23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsانوار البیان

Ayah 23:1

قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 23:1 in the Quran reader

بیشک ایمان والے رستگار ہوگئے

Ayah 23:2

الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَۙ Open ayah 23:2 in the Quran reader

جو نماز میں عجز و نیاز کرتے ہیں

(23:2) خشعون۔ خشوع سے اسم فاعل جمع مذکر الخشوع (باب نصر) کے معنی عاجزی کرنے اور جھک جانے کے ہیں ضراعۃ کے معنی میں آتا ہے بمعنی عاجزی کرنا لیکن زیادہ تر خشوع کا لفظ جوارح اور ضراعۃ کا لفظ قلب کی عاجزی پر بولاجاتا ہے۔ ایک روایت ہے اذا ضرعت القلب وخشعت الجوارح جب دل میں فروتنی ہو تو اس کا اثر جوارح پر ظاہر ہوجاتا ہے خشعون عاجزی کرنے والے۔ زاری کرنے والے۔
Ayah 23:3

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَۙ Open ayah 23:3 in the Quran reader

اور جو بےہودہ باتوں سے منہ موڑتے رہتے ہیں

(23:3) معرضون۔ اسم فاعل جمع مذکر اعراض کرنے والے۔ روگردانی کرنے والے۔ اجتناب کرنے والے اعراض (افعال) مصدر
Ayah 23:4

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوْنَۙ Open ayah 23:4 in the Quran reader

اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں

(23:4) فعلون۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ فعل مصدر فعل اسم مصدر کرنے والے، یہاں فعلون دو معنی ہوسکتے ہیں۔ (1) یہ کہ لاداء الزکوۃ فاعلون وہ زکوۃ کی ادائیگی کرنے والے ہیں۔ اس صورت میں فعل پر دوام اور ثبات کے معنی ہوں گے۔ یعنی وہ زکوۃ کو ہمیشہ باقاعدگی سے ادا کرنے والے ہیں ! (2) یہ کہ زکوۃ بمعنی تزکیہ نفس بھی ہوسکتا ہے اس صورت میں اس کے معنی ہوں گے کہ وہ تزکیہ نفس میں کوشاں رہتے ہیں۔
Ayah 23:5

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ Open ayah 23:5 in the Quran reader

اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں

(23:5) فروجہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان مردوں کی شرم گاہیں۔ فرج عورت اور مرد دونوں کی شرم گاہ کے لئے بولا جاتا ہے۔ آیت ہذا میں بھی مردو عورت دونوں مراد ہیں۔ الفرج والفرجۃ کے معنی دو چیزوں کے درمیان شگاف کے ہیں جیسے دیوار میں شگاف یا دونوں ٹانگوں کے درمیان کی کشادگی۔ کنایہ کے طور پر فرج کا لفظ شرم گاہ پر بولا جاتا ہے اور کثرت استعمال کی وجہ سے اسے حقیقی معنی سمجھا جاتا ہے قرآن مجید میں شگاف کے معنوں میں اور شق کرنا۔ چیرنا۔ پھاڑنا کے معنوں میں بھی استعمال ہوا ہے۔ مثلاً وما لھا من فروج (50:6) اور اس میں کہیں شگاف تک نہیں۔ اور و اذا السماء فرجت (77:9) اور جب آسمان پھٹ جائے۔ حفظوناسم فاعل جمع مذکر غائب۔ حفاظت کرنے والے نگرانی کرنے والے۔ محفوظ رکھنے والے ۔ بچانے والے۔ حفظ مصدر
Ayah 23:6

اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ Open ayah 23:6 in the Quran reader

مگر اپنی بیویوں یا (کنیزوں سے) جو ان کی ملک ہوتی ہیں کہ (ان سے) مباشرت کرنے سے انھیں ملامت نہیں

(23:6) علی بمعنی من ہے۔ فانہم میںجواب شرط مقدر کے لئے ہے۔ ای فان بذلوا فروجہم لازواجہم او مائھم فانہم غیر ملومین۔ اگر اپنی شرمگاہوں کو اپنی منکوحہ بیویوں اور لونڈیوں کے ساتھ عمل میں لادیں تو ان کے لئے کوئی ملامت نہیں ہے۔ ملومین۔ اسم مفعول جمع مذکر۔ لوم مادہ ومصدر۔ ملام وملامۃ بھی مصدر ہیں۔ لام یلوم (نصر) لوما کے معنی کسی کو برے فعل پر برا بھلا کہنے اور ملامت کرنے کے ہیں لائم ملامت کرنے والا۔ ملوم ملامت کیا گیا۔ ملامت زدہ۔
Ayah 23:7

فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْعٰدُوْنَۚ Open ayah 23:7 in the Quran reader

اور جو ان کے سوا اوروں کے طالب ہوں وہ (خدا کی مقرر کی ہوئی حد سے) نکل جانے والے ہیں

