24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayah 24:1

سُوْرَةٌ اَنْزَلْنٰهَا وَ فَرَضْنٰهَا وَ اَنْزَلْنَا فِیْهَاۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ لَّعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 24:1 in the Quran reader

یہ ایک سورت ہے جو ہم نے نازل کی ہے اور ہم نے اس کی ادائیگی کا ذمہ دار بنایا اور ہم نے اس میں واضح آیات نازل کی ہیں تاکہ تم سمجھو

1۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حارثہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” سورة انزلنہا وفرضناہا “ یعنی ہم نے اس کو بیان کیا 2۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وفرضناہا “ یعنی ہم نے اس کی تفسیر کی کہ حلال کا حکم دیا ور حرام سے روکا۔ 3۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وفرضناہا “ سے مراد ہے اللہ تعالیٰ نے اس میں اپنے فرائض کو فرض فرمایا اس کے حلال کو حلال فرمایا اور اس کے حرام کو حرام فرمایا اور اس کی حدود کو معین فرمایا ور اپنی اطاعت کا حکم فرمایا اور اپنی نافرمانی سے روکا۔ 4۔ ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے آیت ” وفرضناہا “ کو تخفیف کے ساتھ پڑھا۔ 5۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وانزلنا فیہا آیات بینات “ یعنی حلال کو حرام اور حدود کے احکام نازل فرمائے۔
Ayah 24:2

اَلزَّانِیَةُ وَ الزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ١۪ وَّ لَا تَاْخُذْكُمْ بِهِمَا رَاْفَةٌ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ۚ وَ لْیَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَآئِفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:2 in the Quran reader

زنا کرنے والی عورت اور زنا کرنے والا مرد ان میں سے ہر ایک کو سو درے مارو اور اللہ کے دین میں ان دونوں کے بارے میں تمہیں رحمت نہ پکڑے اگر تم ایمان لاتے ہو اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور ان کی سزا کے وقت مومنین کی ایک جماعت حاضر رہے

زناکاری کی سزا 1۔ عبدالرزاق وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عطاء (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت ” ولا تاخذکم بہما رافۃ فی دین اللہ “ حد کے بارے میں ہے کہ ان پر قائم کی جائے اور ان کو معطل نہ کیا جائے اور اس کا یہ معنی نہیں کہ ان کو کوڑے مارے وقت سختی نہ کی جائے۔ 2۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے آیت ” ولا تاخذکم بہما رافۃ “ کے بارے میں فرمایا کہ حد کے قائم کرنے میں تم کو نرمی نہ پکڑے۔ 3۔ عبد بن حمید نے ضحاک (رح) سے روایت کیا آیت ” ولا تاخذکم بھما رافۃ “ یعنی کو نرمی لاحق نہ ہوجائے کہ تم حدود کو معطل کرنے لگ جاؤ۔ 4۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے عمرا بن حدیر (رح) سے روایت کیا کہ میں نے نے ابی مجلز سے آیت ” ولا تاخذ کم بہما رافۃ فی دین اللہ “ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ جب ہم لوگو کو رجم کریں یا کوڑے ماریں یا ہاتھ کاٹیں تو شفقت اور نرمی ہم کو لاحق نہ ہوجائے انہوں نے جواب دیا نہیں ایسا نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب ہے کہ جب کسی کو بادشاہ کے سامنے پیش کیا جائے تو اس کے لیے مناسب نہیں کہ ان پر رحم کرتے ہوئے ان کو چھوڑ دے یہاں تک کہ ان پر حد قائم کرے۔ 5۔ عبد بن حمید وابن جریر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولا تاخذکم بہما رافۃ “ سے مراد ہے کہ تم ان کو سخت کوڑے سے مارو۔ 6۔ عبد بن حمید نے ابراہیم وعامر (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولا تاخذکم بہما رافۃ “ سے مراد ہے زنا میں سخت کوڑے مارو اور ہر ایک عضو کو اس میں سے اس کا حصہ دو ۔ 7۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر نے شعبہ (رح) سے روایت کیا کہ میں نے حماد سے پوچھا کہ زانی کو سخت کوڑے مارے جائیں ؟ فرمایا ہاں اور اس سے کپڑوں کو اتار دیا جائے اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت ” ولا تاخذکم بہما رافۃ فی دین اللہ “ (یعنی تم کو اللہ کے دین میں نرمی نہ پکڑے ) ۔ میں نے ان سے کہا کہ یہ تو فیصلے میں ہے فرمایا کہ یہ فیصلے اور کوڑے لگانے کے بارے میں ہے۔ 8۔ عبدالرزاق فی المصنف نے عمرو بن شعیب (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ اور اس کے رسول نے فیصلہ فرمادیا ہے کہ غیر شادہ شدہ مرد اور عورت بدکاری کریں اور چار آدمی گواہی دے دیں تو ان کو اس طرح سو کوڑے مارے جائیں جیسے اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا اور دونوں کو اس جگہ جلا وطن کردیا جائے جہاں ان کی رہائش نہ تھی اور ان دونوں کی جلا وطنی میری سنت ہے۔ 9۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عبیداللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ابن عمر ؓ کی ایک باندی نے زنا کا ارتکاب کیا تو انہوں نے اس کے پاؤں اور اس کی پیٹھ پر ضربیں لگائی۔ میں نے یہ آیت پڑھی آیت ” ولا تاخذ کم بہما رافۃ فی دین اللہ “ تو انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ کو حکم نہیں دیا کہ میں اس کو قتل کروں اور میں اس کے سر پر کوڑے ماروں اور میں نے اس کو درد میں مبتلا کیا ہے جہاں پر میں نے اس کو مارا ہے۔ 10۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابو برزہ اسلمی ؓ سے روایت کیا کہ ان کے پاس ان کے خاندان کی ایک باندی لائی گئی۔ جس نے زنا کیا تھا اور ان کے پاس دس آدمیوں کی ایک جماعت (بیٹھی ہوئی) تھی انہوں نے اس کو رجم کرنے کا حکم فرمایا باندی کو ایک کونے میں بٹھا دیا گیا پھر انہوں نے ایک کپڑے کا حکم فرمایا جو اس پر ڈال دیا گیا۔ پھر ایک آدمی کو کوڑا دیا گیا اور اس سے فرمایا اس کو پچاس کوڑے لگاؤ نہ ہلکھے اور نہ بہت سخت وہ آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کوڑے لگائے اور اس نے متفرق جگہوں پر مارنا شروع کیا پھر (یہ آیت) پڑھی۔ آیت ” ولیشہد عذابہما طائفۃ من المؤمنین ‘ ‘ 11۔ عبد بن حمید وابن جریروابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت ” ولیشہد عذابہما طائفۃ من المومنین “ کے بارے میں فرمایا کہ الطائفہ سے مراد ہے ایک مرد یا زائد آدمی۔ 12۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا آیت ” ولیشہد عذابہما طائفۃ من المؤمنین “ میں ” الطائفۃ “ سے مراد ہے دس آدمی۔ 13۔ ابن جریر نے مجاہد (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ” الطائفۃ “ سے مراد ہے ایک سے ہزار تک (کی جماعت) ۔ شرعی سزاؤں میں عبرت بھی ہے 14۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ان کو سزا دینے کے وقت ایمان والوں میں سے ایک جماعت حاضر ہوتا کہ وہ عبرت اور نصیحت اور عبرت ناک بن جائے۔ 15۔ ابن جریر نے عکرمہ (رح) نے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ چاہیے کہ دو آدمی حاضر ہوں یا اس سے زیادہ۔ ، 16۔ ابن جریر نے زہری (رح) سے روایت کیا کہ ” الطائفہ “ سے مراد ہے تین آدمی یا اس سے زیادہ۔ 17۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ” الطائفہ “ سے مراد ہے چار آدمی۔ 18۔ ابن ابی حاتم نے نصر بن علقمہ سے آیت ” ولیشہد عذابہما طائفۃ من المومنین “ کے بارے میں فرمایا کہ ان افراد کا موجود ہونا اس لیے نہیں کہ ان کو ذلیل اور رسوا کیا جائے بلکہ اس لیے ہے تاکہ وہ لوگ ان دونوں کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں تو بہ اور رحمت کے ساتھ۔ 19۔ ابن ابی شیبہ نے شیبانی (رح) سے روایت کیا کہ میں ابنی ابی اوفی سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ نے رجم کیا تھا فرمایا ہاں پھر میں نے پوچھا سورة نور کے نازل ہونے کے بعد یا اس سے پہلے (آپ نے رجم فرمایا تھا) انہوں نے فرمایا میں نہیں جانتا۔
Ayah 24:3

