Ayah 23:11۔ عبدالرزق واحمد وعنبسہ بن حمید والترمذی والنسائی وابن المنذر والعقیلی والحاکم وصححہ والبیہقی فی الدلائل والضیاء فی المختار نے عمر بن خطاب ؓ نعہ سے روایت کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ پر وحی اترتی تھی تو آپ کے سامنے شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ کی طرح آواز سنائی دیتی تھی ایک دن آپ پر کچھ نازل ہوا ہم کچھ دیر ٹھہرے رہے جب یہ کیفیت آپ سے دور ہوئی تو آپ نے اپنا رخ قبلہ کی طرف کیا اور اپنے ہاتھوں کو اٹھاکر یہ دعا فرمائی :
اللہم زدنا ولا تنقصنا واکرمنا ولا تھنا واعطنا ولا تحرمنا وٓثرنا ولا تؤثر علینا وارض عنا وارضنا
ترجمہ : اے اللہ ہم کو زیادہ کرلو اور ہم سے کم نہ کر اور ہم کو عزت دے اور ہم کو ذلیل نہ فرما اور ہم کو عطا کر اور ہم کو محروم نہ فرما اور ہم کو فضیلت دیجئے ہم پر کسی اور کو فضیلت نہ دیجئے ہم سے راضی ہوجا اور ہم کو اپنی رضا سے نواز۔
پھر فرمایا مجھ پر دس آیات نازل ہوئیں جس نے ان کو قائم کیا یعنی ان پر عمل کیا تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔ پھر یہ آیت قد افلح المومنون۔ پڑھی یہاں کہ دس آیتوں کو ختم فرمایا۔
2۔ البکاری والادب المفرد والنسائی وابن الملنذر والحاکم وصححہ وابن مردویہ والبیہقی فی الدلائل نے یزید بن بابنوس (رح) سے روایت ہے کہ ہم نے حضرت عائشہ ؓ سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کے اخلاق کیسے تھے تو انہوں نے فرمایا آپ کا خلق قرآن تھا پھر فرمایا تو سورة المؤمنون پڑھتا ہے، قد افلح المومنون، پھر انہوں نے ان آیات کی تلاوت کی یہاں تک کہ دسویں آیت تک پہنچیں۔ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا اسی طرح رسول اللہ ﷺ کا اخلاق تھا۔
3۔ ابن عدی والحاکم والبیہقی فی الاسماء والصفات میں انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جنت عدن کو پیدا فرمایا اور اس کے درختوں کو اپنے ہاتھ سے بویا اور اس سے فرمایا بات کر تو اس نے کہا قد افلح المومنون (ایمان والے کامیاب ہوگئے) الطبرانی نے السنۃ میں اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ کی حدیث سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
4۔ عبدالرزاق وابن جریر نے قتادہ رھمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ قد افلح المومنون کے بارے میں کعب ؓ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے تین چیزیں بنائیں۔ آدم (علیہ السلام) کو اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا تورات کو اپنے ہاتھ سے لکھا، جنت عدن میں اپنے ہاتھ سے پودے لگائے پھر اس نے فرمایا تو مجھ سے بات کر تو اس نے کہا، قد افلح المومنون، جب اس نے جان لیا، ایمان والوں کی عزت واکرام کو۔
5۔ ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ جب آللہ تعالیٰ نے جنت عدن میں پودے لگائے تو ان کی طرف دیکھ کر فرمایا۔ قد افلح المومنون۔
6۔ ابن جریر نے ابوالعالیہ (رح) سے روایت کیا جب اللہ تعالیٰ نے جنت کو پیدا فرمایا تو فرمایا قد افلح المونون اور اللہ تعالیٰ نے اس کو قرآن میں نازل فرمایا۔
7۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر سے روایت کیا آیت قد افلح المؤمنون، یعنی تصدیق کرنے والے اللہ کی توحید کی سعادت مند ہوں گے۔
8۔ عبد بن حمید نے طلحہ بن مصرف (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس طرح پڑھتے تھے۔ آیت قد افلح المؤمنون افلح کے رفع کے ساتھ (یعنی افلح کو مجہول کا صیغہ پڑھتے تھے) ۔
9۔ عاصم (رح) سے روایت کیا کہ وہ ” افلح “ کو نصب کے ساتھ پڑھتے تھے۔
10۔ الطستی فی مسائلہ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ارزق نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت قد افلح المأمنون کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ لوگ کامیاب ہوگئے اور سعادت مند ہوگئے پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں فرمایا کہ ہاں ! کیا تو نے لبید کا قول نہیں سنا۔
فاعقلی ان کنت ما تعقلی ولقد افلح من کان عقل
ترجمہ : سمجھو تو اگر تو سمجھنے والی ہے یقیناوہ کامیاب ہوا جس نے سمجھا
Ayah 23:21۔ سعید بن منصور وابن جریر والبیہقی فی سننہ محمد بن سیرین (رح) سے روایت کیا کہ مجھے بتایا گیا کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز پڑھتے تھے تو اپنی آنکھوں کو آسمان کی طرف اٹھاتے تھے تو یہ آیت آیت الذین ہم فی صلاتہم خاشعون، نازل ہوئی۔
2۔ عبد بن حمید وابوداوٗد فی مراسیلہ وابن المنذر وابن ابی حاتم والبیہقی فی سننہ من وجہ آخر ابن سیرین (رح) سے روایت کیا کہ نبی ﷺ جب نماز میں کھڑے ہوتے تھے تو دائیں بائیں دیکھتے تھے تو یہ آیت آیت الذین ہم فی صلاتہم خشعون، نازل ہوئی تو آپ نے اپنا سر جھکادیا۔
3۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے محمد بن سیرین (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب ؓ نماز میں اپنی آنکھوں کو آسمان کی طرف اٹھاتے تھے اور دائیں بائیں متوجہ ہوتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں آیت قد افلح المومنون، الذین ہم فی صلاتہم خشعون، تو انہوں نے اپنے سروں کو جھکادیا اور اسکے بعد انہوں نے اپنی آنکھوں کو اوپر نہیں اٹھایا اور نہ دائیں بائیں متوجہ ہوئے۔
نماز میں خشوع و خضوع
4۔ عبدالرزاق وابن ابی شیبہ نے ابن سیرین (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کبھی کبھی کسی چیز کو نماز میں دیکھ لیتے تھے اور اپنی آنکھ کو اوپر اٹھالیتے تھے یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی آیت قد افلح المؤمنون، الذین ہم فی صلاتہم خشعون، تو انہوں نے اپنا سر جھکا لیا ابن سیرین فرماتے ہیں اگر یہ روایت نہ ہوتی تو میں اپنی عقل سے نہ جان سکتا کہ اس آیات کا معنی کیا ہ۔ فرمایا آیت الذین ہم فی صلاتہم خشعون، اس آیت کے اترنے کے بعد، آپ نے اپنا سر جھکا دیا۔
