Al-Muminoon 23:2

Al-Muminoon · from ayah 2

23:2

الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَ ۟ۙالَّذِيۡنَ هُمۡ فِىۡ صَلَاتِهِمۡ خَاشِعُوۡنَ

جو نماز میں عجزو نیاز کرتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

They who are during their prayer humbly submissive

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Muminoon

All translations of 23:2

اپنی نماز میں خشوع اختیار کرتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو نماز میں عجزو نیاز کرتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

جو اپنی نماز میں خشوع کرتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

جو اپنی نماز میں دل سے جھکنے والے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جو اپنی نماز میں گڑگڑاتے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جو لوگ اپنی نماز میں عجز و نیاز کرتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہی جو اپنی نماز میں عاجزی کرنے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو اپنی نماز میں عاجزی کرتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جو اپنی نمازوں میں فروتنی اختیار کرنے والے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(جو صحیح عقائد کے ساتھ ساتھ یہ صفات بھی اپنے اندر رکھتے ہیں کہ) وہ خشوع اور خضوع سے کام لیتے ہیں اپنی نماز میں

— مولانا اسحاق مدنی

جو اپنی نماز میں خشوع رکھنے والے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ جو اپنی نمازوں میں خشوع اختیار کرنے والے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو اپنی نماز میں خشوع و حضوع اختیار کرتے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

those who, in their Prayers, humble themselves;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

who concentrate their attention in humbleness when offering Salah (prayers)

— Muhammad Taqi Usmani

who concentrate their attention in humbleness when offering Salah (prayers)

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Those who with their Salah are Khashi`un.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They who are during their prayer humbly submissive

— Saheeh International

who are submissive to God in their prayers,

— Muhammad Sarwar

Who are humble in their prayers,

— Muhammad Habib Shakir

Those who in their prayer are lowly.

— Abdul Majid Daryabadi

Those who humble themselves in their prayers;

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 23:2

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–11

دس آیتیں اور جنت کی ضمانت نسائی، ترمذی اور مسند احمد میں مروی ہے کہ حضرت رسول ﷺ پر جب وحی اترتی تو ایک ایسی میٹھی میٹھی، بھینی بھینی، ہلکی ہلکی سی آواز آپ کے پاس سنی جاتی جیسے شہد کی مکھیوں کے اڑنے کی بھنبھناہٹ کی ہوتی ہے۔ ایک مرتبہ یہی حالت طاری ہوئی۔ تھوڑی دیر کے بعد جب وحی اترچکی تو آپ نے قبلہ کی طرف متوجہ ہو کر اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر یہ دعا پڑھی کہ اے اللہ تو ہمیں زیادہ کر، کم نہ کر، ہمارا اکرام کر، اہانت نہ کر، ہمیں انعام عطا فرما، محروم نہ رکھ، ہمیں دوسروں پر کے مقابلے میں فضیلت دے، ہم پر دوسروں کو پسند نہ فرما، ہم سے خوش ہوجا اور ہمیں خوش کر دے۔ عربی کے الفاظ یہ ہیں۔ دعا (الہم زدنا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُؤْمِنُوْن 2 یہاں سے آیت 9 تک ایمان لانے والوں کی جو صفات بیان کی گئی ہیں وہ گویا دلیلیں ہیں اس دعوے کی کہ انہوں نے ایمان لا کر درحقیقت فلاح پائی ہے۔ بالفاظ دیگر گویا یوں کہا جا رہا ہے کہ ایسے لوگ آخر کیوں کر فلاح یاب نہ ہوں جن کی یہ اور یہ صفات ہیں۔ ان اوصاف کے لوگ ناکام و نامراد کیسے ہو سکتے ہیں۔ کامیابی انہیں نصیب نہ ہوگی تو اور کنھیں ہوگی۔ سورة الْمُؤْمِنُوْن 3 خشوع کے اصل معنی ہیں کسی کے آگے جھک جانا، دب جانا، اظہار عجز و انکسار کرنا۔ اس کیفیت کا تعلق دل سے بھی ہے اور جسم کی ظاہری حالت سے بھی۔ دل کا خشوع یہ ہے کہ آدمی کسی کی ہیبت اور عظمت و جلال سے مرعوب ہو۔ اور جسم کا خشوع یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–6

سورة مومنون مکہ میں اتری اور اس کی ایک سو اٹھارہ آیتیں ہیں اور چھ رکوع فضائل و خصوصیات سورة مومنون مسند احمد میں حضرت فاروق اعظم عمر بن خطاب کی روایت ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ پر جب وحی نازل ہوتی تھی تو پاس والوں کے کان میں ایسی آواز ہوتی جیسے شہد کی مکھیوں کی آواز ہوتی ہے۔ ایک روز آپ کے قریب ایسی ہی آواز سنی گئی تو ہم ٹھہر گئے کہ تازہ آئی ہوئی وحی سن لیں۔ جب وحی کی خاص کیفیت سے فراغت ہوئی تو آنحضرت ﷺ قبلہ رخ ہو کر بیٹھ گئے اور یہ دعا کرنے لگے اللھم زدنا ولا تنقصنا و اکرمنا ولاتھنا واعطنا ولا تحرمنا واثرنا ولا توثر علینا وارض عنا و ارضنا (یعنی یا اللہ ہمیں زیادہ دے کم نہ کر اور ہماری…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

