Ayah 23:11 ایمان سعادت دارین سے سرفرازی کے لیے اولین شرط ایمان : سو اس سے واضح فرمادیا گیا کہ سعادت دارین اور حقیقی فوزوفلاح سے سرفرازی کے لئے اولین شرط ایمان ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک فلاح پائی ایمان والوں نے "۔ یعنی وہ اس حقیقی کامیابی سے ہمکنار ہوگئے جو کہ کامل بھی ہے اور دائمی بھی۔ اور جس سے انسان کو اس دنیا میں حیات طیبہ یعنی پاکیزہ زندگی کی سعادت نصیب ہوتی ہے اور آخرت میں جنت کی سدا بہار نعمتوں سے سرفرازی۔ اور یہی ہے اصل اور حقیقی کامیابی ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔ سو " قد " کے حرف تاکید اور { اَفْلَحَ } کے صیغہ ماضی سے واضح فرما دیا گیا کہ جن باتوفیق لوگوں کی صفات یہ اور یہ ہوں گی وہ اس حقیقی فوز و فلاح سے یقینا سرفراز ہوگئے ۔ وباللہ التوفیق ۔ اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل وکرم سے ان تمام صفات سے بہرہ ور فرمائے ۔ آمین۔
Ayah 23:22 مومنوں کی پہلی خاص صفت نماز میں خشوع و خضوع : سو ایمان والوں کی صفات کے بیان کے سلسلے میں پہلی خاص صفت کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " جو خشوع و خضوع سے کام لیتے ہیں اپنی نمازوں میں "۔ ایمان کے بعد اہل ایمان کی اہم صفت خشوع و خضوع ہے۔ سو وہ اپنے رب کی عظمت اور اس کے جلال کے احساس سے اس طرح خاموش اور پرسکون کھڑے رہتے ہیں کہ نہ دائیں بائیں کہیں دیکھتے ہیں اور نہ کسی اور عمل اور کام میں مشغول ہوتے ہیں۔ اور اس طرح ظاہری اور باطنی دونوں اعتبار سے وہ اپنے رب کے حضور جھکے رہتے ہیں۔ سو خشوع و خضوع کا اصل تعلق انسان کے دل اور اس کے باطن سے ہے۔ جس کا اثر اس کے ظاہر پر بھی عیاں ہوتا ہے۔ سو خشوع و خضوع نماز کی اصل روح ہے۔ سو وہ اپنے ظاہر اور باطن کے اعتبار سے اپنے رب کے حضور جھکے رہتے ہیں۔ اور یہی تقاضا ہے بندے کی عبدیت و بندگی کا۔
Ayahs 23:3–53 ایمان ایمان کی دوسری خاص صفت : ۔ لغو باتوں سے احتراز و اجتناب : سو ان کی دوسری خاص صفت کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ وہ دور رہتے ہیں لغو باتوں سے : سو لغو باتوں سے احتراز ان لوگوں کی ایک اور خاص صفت ہے۔ یعنی یہ بچتے ہیں ہر اس قول و فعل سے جو کہ بےمقصد ہو۔ جس میں نہ دین کا کوئی فائدہ ہو نہ دنیا کا۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل، جامع البیان وغیرہ) ۔ نیز لغو سے مراد ہر وہ قول و فعل ہے جو انسانی زندگی کے اصل مقصد یعنی رضائے الہی کے حصول سے غافل کرنے والا ہو۔ قطع نظر اس سے کہ وہ مباح ہے یا غیر مباح۔ سو جس نماز کے اندر خشوع و خضوع پایا جائے گا اس کا انسانی زندگی پر یہ اثر پڑتا ہے کہ انسان فضول، لایعنی، بےمقصد چیزوں سے احتراز کرنے لگتا ہے۔ کیونکہ ایسا انسان ایک بامقصد اور ذمہ دار انسان بن جاتا ہے اور وہ لغو اور بےکار و بےمقصد باتوں سے دور اور نفور رہتا ہے۔
Ayahs 23:6–75 ملک یمین کی بناء پر تمتع کی اجازت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یا ان سے جن کے مالک ہوں ان کے داہنے ہاتھ " یعنی باندیاں۔ جو کہ شرعی طریقے سے ان کے قبضے میں آئی ہوں کہ بیویوں کے علاوہ ان سے بھی تمتع جائز ہے۔ یعنی وہ لوگ اپنی خواہشات پر کنٹرول رکھتے ہیں اور ان کو صرف وہیں پورا کرتے ہیں جہاں اس کی اجازت ان کے دین نے دی ہو۔ یعنی صرف اپنی بیویوں اور باندیوں پر اور بس۔ کہ دین فطرت نے اس جائز تمتع کی اجازت دی ہے کہ یہ فطرت کے تقاضوں میں سے ہے کہ انسان کو اپنی بیویوں اور باندیوں سے تمتع کی اجازت دی جائے۔
Ayah 23:87 اہل ایمان کی چوتھی خاص صفت : امانتوں کی پاسداری : سو ارشاد فرمایا گیا " اور جو پاسداری کرتے ہیں اپنی امانتوں کی "۔ خواہ وہ اللہ تعالیٰ کی عطا فرمودہ امانتیں ہوں یا اس کے بندوں کی۔ پھر اللہ تعالیٰ کی امانتوں میں ایک تو وہ فرائض اور ذمہ داریاں ہیں جو اس نے اپنے بندوں پر عائد فرمائی ہیں اور دوسری وہ صلاحیتیں اور قوتیں یا افضال و انعامات اور اموال و اولاد وغیرہ کی نعمتیں ہیں جن سے اس نے اپنے بندوں کو نوازا ہوا ہے وغیرہ وغیرہ۔ وہ سب ہی امانات کے اس کلمہ کے عموم میں داخل ہیں۔ سو اللہ پاک کے مومن بندے ان سب ہی امانات کی پاسداری کرتے ہیں۔ سو اپنی امانتوں کی حفاظت و پاسداری اور وہ بھی اپنے اس عام مفہوم کے اعتبار سے جس کا ذکر ابھی اوپر ہوا ہے وارثان جنت کی ایک اہم صفت ہے ۔ وباللہ التوفیق -
8 اہل ایمان کی پانچویں خاص صفت : عہد و پیمان کی حفاظت و پاسداری : سو ارشاد فرمایا گیا " اور جو پاسداری کرتے ہیں اپنے عہد و پیمان کی "۔ سو اس سے عہد و پیمان کی حفاظت و پاسداری کی اہمیت اور اس کی عظمت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ پس وارثان جنت اپنے اس عہد کو توڑتے نہیں بلکہ اس پر قائم رہتے ہیں اور اسے نبھاتے ہیں۔ خواہ وہ عہد و پیماں انہوں نے اپنے خالق ومالک سے کیے ہوں یا اس کے بندوں سے۔ یا وہ عرف و رواج کی بناء پر ان پر عائد ہوتے ہوں۔ وہ سب ہی اس میں داخل اور شامل ہیں کہ { عَہْْدَہُمْ } کا عموم ان تمام عہود و مواثیق کو شامل ہے۔ سو ان دو لفظوں کے اندر ان تمام شرعی اخلاقی اور قانونی و عرفی ذمہ داریوں کا ذکر آگیا جن کا احترام ہر دین و شریعت میں مطلوب و ملحوظ رہا ۔ وباللہ التوفیق -
Ayah 23:99 فریضہ نماز کی اساسی اور کلیدی حیثیت کا ذکر وبیان : سو اس سے فریضہ نماز کی اصولی اور کلیدی حیثیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ سو اس بارے ارشاد فرمایا گیا " جو حفاظت کرتے ہیں اپنی نمازوں کی "۔ سو وہ ان سے غفلت نہیں برتتے اور ان نمازوں کو وہ ان کے آداب و ارکان کی رعایت کے ساتھ اپنے اپنے وقت پر پابندی سے ادا کرتے ہیں۔ سو اس سے نماز کی اہمیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ یہاں پر ان صفات فلاح و نجاح کے بیان کا آغاز بھی نماز ہی کے ذکر سے ہوا اور ان کا خاتمہ اور تکمیل بھی نماز ہی کے ذکر اور بیان سے فرمائی گئی۔ شروع میں تو نماز کا ذکر اس کی اصل اور حقیقی روح کے اعتبار سے ہوا۔ یعنی خشوع و خضوع کے اعتبار سے۔ اور آخر میں ان کا ذکر ان کی محافظت اور رکھوالی کے اعتبار سے۔ کیونکہ نماز کی ان برکات کا حصول جن کا یہاں ذکر فرمایا گیا ہے اسی صورت میں ہوسکتا ہے جبکہ ان کے اندر خشوع وخضوع بھی پایا جائے اور ان کی محافظت و رکھوالی بھی کی جائے۔ بہرکیف اس سے حکمت دین کا یہ نکتہ واضح ہوجاتا ہے کہ نماز ہی تمام امانات و عہود کی اصل محافظ ہے۔ اسی کے ذریعے بندہ اپنے رب کے عہد و پیمان کی روزانہ کم از کم پانچ مرتبہ تجدید کرتا ہے۔ اور اسی سے دوسرے عہود و مواثیق اور امانات و فرائض کی تذکیر و یاددہانی بھی ہوتی ہے جو اس پر خدا کا بندہ اور ایک ذمہ دار انسان ہونے کی حیثیت سے عائد ہوتے ہیں۔
