Al-Muminoon 23:8

Al-Muminoon · from ayah 8

23:8

وَالَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رٰعُوْنَ ۟ۙوَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِاَمٰنٰتِهِمۡ وَعَهۡدِهِمۡ رَاعُوۡنَ

اور جو امانتوں اور اقراروں کو ملحوظ رکھتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And they who are to their trusts and their promises attentive

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Muminoon

All translations of 23:8

اپنی امانتوں اور اپنے عہد و پیمان کا پاس رکھتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جو امانتوں اور اقراروں کو ملحوظ رکھتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

جو اپنی امانتوں اور وعدے کی حفاﻇت کرنے والے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا پاس رکھنے والے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی رعایت کرتے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جو لوگ اپنی امانتوں اور اپنے وعدوں کی پاسداری کرنے والے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور وہی جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا لحاظ رکھنے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جو اپنی امانتوں اور عہد و پیمان کا پاس رکھتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا پاس رکھنے والے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جو لوگ پاس ولحاظ رکھتے ہیں اپنی امانتوں اور اپنے عہد و پیماں کا

— مولانا اسحاق مدنی

اور جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا لحاظ رکھنے والے ہیں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی حفاظت کرنے والے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد و پیمان کا پاس رکھتے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

who are true to their trusts and their covenants,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

– and (success is attained) by those who honestly look after their trusts and covenant,

— Muhammad Taqi Usmani

– and (success is attained) by those who honestly look after their trusts and covenant,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Those who are faithfully true to their Amanat and to their covenants are Ra`un.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And who are shepherds of their pledge and their covenant,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And they who are to their trusts and their promises attentive

— Saheeh International

those who are true to their trust,

— Muhammad Sarwar

And those who are keepers of their trusts and their covenant,

— Muhammad Habib Shakir

And those who of their trusts and covenant are keepers.

— Abdul Majid Daryabadi

Those who faithfully observe their trusts and their covenants;

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 23:8

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–11

دس آیتیں اور جنت کی ضمانت نسائی، ترمذی اور مسند احمد میں مروی ہے کہ حضرت رسول ﷺ پر جب وحی اترتی تو ایک ایسی میٹھی میٹھی، بھینی بھینی، ہلکی ہلکی سی آواز آپ کے پاس سنی جاتی جیسے شہد کی مکھیوں کے اڑنے کی بھنبھناہٹ کی ہوتی ہے۔ ایک مرتبہ یہی حالت طاری ہوئی۔ تھوڑی دیر کے بعد جب وحی اترچکی تو آپ نے قبلہ کی طرف متوجہ ہو کر اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر یہ دعا پڑھی کہ اے اللہ تو ہمیں زیادہ کر، کم نہ کر، ہمارا اکرام کر، اہانت نہ کر، ہمیں انعام عطا فرما، محروم نہ رکھ، ہمیں دوسروں پر کے مقابلے میں فضیلت دے، ہم پر دوسروں کو پسند نہ فرما، ہم سے خوش ہوجا اور ہمیں خوش کر دے۔ عربی کے الفاظ یہ ہیں۔ دعا (الہم زدنا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُؤْمِنُوْن 8 " امانات " کا لفظ جامع ہے ان تمام امانتوں کے لیے جو خداوند عالم نے، یا معاشرے نے، یا افراد نے کسی شخص کے سپرد کی ہوں۔ اور عہد و پیمان میں وہ سارے معاہدے داخل ہیں جو انسان اور خدا کے درمیان، یا انسان اور انسان کے درمیان، یا قوم اور قوم کے درمیان استوار کیے گئے ہوں۔ مومن کی صفت یہ ہے کہ وہ کبھی امانت میں خیانت نہ کرے گا، اور کبھی اپنے قول وقرار سے نہ پھرے گا۔ نبی ﷺ اکثر اپنے خطبوں میں فرمایا کرتے تھے لا ایمان لمن لا امانۃ لہ ولا دین لمن لا عھد لہ " جو امانت کی صفت نہیں رکھتا وہ ایمان نہیں رکھتا، اور جو عہد کا پاس نہیں رکھتا وہ دین نہیں رکھتا " (بیہقی فی شعب الایمان)۔ بخاری…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

