23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 23:15

ثُمَّ اِنَّكُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ لَمَیِّتُوْنَؕ Open ayah 23:15 in the Quran reader

پھر تم سب کو اس کے بعد ضرور مرنا ہے

بیان کردہ سارے مراحل طے کرنے کے بعد انجام موت ہے آپ کا بھی اور میرا بھی : 15۔ (میت) اور (میت) یا (مات) میں فرق یہ ہے کہ (میت) مرنے والے کو کہا جاتا ہے اور (میت) مرے ہوئے کو مطلب یہ ہے کہ گزشتہ تمام مراحل زندگی طے کرنے کے بعد انجام کار تمہارے خاتمہ کا وقت آجائے گا اور تم اس دار فانی سے منتقل ہو کر دارالخلد میں چلے جاؤ گے کہ لامحالہ تم کو موت کی طرف جانا ہے اور ان سارے تطورات میں تم مجبور محض ہو اور ان میں سے ایک دور بھی ایسا نہیں جو تمہاری مرضی سے طے پائے پھر جب تم ان ادوار میں سے کسی پر بھی کنٹرول نہیں رکھتے اور ہر ایک دور سے گزر کر دوسرے میں داخل ہوتے چلے آرہے ہو اور اسی طرح چلتے چلتے جب تم سے یہ کہا جاتا ہے کہ اس زندگی کے بعد تم کو دو بار زندگی بھی ملے گی تو تم حیران و ششدر ہو کر رہ جاتے ہو اور انجام کار میں نہ مانو کی رٹ لگانا شروع کردیتے ہو آخر کیوں اور کیسے ؟ بہرحال تم مانو یا اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر قائم رہو ہم نے تمہاری توجہ مبذول کرانا تھی اور وہ کرا دی ۔
Ayah 23:16

ثُمَّ اِنَّكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ تُبْعَثُوْنَ Open ayah 23:16 in the Quran reader

پھر قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے

ایسا ہونا یقینی ہے کہ تم قیامت کے روز اٹھائے جاؤ گے : 16۔ یوم آخر اور حیات آخرت اسلام کی نہایت اہم تعلیم ہے اور قرآن کریم نے ایمان باللہ کے بعد اس کی اہمیت پر سب سے زیادہ زور دیا ہے کیونکہ موجودہ دنیا کے تمام اعمال اور ان کے نتائج کی اصل اور دائمی بنیاد اس آئندہ دنیا کے گھر کی بنیاد پر قائم ہے اگر یہ بنیاد متزلزل ہوجائے تو اعمال انسانی کے نتائج کا ریشہ ریشہ بیخ وبن سے اکھڑ جائے اسی لئے تمام مذاہب نے کسی نہ کسی رنگ میں آخری زندگی کو متفقا تسلیم کیا ہے اگرچہ اسلام کی وضاحت سب سے زیادہ صاف اور سب سے زیادہ بہتر ہے اور کس طرح صاف وضاحت کی ہے کہ اس اٹھائے جانے کو مست بعد سمجھنے کی کوئی وجہ نہیں ہے جس اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی یہ شانیں تم خود اپنے وجود کے اندر مشاہدہ کرتے ہو اس کے لئے تمہیں دوبارہ اٹھا کھڑا کرنا کیا مشکل ہے ۔ اسلام نے انسان کے لئے تین منزلیں مقرر کی ہیں منزل دنیا ‘ منزل برزخ اور منزل قیامت اور ان تینوں منزلوں کے فرق کو نہایت وضاحت سے بیان کیا ہے ۔ وہ بتاتا ہے کہ اس موجودہ دنیا میں میں جسم نمایاں اور روح پوشیدہ ہے اور روح کو جو کچھ مسرت و تکلیف یہاں پہنچتی ہے وہ صرف اسی مادی جسم کے واسطے سے پہنچتی ہے ورنہ درحقیقت اس کو براہ راست راحت ولذت کا اس مادی دنیا میں کوئی امکان نہیں ہے ، دوسرے عالم میں جس کو برزخ کہا گیا ہے روح نمایاں ہوتی ہے اور جسم چھپ جاتا ہے وہاں جو کچھ راحت و تکلیف پہنچتی ہے وہ دراصل روح کو پہنچتی ہے اور جسم اس کی تبعیت میں ضمنا اس سے متاثر ہوتا ہے لیکن اس تیسرے عالم میں جسے قیامت کہا گیا ہے جہاں سے اصلی اور حقیقی زندگی اور غیر فانی زندگی شروع ہوتی ہے وہاں روح اور جسم دونوں نمایاں ہوں گے اور دونوں کی لذت و تکلیف کے مظاہر بالکل پہلی دونوں زندگیوں سے الگ تھلگ ہوں گے ، ایک سے گزر رہے ہوں دوسری میں داخل ہونا ہے اور تیسری بھی بلاشبہ یقینی ہے ۔
Ayah 23:17

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعَ طَرَآئِقَ١ۖۗ وَ مَا كُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غٰفِلِیْنَ Open ayah 23:17 in the Quran reader

اور یہ ہماری ہی کارفرمائی ہے کہ تمہارے اوپر سات راستے بنا دیئے اور ہم مخلوق کی طرف سے غافل نہ تھے

طرائق کا مفہوم اور آسمان کی رنگا رنگی وبو قلمونی کی طرف اشارہ : 17۔ انسان اگر ذرا غوروفکر سے کام لے تو وہ جان سکتا ہے کہ حقیقت کے دلائل و شواہد اسے تین راہوں سے گھیرے ہوئے ہیں خود اس کی ہستی کا ہر گوشہ سر تا سر دلیل حقیقت ہے اور یہ قرآن کریم کی اصطلاح میں ” عالم انفس “ کا ہے اس سے باہر جو کچھ ہے وہ بھی حقیقت کا پیام ہے یہ ” عالم آفاق “ ہے پھر عالم آفاق کے دلائل کی بھی دو قسمیں ہوئیں ۔ کائنات ہستی کی خلقت وقوانین کے مظاہر یہ آیات کونیہ ہیں۔ اقوام ماضیہ کے احوال وتجارب یہ براہین علمیہ ہیں ، قرآن کریم کا اسلوب بیان یہ ہے کہ وہ ان تمام اقسام سے استدلال کرتا اور ایک قسم کے دلائل کے بعد دوسری قسم کے دلائل بیان کرتا ہے زیر نظر سورت میں علی الترتیب تینوں قسموں کے دلائل جمع کئے گئے ہیں گزشتہ آیت میں آیت 12 سے 16 تک انسان کو توجہ دلائی ہے کہ وہ کود اپنی خلقت پر غور کرے اور اب اس آیت 17 سے 22 تک عالم آفاق کے دلائل کونیہ بیان کئے ہیں کہ اپنے نفس کے باہر کے عالم میں تفکر کرے اور اس کے بعد آیت 23 سے 53 تک گزشتہ دعوتوں کا ذکر کرکے استدلال کرے گا تاکہ حوادث ماضیہ سے حال ومستقبل کے لئے انسان عبرت پکڑے ۔ چناچہ زیر نظر آیت میں ربوبیت کے اہتمام وانتظام کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس دنیا کو پیدا کرکے اس کے خیر وشر سے بےتعلق نہیں ہوا بلکہ وہ برابر اس کی پرورش وپرداخت فرما رہا ہے اس نے رنگا رنگ سات آسمان بنائے اور برابر ان کی دیکھ بھال بھی کئے جارہا ہے ، قرآن کریم کی تفہیم کرانے کا طریقہ بھی بڑا عجیب اور دل نشین ہے کہ وہ ایک لفظ کہہ کر الگ ہوجاتا ہے اس کا مطلب کھلتا جاتا ہے اور اس طرح زمانہ بیسیوں تبدیلیاں پیدا کرتا ہے اور ہر تبدیلی اس کے اسی ایک لفظ پر فٹ ہوتی چلی جاتی ہے اور آدمی پکار اٹھتا ہے کہ سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم ۔ گزشتہ بہت سی آیات میں (سبع سموات) کا لفظ بیان کیا گیا اور زیر نظر آیت میں خاموشی کے ساتھ اس کو (سبع طرائق) کہہ دیا اور اس لفظ نے لفظ آسمان کی ساری حقیقت واضح کر کے رکھ دی اور نظام شمسی کا وہ سارا راز جو اس وقت آشکارا ہوا بلکہ ہو رہا ہے اس کے اندر بند کردیا تھا جس کو لوگ آہستہ آہستہ کھول رہے ہیں اور اس وقت تک آشکارا ہوا ہے وہ بھی اور ابھی نہ معلوم کیا کچھ ہے جو آشکارا ہوگا لیکن قرآن کریم کے اس اشارہ میں سب کچھ بند کر کے رکھ دیا جوں جوں اور جیسے جیسے کھلتا جائے گا وضاحت مزید ہوتی جائے گی اور ہمارا ایمان ہے کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر ان میں سے جو اس وقت تک ظاہر ہوئے اور جو ابھی ظاہر ہوں گے سب پر محیط ہے ۔ اور کوئی چیز اس کے علم سے پوشیدہ نہیں ۔
Ayah 23:18

وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ فَاَسْكَنّٰهُ فِی الْاَرْضِ١ۖۗ وَ اِنَّا عَلٰى ذَهَابٍۭ بِهٖ لَقٰدِرُوْنَۚ Open ayah 23:18 in the Quran reader

اور ہم نے ایک خاص اندازہ کے ساتھ آسمان سے پانی برسایا اور اسے زمین میں ٹھہرائے رکھا اور ہم یقینا قادر ہیں کہ اسے لے جائیں