Ayah 23:1010 جنت کے اصل حقداروں کا ذکر وبیان : یعنی ان اور ان صفات کے مالک ہی جنت کے اصل حقدار ہیں۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر کے ساتھ فرمایا گیا کہ " یہی لوگ ہیں وراثت پانے والے جو وارث ہوں گے جنت فردوس کے "۔ اور وراثت ملکیت پانے کا سب سے اعلیٰ ، عمدہ اور پکار ذریعہ ہوتا ہے۔ سو یہ اپنے باپ کی کھوئی ہوئی وراثت یعنی جنت سے سرفراز ہوں گے اور پھر اس کو اس سے نکالے جانے کا کوئی اندیشہ نہیں ہوگا۔ سو جنت کی میراث حسب و نسب وغیرہ کے مصنوعی امتیازات سے نہیں اپنے عمل و کردار کی بنا پر ملے گی ۔ وباللہ التوفیق -
Ayah 23:1111 فردوس بریں کے وارثوں کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا " جو وارث ہوں گے فردوسِ (بریں) کے "۔ جو کہ جنت کا سب سے اعلیٰ مقام ہے اور جس کے لئے صحیح حدیث میں دعا کی تلقین فرمائی گئی ہے۔ سو یہی ہے سب سے بڑی اور اصل اور حقیقی کامیابی۔ حضرت عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھ پر دس ایسی آیتیں نازل ہوئیں کہ جس نے ان پر پوری طرح عمل کیا وہ جنت میں داخل ہوگیا۔ پھر آپ ﷺ نے یہی آیات کریمہ تلاوت فرمائیں۔ (المراغی وغیرہ) ۔ سو جنت جو انکے باپ کی میراث نہیں تھی وہ ان کو واپس مل جائے گی۔
12 جنت میں ہمیشہ رہنے کی خوشخبری : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے خوش نصیب اس بہشت بریں کے وارث ہوں گے جہاں ان ۔ خوش نصیبوں ۔ کو ہمیشہ رہنا نصیب ہوگا۔ نہ ان کو وہاں سے نکالا جائے گا اور نہ ہی ان کو وہاں موت آئے گی کہ انہوں نے دنیا میں ایمان و یقین کی دولت سے سرفرازی کے بعد اپنے آپ کو ان اخلاق عالیہ اور آداب فاضلہ سے مزین و آراستہ کیا ہوگا۔ سو ان خوش نصیبوں کو جنت کی وہ میراث واپس مل جائے گی جس سے ان کے باپ آدم کو نکالا گیا تھا۔ لیکن ان کو اپنی یہ میراث اس شان سے واپس ملے گی کہ ان کو اس سے نکالے جانے کا کوئی اندیشہ نہیں ہوگا بلکہ یہ اس میں اپنے باپ کے ساتھ ہمیشہ ہمیش کے لیے رہیں گے۔ اس لیے کہ یہ اپنی دنیاوی زندگی کے دوران معرکہ حق و باطل اور مقابلہ خیر وشر میں اپنے ازلی دشمن شیطان کو شکست دے کر اس میں داخل ہوں گے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayah 23:1213 انسان کے لیے اپنے وجود میں غور و فکر کی دعوت : کہ خود اس کے اپنے جسم و جان میں بڑے درسہائے عبرت و بصیرت ہیں۔ سو ارشاد فرمایا گیا " اور بلاشبہ ہم ہی نے انسان کو پیدا کیا مٹی کے ست سے "۔ پھر ذرا غور کرو کہ کس پر حکمت طریقے سے مٹی کا یہ ست اور خلاصہ تیار کیا گیا جس سے انسان جیسی اشرف المخلوقات ہستی کو پیدا کیا گیا اور اس کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا گیا۔ اور کیا سے کیا بنادیا گیا۔ اور پھر تم لوگ خود سوچو کہ کیا حق بنتا ہے ہمارے اس خالق ومالک کا ہم پر جس نے اس طرح ہمیں وجود بخشا ؟۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 23:1314 انسان کے مادئہ تخلیق کی حفاظت قرار مکین میں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " انسان کی تخلیق مٹی کے ست سے نہایت پر حکمت طریقے سے کی گئی۔ پھر ہم نے اس کو ایک بوند کی شکل میں ایک محفوظ قرارگاہ میں رکھا "۔ یعنی رحم مادر میں۔ جو کہ ایسی محفوظ قرارگاہ ہے کہ اس کی حفاظت سے متعلق انتظام پر غور کرنے سے انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ اور حضرت خالق ۔ جل مجدہ ۔ کی قدرت و عنایت کے عظیم الشان مظاہرے سامنے آتے ہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور اس کو ان مختلف مراحل سے تدریج کے ساتھ گزار کر پیدا کیا تاکہ یہ خود اپنے بارے میں غور کرکے اپنے خالق ومالک کی معرفت حاصل کرسکے۔ سو اس کو ایسا بنایا کہ اس کو اپنے وجود سے باہر کسی خارجی دلیل کی ضرورت ہی نہ رہے۔ سو تم لوگ سوچو اور ذرا غور و فکر سے کام لو کہ کہاں مردہ پڑی ہوئی یہ مٹی اور کہاں اس سے نکالا جانے والا وہ ست اور خلاصہ ؟ اور کہاں مٹی کے اس جوہر سے وجود میں آنے والی وہ بوند اور کہاں وہ قرار مکیں۔ یعنی ایک محفوظ جائے قرار جس میں یہ بوند نہایت پر حکمت طریقے سے بڑھتی اور پروان چڑھتی ہے۔ اور اس طور پر کہ بالآخر وہ سقراط و بقراط اور ارسطو و جالینوس کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ آخر یہ کس قادر مطلق اور حکیم مطلق کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کی کارستانی کا نتیجہ ہے ؟ سو وہی ہے اللہ وحدہ لا شریک خالق کل اور مالک مطلق اور اسی کا حق ہے ہر قسم کی عبادت و بندگی ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 23:1415 ہڈیوں پر گوشت چڑھانے کا کرشمہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان مختلف مراحل سے گزارنے کے بعد " اس کے کچھ حصوں کی ہم نے ہڈیاں بنادیں اور پھر ہم ہی نے اس کی ہڈیوں پر گوشت چڑھایا "۔ جو کہ ان خالی ہڈیوں کے لئے بمنزلہ لباس کے ہے۔ اور یہ قدرت و حکمت خداوندی کا ایک عظیم الشان مظہر ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو تم لوگ اے بنی نوع انسان ذرا سوچو تو سہی اور خود اپنے وجود ہی کے بارے میں غور کرلو کہ کہاں تمہارے پاؤں تلے روندی جانے والی یہ بےحس اور بیجان مٹی اور کہاں اس سے وجود میں آنے والا یہ انسان جو اپنی عقل و فکر اور اپنے دوسرے طرح طرح کے خصائص و امتیازات کی بناء پر اس ساری کائنات کا مخدوم ومطاع بنا ہوا ہے۔ سو سوچو تو سہی کہ کس قادر مطلق نے اس پر حکمت تدریج کے ساتھ اور ان مختلف مراحل سے گزار کر اسکو یہاں تک پہنچایا ؟ اور کیا حق ہے اس کا اس انسان پر ؟ سو سب کا خالق ومالک اور معبود و مسجود وہی ہے وحدہ لاشریک۔ اور اس کی ان بےپایاں عنایتوں کا تقاضا یہ ہے کہ انسان سراپا شکر وسپاس بن کر دل و جان سے اس کے حضور جھک جائے۔ اور زندگی بھر صدق دل سے اس کے حضور جھکا رہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
