23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayahs 23:1–2

قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 23:1 in the Quran reader

کام نکال لے گئے ایمان والے

الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَۙ Open ayah 23:2 in the Quran reader

جو اپنی نماز میں جھکنے والے ہیں1

1 " خشوع " کے معنی ہیں کسی کے سامنے خوف وہیبت کے ساتھ ساکن اور پست ہونا، چناچہ ابن عباس نے " خَاشِعُوْنَ " کی تفسیر " خائفون ساکنون " سے کی ہے۔ اور آیت (اَنَّكَ تَرَى الْاَرْضَ خَاشِعَةً فَاِذَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاۗءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ ) 41 ۔ فصلت :39) بھی دلالت کرتی ہے کہ " خشوع " میں ایک طرح کا سکون و تذلل معتبر ہے۔ قرآن کریم میں " خشوع " کو وجوہ، ابصار، اصوات وغیرہ کی صفت قرار دیا ہے۔ اور ایک جگہ آیت (اَلَمْ يَاْنِ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ ) 57 ۔ الحدید :16) میں قلب کی صفت بتلائی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اصل خشوع قلب کا ہے اور اعضائے بدن کا خشوع اس کے تابع ہے۔ جب نماز میں قلب خاشع و خائف اور ساکن و پست ہوگا تو خیالات ادھر ادھر بھٹکتے نہیں پھریں گے، ایک ہی مقصود پر جم جائیں گے۔ پھر خوف وہیبت اور سکون و خضوع کے آثار بدن پر بھی ظاہر ہوں گے مثلاً بازو اور سرجھکانا، نگاہ پست رکھنا، ادب سے دست بستہ کھڑا ہونا، ادھر ادھر نہ تاکنا، کپڑے یا ڈاڑھی وغیرہ سے نہ کھیلنا، انگلیاں نہ چٹخانہ، اور اسی قسم کے بہت افعال و احوال لوازم خشوع میں سے ہیں۔ احادیث میں حضرت عبد اللہ بن زبیر اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے منقول ہے کہ نماز میں ایسے ساکن ہوتے تھے جیسے ایک بیجان لکڑی، اور کہا جاتا تھا کہ یہ نماز خشوع ہے فقہاء کا اس میں اختلاف ہے کہ آیا نماز بدون خشوع کے صحیح و مقبول ہوتی ہے یا نہیں۔ صاحب روح المعانی نے لکھا ہے کہ خشوع اجزائے صلوٰۃ کے لیے شرط نہیں۔ ہاں قبول صلوٰۃ کے لیے شرط ہے میرے نزدیک یوں کہنا بہتر ہوگا کہ حسن قبول کے لیے شرط ہے۔ واللہ اعلم۔ یہاں تفصیل کا موقع نہیں۔ احیاء العلوم اور اس کی شرح میں تفصیل ملاحظہ کی جائے بہرحال انتہائی فلاح اور اعلیٰ کامیابی ان ہی مومنین کو حاصل ہوگی جو خشوع و خضوع کے ساتھ نماز ادا کرتے ہیں اور ان اوصاف سے موصوف ہیں جو آگے بیان کیے گئے ہیں۔
Ayah 23:3

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَۙ Open ayah 23:3 in the Quran reader

اور جو نکمی بات پر دھیان نہیں کرتے2

2 یعنی فضول و بیکار مشغلوں میں وقت ضائع نہیں کرتے کوئی دوسرا شخص لغو اور نکمی بات کہے تو ادھر سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ ان کو وظائف عبودیت سے اتنی فرصت ہی نہیں ہوتی کہ ایسے بےفائدہ جھگڑوں میں اپنے کو پھنسائیں۔ چہ خوش گفت بہلول فرخندہ خو چوبگذشت بر عارف جنگجو گر ایں مدعی دوست بشناختے بہ پیکار دشمن نہ پرداختے
Ayah 23:4

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوْنَۙ Open ayah 23:4 in the Quran reader

