23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 23:33–43

وَ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ الْاٰخِرَةِ وَ اَتْرَفْنٰهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۙ یَاْكُلُ مِمَّا تَاْكُلُوْنَ مِنْهُ وَ یَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُوْنَ۪ۙ Open ayah 23:33 in the Quran reader

اور ان کی قوم کے منکر سردار جو آخرت کے پیش آنے کو جھٹلا چکے تھے اور ہم نے ان کو زندگی دنیا میں آسودگی بھی دی تھی (یہ) کہنے لگے کہ رسول ہے کیا مگر تم ہی جیسا ایک آدمی۔ وہی کھاتا ہے جو تم کھاتے ہو اور وہی پیتا ہے جو تم پیا کرتے ہو

وَ لَئِنْ اَطَعْتُمْ بَشَرًا مِّثْلَكُمْ اِنَّكُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَۙ Open ayah 23:34 in the Quran reader

اور اگر تم نے اپنے جیسے آدمی کی اطاعت کی تو بیشک تم خسارہ میں پڑگئے۔

اَیَعِدُكُمْ اَنَّكُمْ اِذَا مِتُّمْ وَ كُنْتُمْ تُرَابًا وَّ عِظَامًا اَنَّكُمْ مُّخْرَجُوْنَ۪ۙ Open ayah 23:35 in the Quran reader

کیا تم کو وعدہ دیتا ہے کہ جب تم مر جائوگے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجاؤ گے تو کیا تم پھر زندہ کر کے قبروں سے نکالے جاؤ گے۔

هَیْهَاتَ هَیْهَاتَ لِمَا تُوْعَدُوْنَ۪ۙ Open ayah 23:36 in the Quran reader

جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے بھلا وہ (بہت) دور۔

اِنْ هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ۪ۙ Open ayah 23:37 in the Quran reader

ہماری صرف یہی دنیا کی زندگی ہے مرتے اور جیتے ہیں اور ہم کو تو مر کر زندہ ہونا نہیں ہے۔

اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلُ اِ۟فْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا وَّ مَا نَحْنُ لَهٗ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 23:38 in the Quran reader

یہ ایسا شخص ہے کہ جس نے اللہ پر جھوٹ بنا لیا ہے اور ہم کو تو یقین نہیں۔

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا كَذَّبُوْنِ Open ayah 23:39 in the Quran reader

رسول نے دعا کی کہ الٰہی ! جس بات پر مجھے جھٹلایا ہے اس پر میری مدد فرما

قَالَ عَمَّا قَلِیْلٍ لَّیُصْبِحُنَّ نٰدِمِیْنَۚ Open ayah 23:40 in the Quran reader

فرمایا تھوڑی دیر کے بعد یہ خود نادم ہوں گے

فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ بِالْحَقِّ فَجَعَلْنٰهُمْ غُثَآءً١ۚ فَبُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:41 in the Quran reader

پھر تو وعدہ برحق پر ان کو ایک ہیبت ناک آواز نے آپکڑا پھر تو ہم نے ان کو چورا چورا کردیا۔ پس ظالم لوگوں پر خدا کا پھٹکار ہو۔

ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قُرُوْنًا اٰخَرِیْنَؕ Open ayah 23:42 in the Quran reader

پھر ان کے بعد ہم نے اور قرن پیدا کئے

مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا وَ مَا یَسْتَاْخِرُوْنَؕ Open ayah 23:43 in the Quran reader

