23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayah 23:1

قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 23:1 in the Quran reader

بیشک ایمان والے مراد کو پہنچے

ترکیب : الذین المؤمنون کی صفت یا بدل والذین اس پر معطوف الا علی ازواجہم فی موضع نصب لان المعنی صانواھاعن کل فرج الاعن فروج ازواجھم اور حال بھی ہوسکتا ہے ای الاوالین علی ازواجھم او قوامین علیھن من قولک کان فلاں علی فلانۃ ھم فیہا خالدون جملہ حال مقدر ہے فاعل سے یا مفعول سے۔ تفسیر : یہ سورة بھی مکہ میں ہجرت سے پیشتر نازل ہوئی ہے۔ احمد و ترمذی و نسائی نے روایت کی ہے جس کا اخیر جملہ یہ ہے کہ نبی ﷺ نے وحی کے بعد فرمایا کہ مجھ پر دس آیات یعنی اس سورة کا اول ایسی نازل ہوئی ہیں جو ان پر عمل کریگا جنت میں داخل ہوگا۔ سورة حج کے آخیر میں تھا کہ اے امت محمد ﷺ تم کو خدا نے برگزیدہ کیا ہے کہ تم اور لوگوں پر دنیا و آخرت میں نیکی اور بدی کے معاملات میں شہادت ادا کرو جس کام کو بالاتفاق تم اچھا کہو یا جس شخص کو تم بھلا کہو وہی اچھا اور وہی بھلا ہے اور رسول ایسے معاملات میں تم پر شہادت ادا کرنے والا ہے تمہاری اچھائی اور برائی رسول کی شہادت پر موقوف ہے۔ اور یہ بات ظاہر ہے کہ گواہ جب تک عدل یعنی نیک اور معتبر نہ ہو تو اس کی گواہی کیا۔ اس لیے اس سورة میں اصول حسنات کی طرف اس جملہ فاقیموا الصلوٰۃ و آتوا الزکوۃ و اعتصموا باللہ اجمالا اشارہ تھا۔ اس سورة میں اس کی تشریح فرمائی گئی اور اصول حسنات جو موجب فلاح و صلاح دارین ہیں بتلائے گئے اور اصول حسنات بیان فرمانے سے پہلے ان پر عمل کرنے والے کو بلفظ قد جس کے معنی تحقیق اور ضرور کے ہیں فلاح کا مژدہ بھی دے دیا کہ اس کی فلاح میں کوئی شک و شبہ نہیں فقال قد افلح المؤمنون کہ ایمانداروں نے فلاح حاصل کرلی۔ آگے اس فلاح کی بھی شرح فرمائے گا مگر اس سے پہلے وہ اوصاف ارشاد فرماتا ہے جن پر فلاح مرتب ہے یہ سات صفت ہیں جو تمام مکارم اخلاق کے اصل اصول ہیں اور جن میں دنیا و آخرت کے متعلق حکمت نظری عملی تہذیب اخلاق سے لے کر تدبیر المنزل تک کوئی بات رہ نہیں گئی ہے (1) المومنون اس میں ایمان کا ذکر ہے جو سب نیکیوں کی جڑ ہے اس میں اجمالا اللہ اور اس کے صفات اور ملائکہ اور انبیاء اور ان کی کتب اور دار آخرت کی تصدیق آگئی۔ یہ تمام حکمت نظریہ کا عطر ہے۔
Ayah 23:2

الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَۙ Open ayah 23:2 in the Quran reader