اور جو زکوٰۃ دیا کرتے ہیں3

3 یعنی ان کی عادت ہے کہ ہمیشہ زکوٰۃ ادا کرتے رہتے ہیں۔ ایسا نہیں کہ کبھی دی کبھی نہ دی، غالباً اسی لیے " یُؤدُّوْنَ الزکوٰۃ " کی جگہ " لِلزَّکوٰۃِ فَاعِلُوْنَ " کی ترکیب اختیار فرمائی۔ گویا بتلادیا کہ زکوٰۃ ادا کرنا ان کا مستمرکام ہے۔ مترجم محقق قدس اللہ روحہ نے " دیا کرتے ہیں ' کہہ کر ادھر اشارہ کردیا۔ بعض مفسرین نے یہاں زکوٰۃ کو " طہارت " (پاکیزگی) یا تزکیہ نفس کے معنی میں لیا ہے۔ گویا آیت حاضرہ کو (قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰى) 87 ۔ الاعلیٰ :14) اور (قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰى) 91 ۔ الشمس :9) کے مشابہ قرار دیا ہے۔ اگر یہ مراد ہو تو اس کے مفہوم کو عام رکھا جائے جس میں بدن کا، دل کا اور مال کا پاک رکھنا سب داخل ہو۔ زکوٰۃ و صدقات بھی ایک قسم کی مالی تطہیر ہے۔ (خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَـةً تُطَهِّرُھُمْ وَتُزَكِّيْهِمْ بِهَا) 9 ۔ التوبہ :103) یہ کہنا کہ آیت مکی ہے اور مکہ میں زکوٰۃ فرض نہ ہوئی تھی، ابن کثیر نے اس کا جواب دیا ہے کہ اصل زکوٰۃ کی مشروعیت مکہ میں ہوچکی تھی۔ ہاں مقادیر و نصب وغیرہ کی تشخیص مدینہ پہنچ کر ہوئی واللہ اعلم۔
Ayahs 23:5–7

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ Open ayah 23:5 in the Quran reader

اور جو اپنی شہوت کی جگہ کو تھامتے ہیں

اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ Open ayah 23:6 in the Quran reader

مگر اپنی عورتوں پر یا اپنے ہاتھ کے مال باندیوں پر سو ان پر نہیں کچھ الزام

فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْعٰدُوْنَۚ Open ayah 23:7 in the Quran reader

پھر جو کوئی ڈھونڈے اس کے سوا سو وہی ہیں حد سے بڑھنے والے4

4 یعنی اپنی منکوحہ عورت یا باندی کے سواء کوئی اور راستہ قضائے شہوت کا ڈھونڈے، وہ حلال کی حد سے آگے نکل جانے والا ہے۔ اس میں زنا، لواطت اور استمناء بالید وغیرہ سب صورتیں آگئیں، بلک بعض مفسرین نے حرمت متعہ پر بھی اس سے استدلال کیا ہے وفیہ کلام طویل لایسعہ المقام۔ راجع روح المعانی تحت ہذہ الایۃ الکریمہ۔
Ayah 23:8

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ Open ayah 23:8 in the Quran reader

اور جو اپنی امانتوں سے اور اپنے قرار سے خبردار ہیں5

5 یعنی امانت اور قول وقرار کی حفاطت کرتے ہیں، خیانت اور بدعہدی نہیں کرتے نہ اللہ کے معاملہ میں نہ بندوں کے۔
Ayah 23:9

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَوٰتِهِمْ یُحَافِظُوْنَۘ Open ayah 23:9 in the Quran reader

