Explained with ayahs 1–11
دس آیتیں اور جنت کی ضمانت
نسائی، ترمذی اور مسند احمد میں مروی ہے کہ حضرت رسول ﷺ پر جب وحی اترتی تو ایک ایسی میٹھی میٹھی، بھینی بھینی، ہلکی ہلکی سی آواز آپ کے پاس سنی جاتی جیسے شہد کی مکھیوں کے اڑنے کی بھنبھناہٹ کی ہوتی ہے۔ ایک مرتبہ یہی حالت طاری ہوئی۔ تھوڑی دیر کے بعد جب وحی اترچکی تو آپ نے قبلہ کی طرف متوجہ ہو کر اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر یہ دعا پڑھی کہ اے اللہ تو ہمیں زیادہ کر، کم نہ کر، ہمارا اکرام کر، اہانت نہ کر، ہمیں انعام عطا فرما، محروم نہ رکھ، ہمیں دوسروں پر کے مقابلے میں فضیلت دے، ہم پر دوسروں کو پسند نہ فرما، ہم سے خوش ہوجا اور ہمیں خوش کر دے۔ عربی کے الفاظ یہ ہیں۔ دعا (الہم زدنا…
Read the full tafseer →سورة الْمُؤْمِنُوْن 7
یہ جملہ معترضہ ہے جو اس غلط فہمی کو رفع کرنے کے لیے ارشاد ہوا ہے جو " شرمگاہوں کی حفاظت " کے لفظ سے پیدا ہوتی ہے۔ دنیا میں پہلے بھی یہ سمجھا جاتا رہا ہے آج بھی بہت سے لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ قوت شہوانی بجائے خود ایک بڑی چیز ہے اور اس کے تقاضے پورے کرنا، خواہ جائز طریقے ہی سے کیوں نہ ہو، بہرحال نیک اور اللہ والے لوگوں کے لیے موزوں نہیں ہے۔ اس غلط فہمی کو تقویت پہنچ جاتی اگر صرف اتنا ہی کہہ کر بات ختم کردی جاتی کہ فلاح پانے والے اہل ایمان اپنی شرمگاہوں کو محفوظ رکھتے ہیں۔ کیونکہ اس کا مطلب یہ لیا جاسکتا تھا کہ وہ لنگوٹ بند رہتے ہیں، راہب اور سنیاسی قسم کے لوگ ہوتے…
Read the full tafseer →فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَاۗءَ ذٰلِكَ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْعٰدُوْنَ ، یعنی منکوحہ بیوی یا شرعی قاعدہ سے حاصل شدہ لونڈی کے ساتھ شرعی قاعدے کے مطابق قضاء شہوت کے علاوہ اور کوئی بھی صورت شہوت پورا کرنے کی حلال نہیں اس میں زنا بھی داخل ہے اور جو عورت شرعاً اس پر حرام ہے اس سے نکاح بھی حکم زنا ہے اور اپنی بیوی یا لونڈی سے حیض و نفاس کی حالت میں یا غیر فطری طور پر جماع کرنا بھی اس میں داخل ہے۔ یعنی کسی مرد یا لڑکے سے یا کسی جانور سے شہوت پوری کرنا بھی۔ اور جمہور کے نزدیک استمنا بالید یعنی اپنے ہاتھ سے منی خارج کرلینا بھی اس میں داخل ہے۔ (از تفسیر بیان القرآن۔ قرطبی۔ بحر محیط وغیرہ)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
آیت 7-5
شہوانی خواہشات پر قابو
یعنی یہ لوگ اپنی شہوانی خواہشات کو کنٹرول میں رکھتے ہیں۔ ان کو صرف وہیں آزادی دیتے ہیں جہاں اس کا حق ان کو حاصل ہے۔ یعنی بیویوں اور لونڈیوں پر 1 یہ نہیں ہوتا کہ شہوات سے اندھے ہو کر بالکل سانڈ بن جائیں اور ہر حرمت پر دست اندازی اپنا حق سمجھ لیں۔ فرمایا کہ اپنے حدود کے اندر یہ چیز مباح ہے۔ اس پر کسی کو ملامت نہیں۔ یعنی کوئی اس کو تقویٰ ، دینداری اور خدا ترسی کے منافی نہ سمجھے جیسا کہ راہبانہ تصورات کے تحت عام طور پر سمجھا یا ہے۔ البتہ وہ لوگ جو اس حد سے آگے بڑھیں گے وہ خدا کے حدود کو توڑنے والے ہیں۔ یہاں صرف ان کے جرم کا ذکر فرمایا، اس کی سزا کا ذکر نہیں فرمایا۔…
Read the full tafseer →7-1اس سے معلوم ہوا کہ متعہ کی اسلام میں قطعًا اجازت نہیں اور جنسی خواہش کی تسکین کے لئے صرف دو ہی جائز طریقے ہیں۔ بیوی سے مباشرت کر کے یا لونڈی سے ہم بستری کر کے۔ بلکہ اب صرف بیوی ہی اس کام کے لئے رہ گئی ہے کیونکہ اصطلاحی لونڈی کا وجود فی الحال ختم ہے جب کبھی حالات نے دوبارہ وجود پذیر کیا تو بیوی ہی کی طرح اس سے مباشرت جائز ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
6: یعنی بیوی اور شرعی کنیز کے سوا کسی اور طریقے سے اپنی جنسی خواہش پوری کرنے کی کوشش کرنا حرام ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
