23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 23:76–83

وَ لَقَدْ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوْا لِرَبِّهِمْ وَ مَا یَتَضَرَّعُوْنَ Open ayah 23:76 in the Quran reader

اور یہ واقعی بات ہے کہ ہم نے انہیں عذاب میں گرفتار کیا سو وہ اپنے رب کے سامنے نہ جھکے اور نہ عاجزی اختیار کی

حَتّٰۤى اِذَا فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَابًا ذَا عَذَابٍ شَدِیْدٍ اِذَا هُمْ فِیْهِ مُبْلِسُوْنَ۠ Open ayah 23:77 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ہم ان پر سخت عذاب والا دروازہ کھول دیں گے، تو اچانک وہ اس میں حیرت زدہ ہو کر رہ جائیں گے

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 23:78 in the Quran reader

اور اللہ وہی ہے جس نے تمہارے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنائے، تم کم شکر ادا کرتے ہو۔

وَ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 23:79 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں پھیلا رکھا ہے اور تم اسی کی طرف جمع کیے جاؤ گے

وَ هُوَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ وَ لَهُ اخْتِلَافُ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 23:80 in the Quran reader

اور وہی ہے جو زندہ کرتا ہے اور موت دیتا ہے، اور اسی کے اختیار میں ہے رات دن کا یکے بعد دیگرے آنا جان، سو کیا تم سمجھ نہیں رکھتے

بَلْ قَالُوْا مِثْلَ مَا قَالَ الْاَوَّلُوْنَ Open ayah 23:81 in the Quran reader

بلکہ انہوں نے وہ بات کہی جو ان سے پہلے لوگوں نے کہی۔ انہوں نے کہا کیا ہم جب مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہو کر رہ جائیں گے

قَالُوْۤا ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ Open ayah 23:82 in the Quran reader

کیا ہم زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے

لَقَدْ وُعِدْنَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا هٰذَا مِنْ قَبْلُ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 23:83 in the Quran reader

اس بات کا ہم سے اور ہم سے پہلے ہمارے باپ دادوں سے وعدہ کیا جاتا رہا ہے یہ بات پرانے لوگوں سے نقل ہوتی ہوئی آئی ہے۔

1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے والنسائی والطبرانی والحاکم وصححہ وابن مردویہ والبیہقی فی الدلائل نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابو سفیان نبی ﷺ کی خدمت میں آیا اور کہا اے محمد ﷺ میں تجھ کو اللہ کی اور رحم کی قسم دیتا ہوں کہ ہم نے یعنی بالوں کو خون کے ساتھ کھایا ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ” ولقد اخذناہم بالعذاب فما استکانوا لربہم وما یتضرعون “ نازل فرمائی۔ 2۔ ابن جریر وابو نعیم فی المعرفۃ والبیہقی فی الدلائل نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ثمامہ اثال حنفی جب نبی ﷺ کے پاس لایا گیا تو وہ مسلمان ہوگیا جبکہ وہ قیدی تھا رسول اللہ ﷺ نے اس کا راستہ چھوڑدیا (یعنی اس کو آزاد کردیا گیا) وہ یمامہ چلا گیا اور مکہ والوں اور یمامہ کے غلہ کے درمیان رکاوٹ بن گیا تو سفیان نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا کیا آپ کا خیال نہیں۔ کہ بلاشبہ آپ جہاں والوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے ہیں آپ نے فرمایا کیوں نہیں پھر کہا آپ نے ہمارے آباؤ اجداد کو تلوار سے قتل کیا اور بیٹوں کو بھوک سے ہلاک کیا تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ” ولقد اخذنہم بالعذاب فما استکانوا لربہم وما یتضرعون “ نازل فرمائی۔ 3۔ ابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولقد اخذنہم بالعذاب یعنی قحط سالی اور بھوک سے۔ 4۔ العسکری فی الواعظ علی بن ابی طالب ؓ سے آیت ” فما استکانوا لربہم وما یتضرعون “ کے بارے میں روایت کیا کہ انہوں نے دعا کرنے میں عاجزی اختیار نہیں کی اور نہ خشوع و خضوع اختیار کی اگر وہ اللہ کے سامنے خشوع اور خضوع اختیار کرتے تو ان کی دعائیں قبول ہوتیں۔ 5۔ ابن جریر نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ اگر بادشاہ کی طرف سے کوئی مصیبت پہنچے تو وہ بلاشبہ ایک عذاب ہے پس اللہ کے عذاب کا مقابلہ حمیت کی صورت میں نہ کرو بلکہ استغفار کے ساتھ اس کا مقابلہ کرو عاجزی اختیار کرو اور اللہ کی طرف گڑگڑاؤ اور یہ آیت ” ولقد اخذنہم بالعذاب فما استکانوا لربہم وما یتضرعون “ تلاوت کی۔ 6۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ نے آیت ” حتی اذا فتحنا علیہم بابا ذا عذاب شدید “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ (عذاب) بدر کے دن گزر چکا۔ 7۔ ابن جریر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” حتی اذا فتحنا علیہم بابا ذا عذاب شدید “ سے مراد ہے بدر کے دن کا عذاب۔ 8۔ ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” حتی اذا فتحنا علیہم بابا ذا عذاب شدید “ کفار قریش کے لیے بھوک کا عذاب تھا اور اس سے پہلے جو اس کو مصیبتیں پہنچیں۔
Ayahs 23:84–95

قُلْ لِّمَنِ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهَاۤ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:84 in the Quran reader

آپ فرمادیجئے کس کیلیے ہے زمین اور جو کچھ اس میں ہے اگر تم جانتے ہو

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 23:85 in the Quran reader

اس کے جواب میں وہ کہیں گے کہ اللہ ہی کے لیے، آپ فرمائیے پھر کیوں غور نہیں کرتے

قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ Open ayah 23:86 in the Quran reader

آپ فرمادیجئے کہ ساتوں آسمانوں کا اور عرش عظیم کا رب کون ہے

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 23:87 in the Quran reader

وہ جواب دیں گے کہ یہ سب کچھ اللہ کے لیے ہے آپ فرمادیجئے کہ پھر تم کیوں نہیں ڈرتے

قُلْ مَنْۢ بِیَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ یُجِیْرُ وَ لَا یُجَارُ عَلَیْهِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:88 in the Quran reader