اور جو اپنی نمازوں کی خبر رکھتے ہیں6

6 نمازیں اپنے اوقات پر آداب و حقوق کی رعایت کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ بندوں کے معاملات میں پڑ کر عبادت الٰہی سے غافل نہیں ہوتے۔ یہاں تک مومنین مفلحین کی چھ صفات و خصال بیان کیں۔ (1) خشوع و خضوع سے نمازیں پڑھنا، یعنی بدن اور دل سے اللہ کی طرف جھکنا۔ (2) باطل لغو اور نکمی باتوں سے علیحدہ رہنا۔ (3) زکوٰۃ یعنی مالی حقوق ادا کرنا یا اپنے بدن، نفس اور مال کو پاک رکھنا۔ (4) شہوات نفسانی کو قابو میں رکھنا۔ (5) امانت و عہد کی حفاظت کرنا گویا معاملات کو درست رکھنا۔ (6) اور آخر میں پھر نمازوں کی پوری طرح حفاظت کرنا کہ اپنے وقت پر آداب و شروط کی رعایت کے ساتھ ادا ہوں، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نماز کا حق تعالیٰ کے یہاں کیا درجہ ہے اور کس قدر مہتم بالشان چیز ہے کہ اس سے شروع کر کے اسی پر ختم فرمایا۔
Ayahs 23:10–11

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَۙ Open ayah 23:10 in the Quran reader

وہ ہی ہیں میراث لینے والے

الَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَ١ؕ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 23:11 in the Quran reader

جو میراث پائیں گے باغ ٹھنڈی چھاؤں کے7 وہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے

7 جنت کے میراث ہونے پر پہلے کسی جگہ ہم لکھ چکے ہیں۔
Ayah 23:12

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ طِیْنٍۚ Open ayah 23:12 in the Quran reader

اور ہم نے بنایا آدمی کو چنی ہوئی مٹی سے8

8 کیونکہ سب کے باپ حضرت آدم (علیہ السلام) منتخب مٹی سے پیدا ہوئے اور ویسے بھی تمام بنی آدم نطفہ سے پیدا ہوتے ہیں اور نطفہ بھی مٹی سے نکلی ہوئی غذاؤں کا خلاصہ ہے۔
Ayah 23:13

ثُمَّ جَعَلْنٰهُ نُطْفَةً فِیْ قَرَارٍ مَّكِیْنٍ۪ Open ayah 23:13 in the Quran reader

پھر ہم نے رکھا اس کو پانی کی بوند کر کے ایک جمے ہوئے ٹھکانہ میں9

9 یعنی رحم مادر میں جہاں سے کہیں ہل نہ سکے۔
Ayah 23:14

ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظٰمًا فَكَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْمًا١ۗ ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَ١ؕ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَؕ Open ayah 23:14 in the Quran reader

پھر بنایا اس بوند سے لہو جما ہوا پھر بنائی اس لہو جمے ہوئے سے گوشت کی بوٹی پھر بنائیں اس بوٹی سے ہڈیاں پھر پہنایا ان ہڈیوں پر گوشت1 پھر اٹھا کھڑا کیا اس کو ایک نئی صورت میں2 سو بڑی برکت اللہ کی جو سب سے بہتر بنانے والا ہے3

1 یعنی کچھ حصہ گوشت کا سخت کر کے ہڈیاں بنادیں۔ اور ہڈیوں کے ڈھانچے پر پھر گوشت پوست منڈھ دیا۔ سورة " حج " میں اسی کے قریب کیفیت تخلیق انسان کی بیان ہوچکی ہے۔ 2 یعنی روح حیات پھونک کر ایک جیتا جاگتا انسان بنادیا۔ جس پر آگے چل کر بچپن، جوانی، کہولت اور بڑھاپے کے بہت سے احوال و ادوار گزرتے ہیں۔ 3 جس نے نہایت خوبصورتی سے تمام اعضاء و قویٰ کو بہترین سانچے میں ڈھالا اور اس کی ساخت عین حکمت کے موافق نہایت موزوں متناسب بنائی۔
Ayah 23:15

ثُمَّ اِنَّكُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ لَمَیِّتُوْنَؕ Open ayah 23:15 in the Quran reader

پھر تم اس کے بعد مرو گے4

4 یعنی تمہارا وجود ذاتی اور خانہ زاد نہیں، مستعار اور دوسرے کا عطیہ ہے۔ چناچہ موت آکر سب نقشہ بگاڑ دیتی ہے۔ تم اس وقت اس کے زبردست پنجہ سے اپنی ہستی کو نہیں بچا سکتے۔ یقینا کوئی اور قاہر طاقت تمہارے اوپر ہے جس نے وجود کی باگ اپنے ہاتھ میں تھام رکھی ہے جب چاہے ڈھیلی چھوڑ دے، جب چاہے کھینچ لے۔
Ayah 23:16

