23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 23:1

قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 23:1 in the Quran reader

بےشک ایمان والے رستگار ہوگئے

قد افلہ المؤمنون۔ بیشک ان مؤمنوں نے (آخرت میں) فلاح پائی
Ayah 23:2

الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَۙ Open ayah 23:2 in the Quran reader

جو نماز میں عجزو نیاز کرتے ہیں

الذین ہم فی صلاتہم خشعون۔ جو اپنی نماز میں خشوع کرنے والے ہیں۔ اس آیت کے نزول ہونے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے اپنا سر نیچے جھکا لیا۔ ابن مردویہ کی روایت ان الفاظ کے ساتھ ہے ‘ رسول اللہ ﷺ آسمان میں ادھر ادھر نظر گھما لیا کرتے تھے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ بغوی نے حضرت ابوہریرہ ؓ : کا بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابی نماز کے اندر آسمان کی طرف اپنی نظر اٹھا لیا کرتے تھے جب آیت مذکورہ نازل ہوئی تو سجدہ گاہ پر نظر جمانے لگے۔ ابن ابی حاتم نے ابن سیرین کی مرسل روایت نقل کی ہے کہ صحابہ نماز کے اندر آسمان کی طرف نظریں اٹھا لیتے تھے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ لفظ قَدْ کسی امر متوقع کے ثبوت کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ جیسے لَمَّاکسی امر متوقع کی نفی پر دلالت کرتا ہے۔ قَدْاگر ماضی پر داخل ہو تو تحقق وقوع کے علاوہ قرب حال کا مفہوم بھی اس کے اندر آجاتا ہے۔ قَدْ قَامَابھی کھڑا ہوگیا۔ قَدْ اَکَلابھی ابھی وہ کھاچکا) ۔ مؤمنوں کو اللہ کے فضل سے فلاح کی توقع تھی قد کے لانے سے فلاح یاب ہونے کی مسلمانوں کے لئے بشارت ہوگئی (گویا مسلمان فلاح یاب ہوچکے) ۔ صاحب قاموس نے لکھا ہے فلاح کامیابی اور (کسی قابل خوف چیز سے) نجات اور امر خیر میں باقی رہنا۔ فلاح دنیوی بھی ہوتی ہے اور آخرت کی بھی اس جگہ فلاح اخروی مراد ہے۔ کامل فلاح اخروی یہ ہے کہ بالکل عذاب نہ ہو نہ قبر میں نہ حساب کے وقت (حساب فہمی کی سختی کی شکل میں) نہ شدائد قیامت میں مبتلا ہو کر ‘ نہ دوزخ میں داخل ہونے کی صورت میں ‘ نہ صراط پر سے گزرنے میں (خلاصہ یہ ہے کہ عذاب قبر سے حساب فہمی کی سختی سے شدائد قیامت سے ‘ روز قیامت کی ظلمت سے ‘ دوزخ کی آگ اور ہر طرح کی تکلیفوں سے اور پل صراط پر گزرنے کی دشواری سے بالکل نجات مل جائے) اور اس نجات کے بعد جنت میں داخلہ مل جائے۔ مرتبۂ قرب اور دیدارِباری تعالیٰ نصیب ہوجائے اور مولیٰ کریم کی خوشنودی حاصل ہوجائے۔ رہی فی الجملہ ناقص کامیابی تو اس کی خصوصیت انہی اہل ایمان کے ساتھ نہیں ہے جن کی صفات کا تذکرہ اس آیت میں کیا گیا ہے بلکہ ہر وہ شخص جو لا الٰہ الا اللہ کا قائل ہو وہ (آخرت میں) ضرور فلاح یاب ہوگا۔ (خواہ اس کی فلاح کامل نہ ہو) اللہ نے فرما دیا ہے۔ فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہٗ وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ ۔ جو ذرہ (یا چھوٹی سرخ چیونٹی کے) برابر نیکی کرے گا وہ اس کی نظر کے سامنے آئے گی اور جو ذرہ برابر بدی کرے گا وہ بھی اس کی نظر کے سامنے آئے گی اور نفس ایمان و توحید تمام نیکیوں کا سرگروہ ہے (اس لئے ہر مؤمن کا فلاح یاب ہونا ضروری ہے خواہ کسی قدر گناہ گار ہو۔ ) اسی لئے حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا توحید کی تصدیق کرنے والے سعادت یاب ہوں گے اور جنت میں (ہمیشہ) رہیں گے۔ حضرت ابن عباس ؓ کی مرفوع روایت ہے کہ اللہ نے جنت عدن کو پیدا کیا اور اس کے درختوں میں پھل لٹکائے۔ (یعنی درختوں میں اتنی کثرت سے پھل پیدا کئے کہ ان کی شاخیں پھلوں کے بوجھ سے جھک گئیں اور پھل لٹک گئے) اور جنت کے اندر نہریں نکالیں پھر اس کی طرف دیکھا اور فرمایا بات کر ‘ جنت نے عرض کیا قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ اللہ نے فرمایا قسم اپنی عزت و جلال کی کوئی بخیل تیرے اندر میرے قریب بھی نہیں آئے گا۔ رواہ الطبرانی۔ میں کہتا ہوں اس حدیث میں شاید بخیل سے مراد کافر ہے کیونکہ کافر اللہ کا حق توحید ادا کرنے میں بخیل ہوتا ہے۔ دوسری سند سے طبرانی نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب اللہ نے جنت عدن کو پیدا کیا تو اس کے اندر ایسی چیزیں پیدا کیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھیں نہ کسی کان نے سنیں نہ کسی شخص کے دل میں ان کا خیال آیا ‘ پھر فرمایا بات کر ‘ جنت نے عرض کیا قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ ۔ بزار ‘ طبرانی اور بیہقی نے حضرت ابو سعید ؓ خدری کی روایت سے بھی ایسی ہی مرفوع روایت نقل کی ہے۔ بیہقی نے مجاہد اور کعب ؓ کی روایت سے بھی ایسا ہی بیان کیا ہے ‘ حاکم کا بیان حضرت انس ؓ کی روایت سے اسی طرح آیا ہے ‘ ابن ابی الدنیا نے صفۃ الجنت میں حضرت انس ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ نے جنت عدن کو ایک سفید موتی اور یاقوت سرخ اور زمرد سبز کی اینٹوں سے بنایا ہے اس کا پلاستر مشک کا ہے اس کی گھاس زعفران ہے اس کی پتھریاں موتی ہیں اور اس کی مٹی عنبر ہے اور فرمایا بات کر۔ جنت نے عرض کیا قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ اللہ نے فرمایا ‘ قسم ہے اپنی عزت کی تیرے اندر میرے قرب میں کوئی بخیل نہیں آئے گا۔ حضرت مؤلف نے کہا ہوسکتا ہے کہ آیت میں فلاح سے مراد جنت کا داخلہ ہو خواہ عذاب کے بعد ہی مل جائے ‘ اس وقت المؤمنون سے تمام مؤمن مراد ہوں گے کیونکہ کسی نہ کسی وقت سب مؤمنوں کا جنت میں داخلہ کیا جائے گا جیسا کہ احادیث مذکورہ سے ثابت ہے۔ اس تفسیر پر آیت میں مؤمنوں کی جو صفات بیان کی ہیں وہ قید احترازی کے طور پر نہ ہوں گی (کہ جن مؤمنوں میں وہ صفات نہ ہوں وہ فلاح یاب نہ ہوں) بلکہ صفات مدحیہ ہوں گی۔ مؤمن کے ایمان کا تقاضا ہے کہ وہ ان صفات کا حامل ہو اگر ان صفات کو قید احترازی قرار دیا جائے اور فلاح سے کامل فلاح مراد ہو تو مطلب یہ ہوگا کہ کامل فلاح پانے والے وہ مؤمن ہوں گے جو ان صفات کے حامل ہوں لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ جو مؤمن اپنے اندر یہ صفات نہیں رکھتے ہوں گے وہ مطلقاً فلاح یاب نہ ہوں گے۔ ہم مفہوم مخالف کے قائل نہیں۔ خواہ مفہوم مخالف کسی صفت کی تقیید سے پیدا ہوا ہو یاشرط کے ذکر سے اصول فقہ میں یہ تحقیقی مسئلہ بیان کردیا گیا ہے کہ کسی صفت یا شرط کے ذکر کی صورت میں (بےشک حکم اس صفت اور شرط پر مرتب ہوتا ہے لیکن) جس میں وہ صفت یا شرط موجود نہ ہو اس کا حکم معلوم نہیں ہوتا اس کی طرف سے سکوت سمجھا جاتا ہے۔ نفی حکم تعیین کے ساتھ نہیں ہوتی ‘ احتراز کا یہی مطلب ہوتا ہے (کہ جس میں صفت یا شرط مذکور موجود نہ ہو اس سے نہ نفی حکم تعیین کے ساتھ سمجھی جائے نہ اثبات حکم۔ گویا تعیین نفی سے احتراز ہوتا ہے) ۔ اہل سنت کا اجماع ہے کہ جو گناہگار مؤمن بغیر توبہ کے مرجائیں وہ جنگ میں) بالآخر ضرور داخل ہوں گے اللہ کو اختیار ہے کہ سزا دینے کے بعد جنت میں داخل فرما دے یا معاف فرما دے اور بغیر عذاب دیئے جنت میں بھیج دے۔ اَلْخَاشِعُوْنَسے کون لوگ مراد ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے ترجمہ کیا ‘ عاجزی کرنے والے ‘ اللہ کے سامنے اظہار عجز کرنے والے۔ حسن نے کہا ڈرنے والے۔ مقاتل نے کہا تواضع کرنے والے اور اپنے آپ کو پست قرار دینے والے۔ مجاہد نے کہا نظریں نیچی اور آواز پست رکھنے والے۔ ایک روایت میں حضرت علی ؓ : کا قول آیا ہے (نماز میں) اِدھر ادھر التفات نہ کرنا خشوع ہے۔ سعید بن جبیر نے کہا خشوع یہ ہے کہ یہ معلوم بھی نہ ہو کہ کون دائیں طرف ہے اور کون بائیں طرف اور دائیں بائیں نظر نہ ڈالے۔ عمرو بن دینار نے کہا خشوع سے مراد ہے سکون اور حسن ہیئت علماء کی ایک جماعت کا قول ہے کہ خشوع سے مراد ہے سجدہ گاہ سے نظر نہ ہٹانا۔ عطاء نے کہا اپنے بدن کے کسی حصے سے نہ کھیلنا مثلاً بےوجہ نہ کھجانا مراد ہے۔ بعض نے کہا نماز میں خشوع نام ہے توجہ کی یکسوئی کا کہ دوسری طرف خیال نہ جائے اور زبان سے جو الفاظ ادا کر رہا ہے اس پر غور کرتا جائے ‘ نماز سے ادھر ادھر نہ ہٹے۔ دائیں بائیں نظر نہ گھمائے۔ کسی طرف مائل نہ ہو ‘ انگلیاں نہ چٹخائے ‘ کنکریوں کو (جو زمین پر پڑی ہوں) کو الٹ پلٹ نہ کرے اور نماز کے ساتھ نامناسب کوئی حرکت نہ کرے۔ حضرت ابو درداء نے فرمایا خشوع سے مراد ہے قولی اخلاص (اللہ کے سامنے) تعظیم کے ساتھ کھڑا ہونا ‘ کامل یقین اور پوری توجہ و یکسوئی۔ صاحب قاموس نے لکھا ہے خشوع کا معنی ہے خضوع یعنی تواضع یا خشوع کا مفہوم تواضع کے قریب ہے۔ یا خشوع کا تعلق اعضائے بدن سے ہوتا ہے اور خضوع آواز (کی پستی و عاجزی) اور نگاہ اور سکون اور اظہار عجز سب سے متعلق ہے۔ نہایہ میں ہے خشوع نگاہ اور آواز میں ہوتا ہے جیسے خضوع کا تعلق اجزائے بدن سے ہوتا ہے۔ حضرت ابوذر راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ‘ اللہ بندے کی طرف برابر متوجہ رہتا ہے جب تک بندہ نماز میں ادھر ادھر نظر کو متوجہ نہیں کرتا۔ جب بندہ ادھر ادھر التفات کرتا ہے تو اللہ بھی اس کی طرف سے توجہ پھیر لیتا ہے۔ رواہ احمد و ابو داؤد والنسائی والدارمی۔ حضرت عائشہ ؓ کی روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے التفات فی الصلوٰۃ کے متعلق دریافت کیا ‘ فرمایا یہ ایک جھپٹا ہوتا ہے جو شیطان بندے کی نماز میں سے اچک لیتا ہے۔ رواہ الشیخان فی الصحیحین۔ حضرت انس بن مالک راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگ نماز کے اندر اپنی نگاہ آسمان کی طرف کیوں اٹھاتے ہیں ‘ حضور ﷺ کا فرمان اس معاملہ میں اتنا سخت تھا کہ آپ ﷺ نے فرمایا تھا لوگوں کو اس حرکت سے باز آجانا چاہئے ورنہ ان کی نگاہیں اچک لی جائیں گی۔ رواہ البغوی۔ مسلم اور نسائی نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بیان کیا نماز میں دعا کے وقت آسمان کی طرف نگاہ اٹھانے سے لوگوں کو باز آجانا چاہئے ورنہ ان کی نگاہیں اچک لی جائیں گی۔ حضرت جابر بن سمرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نماز کے اندر آسمان کی طرف نظر اٹھانے سے لوگوں کو باز آجانا چاہئے کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کی نگاہیں واپس نہ آئیں۔ رواہ مسلم و ابو داؤد و ابن ماجہ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو نماز کے اندر اپنی داڑھی سے کھیلتے دیکھا فرمایا اگر اس کے دل میں خشوع ہوتا تو اعضاء بدن میں بھی ہوتا۔ رواہ الحکیم الترمذی فی نوادر الاصول بسند ضعیف۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہم نفاق والے خشوع سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ نفاق والا خشوع کیسا ہوتا ہے فرمایا بدن کا خشوع اور دل کا نفاق (یعنی دل کسی اور طرف مشغول ہو اور بظاہر اعضاء نماز میں ہوں) ۔ مجاہد کا بیان ہے حضرت عبداللہ بن زبیر نماز میں کھڑے ہوتے تھے تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ لکڑی کا تھم (اپنی جگہ) کھڑا ہے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی بھی یہی حالت تھی۔ حضرت اسماء بنت حضرت ابوبکر صدیق ؓ راوی ہیں کہ ان کی والدہ حضرت ام رومان نے بیان کیا کہ حضرت ابوبکر ؓ نے مجھے نماز میں ادھر ادھر جھکتے دیکھا تو اتنا سخت ڈانٹا کہ قریب تھا کہ میں نماز توڑ دوں ‘ اور فرمایا میں نے خود سنا کہ رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے جب تم میں سے کوئی نماز کو کھڑا ہو تو اس کے ہاتھ پاؤں میں سکون رہنا چاہئے ‘ یہودیوں کی طرح ادھر ادھر نہ جھکے ‘ نماز میں ہاتھ پاؤں کا ساکن رہنا نماز کا جزء تکمیل ہے۔ (ازالۃ الخفاء) حضرت ابو الاحوص راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے جب کوئی نماز کو کھڑا ہوجائے تو پتھریوں کو صاف نہ کرے کیونکہ (اللہ کی) رحمت اس کے منہ کے سامنے ہوتی ہے (اس کی توجہ نہ ہٹائے) رواہ البغوی ‘ امام احمد ‘ ابن عدی ‘ نسائی ‘ ابن ماجہ اور ابن حبان نے یہ حدیث حضرت ابوذر کی روایت سے بیان کی ہے۔ فصلحضرت انس ؓ : کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا ‘ اپنی نظر سجدہ کرنے کے مقام پر رکھا کرو۔ رواہ البیہقی فی سننہ الکبیر۔ یہ بھی حضرت انس کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا بیٹے نماز میں ادھر ادھر دیکھنے سے پرہیز رکھ۔ نماز کے اندر ادھر ادھر نظر کرنا (نماز کی) بربادی ہے اگر مجبوری ہو تو نفل میں (ایسا کرسکتا ہے) فرض میں نہیں۔
Ayah 23:3

