23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 23:99

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِۙ Open ayah 23:99 in the Quran reader

ان منکروں کا حال ایسا ہی رہے گا یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے سرہانے موت آ کھڑی ہوگی تو وہ اس وقت کہنے لگے گا اے اللہ ! مجھے پھر لوٹا دے

کفار کی بعد از وقت حسرت اور افسوس کا بیان : 99۔ ان منکروں کا حال ایسا بھی ہوگا کہ جب موت ان کے سرہانے آکھڑی ہوگی تو وہ اس وقت کہنے لگیں گے کہ اے اللہ ! مجھے ایک بار دنیا میں دوبارہ لوٹا دے ، اس میں بطور پیش گوئی آپ ﷺ کو بتایا گیا ہے کہ یہ شرارتی لوگ اپنی شرارتوں سے باز آنے والے نہیں ہیں یہاں تک کہ جب یہ موت سے دوچار ہوں گے اور عالم دنیا سے تعلق ٹوٹ جائے گا اور عالم آخرت کے ساتھ تعلق جڑ جائے گا تو ان کی آنکھیں کھلیں گی اور اس وقت بڑی نرمی کے ساتھ التجا کریں گے کہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام مجھے ایک بار دنیا میں واپس جانے کی اجازت عطا فرما دے تاکہ جو کچھ مال ومتاع دنیا میں چھوڑ آیا ہوں اس سے کچھ فائدہ حاصل کرلو اور ان میں کا ایک ایک فرد یہ التجا کرے گا لیکن اس وقت ان کی ایک نہ سنی جائے گی کیوں ؟ فرمایا اس لئے کہ ہر کام کا ایک وقت مقرر ہے جب وہ وقت گزر جائے تو اس کی کوئی شنوائی نہیں ہوتی ۔ کہاوت ہے کہ کسی کو بندوق کی گولی لگ گئی اور اس کے منہ میں یہی فقرہ تھا کہ ” خدا کرے یہ جھوٹ ہی ہو “ لیکن جو ہونا تھا جب وہ ہوگیا تو اب جھوٹ کیا ہو ؟
Ayah 23:100

لَعَلِّیْۤ اَعْمَلُ صَالِحًا فِیْمَا تَرَكْتُ كَلَّا١ؕ اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآئِلُهَا١ؕ وَ مِنْ وَّرَآئِهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 23:100 in the Quran reader

شاید اب میں نیک کام کرسکوں ، ہرگز نہیں یہ محض ایک کہنے کی بات ہے جو یہ کہہ رہا ہے ، اب ایسا ہونے والا نہیں ، ان لوگوں کے پیچھے ایک آڑ ہے جو اس دن تک رہے گی کہ دوبارہ اٹھائے جائیں

یہ ایک بڑ ہے جو وہ بک رہا ہے اب تو اس کی جگہ برزخ ہے : 100۔ (کلا) فرمایا ہرگز نہیں اب یہ بات ہونے والی نہیں ہے اور اب اس کو کبھی واپس نہیں بھیجا جائے گا کیونکہ یہ ہمارا قانون کے خلاف ہے اور یہ بات پہلے طے ہے کہ ہم کبھی اپنے قانون کے خلاف نہیں کرتے اور نہ ہی ہونے دیتے ہیں۔ جب وقت ڈھیل کا تھا اس کو ڈھیل دی گئی اور اس کے استہزاومذاق کے باوجود دی گئی بلکہ یہ تو عذاب کا خود طالب تھا لیکن اس کو فورا کسی عذاب میں مبتلا نہ کیا گیا ڈھیل پر ڈھیل دی گئی کیوں ؟ اس لئے کہ ہمارے قانون میں اس کو پکڑنے کے لئے ایک وقت تک مہلت دی جا چکی تھی جب وہ ” اجل مسمی “ آئی تو اس کو دھر لیا گیا اور اب اس نے جب سب کچھ آنکھوں سے دیکھ لیا تو اب چیخ چیخ کر یہ کہتا ہے کہ مجھے ایک بار واپس لوٹا دیا جائے اب تو ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا اور ہمارا قانون کوئی موم کی ناک نہیں ہے کہ جدھر چاہا موڑ لیا ۔ اب ڈھیل کا وقت نکل گیا اور مہلت حیات ختم ہوگئی اور دنیوی جسم سے تعلق منقطع ہو کر اس کا تعلق عالم برزخ کے مثالی جسم کے ساتھ جوڑ دیا گیا اور اس جگہ اس کا ٹھہرنا ہے تا آنکہ روز حشر آجائے ۔ عالم برزخ کیا ہے ؟ دو چیزوں کے درمیان جو آڑ اور رکاوٹ ہو اس کو برزخ کہتے ہیں یہاں برزخ سے مراد موت اور قیامت کا درمیانی عرصہ ہے جس کو برزخ سے تعبیر کیا گیا ہے اور اس میں دو مقامات کا ہونا بیان کیا جاتا ہے اور دو مقامات کے نام ” علیین “ اور ” سجین “ رکھے گئے ہیں ۔ قرآن کریم میں (برزخ) کا لفظ تین جگہ استعمال ہوا ہے اور ہر جگہ اس سے مراد دو چیزوں کے درمیان کا پردہ ہی ہے چناچہ سورة الرحمن میں فرمایا گیا (بینھما برزخ لا یبغیان) (الرحمن 55 : 20) ” ان دونوں دریاؤں کے درمیان ایک پردہ ہے جس سے ایک دوسرے پر بڑھ کر نہی جاتا۔ “ دوسری جگہ سورة الفرقان کی آیت 53 میں ہے اور تیسری جگہ زیر نظر آیت میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے ہماری سامی قوموں کے رسم و رواج کے مطابق اس درمیان منزل کو ” قبر “ کے نام سے بھی موسوم کیا گیا ہے وہ خاک کے اندر ہو یا قعر درنیا میں یا کسی درندہ وپرندہ کے پیٹ میں اور قرآن کریم نے بھی اس کو ” قبر “ ہی سے موسوم کیا ہے چناچہ سورة الحج میں ہے کہ (آیت) ” وان اللہ یبعث من فی القبور “۔ (الحج 22 : 7) ” بلاشبہ ان لوگوں کو جو قبروں میں اٹھائے گئے۔ “ ظاہر ہے کہ یہ (بعث) صرف انہی مردوں کے لئے مخصوص نہیں جو تودئہ خاک کے اندر دفن ہوں بلکہ ہر میت کے لئے ہے خواہ وہ کسی حالت اور کسی عالم میں ہو اس لئے قبر سے مقصود ہر جگہ وہ مقام ہے جہاں مرنے کے بعد جسم خاکی نے جگہ حاصل کرلی ہو یا یوں کہہ لو کہ جہاں مرنے کے بعد روح مثالی جسم میں موجود رہے ۔ بہرحال ” قبر “ سے مراد وہ گڑھا نہیں ہے جس میں ہم مردوں کو دفن کرتے اور اس کا نام ” قبر “ رکھتے ہیں اگرچہ عرف عام میں اس سے مراد یہی گڑھا لیا جاتا ہے ۔ بہرحال مرنے والوں کو ایک بار مرجانے کے بعد دوبارہ اس دنیا میں آنا محال ہے لیکن افسوس کہ ہمارے علمائے کرام اور مفسرین حضرات اس اصل سے جب چاہتے ہیں انحراف کردیتے ہیں اور اس طرح کتنے ہی مرنے والے جن کو انہوں نے زندہ کر دکھایا ہے حالانکہ قرآن کریم کی آیات میں تضاد کا نہ ہونا اعلان قرآن ہے جس کو وضاحت سورة النساء کی آیت 82 میں کردی گئی ہے ۔
Ayah 23:101

فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَلَاۤ اَنْسَابَ بَیْنَهُمْ یَوْمَئِذٍ وَّ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 23:101 in the Quran reader

پھر جب وہ گھڑی آجائے گی کہ نرسنگا پھونکا جائے تو اس دن نہ تو ان لوگوں کی باہمی رشتہ داریاں باقی رہیں گی ، نہ کوئی ایک دوسرے کی بات ہی پوچھے گا

جب ” الصور “ پھونکا جائے گا تو اس وقت حسب ونسب کام نہیں دے گا : 101۔ قرآن کریم میں (الصور) کے پھونکے جانے کا ذکر تقریبا دس بار آیا ہے اور سب سے پہلے سورة الانعام کی آیت 73 میں یہ لفظ استعمال ہوا اور اس جگہ ہم نے وضاحت کردی ہے پھر سورة الکہف کی آیت 99 ‘ سورة طہ کی آیت 102 ‘ سورة المومنون کی زیر نظر آیت میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے ۔ ” صور “ کے لفظی معنی نرسنگھا اور ” قرنا “ کے ہیں۔ اس کی اصل اس طرح ہے کہ قدیم الایام میں بابلیوں ‘ کنعانیوں ‘ آرامیوں اور عبرانیوں وغیرہ تمام پرانی قوموں میں بادشاہی جلال وجلوس اور اعلان جنگ کے موقعوں پر نرسنگھا پھونکا جاتا تھا اس لئے گویا نرسنگھا پھونکنے کے معنی شاہی جلال کا اظہار غیر معمولی خطرہ کا اعلان سمجھا جاتا تھا اور انہی معنوں میں قرآن کریم نے (الصور) کا لفظ استعمال کیا ہے اور (نفخ صور) کا ذکر قرآن کریم میں تین چار بار آیا ہے اور مقصود اس سے ایک حالت سے دوسری حالت وکیفیت میں بدلنے کی اطلاع کے ہیں اس کی جو صورت بھی اختیار کی جائے گی وہی اس سے مراد ہے ۔
Ayah 23:102

فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 23:102 in the Quran reader

اس دن جن لوگوں کا پلہ بھاری نکلا بس وہی ہیں جو کامیاب ہوں گے

اصلیت اس می جو بھی ہوگی وہ اعمال کے ہلکا اور بھاری ہونے پر ہوگی : 102۔ اس روز فلاح و کامیابی کا انحصار وزن کے ہلکے اور بھاری ہونے پر ہی ہوگا ۔ انسانوں کے اعمال کی دو ہی اقسام ہو سکتی ہیں اچھے یابرے ، ایک قسم کے اعمال کم ہوں گے اور دوسری قسم کے زیادہ یا دونوں برابر ۔ دو مادی چیزوں میں تفاصل اور کم وبیش معلوم کرنے کے لئے جو صورت اختیار کی جاتی ہے اس کو میزان کے نام سے موسوم کیا گیا ہے ، جب بدلہ اعمال کے مطابق ہوگا تو ظاہر ہے کہ دونوں قسم کے اعمال ہی کو دیکھا جائے گا تب ہی انکی جزا وسزا دی جاسکے گی اس لئے کمی بیشی معلوم کرنے کی صورت کو میزان سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ چونکہ اس کا ذکر پیچھے سورة الانبیاء کی آیت 47 میں کیا جا چکا ہے اس لئے وہیں سے اس کو دیکھ لیا جائے تو زیادہ بہتر رہے گا ۔
Ayah 23:103

وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فِیْ جَهَنَّمَ خٰلِدُوْنَۚ Open ayah 23:103 in the Quran reader

اور جن کا پلہ ہلکا ہوا تو وہی ہیں جنہوں نے اپنے کو بربادی میں ڈال دیا ہمیشہ جہنم میں رہنے والے

خسارہ انہی لوگوں کے لئے ہے جن کے اعمال کا وزن ہلکا ہوگا : 103۔ (خفت) کا مادہ خف ہے اور یہ ثقل کی ضد ہے اور اس سے خفیف ہے ” خفت “ وہ ہلکی ہوئی یعنی اس کے معنی سبک اور ہلکا ہونے کے ہیں اور خفافا سبکبار کو کہتے ہیں ۔ یہ بھی قیامت کے دوسرے مرحلہ کا بیان ہے اور موازین موزون کی جمع بھی ہو سکتا ہے اور میزان کی جمع بھی اگر اس سے موزون کی جمع تسلیم کیا جائے تو معنی یہ ہوں گے وہ اعمال جو برے ہیں وہ بےوزن ہوں گے کیونکہ عند اللہ اگر وزن دار اعمال ہوں گے تو وہ وہی اعمال ہوں گے جو نیک ہیں برے اعمال کا کوئی وزن ہی نہ ہوگا اور یہ لفظ عام بول چال میں بھی بولا جاتا ہے کہ فلاں کی بات بہت وزنی ہے اور اس بات میں کچھ وزن نہیں ہے ، مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں جو فیصلہ ہوگا وہ اس بنیاد پر ہوگا کہ آدمی اعمال کی جو پونجی لے کر آیا ہے وہ وزنی ہے یا بےوزن یا یہ کہ اس کی بھلائیوں کا وزن زیادہ ہے یا کم کامیاب قرار دیئے جائیں گے جن کی نیکیاں برائیوں کے مقابلہ میں بھاری ہوں گی اور وزن اس نیکی کا ہوگا جو نبی اعظم وآخر ﷺ کی پیروی میں آپ ﷺ کے طریقہ کے مطابق ہوگی اور وہ لوگ گھاٹے میں رہیں گے جن کے اعمال کا کوئی وزن ہی نہ نکلا ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ وہ سب کھوٹے سکوں کی طرح ہوں گے جن کا رکھنے والا مستوجب سزا قرار پاتا ہے اور اس سے سخت پوچھ گچھ ہوتی ہے کہ یہ تم کہاں سے لائے ہو اور کیسے لائے ہو ؟
Ayah 23:104

تَلْفَحُ وُجُوْهَهُمُ النَّارُ وَ هُمْ فِیْهَا كٰلِحُوْنَ Open ayah 23:104 in the Quran reader

آگ کے شعلوں کی لپٹ ان کے چہروں کو جھلستی ہوگی وہ ان پر منہ بگاڑے پڑے ہوں گے

آگ کے شعلوں کی لپٹ ان کے چہروں کو جھلستی ہوگی ‘ وہ ناگفتہ بہ حالت میں ہوں گے : 104۔ (کالحون) اسم فاعل جمع مذکر مرفوع کالح واحد اور کلح ماضی کلوح وکلاح مصدر باب فتح ہے ۔ منہ بگاڑنے والے ‘ منہ بنا کر دانت نکال دینے والے ۔ عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا کالح وہ شخص ہے جو ہونٹوں کو سکیڑ کر دانت باہر کر نکال دے اس لئے کہ کلحہ منہ کے گول حلقے کو کہتے ہیں ۔ ” تلفح “ لفح سے ہے اور یہ آگ یا سموم کے باعث چہرے کو جھلس دینے پر بولا جاتا ہے اور عذاب کو دیکھ کر یہ ان بداعمال لوگوں کی حالت کا بیان ہے کہ جب وہ دیکھیں گے کہ ان کے اعمال کا تو کوئی وزن نہیں ہے اور پھر اس کے نتیجہ پر جب ان کی نظر جائے گی تو ان کی حالت ایسی ہوگئی جو یہاں بیان کی گئی ہے ، یہاں بھی چہرے کے تاثرات سے مکمل طور پر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس شخص کے اندر کی حالت کیا ہے اور یہ اس لئے ہوتا ہے کہ اندر کے حالت کا اثر چہرہ سے پوری طرح واضح ہوجاتا ہے ، کلح اور عبس دونوں حالتیں چہرے کی بیان ہوئی ہیں اور بلاشبہ ہر عابس کالح ہوتا ہے اور ہر کالح عابس بھی اور یہ دونوں چیزیں لازم وملزوم ہیں ۔ لیکن افسوس کے ہمارے مفسرین نے نبی اعظم وآخر ﷺ کو عابس تحریر کیا حالانکہ خاکم بدہن کہ میں ایسا خیال بھی دل میں لاؤں کہ نبی کریم ﷺ نے کبھی اس حالت کو اختیار کیا ہو ۔ کسی بات کی ناگواری کے باعث اثر ہونا فطری چیز ہے اور آپ ﷺ پر جو اثرہوتا وہ فقط یہ تھا کہ بعض اوقات آپ ﷺ کا چہرہ سرخ ہوجاتا جس سے آنکھوں میں سرخی آجاتی اور علاوہ ازیں آپ ﷺ پر کبھی کسی ناگوار بات کا اثر بھی ایسا نہیں ہوا کہ اس پر عبس یا کلح کا لفظ بولا جاسکے ۔ دنیا میں یہ دنیا دار لوگوں کی نشانی ہے اور آخرت میں یہ دوزخیوں کی حالت کا بیان ہے اور بلاشبہ اس وقت ان کی حالت دیدنی ہوگی ۔
Ayah 23:105

اَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَكُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 23:105 in the Quran reader

کیا ایسا نہیں ہوچکا ہے کہ میری آیتیں تمہارے آگے پڑھی جاتی تھیں ؟ اور تم انہیں جھٹلاتے رہتے تھے ؟

انکی حالت کے پیش نظر ان سے کہا جائے گا کہ تم وہی ہو جو میری آیتوں کو جھٹلایا کرتے تھے : 105۔ ان کے چہروں کی حالت کو دیکھ کر یا ان کی آہ وبکا کے پیش نظر ان سے کہا جائے گا کہ اب تمہاری حالت ایسی کیوں ہے ؟ کیا تم وہی نہیں ہو جن کے سامنے میری آیات پڑھی جاتی تھیں اور تم ان کی تکذیب کرنے میں ذرا بھی توقف نہی کرتے تھے اور جو کچھ تمہارے منہ میں آجاتا بک دیا کرتے تھے ، اگر بات ایسی ہی ہے تو اب تمہارا یہ چیخنا اور چلانا اور منہ بگاڑنا چہ معنی دارد ؟
Ayah 23:106

قَالُوْا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَیْنَا شِقْوَتُنَا وَ كُنَّا قَوْمًا ضَآلِّیْنَ Open ayah 23:106 in the Quran reader

وہ کہیں گے اے ہمارے پروردگار ! ہماری بدبختی ہم پر چھا گئی تھی ہمارا گروہ گمراہوں کا گروہ تھا

وہ اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے اپنی اس گمراہی کی تصدیق کریں گے : 106۔ وہ اعتراف کرتے ہوئے کہیں گے کہ اے رب کریم ! یہ ہماری بدبختی اور شقاوت ہی تھی جو ہم پر چھا گئی تھی اور ہم نے اس دن کی تکذیب کردی بلاشبہ ہم خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے تھے ، بلاشبہ یہ ان کا پچھتاوا ہے لیکن اسی وقت ہے جب اس طرح پچھتاوے کا ان کو کچھ فائدہ نہیں ہوگا ۔ کیوں ؟ اس لئے کہ اب جو کچھ ہونا تھا وہ تو ہوچکا ۔ جب وہ بھی یقین کرلیں گے کہ اب ہمارے اس طرح پچھتانے سے کچھ فائدہ نہیں ہوگا تو وہ اپنی اپیل کا رخ اس طرح پھیر دیں گے اور اپنی چالاکی و بیباکی کا مظاہرہ اس طرح کریں گے ۔
Ayah 23:107

رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْهَا فَاِنْ عُدْنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوْنَ Open ayah 23:107 in the Quran reader

اب ہمیں اس حالت سے نکال دے اگر ہم پھر ایسی گمراہی میں پڑیں تو بلاشبہ نافرمان ہوئے

ہم کو ایک بار اس حالت سے نکال دے اگر ہم نے دوبارہ ایسا کیا تو نافرمان ٹھہرے : 107۔ اے ہمارے رب ! ہم کو ایک بار ہماری اس حالت سے نکال دے اگر ہم نے ایسا کیا تو بلاشبہ ہم نافرمان ٹھہرے یہ بات ان کی لجاجت پر کھلی دلیل ہے اور یہ دراصل فطرت انسانی کا بیان ہے کہ متکبرین جب اپنے تکبر کے باعث ایک فائدہ نہ اٹھا سکتے ہوں تو وہ لجاجت پر اتر آتے ہیں اور بڑی پیار بھری میٹھی میٹھی باتیں کرتے ہیں کیوں ؟ اس لئے کہ دراصل وہ اپنا مطلب حاصل کرنا چاہتے ہیں چاہے جس انداز سے بھی وہ اس کا حاصل ہو لیکن اللہ رب کریم کے سامنے ان کی اس لجاجت سے انکو کچھ حاصل نہیں ہوگا وہ ایک بار موقع حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کو تو بڑی دفعہ اور بار بار یہ موقع دیا گیا تھا لیکن انہوں نے ہر بار اس کو ٹھکرا دیا اور اب ان کو معلوم ہوگیا کہ ہم پھنس کر رہ گئے تو فورا منت وسماجت پر اتر آئے لیکن ان کی یہ منت وسماجت اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے سامنے ان کو کچھ فائدہ نہیں دے گی اور ان کو اس طرح کہا جائے گا جس کا ذکر آنے والی آیت میں کیا جا رہا ہے ۔
Ayah 23:108

قَالَ اخْسَئُوْا فِیْهَا وَ لَا تُكَلِّمُوْنِ Open ayah 23:108 in the Quran reader

اللہ فرمائے گا ، جہنم میں جاؤ اور زبان مت کھولو

حکم دیا جائے گا دفعہ ہوجاؤ جہنم میں اور زبان مت کھولو : 108۔ یہ نہایت سخت جواب ان کو کیوں سنایا گیا ؟ اس لئے انہوں نے یہاں بھی فریب کرنے اور دھوکا دینے کی کوشش کی اس لئے کہ قانون الہی میں تبدیلی کے خواہش مند ہوئے ۔ (اخسوا) کا مادہ خ س ا ہے جس کے معنی ہیں پڑے رہو پھٹکارے ہوئے صیغہ جمع مذکر حاضر ، تم بہت ذلیل لوگ ہو پیچھے ہٹ جاؤ اور میرے ساتھ بات نہ کرو ۔ آج تمہارے ساتھ اس طرح کی بحث و تکرار کا دن نہیں بلکہ آج ان کا بدلہ دینے کا دن ہے جن کو تم نے اپنی دنیاوی زندگی میں دکھ دینے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی اور تم دیکھ دے دے کر تھک گئے لیکن انہوں نے دکھ سہنے میں کبھی تنگی محسوس نہ کی بلکہ میری رضا کے لئے بخوشی استروں کی مالا کو گلے کا ہار بنایا :
Ayah 23:109