ثُمَّ اِنَّكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ تُبْعَثُوْنَ Open ayah 23:16 in the Quran reader

پھر تم قیامت کے دن کھڑے کیے جاؤ گے5

5 جس نے پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا وہ ہی دوبارہ بنا کر کھڑا کرے گا۔ تاکہ پہلے وجود کی مستور قوتیں اور اعمال کے نتائج اپنی کامل ترین صورتوں میں ظاہر ہو کر ثابت کردیں کہ یہ اتنا بڑا کارخانہ کوئی بیکار اور بےنتیجہ ڈھونگ نہیں بنایا گیا تھا۔
Ayah 23:17

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعَ طَرَآئِقَ١ۖۗ وَ مَا كُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غٰفِلِیْنَ Open ayah 23:17 in the Quran reader

اور ہم نے بنائے ہیں تمہارے اوپر سات راستے6 اور ہم نہیں ہیں خلق سے بیخبر7

6 " طرائق " کے معنی بعض مفسرین و لغویین کے نزدیک طبقات کے ہیں۔ یعنی آسمان کے ساتھ طبقے اوپر نیچے بنائے۔ فہذا کما قال " کَیْفَ خَلَقَ اللّٰہُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقاً " (نوح، رکوع 1 ' آیت 15) اور بعض نے طرائق کو راستوں کے معنی میں لیا ہے۔ یعنی سات آسمان بنائے جو فرشتوں کی گزرگاہیں ہیں۔ بعض معاصر مصنفین نے " سبع طرائق " سے سات سیاروں کے مدارات مراد لیے ہیں۔ واللہ اعلم۔ 7 ہر چیز پورے انتظام و احکام اور خبرداری سے بنائی ہے اور اس کی حفاظت وبقاء کے طریقوں سے ہم پورے باخبر ہیں۔ اجرام سماویہ اور مخلوقات سفلیہ میں کوئی چیز نہیں جو ہمارے احاطہ علم وقدرت سے باہر ہو۔ ورنہ سارا انتظام ہی درہم برہم ہوجائے۔ (يَعْلَمُ مَا يَـلِجُ فِي الْاَرْضِ وَمَا يَخْــرُجُ مِنْهَا وَمَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاۗءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيْهَا ۭ وَهُوَ مَعَكُمْ اَيْنَ مَا كُنْتُمْ ۭ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ) 57 ۔ الحدید :4)
Ayah 23:18

وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ فَاَسْكَنّٰهُ فِی الْاَرْضِ١ۖۗ وَ اِنَّا عَلٰى ذَهَابٍۭ بِهٖ لَقٰدِرُوْنَۚ Open ayah 23:18 in the Quran reader

اور اتارا ہم نے آسمان سے پانی ناپ کر8 پھر اس کو ٹھہرا دیا زمین میں9 اور ہم اس کو لے جائیں تو لے جاسکتے ہیں10

8 نہ اس قدر زیادہ کہ دنیا بےوقت اور بےموقع تباہ ہوجائے۔ اور نہ اتنا کم کہ ضروریات کو کافی نہ ہو۔ 9 یعنی بارش کا پانی زمین اپنے اندر جذب کرلیتی ہے جس کو ہم کنواں وغیرہ کھود کر نکالتے ہیں۔ 10 یعنی نہ اتارنا چاہیں تو نہ اتاریں اور اتارنے کے بعد تم کو اس سے منتفع ہونے کی دسترس نہ دیں مثلاً اس قدر گہرا کردیں کہ تم نکالنے میں کامیاب نہ ہو سکو، یا خشک کر کے ہوا میں اڑا دیں، یا کھاری اور کڑوا کردیں، تو ہم سب کچھ کرسکتے ہیں۔
Ayah 23:19

