Explained with ayahs 1–11
دس آیتیں اور جنت کی ضمانت
نسائی، ترمذی اور مسند احمد میں مروی ہے کہ حضرت رسول ﷺ پر جب وحی اترتی تو ایک ایسی میٹھی میٹھی، بھینی بھینی، ہلکی ہلکی سی آواز آپ کے پاس سنی جاتی جیسے شہد کی مکھیوں کے اڑنے کی بھنبھناہٹ کی ہوتی ہے۔ ایک مرتبہ یہی حالت طاری ہوئی۔ تھوڑی دیر کے بعد جب وحی اترچکی تو آپ نے قبلہ کی طرف متوجہ ہو کر اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر یہ دعا پڑھی کہ اے اللہ تو ہمیں زیادہ کر، کم نہ کر، ہمارا اکرام کر، اہانت نہ کر، ہمیں انعام عطا فرما، محروم نہ رکھ، ہمیں دوسروں پر کے مقابلے میں فضیلت دے، ہم پر دوسروں کو پسند نہ فرما، ہم سے خوش ہوجا اور ہمیں خوش کر دے۔ عربی کے الفاظ یہ ہیں۔ دعا (الہم زدنا…
Read the full tafseer →سورة الْمُؤْمِنُوْن 4
" لغو " ہر اس بات اور کام کو کہتے ہیں جو فضول، لایعنی اور لا حاصل ہو۔ جن باتوں یا کاموں کا کوئی فائدہ نہ ہو، جن سے کوئی مفید نتیجہ برآمد نہ ہو، جن کی کوئی حقیقی ضرورت نہ ہو، جن سے کوئی اچھا مقصد حاصل نہ ہو، وہ سب " لغویات " ہیں۔
" معرضون " کا ترجمہ ہم نے " دور رہتے ہیں " کیا ہے۔ مگر اس سے بات پوری طرح ادا نہیں ہوتی۔ آیت کا پورا مطلب یہ ہے کہ وہ لغویات کی طرف توجہ نہیں کرتے۔ ان کی طرف رخ نہیں کرتے۔ ان میں کوئی دلچسپی نہیں لیتے۔ جہاں ایسی باتیں ہو رہی ہوں یا ایسے کام ہو رہے ہوں وہاں جانے سے پرہیز کرتے ہیں، ان میں حصہ لینے سے اجتناب کرتے ہیں، اور اگر کہیں ان سے سابقہ پیش آ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
سورة مومنون مکہ میں اتری اور اس کی ایک سو اٹھارہ آیتیں ہیں اور چھ رکوع
فضائل و خصوصیات سورة مومنون
مسند احمد میں حضرت فاروق اعظم عمر بن خطاب کی روایت ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ پر جب وحی نازل ہوتی تھی تو پاس والوں کے کان میں ایسی آواز ہوتی جیسے شہد کی مکھیوں کی آواز ہوتی ہے۔ ایک روز آپ کے قریب ایسی ہی آواز سنی گئی تو ہم ٹھہر گئے کہ تازہ آئی ہوئی وحی سن لیں۔ جب وحی کی خاص کیفیت سے فراغت ہوئی تو آنحضرت ﷺ قبلہ رخ ہو کر بیٹھ گئے اور یہ دعا کرنے لگے اللھم زدنا ولا تنقصنا و اکرمنا ولاتھنا واعطنا ولا تحرمنا واثرنا ولا توثر علینا وارض عنا و ارضنا (یعنی یا اللہ ہمیں زیادہ دے کم نہ کر اور ہماری…
Read the full tafseer →والذین ھم عن اللغومعرضون (3)
زندگی پر نماز کا اثر
یہ زندگی پر نماز کا اثر بیان ہا ہے۔ لغو سے مراد ہر وہ قول و فعل ہے جو زندگی کے اصل مقصود … رضائے الٰہی … سے غافل رنے والا ہو۔ قطع نظر اس سے کہ وہ مباح ہے یا غیر مباح۔ جس نماز کے اندر خشوع ہو اس کا اثر زندگی پر لازماً یہ پڑتا ہے کہ فضول، غیر ضروری، لا یعنی بےمقصد چیزوں سے آدمی احتراز کرنے لگتا ہے۔ اس کو ہر وقت یہ فکر دامن گیر رہتی ہے کہ اگر میں نے کوئی فضول قسم کی حرکت کی تو اپنے عالم الغیب مالک کو ایک روز منہ دکھانا ہے اور اس چیز کی شب و روز میں کم از کم پانچ بار اس کی یاد دہانی ہوتی رہتی ہے۔ ظاہر ہے کہ جس شحص کا ضمیر اتنا بیدار اور حساس ہو کہ…
Read the full tafseer →3-1لَغْو ہر وہ کام اور ہر وہ بات جس کا کوئی فائدہ نہ ہو یا اس میں دینی یا دنیاوی نقصانات ہوں،
ان سے پرہیز مطلب ہے ان کی طرف خیال بھی نہ کیا جائے۔ چہ جائیکہ انھیں اختیار یا ان کا ارتکاب
کیا جائے۔
Read the full tafseer →2: لغو کا مطلب ہے بیکار مشغلہ جس میں نہ دنیا کا کوئی فائدہ ہو، نہ آخرت کا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
درس نمبر 145 تشریح آیات (1 تا 22)
قد افلح خلدون (ا تا 11)
