23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 23:1

قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 23:1 in the Quran reader

یقیناً (وہ) مومنین فلاح پاگئے،1۔

1۔ فلاح کے مفہوم کی وسعت اور جامعیت پر حاشیہ سورة البقرہ کے رکوع اول میں (آیت) ” المفلحون “۔ کے تحت میں گزر چکا۔ فلاح کی پہلی شرط مومن ہونا ہے۔ بغیر ایمان یا صحت اعتقاد کے کوئی سا بھی عمل مقبول نہیں۔
Ayah 23:2

الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَۙ Open ayah 23:2 in the Quran reader

جو اپنی نماز میں خشوع رکھنے والے ہیں،2۔

2۔ (اور نماز خواہ فرض ہو یا غیر فرض) نماز کی اہمیت اس سے ظاہر ہے کہ اعمال میں سب سے پہلے جگہ اسی کو ملی (آیت) ” خشعون “ خشوع کی حقیقت ہے سکون، یعنی قلب کا بھی کہ خیالات غیر کو قلب میں بالقصد حاضر نہ کرے۔ اور جوارح کا بھی کہ عبث حرکتیں نہ کرے۔ اور اس کی فرضیت میں کلام ہے مگر حق یہ ہے کہ صحت صلوۃ کا تو موقوف علیہ نہیں۔ اور اس مرتبہ میں فرض نہیں، اور قبول صلوۃ کا موقوف علیہ ہے اور اس مرتبہ میں فرض ہے “ (تھانوی (رح) روی عن ابراھیم و مجاھد والزھری الخشوع السکون (جصاص)
Ayah 23:3

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَۙ Open ayah 23:3 in the Quran reader

اور جو لغو (بات) سے برکنار رہنے والے ہیں،3۔

3۔ (خواہ وہ لغویت فعلی ہو یا قولی) (آیت) ” اللغو “۔ لغو کہتے ہیں ہر اس حرکت کو جو عبث، بےحاصل، لایعنی ہو، آخرت یا صرف دنیا کے اعتبار سے بھی۔ اللغو مالایغنیک من قول اوفع (کشاف) اللغو ھو الفعل الذی لافائدہ فیہ (جصاص) زندگی بڑی ہی قیمتی شے اور بڑی سنجیدہ واہم حقیقت ہے۔ مسلمان کی شان یہ نہیں کہ ایک لمحہ بھی کسی غیر مفید بات کی طرف توجہ کرے۔ سیروتفریح، مشاغل نشاط، جس حد تک صحت جسم اور انبساط قلب کے لئے ضروری ہیں۔ ظاہر ہے کہ انکا شمار لغو میں نہیں۔ ” لغو کا ادنی درجہ مباح ہے مگر ترک اس کا اولی وموجب مدح ہے۔ لغو کا اعلی درجہ معصیت ہے اور اس کا ترک واجب۔ “ (تھانوی (رح) امام رازی (رح) نے کہا ہے کہ ہر لغو بات سے بچنے کا ذکر جو خشوع صلوۃ کے معا بعد اور حکم زکوٰۃ سے قبل ہی لے آیا گیا ہے اس کا راز یہ ہے کہ لغویات سے اجتناب صلوۃ کی عین تکمیل کرنے والا ہے۔ الاعراض عن اللغومن متممات الصلوۃ (کبیر)
Ayah 23:4

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوْنَۙ Open ayah 23:4 in the Quran reader

اور جو (اپنا) تزکیہ کرنے والے ہیں،4۔

4۔ (اعمال میں، اخلاق میں) الزکوۃ یہاں اصطلاح معنی میں نہیں لغوی معنی میں ہے۔ ابومسلم سے یہی معنی منقول ہیں۔ ان فعل الزکوۃ یقع علی کل فعل محمود مرضی (کبیر) الظاہر ان المراد بالزکوۃ المعنی المصدری اعنی التزکیۃ (روح) (آیت) ” للزکوۃ “۔ ل یہاں غایت کے لئے ہے۔ اللام فیہ للعلۃ والقصد (راغب) یعنی ان کا مقصود اعمال وافعال سے یہی ہوتا ہے کہ اپنے کو پاک وصاف کریں۔ یفعلون ما یفعلون من العبادۃ لیزکیھم اللہ تعالیٰ اولیزکوا انفسھم (راغب) قال صاحب الکشاف عنی عن الایۃ الذین ھم لاجل الطھارۃ وتزکیۃ النفس عاملون الخیر (روح) قیل الزکوۃ ھنا لنماء والزیادۃ واللام لام العلۃ ومعمول فاعلون محذوف التقدیر والذین ھم لاجل تحصیل النماء والزیادۃ فاعلون الخیر (بحر) (آیت) ” الزکوۃ “ کے اگر اصطلاحی فقہی معنی لئے جائیں جب بھی کوئی مضائقہ نہیں اور بہت سے حضرات اسی طرف گئے ہیں۔
Ayahs 23:5–7