فَاَنْشَاْنَا لَكُمْ بِهٖ جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ١ۘ لَكُمْ فِیْهَا فَوَاكِهُ كَثِیْرَةٌ وَّ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَۙ Open ayah 23:19 in the Quran reader

پھر اگا دیے تمہارے واسطے اس سے باغ کھجور اور انگور کے تمہارے واسطے ان میں میوے ہیں بہت اور انہی میں سے کھاتے ہو1

11 یعنی ان کی بہار دیکھ کر خوش ہوتے ہو اور بعض کو بطور تفکہ اور بعض کو بطور غذا استعمال کرتے ہو۔
Ayah 23:20

وَ شَجَرَةً تَخْرُجُ مِنْ طُوْرِ سَیْنَآءَ تَنْۢبُتُ بِالدُّهْنِ وَ صِبْغٍ لِّلْاٰكِلِیْنَ Open ayah 23:20 in the Quran reader

اور وہ درخت جو نکلتا ہے سینا پہاڑ سے لے اگتا ہے تیل اور روٹی ڈبونا کھانے والوں کے واسطے12

12 یعنی زیتون کا درخت جس میں سے روغن نکلتا ہے جو مالش وغیرہ کے کام آتا ہے اور بہت ملکوں کے لوگ سالن کی جگہ اس کا استعمال کرتے ہیں۔ اس درخت کا ذکر خصوصیت سے فرمایا کیونکہ اس کے فوائد کثیر ہیں اور خاص فضل و شرف رکھتا ہے۔ اسی لیے سورة " التین " میں اس کی قسم کھائی گئی۔ جبل طور کی طرف نسبت کرنا بھی اس کی فضیلت و برکت ظاہر کرنے کے لیے ہے۔ وہاں اس کی پیداوار زیادہ ہوتی ہوگی۔
Ayah 23:21

وَ اِنَّ لَكُمْ فِی الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً١ؕ نُسْقِیْكُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْنِهَا وَ لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ كَثِیْرَةٌ وَّ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَۙ Open ayah 23:21 in the Quran reader

اور تمہارے لیے چوپایوں میں دھیان کرنے کی بات ہے پلاتے ہیں ہم تم کو ان کے پیٹ کی چیز سے اور تمہارے لیے ان میں بہت فائدے ہیں اور بعضوں کو کھاتے ہو13

13 نباتات کے بعد یہ حیوانات کا ذکر ہوا، یعنی جانوروں کا دودھ ہم اپنی قدرت سے تم کو پلاتے ہیں۔ اور بہت کچھ فائدے تمہارے لیے ان کی ذات میں رکھ دیے ہیں۔ حتٰی کہ بعض جانوروں کا گوشت کھانا بھی حلال کردیا۔
Ayah 23:22

وَ عَلَیْهَا وَ عَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَ۠ Open ayah 23:22 in the Quran reader

اور ان پر اور کشتیوں پر لدے پھرتے ہو14

14 یعنی خشکی میں جانوروں کی پیٹھ پر اور دریا میں جہازوں اور کشتیوں پر سوار ہو کر کہیں سے کہیں نکل جاتے ہو اور بڑے بڑے وزنی سامان ان پر بار کرتے ہو۔ کشتی کی مناسبت سے آگے نوح (علیہ السلام) کا قصہ ذکر فرماتے ہیں کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے ان سے کشتی بنوائی جو طوفان عظیم کے وقت مومنین کی نجات کا ذریعہ بنی۔ پھر نوح (علیہ السلام) کی مناسبت سے بعض دوسرے انبیاء کے واقعات بھی ذکر فرما دیئے۔ شاید یہاں ان قصص کے بیان میں یہ بھی اشارہ ہوگا کہ جس طرح اوپر کی آیات میں تمہاری جسمانی ضروریات کا انتظام مذکور تھا اسی طرح خداوند رحمان نے تمہاری روحانی حوائج و ضروریات کا سرا نجام کرنے کے لیے ابتدائے دنیا سے وحی و رسالت کا سلسلہ بھی قائم فرما دیا۔ یا یوں کہہ لو کہ اوپر قدرت کے نشانات بیان فرما کر توحید کی طرف متوجہ کرنا تھا۔ اس کی تکمیل کے لیے یہاں سے سلسلہ نبوت کا بیان شروع کردیا۔ جس کے ضمن میں انبیاء اور ان کے متبعین کی خوش انجامی اور مکذبین و معاندین کی بد انجامی بھی ذہن نشین کردی گئی۔
Ayahs 23:23–24

