Al-Muminoon 23:4

Al-Muminoon · from ayah 4

23:4

وَالَّذِیْنَ هُمْ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوْنَ ۟ۙوَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِلزَّكٰوةِ فَاعِلُوۡنَۙ

اور جو زکوٰة ادا کرتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And they who are observant of zakah

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Muminoon

All translations of 23:4

زکوٰۃ کے طریقے پر عامل ہوتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جو زکوٰة ادا کرتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

جو زکوٰة ادا کرنے والے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جو زکوٰۃ پر عمل کرنے والے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور وہ کہ زکوٰة دینے کا کام کرتے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جو (ہمیشہ) زکوٰۃ ادا (کر کے اپنی جان و مال کو پاک) کرتے رہتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور وہی جو زکوٰۃ ادا کرنے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جو زکوٰۃ ادا کرتے رہتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جو زکوۃ ادا کرتے رہنے والے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جو پابندی کرتے ہیں ادائیگی زکوٰۃ کی۔

— مولانا اسحاق مدنی

اور جو (اپنا) تزکیہ کرنے والے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور وہ جو ہر دم اپنے تزکیے کی طرف متوجہ رہنے والے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and who are performers of Zakah ,

— Muhammad Taqi Usmani

and who are performers of Zakah ,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And those who pay the Zakah.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And they who are observant of zakah

— Saheeh International

pay their religious tax

— Muhammad Sarwar

And who are givers of poor-rate,

— Muhammad Habib Shakir

And those who for the sake of purification are doers.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 23:4

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–11

دس آیتیں اور جنت کی ضمانت نسائی، ترمذی اور مسند احمد میں مروی ہے کہ حضرت رسول ﷺ پر جب وحی اترتی تو ایک ایسی میٹھی میٹھی، بھینی بھینی، ہلکی ہلکی سی آواز آپ کے پاس سنی جاتی جیسے شہد کی مکھیوں کے اڑنے کی بھنبھناہٹ کی ہوتی ہے۔ ایک مرتبہ یہی حالت طاری ہوئی۔ تھوڑی دیر کے بعد جب وحی اترچکی تو آپ نے قبلہ کی طرف متوجہ ہو کر اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر یہ دعا پڑھی کہ اے اللہ تو ہمیں زیادہ کر، کم نہ کر، ہمارا اکرام کر، اہانت نہ کر، ہمیں انعام عطا فرما، محروم نہ رکھ، ہمیں دوسروں پر کے مقابلے میں فضیلت دے، ہم پر دوسروں کو پسند نہ فرما، ہم سے خوش ہوجا اور ہمیں خوش کر دے۔ عربی کے الفاظ یہ ہیں۔ دعا (الہم زدنا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُؤْمِنُوْن 5 " زکوٰۃ دینے " اور " زکوٰۃ کے طریقے پر عامل ہونے " میں معنی کے اعتبار سے بڑا فرق ہے جسے نظر انداز کر کے دونوں کو ہم معنی سمجھ لینا صحیح نہیں ہے۔ آخر کوئی بات تو ہے جس کی وجہ سے یہاں مومنین کی صفات بیان کرتے ہوئے یُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃ کا معروف انداز چھوڑ کر للِزَّکوٰۃِ فَاعِلُوْنَ کا غیر معمولی طرز بیان اختیار کیا گیا ہے۔ عربی زبان میں زکوٰۃ کا مفہوم دو معنوں سے مرکب ہے۔ ایک " پاکیزگی "۔ دوسرے " نشو و نما "۔ کسی چیز کی ترقی میں جو چیزیں مانع ہوں ان کو دور کرنا، اور اس کے اصل جوہر کو پروان چڑھانا، یہ دو تصورات مل کر زکوٰۃ کا پورا تصور بناتے ہیں۔ پھر یہ لفظ جب اسلامی اصطلاح…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–6

سورة مومنون مکہ میں اتری اور اس کی ایک سو اٹھارہ آیتیں ہیں اور چھ رکوع فضائل و خصوصیات سورة مومنون مسند احمد میں حضرت فاروق اعظم عمر بن خطاب کی روایت ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ پر جب وحی نازل ہوتی تھی تو پاس والوں کے کان میں ایسی آواز ہوتی جیسے شہد کی مکھیوں کی آواز ہوتی ہے۔ ایک روز آپ کے قریب ایسی ہی آواز سنی گئی تو ہم ٹھہر گئے کہ تازہ آئی ہوئی وحی سن لیں۔ جب وحی کی خاص کیفیت سے فراغت ہوئی تو آنحضرت ﷺ قبلہ رخ ہو کر بیٹھ گئے اور یہ دعا کرنے لگے اللھم زدنا ولا تنقصنا و اکرمنا ولاتھنا واعطنا ولا تحرمنا واثرنا ولا توثر علینا وارض عنا و ارضنا (یعنی یا اللہ ہمیں زیادہ دے کم نہ کر اور ہماری…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