16 پھر اس کو ہم نے ایک اور ہی مخلوق بنا کر اٹھایا : جو کہ پہلے کے سب ادوار و مراحل سے یکسر مختلف ہے کہ اس مرحلے میں یہ جماد لایعقل کی حدود سے نکل کر سمع و بصر اور عقل و بصیرت جیسی خوبیوں کا مالک انسان بن گیا۔ اور یہ سب کچھ اندھیر در اندھیر کے ایسے ماحول میں ہوتا ہے اور اس پر حکمت اور حیرت انگیز طریقے سے کہ جس ماں کے پیٹ کے اندر یہ سب کچھ ہو رہا ہوتا ہے خود اس کو بھی اس کی خبر تک نہیں ہوتی ۔ فَسُبْحَانَہ مِنْ اِلٰہٍ قَادِرٍ قَیُّوْمٍ جَلَّ وَعَلا ۔ تو پھر اس خدائے مہربان کی یاد دلشاد اور اس کی عبادت و بندگی سے غفلت و لاپرواہی برتنا اور اعراض و روگردانی کتنی بڑی بےانصافی ہے اور اس سے بڑھ کر اس کے حق عبادت و بندگی میں دوسروں کو شریک وسہیم ماننا کس قدر ظلم ہے۔ نیز یہ بھی سوچو کہ جس خداوند قدوس نے تم لوگوں کو اس قدر پر حکمت طریقے سے وجود بخشا ہے کس طرح ہوسکتا ہے کہ وہ تم کو اسی طرح عبث اور بیکار چھوڑ دے ؟ اور آخرکار تم سے تمہارے کیے کرائے کا کوئی حساب نہ لے ؟ نیز جس کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کے یہ مظاہر تم لوگ خود اپنے وجود کے اندر دیکھتے ہو اس کے بارے میں یہ کہنا اور سوچنا کس قدر ظلم اور بےانصافی کی بات ہے کہ وہ تم کو مر مٹ جانے کے بعد دوبارہ نہیں پیدا کرسکتا۔ سو اس طرح انسانی وجود کے اندر سوچنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی توحید و وحدانیت، اس کی قدرت و حکمت، بعث بعد الموت اور قیام قیامت وغیرہ جیسے تمام بنیادی عقائد کے لیے دلائل موجود ہیں مگر ان ہی لوگوں کے لیے جو صحیح طور پر غور و فکر سے کام لیتے ہیں ۔ وباللہ التوفیق -
Ayah 23:1517 زندگی کے بعد موت کا آنا ایک طبعی تقاضا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر اس کے بعد تم سب نے بہرحال موت کے گھاٹ اترنا ہے "۔ سو زندگی کے بعد موت ایک طبعی تقاضا ہے جس نے بہرحال اس پر مرتب ہونا ہے اور ہر کسی نے مرنا ہے۔ اور جس طرح تمہاری پیدائش تمہاری چاہت اور مرضی کے بغیر ہوئی اسی طرح تمہاری موت بھی تمہاری خواہش اور مرضی کے بغیر ہوگی۔ کوئی چاہے یا نہ چاہے اس نے موت کا مزہ بہرحال چکھنا ہے ۔ { کَلُّ نَفْسٍ ذَائِقَۃُ الْمُوْتِ } ۔ (آل عمران : 185) ۔ سو یہ زندگی عارضی وفانی ہے جو دراصل ابتلاء و آزمائش اور آخرت کی حقیقی اور ابدی زندگی کیلئے کمائی اور تیاری کیلئے بخشی گئی ہے۔ اور زندگی کی اس عارضی فرصت میں انسان کے کیے کرائے کی بنیاد پر ہی آخرت کی اس ابدی زندگی کا فیصلہ ہونا ہے۔ جن لوگوں نے ایمان و یقین کی دولت سے سرفراز ہو کر عمل صالح کی پونجی جمع کی ہوگی وہ وہاں پر جنت کی نعیم مقم سے سرفراز ہوں گے اور ابدی آرام و راحت میں رہیں گے۔ اور جو اس کے برعکس باغیانہ اور سرکشانہ راہ پر چلے ہوں گے اور انہوں نے آخرت کی اس زندگی کیلئے تیاری نہیں کی ہوگی وہ دوزخ کے عذاب الیم میں مبتلا ہوں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف زندگی کے مذکورہ بالا مراحل کو ذکر کرنے کے بعد موت کے اس آخری مرحلے کو بطور نتیجہ ذکر فرمایا گیا ہے کہ ان مراحل کے بعد بالآخر تم سب نے بہرحال مرنا ہے جس سے کسی کے لیے کوئی مفر نہیں۔
Ayahs 23:16–1718 بعث بعد الموت کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا " پھر تم سب کو قیامت کے روز یقینا اٹھایا جائے گا "۔ تاکہ تم اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کا بھرپور صلہ و بدلہ پا سکو۔ اور اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے اپنی آخری اور کامل شکل میں پورے ہوسکیں۔ سو جو قادر مطلق تمہیں عدم محض سے اس طرح وجود میں لے آیا اس کے لئے تمہارا دوبارہ پیدا کردینا آخر کیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟ ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو جو لوگ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے کو مستعد سمجھتے ہیں وہ بڑے ہی دھوکے اور خسارے میں ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ حالانکہ قدرت کی کارستانی کے یہ مختلف مراحل اس کے سامنے ہیں اور خود ان کی اپنی زندگیوں کے اندر موجود ہیں۔ مگر غفلت کے مارے اس طرف توجہ ہی نہیں کرتے۔
Ayah 23:1821 نعمت تخلیق کے بعد نعمت تربیت کا ذکر وبیان : سو اوپر کی آیات کریمات میں انسان کی تخلیق کے مختلف مراحل کے بیان کے بعد اب اس کے سامان معیشت و تربیت کا ذکر فرمایا جا رہا ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا " اور ہم ہی نے آسمان سے پانی اتارا ایک خاص اندازے کے ساتھ "۔ تاکہ اس سے مخلوق کی طرح طرح کی ضرورتوں کی تکمیل ہو سکے۔ اور اس اندازے اور مقدار سے کہ نہ تو پانی کا یہ جوہر حیات اتنا کم ہو کہ ان کی ضرورتوں کی تکمیل نہ ہو سکے اور نہ اتنا زیادہ کہ طوفان نوح بن کر ان کو غرق کر دے ۔ والعیاذ باللہ ۔ (صفوۃ البیان وغیرہ) ۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ہم اپنی مخلوق کی ضرورتوں کی تکمیل کا کس کس طرح انتظام کرتے ہیں۔ پھر بھی غفلت و لاپرواہی ؟ ۔ والعیاذ باللہ -
22 پانی کے سٹوریج کی نعمت کا ذکر وبیان : یعنی اس پانی کو نہایت پر حکمت طریقے سے اتارنے کے بعد اس کو نہایت پر حکمت طریقے سے محفوظ کرنے کا بھی انتظام کیا۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا " اور ہم نے ٹھہرا دیا اس پانی کو زمین میں "۔ ندیوں، نالوں، چشموں اور سوتوں، برفانی ذخیروں وغیرہ کی صورت میں۔ تاکہ تم لوگ اس سے طرح طرح کے فائدے اٹھا سکو۔ ورنہ تمہارے بس میں نہیں تھا کہ تم اس کو اس طرح محفوظ کرسکو۔ پس سوچو کہ کس قدر مہربان اور کیسا قادر مطلق ہے تمہارا رب جس نے تمہارے لیے پانی کے اس مابہ الحیاۃ کا اس قدر پر حکمت اور حیرت انگیز طریقے سے انتظام کیا۔ اور کس قدر ظالم اور بےانصاف ہیں وہ لوگ جو اس سے منہ موڑتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
23 پانی کی حفاظت وبقاء قدرت کا ایک اور عظیم الشان احسان : سو پانی کے محفوظ ذخیرے کی صورت میں حفاظت وبقاء قدرت کا ایک عظیم الشان انعام و احسان ہے۔ ورنہ اللہ تعالیٰ اگر چاہتا تو پانی کو اس طرح غائب کردیتا کہ اس کی ایک بوند بھی زمین پر باقی نہ رہتی۔ سو ارشاد فرمایا گیا " اور یقینا ہم اس کے لے جانے پر بھی قادر ہیں "۔ اور اگر ہم پانی کے اس مابہ الحیاۃ عنصر کو لے جائیں تو خود تمہاری اور تمہارے جانوروں کی اور دوسرے تمام جانداروں کی زندگیاں گل ہوجائیں کہ ان سب کی زندگی کا مدارو انحصار پانی ہی پر ہے۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا ۔ { وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَائِ کُلَّ شَیْئٍ حَیٍّ } ۔ (الانبیائ : 30) ۔ مگر ہم محض اپنی رحمت بےپایاں اور عنایت بیکراں کی بناء پر ایسا نہیں کرتے۔ تاکہ تم لوگ زندگی کی نعمت اور اس کی لذتوں سے محروم نہ ہوجاؤ۔ سو کتنا مہربان اور کس قدر ستار و کریم، رحمن و رحیم اور منعم و وہاب ہے وہ رب جلیل ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور کتنا ناشکرا اور ظالم و بےانصاف ہے یہ انسان جو کہ اس وحدہ لاشریک سے منہ موڑ کر اوروں کے آگے جھکتا اور اپنی تذلیل و رسوائی کا سامان کرتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس کے کرم بےپایاں، رحمت بےنہایت اور عنایت بےغایت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان سراپا شکر وسپاس بن کر دل و جان سے اس مالک مطلق کے حضور جھک جائے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