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 23:23 in the Quran reader

اور ہم نے بھیجا نوح کو اس کی قوم کے پاس تو اس نے کہا اے قوم بندگی کرو اللہ کی تمہارا کوئی حاکم نہیں اس کے سوا کیا تم ڈرتے نہیں

فَقَالَ الْمَلَؤُا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۙ یُرِیْدُ اَنْ یَّتَفَضَّلَ عَلَیْكُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَنْزَلَ مَلٰٓئِكَةً١ۖۚ مَّا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَۚ Open ayah 23:24 in the Quran reader

تب بولے سردار جو کافر تھے اس کی قوم میں یہ کیا ہے آدمی ہے جیسے تم1 چاہتا ہے کہ بڑائی کرے تم پر اور اگر اللہ چاہتا تو اتارتا فرشتے2 ہم نے یہ نہیں سنا اپنے اگلے باپ دادوں میں3

1 یعنی اس میں اور تم میں فرق کیا ہے جو یہ رسول بن جائے تم نہ بنو۔ 2 یعنی بڑا بن کر رہنا چاہتا ہے اس لیے یہ سب ڈھونگ بنایا ہے۔ ورنہ خدا کسی کو رسول بنا کر بھیجتا تو کیا یہ ہی اس کام کے لیے رہ گیا تھا۔ 3 یعنی ہم نے ایسی عجیب بات کبھی نہیں سنی کہ ایک ہماری طرح کا معمولی آدمی خدا کا رسول بن جائے اور تمام دیوتاؤں کو ہٹا کر تنہا ایک خدا کی حکومت منوانے لگے۔
Ayah 23:25

اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ فَتَرَبَّصُوْا بِهٖ حَتّٰى حِیْنٍ Open ayah 23:25 in the Quran reader

اور کچھ نہیں یہ ایک مرد ہے کہ اس کو سودا ہے سو راہ دیکھو اس کی ایک وقت تک4

4 معلوم ہوتا ہے کہ اس غریب کا دماغ چل گیا۔ بھلا ساری قوم کے خلاف اور اپنے باپ دادوں کے خلاف ایسی بات زبان سے نکالنا جو کوئی شخص باور نہ کرسکے کھلا جنون نہیں تو اور کیا ہوگا بہتر ہے چند روز صبر کرو اور انتظار کرو، شاید کچھ دنوں کے بعد اسے ہوش آجائے اور جنون کے دورہ سے افاقہ ہو یا یوں ہی مرمرا کر قصہ ختم ہوجائے۔ (العیاذ باللہ)
Ayah 23:26

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا كَذَّبُوْنِ Open ayah 23:26 in the Quran reader

بولا اے رب تو مدد کر میری کہ انہوں نے مجھ کو جھٹلایا5

5 یعنی جب نوح کی ساری کوششیں بیکار ثابت ہوئیں، ساڑھے نو سو برس سختیاں جھیل کر بھی ان کو راہ راست پر لانے میں کامیاب نہ ہوئے تو خدا سے فریاد کی کہ اب ان اشقیاء کے مقابلہ میں میری مدد فرمایئے۔ کیونکہ بظاہر یہ لوگ میری تکذیب سے باز آنے والے نہیں۔ اوروں کو بھی خراب کریں گے۔
Ayah 23:27

فَاَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِ اَنِ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا فَاِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوْرُ١ۙ فَاسْلُكْ فِیْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْهِ الْقَوْلُ مِنْهُمْ١ۚ وَ لَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 23:27 in the Quran reader

