23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 23:62–75

وَ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا وَ لَدَیْنَا كِتٰبٌ یَّنْطِقُ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 23:62 in the Quran reader

اور ہم کسی پر بوجھ بھی نہیں ڈالتے مگر اس قدر کہ وہ اٹھا سکے اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے جو سچ سچ کہہ دے گی اور ان پر کچھ بھی ظلم نہ ہوگا

بَلْ قُلُوْبُهُمْ فِیْ غَمْرَةٍ مِّنْ هٰذَا وَ لَهُمْ اَعْمَالٌ مِّنْ دُوْنِ ذٰلِكَ هُمْ لَهَا عٰمِلُوْنَ Open ayah 23:63 in the Quran reader

بلکہ ان کے دل اس سے بےہوشی میں پڑے ہوئے ہیں اور اس کے سوا ان کے اور بھی کام ہیں کہ جن کو وہ کیا کرتے ہیں

حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذْنَا مُتْرَفِیْهِمْ بِالْعَذَابِ اِذَا هُمْ یَجْئَرُوْنَؕ Open ayah 23:64 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ان کے مالداروں کو ہم آفت میں مبتلا کریں گے تو وہ فوراً چلا اٹھیں گے۔

لَا تَجْئَرُوا الْیَوْمَ١۫ اِنَّكُمْ مِّنَّا لَا تُنْصَرُوْنَ Open ayah 23:65 in the Quran reader

(کہا جائے گا) آج نہ چلاؤ تمہاری ہمارے ہاں سے کچھ بھی مدد نہ ہوگی۔

قَدْ كَانَتْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَكُنْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ تَنْكِصُوْنَۙ Open ayah 23:66 in the Quran reader

البتہ تم کو ہماری آیتیں سنائی جایا کرتی تھیں تم تو الٹے پائوں بھاگا کرتے تھے۔

مُسْتَكْبِرِیْنَ١ۖۗ بِهٖ سٰمِرًا تَهْجُرُوْنَ Open ayah 23:67 in the Quran reader

غرور میں آکر اس کو (قصہ) کہانی سمجھ کر (چھوڑ کر) چلے جایا کرتے تھے

اَفَلَمْ یَدَّبَّرُوا الْقَوْلَ اَمْ جَآءَهُمْ مَّا لَمْ یَاْتِ اٰبَآءَهُمُ الْاَوَّلِیْنَ٘ Open ayah 23:68 in the Quran reader

کیا انہوں نے ارشادِ الٰہی (یعنی قرآن) میں غور نہیں کیا۔ کیا ان کے پاس کوئی ایسی نئی بات پہنچی تھی کہ جو ان کے اگلے باپ اور دادا کے پاس نہ پہنچی تھی۔

اَمْ لَمْ یَعْرِفُوْا رَسُوْلَهُمْ فَهُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ٘ Open ayah 23:69 in the Quran reader

کیا انہوں نے اپنے رسول کو نہ پہچانا تھا جو یہ اس کے منکر ہوگئے۔

اَمْ یَقُوْلُوْنَ بِهٖ جِنَّةٌ١ؕ بَلْ جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ وَ اَكْثَرُهُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ Open ayah 23:70 in the Quran reader

کیا وہ یہ کہتے تھے کہ اس کو جنون ہے ان میں سے کوئی بات بھی نہ تھی بلکہ رسول ان کے پاس سچی بات لایا تھا اور ان میں سے اکثر تو سچ سے نفرت ہی رکھتے تھے

وَ لَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ اَهْوَآءَهُمْ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهِنَّ١ؕ بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِذِكْرِهِمْ فَهُمْ عَنْ ذِكْرِهِمْ مُّعْرِضُوْنَؕ Open ayah 23:71 in the Quran reader

اور اگر حق ان کے خواہش کے تابع ہوا کرتا تو آسمان اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب کچھ خراب ہو چکتا بلکہ ہم نے تو ان کی نصیحت ان کو پہنچا دی تھی۔ سو وہ اپنی نصیحت کی بات سے منہ موڑتے رہے۔

اَمْ تَسْئَلُهُمْ خَرْجًا فَخَرَاجُ رَبِّكَ خَیْرٌ١ۖۗ وَّ هُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 23:72 in the Quran reader

(اے نبی ! ) کیا تم ان سے کچھ اجرت مانگتے ہو پھر اجرت تو تمہارے رب کی بہت بہتر ہے اور وہی سب سے اچھا روزی دینے والا ہے

وَ اِنَّكَ لَتَدْعُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 23:73 in the Quran reader

اور البتہ آپ تو کو سیدھے رستہ کی طرف بلا رہے ہیں۔

وَ اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ عَنِ الصِّرَاطِ لَنٰكِبُوْنَ Open ayah 23:74 in the Quran reader

اور بیشک وہ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ راہ راست سے ہٹے ہوئے ہیں