کوئی قوم نہ اپنے وقت سے آگے بڑھ سکتی ہے نہ پیچھے ہٹ سکتی ہے

جس پر ان کی قوم کے سردار جو آخرت کے منکر اور کافر تھے اور اللہ نے ان کو دنیا میں ثروت و دولت بھی دی تھی (کیونکہ ایسی باتیں دنیا دار دولتمند ہی غرور میں آکر کیا کرتے ہیں) وہی بیہودہ شبہات کرنے لگے کہ یہ رسول ہمارے جیسا ہے ‘ جس طرح ہم کھاتے ہیں پیتے ہیں یہ بھی اسی طرح اور وہی چیزیں کھاتا پیتا ہے۔ پھر ایسے شخص کے حکم پر چلنا جو ہم جیسا انسان ہے خرابی میں پڑنا ہے۔ (ان حمقاء نے رسول کو یہ سمجھا تھا کہ وہ نوع انسانیت سے علیحدہ کوئی اور ہی طرح کا ہونا چاہیے) اور یہ جو کہتا ہے کہ مر کر اور بوسیدہ ہو کر بھی لوگ زندہ ہوں گے تو یہ بہت بعید بات ہے صرف دنیا ہی کی موت اور زندگی ہے یہ جھوٹا آدمی ہے اس کی بات پر ہم کو یقین نہیں آتا۔ تب نبی نے دعا کی کہ میری مدد کر۔ حکم ہوا کہ ابھی یہ اپنے کئے پر نادم ہوں گے۔ چناچہ ان پر عذاب الٰہی نازل ہوا کہ ایک ہیبت ناک آواز آئی جس سے وہ مر کر رہ گئے۔ اس کی تشریح بھی چوتھی جلد میں ہوچکی۔ ان کے بعد یکے بعد دیگرے خدا نے اور قرن پیدا کئے (قرن زمانہ مگر مراد اہل زمانہ ہیں) ۔ یہ تیسرا واقعہ ہے یعنی اور بھی قومیں ہوئی ہیں اور ان میں بھی لگاتار ہم رسول بھیجتے گئے مگر ہر ایک قوم کے ہلاک کا ایک وقت مقرر ہے اس سے آگے یا پیچھے نہیں ہوسکتا۔ رسول کی تکذیب سے فوراً ہلاک نہیں ہوئے۔ اس میں آنحضرت ﷺ کو تسلی ہے کہ آپ کے منکروں کی بربادی کا بھی وقت مقرر ہے ان کی تکلیفیں اس وقت تم کو اٹھانی پڑیں گی۔ ان کے کہنے اور جلدی کرنے سے فوراً ہلاک کردینا ہمارا دستور نہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ جب ان قرن والوں کے پاس ان کا رسول آیا یہ بھی تکذیب سے پیش آئے سو ہم نے بھی یکے بعد دیگرے ہر ایک قرن کو ہلاک کیا فاتبعنا بعضہم بعضا کے یہ معنی اور یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ پہلی امت کی طرح دوسری امت کا بھی تکذیب میں وہی دستور رہا وہ انہیں کی چال چلے لیکن اول معنی ظاہر ہیں۔ ان کو یہاں تک ہلاک کیا کہ ان کا کوئی نشان بھی باقی رہا صرف ان کے قصے اور تذکرے باقی رہ گئے وجعلنا ھم احادیث سو ان پر پھٹکار ہے۔ اس میں اجمالاً بہت سے انبیاء کا تذکرہ ہے۔
Ayahs 23:44–49

ثُمَّ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَا١ؕ كُلَّمَا جَآءَ اُمَّةً رَّسُوْلُهَا كَذَّبُوْهُ فَاَتْبَعْنَا بَعْضَهُمْ بَعْضًا وَّ جَعَلْنٰهُمْ اَحَادِیْثَ١ۚ فَبُعْدًا لِّقَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 23:44 in the Quran reader

پھر تو لگاتار ہم اپنے رسول بھیجتے رہے جب کوئی رسول اپنی قوم کے پاس آتا رہا وہ اس کو جھٹلاتے ہی رہے پھر ایک قوم کو دوسری کے پیچھے ہلاک کرتے گئے اور اس کے افسانے بنادیے۔ پس پھٹکار ہو اس قوم پر جو ایمان نہیں لائی۔

ثُمَّ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى وَ اَخَاهُ هٰرُوْنَ١ۙ۬ بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 23:45 in the Quran reader

پھر ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی ہارون کو اپنی نشانیاں اور کھلی سند کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بھیجا

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا عَالِیْنَۚ Open ayah 23:46 in the Quran reader

پس انہوں نے تکبر کیا اور وہ ایک تھی ہی سرکش قوم۔

فَقَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ لِبَشَرَیْنِ مِثْلِنَا وَ قَوْمُهُمَا لَنَا عٰبِدُوْنَۚ Open ayah 23:47 in the Quran reader

