Explained with ayahs 1–11
دس آیتیں اور جنت کی ضمانت
نسائی، ترمذی اور مسند احمد میں مروی ہے کہ حضرت رسول ﷺ پر جب وحی اترتی تو ایک ایسی میٹھی میٹھی، بھینی بھینی، ہلکی ہلکی سی آواز آپ کے پاس سنی جاتی جیسے شہد کی مکھیوں کے اڑنے کی بھنبھناہٹ کی ہوتی ہے۔ ایک مرتبہ یہی حالت طاری ہوئی۔ تھوڑی دیر کے بعد جب وحی اترچکی تو آپ نے قبلہ کی طرف متوجہ ہو کر اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر یہ دعا پڑھی کہ اے اللہ تو ہمیں زیادہ کر، کم نہ کر، ہمارا اکرام کر، اہانت نہ کر، ہمیں انعام عطا فرما، محروم نہ رکھ، ہمیں دوسروں پر کے مقابلے میں فضیلت دے، ہم پر دوسروں کو پسند نہ فرما، ہم سے خوش ہوجا اور ہمیں خوش کر دے۔ عربی کے الفاظ یہ ہیں۔ دعا (الہم زدنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
سورة الْمُؤْمِنُوْن 6
اس کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ اپنے جسم کے قابل شرم حصوں کو چھپا کر رکھتے ہیں، یعنی عریانی سے پرہیز کرتے ہیں اور اپنا ستر دوسروں کے سامنے نہیں کھولتے۔ دوسرے یہ کہ وہ اپنی عصمت و عفت کو محفوظ رکھتے ہیں، یعنی صنفی معاملات میں آزادی نہیں برتتے اور قوت شہوانی کے استعمال میں بےلگام نہیں ہوتے۔ (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، النور حواشی 30۔ 32)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
سورة مومنون مکہ میں اتری اور اس کی ایک سو اٹھارہ آیتیں ہیں اور چھ رکوع
فضائل و خصوصیات سورة مومنون
مسند احمد میں حضرت فاروق اعظم عمر بن خطاب کی روایت ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ پر جب وحی نازل ہوتی تھی تو پاس والوں کے کان میں ایسی آواز ہوتی جیسے شہد کی مکھیوں کی آواز ہوتی ہے۔ ایک روز آپ کے قریب ایسی ہی آواز سنی گئی تو ہم ٹھہر گئے کہ تازہ آئی ہوئی وحی سن لیں۔ جب وحی کی خاص کیفیت سے فراغت ہوئی تو آنحضرت ﷺ قبلہ رخ ہو کر بیٹھ گئے اور یہ دعا کرنے لگے اللھم زدنا ولا تنقصنا و اکرمنا ولاتھنا واعطنا ولا تحرمنا واثرنا ولا توثر علینا وارض عنا و ارضنا (یعنی یا اللہ ہمیں زیادہ دے کم نہ کر اور ہماری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
آیت 7-5
شہوانی خواہشات پر قابو
یعنی یہ لوگ اپنی شہوانی خواہشات کو کنٹرول میں رکھتے ہیں۔ ان کو صرف وہیں آزادی دیتے ہیں جہاں اس کا حق ان کو حاصل ہے۔ یعنی بیویوں اور لونڈیوں پر 1 یہ نہیں ہوتا کہ شہوات سے اندھے ہو کر بالکل سانڈ بن جائیں اور ہر حرمت پر دست اندازی اپنا حق سمجھ لیں۔ فرمایا کہ اپنے حدود کے اندر یہ چیز مباح ہے۔ اس پر کسی کو ملامت نہیں۔ یعنی کوئی اس کو تقویٰ ، دینداری اور خدا ترسی کے منافی نہ سمجھے جیسا کہ راہبانہ تصورات کے تحت عام طور پر سمجھا یا ہے۔ البتہ وہ لوگ جو اس حد سے آگے بڑھیں گے وہ خدا کے حدود کو توڑنے والے ہیں۔ یہاں صرف ان کے جرم کا ذکر فرمایا، اس کی سزا کا ذکر نہیں فرمایا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
4-1اس سے مراد بعض کے نزدیک زکوٰۃ مفروضہ ہے، (جس کی تفصیلات یعنی اس کا نصاب اور زکوٰۃ کی شرع مدینہ میں بتلائی گئی تاہم) اس کا حکم مکہ میں ہی دے دیا گیا تھا اور بعض کے نزدیک ایسے افعال کا اختیار کرنا ہے، جس سے نفس اور اخلاق و کردار کی پاکیزگی ہو۔
Read the full tafseer →5: اس سے مراد وہ کنیزیں ہیں جو شرعی احکام کے مطابق کسی کی ملکیت میں آئی ہوں لیکن آج کل ایسی کنیزوں کا کوئی وجود نہیں رہا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
درس نمبر 145 تشریح آیات (1 تا 22)
قد افلح خلدون (ا تا 11)