وَ لَوْ رَحِمْنٰهُمْ وَ كَشَفْنَا مَا بِهِمْ مِّنْ ضُرٍّ لَّلَجُّوْا فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 23:75 in the Quran reader

اور اگر ہم ان پر رحم کر کے ان کی تکلیف کو بھی دور کردیں تو بھی وہ اپنی سرکشی میں گمراہی میں پڑے رہیں گے۔

اہل ایمان کے چند اوصاف حمیدہ ذکر کرکے فرمایا تھا کہ یہی لوگ نیکیوں میں سبقت کر رہے ہیں۔ اب مخالفوں کو رغبت دلاتا ہے کہ لانکلف نفسا الا وسعہا ہم کسی پر طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے یعنی احکام سخت پر مامور نہیں کرتے آسان اور سہل حکم دیا کرتے ہیں پھر اے کم بخت منکرو ! تم کیوں ان نیکیوں میں پیچھے رہے جاتے ہو ؟ اور یہ خیال کرنا کہ ان نیکیوں میں سعی کرنا بےفائدہ ہے ان کو آخرت میں کون یاد رکھے گا ؟ غلط خیال ہے کس لیے کہ ولدنیا کتاب ینطق بالحق وھم لایظلمون۔ ہمارے پاس ایک کتاب ہے اس میں یہ سب کچھ لکھا جاتا ہے ہر فرد و بشر کے اعمال کراماً کاتبین لکھا کرتے ہیں یہ کتاب ہر ایک بات ٹھیک ٹھیک بیان کر دے گی اور کسی کا کوئی عمل نہ رہ جائے گا ان پر ظلم نہ ہوگا۔ اسی کتاب کا آگے ذکر آچکا ہے ونخرج لہ یوم القیامۃ کتابا یلقاہ منشورا مگر اس سے دنیا کی کتابوں کی مانند کاغذوں پر لکھی ہوئی کتاب مراد نہیں بلکہ اور قسم کی کتاب یعنی یا وہ رحمت الٰہی واللہ اعلم۔ یہ باتیں سن کر بھی کفار نیکی کی طرف رغبت نہیں کرتے۔ بل قلوبہم فی غمرۃ من ھذا الخ بلکہ ان کے دل اس بات سے غفلت میں ہیں اور اس پر بھی بس نہیں بلکہ ولہم اعمال من دون ذلک اس کے سوا ان کے اور اعمال بھی ہیں جن کو وہ عمل میں لا رہے ہیں پھر یہ ستم گار اپنے اعمال بد میں یہاں تک گرفتار ہیں حتی اذا اخذنا مترفیہم بالعذاب الخ کہ جب ہم ان کے دولتمندوں کو جو دولت کے نشہ میں مغرور ہیں عذاب میں مبتلا کریں گے تو یجرؤں دہائی دینے لگیں گے۔ اس عذاب سے مراد موت کے وقت کا عذاب ہے۔ یہ عذاب سب کفار کے لیے مگر دولت مندوں کی تخصیص ان کے غرور وتکبر کی وجہ سے ہوئی۔ ملائکہ اس وقت کہیں گے اب کیوں دہائی دیتے فریاد کرتے ہو ‘ آج تم کو مدد الٰہی نہ پہنچے گی۔ قدکانت آیاتی الخ کیونکہ تمہارے سامنے میری آیتیں پڑھی جایا کرتی تھیں تم تکبر کی راہ سے ان کو چھوڑ کر قصہ کہانیوں میں مشغول ہوتے تھے۔ تسمیررات کو قصہ گوئی کرنا عرب کی عادت تھی کہ رات کو لوگ مجتمع ہو کر قصہ خوانی کیا کرتے تھے تہجرون ہجر بالکسر بمعنی جدائی ہجر بالفتح ہذیان و بالضم فحش کعبہ کے اردگرد بیٹھ کر قریش مکہ قصہ خوانی کرتے تھے اور آنحضرت اور قرآن کی ہجو حقارت بھی کیا کرتے تھے۔ اب فرماتا ہے کہ ان باتوں کا عمل میں لانا یا تو اس لیے تھا کہ قرآن مجید میں کوئی خوبی نہ تھی جو اس سے بھاگتے تھے۔ اس کے جواب میں فرماتا ہے افلم یدبروا القول کہ انہوں نے کیا قرآن اور نبی کے ارشاد میں غور نہ کیا تھا یعنی کرنا چاہیے تھا وہ نبی کے آنے کو اور ان کے نصائح کو ایک اوپری بات جانتے تھے۔ سو یہ بھی غلط کیونکہ ام جاء ھم کیا ان کے پاس رسول کوئی نئی بات لائے جو ان کے باپ دادا کے پاس پہلے انبیاء نہ لائے تھے ؟ تیسری بات یہ کہ وہ رسول سے واقف نہ تھے بلکہ خوب واقف تھے کہ قبل نبوت آپ کو سچا ‘ دیانتدار ‘ خدا ترس جانتے تھے پھر بعد نبوت جھوٹ بولنے سے کیا غرض تھی ؟ ام لم یعرفواء رسولہم۔ چوتھی بات یہ کہ باوجود اس خدا ترسی اور استبازی کے سینکڑوں تکلیفیں اٹھا کر دنیاوی فوائد پر لات مار کر قوم کو آنے والی مصیبتوں سے پر حذر کرنا ‘ توحید وراستبازی پھیلانا ‘ کسی دیوانہ آدمی کا کام نہیں۔ پھر کیا انہوں نے رسول کو دیوانہ سمجھا تھا ام یقولوں بہ جنۃ یہ کچھ نہیں تو یقین کرلینا چاہیے کہ جاء ھم بالحق رسول ان کے پاس دین حق لے کر آچکا تھا لیکن اکثر ھم للحق کارھون ان میں سے اکثر کو حق سے کراہت و نفرت ہے۔ اپنی کج طبعی اور تیرہ باطنی سے چاہتے ہیں کہ ان کی خواہش کے موافق دنیا میں رسول احکام جاری کیا کریں۔ ولو اتبع الحق اھواء ھم الخ اگر ایسا ہو تو آسمان اور زمین اور ان کے رہنے والے خراب ہوجاویں۔ ریل کا انجن اگر کسی نادان کے سپرد کیا جائوے تو گاڑیاں الٹ جاویں ‘ صدہا آدمی مرجاویں۔ پس ہم ان کو ان کے سمجھنے اور درست ہونے کی چیز ان کو دیتے ہیں۔ پر وہ اس سے اعراض کر رہے ہیں پھر ان کو یہ خیال کرنا چاہیے کہ اس وعظ و نصیحت سے رسول کچھ ان سے مزدوری مانگتا ہے ؟ کچھ نہیں بلکہ وہ اجر آخرت کا طالب ہے اور اللہ بہتر اجر دینے والا ہے اور اے محمد ! ﷺ تم ان کو سیدھے رستے کی طرف بلا رہے ہو وان الذین لایومنون بالاخرۃ عن الصراہ لناکبون آخرت پر یقین نہ لانے والے سیدھے رستے سے پھرے جا رہے ہیں افسوس ! ولقد اخذنا ھم بالعذاب میں مفسیرین کے کئی قول ہیں ایک یہ کہ آنحضرت ﷺ کی بددعا سے قریش مکہ پر سات برس کا ایسا سخت قحط پڑا کہ جس میں وہ چلا اٹھے۔ کتے اور مردار تک کھانے کی نوبت آگئی اور دہائی دینے لگے۔ جس کے جواب میں ان پر عتاب ہوتا ہے کہ اب دہائی دیتے ہو ہمارے رسول پر کیوں ایمان نہ لائے آخر کارھون تک عتاب ہے بعض کہتے ہیں کہ یہ آنے والے عذاب کی خبر ہے جو بوقت مرگ یا آخرت میں پیش آئے گا اور کفار اس وقت چلائیں گے دہائی دیں گے تب ان کے جواب میں یہ عتاب ہوگا۔ قوی تر یہی ہے کہ آنے والی مصیبت کی خبر دی جاتی ہے وہ قحط شدید اور واقعہ بدر تھا جس میں قریش چیخ اٹھے تھے اور ان کے حال پر یہ جواب باعتاب ناطق تھا اور آیندہ مرنے کے بعد اور پھر قیامت میں بھی عذاب شدید پیش آئے گا جہاں ان کی فریاد اور دھاڑنے پر یہی جواب عتاب دیا جائے گا۔ اس لیے فرماتا ہے اور جو ہم اس مصیبت سے جس میں ان کو مبتلا کیا کرتے ہیں نجات بھی دیں تو پھر اسی سرکشی میں اڑجاویں گے۔ عذاب دفع ہونے کے بعد سرکشی کرنا تو ان کے نزدیک معمولی بات ہے۔
Ayahs 23:76–83

