Ayah 23:41ایک سخت چیخ نے انکو ایسا آلیا کہ خس و خاشاک بنا کر رکھ دیا :
41۔ ایک ہولناک آواز اٹھی اور ان لوگوں کو اس نے اس طرح لپیٹ میں لے لیا کہ اس کا نام ونشان مٹا کر رکھ دیا ۔ (صیحۃ) صاح یصیح صیاحا کے معنی زور سے چیخنے کے ہیں لیکن حقیقت اس کی یہ ہے کہ لکڑی کے چرنے یا کپڑے کے پھٹنے سے جو زور سے جھراٹے کی آواز پیدا ہوتی ہے اس آواز کے نکلنے کو (الصیاح) کہتے اور (صیحۃ) کا لفظ اس سے ہے اور چونکہ زور کی آواز سے اور وہ بھی جب اچانک آئے تو آدمی گھبرا اٹھتا ہے اس لئے یہ لفظ بمعنی گھبراہٹ اور سخت عذاب کے بھی استعمال ہوتا ہے اور قرآن کریم میں یہ لفظ تقریبا تیرہ بار استعمال ہوا ہے (بالحق) سے مراد یہاں وہ وعدہ حق ہے جو تکذیب کی صورت میں بشکل عذاب لازما ظاہر ہونے والا تھا اور جس کی وقت کے رسول نے ان کو یعنی اپنی قوم کے لوگوں کو خبر دی تھی ۔ (غشائ) کا لفظ اس جگہ پہلی بار استعمال ہوا ہے اور اس کے معنی سیلاب کا کوڑا اور جھاگ کے ہیں اور اس طرح ہانڈی کے جھاگ کو بھی کہا جاتا ہے ۔ سوکھے ‘ سڑے ‘ گلے پتے وغیرہ چیزوں پر بھی بولا جاتا ہے اور اس سے مراد بےسود چیز ہے چونکہ خس و خاشاک بھی اسی معنی میں استعمال ہوتا ہے اس لئے ہم نے اس کے معنی خس و خاشاک کے کردیئے ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ پیغمبر کی اس دعا کے بعد ان پر اللہ کا عذاب اس امر واقعی کے ساتھ آدھمکا جس کو لوگ محض دھمکی سمجھ رہے تھے اور ہم نے ان کو ایسے عذاب میں مبتلا کر کے رکھ دیا کہ وہ خس و خاشاک کی طرح ہو کر رہ گئے ” محرومی ہو اس گروہ کے لئے کہ ظلم کرنے والا ہے ۔ “ یہ گویا لعنت و پھٹکار کا جملہ ہے یعنی ایسے ناسمجھوں پر اللہ کی پھٹکار ہو کہ اس کی لعنت کے وہ مستحق ٹھہرے ۔
Ayah 23:42بعد ازیں نوح (علیہ السلام) کی نسل سے کتنی ہی جماعتیں باری باری ابھرتی رہیں :
42۔ آیت 31 میں لفظ (قرن) آیا ہے اور اس کی جمع قرون ہے جس کا مطلب ومفہوم یہی ہے کہ اس کے بعد ایک دو نہیں بلکہ کتنی ہی جماعتیں یا قوتیں یکے بعد دیگرے رونما ہوئیں اور اپنی اپنی باری پر سب نے اپنے اپنے رسولوں کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس پہلی قرن کے لوگوں نے کیا تھا اور انبیاء ورسل بھی ایک ہی طرح کی دعوت پیش کرتے رہے یہی وجہ ہے کہ کسی ایک رسول کی تکذیب کو اللہ تعالیٰ نے سارے رسولوں کی تکذیب قرار دیا کیونکہ سب کا پیغام ایک ہی طرح کا پیغام تھا اور سب کو ایک ہی طرح کے حالات سے دوچار ہونا پڑا تھا۔
Ayah 23:4343۔ قوموں کی اجل معین کا اندازہ اللہ تعالیٰ ہی کے پاس موجود تھا جب وہ وقت قریب آگیا اور انکی من مانیوں کے نتیجہ میں ان کی ہلاکت لازم ہوگئی تو اللہ نے وقت کے رسول یا نبی کو اس علاقہ سے ہجرت کا حکم دے دیا اور وارننگ کے طور پر اس کے ذریعہ سے یہ اعلان بھی کرا دیا کہ تمہارا وقت قریب آچکا ہے نیز ازیں بعد طے شدہ وقت کا اعلان کرا کر نبی ورسول کو وہاں سے نکل جانے کی ہدایت کی جب وہ نبی اور اس پر ایمان لانے والے اس علاقہ سے نکل گئے تو عین اپنے وقت پر عذاب الہی نازل ہونا شروع ہوگیا اور انجام کار اس قوم کو تہس نہس کرکے رکھ دیا گیا ، وضاحت کے لئے سورة ہود اور اس میں مذکور نبیوں کی مختصر سرگزشتوں کا مطالعہ کرو بات تم پر واضح ہوجائے گی کہ اللہ تعالیٰ نے جو تاجیل وامہال کی سنت ٹھہرائے ہے وہ سب کے لئے یکساں تھی اور ایک ہی طرح سے سب کا کام تمام ہوا اور اسی طرح قریش مکہ کو بتا دیا گیا کہ اگر تم اپنی ضد پر قائم رہے تو یہی حال تمہارا بھی ہوگا ، پھر جو کچھ ہوا وہ کسی سے بھی پوشیدہ نہیں ہے ۔
Ayah 23:44پھر پے درپے رسول آتے رہے اور اسی طرح ساری قوموں کے دور گزرتے رہے :
44۔ (تترا) کی اصل وت ر ہے اور وتر ایک کو کہتے ہیں اس طرح (تترا) کے معنی ہوئے پے در پے مسلسل ‘ یکے بعد دیگر آنا (تتر) سے جس کے معنی کسی چیز کے پے درپے آنے ہی کے ہیں ، مطلب یہ ہے کہ قوموں کی تعداد میں جتنا بھی اضافہ ہوتا گیا اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت واصلاح کے اہتمام وانتظام میں بھی اسی رفتار سے اضافہ فرمایا یہاں تک کہ ایک ہی دور میں الگ الگ قوموں میں الگ الگ رسول بھی آئے اور ایک قوم میں ایک سے زیادہ رسول ونبی بھی ایک ہی دور میں بھیجے گئے اور انہوں نے ایک دوسرے کی مکمل طور پر تائید کی اور کسی بات میں ایک دوسرے کے مخالف نہ ہوئے ایک ہی دور میں مختلف رسولوں کی مثال کے لئے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور سیدنا لوط (علیہ السلام) کا نام پیش کیا جاسکتا ہے اور ایک ہی قوم میں دو نبیوں کے سلسلہ میں موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) دونوں بھائیوں کا نام قرآن کریم میں وضاحت اور صراحت سے ملتا ہے اور یہ اہتمام اس بات کی وضاحت پیش کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کی اصلاح سے کبھی بےپرواہ نہیں رہا اور نہ ہی بےپرواہ رہ سکتا ہے ہر دور میں اس نے ہدایت کا سامان پیدا کیا جب تک نبوت و رسالت کا دور تھا اس وقت تک پے درپے نبی ورسول بھیجے جاتے رہے اور اپنے قانون کے مطابق جب وحی و رسالت کا معاملہ ختم کر کے رکھ دیا تو لوگوں کی ہدایت کا سامان نبی اعظم وآخر ﷺ کی امت کے علماء حق کے سپرد کردیا گیا اور وہ ہر دور میں اپنا فرض ادا کرتے رہے اگرچہ ان کی تعداد بھی عوام کے لحاظ سے بہت ہی کم رہی اور علماء سوء اور سیاسی لیڈروں کے گمراہ کن حربے بدستور جاری رہے اور آج بھی یہ حالت قائم ہے اور رہتی دنیا تک قائم رہے گی ۔
