23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

سورة نمبر 23 کل رکوع 6 آیات 118 الفاظ و کلمات 1070 حروف 4538 سورۃ المومنون مکہ مکرمہ کے دور متوسط میں نازل ہوئی۔ یہ وہ دور تھا جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ (رض) کی شدید مخالفت کی جارہی تھی مگر ظلم و ستم میں شدت پیدا نہیں ہوئی تھی۔ اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی بعض ایسی صفات کا ذکر فرمایا ہے جو ان کو دنیا اور آخرت میں کامیاب و با مراد کرنے کی ضمانت ہیں۔ دنیا میں لوگوں نے کامیابی اور ناکامی کے کچھ پیمانے مقرر کر رکھے ہیں۔ جس کے پاس مال و دولت ‘ اولاد اور وسائل کی کثرت ہوتی ہے تو اس کو کامیاب ترین انسان اور بڑا آمی سمجھا جاتا ہے۔ انہیں اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ یہ مال و دولت جس نے اسے بڑا آدمی بنا یا ہے وہ کہاں سے آئی۔ ذرائع حلال تھے یا حرام۔ یہ سب مال اس نے ظلم و زیادتی ‘ رشوت ‘ چوری ‘ ڈکیتی سے حاصل کیا ہے یا کسی اور ذریعہ سے۔ اس کے برخلاف وہ شخص جو اپنی نیکیوں پر قائم ہے ‘ علم و عمل کا پیکر ‘ تقویٰ و پرہیز گاری جس کا طریقہ زندگی ہے ‘ رزق حلال کی وجہ سے وہ غربت و بےبسی کے ساتھ زندگی گزار رہا ہے وہ چوری ‘ ڈکیتی اور ظلم و ستم کے بجائے اپنے ہاتھ سے روزی پیدا کرتا ہے تو ایسے شخص کو معاشرہ میں ناکام و نامراد سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے کامیاب اور ناکام لوگوں کے لیے جو معیار مقرر کیا ہے وہ تقویٰ اور پرہیز گاری ہے یہاں انسانیت اور شرافت کو مال و دولت کے ترازو پر نہیں بلکہ نیکی ‘ اور پرہیزگاری اور تقویٰ کے پیمانوں سے ناپا جاسکتا ہے۔ فرمایا کہ جو لوگ ایمان لائے اور اللہ و رسول کی اطاعت و فرماں برداری کا پیکر بن گئے وہ دنیا و آخرت کے کامیاب ترین لوگ ہیں لیکن جنہوں نے اللہ و رسول کی نافرمانی کو اپنا شعار بنا لیا ہے دن رات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی لائی ہوئی تعلیمات کو جھٹلاتے ہیں۔ اپنی ضد ‘ تکبر ‘ غرور اور ہٹ دھرمی کے سامنے کسی کو کچھ نہیں سمجھتے تو فرمایا کہ ایسے لوگ انتہائی ناکام و نامراد ہیں۔ ایسے لوگ نہ تو دنیا میں کامیا ہوں گے اور نہ آخرت کی ابدی راحتوں سے ہم کنارہوں گے۔ فرمایا کہ جب ایسے نافرمان لوگوں پر اللہ کا عذاب نازل ہوتا ہے تو پھر ان کی حکومت و اقتدار ‘ مال و دولت ‘ زیب وزینت ‘ طاقت و قوت ‘ تہذیب و تمدن ‘ بلند وبالا عمارتیں جن پر انہیں ناز ہوتا ہے ریت کا ڈھیر بن جاتی ہیں چناچہ اللہ نے کفار کی تمام طاقتوں کے باوجود قوم نوح (علیہ السلام) اور قوم موسیٰ (علیہ السلام) پر پانی کا ایک زبردست طوفا بھیج کر ان کو تنکوں کی طرح بہادیا اور ان کی طاقت وقوت ان کے کوئی کام نہ آسکی۔ ان کو اور ان کی ترقیات کو غرق کردیا گیا۔ لیکن وہ لوگ جو دنیاوی اعتبار سے نہایت کمزور اور بےبس تھے ان کے ایمان اور عمل صالح کی وجہ سے ان کو دنیاوی اقتدار و قوت دے دی گئی اور وہ زمین کے وارث بن گئے۔ جب سورة المومنون نازل کی گئی اس وقت تک حضرت عمر (رض) ایمان لاچکے تھے اور مسلمانوں کے حوصلے بلند اور تبلیغ اسلام میں ایک نئی روح بیدارہ چکی تھی۔ جب اس سورة کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں تو بعض صحابہ کرام (رض) نے ان کیفیات کو اپنی آنکھوں سے دیکھا جو نزول وحی کے وقت آپ پر طاری ہوتی تھیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اس وقت مجھ پر ایسی دس آیتیں اتاری گئی ہیں کہ اگر کوئی شخص ان کے معیار پر پورا ترے گا تو وہ یقیناً جنت کا مستحق بن جائے گا۔ پھر آپ نے سورة المومنون کی ابتدائی آیات کی تلاوت فرمائیں۔ سورۃ المومنون میں اسی حقیقت کو بتایا گیا ہے کہ دین و دنیا کی بھلائی اور کامیابی کن لوگوں کے حصے میں آئی۔ فرمایا کہ وہ لوگ جو صاحب ایمان ہیں ‘ جن کی عبادت و بندگی میں خشوع و خضوع اور عاجزی ہوتی ہے ‘ جو فضول باتوں سے بچتے اور اپنے دلوں کو ہر طرح ناپاکیوں اور عیبوں سے پاکرکھتے ہیں۔ جائز حدود میں رہتے ہوئے اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ جن کا یہ حال ہے کہ وہ امانتوں کی نگہداشت کرنے والے عہد و ماہدوں کی پابندی کرنے والے اور نمازوں کی حفاظت کا جذبہ رکھنے والے ہیں وہ مومن ہیں اور کامیاب ہیں۔ سورۃ المئومنون کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی سات صفات بیان کی ہیں اور بتایا ہے کہ جو لوگ ایسی صفات کے مالک ہوں گے وہ کبھی ناکام و نامراد نہ ہوں گے بلکہ دین و دنیا کی بھلائیاں ان کے قدم چو میں گی۔ ساتوں صفات کی تصیل بھی ملاحظہ کرلیجیے۔ ١) خشوع و خضوع : دلی سکون و اطمینان ‘ اللہ کے سامنے خوف سے ساکن اور پست ہونا۔ حضرت ابو دردائ (رض) سے روایت ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ؛ ” میری امت میں سب سے پہلے جو چیز اٹھالی جائے گی وہ خشوع و خضوع ہے۔ یہاں تک کہ قوم میں خشوع (عاجزی و انکساری) اختیار کرنے والا نظر نہ آئے گا۔ “ اس حدیث پر غور کیا جائے تو آج جو ہماری حالت ہے وہ اس سے مختلف نہیں ہے۔ ہم نمازیں پڑھتے ہیں مگر ان نمازوں میں اللہ کے لیے وہ عاجزی و انکساری اور توجہ الی اللہ نہیں رہی جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہماری نمازیں ‘ ہماری عبادات اور ہمارے معاملات خشوع سے خالی ہیں اور ہم ہر کام نہایت بےولی سے کرتے ہیں اس لیے ہمارے دل و دماغ اور روح پر روحانی اثرات مرتب نہیں ہوتے۔ ٢) لغویات سے پرہیز : مومن کی دوسری صفت یہ ہے کہ وہ ہر اس بات یا ہر اس کام سے بچ کر چلتا ہے جو بےکار ‘ بےفائدہ اور بےمقصد ہو۔ جس میں نہ دنیا کا فائدہ نہ آخرت کی کامیابی ‘ نہ کوئی اچھا مقصد حاصل ہوتا ہے۔ یہ گناہ بےلذت ہم زندگی بھر کرتے رہتے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو ہماری مجلسیں ‘ محفلیں اور اجتماعات ان لغویات سے بھر پور ہیں جن میں سوائے ایک دوسرے کی غیبت چغل خوری اور سازشوں کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے ؛ ” انسان کا اسلام اسی وقت اچھا ہو سکتا ہے جب وہ لغو ( بےہودہ ‘ بےکار ‘ بےفائدہ باتوں کو) کو چھوڑ نہ دے۔ “ اس سے معلوم ہوا کہ ایک مومن کی یہ شان ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں اور طاقتوں کو بےکار باتوں میں الجھا کر ضائع نہیں کرتا بلکہ ہر طرح کی لغویات سے بچ کر اپنی نمازوں اور عبادات میں مقصدیت پیدا کرتا ہے۔ ٣) تزکیہ نفس : مومنوں کی تیسری صفت یہ ہے کہ وہ اپنے دل کو ہر طرح کے برے خیالات سے پاک صاف رکھتا ہے۔ کفر و شرک ‘ تکبر و غرور ‘ دکھاوا ‘ بغض وحسد ‘ کینہ پروری ‘ لالچ ‘ کنجوسی ‘ غیبت ‘ چغل خوری ‘ دوسروں پر الزام لگانے سے اپنے آپ کو دور رکھتا ہے۔ اپنے دل و دماغ کو پاک صاف رکھتا ہے تاکہ انورات الہی سے اس کے من کے دنیا منور و روشن ہوجائے۔ ٤) شرم گاہوں کی حفاظت : مومن کی چوتھی صفت یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو اور اپنی شرم گاہوں کو ہر طرح کے گناہوں سے محفوظ رکھتے ہیں اور ان کا استعمال وہیں کرتے ہیں جہاں اللہ اور اس کے رسول نے اجازت دی ہے۔ جو لوگ اس معاملہ میں حدود پار کرجاتے ہیں وہ ظالم ہیں جنہیں اللہ کبھی معاف نہیں کرے گا۔ یہ سامنے کی بات ہے کہ جس قوم میں زنا ‘ بدکاری ‘ اور لواطت عام ہوجاتی ہے وہ معاشرہ برباد ہو کر رہتا ہے۔ اگر اس معاشرے میں مسلمانوں کی اکثریت ہے اور پھر ان گناہوں کا چلن ہو تو ان کو سزا ملنے میں دیر نہیں لگتی لیکن اگر کافر معاشرہ ہے تو اللہ ان کو سنبھلنے اور سمجھنے کے لیے مہلت اور ڈھیل دیتا ہے۔ اگر وہ اپنی اس روش سے باز نہیں آتے تب اللہ ان کے پاؤں کے نیچے سے زمین کھینچلیتا ہے جس کا وہ اندازہ بھی نہیں کرسکتے۔ یہ اللہ کا وہ فیصلہ ہے جسے اللہ کبھی تبدیل نہیں کرتا۔ نزول قرآن کے وقت غلامی کا دور چلا آرہا تھا جس میں انسانوں کی خریدو فرخت ہوا کرتی تھی اور غلام باندیوں کا رواج تھا۔ غلام اور باندیاں ایک ذاتی ملکیت کی طرح ہوا کرتی تھیں۔ وہ جس طرح چاہتے ان کو استعمال کرتے تھے ۔ یہ تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فیض رحمت ہے کہ دنیا سے غلامی کا رواج ختم ہوگیا۔ اگر دین اسلام نہ ہوتا تو شاید دنیا سے غلامی کا دور کبھی ختم نہ ہوتا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ کے حکم سے ایسے طریقے اختیار فرمائے جس سے آہستہ آہستہ غلامی ختم ہو کر رہ گئی۔ تاہم جب تک اس مقصد کی تکمیل نہیں ہوگئی اس وقت تک دین اسلام نے ہمیں اجازت دی ہوئی تھی۔ فرمایا کہ مومن کی شان یہ ہے کہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں سوائے اپنی بیویوں اور باندیوں کے جہاں اللہ نے اجازت دے رکھی ہے۔ لیکن اس کے سوا ہر جگہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کا حکم دیا گیا ہے۔ ٥) امانت کا خیال رکھنا : مومن کی پانچویں صفت یہ ہے کہ جب اس کے پاس کوئی امانت رکھوائی جاتی ہے تو وہ اس میں کسی طرح کی خیانت نہیں کرتا۔ اسی لیے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے جس میں امانت نہیں اس میں دین نہیں۔ ا کی جگہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بیان فرمایا کہ منافق میں کیا کیا خرابیاں اور علامتیں ہوتی ہیں اسی میں فرمایا کہ منافق وہ ہے کہ جب اس کے پاس کوئی امانت رکھوائی جاتی ہے تو وہ اس میں خیانت ضرور کرتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ دیانت و امانت مومن کا سب سے بڑا وصف اور صفت ہے۔ بہر حال بےایمانی اور ایمان ایک ساتھ نہیں چلتے۔ ٦) عہد کی پابندی : مومن کی چھٹی صفت یہ ہے کہ وہ اپنے عہد و پیمان کا پابند ہوتا ہے اور کبھی وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ قرآن کریم میں متعدد مقامات پر اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اے مومنو ! تم اپنے وعدوں کو پورا کرو۔ اگر تم اپنے وعدوں کو پورا نہیں کرو گے تو کل قیامت کے دن اللہ کے ہاں اس کا جواب دینا ہوگا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے کہ جو اپنے وعدے وعید پورے نہیں کرتا وہ مومن نہیں ہے۔ معلوم ہوا کہ عہد کی پابندی اور عہد شکنی ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ جو وعدہ خلافی کرنے والا ہے وہ درحقیقت حقیقی مومن نہیں ہے۔ ٧) نمازوں کی حفاظت : مومن کی ساتویں صفت یہ ہے کہ وہ اپنی نمازوں کی حفاظت کرتا ہے۔ وقت پر نماز کی ادائیگی ‘ پورے آداب کا لحاظ ‘ خشوع و خضوع کی پابندی مومن کا مزاج ہوتا ہے۔ فرمایا کہ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ انسان کا کاروبار یا زندگی کی ذمہ داریاں اس کو نمازوں سے غافل کردیں بلکہ مومن کی شان یہ ہے کہ وہ ہمیشہ نمازوں کی حفاظت کا اہتمام کرتے ہیں۔ یقیناً وہ ہی لوگ کامیاب و بامراد ہیں اور سچے مومن ہیں جن میں مذکورہ تمام صفات موجود ہیں۔