(یہ) وہ ہیں جو اپنی نماز میں عاجزی کیا کرتے ہیں

(2) الذین ھم فی صلوتہم خاشعون یہاں سے حکمت عملیہ شروع ہوتی ہے اور نماز سب میں اول بات ہے اس جملہ میں نہ صرف نماز پڑھنے ہی کا حکم ہے بلکہ نماز میں عاجزی کرنے کا بھی۔ خشوع کے معنی میں اختلاف ہے بعض اس کو دل کا فعل کہتے ہیں۔ ڈرنا اور دل سے معافی پر لحاظ کر کے خدا تعالیٰ کو حاضر یا اپنے آپ کو اس کے آگے کھڑا سمجھ کر عجز و نیاز کرنا اور بعض اس کو ہاتھ پائوں کا عمل کہتے ہیں سکون سے کھڑا رہنا ادھر ادھر التفات نہ کرنا کپڑے یا ڈاڑھی یا اور چیز سے کھیل نہ کرنا۔ نماز کے اندر اور بعض نے دونوں باتوں کو لیا ہے اور یہی قوی ہے اور صحیح حدیثوں میں دونوں باتوں کی طرف اشارہ ہے اور یہ ظاہر ہے۔ کس لیے کہ جب انسان اپنے تئیں اللہ تعالیٰ کے سامنے سمجھے گا اور اس سے عجز و نیاز کرے گا جو روح نماز ہے تو وہ کبھی ادھر ادھر ملتفت نہ ہوگا۔ جب شاہان دنیا کے دربار میں ادھر ادھر ملتفت ہونا سوئِ ادب ہے تو وہاں دربار عالی میں کیونکر ادھر ادھر ملتفت ہوسکتا ہے وہاں جو رسمی نماز پڑھتے ہیں اور دل سے نہ ان کو حضور ہے نہ نیاز ‘ وہ ایسی باتیں کرتے ہیں ان کی نماز ان کے منہ پر ماری جاتی ہے۔
Ayah 23:3

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَۙ Open ayah 23:3 in the Quran reader

اور وہ جو بےہودہ باتوں سے الگ رہتے ہیں

(3) والذین ھم عن اللغو معرضون سے وہ جو بیہودہ باتوں سے کنارہ کرتے ہیں لغو حرام اور مکروہ اور اس مباح فعل کو بھی کہتے ہیں کہ جس کی طرف انسان کو کوئی حاجت یا ضرورت نہ ہو۔ افسوس کہ آج کل مسلمان اس لغو میں کیسے مبتلا ہیں دنیاوی امور میں صدہا مکانات اور بےضرورت اسباب خرید اور بنا کر محتاج ہوجاتے ہیں بیاہ شادی میں اس لغو کا کچھ انتہا نہیں۔ آتشبازی ‘ ناچ رنگ کیا کیا ہوتا ہے اور اسی طرح دینی معاملات میں لغو کا ارتکاب ہوتا ہے۔ اولیاء اللہ کے مزارات مقدسہ پر کیا کچھ نہیں ہوتا ‘ پھر قبروں پر ناچ ہوتا ہے اور دیگر فضول باتیں ہوتی ہیں اور محرم میں تو کچھ انتہا ہی نہیں رہتا ہزار ہا روپیہ لگا کر تعزے بنتے ہیں۔ لوگ ریچھ بندر بنتے ہیں شدے اور علم اور ان کے ساتھ دے کر منہیات پھر کہیں حضرت امام حسین ؓ کے گھوڑے کا فرضی نعل نکلتا ہے۔ جس کو نعل صاحب کہتے ہیں۔ سرکاروں سے لاکھوں روپے عاشور خوانوں کے لیے ملتے ہیں کاش یہ روپیہ قوم کی تعلیم میں صرف ہوتا۔ کہاں گئے ہمارے واعظ ! مجالس میں صرف رلانا ہی جانتے ہیں ان باتوں کا ذکر تک بھی نہیں کرتے۔
Ayah 23:4

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوْنَۙ Open ayah 23:4 in the Quran reader

اور وہ جو زکوٰۃ دیا کرتے ہیں۔

(4) والذین ھم للزکوۃ فاعلون وہ جو اپنے مال اللہ کے رستہ میں ایک حصہ معین دیا کرتے ہیں اور ایسے حصہ معین کو زکوٰۃ کہتے ہیں اس کے لیے فاعلون کا لفظ لانا نہایت فصاحت ہے۔
Ayahs 23:5–7

