Ayah 23:71اگر سچائی کسی کی خواہشوں کا نام ہو تو آسمان و زمین کا نظام درہم برہم ہو کر رہ جائے :
71۔ زیر نظر آیت میں ایک بہت بڑی اصل کائنات کی طرف اشارہ کیا ہے جو قرآن کریم کی مہمات معارف میں سے ہے یعنی قرآن کریم میں جس حقیقت کو ” حق “ سے تعبیر کرتا ہے وہ محض کسی ایک گوشہ ہی کی حقیقت نہیں ہے جیسا کہ عام طور پر سمجھا گیا ہے بلکہ اصل کائنات کی ایک عالمگیر حقیقت ہے وہ کہتا ہے یہاں اصل تخلیق وتکوین ” حق “ اور قیام حق کا قانون ہے ۔ اس کا نام عدل وقسط بھی ہے اور اسی پر تمام نظام کائنات قائم ہے ۔ عالم جسم و مادہ کا ایک ایک گوشہ دیکھتے جاؤ تمہیں ہر گوشہ میں وجود ‘ تکوین ‘ تعمیر ‘ ایجاب ‘ زندگی اور بناؤ کی اصل یہی حقیقت ملے گی یہی حقیقت جب انکار و اعمال انسانی میں ظاہر ہوتی ہے تو اس کا نام ایمان اور عمل صالح ہوجاتا ہے اور یہی وہ حقیقت ہے جس کی طرف ہدایت وحی بلاتی ہے اس لئے ارشاد فرمایا کہ اگر حقیقت ان منکرین حق کی خواہشوں کی پیروی کرے تو تمام نظام ارضی وسماوی درہم برہم ہوجائے کیونکہ انہیں معلوم نہیں کہ جس حقیقت سے یہ انکار کر رہے ہی وہی حقیقت ہے جس پر یہ تمام کارخانہ ہستی چل رہا ہے ۔
معلوم ہوا کہ دنیا میں نادان لوگون کی بالعموم یہ روش ہوئی ہے کہ جو شخص ان سے حق بات کہتا ہے وہ اس سے ناراض ہوجاتے ہیں گویا ان کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ بات وہ کہی جائے جو ان کی خواہش کے مطابق ہو نہ کہ وہ جو حقیقت اور واقعہ کے مطابق ہو حالانکہ حقیقت بہرحال حقیقت ہی رہتی ہے خواہ وہ کسی کو پسند آئے یا نہ پسند آئے ۔
تمام دنیا کی متفقہ خواہش بھی کسی واقعہ کو غیر واقعہ اور کسی امر حق کو غیر حق نہیں بنا سکتی پھر یہ کیونکر ممکن ہو سکتا ہے کہ حقائق وواقعات ایک ایک شخص و فرد کی خواہشات کے مطابق ہوتے چلے جائیں اور ہر آن بیشمار متضاد خواہشوں سے ہم آہنگ ہوتے رہیں ۔ عقل و دانش کے کوتاہ لوگ یہ سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے کہ حقیقت اور ان کی خواہش کے درمیان اگر اختلاف ہے تو یہ قصور حقیقت کا نہیں بلکہ ان کے اپنے نفس کا ہے ، وہ اس کی مخالفت کرکے اس کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے اپنا ہی کچھ بگاڑ لیں گے ، کائنات کا یہ عظیم الشان نظام جن اٹل حقائق اور قوانین پر مبنی ہے ان کے زیر سایہ رہتے ہوئے انسان کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں ہے کہ وہ اپنے خیالات ‘ خواہشات اور طرز عمل کو حقیقت کے مطابق بنائے نہ یہ کہ حقیقت کو بدل کر اپنے موہوم خیالات کے مطابق کرنا شروع کر دے اور اس بات پر بار بار زور دے کر آج تک ہمارے آباء و اجداد ایسا ہی کہتے یا مانتے چلے آرہے تھے اور وہ سارے غلط کیسے ہو سکتے ہیں اور یہ ایک آدمی ان کے مقابلہ میں سچا کیوں کر تسلیم کیا جاسکتا ہے اس لئے کہ حقیقت قلت و کثرت کی پیرو نہیں ہوتی بلکہ کثرت کے باوجود کثرت کو حقیقت کی طرف لوٹنا پڑتا ہے کاش کہ یہ بات آج ہمارے علماء گرامی قدر کے ذہن و دماغ میں آجائے اور وہ اپنے آپ کو حقیقت کے قریب لانے کی کوشش کریں نہ کہ حقیقت کو اپنی طرف موڑ لے جانے کی کہ ان کی تعداد زیادہ ہے ۔
بلاشبہ قرآن کریم کے طریق استدلال کا اولین مبداء تعقل وتقکر کی دعوت ہے اور وہ بار بار اسی بات پر زور دیتا ہے کہ انسان کے لئے حقیقت شناسی کی راہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی عقل وبصیرت سے کام لے اور اپنے وجود کے اندر اور اپنے وجود کے باہر جو کچھ بھی محسوس کرسکتا ہے اس میں تدبر و تفکر کی دعوت سے خالی ہو (آیت) ” وفی الارض ایت للمؤقنین ، وفی انفسکم افلا تفصرون “۔ (الذاریات 51 : 20 ‘ 21) ” اور یقین رکھنے والوں کے لئے زمین میں (معرفت حق کی ) نشانیاں ہیں اور خود تمہارے وجود میں بھی ‘ پھر کیا تم دیکھتے نہیں ؟ “ وہ کہتا ہے کہ انسان کو عقل وبصیرت دی گئی ہے اس لئے وہ اس قوت کے ٹھیک ٹھیک استعمال کرنے نہ کرنے کے لئے جوابدہ ہے جیسا کہ ارشاد فرمایا (آیت) ” ان السمع والبصر والفؤاد کل اولئک کان عنہ مسئولا “۔ (بنی اسرائیل 17 : 36) ” یقینا (انسان کا) سننا ‘ دیکھنا ‘ سوچنا سب اپنی اپنی جگہ جواب دہی رکھتے ہیں ۔ “ وہ کہتا ہے کہ زمین کی ہرچیز میں ‘ آسمان کے ہر منظر میں ‘ زندگی کے ہر تغیر میں فکر انسان کے لئے معرفت حقیقت کی نشانیاں ہیں بشرطیکہ وہ غفلت واعراض میں مبتلا نہ ہوجائے ، ارشاد الہی ہے کہ :
(آیت) ” وکاین من ایۃ فی السموت والارض یمرون علیھا وھم عنھا معرضون “۔ (یوسف 12 : 105) ” اور آسمان و زمین میں (معرفت حق کی) کتنی ہی نشانیاں ہیں لیکن افسوس انسان کی غفلت پر) لوگ ان پر سے گزرجاتے ہیں اور نظر اٹھا کر دیکھتے تک نہیں۔ “
” ہم نے ان کے لئے ان کی نصیحت کی بات مہیا کردی تو یہ اپنی نصیحت کی بات سے گردن پھیرتے ہوئے ہیں ۔ “ (ذکرھم) یعنی ایسی کتاب جو ان کو اللہ تعالیٰ کی یاد دلاتی ہے یا وہ کتاب جس میں ان کے لئے نصیحت ویادداشت ہے یا وہ ذکر جس کی انہوں نے تمنا کی تھی یا ذکر بمعنی بیان فطرت ہے ۔
1۔ قرآن کریم بلاشبہ نصیحت کے لئے ایک آسان ذریعہ بنا دیا گیا ہے بشرطیکہ کوئی شخص نصیحت حاصل بھی کرنا چاہے ۔
2۔ قرآن کریم کیا ہے ؟ نصیحت ویاداشت ہے جو محض لوگوں کی بھلائی ونصیحت کے لئے نازل کیا گیا ہے ۔
3۔ قرآن کریم وہ ذکر ہے جس کی انہوں نے تمنا کی تھی ” یہ لوگ پہلے تو کہا کرتے تھے کہ کاش ہمارے پاس ” ذکر “ ہوتا جو گزشتہ قوموں کو ملا تھا تو ہم اس کے پسندیدہ بندے ہوتے ۔ “ (الصفت 37 : 68 “ 169) ” مگر جب وہ آگیا تو انہوں نے اس کا انکار کردیا ۔ “ (137 : 170)
4۔ ہم کسی دوسرے عالم کی باتیں نہیں کر رہے بلکہ ان کی اپنی ہی حقیقت اور فطرت ان کے سامنے پیش کر رہے ہیں تاکہ وہ اپنے اس بھولے ہوئے سبق کو یاد کریں مگر وہ اس کو قبول کرنے سے فرار کر رہے ہیں اور ظاہر ہے کہ یہ فرار ان کا کسی غیر متعلق چیز سے نہیں بلکہ اپنے ہی ذکر سے ہے ۔ اس طرح ہر لحاظ سے اس کا مفہوم صحیح بیٹھتا ہے جیسے چاہو سمجھ لو ۔ کسی طرح بھی ان کا حق نہیں تھا کہ وہ اس قرآن کریم سے اعراض کرتے جیسا کہ انہوں نے کہا ۔
Ayah 23:72کیا آپ ﷺ ان سے کچھ طلب کر رہے ہیں اس لئے یہ لوگ منہ پھیرے ہوئے ہیں :