الذین ھم فی صلاتھم خشعون (2) روح نماز کی طرف اشارہ خشوع کے معنی عاجزی، تذلل، نیاز مندی اور فروتنی کے ہیں۔ یہ لفظ مختلف شکلوں میں قرآن میں استعمال ہوا ہے۔ خشعت الاصوات، اور قخشع قلوبھم وغیرہ کے استعملا ات سے لفظ کی اصل روح پر روشنی پڑتی ہے اس وج ہ سے جن لوگوں نے اس کے معنی مجرد سکون کے لئے ہیں ہمارے نزدیک ان کی رائے صححی نہیں ہے۔ یہ اس نماز کی اصل روح کی طرف اشارہ ہے جس پر مذکورہ فلاح کا انحصار ہے۔ مطلب یہ ہے کہ رب کے آگے آدمی کی کمر اور اس کا سر ہی نہ جھکے بلکہ اس کا دل بھی سرفگندہ ہوجائے۔ ان اہل ایمان کی کیفیت یہی ہے کہ نمازوں میں ان کے قیام، ان کی ہئیت ان کی آواز اور ان کے رکع و سجود ایک…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

2-1خُشُوع سے مراد، قلب کی یکسوئی اور مصروفیت ہے۔ قلبی یکسوئی یہ ہے کہ نماز کی حالت میں بہ قصد خیالات اور وسوسوں کے ہجوم سے دل کو محفوظ رکھے اور اللہ کی عظمت و جلالت کا نقش اپنے دل پر بٹھا نے کی سعی کرے۔ اعضا و دل کی یکسوئی یہ ہے کہ ادھر ادھر نہ دیکھے، کھیل کود نہ کرے، بالوں اور کپڑوں کو سنوارنے میں نہ لگا رہے بلکہ خوف و خشیت اور عاجزی کی ایسی کیفیت طاری ہو، جیسے عام طور پر بادشاہ یا کسی بڑے شخص کے سامنے ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

1: یہ خشوع کا ترجمہ ہے۔ عربی میں خضوع کے معنی ہیں ظاہری اعضاء کو جھکانا، اور خشوع کے معنی ہیں دل کو عاجزی کے ساتھ نماز کی طرف متوجہ رکھنا۔ اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ انسان نماز میں جو کچھ زبان سے پڑھ رہا ہو، اس کی طرف دھیان رکھے، اور اگر غیر اختیاری طور پر کوئی خیال آجائے تو وہ معاف ہے، لیکن جونہی یاد آئے، دوبارہ نماز کے الفاظ کی طرف متوجہ ہوجانا چاہیے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–11

درس نمبر 145 تشریح آیات (1 تا 22) قد افلح خلدون (ا تا 11) یہ ایک پختہ وعدہ ہے بلکہ یہ عالم بالا کی ایک وہ ٹوک قرار داد ہے کہ مومنین فلاح پائیں گے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ اللہ تو کبھی اپنے عہد کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ پھر یہ اللہ کا فیصلہ ہے اور اللہ کے فیصلے کو کوئی رد نہیں کرسکتا کہ مومنین دنیا میں بھی فلاح پائیں گے اور آخرت میں بھی فلاح پائیں گے ۔ ایک مومن انفرادی طور پر فلاح پائے گا اور اہل ایمان کی جماعت بھی فلاح پائیں گی۔ ایسی کامیابی جسے ایک مومن اپنے دل اپنی حقیقی زندگی میں محسوس کرتے ہوں اور اس کے اندر فلاح کے وہ تمام مفہوم پائے جاتے ہوں جن سے دنیا با خبر ہے اور وہ مفاہیم بھی پائے جاتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 1–2

1 " خشوع " کے معنی ہیں کسی کے سامنے خوف وہیبت کے ساتھ ساکن اور پست ہونا، چناچہ ابن عباس نے " خَاشِعُوْنَ " کی تفسیر " خائفون ساکنون " سے کی ہے۔ اور آیت (اَنَّكَ تَرَى الْاَرْضَ خَاشِعَةً فَاِذَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاۗءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ ) 41 ۔ فصلت :39) بھی دلالت کرتی ہے کہ " خشوع " میں ایک طرح کا سکون و تذلل معتبر ہے۔ قرآن کریم میں " خشوع " کو وجوہ، ابصار، اصوات وغیرہ کی صفت قرار دیا ہے۔ اور ایک جگہ آیت (اَلَمْ يَاْنِ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ ) 57 ۔ الحدید :16) میں قلب کی صفت بتلائی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اصل خشوع قلب کا ہے اور اعضائے بدن کا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 2 الَّذِیْنَ ہُمْ فِیْْ صَلَاتِہِمْ خٰشِعُوْنَ ” کامیاب ‘ بامراد اور فائز المرام اہل ایمان وہ ہیں کہ نماز پڑھتے ہوئے ان کی توجہ رکعتوں کی گنتی پوری کرنے پر ہی مرکوز نہیں ہوتی بلکہ وہ اپنی نمازوں میں عاجزی اور فروتنی اختیار کرتے ہیں۔ ان کی نمازیں حقیقی خشوع و خضوع کا منظر پیش کرتی ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

