Al-Muminoon 23:5

Al-Muminoon · from ayah 5

23:5

وَالَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَ ۟ۙوَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِفُرُوۡجِهِمۡ حٰفِظُوۡنَۙ

اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And they who guard their private parts

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Muminoon

All translations of 23:5

اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

جو اپنی شرمگاہوں کی حفاﻇت کرنے والے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جو اپنی شرمگاہوں کی (اور سب سے) حفاظت کرتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور وہ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جو (دائماً) اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے رہتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور وہی جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جو حفاظت کرتے ہیں اپنی شرم گاہوں کی۔

— مولانا اسحاق مدنی

اور جو اپنی شرمگاہوں کی نگہداشت رکھنے والے ہیں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

who strictly guard their private parts

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and who guard their private parts

— Muhammad Taqi Usmani

and who guard their private parts

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And those who guard their private parts.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And they who guard their private parts

— Saheeh International

and restrain their carnal desires

— Muhammad Sarwar

And who guard their private parts,

— Muhammad Habib Shakir

And those who of their private Parts are guards.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 23:5

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–11

دس آیتیں اور جنت کی ضمانت نسائی، ترمذی اور مسند احمد میں مروی ہے کہ حضرت رسول ﷺ پر جب وحی اترتی تو ایک ایسی میٹھی میٹھی، بھینی بھینی، ہلکی ہلکی سی آواز آپ کے پاس سنی جاتی جیسے شہد کی مکھیوں کے اڑنے کی بھنبھناہٹ کی ہوتی ہے۔ ایک مرتبہ یہی حالت طاری ہوئی۔ تھوڑی دیر کے بعد جب وحی اترچکی تو آپ نے قبلہ کی طرف متوجہ ہو کر اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر یہ دعا پڑھی کہ اے اللہ تو ہمیں زیادہ کر، کم نہ کر، ہمارا اکرام کر، اہانت نہ کر، ہمیں انعام عطا فرما، محروم نہ رکھ، ہمیں دوسروں پر کے مقابلے میں فضیلت دے، ہم پر دوسروں کو پسند نہ فرما، ہم سے خوش ہوجا اور ہمیں خوش کر دے۔ عربی کے الفاظ یہ ہیں۔ دعا (الہم زدنا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 5–6

سورة الْمُؤْمِنُوْن 6 اس کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ اپنے جسم کے قابل شرم حصوں کو چھپا کر رکھتے ہیں، یعنی عریانی سے پرہیز کرتے ہیں اور اپنا ستر دوسروں کے سامنے نہیں کھولتے۔ دوسرے یہ کہ وہ اپنی عصمت و عفت کو محفوظ رکھتے ہیں، یعنی صنفی معاملات میں آزادی نہیں برتتے اور قوت شہوانی کے استعمال میں بےلگام نہیں ہوتے۔ (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، النور حواشی 30۔ 32)۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–6

سورة مومنون مکہ میں اتری اور اس کی ایک سو اٹھارہ آیتیں ہیں اور چھ رکوع فضائل و خصوصیات سورة مومنون مسند احمد میں حضرت فاروق اعظم عمر بن خطاب کی روایت ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ پر جب وحی نازل ہوتی تھی تو پاس والوں کے کان میں ایسی آواز ہوتی جیسے شہد کی مکھیوں کی آواز ہوتی ہے۔ ایک روز آپ کے قریب ایسی ہی آواز سنی گئی تو ہم ٹھہر گئے کہ تازہ آئی ہوئی وحی سن لیں۔ جب وحی کی خاص کیفیت سے فراغت ہوئی تو آنحضرت ﷺ قبلہ رخ ہو کر بیٹھ گئے اور یہ دعا کرنے لگے اللھم زدنا ولا تنقصنا و اکرمنا ولاتھنا واعطنا ولا تحرمنا واثرنا ولا توثر علینا وارض عنا و ارضنا (یعنی یا اللہ ہمیں زیادہ دے کم نہ کر اور ہماری…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 5–7