ایک خاص اندازہ سے پانی کا نازل کرنا اللہ تعالیٰ ہی کی ربوبیت پر دال ہے : 18۔ عالم آفاق کے دلائل کونیہ میں سے یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے جو آسمانوں یعنی بادلوں سے بارش کو برسانے والا ہے یہ گویا اللہ تعالیٰ کے انعامات میں سے ایک بہت بڑا انعام ہے جس پر ہرچیز کی زندگی کا انحصار ہے وہ انسانوں کی ضرورت کے مطابق بارش برساتا ہے جس سے ہماری کھیتیاں سیراب ہوتی ہیں اور پینے کے لئے ہمارے تالابوں اور نشیب جگہوں میں پانی ٹھہر جاتا ہے اور ہم لوگ ہر وقت اس سے اپنی ضروریات پوری کرتے رہتے ہیں یہ کنوئیں ‘ یہ ٹیوب ویل ‘ یہ دریا ‘ یہ چشمے جن سے ہم اپنی ضروریات کو پورا کرتے ہیں یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے مخفی آبی ذخیروں ہی سے تو پانی آرہا ہے ‘ میدانوں اور صحراؤں کو چھوڑو ذرا بلند سے بلند پہاڑوں کی بلند چوٹیوں پر جا کر دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح وہاں بھی انسانی ضروریات کا خیال رکھا ہے اور اتنی بلندی میں جہاں کوہ کن بھی کھود کر پانی تک نہ پہنچ سکتے ہوں پانی کو بغیر کھودے وہاں سے نکال دیا ہے اور ٹھنڈے اور میٹھے پانی کے چشمے بہا دیئے ہیں اس طرح جہاں کنواں کھودنا ‘ نہر جاری کرنا انسانی دسترس سے باہر تھا وہاں اس قادر مطلق نے چشموں کا سلسلہ جاری فرما دیا پھر پانی کی فطرت میں یہ رکھا کہ وہ ہمیشہ نشیب کو بہے اس طرح انسانی غرض سے جو فالتو پانی ہو وہ میدانوں کی طرف ہر وقت رواں دواں رہتا ہے اور صحرائی اور میدانی آدمیوں کے کام آتا ہے ظاہر ہے کہ اس میں بھی آپ کے ان میرے لئے بیشمار نشانیاں موجود ہیں اگر کوئی ان کو حاصل کرنا چاہے ، لیکن بعض لوگ ایسے بھی ہیں جن کی عقلی استعداد بہت زیادہ ہے وہ پانی پر کسی اور طرح سے نگاہ ڈالنا چاہتے ہیں تو ان کے لئے بھی یہ آیت اور اس جیسی تمام دوسری آیات اس پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آغاز آفرنیش میں بیک وقت اتنی مقدار میں زمین پر پانی نازل فرما دیا تھا جو قیامت تک کے لئے کافی ووافی تھا ۔ وہ پانی زمین ہی کے نشیبی علاقوں میں ٹھہر گیا جس سے سمندر اور بحیرے وجود میں آئے اور آب زیر زمین چلا گیا اور اب اس وقت ہمارے سامنے اس پانی کا الٹ پھیر ہے اور کس خاموشی کے ساتھ اس کو ان سمندروں ‘ دریاؤں ‘ جوہڑوں اور تالابوں سے بھاپ بنا کر اڑا لیا جاتا ہے اور پھر اس کے ذخیرہ کو اپنے خاص نظام کے تحت اس خلا میں اس کو بغیر کسی برتن کے رکھا ہوا ہے اور جب چاہتا ہے اور جیسے چاہتا ہے اپنے قانون کے مطابق اس کو برساتا رہتا ہے اور جب سے اس دنیا کا نظام چلا آج تک یہ سلسلہ بدستور جاری ہے اور جب تک اس نظام کو باقی رکھنا ہے بدستور سلسلہ جاری رہے گا ۔ آج اگر انسان نے یہ دریافت کیا ہے کہ پانی دو قسم کی گیسوں کا مرکب ہے یعنی ہائیڈروجن اور آکسیجن سے تو آخر وہ کون ہے جس نے اتنی مقدار میں ان دونوں گیسوں کو پیدا کیا اور ان کے امتزاج کا کیا طریقہ رکھا کہ اتنا پانی بن کر تیار ہوگیا جو ساری دنیا کی ضرورتوں کو پورا کئے چلا جا رہا ہے اور ذرا مزید غور کرو کہ کیا دنیا میں اب دونوں گیسیں موجود نہیں ؟ اگر ہیں تو اب کون ہے جو ان دونوں کو آپس میں ملنے نہیں دے رہا ؟ جب پانی بھاپ بن کر اڑ جاتا ہے تو کون ہے جو ان دونوں گیسوں کو الگ الگ کردینے پر لگا ہوا ہے ؟ قرآن کریم ہم کو بتاتا ہے کہ یہ سارے کام جو طاقت کر رہی ہے اس کا نام اللہ تعالیٰ ہے جو اس کائنات کا بنانے والا اور اس نظام کا چلانے والا ہے کوئی اندر دیوتا یا کوئی زندہ و مردہ پیر و بزرگ اور ولی اللہ نہیں جس کے ذمہ یہ کام لگایا جا چکا ہے اور نہ ایسے کام کسی دوسرے کے ذمے لگائے جاسکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ ہی کے کرنے کے ہوں ۔ پھر جس طرح وہ اس پانی کے بنانے پر قادر ہے ‘ اس کے برسانے پر بھی قادر ہے اور اس کے معدوم کردینے پر بھی جیسا کہ اس نے ارشاد فرمایا (آیت) ” قل ارئیتم ان اصبح ماؤکم غورا فمن یاتیکم بماء معین “۔ (الملک 67 : 30) اے پیغمبر اسلام ! ﷺ ان سے پوچھئے کہ تم نے کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ اگر تمہارے کنوؤں کا پانی زمین میں اتر جائے تو کون ہے جو اس پانی کی بہتی ہوئی سوتیں تمہیں نکال کر لا دے گا ؟ “ ظاہر ہے کہ اس میں پوچھا یہی جا رہا ہے کہ کیا اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے سوا کسی میں یہ طاقت ہے کہ ان سوتوں کو پھر سے جاری کردے ؟ اگر نہیں ہے اور تم جانتے ہو کہ نہیں ہے تو پھر عبادت کا مستحق بھی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہے تم کہاں دھکے کھاتے چلے جا رہے ہو ؟
Ayah 23:19

فَاَنْشَاْنَا لَكُمْ بِهٖ جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ١ۘ لَكُمْ فِیْهَا فَوَاكِهُ كَثِیْرَةٌ وَّ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَۙ Open ayah 23:19 in the Quran reader

پھر اس پانی کی آبیاری سے تمہارے لیے کھجوروں اور انگوروں کے باغوں کو نشو ونما دے دی ، ان باغوں میں تمہارے لیے بہت سے پھل پیدا ہوتے ہیں بعض تمہارے کھانے میں کام آتے ہیں

تمہارے باغات کا پیدا کرنے والا اور ان پر پھل لگانے والا بھی وہی ہے : 19۔ اچھا بتاؤ کہ اس پانی کو کس نے بنایا اور پھر کس نے اس کو بادلوں سے نازل کیا ؟ اب تو تم کو معلوم ہوگیا کہ وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے اور اس کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہے تو اب اچھی طرح سمجھ لو کہ اس پانی سے اللہ تعالیٰ ہی نے تمہارے لئے کھجوروں اور دوسرے سارے پھل دار درختوں ‘ انگوروں اور ساری پھل دار بیلوں کو پیدا کیا ہے اور انہی پھلوں میں سے ایسے پھل بھی ہیں جو تم کچے توڑ کر بطور سالن پکا کر کھاتے ہو اور ایسے بھی ہیں جو بغیر پکائے کچے ہی کھا جاتے ہو اور پھر ایسے بھی ہیں جو درختوں پہ تیار ہوجانے کے بعد تم اتارتے ہو اور طرح طرح کے ان پھلوں کو کھا کر مزے لیتے ہو اور اس پانی سے اس نے تمہارے لئے طرح طرح کی اجناس پیدا کردیں جو تم بطور غذا استعمال کرتے ہو ۔ کبھی تم نے تیار شدہ کیلے کو استعمال کیا ہوگا کہ یہ کیسا ہے اور کیا ہے ؟ کتنا میٹھا کہ حلوا بھی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا ذرا اس کا چھلکا اتارو اور حلوا استعمال کرلو لیکن اس کو کھا کر اپنے پیسے کی طرف تمہارا خیال جاتا ہے جو تم نے خرچ کیا ہے کیا اس ذات کا بھی کبھی تم کو خیال ہے جس نے اس کو تمہاری خاطر بنا کر تمہیں پیش کردیا یا کیا انسان صرف روٹی کھاکر نہیں جی سکتا تھا ؟ کیوں نہیں لیکن اس نے تمہاری ضیافت کے لئے ان گنت اور مختلف مزے کے پھل تیار کردیئے تاکہ تم ان کو کھا کر محظوظ ہو اور اس کی حمد وثنا کے گیت گاؤ لیکن تم ہو کہ جس کا کھاتے ہو اس کی مخالفت میں دن رات کمربستہ ہو اور بجائے شکر گزاری کے ناقدری اور ناشکری پر تلے ہوئے ہو ۔ زیر نظر آیت میں صرف ان پھلوں کا نام لیا گیا ہے جو عربوں کے ہاں اس وقت عام تھے اور ان کے ضمن میں وہ دنیا جہان کے سارے پھل آجاتے ہیں کیونکہ ان سب کا پیدا کرنے والا وہی اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہے اور قریب الجنس درختوں کو ایک دوسرے کے ساتھ پیوند کاری کے طریقے بھی اس کی عطا کردہ عقل و دانش سے لگائے جاتے ہیں جس سے مزید اجناس کے پھل پیدا ہو رہے ہیں یہ پیوند کرنے والے ان پھلوں کے خالق نہیں کہلوا سکتے اس لئے ضروری ہے کہ انکو کھا کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو اور اس کی حمد وثنا کے گیت گاؤ ۔
Ayah 23:20

وَ شَجَرَةً تَخْرُجُ مِنْ طُوْرِ سَیْنَآءَ تَنْۢبُتُ بِالدُّهْنِ وَ صِبْغٍ لِّلْاٰكِلِیْنَ Open ayah 23:20 in the Quran reader

اور وہ درخت جو طور سینا میں پیدا ہوتا ہے جو چکنائی اُگاتا ہے اور کھانے والوں کے لیے سالن ہے