یہ ایک پختہ وعدہ ہے بلکہ یہ عالم بالا کی ایک وہ ٹوک قرار داد ہے کہ مومنین فلاح پائیں گے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ اللہ تو کبھی اپنے عہد کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ پھر یہ اللہ کا فیصلہ ہے اور اللہ کے فیصلے کو کوئی رد نہیں کرسکتا کہ مومنین دنیا میں بھی فلاح پائیں گے اور آخرت میں بھی فلاح پائیں گے ۔ ایک مومن انفرادی طور پر فلاح پائے گا اور اہل ایمان کی جماعت بھی فلاح پائیں گی۔ ایسی کامیابی جسے ایک مومن اپنے دل اپنی حقیقی زندگی میں محسوس کرتے ہوں اور اس کے اندر فلاح کے وہ تمام مفہوم پائے جاتے ہوں جن سے دنیا با خبر ہے اور وہ مفاہیم بھی پائے جاتے…
Read the full tafseer →2 یعنی فضول و بیکار مشغلوں میں وقت ضائع نہیں کرتے کوئی دوسرا شخص لغو اور نکمی بات کہے تو ادھر سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ ان کو وظائف عبودیت سے اتنی فرصت ہی نہیں ہوتی کہ ایسے بےفائدہ جھگڑوں میں اپنے کو پھنسائیں۔
چہ خوش گفت بہلول فرخندہ خو
چوبگذشت بر عارف جنگجو
گر ایں مدعی دوست بشناختے
بہ پیکار دشمن نہ پرداختے
Read the full tafseer →آیت 3 وَالَّذِیْنَ ہُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ ”
یعنی ان کا دوسرا وصف ہے بےکار باتوں سے احتراز کرنا ‘ بچنا ‘ دامن بچائے رکھنا۔ لغو سے مراد گناہ یا معصیت کا کام نہیں ‘ بلکہ ہر ایسا عمل یا کام ہے جو بےفائدہ اور فضول ہو۔ جیسے لوگ محفل جما کر تاش کھیلتے ہیں اور وقت کو ایسے ضائع کرتے ہیں جیسے یہ کوئی بوجھ liability ہو اور اسے سر سے اتار پھینکنا ناگزیز ہو۔ انہیں احساس نہیں ہو تاکہ یہ وقت ہی تو انسان کا سب سے بڑا سرمایہ asset ہے۔ اس وقت سے فائدہ اٹھا کر ہی انسان اپنی عاقبت کو سنوار سکتا ہے اور جو اس وقت کو فضول میں ضائع کرتا ہے وہ گویا اپنی عاقبت کو ضائع کرتا ہے۔ اس آیت میں مؤمنین صادقین کی یہ…
Read the full tafseer →3 لغو سے مراد فضول اور بیکار مشغلے اور کھیل بھی ہوسکتے ہیں۔ یعنی وہ لوگ اگر تفریح طبع کے لئے یا جسمانی کسرت کے طور پر کوئی کھیل کھیلتے ہیں تو ایسے کھیل نہیں کھیلتے جن میں محض وقت کا ضیاع ہو بلکہ ایسے کھیل کھیلتے ہیں جن سے کوئی دینی فائدہ بھی حاصلہوتا ہو۔ جیسے جہاد کی غرض سے تیراکی، نیزہ بازی، تیراندازی، اور نشانہ بازی وغیرہ۔ اور لغو سے مراد بیہودہ اور فضول باتیں بھی ہوسکتی ہیں۔ جیسے فضل گپیں، غیبت، بکواس، تمسخر، فحش گفتگو اور فحش قسم کے گانے وغیرہ۔ ان باتوں سے وہ صرف خود ہی پرہیز نہیں کرتے۔ بلکہ جہاں ایسی سوسائٹی پر وہاں سے وہ اٹھ کر چلے جاتے ہیں اور وہاں رہنا قطعاً گوارا نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →3۔ (خواہ وہ لغویت فعلی ہو یا قولی) (آیت) ” اللغو “۔ لغو کہتے ہیں ہر اس حرکت کو جو عبث، بےحاصل، لایعنی ہو، آخرت یا صرف دنیا کے اعتبار سے بھی۔ اللغو مالایغنیک من قول اوفع (کشاف) اللغو ھو الفعل الذی لافائدہ فیہ (جصاص) زندگی بڑی ہی قیمتی شے اور بڑی سنجیدہ واہم حقیقت ہے۔ مسلمان کی شان یہ نہیں کہ ایک لمحہ بھی کسی غیر مفید بات کی طرف توجہ کرے۔ سیروتفریح، مشاغل نشاط، جس حد تک صحت جسم اور انبساط قلب کے لئے ضروری ہیں۔ ظاہر ہے کہ انکا شمار لغو میں نہیں۔ ” لغو کا ادنی درجہ مباح ہے مگر ترک اس کا اولی وموجب مدح ہے۔ لغو کا اعلی درجہ معصیت ہے اور اس کا ترک واجب۔ “ (تھانوی (رح) امام رازی (رح) نے کہا ہے کہ ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیت نمبر 1 تا 22