پانچواں وصف امانت کا حق ادا کرنا والَّذِيْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رٰعُوْنَ لفظ امانت کے لغوی معنے ہر اس چیز کو شامل ہیں جس کی ذمہ داری کسی شخص نے اٹھائی ہو اور اس پر اعتماد و بھروسہ کیا گیا ہو۔ اس کی قسمیں چونکہ بیشمار ہیں اسی لئے باوجود مصدر ہونے کے اس کو بصیغہ جمع لایا گیا ہے تاکہ امانت کی سب قسموں کو شامل ہوجائے خواہ وہ حقوق اللہ سے متعلق ہوں یا حقوق العباد سے حقوق اللہ سے متعلق امانات تمام شرعی فرائض و واجبات کا ادا کرنا اور تمام محرمات و مکروہات سے پرہیز کرنا ہے اور حقوق العباد سے متعلق امانات میں مالی امانت کا داخل ہونا تو معروف و مشہور ہے کہ کسی شخص نے کسی کے پاس اپنا کوئی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

والذین ھم لامنتھم وعھدھم اعوان (8) امانت اور عمود کی حفاظت امانات، سے مراد وہ تمام امانتیں بھی ہیں جو ہمارے رب نے قوتوں اور صلاحیتوں، فرئاض اور ذمہ داریوں کی شکل میں یا انعامات و افضال اور اموال و اولاد کی صورت میں ہمارے حوالہ کی ہیں … اور روہ امانتیں بھی اس میں داخل ہیں جو کسی نے ہمارے پاس محفوظ کی ہوں یا ارزوئے حقوق ان کی ادائیگی کی ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی ہو۔ اسی طرح عہد میں وہ تمام عہد و میثاق بھی داخل ہیں جو ہمارے رب نے ہماری فطرت سے عالم غیب میں لئے ہیں یا اپنے نبیوں کے واسطہ سے، اپنی شریعت کی شکل میں، اس دنیا میں، لئے ہیں۔ علی ہذا القیاس وہ تمام عہد و ماثاق بھی اس میں داخل ہیں جو ہم…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

8-1اَ مَانَات سے مراد سونپی ہوئی ڈیوٹی کی ادائیگی، راز دارانہ باتوں اور مالی امانتوں کی حفاظت اور رعایت عہد میں اللہ سے کیے ہوئے میثاق اور بندوں سے کیے عہد و پیماں دونوں شامل ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 7–8

6: یعنی بیوی اور شرعی کنیز کے سوا کسی اور طریقے سے اپنی جنسی خواہش پوری کرنے کی کوشش کرنا حرام ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–11

درس نمبر 145 تشریح آیات (1 تا 22) قد افلح خلدون (ا تا 11) یہ ایک پختہ وعدہ ہے بلکہ یہ عالم بالا کی ایک وہ ٹوک قرار داد ہے کہ مومنین فلاح پائیں گے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ اللہ تو کبھی اپنے عہد کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ پھر یہ اللہ کا فیصلہ ہے اور اللہ کے فیصلے کو کوئی رد نہیں کرسکتا کہ مومنین دنیا میں بھی فلاح پائیں گے اور آخرت میں بھی فلاح پائیں گے ۔ ایک مومن انفرادی طور پر فلاح پائے گا اور اہل ایمان کی جماعت بھی فلاح پائیں گی۔ ایسی کامیابی جسے ایک مومن اپنے دل اپنی حقیقی زندگی میں محسوس کرتے ہوں اور اس کے اندر فلاح کے وہ تمام مفہوم پائے جاتے ہوں جن سے دنیا با خبر ہے اور وہ مفاہیم بھی پائے جاتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی امانت اور قول وقرار کی حفاطت کرتے ہیں، خیانت اور بدعہدی نہیں کرتے نہ اللہ کے معاملہ میں نہ بندوں کے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 8 وَالَّذِیْنَ ہُمْ لِاَمٰنٰتِہِمْ وَعَہْدِہِمْ رٰعُوْنَ ” اس آیت میں دو وصف بیان ہوئے ہیں۔ یعنی پانچواں وصف امانتوں کی پاسداری اور چھٹا وصف ایفائے عہد۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