Ayahs 23:1–2

قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 23:1 in the Quran reader

یقیناً ان ایمان والوں نے کامیابی حاصل کر لی

الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَۙ Open ayah 23:2 in the Quran reader

جو لوگ اپنی نمازوں میں عاجزی (خشوع و خضوع اختیار ) کرنے والے ہیں۔

لغات القرآن آیت 1 تا 11 : افلح (وہ کامیاب ہوا۔ اس نے فلاح پائی) ‘ خاشعون (خاشع) اللہ کے خوف سے ڈرنے والے۔ اللغو (فضول بات۔ ایسی بات جس کا فائدہ کوئی نہ ہو) ‘ فروج (فرج) شرم گاہیں ‘ ملکت ایمان (باندیاں) ‘ غیر ملومین (الزام نہیں ہے) ‘ ابتغائ (جس نے تلاش کیا) ‘ وراء (پیچھے۔ علاوہ) العادون (حد سے بڑھنے والا) ‘ راعون (رعایت کرنے والے۔ خیال رکھنے والے) ‘ الوارثون (وارث) مالک۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 11 : دنیاداروں نے کامیابی ‘ ناکامی ‘ خیرو فلاح ‘ نفع و نقصان اور چھوٹائی بڑائی کے کچھ ایسے پیمانے مقرر کر رکھے ہیں کہ اگر ایک شخص مال و دولت ‘ عیش و آرام ‘ بلندو بالا بلڈنگوں ‘ اونچی حویلیوں اعلی سواریوں کا مالک ہے تو اس کو کامیاب ترین ‘ عقل مند ‘ سمجھ دار ‘ باعزت اور معاشرہ کا بڑا آدمی سمجھا جاتا ہے۔ خواہ وہ سب چیزیں ظلم و زیادتی ‘ رشوت و غصب ‘ حرام اور ناجائز ذرائع سے حاصل کی گئی ہوں لیکن اگر کوئی صاحب ایمان شخص دیانت و امانت ‘ تقویٰ ‘ پرہیز گاری اخلاص اور ایمان کا پیکر ہو مگر معاشرتی اعتبار سے کمزور ‘ غریب اور مفلس ہو تو اس کو معاشرہ میں کوئی حیثیت نہیں دی جاتی۔ اس کو ایک ناکام شخص اور چھوٹا آدمی سمجھا جاتا ہے۔ غربت اور امارت کی یہی وہ ترازو ہے جس پر تول کر سارے فیصلے اور وزن کئے جاتے ہیں۔ ان دنیاوی اصولوں کے برخ لاف قرآن کریم نے ایمان ‘ عمل صالح اور تقویٰ کو انسانی عظمت کا معیار اور پیمانہ مقرر کیا ہے اور ایسے لوگوں کو کامیاب ترین لوگوں میں شامل کیا ہے جو ان صفات کے حامل ہوتے ہیں۔ صاف صاف الفاظ میں فرمادیا ہے کہ اللہ نے حضرت آدم و حوا کے ذریعہ تمام انسانوں کو پیدا کیا ہے۔ قبیلوں اور خاندانوں میں تقسیم کردینا ایک پہچان تو ہے لیکن فخر کی چیز نہیں ہے کیونکہ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ محترم اور باعظمت وہ لوگ ہیں جو نیکی اور پرہیز گاری میں سب سے بڑھ کر ہیں۔ سورة المومنون کی زیر مطالعہ آیات میں فرمایا کہ اللہ نے مومنوں کو کامیاب و بامراد کردیا یعین اہل ایمان صرف اسی دنیا میں نہیں بلکہ آخرت میں بھی کامیاب و با مراد ہوں گے۔ غربت وامارات کی یہی کشمکش اس وقت بھی تھی جب نبی کریم ﷺ نے اللہ کے حکم سے اعلان نبوت فرمایا۔ ایمان اور عمل صالح ‘ تقویٰ اور پرہیز گاری کی زندگی اختیار کرنے والے صحابہ کرام ؓ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی اور نبی کریم ﷺ کی اطاعت و فرماں برداری کرتے ہوئے دنیا کی بےحقیقت زندگی کو چھوڑکر اپنا سب کچھ آخرت کی زندگی سنوارنے پر لگادیا تھا ان کو کفار مکہ دین اسلام قبول کرنے پر طعنے دیا کرتے تھے کہ تمہیں دین اسلام نے کیا دیا ؟ فقرو فاقہ ‘ غربت و افلاس ‘ بےرونق محفلیں ‘ طرح طرح کی مصیبتیں اور پریشانیاں ‘ اس کے برخلاف ذرا ہمیں دیکھو دنیاوی راحتیں اور کامیابیاں ہمارے قدم چوم رہی ہیں ہماری محفلیں کیسی پر رونق ہیں اور ہم ہر اعتبار سے زندگی گذار رہے ہیں۔ ہم کامیاب ترین لوگ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ دراصل کامیاب ترین وہی لوگ ہیں جو صاحبان ایمان ہیں۔ دنیا اور آخرت میں وہی کامیاب و بامراد ہوں گے۔ لیکن وہ لوگ جو کفر پر جمے بیٹھے ہیں وہ دنیا کے نا کام ترین لوگ ہیں۔ کیونکہ جب یہ آخرت کی ابدی اور ہمیشہ کی زندگی میں پہنچیں گے تو خالی ہاتھ ہوں گے اور وہاں کوئی ان کا ساتھ نہ دے گا۔ تاریخ گواہ ہے کہ ان آیات میں جس کامیابی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ دنیاوی اعتبار سے تو یوں پوری ہوئی کہ اللہ نے دین اسلام کی برکت سے انہیں ہر طرح کی فتوحات اور کامیابیاں عطا فرمائیں اور بہت تھوڑے عرصے میں اہل ایمان جزیرۃ العرب سے نکل کر ساری دنیا میں پہنچ گئے۔ ہر جگہ کامیابیوں نے ان کے قدم چومے۔ قیصر وکسریٰ کی سلطنتیں ختم ہوگئیں اور دینا میں صرف اہل ایمان ہی فاتح اور کامیاب بن کر چھا گئے اور دنیا نے ظلم و ستم سے نجات پائی اور ہر طرف امن و سلامتی عام ہوگئی۔ یہ تو دنیاوی اعتبار سے کامیابیاں حاصل ہوئیں یقیناً آخرت کی ہر طرح کی کامیابیاں بھی اسی طرح حاصل ہوں گی۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے جو پورا ہو کررہے گا۔ اصل کامیابی یہی ہے کہ دنیا اور آخرت دونوں بن جائیں۔ جو لوگ صرف دنیا کی زیب وزینت کے چکر میں پوری زندگی گذار دیتے ہیں وہ لوگ وقتی طور پر تو کامیاب نظر آتے ہیں لیکن انجام کے اعتبار سے قطعاً ناکام و نامراد لوگ ہیں۔ سورۃ المومنون کی ان گیارہ آیات میں ” کامیاب مومنوں “ کی سات خصوصیات کا خصا طور پر ذکر فرمایا گیا ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل ایمان کی کامیابی کی بنیادیں نہایت مضبوط ہیں۔ جب بھی ان بنیادوں کو اپنایاجائے گا اللہ کا وعدہ ہے کہ کامیابیاں ان کے قدم چو میں گی۔ ان نیک خصلتوں کی وجہ سے دنیا اور آخرت میں فلاح حاصل ہوگی۔ (1) پہلی خصوصیت یہ ہے کہ ” وہ لوگ اپنی نمازوں میں خشوع و خضوع اختیار کرتے ہیں ” یعنی قلبی ‘ ذہنی ‘ فکری اور جسمانی سکون کے ساتھ نمازوں کو ادا کرتے ہیں۔ وہ منافقین کی طرح دکھاوا ‘ سستی اور کاہلی کا مظاہرہ نہیں کرتے بلکہ نہایت ذوق و شوق ‘ عاجزی و انکساری ‘ ادب احترام اور شریعت کی تمام ہدایات کے مطابق اپنی نمازوں کو ادا کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی اور نبی کریم ﷺ کی مکمل اطاعت و فرماں برداری کے جذبے سے اس طرح نمازیں ادا کرتے ہیں کہ اس میں ریاکاری اور دکھاوا نہیں ہوتا ” خشوع و خضوع “ کا یہی مفہوم ہے۔ نماز درحقیقت وہ اہم ترین عبادت ہے جس سے دین کی بنیادیں مضبوط اور مستحکم ہوتی ہیں۔ جو شخص نماز جیسی عبادت کو چھوڑتا ہے وہ درحقیقت دین کی بنیادوں کو ڈھانے والا اور اسلام کے اصولوں سے بغاوت کرنے والا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دین اسلام کے تفصیلی احکامات تو مدینہ منورہ کی زندگی میں آئے مگر نمازوں کا اہتمام مکہ مکرمہ سے ہی شروع ہوچکا تھا۔ اور معراج النبی کے مبارک موقع پر اس امت کو اللہ کی طرف سے جو تحفہ عطا کیا گیا وہ پانچ وقت کی فرض نمازیں تھیں۔ جس کے اجرو ثواب کا یہ عالم ہے کہ پانچ وقت کی نمازیں ادا کرنے والے شخص کو پچاس نمازوں کا ثواب عطا کیا جاتا ہے۔ اگر غور کیا جائے تو نمازوں کی فرضیت مکہ مکرمہ ہی سے شروع ہوئی۔ احادیث سے ثابت ہے کہ قیامت کے دن بھی سب سے پہلے نماز کے متعلق پوچھا جائے گا۔ قیامت کے دن جو آدمی پہلے سوال ہی میں فیل ہوگیا اس کی آخرت تو تباہ ہو کر رہ جائے گی۔ اس اہمیت کا اندازہ نبی کریم ﷺ کے ان ارشادات سے کیا جاسکتا ہے جن میں آپ نے نمازوں کو ادا کرنے کی سخت تاکید فرمائی ہے۔ نمازوں سے ہماری غفلت نے ہمیں بہت سی سعادتوں سے محروم کردیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اقامت صلوۃ کی توفیق عطا فرائے۔ آمین۔ اس موقع پر اس بات کا ضرور خیال رکھا جائے کہ نمازوں سے غفلت دو سرح ہورہی ہے پہلی تو یہ کہ بہت سے لوگ نماز ہی نہیں پڑھتے جو ایک بہت بڑی بدنصیبی ہے لیکن بعض لوگ نماز ادا کرتے ہیں مگر ان کے آداب کا خیال نہیں رکھتے اور ایسی نمازیں پڑھتے ہیں کہ نمازیں خود ان پر ملامت کرتی ہیں چناچہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ جو شخص نمازوں کو اپنے وقت پر ادا کرنے کے لئے اچھی طرح وضو کرے گا اور نمازوں میں خشوع و خضوع (قلبی سکون) اختیار کرے گا تو وہ نمازیں نہایت روشن ہوکر چمکنے لگیں گی اور نماز اس کو دعا دے گی کہ اے اللہ جس طرح اس شخص نے میری حفاظت کی ہے ( ہر طرح کے آداب کا خیال رکھا ہے) اسی طرح آپ اس کی حفاظت فرمائیے۔ لیکن جو شخص نمازوں کو بری طرح پڑھتا ہے (جلدی ‘ دکھاوا ‘ آداب کا خیال نہ رکھنا) نمازوں میں سستی کرتا ہے۔ اس کو ٹا ل ٹال کر پڑھتا ہے۔ اچھی طرح وضو نہیں کرتا تو وہ نماز بری صورت میں سیاہ رنگ میں ڈھل جائے گی اور پڑھنے والے کو بد دعا دے گی کہ الہٰی جس طرح اس نے مجھے خراب کیا آپ اس کو اسی طرح خراب کردیجئے۔ اس کے بعد وہ نماز پرانے کپڑے کی طرح لپیٹ کر نمازی کے منہ پر ماردی جاتی ہے۔ حضرت ابو دردائ ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ امت سے سب سے پہلے جو چیز اٹھائی جائے گی۔ وہ ” خشوع “ ہے۔ یہاں تک کہ قوم میں کوئی شخص بھی خاشع نظر نہیں آئے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں نمازیں ادا کرنے ‘ اس کا پوری طرح حق ادا کرنے اور خشوع خضوع کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
Ayah 23:3

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَۙ Open ayah 23:3 in the Quran reader

جو فضول باتوں سے منہ پھیرتے ہیں

(2) ان آیات میں اہل ایمان کی دوسری صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ لغو اور فضول باتوں سے دور رہتے ہیں۔ دراصل لغو ‘ فضول ‘ بیکار اور لا حاصل کاموں میں پڑ کر آدمی اپنی زندگی کے قیمتی لمحات کو ضائع اور برباد کرتا ہے۔ قرآن کریم میں ایک جگہ یہ ارشاد فرمایا کہ ” اہل ایمان جب کسی ایسی جگہ سے گذرتے ہیں جہاں لغو اور فضول باتیں ہورہی ہیں تو وہ وہاں سے مہذب طریقے پر پہلو بچا جاتے ہیں۔ یعنی وہ فضول باتوں کی ہمت افزائی نہیں کرتے اور وہ لوگ جو اس بےہودہ مشغلے میں لگے رہتے ہیں ان پر یہ ظاہر کردیتے ہیں کہ انہیں ایسی لغو اور گناہ کی باتوں سے کئی دلچسپی نہیں ہے۔ اسی طرح اللہ نے اہل ایمان سے جس جنت کا وعدہ کیا ہے اس کی ایک خصوصیت یہ ہوگی کہ وہ اس جنت میں کوئی لغو اور فضول بات نہ سنیں گے “۔ ان آیات میں نماز میں خشوع و خضوع کا ذکر کرنے کے عبد لغو بات سے پرہیز کرنے کی تاکید فرمائی گئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز ایک ایسی عبادت ہے جو انسان کو لغو اور فضول باتوں سے روکتی ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے۔ بیشک نماز ہر طرح کی بےحیائی اور ہر طرح کے فضول ‘ لغو اور ناجائز کاموں سے روکتی ہے۔ دراصل دکھاوا ‘ نمائش ‘ بےغیرتی ‘ بےحیائی ‘ برے خیالات ‘ گندے جذبات اور گناہوں کے تمام پہلو فضول اور بےہودہ ہیں جو انسان کی زندگی کو گھن اور دیمک کی طرح چاٹ جاتے ہیں۔ لیکن نماز اللہ تعالیٰ کی ایک ایسی جام عبادت ہے جس میں مشغولیت انسانوں کو مذکورہ گناہوں سے ہٹا کر نیکیوں کی راہ پر گامزن کردیتی ہے۔ نماز کا کام ہی یہ ہے کہ وہ تقویٰ اور پرہیز گاری کی صفات پیدا کردیتی ہے لیکن اگر کوئی شخص لغو یات ‘ فضول باتوں اور گناہوں سے باز نہیں آتا تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اس کی نماز ایک رسم ‘ خانہ پری اور عادت سے زیادہ کچھ نہیں ہے ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک شخص نماز کا پابند ہو اور وہ نماز اس کے دل کا نورنہ بن جائے اور اس کو روحانی ترقی و عظمت سے ہم کنار نہ کردے۔
Ayah 23:4

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوْنَۙ Open ayah 23:4 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو اپنے نفس کا تزکیہ کرنے والے ہیں۔