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ Open ayah 23:5 in the Quran reader

اور وہ جو اپنے ستر کو محفوظ رکھتے ہیں

اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ Open ayah 23:6 in the Quran reader

مگر اپنی بیویوں یا لونڈیوں پر اس لیے کہ ان میں کوئی الزام نہیں۔

فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْعٰدُوْنَۚ Open ayah 23:7 in the Quran reader

پھر جو کوئی اس کے سوائے ڈھونڈے تو وہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں

(5) والذین ھم لفروجھم الخ وہ جو اپنی بیبیوں اور شرعی لونڈیوں کے سوا اور کسی پر اپنا ستر نہیں کھولتے۔ اس سے لواطت اور سحق اور ہاتھ سے منی نکالنے کی بھی ممانعت ثابت ہوئی اور متعہ کی ممانعت بھی سمجھی گئی۔ کس لیے کہ متاعی عورت حصہ نہ ملنے کی وجہ سے بیوی نہیں اور نہ لونڈی ہے پھر کیوں کر مباح ہوسکتی ہے اور آیت میں بیوی اور لونڈی پر قضائِ شہوت کا حصر کردیا ہے۔
Ayah 23:8

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ Open ayah 23:8 in the Quran reader

اور جو اپنی امانتوں اور اپنے عہدوں کی رعایت رکھتے ہیں

(6) والذین ھم لا ماناتہم و عہدھم راعون وہ جو امانت اور عہد کی حفاظت رکھنے والے ہیں۔ امانت میں مال اور آبرو اور بات سب کی حفاظت ضرور ہے اسی طرح عہد میں عہد الٰہی اور باہمی معاہدہ آگیا۔
Ayahs 23:9–11

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَوٰتِهِمْ یُحَافِظُوْنَۘ Open ayah 23:9 in the Quran reader

اور جو اپنی نمازوں کی محافظت کیا کرتے ہیں

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَۙ Open ayah 23:10 in the Quran reader

وہی وارث ہیں

الَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَ١ؕ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 23:11 in the Quran reader

جو جنت الفردوس کا ورثہ پاویں گے (اور) وہ اس میں سدا رہا کریں گے۔

(7) والذین ھم علی صلوتھم یحافظون وہ جو اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں یعنی ہمیشہ وقت پر شرائط و مستحبات کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ ان ساتوں باتوں کے عمل میں لانے والے کے لیے اس نے اپنے فضل سے جنت میں آٹھویں درجہ کی اعلی جنت کا وعدہ دیا جس کو جنت الفردوس کہتے ہیں اور اس کا ان کو وارث یعنی مالک بھی قرار دیا اور وہاں ہمیشہ رہنے کا بھی مژدہ دیا۔ یہ ہے فلاح۔
Ayahs 23:12–16

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ طِیْنٍۚ Open ayah 23:12 in the Quran reader

اور البتہ انسان کو ہم نے چنی ہوئی مٹی سے پیدا کیا۔

ثُمَّ جَعَلْنٰهُ نُطْفَةً فِیْ قَرَارٍ مَّكِیْنٍ۪ Open ayah 23:13 in the Quran reader

پھر ہم نے اس کو ایک قرار گاہ (رحم) نطفہ بنا کر رکھا۔

ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظٰمًا فَكَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْمًا١ۗ ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَ١ؕ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَؕ Open ayah 23:14 in the Quran reader

پھر نطفہ کو علقہ بنایا پھر علقہ کو مضغہ گوشت بنایا پھر مضغہ گوشت میں ہڈیاں بنائیں پھر ہڈیوں کو گوشت پہنایا پھر اسکو ایک دوسری صورت میں بنا دیا پس تبارک اللہ وہ کیا ہی عمدہ بنانیوالا ہے