آیت 7-5 شہوانی خواہشات پر قابو یعنی یہ لوگ اپنی شہوانی خواہشات کو کنٹرول میں رکھتے ہیں۔ ان کو صرف وہیں آزادی دیتے ہیں جہاں اس کا حق ان کو حاصل ہے۔ یعنی بیویوں اور لونڈیوں پر 1 یہ نہیں ہوتا کہ شہوات سے اندھے ہو کر بالکل سانڈ بن جائیں اور ہر حرمت پر دست اندازی اپنا حق سمجھ لیں۔ فرمایا کہ اپنے حدود کے اندر یہ چیز مباح ہے۔ اس پر کسی کو ملامت نہیں۔ یعنی کوئی اس کو تقویٰ ، دینداری اور خدا ترسی کے منافی نہ سمجھے جیسا کہ راہبانہ تصورات کے تحت عام طور پر سمجھا یا ہے۔ البتہ وہ لوگ جو اس حد سے آگے بڑھیں گے وہ خدا کے حدود کو توڑنے والے ہیں۔ یہاں صرف ان کے جرم کا ذکر فرمایا، اس کی سزا کا ذکر نہیں فرمایا۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 4–6

4-1اس سے مراد بعض کے نزدیک زکوٰۃ مفروضہ ہے، (جس کی تفصیلات یعنی اس کا نصاب اور زکوٰۃ کی شرع مدینہ میں بتلائی گئی تاہم) اس کا حکم مکہ میں ہی دے دیا گیا تھا اور بعض کے نزدیک ایسے افعال کا اختیار کرنا ہے، جس سے نفس اور اخلاق و کردار کی پاکیزگی ہو۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

4: یعنی اس بات سے حفاظت کرتے ہیں کہ اپنی جنسی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے کوئی ناجائز طریقہ اختیار کیا جائے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–11

درس نمبر 145 تشریح آیات (1 تا 22) قد افلح خلدون (ا تا 11) یہ ایک پختہ وعدہ ہے بلکہ یہ عالم بالا کی ایک وہ ٹوک قرار داد ہے کہ مومنین فلاح پائیں گے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ اللہ تو کبھی اپنے عہد کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ پھر یہ اللہ کا فیصلہ ہے اور اللہ کے فیصلے کو کوئی رد نہیں کرسکتا کہ مومنین دنیا میں بھی فلاح پائیں گے اور آخرت میں بھی فلاح پائیں گے ۔ ایک مومن انفرادی طور پر فلاح پائے گا اور اہل ایمان کی جماعت بھی فلاح پائیں گی۔ ایسی کامیابی جسے ایک مومن اپنے دل اپنی حقیقی زندگی میں محسوس کرتے ہوں اور اس کے اندر فلاح کے وہ تمام مفہوم پائے جاتے ہوں جن سے دنیا با خبر ہے اور وہ مفاہیم بھی پائے جاتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 5–7

4 یعنی اپنی منکوحہ عورت یا باندی کے سواء کوئی اور راستہ قضائے شہوت کا ڈھونڈے، وہ حلال کی حد سے آگے نکل جانے والا ہے۔ اس میں زنا، لواطت اور استمناء بالید وغیرہ سب صورتیں آگئیں، بلک بعض مفسرین نے حرمت متعہ پر بھی اس سے استدلال کیا ہے وفیہ کلام طویل لایسعہ المقام۔ راجع روح المعانی تحت ہذہ الایۃ الکریمہ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 4–5

آیت 4 وَالَّذِیْنَ ہُمْ للزَّکٰوۃِ فٰعِلُوْنَ ” یہ کامیاب وبامراد اہل ایمان کا تیسرا وصف بیان ہوا۔ یہاں ”زکوٰۃ“ کا لفظ اصطلاحی معنی میں نہیں بلکہ اپنے لغوی معنی میں آیا ہے اور اس سے مراد تزکیۂ نفس ہے۔ اس لیے کہ یہ ابتدائی مکی دور کی سورت ہے اور اس وقت تک زکوٰۃ ادا کرنے کا ابھی کوئی تصور نہیں تھا۔ ویسے بھی قرآن حکیم میں زکوٰۃ کے ساتھ عموماً لفظ ”ایتاء“ آتا ہے۔ چناچہ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کے مؤمن بندے ہمہ وقت ‘ ہمہ تن اپنے نفس کے تزکیے کے لیے کوشاں اور اپنے دامن کے داغ دھبے دھونے کے بارے میں فکر مند رہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

5 اس آیت کے بھی دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ وہ اپنے مقامات ستر کو ڈھانپ کر رکھتے ہیں اور کسی کے سامنے کھولتے نہیں نہ عریاں لباس پہنتے ہیں کہ بدن کے اعضا نظر آتے رہیں اور دوسرا یہ کہ وہ اپنی عفت و عصمت کی پوری پوری نگہداشت کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 5–7

