23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 23:1–22

قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 23:1 in the Quran reader

بیشک ایمان والے کامیاب ہوئے

الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَۙ Open ayah 23:2 in the Quran reader

جو اپنی نماز میں عجزونیاز کرنے والے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَۙ Open ayah 23:3 in the Quran reader

اور جو بیہودہ باتوں سے منہ موڑے رہتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوْنَۙ Open ayah 23:4 in the Quran reader

اور جو زکوٰۃ ادا کرتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ Open ayah 23:5 in the Quran reader

اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں

اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ Open ayah 23:6 in the Quran reader

مگر اپنی بیویوں یا کنیزوں سے (مباشرت کرنے میں) پس یقینا (اس میں) ان پر کوئی الزام نہیں

فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْعٰدُوْنَۚ Open ayah 23:7 in the Quran reader

پھر جو اس کے علاوہ (اس کام کا) طلب گار ہو سو ایسے لوگ حد (شرعی) سے نکلنے والے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ Open ayah 23:8 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنی (سپرد کی گئی) امانتوں اور اپنے وعدوں کا خیال رکھتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَوٰتِهِمْ یُحَافِظُوْنَۘ Open ayah 23:9 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنی نمازوں کی پابندی کرتے ہیں

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَۙ Open ayah 23:10 in the Quran reader

یہی لوگ وارث ہیں

الَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَ١ؕ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 23:11 in the Quran reader

جو فردوس کے وارث ہوں گے (اور) وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ طِیْنٍۚ Open ayah 23:12 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصہ (غذا اور سیل) سے بنایا

ثُمَّ جَعَلْنٰهُ نُطْفَةً فِیْ قَرَارٍ مَّكِیْنٍ۪ Open ayah 23:13 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کو نطفہ بنایا جو ایک مقرر (مدت تک) مقام (رحم مادر) میں رہا

ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظٰمًا فَكَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْمًا١ۗ ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَ١ؕ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَؕ Open ayah 23:14 in the Quran reader

پھر ہم نے اس نطفہ کو خون کا لوتھڑا بنایا پھر اس خون کے لوتھڑے کو (گوشت کی) بوٹی بنادیا پھر ہم نے اس بوٹی (کے بعض اجزا) کو ہڈیاں بنادیا پھر ہم نے ان ہڈیوں پر گوشت چڑھایا پھر ہم نے (اس میں روح ڈال کر) اس کو ایک دوسری ہی طرح کی مخلوق بنادیا۔ تو بڑے ہی بابرکت ہیں اللہ جو سب سے بہتر بنانے والے ہیں

ثُمَّ اِنَّكُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ لَمَیِّتُوْنَؕ Open ayah 23:15 in the Quran reader

پھر یقینا اس کے بعد تم مرجاتے ہو

ثُمَّ اِنَّكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ تُبْعَثُوْنَ Open ayah 23:16 in the Quran reader

پھر یقینا قیامت کے روز اٹھا کھڑے کیے جاؤ گے

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعَ طَرَآئِقَ١ۖۗ وَ مَا كُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غٰفِلِیْنَ Open ayah 23:17 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے تمہارے اوپر سات آسمان بنائے اور ہم مخلوق سے بیخبر نہ تھے

وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ فَاَسْكَنّٰهُ فِی الْاَرْضِ١ۖۗ وَ اِنَّا عَلٰى ذَهَابٍۭ بِهٖ لَقٰدِرُوْنَۚ Open ayah 23:18 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان سے مناسب مقدار میں پانی برسایا پھر ہم نے اس کو زمین میں ٹھہرایا اور ہم اس (پانی) کے نابود کردینے پر (بھی) قادر ہیں

فَاَنْشَاْنَا لَكُمْ بِهٖ جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ١ۘ لَكُمْ فِیْهَا فَوَاكِهُ كَثِیْرَةٌ وَّ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَۙ Open ayah 23:19 in the Quran reader