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَۙ Open ayah 23:3 in the Quran reader

اور جو بیہودہ باتوں سے منہ موڑے رہتے ہیں

والذین ہم عن اللغو معرضون۔ اور جو لغو باتوں سے (قولی ہوں یا فعلی) اعراض کرنے والے ہیں۔ عطاء نے حضرت ابن عباس ؓ : کا قول نقل کیا کہ لغو سے مراد شرک ہے حسن نے کہا گناہ اور نافرمانیاں مراد ہیں۔ میں کہتا ہوں آخرت میں کام نہ آنے والے امور مراد لینا بہتر ہے خواہ وہ امور قول سے تعلق رکھتے ہوں یا عمل سے۔ مُعْرِضُوْنَسے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ شرک اور معاصی اور آخرت میں ضرر پہنچانے والے امور کے ارتکاب کا تو ذکر ہی کیا ہے وہ تو بیکار اور غیر مفید باتوں سے بھی الگ رہتے ہیں اور پرہیز کرتے ہیں۔ بعض نے کہا لغو سے اعراض کرنے کا یہ مطلب ہے کہ کافروں کے مقابلہ میں وہ گالیاں نہیں دیتے اور سب و شتم نہیں کرتے۔ دوسری آیت میں اللہ نے خود فرمایا ہے وَاِذَا امَرُّوْا ابِاللَّغِوْ مَرُّوْا کِرَامًا۔ مطلب یہ ہے کہ جب وہ بری بات سنتے ہیں تو خود اس کے اندر گھس نہیں پڑتے بلکہ۔
Ayah 23:4

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوْنَۙ Open ayah 23:4 in the Quran reader

اور جو زکوٰة ادا کرتے ہیں

والذین ہم للزکوۃ فعلون۔ اور جو اپنا تزکیہ کرنے والے ہیں زکوٰۃ اس مالی مقدار کو بھی کہتے ہیں جس کو زکوٰۃ دینے والا ادا کرتا ہے اور زکوٰۃ ادا کرنے کو بھی زکوٰۃ کہا جاتا ہے (یعنی مصدر بھی ہے) آیت میں لفظ فاعلون موجود ہے (اور فعل کا وقوع نفس مال پر نہیں ہوسکتا بلکہ فعل کا تعلق ادا کرنے سے ہے) اس لئے اس جگہ زکوٰۃ ادا کرنا ہی مراد ہے اور اگر زکوٰۃ سے مقدار مالی مراد ہوگی تو لفظ الزکوٰۃ سے پہلے لفظ ادا محذوف ماننا پڑے گا۔ یعنی فاعلون لاداء الزکوٰۃ۔ لفظ فاعلون سے اس طرف اشارہ ہے کہ وہ پابندی کے ساتھ زکوٰۃ ادا کرتے ہیں بعض اہل علم کا قول ہے کہ زکوٰۃ سے مراد ہے عمل صالح۔ یعنی وہ نیک عمل کرنے والے ہیں۔
Ayah 23:5

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ Open ayah 23:5 in the Quran reader

اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں

والذین ہم لفرو جہنم حفظون۔ اور جو (تمام عورتوں سے) اپنی شرمگاہوں کی حفاظت رکھنے والے ہیں
Ayah 23:6

اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ Open ayah 23:6 in the Quran reader

مگر اپنی بیویوں سے یا (کنیزوں سے) جو ان کی مِلک ہوتی ہیں کہ (ان سے) مباشرت کرنے سے انہیں ملامت نہیں