(3) مومنوں کی تیسری صفت اور خوبی یہ ہے کہ وہ ” زکوۃ ادا کرتے ہیں “ یعنی جس طرح نماز میں خشوع و خضوع اور عاجزی و انکساری سے سکون قلب کی دولت نصیب ہوتی ہے اسی طرح لغویات سے بچنے میں ذہن و فکر پاک صاف ہوجاتا ہے۔ اور اپنی محنت سے کمائی ہوئی حلال دولت میں سے جب زکوۃ ادا کی جاتی ہے تو اس کا مال پاک اور صاف ہوجاتا ہے کیونکہ زکوۃ کے معنی پاک صاف کرنے ہی کے آتے ہیں۔ درحقیقت جو شخص زکوۃ ادا کرتا ہے وہ نہ صرف اپنے مال کو پاک کرتا ہے بلکہ اس کا وہ نفس جو اس کو خواہشات کے نیچے دبائے رکھتا ہے غرورو تکبر ‘ ریاکاری اور دکھاوا ‘ بغض و حسد ‘ لالچ اور کنجوسی جیسی گندگیوں سے دور کر کے اس کے نفس کو پاکیزہ بنا دیتا ہے۔ اسی لئے علماء و مفسرین نے فرمایا ہے کہ قرآن کریم میں ہر وہ جگہ جہاں زکوۃ کی ادائیگی کا حکم دیا گیا ہے وہاں ” اتوالزکوۃ “ اور یوتون الزکوۃ “ کے الفاظ آتے ہیں۔ لیکن اس جگہ ” لزکوۃ فاعلون “ فرمایا۔ جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ مومنوں کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ زکوۃ جیسے فریضہ کو ادا کرتے ہیں اور اپنے نفس کی پاکیزگی کے لئے بھی فکر مند رہتے ہیں۔ جہاں تک زکوۃ کی فرضیت کا تعلق ہے وہ حکم تو بالکل واضح ہے لیکن نفس کی پاکیزگی کا مفہوم یہ ہے کہ وہ مومن صرف نماز ہی نہیں پڑھتے۔ محض لغو یات اور فضول مشغلوں سے ہی نہیں بچتے بلکہ اپنے نفس اور نفسانی خواہشات پر قابو پاکر اس کی پاکیزگی اور صفائی ستھرائی کے لئے جدوجہد کرتے ہیں۔
Ayahs 23:5–7

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ Open ayah 23:5 in the Quran reader

وہ لوگ جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔

اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ Open ayah 23:6 in the Quran reader

سوائے اپنی بیویوں اور ملک یمین (لونڈیوں) کے اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ پس بیشک ان لوگوں پر کوئی ملامت نہیں ہے۔

فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْعٰدُوْنَۚ Open ayah 23:7 in the Quran reader

البتہ وہ لوگ جو اس کے علاوہ ڈھونڈتے ہیں وہ حد سے بڑھنے والے ہیں۔

(4) کامیاب اہل ایمان کی چوتھی صفت یہ ہے کہ وہ اپنی شرمگاہوں کی مکمل حفاظت کرتے ہیں اور اپنی نفسانی خواہشات کو اپنی بیویوں اور ان باندیوں تک (جن کی اس زمانہ میں اجازت تھی) محدود رکھتے ہیں۔ جو لوگ ان حدود سے آگے قدم نہیں بڑھاتے اس پر انہیں کسی طرف سے کسی ملامت کا سامنا کرنا نہ پڑے گا۔ لیکن اگر کوئی شخص ان حدود سے آگے قدم بڑھائے گا تو وہ زیادتی کرنے والا ہوگا۔ خلاصہ یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدود کے اندر رہیں گے انہیں روحانی قوت و طاقت ‘ اطمینان قلب اور سکھ چین نصیب ہوگا۔ لیکن ان حدود کو پھلانگنے والے اللہ کی رحمتوں سے محروم اور بد ترین عادتوں اور معاشرہ کو رسوا اور برباد کرنے والے بن جائیں گے۔ اس بد ترین فعل کو زنا کہا جاتا ہے جس کی وجہ سے بہت سی قومیں تباہ و برباد ہوگئیں۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اے مومنو ! تم زنا کے قریب بھی نہ جانا کیونکہ وہ کھلی بےحیائی ‘ اللہ کے غضب کو دعوت دینے والا اور بدترین راستوں کو کھولنے والا ہے۔ اس کا پہلا نقصان تو یہ ہے کہ اس شدید گناہ میں مبتلا ہونے والا معاشرہ باہمی اعتماد اور بھروسہکو کھودیتا ہے کیونکہ اس میں کسی کی عزت ‘ آبروا ور عصمت محفوظ نہیں رہتی۔ اگر اس معاشرہ میں کفار غالب ہوں تو ان کو سوچنے ‘ سمجھنے اور سنبھلنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ جب وہ بار بار کی تنبیہ کے باوجود ہوش میں نہیں آتے تو ان پر عذاب الہٰی نازل ہوجاتا ہے۔ زنا اور ایمان میں ایسی غیریت اور ضد ہے کہ یہ دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے۔ چناچہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ جب کوئی اس فعل بد میں مبتلا ہوتا ہے تو اس کا ایماناس کے اندر سے نکل جاتا ہے اور جب وہ اس سے فارغ ہوجاتا ہے تب ایمان واپس لوٹتا ہے۔ زنا کا دوسرا نقصان یہ ہے کہ زانی اور بدکار آدمی باطنی ‘ روحانی اور جسمانی طور پر کمزور پڑجاتا ہے۔ اگر اس میں ذرا بھی حس اور احساس زندہ ہے تو اس کا دل اسے ہمیشہ ملامت کرتا رہے گا۔ جس سے اس کو کبھی سکون نصیب نہ ہوگا۔ لیکن اگر اس کا احساس ہی مردہ ہوچکا ہے اور اس کے اندر سے احساس گناہ ہی مٹ چکا ہے تو ایسا شخص ہر بھلے اور نیک راستے سے محروم رہتا ہے اور اس کو کبھی سچی توبہ کی توفیق نصیب نہیں ہوتی اور یہ بد نصیبی اسے جہنم کی بھڑکتی آگ پر پہنچا کر دم لیتی ہے۔ لیکن یہ یاد رہے کہ جب تک موت کے فرشتے سامنے نہیں آجاتے اس وقت تک توبہ کے دروازے بند نہیں ہوتے لہٰذا اگر کوئی شخص سچے دل سے توبہ کرے لے تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو معاف فرماسکتا ہے۔
Ayahs 23:8–11

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ Open ayah 23:8 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا لحاظ رکھنے والے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَوٰتِهِمْ یُحَافِظُوْنَۘ Open ayah 23:9 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَۙ Open ayah 23:10 in the Quran reader

یہی وہ لوگ ہیں جو وارث ہوں گے۔

الَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَ١ؕ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 23:11 in the Quran reader

جو وارث ہوں گے جنت الفردوس کے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔

(5) مومن کی پانچویں صفت یہ ہے کہ وہ دیانت و امانت کا پیکر ہوتا ہے۔ یعنی وہ امانتوں کی ادائیگی کی حفاظت اور لحاظ میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کرتا اور ہر معاملے میں نہایت امانت دار ثابت ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے امانت کے بجائے ” امانات “ کہہ کر امانت کے مفہوم کو زندگی کے تمام معاملات تک وسیع کردیا ہے جس میں ہر طرح کی امانتیں آجاتی ہیں۔ عام طور پر امانت کا مفہوم صرف یہ سمجھاجاتا ہے کہ اگر کسی نے کسی دوسرے شخص پر اعتماد اور بھروسہ کرکے کوئی چیز یا رقم اس کے حوالے کردی اور طلب کرنے پر واپس مل گئی تو کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص نے نہایت دیانت سے اس کی امانت واپس کردی۔ لیکن قرآن و حدیث کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ امانت کا مفہوم اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے جو زندگی کے ہر معاملے پر چھایا ہوا ہے۔ ٭ اگر کسی شخص نے کسی سے کوئی راز اور بھید کی بات کہی اور اس نے اس بات کو راز ہی رکھا اور کسی پر ظاہر نہ کیا کہا جائے گا کہ اس نے دیانت و امانت کا ثبوت پیش کیا۔ ٭کسی نے ایک مجلس میں ایسی بات سنی جس کو اہل مجلس ظاہر کرنا نہیں چاہتے تو اس بات کو سن کر دوسروں سے نہ کہنا اور اس کو راز رکھنا بھی امانت ہے۔ ٭ایک شخص نے کسی کو معاوضہ دے کر کوئی کام سپرد کیا تو یہ وقت بھی ایک امانت ہے جس کو دیانت داری سے اسی مقصد میں صرف ہونا چاہیے جس کے لئے معاوضہ ادا کیا گیا ہے۔ اس وقت کو ضائع کرنا ‘ اس میں سستی اور کاہلی کرنا بددیانتی کہلائے گی۔ مومن کی شان اور صفت یہ ہے کہ وہ زندگی کے ہر معاملہ میں دیانت و امانت کا دامن تھامے رکھتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس معاشرہ میں دیانت وامانت سے کام کئے جاتے ہیں وہ ایک بہترین معاشرہ کہلاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمی بھی ہر معاملہ میں دیانت وامانت کے ہر پہلو کا لحاظ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین (6) کامیاب اہل ایمان کی چھٹی صفت یہ ہے کہ وہ اپنے وعدے ‘ عہد اور معاہدوں کو پورا کرتے ہیں۔ یعنی ہر مومن کی شرعی اور اخلاقی طور پر یہ ذمہ داری ہے کہ اس نے جس سے جو بھی وعدہ کیا ہوا اس کو ہر حال میں پورا کیا جائے۔ انسان نے انسان سے وعدہ کیا ہو یا انسان نے اپنے اللہ سے وعدہ کیا ہو ہر عہد و معاہدہ کو پورا کرنا لازمی اور ضروری ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ان کو فاسق و گناہ گار قرار دیا ہے جو قرآن کریم پڑھ کر بھی اس کی ہدایت سے محروم رہتے ہیں۔ ان فاسقین کے متعلق فرمایا ہے کہ جب بھی اللہ سے عہد و معاہدہ کرتے ہیں تو اس کو توڑ ڈالتے ہیں (بقرہ) اسی لئے وہ گمراہی کے راستے پر چل پڑتے ہیں۔ اسی طرح نبی کریم ﷺ نے منافق کی علامتیں بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ جب منافق کسی سے وعدہ کرتا ہے تو وہ اسے پورا نہیں کرتا۔ قرآن کریم اور سنت سے معلوم ہوا کہ عہد و معاہدوں کو پورا کرنا ایک مومن کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔ نبی کریم ﷺ کی سیرت طیبہ کا نمایاں پہلو یہ ہے کہ آپ نے جب بھی کسی سے وعدہ فرمایا تو اس کو پورا کیا۔ (7) مومنین کی ساتویں صفت یہ ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی نمازوں کی ہر طرح حفاظت کرتے ہیں علمائے مفسرین نے فرمایا ہے کہ اس سے پانچ وقت کی فرض نمازیں مراد ہیں۔ یعنی وہ مومنین اپنی نمازوں کو ان کے پورے آداب ‘ وقت کی پابندی سے ان کے مستحب وقت پر ادا کرکے دلی اور روحانی سکون حاصل کرتے ہیں۔ نمازوں کا ادب و احترام یہ ہے کہ پورے آداب کا لحاظ رکھتے ہوئے سنت کے مطابق ٹھیک طرح وضو کیا جائے۔ جسم اور کپڑوں کی صفائی ‘ ستھرائی اور پاکیزگی کا خیال رکھا جائے۔ نمازوں کو نہایت سکون و اطمینان سے پڑھا جائے۔ جلدی جلدی پڑھ کر نمازوں کی روح کو ضائع نہ کیا جائے۔ نہایت خشوع و خضوع ‘ عاجزی و انکساری ‘ ادب واحترام سے نمازوں کو پورا کیا جائے۔ خلاصہ یہ ہے کہ جو صاحبان ایمان حقوق اللہ اور حقوق العباد پورا کرنے کی سعادت حاصل کرتے اور مذکورہ سات صفات کو اپنے اندر پیدا کرتے ہیں وہ نہ صرف دنیا و آخرت کی ہر کامیابی اور فلاح و خیر حاصل کریں گے بلکہ اس جنت الفردوس کی ابدی راحتوں کے وارثو مستحق ہوں گے جو انہیں دے کر واپس نہیں لی جائینگی بلکہ ہمیشہ ہمیشہ انہیں حاصل رہیں گی۔ یہی وہ مومن ہیں جن کی زندگیاں اور بہترین اعمال حسن عمل اور اعلی کردار کی قابل تقلید مثالیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اہل ایمان کی یہ تمام خوبیاں عطا فرما کر دین و دنیا کی کامیابیاں عطا فرمائے۔ آمین
Ayahs 23:12–16