یہ ایک پختہ وعدہ ہے بلکہ یہ عالم بالا کی ایک وہ ٹوک قرار داد ہے کہ مومنین فلاح پائیں گے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ اللہ تو کبھی اپنے عہد کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ پھر یہ اللہ کا فیصلہ ہے اور اللہ کے فیصلے کو کوئی رد نہیں کرسکتا کہ مومنین دنیا میں بھی فلاح پائیں گے اور آخرت میں بھی فلاح پائیں گے ۔ ایک مومن انفرادی طور پر فلاح پائے گا اور اہل ایمان کی جماعت بھی فلاح پائیں گی۔ ایسی کامیابی جسے ایک مومن اپنے دل اپنی حقیقی زندگی میں محسوس کرتے ہوں اور اس کے اندر فلاح کے وہ تمام مفہوم پائے جاتے ہوں جن سے دنیا با خبر ہے اور وہ مفاہیم بھی پائے جاتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
4 یعنی اپنی منکوحہ عورت یا باندی کے سواء کوئی اور راستہ قضائے شہوت کا ڈھونڈے، وہ حلال کی حد سے آگے نکل جانے والا ہے۔ اس میں زنا، لواطت اور استمناء بالید وغیرہ سب صورتیں آگئیں، بلک بعض مفسرین نے حرمت متعہ پر بھی اس سے استدلال کیا ہے وفیہ کلام طویل لایسعہ المقام۔ راجع روح المعانی تحت ہذہ الایۃ الکریمہ۔
Read the full tafseer →آیت 6 اِلَّا عَلآی اَزْوَاجِہِمْ اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُہُمْ فَاِنَّہُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَ ”
ان کا چوتھا وصف یہ بیان ہوا کہ وہ صرف جائز طریقے سے اپنی جنسی خواہش پوری کرتے ہیں اور اس میں کچھ مضائقہ نہیں۔ یعنی جنسی جذبہ فی نفسہُٖ برا نہیں ‘ بلکہ برائی اس کے غلط استعمال میں ہے۔ اسلام کے سوا دوسرے مذاہب میں تجرد کی زندگی بسر کرنا اور اپنے جنسی جذبہ کو ‘ جو فطرت اور جبلتّ میں ایک نہایت قوی جذبہ ہے ‘ کچلنا ایک اعلیٰ ترین روحانی قدر قرار دیا جاتا ہے ‘ جبکہ اسلام دین فطرت ہے ‘ چناچہ وہ اس فطری و جبلی جذبہ کو بالکلیہ کچلنے اور دبانے کو قطعاً پسند نہیں کرتا۔ اس کا منشا و مدعا یہ ہے کہ اس جذبہ کی…
Read the full tafseer →6 یعنی مسلمانوں کے لئے اپنے شہوانی جذبات اور خواہشات کی تکمیل کی دو ہی صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ وہ اپنی خواہش اپنی بیویوں سے پوری کریں اور دوسری یہ کہ اپنی مملوک کنیزوں سے پوری کرسکتے ہیں۔ مملوک لونڈیوں کے لئے نکاح کی شرط نہیں اور اس سے تمتع کے جواز کی بنیاد نکاح نہیں بلکہ ملک ہے۔
اس آیت سے مزید دو امور کا پتہ چلتا ہے۔ ایک یہ کہ راہب سنیاسی یا بعض صوفی قسم کے لوگ شہوانی خواہش کی تکمیل کو برا سمجھتے ہیں۔ حتیٰ کہ نکاح کو ان کی خود ساختہ ولایت کے معیار کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔ اس لئے کہ نکاح کے بعد انسان خانہ داری اور اولاد کے جھنجھٹوں میں پڑجاتا ہے۔ اور یہ چیز رہبانیت کی ریاضت کے حصول میں آڑے آتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
5۔ (اور بڑے سخت نافرمان) آیت کا مطلب یہ ہے کہ قضائے شہوت بجائے خود ہرگز محل الزام نہیں اور جس طرح بھوک، پیاس، نیند وغیرہ کی ضرورتیں فطری ہیں یہ خواہش بھی طبعی ہے۔ قابل الزام صرف اس کا بےمحل استعمال ہے۔ (آیت) ” ماملکت ایمانھم “۔ باندیوں سے مراد ظاہر ہے کہ صرف شرعی باندیاں ہیں نہ کہ عرفی۔ حاشیہ پہلے گزر چکا ہے۔ بیویوں اور باندیوں کے حلال ہونے سے مراد ان کی جنس کا حلال ہونا ہے۔ نہ یہ کہ بیوی اور باندی سے صحبت ہر صورت اور حال میں جائز ہے ملاحظہ ہوں حواشی تفسیر انگریزی۔ (آیت) ” علی ازواجھم “۔ میں علی مرادف ہے من کے۔ فراء نحوی وابن مالک نحوی وغیرہ سے یہی قول منقول ہے۔ (بحر) (آیت) ” ورآء ذلک “۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیت نمبر 1 تا 22