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ Open ayah 23:5 in the Quran reader

اور جو اپنی شرمگاہوں کی نگہداشت رکھنے والے ہیں

اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ Open ayah 23:6 in the Quran reader

ہاں البتہ اپنی بیویوں اور باندیوں سے نہیں کہ (اس صورت میں) ان پر کوئی الزام نہیں

فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْعٰدُوْنَۚ Open ayah 23:7 in the Quran reader

ہاں جو کوئی اس کے علاوہ کا طلب گار ہوگا سو ایسے ہی لوگ تو حد سے نکل جانے والے ہیں،5۔

5۔ (اور بڑے سخت نافرمان) آیت کا مطلب یہ ہے کہ قضائے شہوت بجائے خود ہرگز محل الزام نہیں اور جس طرح بھوک، پیاس، نیند وغیرہ کی ضرورتیں فطری ہیں یہ خواہش بھی طبعی ہے۔ قابل الزام صرف اس کا بےمحل استعمال ہے۔ (آیت) ” ماملکت ایمانھم “۔ باندیوں سے مراد ظاہر ہے کہ صرف شرعی باندیاں ہیں نہ کہ عرفی۔ حاشیہ پہلے گزر چکا ہے۔ بیویوں اور باندیوں کے حلال ہونے سے مراد ان کی جنس کا حلال ہونا ہے۔ نہ یہ کہ بیوی اور باندی سے صحبت ہر صورت اور حال میں جائز ہے ملاحظہ ہوں حواشی تفسیر انگریزی۔ (آیت) ” علی ازواجھم “۔ میں علی مرادف ہے من کے۔ فراء نحوی وابن مالک نحوی وغیرہ سے یہی قول منقول ہے۔ (بحر) (آیت) ” ورآء ذلک “۔ فقہائے اہل سنت نے ان الفاظ سے متعہ کے حرام ہونے پر استدلال کیا ہے۔ اس لیے کہ متعہ والی عورت نہ ازواج کے حکم میں ہوتی ہے نہ (آیت) ” ماملکت ایمانھم “۔ کے تحت میں۔ یقتضی تحریم نکاح المتعۃ اذ لیست بزوجۃ ولا مملوکۃ یمین (جصاص) زنا کاری اور شہوت رانی کی جتنی بھی غیر فطری صورتیں رائج ہوگئیں ہیں سب اسی کے حکم میں آجائیں گی، ولا یخفی ان کل مایدخل فی العموم تفید الایۃ حرمۃ متعۃ علی ابلغ وجہ (روح) یعنی ان ساری حرکتوں کے کرنے والے نافرمان مجرم ہیں۔ (آیت) ” العدون “ یعنی بڑے شدید نافرمان۔ الکاملون فی العدوان والمتناھون فیہ (روح)
Ayah 23:8

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ Open ayah 23:8 in the Quran reader

اور جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا لحاظ رکھنے والے ہیں6

6۔” اپنی امانتوں “ سے مراد اپنی سپردگی میں لی ہوئی امانتیں ہیں۔ (آیت) ” عھدھم “۔ عھد کے تحت میں حقوق اللہ حقوق العباد ہر قسم سے متعلق عہد آگیا۔ معاملات و عبادات کے سارے عہد اس میں شامل ہیں۔
Ayah 23:9

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَوٰتِهِمْ یُحَافِظُوْنَۘ Open ayah 23:9 in the Quran reader

اور جو اپنی نمازوں کی پابندی رکھنے والے ہیں،7۔

7۔ ابھی مومینن ومفلحین کی صفات حسنہ کا آغاز خشوع نماز کے ذکر سے کیا تھا۔ اختتام بھی نماز ہی کی محافظت و مداومت پر کیا۔ مقام عبرت ہے کہ جس امت کو انفرادی واجتماعی ہر حیثیت سے فلاح کیلیے نماز کی اس قدر تاکید ہورہی ہے وہ نماز ہی کی طرف سے اس غفلت میں پڑجائے !
Ayahs 23:10–11

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَۙ Open ayah 23:10 in the Quran reader

(بس) یہی لوگ وارث ہونے والے ہیں

الَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَ١ؕ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 23:11 in the Quran reader