24 انسان کے لیے اسباب معیشت کے انتظام کا ذکر وبیان : سو اس سے پانی کے ذریعے طرح طرح کے باغات اور قسما قسم کی پیداواریں اگانے کے قدرت کے ایک اور عظیم الشان کرم و احسان کا ذکر فرمایا گیا۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر ہم ہی نے اس کے ذریعے تمہارے لیے طرح طرح کے عظیم الشان باغات اگائے "۔ پس پانی کے اس حیات بخش عنصر سے یہ نعمتیں از خود پیدا نہیں ہوجاتیں۔ بلکہ اس کے باوجود یہ تمام چیزیں اپنے وجود و ظہور میں اسی قادر مطلق رحمن و رحیم کی توجہ و عنایت کی محتاج ہوتی ہیں۔ اور وہی ان کو اپنی قدرت کاملہ، حکمت بالغہ اور رحمت شاملہ سے پیدا فرماتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس قادر مطلق ربِّ رحمن نے تمہارے لیے صرف رہنے کے سامان ہی پر اکتفا نہیں کیا کہ اس کیلئے تو صرف روٹی ہی کافی تھی، بلکہ اس نے تمہارے لیے لذت کام و دہن کے لیے طرح طرح کے فوائد و منافع اور قسما قسم کی لذتوں والے بیشمار پھلوں، پھولوں وغیرہ کا بھی انتظام فرمایا۔ سو اس نے اپنے بندوں کے لیے بےحد و حساب باغات بھی پیدا فرمائے جن میں کرم بالائے کرم کی نت نئی اور طرح طرح کی صورتیں پائی جاتی ہیں۔ سو اس رب رحمن ورحیم اور وہاب و کریم سے منہ موڑنا اور اس کے حق شکر سے غفلت و لاپرواہی برتنا کس قدر ظلم اور کتنی بڑی بےانصافی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہم فہذہ نواصینا بین یدیک فخذنا بہا الی ما فیہ حبک والرضا بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ یا ذا الجلال والاکرام ۔ یا من بیدہ ملکوت کل شیء وہو یجیر و لا یجار علیہ -
Ayah 23:1925 انسان کی خوراک کے انتظام کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور انہی سے تم لوگ کھاتے بھی ہو۔ اپنی ضرورت اور طبیعت کے مطابق۔ نیز انہی کو بیچ کر اور ان کی تجارت کے ذریعے تم لوگ اپنی روزی کا سامان بھی کرتے ہو۔ سو ان چیزوں میں تمہارے لئے فائدے ہی فائدے اور منافع ہی منافع ہیں۔ پھر بھی اس واہب مطلق اور منعم حقیقی سے اعراض و روگردانی ؟ کس قدر ناشکری اور کتنی احسان فراموشی ہے یہ ؟ جس کا ارتکاب منکر اور باغی انسان کرتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ پھر بھی اس کی طرف سے چھوٹ ملنا اور مہلت پر مہلت اور ڈھیل پر ڈھیل دیئے جانا کس قدر کرم و احسان ہے اس رب ذوالجلال کا۔ اور یہ صرف اسی وحدہ لاشریک کی شان ہوسکتی ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف اس نے تمہارے لیے طرح طرح کے سامانہائے زیست اور اسباب معیشت پیدا فرمائے اور صرف زندہ رہنے ہی کا سامان نہیں کیا بلکہ تمہارے کام و دہن کی لذت و ضیافت کا اہتمام و انتظام بھی فرمایا۔ تمہارے جینے کے لیے صرف روٹی ہی کا انتظام نہیں فرمایا بلکہ سفرئہ ارضی کے اس عظیم الشان دستر خوان پر قسما قسم کے میوے اور پھل بھی چن دیے اور بےحد و حساب تعداد و مقدار میں چن دیے اور نہایت پر حکمت طریقے سے چن دیے ۔ فالحمد للہ جل وعلا -
Ayah 23:2026 ایک عظیم الشان سالن کی نعمت و عنایت کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ قدرت نے اپنے بندوں کے لیے ایک عظیم الشان سالن کا بھی انتظام فرمایا ہے۔ یعنی { صبغ } سے یہاں پر مراد سالن ہے۔ کیونکہ اس میں لقمہ ڈبونے سے رنگ دار ہوجاتا ہے۔ (روح، ابن کثیر، معالم، خازن، صفوۃ وغیرہ) ۔ اور حدیث شریف میں فرمایا گیا کہ زیتون کا تیل کھایا بھی کرو اور لگایا بھی کرو کہ یہ ایک بابرکت درخت سے حاصل ہوتا ہے۔ (مسند احمد (رح) وغیرہ ) ۔ سو زیتون کے شجرئہ مبارکہ سے حاصل ہونے والا روغن ایک عظیم الشان سالن تھا اور ہے۔ جو قدرت نے اپنی فیاضیوں سے اپنے بندوں کے طرح طرح کے فوائد اور منافع کیلئے پیدا فرمایا۔ جو مکھن کی طرح لذیذ اور مقوی ہونے کے ساتھ ساتھ طرح طرح کے دوسرے عظیم الشان فوائد و منافع بھی اپنے اندر رکھتا ہے۔ جو عربوں کے یہاں ایک بڑی مقبول اور مرغوب غذا تھی اور آج تک ہے۔ اور جسکو اہل کتاب کے یہاں تو ایک خالص مذہبی تقدس بھی حاصل تھا۔ سو ذرا سوچو کہ وہ کون ہے جس نے روغن زیتون کے اس عظیم الشان سالن کو پیدا فرما کر تمہاری دسترس میں کردیا۔ اور اس کا تم پر کیا حق واجب ہوتا ہے ؟ اور کیا حق بنتا ہے اس واہب مطلق کا تم پر ؟ ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور یہ کہ اس سے اعراض و روگردانی کتنا بڑا اور کس قدر سنگیں جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 23:2127 مویشیوں کے اندر موجود سامان عبرت میں دعوت غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور تمہارے لیے ۔ اے لوگو !۔ تمہارے ان مویشیوں میں بھی بڑا سامان عبرت و بصیرت ہے "۔ جو تمہارے سامنے رہتے، تمہیں طرح طرح سے کام آتے اور تم ان سے قسما قسم کے فائدے اٹھاتے ہو۔ مگر تم لوگ اس بارے میں غور و فکر سے کام نہیں لیتے تاکہ اس سے تمہیں حق اور حقیقت کی ہدایت و راہنمائی بھی نصیب ہو سکے جو کہ ان تمام مادی فوائد سے کہیں بڑھ کر عظیم دولت ہے۔ " عبرۃٌ " کی تنوین و تنکیر تعظیم و تفخیم کے لیے ہے۔ مطلب یہ کہ اوپر آسمان و زمین کی جو چیزیں ذکر کی گئی ہیں ان کے اندر جو درسہائے عبرت و بصیرت پائے جاتے ہیں وہ تو ہیں ہی۔ لیکن تمہارے لیے تمہارے ان چوپایوں کے اندر بھی عظیم الشان درسہائے عبرت ہیں جو تمہارے گھروں میں بندھے اور تمہارے سامنے چلتے پھرتے ہیں۔ اگر تم ان کے اندر غور و فکر سے کام لو۔ لیکن مشکلوں کی مشکل یہ ہے کہ تم لوگ صحیح طریقے سے غور و فکر سے کام لیتے ہی نہیں ہو۔ اور اس بنا پر تم ان درسہائے عبرت و بصیرت سے محروم رہتے ہو سو غفلت و لاپرواہی محرومیوں کی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
