23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 23:41–43

فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ بِالْحَقِّ فَجَعَلْنٰهُمْ غُثَآءً١ۚ فَبُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:41 in the Quran reader

سو ان کو سچے وعدہ کے موافق سخت چیخ نے پکڑ لیا پھر ہم نے انہیں خس و خاشاک کردیا سو دوری ہے ظالم قوم کے لیے

ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قُرُوْنًا اٰخَرِیْنَؕ Open ayah 23:42 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کے بعد دوسری جماعتوں کو پیدا کیا

مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا وَ مَا یَسْتَاْخِرُوْنَؕ Open ayah 23:43 in the Quran reader

کوئی امت اپنی اجل سے نہ آگے بڑھ سکتی تھی اور نہ وہ لوگ پیچھے ہٹ سکتے تھے

1۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” فجعلنہم غثاء “ سے مراد ہے کہ ان کو ایک چیز کی طرح بنادیا (جیسے) درخت کی بےجان بوسیدہ چیز۔ 2۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جیر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فجعلنہم غثاء “ سے مراد ہے کہ ایک بوسیدہ چیز۔ 3۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فجعلنہم غثاء “ سے مراد ہے کہ ہم ان کو بوسیدہ سیا خشک خاک کی طرح بنا دیں گے سیلاب ان کو یوں اٹھائے گا جس طرح قوم ثمود کو اٹھایا تھا۔
Ayahs 23:44–45

ثُمَّ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَا١ؕ كُلَّمَا جَآءَ اُمَّةً رَّسُوْلُهَا كَذَّبُوْهُ فَاَتْبَعْنَا بَعْضَهُمْ بَعْضًا وَّ جَعَلْنٰهُمْ اَحَادِیْثَ١ۚ فَبُعْدًا لِّقَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 23:44 in the Quran reader

پھر ہم نے یکے بعد دیگر پیغمبروں کو بھیجا جب بھی کسی امت کے پاس اس کا رسول آیت تو انہوں نے اسے جھٹلایا سو ہم بعض کو بعض کے پیچھے وجود میں لاتے رہے اور ہم نے انہیں کہانیاں بنادیا، سو اس قوم کے لیے دوری ہے جو ایمان نہیں لاتے

ثُمَّ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى وَ اَخَاهُ هٰرُوْنَ١ۙ۬ بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 23:45 in the Quran reader

پھر ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو اپنی آیات اور کھلی ہوئی دلیل کے ساتھ بھیجا

1۔ ابن جریر وابن المنذروابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” ثم ارسلنا رسلنا تترا “ سے مراد ہے کہ رسولوں میں سے بعض بعض کے پیچھے آئے اور دوسرے لفظ میں یوں فرمایا آیت ” بعضہم علی اثر بعض “ 2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد اور قتادہ رحمہما اللہ دونوں سے اسی طرح روایت کیا۔ واللہ اعلم۔
Ayahs 23:46–49

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا عَالِیْنَۚ Open ayah 23:46 in the Quran reader

فرعون اور اس کے درباریوں کے پاسب بھیجا سو ان لوگوں نے تکبر کیا اور وہ لوگ اونچے تھے

فَقَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ لِبَشَرَیْنِ مِثْلِنَا وَ قَوْمُهُمَا لَنَا عٰبِدُوْنَۚ Open ayah 23:47 in the Quran reader

سو ان لوگوں نے کہا کیا ہم اپنے جیسے دو آدمیوں پر ایمان لائیں اور حال یہ ہے کہ ان کی قوم ہمارے زیر حکم ہے

فَكَذَّبُوْهُمَا فَكَانُوْا مِنَ الْمُهْلَكِیْنَ Open ayah 23:48 in the Quran reader

سو ان دونوں کو انہوں نے جھٹلایا لہٰذا وہ ہلاک کیے جانے والے لوگوں میں شامل کردئیے گئے

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ لَعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 23:49 in the Quran reader

اور یہ واقعی بات ہے کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی تاکہ وہ لوگ ہدایت پائیں

1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے آیت ” وکانوا قوما عالین “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ اپنے رسولوں پر غالب آگئے اور انہوں نے اپنے رسولوں کی نافرنامی کی یہی ان کا علو اور بلند ہونا تھا اور (یہ آیت) پڑھی، آیت ” تلک الدار الاٰخرۃ نجعلہا للذین لا یریدون علوا فی الارض ولا فسادا “۔ (القصص آیت 83)
Ayah 23:50

وَ جَعَلْنَا ابْنَ مَرْیَمَ وَ اُمَّهٗۤ اٰیَةً وَّ اٰوَیْنٰهُمَاۤ اِلٰى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّ مَعِیْنٍ۠ Open ayah 23:50 in the Quran reader

اور ہم نے ابن مریم (علیہ السلام) اور ان کی والدہ کو ایک نشانی بنادیا اور ہم نے ان دونوں کو ایک ایسے ٹیلہ پر ٹھکانہ دیا جو ٹھہرنے کی اور پانی جاری ہونے کی جگہ تھی

1۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وجعلنا ابن مریم وامہ آیۃ “ سے مراد ہے کہ مریم (علیہا السلام) نے اس کو (یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) کو) بغیر باپ کے جنا اور وہ ان کے بیٹے تھے۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے ربیع بن انس (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وجعلناابن مریم وامہ آیۃ “ سے مراد ہے عبرت۔ 3۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” واوینہما “ سے مراد عیسیٰ اور اس کی والدہ ہے۔ 4۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” واوینہما “ سے مراد ہیں عیسیٰ اور ان کی والدہ (علیہا السلام) جب انہوں نے غوطہ (جو دمشق کے قریب ایک شہر کا نام ہے) اردگرد میں پناہ لی۔ 5۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” واوینہما الی ربوۃ “ میں الربوۃ سے مراد ہے ہموار جگہ ” والمعین “ سے مراد ہے جاری پانی اور یہ وہ نہر ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت ” قد جعل ربک تحتک سریا “۔ 6۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” واوینہما الی ربوۃ “ سے زمین میں سے ایک بلند جگہ مراد ہے اس میں نباتات اگتی ہے۔ آیت ” زات قرار “ سے مراد ہے سرسبزی والی زمین ” ومعین “ سے مراد ہے ظاہری پانی والی۔ 7۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) وسلم سے روایت کیا کہ آیت ” الی ربوۃ “ سے مراد ہے ہموار زمین آیت ” ذات قرار ومعین “ یعنی جاری پانی۔ 8۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن عساکر نے سعید بن جبیر (رح) سے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ آیت ” الی ربوۃ “ سے مراد ہے بلند جگہ اور وہ بیت المقدس۔ والمعین سے مراد ہے ظاہری پانی۔ 9۔ عبد بن حمید وعبدالرزاق وابن جریر وابن عساکر نے و قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” واوینہما الی ربوۃ “ کے بارے میں فرمایا کہ ہم یہ بیان کرتے ہیں کہ ربوہ سے بیت المقدس مراد ہے آیت ” ذات قرار “ یعنی بہت پھل والی ” ومعین “ یعنی جاری پانی۔ 10۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن عساکر نے وہب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” واوینہما الی ربوۃ “ سے مصر کی سرزمین مراد ہے۔ 11۔ ابن جریر وابن ابی حاتم ابن زید (رح) سے آیت ” واوینہما الی ربوۃ “ کے بارے میں فرمایا کہ ٹیلے صرف مصر میں ہیں اور پانی جب چھوڑا جاتا ہے تو بستیاں اوپر ہوتیں۔ اگر یہ بلند جگہ نہ ہوتی تو وہ بستیاں غرق ہوجاتیں۔ 12۔ ابن عساکر نے زید بن اسلم سے روایت کیا کہ آیت ” واینہما الی ربوۃ “ سے مراد ہے اسکندریہ عیسی (علیہ السلام) کی فصاحت وبلاغت 13۔ ابن عساکر نے (جوہر) کے طریق سے ضحاک سے روایت کیا اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے کہ عیسیٰ بن مریم (علیہا السلام) بچپن میں بات کرنے کے بعد بات کرنے سے رک گئے یہاں تک کہ اس عمر کو پہنچ گئے جس میں نوجوان پہنچتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو حکمت اور فصیح بیان کے ساتھ بولنا سکھایا جب سات سال کو پہنچے تو ان کی ماں نے ان کو ایک آدمی کے سپرد کردیا کہ وہ ان کو سکھائے جیسے وہ لڑکوں کو سکھاتا ہے۔ وہ آدمی ان کو کسی چیز کے بارے میں نہ بتاتا مگر اس کے بتانے سے پہلے ہی عیسیٰ (علیہ السلام) اسے جانتے ہوتے معلم نے ابو جاد پڑھایا اور عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ ابو جاد کیا ہے معلم نے کہا میں کچھ نہیں جانتا عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا تو مجھے کس طرح سکھائے گا جو تو نہیں جانتا معلم نے کہا تب تو آپ ہی مجھ کو پڑھائیے۔ عیسیٰ نے اس سے فرمایا اپنی مجلس سے اٹھ جا وہ کھڑا ہوا تو عیسیٰ اس کی جگہ پر بیٹھ گئے اور فرمایا مجھ سے سوال کر۔ معلم نے کہا ابوجاد سے کیا مراد ہے ؟ عیسیٰ ( علیہ السلام) نے فرمایا الف سے مراد ہے اللہ کی نعمتیں باء سے مراد ہے اللہ کا حسن جیم سے مراد ہے اللہ کی خوبصورتی و جمال۔ معلم نے بڑا تعجب کیا کہ عیسیٰ پہلے آدمی تھے جنہوں نے ابوجاد کی تفسیر کی اور عیسیٰ نے اپنے بچپن میں عجائب دیکھے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام کیے گئے تھے۔ یہ بات یہود میں پھیل گئی اور جب عیسیٰ (علیہ السلام) دس سال سے زیادہ ہوئے تو بنی اسرائیل نے ان کے قتل کا ارادہ کیا تو ان پر والدہ نے خوف کیا پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ وہ مصر کی زمین کی طرف چلی جائے ان کو لے کر اس وجہ سے فرمایا آیت ” وجعلنا ابن مریم وامہ اٰیۃ “ ابن عباس سے پوچھا گیا آیتان نہیں فرمایا جبکہ دو نشانیاں تھے ابن عباس نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اٰیۃ فرمایا کیونکہ عیسیٰ (علیہ السلام) آدم (علیہ السلام) کی نسل سے ہیں ان کا کوئی باپ نہیں عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کے معاملہ میں حضرت مریم کے ساتھ کوئی مرد شریک نہیں ہوا تو نشانی میں ایک ہوئے۔ آیت ” واوینہما الی ربوۃ ذات قرار ومعین “ سے مصر کی زمین مراد ہے۔ 14۔ سکع والفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم وتمام الرازق فضائل النبوہ میں وابن عساکر بسند صھیح سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” الی ربوۃ “ ہم کو یہ خبر دی گئی کہ بلا شبہ وہ دشمق کی سرزمین ہے۔ 15۔ ابن عساکر نے عبداللہ بن سلام ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” واوینہما الی ربوۃ “ سے دمشق مراد ہے۔ 16۔ ابن عساکر نے روایت کیا کہ یزید بن سخبرہ صحابی ؓ نے فرمایا دمشق ہی مبارک ربوہ ہے۔ 17۔ ابن عساکر نے بسند ضعیف سے ابو امۃ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے یہ آیت آیت ” واوینہما الی ربوۃ ذات قرار ومعین “ تلاوت فرمائی اور فرمایا کیا تو جانتا ہے کہ وہ (جگہ) کہاں ہے صحابی نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں پھر فرمایا وہ شام کی زمین ہے جس کو غوطہ کہا جاتا ہے۔ یہ ایک شہر ہے جس کو دمشق کہتے ہیں جو شام کے بہترین شہروں میں سے ہے۔ 18۔ عبدالرزاق وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم والطبرانی نے سعید بن المسیب (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” واوینہما الی ربوۃ “ سے دمشق مراد ہے۔ 19۔ ابن جریر وابن ابی حاتم والطبرانی فی الاوسط وابن مردویہ وابن عساکرے مرہ بہزی ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رملہ ربوہ ہے۔ ربوہ فلسطین میں واقع ہے 20۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم وابو نعیم وابن عساکر نے روایت کیا کہ ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ آیت ” واوینہما الی ربوۃ “ میں ربوہ سے مراد فلسطین میں رملہ کا مقام ہے۔ 21۔ الطبرانی وابن السکین وابن منذر و ابونعیم ابن عساکر من طرق اقرع بن (شفی) العکی ؓ سے روایت کیا کہ میرے پاس نبی ﷺ بیماری میں عیادت کے لیے لیے آئے، میں نے عرض کیا کہ میرا یہ گمان ہے کہ میں اپنے اس مرض میں مرجاؤں گا آپ نے فرمایا ہرگز نہیں تو ضرور باق رہے گا یہاں سے ضرور ہجرت کرے گا شام کی زمین کی طرف اور تو مرے گا فلسطین کے علاقہ میں ربوہ کے مقام پر ددفن ہوگا تو (یہ صحابی) عمر ؓ کے دور خلافت میں فوت ہوئے اور رملہ میں دفن ہوئے۔ 22۔ ابن عساکر نے قتادہ سے روایت کیا اور انہوں نے حسن (رح) سے آیت ” واوینہما الی ربوۃ ذات قرار ومعین “ کے بارے میں روایت کیا کہ ربوہ سے مراد درختوں اور نہروں والی دمشق کی زمین مراد ہے اور دوسرے لفظ میں فرمایا کہ اس سے پھلوں اور بہت پانی والی زمین مراد ہے اور وہ دمشق کی زمین ہے۔
Ayahs 23:51–52

یٰۤاَیُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا١ؕ اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌؕ Open ayah 23:51 in the Quran reader

اے رسولو ! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو بلا شبہ میں ان کاموں کو جانتا ہوں جنہیں تم کرتے ہو

وَ اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُوْنِ Open ayah 23:52 in the Quran reader

بلاشبہ یہ تمہارا طریقہ ایک ہی طریقہ ہے اور میں تمہارا رب ہوں سو تم مجھ سے ڈرو

1۔ احمد ومسلم ترمذی وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے لوگوبلاشبہ اللہ تعالیٰ پاک ہیں اور پاک چیز کو قبول فرماتے ہیں فرمایا آیت ” واعملوا صالحا، انی بما تعملون علیم “ اور فرمایا آیت ” یا ایہا الذین اٰمنوا کلو من طیبت ما رزقنکم “ پھر رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کا ذکر فرمایا جو لمبا سفر کرتا ہے۔ اس کے بال بکھرے ہوئے اور غبار آلود ہیں اور حال یہ ہے کہ اس کا کھانا حرام ہے اور پینا حرام ہے اور لباس حرام ہے اور اس کو حرام سے غذا دی گئی آسمان کی طرف ہاتھ بلند کرتے ہوئے کہتا ہے اے میرے رب اے میرے رب تو اس کی دعا کیسے قبول ہوگی۔ 2۔ احمد بن فی الزہد ابن ابی حاتم ابن مردویہ والحاکم وصححہ ام عبداللہ شداد بن اوس کی بہن ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی ﷺ کی طرف ان کے افطار کے وقت دودھ کا ایک پیالہ بھیجا کہ آپ روزہ سے تھے آپ نے اس کی طرف وہ آدمی واپس بھیج دیا اور فرمایا یہ دودھ تیرے لیے کہاں سے آیا ؟ عرض کیا میری اپنی بکری کا ہے (مگر) آپ نے اس قاصد کو پھر واپس کردیا (اور فرمایا) یہ بکری تیرے لیے کہاں سے آئی عرض کیا میں نے اس کو اپنے مال سے خریدا ہے (یہ سن کر) آپ نے اس کو پی لیا۔ صبح کو ام عبداللہ آپ کی خدمت میں آئیں اور عرض کیا یارسول اللہ ! میں نے آپ کی طرف دودھ بھیجا تھا جبکہ آپ نے مجھے واپس کردیا۔ آپ نے فرمایا کہ اس وجہ سے (واپس کیا) کہ مجھ سے پہلے رسولوں کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ پاکیزہ چیزیں کھائیں اور نیک عمل کریں۔ 3۔ عبدان نے صحابہ میں حفص بن ابی جبلہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے آیت ” یا ایہا الذین اٰمنوا کلوا من طیبت “ کے بارے میں فرمایا عیسیٰ (علیہ السلام) اپنی والدہ کے کا تے ہوئے سوت میں سے کھاتے تھے (یعنی اس سوت کو بیچ کر گزارہ کرتے تھے) یہ روایت حفص تابعی کی مرسل ہے۔ ، 4۔ سعید بن منصور (رح) نے حفص الفزاری (رح) سے اس کی مثل موقوف روایت نقل کی ہے۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابو نعیم فی الحلیہ ابو میسرہ سے روایت کیا اور انہوں نے عمر بن شرجیل (رح) سے آیت ” یا ایہا الرسل کلوا من الطیبت “ کے بارے میں روایت کیا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اپنی والدہ کے کا تے ہوئے سوت کی کمائی میں سے کھاتے تھے۔ 5۔ البیہقی نے الشعب میں جعفر بن سلیمان سے روایت کیا اور انہوں نے ثابت بن عبدالوہاب بن ابی حفص سے روایت کیا کہ داوٗد (علیہ السلام) نے روزہ رکھا جب ان کے افطار کا وقت ہوا تو ان کے پاس دودھ پینے کے لیے لایا گیا تو انہوں نے پوچھا یہ دودھ تمہارے پاس کہاں سے آیا ؟ انہوں نے کہا یہ ہماری بکریوں کا ہے پھر پوچھا ان کی قیمت کہاں سے آئی ؟ تو کہا اے اللہ کے نبی آپ نے یہ سوال کیوں کیا ؟ فرمایا ہم رسولوں کی جماعت ہیں ہم کو حکم دیا گیا ہے کہ ہم پاکیزہ چیزوں میں سے کھائیں اور ہم نیک عمل کریں۔ 6۔ الحکیم الترمذی نے حنظلہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے پاس جبرئیل نہیں آئے مگر ان دود عاؤں کا حکم فرمایا آیت ” اللہم ارزقنی طیبا واستعملنی صالحا “ یعنی اے اللہ مجھے پاکیزہ رزق عطا فرما اور مجھے نیک عمل کرنے کی توفیق عطا فرما۔ 7۔ ابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” یا ایہا الرسل کلوا من الطیبت واعملوا صالحا “ کے بارے میں فرمایا یہ حکم رسولوں کے لیے تھا پھر عام لوگوں کے لیے فرمایا آیت ” وان ہذہ امتکم امۃ واحدۃ “ (الانبیاء آیت 92) یعنی تمہارا دین ایک ہی دین ہے۔
Ayahs 23:53–54

فَتَقَطَّعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ زُبُرًا١ؕ كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ Open ayah 23:53 in the Quran reader

سو ان لوگوں نے الگ الگ طریقہ اختیار کر کے آپس میں ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے ہر جماعت کے لوگ اس سے خوش ہیں جو ان کے پاس ہے

فَذَرْهُمْ فِیْ غَمْرَتِهِمْ حَتّٰى حِیْنٍ Open ayah 23:54 in the Quran reader

سو آپ انہیں ایک وقت تک ان کی جہالت میں چھوڑدیں

1۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ” فتقطعوا امرہم بینہم زبرا “ کے بارے میں روایت کیا کہ زبرا سے مراد کتابیں ہیں اور حسن (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اللہ کی کتاب کے ٹکڑے ٹکڑے کردئیے ان میں تحریف اور تبدیلی کردی۔ 2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فتقطعوا امرہم بینہم زبرا “ میں زبر سے مراد ہے اللہ کی کتابیں اور انہوں نے کتابوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا ” کل حزب “ میں حزب کا معنی ہے ٹکڑا اور یہ اہل کتاب تھے۔ 3۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فتقطعوا امرہم بینہم زبرا “ سے وہ اختلاف مراد ہے جو انہوں نے دنیا میں اختلاف کیا (اور مختلف دین نکالے) آیت ” کل حزب “ حزب سے مراد جماعت ہے آیت ” بما لدیہم فرحون “ یعنی وہ اپنی رائے پر خوش تھے۔ 4۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وان جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فذرہم فی غمرتہم “ سے مراد ہے کہ آپ ان کو ان کی گمراہی میں چھوڑدیجئے۔ 5۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فذرہم فی غمرتہم “ یعنی ان کی گمراہی میں (ان کو چھوڑد یجئے) آیت ” حتی حین “ یعنی موت تک۔ 6۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے مقاتل (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فذہم فی غمرتہم حتی حین “ یعنی بدر کے دن تک (ان کو چھوڑ دیجئے )
Ayahs 23:55–56

اَیَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّ بَنِیْنَۙ Open ayah 23:55 in the Quran reader

کیا یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم جو ان کو مال اور بیٹے دئیے جاتے ہیں

نُسَارِعُ لَهُمْ فِی الْخَیْرٰتِ١ؕ بَلْ لَّا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 23:56 in the Quran reader

ان کو فائدہ پہنچانے میں جلدی کر رہے ہیں بلکہ بات یہ ہے کہ وہ شعور نہیں رکھتے

1۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ایحسبون “ یعنی قریش ( یہ گمان کرتے ہیں) آیت ” انما نمدہم بہ “ یعنی ہم ان کو ہم دیتے رہیں گے۔ آیت ” من مال وبنین، نسارع لہم فی الخیرات “ یعنی ہم ان کے لیے بھلائی کے کاموں میں اضافہ کردیتے ہیں بلکہ ہم بھلائی کے کاموں میں ان کو مہلت دیتے ہیں اور وہ اس کا شعور ہی نہیں رکھتے۔ 2۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ایحسبون انما نمدہم بہ من مال وبنین، نسارع لہم فی الخیرات، بل لا یشعرون “۔ یعنی اللہ نے خفیہ تدبیر کی قوم کے ساتھ ان کے مالوں اور ان کی اولاد میں اس وجہ سے لوگوں کا ان کے اموال اور اولادوں کے ساتھ اندازہ نہ لگاؤ۔ بلکہ ان کی قدر ومنزلت کا اندازہ لگاؤ ایمان اور نیک عمل کے ساتھ۔ 3۔ ابن جریر نے عبدالرحمن بن ابی بکر ؓ سے روایت کی کہ وہ اس کو اس طرح پڑھتے تھے آیت ” نسارع لہم فی الخیرات “۔ 4۔ عبد بن حمید وابن المنذر والبیہقی نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ کے پاس کسری (بادشاہ) کے سامان کا تھیلہ لایا گیا۔ اور عمر کے سامنے رکھ دیا گیا لوگوں میں سراقہ بن مالک بھی تھے عمر ؓ نے اس کے کنگنوں کو لے کر سراقہ کی طرف پھینک دیا انہوں نے ان کو لے کر اپنے ہاتھوں میں ڈال لیا۔ تو وہ ان کے کندھوں تک جا پہنچے (یہ دیکھا) عمر نے فرمایا ساری تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں کہ کسری بن ہرمز کے کنگن سراقہ بن مالک ابن جعشم ؓ کے ہاتھوں میں ہیں جو ایک دیہاتی ہے بنو مدلج میں سے پھر فرمایا اے اللہ بلاشبہ میں نے جان لیا ہے کہ تیرا رسول اس بات پر حریص تھا کہ مال پہنچ جائے تو اس کو تیرے راستے میں اور تیرے بندوں پر خرچ کردے۔ پھر تو نے اسے روکے رکھا یہ محض تیرا کرم اور احسان تھا۔ اے اللہ بلا شبہ میں آپ سے پناہ مانگتا ہوں کہ یہ عمر کے ساتھ تیری خفیہ تدبیر ہو۔ پھر دونوں آیت آیت ” ایحسبون انما نمدہم بہ من مال وبنین، نسارع لہم فی الخیرا، بل لا یشعرون “ تلاوت کی۔
Ayahs 23:57–62

اِنَّ الَّذِیْنَ هُمْ مِّنْ خَشْیَةِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَۙ Open ayah 23:57 in the Quran reader

