23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsتفسیرِ سعدی

Ayahs 23:1–11

قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 23:1 in the Quran reader

بیشک ایمان والے رستگار ہوگئے

الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَۙ Open ayah 23:2 in the Quran reader

جو نماز میں عجز و نیاز کرتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَۙ Open ayah 23:3 in the Quran reader

اور جو بےہودہ باتوں سے منہ موڑتے رہتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوْنَۙ Open ayah 23:4 in the Quran reader

اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ Open ayah 23:5 in the Quran reader

اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں

اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ Open ayah 23:6 in the Quran reader

مگر اپنی بیویوں یا (کنیزوں سے) جو ان کی ملک ہوتی ہیں کہ (ان سے) مباشرت کرنے سے انھیں ملامت نہیں

فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْعٰدُوْنَۚ Open ayah 23:7 in the Quran reader

اور جو ان کے سوا اوروں کے طالب ہوں وہ (خدا کی مقرر کی ہوئی حد سے) نکل جانے والے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ Open ayah 23:8 in the Quran reader

اور جو امانتوں اوراقراروں کو ملحوظ رکھتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَوٰتِهِمْ یُحَافِظُوْنَۘ Open ayah 23:9 in the Quran reader

اور جو نمازوں کی پابندی کرتے ہیں

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَۙ Open ayah 23:10 in the Quran reader

یہی لوگ میراث حاصل کرنے والے ہیں

الَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَ١ؕ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 23:11 in the Quran reader

(یعنی) جو بہشت کی میراث حاصل کریں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے

آیت نمبر 1 یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کی تعریف و تعظیم اور ان کی فلاح وسعادت کا ذکر ہے، نیز اس امر کا بیان ہے کہ وہ فلاح وسعادت کیسے حاصل کرسکتے ہیں اور اس ضمن میں اہل ایمان کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ان مذکورہ صفات سے متصف کریں۔ پس بندہ مومن ان آیات کی میزان پر اپنے آپ کا وزن کرے، اور یہ معلوم کرے کہ اس کے پاس اور دوسروں کے پاس قلت و کثرت یا اضافے اور کمی کے اعتبار سے کتنا ایمان ہے۔ پس فرمایا (قد افلاح المومنون) یعنی اہل ایمان کامیابی اور سعادت سے بہرہ مند ہوئے اور انہوں نے ہر دو چیز حاصل کرلی جس کا حصول اہل ایمان کا مقصود و مطلوب ہے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور انہوں نے انبیاء ومرسلین کی تصدیق کی جن کی صفات کاملہ میں سے ایک صفت یہ ہے کہ بلا شبہ وہ (فی صلاتھم خشعون) اپنی نماز میں خشوع اختیار کرتے ہیں۔ ، ، نماز میں خشوع یہ ہے کہ بندے کا دل اللہ تعالیٰ کو قریب سمجھتے ہوئے اس کے حضور حاضر ہو۔۔۔ اس سے قلب کو سکون اور اطمینان حاصل ہوتا ہے، اس کی تمام حرکات ساکن اور غیر اللہ کی طرف اس کا التفات کم ہوجاتا ہے۔ وہ اپنے رب کے سامنے نہایت ادب کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، وہ اپنی نماز کے اندر، اول سے لے کر آخر تک جو کچھ کرتا ہے اور جو کچھ کہتا ہے پورے استحضار کے ساتھ کہتا ہے۔ اس طرح اس کے دل سے تمام و سو سے اور غلط افکار زائل ہوجاتے ہیں۔ یہی نماز کی روح اور یہی اس سے مقصود ہے اور یہی وہ مقصد ہے جو بندے کے لئے لکھ دیا گیا ہے۔ پس وہ نماز جو خشوع و خضوع اور حضور قلب سے خالی ہو اس پر اگرچہ ثواب ملتا ہے مگر صرف اتنا ملتا ہے جتنا قلب اس کو سمجھ کر ادا کرتا ہے۔ (والذین ھم عن للغو) اور وہ لغو سے۔ ، ، یہاں (لغو) سے مراد وہ کلام ہے جس میں کوئی بھلائی اور کوئی فائدہ نہ ہو۔ (معرضون) ، ، اعراض کرنے والے ہیں۔ ، ، اپنے آپ کو لغو سے پاک اور برتر رکھنے کے لئے۔ جب کبھی کسی لغو چیز پر سے ان کا گزر ہوتا ہے تو نہایت وقار کے ساتھ گزر جاتے ہیں اور جب یہ لغو باتوں سے اعراض کرتے ہیں تو حرام کاموں سے ان کا اعراض اولی و احری ہے۔ جب بندہ بھلائی کے سوا لغویات میں اپنی زبان پر قابو پا لیتا ہے تو معاملہ اس کے اختیرا میں آجاتا ہے جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے، جب کہ آپ معاذ بن جبل ؓ کو نصیحت فرما رہے تھے۔۔۔ فرمایا، ، کیا میں تمہیں اس چیز کے بارے میں آگاہ نہ کروں جس پر ان سب چیزوں کا دارومدار ہے ؟ ، ، حضرت معاذ کہتے ہیں، میں نے عرض کیا، جی ہاں ! ضرور بتائیں، چناچہ آپ نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا، ، اس کو اپنے قابو میں رکھو، ، (1) پس اہل ایمان کی صفات حمیدہ میں سے ایک صفت یہ ہے کہ وہ لغویات اور محرمات سے اپنی زبان کو روکے رکھتے ہیں۔ (والذین ھم للذکوٰۃ فعلون) یعنی مال کی مختلف جنسوں کے مطابق اس کی زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اپنے آپ کو گندے اخلاق اور برے اعمال سے پاک کرتے ہوئے جن کے ترک کرنے اور جن کے اجتناب ہی سے نفس پاک ہوتے ہیں۔ پس وہ نماز میں خشوع کا اہتمام کر کے اپنے خالق کی اچھے طریقے سے عبادت کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کر کے مخلوق کے ساتھ احسان کا رویہ اپناتے ہیں۔ (و الذین ھم لفروجھم حفظون) ، ، اور وہ (زنا سے) اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ ، ، اور کامل حفاظت یہ ہے کہ ان تمام امور سے اجتناب کیا جائے جو زنا کی دعوت دیتے ہیں، مثلاً غیر محرم کو دیکھنا اور چھونا وغیرہ۔ پس وہ اپنی شرم گاہوں کی ہر ایک سے حفاظت کرتے ہیں۔ (الا علی ازواجھم، اوما ملکت ایمانھم) ، ، سوائے اپنی بیویوں اور مملوکہ لونڈیوں کے۔ ، ، (فانھم غیر ملومین) یعنی اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے پاس جانے میں ان پر کوئی ملامت نہیں، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو حلال ٹھہرایا ہے۔ (فمن ابتغٰی وراع ذلک) ، ، پس جو تلاش کرے گا اس کے علاوہ۔ ، ، یعنی بیوی اور لونڈی کے علاوہ (فاولئیک ھم العدوان) ، ، پس وہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں۔ ، ، یعنی جو اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں سے تجاوز کر کے حرام میں پڑگئے اور اللہ تعالیٰ کی محرمات کے ارتکاب کی جسارت کی۔ اس آیت کریمہ عموم تحریم متعہ پر دلالت کرتا ہے کیونکہ نکاح متعہ کے ذریعے بنی ہوئی بیوی حقیقی بیوہ ہے نہ اس کو نکاح میں باقی رکھنا ہی مقصود ہے اور نہ وہ لونڈیاں ہی کے زمرے میں آتی ہے، نیز یہ آیت کریمہ نکاح حلالہ کی تحریم پر بھی دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : (اوما ملکت ایمانھم) دلالت کرتا ہے کہ مملوکہ لونڈی کی حلت کے لئے شرط یہ ہے کہ وہ تمام کی تمام صرف اسی کی ملکیت میں ہو۔ اگر وہ صرف اس کے کچھ حصے کا مالک ہے تو یہ لونڈی اس کے لئے حلال نہیں کیونکہ وہ کامل طور پر اس کا مالک نہیں کیونکہ وہ اس کی اور کسی دوسرے شخص کی مشترکہ ملکیت ہے۔ پس جس طرح یہ جائز نہیں کہ کسی آزاد عورت کے دو شوہر ہوں، اسی طرح یہ بھی جائز نہیں کہ کسی لونڈی کی ملکیت میں دو مالکوں کا اشتراک ہو ( اور وہ اس سے مجامعت کرتے ہوں) (والذین ھم لامنتھم وعھد رعون) یعنی وہ اپنی امانت اور اپنے عہد کی رعایت اور حفاظت کرتے ہیں، ان کو قائم کرنے اور ان کے نفاذ کے بہت حریص ہیں۔۔۔ یہ آیت کریمہ تمام امانتوں کے لئے عام ہے خواہ حقوق اللہ سے متعلق ہوں یا حقوق العباد سے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (انا عرضنا الامانتہ علی السموات والارض والجبال فابین ان یحملنھا وآشفقن منھا وحملھا الانسان) (الاحزاب : 86/33) ، ، ہم نے اس امانت کو آسمانوں، زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا مگر انہوں نے اس ذمہ داری کو اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے اور انسان نے اس ذمہ داری کو اٹھا لیا۔ ، ، پس ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے پر فرض کی ہے، امانت ہے، اس کو پوری طرح سے ادا کرنا اور اس کی حفاظت کرنا بندے کی ذمہ داری ہے، اسی طرح انسانوں کی امانتیں اس کے تحت آتی ہے، مثلاً مال کی امانت اور راز کی امانت وغیرہ۔ پس امانت کی ان دونوں اقسام کی حفاظت اور ان کو پوری طرح ادا کرنا فرض ہے۔ فرمایا : (ان اللہ یا مروکم ان تعودو الامنت الی اھلھا) (النساء : 58/4) ، ، بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کو ان کی امانتیں واپس کردیا کرو۔ ، ، اسی طرح عہد کا پورا کرنا بھی فرض ہے اور یہ اس عہد کو شامل ہے جو ان کے اور ان کے رب کے درمیان ہے اور جو ان کے اور بندوں کے درمیان ہے اور اس سے مراد وہ التزامات اور معاہدے ہیں جو بندہ کسی سے کرتا ہے، ان کی حفاظت کرنا اور ان کو پورا کرنا اس پر واجب ہے، ان میں کوتاہی کرنا یا ان کو جان بوجھ کر چھوڑ دینا حرام ہے۔ (والذین ھم علی صلوٰتھم یحافظون) یعنی وہ نمازوں کو ہمیشہ ان کے اوقات میں، ان کی حدود، شرائط اور ارکان کی کامل رعایت کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے نماز میں ان کے خشوع اور نماز کی حفاظت، دونوں باتوں کی بنا پر ان کی مدح و ستائش کی ہے کیونکہ ان کا معاملہ ان دونوں امور کے بغیر تکمیل نہیں پاتا۔ پس جو شخص نماز پر مداومت تو کرتا ہے مگر بغیر خشوع کے نماز پڑھتا ہے، یا وہ کامل خشوع کے ساتھ تو نماز پڑھتا ہے مگر اس کی حفاظت نہیں کرتا تو وہ ناقص اور مذموم ہے۔ (اولئک) یہی لوگ جو مذکورہ صفات سے متصف ہیں۔ (ھم الورثون۔ الذین یرثون الفردوس) ۔ فردوس کے وارث ہوں گے، ، جو جنت کا بلند ترین، بہتر اور افضل طبقہ ہے کیونکہ وہ ایسی صفات سے متصف ہوئے ہیں جو بھلائی کی صفات میں سب سے اعلیٰ صفات ہیں۔۔۔ یا اس سے مراد تمام جنت ہے تاکہ عام مومن اپنے اپنے درجات و مراتب اور اپنے اپنے حال کے مطابق اس میں داخل ہوجائیں۔ (ھم فھا خلدون) ، ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ ، ، وہ وہاں سے کبھی کوچ کریں گے نہ وہاں سے منتقل ہونا چاہیں گے کیونکہ جنت فردوس کامل اور افضل ترین نعمتوں پر مشتمل ہے وہاں کوئی تکدر ہوگا نہ پریشانی۔
Ayahs 23:12–16