وَ لَقَدْ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوْا لِرَبِّهِمْ وَ مَا یَتَضَرَّعُوْنَ Open ayah 23:76 in the Quran reader

اور البتہ ہم نے ان کو عذاب میں مبتلا بھی کیا پھر بھی وہ اپنے رب کی طرف نہ جھکے اور نہ عاجزی کرنے والے تھے۔

حَتّٰۤى اِذَا فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَابًا ذَا عَذَابٍ شَدِیْدٍ اِذَا هُمْ فِیْهِ مُبْلِسُوْنَ۠ Open ayah 23:77 in the Quran reader

یہاں تک (غفلت میں رہے) کہ جب ہم نے ان پر سخت عذاب کا دروازہ کھول دیا تو فوراً اس میں ناامید ہوگئے

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 23:78 in the Quran reader

اور وہی تو ہے کہ جس نے تمہارے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنا دیے (پھر بھی) تم بہت کم شکر کرتے ہو

وَ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 23:79 in the Quran reader

اور وہی تو ہے کہ جس نے تم کو زمین میں پھیلا دیا اور قیامت میں اس کی طرف جمع کر کے لائے جاؤ گے

وَ هُوَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ وَ لَهُ اخْتِلَافُ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 23:80 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جو زندہ کرتا اور مارتا ہے۔ اور وہی رات اور دن کا بدلنے والا ہے۔ تو کیا تم نہیں سمجھتے

بَلْ قَالُوْا مِثْلَ مَا قَالَ الْاَوَّلُوْنَ Open ayah 23:81 in the Quran reader

بلکہ انہوں نے بھی ایسی ہی بات کہہ دی جیسی کہ پہلوں نے کہی تھی۔

قَالُوْۤا ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ Open ayah 23:82 in the Quran reader

انہوں نے کہا تھا کہ کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوگئے تو کیا پھر بھی زندہ کئے جاویں گے ؟

لَقَدْ وُعِدْنَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا هٰذَا مِنْ قَبْلُ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 23:83 in the Quran reader

اس کا تو ہم سے اور اس سے پہلے ہمارے باپ دادا سے یہی وعدہ ہوتا چلا آیا ہے یہ کچھ بھی نہیں مگر پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔

ولقد اخذنہم بالعذاب الخ ہم نے ان کو اول ایک عذاب میں گرفتار کیا تو اس وقت بھی ما استکانوا لربہم اپنے رب کی طرف نہ جھکے۔ استکان استفعل من الکون ای انتقل من کون الی کون۔ ویجوزان یکون انقل من السکون کبیر اور نہ جھکنے والے تھے۔ حتی اذا فتحنا علیہم یہاں تک کہ اس مصیبت کا دروازہ کھولا تو بھی نہ جھکے بلکہ رب کی رحمت سے ناامید ہوگئے حالانکہ اللہ وہ منعم حقیقی ہے کہ جس نے تم کو کان اور آنکھیں اور دل عطا کئے پھر اس سے ناامیدی کرنا کیسی بری بات ہے۔ اور اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ اس نے سننے کو کان ‘ دیکھنے کو آنکھ ‘ سمجھنے کو دل عطا کئے پھر خود دلائلِ الٰہی میں کیوں غور نہیں کرتے تاکہ ان کو خود معلوم ہوجاوئے کہ رسول جو کچھ فرماتا ہے سراسر ہمارے فائدہ کے لیے اور برحق بات کہتا ہے اس کے بعد اور بھی اپنی نعمتیں اور اپنی قدرت کی کامل نشانیاں ذکر فرماتا ہے کہ جن سے صاف معلوم ہوجاوے کہ وہ مرنے کے بعد زندہ کرنے پر قادر ہے۔ وھوالذی ذراکم فی الارض یہ نعمت ہے والیہ تحشرون میں وعدہ ہے کہ جس نے تم کو زمین پر پھیلا دیا ہے وہی تم کو قیامت میں سمیٹ بھی لے گا اور وھو یحی ویمیت میں نعمت بھی ہے اور قدرت کاملہ کی دلیل بھی ہے اسی طرح اختلاف الیل والنہار بھی نعمت اور اس کی قدرت کی دلیل ہے۔ اس کے بعد فرماتا ہے افلا تعقلون کہ تم پھر بھی نہیں سمجھتے بلکہ وہی بیہودہ بات کہے چلے جاتے ہو جو پہلے حمقاکہہ چکے ہیں کہ مر کر اور ریزہ ریزہ ہو کر کیونکر باردیگر زندہ ہوں گے۔ یہ صرف ایک جھوٹا وعدہ ہے جو ہم سے اور ہم سے پہلوں سے انبیاء کرتے آئے ہیں اور یہ صرف اگلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔
Ayahs 23:84–87

قُلْ لِّمَنِ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهَاۤ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:84 in the Quran reader

(اے نبی ! ) ان سے یہ تو پوچھو کہ یہ زمین اور جو کچھ اس میں ہے کس کا ہے ؟ اگر تم جانتے ہو

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 23:85 in the Quran reader

(تو بتائو) وہ جلد کہیں گے اللہ کا ہے۔ کہہ دو کہ پھر تم کیوں نہیں سمجھتے

قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ Open ayah 23:86 in the Quran reader