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ طِیْنٍۚ Open ayah 23:12 in the Quran reader

اور ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصے سے بنایا۔

ثُمَّ جَعَلْنٰهُ نُطْفَةً فِیْ قَرَارٍ مَّكِیْنٍ۪ Open ayah 23:13 in the Quran reader

پھر ہم نے اس نطفہ کو محفوظ مقام میں رکھا۔

ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظٰمًا فَكَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْمًا١ۗ ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَ١ؕ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَؕ Open ayah 23:14 in the Quran reader

پھر ہم نے اسکو جما ہوا خون بنایا۔ پھر ہم نے جمے ہوئے خون کو گوشت کی بوٹی بنائی۔ پھر ہم نے بوٹی میں سے ہڈیاں بنائیں۔ پھر ہم نے ان ہڈیوں پر گوشت چڑھایا پھر ہم نے اس کو نئی صورت میں اٹھاکھڑا کیا۔ وہ کیسی بڑی شان والا ہے۔ جو سب بنانے والوں سے بہتر بنانے والا ہے۔

ثُمَّ اِنَّكُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ لَمَیِّتُوْنَؕ Open ayah 23:15 in the Quran reader

پھر اس کے بعد تم سب کو مرنا ہے۔

ثُمَّ اِنَّكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ تُبْعَثُوْنَ Open ayah 23:16 in the Quran reader

پھر بیشک قیامت کے دن تم اٹھائے جائو گے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 12 تا 16 : سلالۃ (سل) (منتخب چیز۔ خلاصہ۔ نچوڑ) ‘ طین (مٹی) ‘ نطفۃ (ٹپکی ہوئی بوند) ‘ قرار مکین (محفوظ مقام) ‘ علقۃ (جما ہوا خون) ‘ مضغۃ (بوٹی۔ لوتھڑا) ‘ عظام (عظم) (ہڈیاں) ‘ کسونا (ہم نے پہنایا۔ ہم نے چڑھایا) ‘ لحم (گوشت) ‘ انشأنا (ہم نے اٹھا کھڑا کیا) ‘ خلق (مخلوق) ‘ احسن (زیادہ بہتر۔ زیادہ خوبصورت) ‘ میتون (مرنے والے) ‘ تبعثون (تم اٹھائے جائو گے) ۔ تشریح : آیت نمبر 12 تا 16 : موجودہ دور سائنسی ترقیات ‘ ٹیکنالوجی اور نت نئی مشینوں کی ایجاد کا دور ہے۔ معلومات کی دنیا میں انسان کے قدم ہر روز آگے بڑھ رہے ہیں۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ سائنسی ترقیات سے دین اسلام کے کسی اصول کی نفی یا تردید نہیں ہورہی ہے بلکہ اللہ اور اس کے رسول حضرت محمد ﷺ کے ارشادات کی حقانیت اور سچائی دن کی روشنی کی طرح پھیلتی چلی جارہی ہے۔ مثلاً آج سے پچاس ساٹھ سال پہلے یہ بات ناممکن اور ایک پوشیدہ حقیقت تھی کہ جو بچہ کسی ماں کے پیٹ میں پرورش پارہا ہے اور جن مرحلوں سے گذر رہا ہے اس کی کیفیات کیا ہیں۔ اس کے لئے کچھ اندازے کر لئے جاتے تھے اور ان پر ہی فیصلے کئے جاتے تھے۔ لیکن نت نئی مشینوں کی ایجاد نے ان تمام کیفیات کے مشاہدے کو آسان کردیا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ انسانی تخلیق اور اس کی بناوٹ کو اللہ نے جیسے ترتیب دیا ہے اور ان کو مختلف مرحلوں سے گذارا جاتا ہے جبان کو مشینی آنکھ سے مشاہدہ کیا جاتا ہے تو ان میں کوئی تضاد یا اختلاف نظر نہیں آتا۔ یہ اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ قرآن کریم اللہ کا سچا کلام ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو جدید سائنسی تحقیقات اور قرآن کریم کے بیان میں حیرت انگیز یکسانیت نہ ہوتی۔ ان آیات میں بتایا گیا ہے کہ ایک انسانی بچہ ماں کے پیٹ میں سات مختلف مرحلوں سے گذر کر جسمانی تکمیل تک پہنچتا ہے ۔ اگر آدمی اپنی پیدائش کے نازک اور پر پیچ مرحلوں پر ہی غور کرلے تو اس کے لئے اللہ پر ایمان لانا بہت آسان ہوجاتا ہے۔ (1) فرمایا کہ پہلا مرحلہ ” سلالۃ من طین “ ہے۔ عربی میں سلالۃ کے معنی منتخب اور چینی ہوئی چیز کے آتے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے انسان کو انتخاب کی ہوئی مٹی اور اس کے چنے ہوئے اجزاء سے پیدا کیا ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے دنیا کے سب سے پہلے انسان حضرت آدم کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کیا تھا۔ جن سے انسانی تخلیق و پیدائش کا آغاز ہوا۔ پھر اللہ نے حضرت حوا کو پیدا کر کے ان دونوں سے دنیا کے انسانوں کو پھیلادیا۔ اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ (2) اب اسی چنی ہوئی اور مٹی کے منتخب اجزاء سے یا انسانی غذاؤں سے نطفہ بنتا ہے۔ جو رحم مادر میں ایک مناسب وقت تک رہتا ہے اور قرار پاتا ہے اور (3) رحم مادر میں کچھ دن پڑا رہنے کے بعد وہ جمے ہوئے خون کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ (4) پھر یہ جما ہوا خون گوشت کی بوٹی جیسا بن جاتا ہے۔ (5) پھر اسی گوشت کی بوٹی میں سے ہڈیوں کا ڈھانچہ پھوٹنا شروع ہوجاتا ہے۔ ہڈیوں کا ڈھانچہ تیار ہونے کے بعد (6) ان ہڈیوں پر گوشت چڑھا یا جاتا ہے۔ اس طرح انسانی ڈھانچے کی شکل بن جاتی ہے۔ (7) اب وہ مرحلہ آجاتا ہے کہ جہاں اس انسانی ڈھانچے میں اللہ کی طرف سے روح پھونکی جاتی ہے۔ پھر تکمیل کے ان مختلف مرحلوں سے گذر کر مکمل انسانی شکل اختیار کر کے اس زمین پر قدم رکھتا ہے یہ تما مرحلے اللہ کے حکم ‘ علم اور قدرت سے تکمیل تک پہنچتے ہیں۔ اتنے مختلف مرحلوں سے گذر کر انسانی بچہ دنیا میں قدم رکھتا ہے نوجوانی ‘ جوانی اور ادھیڑ عمری کے مرحلوں سے گذر کر وہ بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جاتا ہے اور آخر کا طبعی عمر گذار نے کے بعد موت کی آغوش میں جا کر سو جاتا ہے۔ قبر میں ایک لمبی سی نیند لے کر پھر اللہ کے حکم سے دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور میدان حشر میں زندگی کے ہر لمحے کا حساب لیاجائے گا۔ فرمایا کہ انسان پیدائش ‘ زندگی ‘ موت اور پھر زندہ کئے جانے کے جن مرحلوں کو طے کرتا ہوا گذرتا ہے وہ سب کے سب اللہ کے علم اور قدرت سے تکمیل تک پہنچتے ہیں۔ فرمایا کہ جس کو اس بات پر یقین ہے کہ اللہ ہی ہے جو انسان کو ان مختلف مرحلوں سے گذار کر جیتا جاگتا انسان بنانے پر پوری قدرت و طاقت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ کوئی دوسرا خالق نہیں ہے تو وہی اللہ انسان کے مرجانے کے بعد اس کے ان ہی اجزاء کو جمع کرکے دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت کیوں نہیں رکھتا ؟ یقیناً اسی ایک اللہ کی یہ قدرت ہے جو تمام انسانوں کو دوبارہ پیدا فرمائے گا۔ جو اللہ ایک قطرہ سے زندہ انسان بنانے پر قدرت رکھتا ہے تو کیا وہ انسان کے مرجانے کے بعد اس کو دوبارہ پیدا کرنے سے عاجز اور بےبس ہو سکتا ہے۔ ہرگز نہیں۔ وہی اللہ بہترین تخلیق کرنے پر قدرت رکھتا ہے۔ اور وہی سب پیدا کرنے والوں میں سب سے بہتر پیدا کرنے والا ہے۔
Ayahs 23:17–22