پھر انہوں نے کہا کیا ہم ایسے دو شخصوں پر ایمان لے اویں کہ جن کی قوم ہماری غلامی کر رہی ہو

فَكَذَّبُوْهُمَا فَكَانُوْا مِنَ الْمُهْلَكِیْنَ Open ayah 23:48 in the Quran reader

آخر ان کو جھٹلا ہی دیا پھر تو وہ بھی ہلاک ہی ہو کر رہے

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ لَعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 23:49 in the Quran reader

اور البتہ ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تھی تاکہ لوگ (اسی سے) ہدایت پاویں

1 ؎ تترا ای متواترین واحد بعد واحد من الوتر والتاء بدل من من الوا وکما فی تو لجوالالف للتانیث باعتبار ان الرسل جماعۃ وقرء بالنوین علیٰ انہ مصدر بمعنی الفاعل وقع حالاء ابو السعود۔ قرا إبن اکثیر ننری متوشہ والصباقون بغیر تنوین وھو اختیار اکثر اہل اللغنہ لانھا فعلی من المواترہ وہی المتابعۃ وفعلی لانیوں کدعویک 12 منہ تترا النا بدل من الوا ولانہ من المواترۃ وہی المتابعۃ ومن ذلک قولہم جاؤا علیٰ وتیرۃ واحدۃ اے طریقۃ وھو نصب علی الہال انی متتابعیں وفی الاصل نہ مصدر وقیل صفۃ الصدر مخدوف اے ارسالا متواتر ولفہا وما الحاق بجعفر کا رطی او بدل من التنوین 12 الحقانی ترکیب : :۔ ہارون بدل ہے اخاہ سے۔ مثلنا اس کو مفرد لائے تثنیہ نہ لائے حالانکہ یہ تثنیہ و جمع بھی آتا ہے یا تو یہ مصدر ہے جس میں تثنیہ و جمع برابر ہیں یا بشریت میں مماثلت ہو نہ کمیۃ میں۔ وقومہما جملہ حال ہے۔ آیۃ مفعول ثانی ہے جعلنا کا معین یا تو فعیل ہے معن بمعنی شیئِ قلیل سے اور اس سے ماعون یا غنۃ اذا البصرۃ سے ہے ای ماء جا بظاہر تراہ العیون و اصلہ معیون۔ تفسیر : یہ چوتھا قصہ حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کا ہے کہ ہم نے ان کو معجزات اور سلطان مبین کے ساتھ فرعون مصر اور ان کی قوم کے پاس بھیجا تھا لیکن وہ سرکش لوگ تھے کہنے لگے جیسے تم آدمی ہو ویسے ہی ہم ہیں اور نیز تمہاری قوم ہماری خدمت کرتی ہے یعنی ذلیل قوم کے ہو پھر تم کو کیونکر مانیں انکار کیا ‘ ہلاک ہوئے۔ سلطان مبین سے مراد یا تو وہی آیات نو معجزے ہیں جیسا کہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اور سلطان مبین ان میں سے کوئی خاص معجزہ ہے جیسا کہ عصا اور خاص کا عام پر عطف جائز ہے جیسا کہ ملائکہ کے بعد جبرئیل و میکائیل کا ذکر آیا ہے اور ممکن ہے کہ آیات سے مراد نفس معجزات ہوں اور سلطان مبین ان کی وہ کیفیت جو ان کے صدق پر دلالت کرنے سے متعلق تھی یا ایک ہیبت و وقار جو ان کو عطا ہوا تھا ان کے ہلاک کے بعد جبکہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) بنی اسرائیل کو لے کر شام کو روانہ ہوئے اور بحر قلزم کو عبور کر کے اس میدان میں آئے جس کو تیہ کہتے ہیں۔ تو یہاں ان کو بنی اسرائیل کی ہدایت اور نظام کے لیے ایک کتاب خدا تعالیٰ نے دی جو باتفاق جمہور اہل اسلام توریت 1 ؎ تھی۔ پس وہ کتاب جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بنام توریت تصنیف کی گئی اصلی توریت نہیں۔ ولقد آیتنا موسیٰ الکتاب (ای التوراۃ) جلالین۔ لعلہم یہتدون کے یہی معنی ہیں۔ وجعلنا ابن مریم الخ یہ پانچواں قصہ حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) کا ہے ان کے تمام قصہ کو چھوڑ کر صرف اس جگہ یہی بات بتلائی گئی کہ ہم نے ان دونوں کو آیت یعنی اپنے ہاں کی ایک نشانی بنایا تھا۔ باتفاق جمہور مفسرین حضرت مریم اور عیسیٰ (علیہما السلام) کا اللہ کی نشانی ہونا اس لحاظ سے تھا کہ حضرت مریم کو بغیر مرد کے حمل رہا اور اس سے پیشتر عبادت خانہ میں ان کے پاس غیب سے بےموسم کے میوے آتے تھے اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) بغیر باپ کے پیدا ہونے کی وجہ سے اور معجزات دکھانے کی وجہ سے نشانی تھے چونکہ دونوں کا نشانی ہونا ایک عجیب و غریب بات تھی اس لیے دونوں کو بلفظ واحد آیۃ ذکر فرمایا۔ آیتین نہ کہا۔ اس آیت سے حضرت مسیح ( علیہ السلام) کا بغیر باپ کے پیدا ہونا بخوبی ثابت ہوگیا پھر جو تاویل یا انکار کرتے ہیں وحی کو چھوڑ کر دوسرے راستہ پر چلتے ہیں اس نشانی سے چاہیے تھا کہ بنی اسرائیل فائدہ اٹھاتے ‘ ایمان لاتے ‘ راہ راست پر آتے۔ اس کے برعکس ان کی جان کے دشمن ہوگئے۔ اس لیے حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ کو بحالت صغرسنی مریم کے چچازاد بھائی یوسف نجارہیرودیس حاکم کے خوف سے مصر کی طرف 2 ؎ لے کر چلے گئے تھے اور سالہا سال وہیں رہے یہاں دریائے نیل کا پانی جاری ہے اور یہ جگہ مرتفع ہے لیکن ابوہریرہ ؓ نے مقام 3 ؎ رملہ بتایا ہے۔ 1 ؎ چناچہ توریت سفر استثنیٰ کے اکتیسویں باب کے چوبیس درس میں لکھا ہے قولہ اور ایسا ہوا کہ جب موسیٰ اس شریعت کی باتوں کو کتاب میں لکھ چکا اور وہ تمام ہوئیں تو موسیٰ نے لایوں کو جو خداوند کے عہد کے صندوق اٹھائے تھے فرمایا کہ اس شریعت کی کتاب کو لے کے خداوند اپنے خدا کے عہد کے صندوق کی ایک بغل میں رکھو الخ یہی وہ تورات تھی جو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو ملی تھی آخرکار یہ کتاب موسیٰ ( علیہ السلام) کے بعد سلیمان ( علیہ السلام) کے عہد تک کے زمانے میں بنی اسرائیل پر مصائب آنے کی وجہ سے تلف ہوگئی چناچہ جب سلیمان (علیہ السلام) نے یہ صندوق کھولا تو اس میں صرف پتھر کی دو لوح برآمد ہوئیں کتاب نہ ملی جیسا کہ کتاب اول سلاطین کے آٹھ باب نو درس میں ہے۔ 2 ؎ انجیل متی کے دوسرے باب تیرہ درس میں اس کی تصریح ہے۔ 12 منہ۔ 3 ؎ رملہ ملک مصر میں ایک خاص جگہ ہے۔ 12 منہ
Ayah 23:50

وَ جَعَلْنَا ابْنَ مَرْیَمَ وَ اُمَّهٗۤ اٰیَةً وَّ اٰوَیْنٰهُمَاۤ اِلٰى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّ مَعِیْنٍ۠ Open ayah 23:50 in the Quran reader

اور ہم نے مریم کے بیٹے اور اس کی ماں کو (قدرت کا) نشان بنا دیا تھا اور ان کو ایسی بلند زمین پر لے جا کر پناہ دی تھی جو ٹھہرنے کے قابل اور جس میں پانی کا چشمہ تھا۔