درس نمبر 145 تشریح آیات (1 تا 22)
قد افلح خلدون (ا تا 11)
یہ ایک پختہ وعدہ ہے بلکہ یہ عالم بالا کی ایک وہ ٹوک قرار داد ہے کہ مومنین فلاح پائیں گے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ اللہ تو کبھی اپنے عہد کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ پھر یہ اللہ کا فیصلہ ہے اور اللہ کے فیصلے کو کوئی رد نہیں کرسکتا کہ مومنین دنیا میں بھی فلاح پائیں گے اور آخرت میں بھی فلاح پائیں گے ۔ ایک مومن انفرادی طور پر فلاح پائے گا اور اہل ایمان کی جماعت بھی فلاح پائیں گی۔ ایسی کامیابی جسے ایک مومن اپنے دل اپنی حقیقی زندگی میں محسوس کرتے ہوں اور اس کے اندر فلاح کے وہ تمام مفہوم پائے جاتے ہوں جن سے دنیا با خبر ہے اور وہ مفاہیم بھی پائے جاتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
4 یعنی اپنی منکوحہ عورت یا باندی کے سواء کوئی اور راستہ قضائے شہوت کا ڈھونڈے، وہ حلال کی حد سے آگے نکل جانے والا ہے۔ اس میں زنا، لواطت اور استمناء بالید وغیرہ سب صورتیں آگئیں، بلک بعض مفسرین نے حرمت متعہ پر بھی اس سے استدلال کیا ہے وفیہ کلام طویل لایسعہ المقام۔ راجع روح المعانی تحت ہذہ الایۃ الکریمہ۔
Read the full tafseer →آیت 7 فَمَنِ ابْتَغٰی وَرَآءَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓءِکَ ہُمُ الْعٰدُوْنَ ”
اس سلسلے میں جو کوئی حلال اور جائز طریقے سے ہٹ کر کوئی اور راستہ اختیار کرے گا وہ گناہ اور زیادتی کا مرتکب قرار پائے گا۔
Read the full tafseer →7 شہوانی خواہشات کے سلسلہ میں تین ہی صورتیں ممکن تھیں۔ ایک یہ کہ انسان ایسی خواہشات کو کلیتؤہ ترک کردے۔ دوسری یہ کہ ان خواہشات کی تکمیل میں انسان کلیتؤہ آزاد ہو اور تیسری یہ کہ کوئی معتدل روش اختیار کی جائے۔ اسلام نے ان میں سے معتدل روش کو اختیار کیا ہے۔ یعنی ان خواہشات کی تکمیل کا راستہ کھول تو دیا۔ لیکن صرف جائز نکاح یا ملکبھین کی صورت میں۔ باقی دونوں انتہا پسندانہ عورتوں کو ناجائز اور حرام قرار دیا ہے۔ نہ رہبانیت کی ترک خواہش کو پسند فرمایا اور نہ اس سلسلہ میں شتر بےمہار قسم کی آزادی کو۔ اس آیت میں اسی بےلگام آزادی کو ممنوع قرار دیا گیا ہے اور اس میں زنا، لواطت یا لونڈے بازی، عورتوں کی ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
5۔ (اور بڑے سخت نافرمان) آیت کا مطلب یہ ہے کہ قضائے شہوت بجائے خود ہرگز محل الزام نہیں اور جس طرح بھوک، پیاس، نیند وغیرہ کی ضرورتیں فطری ہیں یہ خواہش بھی طبعی ہے۔ قابل الزام صرف اس کا بےمحل استعمال ہے۔ (آیت) ” ماملکت ایمانھم “۔ باندیوں سے مراد ظاہر ہے کہ صرف شرعی باندیاں ہیں نہ کہ عرفی۔ حاشیہ پہلے گزر چکا ہے۔ بیویوں اور باندیوں کے حلال ہونے سے مراد ان کی جنس کا حلال ہونا ہے۔ نہ یہ کہ بیوی اور باندی سے صحبت ہر صورت اور حال میں جائز ہے ملاحظہ ہوں حواشی تفسیر انگریزی۔ (آیت) ” علی ازواجھم “۔ میں علی مرادف ہے من کے۔ فراء نحوی وابن مالک نحوی وغیرہ سے یہی قول منقول ہے۔ (بحر) (آیت) ” ورآء ذلک “۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیت نمبر 1 تا 22
ترجمہ : بلاشبہ مومنین کامیاب ہوئے جو اپنی نمازوں میں تواضع اختیار کرنے والے ہیں، قَدْ تحقیق کیلئے ہے اور جو لغو باتوں وغیرہ سے اعراض کرنے والے ہیں اور جو زکوۃ ادا کرنے والے ہیں اور جو حرام سے اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں لیکن اپنی بیبیوں سے یا ان عورتوں سے جن کے وہ مالک ہیں یعنی باندیوں سے کیونکہ ان کے پاس آنے میں (جماع کرنے میں) ان پر کوئی الزام نہیں ہاں جو ان کے علاوہ یعنی بیبیوں اور باندیوں کے علاوہ مثلاً استمنا بالید کا طالب ہو تو ایسے لوگ حد سے بڑھنے والے ہیں یعنی ایسی چیز کی طرف تجاوز کرنے والے ہیں جو ان کیلئے حلال نہیں ہے اور جو اپنی…