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعَ طَرَآئِقَ١ۖۗ وَ مَا كُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غٰفِلِیْنَ Open ayah 23:17 in the Quran reader

اور ہم نے تمہارے اوپر سات راستے (آسمان) بنادیئے اور ہم مخلوق ( کی مصلحتوں) سے بیخبر نہیں ہیں۔

وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ فَاَسْكَنّٰهُ فِی الْاَرْضِ١ۖۗ وَ اِنَّا عَلٰى ذَهَابٍۭ بِهٖ لَقٰدِرُوْنَۚ Open ayah 23:18 in the Quran reader

اور ہم نے بلندی (آسمانوں) سے ایک مناسب اندازے کے مطابق پانی برسایا اور اس کو ہم نے زمین میں ٹھہرادیا۔ اور بیشک ہم اس کو لے جانے پر بھی قادر ہیں۔

فَاَنْشَاْنَا لَكُمْ بِهٖ جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ١ۘ لَكُمْ فِیْهَا فَوَاكِهُ كَثِیْرَةٌ وَّ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَۙ Open ayah 23:19 in the Quran reader

پھر ہم نے اس کے ذریعہ تمہارے واسطے کھجوروں اور انگوروں کے باغات پیدا کئے۔ ان میں تمہارے لئے کثرت سے پھل پیداکئے جنہیں تم کھاتے ہو۔

وَ شَجَرَةً تَخْرُجُ مِنْ طُوْرِ سَیْنَآءَ تَنْۢبُتُ بِالدُّهْنِ وَ صِبْغٍ لِّلْاٰكِلِیْنَ Open ayah 23:20 in the Quran reader

اور وہ درخت بھی پیدا کئے جو طور سینا سے نکلتا ہے۔ جو تیل بھی ہے اور کھانے والوں کے لئے سالن بھی ہے۔

وَ اِنَّ لَكُمْ فِی الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً١ؕ نُسْقِیْكُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْنِهَا وَ لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ كَثِیْرَةٌ وَّ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَۙ Open ayah 23:21 in the Quran reader

اور بیشک چوپایوں میں بھی مقام عبرت موجود ہیاسی میں سے ہم تمہیں وہ چیز پلاتے ہیں (دودھ) جو ان کے پیٹ میں بنتا ہے۔ اور تمہارے لئے ان میں اور بہت سے فائدے ہیں جنہیں تم کھاتے ہو۔

وَ عَلَیْهَا وَ عَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَ۠ Open ayah 23:22 in the Quran reader

اور ان پر اور کشتیوں پر سوار کئے جاتے ہو۔

لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 22 : فوق (اوپر) ‘ سبع (سات) طرائق (طریقۃ) راستے ‘ الخلق (پیدائش۔ بناوٹ) ‘ بقدر (ایک اندا زے سے) ‘ اسکنا (ہم نے روک دیا۔ ہم نے ٹھہرادیا) نخیل (کھجور) ‘ اعناب (عنب) انگور ‘ فواکۃ (فاکھۃ) میوے ‘ تنبت (اگتی ہے۔ اگتا ہے) ‘ دھن (تیل) ‘ صبغ (سالن) ‘ اکلین (کھانے والے) ‘ الانعام (مویشی۔ جانور) ‘ نسقی (ہم پلاتے ہیں) ‘ بطون (بطن) (پیٹ) ‘ تحملون (تم سوار کئے گئے) ۔ تشریح : آیت نمبر 17 تا 22 : اللہ تعالیٰ نے جس طرح انسان کو سات مرحلوں سے گذار کر پیدا کیا فرمایا کہ اسی طرح کائنات کے ذرہ ذرہ کو اس نے انسانی ضروریات کے لئے پیدا کیا ہے جو اس کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔ اللہ نے انسان کو خشکی ‘ تری ‘ فضاؤں اور ہواؤں پر ایک خاص عزت و عظمت اور برتری عطا فرمائی ہے۔ وہ بعض جسمانی کمزوریوں کے باوجود نہایت عزم و ہمت کا پیکر اور سخت جان ہے۔ جب وہ اللہ کی توفیق سے کسی کام کے کرنے پر آتا ہے تو ہر چیز اس کے سامنے سرنگوں ہوجاتی ہے لیکن اس سب کے باوجود کائنات اور اسکے عظیم اور پھیلے ہوئے نظام زمین و آسمان ‘ پہاڑ ‘ سمندر اور اس میں رہنے بسنے والی مخلوق کے مقابلے میں انسان جسمانی طور پر بہت کمزور ہے۔ وہ معمولی اور حقیر قطرہ سے پیدا کیا گیا ہے۔ آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنا انسانوں کو پیدا کرنے سے بڑا کام تھا۔ لیکن اس کے باوجود اللہ نے اس نظام زندگی کو اس طرح بنایا کہ جب انسان پورے عزم و ہمت کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوتا ہے تو ذرہ ذرہ کو اسکے تابع کردیا جاتا ہے۔ اور اس طرح ہم آہنگ ہوجاتا ہے کہ ناموافق صورت حال کے باوجود انسان ان پر قابو پا لیتا ہے۔ کائنات کے وسیع خلا میں بیشمار ستارے اور سیارے بڑی تیزی سے گردش کررہے ہیں مگر ان کو ایسے قاعدے ‘ قرینے اور سلیقے سے ترتیب دیا گیا ہے جس سے ایک خاص ہم آہنگی پیدا ہوگئی ہے۔ جس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اللہ نے ان تمام چیزوں کو پورے علم و حکمت کے ساتھ بنایا ہے اور وہ اپنی مخلوق کی کسی ضرورت اور حاجت سے بیخبر نہیں ہے۔ اس طرح اس دنیا میں انسان کی ترقی ‘ نشوو نما ‘ رہائش و آسائش کے تمام اسباب پیدا کردیئے گئے ہیں جن کو شمار کرنا ناممکن نہیں ہے تاکہ اس کو کسی طرح کی دشواری پیش نہ آئے۔ تو ازن ایسا قائم فرمایا ہے کہ انسان کو اور کائنات کو جس چیز کی جتنی ضرورت ہے اتنی ہی عطا کی جاتی ہے۔ ان تمام باتوں کو ان آیات میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔ ارشاد ہے کہ اللہ نے سات آسمانوں کو اوپر تلے بنایا ہے جو فرشتوں کی گذر گاہیں بھی ہیں جن سے وہ اللہ کے احکامات کو لے کر زمین کی طرف آتے ہیں دوسرے یہ کہ آسمان دنیا کو ایک چھت کی طرح بنا دیا ہے تاکہ کائنات کو نقصان پہنچانے والی چیزیں انسانی دنیا تک نہ پہنچ سکیں۔ تو ازن ایسا پیدا کیا ہے کہ جس وقت جس چیز کی جتنی ضرورت ہے اسی مقدار میں اس کو عطا کردیا جاتا ہے۔ بارش کی مثال دیتے ہوئے فرمایا کہ پانی انسان کی ایک ایسی ضرورت ہے جس کے بغیر انسان بلکہ کوئی جان دار زندہ رہ سکتا اس کے دھانے اگر کھول دیئے جاتے تو ہر طرف تباہی مچ جاتی اور انسانی تہذیب و ترقی تباہ و برباد ہو کر رہ جاتی۔ بارش کو بیشمار وسائل کا ذریعہ بنایا دیا اور اس کی حفاظت کا مناسب بندوبست بھی کردیا۔ ایک مردہ اور خشک زمین پر جیسے ہی بارش برستی ہے ہر طرف زندگی کے آثا نمایاں ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ ہر طرف تروتازگی محسوس ہونے لگتی ہے۔ قسم قسم کے نباتات ‘ سر سبزی و شادابی ‘ کھیتی ‘ میوہ ‘ اناج ‘ پھل پھول ‘ جڑی بوٹیاں ‘ سبزی اور ترکاریاں ‘ گھانس پھونس پیدا ہوجاتا ہے جو انسانوں اور جانوروں کی ضروریات زندگی کا سامان بن جاتے ہیں۔ کھجوروں اور انگوروں کے باغات نئی رونق اور تروتازگی پیدا کرتے ہیں۔ کھیت لہلہانے لگتے ہیں۔ درختوں کی خوبصورتی بڑھ جاتی ہے زیتون کے درخت کا خاص طور پر ذکر فرمایا جو صحرائے سینا میں پیدا ہوتا ہے۔ اللہ کی اس قدرت کا اظہار بھی ہے عام طور پر صحراؤں میں ریتیلے ٹیلوں ‘ خشک پہاڑوں اور گردو غبار کے سوا کوئی تصور نہیں ہوتا۔ اللہ نے اسی صحرا میں زیتون کا درخت اگایا جس سے بیشمار فائدے ہیں۔ صحرا میں اگنے والے اس درخت کی عمر ہزاروں سال کی ہوتی ہے۔ اس کا تیل کھانے اور بدن پر ملنے اور دوسری ضروریات میں استعمال کیا جاتا ہے جس کے بہت فائدے شمار کئے گئے ہیں۔ غرضیکہ اللہ نے بارشوں کے نظام کو ایک تو ازن کے ساتھ بنایا ہے تاکہ وہ انسانی ضروریات کو پورا کرسکے۔ پھر پانی برسا کر اس کی حفاظت کا بھی اعلی ترین انتظام فرما دیا۔ بہتے پانی کو زمین میں اس طرح جذب کردیا کہ انسان جب چاہے اس کو چند فٹ زمین کھود کر نکال لے اور آسانی سے استعمال کرلے۔ اگر وہ پانی انتہائی گہرائیوں میں پہنچ جاتا تو اس کو استعمال کرنا ممکن نہ ہوتا۔ پھر اس پانی کو پہاڑوں کی چوٹیوں پر کھلے آسمان کے نیچے اس طرح جمادیا کہ وہ سال بھر آہستہ آہستہ بہہ کر ندی ‘ نالوں ‘ جھرنوں اور دریاؤں کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ انسان اس سے پانی کھیتی باڑی کے لئے ‘ اپنے اور جانوروں کے پلانے کے لئے استعمال کرتا ہے ۔ یہ سب کچھ خودبخود نہیں ہوگیا بلکہ یہ سب کچھ اللہ نے اپنی قدرت کاملہ سے پیدا کیا ہے۔ جانوروں اور مویشیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہیں عبرت و نصیحت کا ذریعہ بنا دیا۔ اللہ نے اپنی قدرت سے جانور کے دودھ اور گوشت اور اس پر سواری کرنے کو ایک نعمت کے طور پر بیان کیا۔ فرمایا دودھ جیسی پاکیزہ اور صاف ستھری چیز کو اللہ نے جانور کے گوبر اور خون کے درمیان سے اس طرح پیدا کیا ہے کہ اس میں نہ گوبر کی بد بو ہوتی ہے اور نہ خون کا اثر اور رنگ بلکہ دودھ کا ایک ایک قطرہ اللہ کی صنعت کی تعریف کرتا نظر آتا ہے۔ اللہ نے جانوروں کو تازہ گوشت کی فیکٹریاں بنادیا۔ جب بھی ان کی ذبح کیا جاتا ہے اسی وقت تزہ گوشت مل جاتا ہے۔ اگر وہ کچھ زیادہ دیر رہ جائے تو سڑ جاتا ہے اور ناق ابل استعمال ہوجاتا ہے۔ وہی گوشت جانور کی کھال کے اندر بڑے عرصے تک رہنے کے باوجود نہ سڑتا ہے نہ گلتا ہے یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ نے ان جانوروں کے گوشت کو انسانی استعمال کے لئے بنایا ہے تاکہ جب بھی وہ اس کو استعمال کرنا چاہیے آسانی سے استعمال کرلے۔ اسی طرح تنگ و تاریک اور پہاڑوں کے پر پیچ راستوں میں یہ جانور سواری اور سامان کو لاد کرلے جانے کا ذریعہ بھی ہیں۔ فرمایا کہ یہ طاقت ور جانور ہیں مگر انہیں اللہ نے انسان کے تابع کرکے اپنی قدرت کاملہ کا اظہار فرمایا ہے۔ اسی طرح اللہ نے سمندری پانی کو بھی انسانی ضرورتوں کے لئے اس کے تابع کردیا ہے۔ ورنہ پانی اتنی بڑی طاقت ورچیز ہے ایک بڑے سے بڑے جہاز کی سمندر کے پانی کے سامنے ایک تنکے سے زیادہ حیثیت نہیں ہوتی۔ مگر سمندر کی گہرائیوں اور ہوا کی شدت کے باوجود اللہ ان جہازوں کی حفاظت فرماتے ہیں۔
Ayahs 23:23–32