5۔ (اور بڑے سخت نافرمان) آیت کا مطلب یہ ہے کہ قضائے شہوت بجائے خود ہرگز محل الزام نہیں اور جس طرح بھوک، پیاس، نیند وغیرہ کی ضرورتیں فطری ہیں یہ خواہش بھی طبعی ہے۔ قابل الزام صرف اس کا بےمحل استعمال ہے۔ (آیت) ” ماملکت ایمانھم “۔ باندیوں سے مراد ظاہر ہے کہ صرف شرعی باندیاں ہیں نہ کہ عرفی۔ حاشیہ پہلے گزر چکا ہے۔ بیویوں اور باندیوں کے حلال ہونے سے مراد ان کی جنس کا حلال ہونا ہے۔ نہ یہ کہ بیوی اور باندی سے صحبت ہر صورت اور حال میں جائز ہے ملاحظہ ہوں حواشی تفسیر انگریزی۔ (آیت) ” علی ازواجھم “۔ میں علی مرادف ہے من کے۔ فراء نحوی وابن مالک نحوی وغیرہ سے یہی قول منقول ہے۔ (بحر) (آیت) ” ورآء ذلک “۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–22

بسم اللہ الرحمن الرحیم آیت نمبر 1 تا 22 ترجمہ : بلاشبہ مومنین کامیاب ہوئے جو اپنی نمازوں میں تواضع اختیار کرنے والے ہیں، قَدْ تحقیق کیلئے ہے اور جو لغو باتوں وغیرہ سے اعراض کرنے والے ہیں اور جو زکوۃ ادا کرنے والے ہیں اور جو حرام سے اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں لیکن اپنی بیبیوں سے یا ان عورتوں سے جن کے وہ مالک ہیں یعنی باندیوں سے کیونکہ ان کے پاس آنے میں (جماع کرنے میں) ان پر کوئی الزام نہیں ہاں جو ان کے علاوہ یعنی بیبیوں اور باندیوں کے علاوہ مثلاً استمنا بالید کا طالب ہو تو ایسے لوگ حد سے بڑھنے والے ہیں یعنی ایسی چیز کی طرف تجاوز کرنے والے ہیں جو ان کیلئے حلال نہیں ہے اور جو اپنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

والذین ہم لفرو جہنم حفظون۔ اور جو (تمام عورتوں سے) اپنی شرمگاہوں کی حفاظت رکھنے والے ہیں

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 3–7

(3۔ 7) اور جو بیہودہ باتوں اور جھوٹی قسموں سے کنارہ کشی کرنے والے ہیں اور جو اپنے اموال کی زکوٰۃ ادا کرنے والے ہیں اور جو اپنی شرم گاہوں کو حرام شہوت رانی سے پاک رکھنے والے ہیں لیکن اپنی چاروں بیویوں سے یا اپنی شرعی لونڈیوں سے کیوں کہ ان پر اس حلال طریقہ میں کوئی الزام نہیں، البتہ جو حلال راستہ کے علاوہ اور مقام پر شہوت رانی کا طلب گار ہو تو ایسے حلال اور پاکیزہ طریقہ سے حرام اور گندے راستہ کی طرف بڑھنے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَالَّذِيْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْن : پاکدامنی کی صفت اگرچہ لغو سے اعراض میں شامل ہے، مگر نفس کی سب سے منہ زور قوت پر قابو رکھنے کی اہمیت کی وجہ سے اسے الگ بھی ذکر فرمایا، جیسا کہ ”اَلْمُوْمِنُوْنَ“ کے لفظ میں ایمان کے تمام اعمال شامل ہیں، مگر بعد میں سات چیزوں کو ان کی اہمیت کے پیش نظر الگ بھی ذکر فرمایا۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 5–7

مسئلہ نمبر 4 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : والذین ھم لفروجھم حفظون۔ ابن عربی نے کہا : قرآن کے غرائب میں سے ہے کہ یہ دس آیات مردوں اور عورتوں میں عام ہیں جیسے باقی قرآن کے الفاظ ہیں جو احتمال رکھتے ہیں کہ وہ مردوں اور عورتوں میں عام ہیں لیکن والذین ھم لفروجھم حفظون۔ کا قول اس کے مخاطب صرف مرد ہیں عورتوں کو اس میں خطاب نہیں کیونکہ آگے الا علی ازواجھم اومالکت ایمانھم کا قول آیا ہے اور عورتوں کا اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے کا حکم دوسرے دلائل سے ثابت ہے جیسے عموما اور خصوصا آیات احصان اور اس کے علاوہ جو دلائل موجود ہیں۔ میں کہتا ہوں : اس تاویل پر آیت میں یہ عورت کے لئے حلال نہیں کہ اس سے وہ شخص وطی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 3–9