2 خَشَعَ کے معنی ایسی عاجزی ہے جو دل میں ڈر اور ہیبت طاری ہونے کی وجہ سے ہو۔ پھر اس ڈر اور عاجزی کے اثرات اعضا وجوارح ہے پر بھی ظاہر ہونے لگیں۔ آنکھیں مرعوب ہو کر جھک جائیں اور آواز پست ہوجائے چناچہ ایسے مقامات پر بھی قرآن نے یہی لفظ استعمال فرمایا ہے، پھر اسی خشوع کا یہ تقاضا ہوتا ہے کہ انسان نماز میں باادب کھڑا ہو۔ ادھر ادھر نہ دیکھے، نہ اپنے کپڑوں کو سنوارتا رہے نہ اپنی داڑھی وغیرہ سے کھیلتا رہے۔ اور نہ دل میں نماز پر توجہ کے علاوہ دوسرے خیالات آنے دے۔ اور خیالات آنے بھی لگیں تو فوراً ادھر سے توجہ ہٹا کر یہ سوچنے لگے کہ وہ نماز میں اپنے مالک کے سامنے دست بستہ کھڑا ہے اور اس بات پر توجہ دے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

2۔ (اور نماز خواہ فرض ہو یا غیر فرض) نماز کی اہمیت اس سے ظاہر ہے کہ اعمال میں سب سے پہلے جگہ اسی کو ملی (آیت) ” خشعون “ خشوع کی حقیقت ہے سکون، یعنی قلب کا بھی کہ خیالات غیر کو قلب میں بالقصد حاضر نہ کرے۔ اور جوارح کا بھی کہ عبث حرکتیں نہ کرے۔ اور اس کی فرضیت میں کلام ہے مگر حق یہ ہے کہ صحت صلوۃ کا تو موقوف علیہ نہیں۔ اور اس مرتبہ میں فرض نہیں، اور قبول صلوۃ کا موقوف علیہ ہے اور اس مرتبہ میں فرض ہے “ (تھانوی (رح) روی عن ابراھیم و مجاھد والزھری الخشوع السکون (جصاص)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–22

بسم اللہ الرحمن الرحیم آیت نمبر 1 تا 22 ترجمہ : بلاشبہ مومنین کامیاب ہوئے جو اپنی نمازوں میں تواضع اختیار کرنے والے ہیں، قَدْ تحقیق کیلئے ہے اور جو لغو باتوں وغیرہ سے اعراض کرنے والے ہیں اور جو زکوۃ ادا کرنے والے ہیں اور جو حرام سے اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں لیکن اپنی بیبیوں سے یا ان عورتوں سے جن کے وہ مالک ہیں یعنی باندیوں سے کیونکہ ان کے پاس آنے میں (جماع کرنے میں) ان پر کوئی الزام نہیں ہاں جو ان کے علاوہ یعنی بیبیوں اور باندیوں کے علاوہ مثلاً استمنا بالید کا طالب ہو تو ایسے لوگ حد سے بڑھنے والے ہیں یعنی ایسی چیز کی طرف تجاوز کرنے والے ہیں جو ان کیلئے حلال نہیں ہے اور جو اپنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الذین ہم فی صلاتہم خشعون۔ جو اپنی نماز میں خشوع کرنے والے ہیں۔ اس آیت کے نزول ہونے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے اپنا سر نیچے جھکا لیا۔ ابن مردویہ کی روایت ان الفاظ کے ساتھ ہے ‘ رسول اللہ ﷺ آسمان میں ادھر ادھر نظر گھما لیا کرتے تھے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ بغوی نے حضرت ابوہریرہ ؓ : کا بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابی نماز کے اندر آسمان کی طرف اپنی نظر اٹھا لیا کرتے تھے جب آیت مذکورہ نازل ہوئی تو سجدہ گاہ پر نظر جمانے لگے۔ ابن ابی حاتم نے ابن سیرین کی مرسل روایت نقل کی ہے کہ صحابہ نماز کے اندر آسمان کی طرف نظریں اٹھا لیتے تھے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ لفظ قَدْ کسی امر متوقع کے ثبوت کے لئے استعمال…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–2

(1۔ 2) بیشک ان مومنوں نے کامیابی اور نجات پائی اور ان موحدین نے توحید خداوندی کی وجہ سے مقام سعادت کو حاصل کرلیا اور یہی لوگ جنت کے وارث ہوں گے کافر جنت کے وارث نہیں ہوں گے یا یہ کہ ان مومنوں نے جو ایمان کے ذریعے تصدیق خدا وندی کرنے والے ہیں، فلاح اور کامیابی پائی اور فلاح کی دو قسمیں ہیں ایک کامیابی اور دوسرے اس کامیابی کی بقاء اور دوام (اور یہ دونوں اہل ایمان کو حاصل ہوں گی) اب اللہ تعالیٰ ان مومنین کے اوصاف بیان فرما رہے ہیں کہ جو اپنی نماز میں خشوع و خضوع کرنے والے ہیں، دائیں بائیں التفات نہیں کرتے اور تکبیر تحریمہ کے بعد نماز میں اپنے ہاتھ نہیں اٹھاتے۔ شان نزول : (آیت) ”۔ الذین ھم فی…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

الَّذِيْنَ هُمْ فِيْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَ : طبری نے اپنی حسن سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے ”خٰشِعُوْنَ“ کی تفسیر ”خَاءِفُوْنَ سَاکِنُوْنَ“ روایت کی ہے۔ (طبری : 25627) یعنی وہ نماز میں دل سے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے ہوتے ہیں اور اس خوف کا ان کے جسم پر ایسا اثر ہوتا ہے کہ وہ نماز کے منافی کسی بھی حرکت سے اجتناب کرتے ہیں، نہ ادھر ادھر نگاہ پھیرتے ہیں، نہ اپنے کپڑے یا ڈاڑھی سے کھیلتے ہیں اور نہ انگلیاں چٹخاتے ہیں۔ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے نماز میں ادھر ادھر جھانکنے کے متعلق پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا : (ھُوَ اخْتِلَاسٌ یَخْتَلِسُہُ الشَّیْطَانُ مِنْ صَلَاۃِ الْعَبْدِ) [ بخاري،…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 1–4

مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قد افلح المومنون۔ بیہقی نے حضرت انس کی حدیث روایت کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :” جب اللہ تعالیٰ نے جنت عدن کو تخلیق فرمایا اور اپنے دست قدرت سے اس کے درخت لگائے اور اسے فرمایا تو بول تو اس نے کہا : قد افلح المومنون۔ (1) نسائی نے حضرت عبد اللہ بن سائب سے روایت کیا ہے فرمایا : میں فتح مکہ کے دن بنی پاک ﷺ کی بارگاہ میں حاضر تھا۔ آپ ﷺ نے کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھی (1) آپ ﷺ نے اپنے نعلین اتارے اور انہیں اپنی بائیں جانب رکھا اور سورة المومنون سے تلاوت کی جب حضرت موسیٰ یا حضرت عیسیٰٗ کے ذکر پر پہنچے تو آپ کو کھانسی آگئی آپ نے وہاں رکوع کردیا۔ امام مسلم…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ سعید بن منصور وابن جریر والبیہقی فی سننہ محمد بن سیرین (رح) سے روایت کیا کہ مجھے بتایا گیا کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز پڑھتے تھے تو اپنی آنکھوں کو آسمان کی طرف اٹھاتے تھے تو یہ آیت آیت الذین ہم فی صلاتہم خاشعون، نازل ہوئی۔ 2۔ عبد بن حمید وابوداوٗد فی مراسیلہ وابن المنذر وابن ابی حاتم والبیہقی فی سننہ من وجہ آخر ابن سیرین (رح) سے روایت کیا کہ نبی ﷺ جب نماز میں کھڑے ہوتے تھے تو دائیں بائیں دیکھتے تھے تو یہ آیت آیت الذین ہم فی صلاتہم خشعون، نازل ہوئی تو آپ نے اپنا سر جھکادیا۔ 3۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے محمد بن سیرین (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب ؓ نماز میں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

الَّذِيْنَ [ وہ لوگ ] هُمْ [ جو ] فِيْ صَلَاتِهِمْ [ اپنی نماز میں ] خٰشِعُوْنَ [ عاجزی کرنے والے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–2

اہل ایمان کی صفات اور ان کی کامیابی کا اعلان ان آیات میں اہل ایمان کی کامیابی کا اعلان فرمایا ہے اور اہل ایمان کی وہ صفات بیان فرمائی ہیں جن کا اہل ایمان کو کامیاب بنانے میں زیادہ داخل ہے۔ فرمایا (قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ ) (تحقیق اہل ایمان کامیاب ہوگئے) اس میں ان لوگوں کی تردید ہے جو دنیاوی چیزوں کو دیکھ کر کامیابی کا فیصلہ کرلیتے ہیں اور یوں سمجھتے ہیں کہ بادشاہ کامیاب ہے کوئی سمجھتا ہے مالدار کامیاب ہیں اور کوئی گمان کرتا ہے کہ بہت بڑی جائداد والا کامیاب ہے کسی کے نزدیک وزیر کامیاب ہے کسی کے نزدیک سفیر، کوئی جمال کو کامیابی کا سبب سمجھتا ہے اور کسی کا فیصلہ یہ ہے کہ جو شخص دنیاوی ہنر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–11

صفات مومنین مفلحین قال اللہ تعالیٰ ۔ قد افلح ال مومن ون .... الیٰ .... ہم فیہا خلدون۔ (ربط) گزشتہ سورت کے اخیر میں اعمال خیر کا حکم اور فلاح کی امید کا ذکر تھا۔ اب ان آیات میں مومنین صالحین کے لیے وقوع فلاح کی خبر دیتے ہیں کہ بلاشبہ وہ مسلمان کامیاب ہیں جن میں یہ سات صفتیں پائی جاتی ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں تحقیق فلاح پائی اہل ایمان نے جس کی پہلے ہی سے اہل ایمان کو امید اور توقع تھی۔ اہل ایمان سے اہل تصدیق اور اہل اطمینان مراد ہے۔ اب اس بشارت کے بعد ان مومنین کی صفات بیان کرتے ہیں۔ ؂ اول صفت خشوع ان میں سے پہلی صفت یہ ہے جو اپنی نماز میں خشوع اور خضوع اور عجزو زاری کرنے والے ہیں یعنی ان کے دل…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–2

2:۔ ” قَدْ اَفْلَحَ الخ “ کے مفہوم میں دو باتیں داخل ہیں ایک مطلوب و مقصود کو پالینا۔ دوم جس سے ڈر یا خطرہ ہو اس سے محفوظ ہوجانا۔ والفلاح الظفر بالمطلوب والنجاۃ من الرھوب ای فاذوا بما طلبوا ونجو مما ھربوا (مدارک ج 3 ص 87) ۔۔ سورة حج کی ابتدا میں ” اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةَ شَیْءٍ عَظِیْمٍ “ سے جس خوفناک عذاب کی وعید سنائی گئی اس سے وہ مومنین محفوظ رہیں گے جو اپنے اندر اوصاف ذیل پیدا کرلیں گے (1) خدا سے ڈر کر نماز قائم کریں۔ (2) ہر قسم کے شرک سے بچیں اور (3) مخلوق خدا پر ظلم نہ کریں۔ یہ تینوں امور عذاب خداوندی سے بچنے کا ذریعہ ہیں۔ 3:۔ ” اَلْمُوْمِنُوقنَ الخ “ المومنون سے وہ لوگ مراد ہیں جو…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–11