ثُمَّ اِنَّكُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ لَمَیِّتُوْنَؕ Open ayah 23:15 in the Quran reader

پھر اس کے بعد تم کو مرنا ہے

ثُمَّ اِنَّكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ تُبْعَثُوْنَ Open ayah 23:16 in the Quran reader

پھر تم قیامت کے دن اٹھائے جائوگے۔

مگر اس کے بعد ہی منکرین حشر و نشر یہ کہتے ہیں کہ مر کر کون زندہ ہوگا اس لیے اس کے بعد دلائلِ حشر شروع کئے فقال و لقد خلقنا الانسان من سلالۃ الخ کہ ہم نے انسان کو قطرہ منی سے پیدا کیا اور وہ قطرہ مٹی سے بنایا تھا کیونکہ غذائیں جن سے منی پیدا ہوتی ہے مٹی سے بنتی ہیں پھر اس قطرہ کو خون بنایا پھر گوشت کا لوتھڑا بنا کر اس کے ہاتھ پائوں بنائے ‘ ہڈیاں اور پٹھے بنائے اور اس کو انسان بنا کر ماں کے پیٹ سے باہر لائے اور پھر وہ ایک روز مرتا ہے پھر جس نے ایسا کردیا کیا وہ دوبارہ پیدا نہیں کرسکتا ؟ ضرور کرسکتا ہے کماقال ثم انکم یوم القیامۃ تبعثون یہ دلیل کا نتیجہ ہے یہاں تک دلائل النفس تھے کہ سب سے پہلے انسان کے اپنے ہی اندر اس کی قدرت و کمال کے صدہا شواہد موجود ہیں۔ ان میں غور کرکے فی الفور کہہ سکتا ہے کہ وہ قادر باکمال ضرور مرنے کے بعد باردگر زندہ کرسکتا ہے۔
Ayahs 23:17–21

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعَ طَرَآئِقَ١ۖۗ وَ مَا كُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غٰفِلِیْنَ Open ayah 23:17 in the Quran reader

اور البتہ ہم نے ہی تمہارے اوپر سات آسمان بنائے اور ہم بنانے میں بیخبر نہ تھے

وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ فَاَسْكَنّٰهُ فِی الْاَرْضِ١ۖۗ وَ اِنَّا عَلٰى ذَهَابٍۭ بِهٖ لَقٰدِرُوْنَۚ Open ayah 23:18 in the Quran reader

اور ہم نے ایک اندازہ کے ساتھ آسمان سے پانی اتارا پھر اس کو زمین میں ٹھہرائے رکھا اور ہم اس کو لے جا بھی سکتے ہیں

فَاَنْشَاْنَا لَكُمْ بِهٖ جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ١ۘ لَكُمْ فِیْهَا فَوَاكِهُ كَثِیْرَةٌ وَّ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَۙ Open ayah 23:19 in the Quran reader

پھر ہم نے اس پانی سے تمہارے لیے کھجور اور انگور کے باغ اگائے جن میں تمہارے لیے بہت سے میوے ہیں اور ان میں سے تم کھاتے بھی ہو

وَ شَجَرَةً تَخْرُجُ مِنْ طُوْرِ سَیْنَآءَ تَنْۢبُتُ بِالدُّهْنِ وَ صِبْغٍ لِّلْاٰكِلِیْنَ Open ayah 23:20 in the Quran reader

اور ہم نے ہی (زیتون کا) وہ درخت بھی پیدا کیا جو (کوہ) طور میں اکثر پیدا ہوتا ہے جو کھانے والوں کے لیے روغن اور سالن لے کر اگتا ہے

وَ اِنَّ لَكُمْ فِی الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً١ؕ نُسْقِیْكُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْنِهَا وَ لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ كَثِیْرَةٌ وَّ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَۙ Open ayah 23:21 in the Quran reader