1۔ ابن جریر، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت والذین ہم عن اللغو معرضون میں لغو سے مراد باطل ہے۔ 2۔ عبد الرزاق، ابن جریر اور ابن المنذر نے روایت کیا ہے کہ حسن (رح) سے نے فرمایا کہ آیت والذین ہم عن اللغو میں لغو سے مراد گناہ ہیں۔ 3۔ ابن المبارک (رح) نے روایت کیا ہے کہ قتادہ (رح) نے آیت والذین ہم عن الغو معرضون کے بارے میں فرمایا کہ اللہ کی قسم جب ان کے پاس اللہ کا حکم آیا تو انہوں نے باطل میں سے ہر چیز کو گرادیا (یعنی باطل باتوں اور کاموں سے اعراض کرتے ہیں) ۔ 4۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر رحمۃ الہ علیہ سے روایت کیا کہ آیت والذین ہم للزکوۃ فعلون، یعنی وہ مالوں کی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَالَّذِيْنَ [ اور وہ لوگ ] هُمْ [ جو ] لِفُرُوْجِهِمْ [ اپنی شرمگاہوں کی ] حٰفِظُوْنَ [ حفاظت کرنے والے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 5–7

اہل ایمان کا چوتھا وصف یوں بیان فرمایا (وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِفُرُوْجِہِمْ حَافِظُوْنَ ) (الایات الثلاث) اور جو لوگ اپنی شرم کی جگہوں کی حفاظت کرتے ہیں یہ لوگ اپنی بیویوں اور لونڈیوں سے تو شرعی اصول کے مطابق شہوت پوری کرلیتے ہیں ان کے علاوہ کسی اور جگہ اپنی شرم کی جگہوں کو استعمال نہیں کرتے، بیویوں اور لونڈیوں سے شہوت پوری کرنا چونکہ حلال ہے اس لیے اس پر انہیں کوئی ملامت نہیں ان کے علاوہ اور کسی جگہ کو استعمال کیا تو یہ حد شرعی سے آگے بڑھ جانے والی بات ہوگی جس کی سزا دنیا میں بھی ہے اور آخرت میں بھی۔ آیت کی تصریح سے معلوم ہوا کہ متعہ کرنا بھی حرام ہے (جس کا روافض میں رواج ہے) کیونکہ جس عورت سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–11

صفات مومنین مفلحین قال اللہ تعالیٰ ۔ قد افلح ال مومن ون .... الیٰ .... ہم فیہا خلدون۔ (ربط) گزشتہ سورت کے اخیر میں اعمال خیر کا حکم اور فلاح کی امید کا ذکر تھا۔ اب ان آیات میں مومنین صالحین کے لیے وقوع فلاح کی خبر دیتے ہیں کہ بلاشبہ وہ مسلمان کامیاب ہیں جن میں یہ سات صفتیں پائی جاتی ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں تحقیق فلاح پائی اہل ایمان نے جس کی پہلے ہی سے اہل ایمان کو امید اور توقع تھی۔ اہل ایمان سے اہل تصدیق اور اہل اطمینان مراد ہے۔ اب اس بشارت کے بعد ان مومنین کی صفات بیان کرتے ہیں۔ ؂ اول صفت خشوع ان میں سے پہلی صفت یہ ہے جو اپنی نماز میں خشوع اور خضوع اور عجزو زاری کرنے والے ہیں یعنی ان کے دل…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

6:۔ ” وَ الَّذِیْنَ ھُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَ الخ “ یہ امر سوم ہے یعنی وہ ظلم کے کاموں سے بچتے ہیں۔ یہاں ظلم کے تین کاموں کا ذکر کیا گیا ہے۔ زنا، امانت میں خیانت اور بدعہدی، زنا بھی ایک بہت بڑا ظلم ہے فرمایا فلاح پانے والوں کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ اپنی شرمگاہوں کو ناجائز اور غیر محل میں استعمال کرنے سے محفوظ رکھتے ہیں۔ حضرت شیخ فرماتے ہیں زنا اس لیے ظلم ہے کہ زنا سے جو بچہ پیدا ہوگا اسے یا تو تہمت کے کوسے قتل کردیا جائیگا یا اسے کہیں پھینک دیا جائے گا اور وہ مادر و پدر کی شفقت سے محروم رہے گا اور در بدر خوار ہوگا۔ یہ دونوں ظلم ہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–11