6۔ ابن مردویہ نے ابن عمر ؓ سے آیت الذین ہم فی صلاتہم خشعون کے بارے میں روایت کیا کہ صحابہ کرام ؓ جب نماز میں کھڑے ہوتے تھے تو اپنی نماز پر پوری طرح متوجہ ہوتے تھے اور اپنی نظروں کو سجدوں کی جگہ رکھتے اور انہوں نے جان لیا کہ اللہ تعالیٰ ان پر متوجہ ہوتے ہیں تو وہ دائیں اور بائیں متوجہ نہ ہوتے۔
7۔ ابن المبارک فی الزہد وعبدالرزاق والفریابی وعبدبن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ والبیہقی فی سننہ نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت الذین ہم فی صلاتہم کشعون کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا اس سے مراد دل کا خشوع ہے اور یہ کہ تو اپنے پہلو کو مومن بندے کے لیے نرم کردے۔ اور یہ کہ تو اپنی ناز میں ادھر ادھر توجہ نہ کرے۔
8۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت الذین ہم فی صلاتہم خشعون سے مراد ہے کہ وڈرنے والے اور نماز میں پرسکون ہوتے ہیں۔
9۔ الحکیم الترمذی والبیہقی فی شعب الایمان نے ابوبکر صدیق ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم اللہ سے پناہ مانگو نفاق کے کشوع سے، صحابہ ؓ نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ نفاق کے خشوع سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا بدن میں خشوع ہوا اور دل میں نفاق ہو۔
10۔ ابن المبارک وابن ابی شیبہ واحمد فی الزہد نے ابودرداء ؓ سے ورایت کیا نفاق کے خشوع سے اللہ کی پناہ مانگو ان سے کہا گیا نفاق کا خشوع کیا ہے ؟ فرمایا کہ تو جسم کو خشوع والا پائے اور جبکہ دل میں خشوع نہ ہو۔
11۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کہ خشوع دل میں ہے اور وہ خوف ہے اور نماز میں آنکھوں کو نیچا رکھنا ہے۔
12۔ ابن ابی شیبہ عبد بن حمید وابن جریر نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ آیت الذین ہم فی صلاتہم کشعون، سے مراد دل کا کشوع ہے اور فرمایا کہ وہ نماز میں خاموش رہتے ہیں۔
13۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت الذین ہم فی صلاتہم خشعون، سے مراد ہے کہ ان کا خشوع ان کے دل میں ہوتا ہے اس وجہ سے وہ اپنی نظروں کو پست رکھتے ہیں اور اس وجہ سے اپنے بازوؤں کو نیچے رکھتے ہیں (یعنی تواضع کا اظہار کرتے ہیں)
14۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے زہری (رح) سے دریافت کیا کہ آیت الذین ہم فی صلاتہم خشعون، یعنی نماز میں خشوع سے مراد آدمی کا اپنی نماز میں پرسکون رہنا ہے۔
15۔ ابن المبارک وعبدالرزاق عبد بن حمید وابن اجریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ نماز میں خشوع سے مراد کہ اس میں خاموش رہنا ہے۔
16۔ ابن سعد وابن ابی شیبہ وا احمد فی الزہد نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ عبداللہ بن زبیر ؓ نماز میں ایسے کھڑے ہوتے تھے گویا کہ وہ لکڑی ہے اور ابوبکر ؓ بھی اسی طرح کرتے تھے اور مجاہد نے فرمایا کہ خشوع نماز میں مراد ہے۔
17۔ الحکیم الترمذی من طریق القاسم بن محمد عن اسماء بنت ابی بکر ؓ ام رومان (حضرت عائشہ ؓ کی والدہ) سے روایت کیا کہ مجھ کو ابوبکر صدیق ؓ نے دیکھ لیا کہ میں اپنی نماز میں ایک طرف جھکتی ہوں تو انہوں نے مجھ کو ایسا شدید ڈانٹا قریب تھا کہ میں اپنی نماز کو توڑدیتی پھر فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا جب کوئی تم میں سے نماز میں کھڑا ہو تو اپنی جانبوں کو سکون میں رکھے یہودیوں کے جھکنے کی طرح نہ جھکے کیونکہ اعضاء کا پرسکون ہونا نماز میں، یہ نماز کے کمال میں سے ہے۔
18۔ الحکیم الترمذی نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ اپنی داڑھی سے نماز میں کھیل رہا تھا آپ نے فرمایا کہ اگر اس کے دل میں خشوع ہوتا تو اس کے جوارح میں بھی خشوع ہوتا۔
19۔ ابن سعد نے ابوقلاب ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے مسلم بن یسار رھمۃ اللہ علیہ سے نماز میں خشوع کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا وہ یہ ہے کہ تو اپنی نظروں کو اس جگہ رکھ جہاں تو سجدہ کرتا ہے۔
نماز میں دائیں بائیں دیکھنا شیطانی اثر ہے
20۔ ابن ابی شیبہ والبخاری وابو داوٗد والنسائی نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے نماز میں ادھر ادھر توجہ کرنے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا وہ ایک اچک لینا ہے، شیطان بندے کی نماز میں سے اچک لیتا ہے۔
21۔ ابن ابی شیبہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے مرض کی حالت میں فرمایا مجھ کو بٹھادو، مجھ کو بٹھا دو ۔ میرے پاس ایک امانت ہے جو رسول اللہ ﷺ نے مجھے امانت دی تھی پھر فرمایا کہ تم میں سے کوئی اپنی نماز میں ادھر ادھر متوجہ نہ ہو اگر وہ مجبور ہو تو ان نمازوں میں کرے کہ جو اللہ تعالیٰ نے اس پر فرض نہیں کیں۔
22۔ عبدالرزاق وابن ابی شیبہ نے عطا رھمہ اللہ سے روایت کیا کہ میں نے ابوہریرہ ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جب تو نماز پڑھے تو ادھر ادھر توجہ نہ کر کیونکہ تیرا رب تیرے سامنے ہوتا ہے اور تو اس سے سرگوشی کر رہا ہوتا ہے عطاء (رح) نے فرمایا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ رب تعالیٰ فرماتے ہیں۔ اے ابن آدم ! کہ تو کس طرح کو ادھر ادھر توجہ کتا ہے میں تیرے لیے بہتر ہوں ان سب چیزوں سے کہ جن کی طرف تو توجہ کرتا ہے۔
23۔ ابن ابی شیبہ نے ابودرداء ؓ سے روایت کیا ہے کہ نماز میں ادھر ادھر توجہ کرنے سے بچو کیونکہ ادھر ادھر توجہ کرنے والے کی نماز نہیں ہے اور جب تم مغلوب ہوجاؤ کسی نفل نماز میں تو فرض نماز میں کسی صورت میں مغلوب نہ ہو۔
24۔ ابن ابی شیبہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ برابر توجہ فرماتے ہیں اپنے بندے پر جب تک وہ نماز میں ۃ وتا ہے مگر جب اسے حدث لاحق ہوجائے یا وہ کسی اور چیز کی طرف متوجہ ہوجائے۔