غور کرو کہ جس قوم کے پاس اس کا رسول ونبی آیا اس قوم نے اس نبی ورسول کی تکذیب کی جس کا نتیجہ آخر یہ نکلا کہ جس طرح قومیں یکے بعد دیگرے پیدا ہوتی رہیں اسی طرح انکی ہلاکت بعد دیگرے جاری رہی اور ایک کو ہٹا کر دوسری کو لایا جاتا رہا اور یہ سلسلہ اسی طرح باقاعدگی کے ساتھ چلتا رہا کہ جن لوگوں کو اپنے کروفر ‘ اپنی قوت و شوکت اور اپنے عروج واقبال پر بڑا نازوفخر تھا وہ ماضی کی ایک داستان پارینہ بن کر رہ گئے ” ان کے لئے محرومی و نامرادی ہوئی جنہوں نے آیات الہی پر یقین نہ کیا ۔ “ اور اس طرح وہ گویا لعنت و پھٹکار کے مستحق ٹھہرے اور یکے بعد دیگرے بدستور یہ سلسلہ جاری وساری رہا اور یہی وہ بات ہے جس کا ذکر پیچھے آیت 41 میں گزر چکا ۔ زیر نظر آیت کا ماحصل یہ ہوا کہ ان عہدوں میں بیشمار قومیں ابھریں اور پامال ہوئیں اور اللہ تعالیٰ کے رسولوں کا بھی بکثرت اور لگاتار ظہور ہوا اور ایک کے بعد ایک قوم ابھرتی رہی اور پاداش عمل میں پامال ہوتی رہی اور یہی سلسلہ آج تک جاری وساری ہے قوم مسلم کے عروج کی داستان آج بھی زبان زد خاص وعام ہے لیکن بدقسمتی سے آج وہ پوری دنیا میں ذلیل و خوار ہو رہی ہے لیکن سنت اللہ کے مطابق یقینا وہ وقت آئے گا کہ وہ زندہ ہوگی اور موت یقینا دوسروں کے حصہ میں آئے گی قرآن کریم آیات اور احادیث صحیح میں اس کی وضاحت آج بھی بطور پیش گوئی موجود ہے جیسا کہ ہم نے بہت سے مقامات پر ان کی وضاحت کردی ہے ، اشارات ہی اشارات میں بہت سی قوموں کے ذکر کے بعد اب قوم موسیٰ کی طرف مضمون منتقل کیا جارہا ہے ۔
Ayah 23:45موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو روشن دلائل دیئے جانے کا بیان :
45۔ نوح (علیہ السلام) کے ذکر کے بعد بہت ہی قوموں کے عروج وزوال کا ذکر نہایت اختصار سے کرنے کے بعد اب قوم بنی اسرائیل کا ذکر چھیڑا جا رہا ہے اور بتایا جا رہا ہے کہ بنی اسرائیل کے عروج کا ابتدائی زمانہ تو وہ تھا جب یوسف (علیہ السلام) کے ذریعہ سے یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹوں کو مصر میں لا آباد کرایا اور پھر ایک عرصہ تک ان کے عروج کا سلسلہ جاری رہا لیکن آخر کار وہ وقت بھی آیا کہ وہ آسمان رفعت سے گرتے گرتے قعر مذلت میں گر کر رہ گئے اور اسی ذلت سے انکو نکالنے کے لئے اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ناساز گار حالات میں پیدا فرما کر ان کی بہترین پرورش کا سامان اس کے گھر کرا دیا جو قوم بنی اسرائیل کا پکا دشمن تھا اور اس طرح گری پڑی قوم کے ایک فرد کو اٹھا کر شہزادگی کے مقام پر رکھ کر پرورش کرانا شروع کردیا اور فرعون کی ساری اسکیموں پر پانی پھیر کر رکھ دیا اور پھر وہ وقت آیا کہ اس موسیٰ کو فرعون اور اس کے گروہ کی طرف رسول بنا کر بھیج دیا لیکن اس کا نتیجہ کیا نکلا ؟ یہی کہ فرعون اور اس کی قوم کو ان کے اعمال کی پاداش میں غرق کردیا گیا اور بنی اسرائیل کو نہ صرف مصر کی حکومت ہی عطا کی بلکہ بہت سے مزید علاقوں میں ان کو پھیلا دیا ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے عروج کا بیان سورة البقرہ ‘ الاعراف اور سورة ہود میں تفصیل کے ساتھ گزر چکا ہے اس لئے اس جگہ اس کی تفصیل کی زیادہ ضرورت نہیں ہے ۔
Ayah 23:46فرعون اور اس کی حکومت کے اعوان وانصار کے تکبر کا ذکر :
46۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے بچپن ‘ جوانی اور ہجرت اول ودوم کا ذکر سورة طہ میں گزر چکا ہے اس جگہ زیر نظر آیت میں فرعون کے استکبار کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ، طرعون اور اس کے دوسروں سرداروں کا تکبر کیا تھا ؟ وہی جس کا ذکر دوسروں انبیاء کرام کے بیان میں گزر چکا ہے کہ وہ خود اپنے کو بلند وبالا سمجھا اور موسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کو حقیر سمجھا اور اس طرح انہوں نے وہی حربہ استعمال کیا جو دوسرے انبیاء ورسل کی امتیں اپنے اپنے رسولوں کے خلاف استعمال کرچکی تھیں اور آنے والی آیت میں اس کی تفصیل کی جا رہی ہے ۔
Ayah 23:47فرعون اور اس کے دربایوں نے کہا اچھا ہم ان دو انسانوں کو نبی و رسول مان لیں ؟
47۔ موسیٰ اور ہارون تو ہماری ہی طرح کے دو انسان ہیں اور پھر کیا ہم اپنے جیسے انسانوں کو نبی ورسول مان کر ان پر ایمان لے آئیں حالانکہ اس پر تعجب بالائے تعجب یہ ہے کہ وہ خود اور اس کی پوری قوم تو ہماری غلام ہے تو کیا ہم ان غلاموں کو اپنا آقا اور سردار مان لیں یہ تو وہی بات ہوئی کہ الٹے بانس بریلی کو ، کیا ہم اور کیا موسیٰ اور اس کی قوم کے لوگ ہمیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ موسیٰ کی مت ماری گئی ہے اس لئے اس نے نبی ورسول ہونے کا دعوی کیا ہے ۔
Ayah 23:48فرعون والوں نے دونوں کو جھٹلایا اور انجام کار وہ خود ہلاک ہوگئے :
48۔ فرعون اور اس کے اعوان وانصار کے مزاج اس قدر بگڑے ہوئے تھے کہ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کا پیغام سنتے ہی نہایت سرکشی اور غرور کے ساتھ اس کا ٹھکرا دیا ، تفصیل اس کی سورة الاعراف ‘ سورة ہود اور سورة طہ آیت 24 میں گزر چکی ہے ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی ان کو راہ راست پر لانے کے لئے دعوت خداوندی کو پورے عزم وجزم کے ساتھ پیش کیا اور اخلاقی طور پر ان کو دلائل سے ثابت کردیا کہ حکومت کی صلاحیت تم میں موجود نہیں ہے اور ظالم حکمرانوں کے دن گنے ہوئے ہوتے ہیں لیکن فرعون اور اس کے سرداروں نے ان کی ایک نہ سنی جس کے نتیجہ میں فرعون کو مع اس کے لاؤ لشکر اللہ تعالیٰ نے غرق کر کے رکھ دیا اور اس طرح وہ اپنے سے پہلے جھٹلانے والوں کے ساتھ شامل ہوگیا اسی طرح ملک کا انتظام وانصرام اس قوم کے ہاتھ میں دے دیا جن کو وہ اپنے غلام سمجھتا تھا اس طرح اللہ تعالیٰ نے قوم بنی اسرائیل کو ان کی کھوئی ہوئی طاقت وسطوت آنکھ جھپکنے میں واپس دلا دی اور پھر اپنے انعامات کی بارش ان پر شروع کردی ۔
Ayah 23:49موسیٰ (علیہ السلام) کو قوم کی حالت کو سنوارنے کے لئے کتاب عطا فرمائی :
49۔ غور کرو کہ کہاں وہ وقت کہ فرعون اور اس کے سردارن قوم موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو پست و حقیر سمجھ کر ٹھکرا رہے ہیں اور ان کی باتوں کو کان رکھ کر سننے کے لئے تیار نہیں اور الٹا مذاق کا نشانہ بنا رہے ہیں کہ یہ دونوں اور ان کی قوم تو ہماری غلام ہے اس غلامی سے تو وہ نجات حاصل کر نہیں سکے اور آئے ہیں پیغمبری کرنے کے لئے لیکن زیادہ دیر نہ گزری کہ اللہ تعالیٰ نے غلاموں کو حکمران بنا دیا اور حکمرانوں کو تباہ وبرباد کرکے رکھ دیا اور جو باقی رہے وہ اب گویا ان کے غلام ہو کر رہ گئے اور جب ہونے پر آیا تو یہ کام چشم زدن میں ہوگیا ، پھر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو قوم کی ہدایت و راہنمائی کے لئے (الکتب) عطا کی اور یہی وہ (الکتب) ہے جو تورات کے نام سے موسوم کی گئی ہے ، فرعون کی ہلاکت کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ کی عطا کی گئی فضیلت کے قائم رکھنے کے لئے ہر طرح سے کوشش کی لیکن یہ لوگ بھی اپنی اس فضیلت کو زیادہ دیر تک قائم نہ رکھ سکے اور موسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی ہی میں ان کا بگاڑ ظاہر ہونا شروع ہوگیا لیکن انہوں نے ہر نبی کی دعوت کو ٹھکرا دیا یہاں تک کہ بنی اسرائیل کے سلسلہ کی نبوت و رسالت کو سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) پر لا کر ختم کردیا گیا لیکن اس بدبخت قوم نے اپنے سلسلہ کے اس آخری نبی عیسیٰ (علیہ السلام) کو بھی ساری زندگی سکھ کا سانس نہ لینے دیا اور ان کے لئے آزار کا باعث ہی رہے ۔