نام اور کوائف : اس سورة کا نام اس کی پہلی آیت میں آمدہ لفظ المومنون کے نام رکھا گیا ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی۔ مفسرین کے قول کے مطابق یہ سورة سابقہ سورة الحج کے معاً بعد نازل ہوئی۔ سورة ہذا ایک سو اٹھارہ آیات ، چھ رکو ، 1840 الفاظ اور 4801 حروف پر مشتمل ہے۔ گزشتہ سورة کے ساتھ ربط : گزشتہ سورة کے آخری رکوع میں ہم پڑھ چکے ہیں یایھا الذین امنوا ارکعوا واسجدوا واعبدوا ربکم وافعلوا الخیر لعلکم تفلحون ، اے ایمان والو ! رکوع و سجود کرو اور اپنے پروردگار کی عبادت کرو۔ اور بھلائی کے کام کرو تاکہ تم فلاح پاجائو۔ اب اس سورة کی ابتداء میں بھلائی کے کاموں کی تشریح کی گئی ہے جن پر دنیا وآخرت کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

الَّذِيْنَ ہُمْ فِيْ صَلَاتِہِمْ خٰشِعُوْنَ۝ 2ۙ صلا أصل الصَّلْيُ الإيقادُ بالنار، ويقال : صَلِيَ بالنار وبکذا، أي : بلي بها، واصْطَلَى بها، وصَلَيْتُ الشاةَ : شویتها، وهي مَصْلِيَّةٌ. قال تعالی: اصْلَوْهَا الْيَوْمَ [يس/ 64] والصَّلاةُ ، قال کثير من أهل اللّغة : هي الدّعاء، والتّبريك والتّمجید يقال : صَلَّيْتُ عليه، أي : دعوت له وزكّيت، وقال عليه السلام : «إذا دعي أحدکم إلى طعام فلیجب، وإن کان صائما فَلْيُصَلِّ» أي : ليدع لأهله، وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ [ التوبة/ 103] وصَلَاةُ اللهِ للمسلمین هو في التّحقیق : تزكيته إيّاهم . وقال : أُولئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَواتٌ مِنْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

(2) الذین ھم فی صلوتہم خاشعون یہاں سے حکمت عملیہ شروع ہوتی ہے اور نماز سب میں اول بات ہے اس جملہ میں نہ صرف نماز پڑھنے ہی کا حکم ہے بلکہ نماز میں عاجزی کرنے کا بھی۔ خشوع کے معنی میں اختلاف ہے بعض اس کو دل کا فعل کہتے ہیں۔ ڈرنا اور دل سے معافی پر لحاظ کر کے خدا تعالیٰ کو حاضر یا اپنے آپ کو اس کے آگے کھڑا سمجھ کر عجز و نیاز کرنا اور بعض اس کو ہاتھ پائوں کا عمل کہتے ہیں سکون سے کھڑا رہنا ادھر ادھر التفات نہ کرنا کپڑے یا ڈاڑھی یا اور چیز سے کھیل نہ کرنا۔ نماز کے اندر اور بعض نے دونوں باتوں کو لیا ہے اور یہی قوی ہے اور صحیح حدیثوں میں دونوں باتوں کی طرف اشارہ ہے اور یہ ظاہر ہے۔ کس لیے کہ جب انسان…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

الَّذِیْنَ ھُمْ فِیْ صَلَا تِھِمْ خَاشِعُوْنَ ۔ (المومنون : 2) (ایمان لانے والے) وہ ہیں جو اپنی نماز میں خشوع اختیار کرتے ہیں۔ اہلِ ایمان کی پہلی صفت خشوع کا معنی ہے ” عاجزی، تذلل، نیاز مندی، کسی کے سامنے جھک جانا، دب جانا “۔ آدمی جب کسی عظیم ذات یا پرہیبت شخصیت کے سامنے پیش ہوتا ہے تو اس کی عظمت اور اس کی ہیبت سے مرعوب ہوجاتا ہے اور اگر وہ عظمت اور ہیبت حقیقی اور واقعی ہے تو پھر یہ مرعوبیت انکساری، عاجزی اور تذلل صرف اس حدتک محدود نہیں رہتا کہ اس کے سامنے گردن جھک جائے، جسم خم ہوجائے، کندھے سکڑ جائیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ دل و دماغ بھی سرافگندہ ہوجاتا ہے۔ نماز میں خشوع اسی کیفیت کا نام ہے۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

تفسیر بالقرآن ربط کلام : کامیاب ہونے والوں کی پہلی صفت۔ سورۃ الحج کے آخر میں نماز قائم کرنے کا حکم تھا اب نماز کا مقصد بیان کیا گیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نماز کی ادائیگی میں اس کے ظاہری ارکان کا خیال رکھنا فرض ہے لیکن اس کے ساتھ یہ بھی لازم ہے کہ آدمی اپنے رب کے حضور کھڑا ہو تو اس کا سراپا گواہی دے رہا ہو کہ وہ اپنے رب کے دربار اور اس کی بارگاہ میں ایک فقیر، بےنوا اور سب سے بڑھ کر ایک درماندہ انسان کھڑا ہے۔ رکوع میں جائے تو اس سوچ اور انداز میں جھکے کہ اس نے ہر لحاظ سے اپنے آپ کو اپنے رب کے حضور سرنگوں کرلیا ہے اب وہ جان بوجھ کر سرکشی نہیں کرے گا۔ سجدہ کرے تو اس نیت کے ساتھ کہ وہ ساری…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