زیتون کے درخت کی خاص فضیلت کہ وہ گھی کے لئے تیار کیا گیا ہے : 20۔ قرآن کریم نے اس جگہ صرف درخت کا ذکر کیا ہے اس درخت کا نام یہاں نہیں لیا گیا لیکن اس کی جو تعریف کی گئی اور اس کا جو وطن بتایا گیا یہ دونوں باتیں زیتون کے درخت پر ہی صادق آتی ہیں اس لئے بالاتفاق اس کو زیتون ہی کا درخت بیان کیا گیا ہے کیونکہ طور سینا کے علاقہ میں یہ درخت کثرت سے پایا جاتا ہے اور اس درخت میں گھی کی مقدار بھی بہت زیادہ رکھی گئی ہے یہی درخت ہے جو سبز کاٹ کر بھی اس وقت جلایا جاسکتا ہے اور اس سے آگ روشن ہوجاتی ہے اور اس کو کھانے میں بہت ہی لذیذ اور صحت کے لئے نہایت مفید مانا گیا ہے ۔ دھنیت کی سب سے زیادہ پر اپنی چیزوں میں اس کا شمار کیا گیا ہے اور اس درخت کی عمر کے متعلق بھی کہا جاتا ہے کہ یہ ہزاروں سال تک کی زندگی رکھتا ہے اور باقاعدہ پھل دیتا رہتا ہے (صبغ) کا لفظ جو اس کے لئے استعمال ہوا ہے اس کے معنی رنگنے اور ڈبونے کے ہیں اس لئے ایسے سالن کو کہا جاتا ہے جس میں روٹی ڈبونے سے رنگین ہوجائے اور اسالن کا مزہ بھی دے ۔ ممکن ہے کہ عربوں میں اس کے ساتھ روٹی کھانے کا رواج ہو اور جس طرح ہمارے ہاں مکھن اور دہی استعمال ہوتا ہے اور بلاشبہ ہوتا بھی بطور سالن ہی ہے اسی طرح عرب بھی اس کو بطور سالن استعمال کرتے ہوں بہر حال بطور گھی اس کا استعمال مدت مدید سے چلا آ رہا ہے جب دوسرے گھی دریافت نہیں تھے حتی کہ حیوانی گھی سے بھی اس کی عمر لمبی بتائی جاتی ہے اور تجربہ یہ بتاتا ہے کہ اس سے پکائی گئی چیز کا مقابلہ آج بھی کوئی دوسرا گھی نہیں کرسکتا مزے میں بھی اور صحت میں بھی ، تورات اور انجیل میں اس درخت کا ذکر بار بار آیا ہے اگر دیکھنا ہو تو استثناء 8 : 8 ‘ قاضیون 9 : 8 ‘ متی 6 : 7 ‘ 25 : 3 اور لوقا 10 : 34 کا مطالعہ کریں ۔
Ayah 23:21

وَ اِنَّ لَكُمْ فِی الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً١ؕ نُسْقِیْكُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْنِهَا وَ لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ كَثِیْرَةٌ وَّ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَۙ Open ayah 23:21 in the Quran reader

اور تمہارے لیے چارپایوں کی خلقت میں بھی بڑی ہی عبرت ہے جو کچھ ان کے شکم میں بھرا ہے اس میں تمہارے لیے پینے کی چیز پیدا کرتے ہیں اور تمہارے لیے ان کے وجود میں اور بھی طرح طرح کے فائدے ہیں انہیں میں سے بعض تمہارے لیے غذا کا بھی کام دیتے ہیں

جانوروں میں بھی عبرت کے نشان موجود ہیں ذرا ان کے دودھ پر غور تو کرو : 21۔ نباتات کی طرح حیوانات بھی انسان ہی کی خدمت کے لئے پیدا کئے گئے ہیں انہیں اپنا معبود یا مخدوم سمجھ لینا انسان کی انتہائی پستی پر دلالت کرتا ہے لیکن جب کوئی قوم من حیث القوم کسی گھٹیا سے گھٹیا کام کو بھی کرنے لگ جائے اور اس کو پوری قوم یا کثیر تعداد میں لوگوں کی حمایت حاصل ہوجائے تو اس کی کمزوری اور گھٹیا پن کی طرف بہت کم دھیان جاتا ہے ۔ ذرا غور کرو کہ موشیوں کے شکم میں کیا بھرا ہے ؟ گوبر ‘ پیشاب اور اسی طرح کا بہت سارا گند ہی تو ہے پھر یہ کسی کی جلوہ نمائی ہے کہ اس میں تمہارے پینے کے لئے وہ ایک ایسی چیز نکالتا ہے جو اپنے رنگ ‘ ذائقہ ‘ بو اور تاثیر میں اپنی مثال آپ ہے دنیا میں جتنے مشروبات استعمال ہوتے ہیں سب میں سے پہلا نمبر یقینا اس کو حاصل ہے کہ وہ غذا کی غذا ‘ دوا کی دوا اور مشروب کا مشروب ہے کہ اس سے صرف پیاس ہی نہیں بجھتی بلکہ اس میں ایسی غذائیت رکھی دی گئی ہے جو کسی دوسری غذا میں شاید ہی رکھی گئی ہو پھر ان مویشیوں میں صرف یہی فائدہ نہیں کہ وہ دودھ دیتے ہیں علاوہ ازیں بھی بیشمار فوائد ہیں جیسے سواری کے جانوروں کو سواری کے لئے اور بوجھ لادنے کے لئے استعمال کرنا ‘ حلال جانوروں کو بطور غذا کھانا ‘ ان کے بالوں سے طرح طرح کا لباس تیار کرنا ‘ ان کے چمڑوں سے اپنے استعمال کی سینکڑوں چیزیں تیار کرلینا وغیرہ وغیرہ ۔ زیر نظر آیت تعریف آیت کے طور پر قبل ازیں ایک بار گزر چکی ہے اس لئے سورة النحل کی آیت 66 کی تفسیر دیکھیں اور سورة الانعام کی آیت 136 تا 140 میں تفصیل کے ساتھ ذکر گزر چکا ہے ۔
Ayah 23:22

وَ عَلَیْهَا وَ عَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَ۠ Open ayah 23:22 in the Quran reader

تم ان پر اور جہازوں پر سوار بھی ہوتے ہو

جانوروں اور کشتیوں پر سوار ہونے اور سامان لادنے کا ذکر : 22۔ انعامات الہی میں سے بلاشبہ یہ بھی انعام ہے کہ اس نے جانوروں کو بار برداری کے لئے پیدا فرما دیا اور وہ بہت بڑا بڑا سامان اٹھا کر دوسری جگہ پہنچانے کے کام آتے ہیں اور ان سب جانوروں میں سے زیادہ بوجھ کے کام آنے والا جانور اونٹ ہے جو ریگستانوں میں زیادہ کام آتا ہے اور لوگ اس سبب سے اس کو ریگستانی جہاز کے نام سے موسوم کرتے ہیں اور کشتیاں یہی کام سمندر میں دیتی ہیں جو اونٹ خشکی میں اس لئے اس لئے دنوں طرح کی سواریوں کا تقریبا اکٹھا ہی ذکر کیا جاتا ہے قرآن کریم نے اللہ تعالیٰ کے اس انعام کا بار بار ذکر کیا ہے اور طرح طرح کی مثالیں دے کر سمجھایا ہے تاکہ انسان بداعتدالیوں سے بچ کر انعامات اخروی کو حاصل کرنے کی سعی و کوشش میں لگ جائیں اور دنیوی انعامات کا اعتراف کرکے اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنیں تاکہ آخرت کے نقصان سے بچ جائیں کیونکہ اصل مقصود ان ساری چیزوں کے ذکر سے درس عبرت ہے غور کرو کہ جس رب کریم نے ہماری ایک ایک ضرورت کا نہایت توجہ سے اہتمام فرمایا ہے اس کے بارے میں یہ تصور کیا جاسکتا ہے کہ وہ ہم کو پیدا کر کے بالکل بےتعلق ہو کر بیٹھ رہے ؟ کیا اس کی یہ ربوبیت ہمارے اوپر کوئی حق اور کوئی ذمہ داری عائد نہیں کرتی ؟ اب آیت 23 سے مضمون کا رخ گزشتہ دعوتوں سے استدلال کی طرف ہو رہا ہے ۔
Ayah 23:23

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 23:23 in the Quran reader

اور ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تھا اس نے کہا تھا ، بھائیو ! اللہ کی بندگی کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں ہے کیا تم ڈرتے نہیں ؟

نوح (علیہ السلام) کی دعوت کا ذکر اور قوم کو توحید الہی کے درس کا بیان : 23۔ زیر نظر آیت سے گزشتہ دعوتوں سے استدلال کرکے حوادث ماضیہ سے حال میں عبرت پکڑنے کے لئے سیدنا نوح (علیہ السلام) کی دعوت کا ذکر شروع کیا ہے اور سب سے پہلے درس توحید ہی کا ذکر کیا جو سارے انبیاء کرام (علیہ السلام) کا مشترک درس تھا اور سب نے اولیت اس پیغام کو دی اور یہی وہ چیز ہے جو ساری مذہبی بیماریوں کی اصل اور جڑ ہے ۔ سیدنا نوح (علیہ السلام) کی قوم کے جواب کو بھی بیان کیا گیا ہے تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ آج مکہ کے لوگ جو جواب اے پیغمبر اسلام ! ﷺ محمد رسول اللہ ﷺ کو دے رہے ہیں یہ کوئی نیا نہیں بلکہ آپ ﷺ سے پہلے تقریبا سارے نبیوں کو اسی طرح جواب سنایا گیا تھا پھر آپ کی قوم کا انجام بھی بتایا گیا تاکہ خود نبی اعظم وآخر ﷺ بھی یہ بات سمجھ لیں کہ اگر سیدنا نوح (علیہ السلام) کی قوم کا یہ حال ہوا تھا تو یقینا اس امت کی مخالفت کا نتیجہ بھی وہی رہے گا جو سیدنا نوح (علیہ السلام) کی امت کا ہوا یہ سرگزشت قبل ازیں سورة الاعراف آیات 59 تا 64 ‘ سورة یونس 71 تا 72 ‘ سورة ہود آیات 25 تا 48 ‘ سورة بنی اسرائیل آیت 3 اور سورة الانبیاء آیات 76 تا 77 میں بیان ہوچکی ہیں اور سورة ہود میں مختصر سرگزشت سیدنا نوح (علیہ السلام) کے عنوان سے بھی بیان کی جا چکی ہے وہاں سے ملاحظہ کریں ۔
Ayah 23:24

فَقَالَ الْمَلَؤُا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۙ یُرِیْدُ اَنْ یَّتَفَضَّلَ عَلَیْكُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَنْزَلَ مَلٰٓئِكَةً١ۖۚ مَّا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَۚ Open ayah 23:24 in the Quran reader

اس کی قوم کے جن سرداروں نے کفر کی راہ اختیار کی تھی وہ یہ سن کر کہنے لگے یہ آدمی اس کے سوا کیا ہے کہ تمہارے ہی جیسا ایک آدمی ہے ؟ مگر چاہتا ہے تم پر اپنی بڑائی جتائے اگر اللہ کو کوئی ایسی ہی بات منظور ہوتی تو کیا وہ فرشتے نہ اتار دیتا ؟ ہم نے اپنے اگلے بزرگوں سے تو ایسی کوئی بات کبھی نہیں سنی