جو فردوس کے وارث ہوں گے اور اس میں ہمیشہ ہمیش) رہیں گے،8۔

8۔ وارث ہونے کے معنی ہیں کہ جنت پر قابض و متصرف ہوں گے اور گویا اس کے مالک ہوجائیں گے۔ (آیت) ” اولئک ھم الورثون “ جو حصر ہے وہ باعتبار استحقاق فردوس کے ہے جو بحسب احادیث جنت کا اعلی درجہ ہے۔ ورنہ نفس جنت مطلق مومنین کے لیے عام ہوگی گوصفات مذکورہ میں کمی ہو “۔
Ayah 23:12

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ طِیْنٍۚ Open ayah 23:12 in the Quran reader

اور بالیقین ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا،9۔

9۔ مٹی کا خلاصہ یعنی غذا، غذائے نباتی کا مٹی سے اگنا اور پیدا ہونا بالکل ظاہر ہے۔ اور غذائے حیوانی کا آخری ماخذ بھی جا کرنباتات کے واسطہ سے مٹی ہی ٹھہرتی ہے۔
Ayahs 23:13–14

ثُمَّ جَعَلْنٰهُ نُطْفَةً فِیْ قَرَارٍ مَّكِیْنٍ۪ Open ayah 23:13 in the Quran reader

پھر ہم نے اسے نطفہ بنایا ایک محفوظ مقام میں پھر ہم نے نطفہ کو خون کا لوتھڑا بنا دیا

ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظٰمًا فَكَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْمًا١ۗ ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَ١ؕ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَؕ Open ayah 23:14 in the Quran reader

پھر ہم خون کے لوتھڑے کو (گوشت کی) بوٹی بنا دیا پھر ہم نے بوٹی کو ہڈی بنادیا پھر ہم نے ہڈیوں پر گوشت چڑھا دیا،10۔ پھر ہم نے اسے ایک دوسری ہی مخلوق بنادیا،11۔ کیسی شان والا ہے اللہ تعالیٰ صناعوں سے بڑھ کر ! ،12۔

10۔ (جس سے وہ ہڈیاں ڈھک گئیں اور ڈھانچہ پر جلد چڑھ گئی) (آیت) ” فی قرار مکین “۔ یعنی رحم مادر میں۔ رحم کی مضبوطی اور محفوظیت پر تشریح الابدان کی کتابیں گواہ ہیں۔ (آیت) ” فخلقنا المضغۃ عظما “۔ یعنی بوٹی کے بعض اجزاء کو ہڈیوں میں تبدیل کردیا۔ خلقت انسانی کے ان مراتب کی تفصیل طب قدیم وجدید کی کتابوں میں ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔ 11۔ (روح انسانی ڈال کر اور حالات سابق سے بالکل ممتاز بنا کر) جمادیت ونباتیت کا ذکر نہیں۔ حیوانیت بلکہ حیوانیت اعلی سے بھی انسان جس قدر ممتاز وبلند ہے اس کی شرح کے لیے ایک دفتر چاہیے، کچھ مختصر حوالے انگریزی تفسیر القرآن میں ملیں گے۔ یہ (آیت) ” خلقا اخر “ ‘۔ ہی وہ چیز ہے جہاں تک ڈارون غریب اور اس کے پیرو وں کی نظر نہ پہنچ سکی اور یہ لوگ انسان کو ایک ترقی یافتہ حیوان ہی سمجھتے رہے۔ (آیت) ” خلقا اخر “۔ کی تفسیر صحابہ اور تابعین کے کلام میں روح سے آئی ہے۔ قال ابن عباس والشعبی وابو العالیۃ والضحاک وابن زید ھو نفخ الروح فیہ (بحر) 12۔ (جس کی قدرت اور صناعی تک کسی بڑے سے بڑے بھی صناع کی رسائی ممکن نہیں) دوسرے صناعوں کی قدرت صرف ترکیب وتحلیل تک محدود ہے۔ آفرینش جس چیز کا نام ہے یہ خاص اللہ ہی کا حصہ ہے۔ خلق عربی میں ایک تو ایجاد وابداع یعنی نیست سے ہست کرنے کے معنی میں آتا ہے۔ اور اس معنی میں یہ اللہ کا وصف خصوصی ہے اور اسی معنی میں آیا ہے۔ (آیت) ” افمن یخلق کمن لایخلق “ (آیت) ” احسن الخلقین “۔ سے یہ دھوکا نہ ہو کہ کیا اللہ کے سوا کوئی اور خالق بھی ہے ؟ خالقین یہاں صانعین کے معنی میں ہے۔ ؛ اے احسن الصانعین (ابن جریر عن مجاہد) اور عربی میں ہر صانع کو خالق بھی کہا جاتا ہے۔ العرب تسمی کل صانع خالقا (ابن جریر) اور آگے سند میں زہیر کا کلام پیش کیا ہے۔
Ayahs 23:15–16