Ayah 23:50سیدہ مریم (علیہ السلام) اور ابن مریم عیسیٰ (علیہ السلام) کو اچھا ٹھکانا عطا کرنے کی طرف اشارہ :
50۔ سیدہ مریم (علیہ السلام) اور سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے حالات وواقعات قرآن کریم میں سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد سارے نبیوں سے زیادہ بیان کئے گئے ہیں اس لئے آپ بھی ان کی تفصیلات پیچھے سورة آل عمران ‘ سورة النساء ‘ سورة المائدہ ‘ سورة الانعام ‘ سورة التوبہ اور سورة مریم میں پڑھ چکے ہیں اور سورة مریم میں تو سید مریم (علیہ السلام) کی مختصر سرگزشت اور سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی مختصر سرگزشت میں اختصار کے ساتھ ان کی زندگیوں کے سارے واقعات ذکر کردیئے گئے ہیں وہاں ہم نے اس آیت کے متعلق بھی عرض کردیا ہے وہاں سے ملاحظہ فرما لیں ہاں ! یہ سچ ہے کہ ” بزرگوں کی نبوت معلوم ومسلم ہے ان میں سب سے بڑھ کر ظلم سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) پر کیا گیا ہے ۔ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) ویسے ہی ایک انسان تھے جیسے سب انسان ہوا کرتے ہیں ، بشریت کی تمام خصوصیتیں ان میں بھی اسی طرح موجود تھیں جس طرح ہر انسان میں ہوتی ہیں فرق صرف اتنا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکمت ونبوت اور اعجاز کی قوتیں عطا فرما کر ایک بگڑی ہوئی قوم کی اصلاح کے لئے مامور کیا تھا لیکن اول تو ان کی قوم نے انکو جھٹلایا اور پورے تین سال بھی ان کے وجود مسعود کو برداشت نہ کرسکی یہاں تک کہ عین عالم شباب میں انہیں قتل کرنے کا فیصلہ کردیا اور پھر جب وہ ان کے بعد انکی عظمت کی قائل ہوئی تو اس قدر حد سے تجاوز کرگئی کہ انکو خدا کا بیٹا بلکہ عین خدا بنا دیا ۔ “
بلاشبہ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی ذات پر سب سے زیادہ ظلم ان کے معتقدین ہی نے کیا ہے انہوں نے ان کی ذات پر اپنے تخیلات وادہام کے اتنے پردے ڈال دئیے ہیں کہ ان کی شکل و صورت کو پہچاننا ہی محال ہوچکا ہے پھر صرف یہی نہیں کہ ان کی محرف شدہ کتابوں سے یہ معلوم کرنا مشکل ہوگیا ہے کہ کہ ان کی اصل تعلیم کیا تھی ؟ بلکہ آج ہم یہ بھی معلوم نہیں کرسکتے کہ وہ خود اصل میں کیا تھے ۔ “ ان کی پیدائش میں اعجوبگی ‘ طفولیت میں اعجوبگی انکی جوانی میں اعجوبگی ‘ بڑھاپے میں اعجوبگی اور اسی طرح ان کی زندگی کی ہر بات میں اعجوبگی ، غرض ابتداء سے لے کر انتہا تک وہ ایک افسانہ ہی افسانہ نظر آتے ہیں اور ان کو اس شکل میں پیش کیا جاتا ہے کہ وہ خدا کے بیٹے تھے یا خود خدا تھے اور خدائی میں وہ تیسرے حصہ کی حد تک شریک وسہیم تھے ۔ “ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے انکو اور ان کی والدہ ماجدہ کو دنیا والوں کے لئے ایک بہت بڑی نشانی بنایا تھا کہ انکی والدہ ماجدہ نے قوم کے نظریہ کے خلاف رضائے الہی کے لئے وہ کام کر دکھایا جو بہت بڑے بڑے بہادر لوگ بھی نہیں کرسکتے تھے اور آپ کے بیٹے نے بچپن ہی میں قوم کے وڈیروں کو اس طرح مخاطب کیا کہ کوئی برابر کا آدمی بھی اس طرح مخاطب نہیں کرسکتا اور ان کے ساتھ اس طرح استعارات میں باتیں کیں کہ وہ آپ کو کسی ایک بات کا بھی جواب نہ دے سکے اور آپ کی باتوں سے تنگ آکر آپ کی مخالفت میں اٹھ کھڑے ہوئے ، لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کی اور آپ کی والدہ ماجدہ کی مدد فرماتے ہوئے ایک اچھے مقام کی طرف ہجرت کرنے کا حکم صادر فرمایا جس کا ذکر قرآن کریم کی زیر نظر آیت میں کیا گیا ہے ۔
تاہم یہ بھی کہا گیا ہے کہ زیر نظر آیت میں آپ کے بچپن کی زندگی کی طرف اشارہ ہے اور اس سے مقصود وادی نیل کی بالائی سطح ہے یعنی مصر کا بالائی حصہ ۔ اناجیل سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کی پیدائش کے بعد مریم (علیہ السلام) کے شوہر یوسف نے ماں بیٹے کو ساتھ لیا اور فلسطین سے مصر چلا گیا چناچہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کا بچپن وہیں گزرا اور جب فلسطین سے واپس یروشلم آئے اس وقت آپ کی عمر 12 ‘ 13 برس کی تھی اور اس آیت میں اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے ، دریائے نیل کی پانی کی فراوانی اور اس کے سالانہ سیلابوں کی عجیب و غریب نوعیت سرزمین مصر کا ایک امتیازی وصف رہی ہے۔ اس کی آبادی وسیرابی یعنی اس کا ذات قرار ومعین ہونا ضرب المثل کی طرح زبان زد ہوگیا تھا چناچہ عبرانی کی یہ قدیم مثل آج تک ملتی ہے کہ ” فلاں ملک میں پانی کی اتنی فراوانی ہے جیسے مصر میں “ چونکہ یہ مصر کا ایک امتیازی وصف ہوگیا تھا اس لئے اسی وصف سے اسے یاد کیا گیا ۔ اس تعبیر میں یہ پہلو بھی پوشیدہ ہے کہ وہ فلسطین جیسا سرسبز ملک ترک کردینے پر مجبور ہوگئے لیکن اللہ کے فضل نے ایسی جگہ پناہ دے دی جو فلسطین ہی کی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ ذات قرار ومعین تھی ! سیدہ مریم (علیہ السلام) اس سفر پر کیوں مجبور ہوئیں ؟ اناجیل میں اس کا سبب یہ بیان کیا گیا ہے کہ ہیرودیس حاکم شام کے ظلم وتشدد سے کہ اسے نجومیوں نے پیدائش مسیح کی خبر دے دی تھی اور وہ چاہتا کہ وہ انہیں قتل کر دے تب ” فرشتہ نے یوسف کو خواب میں حکم دیا اٹھ بچے اور اس کی ماں کو ساتھ لے کر مصر بھاگ جا ۔ “ (متی 2 : 13) لیکن قرآن کریم نے فقط استعارہ کے طور پر یہ بات کی ہے اس کی وضاحت نہیں کی ۔
Ayah 23:51تمام رسولوں کو مخاطب کرکے نیک اعمال کی ہدایت فرمائی گئی :