سرداران قوم کی طرف سے سیدنا نوح (علیہ السلام) کو جو جواب دیا گیا : 24۔ آج سے نہیں بلکہ ہمیشہ سے یہی بات چلی آرہی ہے کہ اہل ثروت ‘ اصحاب اقتدار اور قوم کے وڈیروں ہی نے صالحین کی مخالفت میں پہل کی ہے کیونکہ انہی کا وجود ساری خرابیوں اور فسادات کا منبع ہوتا ہے اور اصلاح کی براہ راست رد بھی انہی کے اقتدار اور ان کے مفاد پر پڑتی ہے اس لئے وہ عوام کے دلوں میں طرح طرح کے شبہات ڈال کر انہیں اہل حق سے برگشتہ کرنے کی سرتوڑ کوشش کرتے ہیں ، انبیاء کرام (علیہ السلام) کے خلاف سب سے پہلے انہوں نے ہمیشہ یہ ہتھیار استعمال کیا کہ یہ بشر ہیں ‘ یہ ہماری طرح کے انسان ہیں ‘ پھر یہ بھی کبھی نبوت کے منصب عالی پر فائز ہو سکتے ہیں ؟ اور ان کا یہ ہتھیار اکثر کارگر ثابت ہوا ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ وہ خود اپنے آپ کو بھی تو آخر انسان ہی سمجھتے تھے اور وہ جانتے تھے کہ ہم کیا ہیں ؟ زمانے کے بدمعاش اور سفاک ‘ دھوکہ باز ‘ پرلے درجے کے فریبی ‘ بدکاری وبدکرداری کا ایک پلندہ ‘ سنگدل ‘ بےرحم ‘ لالچی ‘ عیاش ‘ مکار اور عیار تھے اس لئے وہ سمجھتے تھے کہ انسان جس حیوان کا نام ہے وہ تو ایسا ہی ہوتا ہے جیسا کہ وہ خود ہیں بلکہ وہ تو خود دوسرے کتنے لوگوں کے سردار ہیں تو پھر یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ ایسے کسی کو نبی مان لیاجائے یا ایسا انسان بھلا نبی بن جائے ‘ کیسے ہو سکتا ہے ؟ بلاشبہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ بیچارے مجبور تھے اور انکی سمجھ میں کچھ نہیں آتا تھا لیکن کیا آج کل کے ان مولویوں ‘ علاموں اور رضا خانیوں کو بھی اسی طرح مجبور سمجھ لیا جائے کیا یہ سب بھی اسی طرح کے سفاک ‘ دھوکہ باز ‘ بدکردار ‘ سنگدل ‘ بےرحم ‘ لالچی ‘ عیاش ‘ مکار اور عیار ہیں اسی لئے انبیاء کرام (علیہ السلام) کی بشریت سے انکاری ہیں اگر بات ایسی ہے تو بلاشبہ ہم ان کو بھی مجبور سمجھیں گے ہاں ! بلاریب ہم یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ وہ خود انسانیت سے محروم تھے اس لئے انسان کی ان بےپناہ خوبیوں اور بےانداز کمالات سے قطعا بیخبر تھے اس لئے جب کبھی بھی کسی نبی نے اپنی قوم کو دعوت حق دی تو قوم کے رئیسوں نے اپنی قوم کی توجہ اس بات کی طرف مبذول کرائی کہ یہ تو انسان ہے اور انسان کبھی رسول نہیں ہو سکتا اور لوگوں نے اپنی سادگی کے باعث ان کی اس بات کو ہمیشہ قبول کیا لیکن افسوس کہ اس وقت قوم کے سیاسی سرداروں کی جو حالت تھی آج قوم کے مذہبی راہنماؤں کی وہ حالت نظر آرہی ہے اس لئے اس کا فیصلہ تم خود کرلو کہ اس وقت کے حالات کو مدنظر رکھ کر ہم ترقی کی طرف گامزن ہیں یا تنزلی کی طرف اور یہ تو آپ کو معلوم ہی ہے کہ وہ ایسا کہہ کر پکے کافر تھے اور ہم یہ کہہ کر پکے مسلمان ۔ انہوں نے قوم کے لوگوں کو یہ باور کرایا کہ ” اگر اللہ کو کوئی ایسی بات منظور ہوتی تو کیا وہ فرشتے نہ اتار دتیا ؟ “ ان کے اس سوال کا جواب دوسری جگہ خود قرآن کریم نے دے دیا جہاں ارشاد فرمایا اے پیغمبر اسلام ! ﷺ کہہ دے اگر ایسا ہوا ہوتا کہ زمین میں انسانوں کی جگہ فرشتے بسے ہوتے اور اطمینان سے چلتے پھرتے تو ہم ضرور آسمان سے ایک فرشتہ پیغمبر بنا کر اتار دیتے ۔ “ (بنی اسرائیل 17 : 95) اگر کوئی شیشے کو دیکھے تو کیا نظر آتا ہے ؟ ظاہر ہے کہ وہ اپنا منہ ہی دیکھتا ہے پھر وہ شخص شیشہ کو دیکھ کر منہ چڑھائے وہ کس پر منہ چڑھاتا ہے ؟ اپنے منہ پر کیوں ؟ اس لئے کہ برے کو برا ہی منہ دکھائی دیتا ہے یہی حال سیدنا نوح (علیہ السلام) کی قوم کے سرداروں کا تھا اور یہی حال آج کل کے سرداروں کا ہے ۔ قرآن کریم ہم کو بتاتا ہے کہ انہوں نے دوسرا ہتھیار انبیاء کرام کے خلاف جو استعمال کیا ہے وہ یہ تھا کہ یہ خود بڑا بننا چاہتے ہیں ۔ انہیں اقتدار کی ہوس ہے ؟ کیا ان کے دل اس بات کا یقین رکھتے تھے ؟ ہرگز نہیں ! یہ ان کا محض جھوٹا پروپیگنڈا تھا اور اس طرح وہ محض اپنی دنیاوی جاہ و حشمت کے تحفظ کے لئے ایسا بےبنیاد الزام لگاتے تھے ، بہرحال وجہ کچھ بھی ہو انہوں نے یہ بےبنیاد الزام سیدنا نوح (علیہ السلام) پر لگایا اور اہل غرض کا یہ دیرینہ حربہ ہے جو وہ اہل حق کے خلاف استعمال کرتے رہے ہیں اور بلاشبہ اب بھی کرتے ہیں اور اس وقت تک یہ لوگ ایسا کرتے رہیں گے جب تک عوام کی وہ آنکھ پوری طرح نہ کھل جائے جو نیک وبد ‘ مصلح ومفسر اور مخلص وخود غرضی میں امتیاز کرسکے اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم مسلمانوں کو ایسی آنکھ عطا فرما دے ۔
Ayah 23:25

اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ فَتَرَبَّصُوْا بِهٖ حَتّٰى حِیْنٍ Open ayah 23:25 in the Quran reader

کچھ نہیں ، یہ پاگل ہوگیا ہے پس کچھ دنوں تک انتظار کر کے دیکھ لو اس کا انجام کیا ہوتا ہے

سیدنا نوح (علیہ السلام) کی قوم کے سرداروں نے سیدنا نوح (علیہ السلام) پر جنون کا الزام لگایا : 25۔ سیدنا نوح (علیہ السلام) کی قوم کے لیڈروں اور مذہبی راہنماؤں نے اپنے عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی تھی کہ یہ شخص جو یہ دعوی کرتا ہے کہ اس کے پاس رب کریم کی طرف سے کوئی فرشتہ وحی لے کر آتا ہے تو تم اس کے اس رعب میں مت آؤ یہ محض ایک قسم کا خلل دماغ ہے جس کے باعث یہ اس طرح کی باتیں کرتا ہے ، شاید ہی کوئی نبی ہو جس پر قوم نے یہ الزام نہ دیا ہو کہ اس کو کسی کی مار لگ گئی ہے ؟ پاگل ہوگیا ہے ؟ غور کیجئے کہ قوموں نے انبیاء کرام (علیہ السلام) پر یہ الزام کیوں لگایا ؟ اس لئے کہ وہ کہتے تھے یہ عجیب و غریب باتیں جو آج تک نہ ہم نے سنیں اور نہ ہمارے آباء و اجداد نے سنیں ہم ہی میں سے اٹھ کر جو اس نے کہنا شروع کردی ہیں تو یقینا یہ کوئی جناتی اثر کا نتیجہ ہے ورنہ جس کے ہوش و حواس درست ہوں وہ کبھی اس طرح کی بےبنیاد باتیں کرتا ہے ؟ آخر سارے لوگ غلط ہوگئے اور یہ ایک ہی صحیح ہے ؟ پھر تعجب کی بات تو یہ ہوئی کہ ہے بھی چٹا ان پڑھ اگر یہ کچھ پڑھا لکھا ہوتا تو یہ سارے پڑھے لکھے بھی وہی کہتے جو یہ کہتا ۔ یہی ان کی سب سے بڑی اور وزنی دلیل تھی جو انہوں نے نوح (علیہ السلام) کے خلاف استعمال کی اور یہی وہ دلیل ہے جو سارے انبیاء کرام (علیہ السلام) کے خلاف استعمال کی گئی اور یہی وہ دلیل ہے جو آج بھی ہمارے نام کی مولاناؤں اور علامہ حضرات کو استعمال کرنا آتی ہے اور یہی وہ الزام ہے جو دلائل کے مقابلہ میں آج بھی لگایا جاتا ہے ۔ آخر الکلام انہوں نے قوم کے عوام سے جو کہا وہ یہ تھا کہ اس کی باتوں میں مت آؤ کچھ دیر انتظار کرو حقیقت حال خود بخود تم پر واضح ہوجائے گی ، عوام کے لئے یہ ضابطہ قوم کے مذہبی راہنماؤں نے ہمیشہ قائم رکھا کہ جب تم اس کی بات پر کان ہی نہیں دھرو گے تو یہ اپنی موت آپ مر جائے گا یہ سرپھرا ہے اس کی باتوں میں نہ آؤ ۔
Ayah 23:26

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا كَذَّبُوْنِ Open ayah 23:26 in the Quran reader

اور پھر نوح (علیہ السلام) نے دعا مانگی اے اللہ ! انہوں نے مجھے جھٹلایا ہے تو میری مدد فرما