بلا شبہ جو لوگ اپنے رب کی ہبیت سے ڈرتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ یُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 23:58 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنے رب کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِرَبِّهِمْ لَا یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 23:59 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنے رب کے ساتھ شرک نہیں کرتے

وَ الَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَاۤ اٰتَوْا وَّ قُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰى رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَۙ Open ayah 23:60 in the Quran reader

اور جو لوگ کچھ دیتے ہیں تو اس حال میں دیتے ہیں کہ ان کے دل اس بات سے خوف زدہ ہوتے ہیں کہ وہ اپنے رب کے پاس لوٹنے والے ہیں

اُولٰٓئِكَ یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ هُمْ لَهَا سٰبِقُوْنَ Open ayah 23:61 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جو نیک کاموں میں جلدی کرتے ہیں اور ان کی طرف دوڑ رہے ہیں

وَ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا وَ لَدَیْنَا كِتٰبٌ یَّنْطِقُ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 23:62 in the Quran reader

ہم کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ مکلف نہیں بناتے اور ہمارے پاس کتاب ہے جو حق کے ساتھ ہے بیان کردے گی اور ان پر ظلم نہیں ہوگا

1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ مومن جمع کرتا ہے احسان کو اور شفقت کو اور منافق جمع کرتا ہے گناہ کو اور بےخوفی کو۔ پھر (یہ آیت) آیت ” ان الذین ہم من خشیۃ ربہم مشفقون “ سے لے کر آیت ” انہم الی ربہم رجعون “ تک تلاوت کی اور منافق نے کہا آیت ” انما اوتیتہ علی علم عندی “ (القصص آیت 7) (یعنی میں اپنے علم کے ذریعہ مال دیا گیا اللہ کی طرف سے نہیں ملا) ۔ 2۔ الفریابی واحمد وعبد بن حمید والترمذی وابن ماجہ وابن ابی الدنیا فی نعت الخائفین وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ وابن مردویہ والبیہقی نے شعب الایمان میں عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے آیت ” والذین یؤتون ما اٰتوا و قلوبہم وجلۃ “ کیا اس سے مراد وہ آدمی ہے جو چوری کرتا ہے اور زنا کرتا ہے۔ اور شراب پیتا ہے اور وہ اس کے باوجود اللہ سے ڈرتا ہے آپ نے فرمایا بلکہ اس سے مراد وہ آدمی ہے جو روزہ رکھتا ہے صدقہ کرتا ہے اور نماز پڑھتا ہے اس کے باوجود وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے کہ شاید اس کی طرف سے یہ اعمال قبول نہ کئے جائیں۔ 3۔ ابن ابی الدنیا وابن جریر وابن الانباری فی المصاحف وابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ عائشہ ؓ نے عرض کیا یارسول اللہ ! آیت ” والذین یؤتون ما اٰتوا وقلوبہم وجلۃ “ سے مراد کیا وہ لوگ ہیں جو خطا کرنے والے اور گناہ کا ارتکاب کرنے والے ہیں جو نماز پڑھتے ہیں اور روزے رکھتے ہیں اور صدقہ کرتے ہیں اور پھر بھی ان کے دل ڈرتے ہیں کہ شاید ہمارے یہ اعمال قبول نہ ہوں۔ 4۔ عبدالرزاق نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” والذین یؤتون ما اٰتوا وقلوبہم وجلۃ “ یعنی وہ دیتے ہیں جو ان کو (اللہ کی طرف سے) عطا کیا جاتا ہے۔ نیک عمل کر کے بھی اللہ سے ڈرتے رہنا چاہیے 6۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” والذین یؤتون ما اٰتوا وقلوبہم وجلۃ “ یعنی وہ نیک عمل بھی کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے بھی ہیں۔ 7۔ الفریابی وابن جریر نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” والذین یؤتون ما اٰتوا “ سے مراد ہے کہ وہ زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ 8۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن المنذر نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” والذین یؤتون ما اٰتوا “ سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں اور اس کی اطاعت کرتے ہیں۔ 9۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” والذین یؤتون ما اٰتوا “ سے مراد ہے کہ وہ دیتے ہیں جو ان کو عطا کیا جاتا ہے آیت ” وقلوبہم وجلۃ “ یعنی اور ان کے دل قیامت اور حساب کے برے انجام سے ڈرتے ہیں۔ 10۔ عبد بن حمید وابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” والذین یؤتون ما اٰتوا “ سے مراد ہے کہ وہ دیتے ہیں جو ان کو عطا کیا جاتا ہے (اللہ کی طرف) آیت ” وقلوبہم وجلۃ “ سے مراد ہے کہ مومن اپنے مال کو خرچ بھی کرتا ہے اور اس کا دل ڈرتا ہے۔ (شاید قبول نہ ہو) 11۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر حسن اور قتادہ رحمہما اللہ سے روایت کیا کہ وہ اسی طرح پڑھتے تھے آیت ” والذین یؤتون ما اٰتوا “ اور فرمایا کہ وہ جو کچھ نیک کاموں میں عمل کرتے ہیں اور دیتے ہیں جو کچھ عطا کیے گئے اللہ تعالیٰ سے خوف کرتے ہوئے کہ (شاید قبول نہ ہو) 12۔ ابن المبارک فی الزہد وعبد بن حمید وابن جریر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” والذین یؤتون ما اتوا وقلوبہم وجلۃ “ یعنی وہ بھلائی کے کام کرتے ہیں اور ڈرتے ہیں کہ شاید یہ اعمال ان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات نہ دیں۔ 13۔ عبد بن حمید نے ابن ابی ملیکہ (رح) سے روایت کیا کہ عائشہ ؓ نے فرمایا کہ جب میں یہ آیت پڑھتی ہوں یہ آیت مجھے سرخ اونٹ ﷺ ں سے زیادہ محبوب ہے ابن عباس نے ان سے پوچھا کہ وہ کو سی آیت ہے ؟ فرمایا آیت ” والذین یؤتون ما اٰتوا “۔ 14۔ سعید بن منصور وابن مردویہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے یوں پڑھا آیت ” والذین یؤتون ما اتوا “ کو مقصورپڑھا۔ (یعنی صیغہ مجرد کے ساتھ جس کا معنی ہے آیا) 15۔ سعید بن منصور واحمد والبخاری فی تاریخہ وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی شیبہ وابن الانباری معافی المصاحفہ والداقطنی فی الافراد والحاکم وصححہ وابن مردویہ عبید بن عمیر (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے عائشہ ؓ سے سوال کیا کہ رسول اللہ ﷺ کس طرح یہ آیت پڑھتے تھے۔ آیت والذین یؤتون ما اٰتوا وقلوبہم وجلۃ “ یا آیت ” والذین یؤتون ما اٰتوا “ تو انہوں نے فرمایا ان میں سے کون سی آیت تیرے نزدیک زیادہ محبوب ہے میں نے عرض کیا اس ذت کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے ان میں سے ہر ایک میرے نزدیک ساری دنیا سے زیادہ محبوب ہے حضرت عائشہ نے پوچھا ان میں سے کونسی آیت (تجھے زیادہ پسند ہے) میں نے عرض کیا آیت ” والذین یؤتون ما اٰتوا “ عائشہ ؓ نے ی فرمایا میں گواہی دیتی ہوں کہ رسول اللہ ﷺ اسی طرح پڑھتے تھے اور اسی طرح اتاری گئی لیکن یہ ہجا حرف ہے۔ 16۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” اولئک یسرعون فی الخیرات وہم لہا سبقون “ سے مراد ہے کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے سعادت پہلے ہی مقدر کی جا چکی ہے۔
Ayah 23:63