8 امانتوں سے مراد ہر وہ امانت ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یا معاشرہ کی طرف سے یا کسی فرد کی طرف سے کسی شخص کے سپرد کی گئی ہو۔ خواہ یہ امانت منصوبوں سے تعلق رکھتی ہو یا اقوال سے یا اموال سے ان سب کی پوری پوری نگہداشت ضروری ہے۔ یہی صورت مال، عہد اور معاہدات کی ہے۔ خواہ کوئی عہد اللہ تعالیٰ سے کیا گیا ہو اور اللہ تعالیٰ نے بندوں سے لیا ہو۔ خواہ یہ آپس کا قول وقرار ہو اور خواہ یہ معاہدہ بیع یا نکاح سے متفق ہو۔ ان کو وفا کرنا ضروری ہے۔ امانت میں خیانت اور وعدہ خلافی دونوں ایسے جرم ہیں جنہیں رسول اللہ ﷺ منافق کی علامتیں قرار دیا ہے جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے : 1۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

6۔” اپنی امانتوں “ سے مراد اپنی سپردگی میں لی ہوئی امانتیں ہیں۔ (آیت) ” عھدھم “۔ عھد کے تحت میں حقوق اللہ حقوق العباد ہر قسم سے متعلق عہد آگیا۔ معاملات و عبادات کے سارے عہد اس میں شامل ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–22

بسم اللہ الرحمن الرحیم آیت نمبر 1 تا 22 ترجمہ : بلاشبہ مومنین کامیاب ہوئے جو اپنی نمازوں میں تواضع اختیار کرنے والے ہیں، قَدْ تحقیق کیلئے ہے اور جو لغو باتوں وغیرہ سے اعراض کرنے والے ہیں اور جو زکوۃ ادا کرنے والے ہیں اور جو حرام سے اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں لیکن اپنی بیبیوں سے یا ان عورتوں سے جن کے وہ مالک ہیں یعنی باندیوں سے کیونکہ ان کے پاس آنے میں (جماع کرنے میں) ان پر کوئی الزام نہیں ہاں جو ان کے علاوہ یعنی بیبیوں اور باندیوں کے علاوہ مثلاً استمنا بالید کا طالب ہو تو ایسے لوگ حد سے بڑھنے والے ہیں یعنی ایسی چیز کی طرف تجاوز کرنے والے ہیں جو ان کیلئے حلال نہیں ہے اور جو اپنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

والذین ہم لامنتہم وعہدہم راعون۔ اور جو اپنے (پاس رکھی ہوئی) امانتوں کا اور (کئے ہوئے) معاہدات کا لحاظ رکھنے والے ہیں۔ امانتوں سے مراد ہیں وہ چیزیں جو بطور امانت مؤمنوں کے پاس رکھی جائیں ان کو ان چیزوں کا امین بنا دیا جائے۔ عَہْدِ (وعدہ) دو طرح کا ہوتا ہے ایک عہد وہ ہے جو اللہ نے بندوں سے لیا اور بندوں نے اللہ سے کیا ہے۔ نماز ‘ روزہ ‘ اور تمام عبادتیں اس کے ذیل میں آتی ہیں۔ دوسرا عہد وہ ہے جو آدمی آپس میں کرتے ہیں۔ امانت ‘ ودیعت ‘ تجارت اور دوسرے معاہدات جن کا تعلق باہم انسانوں سے ہوتا ہے دونوں کی پابندی اور ان کو پورا کرنا ‘ مسلمانوں پر واجب ہے (بشرطیکہ گناہ اور اللہ کی نافرمانی کا معاہدہ نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 8–11