72۔ مطلب واضح ہے کہ اے ہمارے رسول ﷺ آپ ﷺ ان سے کچھ طلب تو کر نہیں رہے کہ یہ لوگ اس لئے قریب نہیں آرہے کہ ان کو دینا مشکل پڑ رہا ہے اس میں نبی کریم ﷺ کے لئے تسلی ہے اور آپ ﷺ کے مخالفین کے لئے ملامت ہے ۔ اے رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ تو اپنے کام میں بےلوث ہیں کوئی شخص یہ الزام نہیں دے سکتا کہ آپ ﷺ اس قرآن کریم کو اس لئے پیش کر رہے ہیں کہ کوئی نفسانی غرض آپ کے پیش نظر ہے آپ تو اچھے بھلے اپنے تجارت کے کام میں مصروف تھے لیکن اس کو چھوڑ کر اللہ کا پیغام سنایا اور بےلوث سنایا کوئی شخص اپنا ہو یا بیگانہ یہ الزام آپ پر نہیں دے سکتا ۔ آپ تو وہی ہیں جس کو یہی لوگ صادق اور امین کے خطاب سے نوازا کرتے تھے اور اب گالیاں اور پتھر دے رہے ہیں ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ آپ نے ان کے آباؤ اجداد کے رسوم و رواج کو غلط کہہ دیا اور سارے معبودوں سے منہ موڑ کر صرف اور صرف ایک اللہ کی توحید کا درس دیا اور کون کہہ سکتا ہے کہ یہ کام کوئی خود غرض انسان کرسکتا ہے ؟ خود غرض آدمی اپنی قوم اور قبیلے کے تعصبات کا علم بردار بن کر اپنی قابلیت اور جوڑ توڑ سے سرداری حاصل کرنے کی کوشش کرتا نہ کہ ایسی بات کو لے کا اٹھتا جو صرف یہی نہیں کہ تمام قومی تعصبات کے خلاف ایک چیلنج ہے بلکہ سر دھڑ کی بازی لگا دینا ہے ۔
جب آپ ﷺ کا کوئی ایسا مطالبہ نہیں اور نہ ہی لوگ اس طرح کی کوئی بات کہہ سکتے یا ثابت کرسکتے ہیں تو پھر نہ ماننے والوں کے لئے منوانے کی کوئی صورت اور کوئی ضرورت ؟ بلاشبہ داعی اور تاجر میں یہی فرق ہے کہ داعی سب کچھ تقسیم کرکے خوش ہوتا ہے اور تاجر حاصل کرکے اس لئے آپ اپنی دعوت کو جاری رکھیں کوئی مانتا ہے تو مانے نہیں مانتا تو آپ ﷺ کو منوانے کے لئے نہیں بھیجا گیا ۔
Ayah 23:73اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ ﷺ کا کام صرف اور صرف دعوت پیش کرنا ہے :
73۔ اس آیت نے ہر اس بات کی نفی کردی جو دعوت رسول سے انکار کرنے کا موجب بن سکتی تھی جو کچھ آپ پیش کر رہے ہیں وہ تعقل و تفکر کی دعوت ہے جس راستہ کی طرف دعوت دے رہے ہیں وہ بالکل صاف اور سیدھا ہے جس میں کسی قسم کا کوئی ایچ پیچ نہیں ہے ‘ دعوت پیش کرنے پر آپ کچھ اجر و مزدوری کا مطالبہ نہیں کر رہے ‘ کسی طرح کا کوئی لالچ نہیں ہے جو پورا نہ ہونے کے باعث آپ کو کوئی خسارہ ہوگا ‘ جو دعوت پیش کی جاری ہے اس میں اس کا شرف بھی ہے جن کو دعوت دی جا رہی ہے ‘ اس لئے اب انکار کا کوئی سبب موجود نہیں سوائے اس کے کہ ان کو حق سے عداوت ہے جس کے صلہ میں بدبختی ان کا مقدر بن کر رہ گئی اس لئے وہ آنکھیں رکھنے کے باوجود اندھے ‘ کان رکھنے کے باوجود بہرے اور سر رکھنے کے باوجود عقل سے بالکل کورے ہیں ، آپ ﷺ کو دعوت دینے کے صلہ میں آپ ﷺ کا اجر مل جائے گا اس لئے آپ ﷺ اپنا کام جاری رکھیں اور نتیجہ اللہ پر چھوڑ دیں ۔
Ayah 23:74الٹی چال چلنے والے سیدھے راستہ سے دور ہی ہوتے جائیں گے :
74۔ سیدھی راہ کون چلے گا ؟ جس کو منزل مقصود پر پہنچنا ہے ، اسلام کے نزدیک منزل مقصود کیا ہے ؟ آخرت کی زندگی ۔ پھر جو شخص آخرت کی زندگی کو مانتا اور تسلیم ہی نہیں کرتا اس کو کیا پڑی ہے کہ وہ اپنے نفس کی آزادیوں کو چھوڑے اور اسلام کی قیود کے مطابق زندگی گزارے ‘ اپنی نقد لذتوں کی قربانی تو وہی دے سکتا ہے جس کو اس سے حاصل ہونے کی کچھ امید ہو جس کو کسی آنے والی گھڑی کی امید ہی نہیں وہ اپنی خواہشوں کے پیچھے نہیں چلے گا تو کیا کرے گا ؟ وہ بجائے سیدھی راہ چلنے کے الٹی راہ چل رہے ہیں تو اس کا نتیجہ کیا ہوگا ؟ یہی کہ وہ مزید سیدھی راہ سے دور ہی ہوتے چلے جائیں گے ۔ (لناکبون) کی اصل ن ک ب ہے جس کے معنی جانب یا طرف کے ہیں اسی سے (منکب) ہے جس کے معنی کندھے کے ہیں کہ وہ ایک طرف ہی کو ہوتا ہے یہاں ان سے مراد سدھی راہ سے ہٹنے کے ہیں یعنی وہ آخرت کو نہیں مانتے اس لئے راہ راست سے ہٹ کر چلنا چاہتے ہیں ۔
Ayah 23:75یہ لوگ ایسے ہیں کہ اگر ان پر رحم کیا جائے تو یہ سرکشی میں مزید بڑھیں گے :
75۔ بلاشبہ بعض ایسے بھی ہوتے ہیں کہ اگر ان کو کسی مصیبت میں مبتلا کردیا جائے تو وہ ذرا رک کر سوچتے ہیں کہ ہمارے ساتھ ایسا کیوں ہوا کہ ہم مصیبت میں مبتلا ہوگئے لیکن یہ لوگ ایسے نہیں ہیں جن کو اس طرح کی کوئی سوچ آئے گی تاکہ ان کو کسی مصیبت میں مبتلا کرکے ان کی سوچ بدل دی جائے ہرگز نہیں اگر ان کے ساتھ کوئی ایسی صورت اختیار کی بھی گئی تو یہ سرکشی میں مزید گہرے ہوتے چلے جائیں گے ، پھر جب وہ وقت آیا تو بلاشبہ ایسا ہی ہوا غور کیجئے کہ قریش مکہ نے محمد رسول اللہ ﷺ کو مکہ سے نکل جانے پر مجبور کیا حالانکہ آپ ﷺ سراسر ان کے لئے رحمت ہی رحمت تھے لیکن آپ ﷺ کی ہجرت کے بعد کیا ہوا ؟ یہی کہ وہ قحط سالی میں مبتلا ہوگئے اور پھر رہتی کسر جنگ بدر نے نکال دی جس میں ان کے بڑے بڑے سردار کام آئے گویا قدرت الہی نے چڑیوں سے بازوں کو مروا دیا ۔ دوسرا عذاب ان پر اس طرح مسلط کردیا گیا لیکن ان پر اس کا کیا اثر ہوا ؟ یہی کہ وہ گمراہی میں مزید بڑھتے چلے گئے تا آنکہ فتح مکہ میں ان کے غرور کا سرقلم ہوگیا اور یہ سیاسی موت مر گئے ۔
Ayah 23:76ان پر عذاب مسلط ہوگیا لیکن اس کے باوجود انہوں نے عاجزی اختیار نہ کی :
76۔ فرمایا یہ صرف قریش مکہ ہی کی حالت نہیں ان سے پہلے بھی بہت سی قومیں اور جماعتیں گزرچکی ہیں جن کو ہم نے سخت سے سخت عذاب میں پکڑا لیکن اس کے باوجود انکی گردنیں نہ جھکیں اور وہ یہی کہتے رہے کہ ایسا ہوتا آیا ہے اور ہوتا رہے گا اس لئے تاریخ شاہد ہے کہ اس قماش کے لوگ تنبیہات سے کوئی سبق حاصل نہیں کرتے اس لئے قریش مکہ کو بھی اس طرح کی تنبیہات سے کچھ سبق حاصل نہیں ہوگا اس لئے آپ ان کے ساتھ کوئی ایسی توقع وابستہ نہ رکھیں ، گزشتہ قوموں اور ان کے رسولوں کا تذکرہ پڑھ کر سنایا گیا ہے اس لئے آپ کو خیال رکھنا چاہئے کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے ۔ اس آیت میں مفسرین نے مختلف صورتیں اختیار کی ہیں اور مختلف نتیجے نکالے ہیں لیکن یہ بحث بالکل بےفائدہ ہے ، سیدھی بات یہی ہے جس کو ہم نے اختیار کیا ہے اور آپ کے سامنے پیش کر رہے ہیں کہ نہ ماننے والوں پر کوئی نسخہ کارگر نہیں ہوتا ۔
Ayah 23:77عذاب کو آنکھوں سے دیکھ کر بھی یہ لوگ ماننے والے نہیں :
77۔ مثل ہے کہ ” رسی جل گئی پر بل نہ گیا “ یہ لوگ تنبہیات اور جھڑکیوں سے درست ہونے والے نہیں یہاں تک کہ ان پر وہ وقت آجائے گا جب ان کی تکذیب کے نتیجہ میں ان پر عذاب کے دروازے کھول دیئے جائیں گے ، ظاہر ہے کہ عذاب شدید سے یہاں مراد وہی فیصلہ کن عذاب ہے جو سنت الہی کے تحت ہر اس قوم پر نازل ہوا جس کو سمجھانے کے لئے اللہ نے کوئی نہ کوئی رسول بھیجا لیکن قوم نے اس کی ایک نہ مانی اور ضد پر اڑی رہ گئی اور اس کا نتیجہ یہی نکلا کہ اس کو عذاب الہی نے اپنے وقت پر آگھیرا جس سے اس کو اس صفحہ ہستی سے نابود کرکے رکھ دیا ۔ یہی ہوتا آیا اور اب بھی یہی ہوگا کہ یہ لوگ ایسے ہیں کہ سانپ کی طرف مرجانے کے بعد بھی ” رس گھولتے رہیں گے ۔ “
Ayah 23:78اللہ تعالیٰ نے تو ان کی سماعت ‘ بصارت اور دل دیئے لیکن وہ شکر گزار نہ تھے :