1 ؎ مکان مرتفع 12 جلالین۔ ذات قرارًا ہے مستویۃ یستقر علیھا ساکنوھا۔ 12 منہ
Ayah 23:51

یٰۤاَیُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا١ؕ اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌؕ Open ayah 23:51 in the Quran reader

(اور ہم نے کہہ دیا تھا) کہ اے رسولو ! پاک چیزیں کھایا کرو اور اچھے کام کرتے رہو جو کچھ تم نیک کام کرتے ہو میں ان سے واقف ہوں

ترکیب : :۔ ان کو قرائِ کوفہ نے بکسر الہمزۃ پڑھا ہے تب یہ جملہ مستانقہ ہے ھذا اس کا اسم امتکم خبر اور امۃ واحدۃ منصوب ہے حال لازمہ ہونے کی وجہ سے خبر ان سے دیگر قراء نے ان بالفتح پڑھا ہے یا لام مقدرمان کر جو اتقون سے متعلق ہوگا ای فاتقون لان ھذہ اور موضع ان کا نصب ہے یا جریا یہ معطوف ہے ماقبل پر۔ زبر الضمتین جمع زبورائے کتبامختلفہ یعنی جعلوا دینھمادیانا وزبراقطعا استعیرت من زبر الفضۃ والحدید (کبیر) تقربفتح الباء وھواجمع زبرۃ وھی القطعہ والفرقۃ والنصب علی الوجہ الادل علی الحال من امرھم وعلی الوجہ الثانی حال من الفاعل ان بابمعنی الذی و خبران نسارع۔ تفسیر : :۔ رسولوں کا ذکر فرما کر ان کے اس شبہ کے جواب میں (کہ ان رسولوں میں ہم سے کیا فوقیت ہے جو ہم کھاتے پیتے ہیں یہ بھی وہی کھاتے ہیں یعنی ملائکہ یا ان کی مانند کیوں نہیں) فرماتا ہے کہ ہم نے رسولوں سے یہ کہہ دیا تھا کہ طیب یعنی حلال اور پاک چیزیں کھاؤ تمہارے لیے یہ نعمتیں ہم نے پیدا کیں ہیں۔ ہاں حرام اور گندی چیزیں نہ کھائو۔ بزرگی کا مدار پاک اور حلال چیزوں کو ترک کردینے پر نہیں جیسا کہ بعض سمجھے ہوئے ہیں اور ان نعمتوں کے شکر میں وعملوا صالحا نیک کام کیا کرو میں تمہیں دیکھ رہا ہوں اور یہ بھی کہہ دیا گیا تھا کہ اے رسولو ! تم سب کا ایک ہی طریقہ ہے توحید و عبادت۔ اسی طرح تمہاری سب امتیں بھی باہم الگ الگ مذاہب کے لوگ نہیں۔ اصول شریعت میں سب ایک ہیں اور تم سب کا رب بھی میں ایک ہوں پس مجھ سے ہی ڈر کر بری باتوں سے پرہیز کیا کرو۔ لیکن انبیاء کے بعد ان کے پیروں نے باہم افراط وتفریط کر کے جدا جدا فرقے بنا لیے پھر ہر فریق اپنے تراشیدہ خیالات پر خوش ہے۔ یہود اپنے ہی آپ کو راہ راست پر جانتے ہیں نصاریٰ اپنے تئیں و مشرکین و مجوس اپنے مذہب کو موجب نجات خیال کر رہے ہیں۔ حضرت ﷺ کو فرماتا ہے فذرھم الخ ان سے حجت و تکرار نہ کر ان کو اپنی غفلتوں کے دریا میں ڈوبا رہنے دو ایک وقت تک بعض علماء کہتے ہیں اس وقت سے مراد وہ وقت ہے کہ جب اسلام اپنی پوری شوکت دنیا میں ظاہر کرے گا پھر تحدید کے چابک سے ان کو بیدار وہوشیار کردیا جاوے گا۔ بعض کہتے ہیں موت یا عذاب الٰہی کے وقت تک کہ پھر ان کو آپ معلوم ہوجاوے گا۔ وہ دنیا کی ثروت و دولت ‘ کثرت اولاد و مال کو اپنے مذہب کے برحق ہونے کی دلیل جانتے تھے بلکہ اب یہی کہا کرتے ہیں ہم نے فلاں دیوی دیوتا کی نذر بھینٹ کی تو اس نے ہم کو مال و اولاد دیا۔ اس کے جواب میں فرماتا ہے ایحسبون انما نمدھم الخ کہ کیا وہ اس افزائشِ مال و اولاد کو ہماری مہربانی سمجھتے ہیں ہرگز نہیں بلکہ لا یشعرون ان کو شعور نہیں۔ چارپائے ہیں کیونکہ دنیا فانی کی آسایش کچھ چیز نہیں حیوانات کو بھی نصیب ہے۔ یہاں جن پر ہماری مہربانی ہے اور ان کے لیے ہم بھلائیوں میں جلدی کر رہے ہیں وہ لوگ ہیں کہ جو اپنے رب سے ڈرتے رہتے ہیں اور وہ جو اپنے رب کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں اور وہ جو شرک نہیں کرتے اور وہ جو اللہ کی راہ میں دیتے ہیں اور ڈرتے ہیں کہ شاید قبول نہ ہو یہی لوگ نیکی میں دوڑنے اور سبقت کرنے والے ہیں۔
Ayahs 23:52–61