ثُمَّ اِنَّكُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ لَمَیِّتُوْنَؕ Open ayah 23:15 in the Quran reader

پھر تم اس (سب) کے بعد ضرور ہی مر کر رہو گے۔

ثُمَّ اِنَّكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ تُبْعَثُوْنَ Open ayah 23:16 in the Quran reader

پھر تم قیامت کے دن از سر نو اٹھائے جاؤ گے،13۔

13۔ یہاں ایجاد یا ابداع اور افناء یا اہلاک اور احیاء تینوں مراتب کا بیان آگیا۔
Ayah 23:17

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعَ طَرَآئِقَ١ۖۗ وَ مَا كُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غٰفِلِیْنَ Open ayah 23:17 in the Quran reader

اور ہم نے تمہارے اوپر سات آسمان بنائے اور ہم مخلوق کے باب میں بیخبر نہ تھے،14۔

14۔ (کہ اناڑیوں کی طرح مخلوق کی ضرورتوں اور حکمتوں مصلحتوں کو نظر انداز کرجائیں) (آیت) ” طرآئق “۔ طریقۃ کے لفظی معنی راستہ کے ہیں۔ مجازا مراد یہاں آسمانوں سے لی گئی ہے۔ یعنی السموت السبع (ابن کثیر عن مجاہد) الطرائق السموت (ابن جریر عن ابن زید) اور بعض نے براہ راست ہی اس کے معنی آسمانوں کے لئے ہیں اور کہا ہے کہ جو چیز کسی چیز کے اوپر ہوتی ہے وہ بھی عربی میں میں طریقۃ ہی کہلاتی ہے۔ الطرائق السموت لانہ طوارق والعرب تسمی کل شیء فوق شیء طریقۃ (ابن جریر) یا آسمانوں کو طرائق سے یہاں اس لئے تعبیر کیا گیا کہ ان میں فرشتوں کی آمد ورفت اور ستاروں کی گردش کے لئے راہیں اور راستے ہیں۔ بعضھا فوق بعض (کشاف) اولانھا طرق الملائکۃ وقیل الافلاک لانھا طرائق الکواکب فیھا مسیرھا (کشاف)
Ayah 23:18

وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ فَاَسْكَنّٰهُ فِی الْاَرْضِ١ۖۗ وَ اِنَّا عَلٰى ذَهَابٍۭ بِهٖ لَقٰدِرُوْنَۚ Open ayah 23:18 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان سے اندازہ کے ساتھ پانی برسایا پھر ہم نے اسے زمین میں ٹھہرایا اور ہم اس کے معدوم کرنے پر بھی قادر ہیں،15۔

15۔ ان سب افعال تکوینی کی خالق تنہا وہی ذات واحد ہے۔ اندر دیوتا یا کوئی اور دیوی دیوتا اس کے شریک نہیں۔ (آیت) ” بقدر “ یعنی مقدار معین ومناسب میں اور وقت مناسب پر۔
Ayah 23:19

فَاَنْشَاْنَا لَكُمْ بِهٖ جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ١ۘ لَكُمْ فِیْهَا فَوَاكِهُ كَثِیْرَةٌ وَّ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَۙ Open ayah 23:19 in the Quran reader

پھر ہم نے اس کے ذریعہ سے تمہارے لئے کھجوروں کے اور انگوروں کے باغ اگائے ان میں تمہارے لئے بہت سے میوے ہیں اور ان میں سے تم کھاتے بھی ہو،16۔

16۔ (بعض کو خشک کرکے بطور غذا کے) (آیت) ” فواکہ کثیرۃ “۔ بہت سے پھل تروتازہ کھائے جاتے ہیں۔ یہاں یہ بتایا کہ یہ عمل تکوینی بھی تمامتر حق تعالیٰ ہی کا ہے۔ کھیت پات رزق کا دیوتا کوئی الگ نہیں۔ (آیت) ” نخیل واعناب “۔ کھجور کی اہمیت اور اس لیے اس کے ذکر کی تخصیص اہل عرب کے لئے بالکل ظاہر ہے۔ انگور بھی عرب کے بعض حصوں کا خاص میوہ ہے۔ ملاحظہ ہوبقرہ (پ 3) آیت 262 کا حاشیہ۔
Ayah 23:20

وَ شَجَرَةً تَخْرُجُ مِنْ طُوْرِ سَیْنَآءَ تَنْۢبُتُ بِالدُّهْنِ وَ صِبْغٍ لِّلْاٰكِلِیْنَ Open ayah 23:20 in the Quran reader