اِنَّهٗ كَانَ فَرِیْقٌ مِّنْ عِبَادِیْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَۚۖ Open ayah 23:109 in the Quran reader

ہمارے بندوں میں سے ایک گروہ تھا جو کہتا تھا خدایا ! ہم ایمان لے آئے پس ہمیں بھی بخش دے اور ہم پر رحم فرما ، تجھ سے بہتر رحم کرنے والا کوئی نہیں

آج میرے ان بندوں کو جزا دیئے جانے کا دن ہے جو مجھ پر سچے دل سے ایمان لائے : 109۔ یہ وہی اللہ کے نیک بندے ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کو جو کھوں میں ڈالا اور مخالفین ومعاندین کی دکھ دہی کو بخوشی برداشت کیا ‘ اس لئے کہ ان کو رضائے الہی مطلوب تھی ، دنیادار سمجھتے رہے کہ یہ کمزور لوگ ہیں چاہے ان کو جتنا دبا لیا جائے اتنا ہی کم ہے اس لئے انہوں نے ان کو دبانے کی ہر ممکن کوشش کی ۔ آج ان کے مخالفین ومعاندین کو مخاطب کرکے کہا جا رہا ہے کہ کل تم جن کا مذاق اڑایا کرتے تھے آج دیکھو میں ان پر کس طرح اپنی نواشات کی بارشک کرتا ہوں اور ظاہر ہے کہ آج ان کی تسلی اس طرح ممکن ہے کہ جہاں ان کو انعام واکرام ہیں وہاں ان کے مخالفین ومعاندین کو انکے لئے کسی پاداش سے بھی دوچار کیا جائے اور یہی تم سے کیا جائے گا ، دنیا میں انہوں نے تمہاری طرف سے دکھ سہے اور اپنی کمزوریوں کی بھی مجھ سے بخشش طلب کی اور آج میں ان کی کمزوریوں سے درگزر کرتے ہوئے ان کے مخالفین ومعاندین کو ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے کئے کی سزا دوں گا تاکہ ان کے دلوں کو تسلی ہو اور ان کا پورا پورا حساب بےباک کردیا جائے ۔
Ayah 23:110

فَاتَّخَذْتُمُوْهُمْ سِخْرِیًّا حَتّٰۤى اَنْسَوْكُمْ ذِكْرِیْ وَ كُنْتُمْ مِّنْهُمْ تَضْحَكُوْنَ Open ayah 23:110 in the Quran reader

لیکن تم نے انہیں اپنے تمسخر کا مشغلہ بنا لیا یہاں تک کہ اس مشغلہ نے ہماری یاد بھی بھلا دی تھی ، تم ان لوگوں کی باتوں پر ہنسا کرتے تھے

تم نے دنیا میں ان کو تضحیک کا نشانہ بنایا اور میری یاد کو بلا دیا : 110۔ دنیا میں تم نے ان کو اپنے مذاق کا نشانہ بنایا اور ان کی تضحک میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی اور آج میں نے ان کو ان کے صبر و استقامت کا صلہ دیا اب وہ فائزالمرام ہیں اس کے لئے انہیں کو زبۃ المرام میں ہونا ہے اور رہے تم تو اب یہ پہاڑ جھونکو اور اس میں پڑے منہ بسورتے اور چڑھاتے رہو تاکہ تمہاری اس حالت کو دیکھ کر ان کا دل سکون پکڑے اور تم انکی اس حالت کو دیکھ کر جل بھن کر رہ جاہ اب ذرا آنکھیں کھول کر دیکھو کیا وہ چیز تمہارے سامنے موجود ہے یا نہیں جس کو تم نے بھلائے رکھا ؟ غریب و مساکین پر جو مظالم اس سبب سے ڈھائے گئے کہ انہوں نے (ربنا اللہ) کہنے کا جرم عظیم کیا اور قوم کے وڈیروں نے انکو اس جرم کی پاداش میں دبانے اور پھر دباتے ہی چلے جانے کی پالیسی اختیار کی وہ بلاشبہ حقیقت مشاہدہ تو اسی وقت ہی کریں گے جب انکو مشاہدہ کرایا جائے گا لیکن اب بھی وہ جب ان آیات کریمات کو پڑھتے ہیں اور خصوصا جب وہ ان کو سمجھتے بھی ہوں تو انکی ایمانی حالت یقینا پختہ ترین ہوجاتی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے مزید کمر ہمت باندھ لیتے ہیں ۔
Ayah 23:111

اِنِّیْ جَزَیْتُهُمُ الْیَوْمَ بِمَا صَبَرُوْۤا١ۙ اَنَّهُمْ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 23:111 in the Quran reader

(اللہ ربِّ ذوالجلال والاکرام ارشاد فرمائے گا کہ) آج ہم نے انہیں ان کے صبر کا بدلہ دے دیا ، وہی ہیں جو فیروز مند ہوئے

آج کے دن جزا کے مستحق کون لوگ ہیں ؟ وہی جو صبر کرتے رہے : 111۔ اسلام لانے کے بعد وہ کونسا دیکھ ہے جو تم نے ان کو نہیں پہنچایا تھا لیکن انھوں نے بھی رضائے الہی کے لیے ان کو خوب برداشت کیا چونکہ گذشتہ کل تک تم نے ان کا مذاق اڑیا اور آج کا دن میں نے ان کو جزا دینے کے لیے مقرر کیا ہے ۔
Ayah 23:112

قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِی الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِیْنَ Open ayah 23:112 in the Quran reader

ان سے کہا جائے گا ، تمہیں خیال ہے کہ تم زمین میں کتنے برس تک رہے

یہ سوال قوم کے انہیں وڈیروں اور مخالفین انبیاء کرام سے کیا جا رہا ہے : 112۔ اس سوال میں ایک قسم کی تلمیح پائی جاتی ہے اور قرآن کریم میں اس طرح کی تلمیحات بہت پائی جاتی ہیں کہ کچھ کہا بھی نہ جائے اور ایک طرح سے سب ہی کچھ کہہ دیا جائے جو دائرہ ادب کلام میں رہ کر کیا جاسکتا ہے ۔ یہ سوال انہیں قوم کے وڈیروں اور انبیاء کرام (علیہ السلام) اور رسل عظام کے مخالفین سے کیا جا رہا ہے کہ تم تو ظہور قیامت کو بعید از عقل وسمجھ کہتے تھے اور خیال کرتے تھے پہلے تو قیامت ویامت کچھ ہے ہی نہیں لیکن اگر ہوئی بھی تو آخر اتنی جلدی کب ہوگی کیا ابھی سے اس کی فکر دامن گیر کرلیں اور گھلنا شروع ہوجائیں ۔ فرمایا یہ اسی زعم باطل میں ہوں گے کہ جو کچھ ہونا ہے وہ ہوجائے گا کہ من مات قدقامت قیامتہ پھر جب وہ پہلی بار صور پھونکے جانے کے بعد اور قیامت کے بپا ہونے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کا صور پھونکا جائے گا تو کھیتی اگنے کی مانند اٹھ کر کھڑے ہوجائیں گے تو ایک دوسرے سے سوال کریں گے یا کچھ لوگ دوسروں سے سوال کریں گے کہ تم زمین میں کتنی مدت ٹھہرے تھے ؟ اس میں دراصل یہ بتایا گیا ہے کہ جس بات کا ان کو دنیا کی زندگی میں یقین ہی نہیں آرہا تھا وہ دوبارہ اٹھائے جانے کی بات ہی تھی لیکن اب جب وہ دوبارہ اٹھائے جائیں گے تو ان کے طوطے اڑ جائیں گے اور وہ حیرت زدہ ہو کر پوچھیں گے کہ وہ دنیا کی زندگی ہماری کتنی تھی ؟ یہ تو پوچھنے والوں کی حالت ہے اور بتانے والوں کا اندازہ بھی ملاحظہ کیجئے ۔
Ayah 23:113

قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ فَسْئَلِ الْعَآدِّیْنَ Open ayah 23:113 in the Quran reader

وہ کہیں گے ، بس ایک دن یا ایک دن کا کچھ حصہ ان سے پوچھو جو گنتے رہے ہیں

جواب دینے والے بولیں گے کہ ایک آدھ دن ہی تو ٹھہرے تھے ‘ حساب دانوں سے پوچھ لیا : 113۔ ان کا یہ جواب بول بول کر ان کی بیزاری کا اعلان کر رہا ہے کہ پوچھنے والے کیا بیزار ہوں گے کہ جواب دینے والے ان سے بھی زیادہ بیزار ہوں گے اور وہ ان کے اس سوال کو کوئی اہمیت نہ دیتے ہوئے کہیں گے کہ دنیا میں ہم کیا رہے ہیں ؟ یہی ایک آدھ دن ہی تو رہے ہیں ‘ کوئی گننے والا ہے تو اس سے پوچھ لو ۔ اس طرح ہر دور کے وڈیروں اور لیڈروں کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ آج جس زندی پر تم ریجھ رہے ہو اور آنے والی زندگی کا تم کو یقین ہی نہیں آرہا ہے کل آنے والے دن کو تم اسی طرح بھول چکے ہوں گے کہ گویا وہ تم نہیں تھے جو اس دنیا کی زندگی پر ریجھ گئے تھے کہ تم تو اب اس کا نام لینے سے بھی بیزار ہو گے اور تمہارے سامنے اس کا نام لینا بھی تمہیں عذاب میں مبتلا کردینا ہوگا اور یہ کمال ہے اس آنے والی زندگی کا جس پر تم کو یقین ہی نہ تھا اور اب جب یقین آیا تو ایسا آیا کہ گزشتہ زندگی کا نام لینے سے بھی بیزار ہوگئے اس میں فطرت انسانی کا کتنا صاف اور شفاف منظر نظر آرہا ہے اس کو کہتے ہیں کہ آئندہ راہ احتیاط اور گزشتہ واصلوات لیکن وہ بھول گئے کہ اب آئندہ راہ احتیاط کا وقت ہی جاتا رہا کیونکہ جو کچھ ہونا تھا وہ تو ہوچکا اور یہ بار بار ہونے کی چیز ہی نہیں یہ محاورہ تو دنیا ہی کی زندگی میں اگر کسی کو یاد آجائے تو اس کے لئے مفید ہو سکتا ہے ۔
Ayah 23:114

قٰلَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا لَّوْ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:114 in the Quran reader

ان سے کہا جائے گا ، ہاں ! تمہارا زمین میں رہنا اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ ایک بہت ہی تھوڑے زمانہ کا رہنا ، کاش ! تم نے یہ بات جانی ہوتی