ترجمہ : بلاشبہ مومنین کامیاب ہوئے جو اپنی نمازوں میں تواضع اختیار کرنے والے ہیں، قَدْ تحقیق کیلئے ہے اور جو لغو باتوں وغیرہ سے اعراض کرنے والے ہیں اور جو زکوۃ ادا کرنے والے ہیں اور جو حرام سے اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں لیکن اپنی بیبیوں سے یا ان عورتوں سے جن کے وہ مالک ہیں یعنی باندیوں سے کیونکہ ان کے پاس آنے میں (جماع کرنے میں) ان پر کوئی الزام نہیں ہاں جو ان کے علاوہ یعنی بیبیوں اور باندیوں کے علاوہ مثلاً استمنا بالید کا طالب ہو تو ایسے لوگ حد سے بڑھنے والے ہیں یعنی ایسی چیز کی طرف تجاوز کرنے والے ہیں جو ان کیلئے حلال نہیں ہے اور جو اپنی…
Read the full tafseer →الا علی ازواجہم او ما ملکت ایمانہم فانہم غیر ملومین۔ سوائے اپنی بیویوں کے اور اپنی (شرعی) باندیوں کے کیونکہ (بیویوں اور اپنی باندیوں سے شرمگاہوں کی حفاظت نہ کرنے پر) ان پر کوئی الزام قائم نہیں کیا جائے گا۔
فرج ‘ شرمگاہ مرد کی ہو یا عورت کی۔ حفظ الفرج حرام سے پاک دامن رہنا۔ عَلٰی ازواجِہِمْکا تعلق حٰفِظُوْنَسے ہے۔ اِحفَظْ عَلَّی عِنَان فَرَسِیْمیرے گھوڑے کی لگام کو پکڑے رکھ آزاد نہ چھوڑ۔ یہ عربی مقولہ ہے حٰفِظُوْنَ عَلٰی اَزْوَاجِہِمْمیں حافِظُوْنَکے بعد عَلٰی کا استعمال اسی محاورے کے مطابق ہے چونکہ حفظ کے اندر نفی بذل کا مفہوم ہے تو گویا حافِظُوْنَکا معنی ہوگیا لاَ یَبُذِلُوْنَ الاَّ عَلٰی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
(3۔ 7) اور جو بیہودہ باتوں اور جھوٹی قسموں سے کنارہ کشی کرنے والے ہیں اور جو اپنے اموال کی زکوٰۃ ادا کرنے والے ہیں اور جو اپنی شرم گاہوں کو حرام شہوت رانی سے پاک رکھنے والے ہیں لیکن اپنی چاروں بیویوں سے یا اپنی شرعی لونڈیوں سے کیوں کہ ان پر اس حلال طریقہ میں کوئی الزام نہیں، البتہ جو حلال راستہ کے علاوہ اور مقام پر شہوت رانی کا طلب گار ہو تو ایسے حلال اور پاکیزہ طریقہ سے حرام اور گندے راستہ کی طرف بڑھنے والے ہیں۔
Read the full tafseer →اِلَّا عَلٰٓي اَزْوَاجِهِمْ۔۔ : اس سے معلوم ہوا کہ اسلام جوگیوں، راہبوں اور بعض صوفیوں کی طرح جنسی خواہش کو سرے سے روک دینے کا حکم نہیں دیتا، بلکہ بیویوں اور لونڈیوں سے جماع کو جائز قرار دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نکاح کا حکم دیا ہے، فرمایا : (وَاَنْكِحُوا الْاَيَامٰى مِنْكُمْ وَالصّٰلِحِيْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَاِمَاۗىِٕكُمْ ۭ اِنْ يَّكُوْنُوْا فُقَرَاۗءَ يُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ ۭ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ) [ النور : 32 ] ”اور اپنے میں سے بےنکاح مردوں، عورتوں کا نکاح کر دو اور اپنے غلاموں اور اپنی لونڈیوں سے جو نیک ہیں ان کا بھی، اگر وہ محتاج ہوں گے تو اللہ انھیں اپنے فضل سے غنی کر دے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
مسئلہ نمبر 4 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : والذین ھم لفروجھم حفظون۔ ابن عربی نے کہا : قرآن کے غرائب میں سے ہے کہ یہ دس آیات مردوں اور عورتوں میں عام ہیں جیسے باقی قرآن کے الفاظ ہیں جو احتمال رکھتے ہیں کہ وہ مردوں اور عورتوں میں عام ہیں لیکن والذین ھم لفروجھم حفظون۔ کا قول اس کے مخاطب صرف مرد ہیں عورتوں کو اس میں خطاب نہیں کیونکہ آگے الا علی ازواجھم اومالکت ایمانھم کا قول آیا ہے اور عورتوں کا اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے کا حکم دوسرے دلائل سے ثابت ہے جیسے عموما اور خصوصا آیات احصان اور اس کے علاوہ جو دلائل موجود ہیں۔
میں کہتا ہوں : اس تاویل پر آیت میں یہ عورت کے لئے حلال نہیں کہ اس سے وہ شخص وطی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–9
1۔ ابن جریر، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت والذین ہم عن اللغو معرضون میں لغو سے مراد باطل ہے۔
2۔ عبد الرزاق، ابن جریر اور ابن المنذر نے روایت کیا ہے کہ حسن (رح) سے نے فرمایا کہ آیت والذین ہم عن اللغو میں لغو سے مراد گناہ ہیں۔