آپ فرمائیے کہ وہ کون ہے جس کے قبضے میں ہر چیز کا اختیار ہے اور وہ پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابلہ میں کوئی کسی کو پناہ نہیں دے سکتا اگر تم جانتے ہو

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ فَاَنّٰى تُسْحَرُوْنَ Open ayah 23:89 in the Quran reader

وہ جواب دیں گے کہ یہ صفات اللہ ہی کی ہیں۔ آپ فرمادیجئے کہ پھر تم کہاں ہو جادو کیے ہوئے۔

بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِالْحَقِّ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 23:90 in the Quran reader

بلکہ بات یہ ہے کہ ہم نے ان کے پاس حق بھیجا ہے اور بلاشبہ وہ جھوٹے ہیں

مَا اتَّخَذَ اللّٰهُ مِنْ وَّلَدٍ وَّ مَا كَانَ مَعَهٗ مِنْ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۭ بِمَا خَلَقَ وَ لَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یَصِفُوْنَۙ Open ayah 23:91 in the Quran reader

اللہ نے کسی کو اپنا بیٹا قرار نہیں دیا اور نہ اس کے ساتھ کوئی دوسرا معبود ہے، اگر ایسا ہوتا ہر معبود اپنی اپنی مخلوق کو جدا کرلیتا اور ہر ایک دوسرے پر چڑھائی کردیتا، اللہ ان چیزوں سے پاک ہے جو یہ لوگ بیان کرتے ہیں

عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَتَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 23:92 in the Quran reader

پوشیدہ اور آشکارا ہر چیز کا جاننے والا ہے سو وہ ان لوگوں کے شرک سے بالا تر ہے

قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِیَنِّیْ مَا یُوْعَدُوْنَۙ Open ayah 23:93 in the Quran reader

آپ یوں دعا کیجئے کہ اے میرے رب جس عذاب کا ان کافروں سے وعدہ کیا جارہا ہے

رَبِّ فَلَا تَجْعَلْنِیْ فِی الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:94 in the Quran reader

اگر وہ آپ مجھے دکھادیں تو اے میرے رب مجھے ان ظالموں میں شامل نہ فرمائیے

وَ اِنَّا عَلٰۤى اَنْ نُّرِیَكَ مَا نَعِدُهُمْ لَقٰدِرُوْنَ Open ayah 23:95 in the Quran reader

اور بلاشبہ ان سے ہم جو وعدہ کر رہے ہیں ہمیں اس پر قدرت ہے کہ اسے آپ کو دکھادیں

1۔ ابو عبید وابن المنذر نے ہارون (رح) سے روایت کیا ابن ابی کعب ؓ کے مصحف میں آیت ” سیقولون للہ “ ہر جگہ الف کے بغیر ہے۔ 2۔ ابو عبید وابن المنذر نے عاصم جحدری (رح) سے روایت کیا کہ عثمان بن عفان ؓ کے مصحف الامام میں جو لوگوں کے لیے لکھا گیا سب جگہ للہ بغیر الف کے ہے۔ 3۔ ابن ابی داوٗد فی المصاحف اسید بن زید (رح) سے روایت کیا کہ عثمان بن عفان ؓ کے مصحف میں آیت ” سیقولون للہ “ تینوں جگہوں پر للہ بغیر الف کے ہے۔ 4۔ عبد بن حمید نے یحییٰ بن عتیق (رح) سے روایت کیا کہ میں نے حسن کے مصحف میں تین جگہ للہ بغیر الف کے لکھا ہوا دیکھا۔ 5۔ عبد بن حمید نے عاصم سے روایت کیا کہ انہوں نے للہ کو بغیر الف کے پڑھا۔ 6۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” قل من بیدہ ملکوت کل شیء “ سے مراد ہے ہر چیز کے خزانے۔
Ayah 23:96

اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ السَّیِّئَةَ١ؕ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَصِفُوْنَ Open ayah 23:96 in the Quran reader

آپ اس طریقے پر ان کی بدمعاملگی کو دفع کیجئے جو بہت ہی اچھا طریقہ ہے، ہم خوب جانتے ہیں جو کچھ یہ لوگ بیان کرتے ہیں

1۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے آیت ” ادفع بالتی ہی احسن السیءۃ “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ آپ کو جو اذیتیں دیتے ہیں ان سے اعراض کیجئے۔ 2۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عطاء (رح) سے روایت کیا کہ آیت ادفع بالتی ہی احسن السیءۃ “ یعنی اس کو سلام کے ساتھ بدلہ دیدو۔ دعوت الی اللہ میں نرمی و حکمت ملحوظ رہے۔ 3۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ کی قسم وہ گھونٹ کتنا اچھا ہے جو تو پیتا ہے اس حال میں کہ تو مظلوم ہو اور جو یہ طاقت رکھتا ہو کہ بھلائی کے ساتھ شر پر غالب آجائے تو اس کو چاہیے کہ ایسا کرے اور اللہ تعالیٰ کی توفیق کے بغیر کوئی طاقت نہیں۔ 4۔ ابن ابی حاتم وابو نعیم فی الحلیہ انس ؓ سے آیت ” ادفع بالتی ہی احسن السیءۃ “ کے بارے میں روایت کیا کہ کسی آدمی کی ایسی بات اپنے بھائی کے بارے میں جو اس میں نہیں ہے تو جواب میں یوں کہے اگر تو جھوٹا ہے تو میں اللہ تعالیٰ سے سوال کرتا ہوں کہ وہ تجھ کو معاف کردے اور اگر تو سچا ہے تو میں اللہ تعالیٰ سے سوال کرتا ہوں کہ وہ مجھے معاف کردے۔ 5۔ البخاری فی الادب ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا یا رسول اللہ ! میر رشتہ دار ہیں میں ان سے صلہ رحمی کرتا ہوں جبکہ وہ قطع رحمی کرتے ہیں میں ان سے اچھا سلوک کرتا ہوں اور وہ مجھ سے برا سلوک کرتے ہیں اور مجھ پر جہالت کرتے ہیں (یعنی برا سلوک کرتے ہیں اور میں ان سے بردباری اختیار کرتا ہوں۔ آپ نے فرمایا اگر ایسا ہی ہے جو تو کہتا ہے تو گویا تو ان کو گرم راکھ لگاتا ہے۔ اور برابر اللہ کی طرف سے تیرے ساتھ مددگار ہوگا ان کے خلاف جب تک تو اس حال پر رہے گا۔
Ayahs 23:97–98

