23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayahs 23:1–2

قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 23:1 in the Quran reader

تحقیق ایمان والے کامیاب ہوگئے

الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَۙ Open ayah 23:2 in the Quran reader

جو اپنی نماز میں خشوع کرنے والے ہیں

اہل ایمان کی صفات اور ان کی کامیابی کا اعلان ان آیات میں اہل ایمان کی کامیابی کا اعلان فرمایا ہے اور اہل ایمان کی وہ صفات بیان فرمائی ہیں جن کا اہل ایمان کو کامیاب بنانے میں زیادہ داخل ہے۔ فرمایا (قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ ) (تحقیق اہل ایمان کامیاب ہوگئے) اس میں ان لوگوں کی تردید ہے جو دنیاوی چیزوں کو دیکھ کر کامیابی کا فیصلہ کرلیتے ہیں اور یوں سمجھتے ہیں کہ بادشاہ کامیاب ہے کوئی سمجھتا ہے مالدار کامیاب ہیں اور کوئی گمان کرتا ہے کہ بہت بڑی جائداد والا کامیاب ہے کسی کے نزدیک وزیر کامیاب ہے کسی کے نزدیک سفیر، کوئی جمال کو کامیابی کا سبب سمجھتا ہے اور کسی کا فیصلہ یہ ہے کہ جو شخص دنیاوی ہنر اور کمال میں ماہر ہو وہ کامیاب ہے۔ اللہ جل شانہٗ نے فرما دیا کہ اہل ایمان کامیاب ہیں۔ کیونکہ اصل کامیابی آخرت کی کامیابی ہے وہاں اہل ایمان ہی کامیاب ہوں گے وہاں کی کامیابی کے بارے میں فرمایا (فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدْخِلَ الْجَنَّۃَ فَقَدْ فَازَ ) (جو شخص دوزخ سے بچا دیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا سو وہ کامیاب ہوگیا) ۔ اس کے بعد اہل ایمان کے اوصاف بیان فرمائے ان میں پہلا وصف یہ بیان فرمایا (الَّذِیْنَ ھُمْ فِیْ صَلاَتِہِمْ خَاشِعُوْنَ ) (جو اپنی نمازوں میں خشوع کرنے والے ہیں) خشوع کا اصل معنی ہے قلب کا جھکاؤ، جب مومن بندے نماز پڑھیں، ان کا پورا دھیان ظاہراً اور باطناً نماز کی طرف رہنا چاہئے۔ نماز پڑھتے ہوئے نماز سے غافل نہ ہوں اور یہ ذہن میں رہے کہ میری نماز قبولیت کے لائق ہوجائے غفلت کی نماز خشوع کی نماز نہیں ہے جس میں یہ بھی پتہ نہیں ہوتا کہ کیا پڑھا رکوع سجدہ ” تو چل میں آیا “ کے طریقے پر جلدی جلدی کرلیا، سجدہ میں مرغ کی طرح ٹھونگیں مار لیں، لوگوں کو دکھانے کے لیے نماز پڑھ لی، بار بار کپڑوں کو سنبھالا۔ مٹی سے بچایا داڑھی کو کھجایا۔ یہ سب چیزیں خشوع کے خلاف ہیں۔ ایک مرتبہ ایک آدمی نماز پڑھ رہا تھا اور داڑھی سے کھیل رہا تھا اسے دیکھ کر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا (لو خشع قلبہ لخشعت جوارحہ) (اگر اس کے دل میں خشوع ہوتا تو اس کے اعضاء میں بھی خشوع ہوتا یعنی اس کے اعضاء شریعت کے قواعد کے مطابق نماز میں اپنی اپنی جگہ ہوتے) نماز چونکہ دربار عالی کی حاضری ہے اس لیے پوری توجہ کے ساتھ نماز پڑھنے ہوئے تشبیک یعنی انگلیوں میں انگلیاں ڈالنے کی ممانعت فرمائی ہے، کھانے کا اور پیشاب پاخانہ کا تقاضا ہوتے ہوئے نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے، چونکہ یہ چیزیں توجہ ہٹانے والی ہیں۔ ان کی وجہ سے خشوع و خضوع باقی نہیں رہتا جو دربار عالی کی حاضری کی شان کے خلاف ہے۔ حضرت ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب بندہ نماز میں ہوتا ہے تو برابر اس کی طرف اللہ تعالیٰ کی توجہ رہتی ہے جب تک کہ بندہ خود اپنی توجہ نہ ہٹا لے، جب بندہ توجہ ہٹا لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی بھی توجہ نہیں رہتی۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 91) حضرت ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر تم میں سے کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہو تو کنکریوں کو نہ چھوئے کیونکہ اس کی طرف رحمت متوجہ ہوتی ہے۔
Ayah 23:3

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَۙ Open ayah 23:3 in the Quran reader