اَلزَّانِیْ لَا یَنْكِحُ اِلَّا زَانِیَةً اَوْ مُشْرِكَةً١٘ وَّ الزَّانِیَةُ لَا یَنْكِحُهَاۤ اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِكٌ١ۚ وَ حُرِّمَ ذٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:3 in the Quran reader

زانی نکاح بھی کسی کے ساتھ نہیں کرتا بجز زانیہ یا مشرکہ کے اور زانیہ کے ساتھ بھی اور کوئی نکاح نہیں کرتا بجز زانی یا مشرک کے اور یہ مسلمانوں پر حرام کیا گیا ہے

1۔ عبدالرزاق والفریابی و سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن ابی شیبہ وابن المنذر وابن ابی حاتم وابوداوٗد فی ناس کہ والبیہقی فی سننہ والضیاء والمقدس فی مختارہ من طریق سعید بن جبیر ابن عباس ؓ سے آیت ” الزانی لا ینکح الا زانیۃ “ کے بارے میں فرمایا کہ یہاں نکاح سے مراد عقد نکاح نہیں لیکن جماع کرنا ہے لیکن مطلب یہ ہے کہ بدکارہ کے ساتھ بدکاری ہے بدکار مرد یا مشرک ہی کرتا ہے ایمان والوں پر بدکاری حرام کردی گئی۔ زانیہ اور مشرک کا نکاح 2۔ ابن ابی حاتم نے مقاتل (رح) سے روایت کیا کہ جب مہاجر مدینہ منورہ آئے تو ان میں سے اکثر تنگدستی کا شکار تھے مگر چند افراد مالدار تھے اور مدینہ منورہ میں قیمت مہنگی تھی اور سخت محنت تھی اور اہل کتاب کی کچھ عورتیں اعلانیہ بدکاری کرتی تھیں اور انصار میں سے بھی امیہ عبداللہ بن ابی کی لونڈی تھی اور نسی کہ بنت امیہ انصار میں سے ایک آدمی کی لونڈی تھی انصار کی لونڈیوں میں سے بدکار عورتوں نے اپنے دروازہ پر ایسی نشانیاں لگارکھی تھیں تاکہ وہ پہچانی جائے کہ وہ زانیہ ہے اور وہ اہل مدینہ کے خوش حال لوگوں میں سے تھٰں مہاجرین مسلمانوں میں سے بعض نے ان عورتوں کے مال میں طمع کیا جو وہ کماتی تھیں اس مشقت سے بچنے کے لیے جس میں وہ تھے۔ بعض نے بعض پر اپنی رائے کا اظہار کیا کہ کاش ہم ان بعض زناکار عورتوں سے نکاح کرلیں تو ان کا بچا ہوا کھانا تو مل ہی جائے گا ان میں سے بعض نے کہا کہ ہم رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں مشورہ کرتے ہیں تو وہ لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! ہم کو سخت تنگدستی نے گھیر لیا ہے اور ہم کوئی چیز کھانے کو نہیں پاتے اور بازار میں اہل کتاب کی کچھ بدکار عورتیں ہیں اور ان کی لونڈیاں ہیں اور انصار کی بھی لونڈیاں ہیں وہ اپنے لیے کمائی کرتی ہیں ہمارے لیے مناسب ہے کہ ہم ان سے نکاح کرلیں اور ان کی کمائی میں سے جو زائد مال ہو ہم اسے حاصل کریں جب ہم ان سے بےنیاز ہوجائیں گے تو ان کو چھوڑ دیں گے تو (اس پر) اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ آیت ” الزانی لا ینکح “ تو زناکار عورتوں سے نکاح کرنا ایمان والوں کے لیے حرام کردیا گیا (یعنی) ایسی عورتیں جو اعلانیہ بدکاری کرتی ہوں۔ 3۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر سے روایت ہے کہ مجاہد (رح) نے آیت الزانی لاینکح الا زانیۃ او مشرکۃ۔ کے بارے میں فرمایا کہ زمانہ جاہلیت میں بدکار عورتیں تھی ان میں سے ایک عورت خوبصورت تھی جس کا نام ام مہزول تھا غریب مسلمانوں میں سے کوئی ان میں سے کوئی ان میں سے کوئی ان میں سے کسی سے شادی کرلیتا اور وہ عورت اپنی کمائی میں سے اس پر خرچ کرتی تھی تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں میں سے کسی کو بھی ان سے نکاح کرنے کو منع فرمادیا۔ 4۔ عبد بن حمید نے روایت کیا کہ سلیمان بن یسار (رح) نے آیت ” الزانی لاینکح الا زانیۃ او مشرکۃ “ کے بارے میں فرمایا کہ زمانہ جاہلیت میں بدکار عورتیں تھیں تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان سے نکاح کرنے سے منع فرمادیا تھا۔ 5۔ عبد بن حمید وابن جریر نے عطاء (رح) سے روایت کیا کہ زمانہ جاہلیت میں بدکار عورتیں تھی جو بغایا آل فلاں اور بغایا آل فلاں کے نام سے مشہور تھیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت ” الزانی لا ینکح الا زانیۃ او مشرکۃ “ کے بارے میں فرمایا کہ کچھ لوگوں نے اعلانیہ بدکار عورتوں سے بدکاری کا ارادہ کیا۔ دور جاہلیت میں ایسا ہوتا تھا ان سے کہا گیا کہ اب یہ حرام ہیں تو انہوں نے ان سے نکاح کرنے کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر نکاح کو بھی حرام کردیا۔ 7۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ اسلام کے شروع میں کچھ لوگ بدکاری کرتے تھے تو انہوں نے کہا کہ ہم ان عورتوں سے نکاح کیوں نہ کرلیں جن کے ساتھ ہم بدکاری کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت آیت ” الانیۃ لاینکحہا الا زان او مشرک “ اتاری۔ 8۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید نے ضحاک (رح) سے آیت ” الزانیۃ لا ینکحہا الا زان او مشرک “ کے بارے میں فرمایا کہ آیت میں نکاح سے مرادبدکاری ہے اور اس سے نکاح کرنا مراد نہیں ہے۔ 9۔ عبد بن حمید وابن جریر نے سعید بن جبیر (رح) سے آیت ” الزانیۃ لاینکحہا الا زان او مشرک “ کے بارے میں روایت کیا کہ بدکار عورت اور مشرکہ کے ساتھ کوئی بدکاری نہیں کرتا جب بدکاری کرتا ہے مگر بدکار ہی ایسا کرتا ہے۔ ابن ابی شیبہ نے عکرمہ سے اسی طرح روایت کیا۔ ایمان والوں پر زنا حرام ہے 10۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والبیہقی نے ابن عباس ؓ نے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ زنا کرنے والا اہل قبلہ میں نہیں زنا کرتا مگر اس طرح کہ زانیہ عورت سے اہل قبلہ میں سے یا مشرکہ عورت سے بدکاری کرتا ہے جو اہل قبلہ میں سے نہیں اور زانیہ عورت اہل قبلہ میں سے نہیں زنا کرتی مگر اس طرح کے مرد سے اہل قبلہ میں سے یا مشرک مرد سے غیر اہل قبلہ میں سے اور ایمان والوں پر زنا حرام کردیا گیا۔ 11۔ سعید بن منصور نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے زنا کو حرام فرمایا تو کچھ زانی عورتیں تھیں حسن و جمال والی اور مال والی تو لوگوں نے کہا جب زنا حرام کردیا گیا اور ان کو طلاق دی جائے تو ہم ان سے نکاح کرلیں گے تو اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی آیت الزانی لا ینکح الا زانیۃ۔ 12۔ احمد وعبد بن حمید والنسائی والحاکم وصححہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والبیہقی فی سننہ وابو داوٗد فی ناسخہ عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ایک عورت تھی جس کو ام مہزول کہا جاتا تھا اور وہ کسی مرد سے زنا کراتی تھی اور یہ شرط رکھتی تھی کہ وہ اپنا مال اس پر خرچ کرتے گی تو نبی ﷺ کے اصحاب میں سے ایک آدمی نے اس سے نکاح کرنے کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت ” الزانیۃ لا ینکحہا الا زان او مشرک “۔ 13۔ عبد بن حمید وابوداوٗد والترمذی وحسنہ ولنسائی وابن ماجہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والحاکم وصححۃ والبیہقی عمرو بن شعیب (رح) سے روایت کیا کہ اور وہ اپنے باپ دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی تھا جس کو مرثد کہا جاتا تھا وہ قیدیوں کو مکہ سے مدینہ لایا کرتا تھا مکہ میں ایک عورت تھی جس کو عناق کہا جاتا تھا اور وہ اس کی دوست تھی۔ اس نے مکہ کے قیدیوں میں سے ایک آدمی کو پایا جسے وہ اٹھا لے جائے اس نے کہا کہ وہ چاندنی رات کو مکہ کی دیواروں میں سے ایک دیوار کے سائے کی طرف آیا (وہاں) عناق بھی آگئی۔ اس نے دیوار کے نیچے سائے کو دیکھا جب وہ میری طرف آئی تو مجھے پہچان لیا اور کہنے لگی مرثد ہے میں نے کہا مرث ہوں کہنے لگی مرحبا آجاؤ اور ہمارے پاس رات گزارو میں نے کہا عناق اللہ تعالیٰ نے زنا کو حرام کردیا۔ کہنے لگی اے خیمہ والو ! یہ آدمی تمہارے قیدی اٹھا لے جاتا ہے یہ سن کر آٹھ آدمی میرے پیچھے لگ گئے اور میں ایک گھاٹی میں داخل ہوگیا ایک غار کی طرف آیا اور اس میں داخل ہوگیا وہ لوگ آئے یاں تک کہ میرے سر پر کھڑے ہو کر پیشاب کرنے لگے اور ان کا پیشاب میرے سر پر پڑا مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو مجھ سے پھیر دیاپھو وہ لوٹ گئے اور میں بھی اپنے ساتھی کی طرف لوٹ آیا میں نے اس کو سوار کیا یہاں تک کہ مدینہ پہنچ گیا میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ میں عناق سے نکاح کرلوں ؟ آپ خاموش رہے مجھے کوئی جواب نہیں دیا یہاں تک کہ یہ آیت الزانی لاینکح الا زانیۃ او مشرکۃ والزانیۃ لا ینکحہا الا زان او مشرک۔ وحرم ذلک علی المومنین۔ نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس سے نکاح نہ کر۔ 14۔ ابن جریر نے عبداللہ بن عمر ؓ سے آیت الزانی لا ینکح الا زانیۃ او مشکرۃ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت اعلانیہ بدکاری کرانے والی عورتوں کے بارے میں نازل ہوئی جو زمانہ جاہلیت میں تھیں وہ بدکار اور مشرکہ عورتیں تھی اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کا ان سے نکاح کرنا حرام قرار دیا۔ زانیہ سے نکاح حلال ہے 16۔ ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن بی حاتم وابن مردویہ من طریق سعید جو ابن عباس ؓ کے آزاد کردہ غلام تھے سے روایت کیا کہ میں ابن عباس کے ساتھ تھ ایک آدمی آیا اور کہا میں ایک عورت سے محبت کرتا تھا اور میں اس سے اس کام کو پہنچ گیا جو اللہ نے مجھ پر حرام کیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے توبہ نصیب فرمائی ہے اور میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں اس سے نکاح کرلوں تو لوگوں نے یہ آیت آیت ” الزانی لاینکح الا زانیۃ او مشرکۃ۔ پڑھ کر سنائی ابن عباس ؓ نے فرمایا اس آیت کا یہ موقع محل نہیں ہے بلاشبہ اعلانیہ بدکاری کرنے والی عورتیں تھیں انہوں نے اپنے دروازوں پر جھنڈے لگائے ہوئے تھے لوگ آتے تھے اور اسی کے ذریعہ وہ پہچانی جاتی تھیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (پھر فرمایا) تو اس سے نکاح کرلو اور جو اس میں گناہ ہوگا وہ مجھ پر ہے۔ 17۔ عبد بن حمید وابن ابی شیبہ وابن ابی حاتم والبیہقی نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ زمانہ جاہلیت میں بدکار عورتیں تھی دور اسلام میں ایک آدمی ان میں سے کسی سے شادی کرلیتا اور اس سے لطف اندوز ہوتا تو اس نکاح کو اسلام میں حرام کردیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری آیت الزانی لاینکح الا زانیۃ او مشرکۃ۔ 18۔ ابو داوٗد ابن المنذر وابن عدی وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا زانی حد لگایا ہوا نہیں نکاح کرتا مگر اپنی جیسی حد لگائی ہوئی عورت سے۔ 19۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید نے حسن (رح) نے آیت الزانی لاینکح الا زانیۃ کے بارے میں فرمایا حد لگایا ہوا نہیں نکاح کرتا مگر اپنی جیسی حد لگائی ہوئی عورت سے۔ 20۔ ابن ابی شیبہ و سعید بن منصور وابن المنذر نے علی ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے ایک عورت سے نکاح کیا پھر اس نے دوسری عورت سے زنا کرلیا تو انہوں نے اس پر حد قائم کی پھر لوگ اس کو علی ؓ کے پاس لے آئے تو آپ نے اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی کردی اور اس سے فرمایا تو اپنی جیسی سزا یافتہ عورت سے ہی شادی کر۔ 21۔ احمد و نسائی نے ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تین شخص ایسے ہیں جو جنت میں داخل نہیں ہوں گے اور اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان پر نظر رحمت بھی نہیں فرمائیں گے والدین کی نافرمانی کرنے والا اور عورت مرد کی شکل بنانے والی اور دیوث (یعنی بےغیرت) 22۔ ابن ماجہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا جو شخص ارادہ کرے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے خوب پاک صاف ہو کر ملاقات کرے تو اس کو چاہیے کہ وہ آزاد عورتوں سے نکاح کرے۔ 23۔ ابن ماجہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا جو شخص ارادہ کرے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے خوب پاک صاف ہو کر ملاقات کرے تو اس کو چاہیے کہ وہ آزاد عورتوں سے نکاح کرے۔ 23۔ سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابوداوئد وابوعبید معافی التاریخ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والبیہقی نے سعید بن المسیب (رح) سے اس آیت آیت الزانی لاینکح الا زانیۃ کے بارے میں روایت کیا تو صحابہ ؓ کا خیال تھا اس آیت کو بعد والی آیت نے منسوخ کردیا پھر فرمایا آیت وانکحوا الایامی منکم۔ (اور نکاح کردو بغیر بیوی والے مردوں اور بغیر شوہر والی عورتوں کا) اور اس سے مراد مسلمان میں سے ہیں۔
Ayahs 24:4–5