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ طِیْنٍۚ Open ayah 23:12 in the Quran reader

اور ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصے سے پیدا کیا ہے

ثُمَّ جَعَلْنٰهُ نُطْفَةً فِیْ قَرَارٍ مَّكِیْنٍ۪ Open ayah 23:13 in the Quran reader

پھر اس کو اس کو مضبوط (اور محفوظ) جگہ میں نطفہ بنا کر رکھا

ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظٰمًا فَكَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْمًا١ۗ ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَ١ؕ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَؕ Open ayah 23:14 in the Quran reader

پھر نطفے کو لوتھڑا بنایا پھر لوتھڑے کی بوٹی بنائی پھر بوٹی کی ہڈیاں بنائیں پھر ہڈیوں پر گوشت (پوست) چڑھایا پھر اس کو نئی صورت میں بنادیا تو خدا جو سب سے بہتر بنانے والا ہے بڑا بابرکت ہے

ثُمَّ اِنَّكُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ لَمَیِّتُوْنَؕ Open ayah 23:15 in the Quran reader

پھر اس کے بعد تم مرجاتے ہو

ثُمَّ اِنَّكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ تُبْعَثُوْنَ Open ayah 23:16 in the Quran reader

پھر قیامت کے دن اٹھا کھڑے کئے جاؤ گے

آیت نمبر 12 اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان آیات کریمہ میں انسان کی ابتدائے تخلیق سے لے کر آخر تک مختلف اطوار اور مراحل کا ذکر کیا ہے، چناچہ اللہ تعالیٰ نے نوع بشری کے جد امجد آدم علیہٗ اسلام کی پیدائش کا ذکر فرمایا کہ (من سللۃ من طین) ، ، اسے زمین کے ست سے پیدا کیا۔ ، ، جو کہ تمم زمین سے حاصل کیا گیا تھا۔ بنا بریں حضرت آدم علیہ اسلام کے بیٹے زمین کی نوعیت کے مطابق ہیں، ان میں کچھ پاک، کچھ خبیث اور کچھ ان دونوں کے درمیان ہیں اور کچھ نرم دل، کچھ سخت دل اور کچھ ان دونوں کے درمیان ہیں۔ (ثمہ جعلنہ) ، ، پھر ہم نے اس کو بنایا، ، یعنی جنس آدم علیہ اسلام کو (نطفۃ) ، ، نطفہ، ، جو انسان کی پیٹھ اور سینے کے درمیان سے نکلتا ہے، پھر وہ نطفہ جگہ پکڑتا (فی قرار مکین) ، ، ایک محفوظ جگہ میں۔ ، ، اس سے مراد رحم مادر ہے جو ہر قسم کی خرابی اور ہوا وغیرہ سے محفوظ ہے۔ ثمہ خلقنا النطفۃ) ، ، پھر بنایا ہم نے نطفے کو، ، جو رحم مادر میں قرار پا چکا تھا۔ (علقۃ) ، ، لوتھڑا، ، یعنی نطفے کو چالیس دن گزرنے کے بعد سرخ خون میں تبدیل کردیا۔ (فخلقنا العلقۃ) ، ، پھر بنایا ہم نے جمے ہوئے خون کو، ، یعنی چالیس دن کے بعد اس خون کے لوتھڑے کو (مضفۃ) ، ، گوشت کا ٹکڑا، ، یعنی گوشت کی چھوٹی سی بوٹی یعنی اس مقدار کے برابر جسے چبایا جاسکتا ہے۔ (فخلقنا المضغۃ) ، ، پھر بنایا نرم بوٹی کو، ، (عظماً ) ، ، ہڈیاں، ، یعنی سخت ہڈیاں بنا دیتے ہیں جو کہ بدن کی ضرورت کے مطابق گوشت کے درمیان ہوتی ہیں۔ (فکسونا العظمہ لحماً ) یعنی ہم ہڈیوں کو گوشت کا لباس پہنا دیتے ہیں جس طرح ہڈیوں کو گوشت کا سہارا بنایا اور اور یہ تیسرے چالیس دنوں میں سر انجام پاتا ہے۔ (ثمہ انشانہ خلقاً اخر) ، ، پھر پیدا کیا ہم نے اس کو ایک دوسری بناوٹ میں۔ ، ، اس میں روح پھونک دی، پس وہ بےجان جسم سے جان دار میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ (فتبرک اللہ) یعنی اللہ تعالیٰ بہت بلند، بہت بڑا اور بہت زیادہ بھلائی والا ہے۔ (احسن الخالقین) ، ، وہ سب تخلیق کاروں سے اچھا تخلیق کار ہے۔ ، ، (آیت) (المسجدۃ : 9-8136) ، ، جس نے ہر چیز بہترین طریقے سے پیدا کی اور اس نے انسان کی تخلیق کی ابتدا گارے سے کی پھر اس کی نسل ایک خلاصے یعنی ایک حقیر پانی سے چلائی، پھر سے نک سک سے درست کیا اور اس کے اندر اپنی طرف سے روح پھونکی اور اس نے تمہارے کان، آنکھیں اور دل بنائے مگر تم بہت کم شکر گزار ہو۔ ، ، انسان کی تمام تخلیق اچھی ہے اور انسان بہترین مخلوق، بلکہ تمام مخلوقات میں علی الاطلاق بہترین ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم) (التین : 4/90) ، ، ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا ہے، ، اس لئے انسان کے خواص تمام مخلوق میں سب سے افضل اور سب سے کامل ہیں۔ (ثمہ انکم بعد ذلک) یعنی انسان کی تخلیق اور اس میں روح کے پھونکے جانے کے بعد (المتیون) یعنی تم ان مراحل میں سے گزرتے ہوئے ایک مرحلہ میں موت سے ہم کنار ہو گے۔ (ثمہ انکم یوم القیمتہ تبعثون) ، ، پھر تم قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے۔ ، ، پھر تمہیں تمہارے اچھے برے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ (آیت) (القیمۃ : 40-32-85) ، ، کیا انسان سمجھتا ہے کہ اسے یونہی چھوڑ دیا جائے گا، کیا وہ مٹی کا ایک ٹپکایا ہوا قطرہ نہ تھا پھر وہ لوتھڑا بنا پھر اللہ نے اس کو تخلیق کیا اور نک سک سے درست کیا پھر اس کی دو قسمیں بنائیں یعنی مرد اور عورت۔ کیا اللہ اس بات پر قادر نہیں کہ مردوں کو زندہ کرے ؟ ، ، (
Ayahs 23:17–20