3۔ ابن المبارک (رح) نے روایت کیا ہے کہ قتادہ (رح) نے آیت والذین ہم عن الغو معرضون کے بارے میں فرمایا کہ اللہ کی قسم جب ان کے پاس اللہ کا حکم آیا تو انہوں نے باطل میں سے ہر چیز کو گرادیا (یعنی باطل باتوں اور کاموں سے اعراض کرتے ہیں) ۔
4۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر رحمۃ الہ علیہ سے روایت کیا کہ آیت والذین ہم للزکوۃ فعلون، یعنی وہ مالوں کی…
Read the full tafseer →اِلَّا [ سوائے ] عَلٰٓي اَزْوَاجِهِمْ [ اپنی بیویوں پر ] اَوْ [ یا ] مَا [ ان پر جن کے ] مَلَكَتْ [ مالک ہوئے ] اَيْمَانُهُمْ [ ان کے داہنے ہاتھ ] فَاِنَّهُمْ [ تو بیشک وہ لوگ ] غَيْرُ مَلُوْمِيْنَ [ بغیر ملامت کئے ہوئے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
اہل ایمان کا چوتھا وصف یوں بیان فرمایا (وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِفُرُوْجِہِمْ حَافِظُوْنَ ) (الایات الثلاث) اور جو لوگ اپنی شرم کی جگہوں کی حفاظت کرتے ہیں یہ لوگ اپنی بیویوں اور لونڈیوں سے تو شرعی اصول کے مطابق شہوت پوری کرلیتے ہیں ان کے علاوہ کسی اور جگہ اپنی شرم کی جگہوں کو استعمال نہیں کرتے، بیویوں اور لونڈیوں سے شہوت پوری کرنا چونکہ حلال ہے اس لیے اس پر انہیں کوئی ملامت نہیں ان کے علاوہ اور کسی جگہ کو استعمال کیا تو یہ حد شرعی سے آگے بڑھ جانے والی بات ہوگی جس کی سزا دنیا میں بھی ہے اور آخرت میں بھی۔
آیت کی تصریح سے معلوم ہوا کہ متعہ کرنا بھی حرام ہے (جس کا روافض میں رواج ہے) کیونکہ جس عورت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
صفات مومنین مفلحین
قال اللہ تعالیٰ ۔ قد افلح ال مومن ون .... الیٰ .... ہم فیہا خلدون۔
(ربط) گزشتہ سورت کے اخیر میں اعمال خیر کا حکم اور فلاح کی امید کا ذکر تھا۔ اب ان آیات میں مومنین صالحین کے لیے وقوع فلاح کی خبر دیتے ہیں کہ بلاشبہ وہ مسلمان کامیاب ہیں جن میں یہ سات صفتیں پائی جاتی ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں تحقیق فلاح پائی اہل ایمان نے جس کی پہلے ہی سے اہل ایمان کو امید اور توقع تھی۔ اہل ایمان سے اہل تصدیق اور اہل اطمینان مراد ہے۔ اب اس بشارت کے بعد ان مومنین کی صفات بیان کرتے ہیں۔
اول صفت خشوع
ان میں سے پہلی صفت یہ ہے جو اپنی نماز میں خشوع اور خضوع اور عجزو زاری کرنے والے ہیں یعنی ان کے دل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
7:۔ ” اِلَّا عَلٰے اَزْوَاجَهِمْ الخ “ یہ ما قبل سے مستثنی ہے مرد کو صرف دو قسم کی عورتوں کے ساتھ جنسی اختلاط کی اجازت دی گئی ہے۔ اول وہ عورت جو ازروئے شریعت اسلامیہ اس کی بیوی ہو۔ دوم وہ عورت جو شرعی طور پر اس کی زر خرید لونڈی ہو۔ دنیا میں اس دوسری قسم کا وجود باقی نہیں رہا۔ ” فَمَنِ ابْتَغٰی وَرَاءَ ذٰلِکَ الخ “ جو لوگ مذکورہ بالا دونوں جگہوں کے علاوہ شہوت رانی کریں وہ ظالم اور حد سے گذرنے والے ہیں اور حلال سے حرام کی طرف بڑھنے والے ہیں۔ ای الظلمون المجاوزون الحد من الحلال الی الحرام الخ (خازن و معالم ج 5 ص 32) ۔ یہ آیت متعہ، لواطت، اور استمناء بالید کی حرمت پر دلیل ہے کیونکہ یہ تمام صورتیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
نام اور کوائف :
اس سورة کا نام اس کی پہلی آیت میں آمدہ لفظ المومنون کے نام رکھا گیا ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی۔ مفسرین کے قول کے مطابق یہ سورة سابقہ سورة الحج کے معاً بعد نازل ہوئی۔ سورة ہذا ایک سو اٹھارہ آیات ، چھ رکو ، 1840 الفاظ اور 4801 حروف پر مشتمل ہے۔
گزشتہ سورة کے ساتھ ربط :