پھر ہم نے حکم بھیجا اسکو کہ بناکشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہمارے حکم سے پھر جب پہنچے ہمارا حکم اور ابلے تنور تو تو ڈال لے کشتی میں ہر چیز کا جوڑا دو دو (نر اور مادہ) اور اپنے گھر کے لوگ6 مگر جس کی قسمت میں پہلے سے ٹھہر چکی ہے بات7 اور مجھ سے بات نہ کر (نہ کہہ مجھ سے) ان ظالموں کے واسطے بیشک ان کو ڈوبنا ہے۔8

6۔ طوفان نوح۔ یہ قصہ پہلے سورة ، ، ھود، وغیرہ میں گزر چکا ہے۔ وہاں ان الفاظ کی تفسیر ملاحظہ ہو۔7 یعنی کافروں کو، خواہ تیرے کنبہ کے ہوں سوار مت کر۔ 8 یعنی حکم قطعی عذاب کا ہوچکا۔ یہ فیصلہ اٹل ہے، ضرور ہو کر رہے گا۔ اب ظالموں میں سے کسی کو بچانے کے لیے ہم سے سعی سفارش نہ کرنا۔
Ayah 23:28

فَاِذَا اسْتَوَیْتَ اَنْتَ وَ مَنْ مَّعَكَ عَلَى الْفُلْكِ فَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ نَجّٰىنَا مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:28 in the Quran reader

پھر جب چڑھ چکے تو اور جو تیرے ساتھ ہے کشتی پر تو کہہ شکر اللہ کا جس نے چھڑایا ہم کو گناہ گار لوگوں سے9

9 یعنی ہم کو ان سے علیحدہ کر کے عذاب سے مأمون رکھ۔
Ayah 23:29

وَ قُلْ رَّبِّ اَنْزِلْنِیْ مُنْزَلًا مُّبٰرَكًا وَّ اَنْتَ خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ Open ayah 23:29 in the Quran reader

اور کہہ اے رب اتار مجھ کو برکت کا اتارنا اور تو ہے بہتر اتارنے والاف 1

1 یعنی کشتی میں اچھی آرام کی جگہ دے اور کشتی سے جہاں اتارے جائیں وہاں بھی کوئی تکلیف نہ ہو۔ ہر طرح اور ہر جگہ تیری رحمت و برکت شامل حال رہے۔
Ayah 23:30

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ وَّ اِنْ كُنَّا لَمُبْتَلِیْنَ Open ayah 23:30 in the Quran reader

اس میں نشانیاں ہیں اور ہم ہیں جانچنے والے2

2 کہ کون ان نشانوں کو سن کر عبرت و نصیحت حاصل کرتا ہے کون نہیں کرتا۔ کما قال تعالیٰ (وَلَقَدْ تَّرَكْنٰهَآ اٰيَةً فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ ) 54 ۔ القمر :15)
Ayah 23:31

ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَۚ Open ayah 23:31 in the Quran reader

پھر پیدا کی ہم نے ان سے پیچھے ایک جماعت اور3

3 یہ ذکر " عاد " کا ہے یا " ثمود " کا۔
Ayah 23:32

فَاَرْسَلْنَا فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 23:32 in the Quran reader

پھر بھیجا ہم نے ان میں ایک رسول ان میں کا4 کہ بندگی کرو اللہ کی کوئی نہیں تمہارا حاکم اس کے سوا پھر کیا تم ڈرتے نہیں

4 یعنی حضرت ہود یا حضرت صالح علیہما السلام۔
Ayah 23:33

وَ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ الْاٰخِرَةِ وَ اَتْرَفْنٰهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۙ یَاْكُلُ مِمَّا تَاْكُلُوْنَ مِنْهُ وَ یَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُوْنَ۪ۙ Open ayah 23:33 in the Quran reader

اور بولے سردار اس کی قوم کے جو کافر تھے اور جھٹلاتے تھے آخرت کی ملاقات کو اور آرام دیا تھا ان کو ہم نے دنیا کی زندگی میں5 اور کچھ نہیں یہ ایک آدمی ہے جیسے تم، کھاتا ہے جس قسم سے تم کھاتے ہو اور پیتا ہے جس قسم سے تم پیتے ہو6