ترجمہ : بلاشبہ مومنین کامیاب ہوئے جو اپنی نمازوں میں تواضع اختیار کرنے والے ہیں، قَدْ تحقیق کیلئے ہے اور جو لغو باتوں وغیرہ سے اعراض کرنے والے ہیں اور جو زکوۃ ادا کرنے والے ہیں اور جو حرام سے اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں لیکن اپنی بیبیوں سے یا ان عورتوں سے جن کے وہ مالک ہیں یعنی باندیوں سے کیونکہ ان کے پاس آنے میں (جماع کرنے میں) ان پر کوئی الزام نہیں ہاں جو ان کے علاوہ یعنی بیبیوں اور باندیوں کے علاوہ مثلاً استمنا بالید کا طالب ہو تو ایسے لوگ حد سے بڑھنے والے ہیں یعنی ایسی چیز کی طرف تجاوز کرنے والے ہیں جو ان کیلئے حلال نہیں ہے اور جو اپنی…
Read the full tafseer →والذین ہم عن اللغو معرضون۔ اور جو لغو باتوں سے (قولی ہوں یا فعلی) اعراض کرنے والے ہیں۔
عطاء نے حضرت ابن عباس ؓ : کا قول نقل کیا کہ لغو سے مراد شرک ہے حسن نے کہا گناہ اور نافرمانیاں مراد ہیں۔ میں کہتا ہوں آخرت میں کام نہ آنے والے امور مراد لینا بہتر ہے خواہ وہ امور قول سے تعلق رکھتے ہوں یا عمل سے۔
مُعْرِضُوْنَسے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ شرک اور معاصی اور آخرت میں ضرر پہنچانے والے امور کے ارتکاب کا تو ذکر ہی کیا ہے وہ تو بیکار اور غیر مفید باتوں سے بھی الگ رہتے ہیں اور پرہیز کرتے ہیں۔
بعض نے کہا لغو سے اعراض کرنے کا یہ مطلب ہے کہ کافروں کے مقابلہ میں وہ گالیاں نہیں دیتے اور سب و شتم نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
(3۔ 7) اور جو بیہودہ باتوں اور جھوٹی قسموں سے کنارہ کشی کرنے والے ہیں اور جو اپنے اموال کی زکوٰۃ ادا کرنے والے ہیں اور جو اپنی شرم گاہوں کو حرام شہوت رانی سے پاک رکھنے والے ہیں لیکن اپنی چاروں بیویوں سے یا اپنی شرعی لونڈیوں سے کیوں کہ ان پر اس حلال طریقہ میں کوئی الزام نہیں، البتہ جو حلال راستہ کے علاوہ اور مقام پر شہوت رانی کا طلب گار ہو تو ایسے حلال اور پاکیزہ طریقہ سے حرام اور گندے راستہ کی طرف بڑھنے والے ہیں۔
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْن :”لغو“ ہر وہ بات یا کام جس کا کوئی فائدہ نہ ہو۔ اس میں شرک اور ہر گناہ، بلکہ ہر بےفائدہ اور بےمقصد قول و فعل آجاتا ہے۔ یعنی کوئی لغو بات یا کام خود کرنا تو دور کی بات ہے، وہ کوئی لغو کام ہوتا ہوا دیکھتے یا سنتے بھی نہیں، بلکہ ان کی عادت ہی لغو سے منہ موڑے رکھنا ہے۔ ”یُعْرِضُوْنَ“ کے بجائے ”مُعْرِضُوْن“ (اسم فاعل) کا مطلب ہے کہ لغو سے اعراض ان کی عادت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْکُہُ مَا لَا یَعْنِیْہِ) [ ترمذي، الزھد، باب حدیث من حسن إسلام المرء۔۔ : 2317، عن أبي ہریرہ ؓ ]”آدمی کے اسلام کے حسن میں سے اس کا ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قد افلح المومنون۔ بیہقی نے حضرت انس کی حدیث روایت کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :” جب اللہ تعالیٰ نے جنت عدن کو تخلیق فرمایا اور اپنے دست قدرت سے اس کے درخت لگائے اور اسے فرمایا تو بول تو اس نے کہا : قد افلح المومنون۔ (1) نسائی نے حضرت عبد اللہ بن سائب سے روایت کیا ہے فرمایا : میں فتح مکہ کے دن بنی پاک ﷺ کی بارگاہ میں حاضر تھا۔ آپ ﷺ نے کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھی (1) آپ ﷺ نے اپنے نعلین اتارے اور انہیں اپنی بائیں جانب رکھا اور سورة المومنون سے تلاوت کی جب حضرت موسیٰ یا حضرت عیسیٰٗ کے ذکر پر پہنچے تو آپ کو کھانسی آگئی آپ نے وہاں رکوع کردیا۔ امام مسلم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–9
1۔ ابن جریر، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت والذین ہم عن اللغو معرضون میں لغو سے مراد باطل ہے۔