(8۔ 11) اور جو لوگ اپنی امانتوں کو جو شرعا ان کے سپرد کی گئی ہیں جیسا کہ روزہ، وضو، غسل، جنابت اور امانت کا مال اور اپنے عہد کا خواہ وہ اللہ تعالیٰ اور بندہ کے درمیان ہو یا حقوق العباد میں سے ہو پورا کرنے کا پورا خیال رکھنے والے ہیں اور جو اپنی نمازوں کو ان کے اوقات پر ادا کرتے ہیں، ایسے ہی لوگ وارث ہونے والے ہیں اور یہی جنت کے وارث ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا اصل مقام ہے اور یہ لوگ جنت میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے نہ وہاں موت آئے گی اور نہ یہ لوگ وہاں سے نکالے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَالَّذِيْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رٰعُوْن : عفت اللہ تعالیٰ کی ایک بہت بڑی امانت ہے، اس کے ذکر کے بعد عام امانتوں کی حفاظت کا ذکر فرمایا۔ عہد بھی ایک امانت ہے، اس کی اہمیت کے پیش نظر اس کا الگ ذکر فرمایا۔ ”رٰعُوْن“ ”رَعٰی یَرْعٰی“ (ف) سے اسم فاعل ہے۔ فعل مضارع کے بجائے اسم فاعل لانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی امانتوں اور عہدوں کی حفاظت کرتے ہیں، یہ ان کی عادت ہے۔ منافقوں کی طرح نہیں کہ جن کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (آیَۃُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ إِذَا حَدَّثَ کَذَبَ وَ إِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ وَ إِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ) [ بخاري، الإیمان، باب علامات المنافق : 33 ] ”منافق کی تین…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 8–11

مسئلہ نمبر 8 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : و الذین ھم لامنتھم وعھدھم راعون۔ والذین ھم علیٰ صلوتھم یحافظون۔ جمہور نے لاماناتھم پڑھا ہے جمع کے ساتھ۔ ابن کثیر نے مفرد پڑھا ہے۔ امانت اور عہد دین کے ہر قول اور عمل کو جامع ہے جس کو انسان اٹھاتا ہے۔ یہ لوگوں کی معاشرت، وعدہ وغیرہ کو عام ہے۔ اس کی انتہاء یہ ہے کہ عہد و پیمان کی پاسداری اور حفاطت کی جائے۔ امانت عہد سے اعم ہے۔ ہر عہد امانت ہوتا ہے اس میں قول، فعل اور عقیدہ سب شامل ہیں۔ مسئلہ نمبر 9 ۔ جمہور نے صلواتھم پڑھا ہے۔ حمزہ اور کسائی نے صلاتھم پڑھا ہے۔ یہ افراد اسم جنس ہے جو جمع کے معنی میں ہے۔ نماز کی محافظت سے مراد نماز کا قائم کرنا ہے اور اول…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 3–9

1۔ ابن جریر، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت والذین ہم عن اللغو معرضون میں لغو سے مراد باطل ہے۔ 2۔ عبد الرزاق، ابن جریر اور ابن المنذر نے روایت کیا ہے کہ حسن (رح) سے نے فرمایا کہ آیت والذین ہم عن اللغو میں لغو سے مراد گناہ ہیں۔ 3۔ ابن المبارک (رح) نے روایت کیا ہے کہ قتادہ (رح) نے آیت والذین ہم عن الغو معرضون کے بارے میں فرمایا کہ اللہ کی قسم جب ان کے پاس اللہ کا حکم آیا تو انہوں نے باطل میں سے ہر چیز کو گرادیا (یعنی باطل باتوں اور کاموں سے اعراض کرتے ہیں) ۔ 4۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر رحمۃ الہ علیہ سے روایت کیا کہ آیت والذین ہم للزکوۃ فعلون، یعنی وہ مالوں کی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَالَّذِيْنَ [ اور وہ لو گ ] هُمْ [ جو ] لِاَمٰنٰتِهِمْ [ اپنی امانتوں کی ] وَعَهْدِهِمْ [ اپنے وعدے کی ] رٰعُوْنَ [ نگرانی کرنے والے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اہل ایمان کا پانچواں اور چھٹا وصف بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا (وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِاَمَانٰتِہِمْ وَعَہْدِہِمْ رَاعُوْنَ ) (اور جو لوگ اپنی امتوں اور عہدوں کی رعایت کرنے والے ہیں) اس میں امانتوں کی حفاظت کا اور جو کوئی عہد کرلیا جائے اس کی حفاظت کا تذکرہ فرمایا ہے اور ان دونوں کی رعایت اور حفاظت کو مومنین کی صفات خاصہ میں شمار فرمایا ہے۔ حضرت انس ؓ نے بیان کیا ہے کہ بہت کم ایسا ہوا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیا ہو اور یوں نہ فرمایا ہو کہ (اَلاَ لاَ اِیْمَانَ لِمَنْ لاَّ اَمَانَۃَ لَہٗ وَ لاَ دِیْنَ لِمَنْ لاَّ عَھْدَلَہٗ ) (خبر دار اس کا کوئی ایمان نہیں جو امانتدار نہیں اور اس کا کوئی دین نہیں جو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–11