گزشتہ سورة کے آخری رکوع میں ہم پڑھ چکے ہیں یایھا الذین امنوا ارکعوا واسجدوا واعبدوا ربکم وافعلوا الخیر لعلکم تفلحون ، اے ایمان والو ! رکوع و سجود کرو اور اپنے پروردگار کی عبادت کرو۔ اور بھلائی کے کام کرو تاکہ تم فلاح پاجائو۔ اب اس سورة کی ابتداء میں بھلائی کے کاموں کی تشریح کی گئی ہے جن پر دنیا وآخرت کی…
Read the full tafseer →اِلَّا عَلٰٓي اَزْوَاجِہِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُہُمْ فَاِنَّہُمْ غَيْرُ مَلُوْمِيْنَ 6ۚ
زوج
يقال لكلّ واحد من القرینین من الذّكر والأنثی في الحیوانات الْمُتَزَاوِجَةُ زَوْجٌ ، ولكلّ قرینین فيها وفي غيرها زوج، کالخفّ والنّعل، ولكلّ ما يقترن بآخر مماثلا له أو مضادّ زوج . قال تعالی:
فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنْثى[ القیامة/ 39]
( ز و ج ) الزوج
جن حیوانات میں نرا اور پایا جاتا ہے ان میں سے ہر ایک دوسرے کا زوج کہلاتا ہے یعنی نرا اور مادہ دونوں میں سے ہر ایک پر اس کا اطلاق ہوتا ہے ۔ حیوانات کے علا وہ دوسری اشیائیں سے جفت کو زوج کہا جاتا ہے جیسے موزے اور جوتے وغیرہ پھر اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
(5) والذین ھم لفروجھم الخ وہ جو اپنی بیبیوں اور شرعی لونڈیوں کے سوا اور کسی پر اپنا ستر نہیں کھولتے۔ اس سے لواطت اور سحق اور ہاتھ سے منی نکالنے کی بھی ممانعت ثابت ہوئی اور متعہ کی ممانعت بھی سمجھی گئی۔ کس لیے کہ متاعی عورت حصہ نہ ملنے کی وجہ سے بیوی نہیں اور نہ لونڈی ہے پھر کیوں کر مباح ہوسکتی ہے اور آیت میں بیوی اور لونڈی پر قضائِ شہوت کا حصر کردیا ہے۔
Read the full tafseer →اِلَّا عَلٰٓی اَزْوَاجِھِمْ اَوْمَامَلَکَتْ اَیْمَانُھُمْ فَاِنَّھُمْ غَیْرُمَلُوْمِیْن۔ فَمَنِ ابْتَغٰی وَرَآئَ ذٰلِکَ فَاُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْعٰدُوْنَ ۔ (المومنون : 6، 7)
(بجز اپنی بیویوں اور اپنی کنیزوں کے، سو اس بارے میں ان کو کوئی ملامت نہیں۔ البتہ ! جو اس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں۔ )
ایک غلط فہمی کا ازالہ
سابقہ آیت کریمہ سے یہ غلط فہمی پیدا ہوسکتی ہے کہ جو اصحابِ ایمان اور اللہ والے ہوتے ہیں وہ اپنی شرمگاہوں کی اس طرح حفاظت کرتے ہیں کہ وہ جنسی تعلق کو اپنے لیے ایک عیب سمجھتے ہیں۔ وہ بالکل راہبوں اور جوگیوں کی طرح زندگی بھر نہ شادی کرتے ہیں اور نہ کسی اور طرح اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
فہم القرآن
ربط کلام : اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنا لازم ہے مگر جائز طریقہ اختیار کرنے کی اجازت ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ مومن مرد اور عورت اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں اور انہیں ایسا کرنے کا حکم دیا گیا ہے اس حکم سے ایک غلط فہمی پیدا ہوسکتی تھی جس کے تدارک کے لیے یہ وضاحت کردی گئی ہے کہ اپنی بیویوں سے فطری عمل کرنا جائز ہے اگر کسی کے پاس آزاد عورت کے ساتھ نکاح کرنے کے وسائل نہ ہوں تو اسے اپنی لونڈی کے ساتھ فطری عمل کرنے کی اجازت ہے۔ بیوی اور لونڈی کے ساتھ فطری عمل کرنے پر کوئی ملامت نہیں۔ جس نے اس کے بغیر کوئی طریقہ یا راستہ اختیار کیا وہ حد سے گزرنے والوں سے ہوگا۔ اسلام دین فطرت ہے اس…
Read the full tafseer →6: اِلَّا عَلٰٓی اَزْوَاجِھِمْ (مگر اپنی بیویوں پر )
نحو : یہ موضع حال میں ہے : ای الا والین علی ازواجھم اس حال میں کہ وہ ولایت رکھنے والے ہیں اپنی ازواج پر نمبر 2۔ ان پر نگہبان ہیں ( قوامین کے معنی میں ہے) اس صورت میں یہ اس قول سے ماخوذ ہوگا۔ کانہ زیادعمل البصرۃ۔ ای والیا علیھا اس پر والی تھا۔
مطلب یہ ہے کہ وہ تمام احوال میں اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ مگر تزوج کی حالت اس سے مستثنیٰ ہے یا باندی بنانے کی صورت۔ نمبر 3۔ علی کا تعلق محذوف سے ہے۔ جس پر غیر ملومین دلالت کر رہا ہے۔ گویا اس طرح فرمایا : یلامون الا علی ازواجہم یعنی یلامون علی کل مباشرۃ الا ما اطلق لھم فانہم غیر ملومین علیہ۔…
