 ‘ 26) اور اپنے پروردگار کا نام یاد کر صبح کو اور سہ پہر کو اور کچھ رات گئے اس کو سجدہ کر اور بڑی رات تک اس کی تسبیح کر ۔ 13۔ (آیت) ” فَاصْبِرْ عَلَی مَا یَقُولُونَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِہَا وَمِنْ آنَاء اللَّیْْلِ فَسَبِّحْ وَأَطْرَافَ النَّہَارِ لَعَلَّکَ تَرْضَی (طہ : 130) ” کافروں کے کہے پر صبر کر اور اپنے پروردگار کی حمد کی تسبیح پڑھ آفتاب نکلنے سے پہلے اور اس کے ڈوبنے سے پہلے اور رات کے کچھ حصوں میں اس کی تسبیح پڑھ اور دن کے کناروں میں تاکہ تو خوش رہے ۔ “ 14۔ (آیت) ” فسبحان اللہ حین تمسون وحین تسبحون ، ولہ الحمد فی السموات والارض وعشیا وحین تظھرون “۔ (الروم : 17 ‘ 18) ” تو اللہ کی تسبیح پڑھو ‘ جب شام کرو اور جب صبح کرو اور اس کی حمد آسمانوں اور زمین میں اور سہ پہر کو اور جب تم دوپہر کرو۔ “ 15۔ (آیت) ” فاصبر علی ما یقولون وسبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس وقبل الغروب ، ومن الیل فسبحہ وادبارالسجود ، (ق : 39 ‘ 40) ” تو کافروں کے کہے پر صبر کر اور اپنے پروردگار کی حمد کی تسبیح پڑھ آفتاب نکلنے سے پہلے اور اس کے ڈوبنے سے پہلے اور کچھ رات میں تسبیح پڑھ اور ڈوبنے کے بعد۔ “ 16۔ (آیت) ” من قبل صلوۃ الفجر وحین تضعون ثیابکم من الظھیرۃ ومن بعد صلوۃ العشائ “۔ (النور : 58) ” فجر کی نماز سے پہلے اور جب دوپہر کی گرمی کے سبب سے کپڑے اتارتے ہو اور عشاء کی نماز کے بعد ۔ “ ان اوپر کی آیتوں میں نماز کے مختلف اوقات کا ذکر ہے ‘ ان میں سے بعض مکرر ہیں اور بعض نہیں۔ مکرر اوقات کو ملا دینے کے بعد یہ وہی پانچ وقت ہوجاتے ہیں جن میں رسول اللہ ﷺ تمام عمر نماز ادا فرماتے رہے اور آپ کے بعد آپ ﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین اور اس وقت سے لے کر آج تک تمام روئے زمین کے مسلمان نسلا بعد نسل ادا کرتے آئے ہیں اور جن کے مشہور نام فجر ‘ ظہر ‘ عصر ‘ مغرب اور عشاء ہیں ۔ غدو ‘ غداۃ ‘ بکرۃ ‘ فجر ‘ قبل طلوالشمس اور حین تصبحون کے معنی صبح کی نماز اصیل ‘ عشی اور قبل غروب الشمس سے مراد عصر ۔ دلوک الشمس (زوال) اور حین تظہرون (جب دوپہر کرو) سے مقصد ظہر ۔ طرف النھار (دن کا کنارہ) اور تمسون (جب شام کرو) سے مراد مغرب اور من آنائی الیل (کچھ رات گزرے ) غسق الیل (رات کی ابتدائی تاریکی) اور صلوۃ العشاء سے مقصود عشاء کی نماز ہے اور یہی نماز کے پانچ اوقات ہیں جن میں اللہ کی یاد اور تسبیح وتحمید کا ہم کو حکم دیا گیا ہے ۔ اوپر نماز کے متعلق جو کچھ عرض کیا گیا ہے وہ نماز کی افادیت اور دوسرے مذاہب کے تقابل کے لئے پیش کیا گیا ہے ہمیں معلوم ہے کہ آج ہم مسلمانوں ہی میں وہ کتنے لوگ ہیں جو اس پنجگانہ نماز کی اس ظاہری حیثیت اور اس کی حرکات و سکنات سے انکاری ہیں نہیں وہ صرف انکاری ہی نہیں بلکہ اپنی خاص مجلسوں میں اس نماز کا مذاق بھی اڑاتے ہیں اور اس کو قرآنی نماز کے بالکل منافی تصور کرتے ہوئے بڑی ڈھٹائی اور بےحیائی سے اس کو عجمی سازش قرار دیتے ہیں اور علاوہ ازیں جو لوگ اس نماز کو مانتے اور تسلیم کرتے ہیں ان میں سے بعض تین اوقات کی نماز مانتے ہیں اور پانچ اوقات کی نماز سے ان کو انکار ہے اور تعداد رکعت ‘ اذکار نماز بلکہ نماز کے لفظ تک سے وہ الرجک ہیں اور انہوں نے اپنی طرف سے ایک ناکام کوشش بھی کی ہے کہ وہ قرآن کریم سے تین اوقات اور اذکار وغیرہ کو پیش کریں پھر ایسے بھی ہیں جو اوقات تو پانچ مانتے ہیں لیکن ظہر ‘ عصر کو ایک وقت اور مغرب و عشاء کو ایک وقت پر جمع کرتے ہیں اور اذکار نماز اور حرکات و سکنات میں بھی بہت سے اختلافات رکھتے ہیں یہ شیعوں کا گروہ ہے اور ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ اہل سنت کہلانے والے جب مختلف گروہوں یعنی دیوبندی ‘ بریلوی اور اہلحدیث فرقوں میں تقسیم ہوگئے تو ان کے ہاں بھی فروعی اختلافات موجود ہیں جو فروعی اختلافات تسلیم کرنے کے باوجود آپس میں انہیں فروعات پر لڑتے بھڑتے رہتے ہیں اور ایک دوسرے کو برا بھلاہی نہیں بلکہ کافر ‘ مشرک تک کہتے ہیں اور ایک دوسرے پر نماز نہ ہونے کا فتوی بھی صادر کرتے ہیں تاہم ہم نے ان میں سے سے کسی بات کو اس جگہ نہیں چھیڑا کیونکہ ان ساری باتوں کا تعلق تفسیر کے ساتھ مطلق نہیں ہے ۔ ان کی تفہیم کے لئے ہم نے ” صلوۃ کے اختلافی ابواب “ کے نام سے ایک کتاب تحریر کی ہے جو فی الحال زیر طبع ہے ، طباعت کے بعد انشاء اللہ ان ساری باتوں پر سیر حاصل بحث کے بعد اصل حقیقت معلوم ہوجائے گی اور مزید یہ بھی معلوم ہوگا کہ نماز کے اخلاقی ‘ تمدنی اور معاشرتی فائدے کیا ہیں اور آج ہم ان سے کیوں مستفید نہیں ہو رہے ؟ اس میں بتایا گیا ہے کہ نماز شرم وحیا کی نگہداشت کے لئے کتنی اہم چیز ہے ؟ اس سے طہارت و پاکیزگی کیسے حاصل ہوتی ہے ؟ ظاہری پاکیزگی اور باطنی پاکیزگی لازم وملزوم کیوں ہیں ؟ نماز پابندی اوقات کا کیسے درس دیتی ہے ؟ رات کو جلد سونے اور صبح خیزی کے فائدے کیا ہیں ؟ ایک نماز میں خوف خدا کیونکر پیدا ہوتا ہے ؟ نماز انسان کو عقل وفکر کے تابع وحی کرنے میں کیسے مدد دیتی ہے ؟ نماز مسلمان کے لئے مذہبی اور سیاسی امتیازی نشان کیوں ہے ؟ نماز حق کی خاطر باطل کو مٹانے کے لئے کیونکر آمادہ کرتی ہے ؟ نماز ہی سے تکمیل اخلاق ممکن ہے ؟ نماز اجتماعی الفت و محبت پیدا کرنے کا ایک ذریعہ ہے کیوں ‘ اور کیسے ؟ نماز سے باہمی ہمدردی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے ؟ اجتماعیت ایک فطری چیز ہے جو نماز کی لازمی شرط ہے ؟ ایک عمل کو بار بار دہرانے کا فائدہ کیا ہے ؟ نماز ثابت کرتی ہے کہ انسان کی عملی کامیابی استقلال اور مواظبت پر موقوف ہے ؟ نظم جماعت کے سوا زندگی ادھوری ہوتی ہے ؟ نماز واضح کرتی ہے کہ مساوات کیا ہے ؟ نماز ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ اطاعت کیسے ہوتی ہے ؟ نماز سے معیار فضیلت کا علم حاصل ہوتا ہے ؟ نماز روزانہ کی مجالس ‘ ہفتہ وار مجالس ‘ سالانہ مجالس کی حقیقت کو اجاگر کرتی ہے ؟ مذکورہ بیس سوالوں کے جواب بھی اس میں تفصیل سے دیئے گئے ہیں ۔ جن چیزوں کے حاصل ہونے سے نماز ‘ نماز ہوتی ہے آج ہمارے مفتیوں کے فتو وں سے وہی چیز مکروہات نماز ہو کر رہ گئی ہے ‘ کیوں اور کیسے ؟ کی وضاحت پر یہ کتاب ختم کردی گئی ہے ع ” شب شود صبح وہماں محوتماشا باشم “ مذکورہ چھ نشانیوں کے حاملین کو جو خوشخبری سنائی گئی : 10۔ گزشتہ آیات کریمات میں جو نشانات ایمان والوں کے شمار کئے گئے ہیں ان کے متعلق اب فیصلہ سنایا جا رہا ہے کہ جو لوگ ان شھ نشانات کے حامل ہیں وہ بلاشبہ مسلمان ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جو تمام اخلاق حسنہ اور صفات عالیہ سے متصف ہیں اس لئے یہی ہیں جو اخروی میراث کے وارث قرار پائیں گے وہ اخروی میراث کیا ہے ؟ اس کا ذکر آنے والی آیت میں کیا گیا ہے ۔
Ayah 23:11

الَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَ١ؕ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 23:11 in the Quran reader

یہ فردوس کی زندگی میراث میں پائیں گے ہمیشہ کے لیے اس میں بسنے والے

وہ الفردوس میں داخل کئے جائیں گے ‘ جہاں ہمیشہ کے لئے وہ رہیں گے : 11۔ ” الفردوس “ جنت کے ناموں میں سے ایک نام ہے اور فردوس کے معنی بھی باغ ہی کے کئے جاتے ہیں ۔ قرآن کریم نے اس کو صرف (الجنۃ) سے بھی موسوم کیا ہے اور کہیں کہیں اس کو مناسب اضافتوں کے ساتھ بھی بیان کیا گیا ہے اور اس طرح اس کو دوسرے الفاظ سے بھی بیان کیا گیا ہے جیسے زیر نظر آیت میں اس کو (الفردوس) کہا گیا اور (ھم فیھا خلدون) سے اس کے دوام کی اطلاع دے دی گئی ہے بلاشبہ دنیا میں بھی لذتیں اور مسرتیں ہیں مگر جو چیز یہاں نہیں وہ بلاشبہ بقائے دوام ہے گویا اس جگہ کی ہر لذت عارضی اور ہر مسرت فانی ہے یہاں خوشی کا کوئی ایسا ترانہ نہیں جس کے بعد غم ونالہ نہ ہو ‘ یہاں ہر پھول کے ساتھ کانٹے ‘ ہر روشنی کے ساتھ تاریکی ‘ ہر وجود کے ساتھ فنا ‘ ہر سیری کے بعد بھوک ‘ ہر سیرابی کے بعد پیاس اور ہر غنا کے بعد محتاجی ہے ۔ انسان ہزاروں مشکلیں اٹھانے اور ہزاروں صدمات سہنے کے بعد ایک مسرت کا پیغام سنتا ہے اور ایک خوشی کا منظر دیکھتا ہے مگر ابھی اس سے سیر ہونے کی بھی نوبت نہیں آتی کہ اس کا خاتمہ ہوجاتا ہے لیکن جنت یعنی فردوس اس مملکت کا نام ہے جہاں کی راتیں جاودانی اور جہاں کی مسرتیں غیر فانی ہیں ‘ جہاں حیات ہے مگر موت نہیں ‘ راحت ہے مگر تکلیف نہیں لذت ہے مگر الم نہیں ‘ مسرت ہے مگر غم نہیں ‘ جہاں وہ سکون ہے جس کے ساتھ اضطراب نہیں اور وہ شادمانی ہے جس کے بعد خزن واندوہ نہیں۔ زیر نظر آیت میں جنت الفردوس کی وارثت حاصل ہونے کی خوشخبری سنائی گئی ہے ، زندہ انسانوں اور خصوصا زندہ مسلمانوں کے لئے ابھی یہ سنہری موقع ہے کہ وہ ان ذمہ داریوں کو پورا کرکے جن کا ذکر پیچھے کیا گیا ہے اس جنت الفردوس کی وراثت کو حاصل کرلیں ورنہ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ گزرا ہوا وقت کبھی دوبارہ نہیں آتا یہ زندگی بلاشبہ فانی ہے اور اس کی فنا کے بعد کسی کو دوبارہ یاں موقع نہیں دیا جائے گا ‘ اس لئے یہی زندگی اخروی زندگی کو سنوارنے کا ایک اور صرف ایک ذریعہ ہے ۔
Ayah 23:12

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ طِیْنٍۚ Open ayah 23:12 in the Quran reader

اور ہم نے انسانوں کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کیا

انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کیا گیا ہے جس کو ” جوہر “ بھی کہا جاتا ہے : 12۔ (سلالۃ) چنی ہوئی ‘ نچوڑی ہوئی ‘ نچوڑ ‘ خلاصہ سل سے جس کے معنی کسی چیز کو کسی چیز سے کھینچنے سوتنے اور نچوڑنے کے ہیں اسم مشتق ہے ۔ (سلالۃ) کا لفظ دو بار قرآن کریم میں استعمال ہوا ہے اور اسی مادہ سے (یتسللون) کا لفظ بھی ہے جو سورة النور کی آیت 63 میں آیا ہے جس کے معنی ہیں کہ ” وہ کھسک جاتے ہیں “ جمع مذکر غائب کا صیغہ ۔ قرآن کریم میں انسان کی پیدائش کا ذکر بہت سی جگہوں میں آیا ہے اور تقریبا ہر جگہ یہی بیان کیا گیا ہے کہ انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کیا گیا ہے اور پھر انسان اول کی پیدائش کے بعد خواہ وہ کتنی ہی تعداد میں پیدا کئے گئے ہوں اس کے لئے ایک ضابطہ مقرر کردیا گیا جس کا تعلق جنس انسانی کی دونوں اصناف مرد و عورت سے قائم کیا گیا ۔ اس جگہ بھی انسان کی ابتدائی پیدائش کا پہلے ذکر کیا گیا کہ وہ کس چیز سے ہوئی ؟ (سلالۃ من طین) یعنی ایک ایسے جوہر سے جو کیچڑ کا خلاصہ تھا ۔ مطلب یہ ہے کہ مرطوب چیز مدتوں تک خمیر کی حالت میں رہی پھر اس میں کوئی ایسی چیز پیدا ہوگئی جسے اس کا خلاصہ اور ست سمجھنا چاہئے اس خلاصہ سے زندگی کی اولین نمود ہوئی اور اس سے بالآوجود انسانی متشکل ہوا۔
Ayah 23:13

ثُمَّ جَعَلْنٰهُ نُطْفَةً فِیْ قَرَارٍ مَّكِیْنٍ۪ Open ayah 23:13 in the Quran reader

پھر ہم نے اسے ” نطفہ “ بنایا ، ایک ٹھہر جانے اور جماؤ پانے کی جگہ میں

پیدائش اول کے بعد دوسری پیدائش انسانی کا ضابطہ : 13۔ (قرار مکین) سے مفسرین نے جو کچھ سمجھا تھا اس کو اس طرح بیان کیا گیا کہ (قرار) ٹھہرنے کی جگہ (مکین) محفوظ اور اس سے مراد رحم مادر ہے گویا (مکین) درحقیقت مکان قرار کی صفت نہیں ہے بلکہ قرار پکڑنے والے کی ہے مجازا قرار کی صفت کردیا گیا ہے اور پھر اس کی تشریح شروع کی اور چلتے چلتے کن کن وادیوں میں گھومتے پھرتے رہے تفصیل کے لئے ابن جریر “ درمنثور ‘ کبیر اور معالم التنزیل وغیرہ کے اس مقام تفسیر پر نظر ڈال لیں لیکن آج یہ سب کچھ پڑھ کر ہنسی آتی ہے اور جدید علوم سے واقف طبقہ کے لوگ اس کو قرآن کریم سمجھ کر اس سے منہ پھیرتے ہیں اور ان بیچاروں کو کوئی نہیں بتاتا کہ یہ قرآن کریم نہیں ہے بلکہ قرآن کریم کے حقائق اپنی جگہ قائم ہیں تو ان حقائق کی تفہیم اس دور میں کرائی گئی جس دور میں یہ مفسرین گزرے لہذا مفسرین کی غلطی کو قرآن کریم کی غلطی قرار دینا سراسر زیادتی ہے ، اس کی تفصیل عنقریب بیان کی جائے گی ۔
Ayah 23:14

ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظٰمًا فَكَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْمًا١ۗ ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَ١ؕ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَؕ Open ayah 23:14 in the Quran reader

پھر ” نطفہ “ کو ہم نے ” علقہ “ بنایا پھر ” علقہ “ کو ایک گوشت کا لوتھڑا سا کردیا ، پھر اس میں ہڈیوں کا ڈھانچہ پیدا کیا ، پھر ڈھانچے پر گوشت کی تہ چڑھا دی ، پھر کس طرح اسے بالکل ایک دوسری ہی طرح کی مخلوق بنا کر نمودار کردیا ؟ تو کیا ہی برکتوں والی ہستی ہے اللہ کی ، پیدا کرنے والوں میں سب سے بہتر پیدا کرنے والا

دوسری پیدائش انسانی کے ضابطہ کی مزید تشریح جو اس وقت تک تشنہ تھی : 14۔ یہ تو پہلی پیدائش ہوئی اس کے بعد پیدائش کا سلسلہ کس طرح جاری ہوا ؟ توالد وتناسل سے چناچہ پہلے نطفہ رحم مادر میں جگہ پکڑتا ہے پھر اس پر نشو ونما کے مختلف دور طاری ہوتے ہیں قرآن کریم نے اس جگہ اور دوسرے مقامات پر تشکیل جنین کے جو مراتب خمسہ بیان کئے ہیں وہ کچھ اس طرح ہیں کہ : ا : (نطفۃ) لغت میں پانی کے ایک قطرہ کو کہتے ہیں چونکہ جنین کی تکوین کا ابتدائی مادہ پانی کے چند قطروں کی طرح ہوتا ہے اس لئے اسے نطفہ کہنے لگے ۔ ب : (علقۃ) جمے ہوئے خون کے لوتھڑے کو بھی کہتے ہیں اور جونک کو بھی ۔ ج : (مضغۃ) گوشت کے ایک ٹکڑے کو کہتے ہیں جس میں کوئی ہڈی نہیں ہوتی ۔ د : (عظاما) ہڈیاں گویا اب وہ لوتھڑا ہڈیوں کا ایک ڈھانچہ تشکیل پا گیا اور اس سلسلہ کو دوسری جگہ (مخلقۃ) بھی کہا گیا ہے جیسا کہ سورة الحج کی آیت 5 میں گزر چکا جہاں بتایا گیا کہ کبھی (مخلقۃ) کی صورت (غیر مخلقۃ) بھی ہوجاتی ہے یعنی بگڑ کر رہ جاتی ہے اور متشکل نہیں ہوتی ۔ ہ : (فکسونا العظام لحما) پھر اس ڈھانچہ پر گوشت کی ایک تہ جما دی جاتی ہے یعنی متشکل ہونے کے بعد اس کو گوشت پہنایا جاتا ہے جو ہڈیوں کے اوپر ہوتا ہے اور اس کے بعد وہ انسان کی ایک عجیب و غریب تصویر معرض وجود میں آجاتی ہے اور اس طرح جنین کی تکمیل کے بعد ایک شکل و صورت کے ساتھ بچہ تولد ہوجاتا ہے ۔ ان مراتب خمسہ کی مزید تشریح گزشتہ زمانہ میں پوری طرح واضح نہیں ہوئی تھی کیونکہ علم تشریح جنین ناقص حالت میں تھا لیکن اس ہمارے زمانہ میں تقریبا تمام پردے اٹھادیئے گئے ہیں اور ان سے پوری طرح ان تصورات کی تصدیق ہوگئی ہے اور (آیت) ” ثم انشانہ خلقا اخر “ سے پوری طرح پردہ اٹھ چکا ہے ہم نے پہلی تقسیم کو 1 سے ہ تک بیان کردیا ہے اور موجودہ تفہیم میں جو قرآن کریم کے ان اشارات سے سمجھا گیا وہ پیش خدمت ہے ۔ مختصرا اس آخری حالت کو قرآن کریم نے (خلقا اخر) سے تعبیر کیا ہے یعنی اس مرتبہ میں پہنچ کر کوئی ایسا انقلاب طاری ہوجاتا ہے کہ بالکل ایک دوسری ہی طرح کی خلقت ظہور میں آجاتی ہے گویا مرتبہ ا سے لے کر مرتبہ ہ تک جنین کی جو حالتیں رہیں اور جس نوعیت کی مخلوق بنتی رہی وہ کوئی دوسری قسم کی چیز تھی اور اب اس مرتبہ میں آکر بالکل ایک دوسری ہی قسم کی چیز نمایاں ہوگئی ۔ چونکہ مراتب پیدائش کی کوئی ایسی انقلابی حالت ہمارے مفسرین کے سامنے نہ تھی اس لئے قدرتی طور پر اس کی کوئی دل میں جمتی ہوئی تفسیر ان سے بن نہ آئی اور وہ مختلف وادیوں میں نکل گئے بعض نے کہا کہ اس سے مقصود نفخ روح ہے کیونکہ اس مرتبہ سے پہلے روح نہیں ہوتی ‘ بعض نے کہا یہ شکم مادر سے باہر نکلنے کی طرف اشارہ ہے ۔ کیونکہ وضع حمل اس کے بعد ہوتا ہے ، بعض نے کہا اس سے مقصود بالوں کا پیدا ہونا ہے اس سے پہلے بال نہیں ہوتے ‘ بعض نے کہا نہیں ! اس سے مقصود تو دانت ہیں کہ دانت اس مرتبہ میں پیدا ہوتے ہیں ‘ بعض نے جمع وتطبیق آراء کی راہ اختیار کرنی چاہی تو انہوں نے کہا کہ دراصل مقصود تمام قوی کی تکمیل ہے ، اس میں بال بھی آگئے ‘ دانت بھی آگئے تاہم ظاہر ہے کہ ان میں سے کوئی تفسیر بھی (خلقا اخر) کا تقاضا پورا نہیں کرتی منطوق کے اعتبار سے بھی اور مفہوم کے اعتبار سے بھی بعینہ پچھلے مراتب تطور کی بھی حقیقت واضح نہ ہوسکی (علقۃ) کو جمے ہوئے خون کے معنوں میں لے گئے اور (مضغۃ) کو گوشت بن جانے کے معنوں میں اور ترتیب نشتہ یوں سمجھی گئی کہ نطفہ سے پہلے خون پیدا ہوتا ہے اور وہ کلیجی کی طرح جما ہوا ہوتا ہے پھر یہ منجمد خون گوشت بن جاتا ہیں پھر اس گوشت بن جاتا ہے پھر اس گوشت میں ہڈیاں پیدا ہوجاتی ہیں پھر ہڈیوں پر چمڑا چڑھ جاتا ہے اس چمڑے کو (آیت) ” کسونا العظام لحما) میں مجازا لحم کہا ہے ۔ لیکن اس مقام کی شرح وتحقیق کا حق ادا نہ ہوسکا تو اسے مفسروں کے قصور فہم پر محمول نہیں کرنا چاہئے کیونکہ اس باب میں وہ یقینا معذور تھے ، علم وتحقیق کا یہ گوشہ تمام تر زمانہ حال کی پیداوار ہے اور زمانہ حال کی پیداوار میں بھی سب سے آخری عہد کی پیداوار ‘ انیسویں صدی کا ابتدائی زمانہ جو تمام علوم حدیثیہ کے انکشاف وتکمیل کا سب سے زیادہ شاندار زمانہ ہے پورا گزر گیا اور کارخانہ فطرت کے اس گوشہ مستور کے تمام حجاب نہ اٹھ سکے پس اگر اٹھارویں صدی کے حکماء معذور تصور کئے جاسکتے ہیں کہ اس بارے میں بالکل غلط رخ پر جا رہے تھے حالانکہ خوردبین ایجاد ہوچکی تھی اور انسانی نعش کی تشریح کا باب مسدود کھل چکا تھا ‘ تو ظاہر ہے نویں اور دسویں صدی کے مفسرین قرآن کیوں معذور تصور نہ کئے جائیں جن کے سامنے اس سے زیادہ کچھ نہ تھا جتنا ارسطو اپنی کتاب الحیوانات میں اور جالینوس اپنے مقالات میں لکھ چکا ہے ۔ علم الجنین کی مختصر تاریخ : دراصل پیدائش حیوانات کے بارے میں گزشتہ دو ہزار سال تک انسانی علم کی پرواز اسی حد تک رہی ‘ علم ونظر کی تمام شاخوں کی طرح علم الجنین (Emlryology) میں بھی ارسطو ہی کی تحقیقات پر تمام تر دارومدار تھا ‘ سترھیوں صدی میں جب خوردبین کی ایجاد ایک خاص حد تک طرقی پذیر ہوئی تو پرندوں کے انڈوں کا خوردبینی مطالعہ شروع ہوا اور بتدریج ایک نئے نظریہ کی بنیاد پڑگئی جسے اس وقت نظریہ ارتقاء سے تعبیر کیا گیا تھا لیکن اب ” نمودوبروز “ کے نظریہ سے تعبیر کیا جاتا ہے یعنی (Preformation Theory) سے ۔ اس نظریہ کا ماحصل یہ تھا کہ اصل پیدائش جنس اناث کا بیض (Query) ہے ۔ جنین پر تطورات کی کوئی نئی حالت طاری نہیں ہوتی بلکہ بیض میں جو کامل وجود موجود ہوتا ہے وہی کھلنے اور بڑھنے لگتا ہے ‘ مثلا انسان کے تخم حیات میں ایک کامل انسان اپنے تمام خارجی وداخلی اعضاء کے ساتھ موجود ہوتا ہے ‘ لیکن اتنا چھوٹا ہوتا ہے کہ خوردبین سے بھی اس کا ادراک نہیں کیا جاسکتا ‘ اسی کامل ومتشکل ذرہ وجود کا بڑھ جانا ‘ نطفہ کا انسان بن جانا ہے ۔ 1690 ء میں جب ایک ڈچ عالم خوردبین لینون ہاک (Leenwen Hock) نے جنس رجال کے مادہ منویہ کے جراثیم کا انکشاف کیا تو ایک گروہ پیدا ہوگیا جس نے بیض اناث کی جگہ جراثیم منویہ کو اصل حیات قرار دیا ، تاہم اس رائے میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی کہ جنین پر تطور کی نہیں بلکہ محض برورز ونمو کی حالت طاری ہوتی ہے ‘ اٹھارویں صدی کے وسط تک یہی رائے وقت کی مقبول ومعتمد رائے رہی ‘ یہاں تک کہ 1759 ء میں ایک جرمن محقق ‘ فریڈرک ولف نے یہ پورا نظریہ غلط ٹھہرایا اور تولید وتطور کے اصل پر زور دیا ۔ پھر 1817 ء میں پانڈرنے اور 1828 ء میں بیر نے اسے مزید ترقی دی اس کے بعد سے اسی رخ پر قدم اٹھنا شروع ہوگئے ، پھر جب 1859 ء میں ڈارون کی کتاب ” اصلیت انواع “ شائع ہوئی تو اس نے علم کے تمام گوشوں کی طرح اس گوشہ کے لئے بھی ایک نئی روشنی مہیا کردی اور بالآخر انیسویں صدی کے آخری سالوں میں ارنسٹ ہیکل (Earnst Hacckel) کے ہاتھوں یہ تحقیقات تکمیل تک پہنچ گئیں ‘ اب علم الجنین کا ہر گوشہ نظریوں اور قیاسوں کے سہاروں سے بالکل بےپروا ہوگیا ہے اور جو کچھ ہے تمام تر استقراء ومشاہدات پر مبنی ہے یہ اب فلسفہ کی بحث وتعلیل کا محتاج نہیں کیونکہ خود علم کی ایک حقیقت ہے ۔ اس باب میں سب سے زیادہ معتمد خود ارنسٹ ہیکل کی دو کتابیں ہیں ۔ ” نیچرل ہسٹری آف کری ایشن ‘ ؓ اور ” ریو ولیوشن آف مین “ اس مبحث میں ہمارا اعتماد انہی پر ہے ۔ قبل اس کے کہ قرائن کے بیان کردہ مراتب پر نظر ڈالی جائے معلوم کرلینا چاہئے کہ انسانی وجود کی پیدائش اور اس کے جنین کے احوال وتطورات کے باب میں علم کے حقائق کیا ہیں ؟ اس بحث کی تفصیل کے لئے اصل کتابوں کی طرف رجوع کریں اس جگہ ہم مختصرا اشارات ہی دیں گے ۔ تمام حیوانات کی طرح انسان کی بھی پیدائش ایک بیضہ سے ہوتی ہے جسے اصطلاح میں (Qvum) کہتے ہیں خلیہ تخم (خلیہ یعنی Cell) یہ خلیہ تخم جنس اناث میں بھی پیدا ہوتا ہے اور جنس رجال میں بھی ، فعل تلقیح اس وقت واقع ہوتا ہے جب جنس رجال کے خلیات تخم اناث کے بیضہ میں پہنچ جاتے ہیں ‘ یہ خلیہ تخم ایک بہت ہی دقیق ذرہ کا ساحجم رکھتا ہے ‘ یعنی اس کا قطر ایک انچ کا ایک سو بیسواں حصہ بلکہ اس سے بھی کم ہوتا ہے یہی خلیہ زندگی اور وجود کا اصل تخم ہے ۔ نطفہ کے قرار پانے کے معنی یہ ہیں کہ جنس رجال کا خلیہ تخم جنس اناث کے بیض میں جگہ پائے استقرار کے بعد جنین تطور شروع ہوتا ہے ابتدا میں وہ محض خلیات کا ایک کروی مجموعہ ہوتا ہے پھر ایک مجوف گیند کی سی شکل اختیار کرلیتا ہے جس کے اطراف کی دیوار خلیات سے مرکب ہوتی ہے ‘ اس کے بعد یہ خلیات ایک دوسرے سے بالکل مل جاتے ہیں اور آہستہ آہستہ ان میں طولانیت پیدا ہونی شروع ہوتی ہے یہاں تک کہ بالکل ایک فعل نما (Soleshaped) صورت اختیار کرلیتے ہیں ‘ اب ان میں ایک ایسی ہیکلی ہیت پیدا ہوجاتی ہے جیسی مچھلی کی ہوتی ہے ۔ پھر یہ ہئیت حیوانات تو ازب (Amphibib) کا ساہیکل اختیار کرلیتی ہے اس کے بعد حیوانات لبونہ (Mammals) کا ہیکل نمایاں ہوتا ہے ‘ لیکن پہلے ادنی درجہ کے حیوانات لبونہ کا مثلا ایسا جیسا آسٹریلیا کے خلد آبی (Duck Bill) کا ہوتا ہے یا ان حیوانات کا جنہیں ذوات الکیس (Massupils) کہتے ہیں پھر اونچے درجہ کے حیوانات لبونہ کا مثلا گھوڑا ‘ کتا ‘ بیل پھر یہ مرتبہ ترقی کر کے ایک ایسے ہیکل تک پہنچتا ہے جو ٹھیک ٹھیک بندر کا سا ہوتا ہے ‘ دم بھی موجود ہوتی ہے پھر اس میں تبدیلی شروع ہوتی ہے اور بندر کے ترقی یافتہ اعلی اقسام کا ساہیکل نمایاں ہونے لگتا ہے یعنی گوریلا ‘ شمپازی ‘ گیبون وغیرہ اقسام کا اب اس کے بعد آخری مرتبہ تطور آتا ہے اور اچانک ایک انقلابی حالت طاری ہونے لگتی ہے یعنی تمام حیوانی ومیمونی خصوصیات مفقود ہوجاتی ہے ‘ ایک نئی نوعیت کا ہیکل نمایاں ہوجاتا ہے اور وجود انسانی اپنی ساری خصوصیتوں اور رعنائیوں کے ساتھ ابھر آتا ہے ۔ ابتدا کے تمام تطورات ایک مہینے کے اندر طاری ہوجاتے ہیں ‘ آخری تطورات دوسرے مہینے کے اندر اور پھر حمل کا بقیہ زمانہ جس قدر گزرتا ہے صورت انسانی ہی کی تکمیل پر گزرتا ہے ۔ اس سلسلہ میں جو حقیقت سب سے زیادہ اہم نمایاں ہوئی ہے اور جس نے علم ونظر کے بہت سے گوشوں میں انقلاب پیدا کردیا وہ پیدائش حیات کے قانون کی عالمگیر وحدت ہے ، نباتات سے لے کر وجود انسانی تک ‘ اصل وبنیاد حیات ایک ہی ہے اور جس قدر امتیازی اختلافات پیدا ہوتے ہیں ٹھیک ٹھیک انی حدود کے اندر اور انہی ترتیبات سے جو قانون نشو وارتقا کی بنا پر ضروری ہیں ‘ اس اعتبار سے اگر انسان کے جنین پر نظر ڈالی جائے تو حسب ذلیل مدارج اور ان کے احکام سامنے آئیں گے : ا : پہلا درجہ وہ ہے جس میں خلیہ تخم کی حالت ٹھیک ٹھیک ویسی ہی ہوتی ہے جیسی تمام نباتات اور حیوانات کی گویا اس ابتدائی درجہ میں ایک انسان کا جنین بھی ویسا ہی ہوتا ہے جیسا کہ ایک درخت کا ‘ ایک مچھلی کا ‘ ایک چارپائے گا ایک پرند کا ۔۔۔۔۔ یہ حالت نطفہ کی ابتدائی حالت ہوتی ہے ۔ ب : پھر خلیات کا کروی مجموعہ ایک دوسرے درجہ میں داخل ہوتا ہے ‘ اس درجہ میں پہلا امتیاز نمایاں ہوتا ہے یعنی اب جنین نباتات کے دائرہ سے بلند ہو کر صرف حیوانات کے دائرہ کی چیز بن جاتا ہے ‘ ہم تمام حیوانات کا جنین ایسا ہی پاتے ہیں مگر نباتات کا نہیں ۔۔۔۔۔۔ یہ حالت دو ہفتہ کے اندر طاری ہوجاتی ہے ۔ ج : تیسرے ہفتہ میں جنین دوگنی طوالت پیدا کرلیتا ہے اور نعل کی سی شکل بن جاتا ہے نیز ایک نشان ظاہر ہوجاتا ہے جو آگے چل کر سر بننے والا ہوتا ہے یہی نشان تین بنیادی حالتوں کی پہلی داغ بیل ہے ۔ اس درجہ میں دوسرا امتیاز نمایاں ہوتا ہے یعنی اب جنین حیوانات کے دائرہ سے نکل کر حیوانات لبونہ کے خاص دائرہ میں آجاتا ہے لیکن ادنی درجہ کے دائرہ میں ۔ د : چوتھے ہفتہ میں سرکا نشان ایک غیر متشکل گنبد کی سی ہئیت پیدا کرنے لگتا ہے ‘ اس کے اندر بھیجے کے خانے بھی نمایاں ہوجاتے ہیں ‘ عنصری نالیاں بھی ابھر آتی ہیں ‘ دل کے چاروں حصے بھی وجود پذیر ہوجاتے ہیں اور سب سے زیادہ یہ کہ ریڑھ کی ہڈی کا ڈھانچہ پوری طرح نشو ونما پانے لگتا ہے ۔ اس درجہ میں پہنچ کا جنین اعلی درجہ کے حیوانات لبونہ کی خصوصیات پیدا کرلیتا ہے ‘ یعنی اب انسان کا جنین ایسا ہوجاتا ہے جیسا گھوڑے ‘ بیل ‘ کتے وغیرہ شیر خوار جانوروں کا ہوتا ہے ۔ اب حمل کا پہلا مہینہ ختم ہوگیا ۔ ہ : پانچویں ہفتہ سے صورت آرائی کا زیادہ مشخص دور شروع ہوتا ہے لیکن یہ بندر کے سے ہیکل کا ہوتا ہے اس درجہ کے جنین کی تصویر بندر کی تصویر کے ساتھ رکھی جائے تو دونوں میں کوئی نمایاں فرق دکھائی نہیں دے گا ۔ و : پھر یہ ہیکل بندر کی اونچی قسم کے ہیکلوں کی طرف بڑھتا ہے اور گوریلا اور شمپازی وغیرہ کے جنین کی سی ہیئت پیدا کرنے لگتا ہے ۔ ز : اس کے بعد ایک آخری انقلاب طاری ہوتا ہے اور انسانی جسم و صورت کی خصوصیات یکایک ابھرنے لگتی ہیں حتی کہ بالکل ایک نئی قسم کا تناسب و اعتدال ظہور میں آجاتا ہے ، دوسرے مہینے کے اختتام پر یہ درجہ پوری طرح صورت پذیر ہوجاتا ہے ۔ ح : اس کے بعد فطرت کی نقاشی زیادہ دقیق قسم کے امتیازات کی نوک پلک درست کرنے لگتی ہے یعنی نوع انسانی کی مختلف وطنی ‘ موسمی اور معنوی اختلافات ابھرنے اور بننے لگتے ہیں پھر جدی اور آبائی اثرات کی نمود شروع ہوتی ہے اور ہر والدین کو اپنی قوم ‘ اپنے ملک ‘ اپنی نسل اور اپنے ماحول مؤثرات کا مولود میسر آجاتا ہے ۔ یہ آخری انسانی دور سب سے بڑا دور ہے یعنی ابتدا کے دو مہینے چھوڑ کر باقی تمام ایام حمل جن میں مدت چار سے ساتھ مہینوں تک پہنچ جاتی ہے اسی دور میں بسر ہوتے ہیں ۔ قرآن کریم کی تصریحات جو اس نے پیش کیں اب ان تمام تفصیلات کو پیش نظر رکھ کر قرآن کی تصریحات پر غور کرو اور پچھلی تفاسیر پر بھی ایک نظر ڈال لو ‘ جس وقت تک انسانی جنین کے یہ تمام حقائق منکشف نہیں ہوئے تھے ‘ قرآن کے بیان کردہ مدارج ستہ کی تشریح کس درجہ دشوار تھی ؟ قدیم نظریوں کا ساتھ دینے کے لئے مفسروں کو کیسی کیسی توجیہیں ڈھونڈنی پڑیں اور پھر بھی بات بنی نہیں ؟ لیکن اب ان انکشافات کے بعد کس طرح سارا معاملہ صاف ہوگیا ہے ؟ کس طرح دونوں بیان ٹھیک ٹھیک ایک دوسرے کے مطابق ہیں اور ایک کے اجمال کی دوسرا تفصیل کر رہا ہے ؟ کس طرح آج علم کی آنکھیں بھی وہی دیکھ رہی ہیں جو وحی کی زبان نے آشکارا کردیا تھا ؟ وحی کی یہ صدا کس زبان سے نکلی تھی ؟ ساتویں صدی عیسوی کے ایک امی کی زبان سے ‘ جو ریگستان عرب کے بادیہ نشنیوں میں پیدا ہوا اور جس کی ساری زندگی انہی بادیہ نشینوں میں بسر ہوئی تھی ۔ قرآن کا سترھویں صدی کے نظریہ سے انکار : سترہویں صدی میں خوردبینی مطالعہ سے جراثیم حیات کا انکشاف ہوا لیکن حکماء عہد اصل حقیقت پر مطلع نہ ہو سکے اور ” مذہب ظہور وبروز “ کا نظریہ قائم کرلیا گیا ۔ اب دیکھو جس طرح قدیم قیاسات قرآن کا ساتھ نہیں دیتے تھے ‘ اسی طرح یہ مذہب بھی ساتھ چلنے سے صاف انکار کر رہا تھا ‘ قرآن جنین کے تمام تغیرات کو صاف صاف ایک انقلابی تطور قرار دے رہا ہے ۔ (آیت) ” ثم من نطفۃ ثم من علقۃ ثم من مغضۃ “۔ (22 : 5) اور (آیت) ” ثم خلقنا النطفۃ علقۃ فخلقنا العلقۃ مضغۃ “۔ (23 : 14) یعنی تخلیق کی ایک حالت نطفہ کی ہوتی ہے پھر تخلیق کی دوسری حالت علقہ کی ہوتی ہے پھر تخلیق کی تیسری حالت مضغہ کی ہوتی ہے پس یہ محض کسی ایسے کیڑے کا نشو ونما بروز نہیں ہوسکتا جس کے اندر وجود انسانی اپنے تمام اصول وجزئیات کے ساتھ موجود ہے بلکہ ایک حالت کے بعد صریح دوسری حالت کی پیدائش اور دوسرے کے بعد تیسرے کی اور تیسرے کے بعد چوتھے کی پیدائش ہے اور ہر پیدائش تخلق وتطور کی نوعیت ظاہر ہوئی ہے ضروری ہے کہ یکے بعد دیگرے طرح طرح کے تطورات طاری ہوں ۔ ضروری ہے کہ ہر تطور ایک نئی پیدائش کا حکم رکھتا ہو۔ چونکہ انیسویں صدی کے اواخر تک یہی نظریہ ” ظہور وبروز “ عام طور پر تسلیم کیا جاتا تھا اور فن طب وتشریح نے بھی اسی کو اختیار کرلیا تھا اس لئے جس طرح قدیم مفسروں کی شرح وتحقیق آیت میں دشواریاں پیش آئیں اور طرح طرح کی توجیہات کرنی پڑیں اسی طرح مصر اور پاک وہند کے بعض نئے مفسروں کو بھی ٹھوکر لگی اور رفاعہ بک ‘ طنطاوی ‘ حسن پاشا محمود ‘ سرسید احمد خاں ‘ شیخ محمد عبدہ وغیرہم اسی نظریہ کی وادیوں میں گم ہوگئے ‘ انہوں نے کوشش کی کہ قرآن کی تصریحات کو اس کے مطابق کر دکھائیں ‘ مطابق ہو نہیں سکتی تھیں اس لئے ہر طرح کا تجوز و تکلف جو لغت و زبان سے کیا جاسکتا ہے ‘ جائز کرلیا گیا اور نہیں سمجھے کہ یہ تمام قطع وبرید یکسر بیکار ہوجائے گی ۔ قرآن اپنی جگہ سے نہیں ہلا مگر علم کو ہلنا پڑا : قرآن کی تصریحات اپنی جگہ بدستور قائم رہیں ‘ جس طرح قدیم جامہ ان پر راست نہیں آیا تھا اسی طرح نئے جامے سے بھی انہوں نے انکار کردیا یہاں تک کہ جمال حقیقت بےپردہ ہوا اور نظریوں کی شب کو ری کی جگہ انکشاف ومشاہدہ کی صبح نمودار ہوگئی ‘ اب ہر نگاہ دیکھ سکتی ہے کہ قرآن کو اپنی جگہ سے ہلنے کی ضرورت نہ تھی ‘ یہ علم کا نقص تھا کہ صحیح جگہ نہ پا سکا ۔ آخر اسے اپنی جگہ چھوڑنی پڑی اور وہیں آگیا جہاں تیرہ صدیوں سے قرآن کی صداقت جمی کھڑی ہے ۔ (آیت) ” لایاتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ تنزیل من حکیم حمید “۔ (41 : 42) تم علم کی ذرا سی نمود دیکھ کر مرعوب ہوجاتے ہو اور چاہتے ہو قرآن کو فورا اس کی جگہ سے ہٹا دو ‘ لیکن اگر تم جلدی نہ کرو ‘ تو قرآن کو ہلنے کی ضرورت کبھی نہ ہوگی ‘ جلد یا بدیر ‘ علم اپنی جگہ چھوڑے گا اور آگے بڑھ کر قرآن کی تصدیق کرے گا ۔ قرآن کے مدارج ستہ : اب غور کرو ‘ علم کی روشنی میں کس طرح قرآن کی تمام تصریحات واضح ہو رہی ہیں بغیر اس کے نہ لغت و زبان کے قدرتی مقتضیات سے رائی برابر انحراف کیا جائے ؟ 1۔ سب سے پہلے (جعلناہ نطفہ فی قرار مکین) “۔ پر غور کرو ‘ استقرار حمل یوں ہوتا ہے کہ جنس رجال کا جنسی خلیہ جنس اناث کے بیض میں پہنچتا ہے اور اس طرح ٹک جاتا ہے گویا اپنے اصلی مکان میں پہنچ گیا ‘ اس صورت حال کے لئے (فی قرار مکین) کی ترکیب کس درجہ صحیح اور اوفق ہے ؟ دو لفظوں کے اندر ہی پوری وضاحت کے ساتھ دونوں حالتیں آگئیں ۔ اس کا ٹھہر جانا اور تمکن کے ساتھ قرار پا جانا ‘ یہ استقرار وتمکن کس طرح پیدا ہوا ؟ دونوں جنسوں کے خلیوں کے اتحاد سے ‘ اس اتحاد وامتزاج کی ان میں قدرتی طلب تھی ‘ بغیر اس کے قرار نہیں پاس سکتے تھے ۔ اس وقت تک ہم نے ایک اس کا مطلب یہ سمجھا تھا کہ نطفہ رحم میں قرار پا جاتا ہے لیکن فی الحقیقت بات پوری طرح جمتی نہ تھی ‘ رحم تو ایک طرح کا مجوف خول ہے ‘ اس میں ایک ذرہ تخم کا پڑجانا (فی قرار مکین) سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا ۔ یہ تعبیر کہہ رہی ہے کہ کوئی نطفہ کی ہی طرح کا دقیق محل ہونا چاہئے ‘ جہان وہ پہنچ کر اس طرح ٹک جائے جیسے ٹھیک اپنے حجم اور اپنی نوعیت کے مطابق ایک جگہ اسے مل گئی ‘ پس یقینا اس سے مقصود بیض کا خلیہ ہے ‘ نہ کہ پورا عضو رحم۔ 2۔ اس کے بعد ” نطفہ “ پر مختلف حالتیں طاری ہوتی ہیں لیکن سب سے پہلی انقلابی حالت کونسی ہوتی ہے جو بالکل ایک نئی قسم کی نوعیت پیدا کردیتی ہے اور جو تمام آئندہ انقلابوں کے لئے سنگ بنیاد کا کام دیتی ہے ؟ وہ حالت جب خلیات کا کروی مجموعہ اچانک طول میں بڑھنے لگتا ہے اور پھر اس طرح کی لمبی چیز بن جاتا ہے جس کے دونوں سرے کسی قدر پھیلے ہوئے ہوتے ہیں ‘ پروفیسر ہیکل نے اس مرتبہ کی ابتدائی حالت کو (Sole.Shaped) سے اور پختہ حالت کو (Sandal.Shaped) سے تعبیر کیا ہے اور ہم نے اس کے لئے صرف ’ نعل نما “ حالت کی تعبیر اختیار کی ہے ۔ اسی مرتبہ تحول کو قرآن نے (علقہ) کے لفظ سے تعبیر کیا ہے ۔ (علقہ) کی تعبیر اس مرتبہ کے لئے ہر اعتبار سے اتنی صاف اور چسپاں ہوتی ہے کہ جونہی میری پہلی نظر اس نعل نما جنین کی تصویر پر پڑی تھی ‘ میری زبان سے بےاختیار (خلق الانسان من علق) نکل گیا ۔ (دی ریولیشن آف مین ترجمہ جو زف مکب ج اول ص 254) جونک کے لئے علوق ‘ علوقہ ‘ عولق ‘ علقہ ساری زبانوں کی نہایت قدیم تعبیر ہے ‘ عبرانی میں اسے علوقہ کہتے ہیں اور بجنسہ علقہ کا نام بھی ملتا ہے ۔ چناچہ سفر امثال میں ایک جگہ آیا ہے ” جونک کی دوبیٹیاں ہیں جو چلاتی رہتی ہیں کہ لاؤ ‘ لاؤ ۔ “ (30 : 15) عبرانی نسخہ میں یہاں ” جونک “ کے لئے علوقہ کا لفظ آیا ہے یہی علوقہ عربی میں علق اور علقہ ہے اور جونک کین لئے مستعمل ہے ، اب جونک کی حالت اور صورت کا معائنہ کرو ۔ اس میں ہڈی نہیں ہوتی ، محض ایک لوتھڑے کی لمبان ہوتی ہے اور خون پی کر جب سیراب ہوجاتی ہے تو ٹھیک ٹھیک ویسی ہی صورت ہوجاتی ہے جیسی اس مرتبہ جنین کی تصویر میں نظر آتی ہے ۔ ہیکل نے اس حالت کو محض اس کی جزئی مشابہت کی بنا پر ” نعل نماصورت “ سے تشبیہہ دی ہے ‘ لیکن قرآن نے (علقہ) سے دی جو خود سلسلہ حیوانات کی ایک خاص زندہ کڑی ہے اور اس طرح عجب نہیں کہ ایک دوسری مخفی حقیقت کی طرف بھی اشارہ کردیا ہو۔ پیدائش انسانی کے مختلف مدارج کی جو تفصیلات اوپر گزر چکی ہیں ان سے تمہیں پتہ لگ گیا ہوگا کہ قانون نشو وارتقاء کے مختلف مدارج کس طرح نطفہ انسانی کے مدارج میں جمع ہوگئے ہیں اور کس طرح ہر انسان کا جنین اب بھی ان مدارج سے گزر کر انسان بنتا ہے جن مدارج سے گزر کر انسان اپنے موجود مرتبہ خلقت تک پہنچتا ہے ‘ اچھا اب غور کرو ‘ ان مدارج خلقت میں ابتدائی مخلوقات کا درجہ کونسا ہے ؟ آبی مخلوقات کا یعنی (آیت) ” وجعلنا من الماء کل شء حی “۔ زندگی کا سب سے پہلا ظہور پانی میں ہوا اور پہلی مخلوقات آبی مخلوقات ہوئی ‘ اس کے بعد خشکی کی مخلوقات کا سلسلہ شروع ہوا ۔ اچھا آبی مخلوقات میں ابتدائی مراتب کی مخلوقات کونسی ہیں ؟ جونک کی قسم کی غیر عظمی مخلوقات ‘ انہی کے ارتقاء سے تمام اونچی قسم کی آبی کڑیاں وجود پذیر ہوئیں پس اگر حیوانی نطفہ اپنے تمام ارتقائی تطورات سے گزر کر آخری درجہ تک پہنچا کرتا ہے تو کیا ضروری نہیں کہ اس کا ابتدائی درجہ آبی مخلوقات کی حالت کا درجہ کا ہوا ؟ اور اس میں بھی سب سے پہلے جونک کی قسم کی نوعیت اپنی نمود دکھائے ؟ یقینا ضروری ہے اور یقینا یہی نوعیت ہے جو اس نعل نما صورت کے درجہ میں نمایاں ہوتی ہے پس اسے ” علقہ “ سے تعبیر کرنا گویا اس کے درجہ خلقت کو ٹھیک ٹھیک اس کے اصلی نام سے پکار دینا ہے ۔ 3۔ اس کے بعد تیسرا انقلابی تطور وہ ہے ‘ جب یہ نعل نما چیز اور زیادہ بڑھتی ہے اور اس کے مادہ میں گوشت کی صلابت پیدا ہوجاتی ہے ‘ اسی حالت کو قرآن نے (مضغۃ) سے تعبیر کیا ہے کیونکہ اب جنین بوٹی کی طرح بن جاتا ہے اور چونکہ یہی مرتبہ ہے جس میں ارتسام وانقسام اعضاء کی پہلی داغ بیل پڑتی ہے اس لئے سورة حج میں اشارہ کردیا کہ (مخلقۃ وغیر مخلقۃ) (22 : 5) یعنی یہی (مضغۃ) کا درجہ ہے جس میں یا تو داغ بیل پڑجاتی ہے یا بگڑ کے رہ جاتا ہے ۔ 4۔ چوتھا درجہ وہ ہے جب اس (مضغۃ) کی ہڈی کا ڈھانچہ نشو ونما پانے لگتا ہے اور ایک ایسا ہیکل نمایاں ہوجاتا ہے جسے مچھلی سے مشابہ کہا گیا ہے ‘ اسی کو (آیت) ” فخلقنا المغضۃ عظاما “۔ سے تعبیر کیا ہے اسی درجہ میں آکر جنین حیوانات فقاریہ (Vertebrate) کی امتیازی خصوصیت پیدا کرلیتا ہے ۔ 5۔ پھر اس کے بعد ہڈیوں اور گوشت پوست کا الحاق تکمیل تک پہنچتا اور ایک حیوانی صورت متشکل ہو کر نمایاں ہوجاتی ہے ‘ اسی کو (آیت) ” فکسونا العظام لحما “۔ کے درجہ سے تعبیر کیا ہے ۔ 6۔ لیکن جو صورت اب بنتی ہے وہ کیا انسان کی صورت ہوتی ہے ؟ نہیں ایسی جو تمام حیوانات لبونہ کی مشترک صورت ہوتی ہے وہ ترقی بھی کرتی ہے تو بندر کی صورت کی طرف لیکن اس کے بعد نقاش قدرت کی دستکاری اچانک ایک نیا انقلاب وتحول پیدا کردیتی ہے ۔ وہی جنین جو محض (مضغۃ) تھا وہی (مضغۃ) جو مچھلی کی طرح کا ایک ڈھانچہ تھا ۔ وہی ڈھانچہ جس نے عام حیوانی ہیکل کی شکل اختیار کرلی تھی ۔ وہی حیوانی ہیکل جو بندر کی سی صورت میں ابھر آیا تھا ‘ اچانک انسانی جسم و صورت کی ساری خصوصیتیں اور رعنائیاں پیدا کرلیتا ہے ۔ (آیت) ” فتبارک اللہ احسن الخالقین “۔ یہی آخری مرتبہ تحول ہے جسے (آیت) ” ثم انشاناہ خلقا اخر “ سے تعبیر کیا ہے ۔ زیر نظر آیت کے آخر میں ارشاد فرمایا (آیت) ” فتبارک اللہ احسن الخالقین “۔ ” کیا ہی برکتوں والی ہستی ہے اللہ کی ذات کی جو سب سے بہتر پیدا کرنے والا ہے ۔ “ کے جملہ نے ایک معرکۃ الآ را بحث پیدا کردی اور مفسرین نے اس پر صفحات کے صفحات تحریر کر ڈالے ، بحث کیا تھی ؟ بحث یہ تھی کہ کیا اللہ تعالیٰ کے سوا بھی کوئی اور خالق ہے ؟ کیا قرآن کریم مخلوق ہے ؟ پہلے سوال کا جواب تفصیل کے ساتھ ہم پیچھے سورة آل عمران کی آیت 49 میں اور سورة المائدہ کی آیت 110 میں بیان کرچکے ہیں اس لئے وہاں سے ملاحظہ کرلیں اور اس پر مزید یہ عرض کریں گے کہ عربی زبان کا یہ اسلوب ہے کہ (افعل) کا صیغہ بالخصوص جب وہ جمع کی طرف مضاف ہو تو وہ اکثر اوقات تفصیل وترجیح کے مفہوم سے مجرد ہو کر محض اعلی مرتبہ صفت کے اظہار کے لئے آتا ہے اسی وجہ سے (آیت) ” احسن الخالقین “ کے معنی ہوں گے کہ وہ صرف خالق ہی نہیں بلکہ ایک بہترین خالق ہے اس نے انسان کو جیسا تیسا پیدا نہیں کردیا بلکہ بہترین ساخت اور بہترین صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے اس لئے اس اسلوب سے چشم پوشی کے باعث یہ بحث پیدا کرلی گئی ہے حالانکہ اس میں اس قسم کی کوئی بحث پیدا ہی نہیں ہو سکتی تھی نیز یہ بات اپنی جگہ محقق ہے کہ ” خلق “ کا فعل جب غیر اللہ کی طرف منسوب ہو تو اس کے معنی اندازہ کرنے اور بنانے کے ہوتے ہیں نہ کہ بغیر کسی مادہ کے پیدا کرنے کے اور دونوں باتوں میں زمین آسمان کا فرق ہے اور دوسرا سوال اس لئے پیدا ہوا کہ ایک روایت میں آتا ہے کہ ایک کاتب وحی اس کو لکھ رہے تھے اور رسول اللہ ﷺ اس وحی کو لکھوا رہے تھے وہ کاتب جب (آیت) ” ثم انشانہ خلقا اخر “ پر پہنچا تو اس کی زبان سے خود بخود یہ جملہ زبان پر جاری ہوگیا اور اس نے (آیت) ” فتبارک اللہ احسن الخالقین “۔ کے الفاظ کہے جب آپ ﷺ نے اس کو لکھوائے تو وہ اپنے دل میں یہ سمجھا کہ آپ ﷺ بھی اسی طرح لکھوا رہے ہیں جس طرح میرے بولے ہوئے جملہ کو پسند کرکے آپ نے لکھوا دیا ۔ پھر اس کا ترجمہ ہوا سو ہوا بحث یہ پیدا ہوگئی کہ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم بھی مخلوق ہے حالانکہ یہ صحیح نہیں پھر اس کا جواب بڑا دیا گیا وہ یہ کہ قرآن کریم کی پوری آیت تو مخلوق نہیں البتہ آیت کا کچھ حصہ مخلوق ہو سکتا ہے حالانکہ جواب بالکل بچوں کا سا ہے جس کی کوئی حیثیت نہیں لیکن چونکہ اس طرح کی باتیں ہماری نہایت معتبر تفاسیر میں درج ہوچکی ہیں اس لئے ان باتوں کو وہ مقام حاصل ہوگیا ہے ان کے ذکر کے سوا تکمیل تفسیر نہیں سمجھی جاسکتی اور ایسی روایتوں کی جو حیثیت ہے وہ اہل علم پر روشن ہے ہمارے نزدیک یہ سوال ہی قابل بحث نہیں ہے ۔