والذین ھم للزکوۃ فعلون (4) نماز کے بعد دین کا دوسرا ستون زکواۃ ہے نماز کے بعد دین کا دورسا سوتن جیسا کہ ہم اس کتاب میں وضاحت سے بیان کرچکے ہیں، زکوۃ ہے سورة مریم اور سورة انبیاء میں آپ تفصیل سے پڑھ آئے ہیں کہ ہر نبی کے باب میں یہ بات وارد ہوئی ہے کہ کان یامراھلہ باللوۃ والزکوۃ (وہ اپنے لوگوں کو نماز اور زکوۃ کی تعلیم دیتا تھا) اس زکوۃ کی قانونی شکل ہر دین میں کچھ مختلف رہی ہے لیکن انفاق فی سبیل اللہ کی تعبیر کے لئے یہ ایک جامع اور معروف لفظ ہے اور اس کی حیثیت دین میں نماز کے مثنیٰ اور اس کے مظہر اول کی ہے۔ نماز بندے کو خالق سے جوڑتی ہے اور زکوۃ بندے کو بندوں کے ساتھ مربوط کرتی ہے اور جو بندہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 4–6

4-1اس سے مراد بعض کے نزدیک زکوٰۃ مفروضہ ہے، (جس کی تفصیلات یعنی اس کا نصاب اور زکوٰۃ کی شرع مدینہ میں بتلائی گئی تاہم) اس کا حکم مکہ میں ہی دے دیا گیا تھا اور بعض کے نزدیک ایسے افعال کا اختیار کرنا ہے، جس سے نفس اور اخلاق و کردار کی پاکیزگی ہو۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

3: زکوٰۃ کے لفظی معنی ہیں کسی چیز کو پاک صاف کرنا۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر جو فریضہ عائد کیا ہے کہ وہ اپنے مال میں سے کچھ حصہ غریبوں کے لیے نکالیں، اسے زکوٰۃ اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس سے ان کا باقی مال بھی پاک صاف ہوجاتا ہے، اور ان کے دلوں کو بھی پاکی حاصل ہوتی ہے۔ یہاں زکوٰۃ سے مراد وہ مالی فریضہ بھی ہوسکتا ہے۔ اور اس کے دوسرے معنی بھی مراد ہوسکتے ہیں۔ یعنی اپنے آپ کو برے اعمال اور اخلاق سے پاک صاف کرنا۔ اس کو تزکیہ بھی کہتے ہیں۔ قرآن کریم نے یہاں زکوٰۃ کے ساتھ ادا کرنے کے بجائے زکوٰۃ پر عمل کرنے والے کا جو لفظ استعمال فرمایا ہے، اس کی وجہ سے بہت سے مفسرین نے یہاں دوسرے معنی کو ترجیح دی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–11

درس نمبر 145 تشریح آیات (1 تا 22) قد افلح خلدون (ا تا 11) یہ ایک پختہ وعدہ ہے بلکہ یہ عالم بالا کی ایک وہ ٹوک قرار داد ہے کہ مومنین فلاح پائیں گے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ اللہ تو کبھی اپنے عہد کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ پھر یہ اللہ کا فیصلہ ہے اور اللہ کے فیصلے کو کوئی رد نہیں کرسکتا کہ مومنین دنیا میں بھی فلاح پائیں گے اور آخرت میں بھی فلاح پائیں گے ۔ ایک مومن انفرادی طور پر فلاح پائے گا اور اہل ایمان کی جماعت بھی فلاح پائیں گی۔ ایسی کامیابی جسے ایک مومن اپنے دل اپنی حقیقی زندگی میں محسوس کرتے ہوں اور اس کے اندر فلاح کے وہ تمام مفہوم پائے جاتے ہوں جن سے دنیا با خبر ہے اور وہ مفاہیم بھی پائے جاتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی ان کی عادت ہے کہ ہمیشہ زکوٰۃ ادا کرتے رہتے ہیں۔ ایسا نہیں کہ کبھی دی کبھی نہ دی، غالباً اسی لیے " یُؤدُّوْنَ الزکوٰۃ " کی جگہ " لِلزَّکوٰۃِ فَاعِلُوْنَ " کی ترکیب اختیار فرمائی۔ گویا بتلادیا کہ زکوٰۃ ادا کرنا ان کا مستمرکام ہے۔ مترجم محقق قدس اللہ روحہ نے " دیا کرتے ہیں ' کہہ کر ادھر اشارہ کردیا۔ بعض مفسرین نے یہاں زکوٰۃ کو " طہارت " (پاکیزگی) یا تزکیہ نفس کے معنی میں لیا ہے۔ گویا آیت حاضرہ کو (قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰى) 87 ۔ الاعلیٰ :14) اور (قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰى) 91 ۔ الشمس :9) کے مشابہ قرار دیا ہے۔ اگر یہ مراد ہو تو اس کے مفہوم کو عام رکھا جائے جس میں بدن کا، دل کا اور مال…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 4–5

آیت 4 وَالَّذِیْنَ ہُمْ للزَّکٰوۃِ فٰعِلُوْنَ ” یہ کامیاب وبامراد اہل ایمان کا تیسرا وصف بیان ہوا۔ یہاں ”زکوٰۃ“ کا لفظ اصطلاحی معنی میں نہیں بلکہ اپنے لغوی معنی میں آیا ہے اور اس سے مراد تزکیۂ نفس ہے۔ اس لیے کہ یہ ابتدائی مکی دور کی سورت ہے اور اس وقت تک زکوٰۃ ادا کرنے کا ابھی کوئی تصور نہیں تھا۔ ویسے بھی قرآن حکیم میں زکوٰۃ کے ساتھ عموماً لفظ ”ایتاء“ آتا ہے۔ چناچہ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کے مؤمن بندے ہمہ وقت ‘ ہمہ تن اپنے نفس کے تزکیے کے لیے کوشاں اور اپنے دامن کے داغ دھبے دھونے کے بارے میں فکر مند رہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