وَ قُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّیٰطِیْنِۙ Open ayah 23:97 in the Quran reader

اور آپ یوں دعا کیجئے کہ اے میرے رب میں شیطان کے وسوسوں سے آپ کی پناہ لیتا ہوں

وَ اَعُوْذُ بِكَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ Open ayah 23:98 in the Quran reader

اور اس بات سے آپ کی پناہ لیتا ہوں کہ وہ میرے پاس حاضر ہوں

ا۔ ابن ابی شیبہ واحمد وابوداوئد والترمذی وحسن والنسائی والبیہقی فی الاسماء والصفات عمرو بن شعیب (رح) نے اپنے باپ دادا سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ یہ کلمات سکھایا کرتے تھے کہ گھبراہٹ کی وجہ سے ہم ان کو نیند کے وقت کہتے تھے۔ بسم اللہ اعوذ بکلمات اللہ التامۃ من غضبہ و عقابہ وشر عبادہ ومن ہمزات الشیاطین وان یحضرون۔ اللہ کے نام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے پورے کلمات کے واسطے سے میں اللہ کے غضب سے اور اس کے عذاب سے اور اس کے بندوں کے شر سے اور شیطانوں کے وسوسوں اور میرے پاس ان کے آنے پناہ چاہتا ہوں۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) نے فرمایا کہ آیت ” واعوذبک رب ان یحضرون “ یعنی وہ (شیاطین) حاضر ہوں میرے کام میں سے کسی چیز میں۔ 3۔ احمد نے روایت کیا کہ خالد بن ولید ؓ نے عرض کیا یارسول اللہ ! میں گھبراہٹ کو پاتا ہوں آپ نے فرمایا جب تو لیٹنے لگے تو یوں کہہ۔ اعوذ بکلمات اللہ التامات من غضبہ و عقابہ وشر عبادہ ومن ہمزات الشیاطین وان یحضرون۔ اللہ تعالیٰ کے پورے کلمات کے واسطے سے میں اللہ کے غضب سے اور اس کے عذاب سے اور اس کے بندوں کے شر سے اور شیطانوں کے وسوسوں سے اور میرے پاس ان کے آنے سے پناہ چاہتا ہوں۔ بلاشبہ وہ تجھ کو تکلیف نہیں دے گا اور اس کے لائق ہے کہ وہ تجھ کو تکلیف نہ دے۔
Ayahs 23:99–100

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِۙ Open ayah 23:99 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب اس کے پاس موت آپہنچے تو کہتا ہے کہ اے میرے رب مجھے واپس کیجئے تاکہ میں جس کو چھوڑ کر آیا ہوں اس میں نیک عمل کروں

لَعَلِّیْۤ اَعْمَلُ صَالِحًا فِیْمَا تَرَكْتُ كَلَّا١ؕ اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآئِلُهَا١ؕ وَ مِنْ وَّرَآئِهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 23:100 in the Quran reader

ہرگز نہیں، بلاشبہ یہ بات ہے جس کا وہ کہنے والا ہے اور ان کے آگے اٹھائے جانے کے دن تک برزخ ہے