بَلْ قُلُوْبُهُمْ فِیْ غَمْرَةٍ مِّنْ هٰذَا وَ لَهُمْ اَعْمَالٌ مِّنْ دُوْنِ ذٰلِكَ هُمْ لَهَا عٰمِلُوْنَ Open ayah 23:63 in the Quran reader

بلکہ ان کے دل اس دین کی طرف سے جہالت میں ہیں علاوہ اور بھی ان کے اعمال ہیں جنہیں وہ کرتے ہیں

1۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” بل قلوبہم فی غمرۃ من ہذا “ میں غمرہ سے مراد ہے کفر اور شک۔ آیت ” ولہم اعمال من دون ذلک “ یعنی شرک کے علاوہ اور بی ان کے برے اعمال ہیں۔ آیت ہم لھا عملون “ کہ جن پر عمل کرنا ان کے لیے ضرور ہے۔ 2۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” بل قلوبہم فی غمرۃ من ہذا “ یعنی وہ اس قرآن سے اندھے ہیں آیت ” ولہم اعمال “ یعنی ان کے بھی برے اعمال ہیں ” من دون ذلک ہم لہا عملون “ یعنی وہ ان برے کاموں کو لازمی طور پر کرتے ہیں۔ 3۔ عبد الرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا آیت ” بل قلوبہم فی غمرۃ من ہذا “ یعنی مؤمنین کے اعمال سے ان کے دل غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ آیت ” ولہم اعمال من دون ذلک “ یعنی ان کے اور اعمال بھی ہیں جو مومنوں کے اعمال سے برے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کا ذکر فرمایا کہ آیت ” ان الذین ہم من خشیۃ ربہم مشفقون “ (المومنون آیت 57) یعنی جو لوگ اپنے رب سے ڈرنے والے ہیں۔ پھر کافروں کے لیے فرمایا آیت ” بل قلوبہم فی غمرۃ من ہذا ولہم “ یعنی ان کے او اعمال بھی ہیں جن کو الذین والذین والذین کا نام دیا گیا (یعنی جن کے باعث ان کو یہ یہ نام دیے گئے )
Ayahs 23:64–67

حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذْنَا مُتْرَفِیْهِمْ بِالْعَذَابِ اِذَا هُمْ یَجْئَرُوْنَؕ Open ayah 23:64 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ہم ان کے خوش حال لوگوں کو عذاب کے ساتھ پکڑ لیں گے تو وہ چلائیں گے

لَا تَجْئَرُوا الْیَوْمَ١۫ اِنَّكُمْ مِّنَّا لَا تُنْصَرُوْنَ Open ayah 23:65 in the Quran reader

آج مت چلاؤ، بلاشبہ آج ہماری طرف سے تمہاری مدد نہیں کی جائے گی

قَدْ كَانَتْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَكُنْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ تَنْكِصُوْنَۙ Open ayah 23:66 in the Quran reader

تم پر میری آیات کی تلاوت کی جاتی تھیں سو تم تکبر کرتے ہوئے

مُسْتَكْبِرِیْنَ١ۖۗ بِهٖ سٰمِرًا تَهْجُرُوْنَ Open ayah 23:67 in the Quran reader