4 زکوٰۃ (زکی۔ ذکو) کے معنی بالیدگی، نشوونما پانا، بڑھنا اور عمدہ ہونا ہے اور ذکی کے معنی کسی چیز کو عمدہ بنانا، اس کی اصلاح کرنا اور آگے بڑھانا ہے۔ اور تزکیہ نفس کے معنی نفس کو روحانی آلائشوں، بیماریوں یا اخلاق رذیلہ سے پاک صاف کرکے اوصاف حمیدہ پیدا کرنا ہے جیسے ارشاد باری ہے۔ ( قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا ۝۽) 91 ۔ الشمس :9) یعنی جس نے اپنے نفس کو پاکیزہ بنا لیا وہ کامیاب ہوگیا اور زکوٰۃ کے مفہوم میں یہ سب باتیں شامل ہیں اور زکوٰۃ سے جو دو فائدے زکوٰۃ ادا کرنے والے کو پہنچتے ہیں وہ ہیں تطہیر مال اور تزکیہ نفس (9: 103) اور زکوٰۃ سے جو فائدہ معاشرہ کو پہنچتا ہے وہ یہ ہے کہ اس غریبوں اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

4۔ (اعمال میں، اخلاق میں) الزکوۃ یہاں اصطلاح معنی میں نہیں لغوی معنی میں ہے۔ ابومسلم سے یہی معنی منقول ہیں۔ ان فعل الزکوۃ یقع علی کل فعل محمود مرضی (کبیر) الظاہر ان المراد بالزکوۃ المعنی المصدری اعنی التزکیۃ (روح) (آیت) ” للزکوۃ “۔ ل یہاں غایت کے لئے ہے۔ اللام فیہ للعلۃ والقصد (راغب) یعنی ان کا مقصود اعمال وافعال سے یہی ہوتا ہے کہ اپنے کو پاک وصاف کریں۔ یفعلون ما یفعلون من العبادۃ لیزکیھم اللہ تعالیٰ اولیزکوا انفسھم (راغب) قال صاحب الکشاف عنی عن الایۃ الذین ھم لاجل الطھارۃ وتزکیۃ النفس عاملون الخیر (روح) قیل الزکوۃ ھنا لنماء والزیادۃ واللام لام العلۃ ومعمول فاعلون محذوف التقدیر والذین ھم لاجل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–22

بسم اللہ الرحمن الرحیم آیت نمبر 1 تا 22 ترجمہ : بلاشبہ مومنین کامیاب ہوئے جو اپنی نمازوں میں تواضع اختیار کرنے والے ہیں، قَدْ تحقیق کیلئے ہے اور جو لغو باتوں وغیرہ سے اعراض کرنے والے ہیں اور جو زکوۃ ادا کرنے والے ہیں اور جو حرام سے اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں لیکن اپنی بیبیوں سے یا ان عورتوں سے جن کے وہ مالک ہیں یعنی باندیوں سے کیونکہ ان کے پاس آنے میں (جماع کرنے میں) ان پر کوئی الزام نہیں ہاں جو ان کے علاوہ یعنی بیبیوں اور باندیوں کے علاوہ مثلاً استمنا بالید کا طالب ہو تو ایسے لوگ حد سے بڑھنے والے ہیں یعنی ایسی چیز کی طرف تجاوز کرنے والے ہیں جو ان کیلئے حلال نہیں ہے اور جو اپنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

والذین ہم للزکوۃ فعلون۔ اور جو اپنا تزکیہ کرنے والے ہیں زکوٰۃ اس مالی مقدار کو بھی کہتے ہیں جس کو زکوٰۃ دینے والا ادا کرتا ہے اور زکوٰۃ ادا کرنے کو بھی زکوٰۃ کہا جاتا ہے (یعنی مصدر بھی ہے) آیت میں لفظ فاعلون موجود ہے (اور فعل کا وقوع نفس مال پر نہیں ہوسکتا بلکہ فعل کا تعلق ادا کرنے سے ہے) اس لئے اس جگہ زکوٰۃ ادا کرنا ہی مراد ہے اور اگر زکوٰۃ سے مقدار مالی مراد ہوگی تو لفظ الزکوٰۃ سے پہلے لفظ ادا محذوف ماننا پڑے گا۔ یعنی فاعلون لاداء الزکوٰۃ۔ لفظ فاعلون سے اس طرف اشارہ ہے کہ وہ پابندی کے ساتھ زکوٰۃ ادا کرتے ہیں بعض اہل علم کا قول ہے کہ زکوٰۃ سے مراد ہے عمل صالح۔ یعنی وہ نیک عمل کرنے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 3–7