وَ اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُوْنِ Open ayah 23:52 in the Quran reader

اور البتہ یہ تمہارا گروہ 1 ؎ ایک ہی (خدائی) گروہ ہے اور میں ہی تم سب کا رب ہوں پس مجھی سے ڈرا کرو،

فَتَقَطَّعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ زُبُرًا١ؕ كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ Open ayah 23:53 in the Quran reader

پھر لوگوں نے اپنے اپنے دین کو جدا جدا کرلیا جو دین جس کے پاس ہے ہر ایک اس ہی سے خوش ہے۔

فَذَرْهُمْ فِیْ غَمْرَتِهِمْ حَتّٰى حِیْنٍ Open ayah 23:54 in the Quran reader

(اے نبی ! ) ایک وقت تک ان کو اپنے نشے میں پڑا رہنے دو ۔

اَیَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّ بَنِیْنَۙ Open ayah 23:55 in the Quran reader

کیا وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم ان کو مال اور اولاد میں ترقی دے رہے ہیں ‘

نُسَارِعُ لَهُمْ فِی الْخَیْرٰتِ١ؕ بَلْ لَّا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 23:56 in the Quran reader

کچھ ہم ان کو فائدے پہنچانے میں جلدی کررہے ہیں (ہرگز نہیں) بلکہ وہ سمجھتے نہیں

اِنَّ الَّذِیْنَ هُمْ مِّنْ خَشْیَةِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَۙ Open ayah 23:57 in the Quran reader

بیشک وہ جو اپنے رب کی ہیبت سے ڈرتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ یُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 23:58 in the Quran reader

اور وہ جو اپنے رب کی آیتوں پر یقین لاتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِرَبِّهِمْ لَا یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 23:59 in the Quran reader

اور وہ جو اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے

وَ الَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَاۤ اٰتَوْا وَّ قُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰى رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَۙ Open ayah 23:60 in the Quran reader

اور وہ جو کچھ دیتے بن پڑتا ہے دیتے ہیں اور ان کے دلوں کو اس بات کا خوف لگا رہتا ہے کہ ان کو اپنے رب کے پاس جانا ہے (شاید قبول ہو یا نہ ہو)

اُولٰٓئِكَ یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ هُمْ لَهَا سٰبِقُوْنَ Open ayah 23:61 in the Quran reader

یہی وہ لوگ ہیں کہ جو نیک کاموں میں دوڑ پڑتے ہیں اور وہی آگے بھی رہتے ہیں۔

1 ؎ سب حضرات انبیاء (علیہم السلام) بلحاظ اصول وایں اور خدا پرستی کے ایک ہی گروہ ہی سب کا ایک ہی خدائے واحد ہے۔ 12 منہ