اور جو لغو باتوں سے اعراض کرنے والے ہیں

اہل ایمان کا دوسرا وصف بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا ( وَالَّذِیْنَ ھُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ ) (اور جو لوگ لغو باتوں سے اعراض کرنے والے ہیں) لغو ہر اس بات اور ہر اس کام کو کہتے ہیں جس کا دنیا و آخرت میں کوئی فائدہ نہیں، مومن بندے نہ لغو بات کرتے ہیں نہ لغو کام کرتے ہیں اور اگر کوئی شخص ان سے لغو باتیں کرنے لگے یا کچھ لوگ لغو کاموں میں لگے ہوں تو یہ حضرات اعراض کر کے کنارہ ہو کر گزر جاتے ہیں۔ جیسا کہ سورة قصص میں فرمایا ہے (وَ اِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْہُ ) (اور جب لغو بات سنتے ہیں تو اس سے کنارہ ہوجاتے ہیں) اور سورة فرقان میں فرمایا (وَالَّذِیْنَ لاَ یَشْہَدُوْنَ الزُّورَ وَاِِذَا مَرُّوا باللَّغْوِ مَرُّوا کِرَامًا) (اور جو جھوٹی گواہی نہیں دیتے اور جب لغو بات پر گزرتے ہیں تو کریموں کے طریقہ پر گزر جاتے ہیں) ۔ غور کرلیا جائے کہ جب لغو بات اور لغو کام (جس میں نہ گناہ ہے نہ ثواب ہے) سے بچنے کی اتنی اہمیت ہے تو گناہوں سے بچنے کی کتنی اہمیت ہوگی ؟ لغو بات لغو کام میں اگرچہ گناہ نہ ہو لیکن اس سے دل کی نورانیت جاتی رہتی ہے اعمال صالحہ کا ذوق نہیں رہتا زبان کو لغو باتوں کی عادت ہوتی ہے پھر یہ لغو باتیں گناہوں میں مشغولیت کا پیش خیمہ بن جاتی ہیں اور لغو بات اور لغو کام کا کیا یہ نقصان کم ہے کہ جتنے وقت لغو بات یا کوئی لغو کام کیا اتنی دیر میں قرآن مجید کی تلاوت یا اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے تو بہت بڑی دولت سے مالا مال ہوجاتے، لغو باتوں سے بہت بڑی دولت کو گنوا دیا۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک صحابی کی وفات ہوگئی تو ایک شخص نے کہا کہ اس کے لیے جنت کی خوشخبری ہے اس کی بات سن کر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم اسے جنت کی خوشخبری دے رہے ہو ہوسکتا ہے کہ اس نے کوئی لایعنی بات کی ہو یا کسی ایسی چیز کے خرچ کرنے میں بخل کیا جو خرچ کرنے سے گھٹتی نہیں۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 413) (جیسے علم سکھانا تھوڑا سا نمک دیدینا کھانا پکانے کے لیے کسی کو آگ یا ماچس کی تیلی دیدینا وغیرہ وغیرہ) اور رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ مِنْ حُسْنِ اِسْلاَمِ الْمَرْءِ تَرْکُہُ مَا لَا یَعْنِیْہِ (انسان کے اسلام کی خوبی میں سے ایک یہ بات ہے کہ جو چیز اس کے کام کی نہ ہوا سے چھوڑ دے) حضرت لقمان سے کسی نے کہا کہ آپ کو جو یہ فضیلت حاصل ہوئی ہے کیسے حاصل ہوئی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ سچی بات کہنے سے امانت ادا کرنے سے اور لایعنی کے چھوڑنے سے مجھے یہ مرتبہ ملا۔ (موطاء مالک)
Ayah 23:4

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوْنَۙ Open ayah 23:4 in the Quran reader

اور جو ادائیگی زکوٰۃ کا کام کرنے والے ہیں،

اہل ایمان کا تیسرا وصف بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا (وَالَّذِیْنَ ھُمْ للزَّکٰوۃِ فَاعِلُوْنَ ) (اور جو لوگ زکوٰۃ ادا کرنے والے ہیں) لفظ زکوٰۃ اپنے لغوی معنی کے اعتبار سے پاک صاف ہونے کے معنی پر دلالت کرتا ہے (اور اسی لیے مال کا ایک حصہ بطور فرض فقراء اور مساکین کو دینے کا نام زکوٰۃ رکھا گیا ہے کیونکہ اس سے نفس بھی بخل سے پاک ہوتا ہے اور مال میں بھی پاکیزگی آجاتی ہے) لغوی معنی کے اعتبار سے بعض مفسرین کرام نے آیت کا یہ مطلب بھی بتایا ہے کہ اپنے نفس کو برے اخلاق سے پاک رکھنے والے ہیں، انسان کے اندر سے بخل، حسد، حب جاہ، حب مال، ریا کے جذبات امنڈ کر آتے ہیں ان رذائل سے پاک ہونا اور نفس کو دبانا، نفس کی اصلاح کرنا یہ بھی (لِلزَّکٰوۃِ فَاعِلُوْنَ ) کا مصداق ہے اسی کو سورة الاعلیٰ میں فرمایا (قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَکّٰی) (وہ شخص کامیاب ہوگیا جو پاک صاف ہوا) ۔
Ayahs 23:5–7

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ Open ayah 23:5 in the Quran reader

اور جو اپنی شرم کی جگہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں

اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ Open ayah 23:6 in the Quran reader

سوائے اپنی بیویوں کے یا ان باندیوں کے جن کے وہ مالک ہوں سو بلاشبہ وہ ان میں اپنی شرم کی جگہوں کو استعمال کرنے پر ملامت کیے ہوئے نہیں

فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْعٰدُوْنَۚ Open ayah 23:7 in the Quran reader

ہیں سو جس نے اس کے علاوہ کچھ تلاش کیا تو وہ لوگ حد سے بڑھ جانے والے ہیں

اہل ایمان کا چوتھا وصف یوں بیان فرمایا (وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِفُرُوْجِہِمْ حَافِظُوْنَ ) (الایات الثلاث) اور جو لوگ اپنی شرم کی جگہوں کی حفاظت کرتے ہیں یہ لوگ اپنی بیویوں اور لونڈیوں سے تو شرعی اصول کے مطابق شہوت پوری کرلیتے ہیں ان کے علاوہ کسی اور جگہ اپنی شرم کی جگہوں کو استعمال نہیں کرتے، بیویوں اور لونڈیوں سے شہوت پوری کرنا چونکہ حلال ہے اس لیے اس پر انہیں کوئی ملامت نہیں ان کے علاوہ اور کسی جگہ کو استعمال کیا تو یہ حد شرعی سے آگے بڑھ جانے والی بات ہوگی جس کی سزا دنیا میں بھی ہے اور آخرت میں بھی۔ آیت کی تصریح سے معلوم ہوا کہ متعہ کرنا بھی حرام ہے (جس کا روافض میں رواج ہے) کیونکہ جس عورت سے متعہ کیا جائے وہ بیوی نہیں ہوتی اسی طرح جانوروں سے شہوت پوری کرنا یا کسی بھی طرح شہوت کے ساتھ منی خارج کرنا یہ سب ممنوع ہے کیونکہ ان سب صورتوں میں شرم کی جگہ کا استعمال نہ بیوی سے ہے نہ باندی سے، باندیوں سے قضائے شہوت کرنے کے کچھ احکام ہیں جو کتب فقہ میں مذکور ہیں، یاد رہے کہ گھروں میں کام کرنے والی نوکرانیاں باندیاں نہیں ہیں اگر ان سے کوئی شخص شہوت پوری کرے گا تو صریح زنا ہوگا کسی بھی آزاد عورت کو اگر کوئی شخص بیچ دے تو اس کا بیچنا اور خریدنا دونوں حرام ہیں اور اس کی قیمت بھی حرام ہے اگر کوئی شخص خرید لے گا اور اس خریدی ہوئی عورت سے شہوت والا کام کرے گا تو زنا ہوگا۔ مسئلہ : جن عورتوں سے نکاح کرنا حرام ہے اگر ان سے نکاح کر بھی لے تب بھی ان سے شہوت پورا کرنا حرام ہی رہے گا۔ مسئلہ : حیض و نفاس کی حالت میں اپنی بیوی اور شرعی لونڈی سے بھی شہوت والا کام کرنا حرام ہے اور یہ بھی (فَاُوْلٰٓءِکَ ھُمُ الْعَادُوْنَ ) میں شامل ہے۔
Ayah 23:8