(3۔ 7) اور جو بیہودہ باتوں اور جھوٹی قسموں سے کنارہ کشی کرنے والے ہیں اور جو اپنے اموال کی زکوٰۃ ادا کرنے والے ہیں اور جو اپنی شرم گاہوں کو حرام شہوت رانی سے پاک رکھنے والے ہیں لیکن اپنی چاروں بیویوں سے یا اپنی شرعی لونڈیوں سے کیوں کہ ان پر اس حلال طریقہ میں کوئی الزام نہیں، البتہ جو حلال راستہ کے علاوہ اور مقام پر شہوت رانی کا طلب گار ہو تو ایسے حلال اور پاکیزہ طریقہ سے حرام اور گندے راستہ کی طرف بڑھنے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَالَّذِيْنَ هُمْ للزَّكٰوةِ فٰعِلُوْنَ : زکوٰۃ کا لفظ طہارت پر بولا جاتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰى) [ الأعلٰی : 14 ] ”بیشک وہ کامیاب ہوگیا جو پاک ہوگیا۔“ اور کسی چیز کے بڑھنے پر بھی، جیسا کہ کہا جاتا ہے : ”زَکَا الزَّرْعُ“ ”کھیتی بڑھ گئی۔“ زکوٰۃ ارکان اسلام میں سے ایک رکن کا نام بھی ہے، جو مال میں سے ایک مخصوص حصے کی ادائیگی پر بولا جاتا ہے، کیونکہ اس عمل سے نفس کو پاکیزگی حاصل ہوتی ہے اور مال میں اضافہ بھی ہوتا ہے۔ اس معنی کے مطابق ”لِلزَّكٰوةِ“ کا لام اسم فاعل کی تقویت کے لیے ہوگا۔ مطلب یہ ہے کہ وہ زکوٰۃ کا عمل کرنے والے ہیں۔ (بقاعی) قرآن میں عام طور پر نماز اور…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 1–4

مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قد افلح المومنون۔ بیہقی نے حضرت انس کی حدیث روایت کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :” جب اللہ تعالیٰ نے جنت عدن کو تخلیق فرمایا اور اپنے دست قدرت سے اس کے درخت لگائے اور اسے فرمایا تو بول تو اس نے کہا : قد افلح المومنون۔ (1) نسائی نے حضرت عبد اللہ بن سائب سے روایت کیا ہے فرمایا : میں فتح مکہ کے دن بنی پاک ﷺ کی بارگاہ میں حاضر تھا۔ آپ ﷺ نے کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھی (1) آپ ﷺ نے اپنے نعلین اتارے اور انہیں اپنی بائیں جانب رکھا اور سورة المومنون سے تلاوت کی جب حضرت موسیٰ یا حضرت عیسیٰٗ کے ذکر پر پہنچے تو آپ کو کھانسی آگئی آپ نے وہاں رکوع کردیا۔ امام مسلم…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 3–9

1۔ ابن جریر، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت والذین ہم عن اللغو معرضون میں لغو سے مراد باطل ہے۔ 2۔ عبد الرزاق، ابن جریر اور ابن المنذر نے روایت کیا ہے کہ حسن (رح) سے نے فرمایا کہ آیت والذین ہم عن اللغو میں لغو سے مراد گناہ ہیں۔ 3۔ ابن المبارک (رح) نے روایت کیا ہے کہ قتادہ (رح) نے آیت والذین ہم عن الغو معرضون کے بارے میں فرمایا کہ اللہ کی قسم جب ان کے پاس اللہ کا حکم آیا تو انہوں نے باطل میں سے ہر چیز کو گرادیا (یعنی باطل باتوں اور کاموں سے اعراض کرتے ہیں) ۔ 4۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر رحمۃ الہ علیہ سے روایت کیا کہ آیت والذین ہم للزکوۃ فعلون، یعنی وہ مالوں کی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَالَّذِيْنَ [ اور وہ لوگ ] هُمْ [ جو ] لِلزَّكٰوةِ [ زکوۃ کے لئے ] فٰعِلُوْنَ [ عمل کرنے والے ہیں ] نوٹ۔ 1: قرآن کریم میں عام طور پر لفظ زکوۃ اصطلاحی معنی میں آتا ہے یعنی مال کا ایک خاص حصہ کچھ شرائط کے ساتھ صدقہ کرنے کو زکوۃ کہتے ہیں ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 4 ۔ میں اس لفظ کے اصطلاحی معنی لینے سے یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ آیت مکہ ہے جبکہ زکوۃ مدینہ میں فرض ہوئی ۔ اس کا جواب ابن کثیر اور دیگر مفسرین کی طرف سے یہ ہے کہ زکوۃ کی فرضیت مکہ ہی میں ہوچکی تھی ۔ سورة مزمل بالاتفاق مکی ہے ۔ اس میں بھی آیت ، اقیموا الصلوۃ اتوالزکوۃ کا ذکر موجود ہے مگر سرکاری طور پر اس کے وصول کرنے کا انتظام اور نصابات…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اہل ایمان کا تیسرا وصف بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا (وَالَّذِیْنَ ھُمْ للزَّکٰوۃِ فَاعِلُوْنَ ) (اور جو لوگ زکوٰۃ ادا کرنے والے ہیں) لفظ زکوٰۃ اپنے لغوی معنی کے اعتبار سے پاک صاف ہونے کے معنی پر دلالت کرتا ہے (اور اسی لیے مال کا ایک حصہ بطور فرض فقراء اور مساکین کو دینے کا نام زکوٰۃ رکھا گیا ہے کیونکہ اس سے نفس بھی بخل سے پاک ہوتا ہے اور مال میں بھی پاکیزگی آجاتی ہے) لغوی معنی کے اعتبار سے بعض مفسرین کرام نے آیت کا یہ مطلب بھی بتایا ہے کہ اپنے نفس کو برے اخلاق سے پاک رکھنے والے ہیں، انسان کے اندر سے بخل، حسد، حب جاہ، حب مال، ریا کے جذبات امنڈ کر آتے ہیں ان رذائل سے پاک ہونا اور نفس کو دبانا،…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–11