2۔ عبد الرزاق، ابن جریر اور ابن المنذر نے روایت کیا ہے کہ حسن (رح) سے نے فرمایا کہ آیت والذین ہم عن اللغو میں لغو سے مراد گناہ ہیں۔
3۔ ابن المبارک (رح) نے روایت کیا ہے کہ قتادہ (رح) نے آیت والذین ہم عن الغو معرضون کے بارے میں فرمایا کہ اللہ کی قسم جب ان کے پاس اللہ کا حکم آیا تو انہوں نے باطل میں سے ہر چیز کو گرادیا (یعنی باطل باتوں اور کاموں سے اعراض کرتے ہیں) ۔
4۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر رحمۃ الہ علیہ سے روایت کیا کہ آیت والذین ہم للزکوۃ فعلون، یعنی وہ مالوں کی…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ [ اور وہ لوگ ] هُمْ [ جو ] عَنِ اللَّغْوِ [ بےسود چیز سے ] مُعْرِضُوْنَ [ اعراض کرنے والے ہیں ]
Read the full tafseer →اہل ایمان کا دوسرا وصف بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا ( وَالَّذِیْنَ ھُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ ) (اور جو لوگ لغو باتوں سے اعراض کرنے والے ہیں) لغو ہر اس بات اور ہر اس کام کو کہتے ہیں جس کا دنیا و آخرت میں کوئی فائدہ نہیں، مومن بندے نہ لغو بات کرتے ہیں نہ لغو کام کرتے ہیں اور اگر کوئی شخص ان سے لغو باتیں کرنے لگے یا کچھ لوگ لغو کاموں میں لگے ہوں تو یہ حضرات اعراض کر کے کنارہ ہو کر گزر جاتے ہیں۔ جیسا کہ سورة قصص میں فرمایا ہے (وَ اِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْہُ ) (اور جب لغو بات سنتے ہیں تو اس سے کنارہ ہوجاتے ہیں)
اور سورة فرقان میں فرمایا (وَالَّذِیْنَ لاَ یَشْہَدُوْنَ الزُّورَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
صفات مومنین مفلحین
قال اللہ تعالیٰ ۔ قد افلح ال مومن ون .... الیٰ .... ہم فیہا خلدون۔
(ربط) گزشتہ سورت کے اخیر میں اعمال خیر کا حکم اور فلاح کی امید کا ذکر تھا۔ اب ان آیات میں مومنین صالحین کے لیے وقوع فلاح کی خبر دیتے ہیں کہ بلاشبہ وہ مسلمان کامیاب ہیں جن میں یہ سات صفتیں پائی جاتی ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں تحقیق فلاح پائی اہل ایمان نے جس کی پہلے ہی سے اہل ایمان کو امید اور توقع تھی۔ اہل ایمان سے اہل تصدیق اور اہل اطمینان مراد ہے۔ اب اس بشارت کے بعد ان مومنین کی صفات بیان کرتے ہیں۔
اول صفت خشوع
ان میں سے پہلی صفت یہ ہے جو اپنی نماز میں خشوع اور خضوع اور عجزو زاری کرنے والے ہیں یعنی ان کے دل…
Read the full tafseer →4:۔ ” وَالَّذِیْنَ ھُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ الخ “ یہ امر دوم ہے یعنی وہ شرک نہیں کرتے لغو کو بعض مفسرین نے عام کیا ہے اور اس سے ہر باطل قول اور عمل مراد لیا ہے اقوال میں سب سے بڑا باطل شرک فی التصرف ہے اور اعمال میں سب سے بڑا باطل شرک فعلی ہے اس طرح یہ لفظ شرک اعتقادی اور شرک فعلی کو بطریق اولیٰ شامل ہے حضرت عبداللہ بن عباس اور امام ضحاک نے تو لغو سے مراد ہی شرک لیا اور بعض نے اس سے گانا بجانا مراد لیا ہے۔ قال ابن عباس عن الشرک (خازن و معالم ج 5 ص 32) ۔ وقال الضحاک ان اللغو ھنا الشرک و قال الحسن انہ المعاصی لھا فھذا قول جامع یدخل فیہ قول من قال ھو الشرک و قول من قال ھو الغناء (قرطبی ج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
نام اور کوائف :
اس سورة کا نام اس کی پہلی آیت میں آمدہ لفظ المومنون کے نام رکھا گیا ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی۔ مفسرین کے قول کے مطابق یہ سورة سابقہ سورة الحج کے معاً بعد نازل ہوئی۔ سورة ہذا ایک سو اٹھارہ آیات ، چھ رکو ، 1840 الفاظ اور 4801 حروف پر مشتمل ہے۔