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعَ طَرَآئِقَ١ۖۗ وَ مَا كُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غٰفِلِیْنَ Open ayah 23:17 in the Quran reader

اور ہم نے تمہارے اوپر (کی جانب) سات آسمان پیدا کیے اور ہم خلقت سے غافل نہیں ہیں

وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ فَاَسْكَنّٰهُ فِی الْاَرْضِ١ۖۗ وَ اِنَّا عَلٰى ذَهَابٍۭ بِهٖ لَقٰدِرُوْنَۚ Open ayah 23:18 in the Quran reader

اور ہم ہی نے آسمان سے ایک اندازے کے ساتھ پانی نازل کیا پھر اس کو زمین میں ٹھہرا دیا اور ہم اس کے نابود کردینے پر قادر ہیں

فَاَنْشَاْنَا لَكُمْ بِهٖ جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ١ۘ لَكُمْ فِیْهَا فَوَاكِهُ كَثِیْرَةٌ وَّ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَۙ Open ayah 23:19 in the Quran reader

پھر ہم نے اس سے تمہارے لئے کھجوروں کے باغ بنائے ان میں تمہارے لئے بہت سے میوے پیدا ہوتے ہیں اور ان میں سے تم کھاتے بھی ہو

وَ شَجَرَةً تَخْرُجُ مِنْ طُوْرِ سَیْنَآءَ تَنْۢبُتُ بِالدُّهْنِ وَ صِبْغٍ لِّلْاٰكِلِیْنَ Open ayah 23:20 in the Quran reader

اور وہ درخت بھی (ہم ہی نے پیدا کیا) جو طور سینا میں پیدا ہوتا ہے (یعنی زیتون کا درخت کہ) کھانے والوں کے لئے روغن اور سالن لئے ہوئے اگتا ہے