قرآن کو مشغلہ بناتے ہوئے بےہودہ باتیں کرتے ہوئے الٹے پاؤ بھاگ جاتے تھے

1۔ نسائی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” حتی اذا اخذنا مترفیہم بالعذاب “ سے مراد ہے بدر کے مقتول یعنی وہ کافر جو جنگ بدر میں مقتول ہوئے۔ 2۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ” حتی اذا اخذنا مترفیہم بالعذاب “ کے بارے میں روایت کیا کہ ہم کو ذکر کیا گیا کہ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جن کو اللہ تعالیٰ نے بدر کے دن قتل کیا۔ 3۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” حتی اذا اخذنا مترفیہم بالعذاب “ سے وہ کافر مراد ہیں جو بدر کے دن تلوار کے ساتھ قتل کیے گئے آیت ” اذا ہم یجئرون “ جبکہ یہ لوگ مکہ میں گڑ گڑاتے تھے۔ 4۔ عبد بن حمید نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” حتی اذا اخذنا مترفیہم بالعذاب “ سے مراد وہ لوگ ہیں جو بدر کے دن تلوار کے ساتھ قتل کیے گئے۔ 5۔ ابن ابی حاتم نے ربیع بن انس (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” اخذنا مترفیہم “ سے ان کے تکبر کرنے والے لوگ سے مراد ہیں۔ 6۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” اذا ہم یجئرون “ یعنی وہ مدد طلب کرتے ہیں۔ آیت ” فکنتم علی اعقابکم تنکصون “ یعنی تم پیٹھ پھیر کر جارہے تھے۔ آیت ” سٰمرا تہجرون “ یعنی تم قصہ گوئی کرتے ہو بیت اللہ کے ارد گرد اور تم بیہودہ بکتے ہو۔ 7۔ عبد بن حمید وابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” تنکصون “ سے مراد ہے کہ تم پیچھے ہٹ جاتے تھے۔ 8۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے سے روایت کیا کہ آیت ” مستکبرین بہ “ یعنی تم بیت اللہ اور بیت الحرام کی وجہ سے تکبر کرتے ہوئے ” سمرا “ یعنی ان کی قصہ گوئی کا کوئی خوف نہ تھا۔ کیونکہ ان کو امن دیا گیا تھا جبکہ عرب کے لوگ رات کے وقت قصہ گوئی اور مجلس کرنے والے کے بارے میں ڈرتے تھے اور وہ ایک دوسرے سے لڑتے رہتے تھے اور مکہ والوں کو اس کا خوف نہ تھا بوجہ اس امن کے جو ان کو (بیت اللہ کی وجہ سے) دیا گیا تھا آیت ” تہجرون “ یعنی تم شرک کرتے ہو اور بہتان لگاتے ہو اللہ کے حرم میں اور بیت اللہ کے پاس اور حسن فرمایا کرتے تھے کہ آیت ” سمرا تہجرون “ یعنی اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اللہ کے نبی ﷺ کے خلاف بیہودہ بکتے ہو۔ 9۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” مستکبرین بہ “ یعنی میرے حرم کی وجہ سے (وہ تکبر کرتے تھے) آیت ” سمر تہجرون “ یعنی تم لوگ قرآن، میرے ذکر اور میرے رسول کا مذاق اراتے ہو۔ 10۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” مستکبرین بہ “ یعنی وہ اللہ کے حرم کی وجہ سے (تکبر کرتے تھے) کیونکہ حرم کی حدود میں ان پر کوئی غالب نہیں آیا۔ 11۔ عبد بن حمید نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” مسکتبرین بہ) یعنی وہ میرے حرم میں تکبر کرتے ہیں ” سامرا “ اور رات کو ایسی باتیں کرتے ہیں جو ان کو مناسب نہیں۔ 12۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” مسکتبرین بہ “ یعنی وہ مکہ شہر کی وجہ سے تکبر کرتے تھے (کہ وہ اس کے رہنے والے ہیں) ” سامرا “ یعنی قصہ گوئی کی مجلس کرنے والا ” تہجرون “ یعنی تم لوگ قرآن کے بارے میں نازیبا باتیں کرتے ہو۔ 13۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا آیت ” مستکبرین بہ “ یعنی قرآن کے ساتھ (بیہودہ باتیں کرتے ہو) لہو لعب باطل باتیں حرام ہیں 14۔ الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ارزق نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ” سمرا تہجرون “ کے بارے میں بتائیے کہ اس سے کیا مراد ہے تو انہوں نے فرمایا کہ وہ لوگ لہو و لعب اور باطل باتیں کرتے تھے پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے شاعر کو کہتے ہوئے نہیں سنا۔ وباتو بشعب لہم سامرا اذاخب نیرانہم او قدوا ترجمہ : اور انہوں نے رات گزاری اپنی گھاٹی میں قصہ گوئی کرتے ہوئے جب ان کی آگ بجھ جاتی تو وہ نئے سرے سے جلا لیتے۔ 15۔ سعید بن منصور وابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ قریش بیت اللہ کے ارد گرد بیٹھ کر قصہ گوئی کرتے تھے اور طواف نہیں کرتے تھے اور اس پر فخر بھی کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری آیت ” مستکبرین بہ سمرا تہجرون “ 16۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے ” سمرا تہجرون “ کے بارے میں روایت کیا کہ قریش بیت اللہ کے اردگرد حلقے بنا کر باتیں کیا کرتے تھے۔ 17۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر وابن ابی حاتم والطبرانی وابن مردویہ والحاکم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی آیت ” مستکبرین بہ سمرا تہجرون “ کہ مشرکین اپنی قصہ گوئی کی باتوں میں رسول اللہ ﷺ کے بارے میں بیہودہ بکتے تھے۔ 18۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا آیت ” سمرا تہجرون “ تاء کے نصب اور جیم کے رفع کے ساتھ۔ 19۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا آیت ” سمرا تہجرون “ سے مراد ہے کہ جب وہ قصہ گوئی کرتے تھے تو بیہودہ باتیں کرتے تھے۔ 20۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” سمرا تہجرون “ سے مراد ہے کہ وہ حق کو چھوڑتے ہیں (اور حق کا مذاق اڑاتے ہیں) 21۔ النسائی وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ قصہ گوئی کو ناپسند کیا جانے لگا جب یہ آیت نازل ہوئی آیت ” مستکبرین بہ سمرا تہجرون “ یعنی وہ بیت اللہ کی وجہ سے تکبر کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم اس کے رہنے والے ہیں آیت ” تہجرون “ کہ وہ بیت اللہ کو چھوڑے رکھتے اور اس کو آباد نہیں کرتے تھے (یعنی طواف نہ کرتے تھے )
Ayahs 23:68–75

اَفَلَمْ یَدَّبَّرُوا الْقَوْلَ اَمْ جَآءَهُمْ مَّا لَمْ یَاْتِ اٰبَآءَهُمُ الْاَوَّلِیْنَ٘ Open ayah 23:68 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے اس کلام میں غور نہیں کیا یا ان کے پاس ایسی چیز آئی ہے جو ان سے پہلے ان کے بڑوں کے پاس نہیں آئی

اَمْ لَمْ یَعْرِفُوْا رَسُوْلَهُمْ فَهُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ٘ Open ayah 23:69 in the Quran reader

یا انہوں نے اپنے رسول کو نہیں پہچانا سو وہ اس کے منکر ہو رہے ہیں

اَمْ یَقُوْلُوْنَ بِهٖ جِنَّةٌ١ؕ بَلْ جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ وَ اَكْثَرُهُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ Open ayah 23:70 in the Quran reader