پھر ہم نے اس میں تمہارے لئے کھجوروں اور انگوروں کے باغات بنائے ان میں تمہارے لئے بکثرت پھل بھی ہیں اور تم ان میں سے کھاتے بھی ہو

وَ شَجَرَةً تَخْرُجُ مِنْ طُوْرِ سَیْنَآءَ تَنْۢبُتُ بِالدُّهْنِ وَ صِبْغٍ لِّلْاٰكِلِیْنَ Open ayah 23:20 in the Quran reader

اور (اسی پانی سے) ایک (زیتون کا) درخت بھی (ہم نے پیدا فرمایا) جو طور سینا میں (بکثرت) پیدا ہوتا ہے جو اگتا ہے تیل کے لئے ہوئے اور کھانے والوں کے لئے سالن لئے ہوئے

وَ اِنَّ لَكُمْ فِی الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً١ؕ نُسْقِیْكُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْنِهَا وَ لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ كَثِیْرَةٌ وَّ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَۙ Open ayah 23:21 in the Quran reader

اور بیشک تمہارے لئے مویشیوں میں بھی غور کرنے کا مقام ہے کہ جو ان کے پیٹوں میں ہے اس میں سے ہم تم کو (دودھ) پلاتے ہیں اور تمہارے لئے ان میں اور بھی بہت سے فائدے ہیں اور تم ان میں سے (بعض کو) کھاتے بھی ہو

وَ عَلَیْهَا وَ عَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَ۠ Open ayah 23:22 in the Quran reader