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ Open ayah 23:8 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنی امانتوں اور عہدوں کی رعایت کرنے والے ہیں

اہل ایمان کا پانچواں اور چھٹا وصف بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا (وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِاَمَانٰتِہِمْ وَعَہْدِہِمْ رَاعُوْنَ ) (اور جو لوگ اپنی امتوں اور عہدوں کی رعایت کرنے والے ہیں) اس میں امانتوں کی حفاظت کا اور جو کوئی عہد کرلیا جائے اس کی حفاظت کا تذکرہ فرمایا ہے اور ان دونوں کی رعایت اور حفاظت کو مومنین کی صفات خاصہ میں شمار فرمایا ہے۔ حضرت انس ؓ نے بیان کیا ہے کہ بہت کم ایسا ہوا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیا ہو اور یوں نہ فرمایا ہو کہ (اَلاَ لاَ اِیْمَانَ لِمَنْ لاَّ اَمَانَۃَ لَہٗ وَ لاَ دِیْنَ لِمَنْ لاَّ عَھْدَلَہٗ ) (خبر دار اس کا کوئی ایمان نہیں جو امانتدار نہیں اور اس کا کوئی دین نہیں جو عہد کا پورا نہیں) ۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 15) اللہ تعالیٰ شانہٗ کے جو اوامرو نواہی ہیں ان کے متعلق جو شرعی ذمہ داریاں ہیں ان کا پورا کرنا فرائض و واجبات کا احترام کرنا اور محرمات و مکروہات سے بچنا یہ سب امانتوں کی حفاظت میں داخل ہے۔ اسی طرح بندوں کی جو امانتیں ہیں خواہ مالی امانت ہو یا کسی بات کی امانت ہو کسی بھی زار کی امانت ہو ان سب کی رعایت کرنا لازم ہے مالوں کی ادائیگی کو کچھ لوگ امانت داری سمجھتے ہیں لیکن عام طور سے دوسری چیزوں میں امانت داری نہیں سمجھتے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ مجلسیں امانت کے ساتھ ہیں۔ (یعنی مجلسوں کی بات آگے نہ بڑھائی جائے) ہاں اگر کسی مجلس میں حرام طریقے پر کسی کا خون کرنے یا زنا کرنے یا ناحق کسی کا مال لے لینے کا مشورہ کیا تو ان چیزوں کو آگے بڑھا دیں۔ ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ جب کوئی شخص بات کہہ دے پھر ادھر ادھر متوجہ ہو (کہ کسی نے سنا تو نہیں) تو یہ بات امانت ہے۔ (رواہ الترمذی و ابوداؤد) رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ یہ بہت بڑی خیانت ہے کہ تو اپنے بھائی سے کوئی بات کہے جس میں وہ تجھے سچا سمجھ رہا ہو اور تو اس سے جھوٹ بول رہا ہو۔ (مشکوٰۃ المصابیح) ایک حدیث میں ارشاد ہے ان المستشار موتمن (بلاشبہ جس سے مشورہ لیا جائے وہ امانت دار ہے) یعنی مشورہ لینے والے کو وہی مشورہ دے جو اس کے حق میں بہتر ہو۔ (رواہ الترمذی) امانت داری بہت بڑی صفت ہے خیانت منافقوں کا کام ہے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا منافق کی تین نشانیاں ہیں اگرچہ وہ روزہ رکھے اور نماز پڑھے اور مسلمان ہونے کا دعویٰ کرے۔ (1) جب بات کرے تو جھوٹ بولے۔ (2) جب وعدہ کرے تو خلاف کرے۔ (3) اور اگر اس کے پاس امانت رکھ دی جائے تو خیانت کرے۔ (رواہ مسلم) امانتوں کی حفاظت کے ساتھ عہد کی حفاظت کو بھی مومنین کی صفات خاص میں شمار فرمایا ہے مومن بندوں کا اللہ تعالیٰ سے عہد ہے کہ اس کے فرمان کے مطابق چلیں گے تمام اعمال و احوال میں اس کا خیال رکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان برادر ہو کر رہیں اور نافرمانی نہ کریں اور بندوں سے جو کوئی معاہدہ ہوجائے کسی بات کا وعدہ کرلیں تو اس کو پورا کریں بشرطیکہ گناہ کا معاہدہ نہ ہو۔ بہت سے لوگ قرض لے لیتے ہیں اور ادائیگی کی تاریخ مقرر کردیتے ہیں پھر تاریخ آجانے پر ادائیگی کا انتظام نہیں کرتے بلکہ انتظام ہوتے ہوئے بھی ٹالتے ہیں یہ سب بد عہدی میں آتا ہے، اور اس کے علاوہ بہت سی صورتیں ہیں جو روز مرہ پیش آتی رہتی ہیں، جن لوگوں کا دینی مزاج نہیں ہوتا وہ عہد اور وعدہ کی خلاف ورزی کو کوئی وزن نہیں دیتے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس میں چار چیزیں ہوں گی وہ خالص منافق ہوگا، اور جس کے اندر ان میں سے ایک خصلت ہوگی اس کے اندر منافقت کی ایک خصلت شمار ہوگی وہ چار خصلتیں یہ ہیں۔ (1) جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے (2) جب بات کرے تو جھوٹ بولے (3) جب معاہدہ کرے تو دھوکہ دے (4) جب جھگڑا کرے تو گالیاں بکے۔ (رواہ البخاری و مسلم) حضرت عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم مجھے چھ چیزوں کی ضمانت دیدو میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔ (1) جب بات کرو تو سچ بولو۔ (2) وعدہ کرو تو پورا کرو۔ (3) جب تمہارے پاس امانت رکھی جائے تو اس کو ادا کرو۔ (4) اپنی شرم کی جگہوں کو محفوظ رکھو۔ (5) اپنی آنکھوں کو نیچے رکھو۔ (یعنی کسی جگہ ناجائز نظر نہ ڈالے۔ ) (6) اور اپنے ہاتھوں کو (بیجا استعمال کرنے سے) روکے رکھو۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 415)
Ayah 23:9