اور ایک اور درخت بھی (پیدا کیا) جو طور سینا میں پیدا ہوتا ہے وہ اگتا ہے تیل لئے ہوئے اور کھانے والوں کے لئے سالن لئے ہوئے،17۔

17۔ یہاں کسی درخت کے نام کی تصریح نہیں لیکن سب کا اتفاق ہے کہ اس سے مراد زیتون ہے۔ والمراد بہ ھنا الزیت (روح) زیتون خاص پیداوار ہے ملک فلسطین اور اس سے ملحق جزیرہ نما سیناء کی۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔
Ayah 23:21

وَ اِنَّ لَكُمْ فِی الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً١ؕ نُسْقِیْكُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْنِهَا وَ لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ كَثِیْرَةٌ وَّ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَۙ Open ayah 23:21 in the Quran reader

اور تمہارے لئے غور کا موقع مویشیوں میں ہے ہم تمہیں پینے کو دیتے ہیں ان کے جوف میں کی چیز کو اور تمہارے لئے ان میں بہت سے فائدے ہیں،18۔ اور ان میں سے (بعض کو) تم کھاتے بھی ہو

18۔ روغن زیتون کے فوائد غذائی بھی اور خارجی استعمال میں بھی طب قدیم وجدید دونوں کو مسلم ہیں۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔ زیتون کا ذکر توریت وانجیل دونوں میں بھی بار بار آیا ہے۔ مثلا استثناء 8: 8۔ قاضیون 9: 8۔ متی 6: 7۔ او 25: 3۔ لوقا 10: 34)
Ayah 23:22

وَ عَلَیْهَا وَ عَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَ۠ Open ayah 23:22 in the Quran reader

اور ان پر اور کشتی پر سوار پھرتے ہو،19۔

19۔ جمادات ونباتات کی طرح چوپائے جانور اور مویشی بھی انسان کی خدمت ہی کے لئے ہیں۔ انہیں اپنا معبود یا مخدوم سمجھ لینا انسان کی انتہائی پستی اور نافہمی ہے۔ (آیت) ” الانعام “۔ پر حاشیے سورة انعام پ 7 اور سورة النحل پ 14 میں گزر چکے۔ (آیت) ” نسقیکم مما فی بطونھا “۔ مراد دودھ کا ہونا ظاہر ہی ہے۔ (آیت) ” ولکم فیھا منافع کثیرۃ “۔ علاوہ غذائی مصرف کے۔ گائے بیل کی کھال۔ بھیڑی کی اون، بعض جانوروں کے سینگ وغیرہ یہ سب انسانوں کے کام کی چیزیں ہیں اور جانوروں کی تجارت ایک بڑی نفع بخش تجارت۔ (آیت) ” وعلی الفلک “۔ بحری سواریاں جتنی بھی ایجاد ہوں سب فلک کے تحت میں آجائیں گی۔
Ayah 23:23

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 23:23 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے نوح (علیہ السلام) کو بھیجا ان کی قوم کی طرف سو انہوں نے کہا اے میری قوم والو اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں تو کیا تم ڈرتے نہیں ؟ ،20۔

20۔ (دوسروں کو شریک خدائی بنانے سے) حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے قوم کے معاملات پر حواشی سورة الاعراف پ 8 میں گزر چکے۔
Ayah 23:24

فَقَالَ الْمَلَؤُا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۙ یُرِیْدُ اَنْ یَّتَفَضَّلَ عَلَیْكُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَنْزَلَ مَلٰٓئِكَةً١ۖۚ مَّا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَۚ Open ayah 23:24 in the Quran reader

تو ان کی قوم میں جو کافر رئیس تھے وہ کہنے لگے،21۔ کہ یہ (شخص) اور ہے کیا بجز اس کے کہ تمہارا ہی جیسا انسان ہے،22۔ چاہتا ہے کہ تم سے برتر ہو کر رہے اور اگر خدا (یہی) چاہتا تو وہ فرشتوں کو بھیجتا ہم نے یہ بات اپنے پہلے بڑوں سے تو سنی ہی نہیں،23۔