(23:7) ابتغی۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ ابتغاء (افتعال) مصدر۔ اس نے چاہا اس نے تلاش کیا۔ ورائ۔ وراء مصدر ہے لیکن اس کے معنی ہیں آڑ۔ حد فاصل ۔ کسی چیز کا آگے ہونا پیچھے ہونا۔ علاوہ۔ سوا ہونا۔ فصل اور حد بندی پر دلالت کرتا ہے۔ اس لئے ان سب معنی میں مستعمل ہے۔ العدون۔ عدو سے اسم فاعل کا صیغہ ہے جمع مذکر۔ عادون اصل میں عادو ون تھا۔ وائو کلمہ میں چوتھی جگہ آیا ہے۔ اور ماقبل مکسور ہونے کی وجہ سے اس کو ی سے تبدیل کیا تو عادیون یوا۔ ی پر ضمہ دشوار ہونے کی وجہ سے نقل کر کے ماقبل کو دیا۔ اب دو ساکن جمع ہوگئے یعنی ی اور وائو۔ ی کو حذف کیا۔ عادون ہوگیا۔ عدو کے معنی حد سے تجاز کرنے کے ہیں لہٰذا عادون حد سے گذرنے والے۔ حد سے بڑھنے والے۔ حد سے نکلنے والے۔
Ayah 23:8

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ Open ayah 23:8 in the Quran reader

اور جو امانتوں اوراقراروں کو ملحوظ رکھتے ہیں

(23:8) راعون۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ راعی کی جمع رعی یرعی (فتح) رعی و رعایۃ مصدر۔ مویشی کو گھاس چرانا۔ الامیر رعیتہ رعایۃ امیر کا اپنی رعایا پر سیاست کرنا۔ الامرحفاظت کرنا۔ امام راغب فرماتے ہیں کہ الرعی اصل میں حیوان یعنی جاندار چیز کی حفاظت کو کہتے ہیں خواہ غذا کے ذریعے ہو جو اس کی زندگی کی محافظ ہے یا اس سے دشمن کو دفع کرنے کے ذریعہ سے ہو۔ رعیتہ کے چارہ اور مرعی چراگاہ کو کہتے ہیں۔ راعون یعنی نگہداشت رکھنے والے۔ نگرانی کرنے والے۔ خبر رکھنے والے۔
Ayahs 23:9–11

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَوٰتِهِمْ یُحَافِظُوْنَۘ Open ayah 23:9 in the Quran reader

اور جو نمازوں کی پابندی کرتے ہیں

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَۙ Open ayah 23:10 in the Quran reader

یہی لوگ میراث حاصل کرنے والے ہیں

الَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَ١ؕ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 23:11 in the Quran reader

(یعنی) جو بہشت کی میراث حاصل کریں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے

(23:9) یحافظون۔ مضارع جمع مذکر غائب (باب مفاعلہ) محافظۃ مصدر نگرانی رکھتے ہیں۔ پابندی کرتے ہیں۔
Ayah 23:12

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ طِیْنٍۚ Open ayah 23:12 in the Quran reader

اور ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصے سے پیدا کیا ہے

(23:12) سللۃ۔ سل سے اسم مشتق ہے ۔ سل کے معنی ہیں کسی چیز کو کسی چیز سے کھینچنا اور نچوڑنا۔ جیسے تلوار کا نیام سے سونتنا۔ یا کوئی شے چوری کھسکا لینا۔ جیسے یتسللون منکم لواذا (24:63) جو تم میں سے آنکھ بچا کر کھسک گئے۔ سلالۃ من طین مٹی کا جوہر۔ مٹی سے نچوڑ کر حاصل کیا ہوا خلاصہ ۔ صاحب ضیاء القرآن لکھتے ہیں :۔ مٹی کے خمیر سے جو جوہر نکلا اس سے آدم (علیہ السلام) کا جسم پاک تیار ہوا۔ پھر آپ سے جو نسل انسانی چلی اس کے لئے نطفہ اصل قرار پایا جو ان غذائوں سے پیدا ہوتا ہے جو مٹی سے اگتی ہیں اس لئے جنس انسانی کی تخلیق کے متعلق فرمایا کہ اسے مٹی سے پیدا کیا گیا ہے۔
Ayahs 23:13–15

ثُمَّ جَعَلْنٰهُ نُطْفَةً فِیْ قَرَارٍ مَّكِیْنٍ۪ Open ayah 23:13 in the Quran reader

پھر اس کو اس کو مضبوط (اور محفوظ) جگہ میں نطفہ بنا کر رکھا

ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظٰمًا فَكَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْمًا١ۗ ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَ١ؕ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَؕ Open ayah 23:14 in the Quran reader

پھر نطفے کو لوتھڑا بنایا پھر لوتھڑے کی بوٹی بنائی پھر بوٹی کی ہڈیاں بنائیں پھر ہڈیوں پر گوشت (پوست) چڑھایا پھر اس کو نئی صورت میں بنادیا تو خدا جو سب سے بہتر بنانے والا ہے بڑا بابرکت ہے

ثُمَّ اِنَّكُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ لَمَیِّتُوْنَؕ Open ayah 23:15 in the Quran reader