28 دودھ جیسے عظیم الشان مشروب میں دعوت غور وفکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم تم لوگوں کو اس میں سے جو کہ ان کے پیٹوں میں ہے ۔ دودھ جیسا عظیم الشان مشروب۔ پلاتے ہیں "۔ یعنی وہی غذا جو ان کے پیٹوں کے اندر جاتی ہے۔ اس سے خون بھی بنتا ہے اور فضلہ بھی۔ جو کہ دونوں ناپاک ہیں۔ مگر اسی غذا کے کچھ اجزاء سے تمہارے لئے دودھ جیسی ایسی لذیذ، مفید اور عمدہ غذا کا حصول بھی ہوتا ہے جس میں ان دونوں ناپاکیوں میں سے کسی کا کوئی شائبہ تک نہیں ہوتا۔ آخر یہ کس کی قدرت و صنعت کا ثمرہ اور کس کی بےپایاں رحمت و عنایت کا پھل اور نتیجہ ہے ؟ سو وہی ہے اللہ وحدہ لاشریک جو کہ تمہارا خالق ومالک حقیقی اور ہر طرح کی عبادت کا مستحق ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور جب اس کی ان عنایات میں کوئی اس کا شریک وسہیم نہیں تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں آخر کوئی اس کا شریک وسہیم کس طرح ہوسکتا ہے ؟ پس عبادت و بندگی کی ہر قسم اور اس کی شکل و صورت اسی وحدہ لا شریک کا حق اور اسی کا اختصاص ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ -
29 چوپایوں کے اندر انسان کے لیے عظیم الشان فوائد و منافع کا ذکر : سو اس ارشاد سے چوپایوں میں پائے جانے والے عظیم الشان منافع و فوائد میں دعوت غور و فکر دی گئی ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا " اور تمہارے لیے ان کے اندر اور بھی طرح طرح کے بکثرت فوائد و منافع ہیں "۔ کہ تم ان کے دودھ سے قسما قسم کی چیزیں بناتے، ان کی اونوں اور بالوں سے طرح طرح کے منافع حاصل کرتے اور ان پر انواع و اَقسام کے سامان لاتے، لے جاتے ہو، ان کے گوشتوں اور ان کے چمڑوں اور کھالوں سے تم لوگ طرح طرح کے کاروبار کرتے اور منافع کماتے ہو۔ اور یہ بولتے تک نہیں۔ تو کبھی تم نے سوچا بھی کہ وہ کون ہے جس نے ایسے عظیم البحثہ اور طاقتور جانوروں کو تمہارے لئے اس طرح مسخر کردیا ؟ سو وہی ہے اللہ جل جلالہ و عم نوالہ۔ سو اس کے ان طرح طرح کے انعامات اور احسانات کا تقاضا یہ ہے کہ تم لوگ صدق دل سے اس کے حضور جھک جاؤ اور ہمیشہ جھکے ہی رہو ۔ وباللہ التوفیق -
Ayah 23:2230 سواری اور بوجھ برداری کے ذرائع و وسائل میں دعوت غور وفکر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور ان پر اور ان طرح طرح کی کشتیوں اور بحری جہازوں پر تم لوگ لدے لدے پھرتے ہو "۔ اور اس طرح تم دور و نزدیک کی مختلف مسافتیں طے کرتے اور طرح طرح کے فائدے اٹھاتے ہو۔ اور ان سواریوں کے ذریعے تم لوگ وہاں وہاں پہنچتے ہو جہاں انکے بغیر پہنچنا تمہارے بس میں نہیں ہوتا، بجز جان توڑ مشقت کے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَتَحْمِلُ اَثْقَالَکُمْ اِلٰی بَلَدٍ لَّمْ تَکُوْنُوْا بَالِغِیْہِ اِلَّا بِشِقِّ الْاَنْفُسِ اِنَّ رَبَّکُمْ لَرَؤُوْفٌ رَّحِیْمٌ } ۔ (النحل : 7) ۔ سو اس سب میں کس قدر عظیم الشان دلائل ہیں اس وحدہ لاشریک کی قدرت بےپایاں، رحمت بےنہایت اور عنایت بےغایت کے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پھر بھی اس کے حق معرفت و عبودیت سے غفلت برتنا اور اس سے منہ موڑنا کس قدر ظلم و بےانصافی ہے ۔ وَالْعَیَاذ باللّٰہِ مِنْ شَائِبَۃِ کُلِّ ظُلْمٍ وَ کُفْرٍ وَزَیْغِ وَّانْحِرَاف ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے شکر سے سرشار رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین -
Ayah 23:2331 حضرت نوح کی اپنی قوم کو تنبیہ و تذکیر : سو حضرت نوح نے اپنی قوم سے فرمایا کہ " تم لوگ اللہ ہی کی بندگی کرو کہ اس کے سوا تمہارا کوئی بھی معبود نہیں تو کیا تم لوگ ڈرتے نہیں ؟۔ " اپنے اس خالق ومالک کی گرفت اور پکڑ سے جس کی پیدا کردہ اس کائنات میں تم لوگ رہتے بستے، اس کی ان طرح طرح کی اور عظیم الشان نعمتوں سے فائدہ اٹھاتے اور اس کی بغاوت و سرکشی پر کمر بستہ ہوتے ہو ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو یہاں سے تاریخی شواہد کا ذکر وبیان شروع ہوتا ہے اور حضرات انبیاء و رسل کی تاریخ کا آغاز بالعموم حضرت نوح کے ذکر ہی سے ہوتا ہے۔ اور اس میں بنیادی طور پر اس امر کیلئے تنبیہہ و تذکیر ہے کہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ نے جس طرح انسانوں کی جسمانی اور مادی ضروریات کی تکمیل کیلئے طرح طرح کے سامانہائے زیست کا انتظام فرمایا اسی طرح اس نے حضرات انبیاء و رسل کی بعثت کے ذریعے ان کی باطنی اور معنوی ضروریات کی تکمیل کا سامان بھی فرمایا۔ اور ہمیشہ اور بھرپور طریقے سے فرمایا۔ پھر جن لوگوں نے ان کی تکذیب کی ان کو ایک عرصہ تک تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مہلت اور ڈھیل ملی۔ لیکن بالآخر وہ ہلاکت و تباہی کے ہولناک گڑھے میں جاگرے۔ اور جنہوں نے ان کی تصدیق کی اور وہ ان پر ایمان لائے وہی بچ سکے۔ سو نجات ایمان میں ہے اور کفر میں ہلاکت ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ ہمیشہ راہ حق ونجات پر قائم اور ثابت قدم رکھے ۔ آمین۔
Ayah 23:2432 قوم نوح کے سرداروں کا آنجناب کی بشریت کی بنا پر انکار : سو حضرت نوح کی اس دعوت حق کے جواب میں قوم نوح کے سرداروں نے کہا کہ " یہ شخص تو تم ہی لوگوں جیسا ایک بشر۔ اور انسان ۔ ہے "۔ تو پھر یہ نبی اور رسول کس طرح ہوسکتا ہے ؟ اور یہی غلط فہمی لوگوں کو کل بھی رہی اور یہی آج بھی بہت سے لوگوں کو ہے۔ کہ وہ نبوت اور بشریت میں منافاۃ سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ دونوں وصف یکجا نہیں ہوسکتے۔ پس تو فرق صرف یہ ہے کہ کل کے ان کھلے منکروں نے اس غلط فہمی کی بناء پر حضرات انبیائے کرام کی نبوت و رسالت کا انکار کردیا تھا اور آج کے کچھ جاہلوں کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ حضرات نبی و رسول تھے لہذا ان کو بشر اور انسان ماننا ان کی توہین ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ حالانکہ حضرات انبیائے کرام بیک وقت نبی و رسول بھی ہوتے ہیں اور بشر و انسان بھی۔ اور یہ حضرات ہمیشہ اپنے بارے میں یہی کہتے اور حصر و تاکید کے ساتھ خود فرماتے رہے ۔ { اِنْ نَّحْنُ الا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یَمُنُّ عَلٰی مَنْ یَّشَائُ مِنْ عِبَادِہ } ۔ (ابراہیم :11) " واقعی ہم بشر ہیں تم ہی جیسے لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے احسان فرماتا ہے "۔ یعنی ہم اپنی اصل اور حقیقت کے اعتبار سے تم ہی جیسے انسان اور بشر ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اپنے بندوں میں سے جن کو چاہتا ہے نبوت و رسالت کے شرف سے نواز کر ان کو سب سے اونچا مقام عطا فرما دیتا ہے۔ اسی لئے کلمہ شہادت میں عبدہ و رسولہ کے کلمات کریمہ سے ان دونوں چیزوں کو باہم جمع کرنے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے۔ مگر پتہ نہیں کہ اس سب کے باوجود اہل بدعت کو یہ صاف اور واضح حقیقت کیوں سمجھ نہیں آتی ؟ اور ایسے لوگ حضرات انبیائے کرام کی بشریت طاہرہ کا کیوں انکار کیے جارہے ہیں اور اس حد تک کہ اس کیلئے وہ نصوص صریحہ تک میں تحریف کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