1۔ ابن ابی الدنیا فی ذکر الموت وابن ابی حاتم نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ کافر جب قبر میں رکھا جاتا ہے تو اس کو آگ میں اس کا ٹھکانا دکھا دیا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے آیت ” رب ارجعون “ اے میرے رب مجھے واپس لوٹا دیجئے) یہاں تک کہ میں توبہ کرلوں اور نیک عمل کرلوں تو اس سے کہا جاتا ہے جتنی تیری عمر تھی تو نے گزاری۔ اس کے بعد) اس کی عمر تنگ کردی جاتی ہے اور وہ مصیبت زدہ کی طرح نیند کرتا ہے اور گھبراتا ہے زمین کے کیڑے مکوڑے جیسے سانپ اور بچھو اس کی طرف گرتے ہیں۔ نافرمانوں کی قبر میں سانپ 2۔ ابن ابی حاتم نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ ہلاکت ہے قبروالوں میں سے نافرمانوں کے لیے ان کی قبروں میں ان کے کالے سانپ داخل ہوں گے ایک سانپ اس کے سر کے پاس ہوتا ہے اور ایک سانپ اس کے پاؤں کے پاس ہوتا ہے وہاں سے ڈستے رہتے ہیں یہاں تک کہ دونوں سانپ اس کے درمیان میں جاکر مل جاتے ہیں یہی وہ برزخ کا عذاب ہے۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت ” ومن وراء ہم برزخ الی یوم یبعثون “۔ 3۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ آیت قال رب ارجعون “ سے مراد ہے کہ موت کا ذائقہ چکھنے سے پہلے اس کو دیکھ لیتا ہے۔ 4۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے گمان کیا کہ نبی ﷺ نے عائشہ ؓ سے فرمایا کہ جب مومن فرشتوں کو دیکھتا ہے تو فرشتے اسے کہتے ہیں ہم تجھ کو دنیا کی طرف واپس لے جاتے ہیں تو وہ کہتا ہے غموں اور پریشانیوں کے گھر کی طرف نہیں بلکہ مجھے اللہ کی طرف لے چلو لیکن کافر سے وہ فرشتے کہتے ہیں کہ ہم تجھ کو دنیا کی طرف واپس لے چلتے ہیں تو وہ کہتا ہے آیت ” رب ارجعون لعلی اعمل صالھا فیما ترکت “۔ 5۔ الدیلمی نے جابر بن عبداللہ رضی الہ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب انسان کی موت حاضر ہوتی ہے تو اس کے لیے ہر چیز کو جمع کیا جاتا ہے جو اس کو حق سے روکا کرتی تھی اور اس کی آنکھوں کے سامنے رکاوٹ بن جاتی ہے۔ اس وقت وہ کہتا ہے۔ آیت ” رب ارجعون لعلی اعمل صالحا فیما ترکت “۔ 6۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے آیت ” رب ارجعون لعلی اعمل صالحا فیما ترکت “ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ یہ اس لیے کہے گا کہ شاید میں لا الہ الا اللہ کہوں۔ 7۔ البیہقی فی السماء والصفات من طریق عکرمہ ابن عباس ؓ سے آیت ” رب ارجعون لعلی اعمل صالحا فیما ترکت “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس کا معنی ہے کہ شاید میں لا الہ الا للہ کہوں۔ 8۔ ابن ابی حاتم نے سفیان بن حسین (رح) سے روایت کیا کہ آیت “ ومن وراء ہم برزخ “ سے مراد ہے کہ ان کے سامنے (برزخ ہے) 9۔ ابن ابی شیبہ وہناد وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابو نعیم فی الحلیہ نے مجاہد (رح) سے آیت ” ومن وراء ہم برزخ الی یوم یبعثون “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ (برزخ موت سے لے کر دوبارہ اٹھائے جانے کے درمیان ہے 10۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” البرزخ “ دنیا اور آخرت کے درمیان ایک رکاوٹ ہے۔ 11۔ عبد بن حمید وابن جریر نے مجاہد (رح) سے آیت ” ومن وراۂم برزخ الی یوم یبعثون “ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ ایک رکاوٹ ہے میت اور دنیا کی طرف لوٹائے جانے کے درمیان۔ 12۔ ابن ابی حاتم نے محمد بن کعب قرظی (رح) سے روایت کیا کہ البرزخ دنیا اور آخرت کے درمیان ہے نہ وہ دنیا والوں کے ساتھ ہوتا ہے کہ وہ کھاتے اور پیتے اور نہ آخرت والوں کے ساتھ ہوتا ہے کہ اسے اعمال کا بدلہ دیا جائے۔ 13۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ البرزخ دنیا اور آخرت کے درمیان کا عرصہ ہے۔ 14۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ البرزخ سے مراد ہے باقی دنیا۔ 15۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ومن وراۂم برزخ “ سے مراد ہے کہ قبر والے برزخ میں ہیں جو دنیا اور آخرت کے درمیان ہے وہ اس میں اٹھائے جانے کے دن تک ہوں گے۔ 16۔ عبد بن حمید نے ربیع (رح) سے روایت کیا کہ البرزخ سے مراد ہے قبریں۔ 17۔ ابن ابی حاتم نے ابو صخر (رح) سے روایت کیا کہ البرزخ سے مراد قبر والے ہیں نہ وہ دنیا میں ہیں اور نہ آخرت میں اور وہ اٹھائے جانے کے دن تک (قبروں میں) مقیم رہیں گے۔ 18۔ سعید بن منصور وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وسمویہ فی فوائدہ ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ وہ ایک جنازے میں حاضر تھے جب میت کو دفن کردیا گیا تو فرمایا یہ برزخ ہے اٹھائے جانے کے دن تک۔ 19۔ ہناد نے ابو محلم (رح) سے روایت کیا کہ شعبی سے کہا گیا کہ فلاں آدمی مرگیا تو انہوں نے فرمایا نہ وہ دنیا میں ہے اور نہ آخرت میں (بلکہ وہ برزخ میں ہے) ۔ 20۔ ابن جریر نے سعید بن جبیر (رح) سے آیت ” ومن وراۂم برزخ “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے موت کے بعد کا زمانہ مراد ہے۔
Ayahs 23:101–103

فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَلَاۤ اَنْسَابَ بَیْنَهُمْ یَوْمَئِذٍ وَّ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 23:101 in the Quran reader

سو جب صور پھونکا جائے تو اس روز ان میں باہمی رشتے نہ رہیں گے اور نہ وہ آپس میں ایک دوسرے کو پوچھیں گے

فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 23:102 in the Quran reader

سو جن کے وزن بھاری ہوں گے تو یہ وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہوں گے

وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فِیْ جَهَنَّمَ خٰلِدُوْنَۚ Open ayah 23:103 in the Quran reader

اور جن کے وزن ہلکے ہوں گے تو یہ وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنی جانوں کا نقصان کرلیا ہمیشہ جہنم میں رہیں گے

1۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت ” فلا انساب بینہم یومئذ ولا یتساء لون “ کے بارے میں روایت کیا کہ جب صور پھونکا جائے گا تو کوئی زندہ نہیں بچے گا مگر اللہ عزوجل کی ذات اقدس۔ 2۔ عبد بن حمید وابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا آیت ” فلا انساب بینہم یومئذ ولا یتساء لون “ یعنی یہ پہلے نفخہ کے وقت ہوگا 3۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ لوگوں میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہوگا کہ وہ کسی ایک سے سوال کرسکے اس کے نسب کے بارے میں اور نہ اس کی رشتہ داری کے بارے میں ذرا بھی۔ 4۔ ابن جریر نے ابن جریج (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ کوئی ایک بھی اس دن نسب کے بارے میں سوال نہیں کرے گا اور نہ ہی رشتہ داری کی نسبت کرے گا۔ بعض مواقع میں نسب کام نہیں آئے گا 5۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ” فلا انساب بینہم یومئذ ولا یتساء لون “ کے بارے میں سوال کیا گیا اور اس قول آیت ” واقبل بعضہم علی بعض یتساء لون “ (صافات آیت 27) کے بارے میں بھی تو انہوں نے فرمایا کہ یہ مختلف مقامات پر صورتحال ہوگی جس مقام پر کوئی نسب نہیں رہے گا اور نہ ہی ایک دوسرے سے سوال کرسکے گا اور اس وقت وہ گرتے پڑتے ہوں گے وہ پہلا نفخہ ہے جب دوسرا نفخہ ہوگا تو اچانک وہ لوگ کھڑے ہو کر آپس میں سوال کریں گے۔ 6۔ ابن جریر والحاکم (وصححہ من وجہ آخر) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے ان دو آیتوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا یہ قول آیت ” ولا یتسائلون “ یہ پہلے نفخہ میں ہوگا جب زمین پر کوئی چیز باقی نہیں رہے گی۔ اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول ” فاقبل بعضہم علی بعض یتسائلون۔ سے مراد ہے کہ جب وہ جنت میں داخل ہوں گے تو ایک دوسرے سے سوال کریں گے۔ 7۔ ابن المنبارک فی الزہد وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابو نعیم فی الحلیہ وابن عساکر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ تعالیٰ اولین اور آخرین سب کو جمع فرمائے گا اور دوسرے لفظ میں یوں ہے کہ ایک مرد اور ایک عورت کا ہاتھ پکڑا جائے گا قیام کے دن اور اولین اور آخرین کے سامنے لایا جائے گا پھر ایک پکارنے والا پکارے گا کہ فلاں بیٹا فلاں کا ہے جس کسی کا اس پر حق وہ اپنے حق کو لے لے اور دوسرے لفظ میں یوں ہے کہ اس کے لیے اگر کسی کا ظلم ہو (یعنی کسی پر اس نے ظلم کیا ہو) تو اس کو چاہیے کہ اپنے حق کا بدلہ لے لے (یہ سن کر) حق لینے والا خوش ہوجائے گا۔ اللہ کی قسم کہ ایک آدمی کا حق ہوگا اپنی والدہ یا اپنی اولاد پر یا اپنی بیوی پر اگرچہ وہ چھوٹا ہی ہو بڑا خوش ہوگا اس کا مصداق اللہ کا یہ فرمان ہے کہ آیت ” فاذا نفخ فی الصور فلا انساب بینہم یو مئذ ولا یتسائلون “۔ 8۔ ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ قیامت کے دن انسان کو سب سے زیادہ غضبناک یہ چیز کرے گی کہ وہ ایسے آدمی کو دیکھے جو اسے پہچانتا ہو۔ کیونکہ وہ اس چیز سے ڈرے گا تو کہ وہ اس سے کوئی مطالبہ نہ کرے (یعنی کسی حق کو طلب کرنے گلے) پھر یہ آیت آیت ” یوم یفر المرء من اخیہ “ پڑھی۔ 9۔ احمد والطبرانی والحاکم والبیہقی فی سنن مسوربن مخرمہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میرے نسب میرے سبب اور سسرالی رشتہ کے سوا ہر رشتہ ختم ہوجائے گا۔ 10۔ البزار والطبرانی والحاکم والبیہقی والضیاء فی المختارہ عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ہر سبب اور نسب قیامت کے دن ختم ہوجائیے گا سوائے میرے سبب اور میرے نسب کے۔ 11۔ ابن عساکر نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے نسب اور سسرالی رشتہ کے سوا ہر نسب اور سسرالی رشتہ قیامت کے دن ختم ہوجائے گا۔
Ayahs 23:104–105

تَلْفَحُ وُجُوْهَهُمُ النَّارُ وَ هُمْ فِیْهَا كٰلِحُوْنَ Open ayah 23:104 in the Quran reader

ان کے چہروں کو آگ جھلستی ہوگی اور اس میں ان کے منہ بگڑے ہوئے ہوں گے۔

اَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَكُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 23:105 in the Quran reader

کیا تمہارے پاس میری آیتیں نۃٰں آئیں جو تمہارے اوپر تلاوت کی جاتی تھیں پھر تم انہیں جھٹلاتے تھے

1۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” تلفح وجوہہم النار “ سے مراد ہے تنفح یعنی آگ ان کی ہڈیوں سے گودا پگھلادے گی۔ 2۔ ابن مردویہ نے والضیاء فی صفۃ النار ابودرداء ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ” تلفح وجوہہم النار “ کے بارے میں فرمایا کہ (آگ) ان کو جلادے گی تو ان کے گوشت ان کے پٹھوں پر بہہ جائیں گے۔ 3۔ ابن ابی حاتم والطبرانی فی الاوسط وابن مردویہ و ابونعیم فی الحلیہ ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب جہنم کے رہنے والوں کو جہنم کی طرف ہانکا جائے گا تو گردن کے ساتھ ان کو جہنم پکڑ لے گی اور ان کو جلا ڈالے گی۔ ہڈی پر گوشت کو نہ چھوڑے گی مگر اس کو کونچوں پر ڈال دے گی۔ 4۔ ابونعیم فی الحلیہ میں روایت کیا کہ ابن مسعود ؓ نے آیت ” تلفح وجوہہم النار “ کے بارے میں فرمایا کہ ان کو آگ کی ایسی لپٹ لگے گی جو ان کے گوشت کو ان کی ہڈیوں پر نہیں چھوڑے گی مگر اسے ان کی ایڑیوں پر ڈال دے گی۔ 5۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید نے ابولہذیل سے اسی طرح روایت کیا۔ 6۔ احمد وعبد بن حمید والترمذی وصححہ وابن ابی الدنیا فی صفۃ النار وابو یعلی وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ وابن مردویہ و ابونعیم فی الحلیہ ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ” تلفح وجوہہم النار وہم فیہا کلحون، کے بارے میں فرمایا کہ آگ ان کے چہروں کے جلا دے گی اس کا اوپر والا ہونٹ سکڑ کر آدھے سر پر پہنچ جائے گا اور نیچے والا ہونٹ لٹک کر ناف تک پہنچ جائے گا۔ سانپ بچھو کا تحفہ ملے گا 7۔ ابن ابی شیبہ مغیث بن سمی (رح) سے روایت کیا کہ جب آدمی کو آگ کی طرف لایا جائے گا تو اس سے کہا جائے گا انتظار کر ہم تجھ کو تحفہ دیں دے تو اس کے پاس بچھو اور سانپوں کی زہر کا ایک پیالہ لایا جائے گا جب اس کے منہ کے قریب ہوگا تو اس کا گوشت علیحدہ جا پڑے گا۔ اور ہڈیاں علیحدہ ہوجائیں گی۔ 8۔ عبدالرزاق والفریابی وابن ابی شیبہ وہناد وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والطبرانی والحاکم وصححہ ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” وہم فیہا کلحون “ میں کلوح الرأس مراد ہے سر کا پکنا ان کے دانت ظاہر ہوجائیں گے اور ان کے ہونٹ سکڑ جائیں گے۔ 9۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” کلحون “ سے مراد ہے تیوری چڑھاتے ہوئے۔
Ayahs 23:106–107

قَالُوْا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَیْنَا شِقْوَتُنَا وَ كُنَّا قَوْمًا ضَآلِّیْنَ Open ayah 23:106 in the Quran reader