اور تمہارے لیے چارپایوں میں بھی عبرت ہے کہ تم کو ان کے پیٹ کی چیزوں میں سے (جدا کر کے) وہ پلاتے ہیں اور تمہارے لیے ان میں بہت سے اور بھی فائدے ہیں اور ان میں سے بعض کو کھاتے بھی ہو

ان میں غور کر کے فی الفور کہہ سکتا ہے کہ وہ قادر باکمال ضرور مرنے کے بعد باردگر زندہ کرسکتا ہے اس کے بعد دلائلِ آفاق یعنی انسان سے جو باہر شواہد ہیں ان کو شروع کرتا ہے اور سب میں آسمان کا پہلے ذکر فرماتا ہے فقال ولقد خلقنا قوقکم سبع طرائق یعنی ہم نے تمہارے اوپر سات آسمان بنائے طرائق جمع طریقہ۔ آسمانوں کو طرائق یا تو اس لیے کہا کہ یہ ملائکہ کے آنے جانے کے رستے ہیں یا سبع سیارہ کی چال کے رستے ہیں اور ممکن ہے کہ ان کو طرائق ان کے تطارق کی وجہ سے کہا ہو۔ جس کے معنی تہ بہ تہ یعنی اوپر تلے ہونے کے ہیں۔ یقال طارق الرجل فعلیہ اذا اطبق نعلاعلی نعلٍ و طارق بین الثوبین اذالبس ثوبافوق ثوبٍ ۔ یہ خلیل اور زجاج اور فرا کا قول ہے۔ (کبیر) پھر فرماتا ہے وماکنا عن الخلق غافلین کہ ہم نے ان آسمانوں کو یا دیگر مخلوق کو بےجوڑ کیف ماً اتفق نہیں پیدا کیا بلکہ ہر ایک میں صدہا حکمتیں ملحوظ ہیں۔ ابتداء سے لے کر انتہا تک ان کے مصالح کو نظر رکھا ہے۔ (دوسری دلیل) وانزلنا من السماء ماء بقدر الخ کہ ہم آسمانوں سے یعنی اوپر بادلوں سے پانی اتارتے ہیں سو وہ بھی بےاندازہ نہیں کہ یوں ہی بادلوں کے دہانے کھول کر بےموقع دنیا کو غرقاب کردیا جاوے بلکہ بقدر ایک اندازہ خاص سے پھر اس پانی کو بیہودہ طور پر صرف نہیں کرتے بلکہ فاسکناہ فی الارض اس کو زمین رہنے دیتے ہیں اور اناعلی ذھاب بہ لقادرون ہم اس پر بھی قادر ہیں کہ اس پانی کو لے جاویں سکھا دیں۔ لیکن فانشانا لکم بہ جنات الخ تمہارے لیے اس سے باغ اگاتے ہیں اور طرح طرح کی جڑی بوٹیاں اناج وغیرہ پیدا کرتے ہیں۔ منجملہ ان کے کھجور اور انگور ہے جن کو تر اور خشک ‘ گرمی اور سردی میں ہر طرح سے کھاتے ہیں۔ ان کے سواباغوں میں لکم فیہافواکۃ کثیرۃ منہاتا کلون تمہارے لیے اور طرح طرح کے میوے ہیں اور نہ صرف میوے کہ جن سے پیٹ نہ بھرے غذا کا کام نہ چلے بلکہ بعض ان میں سے کھانے کا بھی کام دیتے ہیں۔ صاحب کشاف کہتے ہیں منھا تاکلون کے یہ معنی کہ یہی باغ تمہاری معاش اور روزی کا بھی ذریعہ ہیں جیسا کہ کہا کرتے ہیں کہ فلاں شخص فلاں پیشہ سے کھاتا ہے وشجرۃ معطوف ہے جنات پر۔ ای انشانالکم شجرۃ اس درخت سے مراد زیتون کا درخت ہے جو عرب کے لیے پیشتر کوہ طور میں پیدا ہوتا ہے جیسا کہ فرماتا ہے تخرج من طور سیناء۔ صاحب کشاف کہتے ہیں طور یا توسیناء میدان کی طرف مضاف ہے کہ جس کو سینین بھی کہتے ہیں یا طور مضاف اور سینا مضاف الیہ دونوں سے مرکب ہو کر ایک پہاڑ کا نام ہے جیسا کہ امراء القیس وبعلبک پھر بعض اس کو غیر منصرف کہتے ہیں تعریف و عجمی کے سبب یا تعریف و تانیث کے سبب۔ کیونکہ یہ بقعہ ہے اور فعلاء کا الف تانیث کے لیے نہیں جیسا کہ حرباء اور بعض الف کو تانیث کے لیے کہتے ہیں جیسا کہ صحراء۔ یہ پہاڑ قلزم کے اس طرف عرب کے گوشہ شمال و مغرب کے بیابان میں ہے یہیں حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو توریت ملی تھی۔ تنبت بالدہن موضع حال میں ای تنبت وفیھا الذین کمایقال رکب الامیربجندہ اے معہ الجند یعنی اس درخت میں تیل ہوتا ہے وصبغ للاکلین اور سالن بھی نہ سب کے لیے بلکہ ان کے لیے جو اس میں روٹی لگا کر کھاتے ہیں۔ عرب زیتون کے تیل کو سالن کے کام میں لاتے ہیں الصبغ و المصباغ ما یستبغ بہ ای یصبغ بہ النجز صبغ عطف علی الدھن اے ادام۔ تیسری دلیل حیوانات کے متعلق وان لکم فی الانعام لعبرۃ کہ چارپائوں میں بھی تمہارے لیے بہت غور کی جائے ہے ان کی پیدائش اور تولد و تناسل اور ان کا شعورو ادراک تو دفتر معرفت ہی ہے مگر تم صرف ان کے انہیں فائدوں کو ہی دیکھو : (1) نسقیکم کہ تمہیں ان کا دودھ پلاتے ہیں اور پیٹ کی آلایش اور خون میں سے کس حکمت بالغہ سے جدا کیا اور نکالا جاتا ہے۔ (2) ولکم فیہا منافع کثیرۃ دودھ کے سواء تمہارے لیے ان میں اور بھی فوائد ہیں ان کی اون اور جلد کو کام میں لاتے ہیں۔ (3) ومنہا تاکلون کہ بعض کو تم کھاتے بھی ہو ان کا گوشت تمہاری عہدہ غذا ہے۔ (4) وعلیہا و علی الفلک تحملون کہ ان پر بلکہ کشتیوں پر بھی سوار ہوتے ہو بوجھ لادتے ہو پھر جو قادر باکمال یہ کرتا ہے کیا وہ اپنی حکمت بالغہ سے انسان کو ایک نئی زندگانی نہ دے گا اور اس کی حیات کا سلسلہ اسی چند روزہ حیات پر تمام کر دے گا ہرگز نہیں۔
Ayah 23:22