وَ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوْا بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمٰنِیْنَ جَلْدَةً وَّ لَا تَقْبَلُوْا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًا١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَۙ Open ayah 24:4 in the Quran reader

اور جو لوگ پاک دامن عورتوں کو تہمت لگائیں پھر چار گواہ نہ لائیں تو ان کو اسی درے مارو۔ اور کبھی ان کی گواہی قبول نہ کرو۔ اور یہ لوگ فاسق ہیں

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَ اَصْلَحُوْا١ۚ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:5 in the Quran reader

مگر جو لوگ اس کے بعد توبہ کرلیں اور اصلاح کرلیں تو بلاشبہ اللہ بخشنے والا ہے مہربان ہے۔

1۔ ابن ابی حاتم نے روایت کیا کہ سعید بن جبیر (رح) نے آیت والذین یرمون المحصنت ثم لم یأتوا باربعۃ شہداء کے بارے میں فرمایا کہ حکام ان کو کوڑے لگوائیں جب ان کی طرف معاملہ لایا جا ائے تو وہ تہمت لگانے والے کو اسی کوڑ لگوائیں آیت ولا تقبلوا لہم شہادۃ ابدا۔ اور ان کی گواہی کبھی بھی قبول نہ کی جائے حد لگائے جانے کے بعد جب تک وہ زندہ رہیں آیت واء لئک ہم الفسقون۔ یعنی اس میں وہ نافرمانی کرنے والے ہیں جو انہوں نے جھوٹی تہمت لگائی۔ 2۔ ابو داوٗد فی ناسخہ وابن المنذر ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت والذین یرمون المحصنت ثم لم یأتو اباربعۃ شہداء میں سے پھر استثنی کرتے ہوئے فرمایا آیت ” الا الذین تابوا من بعد ذلک واصلحوا “ یعنی اللہ تعالیٰ نے نافرنامی سے ان کی توبہ قبول فرمائی لیکن گواہی کبھی قبول نہ ہوگی۔ 3۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ نے آیت والذین یرمون المحصنت سے لے کر رحیم تک کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ایسے جرم کرنے والے کے بارے میں کوڑے مارنے کا حکم دیا تو بہ قبول ہوگی اور گواہی کو رد کردیا جائے گا۔ 4۔ سعید بن منصور وابن جریر نے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ نے ابوبکر ؓ سے فرمایا اگر تو توبہ کرے تو میں تیری گواہی قبول کرلوں گا۔ 5۔ ابن مردویہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے اس آیت آیت الا الاذین تابو من بعد ذالک واصلحو کے بارے میں فرمایا ان لوگوں کی توبہ یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو جھٹلائیں۔ اگر وہ اپنے آپ کو جھٹلائیں تو ان کی گواہی قبول کی جائے گی۔ حد قذف والوں کی شہادت قبول نہیں۔ 6۔ ابو داوٗد فی ناسخہ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آپ نے سورة نور کی آیت آیت ” والذین یرمون المحصنت ثم لم یأتوا باربعۃ شہداء فاجلدوہم “ کے بارے میں فرمایا کہ اس حکم سے آیت ” والذین یرمون ازواجہم ولم یکن لہم شہداء الا انفسہم “ کو خارج کردیا گیا کیونکہ میاں بیوی جب دونوں قسم اٹھائیں تو ان میں جدائی کردی جائے گی اگر دونوں نے قسم نہ اٹھائی تو حد کو قائم کیا جائے گا کوڑے مارنا یا سنگسار کرنا۔ 7۔ ابن المنذر وابن جریر والبیہقی فی سننہ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت ” ولا تقبلوا لہم شہادۃ ابدا “ پھر فرمایا آیت الا الذین تابو، یعنی جس نے توبہ کی اور اپنی اصلاح کرلی تو اس کی گواہی اللہ کی کتاب میں قبول کی جائے گی۔ 8۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے سعید بن المسیب (رح) سے روایت کیا کہ مغیرہ بن شعبہ کی بدکاری پر تین آدمیوں نے گواہی دی۔ اور زیاد نے گواہی دینے سے انکار کردیا اور عمر ؓ نے ان تینوں کو حد لگائی اور ان سے فرمایا تم توبہ کرو تمہاری گواہی قبول کی جائے گی دو آدمیوں نے توبہ کی اور ابوبکرہ نے توبہ نہیں کی تو اس کی گواہی کو قبول نہیں کیا جاتا تھا اور ابو بکرہ زیاد کے ماں شریک بھائی تھے جب زیاد کی وجہ سے حد قذف ہوگئی تو ابوبکرہ نے قسم کھائی کہ میں اس سے کبھی بات نہیں کروں گا تو زیاد سے مرتے دم تک بات نہیں کی۔ 9۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے عطاء (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ جب تہمت لگانے والا توبہ کرے اور اپنے آپ کو جھٹلادے تو اس کی گواہی کو قبول کی اجائے گا۔ 10۔ عبد بن حمید نے شعبی زہری طاؤس اور سمروق رحمہم اللہ سب نے روایت کی جب تہمت لگانے والا توبہ کرلے تو اس کی گواہی کو قبول کیا جائے اور اس کی توبہ یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو جھٹلا دے۔ 11۔ عبد بن حمید نے سعید بن المسیب اور حسن رحمہم اللہ سے روایت کیا کہ تہمت لگانے والا جب توبہ کرلے تو اس کی توبہ کا معاملہ اس کے اور اللہ کے درمیان ہے اور اس کی بری گواہی قبول نہ کی جائے گی۔ 12۔ عبد بن حمید نے مکحول (رح) سے تہمت لگانے والے کے بارے میں روایت کیا کہ جب وہ توبہ کرے تو اس کی گواہی قبول نہ ہوگی۔ 13۔ عبد بن حمید نے محمد بن سیرین (رح) سے روایت کیا کہ تہمت لگانے والا جب توبہ کرے تو اس کی توبہ اس کے اور اللہ کے درمیان ہے لیکین اس کی گواہی کبھی قبول نہ ہوگی۔ 14۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ اس کی گواہی قبول نہیں ہے۔ 15۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن المنذر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ اس کی توبہ اس کے اور اس کے رب کے درمیان ہے کہ اسے عذاب عظیم سے بچائے لیکن اس کی گواہی قبول نہ ہوگی۔ 16۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولاتقبلوا لہم شہادۃ ابدا “ (یعنی ان کے لیے کبھی گواہی قبول نہ ہوگی اور حسن (رح) سے فرمایا کرتے تھے کہ تہمت لگانے والے کی کبھی گواہی قبول نہیں کی جائے اس کی توبہ کا معاملہ اس کے اور اللہ کے درمیان ہے۔ 17۔ عبد بن حمید وعبد الرزاق وابن جریر وابن المنذر نے ابن جریر (رح) سے روایت کیا کہ ہر حد والے کی گواہی جائز ہے مگر تہمت لگانے والے کی نہیں کیونکہ اس کی توبہ اس کے اور اس کے رب کے درمیان ہے۔ 18۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ تہمت لگانے والے کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی اس کی توبہ اس کے اور اس کے رب کے درمیان ہے۔ 19۔ عبد بن حمید نے عیسیٰ بن عاصم (رح) سے روایت کیا کہ ابوبکرہ کے پاس جب کوئی آدمی آتا تاکہ اس کا گواہ بنے تو وہ کہتے میرے علاوہ دوسرے کو گواہ بنا لو کیونکہ مسلمانوں نے مجھے فاسق قرار دیا ہے۔ 20۔ عبد بن حمید نے سعید بن المسیب (رح) سے روایت کیا کہ میں عمر بن خطاب ؓ کے پاس حاضر تھا جب مغیر بن شعبہ ؓ پر تہمت لگانے والوں پر حد قذف جاری کی تھی ان میں سے ابوبکر ماتع اور شبل بھی تھے پھر انہوں نے ابوبکرہ کو بلایا اور اس سے فرمایا اگر تو اپنے آپ کو جھٹلاتا ہے تو تیری گواہی جائز ہوگی تو اس نے اپنے آپ کو جھٹلانے سے انکار کردیا اور عمر ؓ ان کی گواہی کو ان کے مرنے تک قبول نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت ” الا الذین تابوا “ او ان کی توبہ سے مراد ان کا اپنے آپ کو جھٹلانا ہے۔ حد قذف اسی کوڑے 21۔ عبدالرزاق نے عمرو بن شعیب (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے یہ فیصل فرمادیا ہے کہ تین یا دو یا ایک جب بدکاری کی تہمت لگائیں تو ان کی گواہی قبول نہ کی جائے گی اور ان کو اسی اسی کوڑے لگائیں جائیں گے اور ان کی گواہی کبھی بھی قبول نہ کی جائے۔ یہاں تک کہ مسلمانوں کے لیے ان کی پکی توبہ اور اصلاح واضح ہوجائے۔ 22۔ عبد بن حمید نے جعفر بن یرقان (رح) سے روایت کیا کہ میں نے میمون بن مہران سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا (یعنی) آیت ” والذین یرمون المحصنت “ سے لے کر آیت ” الا الذین تابوا “ تک کہ جس میں اللہ تعالیٰ نے توبہ کا ذکر کیا ہے اور دوسری آیت میں فرمایا آیت ” ان الذین یرمون المحصنت الغفلت المومنت لعنوا فی الدنیا والاٰ خرۃ والہم عذاب عظیم “۔ پھر فرمایا جہاں تک پہلی آیت کا تعلق ہے تو اس میں ممکن ہے کہ عورت نے ایسا کام کیا ہوا اور جہان تک دوسری آیت کا تعلق ہے تو یہ وہ عورت ہے کہ جس نے ایسا کام بالکل ہی نہ کیا ہو۔ 23۔ ابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ اور اہل مکہ کے درمیان معاہدہ تھا تو کوئی عورت ہجرت کر کے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں مدینہ منورہ حاضر ہوجاتی تو مشرکین کہتے کہ یہ مردوں کی طلب میں نکلی ہے تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا آیت ” والذین یرمون المحصنت “ آیت کے آخر تک۔ 24۔ عبدالرزاق نے حس بصری (رح) سے روایت کیا کہ زنا جھوٹی تہمت لگانے سے زیادہ سخت ہے اور جھوٹی تہمت شراب پینے سے زیادہ سخت ہے۔ 25۔ عبدالرزاق نے عطاء (رح) سے روایت کیا کہ زانی کو کوڑے جھوٹ تہمت اور شراب پینے والے سے سخت لگائے جائیں اور حد قذف حد شراب سے زیادہ سخت ہوگی واللہ تعالیٰ اعلم۔
Ayahs 24:6–10