21۔ (اپنی قوم کی عام پبلک سے) 22۔ (اور جب خالی خولی انسان ہی ہے تو پھر خدا کا اوتار یادیوتا وغیرہ کیسے ہوسکتا ہے) مشرک قوموں کی بنیادی غلطی بھی عقیدہ رسالت میں گمراہی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ انسان کی ہدایت کے لئے جب کوئی آئے گا وہ یا تو خود خدا ہوگا بہ شکل انسان، اور یا کوئی دیوتا، یہ اسلام ہی ہے جس نے اس بنیادی گمراہی پر ضرب لگائی اور بار بار اعلان کیا کہ رسول تو محض بشر ہی ہوتا ہے مع تائید وحی کے۔ بجز دولت وحی کے کوئی شے بھی اس میں عام انسانوں سے زائد نہیں ہوتی۔ اہل توحید کو اور مسلمان کے گھر میں پیدا ہونے والوں کو یہ بات بالکل موٹی سی معلوم ہوتی ہے۔ لیکن مشرکوں کی سمجھ میں اتنی بات بھی نہیں آتی۔ 23۔ یعنی کیسی انوکھی اس شخص کی دعوت ہے۔ دیوی دیوتا جنہیں ہم اور ہمارے باپ دادا ہمیشہ سے مانتے چلے آئے ہیں۔ ان کا یہ شخص منکر ہے۔ اور سب سے نرالی بات یہ کہہ رہا ہے کہ معبود بس خالی ایک ہی ہے !۔ منکرین دعوت پیغمبر ہر دور میں اپنے زمانہ کے نہایت جمود پسند (کنسروٹیو) قسم کے لوگ ہوا کئے ہیں۔ (آیت) ” یرید ان یتفضل علیکم “ برتری سے مراد دنیوی یعنی جاہ و ریاست کی برتری مراد ہے۔ بدبخت منکروں نے ہمیشہ اپنے ظرف وطینت پر قیاس کرکے پیغمبروں کی نیت سے بدگمانی کی ہے اور انہیں اپنا ہی جیسا طالب دنیا فرض کیا ہے۔ (آیت) ” لوشآء اللہ لانزل ملئکۃ “۔ یعنی خدا کو ہماری اصلاح وہدایت ہی اگر منظور ہوتی تو اس غرض کے لئے کوئی فوق البشر ہستی نازل کی جاتی۔ کوئی دیوی دیوتا آتے، کوئی اوتار ظاہر ہوتے۔
Ayah 23:25

اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ فَتَرَبَّصُوْا بِهٖ حَتّٰى حِیْنٍ Open ayah 23:25 in the Quran reader

بس یہ ایک آدمی ہے جس کو جنون ہوگیا ہے سو ایک خاص وقت تک انتظار کرو،24۔

24۔ (جب یہ خود ہی ایک وقت پر پہنچ کر ختم ہوجائے گا) (آیت) ” بہ جنۃ “۔ یعنی اسے جنون ہوگیا ہے۔ یا یہ آسیب زدہ ہے۔
Ayah 23:26

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا كَذَّبُوْنِ Open ayah 23:26 in the Quran reader

) نوح نے) عرض کیا اے میرے پروردگار میرا بدلہ لے کہ انہوں نے مجھ کو جھٹلایا،25۔

25۔ پیغمبروں کا صبر بھی آخر غیر محدود نہیں ہوتا۔ جب وہ دیکھتے ہیں کہ ان کے پیام حق کی برابر تکذیب ہی ہورہی ہے تو ایک مدت مدید کے بعد آخر ان کا پیمانہ صبر بھی لبریز ہوجاتا ہے۔ اور وہ نصرت الہی کے اسی دنیا میں عملی ظہور کی دعا کرنے لگتے ہیں۔
Ayah 23:27

فَاَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِ اَنِ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا فَاِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوْرُ١ۙ فَاسْلُكْ فِیْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْهِ الْقَوْلُ مِنْهُمْ١ۚ وَ لَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 23:27 in the Quran reader

پس ہم نے ان کے پاس حکم بھیجا کہ کشتی ہماری نگرانی میں اور ہمارے حکم سے تیار کرو پھر جب ہمارا حکم (عذاب) آپہنچے گا۔ اور زمین سے پانی ابلنا شروع ہوجائے تو ہر قسم کے (جانوروں میں سے) دو دو عدد اس میں رکھ لو اور اپنے گھروالوں کو بھی اس میں (سوار کرلو) بجز اس کے جس پر ان میں سے حکم (غرق) نازل ہوچکا ہے،26۔ اور مجھ سے ظالموں (کی نجات) کے بارے میں کچھ نہ کہنا بیشک وہ سب غرق ہو کر رہیں گے،27۔