گزشتہ سورة کے ساتھ ربط :
گزشتہ سورة کے آخری رکوع میں ہم پڑھ چکے ہیں یایھا الذین امنوا ارکعوا واسجدوا واعبدوا ربکم وافعلوا الخیر لعلکم تفلحون ، اے ایمان والو ! رکوع و سجود کرو اور اپنے پروردگار کی عبادت کرو۔ اور بھلائی کے کام کرو تاکہ تم فلاح پاجائو۔ اب اس سورة کی ابتداء میں بھلائی کے کاموں کی تشریح کی گئی ہے جن پر دنیا وآخرت کی…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ ہُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ 3ۙ
لغو
اللَّغْوُ من الکلام : ما لا يعتدّ به، وهو الذي يورد لا عن رويّة وفكر، فيجري مجری اللَّغَا، وهو صوت العصافیر ونحوها من الطّيور، قال أبو عبیدة : لَغْوٌ ولَغًا، نحو : عيب وعاب وأنشدهم :
407-
عن اللّغا ورفث التّكلّم
«5» يقال : لَغِيتُ تَلْغَى. نحو : لقیت تلقی، وقد يسمّى كلّ کلام قبیح لغوا . قال : لا يَسْمَعُونَ فِيها لَغْواً وَلا كِذَّاباً [ النبأ/ 35] ، وقال : وَإِذا سَمِعُوا اللَّغْوَ أَعْرَضُوا عَنْهُ [ القصص/ 55] ، لا يَسْمَعُونَ فِيها لَغْواً وَلا تَأْثِيماً [ الواقعة/ 25] ، وقال : وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ [ المؤمنون/…
Read the full tafseer →(3) والذین ھم عن اللغو معرضون سے وہ جو بیہودہ باتوں سے کنارہ کرتے ہیں لغو حرام اور مکروہ اور اس مباح فعل کو بھی کہتے ہیں کہ جس کی طرف انسان کو کوئی حاجت یا ضرورت نہ ہو۔ افسوس کہ آج کل مسلمان اس لغو میں کیسے مبتلا ہیں دنیاوی امور میں صدہا مکانات اور بےضرورت اسباب خرید اور بنا کر محتاج ہوجاتے ہیں بیاہ شادی میں اس لغو کا کچھ انتہا نہیں۔ آتشبازی ‘ ناچ رنگ کیا کیا ہوتا ہے اور اسی طرح دینی معاملات میں لغو کا ارتکاب ہوتا ہے۔ اولیاء اللہ کے مزارات مقدسہ پر کیا کچھ نہیں ہوتا ‘ پھر قبروں پر ناچ ہوتا ہے اور دیگر فضول باتیں ہوتی ہیں اور محرم میں تو کچھ انتہا ہی نہیں رہتا ہزار ہا روپیہ لگا کر تعزے بنتے…
Read the full tafseer →وَالَّذِیْنَ ھُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ ۔ (المومنون : 3)
(اور وہ لغویات سے احتراز کرتے ہیں۔ )
اہلِ ایمان کی ایک اور صفت
لغو سے مرادہر وہ قول اور فعل ہے جو زندگی کے اصل مقصود یعنی رضائے الہٰی سے غافل کرنے والاہو۔ اسلامی تربیت اور نماز کی پابندی انسان کی سیرت و کردار میں ایسی یک جہتی اور یکسوئی پیدا کرتی ہے کہ اس کا راستہ صراط مستقیم بن جاتا ہے۔ وہ اس صراط مستقیم پر چلتا ہوا دائیں بائیں دیکھنا گوارا نہیں کرتا۔ اس کی تمام توجہات رضائے الہٰی کے حصول پر مرکوز رہتی ہیں۔ وہ زندگی کے ایک ایک لمحے کو زندگی کے مقصد کے مطابق گزارنا فرض سمجھتا ہے۔ اسے ہمیشہ یہ احساس دامن گیر رہتا ہے کہ اگر میں کسی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : نماز بےحیائی سے بچاتی ہے اس لیے نماز کے بعد لغو سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔
مومنوں کی دوسری صفت یہ ہے کہ وہ بےہودہ باتوں سے اعراض کرتے ہیں۔
قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ نماز انسان کو برائی اور بےحیائی سے روکتی ہے (العنکبوت : 45) لہٰذا مومن کی یہ خوبی ہونی چاہیے کہ وہ ناصرف برائی اور بےحیائی سے اجتناب کرے بلکہ اسے لغو باتوں اور کاموں سے بھی بچنا چاہیے۔ دوسرے مقام پر عبادالرحمن کی یہ صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ بےہودہ باتوں کے قریب نہیں جاتے جب ان کا لغو اور بےہودہ کام کے قریب سے گزرنے کا اتفاق ہوتا ہے تو شریفانہ انداز سے گزر جاتے ہیں۔ (الفرقان : 72) عربی لغت میں ” لغو “ بےہودہ…