الا علی ازواجہم او ما ملکت ایمانہم فانہم غیر ملومین۔ سوائے اپنی بیویوں کے اور اپنی (شرعی) باندیوں کے کیونکہ (بیویوں اور اپنی باندیوں سے شرمگاہوں کی حفاظت نہ کرنے پر) ان پر کوئی الزام قائم نہیں کیا جائے گا۔ فرج ‘ شرمگاہ مرد کی ہو یا عورت کی۔ حفظ الفرج حرام سے پاک دامن رہنا۔ عَلٰی ازواجِہِمْکا تعلق حٰفِظُوْنَسے ہے۔ اِحفَظْ عَلَّی عِنَان فَرَسِیْمیرے گھوڑے کی لگام کو پکڑے رکھ آزاد نہ چھوڑ۔ یہ عربی مقولہ ہے حٰفِظُوْنَ عَلٰی اَزْوَاجِہِمْمیں حافِظُوْنَکے بعد عَلٰی کا استعمال اسی محاورے کے مطابق ہے چونکہ حفظ کے اندر نفی بذل کا مفہوم ہے تو گویا حافِظُوْنَکا معنی ہوگیا لاَ یَبُذِلُوْنَ الاَّ عَلٰی اَزْوَاجِہِمْوہ اپنی شرمگاہوں کو کہیں استعمال نہیں کرتے سوائے اپنی بیویوں کے۔ یا عَلٰی اَزواجِہِمْکا تعلق فعل محذوف سے ہے یعنی ہُمْ لَا یُبَذِّلُوْنَ الاَّ عَلٰی اَزْوَاجِہِمْ ۔ مَامَلَکَتْ اَیْمَانُہُمْسے مراد ہیں باندیاں مطلب یہ ہے کہ سوائے اپنی بیویوں اور اپنی باندیوں کے کسی اور عورت سے وہ قربت صنفی نہیں کرتے۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ لفظ ما کا استعمال بےعقل چیزوں کے لئے جو عموماً کسی کی ملک میں ہوتی ہیں اور جتنے مملوک (باندی ‘ غلام) ہوتے ہیں وہ بھی اہل عقل کی فہرست سے (گویا خارج ہوتے ہیں کیونکہ کسی کی ملک میں ضرور داخل ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ (بجائے مَن کے جو ذی عقل کے لئے موضوع ہے) ما کا لفظ ذکر کیا۔ لیکن اس پر شبہ ہوسکتا ہے کہ جب فرج کا لفظ عام ہے مرد کی شرمگاہ کو بھی کہتے ہیں اور عورت کی شرمگاہ کو بھی اور حافِظُوْنَ لِفُرُوْجِہِمْسے ازواج (جوڑے) اور مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُہُمْکا استثناء کیا گیا ہے اور مَا مَلَکَتْکا لفظ حسب تشریح بیضاوی غلاموں کو بھی شامل ہے تو پھر جو عورت غلام رکھتی ہو اس کو غلام سے قربت صنفی جائز ہونی چاہئے حالانکہ ایسا نہیں ہے اس شبہ کو دور کرنے کے لئے حضرت مؤلف نے فرمایا کہ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُہُمْسے صرف باندیاں مراد ہیں کیونکہ عورتوں کو کم عقلی کی وجہ سے بےعقل چیزوں کے حکم میں داخل سمجھا جاتا ہے اسی لئے مؤنث کی ضمیریں بےعقل چیزوں کی طرف راجع کردی جاتی ہیں پس لفظ ما کا اس جگہ ذکر کرنا دلالت کر رہا ہے کہ اس سے باندیاں مراد ہیں غلام مراد نہیں ہیں خلاصہ یہ کہ عورتوں کے لئے اپنے غلاموں سے قربت ناجائز ہے اور آیت سے اس کا جواز مستفاد نہیں ہوتا۔
Ayah 23:7

فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْعٰدُوْنَۚ Open ayah 23:7 in the Quran reader

اور جو ان کے سوا اوروں کے طالب ہوں وہ (خدا کی مقرر کی ہوئی حد سے) نکل جانے والے ہیں

فمن اتبغی ورآء ذلک فاولئک ہم العدون۔ پھر جو اس کے علاوہ (اور جگہ شہوت رانی کے طلبگار ہوں گے تو وہ (حد شرعی سے) نکلنے والے ہیں۔ العادون یعنی ظلم اور زیادتی میں کامل ہیں ‘ حلال سے حرام کی طرف تجاوز کرنے والے ہیں اس آیت سے متعہ کرنے کی اجازت منسوخ ہوگئی۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ابتدائے اسلام میں عورتوں سے متعہ کرنا جائز تھا۔ کوئی شخص اجنبی شہر میں جاتا اور وہاں کوئی جان پہچان والا نہ ہوتا تو جس قدر قیام کا ارادہ ہوتا اتنی مدت کے لئے کسی عورت سے نکاح کرلیتا تاکہ عورت اس کے لئے کھانا تیار کر دے اور سامان کی حفاظت رکھے یہاں تک کہ جب آیت (اِلَّا عَلٰی اَزْوَاجِہِمْ اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُہُمْ ) نازل ہوئی تو سوائے ان دونوں قسموں کے ہر عورت حرام ہوگئی۔ رواہ الترمذی۔ جن عورتوں سے متعہ کیا جاتا ہے۔ وہ بیویاں یقیناً نہیں ہوتیں۔ فرقۂ شیعہ کے نزدیک بھی نہ ان کو شوہر کی میراث ملتی ہے نہ شوہر کو ان کی میراث (اور باندیاں بھی یقیناً نہیں ہیں اور تیسری کوئی قسم حسب صراحت آیت حلال نہیں ہے) اور زوجین کے درمیان توارث صراحت قرآنی کے بموجب ضروری ہے۔ متعہ کا مسئلہ سورة نساء کی آیت ( فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِہٖ مِنْہُنَّ فَاٰتُوْہُنَّ اُجُوْرَہّنَّ فَرِیْضَۃً ) کی تفسیر میں ہم نے مفصل بیان کردیا ہے۔ آیت مذکورہ اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ عمل بالید (جلق) بھی حرام ہے۔ عم علماء کا یہی قول ہے۔ ابن جریج کا قول ہے میں نے عطا سے یہ مسئلہ پوچھا تو انہوں نے کہا مکروہ ہے (یعنی مکروہ تحریمی جو حکم حرام میں ہوتا ہے۔ مترجم) عطاء نے کہا میں نے سنا کہ کچھ لوگوں کا حشر ایسی حالت میں ہوگا کہ ان کے ہاتھ حاملہ ہوں گے ‘ میرا خیال ہے کہ وہ یہی عمل کرنے والے ہوں گے۔ سعید بن جبیر نے کہا کچھ لوگ اپنے آلات مردمی سے خود کھیلتے تھے اللہ نے ان پر عذاب نازل فرمایا۔
Ayah 23:8

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ Open ayah 23:8 in the Quran reader

اور جو امانتوں اور اقراروں کو ملحوظ رکھتے ہیں

والذین ہم لامنتہم وعہدہم راعون۔ اور جو اپنے (پاس رکھی ہوئی) امانتوں کا اور (کئے ہوئے) معاہدات کا لحاظ رکھنے والے ہیں۔ امانتوں سے مراد ہیں وہ چیزیں جو بطور امانت مؤمنوں کے پاس رکھی جائیں ان کو ان چیزوں کا امین بنا دیا جائے۔ عَہْدِ (وعدہ) دو طرح کا ہوتا ہے ایک عہد وہ ہے جو اللہ نے بندوں سے لیا اور بندوں نے اللہ سے کیا ہے۔ نماز ‘ روزہ ‘ اور تمام عبادتیں اس کے ذیل میں آتی ہیں۔ دوسرا عہد وہ ہے جو آدمی آپس میں کرتے ہیں۔ امانت ‘ ودیعت ‘ تجارت اور دوسرے معاہدات جن کا تعلق باہم انسانوں سے ہوتا ہے دونوں کی پابندی اور ان کو پورا کرنا ‘ مسلمانوں پر واجب ہے (بشرطیکہ گناہ اور اللہ کی نافرمانی کا معاہدہ نہ ہو۔ مترجم) ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ : کا بیان ہے کہ میں نے خود سنا کہ رسول اللہ ﷺ : فرما رہے تھے قیامت کے دن بندے سے سب سے پہلے حساب فہمی نماز کی ہوگی۔ نماز ٹھیک نکلی تو بندہ کامیاب اور بامراد ہوگیا اور نماز بگڑی تو ناکام و نامراد ہوجائے گا اگر کسی فرض کی ادائیگی میں کوئی کمی نکلے گی تو رب کریم فرمائے گا میرے بندے کے نوافل دیکھو (اگر کچھ نوافل ہوئے تو) ان سے فرض کی کمی پوری کردی جائے گی ‘ پھر باقی اعمال کا حال بھی اسی طرح ہوگا (دوسری روایت میں آیا ہے پھر زکوٰۃ کی حالت بھی اسی طرح ہوگی۔ پھر تمام اعمال کی حساب فہمی اسی طریقے سے ہوگی۔ رواہ ابو داؤد۔ امام احمد نے یہ حدیث بہ روایت رحل بیان کی ہے۔
Ayah 23:9

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَوٰتِهِمْ یُحَافِظُوْنَۘ Open ayah 23:9 in the Quran reader

اور جو نمازوں کی پابندی کرتے ہیں

والذین ہم علی صلوتہم یحافظون۔ اور جو اپنی نماز کی پابندی رکھتے ہیں۔ یعنی ہمیشہ ہر نماز کو اس کے وقت پر پابندی کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ شروع میں نماز کا ذکر خصوصیت کے ساتھ کیا گیا تھا آخری وصف میں بھی ادائے نماز کو ہی قرار دیا گیا۔ اس سے نماز کی اہمیت ظاہر ہو رہی ہے۔ لیکن ابتدائی آیت میں نماز میں خشوع رکھنے کا ذکر کیا گیا تھا اور اس جگہ نماز کی حفاظت کا۔ دونوں صفتیں الگ الگ ہیں تکرار اوصاف نہیں ہے۔
Ayah 23:10

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَۙ Open ayah 23:10 in the Quran reader

یہ ہی لوگ میراث حاصل کرنے والے ہیں

اولئک ہم الوارثون۔ ایسے ہی لوگ وارث ہونے والے ہیں
Ayah 23:11

الَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَ١ؕ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 23:11 in the Quran reader