78۔ کوئی پوچھے کہ بھلا یہ سماعت ‘ بصارت اور دل جانورو کو نہیں دیئے گئے ؟ پھر انسان اور حیوان میں فرق کیا ہے ؟ یہی کہ انسان کا کام سوچنا ‘ سمجھنا اور عقل سے کام لینا ہے صرف جانوروں کی طرح جسم وجان کے مطالبات پورے کرنا نہیں ۔ غور کرو کہ یہ لوگ کر کیا رہے ہیں ؟ یہی کہ ہمارا معیار زندگی بلند ہو تو کیسے ؟ اچھی رہائش ملے ‘ اچھا لباس ہو ‘ اچھی خوراک ہو ‘ مال بڑھے تو کیسے اور اقتدار ملے تو کیونکر ؟ کیا ان کے ہاں ! آخرت کی بھی کوئی فکر ہے ؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو سوائے اس کے کہ ان کے ڈھانچے انسانوں کے سے ہیں اس کے علاوہ بھی کچھ ہے پھر ایک اچھے بیل ‘ اچھے گھوڑے اور اچھی بھینس اور انسان میں فرق کیا رہا ؟ یہی جو ڈھانچوں مین فرق نظر آرہا ہے ۔ حالانکہ انسان کی سماعت ‘ بصارت اور دل اور حیوان کے ان اعضاؤں میں زمین و آسمان کا فرق ہے اگر کوئی سماعت ‘ بصارت اور دل سے وہ کام لے جس کام کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ عطا کئے ، فرمایا حقیقت یہ ہے کہ بہت تھوڑے ہیں جو اس بات کا خیال رکھتے ہیں ناشکروں اور ناسمجھوں کی تعداد ہمیشہ زیادہ رہی اور ہمیشہ زیادہ رہے گی ، کاش کہ اس ملک کے سیاسی راہنما بھی اس حقیقت کو سمجھ لیں اور حیوانوں کی صف سے نکل کر انسانوں کی صف میں بھی یہ شمار ہوں اور ناشکروں سے نکل کر شکر گزار بننے کی بھی کوشش کریں اگرچہ وہ قلیل ہی ہوں ۔
Ayah 23:79اللہ تعالیٰ ہی پیدا کرنے والا ہے اور اس کی طرف ہم کو لوٹ کر جانا ہے :
79۔ خود بخود ہی پیدا ہونے اور خود بخود ہی مرجانے والوں کو بتایا جا رہا ہے کہ تم کو یہ کیسی بھول لگی ہے اور تمہارا یہ مغالطہ کب نکلے گا اور کیونکر نکلے گا ؟ غور کرو ایک کسان اٹھتا ہے اور کھیت میں بیج پھیلا دیتا ہے ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ اس طرح بونے کے بعد ایک دن وہ اس کو اکٹھا بھی کرے گا ، بلاشبہ تم کو پھیلانے والا بھی ہے اور جو پھیلانے والا ہے وہی تم کو اکٹھا بھی کرے گا ، آج مان لو گے تو آج کا مانا ہوا تمہارے کام آئے گا ورنہ تمہارے ماننے نہ ماننے سے پھیلانے والے کو کوئی فرق نہیں پڑے گا ‘ آج تم قیامت سے انکاری ہو اور کل تم اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھو گے بالکل اسی طرح جس طرح آج تم نے ایک بھائی بہن کو کندھا دے کر قبر تک پہنچایا اور اس دنیا سے رخصت کردیا ایک دن تم کو بھی رخصت ہونا ہے اور پھر جس پیدا کرنے والے نے تم کو پہلی بار پیدا کیا ہے وہی تم کو دوسری بار پیدا کر دے گا ۔ غور کرو کہ یہ پہلی بار تم اپنی مرضی سے پیدا ہوگئے تھے ؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو تمہارا دوسری بار پیدا کرنا پہلی بار پیدا کرنے والے رب کریم کے لئے مشکل نہیں ہے ۔ ہاں ! اس زندگی کے کئے ہوئے کاموں کا نتیجہ تم کو دوسری زندگی میں ملے گا جو اسی طرح یقینی ہے جس طرح تمہاری یہ زندگی جس میں تم آج زندہ ہو ۔ (آیت) ” ذرا یذرئ)
اس نے پیدا کیا ‘ اس نے پھیلا ‘ اس نے بکھیرا ، زمین سے پیدا کرنے پر بھی بولا گیا ہے اور توالدوتناسل سے پیدا کرنے پر بھی کیونکہ دونوں طرح کی اصل پیدائش کا باعث وہی ہے اور پھر اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے گویا یہ کہا جا رہا ہے کہ پہلے تم پراگندہ اور جدا جدا ہو گے پھر جمع کئے جاؤگے ، پراگندہ اور جدا جدا ہونے کو تم آنکھوں سے دیکھ رہے ہو اور جمع ہونے کو بھی انشاء اللہ یقینا دیکھ لو گے ۔
Ayah 23:80زندگی اور موت اس کے قبضہ میں ہے جو رات اور دن کو لانے والا ہے اگر تم سمجھو :
80۔ غور کرو کہ چند لفظوں میں کتنا بڑا مضمون پوشیدہ ہے ۔ ذرا قرآن کریم نے اس استدلال پر غور کرو ‘ رک جاؤ جلدی نہ کرو فرمایا جارہا ہے کہ وہی ہے جو جلاتا ہے اور موت طاری کرتا ہے اور یہ اسی کی کارفرمائی ہے کہ رات دن کے پیچھے آتی رہتی ہے اور دن رات کے پیچھے (اختلاف الیل والنھار) کہہ کر اس قانون ہستی کی طرف اشارہ کیا ہے جسے قرآن کریم قانون ازواج سے تعبیر کرتا ہے اور ہم اس کو اپنی مقررہ مصطلحات میں قانون تثنیہ کہہ سکتے ہیں یعنی کارخانہ ہستی کے ہر گوشہ میں ہم دیکھتے ہیں یہاں کوئی حقیقت اکہری اور طاق نہیں ہے کسی نہ کسی شکل میں دو دو ہونے کی نوعیت ضرور پائی جاتی ہے ہرچیز کی تکوین وتشکیل اسی طرح ہوگی کہ دو متماثل اور متقابل نوعیتیں ابھریں گی اور اسی تماثل وتقابل کا تثنیہ ایک مکمل حقیقت کی شکل اختیار کرے گا مثلا ہر نر کے لئے مادہ ‘ مرد کے لئے عورت ‘ زندگی کے لئے موت ‘ رات کے لئے دن ‘ صبح کے لئے شام مثبت کے لئے منفی ‘ تکوین کے لئے افساد اس طرح غور کرتے جاؤ تم جس گوشہ میں بھی دیکھو گے ہر حقیقت کے ساتھ اس کا کوئی نہ کوئی مثنی بھی ضرور موجود ہے (آیت) ” ومن کل شیء خلقنا زوجین لعلکم تذکرون “۔ (51 : 49) اور ہرچیز کے ہم نے جوڑے جوڑے بنائے ہیں شاید کہ تم اس سے سبق حاصل کرو “۔ واضح ہوگیا کہ دنیا کی تمام اشیاء تزویج کے اصول پر بنائی گئی ہیں اور یہ سارا کارخانہ اسی اصول پر چل رہا ہے کہ بعض چیزوں کا بعض سے جوڑ لگتا ہے اور پھر ان کا جوڑ لگتے ہی طرح طرح کی ترکیبیں وجود میں آجاتی ہیں یہاں کوئی چیز بھی ایسی منفرد نہیں ہے کہ دوسری کوئی شے اس کا جوڑ نہ ہو بلکہ ہرچیز اپنے جوڑے سے مل کر ہی نتیجہ خیز ہوتی ہے ، قرآن کریم نے اس کی بہت وضاحت کی ہے لیکن افسوس کہ علماء اسلام نے اس کو کوئی اہمیت نہ دی ۔
قرآن کریم کا استدلال یہ ہے کہ اگر کارخانہ ہستی کہ ہر گوشہ میں دو دو ہونے کی حقیقت کام کر رہی ہے اور یہاں ہستی کی کوئی نمود بغیر اپنے مثنی اور زوج کے نہیں ہے تو پھر تمہیں اس بات پر کیوں تعجب ہے کہ انسانی زندگی کی نمود بھی اکہری نہیں ہے بلکہ یقینا دوہری ہے اور دنیوی زندگی کے لئے بھی ایک مثنی ہے اور اسی کا نام آخرت ہے ؟ جس حقیقت کو تم بیس بھیسوں میں دیکھتے ہو اور پہچانتے ہو اس کو اکیسویں بھیس میں دیکھ کر کیوں چونک اٹھتے ہو ؟ آیت کے خاتمہ پر غور کرو ارشاد ہوتا ہے کہ (افلا تعقلون ؟ ) خطاب کس سے ہے ؟ تعقل و تفکر سے اور ہمارے ہاں وہی مفقود ہے ۔
Ayah 23:81انہوں نے وہی کچھ کہا جو پہلوں نے کہا تھا اور یہی کہنا آسان ہے :
81۔ غور کرو کہ زیر نظر آیت کس طرح اپنی پہلی آیت سے مربوط ہوگئی ؟ اور اس کی ابتداء حرف (بل) کا آنا کس طرح ٹھیک اپنی جگہ پر بیٹھ گیا ؟ ” ہاں ! انہوں نے ویسی ہی بات کہی جیسی ان کے پیچھے کہہ چکے تھے “ کیوں ؟ اس لئے کہ اس کا کہنا آسان تھا اور یہی کہا جاتا ہے کہ ع ” چلو تم ادھر کو جدھر کی ہوا ہو “۔ رہی یہ بات کہ پہلوں نے کیا کہا تھا جو انہوں نے بھی کہہ دیا ؟ تو اس کی وضاحت آنے والی آیت پیش کر رہی ہے ۔