33 منکرین کا بشریت پیغمبر کی بنا پر حق کا انکار : سو ارشاد فرمایا گیا کہ منکرین نے حضرت نوح کی بشریت کی بنا پر حق کا انکار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اللہ چاہتا تو ۔ اس کام کیلئے ۔ فرشتے اتار دیتا۔ جو ہمیں اس کا پیغام پہنچاتے۔ یہ کیا کہ ہم ہی جیسے ایک شخص کو اپنا رسول چن لیا۔ سو ایسے نہیں ہوسکتا۔ لہذا ہم تمہیں اللہ کا رسول ماننے کو تیار نہیں۔ یعنی اول تو ہمارے لیے کسی رسول وغیرہ کے بھیجنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں۔ اصلاح احوال کیلئے ہم خود ہی کافی ہیں۔ اور اگر اللہ کو کوئی رسول وغیرہ بھیجنا بھی تھا تو اس کیلئے آسمان سے کوئی فرشتے اتار دیتا جو نہ کچھ کھاتے نہ پیتے نوری مخلوق ہوتے۔ یہ کیا کہ ہم ہی جیسے ایک شخص کو ہمارے لیے رسول بنا کر بھیج دیا۔ سو ایسی کوئی بات نہیں۔ یہ صاحب دراصل ہمارے اوپر اپنی بڑائی اور سرداری قائم کرنے کیلئے اس طرح کا دعویٰ کرتے ہیں۔ سو اس سے ایک تو اس حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ حضرات انبیاء و رسل کی تکذیب اور ان کی مخالفت ان کی قوموں کے سرداروں اور کھڑپینچوں ہی نے کی۔ ایک تو اپنے کبر و غرور اور انانیت کی بنا پر اور دوسرے انہوں نے اس کو اپنی جھوٹی سرداری اور کھڑپینچی کے خلاف خطرہ سمجھا کہ ان کی مبنی برحق دعوت سلیم الفطرت لوگوں کے دل ودماغ کو اپیل کرے گی۔ اس لیے ان بدبختوں نے سب سے پہلے حضرات انبیائے کرام کی نیتوں پر حملہ کیا کہ یہ لوگ اس طرح اپنی بڑائی اور سرداری چاہتے ہیں۔ اور دوسری طرف انہوں نے عام لوگوں کو ان کے خلاف اکسانے کی کوشش کی کہ اس طرح تم لوگوں پر اپنی بڑائی متسلط کرنا چاہتے ہیں۔ چناچہ قوم نوح کے ان سرداروں اور کھڑپینچوں کے جواب ہی سے یہی ظاہر ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 23:2534 پیغمبر کی پاکیزہ ہستی پر جنون کا الزام : سو ارشاد فرمایا گیا کہ انہوں نے کہا کہ اس شخص کو کچھ جنون ہوگیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ جس کے باعث یہ شخص عقل میں نہ آنے والی ایسی بہکی بہکی باتیں کرتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ان لیڈروں نے اپنی قوم کو اس مغالطے میں ڈالنے اور یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ یہ شخص جو دعویٰ کرتا ہے کہ اس کے پاس خدا کا فرشتہ آتا ہے تو تم لوگ اس کے اس دعوے کو کوئی اہمیت نہ دینا اور اس کے رعب میں نہ آنا۔ یہ محض ایک قسم کا دماغی خلل ہے جو اس شخص کو لاحق ہوگیا ہے جس کی بناء پر یہ ایسے دعوے کرتا ہے اور اس کو آسمانی وحی سمجھتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ سو اس سے ان ظالموں کے ظلم کا انداز کیا جاسکتا ہے کہ اللہ کے رسول اور پاکیزہ ہستی پر وہ اس طرح کا الزام لگاتے ہیں۔ سو جب انسان عناد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر حق کا انکار کردیتا ہے تو اس کی مت اسی طرح مار دی جاتی ہے اور وہ اندھا اور اوندھا ہو کر ہلاکت و تباہی کے ایسے ہی ہولناک گڑھے میں جا گرتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ نیز جب اللہ کے پیغمبر بھی ایسے ظالموں کے طعن وتشنیع سے نہیں بچ سکے تو پھر اور کون بچ سکے گا ۔ والعیاذ باللہ -
35 قوم نوح کے منکر سرداروں کا اپنی قوم کو مشورہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان بدبختوں نے اپنی قوم کو صبر کا مشورہ دیتے ہوئے ان سے کہا کہ چونکہ اس شخص کو کچھ جنون ہوگیا ہے اس لیے تم اس کے بارے میں صبر اور انتظار سے کام لو ایک وقت تک۔ شاید کہ اس کا جنون اب ختم ہوجائے۔ اور یہ ایسی باتوں سے باز آجائے۔ یا پھر موت آ کر اس کا قصہ تمام کر دے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اس کی باتوں کی تم کوئی پرواہ نہیں کرنا۔ اور جس بڑے اور دردناک عذاب سے یہ شخص تمہیں ڈرا رہا ہے اس کا تم کوئی اندیشہ نہیں کرنا کہ سب ایسی ہی بےبنیاد اور ہوائی باتیں ہیں جو ہوا میں اڑ کر ختم ہوجائیں گی۔ اور اسی قسم کی بات کفار قریش نے آنحضرت ﷺ سے متعلق بھی کہی تھی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے فرمایا گیا { اَمْ یَقُوْلُوْنَ شَاعِرٌ نَتَرَبَّصُ بِہ رَیْبَ الْمَنُوْن } (الطور :30) " کیا یہ لوگ یوں کہتے ہیں یہ شخص ایک شاعر ہے جس کے لیے ہم گردش روزگار کے منتظر ہیں " ۔ { تَشَابَہَتْ قُلُوْبُہُمْ اَنّٰی یُوفَکُوْنَ } ۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 23:2636 نوح کی دعا اپنے رب کے حضور : سو ان متکبروں کے مقابلے میں حضرت نوح نے اپنے رب کے حضور نصرت و امداد کی دعا کی۔ یعنی جب وہ لوگ اپنی ہٹ دھرمی ہی پر اڑے رہے تو آخر کار حضرت نوح نے اپنے رب کے حضور عرض کیا کہ " اے میرے رب میری مدد فرما "۔ کہ تو ہی ہے سب کی مدد فرمانے والا ہے۔ سو جب نوح (علیہ السلام) جیسے عظیم الشان پیغمبر بھی اپنی حاجتوں اور مشکلوں میں اسی وحدہ لاشریک کو پکارتے اور اسی کے محتاج ہیں تو پھر اور کون سی ہستی ایسی ہوسکتی ہے جسے حاجت روا و مشکل کشا مانا جائے ؟۔ سو غلط کہتے اور کرتے ہیں وہ لوگ جو مردہ ہستیوں کو حاجت روا و مشکل کشا قرار دے کر پوجتے پکارتے اور ان سے مدد کی درخواست و دعاء کرتے ہیں۔ اور اس سلسلہ میں وہ طرح طرح کی شرکیات کا ارتکاب کرتے ہیں۔ اور وہ اتنی موٹی اور واضح حقیقت کو بھی نہیں سمجھتے کہ جو خود مر کر قبر میں چلا گیا وہ ہماری کوئی مدد آخر کس طرح کرسکے گا۔ لیکن جب شرک و بدعت کی بناء پر کسی کی مت مار دی جاتی ہے تو اس کا حال ایسے ہی ہوجاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف حضرت نوح کے اس قصے اور ان کی دعا سے واضح ہوجاتا ہے کہ حاجت روا و مشکل کشا سب کا اللہ وحدہ لا شریک ہی ہے۔ حضرات انبیاء و رسل بھی اسی کے محتاج اور اسی کے در کے سوالی ہیں۔ حضرت نوح جیسے جلیل القدر پیغمبر بھی اسی کے حضور دست دعا وسوال دراز کرتے ہیں۔