(یعنی) جو بہشت کی میراث حاصل کریں گے۔ اور اس میں ہمیشہ رہیں گے

الذین یرثون الفردوس : جو فردوس کے وارث ہوں گے۔ اُولٰءِکَیعنی یہی لوگ جو اوصاف مذکورہ کے حامل ہیں۔ اَلْوَارِثُوْنَیعنی اس بات کے مستحق ہیں کہ صرف انہی کو (فردوس کا) وارث کہا جائے گا۔ اَلَّذِیْنَ یَرِثُوْنَیہ الْوَارِثُوْنَ کا وصف ہے اور جس چیز کے وارث ہوں گے اس کا بیان ہے۔ پہلے بلا تعیین وراثت کا ذکر کیا گیا پھر تعیین کے ساتھ وراثت فردوس کا ذکر کیا۔ اس سے وراثت کی عظمت اور بلندئ شان ظاہر ہوگئی۔ (شبہ کیا جاسکتا ہے کہ وارث ہونے کا لفظ چاہتا ہے کہ پہلے فردوس کسی اور کی تھی پھر مؤمنوں کو دے دی جائے گی ‘ حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں۔ اس شبہ کو دور کرنے کیلئے حضرت مفسر نے فرمایا) مراد یہ ہے کہ فردوس کے اندر کافروں کیلئے بھی نامزد کچھ مکان ہوں گے کہ اگر وہ ایمان لے آتے تو وہ مکان ان کو دے دیئے جاتے اور چونکہ وہ مسلمان نہ ہوئے اس لئے ان کے مکانوں کا وارث مؤمنوں کو کردیا جائے گا۔ یَرِثُوْنَکا یہی مطلب ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے ہر ایک کے لئے دو گھر ہیں۔ ایک گھر جنت میں اور دوسرا دوزخ میں۔ جب کوئی مر کر دوزخ میں چلا جاتا ہے تو اہل جنت اس کے جنت والے گھر کے وارث ہوجاتے ہیں۔ اللہ کے فرمان اولٰءِکَ ہُمُ الْوَارِثُوْنَکا یہی مطلب ہے۔ رواہ ابن ماجۃ سعید بن منصور و ابن جریر وا ابن المنذر وابن ابی حاتم و ابن مردویہ والبیہقی فی البعث۔ عبدالرزاق ‘ عبد بن حمید ‘ ابن جریر اور حاکم کی روایت ان الفاظ کے ساتھ (بھی) آئی ہے کہ اہل جنت اپنے مکانوں کے بھی وارث (مالک) ہوں گے اور اپنے ان بھائیوں کے مکانوں کے بھی کہ اگر وہ (اللہ اور اللہ کے رسول کے احکام) کو مان لیتے تو ان کے مالک ہوتے کہ ان کے لئے وہ مکان تیار کر ہی دیئے گئے تھے۔ ابن ماجہ نے حضرت انس ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو اپنے وارث کی میراث سے بھاگے گا اللہ جنت کے اندر اس کا میراثی حصہ ختم کر دے گا۔ بعض علماء نے کہا وارث ہونے کا یہ معنی ہے کہ مآل کار ان کو جنت ملے گی ‘ جیسے وارث بالآخر میراث پاتا ہے۔ فردوس سب سے اونچی جنت ہے ‘ اس کی مفصل تشریح سورة کہف میں گزر چکی ہے۔ ہم فیہا خلدون۔ وہ فردوس میں ہمیشہ رہیں گے نہ مریں گے نہ وہاں سے نکالے جائیں گے۔ امام احمد ‘ ترمذی ‘ نسائی اور حاکم نے حضرت عمر ؓ بن خطاب کی روایت سے بیان کیا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ پر وحی کا نزول ہوتا تھا تو اس وقت آپ کے چہرے کے پاس شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ کی طرح کچھ بھنبھناہٹ سنی جاتی تھی۔ ایک روز جو وحی نازل ہونے لگی تو ہم (ختم وحی تک) ٹھہرے رہے (منتظر رہے) جب وحی کی حالت ختم ہوگئی تو حضور ﷺ نے قبلہ کی طرف منہ کر کے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کی اور کہا اے اللہ ہم کو اور دے ‘ کمی نہ کر ‘ ہم کو عزت عطا فرما ‘ ذلیل نہ کر ‘ ہم کو عطا فرما محروم نہ کر ‘ ہم کو دوسروں پر ترجیح عطا فرما ‘ دوسروں کو ہم پر برتری نہ دے۔ ہم کو خوش کر دے اور ہم سے راضی ہوجا۔ پھر فرمایا مجھ پر دس آیات نازل کی گئی ہیں جو ان کو قائم کرے گا (یعنی ان پر پورا عمل کرے گا) وہ جنت میں داخل ہوگا اس کے بعد آپ نے (قَدْ اَفْلَحَ الْمُوٌْمِنُوْنَ ) سے دس آیات تک تلاوت فرمائیں۔ نسائی نے اس حدیث کو منکر کہا ہے لیکن حاکم نے صحیح قرار دیا ہے۔ یہ آیات تمام ابواب خیر کا مجموعہ ہیں ان میں مؤمنوں کے متعدد اوصاف بیان کئے گئے ہیں۔ نماز میں خشوع رکھنا ‘ اوقات کی پابندی کرنا۔ ہمیشہ زکوٰۃ ادا کرتے رہنا لغو باتوں سے اعراض کرنا ‘ تمام محرمات سے اجتناب رکھنا وغیرہ۔ ان اوصاف کا حامل تمام کثافتوں اور گندگیوں سے پاک ہوجاتا ہے اور ذاتی و صفاتی تجلیات کی پَر تو اندازی کی اس میں استعداد پیدا ہوجاتی ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 23:12

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ طِیْنٍۚ Open ayah 23:12 in the Quran reader

اور ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصے سے پیدا کیا ہے

ولقد خلقنا الانسان من سللۃ من طین۔ اور بلاشبہ ہم نے (جنس) انسان (یعنی آدم) کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کیا۔ اللہ کی عبادت اور طاعت واجب ہے اور ہر وہ عبادت کا استحقاق رکھتا ہے اس کی وجہ اور سبب کا اس آیت میں بیان ہے گویا یوں فرمایا ہم کو استحقاق ہے کہ بندے ہماری عبادت کریں اور ہم کو واحد مانیں کیونکہ ہم نے ان کو پیدا کیا ہے۔ سُلٰلٰۃ خلاصہ۔ جوہر۔ مِنْ طِیْنٍمیں مِن بیانیہ ہے یعنی روئے زمین کا خلاصہ۔ حضرت آدم کو خلاصۂ ارضی سے پیدا کیا گیا اور باقی انسانوں کو نطفہ سے اور نطفہ غذا سے پیدا ہوتا ہے اور غذا زمین سے پیدا ہوتی ہے۔ کلبی نے کہا طین سے مراد حضرت آدم ( علیہ السلام) ہیں عبدالرزاق ‘ ابن جریر اور عبد بن حمید نے قتادہ کا قول نقل کیا ہے کہ طین سے مراد حضرت آدم ہیں۔ عبد بن حمید کا قول نقل کیا ہے کہ مِنْ سُلٰلٰۃٍ مِّنْ طِیْنٍسے مراد ہے بنی آدم کا نطفہ (گویا طین سے مراد ہوئے بنی آدم اور سُلٰلٰۃ سے مراد ہوا نطفہ) ۔ بغوی نے حضرت ابن عباس ؓ : کا قول نقل کیا ہے کہ (سُلٰلٰۃ سے مراد ہے) پانی کا خلاصہ۔ عکرمہ نے کہا سُلَلۃ سے مراد ہے وہ پانی جو پشت سے کھینچا جاتا ہے۔ عرب نطفہ کو سُلٰلٰۃِ کہتے ہیں۔
Ayah 23:13

ثُمَّ جَعَلْنٰهُ نُطْفَةً فِیْ قَرَارٍ مَّكِیْنٍ۪ Open ayah 23:13 in the Quran reader

پھر اس کو ایک مضبوط (اور محفوظ) جگہ میں نطفہ بنا کر رکھا

ثم جعلنہ نطفۃ فی قرار مکین۔ ثم خلقنا النطفۃ علقۃ فخلقنا العقلہ مضغۃ فخلقنا المضغۃ عظما فکسونا العظم لحما پھر ہم نے اس کو نطفہ سے بنایا جو کہ (ایک مدت معینہ تک) ایک محفوظ مقام (یعنی رحم) میں رہا پھر ہم نے اس نطفہ کو خون کا لوتھڑا بنایا پھر ہم نے اس خون کے لوتھڑے کو (گوشت کی) بوٹی بنایا پھر ہم نے اس بوتی (کے بعض اجزاء) کو ہڈیاں بنا دیا پھر ہم نے ان ہڈیوں پر گوشت (کا لباس) پہنا دیا۔ جَعَلْنٰہُہم نے اس خلاصہ کو نطفہ سے بنایا ہ ضمیر سُلٰلٰۃ کی طرف راجع ہے کیونکہ سلالۃ بمعنی مسلول (اسم مفعول) ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ضمیر کا مرجع انسان ہو۔ نطفہ سے پہلے حرف جر محذوف ہے۔ حرف جر کو حذف کر کے نطفہ کو منصوب کردیا ہے یعنی مِنْ نُطْفۃٍ (نطفہ سے) ۔ قَرَارٍٹھہرنے کی جگہ۔ مَّکِیْنٍمحفوظ۔ مراد رحم۔ مکین درحقیقت مکان قرار کی صفت نہیں ہے بلکہ قرار پکڑنے والے کی ہے۔ مجازاً قرار کی صفت کردیا گیا ہے۔
Ayah 23:14

ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظٰمًا فَكَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْمًا١ۗ ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَ١ؕ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَؕ Open ayah 23:14 in the Quran reader

پھر نطفے کا لوتھڑا بنایا۔ پھر لوتھڑے کی بوٹی بنائی پھر بوٹی کی ہڈیاں بنائیں پھر ہڈیوں پر گوشت (پوست) چڑھایا۔ پھر اس کو نئی صورت میں بنا دیا۔ تو خدا جو سب سے بہتر بنانے والا بڑا بابرکت ہے