Ayah 23:82انہوں نے کہا کہ جب ہم مر کر ہڈیاں اور مٹی ہوجائیں گے دوبارہ کیسے پیدا ہوں گے ؟
82۔ منکرین قیامت نے آج تک اس کے انکار میں زیادہ سے زیادہ جو کچھ کہا ہے وہ یہی ہے کہ ” کون ان ہڈیوں کو زندہ کرے گا جب کہ یہ بوسیدہ ہوجائیں گی ؟ “ اور قرآن کریم نے ان کو ہمیشہ یہی جواب دیا ہے کہ ان ہڈیوں کو وہی زندہ کرے گا جس نے پہلے انہیں پیدا کیا تھا وہ تخلیق کا ہر کام جانتا ہے اور وہی ہے جس نے تمہارے لئے ہرے بھرے درخت سے آگ پیدا کردی جس سے تم اپنے چولہے روشن کرتے ہو ‘ وہ وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ تم کو دوبارہ پیدا کرسکے ؟ جبکہ وہ ماہر خلاق ہے ۔ “ (یس 36 : 79 تا 81) ” کیا انسان دیکھتا نہیں کہ ہم نے اسے نطفہ سے پیدا کیا اور پھر وہ صریح جھگڑالو بن کر کھڑا ہوگیا ‘ اب وہ ہم پر مثالیں چسپاں کرتا ہے اور اپنی پیدائش کو بھول جاتا ہے ۔ “ (یس 36 : 77) وہ اپنی تخلیق میں زیاد سے زیادہ جو کچھ تھا اس پر نطفہ کا اطلاق ہوتا ہے اور پھر وہ نطفہ جس میں محض ایک ابتدائی جرثومہ حیات کے سوا کچھ نہ تھا اس کو ترقی دے کر ہم نے اس حد تک پہنچایا کہ وہ نہ صرف جانوروں کی طرح چلنے پھرنے اور کھانے پینے لگا بلکہ اس سے آگے بڑھ کر اس میں شعور وتعقل اور بحث و استدلال اور تقریر وخطاب کی وہ قابلیتیں پیدا کردیں جو سوائے اس کے کسی اور حیوان کو نصیب نہیں ہیں حتی کہ وہ اپنے خالق کے بھی منہ آنے لگا ۔ کیا وہ ہمیں مخلوقات کی طرح عاجز سمجھتا ہے ؟ یہ خیال کرتا ہے کہ جس طرح انسان کسی مردے کو زندہ نہیں کرسکتا اسی طرح ہم بھی نہیں کرسکتے ؟ اور وہ یہ بات بھول جاتا ہے کہ ہم نے کس طرح وہ ابتدائی جرثومہ حیات پیدا کیا جو اس کا ذریعہ تخلیق بنا اور پھر جرثومے کو پرورش کرکے یہاں تک بڑھا لائے کہ آج وہ ہمارے سامنے باتیں چھانٹنے کے قابل ہوا ۔ اس کی مکمل وضاحت پیچھے بہت سے مقامات پر گزر چکی ہے زیادہ تفصیل چاہتے ہوں تو سورة الانعام کی آیت 29 ‘ سورة ہود کی آیت 7 ‘ سورة الاسراء کی آیت 49 ‘ 98 ‘ سورة الحج کی آیت 5 کا تفسیر عروۃ الوثقی سے مطالعہ کریں ، انشاء اللہ کافی تفصیل موجود پائیں گے ۔
Ayah 23:83ان باتوں کا وعدہ ہم سے اور ہمارے باپ دادوں سے کیا جا چکا ہے جن کی کوئی حقیقت نہیں :
83۔ منکرین نے اپنے خیال کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسی باتیں جو یہ رسول کر رہا ہے کوئی آج کی ہیں ؟ نہیں نہیں ! یہ تو بہت پرانی باتیں ہیں جو ہم پیچھے سے سنتے چلے آرہے ہیں اور یہ ان ہونی باتیں آج تک تو پوری نہ ہوئیں اور یقینا کبھی پوری نہیں ہوں گی اس لئے دراصل ان کی کوئی حقیقت نہیں بلکہ یہ بھی سنی سنائی باتیں ہیں جو ایسے ہی گھڑی گئی ہیں قیامت ویامت کچھ نہیں آئے گی اور اب ہم ایس دھمکیوں میں آنے والے نہیں ہیں جن کو سنتے سنتے ہمارے کان پک چکے ہیں ۔ گویا یہ وہی بات ہے کہ لاتوں کے بھوت کبھی باتوں سے نہیں مانتے ۔
Ayah 23:84منکرین سے پوچھو کہ یہ زمین اور جو کچھ اس میں ہے کس کا ہے ؟
84۔ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ سے کہا جارہا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ ﷺ ان سے پوچھیں کہ اچھا یہ دھرتی اور جو کچھ اس میں ہے کسی نے بنائی ہے اور اس کے نظام کو کون چلا رہا ہے ؟ اور اس طرح یہ بھی کہ یہ جو تمہارے سروں پر ایک نیلگوں چیز نظر آرہی ہے اور اس میں کتنی کتنی بڑی قندیلیں تم کو نظر آتی ہیں ان کا بنانے والا اور روشن کرنے والا کون ہے ؟ اگر تم کو معلوم ہے تو ذرا ہم کو یہ تو بتا دو ؟ اس طرح ایک حقیقت کو جھٹلا نے والوں سے سوال پوچھا جا رہا ہے اور وہ بھی اس سادگی سے کہ ان سے کسی قسم کا الجھاؤ وغیرہ نہ ہو بلکہ پیار بھرے انداز سے تاکہ ان کو سوچنے اور سمجھنے کا موقعہ ملے شاید وہ اس طرح حقیقت تک پہنچ جائیں ، معلم کا کام تفہیم کرانا ہے ناراض ہونا یا دل برداشتہ ہونا نہیں ۔ اگر مخالفین کی تفہیم ہوگئی تو ان کا فائدہ ہے اور اگر انہوں نے ہٹ دھرمی سے کام لیا تو نقصان بھی انہیں کا ہوگا داعی الی الحق کا اجر تو دونوں طرح ایک جیسا محفوظ ہے ۔
Ayah 23:85منکرین کے تضاد کو کس خوبی کے ساتھ انہی کی زبانی واضح کرا دیا گیا ؟ :
85۔ قرآن کریم کا یہ وہ اعجاز ہے جو کسی دوسری آسمانی کتاب میں بھی نہیں ملتا کہ وہ منکرین ومعاندین سے بھی بات کرتا ہے تو اپنا انداز بیان اور لہجہ ترش نہیں کرتا ۔ غور کرو کہ اس نے منکرین کے تضاد وفکر کو کس طرح نمایاں کیا اور پھر انہیں کی زبان سے نمایاں کرا دیا کہ ایک طرف تو وہ قیامت کے منکر ہیں اور اس نظریہ کو ایک من گھڑت قرار دیتے ہیں اور دوسری طرف وہ اس ساری کائنات کے بنانے والے اور اس کا مکمل انتظام سنبھالنے والے اللہ کو بھی اسی طرح مانتے اور تسلیم کرتے ہیں جس طرح خود رسول مانتا اور تسلیم کرتا ہے حالانکہ ان کی یہ دونوں باتیں ایک دوسرے کی ضد ہیں ۔ بات تو ہو رہی تھی قیامت کے آنے کی اور جو انسان دنیا میں کرتا ہے اس کا نتیجہ قیامت کے روز سامنے پیش کئے جانے کی اور جن سے یہ باتیں کی جا رہی تھیں وہ اس کو سن کر اس کا مذاق اڑا رہے تھے اور رسول اللہ ﷺ کی تضحیک کا باعث بنے ہوئے تھے جونہی موضوع بدل دیا گیا تو وہ وہی بات کہنے لگے جو رسول اللہ ﷺ ان سے کہہ رہے تھے اس طرح گویا وہ ایک طرف کو مانتے اور تسلیم کرتے تھے اور دوسری طرف کا انکار کرتے تھے حالانکہ ایک کو ماننے سے دوسری بات خود بخود تسلیم ہوجاتی تھی ، اس سے بتایا یہ جا رہا ہے کہ ان کے نظریات گویا مجموعہ تضادات ہیں اور جن لوگوں کے عقائد ونظریات میں تضاد ہو وہ کبھی صحیح نہیں ہو سکتے ۔ آج مسلمانوں کی اکثریت کا نہیں بلکہ علمائے کرام کی اکثریت کا بھی یہ حال ہے کہ ان کے نظریات و عقائد تضادات کا پلندہ ہیں لیکن وہ اس کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے حالانکہ اس حالت کو مٹانے کے لئے قرآن کریم کا نزول ہوا اور انہی باتوں کو مٹانے کے لئے محمد رسول اللہ ﷺ معبوث ہوئے ، قریش مکہ کی جس حالت کا ذکر یہاں کیا گیا ہے اس کو قرآن کریم نے بار بار دہرایا ہے کیوں ؟ محض اس لئے کہ جو ٹھوکر گزشتہ قوموں کو لگی وہی قریش مکہ کو بھی لگ چکی اور اب تو اس ٹھوکر سے بچنے کوشش کی جائے لیکن افسوس کہ آج مسلمان اور خصوصا مذہبی پیشوا اور راہنما بھی اس ٹھوکر سے نہ بچ سکے ۔