25۔ ابن ابی شیبہ نے عبداللہ بن منقذ رحمۃ اللہ سے روایت کیا کہ جب آدمی نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جب وہ بندہ کسی اور چیز کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے اعراض کرلیتے ہیں۔
26۔ ابن ابی شیبہ نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ جب آدمی نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جب تک کہ وہ کسی اور کی طرف توجہ نہ کرے۔
27۔ ابن ابی شیبہ نے حکم (رح) سے روایت کیا کہ نماز کی تکمیل یہ ہے کہ تو نہ پہچانے اس کو جو تیری داہنی طرف کھڑا ہوا ہے اور جو تیری بائیں طرف کھڑا ہوا ہے۔
28۔ الحاکم وصححہ نے جبیر بن نضیر بن عوف بن مالک ؓ کے طریق سے روایت کیا کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے آسمان کی طرف دیکھ کر فرمایا کہ یہ اوقات ہیں جن میں علم کو اٹھالیا جائے گا، انصار میں سے ایک آدمی نے کہا جس کو ابن لبید کہا جاتا تھا یا رسول اللہ ! کس طرح علم کو اٹھالیا جائے گا جبکہ یہ کتابوں میں ثبت ہوگا اور دلوں میں اس کو یاد کرایا ہوگا۔ آپ نے فرمایا میں تجھ کو مدینہ والوں کے سمجھ دار لوگوں میں سے سمجھتا تھا، پھر آپ نے ییہود اور نصٓریٰ کی گمراہی کا ذکر فرمایا جب کہ ان کے پاس کتابیں تھیں۔ میں شداد بن اوس ؓ سے ملا میں نے اس کو بیان کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ عوف نے سچ کہا کیا میں تجھ کو اس کے اول کے بارے میں نہ بتاؤں میں نے عرض کیا کیوں نہیں (ضرور بتائیے) فرمایا کہ ” خشوع “ کو اٹھالیا جائے گا یہاں تک کہ خشوع کرنے والے کو نہ دیکھے گا۔
قرب قیامت علم کو اٹھالیا جائے گا
29۔ الحاکم وصححہ من طریق جبیر بن نضیر نے ابو الدرداء ؓ سے روایت کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔ آپ نے اپنی نظر کو آسمان کی طرف اٹھایا۔ پھر فرمایا یہ وہ اوقات ہیں کہ علم کو لوگوں سے اچک لیا جائے گا۔ یہاں تک کہ اس میں سے کسی چیز پر قادر نہ ہوں گے۔ زیاد بن لبید ؓ نے عرض کیا یارسول اللہ ! کیسے ہم سے اچک لیاجائے گا کہ ہم قرآن کو پڑھتے ہیں۔ اللہ کی قسم ! البتہ ہم اس کو آپس میں پڑھتے ہیں اور البتہ ہم اس کو اپنی عورتوں کو اور اپنے بیٹوں کو بھی پڑھائیں گے۔ آپ نے فرمایا تیری مان تجھ پر روئے اے زیاد ! میں تجھے اہل مدینہ کے سمجھ دار لوگوں میں شمار کرتا تھا یہی تورات اور انجیل یہود و نصاری کے پاس ہیں انہوں نے تو کوئی ان کو نفع نہ دیا میں عبادۃ بن صامت ؓ سے ملا اور میں نے اس سے کہا تو نے نہیں سنا جو تیرا بھائی ابوالدرداء ؓ کہتا ہے میں نے اسے سب واقعہ بتایا۔ اس نے کہا وہ سچ کہتا ہے اگر تو چاہے تو میں تجھ کو بتاؤں کہ سب سے پہلے لوگوں سے کون سی چیز اٹھائی جائے گی اور وہ خشوع ہے قریب ہے کہ تو مسجد میں داخل ہوگا اور تو اس میں کسی آدمی کو خشوع کرنے والا نہ دیکھے گا۔
30۔ ابن ابی شیبہ احد زہد میں اور حاکم وصححہ نے حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ سب سے پہلی چیز جو تم اپنے دین میں سے گم پاؤگے وہ خشوع ہے اور آخری چیز جو تم اپنے دین میں سے گم کردو گے وہ نماز ہے اور تم ضرور ضرور توڑدوگے اسلام کے حلقوں کو ایک ایک کر کے اور عورتیں نماز پڑھیں گی اور وہ حیض میں ہوں گی اور تم اگلے لوگوں کے راستے پر برابربرابر چلوگے تم ان کے راستہ پر نہ چلو اور نہ ہی وہ تم کو غلط راستے پر ڈال سکیں۔ یہاں تک کہ بہت فرقوں میں سے دو فرقے باقی رہ جائیں گے ان میں سے ایک کہے گا یہ پانچ نمازیں کیا ہیں اور البتہ تحقیق گمراہ ہوئے وہ لوگ جو ہم سے پہلے تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت واقم الصلوۃ طرفی النہار وزلفا من اللیل، (ھود : 114) صرف تین نمازیں پڑھو اور دوسرا کہتے گا کہ بلا شبہ مومنین کا ایمان لانا اللہ تعالیٰ کے ساتھ فرشتوں کے ایمان کی طرح ہے ہمارے درمیان نہ کوئی کافر ہے اور نہ منافق اور اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ ان دونوں فرقوں کو دجال کے ساتھ اٹھائے گا۔
31۔ احمد (رح) نے ابوالیسیر (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے کچھ وہ مکمل نماز پڑھتے ہیں اور کچھ نصف، کچھ تیسرا حصہ اور کچھ چوتھا حصہ نماز پڑھتے ہیں یہاں تک کہ آپ نے دسیں حصے تک کا ذکر کیا۔ (یعنی ثواب کے لحاظ سے کسی کو آدھا کسی کو تہائی کسی کو چوتھائی کسی کو دسواں حصہ ثواب کا ملتا ہے )
32۔ ابن ابی شیبہ، مسلم، ابن ماجہ، بخاری، ابوداوٗد، نسائی نے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا کیا حال ہے ان قوموں کا جو اپنی نظروں کو آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں نماز میں آپ نے اس بات میں سختی کی یہاں تک کہ فرمایا وہ اس کام سے ضرور باز آجائیں یا ضرور انکی آنکھوں کو اچک لیا جائے گا۔
34۔ ابن ابی شیبہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ضرورضرور باز آجائیں قومیں جو نماز میں اپنی آنکھوں کو آسمان کی طرف اٹھاتی ہیں یا پھر یہ نظریں ان کی طرف نہیں لوٹیں گی۔
35۔ ابن ابی شیبہ نے حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ کوئی تم میں سے نہیں ڈرتا اس بات سے کہ جب وہ اٹھاتا ہے اپنی نظروں کو آسمان کی طرف نماز میں شاید کہ اس کی نظریں اس کی طرف نہ لوٹیں۔
Ayahs 23:3–91۔ ابن جریر، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت والذین ہم عن اللغو معرضون میں لغو سے مراد باطل ہے۔
2۔ عبد الرزاق، ابن جریر اور ابن المنذر نے روایت کیا ہے کہ حسن (رح) سے نے فرمایا کہ آیت والذین ہم عن اللغو میں لغو سے مراد گناہ ہیں۔
3۔ ابن المبارک (رح) نے روایت کیا ہے کہ قتادہ (رح) نے آیت والذین ہم عن الغو معرضون کے بارے میں فرمایا کہ اللہ کی قسم جب ان کے پاس اللہ کا حکم آیا تو انہوں نے باطل میں سے ہر چیز کو گرادیا (یعنی باطل باتوں اور کاموں سے اعراض کرتے ہیں) ۔
4۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر رحمۃ الہ علیہ سے روایت کیا کہ آیت والذین ہم للزکوۃ فعلون، یعنی وہ مالوں کی زکاوۃ ادا کرتے ہیں آیت والذین ہم لفروجہم حفظون یعنی وہ بدکاری سے اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے۔ آیت الا علی ازواجہم او ماملکت ایمانہمہ مگر م اپنی بیویوں اور لونڈیوں سے ملتے ہیں۔ آیت فانہم غیر ملومین۔ یعنی وہ ملامت نہیں کیے جاتے اپنی بیویوں اور لونڈیوں سے جماع کرنے پر آیت فمن ابتغی وراء ذلک، یعنی جو بےحیائی کے کاموں کو طلب کرے گا بیویوں اور باندیوں کے بعد تو وہ طلب کرے گا اس چیز کو جو حلال نہیں آیت فالئک ہم العدون۔ یعنی وہ اپنے دین میں حد سے گذرنے والے ہیں آیت والذین ہم لامنتہم یعنی اس کے ذریعہ وہ امانت کی حفاظت کرتے ہیں جو ان کے اور لوگوں کے درمیان ہوتی ہے آیت وعہدہم اور وہ وعدہ کو پورا کرتے ہیں آیت رٰعون، یعنی جو حفاظت کرتے ہیں۔
5۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت الا علی ازواجہم سے مراد ہے بیوی، آیت او ماملکت ایمانہم سے مراد ہے باندی۔
6۔ ابن ابی حاتم نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ ہر شرم گاہ تیرے اوپر حرام ہے مگر دو شرمگاہیں حلال ہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ آیت الا علی ازواجہم او ماملکت ایمانہم۔
7۔ عبد بن حمید ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فمن ابتغی وراء ذلک فالئک ہم العدون یعنی جو حلال سے تجاوز کرے گا وہ حرام کو پہنچے گا۔
8۔ عبد بن حمید نے عبدالرحمن (رح) سے روایت کیا کہ آیت فمن ابتغی وراء ذلک فالئک ہم العادون، سے مراد ہے زنا کی خواہش کرنا۔
بیوی اور باندی کے علاوہ ہر قسم کی عورت حرام ہے
9۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ نے ابن ابی ملیکہ (رح) سے روایت کیا کہ میں نے حضرت عائشہ ؓ سے عورتوں سے متعہ کرنے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا میرے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب ہے اور یہ آیت پڑھی آیت والذین ہم علی صلواتہم یحافظون الا علی ازواجہم او ماملکت ایمانہم۔ جس نے اس عورت سے جسے اللہ تعالیٰ نے اس کے عقد نکاح میں دیا یا اس کو مالک بنایا (یعنی ان دونوں کے علاوہ اگر کسی اور سے شہوت پوری کی) تو اس نے حد سے تجاوز کیا۔
10۔ عبد الرزاق وابوداوٗد فی ناسخہ قاسم بن محمد (رح) سے روایت کیا کہ ان سے متعہ کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کہ قرآن میں اس کی حرمت کو پاتا ہوں پھر یہ آیت تلاوت فرمائی آیت والذین ہم علی صلوتہم یحافظون الا علی ازواجہم او ماملکت ایمانہم۔
11۔ عبدالرزاق نے قتادہ رحمۃ اللہ سے روایت کیا کہ ایک عورت نے اپنے ایک غلام سے خواہش پوری کی حضرت عمر ؓ کو یہ بات ذکر کی گئی تو انہوں نے اس سے پوچھا کہ تجھے کس بات نے اس پر آمادہ کیا اس نے کہا میں یہ گمان کیا کہ غلام میں سے وہ میرے لیے حلال ہے جو مردوں کے لیے لونڈی میں سے حلال ہے۔ عمر ؓ نے اس بارے میں نبی ﷺ کے اصحاب کرام سے مشورہ فرمایا تو صحابہ کرام ؓ نے فرمایا اس نے اللہ کی کتاب کا وہ معنی کیا ہے جو اس کا معنی نہیں بنتا عمر ؓ نے فرمایا یقیناً ایسی ہی بات ہے۔ اللہ کی قسم میں تجھے کسی آزاد کے لیے کبھی بھی حلال نہیں کروں گا گویا اس کے ذریعہ اس کو سزا دی اور اس سے حد کو ساقط کردیا اور غلام کو حکم فرمایا اس عورت کے قریب نہ جائے۔
12۔ عبدالرزاق نے ابوبکر بن عبداللہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اپنے والد کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ عمر بن عبدالعزیز (رح) کے پاس عرب میں ایک عورت آئی اس کا ایک رومی غلام تھا اس عورت نے کہا میں نے اس سے اپنی خواہش پوری کرنا چاہی میرے چچازاد بھائیوں نے مجھے روک لیا۔ جبکہ میری حیثیت اس مرد جیسی ہے جس کی ایک لونڈی ہوتی ہے تو وہ اس سے وطی کرتا ہے میرے چچازاد نے مجھے اس سے روک دیا حضرت عمر نے فرمایا کیا اس سے پہلے تو نے یہ عمل کیا ہے ؟ اس نے بتایا جی ہاں فرمایا اللہ کی قسم اگر تجھ میں جہالت کی وجہ نہ ہو تو میں تم کو پتھروں سے رجم کردیتا۔
13۔ عبدالرزاق وابن ابی شیبہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ان سے ایسی عورت کے بارے میں پوچھا گیا کہ جس نے اپنی لونڈی اپنے شوہر کے لیے حلال کی تھی تو انہوں نے فرمایا تیرے لیے اگر تو چاہے اس کو بیچ دے اور اگر تو چاہے تو اس کو ہبہ کردے اور اگر تو چاہے تو اس کو آزاد کردے۔
مملوکہ یا منکوحہ باندی حلال ہے
14۔ عبدالرزاق نے سعید بن وہب (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی ابن عمر ؓ کے پاس آیا اور کہا کہ میری والدہ کی ایک باندی ہے اور میری والدہ نے اس کو میرے لیے حلال کردیا ہے کہ میں اس سے اپنی خواہش پوری کروں تو انہوں نے فرمایا لونڈی تیرے لیے حلال نہیں ہے الا یہ کہ تو اس کو خرید لے یا وہ اس کو تیرے لیے ہبہ کردے۔
15۔ عبدالرزاق نے ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ جب مرد کی بیوی اس کی بیٹی یا اس کی بہن اس کے لیے اپنی لونڈی حلال کردے تو وہ اس سے جماع کرے۔ جبکہ یہ لونڈی حلال کرنے والی عورت ہی کی ہوگی۔
16۔ عبدالرزاق نے طاؤس (رح) سے روایت کیا کہ یہ کھانے میں سے حلال کرنا ہے اگر اس باندنے بچہ جنا تو اس کا بچہ اس مرد کا ہوگا کہ جس کے لیے اسے حلال کیا گیا تھا اور وہ باندی اپنے پہلے خاوند کی ہوگی۔
17۔ عبدالرزاق نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ ایسا کیا جاتا تھا کہ کوئی آدمی اپنی باندی کو حلال کردیتا تھا اپنے غلام کے لیے اپنے بیٹے کے لیے اپنے بھائی کے لیے اور اپنے باپ کے لیے جبکہ عورت اپنی باندی اپنے خاوند کے لیے حلال ہوتی اور مجھ کو یہ بات بھی پہنچی ہے کہ مالک اپنی باندی کو اپنے مہمان کی طرف بھی بھیج دیتا تھا۔
18۔ ابن ابی شیبہ نے ابن سیرین (رح) سے روایت کیا کہ شرم گاہ کو عاریۃ نہیں دیا جاسکتا۔