Read the full tafseer →6۔ الاعلی ازواجھم، سوائے اپنی بیویوں کے علی بمعنی من کے ہیی۔ اوماملک ایمانھم، مایہان پر محل خفض، (حالت جر) میں ہے۔ یہ آیت خاص طور پر مردو کے بارے میں ہے۔ اس دلیل کی وجہ سے ، اوماملکت ایمانھم، کیونکہ عورت کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے مملوک غلام سے استمتاع بالفر ج کرے۔ فانھم غیرملومین۔ اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرو مگر اپنی بیوی اور باندی سے کیونکہ ان دونوں سے استمتاع کی صورت میں ملامت کا مستحق نہیں ہوتا شریعت کی حدود میں رہ کر۔ یعنی حالت حیض ونفاس نہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
1۔ 11:۔ امام احمد بن حنبل ‘ ترمذی ‘ نسائی اور مستدرک حاکم میں حضرت عمر ؓ سے صحیح روایت 1 ؎ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اس سورت کے شروع کی یہ دس آیتیں جب نازل ہوئیں تو آنحضرت ﷺ نے 2 ؎ دعا مانگی ‘ جس دعا کا حاصل یہ ہے کہ یا اللہ اپنی نعمت کو روز بروز ہم پر بڑھا اور اپنی نعمت سے ہم کو محروم نہ رکھ اور اپنی رضا مندی کے کام ہم سے لے اور پھر آپ نے ان آیتوں کو پڑھ کر فرمایا جو کوئی اس دس آیتوں کے موافق عمل کرے گا بلا شک جنت میں داخل ہوگا۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور صحابہ ؓ نے ان آیتوں کی جو تفسیر 3 ؎ کی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آدمی کا ایمان مضبوط ہونا چاہیے اور نماز پڑھتے وقت ادھر ادھر نظر نہ ڈالنی چاہیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
آیت نمبر 1
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کی تعریف و تعظیم اور ان کی فلاح وسعادت کا ذکر ہے، نیز اس امر کا بیان ہے کہ وہ فلاح وسعادت کیسے حاصل کرسکتے ہیں اور اس ضمن میں اہل ایمان کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ان مذکورہ صفات سے متصف کریں۔ پس بندہ مومن ان آیات کی میزان پر اپنے آپ کا وزن کرے، اور یہ معلوم کرے کہ اس کے پاس اور دوسروں کے پاس قلت و کثرت یا اضافے اور کمی کے اعتبار سے کتنا ایمان ہے۔ پس فرمایا (قد افلاح المومنون) یعنی اہل ایمان کامیابی اور سعادت سے بہرہ مند ہوئے اور انہوں نے ہر دو چیز حاصل کرلی جس کا حصول اہل ایمان کا مقصود و مطلوب ہے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
شرم و حیا
قول باری ہے (والذین ھم لفزوجھم حافظون اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں) آیت سے مرد اور عورتیں دونوں مراد لینا درست ہے اس لئے کہ جب مذکر اور مئونث دونوں کا اجتماع ہوجائے تو تغلیب کے طور پر مذکر کا صیغہ لایا جاتا ہے جس طرح یہ قول باری ہے (قد افلح المومنون الذین ھم فی صلوتھم خاشعون) یہاں مرد اور عورتیں دونوں مراد ہیں۔ بعض مفسرین کا قول ہے کہ آیت (والذین ھم لفروجھم حافظون) مردوں کے ساتھ مخصوص ہے اس کی دلیل یہ قول باری ہے (الا علی ازواجھم اوما ملکت ایمانھم سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جو ان کی ملک یمین میں ہوں) اس میں لا محالہ مرد مراد ہیں۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ اس میں کوء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
5 ملک یمین کی بناء پر تمتع کی اجازت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یا ان سے جن کے مالک ہوں ان کے داہنے ہاتھ " یعنی باندیاں۔ جو کہ شرعی طریقے سے ان کے قبضے میں آئی ہوں کہ بیویوں کے علاوہ ان سے بھی تمتع جائز ہے۔ یعنی وہ لوگ اپنی خواہشات پر کنٹرول رکھتے ہیں اور ان کو صرف وہیں پورا کرتے ہیں جہاں اس کی اجازت ان کے دین نے دی ہو۔ یعنی صرف اپنی بیویوں اور باندیوں پر اور بس۔ کہ دین فطرت نے اس جائز تمتع کی اجازت دی ہے کہ یہ فطرت کے تقاضوں میں سے ہے کہ انسان کو اپنی بیویوں اور باندیوں سے تمتع کی اجازت دی جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