وہ تضادات کیا ہیں ؟ ایک دو ہوں تو آدمی کہے پورا دین اسلام ہی انہوں نے اس وقت مجموعہ تضادات بنا کر رکھ دیا ہے ۔ مثلا کوئی مکتبہ فکر ایسا نہیں جو انبیاء کرام (علیہ السلام) اور رسل عظام کو معصوم نہ مانتا ہوں لیکن اس کے باو وجود ہر نبی ورسول کے متعلق کتنی کتنی باتیں تسلیم کرتے ہیں جو سراسر عصمت کے خلاف ہیں جیسا کہ آپ پیچھے سے پڑھتے چلے آ رہے ہیں کہ آدم (علیہ السلام) سے لے کر محمد رسول اللہ ﷺ تک ایک ایک نبی ورسول کا حال دیکھتے چلے جاؤ سب کی یہی حالت ہے ، سب مکاتب فکر تسلیم کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا کوئی خالق نہیں اور پھر عیسیٰ (علیہ السلام) اور دوسرے کئی نبیوں ‘ رسولوں اور ولیوں کو خالق بھی مانتے ہیں اور بڑے زور وشور سے کہتے ہیں کہ یہ قرآن کریم میں موجود ہے ، سارے مکاتب فکر (لا یعلم الغیب الا اللہ) کی صدائیں بھی بلند کرتے ہیں اور کسی نہ کسی رنگ میں سب کے سب غیر اللہ کو عالم الغیب بھی تسلیم کرتے ہیں ، سارے مکاتب فکر کو تسلیم ہے کہ اللہ تعالیٰ زندگی عطا کرتا ہے اور وہی مارتا ہے اور وہی زندہ کرے گا اور اس طرح یہ قانون بھی تسلیم ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ ایک بار اس دنیا سے اٹھا لیتا ہے یعنی وفات دے دیتا ہے دوبارہ کبھی نہیں بھیجتا اور پھر جس کو چاہتے ہیں زندہ بھی کرلیتے ہیں اور دنیا میں بھی لے آتے ہیں ۔ گزشتہ قوموں نے اپنے بزرگوں ‘ ولیوں ‘ نبیوں اور رسولوں کی وفات کے بعد ان کے بت بنائے اور اسی طرح ان کی یاد کو تازہ رکھنے کے لئے ان پر منتیں مانیں اور ان کو متبرک سمجھا آج مسلمانوں کی اکثریت نے بھی اپنے نبیوں ‘ رسولوں ‘ ولیوں اور بزرگوں کی یاد کو تازہ رکھنے کے لئے قبریں اور روضے تیار کئے ان پر منتیں مانیں اور ان کو متبرک سمجھا ، سارے مکاتب فکر نے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کو لازم قرار دیا اور پھر رسول کے واضح اور کھلے ارشادات کو چھوڑ کر اپنے تسلیم شدہ اماموں ‘ پیشیواؤں ‘ مجتہدوں ‘ پیروں اور بزرگوں کی باتوں کو حرزجان بنایا ۔ سب نے تسلیم کیا کہ قرآن کریم اپنے ماننے والوں کو بھی اور نہ ماننے والوں کو بھی دعوت فکر و تدبر پیش کرتا ہے اور پھر سب نے یہ راگ بھی الاپا کہ دین میں عقل وفکر اور تدبر کو کچھ دخل نہیں ۔ غور کرو گے تو اس طرح کے بیسیوں نہیں سینکڑوں تضادات پاؤگے ۔ قرآن کریم ان سب سے ایک ہی بات کہتا ہے کہ (افلا تذکرون ‘ ؟ ) اپنے ان مسلمات کی روشنی میں تم آخر اپنے عقائد ونظریات کا جائز کیوں نہیں لیتے ؟ ۔
ایک طرف مانتے ہو اور دوسری طرف اس بات کا انکار کیوں کردیتے ہو ؟ دین کو تم نے مجموعہ تضادات کیوں بنا دیا ہے ؟ تمہارا جو قدم اٹھتا ہے وہ قرآن کریم کے خلاف ہی کیوں اٹھتا ہے ؟ فرمایا اس طرح کے سوالات آپ ﷺ ان سے پوچھتے جائیں ۔
Ayah 23:86آسمانوں اور زمین کا اور عرش عظیم کا رب کون ہے ؟
86۔ فرمایا گیا کہ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ یہ لوگ آسمانوں کے اقراری ہیں ان سے پوچھئے کہ ان ساتوں آسمانوں میں سے کوئی ایک آسمان بھی ایسا ہے جس کسی غیر اللہ نے بنایا ہو ؟ تو بلاشبہ یہ کہیں گے کہ نہیں یہ تو ساتوں کے ساتوں اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہی نے بنائے ہیں ۔ اچھا ! اس عرش عظیم کا خالق ومالک کون ہے ؟ تو آپ ﷺ کو یہ لوگ یہی جواب دیں گے کہ اللہ ہی ان سب کا بنانے والا ہے اور وہ ہی اس سارے نظام کا چلانے والا ہے ۔ فرمایا وہ تمہارے ان سارے سوالوں کا جواب ایک اور صرف ایک ہی دیں گے جیسا کہ اوپر ذکر کیا جا چکا اور وہ کوئی دوسری بات نہیں کہہ سکیں گے پھر آپ ان کی توجہ اس طرف مبذول کرائیں کہ عجیب انسان ہو تم ان سارے تضادات سے بچنے کی ذرا بھی کوشش نہیں کرتے شاید ان کو اس طرح بھی شرم آئے اور یہ لوگ عقل وفکر سے کام لینے لگیں ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب آدمی ڈھیٹ ہوجائے تو شرم اس کے نزدیک بھی نہی چھوتی اس لئے کہ شرم آنکھوں میں ہوتی ہے اور وہ انہوں نے بند کردی ہیں اور آنکھیں کھول کر دیکھنے کے وہ عادی ہی نہیں اور ان کے سارے مذہبی پیشوا اور راہنما ان کو آنکھیں بند کر کے اور ظاہری روشنیاں بجھا کر دیکھنے کی مشق کراتے ہیں اس لئے دین کی طرف سے انکی آنکھیں مکمل طور پر بند ہیں اور زبان سے وہ سب یہی کہتے آئے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ” ان سب کا مالک ومختار اللہ ہے ۔ “ اس لئے ان کی زبانیں اللہ اللہ کرتی ہیں لیکن ان کے دلوں میں اللہ کے لئے کوئی جگہ ہی نہیں ہے بلکہ وہ غیر اللہ کے لئے وقف ہوچکے ہیں اور اس پر طرہ یہ کہ وہ اس تضاد کو تسلیم ہی نہیں کرتے اس لئے سوئے ہوئے کو تو کوئی شاید جگا سکے لیکن ان جاگتے سوئے ہوؤں کو کوئی نہیں جگا سکتا ۔ (رب العرش العظیم) سے مراد کوئی لکڑی ‘ لوہے یا سونے چاندی کا تخت مراد نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے ہمہ گیر اقتدار مطلق کی تعبیر کے لئے استعمال ہوا ہے اور جہاں بھی اس کا ذکر ہوا یہی اس سے مراد ہے لیکن علمائے اسلام کے ہاں یہ بھی ایک معرکہ الآراء بحث کا باعث بن چکا ہے لیکن ہم نے اس کو اصول تفسیر میں بیان کردیا ہے اس لئے اس جگہ مزید وضاحت کی ضرورت نہیں۔
Ayah 23:87وہ پکار پکار کے کہیں گے کہ ان سب کا مالک ومختار تو اللہ ہی ہے :
87۔ ایک ہی بات کو بار بار مختلف رنگوں میں بیان کیا جارہا ہے تاکہ جاہلوں کے دماغ میں کسی نہ کسی طرح یہ بات داخل ہو سکے لیکن یہاں تو یہ بات علماء قوم کے دماغوں میں نہیں آتی عوام تو پہلے ہی کالانعام ہوتے ہیں ۔ بہرحال کسی کے ذہن و دماغ میں آئے یا نہ آئے کہنے والوں کا کام ہے کہ وہ حق بات کو کہتے رہیں منوانا ان کے ذمہ وحصہ کی بات نہیں ہے ۔ بہرحال ان کے منہ سے جو بات نکلتی ہے وہ یہی ہے کہ ان سب کا رب اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی نہیں فرمایا پھر آپ ﷺ بھی ان سے کہہ دیجئے کہ ” تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ ڈرتے نہیں ؟ “ کہ ہم کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں پھر اس کا نتیجہ کیا نکلے گا ؟
Ayah 23:88اچھا ! بتاؤ کہ زمام اقتدار واختیار کس کے قبضہ میں ہے ؟ :
88۔ (ملکوت) کا تعلق ملک سے بھی ہے اور ملک سے بھی ‘ پہلے معنوں میں مراد بادشاہی ہوگی اور دوسرے معنوں میں مالکیت اور دونوں مطلب اس سے مراد لئے جاسکتے ہیں اور پھر یہ بھی کہ یہ صیغہ مبالغہ کا ہے اس لئے گویا ان سے پوچھنے کا حکم ہوا کہ بتاؤ ” ہرچیز پر کامل اور مکمل اختیارات کس کو حاصل ہیں اور کون ہے جو ان سب کا حقیقی مالک ہے اور اقتدار کا اصل مالک کون ہے ؟ “ (آیت) ” وھو یجیر ولا یجار علیہ “۔ ” اور کون ہے وہ جو پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابلہ میں کوئی دوسرا پناہ نہیں دے سکتا ؟ یعنی کون ہے جو اس کے پکڑے ہوؤں کو چھڑا سکے ؟ ہاں ! ہاں ! اگر تم جانتے ہو تو اس کا نام بتاؤ ؟ مشرکین مکہ تو اس استفسار کا کچھ جواب نہ دے سکے مگر یہی کہہ کام تو اللہ تعالیٰ ہی کا ہے کہ وہی سب کو پناہ دینے والا ہے اور اس کے مقابلہ میں کوئی نہیں جو کسی کو پناہ دے سکے اور بلاشبہ اس کے پکڑے ہوؤں کو کوئی نہیں چھڑا سکتا ۔ لیکن مسلمانوں کے سواد اعظم کے پاس اس کا جواب ہے اور وہ بڑے زور وشور سے اس کا جواب یوں سناتے ہیں کہ :