سیدنا نوح (علیہ السلام) کا قوم کے خلاف اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرنا : 26۔ ” سیدنا نوح (علیہ السلام) نے دعا مانگی اے اللہ ! اے میرے رب ! انہوں نے مجھے جھٹلایا ہے تو ہی میری مدد فرما “ معلوم ہوا کہ سیدنا نوح (علیہ السلام) کی مخالفت میں قوم کے لوگ پوری طرح بپھر گئے تھے اور آپ پر پل پڑنے کے لئے ہر وقت تیار تھے ۔ سیدنا نوح (علیہ السلام) کی اس دعا کا تفصیلی ذکر سورة نوح میں آئے گا اور ہم نے اس سے پہلے سیدنا نوح (علیہ السلام) کی مختصر سرگزشت کے عنوان کے تحت سورة ہود میں بھی ذکر کردیا ہے وہاں سے ملاحظہ فرما لیں ۔
Ayah 23:27

فَاَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِ اَنِ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا فَاِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوْرُ١ۙ فَاسْلُكْ فِیْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْهِ الْقَوْلُ مِنْهُمْ١ۚ وَ لَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 23:27 in the Quran reader

پس ہم نے نوح (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی کہ ہماری نگرانی میں اور ہماری وحی کے مطابق ایک کشتی بنا پھر جب ہمارے حکم کا وقت آجائے اور تنور ابل پڑے تو کشتی میں ہر جانور کے دو جوڑے ساتھ لے لے اور اپنے گھر والوں کو بھی مگر گھر کے ایسے آدمی کو نہیں جس کے لیے پہلے فیصلہ ہوچکا اور دیکھ ! جن لوگوں نے ظلم کیا ہے ان کے بارے میں ہم سے کچھ عرض معروض نہ کیجیو وہ یقینا ڈوب کر رہیں گے

سیدنا نوح (علیہ السلام) کو کشتی تیار کرنے کا حکم اور مخالفین کی ہلاکت کی اطلاع : 27۔ سیدنا نوح (علیہ السلام) نے ایک لمبے عرصے تک قوم کی مخالفت کو برداشت کیا اور برابر ان کو وعظ ونصیحت کرتے رہے لیکن قوم کے لوگ بھی نہایت حد تک ڈھیٹ تھے انہوں نے بھی آپ کی ایک نہ سنی اور حالات اس قدر بگڑ گئے کہ وہ سیدنا نوح (علیہ السلام) کو دیکھتے تو آپ سے پردہ کرلیتے تاکہ وہ نظر ہی نہ آئیں انجام کار سیدنا نوح (علیہ السلام) کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور آپ نے اللہ سے ان کی ہلاکت طلب کی اس لئے کہ آپ کو ان کے انجام کے متعلق آگاہ کردیا گیا تھا اللہ تعالیٰ نے اپنے قانون مشیت کے مطابق جب انکی ہلاکت کا وقت قریب آیا تو سیدنا نوح (علیہ السلام) کو ہدایت دی کہ آپ ایک بہت بڑی کشتی تیار کریں جس میں آپ اور آپ کے ماننے والے اپنی ضرورت کی اشیاء یہاں تک کہ ضرورت کے حیوانات کا جوڑا جوڑا بھی سوار کرسکیں ‘ کشتی کیا تھی بلکہ پانی کا جہاز ہی تھا ۔ سیدنا نوح (علیہ السلام) نے کشتی بنانا شروع کردی اور اپنے لوگوں کو ساتھ ملا کر ایک عرصہ دراز تک اس کی تیاری میں مصروف رہے ۔ قرآن کریم نے اس کشتی کی تیاری کے متعلق جو الفاظ ارشاد فرمائے وہ یہ ہیں (باعیننا ووحینا) جس کا مطلب ہے کہ ہمارے بتائے ہوئے طریقہ اور ہماری دی گئی ہدایات کے مطابق اس کو تیار کرو ۔ اس طرح یہ بات تفہیم فرما دی کہ ایک سچے مسلم و مومن کو جو جو نئی ایجاد کرنے کی توفیق ملے اور وہ ایجاد کرے تو وہ چونکہ خداداد عقل ہی سے اس کو ایجاد کرے گا اس لئے اس کو اپنا نہیں بلکہ اس عقل وفکر دینے والے اللہ کا شکر گزار ہوتے ہوئے اپنی ایجاد کو اللہ تعالیٰ کی طرف ہی منسوب کرنا چاہئے کیونکہ وہ جو کچھ کر پایا ہے وہ اللہ ہی کے فضل سے کر پایا ہے اور نیز یہ بھی کہ نئی نئی ایجادات کا دروازہ اس کے لئے کھلا ہے اور مسلمانوں کو اس معاملہ میں آگے بڑھ کر دوسری اقوام کے مقابلہ میں اتنی ترقی حاصل کرنا چاہئے کہ دوسری اقوام ان کی دست نگر ہوں اور اپنی قومی برتری کا سکہ ان سے منوائیں اور ایجادات میں ان سے آگے بڑھنے کی کوشش کریں بلکہ آگے نکلنا اپنا فرض منصبی سمجھیں ، لیکن افسوس کہ ہمارے مفسرین نے اس معاملہ میں قوم کو مثبت راہ دکھانے کی بجائے منفی راہ دکھائی اور زمانہ کی سائنسی ایجادات سے قوم کو اتنا پیچھے لے گئے کہ اب ان کے آگے بڑھنے کی کوئی صورت ہی نظر نہیں آتی ۔ بہرحال جب کشتی تیار ہوگئی اور (جآء امرنا) یعنی عذاب الہی کا حکم آگیا اور اس کا نشان واضح طور (وفارالتنور) کا بتا دیا گیا اور نشان کے ظاہر ہوتے ہی کشتی پر سوار ہونے اور ضرورت کی چیزوں کو سوار کرنے کا حکم دے دیا گیا اور یہ بات بھی پوری وضاحت سے سمجھا دی کہ اپنے ان لوگوں کو جو تیری تعلیمات کے مطابق عمل پیرا ہیں اپنے ساتھ سوار کرلو لیکن ان لوگوں کے متعلق جو آپ کی دی گئی تعلیمات کا خلاف کر رہے ہیں خواہ وہ آپ کے کتنے ہی قریبی ہوں مجھ سے بات نہ کرنا کیونکہ ان کو بھی دوسرے مخالفین کے ساتھ ہی ہلاک کردیا جانا ہے گویا یہ ہماری طرف سے فیصلہ ہوچکا ہے اور جو فیصلہ ہم کردیں اس کے خلاف ہم نہ کرتے ہیں اور نہ ہونے دیتے ہیں ۔
Ayah 23:28

فَاِذَا اسْتَوَیْتَ اَنْتَ وَ مَنْ مَّعَكَ عَلَى الْفُلْكِ فَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ نَجّٰىنَا مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:28 in the Quran reader

اور جب تو اپنے ساتھیوں کے ساتھ کشتی میں سوار ہوجائے تو اس وقت تیری زبان سے یہ صدا اٹھے ساری ستائشیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں ظالم قوم سے نجات دی

جب تم کشتی پر سوار ہوگئے تو بس نجات پاگئے اب حمد الہی کا ترانہ گاؤ : 28۔ کشتی پر سوار ہونے سے پہلے ہی سیدنا نوح (علیہ السلام) کو بتادیا گیا کہ جب تم اور تمہارے ساتھی اور تمہاری ضرورت کی اشیاء وجانور اور چوپائے سوار ہوجائیں تو سمجھ لو کہ جو کشتی میں داخل ہوگئے اس عذاب الہی سے نجات پا گئے گویا وہی بچ سکیں گے جو کشتی پر سوار ہوں گے ‘ یہ بات اتنی وضاحت سے کیوں ارشاد فرمائی ؟ اس لئے کہ حالات کا تقاضا یہ تھا کہ اگر پانی امڈ آیا تو باقی لوگوں میں سے کچھ بچے گا یا نہیں لیکن کشتی والوں کی غرقابی یقینی ہے ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ یہ سارا علاقہ پہاڑی علاقہ ہے اور کشتی پانی پر تیرتی ہوئی پانی کے زور ہی سے کسی نہ کسی پہاڑ کے ساتھ ٹکڑا کر پاش پاش ہوجائے گی ایسا نہیں ہو سکتا کہ کشتی پر سوار ہونے والے بچ جائیں اس لئے رب ذوالجلال والاکرام نے سیدنا نوح (علیہ السلام) کو پوری وضاحت سے یقین دلا دیا کہ ایسا نہیں ہوگا جیسا کہ حالات کا ظاہری تقاضا آپ کو اور دوسروں لوگوں کو نظر آتا ہے اس لئے کہ اس کشتی پر سوار ہونے کا حکم ہم دے رہے ہیں اور اس پانی کو امڈ آنے کا حکم بھی ہمارا ہے لہذا ہمارے حکم سے نہ کشتی باہر ہے اور نہ ہی یہ سیلاب جب ہم ایک بات کا اعلان کر رہے ہیں تو ایسا کیونکر ہوسکتا ہے کہ ہمارے اعلان کے خلاف ہوجائے اس طرح سیدنا نوح (علیہ السلام) کو پوری یقین دہانی کرائی گئی اور حکم دیا گیا کہ جب تم کشتی پر سوار ہوجاؤ تو اللہ تعالیٰ کی تعریفات کے گیت گاؤ جس نے تم کو ظالموں کے پنچہ استبداد سے نجات عطا فرما دی اور اچھی طرح سمجھ لو کہ جب وہ کسی کو نجات دینا چاہتا ہے تو اس طرح اس کا ہاتھ ظاہر ہو کر مخالفین کا گلا دبا دیتا ہے اس لئے کہا جاتا ہے کہ ” خدا کی لاٹھی میں آواز نہیں ہوتی “ پتہ تب چلتا ہے جب ظالموں کے سر قلم ہوجاتے ہیں ۔
Ayah 23:29

وَ قُلْ رَّبِّ اَنْزِلْنِیْ مُنْزَلًا مُّبٰرَكًا وَّ اَنْتَ خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ Open ayah 23:29 in the Quran reader

نیز یہ بھی دعا مانگیو کہ اے اللہ اب مجھے زمین پر اس طرح اتار کہ برکت کا اترنا ہو اور تو سب سے بہتر جگہ دینے والا ہے