5 یعنی اس کے معتقد نہ تھے کہ مرنے کے بعد ایک دن خدا سے ملنا ہے۔ بس دنیا کی زندگی اور اس کا عیش و آرام ہی ان کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ 6 یعنی بظاہر کوئی بات اس میں تم سے سوا نہیں۔
Ayah 23:34

وَ لَئِنْ اَطَعْتُمْ بَشَرًا مِّثْلَكُمْ اِنَّكُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَۙ Open ayah 23:34 in the Quran reader

اور کہیں تم چلنے لگے کہنے پر ایک آدمی کے اپنے برابر کے تو تم بیشک خراب ہوئے7

7 یعنی اس سے بڑی خرابی اور ذلت کیا ہوگی کہ اپنے جیسے ایک معمولی آدمی کو خواہ مخواہ مخدوم ومطاع ٹھہرا لیا جائے۔
Ayahs 23:35–36

اَیَعِدُكُمْ اَنَّكُمْ اِذَا مِتُّمْ وَ كُنْتُمْ تُرَابًا وَّ عِظَامًا اَنَّكُمْ مُّخْرَجُوْنَ۪ۙ Open ayah 23:35 in the Quran reader

کیا تم کو وعدہ دیتا ہے کہ جب تم مرجاؤ اور ہوجاؤ مٹی اور ہڈیاں تو تم کو نکلنا ہے

هَیْهَاتَ هَیْهَاتَ لِمَا تُوْعَدُوْنَ۪ۙ Open ayah 23:36 in the Quran reader

کہاں ہوتا ہے جو تم سے وعدہ ہوتا ہے8

8 یعنی کس قدر بعید ازعقل بات کہتا ہے کہ ہڈیوں کے ریزے مٹی کے ذرات میں مل جانے کے بعد پھر قبروں سے آدمی بن کر اٹھیں گے ؟ ایسی مہمل بات ماننے کو کون تیار ہوگا۔
Ayah 23:37

اِنْ هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ۪ۙ Open ayah 23:37 in the Quran reader

اور کچھ نہیں یہی جینا ہے ہمارا دنیا کا مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور ہم کو پھر اٹھنا نہیں9

9 یعنی کہاں کی آخرت، اور کہاں کا حساب کتاب۔ ہم تو جانیں یہ ہی ایک دنیا کا سلسلہ اور یہ ہی ایک مرنا اور جینا ہے جو سب کی آنکھوں کے سامنے ہوتا رہتا ہے۔ کوئی پیدا ہوا، کوئی فنا ہوگیا آگے کچھ نہیں۔
Ayah 23:38

اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلُ اِ۟فْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا وَّ مَا نَحْنُ لَهٗ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 23:38 in the Quran reader

اور کچھ نہیں یہ ایک مرد ہے باندھ لایا ہے اللہ پر جھوٹ10 اور اس کو ہم نہیں ماننے والے

10 کہ میں اس کا پیغمبر ہوں اور وہ مردوں کو دوبارہ زندہ کر کے عذاب وثواب دے گا۔ یہ دونوں دعوے ایسے ہیں جن کو ہم کبھی تسلیم نہیں کرسکتے۔ خواہ مخواہ جھگڑنے اور درد سری کرنے سے کیا فائدہ ؟
Ayah 23:39

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا كَذَّبُوْنِ Open ayah 23:39 in the Quran reader

بولا اے رب میری مدد کر کہ انہوں نے مجھ کو جھٹلایا11

11 یعنی آخر پیغمبر نے کفار کی طرف سے ناامید ہو کر دعا کی۔
Ayah 23:40

قَالَ عَمَّا قَلِیْلٍ لَّیُصْبِحُنَّ نٰدِمِیْنَۚ Open ayah 23:40 in the Quran reader

اب تھوڑے دنوں میں صبح کو رہ جائیں گے پچھتانے1

1 یعنی عذاب آیا چاہتا ہے جس کے بعد پچھتائیں گے، اور وہ پچھتانا نفع نہ دے گا۔