51۔ انبیاء ورسل کو ان کے ادوار میں ان کو یہ ہدایت دی گئی اور ان کو ہدایت کرنے میں راز یہ ہے کہ انہوں نے اپنی اپنی قوم کو اپنے اپنے دور میں یہ حکم دیا (طیبت) کے متعلق پہلے عرض کیا گیا ہے کہ طیب حلال سے زیادہ اہم اور زیادہ بہتر ہوتا ہے کیونکہ ہر طیب مال ‘ طیب کھانا ‘ طیب کپڑا حلال اور جائز ہوتا ہے تاہم ہر حلال مال ‘ کھانا اور کپڑا ضروری نہیں کہ طیب بھی ہو۔ اس لئے سارے رسولوں اور نبیوں کو یہی حکم دیا گیا کہ وہ طیب چیزیں استعمال کریں اور اپنی قوم کو بھی طیب چیزیں استعمال کرنے کی تلقین وہدایت کریں اور بلاشبہ سارے رسولوں اور نبیوں نے اس پر عمل کیا اور خصوصا ہمارے رسول محمد رسول اللہ ﷺ نے اس کی بہت تاکید کی ہے ۔ بعض مفسرین نے (آیت) ” یایھا الرسل “ سے مراد نبی اعظم وآخر ﷺ بھی لی ہے اور کہا ہے کہ جمع کا صیغہ بول کر واحد مراد لینا بول چال میں عام ہے اور یہ طریقہ خطاب عربوں میں بھی موجود تھا اور اس میں عزت افزائی کا پہلو بھی نکلتا ہے اور بعض نے اس سے مراد سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) اور سید مریم (علیہ السلام) بھی لئے ہیں تاہم اگر سب رسول مراد لئے جائیں تو یہی بات زیادہ مناسب اور قرین قیاس ہے کیونکہ پیچھے بہت سے رسولوں کا ذکر گزر چکا ہے اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ سارے انسانوں کے اعمال سے بخوبی واقف ہے خواہ پہلے کے ہوں یا بعد کے یا موجودہ دور کے اور کوئی بات بھی علم الہی سے پوشیدہ ومخفی نہیں ہے اور آنے والی آیت بھی سارے انبیاء ورسل ہی کی طرف خطاب کرتی نظر آتی ہے ۔
Ayah 23:52بلاشبہ سارے انبیاء ورسل کی ایک ہی جماعت تھی کیونکر نظریہ ایک تھا :
52۔ زیر نظر آیت نے نہایت وضاحت سے یہ بات ثابت کردی کہ سارے انبیاء ورسل کی ایک جماعت اور ایک دین تھا اور یہی وہ اصل عظیم ہے جو گزشتہ سورتوں میں بھی جگہ جگہ واضح کی گئی اور گرشتہ سورت الانبیاء کی آیت 92 میں بھی اس کی وضاحت کی گئی ہے اور نبی اعظم وآخر ﷺ نے بھی اس پر بہت زور دیا ہے لیکن افسوس کہ لوگوں نے وحدت کی جگہ تفرقہ کی اور جمعیت کی جگہ تشتت وتخرب کی راہ اختیار کی اور اس طرح جس کے پلے جو کچھ پڑگیا وہ اس پر مگن ہوگیا اور دوسروں کو تنقید کا نشانہ بنایا ، ہم نے اس کی وضاحت سورة البقرہ کی آیت 59 ‘ 81 ‘ 106 ‘ 113 ‘ 114 ‘ 127 ‘ 129 میں اور اسی طرح سورة آل عمران کی آیت 70 ‘ 74 ‘ 78 میں اور سورة النساء کی آیت 12 ‘ 149 میں اور سورة الانعام کی آیت 159 ‘ 160 میں کردی ہے وہاں سے ملاحظہ فرما لیں ۔
Ayah 23:53لوگوں نے ایک دوسرے سے کٹ کر جدا جدا دین کیوں بنا لئے ؟
53۔ قرآن کریم کا جب ظہور ہوا تو دنیا کا یہ حال تھا کہ تمام پیروان مذاہب ‘ مذہب کو صرف اس کے ظواہر ورسوم ہی میں دیکھتے تھے اور مذہبی اعتقاد کا تمام جوش و خروش اسی طرح کی باتوں میں سمٹ آیا تھا ۔ ہر گروہ یقین کرتا تھا کہ دوسرا گروہ نجات سے محروم ہے کیونکہ وہ دیکھتا تھا کہ دوسرے کی اعمال ورسوم ایسے نہیں ہیں جیسے خود اس نے اختیار کر رکھے ہیں لیکن قرآن کریم نے اعلان کیا کہ ایسا نہیں ہے ‘ یہ اعمال ورسوم نہ تو دین کی اصل و حقیقت ہیں ‘ نہ ان کا اختلاف حق و باطل کا اختلاف ہے ۔ یہ تو محض مذہب کی عملی زندگی کا ظاہری ڈھانچا ہے مگر روح و حقیقت ان سے بالاتر ہے اور وہی اصل دین ہے اصل دین کیا ہے ؟ ایک اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی پرستش اور نیک عملی کی زندگی اور بلاشبہ یہ کسی ایک گروہ کی میراث نہیں کہ اس کے سوا کسی انسان کو نہ ملی ہو جن مذاہب میں یہ اصل عظیم تسلیم ہے بلاشبہ ان سب کا اصل دین ایک ہے اور اس میں قطعا کبھی بھی تغیر نہیں ہوا اور نہ ہی کسی طرح کا کوئی اختلاف ہے اور اگر اس میں کہیں اختلاف ہے تو وہ بلاشبہ دین اسلام نہیں ہے ۔ ہاں ! اعمال ورسوم سب فرع ہیں اس لئے فرع میں اختلاف ہوا ہے اور ایسا ہونا ناگزیر تھا لیکن اس اختلاف کو برداشت کرنا بھی اصل دین ہے ۔ قرآن کریم کی تعلیم کا حاصل یہ ہے کہ اعمال ورسوم کے اس اختلاف کو تم اس قدر اہمیت کیوں دے رہے ہو ؟ یہی تو وہ گمراہی ہے جس کو مٹانے کے لئے قرآن کریم کا نزول ہوا لیکن افسوس کہ مسلمانوں نے آج اس سبق کو بھلا دیا اور آپس میں گروہ بندیاں اختیار کرلیں اور پھر ان کو اس قدر پکا کرلیا کہ ہر ایک گروہ دوسرے گروہ کو اسلام سے خارج کرنے پر تل گیا اور دن رات ہماری مساجد اور ہماری عبادت گاہوں کی یہی بات زینت ہو کر رہ گئی اور اسلام کے نام پر بھی ہم مطمئن نہ رہے اور آج بلاشبہ اس اختلاف کی بنا پر ایک جماعت دوسری جماعت سے برسرپیکار رہے ؟
اصلی چیز جس پر تمام تر توجہ مبذول کرنی چاہئے ” خیرات “ ہے یعنی نیکی کے کام ہیں اور تمام اعمال ورسوم بھی انہی کے لئے ہیں ۔
Ayah 23:54اے پیغمبر اسلام ! ﷺ ان کو اپنی مدہوشی میں رہنے دیں یہ ہوش میں آنے والے نہیں :
54۔ زیر نظر آیت سے خطاب نبی اعظم وآخر ﷺ سے ہے اور فرمایا گیا ہے کہ ہدایت کی طرح شقاوت کا مزاج بھی ہمیشہ ایک طرح کا رہتا ہے پس جس طرح پہلے ہوتا رہا ہے اب بھی ہوگا اور جو ماننے والے نہیں وہ کبھی نہیں مانیں گے پس انہیں ان کی حالت میں چھوڑ دو اور اپنا کام کئے جاؤ ، ان کوتاہ اندیش اور خود غرض لوگوں کو کچھ عرصہ اس غفلت میں رہنے دو ۔ آپ ﷺ نے انہیں سمجھانے کا حق ادا کردیا لیکن ان کے عناد اور تعصب میں ذرا بھی فرق نہیں ہوا جب عذاب انہیں چاروں طرف سے گھیر لے گا تب انکی آنکھیں کھلیں گی اور کھلی کی کھلی ہی رہ جائیں گی (غمرۃ) وہ کثیر پانی جس کی تہ نظر نہ آئے اور بطور تشبیہ اس کا اطلاق جہالت پر بھی ہوتا ہے اور چھا جانے والی غفلت پر بھی اور یہی اس جگہ مراد ہے (غمر) کے اصل معنی ہیں کسی چیز کے اثر کو زائل کردینا اس لئے (غمر) اور (غامر) اس کثیر پانی کو کہتے ہیں جو سیلاب کے اثر کو دور کردیتا ہے اور اسی مناسبت سے فیاض آدمی اور تیز رو گھوڑے کو بھی کہا جاتا ہے ، جو جہالت آدمی پر چھا جائے وہ (غمرۃ) کہلاتی ہے (المفردات) قرآن کریم میں (غمرتھم) اور (غمرات للموت) کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں مراد ان سے موت کی سختیاں ہیں جو سارے اعضاء پر چھا جاتی ہیں۔
Ayah 23:55ہم جو ان لوگوں کو مال واولاد میں بڑھا رہے ہیں کیا یہ ان کے لئے مفید ہے ؟