Read the full tafseer →3: وَالَّذِیْنَ ھُمْ عَنِ اللَّغْوِمُعْرِضُوْنَ (اور وہ لوگ جو لغو سے اعراض کرنے والے ہیں) ۔
اللَّغْوِ ، ہر گری ہوئی بات جو بےکار ہونے کی مستحق ہو مثلاً جھوٹ، گالی، بکواس، مطلب یہ ہے ان کو ایسا وقار حاصل ہے جو ہزل سے ان کو مصروف کرنے والا ہے۔ پچھلی آیت میں ان کی صفت خشوع فی الصلاۃ کی ذکر کی تو اس آیت میں ان کی دوسری صفت لغویات سے اعراض کی ذکر کردی۔ تاکہ نفوس پر گراں گزرنے والی دو باتیں ان میں جمع ہوجائیں۔ نمبر 1۔ فعل خشوع اور ترک لغو اور یہی دونوں چیزیں تکلیف کی عمارت کے بنیادی پتھر ہیں۔
Read the full tafseer →3۔ والذین ھم عن اللغو معرضون۔ عطاء نے حضرت ابن عباس ؓ عنہماکاقول نقل کیا ہے کہ لغو سے مراد شرک ہے اور حسن کا قول ہے کہ لغو سے مراد گناہ اور نافرمانیاں ہیں ۔ زجاج کا قول ہے کہ لغو سے مراد ہر باطل اور لھوچیز ہے۔ خواہ اس کا تعلق قول سے ہو یافعل سے ۔ بعض نے کہا کہ اس سے مراد کفار کے ساتھ معارضہ کرنا ہے برابھلا کہنا کے ساتھ یا گالی گلوچ کے ساتھ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ، واذامروا باللغو مروکراما۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب وہ بری بات سنتے ہیں تو خود اس کے اندر گھس نہیں پڑھتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
1۔ 11:۔ امام احمد بن حنبل ‘ ترمذی ‘ نسائی اور مستدرک حاکم میں حضرت عمر ؓ سے صحیح روایت 1 ؎ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اس سورت کے شروع کی یہ دس آیتیں جب نازل ہوئیں تو آنحضرت ﷺ نے 2 ؎ دعا مانگی ‘ جس دعا کا حاصل یہ ہے کہ یا اللہ اپنی نعمت کو روز بروز ہم پر بڑھا اور اپنی نعمت سے ہم کو محروم نہ رکھ اور اپنی رضا مندی کے کام ہم سے لے اور پھر آپ نے ان آیتوں کو پڑھ کر فرمایا جو کوئی اس دس آیتوں کے موافق عمل کرے گا بلا شک جنت میں داخل ہوگا۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور صحابہ ؓ نے ان آیتوں کی جو تفسیر 3 ؎ کی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آدمی کا ایمان مضبوط ہونا چاہیے اور نماز پڑھتے وقت ادھر ادھر نظر نہ ڈالنی چاہیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
آیت نمبر 1
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کی تعریف و تعظیم اور ان کی فلاح وسعادت کا ذکر ہے، نیز اس امر کا بیان ہے کہ وہ فلاح وسعادت کیسے حاصل کرسکتے ہیں اور اس ضمن میں اہل ایمان کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ان مذکورہ صفات سے متصف کریں۔ پس بندہ مومن ان آیات کی میزان پر اپنے آپ کا وزن کرے، اور یہ معلوم کرے کہ اس کے پاس اور دوسروں کے پاس قلت و کثرت یا اضافے اور کمی کے اعتبار سے کتنا ایمان ہے۔ پس فرمایا (قد افلاح المومنون) یعنی اہل ایمان کامیابی اور سعادت سے بہرہ مند ہوئے اور انہوں نے ہر دو چیز حاصل کرلی جس کا حصول اہل ایمان کا مقصود و مطلوب ہے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
قول باری ہے (والذین ھم عن اللغومعرضون اور لغوب بات سے دور رہتے ہیں) لغو بےفائدہ کام کو کہتے ہیں جس فعل اور قول کی یہ صفت ہو وہ ممنوع ہے ۔ حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ لغو باطل کو کہتے ہیں جس قومل کا کوئی فائدہ نہ ہو وہ باطل ہے اگرچہ باطل کے ذریعے کبھی فوری طور پر حاصل ہونے والے فوائد کی تلاش ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