2: الَّذِیْنَ ھُمْ فِیْ صَلَاتِھِمْ خَاشِعُوْنَ (تحقیق فلاح پائی ان مؤمنون نے جو اپنی نماز میں خشوع کرنے والے ہیں) ایمان والوں کی متوقع بشارت : قَدْاَفْلَحَ میں قد لمَّا کی نقیض ہے۔ یہ متوقع کو ثابت کرتا ہے جبکہ لمَّا اس کی نفی کرتا ہے مومن اس قسم کی بشارات کی توقع رکھتے تھے۔ اس میں ان کے لئے کامیابی کے ثابت ہونے کی خبر دی گئی ہے۔ اس لئے جس بات کی وہ توقع رکھتے تھے اسی کے ثبوت پر دلالت کے انداز سے خطاب کیا گیا۔ الفلاحؔ مطلوب کو پالینا اور خطرات سے بچ جانا۔ یعنی انہوں نے اپنے مطالبے کو پالیا اور جن چیزوں سے وہ خائف تھے ان سے نجات پالی۔ الایمانؔ لغت میں تصدیق کو کہتے ہیں اور المؤمن تصدیق کرنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

خشوع کی مختلف تفاسیر۔ 2۔ الذین ھم فی صلاتھم خاشعون۔ خشوع کے معنی میں مفسرین کا اختلاف ہے۔ 1۔ ابن عباس کا قول ہے کہ اس سے مراد عاجزی کرنے والے اللہ کے سامنے اظہار عجز کرنے والے۔ 2۔ حسن اور قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد ڈرنے والے۔ 3۔ مقاتل کا قول ہے کہ اس سے مراد تواضع کرنے والے ہیں۔ 4۔ مجاہد کا قول ہے کہ اس سے مراد نظریں نیچی رکنے والے اور اپنی آواز کو پست کرنے والے۔ خشوع و خضوع کے قریب قریب ہے فرق یہ ہے کہ خضوع کا تعلق انسان کے ظاہری بدن کے ساتھ ہے اور خشوع کا تعلق انسان کے باطن قلب اور بصرہ اور صورت کے ساتھ ہے۔ جیسا کہ اللہ کا قو ل ہے ، وخشعت الاصوات للرحمن، حضرت علی کی روایت آئی ہے کہ نماز…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–11

1۔ 11:۔ امام احمد بن حنبل ‘ ترمذی ‘ نسائی اور مستدرک حاکم میں حضرت عمر ؓ سے صحیح روایت 1 ؎ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اس سورت کے شروع کی یہ دس آیتیں جب نازل ہوئیں تو آنحضرت ﷺ نے 2 ؎ دعا مانگی ‘ جس دعا کا حاصل یہ ہے کہ یا اللہ اپنی نعمت کو روز بروز ہم پر بڑھا اور اپنی نعمت سے ہم کو محروم نہ رکھ اور اپنی رضا مندی کے کام ہم سے لے اور پھر آپ نے ان آیتوں کو پڑھ کر فرمایا جو کوئی اس دس آیتوں کے موافق عمل کرے گا بلا شک جنت میں داخل ہوگا۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور صحابہ ؓ نے ان آیتوں کی جو تفسیر 3 ؎ کی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آدمی کا ایمان مضبوط ہونا چاہیے اور نماز پڑھتے وقت ادھر ادھر نظر نہ ڈالنی چاہیے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–11

آیت نمبر 1 یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کی تعریف و تعظیم اور ان کی فلاح وسعادت کا ذکر ہے، نیز اس امر کا بیان ہے کہ وہ فلاح وسعادت کیسے حاصل کرسکتے ہیں اور اس ضمن میں اہل ایمان کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ان مذکورہ صفات سے متصف کریں۔ پس بندہ مومن ان آیات کی میزان پر اپنے آپ کا وزن کرے، اور یہ معلوم کرے کہ اس کے پاس اور دوسروں کے پاس قلت و کثرت یا اضافے اور کمی کے اعتبار سے کتنا ایمان ہے۔ پس فرمایا (قد افلاح المومنون) یعنی اہل ایمان کامیابی اور سعادت سے بہرہ مند ہوئے اور انہوں نے ہر دو چیز حاصل کرلی جس کا حصول اہل ایمان کا مقصود و مطلوب ہے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–2

نماز میں خشوع وخضوع قول باری ہے (قد افلح المومنون الذین ھم فی صلوتھم خاشعون) یقینافلاح پائی ہے ایمان لانے والوں نے جو اپنی نماز میں خشوع و خضوع اختیار کرتے ہیں) ابن عون نے محمد بن سیرین سے روایت کی ہے کہ حضو ر ﷺ جب نماز پڑھتے تو اپنا سر مبارک آسمان کی طرف اٹھاتے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے اپنا سرجھکا لیا۔ ہشام نے مجھ سے روایت کی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو لوگوں نے اپنی آنکھیں جھکا لیں۔ ہر شخص یہ پسند کرتا ہے کہ اس کی نگاہ اس کی سجدے کی جگہ سے آگے نہ جائے۔ ایک جماعت سے مروی ہے کہ نماز میں خشوع سے مراد یہ ہے کہ نگاہ سجدے کی جگہ سے آگے نہ جائے۔ ابراہیم، مجاہد اور زہری سے مروی ہے کہ خشوع…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