Ayah 23:2737 قوم نوح کے عذاب کے فیصلے کا ذکر : سو اس سے قوم نوح کیلئے عذاب کے فیصلے اور اس بارے میں حضرت نوح کو بعض خاص ہدایات کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو آنجناب کو ہدایت فرمائی گئی کہ آپ ہر قسم کے جانوروں میں سے ایک ایک جوڑے کو لے کر اس کشتی میں سوار ہوجائیں اور اپنے گھر والوں کو بھی اس میں لے لیں بجز ان کے جن کے بارے میں ہمارا فیصلہ پہلے ہی ہوچکا ہے۔ یعنی جن کے حق میں فیصلہ ہوچکا ہے کہ انہوں نے اب غرق ہونا ہے اپنے کفر و انکار اور فساد کی بناء پر۔ اس لئے اپنے گھر والوں میں سے کسی ایسے شخص کو اپنی اس کشتی پر سوار نہیں کرنا۔ اشارہ آپ کے بیٹے کنعان اور بیوی کی طرف ہے جو کہ اپنے کفر و انکار پر قائم تھے۔ (ابن کثیر، مراغی، خازن، صفوۃ وغیرہ) ۔ معلوم ہوا کہ پیغمبر مختار کل نہیں ہوتا۔ جیسا کہ اہل بدعت کا کہنا اور ماننا ہے۔ کہ اگر ایسے ہوتا تو حضرت نوح (علیہ السلام) جیسے عظیم الشان اور جلیل القدر پیغمبر کی اپنی بیوی اور انکا اپنا بیٹا اس طرح حق و ہدایت کی دولت سے محروم نہ ہوتے اور آنجناب کو اس طرح ان کے کشتی پر سوار کرنے سے نہ روکا جاتا۔ سو مختار کل اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے۔ سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ وہ جو چاہے اور جیسے چاہے وہی ہوتا ہے اور ویسے ہی ہوتا ہے۔ نیز یہاں سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ اپنا ایمان و عقیدہ اگر صحیح نہ ہو تو کوئی رشتہ داری بھی کام نہیں دے سکتی۔ خواہ وہ پیغمبر اور نوح جیسے جلیل القدر پیغمبر کی رشتہ داری ہی کیوں نہ ہو۔ اور رشتہ بھی بیوی اور بیٹا ہونے کا رشتہ کیوں نہ ہو جو کہ سب سے بڑا اور سب سے اونچا رشتہ ہے۔ پس اصل چیز اپنا ایمان و عقیدہ اور عمل و کردار ہے۔ نجات کا دار و مدار اسی پر ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayah 23:2838 نعمت سے سرفرازی پر شکر خداوندی کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب آپ کشتی میں بیٹھ جائیں آپ بھی اور آپ کے ساتھی بھی تو یوں کہو تعریفیں اس اللہ ہی کیلئے ہیں جس نے ہمیں نجات دی ظالم لوگوں سے "۔ کہ نجات دہندہ اور حاجت روا و مشکل کشا ہر کسی کا اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اور سب اسی کے محتاج ہیں۔ یہاں تک کہ حضرات انبیاء و رسل اور حضرت نوح جیسے عظیم الشان اور جلیل القدر پیغمبر بھی اسی وحدہ لا شریک کی حاجت روائی اور مشکل کشائی کے محتاج ہیں ۔ سبحانہ وتعالی ۔ سو کس قدر بہکے اور بھٹکے ہوئے ہیں وہ لوگ جو اس سب کے باوجود اللہ کی مخلوق میں سے طرح طرح کی بےحقیقت چیزوں اور مخلوق و عاجز ہستیوں کو مشکل کشا اور حاجت روا قرار دے کر انکو پوجتے پکارتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور وہ نہیں سمجھتے کہ اس طرح وہ شرک کا ارتکاب کرکے اپنے لیے کس قدر بڑے خسارے اور نقصان کا سودا کررہے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف مشکل کشا اور حاجت روا سب کا یہاں تک کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کا حاجت روا و مشکل کشا بھی اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس کے سوا باقی جو بھی سہارے لوگوں نے از خود اور طرح طرح کے ناموں سے گھڑ رکھے ہیں وہ سب بےبنیاد اور اوہام و خرافات ہیں جن کی نہ کوئی اصل ہے نہ حقیقت ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا -
Ayah 23:2939 حضرت نوح کی طرف سے بابرکت اتارنے کی دعا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت نوح نے اپنے رب کے حضور عرض کیا کہ " اے میرے رب مجھے اتارنا بھی بابرکت اتارنا "۔ کہ نزول بھی بابرکت ہو اور منزل و مقام بھی بابرکت۔ سو ایسے ہی ہوا اور طوفان نوح کی تباہی کے بعد تمام روئے زمین ان تمام خیرات و برکات سے پھر پوری طرح بھر گئی جو اس میں اس طوفان سے پہلے موجود تھیں اور جن کی انسان کو اور اللہ کی دوسری تمام مخلوق کو ضرورت تھی۔ اور حضرت نوح (علیہ السلام) کی نسل سے ہی اتنی مخلوق پھیلی کہ سب روئے زمین خالی ہونے کے بعد پھر بھر گئی۔ اسی لئے آپ کو آدم ثانی کہا جاتا ہے۔ سو برکت دینا اللہ پاک ہی کی صفت اور اسی کی شان ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ لہذا غلط کہتے اور کرتے ہیں وہ لوگ جو برکت کو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور طرف منسوب کرتے ہیں۔ اور وہ " برکت علی " اور " برکت حسین " وغیرہ جیسے نام رکھتے ہیں۔ پھر ان میں سے جو لوگ جہالت اور نادانی کی بنا پر ایسا کرتے ہیں وہ تو پھر بھی ایک حد تک معذور قرار دیئے جاسکتے ہیں لیکن جو جان بوجھ کر اور اپنے قصد و ارادہ سے ایسا کرتے ہیں وہ یقینا شرکیہ افعال و امور کا ارتکاب کرتے ہیں۔ اور ان کو ایسے شرکیہ امور کے ارتکاب کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہوگا ۔ والعیاذ اللہ العظیم -
Ayah 23:3040 ابتلاء و آزمائشِ خداوندی کے دستور کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یقینا ہم آزمائش کرکے ہی رہتے ہیں "۔ تاکہ کھرا کھوٹا ظاہر ہوجائے اور حق و باطل کا فرق و امتیاز پوری طرح نکھر کر سامنے آجائے۔ سو نوح کے اس قصہ سے ظاہر اور واضح ہوگیا کہ ایمان و یقین نجات کی کشتی ہے اور کفر و شرک تباہی کا راستہ اور ہلاکت کا گڑھا ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف نوح کے اس قصے میں بڑی بھاری نشانیاں ہیں۔ مثلاً یہ کہ ہم اس کائنات کو پیدا کرکے اس سے لاتعلق ہو کر نہیں رہ گئے۔ بلکہ لوگوں کی ہدایت اور ان کی اصلاح کیلئے ہم اپنے رسول بھی بھیجتے رہے۔ پھر جنہوں نے ان رسولوں کو جھٹلایا اور ان کے ساتھ کفر کیا ان کو ایک عرصہ تک مہلت اور ڈھیل تو ملتی رہی لیکن بالآخر ان کو تباہی کے گھاٹ اتار دیا گیا اور نجات انہی کو ملی جنہوں نے انبیائے کرام کی دعوت کو قبول کیا۔ لیکن اس کیلئے انکو آزمائش کے مختلف مراحل سے گزرنا پڑا۔ جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَنَبْلُوْکُمْ بالشَّرِّ وَالْخَیْرِ فِتْنَۃ وَاِلَیْنَا تُرْجَعُوْن } ۔ (الانبیاء :35) ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayah 23:3141 قوم نوح کی ہلاکت کے بعد نئی قوم کی اٹھان کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر ان کے بعد ہم نے کھڑا کیا ایک اور قوم کو "۔ یعنی قوم عاد کو جو کہ قوم نوح کے بعد آباد ہوئی تھی۔ اور بعض نے کہا کہ اس سے قوم ثمود مراد ہے کہ " صیحہ " کا عذاب انہی پر آیا تھا۔ (ابن کثیر وغیرہ) ۔ مگر اکثر کا کہنا یہی ہے کہ اس سے مراد قوم عاد ہے۔ (خازن، صفوۃ وغیرہ) ۔ اور یوں عل سبیل البدل دونوں ہی قومیں مراد ہوسکتی ہیں۔ کیونکہ سورة الاعراف میں قوم نوح کی جانشین کی حیثیت سے قوم عاد کا اور قوم عاد کے خلفاء کی حیثیت سے قوم ثمود کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو قوم نوح کی جانشین کے طور پر قوم عاد آئی اور قوم عاد کی جانشین کے طور پر قوم ثمود۔ اور یہ دونوں ہی قومیں ہولناک عذاب سے دوچار ہوئیں ۔ والعیاذ باللہ -