وَ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ اَزْوَاجَهُمْ وَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ شُهَدَآءُ اِلَّاۤ اَنْفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ اَحَدِهِمْ اَرْبَعُ شَهٰدٰتٍۭ بِاللّٰهِ١ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 24:6 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنی بیویوں کو تہمت لگائیں اور ان کے پاس ان کی اپنی جانوں کے علاوہ گواہ نہ ہوں تو یہ تہمت لگانے والا اللہ کی قسم کھا کر چار مرتبہ یوں کہے کہ بلاشبہ وہ سچوں میں سے ہے

وَ الْخَامِسَةُ اَنَّ لَعْنَتَ اللّٰهِ عَلَیْهِ اِنْ كَانَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 24:7 in the Quran reader

اور پانچویں مرتبہ یوں کہے کہ مجھ پر اللہ کی لعنت ہو اگر میں جھوٹا ہوں

وَ یَدْرَؤُا عَنْهَا الْعَذَابَ اَنْ تَشْهَدَ اَرْبَعَ شَهٰدٰتٍۭ بِاللّٰهِ١ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الْكٰذِبِیْنَۙ Open ayah 24:8 in the Quran reader

اور عورت کی سزا اس طرح ٹل جائے گی کہ وہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر یوں کہے کہ بلاشبہ یہ جھوٹوں میں سے ہے

وَ الْخَامِسَةَ اَنَّ غَضَبَ اللّٰهِ عَلَیْهَاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 24:9 in the Quran reader

اور پانچویں مرتبہ یوں کہے کہ مجھ پر اللہ کا غضب ہو اگر یہ سچوں میں سے ہو

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ وَ اَنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 24:10 in the Quran reader

اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی اور یہ کہ بلاشبہ اللہ بہت توبہ قبول فرمانے والا ہے حکمت والا ہے تو تم بڑی مضرتوں میں پڑجاتے۔

1۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے عاصم بن عدی (رح) سے روایت کیا کہ جب یہ آیت آیت ” والذین یرمون المحصنت ثم لم یأتوا باربعۃ شہداء “ نازل ہوئی میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ یہاں تک کہ ہم چار گواہوں کو لے آئیں تو اتنے میں وہ آدمی نکل بھاگے گا میں تھوڑے دن ہی ٹھہرا تھا اچانک میرے چچا کا بیٹا اس کے ساتھ اس کی بیوی اور اس عورت کے ساتھ اس کا ایک بیٹا تھا اور وہ کہہ رہی تھی یہ تیرا بیٹا ہے اور بھتیجا کہہ رہا تھا یہ مجھ سے نہیں ہے تو آیت لعان نازل ہوئی عاصم نے فرمایا میں پہلا آدمی ہوں جس نے اس بارے میں بات کی اور میں پہلا آدمی ہوں جو اس کے ذریعہ مبتلا ہوا۔ زنا کے ثبوت کے لیے چار گواہ ضروری ہیں 2۔ احمد وعبد الرزاق والطیالسی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابوداوٗد وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت آیت ’ ’ والذین یرمون المحصنت ثم لم یأتوا باربعۃ شہداء “ نازل ہوئی سعد بن عبادہ ؓ نے فرمایا ور وہ انصار کے سردار تھے یا رسول اللہ ! کیا یہ آیت اسی طرح نازل ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہاں انسار کی جامعت کیا تم سن رہے ہو تمہارا سردار کیا کہتا ہے ؟ تو انہوں نے کہا یارسول اللہ ان پر ملامت نہ کیجئے یہ بڑے غیرت مند آدمی ہیں۔ اللہ کی قسم ! انہوں نے کنواری عورت کے علاوہ کسی اور سے کبھی شادی نہیں کی اور نہ ہی کبھی اپنی بیوی کو طلاق دی ان کی اسی شدت غیرت کی وجہ سے ہ میں سے کوئی شخص یہ جرأت نہیں کرسکتا کہ (اس کی چھوڑی ہوئی بیوی سے) نکاح کرلے۔ سعد نے عرض کیا یارسول اللہ ! بلاشبہ میں جانتا ہوں کہ یہ آیت حق ہے اور یہ اللہ کی طرف سے ہے لیکن مجھے تعجب اس بات پر ہے اگر میں بدکار عورت کو اس حالت میں دیکھوں کہ جس سے کوئی مرد بدکاری کر رہا ہے تو مجھے یہ بھی اجازت نہیں کہ میں اس پر حملہ کردوں اور نہ میں اسے بلا سکتا ہوں جب تک کہ چار گواہ لا کر ان کو آنکھوں سے دکھا نہ دوں خدا کی قسم ! جب تک میں گواہ لاؤں گا وہ شخص اپنا کام کر کے چل دے گا یہ لوگ تھوڑی دیر اور نہ ڑھہرے تھے کہ ہلال بن امیہ کا قصہ ہوا اور وہ تینوں میں سے ایک تھے کہ جن کی توبہ قبول ہوئی۔ واقعہ یوں ہوا کہ حضرت ہلال ؓ رات کو اندھیرا پڑے اپنی زمین سے واپس آئے آکر دیکھا کہ کوئی شخص ان کی بیوی کے پاس موجود ہے آپ نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اپنے کانوں سے آواز سن لی اسے کچھ نہ کہا صبح ہوئی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا میں رات کو اپنے گھر آیا تو میں نے اپنی بیوی کے پاس آدمی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں سے ان کی باتوں کو سنا رسول اللہ ﷺ کو یہ اطلاع ناگوار ہوئی اور بھاری گزری دوسری طرف انصار جمع ہوئے اور عرض کیا ہم مصیبت کا شکار ہوگئے جس کا ذکر سعد بن عبادہ نے کیا تھا رسول اللہ ﷺ نے اس کی سزا کا فیصلہ فرمایا اور مسلمانوں میں اس کی گواہی کو باطل کردیا۔ ہلال ؓ نے کہا اللہ کی قسم ! مجھے امید ہے کہ اللہ میرے لیے اس سے نجات کا کوئی راستہ ضرور نکال دے گا۔ اوعر عرض کیا یارسول اللہ بلاشبہ میں نے وہ دیکھا ہے جو آپ پر بھاری گزرا ہے۔ ان چیزوں میں سے جو میں اس کو لایا ہوں اور اللہ تعالیٰ جانتے ہیں کہ بلاشبہ میں سچ بولنے والا ہوں رسول اللہ ﷺ کوڑے لگوانے کا ارادہ فرما ہی رہے تھے کہ اللہ نے آپ پر وحی نازل فرمائی اور جب آپ پر وحی نازل ہوتی تھی تو چہرے کی رنگت سے صحابہ پہچان لیتے لوگ ہلال کو کوڑے مارنے سے رک گئے یہاں تک وحی ختم ہوگئی تو یہ آیت آیت ” ولذین یرمون ازواجہم ولم یکن لہم “ نازل ہوئی وحی کی کیفیت جب رسول اللہ ﷺ سے ختم ہوئی تو آپ نے فرمایا اے ہلال خوش ہوجاؤ اللہ نے تماہرے لیے نجات کی ایک صورت بنا دی ہے ہلال نے کہا میں اپنے رب سے اس بات کی امید رکھتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنی بیوی کو بلواؤ تو وہ آگئی رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں پر ان آیتوں کی تلاوت فرمائی ان کو نصیحت فرمائیا ور ان کو بتایا کہ آخرت کا عذاب زیادہ سخت ہے دنیا کے عذاب سے ہلال نے کہا اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ ! میں اس برے میں سچی بات کی ہے اس عورت نے کہا اس نے جھوٹ بولا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آپس میں لعنت کرو ہلال سے کہا گیا گواہی دو ہلال نے چار دفعہ گواہی دی اللہ کی قسم وہ سچا ہے جب پانچویں دفعہ گواہی کی باری آئی تو ہلال ؓ سے کہا گیا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے بہت آسان ہے اور یہ جھوٹی قسم تجھ پر عذاب کو واجب کردے گی انہوں نے کہا اللہ کی قسم ! اللہ مجھے اس گواہی پر عذاب نہیں دیں گے جس طرح اس نے مجھ پر حد جاری نہیں کی ہلال نے پانچویں دفعہ پھر گواہی دی کہ اللہ کی لعنت ہو اس پر اگر وہ جھوٹ بولنے والوں میں سے ہے پھر اس عورت سے کہا گیا کہ تو بھی گواہی دے تو اس نے چار مرتبہ گواہی دی کہ اللہ کی قسم یہ جھوٹا ہے۔ جب وہ پانچویں دفعہ گواہی دینے لگی تو اس سے کہا گیا اللہ سے ڈر کیونکہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے زیادہ آسان ہے اور یہ گواہی تجھ پر عذاب کو واجب کردے گی وہ ایک لمحہ کے لیے جھجکی کہنے لگی اللہ کی قسم میں اپنی قوم کو رسوا نہیں کروں گی اور اس نے پانچویں دفعہ یہ گواہی دی کہ مجھ پر اللہ کا غضب ہوا اگر یہ مرد سچا ہے اس پر رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں کے درمیان جدائی کردی اور یہ فیصلہ فرمایا کہ اس کی اولاد کی نسبت کسی باپ کی طرف نہ ہوگی اور ان پانچ گواہیوں کی وجہ سے مجھ پر کوئی الزام نہ دیا جائے گا اور رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی فیصلہ فرمایا کہ اس عورت کے لیے نہ نان نفقہ ہوگا نہ رہائش ہوگی اور نہ عدت ہوگی۔ اس وجہ سے کہ ان دونوں کی جدائی بغیر طلاق کے ہوئی اور شوہر کی وفات کے بغیر ہوئی۔ 3۔ البخاری والترمذی وابن ماجہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ہلال بن امیہ ؓ نے نبی ﷺ کے پاس آکر اپنی بیوی پر شریک بن سحماء کی وجہ سے تہمت لگائی نبی ﷺ نے فرمایا گواہ لاؤ ورنہ تیری پیٹھ پر حد لگے گی اس نے عرض کیا یارسول اللہ ! جب کوئی آدمی ہم میں سے اپنی عورت پر کسی آدمی کو دیکھے تو وہ گواہوں کو ڈھونڈنے کے لیے چلا جائے رسول اللہ ﷺ نے فرمانا شروع کیا گواہ لاؤورنہ تیری پیٹ پر حد لگے گی ہلال ؓ نے عرض کیا اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے بلاشبہ میں اپنی بات پر سچا ہوں اور اللہ تعالیٰ ضرور ضرور نازل فرمائیں گے کہ جس سے میری پیٹھ حد سے بری ہوجائے جبرئیل (علیہ السلام) نازل ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) آیت ” والذین یرمون ازواجہم “ آپ پر نازل فرمائی حتی کہ یہاں تک پہنچے آیت ” ان کان من الصدقین “ نبی ﷺ نے ان دونوں کو بلا بھیجا ہلال ؓ آئے اور گواہی دینے لگے اور نبی ﷺ فرما رہے تھے اللہ تعالیٰ جانتے ہیں کہ تم میں ایک جھوٹ بولنے والا ہے کیا تم دونوں میں سے کوئی توبہ کرنے والا ہے ؟ پھر وہ عورت کھڑی ہوئی اور گواہی دی جب وہ پانچویں گواہی دینے لگی تو صحابہ نے اسے روکا اس سے کہا یہ گواہی تجھ پر عذاب کو نازل کردے گی تو وہ رکی اور سر جھکا دیا یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ شاید یہ رجوع کرلے گی۔ پھر کہنے لگی میں اپنی قوم کو ہمیشہ کے لیے رسوا نہیں کروں گی وہ چلی گئی۔ تو نبی ﷺ نے فرمایا اس عورت کو دیکھ اگر وہ ایسے بچے کو لے آئے یعنی جنے جو سرمگی آنکھوں والا۔ بھاری سرینوں اور موٹی پنڈلیوں والا ہو تو وہ شریک بن سحماء کا ہے۔ تو اس عورت نے ایسا ہی بچہ جنا نبی ﷺ نے فرمایا اور وہ فیصلہ نہ ہوتا جو کتاب اللہ میں سے گزر چکا تو میں اس عورت کو دیکھ لیتا۔ جھوٹا الزام لگانے والے پر اللہ کی لعنت 4۔ ابن ابی حاتم وابن المنذر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور اس نے اپنی بیوی پر الزام لگایا کہ اس نے فلاں مرد کے ساتھ بدکاری کی اس بات کو رسول اللہ ﷺ نے ناپسند فرمایا اس کو رد کرتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت ” والذین یرمون ازواجہم ولم یکن لہم شہداء الا انفسہم “ آپ نے دونوں کو بلوا بھیجا اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے تمہارے بارے میں حکم نازل فرمادیا ہے آپ ﷺ نے مرد کو بلایا اور اس پر آیت کو پڑھا اس نے چار دفعہ یہ گواہی دی کہ اللہ کی قسم وہ سچا ہے۔ پھر آپ نے حکم فرمایا اور اس کے منہ کو بند کردیا آپ نے اس کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا ہر چیز آسان ہے اللہ کی لعنت سے پھر اس مرد کو چھوڑ دیا اور فرمایا اس پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹ بولنے والوں میں سے پھر اس عورت کو بلایا اور اس پر آیات کو پڑھا تو عورت نے چار گواہیاں دے دیں اللہ کی قسم وہ مرد جھوٹا ہے پھر آپ نے حکم دیا اور بات کرنے سے منع کردیا اور اس عورت کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تجھ پر افسوس ہے ہر چیز تجھ پر آسان ہے اللہ کے غضب سے پھر اس عورت کو چھوڑ دیا گیا تو اس عورت نے کہا اللہ کا غضب ہو اس عورت پر اگر وہ مرد سچا ہے۔ 5۔ البخاری ومسلم وابن مردویہ نے سعید بن جبیر کے طریق سے ابن عباس ؓ نے بیان فرمایا کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا میری بیوی نے زنا کیا ہے رسول اللہ ﷺ خاموش ہوگئے۔ گویا کہ زمین میں سرجھکائے ہوئے ہیں۔ پھر آپ نے سر اٹھایا اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے تیرے بارے میں نازل فرمایا ہے اور تیری بیوی کے بارے میں اس کو لے آ وہ آئی تو آپ نے اس آدمی سے فرمایا کھڑا ہوجا اور چار مرتبہ گواہی دے وہ کھڑا ہوا اور چار مرتبہ گواہی دی کہ اللہ کی قسم وہ سچ بولنے والوں میں سے ہے۔ آپ نے فرمایا تیرے لیے ہلاکت ہے یا تجھ پر افسوس ہے یہ گواہی تجھ پر سزا کو واجب کردے گی تو اس نے پانچویں گواہی بھی دی کہ اللہ کی لعنت ہو اس پر اگر وہ جھوٹوں میں سے ہے پھر وہ عورت کھڑی ہوئی اور اس نے چار مرتبہ گواہی دی اللہ کی قسم مرد جھوٹا ہے پھر آپ نے اس سے فرمایا تیرے لیے ہلاکت یا تجھ پر افسوس ہے ی گواہی تجھ پر عذاب کو واجب کردے گی پھر اس نے پانچویں گواہی بھی دیدی کہ اللہ کا غضب ہو اس پر اگر وہ سچ بولنے والوں میں سے ہے پھر آپ نے اس مرد سے فرمایا چلا جا تیرا اس عورت پر کوئی حق نہیں اس نے کہا یا رسول اللہ ! میرا مال (کیا ہوگا) آپ نے فرمایا تیرے لیے کوئی مال نہیں اگر تو نے اس پر سچا الزام لگایا ہے یہ مال اس کا عورض ہے جو تو نے اس سے لطف اٹھالی اگر تو نے اس پر جھوٹ بولا تو یہی چیز تجھے اس سے دور کرنے والی ہے۔ 6۔ احمد وعبد بن حمید والترمذی والنسائی وابن جریر وابن مردویہ نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ میں نے دو لعان کرنے والوں کے بارے میں پوچھا کیا ان کے درمیان جادائی کردی جائے ؟ فرمایا سبحان اللہ ہاں !۔ سب سے پہلے جس نے اس کے بارے میں سوال کیا وہ فلاں بن فلاں تھا۔ اس نے کہا یارسول اللہ ! آپ بتائیے ایک آدمی نے اپنی بیوی کو بدکاری کرتے ہوئے دیکھا اگر بات کرے تو بہت بڑی بات کرتا ہے اور اگر خاموش رہے تو اس طرح کے کام پر خاموش رہتا ہے آپ خاموش رہے اور اس کا کوئی جواب نہ دیا اس کے بعد جب وہ صحابی حاضر خدمت ہوا عرض کیا میں نے جس بارے پوچھا تھا تو میں خود اس میں مبتلا ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت سورة نور میں نازل فرمائی آیت ” والذین یرمون ازواجہم “ یہاں تک کہ آیت ” ان غضب اللہ علیہا ان کان من الصدقین “ تک پہنچے۔ پھر آپ نے اس آدمی سے گفتگو کا آغاز کیا۔ اسے نصیحت کی اسے آخر یاد دلائی اور اس کو بتایا اور اس کو خبردی کہ دنیا کا عذاب آسان ہے آخرت کے عذاب سے اس آدمی نے کہا اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں نے آپ سے جھوٹ نہیں بولا۔ پھر آپ نے اس عورت کو روکا۔ اس کو نصیحت کی اس کو عذاب یاد دلایا اور اس کو بتایا کہ دنیا کا عذاب آسان ہے آخرت کے عذاب سے۔ اس نے کہا اللہ کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے کہ میں جھوٹ بولنے والا نہیں اس آدمی نے چار دفعہ اللہ کے نام کے ساتھ گواہی دی کہ وہ سچ بولنے والوں میں سے ہے اور پانچویں مرتبہ یہ گواہی دی کہ اگر وہ جھوٹا ہے تو اس پر اللہ کی لعنت ہو۔ پھر اس عورت نے بھی چار مرتبہ گواہی دی اللہ کے نام کے ساتھ کہ وہ جھوٹ بولنے والوں میں سے ہے اور پانچویں دفعہ یہ گواہی دی کہ اللہ کا غضب ہو اس پر اگر وہ سچ بولنے والوں میں سے ہے۔ بیوی کو بدکاری کرتے ہوئے دیکھے تو ؟ 7۔ ابن ابی شیبہ واحمد ومسلم وعبد بن حمید وابن ماجہ وابن حبان وابن جریر وابن المنذر وابن مردویہ ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا کہ ہم جمعہ کی رات کو بیٹھے ہوئے تھے مسجد میں اتنے میں انصار میں سے ایک آدمی آیا اور کہا ہم میں سے کوئی ایک جب اپنی بیوی کو کسی آدمی کے ساتھ دیکھے اور اس کو قتل کردے تو تم اس کو قصاص میں قتل کردو گے اور اگر وہ بات کرے تو تم اس کو کوڑے مارتے ہو اور اگر وہ خاموش ہوجائے تو وہ غصہ پر خاموش رہے اللہ کی قسم ! اگر میں صحت مندی کی حالت میں صبح کروں تو میں ضرور رسول اللہ ﷺ سے سوال کروں گا پھر اس نے سوال کرتے ہوئے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم میں سے کوئی ایک اپنی بیوی کے ساتھ کسی آدمی کو دیکھے اور اس کو قتل کردے تو تم لوگ اس کو قصاصا قتل کردو گے اور اگر وہ بات کرے تو تم اس کو کوڑے ماتے ہو اور اگر وہ خاموش رہے تو غصہ پر خاموش رہے۔ اے اللہ ! فیصلہ فرمادیجئے۔ تو اس پر آیت اللعان نازل ہوئی یہ پہلا آدمی تھا جو اس واقعہ میں مبتلا ہوا۔ 8۔ عبدالرزاق واحمد وعبد بن حمید والبخاری ومسلم ابو داوٗد ووالنسائی وابن ماجہ وابن جریر وابن المنذر والطبرانی سہل بن سعد ؓ نے فرمایا کہ عویمر، عاصم بن عدی کے پاس آیا اور کہا کہ رسول اللہ سے سوال کرو آپ بتائیے کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کے ساتھ ایک آدمی کو پایا اور اس کو قتل کردیا تو اس کو اس وجہ سے قتل کردیا جائے گا یا اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا ؟ عاصم نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو آپ نے سوال کرنے والے پر ناراضگی کا اظہار فرمایا عویمر ان سے ملے اور پوچھا تو نے کیا کہا عاصم نے جواب دی اتو میرے لیے کوئی خیر نہیں لایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوں گا اور خود سوال کروں گا وہ حاضر ہوا اور یہ کیفیت پائی کہ آپ سے وحی نازل ہوچکی تھی آپ نے دونوں کو بلوایا اور اور دونوں کے درمیان لعان کرایا عویمر ؓ نے کہا یا رسول اللہ اسے جانے دیں اس نے اپنے بارے میں جھوٹ بولا ہے تو اس نے رسول اللہ ﷺ کے بتانے سے پہلے ہی اسے طلاق دیدی۔ تو یہی واقعہ لعان کرنے والوں کے لیے لعنت بن گیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس عورت کو دیکھتے رہو اگر وہ سیاہ رنگ موٹی کالی آنکھوں والا اور بڑی سرین والا بچہ جنے تو میرا خیال ہے کہ یہ مرد سچا ہے اور اگر وہ عورت سرخ رنگ کا بچہ جنے گویا کہ وہ وجرہ ہے تو میرا خیال ہے وہ مرد جھوٹٓ ہے پھر اس عورت نے ناپسندیدہ کیفیت پر بچہ جنا۔ پہلا لعان کرنے والا ہلال بن امیہ ہے۔ 9۔ ابو یعلی وابن مردویہ نے روایت کیا کہ انس ؓ نے بیان فرمایا کہ دور اسلام میں سب سے پہلے لعان کرنے والا ہلال بن امیہ تھا اس نے شریک بن سحماء پر تہمت لگائی کہ اس نے اس کی بیوی کے ساتھ بدکاری کی ہے عورت کا معاملہ رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں پیش کردیا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ چار گواہ لاؤ ورنہ تیری پیٹھ پر حد جاری ہوگی اس نے عرض کیا یارسول اللہ اللہ تعالیٰ خوب جانتے ہیں کہ میں سچا ہوں اور اللہ تعالیٰ ایسا حکم ضرور جاری فرمائیں گے کہ جس سے میری پیٹھ کوڑے لگنے سے بری ہوجائے گی تو اللہ تعالیٰ نے لعان والی آیت اتاری یعنی آیت ” والذین یرمون ازواجہم “ آیت کے آخرتک نبی ﷺ نے ان کو بلوایا اور فرمایا اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ گواہی دو کہ تو سچ بولنے والوں میں سے ہے اس بارے میں تو نے اس عورت پر بد کاری کی تہمت لگائی ہے پڑھ اس نے اللہ کے نام کے ساتھ چار گواہیاں دیں پھر پانچویں گواہی میں آپ نے اس سے فرمایا اللہ کی لعنت ہو تجھ پر اگر تو جھوٹ بولنے والوں میں سے ہوگا اس بارے میں جو تو نے اس پر بدکاری کی تہمت لگائی ہے پھر اس نے ایسا کردیا یعنی پانچویں گواہی بھی دے دی پھر رسول اللہ ﷺ نے اس عورت کو بلوایا اور اس سے فرمایا کھڑی ہوجا اور اللہ کے نام کے ساتھ یہ گواہی دے کہ مرد نے تجھ پر جو بدکاری کی تہمت لگائی ہے اس میں وہ جھوٹا ہے۔ عورت نے اس بارے میں چار گواہیاں دے دیں۔ پھر آپ نے اس سے پانچویں گواہی کے بارے میں فرمایا کہ اللہ کا غضب ہو تجھ پر اگر وہ سچ بولنے والوں میں سے ہے اس بارے میں جو اس نے تجھ پر تہمت لگائی ہے (راوی نے کہا) ۔ کہ جب وہ عورت چوتھی یا پانچویں گواہی دے رہی تھی تو وہ ذرا سی دیر خاموش رہی یہاں تک کہ صحابہ کرام ؓ نے گمان کیا کہ عنقریب وہ اقرار کرلے گی پھر کہنے لگی میں ہمیشہ اپنی قوم کو ذلیل ورسوا نہیں کروں گے اور اس نے گواہی دے دی (اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے ان کے درمیان تفریق کردی۔ اور فرمایا تم دیکھتے رہو اگر یہ گھن گیا لے بالوں والا اور پتلی پنڈلیوں والا بچہ جنے تو وہ شریک بن سحماء کا ہے اور وہ سفید نرم اور سیدھے بالوں والا چھوٹی آنکھوں والا ہو تو یہ ہلال بن امیہ کا ہے تو اس عورت نے گندمی رنگ والے اور گھنگھریالے بال والے اور پتلی پنڈلیوں والے بچے کو جنا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان کے بارے میں اگر اللہ کا حکم نازل نہ ہوچکا ہوتا تو میں اسے دیکھ لیتا۔ 10۔ نسائی وابن مردویہ نے عمرو بن شعیب ؓ سے روایت کیا کہ وہ اپنے والد اور داد سے روایت کرتے ہیں کہ انصار کے قبیلہ بنی زریق میں سے ایک آدمی نے اپنی بیوی پر بدکاری کی تہمت لگائی وہ نبی ﷺ کے پاس حاضر ہوا۔ آپ نے اس پر چار مرتبہ اس کی بات کو رد فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے لعان والی آیت کو نازل فرمایا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سوال کرنے والا کہاں ہے اللہ کی طرف سے ایک عظیم حکم نازل ہوا ہے مرد نے لعان کے علاوہ ہر چیز کا انکار کیا اس عورت نے بھی انکار کردیا پھر دونوں نے لعان کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر یہ عورت زرد رنگ والا اور پتلی پنڈلیوں والا۔ بڑی ہوئی ہڈیوں والا بچہ جنے تو لعان کرنے والے کا ہوگا اور اگر سیاہ رنگ والا خاکستری اونٹ کی طرح ہو تو بچہ کسی اور کا ہوگا اس عورت نے خاکستری اونٹ جیسا بچہ جنا رسول اللہ ﷺ نے اس بچہ کو منگوایا اور اس بچے کو ماں کے خاندان کے حوالے کردیا پھر فرمایا اگر وہ آیات نہ ہوتیں جو پہلے گزر چکیں تو اس میں یہ یہ سزا ہوتی۔ 11۔ البزار نے حذیفہ بن یمان ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر سے فرمایا اگر تو اپنی بیوی رومان کے ساتھ کسی آدمی کو دیکھے تو اس کے ساتھ تو کیا کرے گا عرض کیا عرض کیا اللہ کی قسم میں اس کے ساتھ بہت برا سلوک کروں گا، پھر عمر ؓ نے سے یہی فرمایا، انہوں نے کہا کہ اللہ کی قسم میں اس کو قتل کردوں گا تو (آیت) آیت ” والذین یرمون ازواجہم “ نازل ہوئی میں کہتا ہوں کہ اس کی سند کے راوی ثقہ ہیں مگر یہ کہ بزار اپنے حافظے سے حدیث بیان کرتا تھا اور بعض اوقات غلطی کرتا تھا اور مردویہ اور دیلمی (رح) نے اس سند سے روایت نقل کی تاہم حضرت عمر ؓ کے قول آیت ” کنت قاتلہ “ کے بعد ان الفاظ کا اضاہ کیا کہ آپ نے فرمایا اے سہیل بن بیضاء تو کیا کرتے گا اس نے عرض کیا میں یوں کہوں گا اللہ تعالیٰ نے ابعد لعنت کی کہ وہ خبیث ہے اور اللہ تعالیٰ نے بعدی پر لعنت کی کہ وہ خبیثہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے تین میں سے پہلے پر لعنت کی جس کے بارے میں خبردی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ابن بیضاء تو نے قرآن کے معنی کو سمجھا ہے آیت ” والذین یرمون ازواجہم “ اور یہ زیادہ صحیح ہے، بزار کے قول سے۔ لعان کرنے کا طریقہ 13۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” والذین یرمون ازواجہم “ سے مراد وہ آدمی ہے جو اپنی بیوی کو زنا کی تہمت لگاتا ہے آیت ” ولم یکن لہم شہداء الا انفسہم “ یعنی اس مرد کے پاس اپنی ذات کے علاوہ کوئی گواہ نہیں جو یہ گواہی دیں کہ اس کی بیوی نے زنا کیا ہے یہ معاملہ حکام کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ نماز کے بعد مسجد میں شوہر کے لیے یہ گواہی ہوگی کہ وہ چار مرتبہ اللہ کے نام کے ساتھ گواہی دے اور یوں کہے کہ میں گواہی دیتا ہوں اللہ کے نام کے ساتھ کہ اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں کہ میری بیوی نے زنا کا ارتکاب کیا ہے اور پانچویں دفعہ یہ گواہی دے کہ اللہ کی لعنت ہو اس پر اگر وہ جھوٹ بولنے والوں میں سے ہے ” یدرأ “ کا معنی ہے کہ حکام اس سے حکد کو ساقط کردیں گے۔ جب عورت چار مرتبہ یہ گواہی دے گی کہ اس کا شوہر جھوٹ بوالنے والوں میں سے پھر عورت اپنے شوہر کی جگہ پر کھڑی ہوگی اور چار مرتبہ کہے گی میں اس اللہ کے نام کے ساتھ گواہی دیتی ہوں کہ جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں کہ میں نے زنا نہیں کیا اور میرا شوہر جھوٹ بولنے والوں میں سے ہے اور پانچویں مرتبہ یوں کہے کہ اللہ کا غضب ہو اس پر اگر اس کا شوہر سچ بولنے والوں میں سے ہے۔ 14۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے آیت ” والخامسۃ ان لعنت اللہ علیہ ان کان من الکذبین “ کے بارے میں روایت کیا کہ اگر عورت اپنے بارے میں زنا کا اقرار کرے گی تو اسے رجم کردیا جائے گا اور اگر انکار کرے گی تو حد سے بچ جائے گی۔ یہاں عذاب سے مراد دنیا کا عذاب ہے (اور فرمایا) آیت ” ان تشہد اربع شہدت باللہ انہ لمن الکذبین۔ والخامسۃ ان غضب اللہ علیہا ان کان من الصدقین “ اگر انہوں نے آپس میں قسمیں کھالیں تو ان کے درمیان جدائی کردی جائے گی اور وہ طلاق والی عورت کی طرح عدت گزارے گی۔ 15۔ عبدالرزاق نے حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ دو آپس میں لعان کرنے والے کبھی بھی اکٹھے نہیں ہوں گے۔ 16۔ عبدالرزاق نے علی اور ابن مسعود ؓ سے اس طرح روایت کیا۔ 17۔ عبدالرزاق نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ لعان کرنا زیادہ سخت ہے رجم کرنے سے۔ 18۔ عبدالرزاق نے سعید بن مسیب (رح) سے روایت کیا کہ دونوں میں سے جو زیادہ جھوٹا ہے اس پر اللہ کی لعنت ہے۔ 19۔ البزار نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ آپس میں لعان والی آیت نہیں نازل ہوئی مگر کثرت سے سوال کرنے کی وجہ سے۔ حضرت سعد ؓ کی غیرت 20۔ الخرائطی نے مکارم اخلاق میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو سعد بن عبادہ نے عرض کیا اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی کو دیکھوں تو میں انتظار کروں یہاں تک کہ میں چار گواہ لے آؤں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہاں ! سعد نے پھر عرض کیا اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اگر میں اس کو دیکھ لوتو میں اس کو جلدی تلوار کے ساتھ قتل کردوں گا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے انصار کی جماعت ! سنو تمہارا سردار کیا کہتا ہے بیشک سعد غیرت مند آدمی ہے۔ اور میں اس سے زیادہ غیر مند ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے زیادہ غیرت مند ہے۔ 21۔ ابن ماجہ وابن حبان والحاکم وابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا جب لعان والی آیت نازل ہوئی تو جس عورت نے اپنی قوم پر ایسے آدمی کو داخل کیا جو ان میں سے نہیں یعنی بدکاری کے ذریعہ غیر کی اولاد کو ان میں شامل کیا اس کے لیے کچھ بھی نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ اس کو ہرگز اپنی جنت میں داخل نہ فرمائیں گے اور جس آدمی نے اپنی بیوی اور اپنی اولاد کا انکار کردیا جبکہ وہ جانتا ہے کہ یہ اس کی اولاد ہے تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس سے پردہ فرمالیں گے اور تمام اگلے اور پچھلے لوگوں کے سامنے اس کو رسوا کریں گے۔