صفات مومنین مفلحین قال اللہ تعالیٰ ۔ قد افلح ال مومن ون .... الیٰ .... ہم فیہا خلدون۔ (ربط) گزشتہ سورت کے اخیر میں اعمال خیر کا حکم اور فلاح کی امید کا ذکر تھا۔ اب ان آیات میں مومنین صالحین کے لیے وقوع فلاح کی خبر دیتے ہیں کہ بلاشبہ وہ مسلمان کامیاب ہیں جن میں یہ سات صفتیں پائی جاتی ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں تحقیق فلاح پائی اہل ایمان نے جس کی پہلے ہی سے اہل ایمان کو امید اور توقع تھی۔ اہل ایمان سے اہل تصدیق اور اہل اطمینان مراد ہے۔ اب اس بشارت کے بعد ان مومنین کی صفات بیان کرتے ہیں۔ ؂ اول صفت خشوع ان میں سے پہلی صفت یہ ہے جو اپنی نماز میں خشوع اور خضوع اور عجزو زاری کرنے والے ہیں یعنی ان کے دل…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

8:۔ ” وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِاَمَانَاتِھِمْ الخ “ یہ تیسری صفت سے متعلق ہے یعنی وہ ظلم کے کاموں سے بچتے ہیں۔ اس آیت میں ظلم کے دو کاموں کی طرف اشارہ ہے امانت میں خیانت اور بد عہدی یہ دونوں باتیں دوسروں کے حق میں ظلم ہیں اس لیے فرمایا کہ فلاح کامل صرف ان مومنوں کو حاصل ہوگی جو ظلم کے ان کاموں سے بھی بچیں گے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–11

نام اور کوائف : اس سورة کا نام اس کی پہلی آیت میں آمدہ لفظ المومنون کے نام رکھا گیا ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی۔ مفسرین کے قول کے مطابق یہ سورة سابقہ سورة الحج کے معاً بعد نازل ہوئی۔ سورة ہذا ایک سو اٹھارہ آیات ، چھ رکو ، 1840 الفاظ اور 4801 حروف پر مشتمل ہے۔ گزشتہ سورة کے ساتھ ربط : گزشتہ سورة کے آخری رکوع میں ہم پڑھ چکے ہیں یایھا الذین امنوا ارکعوا واسجدوا واعبدوا ربکم وافعلوا الخیر لعلکم تفلحون ، اے ایمان والو ! رکوع و سجود کرو اور اپنے پروردگار کی عبادت کرو۔ اور بھلائی کے کام کرو تاکہ تم فلاح پاجائو۔ اب اس سورة کی ابتداء میں بھلائی کے کاموں کی تشریح کی گئی ہے جن پر دنیا وآخرت کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَالَّذِيْنَ ہُمْ لِاَمٰنٰتِہِمْ وَعَہْدِہِمْ رٰعُوْنَ۝ 8ۙ أمانت أصل الأَمْن : طمأنينة النفس وزوال الخوف، والأَمْنُ والأَمَانَةُ والأَمَانُ في الأصل مصادر، ويجعل الأمان تارة اسما للحالة التي يكون عليها الإنسان في الأمن، وتارة اسما لما يؤمن عليه الإنسان، نحو قوله تعالی: وَتَخُونُوا أَماناتِكُمْ [ الأنفال/ 27] ، أي : ما ائتمنتم عليه، ( ا م ن ) امانت ۔ اصل میں امن کا معنی نفس کے مطمئن ہونا کے ہیں ۔ امن ، امانۃ اور امان یہ سب اصل میں مصدر ہیں اور امان کے معنی کبھی حالت امن کے آتے ہیں اور کبھی اس چیز کو کہا جاتا ہے جو کسی کے پاس بطور امانت رکھی جائے ۔ قرآن میں ہے ؛۔ { وَتَخُونُوا أَمَانَاتِكُمْ }…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