55۔ اس آیت میں بھی قانون امہال کی طرف اشارہ ہے اور فرمایا جا رہا ہے کہ یہ جو ہم ان کو مال و دولت میں بڑھا رہے ہیں تو یہ کیا سمجھتے ہیں کہ یہ مہلت ان کے لئے مفید ہو رہی ہے ؟ اگر ان کی روش یہی رہی تو یقینا یہ مہلت ان کے لئے مفید نہیں بلکہ بہت ہی مضر ثابت ہوگی ، ان کو معلوم نہیں ہمارے ہاں یہ مہلت تو سب کے لئے ہے اچھوں کے لئے بھی اور بروں کے لئے بھی ۔ پس اگر ان مفسدوں کو دنیوی زندگی کی خوشحالیاں مل رہی ہیں تو یہ اس لئے نہیں کہ ان سے اللہ کو بہت پیار ہے یہ ہمارے قانون کے مطابق ہے تاکہ یہ لوگ کھل کر جو کچھ کرنا چاہتے ہیں کرلیں تا آنکہ وہ وقت آجائے جو ان انعامات کی ناشکری میں ان کو پکڑ لینے کا شعور نہیں رکھتے :
Ayah 23:5656۔ فرمایا یہ بھلائیاں جو ہم ان کو پہنچا رہے ہیں تو یہ اس لئے نہیں ہیں کہ ہمارا قانون مجازات معطل ہوگیا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ بدعملیوں پر بھی انہیں فوائد سے بہرہ اندوز کریں ۔ یہ محض اس لئے پہنچائی جا رہی ہیں کہ ان کا مقررہ وقت ابھی آیا نہیں اور ان کا اختیار ہم سلب نہیں کرنا چاہتے ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ یہاں ہر نتیجہ کے لئے ایک اجل مسمی کا قانون کام کر رہا ہے اور ہم اپنے قانون کے خلاف نہیں کرتے اور اس میں کتنی حکمتیں پوشیدہ ہیں ان ہی حکمتوں کے پیش نظر گمراہ اور بدکردار لوگوں کی باگ ڈھیلی چھوڑ دی جاتی ہے ، گمراہی اور بدکرداری کے باوجود ان کا کاروبار خوب چمکتا ہے ‘ جاہ ومال میں اضافہ ہوتا ہے ‘ رہنے کے لئے خوشنما بنگلے ‘ سواری کے لئے بہترین کاریں میسر ہوتی ہیں تو وہ ان غلط فہمی میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ شاید وہ بڑے اچھے کام کر رہے ہیں اسی لئے تو ان پر اللہ تعالیٰ اتنا مہربان ہے ۔ ان کی اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لئے فرمایا جا رہا ہے کہ یہ لوگ دراصل حقیقت حال سے بیخبر ہیں ، یہ دولت کی کثرت اور جاہ و جلال میں ترقی محض اس لئے ہے کہ ان کو ایک طویل اور کٹھن آزمائش میں مبتلا کردیا جائے اگر انہیں کچھ عقل ہوتی تو وہ اپنے دامن پر گناہوں کے بدنما داغ دیکھ کر شرما جاتے ‘ ان کے وہ ہاتھ جو بےگناہوں کے خون سے رنگین ہیں کیا انہیں بتا نہیں رہے کہ تم مجرم ہو ؟ تم ظالم اور سفاک ہو ؟ تم اس قابل نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی چشم لطف و احسان تمہاری طرف مائل ہو اور اس میں دیکھنے والوں کے لئے بھی عبرت ہے کہ دولت کی قلت جس طرح اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کی دلیل نہیں اسی طرح دولت کی کثرت اس کی رضا مندی کی بھی دلیل نہیں ۔ اصل چیز عقیدہ ونظریہ اور عمل کی صحت ہے جو اس دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت کو بھی سنوار دینے والی چیز ہیں ‘ کاش کہ آج مسلمان بھی اس حقیقت کو سمجھتے ہوتے جن کو یہ درس دراصل دیا گیا تھا ۔
Ayah 23:57بلاشبہ ان بدعملوں کے مقابلہ میں نیک عمل لوگ بھی موجود ہیں اور رہیں گے :
57۔ گزشتہ آیات میں کفار اور بدعمل لوگوں کا حال بیان کیا گیا تھا اب ان لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو اہل حق ہیں فرمایا گیا ہے کہ ہم اگر اہل باطل کو ڈھیل دے رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اہل حق کو ہم مہلت نہ دیں بلکہ وہی مہلت جو اہل باطل کے لئے تھی وہی اہل حق کے لئے بھی ہے اور غور کرو گے تو سمجھ لو گے کہ ہماری ایک ہی مہلت سے دو کام ہو رہے ہیں اہل باطل اپنی گمراہیوں پر نازاں ہیں کہ کس طرح دنیا کی نعمتیں ان کو دی جا رہی ہیں تو اہل حق ان سے تکلیفیں اٹھا کر ان سے بھی زیادہ خوش نظر آتے ہیں اور وہ اپنے رب کے خوف سے لرزاں وترساں رہتے ہیں گویا ظاہری انعامات یافتہ لوگوں کو جو ڈھیل دی گئی وہی ڈھیل ان کے لئے باعث عبرت ثابت ہوئی اور وہ سراپا عجز ونیاز ہوگئے اور اطاعت وانقیاد میں اور بڑھ گئے اور بلاشبہ انہوں نے اس کو حکمت الہی قرار دیا اور اللہ رب ذوالجلال والاکرام سے اور زیادہ ڈرنے لگے ۔
Ayah 23:58وہ اپنے رب کی آیتوں پر ایمان لانے والے ہوگئے :
58۔ اس سورت کی ابتدائی دس آیتوں میں ایمان والوں کی نشانیاں گنوائی گئی تھیں جن کی تعداد چھ تک پہنچی تھی اور ان ہی لوگوں کی ساتویں نشانی آیت 57 میں یہ بیان فرمائی گئی کہ وہ اپنے رب کریم سے ہر وقت لرزاں وترساں رہتے ہیں اور آٹھویں نشانی کے طور پر ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ وہ اپنے رب کی آیتوں پر ایمان لانے والے ہیں ۔ گویا یہ کہا جارہا ہے کہ چوری کھانے والے مجنوؤں کے مقابلہ میں دراصل یہی سچے عاشقان دین الہی ہیں جو خون دینے کے لئے ہر وقت تیار رہتے ہیں اور انہوں نے کبھی چوری کھانے والوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا چہ جائیکہ ان کے دروازوں اور کو ٹھیوں کا طواف کریں اور دریوزہ گروں کی طرح چکر کاٹتے رہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کو ایمان کی دولت میسر ہے اور متکبرین کی طرح اللہ رب العزت کی آیات کا مذاق نہیں اڑاتے بلکہ جب اللہ تعالیٰ کا رسول ان کو آیات الہی سناتا ہے تو وہ اس پر آمنا وصدقنا کہتے ہوئے تصدیق کردیتے ہیں اور ان کا کام آیات الہی پر غور وفکر کرنا ہے ان کے ذہن و دماغ میں دنیا کی دولت ہیچ ہے اور بلاشبہ آخرت کی دولت سے یہ مالا مال ہیں ۔
Ayah 23:59یہی وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے :
59۔ اس طرح یہ ان لوگوں کی نویں نشانی بیان کی جاری ہے کہ ان کا سارا اعتماد اپنے اللہ رب ذوالجلال والاکرام پر ہے وہ کسی کو بھی اس کا شریک نہیں ٹھہراتے اور شرک کی لعنت سے وہ اس قدر دوربھاگتے ہیں کہ ان کی طلب ان کو غیر اللہ کے قریب بھی نہیں لے جاتی وہ اتنے قانع لوگ ہیں کہ ان کو اگر جوتے کے تسمہ کی ضرورت ہو تو وہ بھی اللہ تعالیٰ ہی سے طلب کرتے ہیں اور ان کی نظر کبھی غیر اللہ کی طرف نہیں اٹھتی وہ طاغوت کا کفر کرتے ہیں اور اللہ پر ایمان لاتے ہیں گویا ایمان کی سعادت حاصل کرنے سے پہلے غیر اللہ کا کفر و انکار ضروری سمجھتے ہیں کیونکہ اس کے سوا ایمان مقبول نہیں ہوتا ۔
Ayah 23:60وہ دوسروں کو دینے کے لئے ترساں رہتے ہیں اور کسی سے حاصل کرنے کی طلب نہیں رکھتے :