آیت 17 ) اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کا ذکر کرنے کے بعد، اس کے مسکن اور اس پر ہر لحاظ سے اپنی بےپایاں نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (ولقد خلقنا فوقکم) ، ، اور بنائے ہم نے تمہارے اوپر ، ، یعنی شہروں کی چھت کے طور پر اور بندوں کے فائدے کی خاطر (سبع طرائق) ہم نے سات آسمان طبق برطبق بنائے کہ ہر طبقے کے اوپر دوسرا طبقہ ہے۔ اور ان کو سورج، چاند اور ستاروں کے ذریعے سے سجایا اور ان میں مخلوق کے تمام فوائد و دیعت کئے گئے۔ (وما کنا عن الخلق غفلین) ، ، اور ہم مخلوق سے غافل نہیں ہیں۔ ، ، پس جیسے ہماری تخلیق ہر مخلوق کے لئے عام ہے۔ اسی طرح ہمارا علم بھی تمام مخلوق پر محیط ہے، ہم اپنی کسی مخلوق سے غافل ہیں نہ اسے بھولتے ہیں اور نہ کسی مخلوق کو پیدا کرنے کے بعد اسے ضائع کرتے ہیں، نہ آسمان سے غافل ہوتے ہیں کہ وہ زمین پر گرپڑے اور نہ سمندروں کی موجوں میں تیرتے ہوئے اور صحراؤں میں پڑے ہوئے ایک ذرے کو بھی فراموش کرتے ہیں۔ کوئی ایسا جان دار نہیں جس کو ہم رزق نہ پہنچاتے ہوں۔ (آیت) (ھو 5 : 2/11) ، ، زمین میں چلنے والا کوئی ایسا جاندار نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمہ نہ ہو اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ کہاں اس کا ٹھکانہ ہے اور کہاں اسے سونپا جانا ہے۔ ، ، اللہ تعالیٰ نے بہت کثرت سے اپنی تخلیق اور اپنے علم کو اکٹھا بیان کیا ہے، مثلاً فرمایا : (الا یعلم من خلق و ھو الطیف الخبیر) (الملک : 14/28) ، ، کیا وہ نہیں جانتا جس نے پیدا کیا ہے، حالانکہ وہ پوشیدہ باتوں کو جاننے والا اور ہر چیز سے آگاہ ہے۔ ، ، نیز فرمایا : (بلی و ھوا الخلق العلیم) (یس : 81/32) ، ، کیوں نہیں ! جبکہ وہ پیدا کرنے والا اور علم رکھنے والا ہے۔ ، ، کیونکہ مخلوقات کی تخلیق، ان کے خالق کے علم اور حکمت پر سب سے بڑی عقلی دلیل ہے۔ (و انزلنا من السماء ماءً ) ، ، اور اتارا ہم نے آسمان سے پانی، ، تاکہ تمہارے لئے اور تمہارے مویشیوں کے لئے بقدر کفایت رزق حاصل ہو۔ پس وہ اسے اتنا کم بھی نہیں کرتا کہ جس سے زمین اور درختوں کی ضرورت پوری نہ ہو اور مقصود حاصل نہ ہو اور نہ اسے اتنا زیادہ کرتا ہے کہ جس سے آبادیاں تلف ہوجائیں اور نباتات اور درخت اس کے ساتھ زندہ نہ رہیں بلکہ جب اس کو نازل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اسے نازل کرتا ہے اور جب اس خے زیادہ برسنے سے نقصان کا خدشہ ہوتا ہے تو اسے روک دیتا ہے۔ (فاسکنہ فی الارض) ، ، پس ہم اس کو زمین میں ٹھہرا دیتے ہیں۔ ، ، یعنی ہم پانی کو زمین پر نازل کرتے ہیں اور وہ وہاں ٹھہر جاتا ہے اور اپنے نازل کرنے والے کی قدرت سے، ہر قسم کی نباتات اگاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے دور زیر زمین پانی کے خزانوں تک لے جا کر ٹھہراتا ہے حتی ٰ کہ کنواں کھودنے والا اس کی گہرائیوں تک پہنچنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ (وانا علیٰ ذھاب بہ لقدرون) ، ، اور ہم اس کے لے جانے پر قادر ہیں۔ ، ، اس طرح کہ یا تو ہم اسے نازل ہی نہ کریں یا نازل تو کریں لیکن استے اتنا گہرا لے جائیں کہ وہاں تک پہنچنا ممکن نہ ہو یا اس سے مقصد حاصل نہ ہو۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کو تنبیہ ہے کہ وہ اس کی نعمت کا شکر ادا کریں اور اس کے معدوم ہونے پر اندازہ کریں کہ انہیں کیا نقصان پہنچ سکتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : (قل آرء یتم ان اصبح مآؤکم غوراً فمن یاتیکم بماء معین) (الملک : 30/28) ، ، کہہ دیجئے کہ کیا تم نے سوچا اگر تمہارا پانی گہرا چلا جائے یعنی خشک ہوجائے تو کون ہے جو تمہارے لئے پانی کا چشمہ بہا لائے۔ ، ، (فانشانا لکم بہ) ، ، پس ہم پیدا کرتے ہیں تمہارے لیے اس کے ساتھ ، ، یعنی اس پانی کے ذریعے (جنت) یعنی باغات (من نخیل وآعناب) ، ، کھجور اور انگور کے۔ ، ، اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر ان دو قسموں کا ذکر کیا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے دوسرے درخت اور نباتات وغیرہ بھی پانی ہی سے پیدا کی ہیں کیونکہ یہ اپنی فضیلت اور منفعت کی بنا پر دیگر درختوں پر فوقیت رکھتے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں عام ذکر فرمایا۔ (لکم فیھا) ، ، تمہارے لیے ان (باغات) میں ، ، (فواکہ کثیرۃ و منھا تاکلون) ، ، بہت سے میوے ہوتے ہیں، انہی میں سے تم کھاتے ہو، ، یعنی زیتون، لیموں، انار اور سیب وغیرہ۔ (و شجرۃً تخرج من طور سیناء) ، ، اور وہ درخت جو طور سیناء (پہاڑ) سے نکلتا ہے۔ ، ، اور اس سے مراد زیتون کا درخت ہے یعنی جنس زیتون۔ خاص طور پر اس کا ذکر اس لئے کیا کیونکہ ارض شام میں اس کا خاص علاقہ ہے، نیز اس کے کچھ فوائد ہیں۔ ان میں سے بعض اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں مذکور ہیں۔ (تنبت با الدھن وصبغ للاکلین) ، ، اگاتا ہے وہ تیل اور سالن ہے کھانے والوں کے لیے۔ ، ، اس میں سے زیتون کا تیل نکلتا ہے جو کہ چکنائی ہے جسے روشنی کرنے اور کھانے کے لئے بکثرت استعمال کیا جاتا ہے یعنی اس کو کھانے کے لئے سالن بنایا جاتا ہے۔ اس میں اس کے علاوہ دیگر فوائد بھی ہیں۔
Ayahs 23:21–22

وَ اِنَّ لَكُمْ فِی الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً١ؕ نُسْقِیْكُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْنِهَا وَ لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ كَثِیْرَةٌ وَّ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَۙ Open ayah 23:21 in the Quran reader

اور تمہارے لئے چارپایوں میں عبرت (اور نشانی) ہے کہ جو ان کے پیٹوں میں ہے اس سے ہم تمہیں (دودھ) پلاتے ہیں اور تمہارے لئے ان میں اور بھی بہت سے فائدے ہیں اور بعض کو تم کھاتے بھی ہو

وَ عَلَیْهَا وَ عَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَ۠ Open ayah 23:22 in the Quran reader