صفات مومنین مفلحین قال اللہ تعالیٰ ۔ قد افلح ال مومن ون .... الیٰ .... ہم فیہا خلدون۔ (ربط) گزشتہ سورت کے اخیر میں اعمال خیر کا حکم اور فلاح کی امید کا ذکر تھا۔ اب ان آیات میں مومنین صالحین کے لیے وقوع فلاح کی خبر دیتے ہیں کہ بلاشبہ وہ مسلمان کامیاب ہیں جن میں یہ سات صفتیں پائی جاتی ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں تحقیق فلاح پائی اہل ایمان نے جس کی پہلے ہی سے اہل ایمان کو امید اور توقع تھی۔ اہل ایمان سے اہل تصدیق اور اہل اطمینان مراد ہے۔ اب اس بشارت کے بعد ان مومنین کی صفات بیان کرتے ہیں۔ ؂ اول صفت خشوع ان میں سے پہلی صفت یہ ہے جو اپنی نماز میں خشوع اور خضوع اور عجزو زاری کرنے والے ہیں یعنی ان کے دل…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

5:۔ ” وَّالَّذِیْنَ ھُمْ لِلزَّکٰوةِ فٰعِلُوْنَ الخ “ یہ بھی امر دوم ہی سے متعلق ہے کچھ مفسرین نے زکوۃ کو یہاں زکوۃ مالیہ پر محمول کیا ہے لیکن اس پر یہ اشکال ہے کہ یہ سورت مکی ہے لیکن زکوۃ مکہ میں فرض نہ تھی بلکہ مدینہ میں فرض ہوئی بعض محققین نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ مدینہ میں نصاب اور قدر زکوۃ کی فضیت نازل ہوئی تھی لیکن اصل زکوۃ مکہ میں فرض ہوئی۔ قال بعض المحققین فرضت بالمدینہ نصابھا وقدرھا واما اصلھا فقد کان واجبا بمکۃ (جامع البیان ص 298) ۔ یا زکوۃ سے زکوۃ نفوس مراد ہے یعنی وہ اپنے نفوس کو عقائد باطلہ اور اعمال مشرکانہ سے پاک رکھتے ہیں۔ او المراد زکوۃ النفس و تطھیرھا من الرزائل (جامع) ۔…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–11

نام اور کوائف : اس سورة کا نام اس کی پہلی آیت میں آمدہ لفظ المومنون کے نام رکھا گیا ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی۔ مفسرین کے قول کے مطابق یہ سورة سابقہ سورة الحج کے معاً بعد نازل ہوئی۔ سورة ہذا ایک سو اٹھارہ آیات ، چھ رکو ، 1840 الفاظ اور 4801 حروف پر مشتمل ہے۔ گزشتہ سورة کے ساتھ ربط : گزشتہ سورة کے آخری رکوع میں ہم پڑھ چکے ہیں یایھا الذین امنوا ارکعوا واسجدوا واعبدوا ربکم وافعلوا الخیر لعلکم تفلحون ، اے ایمان والو ! رکوع و سجود کرو اور اپنے پروردگار کی عبادت کرو۔ اور بھلائی کے کام کرو تاکہ تم فلاح پاجائو۔ اب اس سورة کی ابتداء میں بھلائی کے کاموں کی تشریح کی گئی ہے جن پر دنیا وآخرت کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَالَّذِيْنَ ہُمْ لِلزَّكٰوۃِ فٰعِلُوْنَ ۝ 4ۙ زكا أصل الزَّكَاةِ : النّموّ الحاصل عن بركة اللہ تعالی، ويعتبر ذلک بالأمور الدّنيويّة والأخرويّة . يقال : زَكَا الزّرع يَزْكُو : إذا حصل منه نموّ وبرکة . وقوله : أَيُّها أَزْكى طَعاماً [ الكهف/ 19] ، إشارة إلى ما يكون حلالا لا يستوخم عقباه، ومنه الزَّكاةُ : لما يخرج الإنسان من حقّ اللہ تعالیٰ إلى الفقراء، وتسمیته بذلک لما يكون فيها من رجاء البرکة، أو لتزکية النّفس، أي : تنمیتها بالخیرات والبرکات، أو لهما جمیعا، فإنّ الخیرین موجودان فيها . وقرن اللہ تعالیٰ الزَّكَاةَ بالصّلاة في القرآن بقوله : وَأَقِيمُوا الصَّلاةَ وَآتُوا الزَّكاةَ [ البقرة/ 43] ،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