نام اور کوائف : اس سورة کا نام اس کی پہلی آیت میں آمدہ لفظ المومنون کے نام رکھا گیا ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی۔ مفسرین کے قول کے مطابق یہ سورة سابقہ سورة الحج کے معاً بعد نازل ہوئی۔ سورة ہذا ایک سو اٹھارہ آیات ، چھ رکو ، 1840 الفاظ اور 4801 حروف پر مشتمل ہے۔ گزشتہ سورة کے ساتھ ربط : گزشتہ سورة کے آخری رکوع میں ہم پڑھ چکے ہیں یایھا الذین امنوا ارکعوا واسجدوا واعبدوا ربکم وافعلوا الخیر لعلکم تفلحون ، اے ایمان والو ! رکوع و سجود کرو اور اپنے پروردگار کی عبادت کرو۔ اور بھلائی کے کام کرو تاکہ تم فلاح پاجائو۔ اب اس سورة کی ابتداء میں بھلائی کے کاموں کی تشریح کی گئی ہے جن پر دنیا وآخرت کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَالَّذِيْنَ ہُمْ لِفُرُوْجِہِمْ حٰفِظُوْنَ۝ 5ۙ فرج الفَرْجُ والفُرْجَةُ : الشّقّ بين الشّيئين کفرجة الحائط، والفَرْجُ : ما بين الرّجلین، وكنّي به عن السّوأة، وکثر حتی صار کالصّريح فيه . قال تعالی: وَالَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَها [ الأنبیاء/ 91] ، لِفُرُوجِهِمْ حافِظُونَ [ المؤمنون/ 5] ، وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ [ النور/ 31] ، واستعیر الفَرْجُ للثّغر وكلّ موضع مخافة . وقیل : الفَرْجَانِ في الإسلام : التّرک والسّودان «1» ، وقوله : وَما لَها مِنْ فُرُوجٍ [ ق/ 6] ، أي : شقوق وفتوق، قال : وَإِذَا السَّماءُ فُرِجَتْ [ المرسلات/ 9] ، أي : انشقّت، والفَرَجُ : انکشاف الغمّ. يقال : فَرَّجَ اللہ عنك،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 5–7

(5) والذین ھم لفروجھم الخ وہ جو اپنی بیبیوں اور شرعی لونڈیوں کے سوا اور کسی پر اپنا ستر نہیں کھولتے۔ اس سے لواطت اور سحق اور ہاتھ سے منی نکالنے کی بھی ممانعت ثابت ہوئی اور متعہ کی ممانعت بھی سمجھی گئی۔ کس لیے کہ متاعی عورت حصہ نہ ملنے کی وجہ سے بیوی نہیں اور نہ لونڈی ہے پھر کیوں کر مباح ہوسکتی ہے اور آیت میں بیوی اور لونڈی پر قضائِ شہوت کا حصر کردیا ہے۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِفُرُوْجِھِمْ حٰفِظُوْنَ ۔ (المومنون : 5) (وہ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ ) اہلِ ایمان کی ایک اور صفت اصحابِ ایمان کی چوتھی صفت یہ ہے کہ وہ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ یعنی جسم کے وہ حصے جنھیں چھپانا ضروری ہے۔ انھیں کھولنے اور عریاں کرنے سے پرہیز کرتے ہیں۔ نہ وہ دوسروں کے ستر پر نگاہ ڈالتے ہیں اور نہ اسے برداشت کرتے ہیں کہ کوئی ان کے ستر پر نگاہ ڈالے۔ آنحضرت ﷺ کا ایک ارشاد ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ : ” کوئی شخص مجھے عریاں حالت میں دیکھے یعنی اس کی نظر میرے ستر پر پڑے اس سے بہتر ہے کہ مجھے آسمانوں سے گرادیا جائے اور میرے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں “۔ اور یہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : مومنوں کی چوتھی صفت :۔ مومن صرف اپنے دل اور مال کو پاک کرنے کی کوشش نہیں کرتا بلکہ وہ اپنی شرم گاہ کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی سوچ اور کردار کو بھی پاک رکھتا ہے۔ فُرُوْجَکی واحد فَرْجَجس معنٰی شرم گاہ ہے۔ مسلمان کو شرم گاہ کی حفاظت کے لیے بڑی لطیف اور بنیادی ہدایات دی گئی ہیں مرد اور عورت کے لیے پہلی ہدایت یہ ہے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں۔ (النور : 31۔ 32) اس ہدایت پر عمل کرنے سے بدکاری اور بےحیائی بہت حد تک ناممکن ہوجاتی ہے کیونکہ قرآن مجید کا پہلا اصول یہ ہے کہ زنا کے قریب تک نہیں جانا۔ یعنی ہر وہ حرکت اور عادت جن سے بدکاری کا راستہ کھلتا ہو شریعت اس سے روکتی ہے عورت…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