بلاشبہ تم تھوڑی ہی مدت رہے لیکن کاش کہ یہ بات تم اس وقت سمجھ جاتے : 114۔ ان سے کہا جائے گا کہ بلاشبہ تم دنیا میں رہے تو بہت کم لیکن وہ کمی اس آخرت کی ابدی زندگی کے مقابلہ میں بہت کم کہی جاسکتی ہے ورنہ تم غور کرو کہ اس دنیا مین تم پیدا ہوئے اس میں تمہارا بچپن گزرا ‘ تم جوان ہوئے ‘ تم نے انبیاء کرام (علیہ السلام) اور رسل عظام کی مخالفت میں کمر کسی اور اللہ کے دین کے ماننے والوں کو طرح طرح سے تنگ گیا ‘ ان کا مذاق اڑایا ‘ ان سے استہزا کیا ۔ اللہ تعالیٰ کے انعامات سے مستفید ہوئے اور اس کی ذات کا انکار بھی کیا اور اس طرح کرتے کرتے جب وقت ہاتھ سے نکل گیا تو اب تم کو وقت گزر جانے کے بعد پچھتاوا ہوا ایسی سمجھ کے سر میں جوتا مارو جو کام ہو چکنے کے بعد آئے ، کاش کہ یہ بات تم اس وقت کہتے جب اس کے کہنے کا وقت تھا ، یہ مضمون پیچھے سورة طہ کی آیات 102 ‘ تا 104 میں گزر چکا تفصیل وہیں سے ملاحظہ کریں ۔
Ayah 23:115

اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 23:115 in the Quran reader

کیا تم خیال کرتے ہو ہم نے تمہیں بیکار پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف لوٹنے والے نہیں ؟

سوچ کا وقت تو اب ہے کیا ہم نے تم کو عبث پیدا کردیا ؟ : 115۔ زیر نظر آیت میں مضمون کی اتنی وسعت پائی جاتی ہے کہ اگر اس کو کھولنا شروع کردیا جائے تو یہ بیسیوں صفحات سے بھی متجاوز ہوجائے اس کو کہتے ہیں کہ دریا کو کو زہ میں بند کردیا گیا ۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ اے انسان اس دنیا میں اللہ نے جو کچھ پیدا کیا وہ صرف اور صرف تیرے لئے پیدا کیا کسی چیز کو اس کے ہونے سے اس کو کوئی فائدہ ؟ سورج کو ہونے سے سورج کا کوئی فائدہ ؟ چاند کے ہونے سے چاند کا کوئی فائدہ ؟ ان گنت تاروں اور سیاروں کے ہونے سے ان میں سے کسی ایک کا کوئی فائدہ ہے اپنے اردگرد چوطرفہ غور کرتے جاؤ ان سارے حیوانات پر غور کرو ‘ ان ساری نباتات پر فکر دوڑاؤ ‘ ان سارے جمادات کے متعلق خیال کرکے دیکھو ۔ زمین اور اس کے سارے دفینوں کے متعلق سوچ لو کیا کسی کے ہونے سے اس کی ذات کا کوئی فائدہ ؟ لاریب آپ کو کہنا پڑے گا کہ اس کائنات ہستی کی کسی چیز کو بھی اس کی ذات سے کچھ فائدہ نہیں اور ان میں سے ایک ایک چیز کا فائدہ ہے تو فقط انسان کو ہے اس لئے سمجھ لو کائنات کی ہرچیز اسی حضرت انسان کی خاطر پیدا کی گئی لیکن کیا اس حضرت انسان کو اللہ نے محض بیکار پیدا کردیا ؟ فرمایا بات اس طرح تو نہیں بلکہ انسان کو محض اس لئے پیدا کیا کہ وہ ان ساری نعمتوں سے مستفید ہو کر اس منعم حقیقی کا شکر ادا کرے اور اس کے صلہ میں اس کے لئے جو انعامات اخروی زندگی میں رکھے گئے ہیں ان سے بھی مستفید ہو لیکن اگر اس نے ناشکری کی تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس نے اپنی اخروی زندگی کو خود اپنے ہاتھوں برباد کرلیا ۔ اگر تم نے ایسا سمجھا تو بلاشبہ بہت ہی غلط سمجھا اللہ کی ہر کائنات کس قدر وسیع ہے ایک ایک چیز پر غور کرتے جاؤ اور اس سان پر چڑھا کر دیکھتے جاؤ تمہاری آنکھیں کھل جائیں گی بشرطیکہ تم نے عقل کے ناخن لئے اور اب مضمون کا رخ صفات الہی کی طرف بدلنا چاہتا ہے ۔
Ayah 23:116

فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِیْمِ Open ayah 23:116 in the Quran reader

اللہ کہ بادشاہ حقیقی ہے ، ایسی بات کرنے سے پاک و بلند ہے وہ ، کہ کوئی معبود نہیں ہے مگر اس کی ایک ذات ، جہانداروں کے تخت عزت کا مالک