19۔ ابن ابی شیبہ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ شرم گاہ کو عاریۃ نہیں دیا جاسکتا۔
20۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت والذین ہم علی صلوتہم یحافظون سے مراد ہے کہ وہ اس کے وضو کی اس کے اوقات کی اس کے رکوع کی اور اس کے سجود کی حفاظت کرتے ہیں۔
21۔ سعید بن منصور وابن ابی حاتم نے مسروق (رح) سے روایت کیا کہ جو قرآن میں ہے آیت یحافظون، اس سے مراد ہے کہ وہ نمازوں کے اوقات کی حفاظت کرتے ہیں۔
22۔ عبدبن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم وابولشیخ والطبرانی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ان سے پوچھا گیا کہ اللہ تعالیٰ نماز کا ذکر قرآن میں کثرت سے فرماتے ہیں (جیسے) آیت الذین ہم علی صلاتہم دائمون۔ (المعارج آیت 22) اور فرمایا آیت والذین ہم علی صلوتہم یحافظوں فرمایا اس سے مراد نماز کے اوقات کی حفاظت کرنا ہے لوگوں نے کہا ہم تو اس سے نماز کا ترک کرنا مراد لیتے ہیں فرمایا اس کا ترک کرنا کفر ہے۔
23۔ ابن المنذر نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ آیت والذین ہم علی صلوتہم یحافظون کہ یہاں نماز سے مراد فرض نماز ہے اور سورة سال سائل میں نفل نماز مراد ہے۔
24۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت والذین ہم علی صلوتہم یحافظون سے فرض نماز مراد ہے۔
Ayahs 23:10–111۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر والحاکم وصححہ نے روایت کیا ہے کہ ابوہریرہ ؓ نے ” الوارثون “ کے بارے میں فرمایا کہ وارثوں سے مراد وہ اپنے گھروں کے اور اپنے بھائیوں کے گھروں کے مالک بنتے جو ان کے لیے تیار کیے گئے تھے اگر وہ اللہ کی اطاعت کرتے (تو ان کو ہی ملتے)
2۔ سعید بن منصور وابن ماجہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والبیہقی فی البعث نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے کہ جس کے دو گھر نہ ہوں ایک گھر جنت میں اور ایک گھر دوزخ میں جب ایک آدمی مرا اور وہ دوزخ میں داخل ہوا تو جنت والے اس کے گھر کے وارث بن جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے قول کا یہی مطلب ہے آیت اولئک ہم الوارثون۔
3۔ عبد بن حمید نے انس ؓ سے روایت کیا کہ ربیع بن نضر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور اس کا بیٹا حارث بن سراقہ ؓ بدر کے دن شہید کردئیے گئے ان کو ایک نامعلوم تیر لگا تھا (جس کی وجہ سے وہ شہید ہوگئے تھے اس کی ماں نے پوچھا مجھے حارث کے بارے میں بتائیے اگر اس نے جنت کو پالیا ہے تو میں ثواب کی امید رکھو اور صبر کروں اگر اس نے جنت کو نہیں پایا تو میں اس کے لیے دعا میں کوشش کروں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا اے حارث کی ماں ! جنت میں کئی جنتیں ہیں جبکہ تیرا بیٹا فردوس اعلیٰ میں ہے اور فردوس میں جنت کا اونچا اور اس کا درمیانہ اور اس کا افضل حصہ ہے۔
Ayahs 23:12–161۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ولقد خلقنا الانسان من سلٰلۃ من طین۔ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ آدم (علیہ السلام) کی پیدائش مٹی سے شروع کی، آیت ثم جعلنٰہ نطفۃ یعنی آدمی (علیہ السلام) کی اولاد کی پیدائش نطفہ سے ہوئی۔
2۔ عبد بن حمید ووابن المنذر وابن ابی حاتم مجاہد (رح) سے آیت ولقد خلقنا الانسان من سلٰلۃ من طین، کے بارے میں فرمایا کہ وہ مٹی جب تو اس کو اپنے ہاتھ میں لے تو اس کا پانی انگلیوں میں سے نکل جائے۔
3۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولقد خلقنا الانسان من سلٰلۃ، سے مراد ہے کہ انسان کو مٹی کے جوہر سے نکالا گیا۔
4۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” من سلٰلۃ “ میں ” سلٰلۃ “ سے مراد ہے خالص پتلا پانی کا جوہر جس سے بچہ پیدا ہوتا ہے۔
5۔ عبد بن حمید وابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” من سللۃ “ یعنی آدم (علیہ السلام) کی منی سے۔
6۔ ابن ابی حاتم نے خالد بن معدان (رح) سے روایت کیا کہ انسان مٹی سے پیدا کیا گیا اور بلاشبہ دل نرم ہوتے ہیں سردی کے موسم میں۔
آدم اور اولاد کی تخلیق کا ذکر
7۔ عبدالرزاق وابن جریر نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے نکالا گیا اور اس کی اولاد کو حقیر پانی سے پیدا کیا گیا۔
8۔ ابن ابی حاتم نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ نطفہ جب رحم میں واقع ہوتا ہے تو ہر بال اور ناخن میں اڑ جاتا ہے پھر چالیس دن تک اسی طرح رہتا ہے پھر رحم کے نیچے اتر جاتا ہے پھر وہ جما ہوا خون بن جاتا ہ۔
9۔ الدیلمی نے بسند وابن عباس ؓ سے مرفوعا روایت کیا کہ وہ نطفہ جس میں سے بچہ پیدا ہوتا ہے اس کی وجہ سے تمام اعضاء اور رگوں میں کپکپی طاری ہوتی ہے جب وہ نکلتا ہے تو رحم میں واقع ہوجاتا ہے۔
10۔ عبدالرزاق وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ہم نے ابن عباس ؓ سے عزل کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا جاؤ اور لوگوں سے پوچھو پھر میرے پاس آکر مجھ کو بتاؤ انہوں نے جاکر لوگوں سے سوال کیا پھر ان کو خبردی کہ وہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ چھوٹا زندہ درگور کرنا ہے اور یہ آیت آیت ولقد خلقنا الانسان من سللۃ، تلاوت کی یہاں تک کہ اس سے فارغ ہوگئے۔ پھر فرمایا کہ یہ زندہ درگور کی جانے والی چیز میں سے کیسے ہوسکتا ہے۔ جب تک اس پر پیدائش کا مرحلہ نہ گزرے۔
11۔ عبدالرزاق نے علی ابن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ ان سے عورتوں سے عزل کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا یہ پوشیدہ زندہ درگور کرنا ہے۔
12۔ عبدالرزاق نے ابن مسعود ؓ سے عزل کے بارے میں روایت کیا کہ یہ خفیہ طور پر زندہ درگور کرنا ہے۔
13۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس طرح پڑھتے تھے آیت فخلقنا المضغۃ عظما۔
14۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے آیت فخلقنا المضغۃ عظما فکسونا العظٰم لحما۔
15۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو اس طرح پڑھا۔ آیت فخلقنا المضغۃ عظما بغیر الف کے آیت فکسونا العظٰم اور دوسرے العظٰم کو واحد پڑھا۔
16۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ثم انشأنہ خلقا اخر، سے مراد ہے کہ اس میں روح ڈال دی گئی۔
18۔ عبد بن حمید وابن جریر نے مجاہد اور عکرمہ دونوں سے اسی طرح روایت کیا۔
19۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ثم انشأنہ خلقا اٰخر، یعنی جب اس کی جوانی پوری ہوجائے۔
20۔ عبد بن حمید نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت ثم انشأنہ خلقا اٰخر، سے مراد ہے کہ جب اس کے دانت اور بال بنائے، کہا گیا جب پیدا ہوا تو اس کے سر کے بال نہیں تھے ؟ فرمایا زیر ناف اور بغل کے بال کہاں تھے۔
21۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر نے صالح ابو الخلیل (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت آیت ولقد خلقنا الانسان من سللۃ من طین، سے لے کر آیت ثم انشأنہ خلقا اٰخر، تک نبی ﷺ پر نازل ہوئی تو عمر ؓ نے (آخر میں) فرمایا آیت فتبٰرک اللہ احسن الخلقین، (یہ سن کر) آپ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ بلاشبہ یہ آیت انہی کلمات کے ساتھ ختم ہوئی جو حضرت عمر ؓ کی زبان سے ادا ہوئے۔
آسمان و زمین کی تخلیق
22۔ ابن ابی حاتم نے وہب بن منبہ سے روایت کیا کہ عزیز (علیہ السلام) نے فرمایا اے میرے رب ! آپ نے پانی کو حکم فرمایا تو وہ ہوا میں جم گیا اس میں سے آپ نے ساتھ آسمان بنائے اور اس کا نام آسمان رکھا پھر پانی کو حکم فرمایا کہ وہ مٹی پر برسے اور مٹی کو حکم فرمایا کہ وہ پانی سے علیحدہ رہے تو اسی طرح ہوا پھر اس ساے مجموعہ کا نام زمینیں رکھ دیا۔ اور پانی کے مجموعہ کا نام سمندر رکھ دیا پھر آپ نے اپنی سے اندھی آنکھ بنائی پھر اس کو بصارت عطا فرمائی اور اس میں سے بہرے کان بنائے پھر اس کو سننے والا بنادیا اور اس میں سے مردہ جانوں کو پیدا فرمایا پھر ان کو زندہ کردیا۔ ان کو ایک کلمہ ” کن “ کے ذریعہ پیدا فرمایا۔ اس میں وہ مخلوق پیدا فرمائی ہے کہ اس کی زندگی پانی ہے اور اس میں سے وہ مخلوق ہے جو پانی میں صبر نہیں کرسکتی۔ (یعنی زندہ نہیں رہ سکتی) یہ مخلوق مختلف ہے جسموں میں اور رنگوں میں ان کی (مختلف) جنسیں بنائی اور ان کے جوڑے بنائے اور مختلف قسمیں پیدا فرمائیں اور ان کے دل میں وہ بات ڈال دی جس کے لیے اس کو پیدا فرمایا پھر مٹی اور پانی سے زمین کے جانور پیدا فرمائے اور اس کے مواشی (یعنی چوپائے) اور اس کے درندے پیدا فرمائے (اسی کو فرمایا) آیت فنہم من یمشی علی بطنہ، ومنہم من یمشی علی رجلین، ومنہم من یمشی علی اربع، (النور آیت 45) یعنی ان میں سے وہ جانور ہیں جو اپنے پیٹ پر چلنے والے ہیں اور ان میں سے وہ ہیں جو دو ٹانگوں پر چلنے والے ہیں اور ان میں سے وہ ہیں جو چار ٹانگوں پر چلنے والے ہیں) اور ان میں سے جو کچھ ایسے بھی ہیں جو ایک معمولی ہڈی ہیں پھر ان کو اپنی کتاب کی اور اپنی حکمت کی نصیھت کی۔ پھر ان پر موت کا فیصلہ فرمایا جو ضرور ہے پھر تو اسے دوبارہ اٹھائے گا جس طرح تو نے پہلی دفعہ زندگی دی اور عزیر (علیہ السلام) نے عرض کیا اے اللہ اپنے حکم کن کے ساتھ تو نے اپنی ساری مخلوق کو پیدا فرمایا پھر وہ مخلوق تیری مرضی سے پیدا ہوئی پھر تو نے اپنی زمین میں ہر قسم کی نباتات کو ایک حکم سے ایک مٹی سے اور ایک پانی سے سیراب کر کے پیدا فرمایا تو وہ تیرے حکم کے مطابق مختلف کھانوں مختلف رنگوں مختلف خوشبوؤں اور مکتلف ذائقوں جس صورت میں پیدا ہوئی ان میں میٹھے بھی ہیں اور کھٹے بھی ہیں اور کڑوے بھی ہیں اور اچھی خوشبو والے بھی ہیں اور بدبو والے بھی اور بری شکل والے بھی ہیں اور اچھی شکل والے بھی ہیں اور عزیر (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے رب ! بلاشبہ ہم تیری مخلوق اور تیری دست قدرت کا کرشمہ ہیں۔ تو نے ہمارے جسموں کو ہماری ماؤں کے رحموں میں پیدا فرمایا اور ہماری صورتیں بنائیں جس طرح تو نے چاہا اپنی قدرت کے ساتھ اور ہمارے لیے چار عناصر بنائے اور اس میں ہڈیاں بنائیں اور ہمارے لیے کان اور آنکھیں بنائیں پھر ہمارے لیے اس اندھیرے میں روشنی کو بنایا اور اس تنگی میں کشادگی کو بنایا اور اس کے منہ میں روح ڈالی پھر ہمارے لیے اپنے فضل سے رزق کو تیار فرمایا اس میں آپ کو نہ مشقت ہوئی نہ ہی تھکاوٹ ہوئی آپ کا عرش پانی پر تھا اور ظلمت ہوا پر تھی اور فرشتے آپ کے عرش کو اٹھائے ہوئے تھے اور وہ آپ کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کر رہے تھے اور ساری مخلوق تیری اطاعت کرنے والی اور تیرے خوف سے سر جھکائے ہوئے تھی اس میں روشنی نہیں دیکھی گئی مگر تیری روشنی اس میں کوئی آواز نہیں سنی گئی مگر تیری آواز پھر آپ نے نور کا خزانہ اور ظلمت کا راستہ کھول دیا دونوں رات اور دن ہوگئے تو تیرے حکم سے آگے پیچھے چلتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہی خالق ہیں