60۔ ان لوگوں کی دسویں نشانی یہ بیان کی جا رہی ہے کہ وہ لوگ ایسے ہیں کہ جو مال و دولت اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا فرمایا ہے اس کو اس کی راہ میں کھلے دل سے خرچ کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کے دل میں یہ گھمنڈ کبھی پیدا نہیں ہوا کہ ہم نے اتنا مال خرچ کردیا اور نہ ہی کسی پر کبھی کچھ احسان جتلاتے ہیں بلکہ ان کو ہر وقت یہ احساس بےچین رکھتا ہے کہ جو ہم نے دیا ہے کہیں اس میں نمود ونمائش اور دکھاوے کی آمیزش نہ ہوجائے وہ اس طرح خرچ کرتے ہیں کہ ان کا دایاں ہاتھ خرچ کرتا ہے اور بائیں کو معلوم تک نہیں ہوتا فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے مالوں کو رضائے الہی کے لئے خرچ کرتا ہے اور بائیں کو معلوم تک نہیں ہوتا ۔ فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے مالوں کو رضائے الہی کے لئے خرچ کرتے ہیں اور اس کے باوجود اللہ سے ڈرتے رہتے ہیں کہ کہیں اس میں ریا کی آمیزش نہ ہوگئی ہو اور اس سے ان کا یہ صدقہ و خیرات اکارت نہ چلا جائے ، اس لئے کہ ان کو اپنے اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے ہاں جانے کا پختہ یقین ہے اور یہی وہ لوگ ہیں جو نیکیوں میں بڑے سبک رفتار ہیں یہ نمازیں ادا کرتے ہیں تو اول وقت کا ان کو بہت خیال رہتا ہے ‘ روزے رکھتے ہیں تو فرائض کے علاوہ بھی نوافل روزوں سے اجر وثواب حاصل کرتے رہتے ہیں اور کسی کو خبر بھی نہیں ہونے دتے اور وہ صدقات جو فرض وواجب ہیں اس کے علاوہ بھی خرچ کرنے کی عادت ان میں پائی جاتی ہے اور وہ اپنی اس عادت کا اظہار بھی نہیں ہونے دیتے اور ان کا ہر کام رضائے الہی کے لئے ہوتا ہے ۔
Ayah 23:61وہ بھلائیاں حاصل کرنے میں بہت جلدی کرتے ہیں تاکہ سبقت لے جائیں :
61۔ ان لوگوں کی گیارہویں نشانی یہ بتائی جا رہی ہے کہ جہاں دوسرے لوگ مال و دولت جمع کرنے اور گن گن کرے رکھنے میں جلدی کرتے ہیں کہ وہ دوسروں سے کہیں پیچھے نہ رہ جائیں لیکن یہ اللہ کے بندے صبح وشام اس فکر میں مبتلا رہتے ہیں کہ کہیں اعمال صالحہ میں کوئی دوسرا ان سے آگے نہ بڑھ جائے وہ خود پیٹ سے بھوکے رہ کر بھی دوسروں کے پیٹ کو بھرنے کی سعی کرتے ہیں جہاں لوگ کھا کر خوش ہوتے ہیں وہاں یہ کھلا کر خوشی محسوس کرتے ہیں اور بھلائیوں کی تلاش میں رہتے ہیں اور بلاشبہ وہ کسی بھلائی کو بھی ہلکی بھلائی سمجھ کر ترک نہیں کرتے بلکہ دوسروں پر سبقت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ پائی پائی کا خیال رکھتے ہیں کہ وہ کسی ایسی راہ میں نہ خرچ ہوجائے جہاں خرچ کرنے کا حکم نہیں ، ان گیارہ نشانیوں کو گیارہویں شریف کے ثبوت کے طور پر استعمال نہ کیجئے کہ ایک ثبوت مزید مل گیا بلکہ ان میں سے ایک ایک پر غور کرو کہ ان میں سے کوئی ایک بھی ضائع نہ ہونے پائے اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ان کے حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہم ان میں سے ہر ایک کو حاصل کرنے کے لئے دن رات کوشاں رہیں ۔
Ayah 23:62ہمارا قانون ہے کہ ہم کسی کو اس کی وسعت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے :
62۔ زیر نظر آیت پر بھی ذرا رک جاؤ اور غور کرو کہ کیا حقیقت اس میں واضح کی گئی فرمایا یہاں فطرت کا یہ قانون کام کر رہا ہے کہ کسی جان پر اس کی جسمانی اور معنوی استطاعت ودیعت کی گئی ہے گویا فطرت نے ہر وجود کو استعداد دی ہے اور اس استعداد کے جواب میں عمل چاہتی ہے لیکن عمل کا یہ تقاضا ٹھیک ٹھیک اتنا ہی ہوتا ہے جتنے کی استعداد اسے دیدی گئی ہے ایسا نہیں ہوسکتا کہ کسی کو استعداد عمل تو چھٹانک بھر دی ہو اور مطالبہ عمل کا بوجھ اس پر سیر بھر کا ڈال دیا جائے ، رہی یہ بات کو یہ مطالبہ عمل کس بات میں ہوتا ہے ؟ فرائض ہستی کی انجام دہی میں ہر وجود کو اپنی بقا وتکمیل کے لئے جدوجہد کرنی پڑتی ہے لیکن جتنی کچھ اور جیسی کچھ جدوجہد کرنی پڑتی ہے اتنی ہی اور اس کیفیت کی استعداد بھی اسے دے دی گئی ہے اور فرض کا مطالبہ اس سے زیادہ نہیں ہوتا جتنی اس کی طاقت و گنجائش ہے اگر استعداد اور مطالبہ وعمل میں یہ تطابق نہ ہوتا تو ممکن نہ تھا کہ کوئی جان یہاں زندہ رہ سکتی ، قرآن کریم کہتا ہے جب اللہ کا یہ قانون ہر جان کے لئے ہے تو ضروری ہے کہ انسانی کے لئے بھی ہو اور جس طرح عالم جسم و صورت میں جاری ہے ضروری ہے کہ روح ومعنی میں بھی ہو ۔ پس سعادت روحانی کے لئے بھی جو مطالبہ عمل ہے وہ ٹھیک ٹھیک انسان کی استعداد عمل کے مطابق ہے اور یہاں عالم جسم وروح دونوں کے لئے اس کا قانون ایک ہی اور اس میں ہر طرح کی تکلیف آگئی ہے تکلیف کے لئے ہمیں کوئی اور موزوں لفظ دستیاب نہیں ہوا اس لئے مجبورا ہم نے ” ذمہ داری “ کی ترکیب استعمال کی ہے اگر کسی کو اس سے موزوں لفظ مل جائے تو استعمال کیا جاسکتا ہے لیکن ہمارے خیال میں اداء مفہوم کے لئے نسبتا یہی لفظ بہتر ہے اور بہت سے مفہوم کا جامع بھی ، آخر میں اپنے قانون کی مزید وضاحت کردی کہ ہماری کتاب جو کچھ بولتی ہے حق ہے اور ظلم نام کی شے ہمارے ہاں مطلق نہیں ہے ۔
Ayah 23:63حقیقت حال کا بیان کہ لوگوں کے دل غفلت و سرشاری میں پڑے ہیں :
63۔ (غمرۃ) کا مفہوم پیچھے آیت 54 میں بیان کیا جا چکا ہے جہاں (غمرتھم) کا لفظ استعمال ہوا ہے اور یہاں سے مضمون پھر ایک بار ان متکبرین کی طرف پھر رہا ہے جن کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے جو اپنی خوشحالی و فارغ البالی کو نیک اعمال اور نیک مالی کی دلیل بنائے بیٹھے ہیں وہاں چونکہ ان کی طرف اشارہ کرکے موضوع اہل ایمان کی طرف پھر گیا تھا اور اب دوبارہ ان کا ذکر کیا جا رہا ہے فرمایا ان لوگوں کے دل اس تعلیم سے جو اللہ کا رسول ان کو دے رہا ہے غفلت کے پروں میں دبے ہوئے ہیں اور یہ لوگ اس طرح اس دنیوی زندگی میں مگن ہیں کہ اہل ایمان کے اعمال کی طف ان کو ذرا بھی رغبت نہیں جن اہل ایمان کا ذکر آیت 57 سے آیت 60 میں کیا گیا ہے ان کی ساری کشش اور ان کی ساری کشش اور ان کی ساری دلچسپی اس دنیوی زندگی کے لئے ہے وہ اس زندگی میں منہمک ہیں اور اسی میں رہیں گے یہاں تک کہ ان کا وہ مقررہ وقت آجائے جس کو لوگ موت کے نام سے تعبیر کرتے ہیں ان کی دنیوی خواہشات کا یہ حال ہے کہ جتنی نکلتی ہیں ان سے دوگنی پیدا ہوجاتی ہیں اس طرح انہوں نے اپنی غفلت کو کبھی غفلت تسلیم ہی نہیں کیا بلکہ وہ تو اس غفلت کو غفلت قرار دینے والوں کو احمق خیال کرتے ہیں ۔
Ayah 23:64ان کی پکڑ کا جب وقت آئے گا تو وہ چیخیں مارتے رہ جائیں گے :