یا وہ یوں کہتے ہیں کہ اس کو دیوانگی ہے بلکہ یہ رسول ان کے پاس حق لے کر آیا ہے اور ان میں اکثر وہ ہیں جو حق کو مکروہ جانتے ہیں

وَ لَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ اَهْوَآءَهُمْ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهِنَّ١ؕ بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِذِكْرِهِمْ فَهُمْ عَنْ ذِكْرِهِمْ مُّعْرِضُوْنَؕ Open ayah 23:71 in the Quran reader

اور اگر حق ان کی خواہشوں کے تابع ہوجائے تو آسمان اور زمین اور جو ان کے اندر ہیں سب تباہ ہوجائے بلکہ ہم نے ان کے پاس ان کی نصیحت بھیجی ہے سو وہ اپنی نصیحت سے روگردانی کر رہے ہیں

اَمْ تَسْئَلُهُمْ خَرْجًا فَخَرَاجُ رَبِّكَ خَیْرٌ١ۖۗ وَّ هُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 23:72 in the Quran reader

کیا آپ ان سے کچھ آمدنی کا سوال کرتے ہیں سو آپ کے رب کی آمدنی بہتر ہے اور وہ سب دینے والوں سے بہتر ہے

وَ اِنَّكَ لَتَدْعُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 23:73 in the Quran reader

اور بلا شبہ آپ انہیں صراط مستقیم کی طرف بلاتے ہیں

وَ اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ عَنِ الصِّرَاطِ لَنٰكِبُوْنَ Open ayah 23:74 in the Quran reader

اور بلاشبہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے، وہ راستے سے ہٹے ہوئے ہیں

وَ لَوْ رَحِمْنٰهُمْ وَ كَشَفْنَا مَا بِهِمْ مِّنْ ضُرٍّ لَّلَجُّوْا فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 23:75 in the Quran reader

اور اگر ہم ان پر مہربانی کریں اور وہ جس تکلیف میں ہیں اسے دور کردیں تو وہ اپنی سرکشی میں بھٹکے ہوئے اصرار کرتے رہیں گے

1۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ” افلم یدبروا القول “ کے بارے میں فرمایا اللہ کی قسم وہ قرآن میں ایسی چیز کو پاتے جو ان کو اللہ کی معصیت سے روک دیتی قوم اگر اس میں غور وفکر کرتی اور سمجھ بوجھ رکھتی۔ 2۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابو صالح (رح) سے آیت ” ام لم یعرفوا رسولہم “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ آپ کو پہچانتے تھے لیکن اس سے حسد کرتے تھے آیت ” ولو اتبع الحق اہواء ہم “ میں حق سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ 3۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” بل اتینہم بذکر ہم “ یعنی ہم نے ان کے لیے واضح کردیا۔ 4۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” بل اتینہم بذکرہم “ یعنی ذکر سے مراد ہے یہ قرآن آیت ” ام تسئلہم خرجا “ یعنی کیا تو ان سے کوئی معاوضہ مانگتا ہے۔ اس پر جو ہم نے آپ کو دیا ہے۔ 5۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ ” خرجا “ سے مراد ہے اجر (یعنی معاوضہ) 6۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” الخرج “ اور اس سے پہلے جو قصہ مذکور ہے وہ کفار قریش کے لیے ہے۔ 7۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ” ام تسئلہم خرجا “ میں خرجا کو الف کے بغیر اور ” فخراج ربک “ میں الف کے ساتھ پڑھا۔ 8۔ ابن ابی حاتم وابن المنذر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا آیت ” ام تسئلہم خرجا فخراج ربک خیر “۔ صراط مستقیم پر چلنے کی دعوت 9۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وانک لتدعوہم الی صراط مستقیم (73) “ یعنی ایسا سیدھا راستہ ہے کہ اس میں کوئی ٹیڑھا پن نہیں۔ ہم کو ذکر کیا گیا کہ اللہ کے نبی ﷺ ایک آدمی سے ملے اور اس سے فرمایا مسلمان ہوجا۔ یہ چیز اس کو بڑی مشکل لگی اور گراں گزری تو اس کو نبی ﷺ نے فرمایا تم بتاؤ اگر تم کسی دشوار گزار راستہ میں ہو اور تم ایک ایسے آدمی سے ملو کہ تم اس کو اور اس کے نسب کو تم پہنچانتے ہو اور وہ تجھ کو ایک آسان اور کھلے راستے کی طرف بلاتا ہے کیا تو اس کا کہنا مانے گا اس نے کہا ہاں آپ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے بلا شبہ تو اس سے بھی زیادہ دشوار گزار راستے میں ہو اور میں اس راستے سے زیادہ آسان اور ہموار راستہ کی طرف بلا رہا ہوں۔ اگر تجھے اس راتہ کی طرف بلایا جاتا۔ اور ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ نبی ﷺ ایک آدمی سے ملے اور اس سے فرمایا مسلمان ہوجا اس کو یہ چیز بڑی شاق گزری اللہ کے نبی ﷺ نے اس سے فرمایا تم بتاؤ اگر تیرے دونوجوان ہوں ان میں سے ایک بات کرے تو تجھ سے سچ کہے اور اگر تو اس کے پاس امانت رکھے تو تجھ کو ادا کردے دوسرا اگر بات کرتے تو تجھ سے جھوٹ بولے اور اگر تو اس کے پاس امانت رکھے تو خیانت کرے ؟ اس نے کیوں نہیں میرا نوجوان تو وہ ہے جب مجھ سے بات کرے تو مجھ سے سچ بولے اور جب اس کے پاس امانت رکھوں تو مجھ کو ادا کردے نبی ﷺ نے فرمایا تم بھی اپنے رب کے نزدیک ایسے ہی ہوگے۔ 10۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے آیت ” وان الذین لا یؤمنون بالاٰخرۃ عن الصراط لنکبون “ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ حق سے ہٹ جانے والے ہیں۔ 11۔ ابن جریر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولو رحمنہم وکشفنا ما بہم من ضر “ میں ضر سے مراد ہے بھوک۔