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 23:23 in the Quran reader

اور البتہ یقیناً ہم نے نوح کو اسکی قوم کی طرف بھیجا اس نے کہا اے میری قوم ! تم اس اللہ کی عبادت و بندگی کرو جس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں کیا تم ڈرتے نہیں ہو ؟

فَقَالَ الْمَلَؤُا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۙ یُرِیْدُ اَنْ یَّتَفَضَّلَ عَلَیْكُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَنْزَلَ مَلٰٓئِكَةً١ۖۚ مَّا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَۚ Open ayah 23:24 in the Quran reader

اس کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا کہ یہ کیا ہے ؟ صرف تم جیسا بشر ہی تو ہے۔ جو یہ چاہتا ہے کہ تمہارے اوپر بڑا بن بیٹھے۔ اور اگر اللہ چاہتا تو فرشتے اتار دیتا۔ ہم نے تو اپنے باپ دادا سے ایسا نہیں سنا۔

اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ فَتَرَبَّصُوْا بِهٖ حَتّٰى حِیْنٍ Open ayah 23:25 in the Quran reader

یہ تو بشر ہے جسے کچھ جنون ہوگیا ہے۔ کچھ مدت تک انتظار کر دیکھو۔

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا كَذَّبُوْنِ Open ayah 23:26 in the Quran reader

(نوح (علیہ السلام) نے ) کہا اے میرے پروردگار یہ مجھے جھٹلا رہے ہیں میری مدد کیجئے۔

فَاَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِ اَنِ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا فَاِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوْرُ١ۙ فَاسْلُكْ فِیْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْهِ الْقَوْلُ مِنْهُمْ١ۚ وَ لَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 23:27 in the Quran reader

ہم نے اس کی طرف وحی بھیجی کہ ہماری نگرانی میں ایک کشتی بنائو۔ پھر جب ہمارا حکم پہنچے اور تنور ابلنے لگے تو اس وقت ہر قسم کے جانوروں میں سے (نر اور مادہ کا) ایک ایک جوڑا لے کر اس (کشتی) میں سوار ہوجانا اور اپنے گھر والوں کو بھی ساتھ لے لینا سوائے ان کے جن کے حق میں پہلے ہی فیصلہ ہوچکا ہے اور (اے نوح (علیہ السلام) ) ظالموں کے حق میں مجھ سے بات نہ کرنا کیونکہ ان سب کو ڈبو دیا جائے گا۔

فَاِذَا اسْتَوَیْتَ اَنْتَ وَ مَنْ مَّعَكَ عَلَى الْفُلْكِ فَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ نَجّٰىنَا مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:28 in the Quran reader

پھر جب تم اور وہ لوگ جو تمہارے ساتھ کشتی میں سوار ہوجائیں تو یہی کہنا اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں ظالم قوم سے چھڑایا۔

وَ قُلْ رَّبِّ اَنْزِلْنِیْ مُنْزَلًا مُّبٰرَكًا وَّ اَنْتَ خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ Open ayah 23:29 in the Quran reader

اور کہو اے رب مجھے برکت والی جگہ اتار ئیے گا اور آپ بہترین اتار نے والے ہیں۔

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ وَّ اِنْ كُنَّا لَمُبْتَلِیْنَ Open ayah 23:30 in the Quran reader

اور بیشک اس میں بڑی نشانیاں ہیں اور بیشک ہم آزمائش کرنے والے ہیں۔

ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَۚ Open ayah 23:31 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کے بعد ایک اور گروہ کو اٹھا یا

فَاَرْسَلْنَا فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 23:32 in the Quran reader

جن کے درمیان ان ہی میں سے رسول بھیجے (جنہوں نے کہا) کہ تم اللہ کی عبادت کرو جس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔ کیا پھر تم ڈرتے نہیں ہو ؟