64۔ یہاں تک کہ جب ہم ان خوشحال لوگوں کو عذاب میں پکڑ لیں گے تو پھر وہ آہ زاری کریں گے ۔ “ قرآن کریم نے جگہ جگہ ان صاحب مال واولاد لوگوں کا ذکر کیا ہے جو قوم کے دولت مند طبقہ میں سے ہوتے ہیں ہم نے ان کو تفصیل کے ساتھ سورة بنی اسرائیل کی آیت 16 کے تحت بیان کیا ہے وہاں سے ملاحظہ کریں ۔ اس سے اتنی بات تو سب کو معلوم ہوجانا چاہئے کہ انفرادی زندگی میں بدعملی کا بڑا مرکز دنیوی خوش حالی کی زندگی ہوجاتی ہے اور ہمیشہ حق وصداقت کی مخالفت وہیں سے شروع ہوتی ہے اور اس کا سبب واضح ہے کہ خوش حالی و ثروت کی حالت ایک ایسی حالت ہے کہ اگر کسی جماعت میں پھیلی ہوئی ہو تو اس سے بڑھ کر کوئی برکت نہیں اور اگر ایک جماعت کے چند افراد میں سمٹی ہوئی ہو تو اس سے بڑھ کر کوئی لعنت نہیں اور بلاشبہ قوم کے لئے یہ ایک بہت بڑا فتنہ ثابت ہوتی ہے اگر آنکھ بینا رکھتے ہو تو اس وقت اپنے ملک عزیز پاکستان کی حالت پر نگاہ ڈال لو تم کو صاف صاف نظر آئے گا کہ یہ بات کس قدر اپنے اندر سچائی رکھتی ہے ، جہاں آج کل دولت پاکستان کے بیت المال سے نکل کر چند گنتی کے آدمیوں کے ہاتھوں میں چلی گئی ہے اور جہاں دولت کی ریل پیل چاہئے تھی وہاں بھوک ننگ کے سوا کچھ بھی موجود نہیں ۔ اس ملک عزیز میں ایسے ایسے لوگ موجود ہیں کہ پاکستان کو اگر حکومت بیچ دینا چاہے تو ان ہی کا ایک ایک آدمی اس کو خریدنے کے لئے ہاتھ آگے بڑھا سکتا ہے ، ظاہر ہے کہ اس طرح جب دولت صرف چند افراد کے قبضہ آگئی تو باقی افراد جماعت محروم رہ گئے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ملک عزیز کا غلبہ و تسلط بھی چند افراد کے ہاتھوں میں آگیا اور انہوں نے جہاں چاہا اور جب چاہا اور جس طرف چاہا اس کا منہ موڑ دیا جس سے وہ تکبر ونخوت کے ساتھ بھر گئے جس کا نتیجہ غرور باطل اور استکبار عن الحق کے سوا کچھ نہ نکلا اور نہ ہی کچھ اور نکلنا چاہئے تھا ، لیکن ان کی ساری چیخیں بیکار ثابت ہوئیں کیونکہ اس تاسف کا وقت نکل چکا تھا ۔
Ayah 23:65اب چیخنے کا کچھ فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ اب ہماری مدد کا وقت جاتا رہا :
65۔ اس وقت ہماری طرف سے جو جواب ان کو سنایا گیا وہ کیا تھا ؟ یہی کہ اب رونے اور گڑگڑانے کا کچھ فائدہ نہیں کیونکہ اس کا وقت نکل چکا ہے ، جب اس کا وقت تھا تو تمہاری رعونت ‘ نخوت اور تکبر نے تم کو اس طرف متوجہ ہی نہ ہونے دیا اور اب جب کہ اس کا وقت نہ رہا تم دھاڑیں مار رہے ہو ‘ سن لو کہ ہمارے ہاں ہر بات کا ایک وقت طے ہے اور جب وہ وقت نکل جاتا ہے نہ ہم خود اس کی مدد کرتے ہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا ہے جو ہمارے خلاف ان کی مدد کرسکے ۔
Ayah 23:66تمہارے سامنے تو میری آیات پڑھی گئی تھیں لیکن تم دھیان دینے کے لئے تیار ہی نہ تھے :
66۔ ہماری ہر بات جو ہم کہہ دیتے ہیں بلاشبہ وہ بطور وعدہ ہی ہوتی ہے غور کرو کہ ہم نے فرعون کو کتنی مدت تک ڈھیل دی اور اس کو سمجھانے کے لئے کیا کچھ نہیں کیا گیا لیکن وہ ذرا بھی ٹس سے مس نہ ہوا ؟ وقت گزرتا رہا اور وہ اپنے تکبر و غرور میں بڑھتا ہی چلا گیا پھر وہ وقت مقرر آگیا جس کا ہم نے اعلان کردیا ہوا تھا اس کا نتیجہ کیا رہا ؟ یہی کہ اس کی پکڑ کا وقت آیا تو وہ لگا گڑگڑانے اور چلا چلا کر کہنے کہ میں بنی اسرائیل کے رب پر ایمان لایا اور ہم نے اس کو صاف صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ اب ایمان لانے کا وقت جاتا رہا جب ایمان لانے کا وقت تھا تم نے ایک نہ سنی اور نافرمانی پر نافرمانی کرتے چلے گئے اور جب پکڑ کر وقت آیا تو تم نے ایمان کا اعلان کرنا شروع کردیا لیکن اب ہم اپنا وعدہ پورا کریں گے اور تیرا ہلاک کردینا جو مقرر کردیا گیا ہے وہ ہو کر رہے گا اور یہی حال اس وقت کے متکبرین کا ہوگا کیونکہ یہی ہماری سنت ہے اور ہم کسی کے لئے بھی اپنی سنت کو بدلنے والے نہیں ۔ نکص ینکص کے معنی ایک امر سے پھرنے کے ہیں بلکہ خصوصیت کے ساتھ بھلائی سے پھرنے کو (نکص) کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے مطلب یہ ہے کہ تم کو بھلائی کی طرف بلایا جاتا تھا لیکن تم اس وقت بھلائی سے الٹے پاؤں پھرجاتے تھے ۔
Ayah 23:67تم ہماری آیتوں کو سن کر ان کے خلاف ہذیان بکتے تھے اور تمہارا مشغلہ عجیب تھا :
67۔ (سامرا) کہانی بیان کرنے والا ’ قصہ گو ‘ داستان سرا (سمر) سے جس کے معنی رات کے وقت قصہ گوئی کے ہیں ۔ جاڑے کی لمبی راتوں میں وقت گزاری کرنے اور تفریح طبع کے لئے مختلف زمانوں میں مختلف طور طریقے رائج رہے ہیں ۔ قرآن کریم کے نزول کے وقت اور اس سے پہلے بلکہ بہت عرصہ بعد تک یہ رسم جاری تھی کہ کچھ لوگ بات سے بات نکالتے اور فرضی قصے اور کہانیاں بیان کرکے راتوں کو گزارتے تھے ان قصہ گوؤں کو ” سمر “ کہا جاتا تھا ، نزول قرآن کریم کے وقت کچھ لوگوں کا مشغلہ یہ تھا کہ رات کے وقت مجلسیں قائم کرتے اور ان مجلسوں میں قرآن کریم کے جملوں ‘ عبارتوں اور اس کے مفہوم کو عجیب عجیب طرح سے بگاڑ کر پیش کرتے اور مجلسوں کو اس طریقہ سے خوب گرم کرتے اور ہمارے نزدیک (بہ) کا مرجع قرآن کریم ہی قرار پاتا ہے مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم کی عبارات کو موضوع بنا کر باتیں گھڑتے اور مذاق و استہزاء کا نشانہ بناتے تھے ۔ (مستکبرین بہ) قرآن کریم کو سن کر متکبرانہ روش سے اس پر بحث وتمحیث کرتے اور مختلف طریقوں سے اس کی عبارات کو موڑتے اور توڑتے ‘ سمجھنے کی بجائے اور غور کرنے کی بجائے اس کو تضحیک کا نشانہ بناتے ۔ (تھجرون) کی اصل (ھجر) ہے جس کے معنی الگ ہونے کے ہیں یا ایک چیز کی برائی کی وجہ سے ترک کردینے کے ہیں اس جگہ (تھجرون) بکواس بازی کے معنوں میں آیا ہے اور ترجمہ میں اس کے معنی ہذیان بکنے کے کئے گئے ہیں ۔
آیت 65 سے 67 تک کا مفہوم اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ ” جو کچھ ہونا تھا ہوچکا اب روؤ یا چلاؤ اس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا اب ہماری تمہاری کچھ شنوائی نہیں اور نہ ہی کسی دوسرے میں یہ ہمت ہے کہ تم کو ہمارے قانون کی زد سے بچا سکے ، ہماری رضا حاصل کرنے کے لئے ہم نے تم کو ایک مدت تک مہلت دی لیکن تم نے اس سے ذرا برابر بھی فائدہ نہ اٹھایا اور جب تم کو ہمارے رسول کی زبانی ہماری آیات سنائی جا رہی تھیں اس وقت تو تمہاری بددماغی اور کوتاہ اندیشی کا یہ عالم تھا کہ تم نہایت تکبر کے ساتھ راتوں کو مجلسیں جما کر ان آیتوں کا مذاق اڑایا کرتے تھے اور جب بکنے پر آتے تھے تو صاف صاف کہہ دیتے کہ اس میں ہے کیا ؟ یہ سارے کا سارا افتراء اور جھوٹ ہی تو ہے جو اس نے خود گھڑ لیا ہے اور اس کی باتیں تمہارے نزدیک درخور اعتناء ہی نہ تھیں ۔ اس کے بعد آنے والے مضمون میں ان کے اس لا ابالی پن پر مزید زجر وتوبیخ کی گئی ہے ۔