23۔ ابن ابی حاتم وابوا لشیخ نے فی عظمہ وہب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا جیسے چاہا اور جن چیزوں میں سے چاہا پیدا فرمایا اسی طرح فرمایا آیت فتبٰرک اللہ احسن الخلقین، مٹی اور پانی سے پیدا فرمایا اور اس میں سے اس کے بال اس کا گوشت اس کے خون اس کی ہڈیاں اور اس کا جسم بنایا یہ اس تخلیق کی ابتداء ہے جس سے اللہ نے ابن آدم کو پیدا فرمایا پھر اس میں جان کو ڈال دیا اس سے وہ کھڑا ہوتا ہے اور بیٹھتا ہے اور سنتا ہے اور دیکھتا ہے اور جانتا ہے جو جانور نہیں جانتے (اور نقصان دہ) چیزوں سے بچتا ہے جن سے جاندار بچتے ہیں پھر اس میں روح ڈال دی اس وجہ سے وہ باطل سے حق کو پہچانتا ہے اور گمراہی سے ہدایت کو پہچانتا ہے اس کے ذریعہ سے وہ ڈرتا ہے اور آگے بڑھتا ہے اور چھپتا ہے اور علم سیکھتا ہے اور سارے کاموں کی تدبیر کرتا ہے۔ اور مٹی کی وجہ سے انسان میں خشکی اور پانی کی وجہ سے اس میں تری ہے۔ پس یہ ابتداء ہے مخلوق کی سجس سے اللہ تعالیٰ نے اس میں ابن آدم کا آغاز کیا جیسے اس نے پسند کیا تھا مخلوق کی انواع و اقسام میں سے یہ چار چیزیں ابن آدم کے جسم میں رکھ دیں۔ یہی چیزیں جسم کی اصل اور جوہر ہیں اللہ تعالیٰ کے حکم سے اور وہ سودا صفرا خون اور بلغم ہیں انسان کی خشکی اور گرمی نفس کی وجہ سے ہے اور اس کا مسکن خون ہے اور اس کی ٹھنڈک روح کی وجہ سے ہے اور اس کا مسکن بلغم ہے اگر یہ چیزیں جسم میں اعتدال پر ہوں جبکہ ہر ایک ان میں سے ایک چوتھائی حصہ ہے تو وہ جسم کامل اور صحیح ہوگا اگر اس میں سے کوئی زائد ہوجائے دوسرے پر تو وہ اس پر غالب آجاتی ہے اور دوسری فطرت میں بیماری پیدا کردیتی ہے اور اگر دوسرے سے وہ کم ہوجائے تو دوسری اس پر غالب آجاتی ہے۔ تو یہ جھک جاتی ہے اور اپنی قوت سے کمزور ہوجاتی ہے اور طاقت سے عاجز ہوجاتی ہے اور دوسری کی جانب سے اس میں ضعف پیدا ہوجاتا ہے تو دوا جاننے والا طبیب جسم کی بیماری کو جان لیتا ہے کہ بیماری کس وجہ سے ہے کیا کمی کی وجہ سے ہے یا زیادتی کی وجہ سے۔
24۔ ابن ابی حاتم نے علی رجی اللہ عنہ سے روایت کیا جب نطفہ چار ماہ پورے کرلیتا ہے تو اس کی طرف ایک فرشتہ بھیجا جاتا ہے وہ اس میں روح پھونک دیتا ہے تین اندھیروں میں، اسی کو فرمایا آیت ثم انشأنہ خلقا اٰخر، یعنی اس میں روح پھونکی گئی۔
25۔ ابن جریر نے روایت کی ہے کہ ابن عباس ؓ نے آیت چم انشأنہ خلقا اٰخر، کے بارے میں فرمایا کہ بچہ پیدا ہونے کے بعد اپنی ماں کے پیٹ سے باہر نکلا یہ اس کی دوسری پیدائش کا آغاز اس کا رونا ہے پھر اس کی تخلیق سے یہ بھی ہے کہ اس کی ماں پستانوں کی طرف اس کی رہنمائی فرمائی پھر اس کی تخلیق میں سے یہ بھی ہے کہ وہ بچہ جانے کہ وہ کیسے اپنے پاؤں پھیلائے یہاں تک کہ وہ بیٹھے پھر وہ گھٹنوں کے بل چلے پھر وہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو پھر وہ چلے پھر وہ دودھ چھوڑے۔ پھر وہ سیکھے کہ وہ کس طرح پئیے اور کس طرح کھانا کھائے یہاں تک کہ وہ بالغ ہوجائے پھر وہ شہروں اور ملکوں میں سفر کرے۔
26۔ عبدالرزاق وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ثم انشأنہ خلقا اٰخر، کے بارے میں بعض کہتے ہیں کہ اس سے بالوں کا اگنا مراد ہے اور ان کے بعض لوگ کہتے ہیں کہ وہ روح کا پھونکنا مراد ہے۔
27۔ ابن جریر نے مجاہد (رح) سے آیت فتبرک اللہ احسن الخلقین کے بارے میں روایت کیا لوگ بھی بناتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بھی بناتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بنانے والوں میں سب سے بہتر ہیں۔
28۔ ابن جریر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت فتبرک اللہ احسن الخلقین، سے مراد ہے کہ عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) بھی بناتے ہیں (لیکن اللہ تعالیٰ بنانے والوں میں سے سب سے بہترین ہیں) ۔
29۔ الطیالسی وابن ابی حاتم وابن مردویہ وابن عساکر نے انس ؓ سے روایت کیا کہ حضرت عمر ؓ نے فرمایا میں نے اپنے رب سے چار کاموں میں موافقت کی میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! اگر آپ مقام ابراہیم کے پیچھے نماز پڑھتے (تو اچھا تھا) تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری آیت واتخذوا من مقام ابرہم مصلی، (سورۃ البقرہ آیت 125) اور میں نے عرض کیا رسول اللہ ! اگر آپ اپنی بیویوں کے لیے پردہ کا حکم فرماتے تو اچھا تھا کیونکہ آپ کے پاس نیک اور بدکار سب داخل ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری آیت واذا سألتموہن متاعا فسئلوہن من وراء حجاب۔ اور میں نے نبی ﷺ کی ازواج مطہرات سے کہا البتہ تم اس طرح کے عمل سے رک جاؤ ورنہ اللہ تعالیٰ تم سے بہتر بیویاں بدل دیں گے۔ تو (یہ آیت) آیت عسی ربہ ان طلقکن اتاری اور یہ آیت نازل ہوئی، آیت ولقد خلقنا الانسان من سللۃ من طین، سے لے کر آیت ثم انشأنہ خلقا اٰخر، تک پھر میں نے عرض کیا، آیت فتبرک اللہ احسن الخلقین، تو اسی طرح نازل ہوا، فتبرک اللہ احسن الخلقین۔
30۔ ابن راہویہ وابن المنذر وابن ابی حاتم والطبرانی فی الاوسط وابن مردویہ نے زید بن ثابت ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے (یہ آیت) آیت ولقد کلقنا الانسان من سللۃ من طین، سے لے کر ” خلقا اٰخر “ تک نازل ہوئی تو (یہ سن کر) معاذ بن جبل ؓ نے فرمایا آیت ” فتبرک اللہ احسن الخلقین “ تو رسول اللہ ﷺ (یہ سن کر) ہنس پڑے معاذ نے عرض کیا یارسول اللہ آپ کو کس چیز نے ہنسایا ؟ فرمایا (یہ آیت) فتبرک اللہ احسن الخلقین، پر ختم کردی گئی۔
31۔ الطبرانی وابن مردویہ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب (یہ آیت) آیت ولقد خلقا الانسان من سللۃ من طین، نازل ہوئی تو عمر نے فرمایا آیت فتبرک اللہ احسن الخلقین تو اللہ تعالیٰ نے اسی طرح آیت فتبرک اللہ احسن الخلقین۔
Ayah 23:171۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولقد خلقنا فوقکم سبع طرائق سے سات آسمان مراد ہیں۔
2۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) آیت ” وما کنا عن الخلق غفلین “ کے بارے میں فرمایا اگر اللہ تعالیٰ کسی چیز کو غفلت کے باعث چھوڑدیتے تو ان لوگوں کے آثار (یعنی قدموں کے نشانات) کو چھوڑدیتے جن پر ہوائیں چلتی ہیں۔