Read the full tafseer →فمن اتبغی ورآء ذلک فاولئک ہم العدون۔ پھر جو اس کے علاوہ (اور جگہ شہوت رانی کے طلبگار
ہوں گے تو وہ (حد شرعی سے) نکلنے والے ہیں۔
العادون یعنی ظلم اور زیادتی میں کامل ہیں ‘ حلال سے حرام کی طرف تجاوز کرنے والے ہیں اس آیت سے متعہ کرنے کی اجازت منسوخ ہوگئی۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ابتدائے اسلام میں عورتوں سے متعہ کرنا جائز تھا۔ کوئی شخص اجنبی شہر میں جاتا اور وہاں کوئی جان پہچان والا نہ ہوتا تو جس قدر قیام کا ارادہ ہوتا اتنی مدت کے لئے کسی عورت سے نکاح کرلیتا تاکہ عورت اس کے لئے کھانا تیار کر دے اور سامان کی حفاظت رکھے یہاں تک کہ جب آیت (اِلَّا عَلٰی اَزْوَاجِہِمْ اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُہُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
(3۔ 7) اور جو بیہودہ باتوں اور جھوٹی قسموں سے کنارہ کشی کرنے والے ہیں اور جو اپنے اموال کی زکوٰۃ ادا کرنے والے ہیں اور جو اپنی شرم گاہوں کو حرام شہوت رانی سے پاک رکھنے والے ہیں لیکن اپنی چاروں بیویوں سے یا اپنی شرعی لونڈیوں سے کیوں کہ ان پر اس حلال طریقہ میں کوئی الزام نہیں، البتہ جو حلال راستہ کے علاوہ اور مقام پر شہوت رانی کا طلب گار ہو تو ایسے حلال اور پاکیزہ طریقہ سے حرام اور گندے راستہ کی طرف بڑھنے والے ہیں۔
Read the full tafseer →فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَاۗءَ ذٰلِكَ۔۔ : یعنی بیوی اور لونڈی کے علاوہ کسی بھی طریقے سے شہوت پوری کرنے والے ہی حد سے بڑھنے والے ہیں۔ اس آیت سے اپنی منکوحہ عورتوں اور اپنی لونڈیوں کے سوا کسی بھی عورت سے جماع حد سے بڑھنا ٹھہرا۔ چناچہ فرمایا : (وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنٰٓى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً ۭ وَسَاۗءَ سَبِيْلًا) [ بنی إسرائیل : 32 ] ”اور زنا کے قریب نہ جاؤ، بیشک وہ ہمیشہ سے بڑی بےحیائی ہے اور برا راستہ ہے۔“ اسی طرح قوم لوط کا عمل، کسی جانور سے بدفعلی اور ہاتھ یا کسی اور طریقے سے ایسا فعل بھی حد سے تجاوز ہے۔ اگرچہ تجاوز کے درجوں میں فرق ہے، مگر مومن کو کسی طرح بھی اللہ کی حدود سے تجاوز درست…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
مسئلہ نمبر 4 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : والذین ھم لفروجھم حفظون۔ ابن عربی نے کہا : قرآن کے غرائب میں سے ہے کہ یہ دس آیات مردوں اور عورتوں میں عام ہیں جیسے باقی قرآن کے الفاظ ہیں جو احتمال رکھتے ہیں کہ وہ مردوں اور عورتوں میں عام ہیں لیکن والذین ھم لفروجھم حفظون۔ کا قول اس کے مخاطب صرف مرد ہیں عورتوں کو اس میں خطاب نہیں کیونکہ آگے الا علی ازواجھم اومالکت ایمانھم کا قول آیا ہے اور عورتوں کا اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے کا حکم دوسرے دلائل سے ثابت ہے جیسے عموما اور خصوصا آیات احصان اور اس کے علاوہ جو دلائل موجود ہیں۔
میں کہتا ہوں : اس تاویل پر آیت میں یہ عورت کے لئے حلال نہیں کہ اس سے وہ شخص وطی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–9
1۔ ابن جریر، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت والذین ہم عن اللغو معرضون میں لغو سے مراد باطل ہے۔
2۔ عبد الرزاق، ابن جریر اور ابن المنذر نے روایت کیا ہے کہ حسن (رح) سے نے فرمایا کہ آیت والذین ہم عن اللغو میں لغو سے مراد گناہ ہیں۔
3۔ ابن المبارک (رح) نے روایت کیا ہے کہ قتادہ (رح) نے آیت والذین ہم عن الغو معرضون کے بارے میں فرمایا کہ اللہ کی قسم جب ان کے پاس اللہ کا حکم آیا تو انہوں نے باطل میں سے ہر چیز کو گرادیا (یعنی باطل باتوں اور کاموں سے اعراض کرتے ہیں) ۔
4۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر رحمۃ الہ علیہ سے روایت کیا کہ آیت والذین ہم للزکوۃ فعلون، یعنی وہ مالوں کی…
Read the full tafseer →فَمَنِ [ پھر جس نے ] ابْتَغٰى [ تلاش کیا ] وَرَاۗءَ ذٰلِكَ [ اس کے سوا ] فَاُولٰۗىِٕكَ [ تو وہ لوگ ] هُمُ الْعٰدُوْنَ [ ہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
اہل ایمان کا چوتھا وصف یوں بیان فرمایا (وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِفُرُوْجِہِمْ حَافِظُوْنَ ) (الایات الثلاث) اور جو لوگ اپنی شرم کی جگہوں کی حفاظت کرتے ہیں یہ لوگ اپنی بیویوں اور لونڈیوں سے تو شرعی اصول کے مطابق شہوت پوری کرلیتے ہیں ان کے علاوہ کسی اور جگہ اپنی شرم کی جگہوں کو استعمال نہیں کرتے، بیویوں اور لونڈیوں سے شہوت پوری کرنا چونکہ حلال ہے اس لیے اس پر انہیں کوئی ملامت نہیں ان کے علاوہ اور کسی جگہ کو استعمال کیا تو یہ حد شرعی سے آگے بڑھ جانے والی بات ہوگی جس کی سزا دنیا میں بھی ہے اور آخرت میں بھی۔
آیت کی تصریح سے معلوم ہوا کہ متعہ کرنا بھی حرام ہے (جس کا روافض میں رواج ہے) کیونکہ جس عورت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
صفات مومنین مفلحین
قال اللہ تعالیٰ ۔ قد افلح ال مومن ون .... الیٰ .... ہم فیہا خلدون۔
(ربط) گزشتہ سورت کے اخیر میں اعمال خیر کا حکم اور فلاح کی امید کا ذکر تھا۔ اب ان آیات میں مومنین صالحین کے لیے وقوع فلاح کی خبر دیتے ہیں کہ بلاشبہ وہ مسلمان کامیاب ہیں جن میں یہ سات صفتیں پائی جاتی ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں تحقیق فلاح پائی اہل ایمان نے جس کی پہلے ہی سے اہل ایمان کو امید اور توقع تھی۔ اہل ایمان سے اہل تصدیق اور اہل اطمینان مراد ہے۔ اب اس بشارت کے بعد ان مومنین کی صفات بیان کرتے ہیں۔
اول صفت خشوع
ان میں سے پہلی صفت یہ ہے جو اپنی نماز میں خشوع اور خضوع اور عجزو زاری کرنے والے ہیں یعنی ان کے دل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
7:۔ ” اِلَّا عَلٰے اَزْوَاجَهِمْ الخ “ یہ ما قبل سے مستثنی ہے مرد کو صرف دو قسم کی عورتوں کے ساتھ جنسی اختلاط کی اجازت دی گئی ہے۔ اول وہ عورت جو ازروئے شریعت اسلامیہ اس کی بیوی ہو۔ دوم وہ عورت جو شرعی طور پر اس کی زر خرید لونڈی ہو۔ دنیا میں اس دوسری قسم کا وجود باقی نہیں رہا۔ ” فَمَنِ ابْتَغٰی وَرَاءَ ذٰلِکَ الخ “ جو لوگ مذکورہ بالا دونوں جگہوں کے علاوہ شہوت رانی کریں وہ ظالم اور حد سے گذرنے والے ہیں اور حلال سے حرام کی طرف بڑھنے والے ہیں۔ ای الظلمون المجاوزون الحد من الحلال الی الحرام الخ (خازن و معالم ج 5 ص 32) ۔ یہ آیت متعہ، لواطت، اور استمناء بالید کی حرمت پر دلیل ہے کیونکہ یہ تمام صورتیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
نام اور کوائف :
اس سورة کا نام اس کی پہلی آیت میں آمدہ لفظ المومنون کے نام رکھا گیا ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی۔ مفسرین کے قول کے مطابق یہ سورة سابقہ سورة الحج کے معاً بعد نازل ہوئی۔ سورة ہذا ایک سو اٹھارہ آیات ، چھ رکو ، 1840 الفاظ اور 4801 حروف پر مشتمل ہے۔
گزشتہ سورة کے ساتھ ربط :
گزشتہ سورة کے آخری رکوع میں ہم پڑھ چکے ہیں یایھا الذین امنوا ارکعوا واسجدوا واعبدوا ربکم وافعلوا الخیر لعلکم تفلحون ، اے ایمان والو ! رکوع و سجود کرو اور اپنے پروردگار کی عبادت کرو۔ اور بھلائی کے کام کرو تاکہ تم فلاح پاجائو۔ اب اس سورة کی ابتداء میں بھلائی کے کاموں کی تشریح کی گئی ہے جن پر دنیا وآخرت کی…
Read the full tafseer →فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَاۗءَ ذٰلِكَ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْعٰدُوْنَ 7ۚ
ابتغاء (ينبغي)