ان سے پوچھو کہ ساتوں آسمانوں کا رب اور عرش عظیم کا رب کون ہے ؟

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 23:87 in the Quran reader

وہ جلد کہیں گے کہ یہ سب اللہ کا ہے۔ کہہ دو پھر تم کیوں نہیں ڈرتے۔

ترکیب : :۔ للہ قراۃ جمہور میں لام سے ہے اور یہ متن الارض کا جواب ہے اور اخیر دونوں سوالوں کے جواب میں اللہ واقع ہے اور للہ بھی۔ بغیر لام میں لفظ کی رعایت ہے اور لام میں معنی کی لان المعنی فی قولہ رب السموات من السموات، ملکوت میں ت مبالغہ کے لیے بمعنی ملک اذا جواب ہے شرط محذوف کا تقدیرہ لوکان معہ آلھۃ۔ تفسیر : :۔ مسئلہ حشر اور رسالت کو تمام کر کے پھر مسئلہ توحید شروع ہوتا ہے اور مشرکین کے مسلمات سے ہی ان پر الزام قائم کیا جاتا ہے فقال قل لمن الارض اے نبی ! ان سے پوچھو کہ زمین اور اس کے رہنے والے کس کے ہیں وہ یہی کہیں گے کہ اللہ کے۔ کس لیے کہ وہ اللہ کے قائل تھے تب کہو کہ تم پھر کیوں نہیں سمجھتے کہ جس کے قبضہ قدرت میں یہ سب ہیں اور وہ ان کا خالق ہے تو اور معبودوں کا کیا استحقاق عبادت ہے بلکہ وہ بھی مخلوق اور مملوک ہیں۔ پھر فرماتا ہے قل من رب السموات الخ کہ ان سے یہ بھی پوچھو کہ ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کا کون مالک ہے ؟ اس کے جواب میں بھی یہی کہیں گے کہ اللہ۔ تب ان سے کہہ دو کہ پھر کیوں نہیں ڈرتے ؟ اس کے سواء اور کون ہے کہ جس کو اس کے ساتھ حاجت روا سمجھ کر پوجتے ہو تم کو ڈرنا چاہیے۔ ان جملوں میں اثبات حشر بھی ہے کیونکہ وہ جو ان سب کا مالک ہے وہ مر کر زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔ مسائل قرانیہ کا باہم ایسا ارتباط ہے کہ ایک مسئلہ کے دلائل سے دوسرا بھی ثابت ہوجاتا ہے یہ کافی اعجاز ہے پھر فرماتا ہے کہ آسمان و زمین سے یہی تعمیم کر کے یہ سوال کرو کہ ہر ایک چیز پر کس کا قبضہ ہے اور وہ کون ہے کہ جس کو چاہتا ہے پناہ دے سکتا ہے اور اس کے مجرم کو کوئی پناہ نہیں دے سکتا اگر تم کو یہ بات معلوم ہے تو بتلاؤ (یقال اجرت فلانا علی فلان اذا اغثنہ منہ ومنعتہ) اس کے جواب میں بھی وہ اللہ ہی کہیں گے۔ پھر کہو کہ تم پر کسی نے کیا سحر کردیا کیا افسوں پڑھ کر تم کو احمق بنا دیا ہے کہ اس بات کو جان کر بھی اللہ کے سوا اس کی مخلوق کو پوجتے ہو۔ جو دیدہ دانستہ احمق بن جائے تو محاورہ میں کہا کرتے ہیں کہ کسی نے اس کو منتر پڑھ کر دیوانہ بنا دیا نہ یہ مطلب کہ دراصل اس پر کسی نے سحر کردیا ہے۔ عرب کے مشرک ہندوئوں کا ساعقیدہ رکھتے تھے جس طرح ہندو یہی کہہ دیتے ہیں کہ ایشر (خدا) جو چاہتا ہے کرتا ہے کوئی اس کے برخلاف نہیں کرسکتا مگر با ایں ہمہ سینکڑوں معبود بھی بنا رکھے ہیں کہیں دیوی پجتی ہے ‘ کوئی ہنومان کو مانتا ہے ‘ کوئی مہادیوکالنگ پوجتا ہے ‘ کوئی بشن کی مورت پر جل چڑھاتا ہے اور پھر ہر ملک میں ہر ایک قوم کا جدا ہی معبود ہے آگ ‘ پانی ‘ حجر ‘ شجر ‘ آفتاب ‘ ستارے کوئی چیز بھی نہیں چھوڑی کہ جس کو نہ پوجتے ہوں۔ یہی حاجت روا جان کر ان کو پکارنا ‘ ان کی نذر نیاز کرنا ان کی پرستش ہے اور یہ بھی کہتے ہیں کہ ان میں بھی ایشر کی مایا ہے ‘ یہ بھی بڑی قدرت رکھتے ہیں۔ یہی حال عرب کے مشرکوں کا تھا۔ افسوس ہندوستان کے جاہل مسلمانوں میں بھی ہنود کی صحبت کا اثر آگیا۔ یہ بھی اپنے بزرگوں کے ساتھ اس کے قریب قریب برتاؤ کرنے لگے یہ اس کو توسل کہتے ہیں اور غیر قومیں جو اپنے بزرگوں سے ایسے ہی معاملات کریں تو اس کو شرک قرار دیتے ہیں فعل ایک ہی ہے پھر فرماتا ہے بل اتینا ھم بالحق الخ کہ ہم نے ان کو حق دین دے دیا ہر بات سچی کھول دی پر یہ جھوٹے منصوبے باندھتے ہیں۔ مشرکین عرب میں سے بعض فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں بھی کہتے ہیں عرب میں عیسائی بھی حضرت مسیح ( علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کہتے تھے ان کے رد میں فرماتا ہے ما اتخذ اللہ من ولد الخ کہ اللہ نے کسی کو بیٹا نہیں بنایا اور نہ اس کے ساتھ اور کوئی خدائی میں شریک ہے اگر ایسا ہوتا تو ہر خالق اپنی مخلوق پر قبضہ کرتا اور ایک کا دوسرے سے خلاف ہو کر لامحالہ ایک دوسرے پر غالب ہوتا اور اس جھگڑے میں انتظام عالم بگڑ جاتا اللہ پاک ہے ان کی ان باتوں سے وہ چھپی اور کھلی ہر بات جانتا ہے اور کسی کو یہ بات حاصل نہیں۔
Ayahs 23:88–92