3 ایمان ایمان کی دوسری خاص صفت : ۔ لغو باتوں سے احتراز و اجتناب : سو ان کی دوسری خاص صفت کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ وہ دور رہتے ہیں لغو باتوں سے : سو لغو باتوں سے احتراز ان لوگوں کی ایک اور خاص صفت ہے۔ یعنی یہ بچتے ہیں ہر اس قول و فعل سے جو کہ بےمقصد ہو۔ جس میں نہ دین کا کوئی فائدہ ہو نہ دنیا کا۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل، جامع البیان وغیرہ) ۔ نیز لغو سے مراد ہر وہ قول و فعل ہے جو انسانی زندگی کے اصل مقصد یعنی رضائے الہی کے حصول سے غافل کرنے والا ہو۔ قطع نظر اس سے کہ وہ مباح ہے یا غیر مباح۔ سو جس نماز کے اندر خشوع و خضوع پایا جائے گا اس کا انسانی زندگی پر یہ اثر پڑتا ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
مؤمنوں کی صفات اور وعدہ جنت الفردوس
تشریح : یہاں پر ان سات فرائض کا ذکر کیا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر فرض کیے ہیں۔ اگر بندہ واقعی اپنے آقا کا نمک حلال، یعنی فرمانبردار غلام ہے تو پھر وہ اپنے مالک کے دیے گئے احکامات سے کبھی غافل نہیں ہوسکتا بلکہ ان کی بجا آوری میں ہرگز تھوڑی سی بھی غفلت یا لاپرواہی نہیں کرسکتا۔ اللہ ہمارا مالک ہے اس نے ہی ہمیں پیدا کیا ہے اسی کے پاس واپس جانا ہے۔ اسی نے ہمارے کیے گئے کاموں کا حساب لینا ہے۔ وہی اس کے بدلے میں جنت یا جہنم دے گا۔ وہی ہر وقت ہر جگہ ہر صورت میں ہمیں دیکھ رہا ہے۔ ہم اس کی نگاہ سے ہرگز چھپ نہیں سکتے۔
خلاصہ یہ ” کہ مسلم پر واجب ہے کہ جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
سورة المؤمنون :
(رکوع نمبر 1)
اسرارومعارف
سورة مومنون بھی مکی سورتوں میں شمار کی گئی ہے اور اسی سابق مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے ایمان لانے والوں کے اوصاف کا تذکرہ فرماتے ہوئے شروع ہوتی ہے کہ جنہیں ایمان نصیب ہوا وہ فلاح پاگئے کامیاب ہوگئے فلاح کا ترجمہ اردو میں تو کامیابی ہی ہے مگر عربی زبان کے اعتبار سے اس کا معنی بہت وسیع ہے فلاح سے مکمل کامیابی مراد ہے ہر کام میں ہر وقت اور ہر عالم میں ، دنیا ہو دنیا کی تجارت ، سیاست یا امور ذاتی ہر جگہ کامیاب موت کے لمحات ہوں یا برزخ کا عرصہ کامیاب ، میدان حشر ہو یا آخرت کی زندگی کامیاب اور یہ کامیابی ایمان کا پھل ہے رہا یہ سوال کہ دنیا میں کون ہے جسے…
Read the full tafseer →3 ۔ ” لغو “ (نکمی بات) سے مراد باطل یعنی ہر فضول اور لایعنی قول یا فعل ہے۔ شرک اور گناہ کے تمام کام بھی اس کی تعریف میں آتے ہیں۔ (قرطبی)
Read the full tafseer →(23:3) معرضون۔ اسم فاعل جمع مذکر اعراض کرنے والے۔ روگردانی کرنے والے۔ اجتناب کرنے والے اعراض (افعال) مصدر
Read the full tafseer →(2) ان آیات میں اہل ایمان کی دوسری صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ لغو اور فضول باتوں سے دور رہتے ہیں۔ دراصل لغو ‘ فضول ‘ بیکار اور لا حاصل کاموں میں پڑ کر آدمی اپنی زندگی کے قیمتی لمحات کو ضائع اور برباد کرتا ہے۔ قرآن کریم میں ایک جگہ یہ ارشاد فرمایا کہ ” اہل ایمان جب کسی ایسی جگہ سے گذرتے ہیں جہاں لغو اور فضول باتیں ہورہی ہیں تو وہ وہاں سے مہذب طریقے پر پہلو بچا جاتے ہیں۔ یعنی وہ فضول باتوں کی ہمت افزائی نہیں کرتے اور وہ لوگ جو اس بےہودہ مشغلے میں لگے رہتے ہیں ان پر یہ ظاہر کردیتے ہیں کہ انہیں ایسی لغو اور گناہ کی باتوں سے کئی دلچسپی نہیں ہے۔ اسی طرح اللہ نے اہل ایمان سے جس جنت کا وعدہ کیا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
مسلمانوں کی جنت میں جانے کی شرائط۔