وہ کہیں گے اے ہمارے رب ہمار بدبختی ہم پر غالب آگئی اور ہم گمراہ لوگ تھے

رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْهَا فَاِنْ عُدْنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوْنَ Open ayah 23:107 in the Quran reader

اے ہمارے رب ! ہمیں اس سے نکال دیجئے پھر اگر ہم دوبارہ کریں تو بلاشبہ ہم ظالم ہوں گے

1۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” قالو ربنا غلبت علینا شقوتنا “ سے مراد ہے ان کی بدبختی جو ان پر لکھ دی گئی تھی (وہ ان پر غالب آگئی ) ۔ 2۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس طرح پڑھتے تھے آیت ” غلب علینا شقوتنا “ 3۔ عبد بن حمید نے اسحاق (رح) سے روایت کیا کہ عبداللہ ؓ کی قراء ۃ میں ” شقوتنا “ ہے۔
Ayahs 23:108–109

قَالَ اخْسَئُوْا فِیْهَا وَ لَا تُكَلِّمُوْنِ Open ayah 23:108 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا کہ تم اسی میں راندے ہوئے پڑے رہو اور مجھ سے ات نہ کرو

اِنَّهٗ كَانَ فَرِیْقٌ مِّنْ عِبَادِیْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَۚۖ Open ayah 23:109 in the Quran reader

بلاشبہ بات یہ ہے کہ میرے بندوں میں ایکجماعت تھی جو یوں دعا کرتے تھے کہ اے ہمارے رب ہم ایمان لائے سو آپ ہمیں بخش دیجئے اور ہم پر رحم فرمائیے اور آپ سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم فرمانے والے ہیں۔