پھر اس کے بعد تم مرجاتے ہو

(23:13) جعلنہ۔ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع الانسان ہے ہ اصل میں مضاف الیہ ہے جس کا مضاف محذوف ہے اصل میں جعلنا نسلہ ہے مضاف کو حذف کر کے مضاف الیہ کو اس کے قائم لایا گیا ہے۔ نطفۃ۔ اصل میں آب صافی کو کہتے ہیں مگر اس سے مراد مرد کی منی لی جاتی ہے۔ کنایہ کے طور پر موتی کو بھی نطفۃ کہا جاتا ہے۔ قرار۔ ٹھہرنے کی جگہ (یعنی رحم) آرام کی جگہ۔ قرارگاہ ۔ ٹھکانا۔ مکین۔ کون مصدر سے صفت مشبہ (باب نصر) مضبوط۔ محفوظ۔ حصین۔ علقۃ۔ جمے ہوئے خون کی پھٹکی۔ خون کی وہ پھٹکی جو اس میں لگی رہتی ہے معلق ہوتی ہے۔ مضغۃ۔ گوشت کا ٹکڑا۔ بوٹی۔ مضغ مصدر (باب فتح ونصر) بمعنی چبانا۔ مضاغ چبانے کی چیز۔ فکسونا۔ ماضی جمع متکلم کسی یکسو (باب نصر) ہم نے پہنایا۔ کسوۃ لباس۔ انشانہ۔ ماضی جمع متکلم۔ انشاء (افعال) مصدر۔ ہم نے اس کو پیدا کیا۔ ہم نے اس کی پرورش کی۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب الانسان کی طرف راجع ہے۔ ثم انشانہ خلقا اخر۔ پھر ہم نے اس کو ایک نئی مخلوق بنا کر پیدا کیا۔ تبارک۔ وہ بہت برکت والا ہے۔ وہ بڑی برکت والا ہے۔ تبارک مصدر (تفاعل) بمعنی بابرکت ہونا۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ اس فعل کی ان معنوں میں گردان نہیں آتی اور صرف ماضی کا صیغہ مستعمل ہے اور وہ بھی صرف اللہ تعالیٰ کے لئے آتا ہے۔ البرکۃ کے معنی کسی شے میں خیر الٰہی ثابت ہونے کے ہیں۔ تبارک بہ۔ نیک فال لینا۔ کسی سے نیک شگون لینا۔ بارک اللہ لک وفیک وعلیک۔ اللہ تجھ کو مبارک کرے۔ فتبرک اللہ۔ پس بڑا بابرکت ہے اللہ۔ احسن۔ بہت اچھا۔ افعال التفضیل کا صیغہ واحد مذکر۔ الخلقین۔ پیدا کرنے والے۔ بنانے والے۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ خلق کا لفظ دو معنی میں استعمال ہوتا ہے :۔ (1) کسی چیز کو کسی موجود مادے اور سابقہ مثال کے بغیر پیدا کرنا۔ ابداع الشیء من غیر اصل ولا احتذائ۔ اس معنی کے لحاظ سے یہ صفت صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کے لئے مخصوص ہے اور یہ کسی اور میں نہیں پائی جاتی۔ (2) کسی چیز کو سابقہ مادہ سے کسی موجودہ مثال کے مطابق بنا لینا۔ یہ صفت اللہ تعالیٰ کے سوا اوروں میں بھی پائی جاسکتی ہے اس کو صنعت کی صفت کہا جائے گا۔ اس لحاظ سے آیتہ ہذا میں الخالقین بمعنی الصانعین آیا ہے۔
Ayah 23:16

ثُمَّ اِنَّكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ تُبْعَثُوْنَ Open ayah 23:16 in the Quran reader

پھر قیامت کے دن اٹھا کھڑے کئے جاؤ گے

(23:16) تبعثون۔ مضارع مجہول جمع مذکر حاضر بعث مصدر۔ تم اٹھائے جائو گے۔
Ayah 23:17

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعَ طَرَآئِقَ١ۖۗ وَ مَا كُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غٰفِلِیْنَ Open ayah 23:17 in the Quran reader

اور ہم نے تمہارے اوپر (کی جانب) سات آسمان پیدا کیے اور ہم خلقت سے غافل نہیں ہیں

(23:17) طرائق۔ طریقۃ کی جمع ہے راہیں۔ طریقے۔ یہاں مراد آسمان ہیں آسمانوں کو طریق سے اس لئے تعبیر کیا گیا ہے کہ ان میں فرشتوں کی آمدورفت کے لئے اور ستاروں کی گردش کے لئے راہیں اور راستے ہیں۔ طرائق بمعنی آسمان اس لئے لیا گیا ہے کہ عربی میں جب ایک چیز کو دوسری چیز کے اوپر رکھتے ہیں تو کہتے ہیں طارقت الشیء میں نے چیزوں کو ایک دوسری کے اوپر رکھا۔ چونکہ آسمان بھی ایک دوسرے کے اوپر ہیں اس لئے انہیں بھی طرائق بیان کیا گیا ہے۔
Ayah 23:18

وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ فَاَسْكَنّٰهُ فِی الْاَرْضِ١ۖۗ وَ اِنَّا عَلٰى ذَهَابٍۭ بِهٖ لَقٰدِرُوْنَۚ Open ayah 23:18 in the Quran reader

اور ہم ہی نے آسمان سے ایک اندازے کے ساتھ پانی نازل کیا پھر اس کو زمین میں ٹھہرا دیا اور ہم اس کے نابود کردینے پر قادر ہیں

(23:18) فاسکنہ۔تعقیب کا ہے اسکنا ماضی کا صیغہ جمع متکلم۔ اسکان (افعال) مصدر ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب جس کا مرجع ماء ہے پھر ہم نے اس پانی کو ٹھہرا دیا (چشموں۔ جھیلوں۔ یا زیر زمین آبی ذخیروں کی شکل میں) ۔ ذھاب۔ ذھب یذھب کا مصدر سے۔ جانا۔ چلنا۔ چھوڑنا۔ علی ذھاب بہ۔ اس کو (اڑا) لے جانے پر۔ اس کو ختم کرنے پر یا ناپید کرنے پر۔ اس کو معدوم کرنے پر یعنی اس کو تمہاری دسترس سے باہر کردیں۔ مثلاً گہرا زمین میں چلاجائے کہ اس کو سطح تک لانا ناممکن ہوجائے یا اس کو بخارات کی صورت میں تمازت آفتاب سے اڑا ہی لے جائیں۔ قادرون۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ قدرت رکھنے والے۔ طاقت رکھنے والے۔ قابو پانے والے غالب۔
Ayah 23:19

فَاَنْشَاْنَا لَكُمْ بِهٖ جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ١ۘ لَكُمْ فِیْهَا فَوَاكِهُ كَثِیْرَةٌ وَّ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَۙ Open ayah 23:19 in the Quran reader

پھر ہم نے اس سے تمہارے لئے کھجوروں کے باغ بنائے ان میں تمہارے لئے بہت سے میوے پیدا ہوتے ہیں اور ان میں سے تم کھاتے بھی ہو

(23:19) بہ۔ میں ضمیر واحد مذکر حاضر کا مرجع ماء ہے۔ فواکہ۔ میوہ ۔ پھل ۔ واحد فاکھۃ۔ بعض نے کہا ہے کہ فاکھا کا لفظ ہر قسم کے میوہ جات پر بولا جاتا ہے ۔ اور بعض کے نزدیک انگور اور انار کے علاوہ باقی میوہ جات کو فاکھۃ کہتے ہیں۔ انہوں نے ان دونوں کو اس لئے مستثنیٰ کیا ہے کہ قرآن مجید میں ان دونوں کو فاکھہ پر عطف کے ساتھ ذکر کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ فاکھہ کے غیر ہیں۔ بوجہ غیر منصرف ہونے کے (تانیث جمع) اس پر تنوین نہیں آتی۔ منھا۔ میں اگر ھا ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع جنت ہے تو یہ ابتدائیہ ہے بمعنی ” سے “ جیسے من المسجد الحرام الی المسجد الاقصی (17:1) اور اگر اس ضمیر کا مرجع فواکہ ہے تو من تبعیضیہ ہے، بمعنی ان میں سے بعض کو کھاتے ہو۔
Ayah 23:20

وَ شَجَرَةً تَخْرُجُ مِنْ طُوْرِ سَیْنَآءَ تَنْۢبُتُ بِالدُّهْنِ وَ صِبْغٍ لِّلْاٰكِلِیْنَ Open ayah 23:20 in the Quran reader

اور وہ درخت بھی (ہم ہی نے پیدا کیا) جو طور سینا میں پیدا ہوتا ہے (یعنی زیتون کا درخت کہ) کھانے والوں کے لئے روغن اور سالن لئے ہوئے اگتا ہے