وَ عَلَیْهَا وَ عَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَ۠ Open ayah 23:22 in the Quran reader

اور ان پر اور کشتیوں پر سوار بھی کئے جاتے ہو 1 ؎۔

1 ؎ وماکنا عن الخلق غافلین کی یہ دلیل ہے جس میں بعض چیزوں کے چند فوائد بیان ہوئے ہیں اور اس میں طبیعت کے خالق و فاعل ہونے کا رد ہے جس کے دہریے قائل ہیں۔ 12 منہ
Ayahs 23:23–24

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 23:23 in the Quran reader

اور البتہ نوح کو ہم نے اس کی قوم کی طرف بھیجا۔ تب انہوں نے کہا اے قوم ! اللہ کی عبادت کرو تمہارا اس کے سوا کوئی معبود نہیں تم پھر کیوں نہیں ڈرتے

فَقَالَ الْمَلَؤُا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۙ یُرِیْدُ اَنْ یَّتَفَضَّلَ عَلَیْكُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَنْزَلَ مَلٰٓئِكَةً١ۖۚ مَّا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَۚ Open ayah 23:24 in the Quran reader

سو اس کی قوم کے کافر سرداروں نے (یہ) کہا کہ یہ ہے کیا مگر تمہارے ہی جیسا ایک آدمی۔ تم پر بڑائی حاصل کرنا چاہتا ہے اور اگر اللہ چاہتا تو فرشتے ہی نہ بھیج دیتا۔ ہم نے اپنے اگلے باپ دادا سے یہ بات کبھی سنی بھی نہیں۔

اب یہاں سے چند انبیائِ گزشتہ کے تذکرے بیان کرتا ہے جن کے ذکر سے یہ چند باتیں ظاہر کرنی مقصود ہیں : (1) یہ کہ جس طرح اے محمد ! ﷺ آج تمہاری قوم تم سے کج بحثیاں اور شبہات رکیکہ کرتی ہے اسی طرح پہلے لوگ انبیائِ سابقین کے ساتھ کرتے آئے ہیں۔ (2) یہ کہ خدا تعالیٰ نے ان نبیوں کی معرفت بڑے بڑے معجزے دکھا کر آخر کار ان کو ہلاک و برباد کیا ہے ایسا ہی تمہارے مخالفوں کے ساتھ ہونے والا ہے۔ (3) یہ کہ سب انبیاء خدا پرستی اور توحید کی تعلیم کرتے آئے ہیں یہ جو بت پرستی کو تقلیدِ آباؤ اجداد سے ایک امر جائز قرار دیتے ہیں محض غلط بات ہے۔ (4) خدا تعالیٰ ہر ایک قرن کو غارت کر کے اس کے بعد دوسرا قرن پیدا کرتا آیا ہے پھر کیا مرنے کے بعد زندہ نہیں کرسکتا ؟ سب سے پہلا قصہ حضرت نوح (علیہ السلام) کا ہے جس میں بڑی بات کلام سابق کے ساتھ موجب ربط یہ ہے کہ وہاں فرمایا تھا ہم آسمان سے پانی ایک اندازہ خاص کے ساتھ تمہارے فائدے کے لیے نازل کرتے ہیں اور جب بندے سرکشی کرتے ہیں اور انبیاء کے مقابلہ سے باز نہیں آتے تو اسی رحمت کو زحمت کردیتے ہیں جیسا کہ قوم نوح کے لیے ہوا کہ انہوں نے اپنی قوم کو اللہ کی عبادت کا حکم دیا ‘ شرک سے منع کیا۔ ان کی قوم نے کہا (2) یہ تم جیسا آدمی ہے اس میں فضلیت کی کیا بات ہے ؟ (3) اللہ نے اس کو کیوں بھیجا فرشتے کیوں نہ بھیجے (4) یہ حکم ہم نے باپ دادا سے نہیں سنا کہ ایک اللہ کی عبادت کرو (5) اس کی یہ باتیں خلاف عقل ہیں یہ دیوانہ ہے (6) یہ کہتا ہے کہ عذاب آئے گا دیکھو آتا ہے یا نہیں ؟ چونکہ یہ شبہات بےبنیاد تھے ان کا جواب ذکر نہ کیا آخر کار نوح ( علیہ السلام) نے دعا کی الٰہی ! میری مدد کر اس پر حکم ہوا کہ کشتی تیار کرو اور اس میں اپنے خاندان کو بجزان کے کہ جن کی تقدیر میں ازل سے ہلاکت لکھی گئی الا من سبق علیہ القول اور ایمانداروں کو اور ہر چیز کے جوڑے کو سوار کرلو۔ چناچہ انہوں نے ایسا کیا اور باقی سب لوگ کہ جن میں ان کا بدبخت بیٹا بھی تھا غرق ہوگئے۔ اس قصہ کی کامل تشریح پہلے ہوچکی ہے اور فارالتنور کے معنی بھی ہم بیان کر آئے ہیں قصہ کو تمام کر کے نتائجِ مذکورہ بالا کی طرف اشارہ کرتا ہے ان فی ذالک لآیات کہ اس میں بڑی نشانیاں قدرت کی ہیں پھر فرماتا ہے ان کے بعد ہم نے اور قرن پیدا کیا۔ اور اس میں بھی ایک اور رسول بھیجا یہ دوسرا قصہ ہے۔ اس رسول سے مراد حضرت ہود یا صالح (علیہ السلام) ہیں۔ انہوں نے بھی اپنی قوم کو توحید و خدا پرستی کا حکم دیا تھا اور مر کر زندہ ہونے کا بھی وعدہ کیا تھا۔
Ayahs 23:25–31

اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ فَتَرَبَّصُوْا بِهٖ حَتّٰى حِیْنٍ Open ayah 23:25 in the Quran reader

یہ تو بس ایک دیوانہ آدمی ہے۔ پس اس کا 1 ؎ ایک وقت تک انتظار کرو۔

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا كَذَّبُوْنِ Open ayah 23:26 in the Quran reader

نوح نے کہا اے رب ! انہوں نے جس بات پر مجھے جھٹلایا ہے تو میری مدد کر۔

فَاَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِ اَنِ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا فَاِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوْرُ١ۙ فَاسْلُكْ فِیْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْهِ الْقَوْلُ مِنْهُمْ١ۚ وَ لَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 23:27 in the Quran reader

پھر ہم نے اس کی طرف وحی کی ہماری مدد اور حکم سے کشتی تیار کرو پھر جب ہمارا حکم آوے اور تنور یعنی زمین سے پانی ابلنے لگے تو کشتی میں پھر ایک حیوان کے (نر و مادوں کے) دو دو جوڑے سوار کرلینا اور اپنے کنبے کو بھی مگر ان میں سے جس کے لیے ڈوبنے کا حکم ہوچکا ہے (اس کو نہیں) اور ظالموں کے معاملہ میں مجھ سے بات بھی نہ کرنا کیونکہ وہ سب ڈوبنے والے ہیں۔

فَاِذَا اسْتَوَیْتَ اَنْتَ وَ مَنْ مَّعَكَ عَلَى الْفُلْكِ فَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ نَجّٰىنَا مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:28 in the Quran reader

پھر جب تم اور جو تمہارے ساتھ ہیں کشتی پر سوار ہو لیں تو کہنا حمد ہے اس اللہ کے لیے کہ جس نے ہم کو ظالم قوم سے نجات دی

وَ قُلْ رَّبِّ اَنْزِلْنِیْ مُنْزَلًا مُّبٰرَكًا وَّ اَنْتَ خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ Open ayah 23:29 in the Quran reader

اور دعا کرنا کہ اے رب ! مجھ کو کشتی سے برکت کے ساتھ اتاریو اور تو بہتر اتارنے والا ہے۔

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ وَّ اِنْ كُنَّا لَمُبْتَلِیْنَ Open ayah 23:30 in the Quran reader

بیشک اس قصے میں بہت سی نشانیاں قدرت کی ہیں اور ہم کو تو آزمائش منظور تھی

ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَۚ Open ayah 23:31 in the Quran reader

پھر ان کے بعد ہم نے اور دوسرا قرن پیدا کیا۔

1 ؎ یعنی اس کی بات کا جس سے ہم کو ڈراتا ہے۔ 12 منہ
Ayah 23:32

فَاَرْسَلْنَا فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 23:32 in the Quran reader

پھر ان میں بھی ان ہی میں سے ایک رسول ﷺ بھیجا 2 ؎ کہ اللہ کی عبادت کرو تمہارے لیے اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں پھر تم کیوں نہیں ڈرتے۔

2 ؎ حضرت ہود ( علیہ السلام) یا صالح علیہ السلام۔ 12 منہ