2 مومنوں کی پہلی خاص صفت نماز میں خشوع و خضوع : سو ایمان والوں کی صفات کے بیان کے سلسلے میں پہلی خاص صفت کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " جو خشوع و خضوع سے کام لیتے ہیں اپنی نمازوں میں "۔ ایمان کے بعد اہل ایمان کی اہم صفت خشوع و خضوع ہے۔ سو وہ اپنے رب کی عظمت اور اس کے جلال کے احساس سے اس طرح خاموش اور پرسکون کھڑے رہتے ہیں کہ نہ دائیں بائیں کہیں دیکھتے ہیں اور نہ کسی اور عمل اور کام میں مشغول ہوتے ہیں۔ اور اس طرح ظاہری اور باطنی دونوں اعتبار سے وہ اپنے رب کے حضور جھکے رہتے ہیں۔ سو خشوع و خضوع کا اصل تعلق انسان کے دل اور اس کے باطن سے ہے۔ جس کا اثر اس کے ظاہر پر بھی عیاں ہوتا ہے۔ سو خشوع و…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–11

مؤمنوں کی صفات اور وعدہ جنت الفردوس تشریح : یہاں پر ان سات فرائض کا ذکر کیا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر فرض کیے ہیں۔ اگر بندہ واقعی اپنے آقا کا نمک حلال، یعنی فرمانبردار غلام ہے تو پھر وہ اپنے مالک کے دیے گئے احکامات سے کبھی غافل نہیں ہوسکتا بلکہ ان کی بجا آوری میں ہرگز تھوڑی سی بھی غفلت یا لاپرواہی نہیں کرسکتا۔ اللہ ہمارا مالک ہے اس نے ہی ہمیں پیدا کیا ہے اسی کے پاس واپس جانا ہے۔ اسی نے ہمارے کیے گئے کاموں کا حساب لینا ہے۔ وہی اس کے بدلے میں جنت یا جہنم دے گا۔ وہی ہر وقت ہر جگہ ہر صورت میں ہمیں دیکھ رہا ہے۔ ہم اس کی نگاہ سے ہرگز چھپ نہیں سکتے۔ خلاصہ یہ ” کہ مسلم پر واجب ہے کہ جس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–22

سورة المؤمنون : (رکوع نمبر 1) اسرارومعارف سورة مومنون بھی مکی سورتوں میں شمار کی گئی ہے اور اسی سابق مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے ایمان لانے والوں کے اوصاف کا تذکرہ فرماتے ہوئے شروع ہوتی ہے کہ جنہیں ایمان نصیب ہوا وہ فلاح پاگئے کامیاب ہوگئے فلاح کا ترجمہ اردو میں تو کامیابی ہی ہے مگر عربی زبان کے اعتبار سے اس کا معنی بہت وسیع ہے فلاح سے مکمل کامیابی مراد ہے ہر کام میں ہر وقت اور ہر عالم میں ، دنیا ہو دنیا کی تجارت ، سیاست یا امور ذاتی ہر جگہ کامیاب موت کے لمحات ہوں یا برزخ کا عرصہ کامیاب ، میدان حشر ہو یا آخرت کی زندگی کامیاب اور یہ کامیابی ایمان کا پھل ہے رہا یہ سوال کہ دنیا میں کون ہے جسے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

2 ۔ ” خشوع “ کے لفظی معنی ہیں کسی کے سامنے ڈر کر جھک جانے اور عاجزی و انکساری اختیار کرنے کے اس کا تعلق دل سے بھی ہے اور ظاہری اعضائے بدن سے بھی۔ لہٰذا نماز میں خشوع اختیار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے دل پر خوف وہیبت طاری ہو اور اس کے اعضا میں سکون ہو۔ وہ نگاہ ادھر ادھر پھیرے نہ کپڑے یا داڑھی وغیرہ کھیلے اور نہ انگلیاں چٹخائے۔ کیونکہ ادھر ادھر دیکھنے کو شیطان کا حصہ قرار دیا ہے۔ اور ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ نماز کی حالت میں اپنی داڑھی سے کھیل رہا ہے آپ ﷺ نے فرمایا : اگر اس کے دل میں خشوع ہوتا تو اس کے اعضا پر بھی اثر ہوتا۔ یہ خشوع نماز کی اصل روح ہے اس لئے بہت…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(23:2) خشعون۔ خشوع سے اسم فاعل جمع مذکر الخشوع (باب نصر) کے معنی عاجزی کرنے اور جھک جانے کے ہیں ضراعۃ کے معنی میں آتا ہے بمعنی عاجزی کرنا لیکن زیادہ تر خشوع کا لفظ جوارح اور ضراعۃ کا لفظ قلب کی عاجزی پر بولاجاتا ہے۔ ایک روایت ہے اذا ضرعت القلب وخشعت الجوارح جب دل میں فروتنی ہو تو اس کا اثر جوارح پر ظاہر ہوجاتا ہے خشعون عاجزی کرنے والے۔ زاری کرنے والے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–2