(23:20) شجرۃ۔ اس کا عطف جنت پر ہے۔ ای وانشانا لکم شجرۃ۔ وھی شجرۃ الزیتون۔ یہاں زیتون کا درخت مردا ہے۔ تخرج۔ اخراج (افعال) سے مضارع واحد مؤنث غائب۔ وہ نکلتی ہے وہ نکلے گی نباتات کے زمین سے اگنے کو بھی اخراج کہتے ہیں۔ یہاں انہی معنوں میں آیا ہے۔ یخرج بہ زرعا مختلفا الوانہ (39:21) اس سے مختلف رنگوں کی کھیتیاں اگاتا ہے۔ طور سینائ۔ مضاف مضاف الیہ۔ طور بمعنی پہاڑ۔ سینا جزیرہ نمائے سینا کا علاقہ سینا۔ بوجہ تانیث بالالف (جو قائم مقام دو سببوں کے ہے جیسے صحراء یا بوجہ عجمہ ومعرفہ یا بوجہ معرفہ وتانیث غیر منصرف ہے۔ طور سینائ۔ سینا کا پہاڑ۔ تنبت۔ نبت ینبت۔ (باب نصر) نبت سے جس کے معنی اگنے اور اگانے کے ہیں۔ مضارع واحد مؤنث غائب، تنبت بالدھن وہ تیل اگاتی ہے۔ اس میں ب تعدیہ کے لئے نہیں بلکہ حال کے لئے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ درخت اگتا ہے اور اس میں تیل دینے کی خاصیت موجود ہوتی ہے اس کو اس کو جو پھل لگتا ہے اس سے زیت (زیتون کا تیل) نکالا جاتا ہے۔ اس کی مثال عربی محاورہ ہے جاء بثیاب السفر وہ اس حالت میں آیا کہ سفر کے لباس میں آیا۔ صبغ۔ سالن۔ روٹی ڈبونا۔ اصل میں صبغ (نصر، ضرب، فتح) صبغ و صبغ۔ الثوب۔ کپڑے کو رنگنا۔ مجازا ایسا سالن کہ اس میں روٹی ڈبونے سے رنگین ہوجائے۔ صبغ کہلاتا ہے۔
Ayahs 23:21–22

وَ اِنَّ لَكُمْ فِی الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً١ؕ نُسْقِیْكُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْنِهَا وَ لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ كَثِیْرَةٌ وَّ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَۙ Open ayah 23:21 in the Quran reader

اور تمہارے لئے چارپایوں میں عبرت (اور نشانی) ہے کہ جو ان کے پیٹوں میں ہے اس سے ہم تمہیں (دودھ) پلاتے ہیں اور تمہارے لئے ان میں اور بھی بہت سے فائدے ہیں اور بعض کو تم کھاتے بھی ہو

وَ عَلَیْهَا وَ عَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَ۠ Open ayah 23:22 in the Quran reader

اور ان پر اور کشتیوں پر تم سوار ہوتے ہو

(23:21) الانعام۔ مویشی، بھیڑ۔ بکری۔ اونٹ ۔ گائے۔ بھینس۔ یہ نعم کی جمع ہے نعم کے معنی اونٹ کے۔ انعام میں گودوسرے مویشی کو بھی شامل کرلیتے ہیں لیکن جب تک ان میں اونٹ شامل نہ ہو ان کو انعام نہیں کہا جاسکتا۔ عبرۃ۔ عبرت۔ نصیحت حاصل کرنا۔ دوسرے کے حال سے اپنا حال قیاس کرنا۔ دھیان کرنا۔ نسقیکم۔ نسقی مضارع جمع متکلم۔ اسقی یسقی اسقاء (افعال) سے ہم پلاتے ہیں۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ ہم تمہیں پلاتے ہیں۔ بطونھا۔ میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب انعام کی طرف راجع ہے اور اس آیت میں اور اگلی آیت 22 میں ھا اسی معنی میں ہے۔ تحملون۔ مضارع مجہول۔ جمع مذکر حاضر۔ حمل مصدر (باب ضرب) تم اٹھائے جاتے ہو۔ تم سوار کئے جاتے ہو۔ تم لدے پھرتے ہو۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ملتا ہے کہ الانعام سے مراد یہاں اونٹ لیا گیا ہے جس پر اہل عرب سوار ہو کر طویل سفر طے کیا کرتے تھے اور بوجھ کی نقل و حرکت بھی اونٹ کے ذریعہ ہوتی تھی۔ پھر الفلک کا قرینہ اس بات کو اور تقویت دیتا ہے۔ عرب اونٹ کو سفینۃ البر (ریگستان کا جہاز) بولتے ہیں۔ ویسے دوسرے مویشیوں مثلاً بیل وبھینس سے بھی باربرداری کا کام لیا جاسکتا ہے۔
Ayahs 23:23–24

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 23:23 in the Quran reader

اور ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو انہوں نے ان سے کہا کہ اے قوم ! خدا ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں کیا تم ڈرتے نہیں ؟

فَقَالَ الْمَلَؤُا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۙ یُرِیْدُ اَنْ یَّتَفَضَّلَ عَلَیْكُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَنْزَلَ مَلٰٓئِكَةً١ۖۚ مَّا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَۚ Open ayah 23:24 in the Quran reader

تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے یہ تو تم ہی جیسا آدمی ہے تم پر بڑائی حاصل کرنا چاہتا ہے اور اگر خدا چاہتا تو فرشتے اتار دیتا ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو یہ بات کبھی نہیں سنی تھی