ثُمَّ خَلَقْنَا پھر ہم نے بنا دیا۔ سفید نطفہ کو سرخ خون کا لوتھڑا۔ مُضْغَۃً گوشت کی بوٹی اتنی جو چبانے کے بقدر ہو۔ گوشت کی بوٹی کو ہڈیاں بنا دینے کا یہ مطلب ہے کہ ہم نے اس کو سخت کردیا۔ مضغہ کا جو حصہ ہڈی ہونے سے باقی رہا اس کا گوشت بنا کر ہم نے ہڈیوں کو اس گوشت کا لباس پہنا دیا (ہڈیوں پر چڑھا دیا) ۔ ثم انشانہ خلقا اخر پھر ہم نے (اس میں روح ڈال کر) اس کو دوسری ہی (طرح کی) مخلوق بنا دیا۔ اَنْشَاْنٰہُمیں ہ ضمیر سلالۃ کی طرف راجع ہے یا انسان کی طرف۔ حضرت ابن عباس ؓ ‘ مجاہد ‘ عکرمہ ضحاک اور ابوالعالیہ نے کہا خلق آخر سے مراد ہے روح پھونکنا۔ میں کہتا ہوں ان حضرات کے اقوال میں شاید روح سے مراد ‘ روح سفلی یعنی روح حیوانی ہوتی ہے اور نفس سے مراد ہوتی ہے روح علوی کی سواری ‘ روح علوی کا تعلق عالم ارواح سے ہے اس کی قرارگاہ نظر کشف میں عرش کے اوپر ہے یہ مکانی چیز نہیں ہے اور نفس ایک بخار لطیف کا نام ہے جو عناصر سے پیدا ہوتا ہے اور جسم کی ہیئت کو اختیار کرلیتا ہے یہ جسم کثیف میں سرایت کئے ہوئے ہے چونکہ روح سے مراد روح سفلی ہے اس لئے یہ کہنا صحیح ہے کہ یہ سلالہ سے پیدا ہوتی ہے۔ روح علوی کی پیدائش گاہ سلالہ سے نہیں اس لئے آیت میں روح علوی مراد نہیں ہے اس کا ثبوت یہ ہے کہ علوی ارواح کی تخلیق تو اجسام کی تخلیق پر مقدم ہے جب اللہ نے ارواح سے میثاق لیا تھا اس وقت اجسام تو موجود بھی نہ تھے۔ نفخ روح کیا ہے ؟ نفخ روح اللہ کی ایک صفت ہے (جس کا وجود قدیم ہے) اللہ نے فرمایا (وَنَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُوْحِیْ ) جب ہڈیاں گوشت کا جامہ پہن لیتی ہیں تو اس صفت کا تعلق جسم سے ہوجاتا ہے (گویا روح کا جسم سے تعلق حادث ہے اور روح بجائے خود قدیم ہے۔ ہاں اگر آیت میں انشاء پیدا کرنے سے مراد نفخ روح ہو پیدا کرنا نہ ہو تو اس توجیہہ کی ضرورت نہیں) ۔ حضرت ابن مسعود ؓ کی روایت ہے کہ اللہ کے سچے رسول ﷺ نے فرمایا تم میں سے ہر شخص کا مادہ تخلیق ماں کے پیٹ میں بشکل نطفہ چالیس روز تک جمع رکھا جاتا ہے پھر وہ مادہ خون کا لوتھڑا ہوجاتا ہے اور اس حالت میں اتنی ہی مدت تک رہتا ہے پھر گوشت کی بوٹی بن جاتا ہے اور اتنی ہی مدت تک (بوٹی کی شکل پر) رہتا ہے پھر اللہ فرشتہ کو چار احکام دے کر بھیجتا ہے فرشتہ اس کے (اچھے برے) اعمال اور مدت زندگی اور رزق اور سعید یا شقی ہونا (مؤمن یا کافر ہونا جنتی یا دوزخی ہونا) لکھ دیتا ہے پھر اس کے اندر روح پھونکی جاتی ہے پس قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں تم میں سے کچھ لوگ (ساری عمر) جنتیوں کے جیسے کام کرتے ہیں یہاں تک کہ ان کے اور جنت کے درمیان صرف ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے لیکن (تخلیقی) تحریر غالب آتی ہے اور وہ دوزخیوں کے کام کرنے لگتے ہیں (اور انہی اعمال پر خاتمہ ہوجاتا ہے) اور بعض لوگ (ساری عمر) دوزخیوں کے جیسے کام کرتے ہیں ‘ یہاں تک کہ ان کے اور دوزخ کے درمیان ایک گز سے زیادہ فاصلہ نہیں رہتا آخر تقدیر کا لکھا غالب آجاتا ہے اور وہ جنتیوں کے عمل کرنے لگتے ہیں (اور اسی پر ان کا خاتمہ ہوجاتا ہے) متفق علیہ۔ بخاری و مسلم۔ ایک سوالآیت میں نطفہ کا علقہ بن جانا اور علقہ کا مضغہ بن جانا اور مضغہ کا ہڈیوں میں تبدیل ہونا اور ہڈیوں پر گوشت چڑھ جانا۔ حرف فا کے ساتھ بیان کیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ ان حالات کا تبادلہ فوراً بلا تاخیر ہوجاتا ہے لیکن ان تمام تبدیلات کے درمیان حدیث میں لفظ ثُمَّکا استعمال کیا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تغیرات کافی وقفے کے بعد ہوتے ہیں۔ اس طرح آیت و حدیث کے بیان میں بظاہر تضاد و اختلاف معلوم ہوتا ہے۔ جواب رسول اللہ ﷺ نے ہر دو حالتوں کی تبدیل کے درمیان چالیس روز کی مدت کی صراحت فرمائی ہے اس صورت میں لفظ ثُمَّکا استعمال ہونا ہی چاہئے تھا (جب ایک کام کے بعد دوسرا کام تاخیر اور واقفہ کے ساتھ ہو تو لفظ ثُمَّ استعمال کیا ہی جاتا ہے) لیکن یہ باہمی تبدیلیاں اگرچہ چالیس چالیس روز کی مدت میں ہوتی ہیں مگر اتنی عظیم الشان اور نمایاں ہوتی ہیں کہ چالیس چالیس روز کا وقفہ بھی ایسی تبدیلی کے لئے کچھ حیثیت نہیں رکھتا (گویا یہ وقفہ وقفہ ہی نہیں ہے) اس لئے اللہ کے کلام میں لفظذکر کیا گیا ہے (تا کہ معلوم ہوجائے کہ ایک ایک چلہ گزرتا اور ہر تبدیلی کا ایک چلہ کے بعد مکمل ہونا بھی ایسے عظیم الشان تغیرات کے لئے بےحقیقت ہے گویا یہ کوئی وقفہ ہی نہیں ہے) ۔ پھر آیت کے طرز اور اسلوب بیان میں بھی اختلاف ہے اوّل دونوں حالتوں کو لفظ ثم سے ظاہر کیا گیا ہے پھر تین حالتوں کے تغیر کے درمیان لفظاستعمال کیا ہے پھر انشاء تخلیق آخر کو لفظ ثم کے ساتھ بیان کیا ہے طرز بیان کی یہ نیرنگی تغیرات کے تفاوت و تنوع کی طرف اشارہ کر رہی ہے سلالۂ (غذائی) کا نطفہ بن جانا بہت ہی عظیم الشان اور عجیب ہے پھر پشت پدر اور سینۂ مادر میں ایک طویل مدت تک استقرار پھر رحم مادر میں پہنچ کر مخلوط ہو کر چالیس روز تک بصورت نطفہ ٹھہرا رہنا بھی مدت شان رکھتا ہے پھر نطفہ کا چالیس روز میں علقہ بن جانا بھی بہت نمایاں اور عظیم تغیر ہوتا ہے اس لئے ہر تغیر کو لفظ ثم سے ظاہر کیا لیکن علقہ کا مضغہ بن جانا اور مضغہ کے بعض اجزاء کا سخت ہو کر ہڈیاں بن جانا اور کچھ حصہ باقی رہ کر گوشت ہوجانا اتنا عظیم تغیر نہیں جتنا اوّل الذکر دونوں صورتوں میں ہوتا ہے اور چونکہ تخلیق آخر کا زمانہ بہت دیر میں آتا ہے اور اتنا عجیب ہوتا ہے کہ کایا پلٹ جاتی ہے اس لئے آخر میں لفظ ثم سے اس انقلاب کو ظاہر کرنے کے لئے نہایت ضروری تھا۔ مسئلہ اگر کسی نے کوئی انڈا غصب کیا اور غاصب کے پاس پہنچ کر انڈے سے بچہ نکل آیا اور پھر بچہ مرگیا یا حرم کے اندر سے انڈا باہر نکال کرلے آیا اور حرم سے باہر انڈے سے بچہ پیدا ہوگیا تو دونوں صورتوں میں انڈے کا ضمان (تاوان) دینا پڑے گا کیونکہ بچہ کا پیدا ہونا تخلیق آخر ہے اور اسی دور میں روح سفلی یعنی روح حیوانی پیدا ہوجاتی ہے اس لئے ضمان کا تعلق تخلیق اوّل سے ہی ہوگا۔ قتادہ نے کہا انشاء خلق آخر سے مراد ہے دانت اور بال نکل آنا۔ ابن جریح نے مجاہد کا قول نقل کیا ہے کہ مکمل جوان ہونا مراد ہے۔ حسن نے کہا نر یا مادہ ہونا مراد ہے۔ عوفی کی روایت حضرت ابن عباس ؓ : کا تفسیری قول ہے کہ انشاء تخلیق آخر سے زندگی کے سارے تدریجی تغیرات اور انقلابات مراد ہیں پیدا ہونا ‘ پھر چیخنا ‘ پھر دودھ پینا ‘ پھر آہستہ آہستہ بیٹھنا پھر رفتہ رفتہ کھڑا ہونا پھر چلنا اور دودھ ترک کر کے کچھ غذائی چیزیں کھانا ‘ پینا ‘ پھر بچپن سے دھیرے دھیرے جوانی کی حدود میں داخل ہونا اور ملک ملک میں گھومنا پھرنا سب ہی انشاء خلق آخر کی صورتیں ہیں۔ میں کہتا ہوں ممکن ہے کہ انشاء تخلیق آخر سے مراد دوسری ولادت ہو جو صوفی کو اس وقت حاصل ہوتی ہے جب وہ مرتبۂ فنا پر پہنچ جاتا ہے اور تمام بیہمی اور سبعی بشری صفات سے نکل کر ملکوتی صفات اختیار کرلیتا ہے اور پھر ملکوتی صفات سے ترقی کر کے رحمانی صفات کی طرف منتقل ہوتا ہے اور بقاء باللہ یا بقاء بصفات اللہ کے مرتبے پر فائز ہوجاتا ہے۔ لفظ ثم کا استعمال کرنے کی یہ وجہ زیادہ مناسب ہے۔ فتبرک اللہ احسن الخلقین۔ (تخلیق کے گزشتہ احوال دلیل ہیں اس امر کی کہ) اللہ کی بہت بڑی شان ہے ہے جو تمام صناعوں سے بڑھ کر ہے۔ تَبٰرَکَ اللّٰہُیعنی اللہ کی شان اعلیٰ و برتر ہے اس بات سے کہ وہ اپنا کوئی شریک بنائے یا اس کے احکام کی پابندی اور تعمیل میں سستی کی جائے۔ فَتَبٰرَکَمیںسببیت کے لئے ہے (گزشتہ کلام آئندہ کلام کی علت ہے ‘ مطلب یہ ہے کہ تخلیق خداوندی کی گزشتہ کیفیت اور مذکورۂ بالا احوال اس بات کی دلیل ہیں کہ اللہ کی قدرت کامل ہے اس کی حکمت بالغہ ہے اس کی شان کی عظمت اور اس کے مرتبہ کی رفعت مقتضی ہے کہ اس کا کوئی شریک نہیں اور نہ شریک ہونا ممکن ہے وہ احسن الخالقین ہے۔ معتزلہ کا قول معتزلہ فرقہ والے کہتے ہیں کہ بندہ اپنے افعال کا خود خالق ہے یعنی بندہ ہی اپنے اختیاری افعال کو پیدا کرتا ہے دیکھو اس آیت سے ثابت ہو رہا ہے کہ خالق بہت ہیں اور اللہ سب سے اچھا خالق ہے۔ (تفصیل کا تحقق اور تصور بغیر مفضل علیہ کے وجود کے نہیں ہوسکتا) ہم اسکے جواب میں کہتے ہیں کہ تمام عقلی اور شرعی دلائل سے ثابت ہے کہ بندوں کے سارے اختیاری افعال کا خالق اللہ ہی ہے۔ بندہ خالق نہیں ہے اللہ نے فرمایا ہے (خَلَقَکُمْ وَمَا تَعْمَلُوْنَ ) اللہ ہی نے تم کو پیدا کیا ہے اور تمہارے اعمال کو بھی۔ جس ممکن کا وجود بھی اپنا نہیں اللہ کا عطا کردہ ہے اس کی ذات مقتضی وجود نہیں وہ دوسرے کو کیسے وجود دے سکتا ہے۔ تمام صحابہ اور علماء امت کا اتفاق ہے کہ اللہ کے سوا کوئی خالق نہیں۔ رہا معتزلہ کے اعتراض کا جواب تو اس کی توضیح کے لئے ہم کہتے ہیں کہ لفظ خلق میں ہمارا کوئی جھگڑا نہیں اس لفظ کا اطلاق تو بندے پر بھی ہوا ہے ‘ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) نے فرمایا تھا اَنِّیْ اَخْلُقُ لَکُمْ مِّنَ الطِّیْنِ کَہَیْءَۃِ الطَّیْرِ ۔ اللہ نے خود فرمایا ہے وَتَخْلُقُوْنَ اِفْکًا لیکن بندے کی طرف جب لفظ خلق کی نسبت کی جاتی ہے تو اس کا معنی ہوتا ہے بنانا ‘ میں تمہارے لئے مٹی سے پرندے کی شکل کی ایک چیز بناتا ہوں اور تم جھوٹ بناتے ہو۔ اس میں کوئی نزاع نہیں کہ لفظ خلق کی نسبت بندے کی طرف کی جاتی ہے ‘ لیکن اس وقت خلق کا معنی ایجاد معدوم نہیں ہوتا بلکہ کسب اور صنعت ہوتا ہے۔ یہ یقینی بات ہے کہ انسان کو اپنے اختیار سے افعال کو کرنے نہ کرنے کا اختیار دیا گیا ہے اور اس کے ارادے اور اختیار کو اپنے اعمال میں دخل ہے یہی ارادہ و اختیار مدار تکلیف ہے۔ تمام اوامرو نواہی کا مکلف بندے کو اسی اختیار کی وجہ سے کیا گیا ہے ثواب و عذاب بھی انہی اختیاری افعال پر مرتب ہوتا ہے ‘ ہم اسی کو کسب کہتے ہیں۔ پس بندہ ’ کا سب ‘ ہے لیکن بندہ کا یہ ارادہ اور اختیار ایجاد معدوم کے لئے بالکل کافی نہیں نہ یہ کسی جوہر کو موجود کرسکتا ہے نہ کسی عرض (یعنی عمل اور حالت) کو ایجاد تو اللہ ہی کی قدرت و اختیار سے وابستہ ہے جب اللہ کی قدرت و اختیار کسی مخلوق سے وابستہ ہوجاتا ہے تو ہم اس کو تخلیق کہتے ہیں اور اختیار عہد کو بھی اس میں دخیل بنا لیا جائے تو یہ کسب عہد کہلاتا ہے ‘ لیکن کسب عبد موجد نہیں۔ موجد تو وہ قدرت و ارادہ ہے جس نے کسب عبد کو بعض چیزوں میں دخیل بنایا ہے بندہ کی طرف لفظ خلق کی نسبت سے یہ سمجھ لینا کہ بندہ اپنے افعال کا خود موجد ہے غلط ہے۔ ہاں بندے کو کا سب اور بنانے والا کہہ سکتے ہیں اسی لئے مجاہد نے کہا تھا کہ بندے بھی بناتے ہیں اور اللہ بھی بناتا ہے اور اللہ سب صناعوں سے بہتر بنانے والا ہے۔ بعض اہل علم نے لکھا ہے کہ الخالقین کا معنی ہے صورتیں بنانے والے یا اندازہ کرنے والے۔ لغت میں خلق کا معنی ہے اندازہ کرنا۔ بعض اہل تفسیر نے کہا کہ کلام کی بنا فرض محال پر ہے اور فرض محال ناممکن نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر فرض کرلیا جائے کہ دوسرے بھی خالق ہیں تب بھی اللہ سب سے اچھا خالق ہے۔ ابن ابی حاتم نے حضرت عمر ؓ : کا قول نقل کیا ہے۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا چار باتوں میں (اتفاقاً ) میری موافقت اپنے رب سے ہوگئی۔ ایک یہ کہ جب وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلٰۃٍ ۔۔ نازل ہوئی تو اس کے آخر میں میری زبان سے نکل گیا فَتَبٰرَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَ ۔ چناچہ آخر میں یہی الفاظ نازل ہوگئی۔ (الحدیث) حضرت عمر ؓ کے اس بیان سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک آیت سے کم قرآنی عبارت معجزہ نہیں ہے نازل ہونے سے پہلے دوسرے انسانوں کی زبان سے بھی اتنی عبارت نکل سکتی ہے۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ عبداللہ بن سعد بن ابی سرح رسول اللہ ﷺ : کا کاتب تھا (وحی نازل ہوتی تو آپ اس سے وحی کی کتابت بھی کرا لیا کرتے تھے) ایک بار رسول اللہ ﷺ کے لکھوائے بغیر یہ جملہ اس نے آیت مذکورہ کے اختتام پر زبان سے کہہ دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسی طرح لکھ دے یہ یوں ہی نازل ہوا ہے عبداللہ نے (لوگوں سے) کہا اگر محمد نبی ہیں ان کے پاس وحی آتی ہے تو میں بھی نبی ہوں میرے پاس بھی وحی آتی ہے یہ کہہ کر اسلام سے پھر گیا اور مکہ چلا گیا کچھ مدت کے بعد جب مکہ فتح ہوا تو جہاں اور چند لوگوں کو حضور ﷺ نے واجب القتل قرار دیا وہاں اس کو بھی مباح الدم قرار دے دیا اور حکم دے دیا کہ جہاں ملے قتل کردیا جائے۔ عبداللہ حضرت عثمان بن عفان ؓ کی خدمت میں حاضر ہو کر سفارش کا خواستگار ہوا حضرت عثمان ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے لئے امان کی درخواست کی۔ حضور ﷺ دیر تک خاموش رہے ‘ پھر دیر کے بعد فرمایا اچھا۔ (عبداللہ کو امان مل گئی) حضرت عثمان ؓ واپس چلے گئے تو رسول اللہ ﷺ نے صحابہ سے فرمایا (تم نے میرے اچھا کہنے سے پہلے ہی اس کو قتل کیوں نہیں کردیا) میں تو دیر تک اسی لئے خاموش رہا تھا کہ تم اس کو قتل کر دو ۔ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ حضور ﷺ نے ہم کو اشارہ کیوں نہ کردیا۔ فرمایا نبی کے لئے یہ زیبا نہیں کہ نگاہ کی چوری کرے۔ عبداللہ اسی روز دوبارہ مسلمان ہوگیا اور پھر اس کا اسلام اچھا رہا۔ میں کہتا ہوں سبیل الرشاد میں عبداللہ کا مرتد ہونا اور فتح مکہ کے وقت رسول اللہ ﷺ : کی طرف سے مباح الدم ہونا اور حضرت عثمان کا سفارش کرنا یہ سب کچھ مذکور ہے لیکن وجہ ارتداد یہ ذکر نہیں کی کہ اس کی زبان سے نزول وحی سے پہلے ہی جملۂ مذکورہ نکل گیا تھا اور تاریخی حیثیت سے ایسا ہونا ممکن بھی نہیں کیونکہ عبداللہ مذکور کے ارتداد کا واقعہ مدینہ میں ہوا تھا اور یہ سورت مکی ہے جو ہجرت سے پہلے نازل ہوچکی تھی۔
Ayah 23:15