اور ان پر اور کشتیوں پر تم سوار ہوتے ہو

(آیت نمبر 21) (وان لکم فی الانعام لعبرۃ) یعنی یہ تم پر اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے کہ اس نے تمہارے لئے مویشوں، یعنی اونٹوں، گایوں اور بکریوں کو مسخر کیا۔ اس میں عبرت حاصل کرنے والوں کے لئے عبرت اور فائدہ اٹھانے والوں کے لئے فوائد ہیں۔ (نسقیکم مما فی بطونھا) ، ، پلاتے ہیں ہم تمہیں اس سے جو ان کے پیٹوں میں ہے۔ ، ، یعنی دودھ، جو گوبر اور خون کے درمیان سے نکلتا ہے جو خالص اور پینے والوں کے لئے نہایت خوشگوار ہے۔ (ولکم فیھا منافع کثیرۃ) یعنی ان کی پشم، اون اور بالوں میں تمہارے لئے بہت سے فائدے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے مویشیوں کے چمڑے سے تمہارے لئے خیمے بنائے جنہیں تم اپنے سفر اور پڑاؤ کے دوران (استعمال میں) بہت ہلکا پاتے ہو۔ (ومنھا تاکلون) یعنی تم ان کے گوشت اور چربی سے حاصل شدہ بہترین کھانے کھاتے ہو۔ (وعلیھا وعلیٰ الفلک تحمکون) ، ، اور ان پر اور کشتیوں پر تم سوار کرائے جاتے ہو۔ ، ، یعنی خشکی پر تم ایک شہر سے دوسرے شہر تک ان جانوروں پر اپنے بوجھ لاد کرلے جاتے ہو جہاں تم سخت مشقت کے بغیر نہیں پہنچ سکتے، اسی طرح سمندر میں تمہارے سفر کے لئے کشتیاں بنائیں جو تمہیں اور تمہارے سامان کو، خواہ تھوڑا ہو یا زیادہ اٹھائے پھرتی ہیں۔ پس وہ ہستی جس نے یہ تمام نعمتیں عطا کی ہیں، جس نے مختلف انواع کے احسانات کئے ہیں اور جس نے اپنی نوازشوں کی بارش کی، وہی کامل شکر، کامل حمد وثناء اور عبودیت میں پوری کوشش کی مستحق ہے اور وہ اس چیز کی بھی مستحق ہے کہ اس کی نعمتوں سے اس کی نافرمانی پر مدد نہ لی جائے۔ آ
Ayahs 23:23–30

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 23:23 in the Quran reader

اور ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو انہوں نے ان سے کہا کہ اے قوم ! خدا ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں کیا تم ڈرتے نہیں ؟

فَقَالَ الْمَلَؤُا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۙ یُرِیْدُ اَنْ یَّتَفَضَّلَ عَلَیْكُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَنْزَلَ مَلٰٓئِكَةً١ۖۚ مَّا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَۚ Open ayah 23:24 in the Quran reader

تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے یہ تو تم ہی جیسا آدمی ہے تم پر بڑائی حاصل کرنا چاہتا ہے اور اگر خدا چاہتا تو فرشتے اتار دیتا ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو یہ بات کبھی نہیں سنی تھی

اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ فَتَرَبَّصُوْا بِهٖ حَتّٰى حِیْنٍ Open ayah 23:25 in the Quran reader

اس آدمی کو تو دیوانگی (کا عارضہ) ہے تو اسکے بارے میں کچھ مدت انتظار کرو

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا كَذَّبُوْنِ Open ayah 23:26 in the Quran reader

نوح نے کہا کہ پروردگار مجھے جھٹلایا ہے تو میری مدد کر

فَاَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِ اَنِ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا فَاِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوْرُ١ۙ فَاسْلُكْ فِیْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْهِ الْقَوْلُ مِنْهُمْ١ۚ وَ لَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 23:27 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ ہمارے سامنے اور ہمارے حکم سے کشتی بناؤ پھر جب ہمارا حکم آپہنچے اور تنور (پانی سے بھر کر) جوش مارنے لگے تو سب (قسم کے حیوانات) میں سے جوڑا جوڑا (یعنی نر اور مادہ) دو دو کشتی میں بٹھا دو اور اپنے گھر والوں کو بھی سو ان کے جن کی نسبت ان میں سے (ہلاک ہونے کا) حکم پہلے صادر ہوچکا ہے اور ظالموں کے بارے میں ہم سے کچھ نہ کہنا وہ ضرور ڈبو دئیے جائیں گے

فَاِذَا اسْتَوَیْتَ اَنْتَ وَ مَنْ مَّعَكَ عَلَى الْفُلْكِ فَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ نَجّٰىنَا مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:28 in the Quran reader

اور جب تم اور تمہارے ساتھی کشتی میں بیٹھ جاؤ تو (خدا کا شکر کرنا اور) کہنا کہ سب تعریف خدا ہی کو (سزاوار) ہے جس نے ہم کو ظالم لوگوں سے نجات بخشی

وَ قُلْ رَّبِّ اَنْزِلْنِیْ مُنْزَلًا مُّبٰرَكًا وَّ اَنْتَ خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ Open ayah 23:29 in the Quran reader

اور (یہ بھی) دعا کرنا کہ اے پروردگار ہم کو مبارک جگہ پر اتاریو اور تو سب سے بہتر اتارنے والا ہے

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ وَّ اِنْ كُنَّا لَمُبْتَلِیْنَ Open ayah 23:30 in the Quran reader