(23:23) افلا تتقون۔ ہمزہ استفہام کے لئے ہےعطف کے لئے اس سے قبل فعل مقدرہ ہے۔ ای اتعرفون ذلک ای مضمون قولہ تعالیٰ (مالکم من الہ غیرہ) فلا تتقون عذابہ تعالیٰ الزی یستوجبہ ما انتم علیہ من تر عبادتہ سبحانہ وحدہ واشراککم بہ فی العبادۃ (کیا تم خدا تعالیٰ کے اس فرمان مالکم من الہ غیرہ کے مضمون کو تم پہچانتے ہو اور نہیں ڈرتے اس کے عذاب سے جو اس کی ترک عبادت سے اور اس کے ساتھ دوسروں کو عبادت میں شریک ٹھہرانے سے لازم آتا ہے۔ لا تتقون۔ مضارع منفی جمع مذکر حاضر اتقاء (افتعال) مصدر۔ تم نہیں ڈرتے ہو۔ (23:24) الملؤا۔ اسم جمع معرف باللام، سرداروں اور بڑے لوگوں کی جماعت الملا۔ وہ جماعت جو کسی امر پر مجتمع ہو تو نظروں کو ظاہری حسن و جمال سے اور نفوس کو ہیبت وجلا سے بھر دے۔ ملا یملا ملا وملاۃ کسی چیز کو کسی چیز سے بھرنا۔ ملء جمع املا۔ وہ مقدار جس سے برتن بھر جائے۔ قرآن مجید میں ہے فلن یقبل من احدہم ملء الارض ذھبا ولوافتدی بہ (3:91) سو ان میں سے کسی سے ہرگز نہ قبول کیا جائے گا زمین بھر بھی سونا اگرچہ وہ اسے معاوضہ میں دینا چاہے۔ م ل ء حروف مادہ۔ ان یتفضل علیکم۔ یتفضل علی۔ مضارع منصوب بوجہ عمل ان واحد مذکر غائب علی کے صلہ کے ساتھ۔ بمعنی فضیلت پائے تم پر۔ بڑائی حاصل کرے تم پر۔ تم پر برتری حاصل کرے۔ تم سے برتر ہو کر رہے۔
Ayah 23:25

اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ فَتَرَبَّصُوْا بِهٖ حَتّٰى حِیْنٍ Open ayah 23:25 in the Quran reader

اس آدمی کو تو دیوانگی (کا عارضہ) ہے تو اسکے بارے میں کچھ مدت انتظار کرو

23:25) ان۔ نافیہ ہے۔ رجل بہ جنۃ۔ (ایسا) آدمی جس کو جنون ہو۔ جنۃ۔ جن یجن (نصر) سے مشتق ہے۔ بمعنی جنون۔ سودا۔ دیوانگی۔ چناچہ اور جگہ قرآن مجید میں ہے ما بصاحبکم من جنۃ (7:184) تمہارے رفیق (محمد ﷺ ) کو (کسی طرح کا بھی) جنون نہیں ہے۔ الجن کے اصل معنی کسی چیز کو حواس سے پوشیدہ رکھنے کے ہیں۔ جن (باب نصر) سے کسی چیز کو چھپانا۔ اور اجن کے معنی چھپانے کے لئے کوئی چیز دینا اسی سے الجن ہے جس کی جمع جنۃ آتی ہے تمام غیر مرئی روحانی مخلوق جو حواس سے مستور ہے اس صورت میں جن کا لفظ ملائکہ اور شیاطین دونوں کو شامل ہے۔ لہٰذا تمام فرشتے جن ہیں لیکن تمام جن فرشتے نہیں ہیں۔ اسی سے الجنۃ ہے۔ یعنی ہر وہ باغ جس کی زمین درختوں کی وجہ سے نظر نہ آئے۔ بہشت کو جنت یا تو دنیوی باغات سے تشبیہ دے کر کہا گیا ہے یا اس لئے کہ بہشت کی نعمتیں ہم سے مخفی رکھی گئی ہیں۔ دیوانگی یا جنون کو بھی جنۃ اس لئے کہا گیا ہے کہ یہ انسان کے دل اور عقل کے درمیان حائل ہوجاتا ہے۔ تربصوا۔ امر جمع مذکر حاضر۔ تربص (تفعل) مصدر سے۔ تم انتظار کرو۔ تم راہ دیکھتے رہو۔ تربصوا بہ اس کا انتظار کرو (کہ اس کا کیا انجام ہوتا ہے) ۔ انصرنی۔ ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم۔ انصر فعل امر۔ واحد مذکرحاضر ۔ تو میری مدد کر۔
Ayahs 23:26–27

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا كَذَّبُوْنِ Open ayah 23:26 in the Quran reader

نوح نے کہا کہ پروردگار مجھے جھٹلایا ہے تو میری مدد کر

فَاَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِ اَنِ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا فَاِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوْرُ١ۙ فَاسْلُكْ فِیْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْهِ الْقَوْلُ مِنْهُمْ١ۚ وَ لَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 23:27 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ ہمارے سامنے اور ہمارے حکم سے کشتی بناؤ پھر جب ہمارا حکم آپہنچے اور تنور (پانی سے بھر کر) جوش مارنے لگے تو سب (قسم کے حیوانات) میں سے جوڑا جوڑا (یعنی نر اور مادہ) دو دو کشتی میں بٹھا دو اور اپنے گھر والوں کو بھی سو ان کے جن کی نسبت ان میں سے (ہلاک ہونے کا) حکم پہلے صادر ہوچکا ہے اور ظالموں کے بارے میں ہم سے کچھ نہ کہنا وہ ضرور ڈبو دئیے جائیں گے