Ayahs 23:32–3342 حضرت نوح کے بعد رسول کی آمد کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر ان میں ہم نے انہی میں سے ایک رسول بھیجا "۔ جو کہ اللہ پاک کی قدیمی سنت اور ہمیشہ کا دستور رہا کہ ہر قوم کا پیغمبر انہی میں سے ہوا ہے۔ سو اسی بناء پر قوم عاد اور قوم ثمود کی طرف حضرت ھود اور حضرت صالح کو رسول بنا کر بھیجا گیا جن کی سرگزشتیں پہلے گزر چکی ہیں۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ حضرت نوح کے بعد جن قوموں کو اٹھایا گیا اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر بھی اپنے رسول بھیجے تاکہ وہ ان کو حق و ہدایت کی تعلیمات مقدسہ سے آگاہ کرسکیں۔ کیونکہ حق و ہدایت کی ضرورت انسان کے لیے اس کی دوسری تمام جسمانی اور مادی ضرورتوں سے بھی کہیں بڑھ کر ہے۔ تو پھر یہ کس طرح ممکن ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی مادی اور جسمانی ضرورتوں کی تکمیل کا سامان تو کرے لیکن ان کی روحانی اور معنوی ضرورتوں کی تکمیل کا کوئی سامان نہ کرے۔ جبکہ اس کا اپنا ارشاد ہے اور صریح ارشاد ہے کہ " ہدایت ہمارے ذمے ہیں " ۔ { اِنَّ عَلَیْنَا لَلْہُدٰی } ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے ان کے اندر انہی میں کا ایک رسول بھیجا۔
43 حضرات انبیائے کرام کی دعوت ہمیشہ ایک ہی رہی : کہ ان سب نے اپنی قوموں کو توحید ہی کی دعوت دی اور ان سے کہا کہ " تم سب ایک اللہ ہی کی بندگی کرو کہ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں تو کیا تم لوگ ڈرتے نہیں ہو ؟ " اپنے اس کفر و شرک کے انجام اور اللہ تعالیٰ کی گرفت و پکڑ سے ۔ والعیاذ باللہ ۔ یعنی ان انبیائے کرام نے بھی اپنی اپنی قوموں کو وہی پیغام دیئے جو ہر پیغمبر نے اپنی قوم کو دیئے کہ ان سب حضرات کی دعوت ہمیشہ ایک ہی رہی۔ یعنی توحید خداوندی اور اللہ تعالیٰ کی عبادت و بندگی کی دعوت۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے انداز و اسلوب میں اور قاعدہ کلیہ کے طور پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وما ارسلنا من قبلک من رسول الا نوحی الیہ انہ لا الہ الا انا فاعبدون } ۔ (الانبیائ : 25) یعنی " ہم نے آپ سے پہلے جو بھی رسول بھیجے اس کی طرف ہم یہی وحی کرتے رہے کہ کوئی بھی معبود نہیں سوائے میرے۔ پس تم سب لوگ میری ہی بندگی کرو۔ سو عقیدئہ توحید پر دین سماوی کی اصل اور اساس رہی ہے۔ اور ہر پیغمبر نے اپنی امت کو اسی کی دعوت دی ہے۔ نیز یہ کہ معبود برحق صرف اللہ وحدہ لا شریک ہے اور ہر قسم کی عبادت و بندگی صرف اسی وحدہ لا شریک کا حق اور اسی کا اختصاص ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 23:3446 کفر و شرک کا نتیجہ وانجام مت ماری ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے کفر و شرک کی بنا پر انسان کی مت ماری کا ایک مظہر و نمونہ سامنے آتا ہے۔ چناچہ یہ کفر و شرک کی نحوست اور مت ماری کا ایک اور مظاہرہ ہے کہ اپنے ہی جیسے بشر کو تو وہ لوگ پیغمبر ماننے کو تیار نہ ہوئے اور ان کی پیروی کو گھاٹے کا سودا قرار دیا۔ مگر اپنے سے کمتر مخلوق، یہاں تک کہ جمادِلایعقل اور اپنے ہاتھوں کے تراشیدہ و خراشیدہ خود ساختہ بتوں کو خدا اور معبود مان لیا اور ان کے سامنے سر ٹیک دئیے۔ اور اپنے حکمرانوں میں سے جس کو چاہا خدا کا اوتار مان کر اس کی خدائی کو تسلیم کرلیا اور اس کی فرمانبرداری میں کوئی عار نہ سمجھی۔ جو اسی طرح کھاتے پیتے، بلکہ اس سے بھی کہیں بڑھ کر کھاتے پیتے اور۔ { یَأْکُلُوْنَ کَمَا تَأْکُلُ الاَنْعَامُ } ۔ کا نمونہ پیش کرتے تھے۔ ان کی اطاعت و فرمانبرداری میں ان کو کوئی جھجک اور عار محسوس نہیں ہوتی تھی۔ مگر انبیائے کرام کی پاکیزہ زندگیوں میں یہ چیز ان کے لئے رکاوٹ تھی۔ سو ابنائے دنیا کی مت ماری کا یہ مرض ہمیشہ رہا۔ اور کل کی طرح آج بھی موجود ہے اور جگہ جگہ موجود ہے۔ اور اسی مرض کے جراثیم آپ کو کلمہ گو مشرکوں کے اندر بھی آج اس وقت صاف نظر آئیں گے جبکہ وہ علمائے ربانیین کے ارشادات حقہ اور ان کی طرف سے پیش کی جانے والی نصوص قیمہ پر تو کان نہیں دھریں گے لیکن خود ساختہ اور من گھڑت قصوں کہانیوں کو وہ شوق و ذوق سے سنیں گے اور ان کو مانیں گے اور اپنائیں گے۔ اور ان حضرات کی ان لوگوں کی نگاہوں میں تو کوئی قدر و قیمت نہ ہوگی جن کی زندگی پوری کی پوری شریعت کی پابند ہوگی۔ مگر ایسے کسی ننگ دھڑنگ ملنگ کو یہ لوگ دیکھیں گے جو ننگا بدحال پڑا ہوگا تو یہ اس کے آگے فوراً جھک جائیں گے۔ جس کے ہوش و حواس بھی صحیح نہیں ہوں گے۔ لیکن یہ اس کو اپنا حاجت روا مشکل کشا سمجھیں گے۔ بلکہ بعض اوقات وہ چرس بھنگ کے سوٹے پر سوٹے لگائے جا رہا ہوگا اور یہ حاجت روائی و مشکل کشائی کی امیدیں باندھے اس کے گرد بیٹھے ہوں گے اور شرم و حیاء جیسی کوئی چیز بھی ان کے لئے آڑ نہیں بنے گی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اپنے برصغیر کے ملکوں میں ایسے حیا باختہ اور ایمان سوز مظاہر جابجا دیکھنے کو ملیں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayahs 23:35–3747 کفار کا پیغمبر سے استہزاء و انکار : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پیغمبر کی قوم کے ان کھڑپینچوں نے اپنے لوگوں کو پیغمبر سے بد ظن اور متنفر کرنے کے لیے ان سے کہا کہ کیا یہ شخص تم لوگوں سے ایسی انہونی بات کرتا ہے کہ جب تم لوگ مر کر اور ہڈیوں کا پنجر بن کر رہ جاؤ گے اور تمہاری ہستی بالکل مٹ جائے گی تو اس کے بعد تم کو نئے سرے سے زندہ کر کے اٹھایا جائے گا۔ سو استفہام یہاں پر انکار واستبعاد کے لیے ہے۔ یعنی ایسے کبھی نہیں ہوسکتا۔ (صفوۃ التفاسیر) ۔ یعنی ایسا نہیں ہونے کا بلکہ یہ اس شخص کی یونہی خواہ مخواہ کی باتیں ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ بھلا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جب ہم مر کر مٹی میں مل جائیں گے اور ہماری ہڈیاں بھی گل سڑ جائیں گی تو ہم کو ازسر نو دوبارہ زندہ کرکے اٹھایا جائے گا۔ سو اس طرح انہوں نے پیغمبر کا استہزاء و مذاق اڑا کر اپنے کفر و بدبختی کی سیاہی کو اور پکا کردیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