5: وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِفُرُوْجِھِمْ حٰفِظُوْنَ (اور وہ لوگ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں) الفرجؔ یہ مرد و عورت دونوں کے مستورہ اعضاء کو شامل ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

5۔ والذین ھم لفروجھم حافظون۔ فرج اسم جمع ہے خواہ شرمگاہ مرد کی ہویا عورت کی ۔ حفظ الفرج حرام سے پاک دامن رہنا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–11

1۔ 11:۔ امام احمد بن حنبل ‘ ترمذی ‘ نسائی اور مستدرک حاکم میں حضرت عمر ؓ سے صحیح روایت 1 ؎ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اس سورت کے شروع کی یہ دس آیتیں جب نازل ہوئیں تو آنحضرت ﷺ نے 2 ؎ دعا مانگی ‘ جس دعا کا حاصل یہ ہے کہ یا اللہ اپنی نعمت کو روز بروز ہم پر بڑھا اور اپنی نعمت سے ہم کو محروم نہ رکھ اور اپنی رضا مندی کے کام ہم سے لے اور پھر آپ نے ان آیتوں کو پڑھ کر فرمایا جو کوئی اس دس آیتوں کے موافق عمل کرے گا بلا شک جنت میں داخل ہوگا۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور صحابہ ؓ نے ان آیتوں کی جو تفسیر 3 ؎ کی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آدمی کا ایمان مضبوط ہونا چاہیے اور نماز پڑھتے وقت ادھر ادھر نظر نہ ڈالنی چاہیے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–11

آیت نمبر 1 یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کی تعریف و تعظیم اور ان کی فلاح وسعادت کا ذکر ہے، نیز اس امر کا بیان ہے کہ وہ فلاح وسعادت کیسے حاصل کرسکتے ہیں اور اس ضمن میں اہل ایمان کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ان مذکورہ صفات سے متصف کریں۔ پس بندہ مومن ان آیات کی میزان پر اپنے آپ کا وزن کرے، اور یہ معلوم کرے کہ اس کے پاس اور دوسروں کے پاس قلت و کثرت یا اضافے اور کمی کے اعتبار سے کتنا ایمان ہے۔ پس فرمایا (قد افلاح المومنون) یعنی اہل ایمان کامیابی اور سعادت سے بہرہ مند ہوئے اور انہوں نے ہر دو چیز حاصل کرلی جس کا حصول اہل ایمان کا مقصود و مطلوب ہے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 5–6

شرم و حیا قول باری ہے (والذین ھم لفزوجھم حافظون اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں) آیت سے مرد اور عورتیں دونوں مراد لینا درست ہے اس لئے کہ جب مذکر اور مئونث دونوں کا اجتماع ہوجائے تو تغلیب کے طور پر مذکر کا صیغہ لایا جاتا ہے جس طرح یہ قول باری ہے (قد افلح المومنون الذین ھم فی صلوتھم خاشعون) یہاں مرد اور عورتیں دونوں مراد ہیں۔ بعض مفسرین کا قول ہے کہ آیت (والذین ھم لفروجھم حافظون) مردوں کے ساتھ مخصوص ہے اس کی دلیل یہ قول باری ہے (الا علی ازواجھم اوما ملکت ایمانھم سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جو ان کی ملک یمین میں ہوں) اس میں لا محالہ مرد مراد ہیں۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ اس میں کوء…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 3–5

3 ایمان ایمان کی دوسری خاص صفت : ۔ لغو باتوں سے احتراز و اجتناب : سو ان کی دوسری خاص صفت کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ وہ دور رہتے ہیں لغو باتوں سے : سو لغو باتوں سے احتراز ان لوگوں کی ایک اور خاص صفت ہے۔ یعنی یہ بچتے ہیں ہر اس قول و فعل سے جو کہ بےمقصد ہو۔ جس میں نہ دین کا کوئی فائدہ ہو نہ دنیا کا۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل، جامع البیان وغیرہ) ۔ نیز لغو سے مراد ہر وہ قول و فعل ہے جو انسانی زندگی کے اصل مقصد یعنی رضائے الہی کے حصول سے غافل کرنے والا ہو۔ قطع نظر اس سے کہ وہ مباح ہے یا غیر مباح۔ سو جس نماز کے اندر خشوع و خضوع پایا جائے گا اس کا انسانی زندگی پر یہ اثر پڑتا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–11