قوم کا کام تمام ہونے کے بعد کشتی کے ایک جگہ رکنے پر اترنے کی دعا : 29۔ کشتی پر بیٹھتے وقت ہی اترنے کی دعا بھی سکھا دی گئی تاکہ اس بات کی مزید یقین دہانی ہوجائے کہ جس کشتی پر ہم سوار ہو رہے ہیں اس پر سے انشاء اللہ بخیر و خوبی ہم اتر جائیں گے یہ بالکل اسی طرح کی دعا ہے جس طرح کی دعا ہمارے نبی اعظم وآخر ﷺ کو سکھائی گئی تھی جب آپ ﷺ کو ہجرت کا حکم دیا گیا تھا جس کا ذکر پیچھے سورة بنی اسرائیل کی آیت 80 میں گزر چکا (مبارکا) یعنی ہمارا اترنا دونوں جہانوں میں خیروبرکت کا باعث ہو گھر میں داخل ہوتے وقت بھی اور ہر نئی جگہ اترتے وقت بھی یہ دعا پڑھنے کا حکم نبی کریم ﷺ نے دیا اور بعض صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے مسجد میں داخل ہوتے وقت اس دعا کا پڑھنا بھی ثابت ہے ، قرآن کریم کی دعاؤں کا مضمون ویسے بھی بہت پیارا ہے اور خود اللہ رب العزت کی سکھائی ہوئی ہیں اس لئے بلاشبہ قرآن کریم کی سب دعائیں ہی مبارک ہیں۔
Ayah 23:30

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ وَّ اِنْ كُنَّا لَمُبْتَلِیْنَ Open ayah 23:30 in the Quran reader

بلاشبہ اس واقعہ میں بڑی ہی نشانیاں ہیں یہاں ضرور ایسا ہوتا ہے کہ ہم لوگوں کو آزمائش میں ڈالیں

سرگزشت کے اصلی مدعا کی طرف اشارہ فرما دیا گیا : 30۔ بلاشبہ اس سارے واقعہ میں بہت سی نشانیاں اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت کی پوشیدہ ہیں ، سب سے واضح نشانی تو اس سے یہ سامنے آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس دنیا کو پیدا کرکے اس سے بےتعلق نہیں ہوگیا بلکہ اس نے خلق کی اصلاح وہدایت کے لئے اپنے رسول بھیجے اور دوسری نشانی یہ واضح ہوتی ہے کہ جو لوگ رسول کی مخالفت اور اس کی تکذیب کے درپے ہوتے ہیں ایک حد خاص تک اللہ تعالیٰ ان کو ڈھیل دیتا ہے لیکن بالاخر ان کو پکڑ لیا جاتا ہے اور جب پکڑ لیا جاتا ہے تو پھر کوئی ان کو چھڑانے والا نہیں ہوتا تیسری نشانی یہ آشکارا ہوگئی کہ حق و باطل کی کشمکش میں فوز و فلاح رسول ﷺ اور اس کے ساتھیوں ہی کو حاصل ہوتی ہے البتہ اس فوز و فلاح سے پہلے انہی آزمائش کے ایک دور سے گزرنا پڑتا ہے ” یہاں ضروری ہے کہ ہم لوگوں کو آزمائش میں ڈالیں “ کے ارشاد کا اس طرف اشارہ ہے اور چوتھی نشانی یہ معلوم ہوئی کہ جس طرح رسولوں کی دعوت ہمیشہ سے ایک ہی رہی ہے اس طرح ان کے مخالفین کی مخالفت اور ضد بھی ہمیشہ ایک ہی انداز سے ہوتی رہی ہے اس لئے ہر رسول کی زندگی دوسرے رسولوں کے لئے اور ہر امت کی سرگزشت دوسری امت کے لئے ایک مستقل درس عبرت رہا ہے اور آج ہمارے لئے گزشتہ ساری اقوام کی سرگزشتیں درس عبرت پیش کر رہی ہیں بشرطیکہ کوئی ان سے درس عبرت لینے کے لئے تیار بھی ہو ۔
Ayah 23:31

ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَۚ Open ayah 23:31 in the Quran reader

پھر ہم نے قوم نوح کے بعد قوموں کا ایک دوسرا دور پیدا کر دیا

یہاں مجمل طور پر دوسری قوموں کی سرگزشتوں کی طرف اشارہ کردیا گیا : 31۔ (قرن) سے مراد ایک دور کے لوگ ہوتے ہیں اور عام طور پر اس سے مراد ایک صدی لی جاتی ہے لیکن دراصل مراد اس سے ایک قوم یا ایک امت ہی ہوتی ہے کیونکہ ایک امت کے بعد ہی دوسری کا دور شروع ہوتا ہے اور عام طور پر ایک صدی کے بعد کوئی شاذ آدمی ہی باقی رہ جاتا ہے اور صدی مراد لینے والوں کے پاس یہی اس کی دلیل ہے ۔ اس جگہ مراد اس سے عاد قوم اور ثمود قوم ہی ہو سکتی ہے جن کا ذکر اکثر مقامات پر قرآن کریم نے کیا ہے اور آنے والی آیت بھی اس کی طرف اشارہ کر رہی ہے ۔
Ayah 23:32

فَاَرْسَلْنَا فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 23:32 in the Quran reader

ان میں بھی اپنا رسول بھیجا جو خود انہی میں سے تھا کہ اللہ کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں کیا تم ڈرتے نہیں ؟

عاد قوم اور ثمود قوم کے رسولوں نے بھی توحید کا درس ہی دیا تھا : 32۔ قوم عاد کی طرف اللہ تعالیٰ نے ہود (علیہ السلام) کو اور قوم ثمود کی طرف صالح (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھیجا جن کا ذکر سورة الاعراف اور سورة ہود میں تفصیل کے ساتھ کیا گیا اور ان دونوں رسولوں کی مختصر سرگزشتیں بھی سورة ہود میں گزر چکی ہیں اور اس جگہ بھی ان کے توحید کے درس کے متعلق اشارہ کیا گیا اور بتایا گیا کہ انہوں نے اپنی اپنی قوم کو ڈرانے کی پوری کوشش کی لیکن قوم کے سرداروں نے ان کی ایک نہ مانی اور انجام کار انکو اللہ تعالیٰ کے عذاب نے آلیا جس کے نتیجہ میں سب ہلاک ہو کر رہ گئے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور ان پر ایمان لانے والوں کو بچایا اور یہی اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی سنت ہے اور ظاہر ہے کہ سنت اللہ کبھی تبدیل نہیں ہوتی ۔
Ayah 23:33

وَ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ الْاٰخِرَةِ وَ اَتْرَفْنٰهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۙ یَاْكُلُ مِمَّا تَاْكُلُوْنَ مِنْهُ وَ یَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُوْنَ۪ۙ Open ayah 23:33 in the Quran reader

قوم کے جن سرداروں نے کفر کی راہ اختیار کی تھی اور آخرت کے پیش آنے سے منکر تھے اور جنہیں دنیا کی زندگی میں ہم نے آسودگی دے رکھی تھی کہنے لگے اس سے زیادہ اس کی کیا حیثیت ہے کہ تمہارے ہی جیسا ایک آدمی ہے ؟ جو کچھ تم کھاتے ہو یہ بھی کھاتا ہے ، جو کچھ تم پیتے ہو یہ بھی پیتا ہے

ساری کافر قوموں نے ایک ہی جیسا سوال اٹھایا کہ کبھی بشر رسول نہیں ہوسکتا : 33۔ آدم (علیہ السلام) کے بعد جتنے رسولوں کا نام لے کر ذکر کیا اور جن کا بغیر نام کے ذکر ہوا سب کے متعلق یہ بیان کیا گیا کہ ہر رسول کی قوم نے رسول کو ماننے سے اس لئے انکار کیا کہ انہوں نے رسول کو بشر و انسان پایا اور سب سے پہلا اعتراض ان کا یہی تھا کہ تم آخر ہو کیا ؟ ایک بشر ہی تو ہو پھر ہم بھی بشر اور تم بھی بشر اس لئے ہم تمہاری رسالت کو کیونکر قبول کرلیں جب کہ ہم اپنے آباؤ اجداد سے سنتے آرہے ہیں کہ رسول کبھی بشر نہیں ہوتا ۔ سورة بنی اسرائیل میں ان میں سے بعض کا یہ اعتراض بھی نقل کیا جا چکا ہے کہ یہ تو کھاتا ہے جیسے ہم کھاتے ہیں اور پیتا ہے جیسے ہم سب پیتے ہیں اور بازاروں میں سودا سلف خریدنے لئے جاتا ہے جیسے ہم جاتے ہیں ۔ یہ تو اسی طرح پیدا ہوا جیسے ہم سب پیدا ہوئے ہیں پھر آخر ہم اس کو رسول مانیں تو کیسے ؟ یہاں بھی انہی سوالوں میں سے دو سوالوں کا ذکر کیا گیا کہ یہ بشر بھی ہے اور ہماری طرح کھاتا پیتا بھی ہے ، چونکہ ان ساری باتوں کی تفصیل پیچھے سورة ہود آیت 27 ‘ سورة یوسف آیت 31 ‘ سورة الحجر آیت 28 ‘ سورة بنی اسرائیل آیت 93 ‘ 94 سورة مریم آیت 17 میں گزر چکی ہے ۔ اس لئے وہیں سے کسی مقام کو ملاحظہ فرما لیں ۔ ہاں ! رہی یہ بات کہ بار بار اس کا ذکر کیوں کیا گیا ؟ محض اس لئے کہ نبی اعظم وآخر ﷺ کو دیکھ کر بھی کفار مکہ نے یہی اعتراض کیا تھا اس لئے بار بار آپ ﷺ کو بتایا گیا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہر نبی کو ایسا کہا گیا ہے لہذا آپ ﷺ اپنا کام کئے جائیں لیکن افسوس کہ آج بھی اکثریت سارے نبیوں ‘ رسولوں کے متعلق اور خصوصا نبی کریم ﷺ کے متعلق یہی نظریہ رکھتی ہے کہ وہ بشر نہیں تھے بلکہ بشر کہنے اور ماننے والوں کو طرح طرح سے مطعون کیا جاتا ہے اور ان کے خلاف عوام کالانعام کو اسی طرح بھڑکایا جاتا ہے جیسا کہ اس وقت انبیاء ورسل کے خلاف وہ لوگ بھڑکاتے تھے اس کی وضاحت بھی گزشتہ مقامات پر گزر چکی ہے جس کا حوالہ اوپر دیا جا چکا ہے ۔
Ayah 23:34

وَ لَئِنْ اَطَعْتُمْ بَشَرًا مِّثْلَكُمْ اِنَّكُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَۙ Open ayah 23:34 in the Quran reader

اگر تم نے اپنے ہی جیسے آدمی کی اطاعت کرلی (جو تمہاری طرح کھاتا پیتا ہے) تو بس سمجھ لو کہ تم تباہ ہوئے