البَغْي : طلب تجاوز الاقتصاد فيما يتحرّى، تجاوزه أم لم يتجاوزه، فتارة يعتبر في القدر الذي هو الكمية، وتارة يعتبر في الوصف الذي هو الكيفية، يقال : بَغَيْتُ الشیء : إذا طلبت أكثر ما يجب، وابْتَغَيْتُ كذلك، قال اللہ عزّ وجل : لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ [ التوبة/ 48] ،
وأمّا الابتغاء
فقد خصّ بالاجتهاد في الطلب، فمتی کان الطلب لشیء محمود فالابتغاء فيه محمود نحو : ابْتِغاءَ رَحْمَةٍ مِنْ رَبِّكَ [ الإسراء/ 28] ، وابْتِغاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْأَعْلى [ اللیل/ 20] ، الابتغاء فقد خصّ بالاجتهاد في الطلب، فمتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
(5) والذین ھم لفروجھم الخ وہ جو اپنی بیبیوں اور شرعی لونڈیوں کے سوا اور کسی پر اپنا ستر نہیں کھولتے۔ اس سے لواطت اور سحق اور ہاتھ سے منی نکالنے کی بھی ممانعت ثابت ہوئی اور متعہ کی ممانعت بھی سمجھی گئی۔ کس لیے کہ متاعی عورت حصہ نہ ملنے کی وجہ سے بیوی نہیں اور نہ لونڈی ہے پھر کیوں کر مباح ہوسکتی ہے اور آیت میں بیوی اور لونڈی پر قضائِ شہوت کا حصر کردیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِاَمٰنٰتِھِمْ وَعَھْدِھِمْ رٰعُوْنَ ۔ (المومنون : 8)
(اور وہ اپنی امانتوں اور اپنے عہدوپیمان کا پاس رکھنے والے ہیں۔ )
اہلِ ایمان کی ایک اور صفت
اہلِ ایمان کی پانچویں اور چھٹی صفت کا یہاں ذکر کیا جارہا ہے۔ پانچویں صفت یہ ہے کہ وہ اپنی امانتوں کا پاس رکھنے والے ہیں۔ امانت کا لفظ بڑا وسیع ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو جو صلاحیتیں اور قوتیں عطا فرمائی ہیں یہ اس کی انسانوں کے پاس امانتیں ہیں۔ زندگی سب سے بڑی امانت ہے۔ جوانی زندگی کا ایک حصہ ہے لیکن اپنی اہمیت کے پیش نظر الگ سے اسے امانت کا درجہ دیا گیا ہے۔ مال و دولت بھی اللہ کی امانت ہے اور مال و دولت کے حصول کی صلاحیت بھی اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
فہم القرآن
ربط کلام : اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنا لازم ہے مگر جائز طریقہ اختیار کرنے کی اجازت ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ مومن مرد اور عورت اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں اور انہیں ایسا کرنے کا حکم دیا گیا ہے اس حکم سے ایک غلط فہمی پیدا ہوسکتی تھی جس کے تدارک کے لیے یہ وضاحت کردی گئی ہے کہ اپنی بیویوں سے فطری عمل کرنا جائز ہے اگر کسی کے پاس آزاد عورت کے ساتھ نکاح کرنے کے وسائل نہ ہوں تو اسے اپنی لونڈی کے ساتھ فطری عمل کرنے کی اجازت ہے۔ بیوی اور لونڈی کے ساتھ فطری عمل کرنے پر کوئی ملامت نہیں۔ جس نے اس کے بغیر کوئی طریقہ یا راستہ اختیار کیا وہ حد سے گزرنے والوں سے ہوگا۔ اسلام دین فطرت ہے اس…
Read the full tafseer →7: فَمَنِ ابْتَغٰی وَرآئَ ذٰلِکَ (پھر جس نے تلاش کیا اس کے علاوہ اور راستہ) قضائے شہوت کیلئے ان دو کے علاوہ اور راستہ ڈھونڈا۔ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْعٰدُوْنَ (پس وہی لوگ حد سے گزرنے والے ہیں) عادونؔ۔ سرکشی میں کامل۔
نحو : اس میں متعہ اور استمناء بالکف کی حرمت ثابت ہو رہی ہے کیونکہ یہ دونوں بارادئہ قضائے شہوت کیلئے کئے جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →7۔ فمن ابتغی وراء ذالک۔ جس نے ان عورتوں کے علاوہ کوئی اور صورت تلاش کی۔ مثلا متعہ کی یا کسی اور چیز کی۔ فاء لئک ھم العادون، ظلم اور زیادتی میں تجاوز کرنے والے ہوں گے یا حلال و حرام میں تجاوز کرنے والے ہوں گے اور یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ استمتاع بالید بھی حرام ہے۔ یہی اکثر علماء کا بیان ہے عطاء کا قول ہے کہ کچھ لوگوں کا حشر ایسی حالت میں ہوگا کہ ان کے ہاتھ حاملہ ہوں گے ابن جریج کا قول ہے کہ میں نے عطاء سے یہ مسئلہ پوچھا تو انہوں نے کہا کہ مکروہ ہے۔ سعید بن جبیر کا قول ہے کہ کچھ لوگ اپنے آلات مردمی سے خود کھیلتے ہیں اللہ نے ان پر عذاب نازل فرمایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