اور ان پر اور کشتی (بحری جہاز) پر تم سوار ہوتے ہو

سورة المؤمنون : (رکوع نمبر 1) اسرارومعارف سورة مومنون بھی مکی سورتوں میں شمار کی گئی ہے اور اسی سابق مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے ایمان لانے والوں کے اوصاف کا تذکرہ فرماتے ہوئے شروع ہوتی ہے کہ جنہیں ایمان نصیب ہوا وہ فلاح پاگئے کامیاب ہوگئے فلاح کا ترجمہ اردو میں تو کامیابی ہی ہے مگر عربی زبان کے اعتبار سے اس کا معنی بہت وسیع ہے فلاح سے مکمل کامیابی مراد ہے ہر کام میں ہر وقت اور ہر عالم میں ، دنیا ہو دنیا کی تجارت ، سیاست یا امور ذاتی ہر جگہ کامیاب موت کے لمحات ہوں یا برزخ کا عرصہ کامیاب ، میدان حشر ہو یا آخرت کی زندگی کامیاب اور یہ کامیابی ایمان کا پھل ہے رہا یہ سوال کہ دنیا میں کون ہے جسے مصیبت سے گزرنا پڑا ہو اور جس کی ہر خواہش پوری ہوئی ہو۔ (مومن کی پسند اور خواہش) انبیاء کرام (علیہ السلام) اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین بھی تکالیف میں مبتلا رہے تو سمجھ لیا جائے کہ نبی ہو یا صحابی یا مومن کامل سب کی پسند اور طلب اللہ جل جلالہ کی رضا اور اس کا قرب بن جاتا ہے نبی تو ہوتا ہی کامل ہے ، صحابی نبوت سے برکات وانوارات حاصل کرکے اور مومن ان کی اتباع سے وہ عظیم طلب پیدا کرلیتا ہے اور ایسے لوگوں پر بظاہر جو مصیبت بھی آتی ہے وہ اللہ جل جلالہ کی رضا وقرب کا سبب بن کر فلاح ہی بن جاتی ہے لہذا مومن کے لیے ہر حال میں کامیابی مقدر ہے آگے اوصاف بیان حال بیان ہوتے ہیں کہ مومن کیسا ہوتا ہے ، پہلا وصف کہ عبادت میں اسے خشوع حاصل ہوتا ہے ، خشوع قلب کا حال ہے جب قلب میں اللہ جل جلالہ کا نام راسخ ہوجائے تو غیر اللہ کے خیال تک کے لیے گنجائش نہیں رہتی ، بدن بھی سکون سے عبادت تب ہی کرسکتا ہے ، دوسرا وصف یہ کہ عمر عزیز کا کوئی لمحہ ضائع نہیں کرتے اور لایعنی امور میں الجھنے سے بچتے ہیں ، غیر ضروری کاموں سے دور رہتے ہیں تیسرا وصف یہ کہ زکوۃ یعنی پاکیزگی کے لیے کوشاں رہتے ہیں ، بدنی اخلاق اور مال ہر طرح کی پاکیزگی کے لیے مسلسل محنت کرتے ہیں اور چوتھا وصف یہ کہ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں اور شہوات میں سے غالب تر حال میں بھی اللہ جل جلالہ کا حکم نہیں بھولتے اور صرف بیوی یا جائز لونڈی سے جن کے ساتھ جمع ہونے میں کوئی قباحت نہیں اپنی حاجت پوری کرتے ہیں علاوہ ازیں کسی بھی طرح سے شہوت پوری نہیں کرتے اور اپنی شرمگاہوں کو بچاتے ہیں اس لیے کہ ان دو حلال راستوں کے علاوہ کسی بھی طرح سے شہوت پوری کرنے والے تو حد سے گزرنے والے ہوتے ہیں اور مومن کا پانچواں وصف کہ یہ لوگ امانت دار اور وعدہ ایفا کرنے والے ہوتے ہیں ، وہ امانت اور عہد ، حقوق اللہ ہوں یا دنیا کی ذمہ داریاں اور حقوق العباد ان کو پورا کرنے میں اپنی پوری قوت پورے خلوص سے صرف کرتے ہیں اور اگلا وصف یہ کہ عبادات نہ صرف ادا کرتے ہیں بلکہ ان کی حفاظت کا حق ادا کرتے ہیں یعنی پورے اہتمام کے ساتھ اور پورے لوازمات کے ساتھ فرض ، واجب ، سنت اور مستحب تک کا خیال رکھتے ہیں نیز دوسروں تک بھی پہنچاتے ہیں اور انہیں تبلیغ وتعلیم کرکے عبادات کی حفاظت کرتے ہیں ، جنت تو ایسے لوگوں کی میراث ہے یعنی انہیں اس کا ملنا اس قدر یقینی جس قدر وارث کو میراث کا پہنچنا یقینی ہوتا ہے اور اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ۔ ہر بننے والی شے کا ایک انجام اور نتیجہ ہوتا ہے کوئی بھی شے بےمقصد نہیں بنائی جاتی تو پھر اگر یہ دارآخرت حساب کتاب اور جزا وسزا پہ انہیں یقین آتا تو کیا انسان کی حیات کا کوئی نتیجہ نہ نکلے گا ، بس پیدا ہوئے زندگی گذاری اور مر گئے جو کسی سے بس سکا اچھا یا برا کر گذرا اور کوئی پوچھنے والا نہیں ، اس کا جواب ارشاد ہوتا ہے ذرا انسانی تعمیر تو دیکھو کہ کارگاہ حیات کا سارا نظام سورج چاند ستارے بادل اور آسمان زمین پانی ہوائیں اور اللہ کے بیشمار فرشتے اس کام پر لگے ہیں ۔ (تخلیق انسانی اور اسلام نیز سائنس کی تحقیق) یہ سارا نظام چلتا ہے تو مٹی سے وہ جوہر اور خلاصہ حاصل ہوتا ہے جس سے انسانی وجود کی تعمیر مقصود ہوتی ہے اور ہر ذرہ کسی وجود کا مقدر ہوتا ہے جیسے مٹی سے مختلف اجناس پھلوں غذاؤں ، دواؤں کی صورت ایک لمبے طریق کار سے گذار کر اس وجود تک پہنچایا جاتا ہے جس سے آگے کسی انسان کو پیدا ہونا ہوتا ہے ، حضرت آدم (علیہ السلام) کو دست قدرت نے بنا کر یہ نظام ترتیب دے دیا کہ اس کے بعد ساری اولاد آدم ایسے ہی بن رہی ہے اور اسے مخاطب ذرا غور کر کہ کتنا بڑا نظام مٹی کو غذا بنانے کے لیے سرگرم عمل ہے پھر وہ غذا باپ اور ماں دو میں الگ الگ جمع ہو رہی ہے ، غذا وہ کھاتے ہیں مگر نظام قدرت ان تک وہ اجزا پہنچاتا ہے جو ان کے وجود کا مقدر ہیں اور ساتھ وہ بھی جن سے اولاد پیدا کرنا مقصود ہوتا ہے یہ دوسرے جا کر نطفہ بن کر محفوظ ہوجاتے ہیں ۔ پھر اپنے مقررہ وقت پر وہ نطفہ رحم مادر میں اپنی جگہ پاتا ہے پھر قدرت جمے ہوئے خون کے لوتھڑے میں تبدیل کردیتی ہے پھر اس سے گوشت کا لوتھڑا بن جاتا ہے پھر اسی میں ہڈیاں بنتی ہیں اور ہر جوڑ اپنی جگہ پر آتا ہے پھر وہ گوشت ان ہڈیوں پر چڑھا دیا جاتا ہے کہ انسانی وجود مکمل ہوجاتا ہے پھر اسے ایک نئی صورت حیات عطا کر کے ایک نئی قسم کی مخلوق بنا دیا جاتا ہے یعنی اس میں روح پھونک کر اسے انسان کی صورت میں پیدا کردیتا ہے ، روح دو قسم کی ہے ایک روح حیوانی جو اعضاء انسانی کی تخلیق اور دوران خون کے اجزا سے لطیف بخارات کی صورت رگوں میں پیدا ہوتا جاتا ہے ۔ (روح) اسے اطباء اور فلاسفر روح کہتے ہیں مگر حقیقی روح انسانی کا تعلق عالم بالا سے ہے اور عالم ارواح سے لا کر اللہ کریم اپنی قدرت کاملہ سے وجود انسانی میں بسا دیتے ہیں اور روح حیوانی سے اس کا تعلق قائم کردیتے ہیں ، وہ کیا ہے یہ جاننا عقل انسانی کی رسائی سے بالاتر ہے ، ہاں یہ حق ہے کہ اس کی تخلیق ابدان کی تخلیق سے بہت پہلے ہے ازل میں اسی پر سوال ہوتا تھا ، ” ’ الست بربکم “ یہی انسانی حیات کا سبب ہے اور اس کا ہی یہ تعلق جو باعث حیات ہے ختم ہو کر موت کہلاتا ہے ذرا اس تمام عمل پر غور کرو اور دیکھو ۔ (خالق) کہ اللہ کس قدر بہترین و حسین ، کامل و قادر اور سارے بنانے والوں سے اعلی و افضل خالق اور پیدا کرنے والا ہے اگرچہ خالق حقیقی صرف اللہ ہے جو کسی شے کا محتاج نہیں اور عدم سے وجود کو پیدا فرماتا ہے مگر لفظ خالق صنعت پر بھی استعمال ہوتا ہے اور انسانی ایجادات کو بھی تخلیق کہہ دیا جاتا ہے جبکہ ان کی حقیقت صرف اتنی ہے کہ اللہ جل جلالہ کی بنائی ہوئی اشیاء کو مختلف انداز سے جوڑا تو ایک نئی شئے وجود میں آگئی ، تخلیق باری میں اور انسانی تخلیق میں اتنا فاصلہ ہے کہ قدرتی طور پر بننے والی ہر شے کبھی انسانی ہاتھ نہیں بنا سکتے وہ ویسے ہی قدرتی انداز میں بنتی ہے خواہ وہ گھاس کا ایک تنکا ہی ہو اور یہ قرآن کریم کا بہت بڑامعجزہ اور اس کی صداقت کی بہت بڑی دلیل ہے کہ وجود انسانی کی تعمیر جو رحم مادر میں ہوتی ہے اسلام نے سائنس سے چودہ سو سال پہلے بیان کردی اور سائنس ٹکریں مار مار کر اب یہاں پہنچی ہے کہ صرف ان حقائق کا اقرار کرسکے ” سبحان اللہ العظیم “۔ اب یہ عمل فضول تو نہیں ہو سکتا کہ اس کے بعد تم سب کو موت آنی ہے موت دنیا کی زندگی کا خاتمہ تو ہے انسانی کا خاتمہ نہیں یکہ اس کے بعد تمہیں پھر سے زندہ کیا جائے گا اور روز قیامت اپنے اپنے کے نتائج پاؤ گے ۔ دیکھو عظمت الہی نے تمہارے اوپر ساتھ آسمان بنا کر ان میں اسباب حیات محرک بسا دئیے اور زندگی کے رستے بنا دیئے کہ آسمان حیات دنیا کے لیے حکومتی مراکز ہیں اور ملائکہ وہیں سے احکام حاصل کرکے حیات دنیا کا نظام چلاتے ہیں ، اعمال انسانی اور دعائیں بھی ادھر ہی کو جاتی ہیں ، یہ سب نظام اس خاطر بنا کر اللہ اپنی مخلوق سے اس کی ضروریات سے کبھی بیخبر تو نہیں دیکھو ہم نے کن بلندیوں سے پانی برسایا اس کے پیچھے کتنے عناصر کار فرما ہیں اور کتنی تبدیلیوں کے بعد وہ بارش کے قطرات کی صورت برستا ہے اور پھر کمال قدرت کہ قطرے بھی شمار کر کے برساتا ہے بےانداز نہیں برستے ، جگہ بھی منتخب فرما کر وہاں برساتا ہے اور پھر ایسا قادر ہے کہ اسے زمین پر روک بھی دیتا ہے کبھی برف کی صورت کبھی جھیل بنا کر کہیں زیر زمین جمع کرکے چشمے رواں کردیتا ہے اگر اللہ چاہتے کہ جیسے برسا تھا زمین پر رکے بغیر سب بہہ جاتا یا اللہ اس کو سرے سے ہی لے جائے تو قادر ہے مگر اپنے کرم سے تمہارے لیے اس کے سبب طرح طرح کے باغات اور پھول پھل اگا دیتا ہے کھجور ، انگور اور بیشمار دوسرے میوے جنہیں تم بہت شوق سے کھاتے ہو اور ایسے مبارک درخت اگا دیتا ہے ۔ (زیتون) جیسے وادی سینا میں زیتون کہ اس کا پھل ایسے تیل سے بھرا ہوتا ہے جو بہترین سالن بھی ہے جسے ڈیڑھ ہزار برس قبل کتاب اللہ نے بہترین سالن کہا سائنس آج اسے دیسی گھی کا نعم البدل کہتی ہے کہ کسڑول اور روغنیات کی خون میں زیادتی کے مریض بھی کھایا کریں یہ دیسی گھی سے زیادہ طاقت دیتا ہے اور خون میں سے ان موادوں کو صاف کرتا اور گھٹاتا ہے تمہارے لیے تو ایک ایک پالتو جانور عظمت الہی اور احسان باری تعالیٰ کی بہت بڑی دلیل ہے کہ ان کے خون اور گوبر سے نکال کر بہترین دودھ تمہیں عطا فرماتا ہے پھر ان کا گوشت کھال بال اور ہڈیاں تک تمہارے کام آتی ہیں وہ تمہارا مال تجارت بھی بن جاتے ہیں اور سواری بھی اور انہوں نے تمہیں سواریاں بنانے اور بحری جہاز کا تصور دے کر کتنی خدمت کی ہے پرندوں کو دیکھ کر ہوائی جہاز اور بحری جانوروں کو دیکھ کر بحری جہاز بنا لیے گئے ۔
Ayahs 23:23–32