سارے انبیاء ورسل کی اطاعت سے اس بات کے پیش نظر روکا گیا : 34۔ قرآن کریم نے بتایا کہ گزشتہ قوموں کے لیڈروں اور بعض مذہبی راہنماؤں نے عوام کو بھڑکانے کے لئے جو جذباتی حربے اختیار کئے ان میں سے یہ سب سے بڑا اور اہم حربہ تھا کہ انہوں نے اپنے اپنے زمانہ کے رسول ونبی کی مخالفت میں اپنے عوام کو اسی طرح بھڑکایا کہ تم بڑے عجیب لوگ ہو کہ ایک بشر کو رسول ماننے لگے معلوم نہیں یہ شخص تم کو تمہارے باپ دادا کے دین سے دور کر رہا ہے کیا تمہارے باپ دادا سب غلط ہی تھے ؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو ایک بار اچھے بھلے لوگوں کو ہلا کر رکھ دیتا ہے اور وہ اپنے باپ دادا کی حمایت میں فورا اٹھ کھڑے ہوتے ہیں ۔ یہ ہر قوم کے مذہبی راہنمائی اور سیاسی لیڈر استعمال کرتے نظر آتے ہیں کیوں ؟ اس لئے کہ ان کی لیڈری اور راہنمائی عوام کے بل بوتے پر قائم ہے اور وہ کبھی اپنی لیڈری اور رہنمائی کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں لہذا وہ اسی میں نجات سمجھتے ہیں کہ لوگوں کو سوچنے اور سمجھنے کا موقع ہی نہ دیا جائے کہ اگر یہ لوگ سوچنے اور سمجھنے لگے تو ہمارا سارا کیا کرایا خراب ہوجائے گا ۔
Ayah 23:35

اَیَعِدُكُمْ اَنَّكُمْ اِذَا مِتُّمْ وَ كُنْتُمْ تُرَابًا وَّ عِظَامًا اَنَّكُمْ مُّخْرَجُوْنَ۪ۙ Open ayah 23:35 in the Quran reader

تم سنتے ہو یہ کیا کہتا ہے ؟ یہ تمہیں امید دلاتا ہے کہ جب مرنے کے بعد محض مٹی اور ہڈیوں کا چورا ہوجائے گا تو پھر تمہیں موت سے نکالا جائے گا

ساری قوموں کا ایک تیسرا سوال کہ کیا تم کو یہ دوبارہ اٹھائے جانے کی خبر دیتے ہیں : 35۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے منتخب کئے جانے والے ہر نبی ورسول نے قوم کو یہ درس بھی دیا کہ اس موجوددنیوی زندگی کے بعد دوبارہ تم کو ایک زندگی عطا کی جائے گی جس زندگی میں تم کو اس دنیوی زندگی کے کسب وکمائی کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ، قوم کے لیڈروں اور مذہبی راہنماؤں کی اکثریت ہمیشہ اس نظریہ و عقیدہ کے خلاف رہی اور محض اس لئے رہی کہ ان کا کسب اور ان کی دنیوی زندگی کی کمائی ان کی اپنی نظروں کے سامنے تھی لیکن وہ اس کے باوجود دنیا میں ٹھاٹ باٹھ سے رہ رہے تھے اور دنیا کی ہو ہوا میں مصروف تھے انہوں نے اس کے پیش نظر اس عقیدہ کو قبول کرنے سے ہمیشہ انکار کیا کہ اگر ان کی ساری بداعتدالیوں کے باوجود دنیا میں ہر طرح کا عیش و آرام دیئے گئے ہیں تو آخرت اگر کوئی ہوگی تو بھی تو اس میں وہ یہ سب کچھ کیوں نہیں دیئے جائیں گے ، اس طرح وہ اپنے رسول اور نبی کی مخالفت میں اکثر یہاں تک کہہ دیتے کہ یہ جو تم نے آخرت کی رٹ لگا رکھی ہے اور بار بار اٹھائے جانے اور دوبارہ زندہ کیے جانے کا ذکر تم کرتے ہو اگر یہ صحیح ہے تو تم ہمارے مرے ہوؤں میں سے کسی کو زندہ کر کیوں نہیں لاتے ؟ اچھا اگر تم کو زندہ نہیں کرنا تو تمہارے خدا تو کرنا ہے اس سے کہو کہ وہ ہمارے بررگوں کو دوبارہ پیدا کر دے اور وہ ہم کو آکر بتادیں جو ان کے ساتھ گزری ؟ اگر نہیں تو پھر چھوڑو اس نظریہ کو جس کا سر ہے نہ پیر اور مان لو ہماری بات کہ جو ہڈیاں اور مٹی ہوگیا وہ کبھی دوبارہ نہیں اٹھایا جاسکتا اور نہ ہی اٹھایا جائے گا یہ محض تمہارا جنون ہے اس کے سوا کچھ بھی نہیں۔
Ayah 23:36

هَیْهَاتَ هَیْهَاتَ لِمَا تُوْعَدُوْنَ۪ۙ Open ayah 23:36 in the Quran reader

کیسی انہونی بات ہے ، کیسی انہونی بات ہے جس کی تمہیں توقع دلاتا ہے

یہ بعید از عقل باتیں جو تمہارا رسول تم سے بیان کرتا ہے : 36۔ (ھیھات) کلمات تعجب میں سے ایک کلمہ ہے جو تعجب کو دور کرنے کے لئے از راہ نفرت و حقارت استعمال کیا جاتا ہے جیسے ہمارے ہاں کہا جاتا ہے کہ ” چھوڑو یار ایسی باتوں کو جن کا سر ہے نہ پیر “ گویا وہ اس تعجب وحیرت کو دور کرنے کے لئے کہتے ہیں کہ یہ شخص تم کو اس بات سے ڈراتا ہے کہ تم مر کر مٹی اور ہڈیاں بن جانے کے بعد دوبارہ از سر نو زندہ کرکے نکالے جاؤ گے یہ ڈراوے جو تم کو دے رہا ہے یہ نہایت ہی بعید از عقل اور بعید از امکان بات ہے جو اس نے اپنی جنون کے باعث تم سے کہی ہے بھلا کبھی ایسا بھی ہو سکتا ہے کوئی جا کر آیا بھی ہے یہ تو محض اپنے جال میں پھنسانے کے لئے اس کی گھڑی ہوئی باتیں ہیں ۔
Ayah 23:37

اِنْ هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ۪ۙ Open ayah 23:37 in the Quran reader

زندگی تو بس یہی زندگی ہے جو دنیا میں ہم بسر کرتے ہیں ، یہیں مرتے ہیں یہیں جیتے ہیں ، ایسا کبھی ہونے والا نہیں کہ مر کر پھر جی اٹھیں