1۔ 11:۔ امام احمد بن حنبل ‘ ترمذی ‘ نسائی اور مستدرک حاکم میں حضرت عمر ؓ سے صحیح روایت 1 ؎ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اس سورت کے شروع کی یہ دس آیتیں جب نازل ہوئیں تو آنحضرت ﷺ نے 2 ؎ دعا مانگی ‘ جس دعا کا حاصل یہ ہے کہ یا اللہ اپنی نعمت کو روز بروز ہم پر بڑھا اور اپنی نعمت سے ہم کو محروم نہ رکھ اور اپنی رضا مندی کے کام ہم سے لے اور پھر آپ نے ان آیتوں کو پڑھ کر فرمایا جو کوئی اس دس آیتوں کے موافق عمل کرے گا بلا شک جنت میں داخل ہوگا۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور صحابہ ؓ نے ان آیتوں کی جو تفسیر 3 ؎ کی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آدمی کا ایمان مضبوط ہونا چاہیے اور نماز پڑھتے وقت ادھر ادھر نظر نہ ڈالنی چاہیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
آیت نمبر 1
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کی تعریف و تعظیم اور ان کی فلاح وسعادت کا ذکر ہے، نیز اس امر کا بیان ہے کہ وہ فلاح وسعادت کیسے حاصل کرسکتے ہیں اور اس ضمن میں اہل ایمان کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ان مذکورہ صفات سے متصف کریں۔ پس بندہ مومن ان آیات کی میزان پر اپنے آپ کا وزن کرے، اور یہ معلوم کرے کہ اس کے پاس اور دوسروں کے پاس قلت و کثرت یا اضافے اور کمی کے اعتبار سے کتنا ایمان ہے۔ پس فرمایا (قد افلاح المومنون) یعنی اہل ایمان کامیابی اور سعادت سے بہرہ مند ہوئے اور انہوں نے ہر دو چیز حاصل کرلی جس کا حصول اہل ایمان کا مقصود و مطلوب ہے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
نکاح متعہ کی تحریم
قول باری ہے (فمن ابتغی ورآء ذلک فاولئک ھم العادون البتہ جو اس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہی زیادتی کرنے والے ہیں) آیت نکاح متعہ کی تحریم کی مقتضی ہے اس لئے کہ متعہ کی بنا پر ہاتھ آنے والی عورت نہ تو بیوی ہوتی ہے اور نہ ہی ملک یمین کے تحت آنے والی مملوکہ ہم نے سورة نساء میں اس پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ یہ بحث قول باری (ورآء ذلک کی) کی تفسیر کے تحت کی گئی ہے۔ قول باری (ورآء ذلک) کا مفہوم ” غیر ذلک ‘ ہے یعنی ان کے ماسوا۔ قول باری (الحادون) سے مراد ایسے لوگ ہیں جو حلال سے حرام کی طرف تجاوز کریں۔ قول باری (الا علی ازواجھم اوما ملکت ایمانھم) اس جملہ سے استثناء جس میں شرمگاہوں کی حفاظت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
5 ملک یمین کی بناء پر تمتع کی اجازت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یا ان سے جن کے مالک ہوں ان کے داہنے ہاتھ " یعنی باندیاں۔ جو کہ شرعی طریقے سے ان کے قبضے میں آئی ہوں کہ بیویوں کے علاوہ ان سے بھی تمتع جائز ہے۔ یعنی وہ لوگ اپنی خواہشات پر کنٹرول رکھتے ہیں اور ان کو صرف وہیں پورا کرتے ہیں جہاں اس کی اجازت ان کے دین نے دی ہو۔ یعنی صرف اپنی بیویوں اور باندیوں پر اور بس۔ کہ دین فطرت نے اس جائز تمتع کی اجازت دی ہے کہ یہ فطرت کے تقاضوں میں سے ہے کہ انسان کو اپنی بیویوں اور باندیوں سے تمتع کی اجازت دی جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
مؤمنوں کی صفات اور وعدہ جنت الفردوس