قُلْ مَنْۢ بِیَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ یُجِیْرُ وَ لَا یُجَارُ عَلَیْهِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:88 in the Quran reader

پوچھو (تو سہی) کہ کس کے ہاتھ میں ہر چیز کی حکومت ہے اور وہ کون ہے جو سب پر قابو رکھتا ہے اور اس پر کوئی قابو نہیں رکھتا اگر تم جانتے ہو

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ فَاَنّٰى تُسْحَرُوْنَ Open ayah 23:89 in the Quran reader

(تو بتائو) وہ جلد کہہ دیں گے یہ سب کچھ اللہ کا ہے۔ ان سے کہہ دو پھر تم کیسے دیوانے ہو رہے ہو

بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِالْحَقِّ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 23:90 in the Quran reader

بلکہ ہم نے تو ان کے پاس حق بات پہنچا دی اور یہ بیشک جھوٹے ہیں

مَا اتَّخَذَ اللّٰهُ مِنْ وَّلَدٍ وَّ مَا كَانَ مَعَهٗ مِنْ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۭ بِمَا خَلَقَ وَ لَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یَصِفُوْنَۙ Open ayah 23:91 in the Quran reader

خدا نے کوئی بھی بیٹا نہیں بنایا اور نہ اس کے ساتھ کوئی معبود ہی ہے (مگر) یوں ہوتا تو ہر خدا اپنی بنائی ہوئی چیز کو الگ الگ لیے پھرتا (اس پر قابض ہوجاتا) اور ایک دوسرے پر غالب آتا جو جو باتیں یہ بناتے ہیں اللہ ان سب سے پاک ہے۔

عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَتَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 23:92 in the Quran reader

وہ غائب اور حاضر سب کا جاننے والا ہے وہ ان کے شریک بنانے سے بری ہے۔

1 ؎ یعنی یہ سب باتیں جانتے ہیں پھر عقل پر پتھر پڑے ہیں کہ اس کے سوا اور کو پوجتے ‘ حاجت روا جانتے۔ اس کو پکارتے ہیں 12 منہ۔ 2 ؎ ملکوت بمعنی الملک والتار للمبالغۃ کما فی رحموت و رہبوت۔ 12 منہ 3 ؎ ھویجیر الخ یقال اجرت فلانا اذا انبعاث بک مخمیۃ واجرت علیہ اذاحمیت عنہ والمعنی یحمی ولایحمی علیہ۔ 12
Ayahs 23:93–95

قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِیَنِّیْ مَا یُوْعَدُوْنَۙ Open ayah 23:93 in the Quran reader

(اے نبی یہ) دعا کیا 1 ؎ کرو کہ اے رب جس عذاب کا ان (منکروں) سے وعدہ کیا جا رہا ہے

رَبِّ فَلَا تَجْعَلْنِیْ فِی الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:94 in the Quran reader

شاید تو اس کو مجھے دیکھادے۔ سو اے میرے رب مجھے ان ظالموں میں شامل نہ کرلینا

وَ اِنَّا عَلٰۤى اَنْ نُّرِیَكَ مَا نَعِدُهُمْ لَقٰدِرُوْنَ Open ayah 23:95 in the Quran reader