زندگی بس یہی زندگی ہے دوبارہ اٹھائے جانے کی بات فضول ہے : 37۔ منکرین قیامت کا یہ جملہ قرآن کریم میں بار بار دہرایا گیا ہے کہ زندگی تو بس یہی دنیا کی زندگی ہے یہی ہم مرتے ہیں اور یہیں جیتے ہیں یعنی پہلے مرتے جاتے ہیں اور نئے پیدا ہوتے جاتے ہیں اور مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کا کوئی امکان نہیں ۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ پرانے مکذبین قیامت ہوں یا نئے دونوں ہی قیامت کا انکار کسی دلیل کی بنیاد پر نہیں کیا بلکہ مجرد اس کے استبعاد کی بنا پر کیا ہے حالانکہ اس سے ہزاروں درجہ مست بعد چیزوں کو وہ اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں ‘ سب کو چھوڑو کیا وہ اپنی زندگی کا راز معلوم کرچکے ہیں کہ وہ کیا ہے اور کیسے ہے ؟ وہ جس شکل و صورت میں ہیں کیا اپنی مرضی سے انہوں نے یہ پسند کی تھی ؟ کیا انکو کبھی اپنا بچپن یاد نہیں آیا کہ وہ کیا تھا ؟ کیا انہوں نے اپنی جوانی پر کبھی غور نہیں کیا کہ وہ کس طرح مستانی تھی ؟ کیا ان کو اپنا شباب یاد ہے ؟ آخر وہ اس کو باقی کیوں نہیں رکھ سکے اور شباب سے شیب کی طرف کس طرح منتقل ہوگئے ؟ کیا یہ ساری باتیں مست بعد نہیں تھیں ؟ پھر انہوں نے ان کو کیونکر مان لیا ؟ ” یہ لوگ کہتے ہیں کہ زندگی بس یہی ہماری دنیا کی زندگی ہے یہی ہمارا مرنا اور جینا ہے اور گردش ایام کے سوا کوئی چیز نہیں جو ہمیں ہلاک کرتی ہو ۔ درحقیقت اس معاملہ میں کوئی عمل نہیں ہے یہ محض گمان کی بنا پر یہ باتیں کرتے ہیں ۔ “ (الجاثیہ 45 : 24) بلاشبہ کوئی ذریعہ علم ایسا نہیں ہے جس سے انکو بتحقیق یہ معلوم ہوگیا ہو کہ اس زندگی کے بعد انسان کے لئے کوئی دوسری زندگی نہیں ہے اور یہ بات بھی انہیں معلوم ہوگئی ہو کہ انسان کی روح اللہ کے حکم سے قبض نہیں کی جاتی ہے بلکہ آدمی محض گردش ایام سے مر کر فنا ہوجاتا ہے ۔ منکرین آخرت یہ باتیں کسی علم کی بنا پر نہیں بلکہ محض گمان کی بنا پر کرتے ہیں ۔ علمی حیثیت سے اگر وہ بات کریں تو زیادہ سے زیادہ جو کچھ کہہ سکتے ہیں وہ بس یہ ہے کہ ” ہم نہیں جانتے کہ مرنے کے بعد کوئی زندگی ہے یا نہیں ۔ “ لیکن یہ ہرگز نہیں کہہ سکتے کہ ” ہم جانتے ہیں کہ اس زندگی کے بعد کوئی دوسری زندگی نہیں ہے ۔ “ اس طرح علمی طریقہ پر وہ یہ جاننے کا دعوی نہیں کرسکتے کہ آدمی کی روح اللہ کے حکم سے نہیں نکالی جاتی بلکہ وہ محض اسی طرح مر کر ختم ہوجاتا ہے جیسے ایک گھڑی چلتے چلتے رک جاتی ہے ، زیادہ سے زیادہ وہ جو کہہ سکتے ہیں وہ صرف یہ ہے کہ ہم ان دونوں میں سے کسی کے متعلق یہ نہیں جانتے کہ فی الواقع کی صورت پیش آتی ہے ، اب سوال یہ ہے کہ جب انسانی ذرائع علم کی حد تک زندگی بعد موت کے ہونے یا نہ ہونے اور قبض روح واقع ہونے یا گردش ایام سے آپ ہی آپ مر جانے کا یکساں احتمال ہے تو آخر کیا وجہ ہے کہ یہ لوگ امکان آخرت کو چھوڑ کر حتمی طور پر انکار آخر کے حق میں فیصلہ کر ڈالتے ہیں کیا اس کی وجہ اس کے سوا کچھ اور ہے کہ دراصل اس مسئلہ کا آخری فیصلہ وہ دلیل کی بنا پر نہیں بلکہ اپنی خواہش کی بنا پر کرتے ہیں ؟ چونکہ ان کا دل یہ نہیں چاہتا کہ مرنے کے بعد کوئی زندگی ہو اور موت کی حقیقت نیستی اور عدم نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قبض روح ہو اس لئے وہ اپنے دل کی مانگ کو اپنا عقیدہ بنا لیتے ہیں اور دوسری بات کا انکار کردیتے ہیں ۔ ” اور جب ہماری واضح آیات انہیں سنائی جاتی ہیں “ (الجاثیہ 45 : 24) یہ وہ آیات ہیں جن میں آخرت کے امکان پر مضبوط عقلی دلائل دیئے گئے ہیں اور جن میں یہ بتایا گیا ہے کہ اس کا ہونا عین حکمت و انصاف کا تقاضا ہے اور اس کے نہ ہونے سے یہ سارا نظام عالم بےمعنی ہوجاتا ہے ۔ ان دلائل کو سن کر جب لاجواب ہوتے ہیں تو ” ان کے پاس کوئی حجت اس کے سوا نہیں ہوتی کہ اٹھا لاؤ ہمارے باپ دادا کو اگر تم سچے ہو ۔ “ (الجاثیہ 45 : 24) ان کی اس حجت کا مطلب یہ تھا کہ جب کوئی ان سے یہ کہے کہ موت کے بعد دوسری زندگی ہوگی تو اسے لازما قبر سے ایک مردہ اٹھا کر ان کے سامنے لے آنا چاہئے اور اگر ایسا نہ کیا جائے تو وہ یہ نہیں مان سکتے کہ مرے ہوئے انسان کسی وقت از سر نو زندہ کر کے اٹھائے جانے والے ہیں حالانکہ یہ بات سرے سے کسی نے بھی ان سے نہیں کی تھی کہ اس دنیا میں متفرق طور پر وقتا فوقتا مردوں کو دوبارہ زندہ کیا جاتا رہے گا بلکہ جو کچھ کہا گیا تھا وہ یہ تھا کہ قیامت کے بعد اللہ تعالیٰ بیک وقت تمام انسانوں کو از سر نو زندہ کر دے گا اور ان سب کے اعمال کا محاسبہ کرکے جزا اور سزا کا فیصلہ فرمائے گا ۔ یہ دنیا دارالعمل ہے دارالجزاء نہیں یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ ایک آدمی بدکار ہوتے ہوئے عزت و آرام کی زندگی بسر کرتا ہے اور دوسرا آدمی نیک ‘ مخلص اور اپنی قوم کا بلکہ نوع انسانی کا سچا بہی خواہ ہونے کے باوجود عمر بھر طرح طرح کی مصیبتوں اور آزمائشوں میں مبتلا رہتا ہے ۔ اگر موت ہی انسانی زندگی کے قافلہ کی آخری منزل ہوتی تو اس سے بڑی بےانصافی اور کیا ہو سکتی ہے کہ وہ انسان جو نیک اور مخلص ہے وہ عمر بھر کانٹوں پر لوٹتا رہے اور جو بدمعاش اور سفاک ہے وہ داد عیش لیتا رہے ۔ اس صورت میں ان اخلاقی قدروں کو جن سے انسانی عظمت وابستہ ہے کون اپنائے گا ؟ بلکہ کون انہیں اچھا مانے گا ؟ وہ جانباز جو اپنی جوانی اور شباب کی رنگینیوں کو اپنی قوم اور وطن کی آزادی پر قربان کردیتا ہے اس سے تو وہ غدار ہی اچھا ہے جس نے اگر اپنی قوم کی عزت کا سودا دشمن سے کیا لیکن اپنی زندگی آن بان سے گزاری اور اپنی اولاد کے لئے ڈھیروں سونا چاندی اور کالا دھن چھوڑ گیا محض یہ کہہ دینا کہ نیک کام کرنے والے کا نیک نام باقی رہ جاتا ہے اور اس کے ذکر سے تاریخ کے صفحات مزین ہوتے ہیں اور یہی اس کی جانبازی کا صلہ ہے یہ کہنا بھی بہت بڑی زیادتی ہے اللہ تعالیٰ جو عادل و حکیم ہے کم از کم اس کی فرمانروائی میں ایسی دھاندلی قطعا برداشت نہیں اس لئے اس کی حکمت کا یہ تقاضا ہے کہ اس فانی زندگی کے بعد ایک اور زندگی بھی ہو جہاں عدل و انصاف کے سارے تقاضے پورے کئے جائیں نیک اور مخلص لوگوں کو ان کی مخلصانہ جدوجہد کا پورا پورا صلہ دیا جائے اور بدکاروں کو ان کے کرتوتوں کی پوری پوری سزا ملے ، اگر یہ کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ عادل ہے تو اس دنیا ہی میں عدل کا ظہور کیوں نہیں ہوتا ؟ تو اس کے متعلق مختصرا جان لینا چاہئے کہ ہماری اس دنیوی زندگی کا دائرہ اتنا محدود ہے کہ اس میں عدل کے سارے تقاضے پوری صورت میں نمودار نہیں ہوسکتے اور بعض گراں بہا اعمال ایسے بھی ہیں جن کا معاوضہ اس دنیا میں نہیں دیا جاسکتا ، آپ اس نوجوان کو کیا معاوضہ دے سکتے ہیں جس نے اپنی جان حق کے سربلند کرنے کے لئے قربان کردی ہو ؟ انسان اس مسئلہ میں جتنا غور کرتا چلا جائے اس کا عقیدہ آخرت کی زندگی پر زیادہ مستحکم اور استوار ہوتا چلا جائے گا ۔
Ayah 23:38

اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلُ اِ۟فْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا وَّ مَا نَحْنُ لَهٗ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 23:38 in the Quran reader

کچھ نہیں یہ ایک مفتری آدمی ہے جس نے اللہ کے نام سے جھوٹ موٹ بات بنا دی ، ہم کبھی اس پر یقین کرنے والے نہیں

رسول کے متعلق انہوں نے کہا کہ سوائے اس کے کچھ نہیں کہ یہ ایک مفتری ہے : 38۔ ہر نبی ورسول کے زمانہ کے مذہبی راہنماؤں اور سیاسی لیڈروں نے اپنے عوام کو برگشتہ کرنے کے لئے وہ باتیں کہی ہیں جن کا ذکر اوپر کیا جا چکا ہے اور آخرت کی زندگی سے کھلا انکار کیا ہے اور انجام کار اپنی دانش وبینش کا اظہار ان لفظوں ہی میں کیا کہ اگر کوئی شخص اپنی سادہ لوحی کی وجہ سے اس شخص کو رسول باور کرتا ہے تو کیا کرے ہمارے نزدیک تو وہ اللہ پر جھوٹ گھڑنے والا ہے اور اسی جھوٹ کے باعث اس نے یہ کہا ہے کہ اللہ نے مجھے رسول بنا کر مبعوث کیا ہے اس وجہ سے ہم تو اس دعوی کو ہرگز باور کرنے والے نہیں ہیں ، غور کرو کہ ان کے یہ الفاظ کہ ” یہ شخص اللہ کے نام پر محض جھوٹ گھر رہا ہے ۔ “ صاف صاف بتا رہے ہیں کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی ہستی کے منکر نہ تھے بلکہ انکی اصل گمراہی شرک ہی کی تھی اور اسی کے باعث وہ اپنے زمانہ کے رسول کی مخالفت پر کمر بستہ تھے اور اسی مخالفت کے باعث اس پر اعتراض کرتے رہتے تھے جیسا کہ سورة الاعراف کی آیت 70 اور سورة ہود کی آیات 53 ‘ 54 میں ہم بیان کر آئے ہیں ۔
Ayah 23:39

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا كَذَّبُوْنِ Open ayah 23:39 in the Quran reader

اس پر اس رسول نے دعا مانگی اے اللہ ! انہوں نے مجھے جھٹلایا ہے پس تو میری مدد فرما

بارگاہ ایزدی میں پیغمبر کی اپیل کہ اے اللہ ! میری قوم نے مجھے جھٹلایا ہے میری مدد فرما : 39۔ یہ آیت وہی ہے جو اوپر کی آیات میں آیت 26 میں گزر چکی ہے جہاں سیدنا نوح (علیہ السلام) کی زبان مبارک سے یہ الفاظ بیان کئے گئے تھے اس لئے اس کو بطور تشریح و تفسیر یہاں دیکھ لیا جائے تو بہتر ہے تکرار کی ضرورت نہیں فرق ہے تو صرف رسول کے نام کا ہے ۔
Ayah 23:40

قَالَ عَمَّا قَلِیْلٍ لَّیُصْبِحُنَّ نٰدِمِیْنَۚ Open ayah 23:40 in the Quran reader

حکم ہوا عنقریب ایسا ہونے والا ہے کہ یہ اپنے کیے پر شرمسار ہوں گے

بارگاہ ایزدی سے رسول کو جواب کہ عنقریب یہ لوگ نادم ہو کر رہ جائیں گے : 40۔ یہ ندامت وہ ندامت نہیں جس ندامت سے نادم ہونے والے کو کچھ فائدہ پہنچ سکتا ہے بلکہ یہ وہ ندامت ہے جو فرعون کو مرتے وقت ہوئی تھی اور اس نے ڈوبتے ہوئے کہا تھا کہ ” میں یقین کرتا ہوں کہ اس ہستی کے سوا کوئی معبود نہیں جس پر بنی اسرائیل ایمان رکھتے ہیں اور میں بھی اسی کے فرمانبرداروں میں ہوں “ کیا یہ اس کی بات ندامت کی بات نہیں تھی ؟ لیکن اس کو کوئی فائدہ ہوا ؟ بلاشبہ نہیں ہوا اس طرح کی ندامت کا ذکر اس جگہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے فرمایا کہ اے رسول ! اب وعدہ الہی کے ظہور میں زیادہ دیر نہیں ہے اپنی رعونیت پر یہ لوگ بہت جلد پچھتائیں گے اگرچہ ان کو اس پچھتاوے کا کچھ فائدہ نہیں ہوگا ۔