ثُمَّ اِنَّكُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ لَمَیِّتُوْنَؕ Open ayah 23:15 in the Quran reader

پھر اس کے بعد تم مرجاتے ہو

ثم انکم بعد ذلک لمیتون۔ پھر تم بعد اس (قصۂ عجیبہ) کے ضرور ہی مرنے والے ہو۔ یعنی گزشتہ تمام مراحل زندگی طے کرنے کے بعد جب تمہاری زندگی کے خاتمہ کا وقت آجائے گا تو مرجاؤ گے۔ مطلب یہ کہ لامحالہ تم کو موت کی طرف جانا ہے سب موت کی جانب جا رہے ہو۔ میّت اور مائت وہ شخص جو مرنے والا ہو ابھی مرا نہ ہو اور میت وہ شخص جو مرچکا ہو اسی لئے اس جگہ میتونتخفیف کے ساتھ پڑھنا درست نہیں ہے جیسے اِنَّکَ مَیِّتٌ وَاِنَّہُمْ مَیِّتُوْنَمیں تخفیف و تشدید جائز نہیں (کذا ذکر البغوی) صاحب قاموس نے لکھا ہے مات یموت (نصر) یمات (فتح) یمیّت (ضرب) مَیِّتٌاور میّت دونوں طرح سے حیٌّکی ضد ہے۔ مات کا معنی سو گیا اور سکون پایا بھی ہے یا یوں کہا جائے کہ میت بالتخفیف وہ شخص جو مرچکا ہو اور میّت و مائت وہ شخص جو ابھی مرا نہ ہو (آئندہ مرنے والا ہو) ۔
Ayah 23:16

ثُمَّ اِنَّكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ تُبْعَثُوْنَ Open ayah 23:16 in the Quran reader

پھر قیامت کے روز اُٹھا کھڑے کئے جاؤ گے

ثم انک یوم القیمۃ تبعثون پھر قیامت کے دن یقیناً (قبروں سے حساب فہمی اور جزا و سزا کے لئے) تم اٹھائے جاؤ گے۔
Ayah 23:17

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعَ طَرَآئِقَ١ۖۗ وَ مَا كُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غٰفِلِیْنَ Open ayah 23:17 in the Quran reader

اور ہم نے تمہارے اوپر (کی جانب) سات آسمان پیدا کئے۔ اور ہم خلقت سے غافل نہیں ہیں

ولقد خلقنا فوقکم سبع طرآئق و ما کنا عن الخلق غفلین۔ اور ہم نے تمہارے اوپر سات آسمان بنائے اور ہم مخلوق (کی مصلحتوں) سے بیخبر نہ تھے۔ طَرَآءِقَسے مراد آسمان ہیں کیونکہ ہر اوپر والا آسمان نیچے والے پر چڑھا ہوا ہے اگر نچلی چیز بالائی چیز کی طرح ہو تو نچلی کو بالائی چیز کا طریقہ کہا جاتا ہے۔ طرائق کہنے کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ آسمانوں کے اندر فرشتوں یا سیاروں کے چلنے کی گزرگاہیں ہیں۔ اَلْخَلْقِسے مراد ہے ‘ مخلوق کوئی ہو۔ غٰفِلِیْنَیعنی ان کے معاملہ سے بیخبر ‘ ان کو یوں ہی بےکار چھوڑ دینے والے نہیں ہیں بلکہ اختلال اور نظام کی ابتری سے ان کو محفوظ رکھتے ہیں۔ ان کی نگرانی رکھتے ہیں اور حسب حکمت و مصلحت ان کے مناسب حد کمال تک پہنچانے کا انتظام قائم رکھتے ہیں اور آسمانوں کو زمین پر گرنے سے روکے ہوئے ہیں۔ جملہ وَمَاکُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غٰفِلِیْنَجملۂ سابق کی علت ہے۔ پورا مطلب اس طرح ہوگا ‘ کہ ہم نے تمہارے اوپر سات آسمان بنائے تاکہ رزق اور برکات کے دروازے تمہارے اوپر کھلے رہیں ‘ سورج چاند اور ستارے تم پر چمکتے دمکتے رہیں کیونکہ تمہاری مصلحتوں اور احوال کو درست رکھنے والے امور سے ہم غافل نہیں ہیں (یا غافل نہ تھے) ۔
Ayah 23:18

وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ فَاَسْكَنّٰهُ فِی الْاَرْضِ١ۖۗ وَ اِنَّا عَلٰى ذَهَابٍۭ بِهٖ لَقٰدِرُوْنَۚ Open ayah 23:18 in the Quran reader

اور ہم ہی نے آسمان سے ایک اندازے کے ساتھ پانی نازل کیا۔ پھر اس کو زمین میں ٹھہرا دیا اور ہم اس کے نابود کردینے پر بھی قادر ہیں

وانزلنا من السمآء مآء بقدر فاسکنہ فی الارض وانا علی ذہاب بہ لقدرون۔ اور ہم نے (مناسب) مقدار میں اوپر سے پانی برسایا پھر اس کو زمین میں ٹھہرایا اور اس کو (بالکل) معدوم کردینے پر بھی بلاشبہ قدرت رکھنے والے ہیں۔ پانی سے مراد بارش کا پانی۔ بِقَدَرٍیعنی مناسب مقدار کے ساتھ جتنا تقاضائے مصلحت تھا۔ زمین میں ٹھہرانے کا مطلب بعض اہل علم نے یہ بیان کیا کہ تالابوں اور حوضوں اور گڑھوں میں ہم نے پانی کو جمع کردیا تاکہ بارش نہ ہو تو لوگ اس سے کام چلائیں۔ بعض اہل تفسیر نے کہا کہ اس سے زمین کا پانی پینامراد ہے پانی کو زمین چوس لیتی ہے۔ زمین کے مسامات میں پانی گھس جاتا ہے پھر اس سے چشمے اور سوت پھوٹ نکلتے ہیں۔ زمین سے جتنا پانی برآمد ہوتا ہے وہ آسمان سے برسا ہوا ہی ہوتا ہے۔ ذَہَابٍ بِہٖاس کو لے جانا ‘ زائل کردینا۔ مراد یہ ہے کہ ہم اس کو خراب کرسکتے ہیں کہ کسی کام نہ آئے اور بھاپ بنا کر اڑا بھی سکتے ہیں اور زمین کے اندر انتہائی گہرائی تک بھی پہنچا سکتے ہیں کہ کسی کے ہاتھ نہ آئے۔ لَقٰدِرُوْنَبلاشبہ ہم پانی کو فناکر دینے پر بھی اسی طرح قادر ہیں جس طرح اس کو برسانے پر قادر ہیں اگر ہم پانی کو فنا کردیں تو تم پیاسے مرجاؤ تمہارے جانور بھی مرجائیں اور تمہاری زمینیں بنجر ہوجائیں۔ بغوی نے لکھا ہے حدیث میں آیا ہے کہ اللہ نے جنت سے چار دریا نازل کئے ہیں۔ سیحون ‘ جیحون ‘ دجلہ ‘ فرات۔ یہ بھی بغوی نے لکھا ہے کہ امام حسن بن سفیان نے سند کے ساتھ بوساطت عکرمہ حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ نے جنت کے ایک چشمہ سے جو جنت کے نچلے نشیبی حصہ میں تھا پانچ دریا جبرئیل کے دونوں بازوؤں پر نازل فرمائے۔ سیحون ‘ جیحون ‘ دجلہ ‘ فرات ‘ نیل۔ جبرئیل نے یہ دریا بطور امانت پہاڑوں کے سپرد کردیئے اور زمین میں بہا دیئے اور لوگوں کے لئے فائدہ بخش بنا دیئے آیت ( وَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً بِقَدَرٍ فَاَسْکَنّٰہُ فِی الْاَرْض) ِسے اسی طرف اشارہ ہے پھر جب یاجوج و ماجوج کا زمانہ آئے گا تو اللہ جبرئیل کو بھیج کر زمین سے قرآن اور تمام (دینی) علم کو اور سنگ اسود کو اور مقام ابراہیم کو اور تابوت موسیٰ کو مع اس کی اندرونی چیزوں کے اور ان پانچوں دریاؤں کو آسمان کی طرف اٹھا لے گا۔ آیت (وَاِنَّا عَلٰی ذَہَابٍ بِہٖ لَقٰدِرُوْنَ ) کا یہی مطلب ہے۔ جب یہ چیزیں زمین سے اٹھا لی جائیں گی تو اہل ارض دنیا اور دین کی ہر بھلائی سے محروم ہوجائیں گے۔ میں کہتا ہوں شاید زمین کے سارے دریا جنت ہی سے آئے ہیں۔ حدیث میں صرف پانچ کا تذکرہ بطور تمثیل کیا ٖ گیا ہے۔
Ayah 23:19

فَاَنْشَاْنَا لَكُمْ بِهٖ جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ١ۘ لَكُمْ فِیْهَا فَوَاكِهُ كَثِیْرَةٌ وَّ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَۙ Open ayah 23:19 in the Quran reader

پھر ہم نے اس سے تمہارے لئے کھجوروں اور انگوروں کے باغ بنائے، ان میں تمہارے لئے بہت سے میوے پیدا ہوتے ہیں۔ اور ان میں سے تم کھاتے بھی ہو

فانشانا لکم بہ جنت من نخیل واعناب لکم فیہا فواکہ کثیرۃ ومنہا تاکلون۔ پھر ہم نے اس (پانی) سے کھجوروں اور انگوروں کے باغ تمہارے لئے پیدا کئے جن کے اندر تمہارے واسطے بکثرت میوے ہوتے ہیں اور ان میں سے بعض کو تم کھاتے ہو۔ فَوَاکِہُ کَثِیْرَۃٌیعنی کھجوروں اور انگوروں کے علاوہ بھی تمہارے لئے بکثرت میوے ان باغوں میں ہوتے ہیں جن سے تم لذت اندوز ہوتے ہو۔ وَّمِنْہَا یعنی باغوں کے پھلوں اور غلے کے کھیتوں سے بطور غذا تم بعض کو کھاتے ہو اور سامان زندگی حاصل کرتے ہو۔ کھجوروں اور انگوروں کا خصوصی تذکرہ بطور تمثیل کیا گیا ہے۔ ورنہ کشمش اور چھوارے اور طرح طرح کے پھل اور شربت سب ہی باغوں کی پیداوار ہیں ‘ یا پھلوں سے بنائے جاتے ہیں۔ انگور اور کھجور عرب میں دوسرے پھلوں کے مقابلہ میں بہت زیادہ پیدا ہوتے ہیں پس انہی کو بطور مثال ذکر کردیا۔
Ayah 23:20

وَ شَجَرَةً تَخْرُجُ مِنْ طُوْرِ سَیْنَآءَ تَنْۢبُتُ بِالدُّهْنِ وَ صِبْغٍ لِّلْاٰكِلِیْنَ Open ayah 23:20 in the Quran reader

اور وہ درخت بھی (ہم ہی نے پیدا کیا) جو طور سینا میں پیدا ہوتا ہے (یعنی زیتون کا درخت کہ) کھانے کے لئے روغن اور سالن لئے ہوئے اُگتا ہے

وشجرۃ تخرج من طور سینآء اور ہم نے ایک (اور) درخت پیدا کیا (یعنی زیتون) جو طور سینا میں پیدا ہوتا ہے۔ سَیْنَآءَکے معنی مختلف بیان کئے گئے ہیں۔ مجاہد نے کہا سیناء کا معنی ہے برکت۔ یعنی برکت والے پہاڑ سے ہم نے زیتون کو پیدا کیا۔ قتادہ ‘ ضحاک اور عکرمہ نے کہا اس کا معنی ہے اچھا اور خوبصورت۔ ضحاک نے کہا یہ نبطی زبان کا لفظ ہے اور عکرمہ نے اس کو حبشی زبان کا لفظ کہا ہے۔ کلبی نے کہا سیناء کا معنی ہے درختوں والا۔ بعض نے کہا سریانی زبان میں گھنے درختوں کی جھاڑی کو سیناء کہتے ہیں۔ مقاتل نے کہا جس پہاڑ پر بکثرت پھل دار درخت ہوں اس کو نبطی زبان میں سیناء اور سینین کہا جاتا ہے۔ مجاہد نے کہا سینا۔ خاص پتھروں کی ایک قسم ہوتی ہے یہ طور میں بکثرت موجود ہیں اس لئے طور کی سیناء کی طرف اضافت کردی گئی۔ ابن زید نے کہا طور سیناء پورا نام اس پہاڑ کا ہے جو مصر اور ایلہ کے درمیان واقع ہے جہاں سے حضرت موسیٰ : ( علیہ السلام) کو ندا دی گئی تھی۔ جیسے امر القیس پورا نام ہے۔ تنبت بالدہن وصبغ للاکلین۔ جو اگتا ہے تیل لئے ہوئے اور کھانے والوں کے لئے سالن لئے ہوئے۔ یعنی زیتون میں دونوں فائدے ہیں یعنی اس کے اندر روغن بھی جو مالش کے کام میں آتا ہے اور چراغ بھی اس سے جلائے جاتے ہیں اور یہ سالن بھی ہے کہ روٹی اس میں ڈبوئی جاتی ہے۔ بغوی نے لکھا ہے صبغ اور صباغ اس سالن کو کہتے ہیں جس میں روٹی بوئی جاتی ہے اور روٹی پر اس کا رنگ آجاتا ہے اور ادام عام سالن کو کہتے ہیں جس کو روٹی کے ساتھ کھایا جاتا ہے خواہ اس سے روٹی رنگین ہو یا نہ ہو۔ مقاتل نے کہا اللہ نے اس درخت کو ادام (سالن) بھی بنایا ہے اور دہن (روغن ‘ زیت) بھی۔ مقاتل نے یہ بھی کہا کہ طور کے ساتھ زیتون کی خصوصیت اس وجہ سے کہ سب سے پہلے طور میں ہی زیتون کا درخت پیدا ہوا۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ طوفان کے بعد زمین پر سب سے پہلے زیتون کا ہی درخت پیدا ہوا۔
Ayah 23:21