ع ۔ پکڑے خدا تو چھڑائے محمد ﷺ محمد ﷺ کے پکڑے چھڑا کوئی نہیں سکدا :
تعجب کا مقام ہے کہ وہ لوگ جو پناہ دینے والا صرف اور صرف اللہ کو مانیں لین اس کے باوجود وہ دوسروں کو حاجت روا اور مشکل کشا جانیں وہ تو اس عقیدہ رکھنے کے باوجود مشرک قرار دیئے جائیں اور جو عقیدہ ہی یہ بتائیں کہ اصل پناہ دینے والا جس کی پکڑ سے الکلہ بھی کسی کو نہیں چھڑا سکتا وہ تو محمد رسول اللہ ﷺ ہیں اور پھر ان کے طفیل وہ اپنے سارے پیروں ‘ بزرگوں ‘ ولیوں کو بزعم خویش ماننے والا گروہ مسلمانوں کا سواد اعظم قرار دیا جائے اور اس طرح گویا جو خود محمد رسول اللہ ﷺ کے وقت میں مشرک اور مخالف گروہ تھا وہی آج مواحد اور توحید پرست تسلیم کرلیا جائے ‘ آخر کیوں ؟ محض اس لئے کہ یہ سارے مسلمانوں کے سواد اعظم کی خواہش ہے جس کو ٹھکرایا نہیں جاسکتا تو اس کو کیا کہا جائے گا یہی کہ ” جس کی لاٹھی اس کی بھینس ۔ “
Ayah 23:89اے پیغمبر اسلام ! ﷺ ان سے کہئے کہ تمہاری عقل کیوں ماری گئی ہے ؟
89۔ بہرحال بات تو ان مشرکوں کی تھی ان مشرکوں کا تو باوا آدم ہی نرالا ہے ۔ قرآن کریم ان ہی سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ (انی تسحرون) کہاں تمہاری عقل ماری گئی ہے کہ تم ہر سوال کے جواب میں اللہ ‘ اللہ بھی کہتے اور جب عمل کا وقت آتا ہے تو وہی کرتے ہو جو تمہارے آباؤ اجداد کیا کرتے تھے ” یہ جادو تم پر کہاں سے کیا گیا ؟ “ ذرا عقل وفکر سے جواب دو ۔ سحر وجادو کی حقیقت کیا ہے ؟ اس کو ہم پیچھے کئی ایک مقامات پر بیان کرچکے ہیں خصوصا سورة البقرہ کی آیت 102 کے تحت ‘ تفصیل وہیں دیکھیں ۔ مختصر یہ کہ وہ سراسر دھوکا اور فریب ہے علاوہ ازیں کچھ نہیں کہ مکاری اور فریب سے دوسرے کی قوت وہمہ کو متاثر کرلیا جاتا ہے اور ایک چیز کو اس کی اصلی ماہیت اور صحیح صورت کے خلاف بنا کر دکھایا جاتا ہے اور دیکھنے والے کے ذہن میں یہ غلط تاثر پیدا کرتا ہے کہ اس شے کی حقیقت وہ ہے جو بناوٹی طور پر یہ دھوکا باز پیش کر رہا ہے اس لئے آیت میں جو سوال کیا گیا ہے اس کا مطلب یہی ہے کہ کسی نے تم کو اس دھوکا و فریب میں مبتلا کردیا ہے کہ یہ سب باتیں جانتے اور ماننے کے باوجود حقیقت تمہاری سمجھ میں نہیں آتی ؟ کس کا جادو تم پر چل گیا ہے کہ جو مالک نہیں ہیں وہ تم کو مالک نظر آتے ہیں اور جنہیں کوئی اقتدار حاصل نہیں وہ تم کو اصل صاحب اقتدار دکھائی دیتے ہیں بلکہ اس سے بڑھ کر تم کو بندگی کی مستحق محسوس ہوتے ہیں ؟ وہ کون ہے جس نے تمہاری عقل مار دی ہے اور تمہاری آنکھوں پر پٹی باندھ دی ہے ؟ کس نے تم کو اس فریب میں مبتلا کردیا ہے کہ جو ہرچیز کا مالک حقیقی ہے وہ تم سے کبھی نہیں پوچھے گا کہ تم نے میری عطا کردہ چیز کو کس طرح استعمال کیا اور جو ساری کائنات کا بادشاہ ہے وہ کبھی تم سے اس کی باز پرس نہ کرے گا کہ میری بادشاہی میں تم پانی بادشاہیاں چلانے یا دوسروں کی بادشاہیاں ماننے کے کیسے مجاز ہوگئے ؟ سوال کی اس نوعیت پر مزید غور کرو کہ قریش کے لوگ نبی کریم ﷺ پر سحر کا الزام رکھتے تھے کہ اس پر کسی نے جادو کردیا ہے اس طرح گویا سوال کے انہی الفاظ میں یہ مضمون بھی ادا ہوگیا کہ کتنے بیوقوف ہو تم کہ جو شخص تمہیں اصل حقیقت بتاتا ہے اس کو تم سحر زدہ خیال کرتے ہو اور جو لوگ رات دن تم کو خلاف حقیقت باتیں بتاتے ہیں ‘ جنہوں نے تم کو صریح عقل ومنطق کے خلاف ‘ تجربے اور مشاہدے کے خلاف ‘ تمہاری اپنی اعتراف کردہ صداقتوں کے خلاف ‘ سراسر جھوٹی اور بےاصل باتوں کا معتقد بنا دیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ سحر زدہ تم ہو لیکن تمہاری عجیب منطق ہے کہ تم رسول اللہ ﷺ کو سحر زدہ ہی مانتے اور کہتے ہو ۔ یہ حالت تو ان کفار مکہ کی بیان کی جارہی ہے لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ آج مسلمانوں کی اکثریت بھی نبی اعظم وآخر ﷺ کو سحر زدہ ہی مانتی اور تسلیم کرتی ہے حالانکہ آپ ﷺ پر سحر کا الزام بذات خود سراسر جھوٹ ‘ فریب اور مکاری کی واضح دلیل ہے ، قرآن کریم ایسے لوگوں کو مخاطب فرماتے ہوئے کہتا ہے کہ ” پھر کیا ہوا کہ تمہاری عقل ماری گئی ؟ “۔
Ayah 23:90ہم نے سچائی انہیں بتلا دی اور یہ اپنے دعوی میں بالکل جھوٹے ہیں :
90۔ ضدی اور ہٹ دھرم کس کو کہتے ہیں ؟ وہی جو کوئی دلیل نہ رکھتا ہو اور بغیر دلیل کے اپنی بات پر اڑا رہے وہی جو دلائل کے مقابلہ میں باپ دادا کے رسم و رواج کو پیش کرے ، وہی جو یہ کہے کہ کیا کبھی سارے غلط اور ایک صحیح ہو سکتا ہے ، وہی جو بغیر دلیل کے اپنا دعوی پیش کرتا رہے ، وہی جو دلائل کے مقابلہ میں اپنی اکثریت کو پیش کرے ، فرمایا اس بات میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ یہ لوگ جھوٹے ہیں ‘ کون ؟ وہی جو اللہ کے سوا کسی اور کو بھی حاجت روا اور مشکل کشا جانتے اور مانتے ہیں ‘ وہی جو کہتے ہیں کہ زندگی بعد موت ممکن نہیں ہے ۔ وہی جو ایک طرف تو اللہ تعالیٰ کو زمین و آسمان کا مالک اور کائنات کی ہرچیز کا مختار مانتے ہیں اور دوسری طرف ان کاموں میں دوسروں کو بھی شریک کرتے ہیں ، وہی جو متضاد عقائد ونظریات رکھتے ہیں ، وہی جو ایک طرف تو اللہ تعالیٰ کو ہرچیز کو پیدا کرنے والا اور سارے نظام کا چلانے والا تسلیم کرتے ہیں اور دوسری طرف یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ دوبارہ پیدا کیا جانے کا نظریہ ایک ڈھکوسلا ہے ، وہی جو اس دنیا میں پیدا ہونے اور انعامات الہی سے مستفید ہونے کے باوجود آخرت کا انکار کرتے ہیں خواہ اعتقادا خواہ عملا ۔
Ayah 23:91اللہ تعالیٰ نے کسی کو اپنی اولاد نہیں بنایا اور نہ ہی کوئی اور معبود اس کے ساتھ ہے :