(6) والذین ھم لا ماناتہم و عہدھم راعون وہ جو امانت اور عہد کی حفاظت رکھنے والے ہیں۔ امانت میں مال اور آبرو اور بات سب کی حفاظت ضرور ہے اسی طرح عہد میں عہد الٰہی اور باہمی معاہدہ آگیا۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 7–8

وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِاَمٰنٰتِھِمْ وَعَھْدِھِمْ رٰعُوْنَ ۔ (المومنون : 8) (اور وہ اپنی امانتوں اور اپنے عہدوپیمان کا پاس رکھنے والے ہیں۔ ) اہلِ ایمان کی ایک اور صفت اہلِ ایمان کی پانچویں اور چھٹی صفت کا یہاں ذکر کیا جارہا ہے۔ پانچویں صفت یہ ہے کہ وہ اپنی امانتوں کا پاس رکھنے والے ہیں۔ امانت کا لفظ بڑا وسیع ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو جو صلاحیتیں اور قوتیں عطا فرمائی ہیں یہ اس کی انسانوں کے پاس امانتیں ہیں۔ زندگی سب سے بڑی امانت ہے۔ جوانی زندگی کا ایک حصہ ہے لیکن اپنی اہمیت کے پیش نظر الگ سے اسے امانت کا درجہ دیا گیا ہے۔ مال و دولت بھی اللہ کی امانت ہے اور مال و دولت کے حصول کی صلاحیت بھی اللہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : مومنوں کی پانچویں اور چھٹی صفت :۔ مومن جس طرح اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں اسی طرح ان میں یہ بھی اوصاف پائے جاتے ہیں کہ وہ امانت کی حفاظت اور عہد کی پاسداری کرتے ہیں۔ امانت سے مراد صرف سونا چاندی اور کرنسی کی حفاظت نہیں بلکہ اس سے مراد ہر قسم کی امانت ہے۔ بیشک وہ کسی منصب کے حوالے سے اس پر عائد ہونے والی ذمہ داری ہو۔ سرور دو عالم ﷺ نے امانت کے تصور کو وسعت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ باضابطہ مجالس میں ہونے والی گفتگو بھی امانت ہوتی ہے۔ (رواہ ابو داؤد : باب فِی نَقْلِ الْحَدِیثِ ) جس طرح ہر قسم کی امانت کا خیال رکھنا فرض اور مومن کی صفت ہے اسی طرح جائز کاموں پر کیے گئے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

8: وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِاَمٰنٰتِہِمْ وَعَھْدِھِمْ (اور وہ لوگ جو اپنی امانتوں اور وعدوں کا) قراءت : مکی اور سہل نے لا مانتھم پڑھا ہے۔ آیت میں مؤتمن علیہ شی ٔ اور معاھد علیہ کو امانت سے تعبیر کیا جیسا دوسرے ارشاد میں فرمایا : ان اللہ یامر کم ان تو وا الامانات الی اھلھا ] النسائ : 58[ ادائیگی توعیون کی ہوتی ہے معانی کی نہیں ہوتی۔ پس مراد اس سے وہ تمام امانتیں اور وعدے ہیں جو اللہ تعالیٰ یا مخلوق کی طرف سے کیے جائیں۔ رَاعُوْنَ (وہ حفاظت کرنے والے ہیں۔ ) الراعیؔ وہ شخص جو کسی چیز کی حفاظت واصلاح کا ذمہ دار ہو۔ جیسا کہ چرواہا بکریوں کیلئے ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

8۔ والذین ھم لامانتھم، ابن کثیر نے اس کو مفرد پڑھا ہے اور سو رہ معارج میں بھی جیسا ک اللہ کا فرمان ہے ، وعھدھم ، دوسرے قراء نے ا اس کو جمع کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ جیسا کہ اللہ کا فرمان ، ان اللہ یامرکم ان تودوالامانت الی اھلھا، یہاں آیت میں امانات جمع کا صیغہ ذکر کیا ہے۔ وعھدھم راعون، وہ حفاظت کرنے والے ہیں ، یعنی اپنی امانتوں کی حفاظت کرنے والے اور وہ قسمیں جو لوگوں کے ساتھ کھاتے ہیں ان کو وہ پوری کرنے والے ہیں۔ یعنی اپنی امانتوں کی حفاطت کرتے ہیں۔ امانتوں کی مختلف اقسام ہیں یاتوامانت بندوں اور اللہ کے درمیان ہوگی جیسے نماز ، روزہ ، عبادات جو اللہ نے اپنے بندوں پر واجب کی ہیں اور بعض امانتیں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–11