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَوٰتِهِمْ یُحَافِظُوْنَۘ Open ayah 23:9 in the Quran reader

اور جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرنے والے ہیں

اہل ایمان کے اوصاف بیان کرتے ہوئے مزید ارشاد فرمایا (وَالَّذِیْنَ ھُمْ عَلٰی صَلَوَاتِہِمْ یُحَافِظُوْنَ ) (اور وہ اپنی نمازوں کی پابندی کرتے ہیں) اس میں تمام نمازیں پابندی سے پڑھنے کی فضیلت بیان فرمائی۔ جو لوگ ایسی نماز پڑھتے ہیں کہ کبھی پڑھی کبھی نہ پڑھی وہ لوگ اس فضیلت کے مستحق نہیں جس کا یہاں بیان ہو رہا ہے۔ حضرت عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا پانچ نمازیں اللہ تعالیٰ نے فرض کی ہیں، جس نے اچھی طرح وضو کیا اور انہیں بروقت ادا کیا اور ان کا رکوع اور سجود پورا کیا اس کے لیے اللہ کا عہد ہے کہ اس کی مغفرت فرما دے گا، اور جس نے ایسا نہ کیا تو اس کے لیے اللہ کا کوئی عہد نہیں اگر چاہے اس کی مغفرت فرما دے اور چاہے تو اس کو عذاب دے۔ (رواہ ابو داؤد) ۔ اور حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن نماز کا تذکرہ فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ جس نے نماز کی پابندی کی قیامت کے دن اس کے لیے نماز نور ہوگی اور (ایمان کی) دلیل ہوگی اور جو بےنمازی ہے وہ قیامت کے دن قارون فرعون ہامان اور ابی بن خلف کے ساتھ ہوگا۔ (رواہ الدارمی جلد 2 صفحہ 211 و البیہقی فی شعب الایمان کمافی المشکوٰۃ)
Ayahs 23:10–11

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَۙ Open ayah 23:10 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں کو میراث پانے والے ہیں۔

الَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَ١ؕ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 23:11 in the Quran reader

جو فردوس کے وارث ہوں گے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

مومنین کے خاص سات اوصاف بیان فرمانے کے بعد (جن میں اول نمبر خشوع کے ساتھ نماز پڑھنا اور آخر میں نماز کی پابندی کرنا ہے) ان مومنین کو بشارت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا (اُولٰٓءِکَ ھُمُ الْوَارِثُوْنَ الَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَ ھُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْنَ ) (یہ وہ لوگ ہیں جو فردوس کے وارث ہونگے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے) رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ جب تم اللہ سے سوال کرو تو فردوس کا سوال کرو کیونکہ وہ جنت کا سب سے اچھا اور سب سے بلند مقام ہے اور اس کے اوپر رحمن کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی چاروں نہریں پھوٹتی ہیں۔ (رواہ البخاری)
Ayahs 23:12–13

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ طِیْنٍۚ Open ayah 23:12 in the Quran reader

اور یہ واقعی بات ہے کہ ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصہ سے بنایا

ثُمَّ جَعَلْنٰهُ نُطْفَةً فِیْ قَرَارٍ مَّكِیْنٍ۪ Open ayah 23:13 in the Quran reader

پھر ہم نے اسے ٹھہرنے کی جگہ میں نطفہ کی صورت میں رکھا

اللہ تعالیٰ کی شان خالقیت، تخلیق انسانی کا تدریجی ارتقاء حیات دنیاوی کے بعد موت، پھر وقوع قیامت ان آیات میں تخلیق انسانی کے مختلف ادوار بتائے ہیں اور آخر میں فرمایا ہے کہ دنیا کا وجود دائمی نہیں ہے آخر مرجاؤ گے اور یہاں سے چلے جاؤگے، اور مرنے پر ہی بس نہیں ہے اس کے بعد قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے۔ (پھر زندگی کے اعمال کا حساب ہوگا) اولاً حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق بیان فرمائی جو اول الانسان ہیں اور فرمایا کہ ہم نے انسان کو طین یعنی کیچڑ کے خلاصہ سے پیدا کیا۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے پوری زمین سے ایک مٹھی مٹی لے لی (اس مٹھی سے انسان کا پتلا بنایا پہلے خشک مٹی تھی پھر پانی ڈالا گیا تو کیچڑ بن گئی پھر اس کیچڑ سے پتلا بنایا گیا۔ پھر اس میں روح پھونک دی) سو آدم کی اولاد زمین کے اسی حصہ کے مطابق وجود میں آئی جس کو زمین کا حصہ پہنچ گیا۔ ان میں سرخ بھی ہیں سفید بھی، کالے بھی اور ان کے درمیان بھی (یہ رنگ کے اعتبار سے ہوا) نرم بھی ہیں اور سخت بھی، اور خبیث بھی اور طیب بھی (یہ فرق مزاج اور طبیعت کے اعتبار سے ہوا۔ ) (رواہ الترمذی و ابو داؤد، مشکوٰۃ المصابیح ص 22) یہ جو زمین سے مٹی لی گئی تھی جس سے آدم (علیہ السلام) کی تخلیق ہوئی اسے (سُلاَلَۃٍ مِّنْ طینٍ ) (کیچڑ کا خلاصہ فرمایا) یہ تفسیر اس صورت میں ہے جبکہ الانسان سے حضرت آدم (علیہ السلام) کی شخصیت مراد لی جائے اور بعض حضرات نے فرمایا کہ سلالۃ من طین سے غذائیں مراد ہیں جنہیں انسان کھاتا ہے پھر ان سے خون بنتا ہے پھر خون سے منی کا نطفہ بنتا ہے پھر اس نطفہ سے اولاد پیدا ہوتی ہے پھر فرمایا کہ اس کے بعد ہم نے انسان کو (یعنی کچھ مدت کے بعد پیدا ہونے والے بچہ کو) نطفہ بنایا نطفہ کی حالت میں ٹھہرنے کی جگہ یعنی ماں کے رحم میں رکھ دیا۔ یہ نطفہ رحم مادر میں مقرر وقت تک رہتا ہے پھر اللہ تعالیٰ اس نطفہ کو علقہ یعنی جما ہوا خون بنا دیتا ہے پھر کچھ عرصہ کے بعد یہ جما ہوا خون اللہ تعالیٰ کی تخلیق سے مضغہ یعنی بوٹی بن جاتا ہے پھر اللہ تعالیٰ اس بوٹی کے بعض حصوں کی ہڈیاں بنا دیتا ہے، پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھا دیتا ہے، پھر اس میں اللہ کے حکم سے روح پھونک دی جاتی ہے شروع میں تو نطفہ بےجان تھا پھر اتنے ادوار سے گزرا پھر ماں کے پیٹ سے باہر آیا تو کان آنکھ ناک والی بنی بنائی جاندار مورتی سامنے آگئی،
Ayahs 23:14–16

ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظٰمًا فَكَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْمًا١ۗ ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَ١ؕ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَؕ Open ayah 23:14 in the Quran reader

پھر ہم نے اس نطفہ کو خون کا لوتھڑا بنایا پھر ہم نے اس لوتھڑے کو بوٹی بنا دیا، پھر ہم نے اس بوٹی کو ہڈیاں بنا دیا پھر ہم نے ان ہڈیوں کو گوشت پہنا دیا، پھر ہم نے اس کو دوسری طرح کی مخلوق بنا دیا، سو بابرکت ہے اللہ کی ذات جو سب صناعوں سے بہتر ہے،

ثُمَّ اِنَّكُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ لَمَیِّتُوْنَؕ Open ayah 23:15 in the Quran reader

پھر بلاشبہ اس کے بعد تم ضرور ہی مرجانے والے ہو،

ثُمَّ اِنَّكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ تُبْعَثُوْنَ Open ayah 23:16 in the Quran reader

پھر بلاشبہ تم قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے۔

اس کو فرمایا۔ (ثُمَّ اَنشَءْنٰہُ خَلْقًا آخَرَ ) (پھر ہم نے اسے دوسری مخلوق بنا دی) (فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ ) (سو بابرکت ہے اللہ جو تمام صناعوں یعنی کاریگروں سے بہتر ہے) دوسرے جو کاریگر ہیں وہ تو خود ہی اللہ کی مخلوق ہیں ان کو اللہ نے جیسا چاہا پیدا فرمایا اور ان میں جو کوئی کاریگر کسی طرح کی کوئی کاریگری دکھاتا ہے اسے اس کی کوئی طاقت نہیں ہے کہ کسی چیز کو وجود میں لے آئے۔ اللہ تعالیٰ کی پیدا فرمودہ جو چیزیں ہیں انہی میں جوڑ توڑ لگا کر اور کچھ تراش خراش کر کوئی چیز بنا لیتے ہیں اور وہ بھی اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی عقل و فہم اور سمع و بصر سے ہوتا ہے۔ (ثُمَّ اِِنَّکُمْ بَعْدَ ذٰلِکَ لَمَیِّتُوْنَ ) (پھر بلاشبہ تم اس کے بعد ضرور ہی مرجانے والے ہو) (ثُمَّ اِِنَّکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ تُبْعَثُوْنَ ) (پھر بلاشبہ تم قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے) ۔
Ayahs 23:17–19

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعَ طَرَآئِقَ١ۖۗ وَ مَا كُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غٰفِلِیْنَ Open ayah 23:17 in the Quran reader

اور یہ واقعی بات ہے کہ ہم نے تمہارے اوپر سات طرائق پیدا کیے ہیں اور ہم مخلوق سے بےخیر نہیں ہیں۔

وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ فَاَسْكَنّٰهُ فِی الْاَرْضِ١ۖۗ وَ اِنَّا عَلٰى ذَهَابٍۭ بِهٖ لَقٰدِرُوْنَۚ Open ayah 23:18 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان سے خاص مقدار کے مطابق پانی اتارا پھر ہم نے اسے زمین میں ٹھہرایا اور ہم اس کے معدوم کرنے پر قادر ہیں۔

فَاَنْشَاْنَا لَكُمْ بِهٖ جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ١ۘ لَكُمْ فِیْهَا فَوَاكِهُ كَثِیْرَةٌ وَّ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَۙ Open ayah 23:19 in the Quran reader

پھر ہم نے اس کے ذریعہ تمہارے لیے کھجور اور انگور کے باغ پیدا کیے ان میں تمہارے لیے بکثرت میوے ہیں اور ان میں سے تم کھاتے ہو،