26۔ (اس کے کفر کے پاداش میں) کافر نافرمان کے لئے کوئی گنجائش نجات ومغفرت کی نہیں۔ خواہ وہ نبی کا عزیز قریب ہی ہو۔ (آیت) ” من کل زوجین اثنین “۔ یعنی ایسے جانوروں میں جو کام آنے والے ہوں دو دو عدد۔ نوح۔ فلک۔ تنور وغیرہ پر حاشیے سورة ہود (پ 12) میں گزر چکے۔ 27۔ (ان کے حق میں سعی سفارش سب لاحاصل ہے) (آیت) ” الذین ظلموا “۔ اپنے حق میں ظلم کرنے والے یعنی کافر، محاورۂ قرآنی میں یہ استعمال عام ہے۔ ای فی الذین کفروا (ابن جریر)
Ayah 23:28

فَاِذَا اسْتَوَیْتَ اَنْتَ وَ مَنْ مَّعَكَ عَلَى الْفُلْكِ فَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ نَجّٰىنَا مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:28 in the Quran reader

پھر جب تم اور تمہارے ساتھی کشتی پر بیٹھ چکیں تو کہنا کہ (ساری) حمد ہے اللہ کے لئے جس نے ہم کو ظالم لوگوں سے نجات دی،28۔

28۔ انبیاء ومومنین کو ایک ایک ادب کی تعلیم اللہ کی طرف سے ہوتی رہتی ہے۔ اور ہر نعمت کو اسی کی جانب منسوب کرنا سکھایا جاتا ہے۔
Ayah 23:29

وَ قُلْ رَّبِّ اَنْزِلْنِیْ مُنْزَلًا مُّبٰرَكًا وَّ اَنْتَ خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ Open ayah 23:29 in the Quran reader

اور کہنا کہ اے میرے پروردگار مجھے برکت کا اتارنا اتاریو اور تو سب اتارنے والوں سے اچھا ہے،29۔

29۔ یہ تعلیم دعا اس وقت کے لئے ہے جب کشتی خشکی پر ٹھہرنے کے قریب ہو۔
Ayah 23:30

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ وَّ اِنْ كُنَّا لَمُبْتَلِیْنَ Open ayah 23:30 in the Quran reader

اس (سارے واقعہ) میں (بہت سی) نشانیاں ہیں اور آزماتے ہی رہتے ہیں،30۔

30۔ (اپنے بندوں کو ایسے ایسے حوادث تکوینی کے ذریعہ سے) (آیت) ” الایت “۔ اس سارے واقعہ کے اندر بہت سی نشانیاں حق تعالیٰ کی قدرت و حکمت کی ہیں۔
Ayahs 23:31–32

ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَۚ Open ayah 23:31 in the Quran reader

پھر ہم نے دوسرا گروہ ان کے بعد پیدا کیا

فَاَرْسَلْنَا فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 23:32 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کی طرف ایک پیغمبر کو انہیں میں سے بھیجا (یہ پیام دے کر) کہ اللہ ہی پرستش کرو تمہارا کوئی معبود اس کے سوا نہیں سو کیا تم ڈرتے نہیں ہو،31۔

31۔ (شرک اور انجام شرک سے) (آیت) ” من بعدھم “۔ یعنی قوم نوح (علیہ السلام) کے بعد جس کا ذکر ابھی ہوچکا ہے۔ (آیت) ” قرنا اخرین “۔ یہ قوم کون سی تھی ؟ عام رجحان یہ ہے کہ یہ قوم عاد یا قوم ثمود کی جانب اشارہ ہے۔ بہرحال کوئی نہ کوئی مشرک ہی قوم تھی۔ (آیت) ” رسولا منھم “۔ سنت الہی یہی ہے کہ جس قوم کی ہدایت مقصود ہوتی ہے۔ اس کے لئے ہادی خود اسی قوم میں سے بھیجا جاتا ہے۔ (آیت) ” ان ........ تتقون “۔ دعوت ہر نبی مرسل کی ہر زمانہ اور ہر ملک میں توحید ہی کی رہی ہے۔
Ayah 23:33

وَ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ الْاٰخِرَةِ وَ اَتْرَفْنٰهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۙ یَاْكُلُ مِمَّا تَاْكُلُوْنَ مِنْهُ وَ یَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُوْنَ۪ۙ Open ayah 23:33 in the Quran reader

ان کی قوم میں جو سردار تھے اور جو کافر اور آخرت کے آنے کے جھٹلانے والے تھے اور ہم نے انہیں دنیا کی زندگی میں عیش بھی دے رکھا تھا،32۔ وہ بولے کہ یہ تو بس تمہارے ہی طرح کے ایک آدمی ہیں وہی کھاتے ہیں جو تم کھاتے ہو اور وہی پیتے ہیں جو تم پیتے ہو،33۔