1۔ 11:۔ امام احمد بن حنبل ‘ ترمذی ‘ نسائی اور مستدرک حاکم میں حضرت عمر ؓ سے صحیح روایت 1 ؎ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اس سورت کے شروع کی یہ دس آیتیں جب نازل ہوئیں تو آنحضرت ﷺ نے 2 ؎ دعا مانگی ‘ جس دعا کا حاصل یہ ہے کہ یا اللہ اپنی نعمت کو روز بروز ہم پر بڑھا اور اپنی نعمت سے ہم کو محروم نہ رکھ اور اپنی رضا مندی کے کام ہم سے لے اور پھر آپ نے ان آیتوں کو پڑھ کر فرمایا جو کوئی اس دس آیتوں کے موافق عمل کرے گا بلا شک جنت میں داخل ہوگا۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور صحابہ ؓ نے ان آیتوں کی جو تفسیر 3 ؎ کی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آدمی کا ایمان مضبوط ہونا چاہیے اور نماز پڑھتے وقت ادھر ادھر نظر نہ ڈالنی چاہیے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–11

آیت نمبر 1 یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کی تعریف و تعظیم اور ان کی فلاح وسعادت کا ذکر ہے، نیز اس امر کا بیان ہے کہ وہ فلاح وسعادت کیسے حاصل کرسکتے ہیں اور اس ضمن میں اہل ایمان کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ان مذکورہ صفات سے متصف کریں۔ پس بندہ مومن ان آیات کی میزان پر اپنے آپ کا وزن کرے، اور یہ معلوم کرے کہ اس کے پاس اور دوسروں کے پاس قلت و کثرت یا اضافے اور کمی کے اعتبار سے کتنا ایمان ہے۔ پس فرمایا (قد افلاح المومنون) یعنی اہل ایمان کامیابی اور سعادت سے بہرہ مند ہوئے اور انہوں نے ہر دو چیز حاصل کرلی جس کا حصول اہل ایمان کا مقصود و مطلوب ہے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 7–8

نکاح متعہ کی تحریم قول باری ہے (فمن ابتغی ورآء ذلک فاولئک ھم العادون البتہ جو اس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہی زیادتی کرنے والے ہیں) آیت نکاح متعہ کی تحریم کی مقتضی ہے اس لئے کہ متعہ کی بنا پر ہاتھ آنے والی عورت نہ تو بیوی ہوتی ہے اور نہ ہی ملک یمین کے تحت آنے والی مملوکہ ہم نے سورة نساء میں اس پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ یہ بحث قول باری (ورآء ذلک کی) کی تفسیر کے تحت کی گئی ہے۔ قول باری (ورآء ذلک) کا مفہوم ” غیر ذلک ‘ ہے یعنی ان کے ماسوا۔ قول باری (الحادون) سے مراد ایسے لوگ ہیں جو حلال سے حرام کی طرف تجاوز کریں۔ قول باری (الا علی ازواجھم اوما ملکت ایمانھم) اس جملہ سے استثناء جس میں شرمگاہوں کی حفاظت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

7 اہل ایمان کی چوتھی خاص صفت : امانتوں کی پاسداری : سو ارشاد فرمایا گیا " اور جو پاسداری کرتے ہیں اپنی امانتوں کی "۔ خواہ وہ اللہ تعالیٰ کی عطا فرمودہ امانتیں ہوں یا اس کے بندوں کی۔ پھر اللہ تعالیٰ کی امانتوں میں ایک تو وہ فرائض اور ذمہ داریاں ہیں جو اس نے اپنے بندوں پر عائد فرمائی ہیں اور دوسری وہ صلاحیتیں اور قوتیں یا افضال و انعامات اور اموال و اولاد وغیرہ کی نعمتیں ہیں جن سے اس نے اپنے بندوں کو نوازا ہوا ہے وغیرہ وغیرہ۔ وہ سب ہی امانات کے اس کلمہ کے عموم میں داخل ہیں۔ سو اللہ پاک کے مومن بندے ان سب ہی امانات کی پاسداری کرتے ہیں۔ سو اپنی امانتوں کی حفاظت و پاسداری اور وہ بھی اپنے اس عام…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–11