مؤمنوں کی صفات اور وعدہ جنت الفردوس تشریح : یہاں پر ان سات فرائض کا ذکر کیا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر فرض کیے ہیں۔ اگر بندہ واقعی اپنے آقا کا نمک حلال، یعنی فرمانبردار غلام ہے تو پھر وہ اپنے مالک کے دیے گئے احکامات سے کبھی غافل نہیں ہوسکتا بلکہ ان کی بجا آوری میں ہرگز تھوڑی سی بھی غفلت یا لاپرواہی نہیں کرسکتا۔ اللہ ہمارا مالک ہے اس نے ہی ہمیں پیدا کیا ہے اسی کے پاس واپس جانا ہے۔ اسی نے ہمارے کیے گئے کاموں کا حساب لینا ہے۔ وہی اس کے بدلے میں جنت یا جہنم دے گا۔ وہی ہر وقت ہر جگہ ہر صورت میں ہمیں دیکھ رہا ہے۔ ہم اس کی نگاہ سے ہرگز چھپ نہیں سکتے۔ خلاصہ یہ ” کہ مسلم پر واجب ہے کہ جس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–22

سورة المؤمنون : (رکوع نمبر 1) اسرارومعارف سورة مومنون بھی مکی سورتوں میں شمار کی گئی ہے اور اسی سابق مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے ایمان لانے والوں کے اوصاف کا تذکرہ فرماتے ہوئے شروع ہوتی ہے کہ جنہیں ایمان نصیب ہوا وہ فلاح پاگئے کامیاب ہوگئے فلاح کا ترجمہ اردو میں تو کامیابی ہی ہے مگر عربی زبان کے اعتبار سے اس کا معنی بہت وسیع ہے فلاح سے مکمل کامیابی مراد ہے ہر کام میں ہر وقت اور ہر عالم میں ، دنیا ہو دنیا کی تجارت ، سیاست یا امور ذاتی ہر جگہ کامیاب موت کے لمحات ہوں یا برزخ کا عرصہ کامیاب ، میدان حشر ہو یا آخرت کی زندگی کامیاب اور یہ کامیابی ایمان کا پھل ہے رہا یہ سوال کہ دنیا میں کون ہے جسے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 5–6

5 ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسلام میں جس طرح بیوی سے تعلق رکھنا جائز ہے اسی طرح لونڈی سے تعلق رکھنا بھی جائز ہے۔ عاوہ ازیں شہوت رانی حرام ہے۔ لہٰذا نکاح متعہ بھی حرام ہے۔ گو بعض موقعوں پر اس کی اجازت دی گئی تاہم بعد میں ہمیشہ کے لئے حرام قرار دے دیا گیا کیونکہ جس عورت سے متعہ کیا جائے اس پر زوجہ کا اطلاق نہیں ہوسکتا۔ نیز دیکھئے سورة نساء آیت 24 ۔ امام شافعی (رح) اور دیگر علما نے اس آیت سے اسمنا کی حرمت پر بھی استدلال کیا ہے کیونکہ ان کو عادوں حد سے متجاوز کرنے والے قرار دیا ہے۔ (ابن کثیر، قرطبی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(23:5) فروجہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان مردوں کی شرم گاہیں۔ فرج عورت اور مرد دونوں کی شرم گاہ کے لئے بولا جاتا ہے۔ آیت ہذا میں بھی مردو عورت دونوں مراد ہیں۔ الفرج والفرجۃ کے معنی دو چیزوں کے درمیان شگاف کے ہیں جیسے دیوار میں شگاف یا دونوں ٹانگوں کے درمیان کی کشادگی۔ کنایہ کے طور پر فرج کا لفظ شرم گاہ پر بولا جاتا ہے اور کثرت استعمال کی وجہ سے اسے حقیقی معنی سمجھا جاتا ہے قرآن مجید میں شگاف کے معنوں میں اور شق کرنا۔ چیرنا۔ پھاڑنا کے معنوں میں بھی استعمال ہوا ہے۔ مثلاً وما لھا من فروج (50:6) اور اس میں کہیں شگاف تک نہیں۔ اور و اذا السماء فرجت (77:9) اور جب آسمان پھٹ جائے۔ حفظوناسم فاعل جمع مذکر غائب۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 5–7

