Ayahs 23:115–1161۔ الحکیم الترمذی وابویعلی وابن ابی حاتم وابن السنی فی عمل یوم ولیلۃ ابونعیم فی الھلیہ وابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے ایک بیمار کے کان میں آیت ” افحسبتم انما خلقنکم عبثا پڑھا یہاں تک کہ سورة کو ختم فرمایا تو وہ تندرست ہوگیا رسول اللہ ﷺ نے پوچھا تو نے اس کے کان میں کیا پڑھا تھا انہوں نے آپ کو بتایا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر کوئی یقین والا یہ آیت کسی پہاڑ پر پڑھے تو البتہ وہ اپنی جگہ سے ہل جائے۔
2۔ ابن السنی وابن المنذر و ابونعیم فی المعرفہ بسند حسن من طریق محمد بن ابراہیم بن حارث التیمی سے روایت کیا کہ وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم کو رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر میں بھیجا اور ہم کو حکم فرمایا کہ ہم یہ کلمات پڑھیں جب ہم شام کریں یا صبح کریں آیت ” افحسبتم انما خلقنکم عبثا وانکم الینا لا ترجعون “ ہم نے اس کو پڑھا تو ہم نے غنیمت کا مال پایا اور ہم سلامت رہے واللہ اعلم۔
Ayah 23:1171۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” لابرہان لہ “ سے مراد ہے کہ اس کے لیے کوئی گواہ نہیں۔
2۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” لابرہان لہ “ سے مراد ہے کہ اس کے لیے کوئی گواہ نہیں۔
3۔ ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” لابرہان لہ “ سے مراد ہے کہ اس کے لیے کوئی دلیل نہیں۔
4۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا آیت ” انہ لا یفلح الکفرون “ انہ میں الف کے کسرہ کے ساتھ۔
5۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے یوں پڑھا آیت ” اَ نہ لایفلح الکفرون “ انہ ہمزہ کے نصب کے ساتھ۔
6۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فانما حسابہ عند ربہ، انہ لایفلح الکفرون “ سے مراد ہے کہ وہ کافر کا حساب ہوگا اللہ تعالیٰ کے پاس اور وہ کامیاب نہیں ہوگا۔
Ayah 23:1181۔ ابن ابی شیبہ واحمد والبخاری ومسلم والترمذی والنسائی وابن ماجہ وابن خزیمہ وابن ابی حاتم وابن حبان والبیہقی نے ابوبکر صدیق ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ مجھے کوئی دعا سکھائیے کہ جس کے ذریعہ میں اپنی نماز میں دعا کرتا رہوں آپ نے فرمایا یوں کہو۔
اللہم انی ظلمت نفسی ظلم کثیر وانہ لا یغفر الذنوب الا انت فاغفر لی مغفرۃ من عندہ وارحمنی انک انت الغفور الرحیم۔
اے اللہ میں نے اپنی جان پر بہت ظلم کیا اور بلاشبہ آپ کے سوا کوئی گناہ نہیں بخش سکتا مجھے بخش دیجئے اپنے پاس سے مغفرت کرتے ہوئے اور مجھ پر رحم فرمائیے بلاشبہ آپ ہی بخشنے والے اور رحم کرنے والے ہیں۔
الحمد للہ سورة المومنون ختم ہوئی۔