(23:26) بما۔ اس میں ب سببیہ ہے اور ما مصدریہ ای بسبب تکذیبہم ایای ان کے مجھے جھٹلانے کی وجہ سے۔ کذبون۔ ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب۔ اصل میں کذبونی تھا۔ انہوں نے مجھے جھٹلایا ۔ انہوں نے مجھے جھوٹا قرار دیا۔ انہوں نے مجھے جھوٹا قرار دیا۔ انہوں نے میری تکذیب کی۔ تکذیب (تفعیل) مصدر۔
Ayahs 23:28–29

فَاِذَا اسْتَوَیْتَ اَنْتَ وَ مَنْ مَّعَكَ عَلَى الْفُلْكِ فَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ نَجّٰىنَا مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:28 in the Quran reader

اور جب تم اور تمہارے ساتھی کشتی میں بیٹھ جاؤ تو (خدا کا شکر کرنا اور) کہنا کہ سب تعریف خدا ہی کو (سزاوار) ہے جس نے ہم کو ظالم لوگوں سے نجات بخشی

وَ قُلْ رَّبِّ اَنْزِلْنِیْ مُنْزَلًا مُّبٰرَكًا وَّ اَنْتَ خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ Open ayah 23:29 in the Quran reader

اور (یہ بھی) دعا کرنا کہ اے پروردگار ہم کو مبارک جگہ پر اتاریو اور تو سب سے بہتر اتارنے والا ہے

(23:28) استویت۔ ماضی واحد مذکر حاضر استواء (افتعال) سے (جب) تو چڑھ چکے (جب ) تم (کشتی میں ) سوار ہوچکو۔
Ayah 23:30

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ وَّ اِنْ كُنَّا لَمُبْتَلِیْنَ Open ayah 23:30 in the Quran reader

بیشک اس (قصے) میں نشانیاں ہیں اور ہمیں تو آزمائش کرنی تھی

(23:30) ان۔ مخففہ ہے جو ان ثقیلہ سے مخفف ہو کر ان بن گیا۔ تحقیق اور ثبوت کے لئے ہے اس کے بعد لام مفتوح کا آنا لازمی ہوتا ہے جیسا کہ آیت ھذا میں ہے (لمبتلین) مبتلین اسم فاعل جمع مذکر ابتلاء (افتعال) مصدر۔ جانچنے والے۔ کھرے کھوٹے کو الگ کردینے والے۔ بلی مادہ۔
Ayah 23:31

ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَۚ Open ayah 23:31 in the Quran reader

پھر ان کے بعد ہم نے ایک اور جماعت پیدا کی

(23:31) انشانا۔ ماضی جمع متکلم انشاء (افتعال) مصدر۔ ہم نے پیدا کیا۔ ہم نے پرورش کی۔ ن ش ء مادہ۔ قرنا واحد قرون۔ جمع قوم (ایسی قوم جو ایک زمانے میں ہو) ۔ قرنا اخرین۔ ایک دوسری قوم ۔ ایک دوسری جماعت (قوم عادیا ثمود مراد ہے) ۔
Ayah 23:32

فَاَرْسَلْنَا فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 23:32 in the Quran reader

اور انہی میں سے ان میں ایک پیغمبر بھیجا (جس نے ان سے کہا) کہ خدا ہی کی عبادت کرو (کہ) اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں تو کیا تم ڈرتے نہیں ؟

(23؛32) ان اعبدوا اللہ۔ میں ان مفسرہ ہے کیونکہ ارسال میں قول کے معنی متضمن ہیں یعنی ہم نے رسول کی زبان سے ان کو کہا کہ :۔ اعبدوا اللہ تم اللہ کی عبادت کرو۔ اعبدوا عبادۃ سے (باب نصر) امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے (نیز ان کے لئے مزید ملاحظہ 23:27)
Ayahs 23:33–34

وَ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ الْاٰخِرَةِ وَ اَتْرَفْنٰهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۙ یَاْكُلُ مِمَّا تَاْكُلُوْنَ مِنْهُ وَ یَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُوْنَ۪ۙ Open ayah 23:33 in the Quran reader

تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے اور آخرت کے آنے کو جھوٹا سمجھتے تھے اور دنیا کی زندگی میں ہم نے ان کو آسودگی دے رکھی تھی کہنے لگے کہ یہ تو تم ہی جیسا آدمی ہے جس قسم کا کھانا تم کھاتے ہو اسی طرح کا یہ بھی کھاتا ہے اور (پانی) جو تم پیتے ہو اسی قسم کا یہ بھی پیتا ہے

وَ لَئِنْ اَطَعْتُمْ بَشَرًا مِّثْلَكُمْ اِنَّكُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَۙ Open ayah 23:34 in the Quran reader