(4) کامیاب اہل ایمان کی چوتھی صفت یہ ہے کہ وہ اپنی شرمگاہوں کی مکمل حفاظت کرتے ہیں اور اپنی نفسانی خواہشات کو اپنی بیویوں اور ان باندیوں تک (جن کی اس زمانہ میں اجازت تھی) محدود رکھتے ہیں۔ جو لوگ ان حدود سے آگے قدم نہیں بڑھاتے اس پر انہیں کسی طرف سے کسی ملامت کا سامنا کرنا نہ پڑے گا۔ لیکن اگر کوئی شخص ان حدود سے آگے قدم بڑھائے گا تو وہ زیادتی کرنے والا ہوگا۔ خلاصہ یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدود کے اندر رہیں گے انہیں روحانی قوت و طاقت ‘ اطمینان قلب اور سکھ چین نصیب ہوگا۔ لیکن ان حدود کو پھلانگنے والے اللہ کی رحمتوں سے محروم اور بد ترین عادتوں اور معاشرہ کو رسوا اور برباد کرنے والے بن…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–11

مسلمانوں کی جنت میں جانے کی شرائط۔ (ف 1) یہ سورت مومنون مکیہ ہے۔ مسند امام احمد بن حنبل ، ترمذی، نسائی میں حضرت عمر سے روایت ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے کہ اس سورت کے شروع کی دس آیتیں جب نازل ہوئیں تو نبی ﷺ نے دعا مانگی اس دعا کا حاصل یہ ہے کہ یا اللہ اپنی نعمت کو روز بروز ہم پر بڑھا ، اور اپنی نعمت سے ہم کو محروم نہ رکھ، اور اپنی رضامندی کے کام ہم سے لے اور پھر آپ نے آیتوں کو پڑھ کر فرمایا جو کوئی ان دس آیتوں کے موافق عمل کرے گا بلاشک جنت میں داخل ہوگا، ان آیتوں میں فرمایا کہ بیشک ایمان والے کامیاب ہوئے وہ جو اپنی نمازوں میں عاجزی کیا کرتے ہیں خشوع کا مطلب ، نماز میں عاجزی سے کھڑا ہو اور دنیا سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 4–5

[3] یعنی ان کی عادت ہے کہ ہمیشہ زکوٰۃ ادا کرتے رہتے ہیں۔ ایسا نہیں کہ کبھی دی کبھی نہ دی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 3–6

ف 3۔ لغو کا ادنی درجہ گو مباح ہو مگر ترک اس کا اولی اور موجب مدح ہے، اور معصیت لغو کا اعلی درجہ ہے، اس کا ترک واجب ہے، پس لغو کے معنی ہیں غیر مفید، پھر اس کی دو قسم ہیں مضر وغیر مضر۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ایمان والوں کی چوتھی نشانی یہ ہے کہ وہ ستر کی نگہداشت سے کبھی غافل نہیں ہوتے : 5۔ (فروج) جمع ہے فرج کی اور فرج دراصل شگاف کو کہتے ہیں اور زیادہ تر اس کا استعمال دونوں ٹانگوں کے درمیان کے مقام پر ہی کیا گیا ہے اس لئے اس کے معنی ” شرمگاہ “ کے کئے ہیں اور اس کو عورت یعنی پردے کی جگہ اور ستر کے لفظ سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے ۔ شرمگاہ کی حفاظت سے مراد ہر وہ فعل ہے جس سے قوت شہوانی حرکت میں آئے خواہ وہ زبان سے ہو ‘ ہاتھ سے ہو ‘ نظر سے ہو ‘ کان سے ہو ‘ دماغ سے ہو یا وہ پاؤں سے ہو اور حقیقت اس کی سب پر واضح ہے کیونکہ کوئی انسان اس سے مستثنی نہیں ہے اور پھر انسان کی دونوں اصناف یعنی مرد و عورت سب کے لئے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–6

What is Falah? How and from where can it be obtained? قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ Success is really attained by the believers - 23:1. The word falah (translated above as 'success' ) has been used in the Qur'an and Sunnah on numerous occasions. The call to prayers invites every Muslim towards falah five times a day. The word signifies the attainment of all desires as well as protection from all misfortunes. (Qamus). It is so comprehensive in its connotation that it may be regarded as the acme of one's desire - but the total falah, where no desire remains unfulfilled or complete immunity…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 5–6

6. They are modest in every sense of the word. They are free from sex abuse and sex perversion. They are so modest that they even conceal those parts of their bodies which the law forbids to expose before others. For explanation, see (E.Ns 30 and 32 of Surah An-Noor).

Read the full tafseer →