1۔ ابن ابی شیبہ والترمذی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والطربانی وابن مردویہ والبیہقی فی البعث ابو درداء ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دوزخ والوں پر بھوک کو ڈالاجائے گا یہاں تک کہ یہ بھوک کا عذاب اس عذاب کے برابر ہوجائے گا جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں وہ کھانے کو طلب کریں گے تو ان کو ضریع میں سے کھانا دیا جائے گا نہ موٹا کرے گا اور نہ بھوک دور کرے گا پھر وہ کھانے کو طلب کریں گے تو ان کے گلے میں اٹکنے والا کھانا دیا جائے گا وہ یاد کریں گے کہ وہ دنیا میں گلے میں اٹکنے والی چیز کو کسی پینے والی چیز سے پار کرتے تھے پھر وہ پینے والی چیز کو مانگیں گے تو ان کو کھولتا ہو گرم پانلی لوہے کے آنکڑوں سے دیا جائے گا۔ جب وہ گرم پانی ان کے چہروں کے قریب ہوگا تو ان کے چہروں کو بھون ڈالے گا اور جب ان کے پیٹوں میں داخل ہوگا تو ہر اس چیز کو کاٹ دے گا جو ان کے پیتوں میں ہوگی اور وہ کہیں گے دوزخ کے داروغوں کے پکارو تو وہ دوزخ کے داروغوں کو پکاریں گے اور کہیں گے آیت ” ادعوا ربکم یخفف عنا یوما من العذاب “ (غافر آیت 49) یعنی اپنے رب سے دعا کرو کہ وہ ہم سے ایک دن عذاب ہلکا کردے) تو جہنم کے داروغے ان کا جواب دیں گے۔ آیت ” اولم تک تاتیکم رسلکم بالبینات، قالوا بلی، قالوا فادعوا، وما دعاء الکفرین الا فی ضلل “ (غافر آیت 50) (یعنی کیا تمہارے پاس تمہارے رسول معجزات لے کر نہیں آئے تھے وہ کہیں گے کیوں نہیں وہ چوکیدار کہیں گے تم خود ہی دعا کرو اور کافروں کی دعا نہیں ہے مگر بےاثر ہے وہ کہیں گے دوزخ کے داروغہ مالک کو پکارو تو وہ مالک کو پکارتے ہوئے کہیں گے آیت ” یملک لیقض علینا ربک “ (الزخرف آیت 77) یعنی اے مالک تیرا رب ہمیں موت دیدے۔ تو مالک ان کو جواب دے گا آیت ” انکم ماکثون “ تم ٹھہرنے والے ہو ہمیشہ ، (موت نہیں آئے گی) پھر وہ کہیں گے اپنے رب کو پکارو تمہارے رب سے بہتر کوئی نہیں ہے۔ تو وہ کہیں گے، آیت ” ربنا غلبت علینا شقوتنا وکنا قوما ضالین “ (المونون آیت 106) یعنی اے ہمارے رب ہم پر ہماری بدبختی غالب آگئی اور ہم گمراہ قوم تھے آیت ” ربنا اخرجنا منہا فان عدنا فانا ظالمون۔ “ یعنی اے ہمارے رب ہم کو اس عذاب سے نکال دے اگر ہم نے دوبارہ نافرمانی کی تو بلاشبہ ہم ظلم کرنے والے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو جواب دیں گے آیت ” اخسؤا فیہا ولا تکلمون “ یعنی دور ہوجاؤ اور بات نہ کرو۔ تو اس وقت وہ ہر خیر سے ناامید ہوجائیں گے اور اس موقع پر ان کو چنگھاڑنے اور حسرت اور ہلاکت میں جکڑ لیا جائے گا۔ 2۔ ابن ابی شیبہ وہناد وعبد بن حمید وعبدالرزاق فی زوائد الزہد وابن المنذر وابن ابی حاتم والطبرانی والحاکم وصححہ والبیہقی فی البعث عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت کیا کہ دوزخ والے مالک (جہنم کے چوکیدار) کو پکاریں گے اور کہیں گے آیت ” یملک لیقض علینا ربک “ (الزخرف آیت 77) یعنی اے مالک تیرا رب ہم کو موت دیدے) وہ ان کو چالیس سال چھوڑے رکھے گا۔ ان کو جواب نہیں دے گا پھر ان کو جواب دیتے ہوئے کہے گا آیت ” انکم ماکثون “ (الزخرف) تم ہمیشہ رہو گے۔ پھر وہ اپنے رب کو پکارتے ہوئے کہیں گے آیت ” ربنا اخرجنا منہا فان عدنا فانا ظلمون “ یعنی اے ہمارے رب ہمیں اس عذاب سے نکال دے اگر ہم نے دوبارہ کیا تو ہم ظلم کرنے والے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو دنیا کے عرصہ کے برابر اسی طرح رہنے دیں گے۔ ان کو جواب نہ دیں گے پھر ان کو جواب دیتے ہوئے فرمائیں گے آیت ” اخسؤا فیہا ولا تکلمون “ یعنی دفع ہوجاؤ اور مجھ سے بات نہ کرو فرمایا کہ قوم اس کے بعد مایوس ہوجائے گی اب ان کے لیے گدھے جیس مکروہ آواز ہوگی۔ جہنمیوں کا پانچ دفعہ پکارنا 3۔ سعید بن منصور وابن جریر وابن المنذر وابلبیہقی فی الشعب محمد بن کعب ؓ نے فرمایا کہ جہنمی پانچ مرتبہ آوازدیں گے اللہ تعالیٰ ان کو چار کا جواب دیں گے جب پانچویں مرتبہ آواز پڑے گی۔ کہ اس کے بعد وہ کوئی بھی بات نہ کریں گے کبھی بھی اور کہیں گے۔ آیت ” ربنا امتنا اثنتین واحییتنا اثنتین فاعترفنا بذنوبنا فہل الی خروج من سبیل (غافر آیت 11) یعنی اے ہمارے رب آپ نے ہم کو دو مرتبہ موت دی اور دو مرتبہ زندگی دی۔ ہم اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں کیا ہے کوئی نکلنے کا راستہ تو اللہ تعالیٰ ان کو جواب دیں گے۔ آیت ” ذلکم بانہ اذا دعی اللہ وحدہ کفرتم، وان یشرک بہ تؤمنوا۔ فالحکم للہ العلی الکبیر “۔ غافر آیت 12۔ ) یعنی یہ عذاب اس وجہ سے تم کو ہے کہ جب ایک اللہ کی طرف بلایا جاتا تھا تو تم انکار کرتے تھے اور مگر اس کے ساتھ کسی کو شریک بنایا جاتا تو تم ایمان لے آتے تھے۔ آج اس اللہ کے لیے حکم ہے وہ بلند مرتبہ اور بڑی شان والا ہے پھر وہ کہیں گے آیت ” ربنا ابصرنا وسمعنا فارجعنا نعمل صالحا انا موقنون (یعنی اے ہمارے رب ہم نے اب دیکھ لیا اور ہم نے سب کچھ سن لیا ہم کو دوبارہ لوٹا دیجئے دنیا میں ہم نیک عمل کریں گے اور ہم یقین کرنے والے ہوں گے اللہ تعالیٰ ان کو جواب دیں گے آیت ” فذواقوا بما نسیتم لقاء یومکم ہذا، انا نسیناکم وذوق عذاب الخلد بما کنتم تعملون “۔ (السجدہ آیت 14) یعنی چھکھو تم اس وجہ سے کہ تم اپنے اس دن کی ملاقات کو بھول گئے تھے اس لیے اب ہم تم کو بھول جائیں گے اور تم ہمیشہ عذاب چکھو ان برے اعمال کے بدلے میں جو تم عمل کیا کرتے تھے پھر وہ کہیں گے آیت ” ربنا اخرنا الی اجل قریب نجب دعوتک ونتبع الرسل (ابراہیم آیت 14 یعنی اے ہمارے رب ہم سے ایک مدت قریب تک عذاب کو ہٹالیجئے ہم آپ کی دعوت قبول کریں گے اور رسولوں ککا کہنا مانیں گے تو اللہ تعالیٰ جواب دیں گے آیت ” اولم تکونوا اقسمتم من قبل مالکم من زوال (ابراہیم آیت 22) یعنی تم قسمیں نہ کھایا کرتے تھے اس سے پہلے کہ تم دنیا سے نہ جاؤ گے) پھر وہ کہیں گے) پھر وہ کہیں گے آیت ” ربنا اخرجنا نعمل صالح غیر الذی کنا نعمل “ (فاطر آیت 37) یعنی ہمارے رب ہم کو نکال دیجئے ہم نیک عمل کریں گے سوائے اس کے جو ہم عمل کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ ان کو جواب دیں گے آیت ” اولم نعمرکم ما یتذکر فیہ من تذکر وجاء کم النذیر۔ فذواقوا فما لمظلمین من نصیر “ (یعنی کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہ دی تھی جس میں وہ آدمی نصیحت حاصل کرسکتا تھا اس نصیحت میں سے اور تمہارے پاس ڈرانے والا آیا تھا پس چکھو تم عذاب کو ظالموں کے لیے کوئی مدد کرنے والا نہیں پھر وہ کہیں گے آیت ” ربنا غلبت علینا شقوتنا وکنا قوما ضالین “۔ یعنی اے ہمارے رب ہم پر بدبختی غالب آگئی اور ہم گمراہ قوم تھے (پھر کہیں گے) آیت ربنا اخرجنا منہا فان عدنا فانا ظلمون “ (یعنی اے ہمارے رب ہم کو اس میں سے نکال دیجئے اگر ہم دوبارہ کریں گے تو ہم ظلم کرنے والے ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو جواب دیں گے آیت ” اخسؤا فیہا ولا تکلمون “ (یعنی دفع ہوجاؤ اور مجھ سے بات نہ کرو) پھر وہ ہمیشہ کبھی بات نہیں کریں گے۔ 4۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ دوزخ والے دوزخ کے چوکیداروں کو پکارتے ہوئے کہیں گے آیت ” ادعوا ربکم یخفف عنا یوما من العذاب۔ “ (غافر آیت 49) یعنی اپنے رب سے دعا کرو کہ ایک دن ہم سے عذاب کو ہلکا کردے تو چوکیدار ان کو جواب نہیں دیں گے جب تک اللہ چاہیں گے۔ جب ان کو ایک مدت کے بعد جواب دیں گے تو ان سے کہیں گے آیت ” فادعوا، وما دعاء الکفرین الا فی ضلل “ (یعنی تم خود ہی دعا کرو اور کافروں کی دعا بےاثر ہے) پھر پکاریں گے ” یملک “ دوزخ کے چوکیدار کے لیے آیت ” لیقض علینا ربک “ (الزخرف آیت 77) یعنی تیرا رب ہم کو موت دیدے مالک ان سے چالیس سال کی مقدار خاموش رہیں گے پھر جواب دیتے ہوئے کہیں گے۔ آیت ” انکم ماکثون “ کہ تم ہمیشہ رہو گے۔ پھر بدبکت لوگ اپنے رب کو پکارتے ہوئے کہیں گے آیت ” ربنا اخرجنا منہا فان عدنا فانا ظلمون “ (المومنون آیت 107) یعنی اے ہمارے رب ہم کو نکال دے اس میں سے اگر ہم نے دوبارہ کیا تو ہم ظلم کرنے والے ہیں اللہ تعالیٰ ان سے خاموش رہیں گے دنیا کے عرصہ کے برابر پھر اس کے بعد ان کو جواب دیں گے آیت ” اخسؤا فیہا ولاتکلمون “ اس میں دفع ہوجاؤ اور مجھ سے بات نہ کرو۔ 5۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے پہلے وہ کلام کریں گے اور جھگڑیں گے جب وہ آخری موقع ہوگا تو اللہ تعالیٰ ان کو فرمائیں گے آیت ” اخسؤا فیہا ولا تکلمون “ (یعنی دفع ہوجاؤ مجھ سے بات نہ کرو اور فرمایا کہ ان کو ہمیشہ کے لیے کہ بات سے روک دیا گیا۔ 6۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے زیاد بن سعید خراسانی (رح) سے آیت ” اخسؤا فیہا ولا تکلمون “ کے بارے میں فرمایا کہ ان کے منہ بند کردئیے جائیں گے پھر ان سے کوئی آواز نہیں سنی طشت کے بجنے کی آواز کی طرح۔ 7۔ ابن ابی حاتم نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” اخسؤا “ یعنی تم ذلیل ورسوا ہوجاؤ (کوئی بات نہ کرو) 8۔ ابن جریر والبیہقی فی الاسماء والصفات ابن عباس ؓ نے آیت ” اخسؤا فیہا ولاتکلمون “ کے بارے میں فرمایا کہ جب جہنمیوں کی اللہ تعالیٰ سے گفتگو ختم ہوجائے گی تو اس وقت اللہ تعالیٰ ان سے یہ فرمائے گا۔ 9۔ ابن ابی الدنیا نے صفۃ النار میں حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے دوزخ والوں کے لیے فرمایا آیت ” اخسؤا فیہا ولاتکلمون “ (یعنی اس میں دفع ہوجاؤ اور مجھ سے بات نہ کر) ان کے چہرے گوشت کے ٹکڑے جیسے ہوجائیں گے اس میں نہ تو منہ ہوں گے اور نہ ناک کے نتھنے ہوں گے تو سانس ان کے پیٹوں میں آجارہی ہوگی۔ 10۔ ہناد نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ اس آیت کے بعد جہنم سے نکلنے کی کوئی صورت نہ ہوگی (کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا) آیت ” اخسؤا فیہا ولا تکلمون “ (یعنی تم اس جہنم میں دفع ہوجاؤ اور مجھ سے بات نہ کرو۔
Ayahs 23:110–111