(ف 1) یہ سورت مومنون مکیہ ہے۔ مسند امام احمد بن حنبل ، ترمذی، نسائی میں حضرت عمر سے روایت ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے کہ اس سورت کے شروع کی دس آیتیں جب نازل ہوئیں تو نبی ﷺ نے دعا مانگی اس دعا کا حاصل یہ ہے کہ یا اللہ اپنی نعمت کو روز بروز ہم پر بڑھا ، اور اپنی نعمت سے ہم کو محروم نہ رکھ، اور اپنی رضامندی کے کام ہم سے لے اور پھر آپ نے آیتوں کو پڑھ کر فرمایا جو کوئی ان دس آیتوں کے موافق عمل کرے گا بلاشک جنت میں داخل ہوگا، ان آیتوں میں فرمایا کہ بیشک ایمان والے کامیاب ہوئے وہ جو اپنی نمازوں میں عاجزی کیا کرتے ہیں خشوع کا مطلب ، نماز میں عاجزی سے کھڑا ہو اور دنیا سے…
Read the full tafseer →[2] یعنی فضول اور بیکار مشغلوں میں وقت ضائع نہیں کرتے۔ '' لغو '' ہر اس بات یا کام کو کہتے ہیں جو فضول، لایعنی اور لاحاصل ہو اور جس کا کوئی فائدہ نہ ہو۔
Read the full tafseer →(3) اور جو بیکار اور لایعنی باتوں سے اعراض اور روگردانی کرتے ہیں یعنی لغو کام خواہ وہ قولی ہوں یا فعلی ان کی طرف دھیان ہی نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
ف 3۔ لغو کا ادنی درجہ گو مباح ہو مگر ترک اس کا اولی اور موجب مدح ہے، اور معصیت لغو کا اعلی درجہ ہے، اس کا ترک واجب ہے، پس لغو کے معنی ہیں غیر مفید، پھر اس کی دو قسم ہیں مضر وغیر مضر۔
Read the full tafseer →ایمان والوں کی دوسری علامت کہ وہ لغو سے منہ پھیر لیتے ہیں :
3۔ لغو کیا ہے ؟ ہر وہ بات جو شمار کے قابل نہ ہو یعنی جو غور وفکر سے نہ کی جائے ، اس کا ذکر سورة البقرہ کی آیت 225 میں گزر چکا ہ کے ‘ اس جگہ سے مراد ہر وہ فعل ہے جو فضول اور بےفائدہ ہو۔ ایمان کی علامات ونشانات میں اس جگہ یہ ایمان کی دوسری علامت یا نشانی کے طور پر بیان ہوا ہے گویا جو شخص فضول ‘ بےفائدہ اور ثبت کام کرے وہ ایمان کے خلاف کرے گا ۔ اس لئے کہ ایمان والوں کو بتایا جا رہا ہے کہ مومن کا ہر لمحہ بڑا ہی قیمتی ہے اس کے کندھوں پر ایک بہت بڑا بار کراں ہے اس لئے اس کو اتنی فرصت کہاں کہ وہ بیکار اور فضول کاموں میں شرکت کرے ۔ معلوم ہوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
What is Falah? How and from where can it be obtained?
قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ
Success is really attained by the believers - 23:1.
The word falah (translated above as 'success' ) has been used in the Qur'an and Sunnah on numerous occasions. The call to prayers invites every Muslim towards falah five times a day. The word signifies the attainment of all desires as well as protection from all misfortunes. (Qamus). It is so comprehensive in its connotation that it may be regarded as the acme of one's desire - but the total falah, where no desire remains unfulfilled or complete immunity…
Read the full tafseer →4. Literally, laghv is anything nonsensical, meaningless and vain, which is in no way conducive to achieving one’s goal and purpose in life. The believers pay no heed to such useless things and they show no inclination or interest for them. If by chance they see such things being indulged in, they keep away and avoid them scrupulously, or treat them with utmost indifference. This attitude has been described in (Surah Al-Furqan, Ayat 72), thus: If they have to pass by what is vain, they pass by like dignified people.
This is indeed one of the outstanding characteristics of the believer. He is…
Read the full tafseer →