آسمانوں کی تخلیق، خاص مقدار کے موافق بارش ہونا اور اس کے ذریعہ باغیچوں میں پیداوار ہونا ان آیات میں اللہ جل شانہٗ نے آسمانوں کو پیدا فرمانے اور آسمان سے پانی برسانے اور اس کے ذریعہ درخت اگانے کا تذکرہ فرمایا یہ سب انسانوں کے لیے بڑی نعمتیں ہیں۔ اول یوں فرمایا ہے کہ ہم نے تمہارے اوپر (سَبْعَ طَرَاءِقَ ) سات راستے بنائے ہیں مفسرین نے فرمایا ہے کہ ان سے سات آسمان مراد ہیں ان کو سبع طرائق یا تو اس لیے فرمایا ہے کہ سات آسمان اوپر نیچے بنائے ہیں اور یا اس اعتبار سے سبع طرائق فرمایا کہ ان میں فرشتوں کے آنے جانے کے راستے ہیں مزید فرمایا (وَمَا کُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غَافِلِیْنَ ) (اور ہم مخلوق سے غافل نہیں ہیں) یعنی بیخبر نہیں اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق سے نہ پہلے غافل تھا اور نہ اب غافل ہے کوئی بڑی مخلوق ہو یا چھوٹی اس نے اپنی حکمت کے موافق جس کو جیسا چاہا اور جب چاہا پیدا فرما دیا۔ ثانیاً یوں فرمایا کہ ہم نے آسمان سے ایک مقدار کے مطابق پانی نازل فرمایا پانی اگر ضرورت سے زیادہ برس جائے تو سیلاب آجاتا ہے اس سے انسان اور جانوروں اور کھیتوں کو نقصان پہنچ جاتا ہے اور اگر پانی کم برسے تو اس سے ضرورتیں پوری نہیں ہوتیں عموماً اللہ تعالیٰ مناسب مقدار میں پانی نازل فرماتا ہے یہ پانی کھیتوں میں اور باغوں میں پہنچاتا ہے جس کی وجہ سے سبزی اور شادابی آجاتی ہے۔ اور پانی کا ایک بہت بڑا حصہ تلابوں میں گڑھوں میں اور ندیوں میں ٹھہر جاتا ہے اس پانی سے انسان پیتے بھی ہیں اور نہاتے بھی ہیں اور دوسری ضرورتوں میں بھی استعمال کرتے ہیں، نیز جانور بھی پانی پیتے ہیں اگر پانی ایک دم برس کر بہہ کر چلا جائے اور اللہ تعالیٰ اسے زمین میں نہ ٹھرائے تو مذکورہ فوائد حاصل نہیں ہوسکتے زمین میں ٹھہرانے سے پہلے یا بعد اس پانی کو معدوم کرنے پر اللہ تعالیٰ کی قدرت ہے اسی کو فرمایا ہے (وَاِِنَّا عَلٰی ذَھَابٍ بِّہٖ لَقٰدِرُوْنَ ) (اور بلاشبہ ہم اس کو معدوم کرنے پر ضرور قادر ہیں) ۔ ثالثا یوں فرمایا کہ پانی کے ذریعہ کھجوروں اور انگوروں کے باغ پیدا کیے، ان کھجوروں اور باغوں میں تمہارے لیے منافع ہیں، ایک نفع تو یہ ہے کہ تروتازہ مال ہے درخت سے توڑو اور کھاؤ، میٹھا بھی ہے اور مزے دار بھی، قوت و صحت کے لیے بھی مفید ہے نہ پکانے کی ضرورت نہ مصالحہ نمک ملانے کی حاجت، اور دوسرا فائدہ یہ ہے کہ ان کو سکھا کر رکھ لیتے ہیں جو میوے بن جاتے ہیں اور ان میووں کو اگلی فصل تک کھاتے رہتے ہیں انگور سے منقی اور کشمش تیار کرلیتے ہیں اور کھجوروں سے چھوارے بنا لیتے ہیں اس کو فرمایا (لَکُمْ فِیْہَا فَوَاکِہُ کَثِیْرَۃٌ وَّمِنْہَا تَاْکُلُوْنَ ) اور انگور کے باغ پیدا کیے اس میں تمہارے لیے میوے ہیں اور اس میں سے تم کھاتے ہو) ۔
Ayah 23:20

وَ شَجَرَةً تَخْرُجُ مِنْ طُوْرِ سَیْنَآءَ تَنْۢبُتُ بِالدُّهْنِ وَ صِبْغٍ لِّلْاٰكِلِیْنَ Open ayah 23:20 in the Quran reader

اور ہم نے ایک درخت پیدا کیا جو طور سیناء سے تیل لیے ہوئے اگتا ہے اور کھانے والوں کے لیے سالن لے کر اگتا ہے۔

پھر فرمایا (وَشَجَرَۃً تَخْرُجُ مِنْ طُوْرِ سَیْنَاءَ ) (اور ہم نے تمہارے لیے ایک درخت کو پیدا کیا جو طور سیناء سے نکلتا ہے) وہ تیل لے کر اور کھانے والوں کے لیے سالن لے کر اگتا ہے اس سے زیتون کا درخت مراد ہے اس کو سورة النور میں شجرہ مبارکہ (برکت والا درخت) فرمایا ہے اور سورة والتین میں اللہ تعالیٰ نے اس کی قسم کھائی ہے، یہ درخت بڑے منافع اور فوائد کا درخت ہے اس کے دو فائدے تو یہاں اسی آیت میں بیان فرما دیئے ہیں۔ اول تو یہ اس کا تیل بہت نافع ہے بہت سے کاموں میں آتا ہے دوسرا فائدہ یہ ہے کہ اس میں روٹی ڈبو کر کھاتے ہیں اور سالن کی جگہ استعمال کرتے ہیں، اور خود زیتون کے دانے بھی روٹی سے اور بغیر روٹی ڈبو کر کھاتے ہیں زیتون کا درخت زیادہ تر ملک شام میں ہوتا ہے شام ہی میں طور سیناء ہے جسے سورة والتین میں وطور سینین فرمایا ہے یہ تو عام طور سے پڑھے لکھے لوگ جانتے ہی ہیں کہ طور ایک پہاڑ ہے جس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مدین سے مصر کو آتے ہوئے آگ دیکھی تھی پھر جب وہاں آگ لینے کے لیے گئے تو پہلی بار خالق کائنات جل مجدہ سے ہم کلامی کا شرف حاصل ہو اب رہی یہ بات کہ سیناء اور سینین کا کیا مطلب ہے ؟ سو حضرت مجاہد تابعی نے فرمایا کہ یہ دونوں برکت کے معنی میں ہیں اور حضرت قتادہ نے فرمایا کہ اس کا معنی ہے۔ الجبل الحسن اور حضرت مجاہد تابعی کا ایک یہ قول ہے کہ سیناء مخصوص پتھروں کا نام ہے جو طور پہاڑ کے پاس ہوتے ہیں اس لیے ان کی طرف نسبت کی گئی ہے اور حضرت عکرمہ نے فرمایا سیناء اس جگہ کا نام جس میں طور پہاڑ واقع ہے۔ (معالم التنزیل جلد 3 صفحہ 302)
Ayahs 23:21–22