اللہ کی ذات بہت بلند واعلی ہے اس نے کوئی کام عبث نہیں کیا : 116۔ ذات الہی کی پہچان اس کی صفات ہی سے ممکن ہے اس ان دیکھی اور ان سمجھی ذات کو صفات ہی کے ذریعہ سے پہچانا جاسکتا ہے بلاشبہ اس کی ذات اس کی صفات کے پردہ میں مستور ہے اور وہ مستور رہ کر دکھائی دیا جاسکتا ہے اور وہی اس کو دیکھ سکتا ہے جس کی عقل کی آنکھیں کھلی ہیں وہ ان ظاہری آنکھوں سے نہ کسی کو نظر آیا اور نہ ہی آسکتا ہے اور جو ان ظاہری آنکھوں سے دیکھا جاسکے وہ اللہ نہیں ہو سکتا لیکن یہ بات اس دنیوی زندگی کے لئے خاص ہے آخرت کی زندگی نہ اس طرح کی زندگی ہوگی اور نہ ہی اس طرح کی خواہشات ہوں گی گویا اس طرح جب اس زندگی کی آنکھیں بند ہوں گی تو اس زندگی کی ہرچیز روشن ہوجائے گی ذرا غور کرو کہ تم خود ایک محدود فہم رکھتے ہو لیکن اس کے باوجود اپنی طرف سے تم کوئی عبث وبیکار اور فضول کام کرنے کو اچھا نہیں سمجھتے پھر تم نے یہ باور کیوں نہ کیا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات تو بدرجہ اتم کوئی عبث وبیکار کام نہیں کرے گی ، اچھا انہیں اس زندگی کا کوئی مقصد بتاؤ ؟ اگر نہیں تو مان لو کہ اس نے انسان کو محض عدل قائم کرنے کے لئے پیدا کیا تاکہ اظہار حق ہو اور ثابت ہوجائے کہ الوہیت کے مقابل صرف اس کی ذات ہے اور وہی ہے جو اس کائنات کا پیدا کرنے والا اور اس کا نظام چلانے والا ہے اور اس میں کوئی بھی اس کا شریک ومعاون نہیں ۔
Ayah 23:117

وَ مَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۙ لَا بُرْهَانَ لَهٗ بِهٖ١ۙ فَاِنَّمَا حِسَابُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 23:117 in the Quran reader

اور جو کوئی اللہ کے سوا کسی دوسرے معبود کو پکارتا ہے تو اس کے پاس اس کے لیے کوئی دلیل نہیں ، اس کے پروردگار کے حضور اس کا حساب ہونا ہے ، یقینا کفر کرنے والے کبھی کامیابی نہیں پائیں گے

جو شخص اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو معبود مانتا ہے وہ جاہل ہے : 117۔ جو شخص بھی اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات میں کسی دوسرے کو شریک کرتا ہے اور کسی دوسرے کو اپنا حاجت روا ‘ مشکل کشا اور بگڑی بنانے والا خیال کرتا ہے اس کے پاس ایسا کرنے اور سمجھنے کے لئے کوئی دلیل موجود نہیں بلاشبہ وہ عقل وفکر کا اندھا ہے اور اس کا حساب اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے پاس ہے اور اس کا فیصلہ ہوچکا ہے اور اس کے اس فیصلہ کا اعلان کردیا گیا ہے کہ وہ ایسے کافروں کو کبھی فلاح نہیں دے گا ۔ توحید الہی کی مکمل وضاحت ان چند الفاظ میں کردی گئی اور اسی وضاحت کو جگہ جگہ مزید مثالیں دے کر سمجھایا گیا اور انہی اشارات واستعارات اور ان کی وضاحت کے لئے قرآن کریم کا تیسرا حصہ خاص کردیا گیا ۔ لیکن افسوس کہ آج بھی ہم میں سے کتنے ہیں جن کی جہالت روز روشن کی طرح عیاں ہے اور وہ اپنی جہالت پر فخر کرتے ہوئے غیر اللہ کے ناموں کے درود و وظیفے کرتے اور کراتے ہیں اور غیر اللہ کو حاجت روا ومشکل کشا سمجھتے اور بیان کرتے ہیں اور ان کے پاس آج بھی جہالت کی وہ سب سے بڑی دلیل موجود ہے کہ ہمارے باپ دادا ایسا ہی کرتے آئے ہیں ‘ کیا وہ سب غلط تھے ؟
Ayah 23:118

وَ قُلْ رَّبِّ اغْفِرْ وَ ارْحَمْ وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَ۠ Open ayah 23:118 in the Quran reader

اور آپ فرما دیجئے ، اے میرے رب ! بخش دے اور رحم فرما تجھ سے بڑھ کر کوئی رحم کرنے والا نہیں !

اہل ایمان کے لئے دعا کے رنگ میں مدد ونصرت کی بشارت : 118۔ فرمایا اے پیغمبر اسلام ! ﷺ اپنے عزم وجزم کے ساتھ توحید پر قائم رہئے اور اللہ تعالیٰ سے بخشش ومغفرت طلب کرتے رہئے یہی وہ ہتھیار ہے جو نہتوں کے کام آنے والا ہے اور مخالفین میں سے ہاتھوں والوں کے ہاتھ شل کر کے رکھ دیتا ہے اور مذاق اڑانے والوں کو آن کی آن میں مذاق و استہزاء بنا دیتا ہے جس سے وہ حیران و ششدر رہ جاتے ہیں اور اس طرح دیکھنے والوں کو وہ مذاق ہی مذاق نظر آنے لگتے ہیں فرمایا آپ اس دعا کو جاری رکھیں تمہاری زبان اس ورد پر لگی رہے اور تمہارے ہاتھ اس کے قانون کے مطابق حرکت کریں یہی مغفرت ورحمت الہی کی کلید ہے اور وہ دن عنقریب آنے والے ہیں کہ رحم کرنے والے کے رحم کی بارش آپ پر ہوگی اور کامیابی و کامرانی آپ کے حصے میں آئے گی یہ خوشخبری آپ ﷺ کو سنا دی گئی اور آپ ﷺ نے اپنی امت کے لوگوں تک من وعن پہنچا دی اور پھر زمانہ گواہ ہے کہ زیادہ دیر نہ لگی کہ بڑے بڑے بادشاہوں کہ سر اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے لئے جھک گئے اور اس سورت کا مضمون اس ورد خاص پر ختم ہوگیا کہ رب اغفر وارحم وانت خیر الراحمین ۔ عبدالکریم اثری : ٹھٹہ عالیہ 13۔ مارچ 1997 ء : بعد از نماز عصر :