Ayah 23:68قرآن کریم کے نزول کا مقصد اس میں غور وفکر کرنا ہے اور علامہ حضرات اس سے روکتے ہیں :
68۔ ذرا غور کرو کہ قرآن کریم میں کس طرح بار بار اس پہلو پر زور دیتا ہے کہ کیا لوگوں نے اس پر تدبر نہیں کیا ؟ کیونکہ اس کا سارا مطالبہ تدبر وتعقل ہی سے ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ سچائی کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ عقل وبصیرت اسے پالے گی اور جہل وکوری اس سے روگرداں رہے گی پس اگر لوگ قرآن کریم میں تدبیر و تفکر کریں تو ممکن نہیں کہ اس کی سچائی انہیں گرویدہ نہ کرلے ، یہاں سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ قرآن کریم کا مطالبہ غور وفکر کا ہے نہ کہ تقلید کا پس جو شخص قرآن کریم کے مطالب میں غور وفکر نہیں کرتا وہ اس کا مطالبہ پورا نہیں کرتا اور پھر جب قرآن کریم کے لئے کہ وہ وحی الہی ہے تدبر ضروری ہے تو کیونکر یہ بات جائز ہو سکتی ہے کہ کسی مجتہد اور امام کی تحقیق میں تدبر ضروری نہ ہو ؟ اور ہم بغیر غور وفکر کئے اس کی تقلید کرتے رہیں اور اہل علم کے لئے یہ کیونکر ضروری ہو کہ وہ از روئے تقلید سرتسلیم خم کردیں ؟ لیکن افسوس کہ آج کے اہل علم نے اس بات کو ترجیح دی جس کو اس وقت کے جاہل نہیں بلکہ اجہل ترجیح دیا کرتے تھے کہ ہم کو یہ قطعا حق نہیں کہ قرآن کریم کو عقل وفکر کے ساتھ پڑھیں اور براہ راست بھی اس پر غور وفکر کرسکیں کیونکہ دین کی باتوں اور کاموں میں عقل کو دخل نہیں گویا قرآن کریم کی تعلیمات کے بالکل برعکس علمائے اسلام کی تعلیم ہوگئی اور ہمارے لئے ضروری ٹھہرا کہ ہم قرآن کریم کی تعلیمات کو چھوڑ کر ان نام کے علامہ اور حضرت العلام کی بتائی ہوئی تعلیم پر عمل کریں ۔ وائے افسوس کہ ہم نے اس کو پسند کیا جس سے قرآن کریم نے ہم کو سختی سے منع کیا تھا اور وہی ہمیں پسند نہ آیا جس کی قرآن کریم نے تاکید کی تھی اور ہم نے جہالت کا نام علم رکھ دیا ۔
Ayah 23:69کیا یہ اپنے رسول کو پہچان نہ سکے اس لئے منکر ہوگئے ؟ ۔
69۔ کیا یہ لوگ نبی اعظم وآخر ﷺ کو پہچان ہی نہ سکے ؟ کیوں نہیں وہ رسول تو ان کو اتنی دل سوزی اور اخلاص سے بار بار دعوت حق دے رہا ہے یہ کوئی اجنبی شخص نہیں ہے جس سے یہ متعارف نہ ہوں ‘ جس کا ماضی ان سے مخفی ہو یہ سب لوگ تو اس رسول مقدس کو اچھی طرح پہچانتے ہیں اس کی عالی نسبی ‘ اس کی خاندانی شرافت ‘ اس کے ذاتی اوصاف واخلاق سے خوب آگاہ ہیں ۔ کل تک انہیں کی زبانیں اسے صادق اور امین کے معزز القاب سے خطاب کر رہی تھیں ، نہیں ہرگز نہیں ان کے انکار کا باعث محض ہٹ دھرمی ہے اور وہ اس ترنگ میں آگئے ہیں کہ ” ہم چوما دیگرے نیست “ یہ لوگ اپنے باپ دادا کے رسم و رواج کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ۔ وہ اپنے باپ دادا کی جہالت کے خلاف کچھ سننے کے لئے تیار نہیں اس میں وہ جو کچھ کر رہے ہیں دیدہ دانستہ کر رہے ہیں اس لئے یقینا اس انکار کا انجام ان کو معلوم ہوجائے گا کہ وہ کیا ہوتا ہے اور کیسا ہوتا ہے ؟
Ayah 23:70کیا انہوں نے حق کا نام جنون رکھا اور اس طرح حق سے منہ پھیر گئے ؟
70۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ پر طرح طرح کے الزام رکھے کہ یہ افتراء پرداز ہے ، اس کو خبط اور سودا لاحق ہے ‘ اس کو ہمارے معبودوں میں سے کسی کی مار لگ گئی ہے ، کسی جن نے اس کو پکڑ رکھا ہے جس کے باعث وہ ایسی باتیں کرتا ہے ۔ اس پر کسی نے جادو کردیا ہے اور اس کے اثر سے یہ سب کچھ بالتا ہے ، اس طرح وہ کبھی آپ کو جادوگر کہتے اور کبھی سحر زدہ ۔ حالانکہ ان کی ساری باتیں خود اس بات کی دلیل تھیں کہ ان کے پاس پیغمبر اسلام ﷺ کی دی گئی تعلیم کا کوئی صحیح جواب نہیں تھا اس لئے وہ حقیقت سے روگردانی کرنے کے لئے مختلف طرح کی باتیں گھڑتے اور بیان کرتے تھے اور وہ واقعی یہ کچھ نہیں سمجھتے تھے جو زبان سے کہتے تھے اور یہ بات اس سے بھی ظاہر ہے کہ سحرزدہ اور ساحر بھی ایک طرح کے نہیں ہوتے کیا ایک ہی شخص ایک ہی وقت میں فاعل اور مفعول ہو سکتا ہے کیا ایسا کہنا خود جنون نہیں ہے ؟ کیا ایک پاگل اور ہوش مند کا فرق بھی کوئی چھپی ہوئی بات ہو سکتی ہے ؟ دراصل وہ لوگ آپ کی باتوں کو اپنے دادا کی باتوں کے خلاف پاکر یہ سب کچھ بیان کرتے ہیں اور بلاشبہ آج بھی یہی کچھ ہو رہا ہے جو انہوں نے کیا ، حق بیان کرنے والوں کو لوگ آج بھی اسی طرح کی طرح کی باتوں سے یاد کرتے ہیں اور جو جس کے منہ میں آتا ہے وہ کہہ دیتا ہے ، حق سے بیزار اور روگردانی کرنے والے حق بیان کرنے والوں کو دیوانہ اور پاگل ہی قرار دیا کرتے ہیں اور ان کو مختلف طرح کے الزام کا نشانہ بناتے ہیں ۔
آیت 68 سے آیت 70 تک کی تین آیتوں میں تین باتیں بیان کی گئی ہیں ان پر ایک بار غور کرلو اور اس وقت کے حالات کے ساتھ ان کا موازانہ کرو اور دیکھو کہ جو کچھ ان کو کہا گیا آج بھی لوگوں سے وہی کچھ کہنا چاہئے یا نہیں ؟ اگر آج بھی وہی کچھ کہنا چاہئے کہ بات صحیح ہے تو اس کا نتیجہ کیا ہے ؟ یہی کہ جو کچھ اس وقت ان لوگوں کا حال تھا آج بھی یہی حال ہمارے ان لوگوں کا ہے ، ان سے کیا کہا گیا ؟ ۔
1۔ کہ کیا انہوں نے قرآن کریم پر غور نہیں کیا ؟ اگر غور کرتے تو یقینا حقیقت پالیتے ۔
2۔ کیا انہیں رسول کی معرفت نہ ہوئی ؟ اگر ضد اور ہٹ دھرمی سے کام نہ لیتے تو اس کی پاکیزگی وصداقت کی معرفت سے کبھی انکار نہیں کرسکتے تھے ۔
3۔ کیا انہوں نے سمجھا کہ وہ مجنون ہوگیا ہے تب ایسی باتیں کرتا ہے ؟ کیا راست بازی کے ساتھ یہ کہنے کی جرات کرسکتے ہیں کہ سچ مچ کو وہ مجنون ہے ؟ اس سے معلوم ہوگیا کہ دعوت اسلام کی معرفت کی دو راہیں ہیں ایک یہ کہ قرآن کریم میں تدبر کیا جائے اور دوسری یہ کہ صاحب قرآن کی زندگی میں تدبر کیا جائے اس کے علاوہ معرفت اسلام حاصل نہیں ہو سکتی ، خواہ سندیں اور ڈگریاں انسان کتنی ہی حاصل کرلے ۔ فافہم فتدبر۔