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 23:23 in the Quran reader

اور ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو انہوں نے (اپنی قوم سے) فرمایا اے میری قوم اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں سو کیا تم (دوسروں کی پوجا سے) ڈرتے نہیں ہو ؟

فَقَالَ الْمَلَؤُا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۙ یُرِیْدُ اَنْ یَّتَفَضَّلَ عَلَیْكُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَنْزَلَ مَلٰٓئِكَةً١ۖۚ مَّا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَۚ Open ayah 23:24 in the Quran reader

تو ان کی قوم میں جو کافر امراء تھے (قوم سے) کہنے لگے یہ تو تم ہی جیسا آدمی ہے تم پر بڑائی حاصل کرنا چاہتا ہے اور اگر اللہ (کسی کو بھیجنا) چاہتے تو فرشتے اتار دیتے ہم نے یہ بات اپنے اگلے باپ دادا میں تو سنی نہیں

اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ فَتَرَبَّصُوْا بِهٖ حَتّٰى حِیْنٍ Open ayah 23:25 in the Quran reader

بلکہ یہ ایک (ایسا) آدمی ہے جس کو جنون ہوگیا ہے سو ایک وقت (اس کے مرنے) تک اس کا انتظار کرو

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا كَذَّبُوْنِ Open ayah 23:26 in the Quran reader

انہوں نے عرض کیا اے میرے پروردگار ! ان لوگوں نے مجھے جھٹلایا ہے تو آپ میری مدد فرمائیے

فَاَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِ اَنِ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا فَاِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوْرُ١ۙ فَاسْلُكْ فِیْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْهِ الْقَوْلُ مِنْهُمْ١ۚ وَ لَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 23:27 in the Quran reader

تو ہم نے ان پر وحی بھیجی کہ ہمارے سامنے اور ہمارے حکم کے مطابق کشتی بنائیں پھر جب ہمارا حکم (عذاب) آپہنچے اور (اس کی نشانی یہ ہے) تنور (تک پانی سے) جوش مارنے لگے تو سب (قسم کے حیوانات) میں سے جوڑا جوڑا (نر و مادہ) اس میں سوار کرلیں اور اپنے گھر والوں (ماننے والوں) کو بھی ان میں سے سوائے ان کے جن کی نسبت (ہلاک ہونے کا) حکم پہلے ہوچکا اور غلط کاروں کے بارے میں ہم سے کچھ نہ کہیے گا ، وہ ضرور غرق کیے جائیں گے

فَاِذَا اسْتَوَیْتَ اَنْتَ وَ مَنْ مَّعَكَ عَلَى الْفُلْكِ فَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ نَجّٰىنَا مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:28 in the Quran reader

پھر جب آپ اور آپ کے ساتھی کشتی میں بیٹھ جائیں تو کہیں اللہ کا شکر ہے جس نے ہم کو ظالم لوگوں سے نجات عطا فرمائی

وَ قُلْ رَّبِّ اَنْزِلْنِیْ مُنْزَلًا مُّبٰرَكًا وَّ اَنْتَ خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ Open ayah 23:29 in the Quran reader

اور دعا کریں کہ اے میرے پروردگار ! مجھ کو برکت سے اتارئیے اور آپ سب سے بہتر اتارنے والے ہیں

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ وَّ اِنْ كُنَّا لَمُبْتَلِیْنَ Open ayah 23:30 in the Quran reader

یقینا اس (واقعہ) میں بہت سی نشانیاں ہیں اور ہم ضرور (یہ نشانیاں دکھا کر) آزمائش کرتے ہیں

ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَۚ Open ayah 23:31 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کے بعد ایک اور گروہ پیدا فرمایا

فَاَرْسَلْنَا فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 23:32 in the Quran reader