مؤمنوں کی صفات اور وعدہ جنت الفردوس
تشریح : یہاں پر ان سات فرائض کا ذکر کیا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر فرض کیے ہیں۔ اگر بندہ واقعی اپنے آقا کا نمک حلال، یعنی فرمانبردار غلام ہے تو پھر وہ اپنے مالک کے دیے گئے احکامات سے کبھی غافل نہیں ہوسکتا بلکہ ان کی بجا آوری میں ہرگز تھوڑی سی بھی غفلت یا لاپرواہی نہیں کرسکتا۔ اللہ ہمارا مالک ہے اس نے ہی ہمیں پیدا کیا ہے اسی کے پاس واپس جانا ہے۔ اسی نے ہمارے کیے گئے کاموں کا حساب لینا ہے۔ وہی اس کے بدلے میں جنت یا جہنم دے گا۔ وہی ہر وقت ہر جگہ ہر صورت میں ہمیں دیکھ رہا ہے۔ ہم اس کی نگاہ سے ہرگز چھپ نہیں سکتے۔
خلاصہ یہ ” کہ مسلم پر واجب ہے کہ جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
سورة المؤمنون :
(رکوع نمبر 1)
اسرارومعارف
سورة مومنون بھی مکی سورتوں میں شمار کی گئی ہے اور اسی سابق مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے ایمان لانے والوں کے اوصاف کا تذکرہ فرماتے ہوئے شروع ہوتی ہے کہ جنہیں ایمان نصیب ہوا وہ فلاح پاگئے کامیاب ہوگئے فلاح کا ترجمہ اردو میں تو کامیابی ہی ہے مگر عربی زبان کے اعتبار سے اس کا معنی بہت وسیع ہے فلاح سے مکمل کامیابی مراد ہے ہر کام میں ہر وقت اور ہر عالم میں ، دنیا ہو دنیا کی تجارت ، سیاست یا امور ذاتی ہر جگہ کامیاب موت کے لمحات ہوں یا برزخ کا عرصہ کامیاب ، میدان حشر ہو یا آخرت کی زندگی کامیاب اور یہ کامیابی ایمان کا پھل ہے رہا یہ سوال کہ دنیا میں کون ہے جسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
5 ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسلام میں جس طرح بیوی سے تعلق رکھنا جائز ہے اسی طرح لونڈی سے تعلق رکھنا بھی جائز ہے۔ عاوہ ازیں شہوت رانی حرام ہے۔ لہٰذا نکاح متعہ بھی حرام ہے۔ گو بعض موقعوں پر اس کی اجازت دی گئی تاہم بعد میں ہمیشہ کے لئے حرام قرار دے دیا گیا کیونکہ جس عورت سے متعہ کیا جائے اس پر زوجہ کا اطلاق نہیں ہوسکتا۔ نیز دیکھئے سورة نساء آیت 24 ۔ امام شافعی (رح) اور دیگر علما نے اس آیت سے اسمنا کی حرمت پر بھی استدلال کیا ہے کیونکہ ان کو عادوں حد سے متجاوز کرنے والے قرار دیا ہے۔ (ابن کثیر، قرطبی)
Read the full tafseer →(23:6) علی بمعنی من ہے۔ فانہم میںجواب شرط مقدر کے لئے ہے۔ ای فان بذلوا فروجہم لازواجہم او مائھم فانہم غیر ملومین۔ اگر اپنی شرمگاہوں کو اپنی منکوحہ بیویوں اور لونڈیوں کے ساتھ عمل میں لادیں تو ان کے لئے کوئی ملامت نہیں ہے۔
ملومین۔ اسم مفعول جمع مذکر۔ لوم مادہ ومصدر۔ ملام وملامۃ بھی مصدر ہیں۔ لام یلوم (نصر) لوما کے معنی کسی کو برے فعل پر برا بھلا کہنے اور ملامت کرنے کے ہیں لائم ملامت کرنے والا۔ ملوم ملامت کیا گیا۔ ملامت زدہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
(4) کامیاب اہل ایمان کی چوتھی صفت یہ ہے کہ وہ اپنی شرمگاہوں کی مکمل حفاظت کرتے ہیں اور اپنی نفسانی خواہشات کو اپنی بیویوں اور ان باندیوں تک (جن کی اس زمانہ میں اجازت تھی) محدود رکھتے ہیں۔ جو لوگ ان حدود سے آگے قدم نہیں بڑھاتے اس پر انہیں کسی طرف سے کسی ملامت کا سامنا کرنا نہ پڑے گا۔ لیکن اگر کوئی شخص ان حدود سے آگے قدم بڑھائے گا تو وہ زیادتی کرنے والا ہوگا۔