Ayahs 23:18–191۔ ابن مردویہ والخطیب نے بسند ضعیف ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے زمین کی طرف جنت میں سے پانچ نہریں اتاریں ایک سیحون ہے جو ہندوستان کی نہر ہے اور جیحوں ہے جو بلخ کی نہر ہے۔ دجلہ اور فرات عراق کی نہریں ہیں اور نیل مصر کی نہر ہے اللہ تعالیٰ نے جنت کے چشموں میں سے ایک چشمہ جاری کیا جنت کے درجات میں سے سب سے نچلے درجے میں سے جبرئیل کے پروں پر تارا جبرئیل (علیہ السلام) نے ان کو پہاڑوں کے سپرد کردیا اور ان کو زمین میں جاری کردیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو لوگوں کی زندگیوں کے لیے نفع دینے والی چیز بنادیا اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا قول ہے آیت وانزلنا من السماء ماء بقدر فاسکنہ فی الارض، یاجوج اور ماجوج کے نکلنے کے وقت اللہ تعالیٰ جبرئیل کو بھیجیں گے تو وہ زمین سے قرآن کو اور سارے علم کو بھی اور بیت اللہ کے کونے سے حجر اسود کو بھی اور مقام ابراہیم کو بھی اور موسیٰ (علیہ السلام) کے صندوق کو بھی اور جو کچھ اس کے اندر ہے اور ان پانچ نہروں کو بھی اٹھائے گا اور ان کو آسمان پر لے جائے گا۔ اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : آیت وانا علی ذہاب بہ لقدرو۔ جب ساری چیزیں زمین سے اٹھالی جائیں گی۔ تو زمین والے دنیا اور آخرت کی خیر سے محروم ہوجائیں گے۔
دجلہ، فرات، سیحون اور جیحون
2۔ ابن ابی الدنیا نے ابن عطاء (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے چار نہریں جاری فرمائیں اور دجلہ فرات سیحون اور جیحون یہ وہی پانی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت وانزلنا من السماء ماء بقدر
3۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت فانشأنا لکم بہ جنت، سے باغات وہ مراد ہیں۔
Ayah 23:201۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” من طور سیناء “ میں طور سے مراد وہ پہاڑ ہے کہ جس سے موسیٰ (علیہ السلام) کو آواز دی گئی۔
2۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا آیت ” وشجرۃ تخرج “ سے زیتون کا درخت مراد ہے۔ آیت ” من طور سیناء “ سے خوبصورت پہاڑ مراد ہے ” تنبت بالدہن وصبغ للاٰکلین “ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس میں تیل اور سالن بنا دیا۔
3۔ ابن ابی شیبہ وعد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” من طور سیناء “ سے مراد ہے مبارک پہاڑ آیت ” تنبت بالدہن “ یعنی اگاتا ہے تیل کو۔
4۔ ابن ابی حاتم نے ربیع بن انس (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وشجرۃ تخرج من طور سیناء “ سے زیتون کا درخت مراد ہے۔
5۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وشجرۃ تخرج من طور سیناء “ سے زیتون کا درخت مراد ہے۔ جو تیل کو اگاتا ہے اور وہ ایسا تیل ہے جو لگایا جاتا ہے اور وہ کھانے والوں کے لیے سالن بھی ہے کہ لوگ اس کو کھاتے ہیں۔
6۔ ابن ابی حاتم نے عطیہ عوفی (رح) سے روایت کیا کہ سیناء زمین کا نام ہے۔
7۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ طور ایک پہاڑ ہے اور سیناء ایک پتھر ہے اور دوسرے لفظ میں ہے کہ سیناء ایک درخت ہے۔
8۔ عبدالرزاق وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت ” تنبت بالدہن “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ وہ تیل ہے جو کھایا جاتا ہے اور اسے لگایا جاتا ہے۔
10۔ ابن جرور وابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” تنبت بالدہن وصبغ للاٰکلین “ سے مراد ہے کہ وہ لوگ اس کو بطور سالن استعمال کرتے ہیں اور اس میں روٹی کو ڈبوتے ہیں۔
11۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو اس طرح پڑھتے ہیں آیت ” من طور سیناء “ سین پر زبر اور آخر میں الف ممدودہ اور آیت ” تنبت “ کو تاء کے نصب اور باء کے رفع کے ساتھ پڑھتے ہیں۔
12۔ عبد بن حمید نے سلیمان بن عبدالملک (رح) سے روایت کیا کہ وہ آیت ” تنبت بالدہن “ کو تاء کے نصب اور باء کے نصب کے ساتھ پڑھتے تھے۔
Ayahs 23:21–261۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وان لکم فی الانعام لعبرۃ “ یعنی ان جانوروں میں تمہارے لیے بڑی نشانی ہے انعام سے مراد ہے اونٹ گائے، بھیڑ اور دنبہ آیت ” ولکم فیہا منافع “ یعنی جو وہ بچے جنتے ہیں اور اس میں سے (تمہارے لیے) سوار ہے اور دودھ ہے اور گوشت ہے۔
2۔ ابن ابی حاتم نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وعلی الفلک “ سے مراد کشتیاں ( کہ جس پر تم سواری کرتے ہو)
Ayahs 23:27–281۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت ” فاسلک فیہا “ کے بارے میں روایت کیا کہ اپنے ساتھ کشتی میں ہر چیز کے دو جوڑے سوار کرلو۔
Ayah 23:291۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے آیت ” وقل رب انزلنی منزلا مبارکا “ کے بارے میں روایت کیا کہ نوح (علیہ السلام) سے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ تجھے کشتی سے اتارے (تو اس طرح دعا کرنا)
2۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ وہ آیت ” انزلنی منزلا “ کو میم کی زبر اور زا کی زیر کے ساتھ پڑھتے تھے۔
3۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ” وقل رب انزلنی منزل مبرکا “ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ تم کو سکھا رہے ہیں کہ تم کس طرح کہو جب تم (سواری پر) سوار ہونے لگو اور تم کس طرح کہو جب (سواری سے) اترو سوار ہونے کے وقت یوں کہو آیت ” سبح النذی سخر لنا ہذا وما کنا لہ مقرنین، وانا الی ربنا لمنقلبون (الزخرف آیت 14) بسم اللہ مجریہا ومرسہا، ان ربی لغفور رحیم۔ اور اترنے کے وقت یوں کہا، وقل رب انزلنی منزل مبرکان وانت خیر المنزلین۔
Ayah 23:301۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ” ان فی ذلک لاٰیت وان کنا لمبتلین “ کے بارے میں روایت کیا کہ تم سے پہلے بھی لوگ آزمائے گئے۔
Ayahs 23:31–351۔ ابن ابی حاتم نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ ” قرنا “ سے مراد ہے امت (یعنی قوم)
Ayahs 23:36–401۔ ابن جریر وابن المنزر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” ہیہات ہیہات “ یعنی بہت دور بہت دور ہے دوبارہ زندہ ہونا)
2۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ہیہات ہیہات لما تو عدون “ سے مراد ہے وہ اس کام کو دلوں میں بہت دور کی بات سمجھتے تھے۔ یعنی موت کے بعد دوبارہ اٹھنے کو۔