(4) والذین ھم للزکوۃ فاعلون وہ جو اپنے مال اللہ کے رستہ میں ایک حصہ معین دیا کرتے ہیں اور ایسے حصہ معین کو زکوٰۃ کہتے ہیں اس کے لیے فاعلون کا لفظ لانا نہایت فصاحت ہے۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِلزَّکٰوۃِ فٰعِلُوْنَ ۔ (المومنون : 4) (اور وہ جو زکوٰۃ ادا کرتے رہنے والے ہیں۔ ) زکوٰۃ دوسرا ستون ہے اصحابِ ایمان کی تیسری صفت زکوٰۃ کی صورت میں بیان کی جارہی ہے۔ قرآن کریم میں ہم دیکھتے ہیں کہ پروردگار نے مسلمانوں کی تعمیرِ کردار، شیرازہ بندی، اللہ تعالیٰ اور دین سے گہری وابستگی اور انتہا درجے کا نظم وضبط، پیدا کرنے کے لیے نماز کا جابجا حکم دیا ہے۔ اور اس کے ساتھ ہی ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم میں بیشتر مواقع پر نما ز کے ساتھ زکوٰۃ کا بھی حکم دیا گیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ دین کا دوسرا ستون ہے۔ انبیائے کرام کی دعوتی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے قرآن کریم نے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : مومنوں کی تیسری صفت۔ مومن نا صرف ذاتی طور پر لغویات سے پاک ہوتا ہے بلکہ اس کا مال بھی ہر آلائش سے پاک ہوتا ہے۔ لفظ زکوٰۃ کا معنٰی نمود اور کسی چیز کو پاک کرنا ہے۔ انسان جب اپنے مال سے زکوٰۃ ادا کرتا ہے تو ایک طرف اس کا مال پاک ہوجاتا ہے اور دوسری طرف اس کا دل بخل اور بےجا حرص سے نجات پاتا ہے۔ (1) سالانہ حساب و کتاب کا اہتمام : اسلام بیخبر ی ‘ بدنظمی اور دنیا سے عد مِ دلچسپی کا نام نہیں اسلام تو باخبر رہنے ‘ منظم اور اپنی ذمہ داریوں کے حوالے سے معاملات میں گہری دلچسپی لینے کی تعلیم دیتا ہے۔ یہ ذمہ داریاں دین کے حوالے سے ہوں یا دنیاوی امور کے متعلق ‘ شریعت کا حکم ہے کہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

4: وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِلزَّکٰوۃِ فَاعِلُوْنَ (اور وہ لوگ جو زکوٰۃ کو ادا کرنیوالے ہیں) فاعلون کا معنی ادا کرنے والے ہیں۔ فاعلون ؔ کے استعمال سے ان کی مداومت کو ثابت کیا۔ مؤدون کا لفظ یہ مداومت نہیں رکھتا۔ ایک قول الزکوٰۃ کا لفظ مشترک ہے اس کا اطلاق اعیان پر ہوتا ہے تو اس سے وہ مالی مقدار مراد لی جائے گی جسے زکوٰۃدینے والا نصاب میں سے فقیر کے سپرد کرتا ہے اور اگر اسکا اطلاق معنی پر ہو تو پھر مراد اس سے تزکیہ کا فعل جو پاکیزگی والا انجام دیتا ہے۔ مفسر کی رائے : یہاں یہی مراد ہے تزکیہ کرنے والوں کو فاعلین کہا کیونکہ فعل کا لفظ تمام افعال کو عام ہے جیسے الضرب، القتل وغیرہ۔ تم کہو گے فعل : الضرب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر۔ 4۔ والذین ھم للزکواۃ فاعلون۔ جوان پر زکوت واجب ہے وہ ادا کرتے ہیں زکوۃ ادا کرنے والوں کو فعل کے ساتھ تعبیر کیا ہے کیونکہ فعل کا وقوع نفس مال پر نہیں ہوسکتا بلکہ فعل کا تعلق ادا کرنے سے ہے۔ بعض اہل علم کا قول ہے کہ یہاں زکوۃ سے مراد عمل صالح ہے یعنی وہ نیک عمل کرنے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–11

1۔ 11:۔ امام احمد بن حنبل ‘ ترمذی ‘ نسائی اور مستدرک حاکم میں حضرت عمر ؓ سے صحیح روایت 1 ؎ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اس سورت کے شروع کی یہ دس آیتیں جب نازل ہوئیں تو آنحضرت ﷺ نے 2 ؎ دعا مانگی ‘ جس دعا کا حاصل یہ ہے کہ یا اللہ اپنی نعمت کو روز بروز ہم پر بڑھا اور اپنی نعمت سے ہم کو محروم نہ رکھ اور اپنی رضا مندی کے کام ہم سے لے اور پھر آپ نے ان آیتوں کو پڑھ کر فرمایا جو کوئی اس دس آیتوں کے موافق عمل کرے گا بلا شک جنت میں داخل ہوگا۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور صحابہ ؓ نے ان آیتوں کی جو تفسیر 3 ؎ کی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آدمی کا ایمان مضبوط ہونا چاہیے اور نماز پڑھتے وقت ادھر ادھر نظر نہ ڈالنی چاہیے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–11

آیت نمبر 1 یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کی تعریف و تعظیم اور ان کی فلاح وسعادت کا ذکر ہے، نیز اس امر کا بیان ہے کہ وہ فلاح وسعادت کیسے حاصل کرسکتے ہیں اور اس ضمن میں اہل ایمان کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ان مذکورہ صفات سے متصف کریں۔ پس بندہ مومن ان آیات کی میزان پر اپنے آپ کا وزن کرے، اور یہ معلوم کرے کہ اس کے پاس اور دوسروں کے پاس قلت و کثرت یا اضافے اور کمی کے اعتبار سے کتنا ایمان ہے۔ پس فرمایا (قد افلاح المومنون) یعنی اہل ایمان کامیابی اور سعادت سے بہرہ مند ہوئے اور انہوں نے ہر دو چیز حاصل کرلی جس کا حصول اہل ایمان کا مقصود و مطلوب ہے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 3–4