وَ اِنَّ لَكُمْ فِی الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً١ؕ نُسْقِیْكُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْنِهَا وَ لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ كَثِیْرَةٌ وَّ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَۙ Open ayah 23:21 in the Quran reader

اور تمہارے لئے چارپایوں میں بھی عبرت (اور نشانی) ہے کہ ان کے پیٹوں میں ہے اس سے ہم تمہیں (دودھ) پلاتے ہیں اور تمہارے لئے ان میں اور بھی بہت سے فائدے ہیں اور بعض کو تم کھاتے بھی ہو

وان لکم فی الانعام لعبرۃ اور تمہارے لئے مویشیوں میں بھی غور کرنے کا موقع ہے۔ عبرت ‘ نشانی ‘ دلیل جس سے صانع کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ پر تم استدلال کرسکتے ہو۔ عام لوگ چونکہ عبرت اندوز نظر سے چوپایوں کو نہیں دیکھتے اور ان کی تخلیق سے سبق نہیں لیتے اس لئے ان کو منکر قرار دے کر کلام کو پرزور طور پر تاکید کے ساتھ بیان کیا (اگر علامات انکار موجود ہوں خواہ مخاطب منکر نہ ہو تب بھی اس کو خطاب اسی طرح تاکید کے ساتھ کیا جاتا ہے جیسے منکر سے کیا جاتا ہے) ۔ نسقیکم مما فی بطونہا ولکم فیہا منافع کثیرۃ ومنہا تاکلون۔ ہم تم کو ان کے پیٹوں کے اندر (پیداشدہ) چیز (دودھ) سے پینے کو دیتے ہیں اور تمہارے لئے ان میں اور بھی بہت سے فائدے ہیں اور ان میں سے تم بعض کو کھاتے ہو
Ayah 23:22

وَ عَلَیْهَا وَ عَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَ۠ Open ayah 23:22 in the Quran reader

اور ان پر اور کشتیوں پر تم سوار ہوتے ہو

وعلیہا وعلی الفلک تحملون۔ اور ان پر اور کشتیوں پر لدے پھرتے ہو۔ مِّمَّا فِِیْ بُطُوْنِہَاسے مراد ہے دودھ ‘ یا چارہ۔ اوّل صورت میں مِن (بمعنی کچھ) تبعیضیہ ہے اور دوسری صورت میں ابتدائیہ کیونکہ دودھ چارے سے ہی پیدا ہوتا ہے۔ فِیْہَا یعنی چوپایوں کی پشت اور بال واؤن وغیرہ میں بکثرت فوائد ہیں۔ وَمِنْہَا تَاْکُلُوْنَ اور ان میں سے بعض کو تم کھاتے ہو (یعنی گوشت چربی وغیرہ) وَعَلَیْہَا اور بعض چوپایوں پر سوار ہوتے ہو جیسے اونٹ اور بیل۔ بعض اہل علم نے کہا صرف اونٹ مراد ہیں عرب اونٹوں پر ہی سوار ہوتے تھے اور لفظ فلک کے ساتھ بھی اونٹ مناسبت رکھتے ہیں۔ اونٹ خشکی کے جہاز مشہور ہیں۔ ذوالترمۃ شاعر نے کہا ہے سفینۃ برٍّ تحت خدی زمامہا۔ تُحْمَلُوْنَتم لدے پھرتے ہو خشکی میں اور دریاؤں میں۔ نُسْقِیْکُمْ ۔۔ یہ عبرت کا بیان ہے کیونکہ گوبر اور خون کے بیچ میں سے خالص سفید خوشگوار دودھ برآمد کرنا اپنے اندر درس عبرت رکھتا ہے۔ چوپایوں سے دودھ ‘ گھی ‘ اون اور بالوں کی پیداوار اور سواری و باربرداری کے لئے ان کا فرماں بردار ہوجانا اور ضعیف الجثّہ انسان کی خدمت پر ایسے قوی ہیکل جانوروں کا لگ جانا اللہ کی قدرت تامہ کو ثابت کرتا ہے۔
Ayah 23:23

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 23:23 in the Quran reader

اور ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو انہوں نے ان سے کہا کہ اے قوم! خدا ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، کیا تم ڈرتے نہیں

ولقد ارسلنا نوحا الی قومہ اور ہم نے پیغمبر بنا کر بھیجا نوح ( علیہ السلام) کو ان کی قوم کے پاس۔ اس سورت کے آغاز میں اللہ نے مؤمنوں کے خصوصی احوال بیان فرمائے پھر ان دلائل و آیات کا تذکرہ کیا جو ایمان وطاعت کی دعوت دے رہی ہیں۔ اس کے بعد ان سرکش کافروں کا اور ان کے انجام کا ذکر فرمایا جو اللہ سے باغی تھے اور پیغمبر کے فرمان سے سرتابی کرنے والے۔ فقال یقوم اعبدوا اللہ ما لکم من الہ غیرہ افلا تتقون۔ پس انہوں نے کہا اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو ‘ سوائے اس کے تمہارا اور کوئی معبود نہیں سو کیا تم (اس سے) ڈرتے نہیں۔ یعنی کیا تم کو اس بات کا اندیشہ نہیں کہ تم جو اس کے سوا دوسروں کی پوجا کرتے ہو اور اللہ کی نعمت کی ناشکری کرتے ہو۔ کہیں وہ تم سے یہ ساری نعمتیں چھین لے اور تم کو اس شرک کی وجہ سے (دنیا اور آخرت میں) عذاب میں مبتلا کر دے۔
Ayah 23:24

فَقَالَ الْمَلَؤُا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۙ یُرِیْدُ اَنْ یَّتَفَضَّلَ عَلَیْكُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَنْزَلَ مَلٰٓئِكَةً١ۖۚ مَّا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَۚ Open ayah 23:24 in the Quran reader

تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے کہ یہ تو تم ہی جیسا آدمی ہے۔ تم پر بڑائی حاصل کرنی چاہتا ہے۔ اور اگر خدا چاہتا تو فرشتے اُتار دیتا۔ ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو یہ بات کبھی سنی نہیں تھی

فقال الملو الذین کفروا من قومہ ما ہذا الا بشر مثلکم یرید ان یتفضل علیکم ولو شآء اللہ لا نزل ملئکۃ ما سمعنا بہذا فی ابآئنا الاولین۔ (اس کے جواب میں) ان کی قوم کے کافروں نے کہا کہ یہ شخص تو تم ہی جیسا انسان ہے (پیغمبری کا دعویٰ کر کے) چاہتا ہے کہ تم سے برتر ہو کررہے۔ اگر اللہ کو (رسول بنانا) منظور ہوتا تو وہ (ہدایت کے لئے) فرشتوں کو اتار دیتا ہم نے تو یہ بات انپے پہلے بزرگوں سے بھی نہیں سنی۔ الملاء سرداران قوم نے آپس میں (یا عوام سے) کہا کہ یہ نوح ( علیہ السلام) تو تم جیسا آدمی ہے تمہاری طرح کھاتا اور سوتا ہے پھر یہ اللہ کا بھیجا ہوا رسول کیسے ہوسکتا ہے۔ قوم نوح کا خیال تھا کہ پتھر بھی معبود ہونے میں اللہ کے شریک ہیں اور کوئی انسان اللہ کا رسول نہیں ہوسکتا اگر خدا کسی کو پیغمبر بنا کر بھیجنا چاہتا تو کسی فرشتے کو بھیج دیتا اسی خیال کے زیر اثر وہ یہ سمجھ بیٹھے کہ نوح چونکہ رسالت کے مدعی ہیں اس لئے شاید ان کو اپنے آدمی ہونے کا انکار ہے یا فرشتہ ہونے کا دعویٰ ہے۔ یُرِیْدُیعنی رسالت کا دعویٰ کرنے سے اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ تم سب کا سردار بن جائے اور تم سب سے اعلیٰ وبالا ہوجائے۔ وَلَوْ شَآء اللّٰہُیعنی اگر اللہ کو منظور ہوتا کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے یا کسی کو رسول بنا کر بھیجنا چاہتا۔ مَا سَمِعْنَا بِہٰذَاہم نے تو یہ بات جس کا نوح مدعی ہے کہ معبود ایک ہے اور آدمی کو پیغمبر بنا کر وہ بھیجتا ہے اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر کے اٹھایا جائے گا ‘ اپنے پچھلے بزرگوں میں بھی کبھی نہیں سنی۔ ایسی بات کافروں نے یا تو محض عناد کی وجہ سے کہی تھی یا واقعی کسی پیغمبر کو آئے ہوئے ایک لمبی مدت گزر گئی تھی اور ان کو بزرگوں سے بھی کسی پیغمبر کا مبعوث ہونا معلوم نہیں ہوا تھا 1 ؂۔
Ayah 23:25

اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ فَتَرَبَّصُوْا بِهٖ حَتّٰى حِیْنٍ Open ayah 23:25 in the Quran reader

اس آدمی کو تو دیوانگی (کا عارضہ) ہے تو اس کے بارے میں کچھ مدت انتظار کرو

ان ہو الا رجل بہ جنۃ فتربصوا بہ حتی حین۔ یہ صرف ایک ایسا آدمی ہے جس کو جنون ہوگیا ہے اب تم اس کو اس کی حالت پر ایک وقت تک رہنے دو اور منتظر رہو۔ جِنَّۃٌجنون ‘ یہ جو رسالت کا دعویٰ کر رہا ہے یہ اس کا جنون ہے ‘ درحقیقت یہ نفی رسالت کی تاکید ہے۔ کیونکہ دیوانہ رسول نہیں ہوسکتا اور اس کو جنون ہے اس لئے رسول نہیں ہوسکتا۔ فَتَرَبَّصُوْا یعنی اس کو برداشت کرو اور اس وقت کا انتظار کرو کہ یہ خود ہی مرجائے یا اس کا جنون دور ہوجائے۔
Ayah 23:26

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا كَذَّبُوْنِ Open ayah 23:26 in the Quran reader

نوح نے کہا کہ پروردگار انہوں نے مجھے جھٹلایا ہے تو میری مدد کر

قال رب انصرنی بما کذبون۔ نوح نے کہا اے میرے رب ! چونکہ انہوں نے میری تکذیب کی اس لئے میرا ان سے بدلہ لے۔ (یا مجھے ان کے مقابلے میں کامیاب کر) ۔ حضرت نوح ( علیہ السلام) نے یہ دعا اس وقت کی جب آپ کو اللہ کی طرف سے اطلاع دے دی گئی کہ جو ایمان لے آئے ہیں ان کے علاوہ اور کوئی ایمان نہیں لائے گا۔ اُنْصُرْنِیْمیری مدد کر یعنی جس عذاب سے میں نے ان کو ڈرایا تھا وہ عذاب نازل فرما دے۔ اور ان کو تباہ کر دے۔