اور اگر تم نے اپنے ہی جیسے آدمی کا کہا مان لیا تو گھاٹے میں پڑگئے

(23:33) اترفناہم ماضی جمع متکلم ھم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب ہم نے ان کو آرام دیا۔ ہم نے انہیں عیش و عشرت کا سامان مہیا کر رکھا تھا۔ اتراف افعال۔ مصدر۔ الترفۃ عیش و عشرت میں فراخی اور وسعت کو کہتے ہیں۔ ما ھذا الا بشرتا وما نحن لہ بمؤمنین (تا آیۃ 38) الملا کا کلام ہے۔
Ayah 23:35

اَیَعِدُكُمْ اَنَّكُمْ اِذَا مِتُّمْ وَ كُنْتُمْ تُرَابًا وَّ عِظَامًا اَنَّكُمْ مُّخْرَجُوْنَ۪ۙ Open ayah 23:35 in the Quran reader

کیا یہ تم سے یہ کہتا ہے کہ جب تم مرجاؤ گے اور مٹی ہوجاؤ گے اور اس تخوان (کے سوا کچھ نہ رہے گا) تو تم (زمین سے) نکالے جاؤ گے

(23:35) ایعدکم۔ ھمزہ استفہامیہ ہے۔ یعد وعد سے مضارع واحد مذکر غائب کا صیغہ ہے کم ضمیر جمع مذکر حاضر۔ کیا وہ تم سے (یہ) وعدہ کرتا ہے۔ متم۔ ماضی جمع مذکر حاضر۔ ماجی بمعنی مستقبل (موت) مصدر (باب ضرب وسمع) (جب) تم مر جائو گے۔
Ayah 23:36

هَیْهَاتَ هَیْهَاتَ لِمَا تُوْعَدُوْنَ۪ۙ Open ayah 23:36 in the Quran reader

جس بات کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے (بہت) بعید اور (بہت) بعید ہے

(23:36) ھیھات۔ کلمہ بعد ہے۔ نہایت ہی بعید ہے ھیھات ھیھات بہت ہی بعید ہے۔ بہت ہی بعید ہے (وہ بات جو تم سے کہی جارہی ہے ۔ جس کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے۔ یعنی بعث بعد الموت موت کے بعد دوبارہ اٹھنا) ھیھات ای بعد وقوع ذلک الموعود (یعنی بہت دور کی بات ہے اس قیامت موعود کا وقوع پذیر ہونا۔ گویا ھیھات اسم فعل بمعنی ماجی ہے۔ اور اس کا تکرار تاکید بعد کے لئے آیا ہے۔
Ayah 23:37

اِنْ هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ۪ۙ Open ayah 23:37 in the Quran reader

زندگی تو یہی ہماری دنیا کی زندگی ہے کہ اسی میں ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور ہم پھر نہیں اٹھائے جائیں گے

(23:37) ان۔ نافیہ ہے۔ مبعوثین۔ اسم مفعول جمع مذکر مجرور ۔ اٹھائے جانے والے۔ دوبارہ زندہ کئے جانے والے۔ یعنی ہمیں دوبارہ زندہ نہیں اٹھایا جائے گا۔
Ayah 23:38

اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلُ اِ۟فْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا وَّ مَا نَحْنُ لَهٗ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 23:38 in the Quran reader

یہ تو ایک ایسا آدمی ہے جس نے خدا پر جھوٹ افترا کیا ہے اور ہم اس کو ماننے والے نہیں

ّ (23:38) افتری۔ ماضی واحد مذکر غائب افتراء (افتعال) مصدر۔ اس نے جھوٹ باندھا۔ اس نے بہتان باندھا ۔ افتراء کا لفظ اصلاح اور فساد دونوں کے لئے آتا ہے لیکن اس کا زیادہ تر استعمال فساد کے ہی معنوں میں ہوتا ہے۔ اسی لئے قرآن مجید میں جھوٹ، شرک اور ظلم کے موقعوں پر استعمال کیا گیا ہے۔
Ayah 23:39

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا كَذَّبُوْنِ Open ayah 23:39 in the Quran reader

پیغمبر نے کہا اے پروردگار انہوں نے مجھے جھوٹا سمجھا تو میری مدد کر

(23:39) بما۔ میں ب سببیہ ہے۔
Ayah 23:40

قَالَ عَمَّا قَلِیْلٍ لَّیُصْبِحُنَّ نٰدِمِیْنَۚ Open ayah 23:40 in the Quran reader

فرمایا کہ تھوڑے ہی عرصے میں پیشیمان ہو کر رہ جائیں گے

(23:40) عما قلیل۔ میں عن حرف جار ہے زمان مجرور محذوف ہے قلیل صفت ہے زمان موصوف کی۔ ما زائدہ ہے عما قلیل ای عن زمان قلیل تھوڑے عرصہ کے بعد ہی۔ عنقریب ہی۔ لیصبحن۔ میں لام تاکید کے لئے ہے۔ مضارع بلام تاکید ونون ثقیلہ۔ اصباح (افعال) مصدر۔ فعل ناقص ۔ وہ ضرور ہی ہوجائیں گے۔