تشریح : یہاں پر ان سات فرائض کا ذکر کیا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر فرض کیے ہیں۔ اگر بندہ واقعی اپنے آقا کا نمک حلال، یعنی فرمانبردار غلام ہے تو پھر وہ اپنے مالک کے دیے گئے احکامات سے کبھی غافل نہیں ہوسکتا بلکہ ان کی بجا آوری میں ہرگز تھوڑی سی بھی غفلت یا لاپرواہی نہیں کرسکتا۔ اللہ ہمارا مالک ہے اس نے ہی ہمیں پیدا کیا ہے اسی کے پاس واپس جانا ہے۔ اسی نے ہمارے کیے گئے کاموں کا حساب لینا ہے۔ وہی اس کے بدلے میں جنت یا جہنم دے گا۔ وہی ہر وقت ہر جگہ ہر صورت میں ہمیں دیکھ رہا ہے۔ ہم اس کی نگاہ سے ہرگز چھپ نہیں سکتے۔
خلاصہ یہ ” کہ مسلم پر واجب ہے کہ جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
سورة المؤمنون :
(رکوع نمبر 1)
اسرارومعارف
سورة مومنون بھی مکی سورتوں میں شمار کی گئی ہے اور اسی سابق مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے ایمان لانے والوں کے اوصاف کا تذکرہ فرماتے ہوئے شروع ہوتی ہے کہ جنہیں ایمان نصیب ہوا وہ فلاح پاگئے کامیاب ہوگئے فلاح کا ترجمہ اردو میں تو کامیابی ہی ہے مگر عربی زبان کے اعتبار سے اس کا معنی بہت وسیع ہے فلاح سے مکمل کامیابی مراد ہے ہر کام میں ہر وقت اور ہر عالم میں ، دنیا ہو دنیا کی تجارت ، سیاست یا امور ذاتی ہر جگہ کامیاب موت کے لمحات ہوں یا برزخ کا عرصہ کامیاب ، میدان حشر ہو یا آخرت کی زندگی کامیاب اور یہ کامیابی ایمان کا پھل ہے رہا یہ سوال کہ دنیا میں کون ہے جسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
6 ۔ یعنی امانت میں خیانت نہیں کرتے اور جب وہ کوئی عہد کرتے ہیں تو اسے پورا کرتے ہیں۔ امانت میں خیانت اور عہد میں دغا بازی کرنا نفاق کی علامت ہے۔ حدیث میں ہے : منافق کی تین علامتیں ہیں۔ جب وہ بات کرتا ہے جھوٹ بولتا ہے۔ جب وعدہ کرتا ہے۔ تو خلاف ورزی کرتا ہے۔ اور جب اس کے پاس امانت رکھی جاتی ہے تو اس میں خیانت کرتا ہے۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →(23:7) ابتغی۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ ابتغاء (افتعال) مصدر۔ اس نے چاہا اس نے تلاش کیا۔
ورائ۔ وراء مصدر ہے لیکن اس کے معنی ہیں آڑ۔ حد فاصل ۔ کسی چیز کا آگے ہونا پیچھے ہونا۔ علاوہ۔ سوا ہونا۔ فصل اور حد بندی پر دلالت کرتا ہے۔ اس لئے ان سب معنی میں مستعمل ہے۔
العدون۔ عدو سے اسم فاعل کا صیغہ ہے جمع مذکر۔ عادون اصل میں عادو ون تھا۔ وائو کلمہ میں چوتھی جگہ آیا ہے۔ اور ماقبل مکسور ہونے کی وجہ سے اس کو ی سے تبدیل کیا تو عادیون یوا۔ ی پر ضمہ دشوار ہونے کی وجہ سے نقل کر کے ماقبل کو دیا۔ اب دو ساکن جمع ہوگئے یعنی ی اور وائو۔ ی کو حذف کیا۔ عادون ہوگیا۔ عدو کے معنی حد سے تجاز کرنے کے ہیں لہٰذا عادون حد سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
(4) کامیاب اہل ایمان کی چوتھی صفت یہ ہے کہ وہ اپنی شرمگاہوں کی مکمل حفاظت کرتے ہیں اور اپنی نفسانی خواہشات کو اپنی بیویوں اور ان باندیوں تک (جن کی اس زمانہ میں اجازت تھی) محدود رکھتے ہیں۔ جو لوگ ان حدود سے آگے قدم نہیں بڑھاتے اس پر انہیں کسی طرف سے کسی ملامت کا سامنا کرنا نہ پڑے گا۔ لیکن اگر کوئی شخص ان حدود سے آگے قدم بڑھائے گا تو وہ زیادتی کرنے والا ہوگا۔
خلاصہ یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدود کے اندر رہیں گے انہیں روحانی قوت و طاقت ‘ اطمینان قلب اور سکھ چین نصیب ہوگا۔ لیکن ان حدود کو پھلانگنے والے اللہ کی رحمتوں سے محروم اور بد ترین عادتوں اور معاشرہ کو رسوا اور برباد کرنے والے بن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
مسلمانوں کی جنت میں جانے کی شرائط۔