32۔ یہ آیت (دوسری متعدد آیات کی طرح) اس باب میں نص ہے کہ دولت و خوشحالی کفر وشرک کے ساتھ جمع ہوسکتی ہے۔ آج جو خامکار مصلحین اس بات پر اڑے ہوئے ہیں کہ دنیوی اور مادی ترقیاں اسلام صحیح ہی سے پیدا ہوسکتی ہیں۔ وہ اس آیت کو اور ایسے ہی بہت سے دوسرے نصوص کو کیا کریں گے ؟ 33۔ منکرین ومکذبین کی سب سے بڑی دلیل پہلے بھی یہی رہی ہے اور اب بھی یہی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب مادی حیثیت سے ہم اور نبی یکساں ہیں۔ طبعی حاجتوں کے لحاظ سے ہم میں اس میں کوئی فرق ہی نہیں وہ ہماری ہی طرح کھاتا پیتا، چلتا پھرتا، سوتا جاگتا، لیٹتا بیٹھتا ہے تو اسے ہم نبی کیسے مان لیں ؟ ” خدا کا اوتار تو ہوسکتا ہے جو عجیب و غریب کرشمہ دکھائے، ہوا پر اڑے، جانوروں سے باتیں کرے، بھوک پیاس وغیرہ کی طلب سے آزاد ہو۔ غرض ہر مادی اعتبار سے انسان نہ ہو بلکہ کم از کم فوق البشر تو ضرور ہو !
Ayah 23:34

وَ لَئِنْ اَطَعْتُمْ بَشَرًا مِّثْلَكُمْ اِنَّكُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَۙ Open ayah 23:34 in the Quran reader

اور اگر تم نے اپنے ہی جیسے بشر کی راہ قبول کرلی تو تم تو نرے گھاٹے ہی میں رہے،34۔

34۔ (عقلی اور عملی نتائج کے لحاظ سے) یعنی اپنی رائے اور اپنے آزاد مشرب کو چھوڑ کر اگر تم ایک اپنے ہی جیسے انسان کی بنائی ہوئی راہ پر پڑلیے تو اس سے بڑھ کر بیوقوفی اور کیا ہوگی ؟ یہ تو بڑا نقصان عقل ہوا۔ اور پھر یہ تمہیں خدا معلوم کیسی کیسی مادی مضرتوں میں مبتلا کردے !
Ayahs 23:35–37

اَیَعِدُكُمْ اَنَّكُمْ اِذَا مِتُّمْ وَ كُنْتُمْ تُرَابًا وَّ عِظَامًا اَنَّكُمْ مُّخْرَجُوْنَ۪ۙ Open ayah 23:35 in the Quran reader

یہ (شخص) تم سے یہی کہتا ہے ناکہ جب تم مرجاؤ گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجاؤ گے تو تم (پھر سے) نکالے جاؤ گے ؟

هَیْهَاتَ هَیْهَاتَ لِمَا تُوْعَدُوْنَ۪ۙ Open ayah 23:36 in the Quran reader

بہت ہی بعید بہت ہی بعید ہے جو بات تم سے کہی جاتی ہے

اِنْ هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ۪ۙ Open ayah 23:37 in the Quran reader

بس زندگی تو ہماری (یہی) دنیوی زندگی ہے کہ ہم میں کوئی مرتا ہے اور کوئی پیدا ہوتا ہے اور ہم ہرگز (دوبارہ) اٹھائے جانے والے نہیں،35۔

35۔ مادیت ودہریت کا پورا فلسفہ ان سطروں میں آگیا۔ دین صحیح کے داعی کا اصلی کام انہیں خیالات و عقائد پر ضرب کاری لگانا ہے اور یہی خیالات و عقائد نام اور اصطلاحیں بدل بدل کر ہر ملک میں منکرین ومکذبین کی زبان سے ظاہر ہوا کئے ہیں۔
Ayah 23:38

اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلُ اِ۟فْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا وَّ مَا نَحْنُ لَهٗ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 23:38 in the Quran reader

یہ تو بس ایک انسان ہے جس نے خدا پر جھوٹ گڑھ لیا ہے اور ہم تو ہرگز اس کو ماننے والے نہیں،36۔

36۔ خدا پر افتراء یہی کہ مثلا خدا اپنے بندوں سے کلام کرتا ہے۔ خدا اکیلا بغیر کسی شریک، سہیم ومصاحب کے ہے اس مادی زندگی کے بعد کوئی دوسری زندگی بھی پیش آنی ہے۔ وغیرہا۔ ملحد و مشرک قومیں ان عقائد کو تمامتر بےبنیاد سمجھتی رہتی ہیں۔