فَاتَّخَذْتُمُوْهُمْ سِخْرِیًّا حَتّٰۤى اَنْسَوْكُمْ ذِكْرِیْ وَ كُنْتُمْ مِّنْهُمْ تَضْحَكُوْنَ Open ayah 23:110 in the Quran reader

سو تم نے ان کو مذاق بنا لیا یہاں تک کہ انہوں نے تمہیں میری یاد بھلادی اور تم ان سے ہنستے تھے

اِنِّیْ جَزَیْتُهُمُ الْیَوْمَ بِمَا صَبَرُوْۤا١ۙ اَنَّهُمْ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 23:111 in the Quran reader

بلاشبہ آج میں نے انہیں ان کے صبر کرنے کی وجہ سے یہ بدلہ دیا کہ وہی کامیاب ہونے والے ہیں

1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے آیت ” فاتخذتموہم سخریا “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ دونوں مختلف لفظ ہیں (یعنی) ” سخریا “ اور ” سُخریا “ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ آیت آیت ” لیتخذ بعضہم بعضا سخریا “ (الزخرف آیت 32) پھر فرمایا کہ وہ لوگ ان کا مذاق اڑاتے ہیں اور دوسرے جو ان کا مذاق اڑاتے ہیں وہ ” سِخریا “ ہے۔
Ayahs 23:112–114

قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِی الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِیْنَ Open ayah 23:112 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ کا سوال ہوگا کہ تم برسوں کی گنتی کے اعتبار سے زمین میں کتنے دن رہے

قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ فَسْئَلِ الْعَآدِّیْنَ Open ayah 23:113 in the Quran reader

وہ کہیں گے کہ ایک یا ایک دن سے بھی کم رہے سو آپ گننے والوں سے سوال فرما لیجئے

قٰلَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا لَّوْ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:114 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہوگا کہ تم تھوڑی ہی مدت رہے اگر تم جانتے ہو

1۔ ابن ابی حاتم نے ایفع بن عبدالکلاعی (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ جنت والوں کو جنت میں داخل فرمادیں گے اور دوزخ والوں کو دوزخ میں تو جنت والوں سے فرمائیں گے آیت ” کم لبثتم فی الارض عدد سنین “ (یعنی تم زمین میں کتنے سال رہے) تو وہ کہیں گے آیت ” لبثنا یوما او بعض یوم “ (یعنی ہم ایک دن یا ایک دن سے کم رہے) پھر فرمایا وہ کتنی اچھی ہے جو تم نے تجارت کی ہے ایک پورے دن میں یا ایک دن سے کم میں میری رحمت میری رضا مندی اور میری جنت میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رہو۔ پھر فرمائیں گے اے دوزخ والو ! آیت ” کم لبثتم فی الارض عدد سنین “ (یعنی تم زمین میں کتنا رہے) وہ کہیں گے آیت ” لبثنا یوما او بعض یوم “ (یعنی ہم ایک دن یا ایک دن سے کم رہے) تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے۔ بری ہے جو تم نے تجارت کی ایک دن میں یا ایک دن سے کم میں میری جہنم اور میری ناراضگی میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رہو۔ 2۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فسئل العادین “ یعنی حساب لگانے والوں سے پوچھ لیجئے “۔۔ 3۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فسئل العادین سے مراد ہے فرشتے۔