91۔ زیر نظر آیت کا روئے سخن کس سے ہے ؟ عام طور پر یہی سمجھا گیا ہے کہ اس سے مراد عیسائی ہیں کیونکہ وہی وہ قوم ہے جس نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو ” ابن اللہ “ قرار دیا ہے ۔ بلاشبہ عیسائیوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو ” ابن اللہ “ کہا لیکن عیسائیوں سے پہلے یہودی بھی عزیر (علیہ السلام) کو ” ابن اللہ “ کہہ چکے تھے اگرچہ عیسائیوں کا ایسا کہنا زیادہ مشہور اور زبان زد خاص وعام ہوگیا تاہم اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ بہت سی قوموں نے اپنے اپنے دور کے مذہبی پیشواؤں کو اس خطاب سے نوازا اور اسی طرح اہل عرب اور خصوصا اہل مکہ بھی دوسری قوموں کی دیکھا دیکھی ایسا خیال رکھتے تھے اور قرآن کریم نے ملائکہ کے متعلق وضاحت سے بیان کیا ہے کہ مشرکین مکہ ان کو اللہ تعالیٰ کی لڑکیاں قرار دیتے ہیں جیسا کہ سورة النحل کی آیت 57 میں اس کا ذکر گزر چکا اور سورة الصفت میں فرمایا ” بھلا ان ان لوگوں سے ذرا پوچھو کیا تمہارے رب کے لئے تو بیٹیاں ہوں اور تمہارے لئے ہوں بیٹے ‘ کیا واقعی ہم نے فرشتوں کو عورتیں بنایا ہے اور یہ لوگ آنکھوں دیکھی بات کہہ رہے ہیں ؟ “ (37 : 149 ‘ 150) اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ زیر نظر آیت سے بھی خطاب کفار مکہ ہی سے ہے اور قرآن کریم اس جہالت پر جھنجھوڑے جا رہا ہے کہ تم لوگ اللہ تعالیٰ کے لئے اولاد منسوب کرتے اور قیاس کے گھوڑے کیوں دوڑاتے ہو اور بغیر تحقیق کے باتیں کیوں کرتے ہو ؟ حالانکہ اس بات کا تم کو بھی اقرار ہے کہ اللہ کے سوا کوئی دوسرا الہ اور معبود نہیں ہے ۔ ہاں ! دوسرے پر چڑھ دوڑتا اور اس طرح یہ سارا نظام ایک دن بھی نہ چل سکتا جو اتنی مدت سے چل رہا ہے اور باقاعدگی کے ساتھ چلتا جا رہا ہے ، یہ خود اس بات کی دلیل ہے کہ اس ساری کائنات کا خالق ومالک صرف اور صرف ایک ہے اور وہی اس کا ناظم بھی ہے ۔ تفصیل اس مضمون کی پیچھے سورة الانبیاء کی آیت 22 اور سورة بنی اسرائیل کی آیت 42 میں گزر چکی ہے وہاں سے ملاحظہ فرمائیں ۔
Ayah 23:92غیب و حاضر کا جاننے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے جس کا کوئی شریک نہیں ہے :
92۔ غیب و حاضر کو جاننے والا صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور اس کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہے جو ہر ایک انسان کی ہر ایک بات کو جانتا ہو ، تمام اشیاء کا علم فقط اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہی کے لئے خاص ہے ۔ عالم الغیب صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے ، انبیاء کرام (علیہ السلام) کو بھی کسی چیز کا علم اس وقت تک حاصل نہیں ہوتا جب تک ان کی طرف وحی الہی نہ ہوتی تھی ۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) کے متعلق علم غیب کے جاننے کا عقیدہ مشرکانہ عقیدہ ہے اور یہ احترام انبیاء نہیں بلکہ انبیاء کرام (علیہ السلام) کی لائی ہوئی تعلیم کے خلاف ایسا عقیدہ رکھنے والے توہین انبیاء کرام (علیہ السلام) کے مرتکب ہوتے ہیں ۔ علم غیب کی نسبت انبیاء کرام (علیہ السلام) اور اولیاء کرام کی طرف کرکے لوگ ضلالت حاصل کرتے رہے ہیں اس لئے قرآن کریم نے اس کو بار بار اور مختلف پیرایوں میں بیان کیا ہے تاکہ بات اچھی طرح واضح ہوجائے ، چناچہ ارشاد الہی ہے کہ :
(آیت) ” وعندہ مفاتح الغیب لا یعلمھا الا ھو ویعلم مافی البر والبحر وما تسقط من ورقۃ الا یعلمھا ولا حبۃ فی ظلمت الارض ولا رطب ولا یابس الا فی کتاب مبین “۔ (7 : 59)
” اور اس کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں اسے اس کے سوا کوئی نہیں جانتا جو کچھ خشکی میں ہے اور جو سمندروں میں ہے سب کا وہ علم رکھتا ہے ‘ درختوں سے کوئی پتہ نہیں گرتا اور زمین کے اندر کے اندھیروں میں کوئی دانہ نہیں پھوٹتا مگر یہ یہ وہ اسے جانتا ہے ‘ کوئی خشک اور تر پھل نہیں گرتا مگر یہ کہ علم الہی کے واضح نوشتہ میں مندرج ہے ۔ “
اور یہی مضمون سورة یونس کی آیت 2 ‘ سورة ہود کی آیت 123 میں بھی پیچھے بڑی وضاحت سے گزر چکا ہے اور سورة الانعام کی آیت 59 میں بھی اس کی تفصیل کی جا چکی ہے تفسیر عروۃ الوثقی میں مذکورہ سورتوں کی نشان زدہ آیات کریمات کی تفسیر دیکھیں وہاں وضاحت کردی گئی ہے اور مزید دیکھنا چاہیں تو یہ مضمون سورة النمل کی آیت 65 ‘ سورة فاطر کی آیت 38 ‘ سورة لقمان کی آیت 34 ‘ سورة الحجرات کی آیت 18 میں موجود ہے وہاں سے دیکھ لیں ۔
Ayah 23:93اے پیغمبر اسلام ! ﷺ اپنے پروردگار سے ہمیشہ دعا کرتے رہئے :
93۔ یہ طریقہ گزشتہ قوموں سے چلتا آرہا ہے کہ ہر نبی ورسول نے جب اپنی قوم کو شرک سے بچنے کی تلقین کی اور قوم نے اس تلقین کو قبول نہ کیا تو ہر نبی ورسول نے قوم کو عذاب الہی کا خوف دلایا اور قوم کے لوگوں نے عذاب الہی کا خوب مذاق اڑایا اور مطالبہ کیا کہ جب ہم آپ ﷺ کی تلقین کے مطابق عمل نہیں کر رہے تو وہ عذاب الہی آکیوں نہیں جاتا ؟ اور رسول سے مطالبہ کیا کہ تم نے جس عذاب کی ہم کو بار بار دھمکی دی ہے اس کو لے کیوں نہیں آتے ؟ قریش کے لوگوں کو جب رسول اللہ ﷺ نے ڈرایا تو انہوں نے بھی وہی مطالبہ کیا جو گزشتہ قومیں کرچکی تھیں کہ اگر تم سچے ہو تو وہ عذاب لے کیوں نہیں آتے ؟ قریش مکہ کی اس طلب کا ذکر پیچھے سورة یونس کی آیت 46 ‘ سورة رعد کی آیت 40 میں گزر چکا ہے ۔ زیر نظر آیت میں نبی اعظم وآخر ﷺ کو دعا سکھائی جا رہی ہے کہ اب قریش کے عذاب کا وقت بھی قریب چلا آرہا ہے آپ ﷺ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ دعا کرتے رہئے کہ ” اے میرے رب ! جن باتوں کا تو نے وعدہ کیا ہے اگر ان کا ظہور میرے سامنے یعنی میری موجودگی میں ہونے والا ہو تو مجھے اپنی امان میں رکھیے کہ میں تو تیرے عذاب کی وہا سے بھی تیری پناہ طلب کرتا ہوں اور دعا کے الفاظ اس طرح وحی کئے گئے ۔
Ayah 23:94رب فلا تجعلنی فی القوم الظلمین :
94۔ اور اے میرے رب ! اگر تو اس عذاب کو میری زندگی ہی میں ان ظالموں پر لانے والا ہے جس سے ان کو ڈرایا جاتا رہا ہے تو مجھے اپنے دامن رحمت میں رکھئے اور ان ظالموں میں نہ کیجئے ، اس طرح کی دعا کا مطلب یہ نہ سمجھا جائے کہ معاذ اللہ نبی اعظم وآخر ﷺ کا اس عذاب میں مبتلا ہوجانے کا کوئی خطرہ موجود تھا ۔ نہیں اور ہرگز نہیں بلکہ اس طرح کے انداز بیان سے یہ تصور دلانا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے کسی بڑے سے بڑے کی بھی نہیں چلتی اور ہر بڑا اس طرح بڑا بن سکتا ہے کہ وہ خوف الہی سے کانپتا رہے اور یہ بھی کہ اس طرح کی دعا ہر ایک انسان کے لئے باعث تقویت ہوتی ہے خواہ وہ کون ہو۔ یہاں تک کہ اللہ کے رسول بھی اسی طرح کی دعاؤں سے تقویت حاصل کرتے رہے اور ہر نبی ورسول نے اپنی امت کو اس بات کا عملی درس دیا کہ عذاب الہی ایک ایسی چیز ہے کہ اس سے ڈرتے ہی رہنا چاہئے اور یہ بھی کہ اجتماعی گناہوں کی پاداش میں جب عذاب کی چکی چلتی ہے تو برے لوگوں کے ساتھ نیک بھی بعض اوقات پس جاتے ہیں خصوصا جبکہ نیکوں کاروں نے خود تو نیکیاں کمائی ہوں لیکن اجتماعی برائیوں کا دفاع نہ کیا ہو اس لئے برے معاشرہ کے اندر رہنے والے نیکو کاروں کو بھی ہر وقت ایسے معاشرہ سے خوفزدہ رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتے رہنا چاہئے کہ کہیں آٹے کے ساتھ گھن بھی نہ پس جائے اور یہ بھی کہ اس میں نبی کریم ﷺ کو مخاطب کرکے آپ ﷺ کی امت کے لوگوں کو یہ بات تلقین کی جا رہی ہے اور قرآن کریم کا یہ انداز خطاب عام ہے کہ وہ نبی اعظم وآخر ﷺ کو مخاطب کرکے آپ ﷺ کی امت کے ہر فرد کو ہدایت کرتا ہے اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس ہدایت کے قبول کرنے کی توفیق دے اور اپنی دعاؤں میں اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آنے کی توفیق طلب کرتے ہی رہیں کہ (رب فلا تجعلنی فی القوم الظلمین) ۔