لغات القرآن آیت 1 تا 11 : افلح (وہ کامیاب ہوا۔ اس نے فلاح پائی) ‘ خاشعون (خاشع) اللہ کے خوف سے ڈرنے والے۔ اللغو (فضول بات۔ ایسی بات جس کا فائدہ کوئی نہ ہو) ‘ فروج (فرج) شرم گاہیں ‘ ملکت ایمان (باندیاں) ‘ غیر ملومین (الزام نہیں ہے) ‘ ابتغائ (جس نے تلاش کیا) ‘ وراء (پیچھے۔ علاوہ) العادون (حد سے بڑھنے والا) ‘ راعون (رعایت کرنے والے۔ خیال رکھنے والے) ‘ الوارثون (وارث) مالک۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 11 : دنیاداروں نے کامیابی ‘ ناکامی ‘ خیرو فلاح ‘ نفع و نقصان اور چھوٹائی بڑائی کے کچھ ایسے پیمانے مقرر کر رکھے ہیں کہ اگر ایک شخص مال و دولت ‘ عیش و آرام ‘ بلندو بالا بلڈنگوں ‘ اونچی حویلیوں اعلی سواریوں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–11

مسلمانوں کی جنت میں جانے کی شرائط۔ (ف 1) یہ سورت مومنون مکیہ ہے۔ مسند امام احمد بن حنبل ، ترمذی، نسائی میں حضرت عمر سے روایت ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے کہ اس سورت کے شروع کی دس آیتیں جب نازل ہوئیں تو نبی ﷺ نے دعا مانگی اس دعا کا حاصل یہ ہے کہ یا اللہ اپنی نعمت کو روز بروز ہم پر بڑھا ، اور اپنی نعمت سے ہم کو محروم نہ رکھ، اور اپنی رضامندی کے کام ہم سے لے اور پھر آپ نے آیتوں کو پڑھ کر فرمایا جو کوئی ان دس آیتوں کے موافق عمل کرے گا بلاشک جنت میں داخل ہوگا، ان آیتوں میں فرمایا کہ بیشک ایمان والے کامیاب ہوئے وہ جو اپنی نمازوں میں عاجزی کیا کرتے ہیں خشوع کا مطلب ، نماز میں عاجزی سے کھڑا ہو اور دنیا سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[1] خشوع کے معنی ہیں کسی کے سامنے خوف وہیبت سے ساکن اور پست ہونا۔ اس کا تعلق دل سے بھی ہے اور جسم کی ظاہر حالت سے بھی۔ اصل خشوع دل کا ہے اور جسم کا خشوع اس کے تابع ہے۔ جب نماز میں دل خاشع و خائف ہوگا تو خیالات ادھر سے ادھر بھٹکتے نہیں پھریں گے، ایک ہی مقصود پر جم جائیں گے۔ پھر خوف وہیبت کے آثار جسم پر بھی ظاہر ہوں گے۔ مثلاً سر جھکانا، نگاہ پست رکھنا، دست بستہ کھڑا ہونا، ادھر ادھر نہ تاکنا، کپڑے یا داڑھی وغیرہ سے نہ کھیلنا وغیرہ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(2) جو اپنی نماز میں اظہار عجز و نیاز کرنے والے ہیں۔ یعنی ہر نماز خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کرتے ہوں خواہ فرائض ہوں یا نوافل۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 2۔ خشوع کی حقیقت ہے سکون قلب یعنی یہ کہ خیالات غیر کو قلب میں بالقصد حاضر نہ کرے، اور جوارح کا بھی کہ عبث حرکتیں نہ کرے، اور اس کی فرضیت میں کلام ہے مگر حق یہ ہے کہ صحت صلویہ کا تو موقوف علیہ نہیں اور اس مرتبہ میں فرض نہیں البتہ قبول صلوة کا موقوف علیہ ہے اور اس مرتبہ میں فرض ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ایمان لانے والوں کی پہلی نشانی جو اس جگہ بیان کی گئی اور ہر جگی اس کو اولیت دی گئی : 2۔ ایمان لانے والوں کو پہلا نشان اور اسلام کی عبادات کا پہلا رکن صلوۃ یعنی نماز ہے جو امیر و غریب ‘ بوڑھے اور جوان ‘ عورت اور مرد ‘ بیمار اور تندرست ‘ ظاہری نابینا یا ظاہر بینا سب پر یکساں فرض ہے اور یہی وہ عبادت ہے جو کسی شخص سے کسی حال میں ساقط نہیں ہوتی ۔ اگر کوئی شخص اسے کھڑے ہو کر ادا نہ کرسکے تو بیٹھ کر اگر بیٹھ کر نہ کرسکے تو لیٹ کر صرف اشارہ سے ادا کرے لیکن کسی حال میں بھی یہ معاف نہیں ہے ۔ اگر منہ سے نہ بول سکے تو فقط دل ہی میں اس کو ادا کرے اگر رک کر نہیں ادا کرسکتا تو اپنی سواری پر ہی ادا کرے اگر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–6

What is Falah? How and from where can it be obtained? قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ Success is really attained by the believers - 23:1. The word falah (translated above as 'success' ) has been used in the Qur'an and Sunnah on numerous occasions. The call to prayers invites every Muslim towards falah five times a day. The word signifies the attainment of all desires as well as protection from all misfortunes. (Qamus). It is so comprehensive in its connotation that it may be regarded as the acme of one's desire - but the total falah, where no desire remains unfulfilled or complete immunity…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

2. The noble characteristics of the believers pointed out in (verses 2-9)are the arguments to prove the above assertion. In other words, it has been stated that people with such and such traits and qualities only can attain true success in this world and in the Hereafter. 3. Khashiun in the text is from khushu (to bow down, to express humility) which is a condition of the heart as well as of the body. Khushu of the heart is to fear and stand in awe of a powerful person and khushu of the body is to bow his head and lower his gaze and voice in his presence. In Salat one is required to show…

Read the full tafseer →