لغات القرآن آیت نمبر 23 تا 32 : الملئوا (سردار) ‘ یتفضل (وہ بڑا بنتا ہے) ‘ ماسمعنا (ہم نے نہیں سنا) ‘ ابائ (باپ دادے) ‘ جنۃ (جنون۔ پاگل پن) ‘ تربص (تم انتظار کرو) ‘ اصنع (بنائو) ‘ الفلک (کشتی) ‘ اعیننا (ہماری آنکھیں۔ ہماری نگرانی) ‘ فار (ابل پڑا) ‘ التنور (تنور۔ جس میں روٹی بنائی جاتی ہے) ‘ اسلک (تو چل۔ تو لے چل) ‘ زوجین (زوج) (جوڑے جوڑے) اثنین (دودو) ‘ سبق (گذر گیا۔ فیصلہ ہوگیا) ‘ لاتخاطبنی ( مجھ سے بات نہ کر) ‘ مغرقون (غرق کئے جانے والے) ‘ استویت (توچین سے بیٹھ گیا) ‘ انزلنی (مجھے اتاردے) ‘ مبتلین (آزمائش کرنے والے) ‘ انشأ نا (ہم نے پیدا کیا۔ ہم نے اٹھا کھڑا کیا) ‘ قرن (گروہ۔ جماعت) ۔ تشریح : آیت نمبر 23 تا 32 : اللہ تعالیٰ نے بھٹکے ہوئے گمراہ لوگوں کی ہدایت کے لئے ہزاروں انبیاء کرام اور رسولوں کو بھیجا ہے۔ حضرت آدم ؐ کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) جن کو آدم ثانی بھی کہا جاتا ہے پہلے رسول ہیں۔ چناچہ صحیح مسلم کے باب شفاء میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے ایک طویل روایت نقل کی گئی ہے جس میں حضرت نوح (علیہ السلام) کو روئے زمین پر پہلا رسول بنا کر بھیجے جانے کو ارشاد فرمایا گیا ہے۔ قرآن کریم کی اٹھارہ سورتوں میں تینتالیس (43) مرتبہ حضرت نوح (علیہ السلام) کا مختصر اور تفصیل سے واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) جس قوم کی طرف بھیجے گئے تھے وہ اللہ کی ذات کے منکر نہیں تھے بلکہ توحید الہٰی اور دین کے سچے اصولوں کی روشنی سے ناواقف ونا آشنا تھے۔ انہوں نے اللہ کی عبادت و بندگی کے بجائے اپنے ہاتھوں سے بنائے ہوئے اور گھڑے ہوئے بتوں کو اپنا معبود اور مشکل کشا بنا رکھا تھا۔ جب حضرت نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سو سال تک مسلسل اپنی قوم کو راہ حق اور سچے دین کی طرف دعوت دی اور اس کے اصولوں کو اپنانے کی تبلیغ فرمائی تو انہوں نے نہ صرف ان کی تعلیمات کا مذاق اڑایا بلکہ حقارت اور نفرت سے انکار کردیا۔ اس قوم کے سرداروں ‘ عیش پرستوں اور پیٹ بھرے لوگوں نے ان کی توہین کرنے میں ذرا بھی لحاظ سے کام نہیں لیا۔ انہوں نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی مخالفت کرتے ہوئے لوگوں سے کہا کہ نوح کی بات نہ سنو کیونکہ اس میں اور تم میں کیا فرق ہے ؟ وہ تم جیسا ایک آدمی ہے انسانی تقاضوں اور ضروریات میں تمہاری طرح ہے چلتا ہے ‘ پھرتا ہے ‘ کھاتا اور پیتا ہے اس کی کوئی امتیازی حیثیت بھی نہیں ہے طاقت ‘ قوت ‘ مال و دولت ‘ اور خاندان اور اولاد کی کثرت ان میں سے ایک بات بھی ایسی نہیں ہے جو ان کے اندر پائی جاتی ہے۔ اگر اللہ کو ہماری ہدایت و رہنمائی کے لئے بھیجنا تھا تو کم ازکم کسی فرشتے کو پیغمبر بنا کر بھیجا جاتا۔ وہ کہتے تھے کہ لوگو ! نوح جس مذہب اور طریقے کو چھوڑنے کے لئے کہہ رہے ہیں یہ طریقے تمہارے باپ دادا سے چلے آرہے ہیں۔ ان میں سے ہم نے اپنے باپ دادا کو اس کی مخالفت کرتے نہیں دیکھا۔ وہ لوگوں سے کہتے کہ درحقیقت نوح اپنی بالادستی قائم کرنے اور تمہارے سروں پر مسلط ہونے کے لئے ایسی باتیں کررہے ہیں یا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ مجنوں اور دیوانے ہوگئے ہیں۔ وہ لوگوں کو سمجھاتے کہ کچھ دن انتظار کرو جب ان کے سر سے ہماری رسم و رواج کے خلاف جنون اور دیوانگی ختم ہوجائے گی تو پھر سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ ایک اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کی عبادت و بندگی نہ کریں کیونکہ اللہ ہی سب کا خالق ومالک ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اس بات کی وضاحت فرمادی تھی کہ نہ مجھے کسی حکومت و اقتدار کی ضرورت ہے نہ کسی رتبہ اور مقام کی۔ نہ میں تم سے کسی اجرت اور معاوضے کا خواہش مند ہوں نہ کسی بدلے کا کیونکہ میرا اجر ‘ معاوضہ اور بدلہ تو اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ میں تم سب لوگوں کو اسی ایک اللہ کی عبادت و بندگی کی طرف بلاتا ہوں جس نے ہم سب کو پیدا کیا ہے۔ شرک اور کفر سے بھرے ہوئے اس ماحول میں چند غریب و نادار مخلص و نادار مسلمانوں کے سوا کسی نے آپ کی بات پر دھیان نہیں دیا اور طرح طرح کے اعتراض کرنا ان کا محبوب مشغلہ بن چکا تھا۔ کبھی اعتراض کرتے ہوئے کہتے کہ اے نوح (علیہ السلام) ہم تمہاری بات کیسے سنیں ؟ تمہارے پاس کیسے بیٹھیں کیونکہ تمہارے پاس تو غریب ‘ مفلس ‘ نادارا اور بےشعور لوگ بیٹھے رہتے ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کا ایک ہی جواب ہوتا تھا کہ جو لوگ اللہ کے دین کو قبول کرلینے والے ہیں میں ان کو اپنے پاس سے کسی طرح ہٹانے کا سوچ بھی نہیں سکتا کیونکہ اللہ دلوں کو دیکھتا ہے۔ صورت شکل اور مال و دولت کو نہیں۔ جب قوم کی بد زبانی اور بدعقیدگی انتہا درجہ پر پہنچ گئی اور حضرت قوم سے مایوس ہوگئے تو انہوں نے بار گاہ الہٰی میں دعا کی۔ میرے پروردگار میں نے اپنی قوم کو ہر طرح سمجھایا۔ دن رات ان کو راہ حق دکھانے کی کوشش کی مگر یہ لوگ میری بات کو سننا ہی نہیں چاہتے۔ الہٰی اگر ان کو رہنے یدا گیا تو یہ آنے والی نسلوں تک کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیں گے۔ آپ اس امر حق کا فیصلہ فرما دیجئے اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعا کو قبول کرتے ہوئے فرمایا کہ اے نوح (علیہ السلام) ! اب اس قوم کا آخری وقت آگیا ہے۔ آپ ہماری نگرانی میں ایک کشتی بنائیے جس میں اپنے تمام ماننے والوں اور جانوروں کے نرو مادہ کے جوڑوں کو بھی رکھ لیجئے۔ حضرت نوح نے کشتی بنانا شروع کی تو کفار و مشرکین نے ان کا اور اہل حق کا مذاق اڑانا شروع کردیا۔ کہنے لگے کہ یہ بھی عجیب دیوانگی ہے کہ خشکی میں کشتی بنائی جارہی ہے۔ کیا اب کشتیاں بھی خشکی میں چلا کریں گے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) ان مذاق اڑانے والوں سے بےنیاز کشتی بنانے میں مصروف رہے لیکن جب اللہ کا فیصلہ آگیا اور زمین کی تہہ میں سے پانی کا چشمہ ابلنا شروع ہوا تو حضرت نوح (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم سے اپنے اہل خانہ اور اہل ایمان کو سوار ہونے اور تمام جانوروں کے نر و مادہ جوڑوں کو کشتی میں بٹھانے کا انتظام کیا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے بیٹے کے سوا تمام اہل خانہ اور اہل ایمان لوگوں کو اس کشتی میں سوار کیا گیا۔ پانی بڑھنا شروع ہوا اور آہستہ آہستہ کشتی نے بلندہونا شروع کردیا۔ لوگ پہاڑوں کی طرف دوڑنے لگے تاکہ وہ وہاں پناہ لے سکیں مگر طوفان اس قدر شدید اور بلند تھا کہ اس سے بچنا ممکن نہیں تھا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے دیکھا کہ اسی پانی کے طوفان میں ان کا نافرمان بیٹا پہاڑ پر چڑھ کر اپنی جان بچانے کی کوشش کررہا ہے تو انہوں نے آواز دے کر کہا بیٹا آج اللہ کی رحمت کے سوا کوئی چیز کسی کو نہ بچا سکے گی۔ اور کوئی چیز پناہ دینے والی نہ ہوگی۔ تم بھی میری کشتی میں سوار ہو جائو یعنی دین اسلام کو قبولکر لو لیکن حضرت نوح (علیہ السلام) کے بیٹے نے یہ کہہ کر صاف انکار کردیا کہ میں کسی اونچے پہاڑ پر چڑھ کر اپنی جان بچا لوں گا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) اپنے بیٹے کی نافرمانی اور بےوقوفی پر بےقرار ہوگئے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں عرض کیا الہی آپ نے میرے اہل و عیال کی حفاظت کا وعدہ کیا تھا یہ میرا بیٹا ہے اس کو بھی بچا لیجئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نوح یہ تمہارا بیٹا نافرمان ہے اس لئے اس کو آپ کے اہل و عیال میں شمار نہیں کیا جاسکتا۔ حضرت نوح کو اس بات کا اندازہ ہوگیا کہ انہیں یہ درخواست نہیں کرنی چاہیے تھی چناچہ انہوں نے اصل حقیقت سامنے آنے کے بعد اللہ سے معافی مانگی۔ جب سارے اہل ایمان کشتی میں سوار ہوگئے تو آسمان کو حکم دیا گیا کہ پانی برسنا شروع ہوجائے اور زمین کے چشمے پوری طرح اہل پڑں۔ طوفان اس قدر شدید تھا کہ پوری قوم اور ان کی تہذیب و تمدن اس پانی میں غرق ہوگئے۔ ایک عرصہ بعد اللہ کے حکم سے یہ سفینہ نوح جودی پہاڑی پر آکر ٹک گیا علماء نے لکھا ہے کہ جودی پہاڑی اراراط کے پہاڑی سلسلوں میں سے ایک پہاڑی ہے جو دجلہ اور فرات کے درمیان ا کی جگہ کا نام ہے۔ توریت میں بھی اسی قسم کی تفصیلات آئی ہیں۔ بہر حال اللہ کے حکم سے یہ کشتی جودی پہاڑی پر ٹہر گئی۔ اس طرح اہل ایمان کو اللہ نے نجات عطافرمائی اور کفار اور ان کے مال و دولت کو پانی کے طوفان میں غرق کردیا گیا۔ اس موقع پر حضرت نوح (علیہ السلام) اور اہل ایمان سے فرمایا گیا کہ جب وہ کشتی پر سوار ہونے لگیں تو اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا اور شکر ادا کریں اور کہیں کہ الہیٰ آپ نے اپنے فضل و کرم سے ہمیں ظالموں اور نا انصافوں سے بچا لیا۔ آپ نے ہمیں عذاب سے اور غرق ہونے سے محفوظ رکھا۔ الہی ! ہمیں اس کشتی سے خیریت و عافیت سے اتار دیئے گا آپ سے بہتر ہمارا بھلا چاہنے والا اور کون ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان اہل ایمان کی دعاؤں کو قبول کیا اور ان کو پوری طرح اپنیرحمتوں سے نواز دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس نافرمان قوم کو ختم کرنے کے بعد پھر قوم عاد کو عروج عطا کیا جس نے دنیا پر ایک ہزار سال تک بڑی شان سے حکومت کی۔ اللہ نے ان لوگوں میں بھی اپنے نبی اور رسول بھیجے جنہوں نے اسی پیغام حق کو دنیا تک پہنچا یا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ صرف اسی کی عبادت اور بندگی کی جائے کیونکہ صرف اللہ ہی تمام عبادات و بندگی کا مستحق ہے اس کے سوا کسی دوسرے کی بندگی کرنے سے ڈرنا چاہیے۔