خلاصہ یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدود کے اندر رہیں گے انہیں روحانی قوت و طاقت ‘ اطمینان قلب اور سکھ چین نصیب ہوگا۔ لیکن ان حدود کو پھلانگنے والے اللہ کی رحمتوں سے محروم اور بد ترین عادتوں اور معاشرہ کو رسوا اور برباد کرنے والے بن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
مسلمانوں کی جنت میں جانے کی شرائط۔
(ف 1) یہ سورت مومنون مکیہ ہے۔ مسند امام احمد بن حنبل ، ترمذی، نسائی میں حضرت عمر سے روایت ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے کہ اس سورت کے شروع کی دس آیتیں جب نازل ہوئیں تو نبی ﷺ نے دعا مانگی اس دعا کا حاصل یہ ہے کہ یا اللہ اپنی نعمت کو روز بروز ہم پر بڑھا ، اور اپنی نعمت سے ہم کو محروم نہ رکھ، اور اپنی رضامندی کے کام ہم سے لے اور پھر آپ نے آیتوں کو پڑھ کر فرمایا جو کوئی ان دس آیتوں کے موافق عمل کرے گا بلاشک جنت میں داخل ہوگا، ان آیتوں میں فرمایا کہ بیشک ایمان والے کامیاب ہوئے وہ جو اپنی نمازوں میں عاجزی کیا کرتے ہیں خشوع کا مطلب ، نماز میں عاجزی سے کھڑا ہو اور دنیا سے…
Read the full tafseer →[4] یعنی لونڈیاں جو جنگ میں گرفتار ہو کر آئیں اور اسیران جنگ کا تبادلہ نہ ہونے کی صورت میں اسلامی حکومت کی طرف سے لوگوں کی ملک میں دے دی جائیں۔
Read the full tafseer →(6) مگر ہاں ! اپنی بیویوں یا اپنے ہاتھ کے مال یعنی شرعی باندیوں سے نہیں کیونکہ ان لوگوں پر کوئی الزام اور الاہنا نہیں۔ یعنی حرام کے ذریعہ شہوت رانی سے حفاظت کرتے ہیں مگر ہاں ! اپنی بیویوں سے اور اپنی باندیوں سے شہوت رانی میں کچھ حرج نہیں تو ایسے لوگوں پر کوئی الزام اور ملامت نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
ف 3۔ لغو کا ادنی درجہ گو مباح ہو مگر ترک اس کا اولی اور موجب مدح ہے، اور معصیت لغو کا اعلی درجہ ہے، اس کا ترک واجب ہے، پس لغو کے معنی ہیں غیر مفید، پھر اس کی دو قسم ہیں مضر وغیر مضر۔
Read the full tafseer →اس استثناء کا ذکر جس کا بیان پیچھے گزر چکا یعنی ازالہ خواہشات کی جائز صورت :
6۔ زیر نظر آیت میں اس طریقہ استثناء کا بیان ہے جو نفسانی خواہشات کی تکمیل کے لئے جائز اور روا رکھا گیا ہے وہ ایک اور صرف ایک ہے جس کا نام اسلامی قانون میں نکاح ہے اور چونکہ نکاح میں آنے والی عورتیں دو قسم کی موجود تھیں اس لئے ان دونوں قسم کی عورتوں کو اس سے مستثنی کردیا گیا ایک وہ جو آزاد عورتیں ہیں اور دوسری وہ جو مملوکہ عورتیں ہیں جب ان میں سے کسی کے ساتھ نکاح ہوگیا اور وہ ازدواجی زندگی کے لئے مخصوص ہوگئیں تو اب ان کے علاوہ اگر ازالہ کے لئے مختص ہیں جہاں اس خواہش کا پورا کرنا جائز اور درست ٹھہرا ۔ یہ وضاحت اس لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
What is Falah? How and from where can it be obtained?
قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ
Success is really attained by the believers - 23:1.
The word falah (translated above as 'success' ) has been used in the Qur'an and Sunnah on numerous occasions. The call to prayers invites every Muslim towards falah five times a day. The word signifies the attainment of all desires as well as protection from all misfortunes. (Qamus). It is so comprehensive in its connotation that it may be regarded as the acme of one's desire - but the total falah, where no desire remains unfulfilled or complete immunity…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
6. They are modest in every sense of the word. They are free from sex abuse and sex perversion. They are so modest that they even conceal those parts of their bodies which the law forbids to expose before others. For explanation, see (E.Ns 30 and 32 of Surah An-Noor).
Read the full tafseer →