بیشک اس (قصے) میں نشانیاں ہیں اور ہمیں تو آزمائش کرنی تھی

آیت 23 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے اور رسول نوح علیہ اسلام کا ذکر کرتا ہے حضرت نوح علیہ اسلام زمین پر پہلے رسول تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا۔ ان کی قوم کی حالت یہ تھی کہ وہ بتوں کی پوجا کرتی تھی۔ انہوں نے اپنی قوم کو حکم دیا کہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں، چناچہ انہوں نے فرمایا : (یقوم عبدوا اللہ) ، ، اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو۔ ، ، یعنی اس کے لئے عبادت کو خالص کرو کیونکہ اخلاص کے بغیر عبادت قابل قبول نہیں۔ (مالکم من الٰہ غیرہ) ، تمہارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ، ، اس میں غیر اللہ کی الوہیت کا ابطال اور صرف اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اثبات ہے وہی خالق اور رزاق ہے اور غیر اللہ کے برعکس صرف وہی کامل کمال کا مالک ہے۔ (افلا تتقون) کیا تم ساتھ انوں اور بتوں کی عبادت کرنے پر اللہ تعالیٰ سے ڈرتے نہیں، جن کو قوم کے صالح لوگوں کی شکل پر گھڑ لیا گیا تھا، اس طرح انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کی بھی عبادت شروع کردی تھی۔ حضرت نوح علیہ اسلام نے ان کو کھلے چھپے، شب و روز، ساڑھے نو سو برس تک دعوت دی مگر ان کی سرکشی اور روگردانی میں اور اضافہ ہوگیا۔ (فقالا الملو) پس نوح علیہ اسلام کی قوم کے اشراف اور سرداروں نے معارضہ اور مخالفت کے طور پر اور ان کے اتباع سے لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہا : (ما ھذا الا بشر مثلکم یرید ان یتفضل علیکم) یعنی یہ محض تمہارے ہی جیسا آدمی ہے اور اس نے تم پر فضیلت حاصل کرنے کے لئے نبوت کا دعویٰ کیا ہے تاکہ وہ سردار اور پیشواء بن سکے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اس میں کون سی ایسی چیز ہے جس کی بناء پر اسے تم پر فضیلت حاصل ہو حالانکہ وہ تمہاری ہی جنس سے ہے ؟ یہ معارضہ رسولوں کی تکذیب کرنے والوں میں ہمیشہ سے موجود رہا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی زبان پر اس کا شافی جواب دیا ہے۔ جیسا کہ اللہ کے اس ارشاد میں ہے۔ (قالو) یعنی کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا : (آیت) (ابراہیم : 11, 10/14) ، ، تم اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہم جیسے ہی انسان ہو، تم ہمیں ان معبودوں کی عبادت سے روکنا چاہتے ہو جن کی عبادت ہمارے آباؤ اجداد کیا کرتے تھے۔ ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لاؤ۔ رسولوں نے ان سے کہا ہم تمہارے ہی جیسے بشر ہیں مگر اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے، نوازتا ہے۔ ، ، پس رسولوں نے ان کو آگاہ فرمایا کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی عنایت ہے تم اللہ تعالیٰ پر پابندی لگا سکتے ہو نہ اس کے فضل کو ہم تک پہنچنے سے روک سکتے ہو۔ انہوں نے اپنے رسولوں سے یہ بھی کہا : (ولو شاء اللہ لا نزل ملئکۃ) ، ، اور اگر اللہ چاہتا تو وہ فرشتے نازل کردیتا۔ ، ، یہ بھی ان کا مشیت الٰہی کے ساتھ معارضہ باطلہ ہے کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو فرشتے نازل کرسکتا ہے مگر وہ نہایت مہربان اور بہت حکمت والا ہے۔ اس کی حکمت اور بےپایاں رحمت تقاضا کرتی ہے کہ رسول انسانوں ہی کی جنس میں سے ہو کیونکہ انسان فرشتوں سے مخاطب ہونے کی قدرت نہیں رکھتے، نیز اگر فرشتہ بھیجا جائے تو اس کا انسان ہی کی شکل میں آنا ممکن ہے۔ تب اشتباہ تو ان پر پھر بھی واقع ہوجائے گا جیسا کہ پہلے ہے۔ کفار کا قول تھا (ما سمعنا بھذا) یعنی رسول کے مبعوث ہونے کے بارے میں ہم نے نہیں سنا۔ (فی ابائنا الاولین) ، ، اپنے باپ دادا کے زمانے میں۔ ، ، اور یہ کون سی دلیل ہے کہ انہوں نے اپنے آباؤ اجداد میں کسی رسول کے مبعوث ہونے کے بارے میں نہیں سنا ؟ کیونکہ گزرے واقعات ان کے احاطہء علم میں نہیں، اس لئے وہ اپنی لا علمی اور جہالت کو دلیل نہ بنائیں۔ اور فرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں کسی کو رسول بنا کر نہیں بھیجا تو اس کی وجہ یا تو یہ ہوگی کہ وہ سب ہدایت پر ہوں گے تب اس صورت میں ان میں رسول بھیجنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں اور اگر وہ ہدایت پر نہ تھے تو انہیں اپنے رب کی حمد وثناء اور اس کا شکر کرنا چاہیے کہ اس نے ان کو ایسی نعمت سے خصوصی طور پر نوازا ہے جو ان کے آباؤ اجداد کو عطا نہیں ہوئی اور نہ ان کو اس نعمت کا شعور تھا۔ دوسروں پر عدم احسان کو سبب بنا کر خود پر اللہ تعالیٰ کے احسان کی ناشکری نہ کریں۔ کفار نے کہا : (ان ھوا الا رجل بہ جنۃ) یعنی یہ تو مجنون ہے ( فتربصو بہ) یعنی اس کے بارے میں انتظار کرو (حتی حین) یہاں تک کہ اس کو موت آجائے۔ یہ شبہات جو انہوں نے وارد کئے تھے درحقیقت یہ اپنے نبی سے ان کا معارضہ تھا جو ان کے کفر اور عناد کی شدت پر دلالت کرتا ہے نیز یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ انتہائی جہالت اور ضلالت میں مبتلا تھے۔ یہ شبہات کسی بھی لحاظ سے معارضے کی صلاحیت نہیں رکھتے جیسا کہ ہم گزشتہ سطور میں ذکر کرچکے ہیں بلکہ یہ شبہات فی نفسہ متناقض اور متعارض ہیں۔ پس ان کا یہ کہنا (ما ھذا الا بشر مثلکم یرید ان یتفضل علیکم) ثابت کرتا ہے کہ انہیں اس حقیقت کا اعتراف تھا کہ ان کا نبی عقل مند ہے جو ان کے خلاف چال چلتے ہوئے ان پر غلبہ حاصل کر کے ان پر سرداری کرے گا اور ایسی صورت حالا میں ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سے بچا جائے تاکہ اس سے دھوکہ نہ کھایا جاسکے۔ ان کا یہ مذکورہ قول ان کے اس دعوے کے ساتھ کیسے مناسبت رکھتا ہے۔ (ان ھوا الا رجل بہ جنتہ) کیا یہ گمراہ شخص کا شبہ نہیں، جو اسی کے خلاف جاتا ہے ؟ اس شخص کا مقصد دراصل یہ ہوتا ہے کہ جس طرح بھی ممکن ہو ان کی دعوت کو روکا جائے اور اسے علم نہیں ہوتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس شخص کو رسوا کر کے رہتا ہے جو اس کے رسولوں سے عداوت رکھتا ہے۔ جب نوح علیہ اسلام نے دیکھا کہ ان کی دعوت سوائے ان کے فرار کے انہیں کوئی فائدہ نہیں دے رہی تو (قال رب انصرنی بما کذابوں) ، ، انہوں نے عرض کیا : اے میرے رب ! ان لوگوں نے جو مجھے جھٹلایا ہے اس پر تو ہی میری مدد فرما۔ ، ، حضرت نوح علیہ اسلام نے اپنی قوم سے ناراض ہو کر ان کے خلاف اللہ تعالیٰ سے نصرت کی درخواست کی تھی کیونکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو ضائع کیا اور اس کے رسولوں کی تکذیب کی۔ حضرت نوح نے کہا : (آیت) (نوح : 27/26/71) ، ، اے میرے رب ! تو کافروں میں کسی کو زمین پر بسانہ رہنے دے۔ تو اگر ان کو چھوڑ دے گا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور وہ جس اولاد کو جنم دیں گے وہ بھی فاجر اور کافر ہی ہوگی۔ ، ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ولقد نادنا نوح فلنعمہ المجیبون) (الصفت : 75/37) ، ، نوح نے ہم کو پکارا، پس ہم بہت اچھی طرح جواب دینے والے ہیں۔ ، ، (فآوحینا الیہ) ہم نے حضرت نوح علیہ اسلام کی دعا قبول فرما کر، اس کی طرف وقوع عذاب سے قبل، ایک سبب اور وسیلہ نجات کے متعلق وحی کی۔ (ان اصنع الفلک) ، ، یہ کہ کشتی تیار کر، ، (با عیننا ووحینا) یعنی ہمارے حکم کے مطابق اور ہماری مدد سے، تو ہماری حفاظت اور نگرانی میں ہے ہم تجھ کو دیکھتے اور سنتے ہیں۔ (فاذا جاء امرنا) ، ، پس جب ہمارا حکم آجائے۔ ، ، جس کے ذریعے سے ان کو عذاب دیا گیا تھا۔ (وفار التنور) یعنی زمین سے پانی پھوٹ پڑے، چشمے بہہ نکلیں حتی کہ آگ جلانے والی جگہوں سے بھی پانی نکلنے لگے جہاں سے عادت کے مطابق پانی کا نکلنا بہت بعید ہوتا ہے۔ (فاسلک فیھا من کل زوجین ثنین) تو تمام حیوانات میں سے ہر جنس سے ایک نر اور مادہ، کشتی میں داخل کرلے تاکہ تمام حیوانات کی نسل باقی رہے جن کے وجود کو زمین میں باقی رکھنے کا حکمت ربانی تقاضا کرتی ہے۔ (واھلک) یعنی اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں بٹھا لے۔ (الا من سبق علیہ القول) ، ، سوائے اس کے جس کی بابت (ہمارا) قول گزر چکا۔ ، ، جیسے حضرت نوح علیہ اسلام کا بیٹا۔ (والاتخاطبنی فی الذین ظلمو) یعنی مجھ سے یہ درخواست نہ کرنا کہ میں ان کو نجات دوں، کیونکہ قضاء و قدر کے مطابق حتمی فیصلہ ہوچکا ہے کہ انہیں غرق ہونا ہے۔ (فاذا استویت انت ومن معاک علی الفلک) یعنی جب تم لوگ کشتی پر سوار ہوجاؤ اور کشتی سرکش موجوں پر تیرنے لگے تو نجات اور سلامتی پر اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء بیان کرو۔ (فقل الحمد للہ الذی نجنا من القوم الظلمین) ، ، اور کہو ! تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں ظالموں سے نجات دی۔ ، ، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت نوح علیہ اسلام اور اس کے اصحاب کے لئے تعلیم تھی کہ وہ ظالم کے اعمال اور عذاب سے نجات پر اللہ تعالیٰ کے شکر اور اس کی ستائش کے طور پر یہ کلمات کہیں۔ (وقل رب انزلنی منزلاً مبرکا و انت خیر المنزلین) یعنی تمہیں ایک نعمت ابھی عطا ہونا باقی ہے، اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگو کہ وہ تمہیں بابرکت منزل میسر کرے، چناچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ اسلام کی دعا سن لی اور فرمایا : (وقضی الامرو واستوات علی الجودی وقیل بعداً للقوم الظالمین) (ھوا 44/115) ، ، اور فیصلہ چکا دیا گیا اور کشتی جو دی پہاڑ پر جا ٹھہری اور کہہ دیا گیا لعنت ہے ظالموں پر۔ ، ، اور فرمایا : (قیل ینوح اھبط بسلمہ منا و برکت علیک علیک و علیٰ اممہ ممن معاک) (ھو 48/11:5) ، ، کہا گیا اے نوح ! اتر جا، سلامتی کے ساتھ ہماری طرف سے اور برکتیں ہوں تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں۔ ، ، (ان فی ذالک) بلا شبہ اس قصہ میں (لا یت) ، ، نشانیاں ہیں۔ ، ، جو دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا معبود ہے اور اس کے رسول نوح علیہ اسلام سچے ہیں اور ان کی قوم جھوٹی ہے، نیز دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے بندوں پر سایہ کناں ہے کہ اس نے انہیں ان کے باپ حضرت نوح علیہ اسلام کی صلب میں، کشتی پر سوار کر کے محفوظ کیا جبکہ روئے زمین پر بسنے والے تمام لوگ ڈوب گئے اور کشتی بھی اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ولقد ترکنھا ایتہ فھل من مدکر) (القمر : 15/54) ، ، ہم نے اس کشتی کو نشانی کے طور پر چھوڑ دیا۔ تو ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا ؟ ، ، اسی لئے اس کو یہاں جمع کیا ہے کیونکہ یہ متعدد آیات و مطالب پر دلالت کرتی ہے۔ (و انا کنا لمبتلین) ، ، اور ہم آزمائش کر کے ہی رہتے ہیں۔ ، ،