اور البتہ جس عذاب کا ان سے وعدہ کر رہے ہیں ہم قادر ہیں

1 ؎ یعنی اگر دنیا میں ان کفار پر عذاب موعود آجائے تو خدایا مجھے ان میں شامل نہ کرلینا کیونکہ قہر کی آگ میں سوکھے گیلے ساتھ جلنے لگتے ہیں ہرچند وہ ایسا نہیں کرتا مگر شان کبریائی سے ڈرنا مقتضائے عبودیت ہے اس لیے دعا کرتے رہنا چاہیے۔ 12 منہ ترکیب : :۔ مایوعدون جملہ مفعول ہے ترینی کا اما اصل میں ان ماتھا ما تاکیدمان شرطیہ کے لیے آتا ہے فلا تجعلنی اس کا جواب لفظ رب اہتمام شان کے لیے مقدم ہوا علی متعلق ہے لقادرون سے بالتی میں ب الصاق کے لیے اور السیئۃ مفعول ہے ادفع کا ارجعون اصل میں رب ارجعنی تھا اور جمع کا لفظ فائدہ نکریہ کے لیے آیا گویا یوں کہا ارجعنی بعض کہتے ہیں رب کی تعظیم کے لیے صیغہ جمع کا لایا۔ اور بعض کہتے ہیں ملائکہ سے کہہ رہا ہے ارجعونی کہ تم مجھے دنیا میں پھرجانے دو ، ہمزات جمع ہمزۃ وھوالدفع والتحریک الشدید و المرادوسواسہ۔ تفسیر : :۔ کفار کی سرکشی پر جو عذاب آنے کے وعدے ہوتے تھے تو سن کر ہنسا کرتے تھے اور بیہودہ باتیں کہتے تھے اور سخت کلامی اور ایذا سے پیش آتے تھے اس لیے ان آیات میں اللہ تعالیٰ آنحضرت ﷺ کو اپنے وعدہ کے وثوق پر یہ حکم ارشاد فرمایا ہے (1) قل رب ان ترینی الخ کہ اے رب اگر تو دنیا میں مجھے ان کا وہ عذاب دکھادے کہ جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے تو اس عذاب میں مجھے شامل نہ کرنا۔ کیونکہ جب بدکاروں کی شرارت سے دنیا پر قہر الٰہی آتا ہے تو اس عام بلا میں نیک بھی کبھی آجاتے ہیں جیسا کہ قحط اور وباء یا دشمن کا غلبہ پھر فرماتا ہے وانا علی ان نریک کہ منکر ہماری اس بات کو غلط نہ سمجھیں اے نبی ! اس عذاب کو ہم تمہیں دکھا بھی سکتے ہیں۔ چناچہ وہ عذاب آپ کو دکھا دیا ایسا سخت قحط کئی سال کا پڑا کہ جس میں کتوں اور مردار کے کھانے کی نوبت آئی اور سب چلا اٹھے اور آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آکر گریہ وزاری دعا کے خواستگار ہوئے۔ حضرت ﷺ کی دعا سے وہ بلا دفع ہوئی۔ حجت میں مغلوب ہو کر وہ لوگ حضرت ﷺ سے سخت کلامی کرنے لگتے تھے اور ایذائیں میں بھی طرح طرح سے دیتے تھے اس لیے آنحضرت کو بالخصوص اور تبعاً حضرت ﷺ کے پیرو وں کو بھی جو ہدایت و ارشاد کی گدی پر بیٹھے ہیں یہ حکم دیتا ہے (2) ادفع بالتیھی احسن السیئۃ کہ تم ان کی اس بدکلامی کے عوض بدکلامی نہ کرو۔ ان کی ایذاء کے مقابلہ میں ایذا نہ دو بلکہ برائی کے مقابلہ میں بھلائی کرو بدکلامی کے جواب میں نرم بات کہو ان کی تکلیفیں اٹھا کر دعا کرو۔ حدیث میں آیا ہے صل من قطعک اعط من منعک کہ جو تجھ سے توڑے تو اس سے بھی محبت کا رشتہ جوڑ اور جو تجھے نہ دے تو اس کو بھی دے۔ کفار کی سخت تکلیفیں اٹھا کر یہی آنحضرت ﷺ یہی دعا کرتے تھے کہ اللھم اھد قومی انہم لایعلمون کہ الٰہی میری قوم کو ہدایت دے کیونکہ نادان ہیں۔ کہاں ہیں وہ معترض جو اسلام کی اس معاشرت پر خونخواری ‘ سفاکی ‘ بیرحمی کا الزام لگاتے ہیں۔ اسلام نے وہ رحمدلی ‘ عفو ‘ حلم ‘ صلہ رحمی تعلیم کی ہے کہ ایسی کسی مذہب میں نہیں ملتی۔ جمہور محققین کا اتفاق ہے کہ یہ آیت آیت سیف سے منسوخ نہیں بلکہ محکم ہے۔ وہ اور محل پر ہے یہ اور محل پر۔ پھر فرماتا ہے : (3) وقل رب اعوذبک کہ شیطان وسواس دلایا کرتا ہے مباداوسوسہ شیطانی سے انسان ان بدکرداروں کے ساتھ تو تو میں میں کرنے پر آمادہ ہوجاوے۔ اس لیے چاہیے کہ اللہ سے پناہ مانگے نہ کہ اس کے وسواس دل میں آویں۔ نہ شیاطین پاس آویں جس طرح کسی پر جن بھوت چڑھ کر اس کی بولی بولنے لگتا ہے اسی طرح شیطان جو بدی کا بھوت اور جن ہے آدمی پر کبھی مسلط ہو کر برے خیالات دل میں ڈال دیتا ہے لہذا پناہ مانگنا ضروری بات ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ تم شیاطین کے پاس آنے سے پناہ مانگا کرو کیونکہ شیاطین کفار کے پاس موت تک موجود رہتے ہیں پھر جب موت آتی ہے اور اس عالم کا پردہ ان سے اٹھ جاتا ہے۔ اور ملائکہ عذاب اور برے اعمال کی سزائیں سامنے دکھائی دیتی ہیں تو کہنے لگتے ہیں رب ارجعون اے رب مجھے پھر دنیا میں بھیج کہ جا کے اچھے کام کروں اس وقت اس خواب غفلت سے بیدار اور مے لذات و شہوات سے ہوشیار ہوگا اور حسرتوں کا اردگرد ہجوم ہوگا بار بار یہ التجا کرے گا۔ وہاں سے جواب ہوگا کلا ہرگز نہیں۔ یہ ایک بےفائدہ بات ہے جس کو وہ عبث منہ سے نکال رہا ہے ان کے درمیان موت کا حجاب یا پردہ پڑا ہے قیامت تک دنیا میں واپس نہ آئیں گے۔
Ayahs 23:96–97

اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ السَّیِّئَةَ١ؕ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَصِفُوْنَ Open ayah 23:96 in the Quran reader

(کہ وہ آپ کے روبروآجائے) (اے نبی ! ) آپ برائی کا نیکی سے جواب دیا کریں ہم خوب جانتے ہیں جو کچھ کہ وہ (آپ کے حق میں) بکا کرتے ہیں۔

وَ قُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّیٰطِیْنِۙ Open ayah 23:97 in the Quran reader

اور کہا کرو کہ اے رب ! میں شیطانی خطرات سے تیری پناہ مانگتا ہوں

2 ؎ یعنی اگر آپ سے برائی کریں سخت کلامی یا کچھ اور کریں تو آپ بمقتضائے مکارم اخلاق اس کے جواب میں اچھی بات کہئے اور احسان کیجئے ناصح کا یہ فعل زیادہ موثر ہوتا ہے شیطان وعظ و پند کے مواقع میں وسوسہ ڈال کر بھڑکا دیا کرتا ہے اس سے پناہ مانگنا چاہیے۔ 12 منہ
Ayahs 23:98–101

وَ اَعُوْذُ بِكَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ Open ayah 23:98 in the Quran reader

اور اے میرے رب ! میں تیری اس سے بھی پناہ مانگتا ہوں کہ شیاطین میرے پاس آویں بھی

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِۙ Open ayah 23:99 in the Quran reader

(اور مجھے بھڑکائیں) (وہ تو اسی حال میں رہیں گے) یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت آموجود ہوگی تو کہنے لگے گا کہ اے رب ! مجھے دنیا میں پھر بھیج دے

لَعَلِّیْۤ اَعْمَلُ صَالِحًا فِیْمَا تَرَكْتُ كَلَّا١ؕ اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآئِلُهَا١ؕ وَ مِنْ وَّرَآئِهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 23:100 in the Quran reader

کہ جو کچھ میں چھوڑ کر آیا ہوں اس میں کوئی نیک کام کروں ہرگز نہیں یہ تو ایک جس کو وہ صرف زبان سے کہہ رہے ہیں اور ان کے آگے تو قیامت تک ایک پردہ پڑا ہوا ہے

فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَلَاۤ اَنْسَابَ بَیْنَهُمْ یَوْمَئِذٍ وَّ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 23:101 in the Quran reader

(جس لیے وہ دنیا میں نہیں آسکتے) پھر جب صور پھونکا جاوے گا تو اس روز باہم تعلق نہ ہوگا اور نہ کوئی کسی کو پوچھے گا۔

شرب۔ دنیا کا انجام غفلت بیان فرماتا ہے کہ وہ مرنے تک اس میں پڑے رہتے ہیں جب موت آتی ہے اور دوسرے جہاں کا راز کھلتا ہے تو باردگر دنیا میں آنے کی دعا کرتا ہے کہ اگر نیک کام کرے بھلا یہ کب ہوسکتا ہے یہ دعا اس کے منہ کی ان ہونی بات ہے پڑا کہا کرے مرنے کے بعد اس دنیا میں آنے کے لیے قدرتی ایک بڑا پردہ پڑا ہوا ہے پھر اس پردہ کو اٹھا کے کوئی ادھر نہیں آسکتا۔ قیامت تک یہی حال رہتا ہے پھر قیامت میں جب صور پھونکا جائے گا تو نفسی نفسی ہوگی نہ رشتہ داری کا پاس ہوگا نہ کوئی کسی کو پوچھے گا۔ یہ عام حکم ہے حضرات انبیاء صلحاء اس سے مستثنیٰ ہیں۔