وَ اِنَّ لَكُمْ فِی الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً١ؕ نُسْقِیْكُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْنِهَا وَ لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ كَثِیْرَةٌ وَّ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَۙ Open ayah 23:21 in the Quran reader

اور بلاشبہ تمہارے لیے چوپایوں میں عبرت ہے، ہم انہیں میں سے پلاتے ہیں جو ان کے پیٹوں میں ہے، اور تمہارے لیے ان میں بہت منافع ہیں اور ان میں سے تم کھاتے ہو،

وَ عَلَیْهَا وَ عَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَ۠ Open ayah 23:22 in the Quran reader

اور ان چوپایوں پر اور کشتیوں پر اٹھائے جاتے ہیں۔

جانوروں کے منافع، کشتیوں پر بار برداری کا نظام درختوں کے فوائد بتانے کے بعد چوپاؤں کے منافع بیان فرمائے، انسانوں کو ان سے بڑے بڑے فائدے حاصل ہوتے ہیں ان کا دودھ بھی پیتے ہیں گوشت بھی کھاتے ہیں ان کے بالوں کو کاٹ کر کپڑے اور اوڑھنے بچھونے کی چیزیں بنا لیتے ہیں اور ان پر سوار ہوتے ہیں۔ جیسے بنی آدم کی نسلیں چل رہیں ہے اسی طرح چوپایوں میں بھی تناسل کا سلسلہ چل رہا ہے اللہ تعالیٰ نے جانروں کو انسانوں کے لیے مسخر فرمایا یہ بھی اللہ تعالیٰ کا بڑا انعام ہے۔ آخر میں کشتیوں کا بھی تذکرہ فرمایا ہے کشتیوں پر بھی سوار ہوتے ہیں سامان لادتے ہیں اور دور دراز کا سفر کرتے ہیں۔ کشتیاں بنانے کا الہام فرمانا اور ان کے بنانے کے طریقے سکھانا پھر پانی میں ان کا جاری فرمانا یہ بھی اللہ تعالیٰ کے انعامات ہیں۔ سورة البقرہ میں (وَ الْفُلْکِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِی الْبَحْر) کی تفسیر کا مطالعہ کرلیا جائے۔
Ayahs 23:23–30

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 23:23 in the Quran reader

اور یہ واقعی بات ہے کہ ہم نے نوح کو ان کی قوم طرف بھیجا سو انہوں نے کہا کہ اے میری قوم تم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے کیا تم ڈرتے نہیں ہو،

فَقَالَ الْمَلَؤُا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۙ یُرِیْدُ اَنْ یَّتَفَضَّلَ عَلَیْكُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَنْزَلَ مَلٰٓئِكَةً١ۖۚ مَّا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَۚ Open ayah 23:24 in the Quran reader

سو ان کی قوم کے سرداروں نے کہا جنہوں نے کفر اختیار کیا کہ یہ شخص تمہارے ہی جیسا آدمی ہے۔ یہ چاہتا ہے کہ تم پر فضیلت والا بن کررہے اور اگر اللہ چاہتا تو فرشتوں کو نازل فرما دیتا ہم نے تو یہ بات اپنے باپ دادوں میں نہیں سنی جو ہم سے پہلے تھے،

اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ فَتَرَبَّصُوْا بِهٖ حَتّٰى حِیْنٍ Open ayah 23:25 in the Quran reader

اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے کہ اس کو جنون ہوگیا ہے سو تم کچھ وقت تک اس کا انتظار کرلو۔

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا كَذَّبُوْنِ Open ayah 23:26 in the Quran reader

نوح نے عرض کیا کہ اے میرے رب اس سبب سے کہ انہوں نے مجھے جھٹلایا میری مدد فرمائیے

فَاَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِ اَنِ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا فَاِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوْرُ١ۙ فَاسْلُكْ فِیْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْهِ الْقَوْلُ مِنْهُمْ١ۚ وَ لَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 23:27 in the Quran reader

سو ہم نے نوح کی طرف وحی بھیجی کہ ہمارے سامنے اور ہماری وحی سے کشتی بنا لو پھر جب ہمارا حکم پہنچے اور تنور سے پانی پھوٹ نکلے تو ہر جوڑے سے دو عدد یعنی ایک ایک نر ایک ایک مادہ کشتی میں داخل کردینا اور اپنے گھر والوں کو بھی سوائے اس کے جس پر ان میں سے پہلے بات طے ہوچکی ہے۔ اور ان لوگوں کے بارے میں مجھ سے خطاب نہ کرنا جنہوں نے ظلم کیا، بلاشبہ وہ غرق کیے جانے والے ہیں،

فَاِذَا اسْتَوَیْتَ اَنْتَ وَ مَنْ مَّعَكَ عَلَى الْفُلْكِ فَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ نَجّٰىنَا مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:28 in the Quran reader

سو جب تم اور وہ لوگ جو تمہارے ساتھ ہیں ٹھیک طرح کشتی میں بیٹھ جائیں تو یوں کہنا کہ سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے ہمیں ظالم قوم سے نجات دی،

وَ قُلْ رَّبِّ اَنْزِلْنِیْ مُنْزَلًا مُّبٰرَكًا وَّ اَنْتَ خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ Open ayah 23:29 in the Quran reader

اور تم یوں دعا کرو کہ اے میرے رب مجھے برکت کا اتارنا اتاریو اور آپ اتارنے والوں میں سب سے بہتر ہیں،

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ وَّ اِنْ كُنَّا لَمُبْتَلِیْنَ Open ayah 23:30 in the Quran reader