(ف 1) یہ سورت مومنون مکیہ ہے۔ مسند امام احمد بن حنبل ، ترمذی، نسائی میں حضرت عمر سے روایت ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے کہ اس سورت کے شروع کی دس آیتیں جب نازل ہوئیں تو نبی ﷺ نے دعا مانگی اس دعا کا حاصل یہ ہے کہ یا اللہ اپنی نعمت کو روز بروز ہم پر بڑھا ، اور اپنی نعمت سے ہم کو محروم نہ رکھ، اور اپنی رضامندی کے کام ہم سے لے اور پھر آپ نے آیتوں کو پڑھ کر فرمایا جو کوئی ان دس آیتوں کے موافق عمل کرے گا بلاشک جنت میں داخل ہوگا، ان آیتوں میں فرمایا کہ بیشک ایمان والے کامیاب ہوئے وہ جو اپنی نمازوں میں عاجزی کیا کرتے ہیں خشوع کا مطلب ، نماز میں عاجزی سے کھڑا ہو اور دنیا سے…
Read the full tafseer →[5] یعنی جو شخص اپنی منکوحہ عورت یا لونڈی کے سوا کوئی اور راستہ قضائے شہوت کا ڈھونڈے وہ حلال کی حد سے نکل جانے والا ہے۔ اس میں زنا، لواطت (Sodomy) ، استمنا بالید (Masterbation) وغیرہ سب صورتیں آگئیں۔ امام احمد بن حنبل استمنا بالید کو جائز قرار دیتے ہیں۔
Read the full tafseer →(7) پھر جو کوئی ان بیویوں اور باندیوں کے خلاف شہوت رانی کی راہ تلاش کرے تو ایسے ہی لوگ حد شرعی سے آگے بڑھ جانے والے ہیں۔ یعنی بیویاں اور باندیاں شریعت نے حلال کی ہیں ان حلال طریقوں کے علاوہ جو بھی طریقہ خواہش پوری کرنے کا اختیار کرے گا خواہ وہ زنا ہو۔ اغلام ہو۔ مشت زنی ہو یا بہائم کے ساتھ منہ کالا کرنے والے ہوں یہ سب لوگ حدِ شرع سے باہر نکل جانے والے اور مستوجب سزا ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–19
ف 4۔ اس کے علاوہ طلبگار ہو اس میں زنا و لواطت و وطی بہائم و عاریت جواری اجماعا اور بعض کے نزدیک استمنا بالید بھی داخل ہے۔ اور اگر یہ آیت مدنی ہو تو حرمت متعہ پر بھی اس سے استدلال صحیح ہے۔
Read the full tafseer →خواہش نفسانی کے اسی طرح ازالہ کے خلاف جو بھی کیا جائے وہ حد سے تجاوز کرنا ہے :
7۔ لوگوں نے اس وقت بھی جب قرآن کریم کا نزول ہوا اس خواہش کے ازالہ کے لئے بہت سی صورتیں اختیار کی ہوئی تھیں اور آج بھی امت مسلمہ کے علاوہ دوسرے لوگوں نے بہت سی صورتیں اختیار کرلی ہیں اور اس معاملہ کو اتنی وسعت دے رکھی ہے کہ سوائے ایک جبر کے باقی کوئی ممانعت ہی نہیں رکھی اور یہاں تک کہ اس مسئلہ کو انسانیت سے اٹھا کر خالصتا حیوانیت کا مسئلہ قرار دے دیا ہے اور تجاوز کی حدود کو پھلانگ کر اتنے دور نکل چکے ہیں کہ ذوالارحام کی فہرست کو بھی منسوخ کردیا ہے اور فریقین کی رضا سے سب کچھ جائز ہے ۔ رہے وہ لوگ جو اسلام کے اقراری…
Read the full tafseer →فَمَنِ ابْتَغَىٰ وَرَاءَ ذَٰلِكَ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْعَادُونَ (However, those who seek (sexual pleasure) beyond that are the transgressors - 7). Satisfying one's desire with someone other than one's own wife or a lawfully acquired slave-girl is strictly forbidden and the ban includes adultery (marrying a woman whom one is not allowed to marry under the religious code is also adultery), having sex with one's wife or slave-girl when she is menstruating or is confined, or having unnatural sex with them, homosexuality and bestiality, while most jurists include masturbation also in the ban.…
Read the full tafseer →7. This is a parenthesis which is meant to remove the common misunderstanding that sex desire is an evil thing in itself and satisfying it even in lawful ways is not desirable, particularly for the righteous and godly people. This misunderstanding would have been strengthened, had it been only said that the believers guard their private parts scrupulously, because it would have implied that they live unmarried lives, away from the world, like monks and hermits. Therefore a parenthesis has been added to say that there is nothing wrong in satisfying the sex desire in lawful ways. What is evil…
Read the full tafseer →