پھر ان میں ان ہی میں سے ایک پیغمبر بھیجے (جنہوں نے ان سے فرمایا) کہ اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں سو کیا تم ڈرتے نہیں ؟

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف ان روشن دلائل کے باوجود انسان کی بدنصیبی دیکھو کہ ہم نے نوح (علیہ السلام) کو انکی قوم میں مبعوث فرمایا جنہوں نے گمراہی سے توبہ کرکے اللہ وحدہ ولا شریک کی عبادت کی طرف بلایا اور دلائل سے سمجھایا کہ اے قوم اللہ جل جلالہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں لہذا غیر اللہ کی عبادت چھوڑ دو اور اللہ سے رشتہ استوار کرو مگر ان کی قوم کے کافر سردار کہنے لگے بھلا یہ کیسا نبی ہے لوگو تم سب کی طرح یہ بھی تو اوصاف بشریت ہی سے متصف ہے بس یہ مذہب کا سہارا لے کر تم پر سیاسی غلبہ چاہتا ہے اور حکومت حاصل کرنا چاہتا ہے اگر اللہ کو پیغام دے کر بھیجنا ہوتا تو کسی فرشتے کو بھیجا ہوتا یہ انسانوں ہی کا انسانوں کو اللہ جل جلالہ کا پیغام پہنچانا کیسا ؟ یہ تو ہم نے کبھی آباء و اجداد سے بھی نہیں سنا یعنی ایسا کبھی نہیں ہوا شاید یہ شخص کوئی پاگل ہے جو اس بہانے حکومت کے خواب دیکھ رہا ہے خیر اسے بھی چند روز برداشت کرلو یعنی آخر مرکھپ جائے گا گویا مطلق منہ موڑ لیا حتی کہ بات سننے کے روا دار بھی نہ رہے تو انہوں نے دعا کی بارے الہا اب ان سے تصدیق کی امید نہیں اب تو ہی میری مدد فرما تو انہیں کشتی بنانے کا حکم دیا اور فرمایا ہماری ہدایات کے مطابق ہمارے روبرو یعنی جیسے جیسے بتایا جائے ایک بحری سفینہ بنائیں ۔ (صنعت جہاز سازی) اور جب عذاب الہی آنے لگے جو پانی کی صورت میں ان سب کے غرق کا سبب بن جائے گا ، تنور میں سے پانی کا فوارہ پھوٹ نکلے گا یعنی یہ نشانی ہوگی تو تمام جانوروں کا جوڑا جوڑا اور اپنے تمام متبعین کو اس میں سوار کرلیجئے اور اب اس کے بعد کفار کے لیے مجھ سے نہ کہیے گا کہ اب ان سب کو غرق کردیا جائے گا اور جب طوفان آئے اور آپ سب کشتی پر اللہ جل جلالہ کی حفاظت میں ہوں گے تو ان الفاظ میں شکر ادا کیجئے کہ اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں ان ظالموں سے بچایا نیز دعاکیجئے ۔ (اللہ کی نعمتوں پر شکر مزید نعمتوں کے مانگنے کا سلیقہ بھی ہے) کہ اے رب کسی خوبصورت اور بابرکت زمین پر اتار کہ تو ہی بہترین منازل تک پہنچانے والا ہے ، اس واقعہ میں اعمال پر ظاہر ہونے والے نتائج کس قدر سامنے ہیں اور یہ یقین کرلو اللہ جل جلالہ سب کے اعمال کا حساب لینے والے ہیں پھر اس بربادی کے بعد ہم نے معمورہ عالم کو نئی اقوام سے آباد کردیا یعنی عاد وثمود وغیرہ اور انسان پھر غافل ہوگیا حتی کہ انبیاء کرام (علیہ السلام) ان میں پھر مبعوث فرمائے گئے جنہوں نے اللہ جل جلالہ سے رشتہ استوار کرنے کی دعوت دی ۔