بلاشبہ اس میں نشانیاں ہیں اور بلاشبہ ہم ضرور آزمانے والے ہیں۔

حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو توحید کی دعوت دینا، اور نافرمانی کی وجہ سے قوم کا غرق آب ہونا اس رکوع میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت توحید اور ان کی قوم کی تکذیب کی وجہ سے طوفان میں غرق کیے جانے کا تذکرہ فرمایا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم بت پرست تھی ان کے بتوں کے نام سورة نوح کے دوسرے رکوع میں مذکور ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے انہیں تبلیغ کی اور توحید کی دعوت دی اور فرمایا کہ تمہارا معبود صرف اللہ ہی ہے اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ صرف اسی کی عبادت کرو تم اس سے کیوں نہیں ڈرتے کہ اللہ کی طرف سے تمہاری گرفت ہوجائے اور تم پر عذاب آجائے۔ ہر قوم کے سردار اور چودھری حق قبول کرنے سے بچتے ہیں نہ خود قبول کرتے ہیں اور نہ اپنے عوام کو قبول کرنے دیتے ہیں۔ عوام میں جو دنیاوی اعتبار سے نیچے درجہ کے لوگ ہوتے ہیں وہ آگے بڑھنے اور حق قبول کرنے کی ہمت کرلیتے ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے چودھری اور سرداروں نے بھی وہی طریقہ اختیار کیا اور کہنے لگے کہ یہ شخص جو اپنے بارے میں کہہ رہا ہے کہ میں اللہ کا نبی ہوں اس میں ہمیں تو کوئی خاص بات نظر نہیں آتی جیسے تم آدمی ہو ایسا ہی یہ آدمی ہے، مقصد اس کا یہ ہے کہ تمہارا بڑا بن کر رہے اور تم اس کے ماتحت رہو اگر اللہ کو کوئی پیغمبر بھیجنا ہی تھا تو اس کے لیے فرشتوں کو نازل فرما دیتا جو ہمیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیتا یہ جو کہتا ہے کہ تم اپنے معبودوں کو چھوڑو اور صرف ایک معبود کی عبادت کرو اور اسی ایک معبود کو تنہا وحدہٗ لا شریک بتاتا ہے یہ بات ہم نے اپنے باپ دادوں میں کبھی نہیں سنی جو ہم سے پہلے گزر گئے، ان چودھریوں نے یہ بھی کہا کہ ہمارے خیال میں تو یہ بات آتی ہے کہ اس شخص پر دیوانگی سوار ہے دیکھو اس کا معاملہ کس کل بیٹھتا ہے تم انتظار کرلو۔ ممکن ہے کہ اس کی دیوانگی ختم ہوجائے اور بہرحال اس کو موت تو آ ہی جائے گی موت پر اس کے سارے دعوے رکھے ہی رہ جائیں گے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اس سبب سے کہ انہوں نے مجھے جھٹلایا ہے میری مدد فرمائیے اللہ تعالیٰ نے ان کی مدد فرمائی اور عظیم طوفان آیا جس میں سب کافر غرق ہوگئے، اللہ تعالیٰ نے پہلے تو انہیں کشتی بنانے کا حکم فرمایا پھر جب کشتی بنا لی تو حکم فرمایا کہ اس میں اپنے اہل و عیال کو اور تمام مومنین کو (جو تھوڑے سے تھے) ساتھ لے کر سوار ہوجاؤ۔ ہاں تمہارے اہل و عیال میں سے جو شخص ایمان نہیں لایا اسے اپنے ساتھ نہ کرنا اور ان کے بارے میں مجھ سے خطاب بھی نہ کرنا یعنی ان کی نجات کے بارے میں درخواست نہ کرنا کیونکہ یہ لوگ ڈبوئے جانے والے ہیں، (حضرت نوح (علیہ السلام) کی بیوی اور ایک بیٹا ایمان نہیں لایا تھا) جو جانور چرندے پرندے اور دوسری چیزیں زمین پر بسنے والی تھیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان میں سے ایک ایک جوڑا لے کر کشتی میں سوار کرلو، کیونکہ حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ طوفان کے بعد ان کے بھی نسلیں چلیں، چناچہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان کو بھی کشتی میں سوار فرما لیا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا کہ جب تم اور تمہارے ساتھی اچھی طرح کشتی میں سوار ہوجاؤ تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے یوں کہنا۔ (اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ نَجّٰنَا مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِیْنَ ) (سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے ہمیں ظالم قوت سے نجات دی) اور مزید یہ دعا بھی تلقین فرمائی (رَّبِّ اَنزِلْنِیْ مُنْزَلًا مُّبَارَکًا وَّاَنْتَ خَیْرُ الْمُنزِلِیْنَ ) (اے میرے رب مجھے ایسی جگہ میں اتارئیے جو مبارک ہو اور آپ سب بہتر اتارنے والوں میں سے ہیں) جب کشتی میں سوار ہوئے تو (بِسْمِ اللّٰہِ مَجْرٖھَا وَ مُرْسَاھَا) (اللہ ہی کے نام کے ساتھ ہے اس کا چلنا اور ٹھہرنا) اور سوار ہونے کے بعد یہ دعا پڑھی جو ابھی اوپر مذکور ہوئی، طوفان کی ابتداء کس طرح ہوگی یہ پہلے سے اللہ تعالیٰ نے بتادیا تھا کہ پہلے تنور سے پانی ابلنا شروع ہوگا تنور سے پانی کی ابتداء ہوئی اور زمین کے دوسرے حصوں سے بھی خوب پانی نکلا اور آسمان سے بھی خوب پانی برسا۔ کافر سارے ڈوب گئے کشتی والوں کو نجات ہوئی اور کشتی جودی پہاڑ پر ٹھہر گئی پھر اہل ایمان زمین پر آئے دو بارہ آبادی شروع ہوئی جس کی تفصیل سورة ھود کے چوتھے رکوع کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کا حال بیان فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا (اِِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لاآیٰتٍ ) (بلاشبہ اس میں نشانیاں ہیں جو اللہ تعالیٰ کی قدرت پر دلالت کرتی ہیں) (وَّاِِنْ کُنَّا لَمُبْتَلِیْنَ ) (اور بلاشبہ ہم ضرور آزمانے والے ہیں) حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کو آزمایا وہ ان میں ساڑھے نو سو سال تک رہے انہیں نصیحت فرمائی اور توحید کی دعوت دی اور اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد دلائیں ان کا امتحان تھا انہوں نے ظاہری دنیا ہی کو دیکھا اپنے سرداروں کی بات مانی حق کو قبول نہ کیا ہلاک کر دئیے گے۔ یہ سلسلہ آزمائش اب بھی جاری ہے۔