Ayah 23:95قدرت الہی کی وسعت کا بیان کہ وہ ناساز گار حالات کو سازگار بنا سکتا ہے :
95۔ قدرت الہی کی وسعت کا اندازہ کون کرسکتا ہے ؟ بلاشبہ کوئی انسان بھی اس کا احاطہ نہیں کرسکتا اور ناساز گار حالات کو سازگار بنانے میں اس کو ذرا بھی دیر نہیں لگتی وہ آنکھ جھپکنے میں کچھ سے کچھ کرکے دکھا دیتا ہے ۔ زیر نظر آیت میں ان نامساعد حالات کے باوجود جو اس وقت نبی کریم ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو درپیش تھے بتایا جارہا ہے کہ ہم اس بات پر قادر ہیں کہ آپ ﷺ کی موجودگی میں یعنی آپ ﷺ کی زندگی ہی میں ان کو ان سب باتوں سے دوچار کردیں جن سے آپ ﷺ ان کو ہمارے حکم سے اطلاع دے چکے ہیں اور آپ ﷺ کے ان نامساعد حالات کو بدل کر ساز گار بنا دیں اور یہی کچھ ہوا جس کی تفصیل پیچھے سورة الانفال کی آیت 23 ‘ 24 میں گزر چکی ہے ۔ عروۃ الوثقی کی جلد چہارم میں سورة الانفال کی مذکورہ آیات کی تفسیر ملاحظہ کریں ۔
Ayah 23:96اے پیغمبر اسلام ! ﷺ کو عفو و درگزر کرنے کی ہدایت خاص :
96۔ نبی اعظم وآخر ﷺ کو تلقین کی جارہی ہے کہ آپ ﷺ ان لوگوں کے برے سلوک کا جواب بدستور اپنے اچھے سلوک سے دیتے جائیں کہ ہر ایک انسان کی ظرف سے وہی کچھ نکلے گا جو اس نے اپنے ظرف میں بھرا ہے اور جہالت کا جواب برابر خاموشی سے دیتے چلے جائیں کیونکہ جہالت کا جواب سوائے اس کے کچھ نہیں ہے کیونکہ جاہل جس زبان کو سمجھتا ہے وہ علم کی زبان نہیں ہو سکتی چناچہ محاورہ ہے کہ ” لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے ۔ “ جو جو بدتمیزیاں اور ہرزہ سرائیاں یہ لوگ کر رہے ہم ان سے خوب واقف ہیں اور ان کی کوئی حرکت بھی ہم سے پوشیدہ نہیں آپ ﷺ اپنا کام کئے جائیں اور ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیں ان کی شرارتوں کا مزہ ہم ان کو چکھا دیں گے ان کا سارا معاملہ آپ ﷺ ہم ہی پر چھوڑ دیں ۔ یہی وہ ادب ہے جو نبی اعظم وآخر ﷺ کو سکھایا گیا اور آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ادبنی ربی فاحسن تادیبی ” میرے رب نے مجھے ادب سکھایا اور ادب سکھانے میں کمال کردیا ہے “ اور نبی کریم ﷺ کی پوری زندگی اسی ادب کی عملی تصویر ہے ۔ کاش کہ یہ سبق آج ہمارے قومی ‘ مذہبی اور سیاسی راہنماؤں کو بھی یاد آجائے اور وہ زیادہ نہیں تو ایک دوسرے کو برداشت کرنا ہی سیکھ جائیں ۔ افسوس کہ ہمارا ہر راہنما خواہ مذہبی پیشوا ہو یا سیاسی لیڈر اس سبق کو مکمل طور پر بھول چکا ہے اور ہر طرف سے ہم ” چوما دیگرے نیست “ کی صدائے بازگشت سنائی دیتی ہے ۔
Ayah 23:97دعا کا دوسرا فقرہ جو نبی کریم ﷺ کو تلقین کی گئی :
97۔ دعا کا دوسرا فقرہ نبی اعظم وآخر ﷺ کو یہ سکھایا جا رہا ہے کہ آپ ﷺ برابر دعا کرتے رہیے کہ ” اے میرے رب ! مجھے شیاطین جن وانس کے وسوسوں اور شرور سے محفوظ رکھ ۔ شیاطین کا تعلق شیاطین جن سے بھی ہے اور شیاطین انس سے بھی جیسا کہ دوسری جگہ اس کی وضاحت کی گئی ہے ۔ (ھمزات) جمع ہے ھمزۃ کی اور ھمز کے معنی وہی ہیں جو غمز کے ہیں یعنی ” عیب “ کے وہ اور ھماز عیب لگانے والے کو کہا جاتا ہے اور اہل زبان کا کہنا ہے کہ ھمز پیٹھ پیچھے عیب لگانے والے کو بھی کہا جاتا ہے اور لمز سامنے عیب لگانے والے کو ۔ قریش مکہ نبی اعظم وآخر ﷺ کے متعلق اس طرح کی باتیں اکثر پیٹھ پیچھے ہی کیا کرتے تھے ، بلاشبہ شیاطین کی وسوسہ اندازی اتنی شدید اور سخت ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم شامل حال نہ ہو تو بڑوں بڑوں کی پکڑیاں سربازار اچھالی جاتی ہیں اور ان کے دامن پارسائی کے تار تار ہونے میں کچھ بھی دیر نہیں لگتی ۔ ہمارے نبی کریم ﷺ نے ہم کو دعا سکھائی ہے کہ اس کو پڑھتے رہو اور خوف الہی ہر وقت طاری رکھو ۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اپنے مالک حقیقی سے اسی طرح دعا کیا کرو اللھم انی اعوذبک من الشیطن الرجیم من ھمزہ ونفثہ ونفخہ آپ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ یا رسول اللہ یہ ھمز نفث اور نفخ کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ” ھمز “ وہم وجنون ہے اور ” نفث “ شر ہے اور ” نفخ “ کبر ہے ۔ (لسان العرب) خیال رہے کہ وساوس شیطانی سے پناہ مانگنے کا مطلب یہ ہے کہ جس نے پناہ طلب کی وہ یقینا محفوظ ہوگیا اور اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ آپ ﷺ وساوس شیطانی سے یقینا محفوظ تھے اور ظاہر ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آیا وہ وساوس شیطانی سے محفوظ ہوگیا ۔
Ayah 23:98دعا کا تیسرا فقرہ جو نبی اعظم وآخر ﷺ کو تلقین ہوا : ۔
98۔ ” اے میرے رب ! میں اس سے بھی پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آئیں ۔ “ اے بار الہ ! وہ میرے قریب ہی نہ آنے پائیں تاکہ میں ان کے شر سے دور رہ کر تیری یاد اور تیرے دین اسلام کی خدمت میں لگا رہوں ۔ بلاشبہ انسان اپنی ساری عقل و دانش اور زہد وتقوی کے باوجود شیطان مردود کے دام تزویر میں آسکتا ہے اس لئے اس کی ایک اور صرف ایک ہی صورت ہے کہ اللہ رب العزت اپنے دامن رحمت میں چھپا لے اور اپنے خاص فضل و کرم سے ہر کسی انسان کو اس کے شر سے محفوظ رکھے ۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) اور رسل عظام چونکہ مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں ہوتے تھے اس لئے اہل سنت کا یہ عقیدہ ہے کہ یہی لوگ معصوم عن الخطا تھے اور علاوہ ازیں کسی کو یہ مرتبہ حاصل نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ کسی انسان کی پردہ پوشی فرما دے تو یہ اس کا فضل و کرم ہے ، امام رازی رقم طراز ہیں کہ نبی کریم ﷺ سے ایک شخص نے رات کے وقت نیند نہ آنے کی شکایت کی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ بستر پر لیٹتے وقت یہ پڑھتے رہا کرو اعوذ باللہ وبکلمات اللہ التامات من غضبہ و عقابہ ومن شر عبادہ ومن ھمزات الشیاطین وان یحضرون ۔ ” اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ عبداللہ بن عمر ؓ اپنے سارے بالغ لڑکوں کو یہ کلمات سکھایا کرتے تھے کہ وہ سوتے وقت یہ پڑھ لیا کریں ۔ “ (ابن کثیر بحوالہ مسند احمد) صبح وشام پڑھی جانے والی دعاؤں میں اس دعا کے شروع کے الفاظ بخاری ومسلم میں بھی آتے ہیں ۔ (عن ابی ہریرہ ؓ