قول باری ہے (والذین ھم عن اللغومعرضون اور لغوب بات سے دور رہتے ہیں) لغو بےفائدہ کام کو کہتے ہیں جس فعل اور قول کی یہ صفت ہو وہ ممنوع ہے ۔ حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ لغو باطل کو کہتے ہیں جس قومل کا کوئی فائدہ نہ ہو وہ باطل ہے اگرچہ باطل کے ذریعے کبھی فوری طور پر حاصل ہونے والے فوائد کی تلاش ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 3–5

3 ایمان ایمان کی دوسری خاص صفت : ۔ لغو باتوں سے احتراز و اجتناب : سو ان کی دوسری خاص صفت کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ وہ دور رہتے ہیں لغو باتوں سے : سو لغو باتوں سے احتراز ان لوگوں کی ایک اور خاص صفت ہے۔ یعنی یہ بچتے ہیں ہر اس قول و فعل سے جو کہ بےمقصد ہو۔ جس میں نہ دین کا کوئی فائدہ ہو نہ دنیا کا۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل، جامع البیان وغیرہ) ۔ نیز لغو سے مراد ہر وہ قول و فعل ہے جو انسانی زندگی کے اصل مقصد یعنی رضائے الہی کے حصول سے غافل کرنے والا ہو۔ قطع نظر اس سے کہ وہ مباح ہے یا غیر مباح۔ سو جس نماز کے اندر خشوع و خضوع پایا جائے گا اس کا انسانی زندگی پر یہ اثر پڑتا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–11

مؤمنوں کی صفات اور وعدہ جنت الفردوس تشریح : یہاں پر ان سات فرائض کا ذکر کیا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر فرض کیے ہیں۔ اگر بندہ واقعی اپنے آقا کا نمک حلال، یعنی فرمانبردار غلام ہے تو پھر وہ اپنے مالک کے دیے گئے احکامات سے کبھی غافل نہیں ہوسکتا بلکہ ان کی بجا آوری میں ہرگز تھوڑی سی بھی غفلت یا لاپرواہی نہیں کرسکتا۔ اللہ ہمارا مالک ہے اس نے ہی ہمیں پیدا کیا ہے اسی کے پاس واپس جانا ہے۔ اسی نے ہمارے کیے گئے کاموں کا حساب لینا ہے۔ وہی اس کے بدلے میں جنت یا جہنم دے گا۔ وہی ہر وقت ہر جگہ ہر صورت میں ہمیں دیکھ رہا ہے۔ ہم اس کی نگاہ سے ہرگز چھپ نہیں سکتے۔ خلاصہ یہ ” کہ مسلم پر واجب ہے کہ جس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–22

سورة المؤمنون : (رکوع نمبر 1) اسرارومعارف سورة مومنون بھی مکی سورتوں میں شمار کی گئی ہے اور اسی سابق مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے ایمان لانے والوں کے اوصاف کا تذکرہ فرماتے ہوئے شروع ہوتی ہے کہ جنہیں ایمان نصیب ہوا وہ فلاح پاگئے کامیاب ہوگئے فلاح کا ترجمہ اردو میں تو کامیابی ہی ہے مگر عربی زبان کے اعتبار سے اس کا معنی بہت وسیع ہے فلاح سے مکمل کامیابی مراد ہے ہر کام میں ہر وقت اور ہر عالم میں ، دنیا ہو دنیا کی تجارت ، سیاست یا امور ذاتی ہر جگہ کامیاب موت کے لمحات ہوں یا برزخ کا عرصہ کامیاب ، میدان حشر ہو یا آخرت کی زندگی کامیاب اور یہ کامیابی ایمان کا پھل ہے رہا یہ سوال کہ دنیا میں کون ہے جسے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

4 ۔ یعنی زکوٰۃ ادا کرنا ان کی عادت ہے۔ اگر کہا جائے کہ یہ آیت مکی ہے حالانکہ زکوٰۃ کی فرضیت 3 ھ میں مدینہ میں ہوئی تو اس کا جواب یہ ہے کہ اصل زکوٰۃ مکہ میں فرض تھی مدینہ میں اس کا نصاب اور شرح مقرر ہوئی۔ جیسا کہ سورة انعام میں فرمایا گیا : واتوا حقہ یوم حصادہ “ اور کٹائی کے دن فصل کا حق ادا کرو حالانکہ سورة انعام بھی مکی ہے۔ بعض مفسرن نے یہاں ” زکوٰۃ “ کو طہارت (پاکیزگی) کے معنی میں لیا ہے۔ اگر یہ مراد ہو تو اس کے مفہوم کو عام رکھا جائے گا جس میں بدن، مال اور نفس ہر چیز کو پاک رکھنا شامل ہے۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(23:4) فعلون۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ فعل مصدر فعل اسم مصدر کرنے والے، یہاں فعلون دو معنی ہوسکتے ہیں۔ (1) یہ کہ لاداء الزکوۃ فاعلون وہ زکوۃ کی ادائیگی کرنے والے ہیں۔ اس صورت میں فعل پر دوام اور ثبات کے معنی ہوں گے۔ یعنی وہ زکوۃ کو ہمیشہ باقاعدگی سے ادا کرنے والے ہیں ! (2) یہ کہ زکوۃ بمعنی تزکیہ نفس بھی ہوسکتا ہے اس صورت میں اس کے معنی ہوں گے کہ وہ تزکیہ نفس میں کوشاں رہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

(3) مومنوں کی تیسری صفت اور خوبی یہ ہے کہ وہ ” زکوۃ ادا کرتے ہیں “ یعنی جس طرح نماز میں خشوع و خضوع اور عاجزی و انکساری سے سکون قلب کی دولت نصیب ہوتی ہے اسی طرح لغویات سے بچنے میں ذہن و فکر پاک صاف ہوجاتا ہے۔ اور اپنی محنت سے کمائی ہوئی حلال دولت میں سے جب زکوۃ ادا کی جاتی ہے تو اس کا مال پاک اور صاف ہوجاتا ہے کیونکہ زکوۃ کے معنی پاک صاف کرنے ہی کے آتے ہیں۔ درحقیقت جو شخص زکوۃ ادا کرتا ہے وہ نہ صرف اپنے مال کو پاک کرتا ہے بلکہ اس کا وہ نفس جو اس کو خواہشات کے نیچے دبائے رکھتا ہے غرورو تکبر ‘ ریاکاری اور دکھاوا ‘ بغض و حسد ‘ لالچ اور کنجوسی جیسی گندگیوں سے دور کر کے اس کے نفس کو پاکیزہ بنا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–11

مسلمانوں کی جنت میں جانے کی شرائط۔ (ف 1) یہ سورت مومنون مکیہ ہے۔ مسند امام احمد بن حنبل ، ترمذی، نسائی میں حضرت عمر سے روایت ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے کہ اس سورت کے شروع کی دس آیتیں جب نازل ہوئیں تو نبی ﷺ نے دعا مانگی اس دعا کا حاصل یہ ہے کہ یا اللہ اپنی نعمت کو روز بروز ہم پر بڑھا ، اور اپنی نعمت سے ہم کو محروم نہ رکھ، اور اپنی رضامندی کے کام ہم سے لے اور پھر آپ نے آیتوں کو پڑھ کر فرمایا جو کوئی ان دس آیتوں کے موافق عمل کرے گا بلاشک جنت میں داخل ہوگا، ان آیتوں میں فرمایا کہ بیشک ایمان والے کامیاب ہوئے وہ جو اپنی نمازوں میں عاجزی کیا کرتے ہیں خشوع کا مطلب ، نماز میں عاجزی سے کھڑا ہو اور دنیا سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 4–5

[3] یعنی ان کی عادت ہے کہ ہمیشہ زکوٰۃ ادا کرتے رہتے ہیں۔ ایسا نہیں کہ کبھی دی کبھی نہ دی۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(4) اور جو زکوٰۃ ادا کیا کرتے ہیں یعنی ہمیشہ زکوٰۃ دیتے ہیں بعض مفسرین نے تزکیہ نفس مراد لیا ہے کہ وہ اپنے اعمال اور اخلاق کو پاکیزہ رکھتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 3–6

ف 3۔ لغو کا ادنی درجہ گو مباح ہو مگر ترک اس کا اولی اور موجب مدح ہے، اور معصیت لغو کا اعلی درجہ ہے، اس کا ترک واجب ہے، پس لغو کے معنی ہیں غیر مفید، پھر اس کی دو قسم ہیں مضر وغیر مضر۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ایمان والوں کی تیسری نشانی کہ وہ زکوۃ کو باقاعدہ ادا کرتے ہیں : 4۔ نماز کے بعد اسلام کا دوسرا اہم رکن زکوۃ ہے ، نماز کا تعلق دراصل خالق و مخلوق کے باہمی سلسلہ اور رابطہ سے ہے جس کا سب سے بڑا فائدہ نظام جماعت کا قیام ہے اور اسلامی عبادت کا دوسرا رکن زکوۃ ہے جو آپس میں انسانوں کے درمیان ہمدردی اور باہم ایک دوسرے کی امداد اور معاونت کا نام ہے جس کا ہم فائدہ نظام جماعت کے قیام کے لئے مالی سرمایہ بہم پہنچانا ہے ۔ جس طرح نماز میں فرض ونفل کی تقسیم رکھی گئی ہے اور فرض کو لازم وضروری قرار دیا گیا ہے اور نفل کو ہر انسان کی مرضی ورضا پر چھوڑ دیا گیا ہے اور اس کی ترغیب دی گئی ہے اسی طرح سے زکوۃ ہی کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–6

What is Falah? How and from where can it be obtained? قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ Success is really attained by the believers - 23:1. The word falah (translated above as 'success' ) has been used in the Qur'an and Sunnah on numerous occasions. The call to prayers invites every Muslim towards falah five times a day. The word signifies the attainment of all desires as well as protection from all misfortunes. (Qamus). It is so comprehensive in its connotation that it may be regarded as the acme of one's desire - but the total falah, where no desire remains unfulfilled or complete immunity…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

5. The word Zakat literally means purification and development, to help something grow up smoothly and develop without obstruction. As an Islamic term, it implies both the portion of wealth taken out for the purpose of purifying the rest of wealth and the act of purification itself. The words of the original text mean that the believer constantly practices purification. Thus the meaning is not confined to the paying off of Zakat dues only but it is extended to self purification which includes purification of morals as well as wealth, property and life in general. Then it does not mean…

Read the full tafseer →