مؤمنوں کی صفات اور وعدہ جنت الفردوس تشریح : یہاں پر ان سات فرائض کا ذکر کیا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر فرض کیے ہیں۔ اگر بندہ واقعی اپنے آقا کا نمک حلال، یعنی فرمانبردار غلام ہے تو پھر وہ اپنے مالک کے دیے گئے احکامات سے کبھی غافل نہیں ہوسکتا بلکہ ان کی بجا آوری میں ہرگز تھوڑی سی بھی غفلت یا لاپرواہی نہیں کرسکتا۔ اللہ ہمارا مالک ہے اس نے ہی ہمیں پیدا کیا ہے اسی کے پاس واپس جانا ہے۔ اسی نے ہمارے کیے گئے کاموں کا حساب لینا ہے۔ وہی اس کے بدلے میں جنت یا جہنم دے گا۔ وہی ہر وقت ہر جگہ ہر صورت میں ہمیں دیکھ رہا ہے۔ ہم اس کی نگاہ سے ہرگز چھپ نہیں سکتے۔ خلاصہ یہ ” کہ مسلم پر واجب ہے کہ جس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–22

سورة المؤمنون : (رکوع نمبر 1) اسرارومعارف سورة مومنون بھی مکی سورتوں میں شمار کی گئی ہے اور اسی سابق مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے ایمان لانے والوں کے اوصاف کا تذکرہ فرماتے ہوئے شروع ہوتی ہے کہ جنہیں ایمان نصیب ہوا وہ فلاح پاگئے کامیاب ہوگئے فلاح کا ترجمہ اردو میں تو کامیابی ہی ہے مگر عربی زبان کے اعتبار سے اس کا معنی بہت وسیع ہے فلاح سے مکمل کامیابی مراد ہے ہر کام میں ہر وقت اور ہر عالم میں ، دنیا ہو دنیا کی تجارت ، سیاست یا امور ذاتی ہر جگہ کامیاب موت کے لمحات ہوں یا برزخ کا عرصہ کامیاب ، میدان حشر ہو یا آخرت کی زندگی کامیاب اور یہ کامیابی ایمان کا پھل ہے رہا یہ سوال کہ دنیا میں کون ہے جسے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 7–8

6 ۔ یعنی امانت میں خیانت نہیں کرتے اور جب وہ کوئی عہد کرتے ہیں تو اسے پورا کرتے ہیں۔ امانت میں خیانت اور عہد میں دغا بازی کرنا نفاق کی علامت ہے۔ حدیث میں ہے : منافق کی تین علامتیں ہیں۔ جب وہ بات کرتا ہے جھوٹ بولتا ہے۔ جب وعدہ کرتا ہے۔ تو خلاف ورزی کرتا ہے۔ اور جب اس کے پاس امانت رکھی جاتی ہے تو اس میں خیانت کرتا ہے۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(23:8) راعون۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ راعی کی جمع رعی یرعی (فتح) رعی و رعایۃ مصدر۔ مویشی کو گھاس چرانا۔ الامیر رعیتہ رعایۃ امیر کا اپنی رعایا پر سیاست کرنا۔ الامرحفاظت کرنا۔ امام راغب فرماتے ہیں کہ الرعی اصل میں حیوان یعنی جاندار چیز کی حفاظت کو کہتے ہیں خواہ غذا کے ذریعے ہو جو اس کی زندگی کی محافظ ہے یا اس سے دشمن کو دفع کرنے کے ذریعہ سے ہو۔ رعیتہ کے چارہ اور مرعی چراگاہ کو کہتے ہیں۔ راعون یعنی نگہداشت رکھنے والے۔ نگرانی کرنے والے۔ خبر رکھنے والے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 8–11

(5) مومن کی پانچویں صفت یہ ہے کہ وہ دیانت و امانت کا پیکر ہوتا ہے۔ یعنی وہ امانتوں کی ادائیگی کی حفاظت اور لحاظ میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کرتا اور ہر معاملے میں نہایت امانت دار ثابت ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے امانت کے بجائے ” امانات “ کہہ کر امانت کے مفہوم کو زندگی کے تمام معاملات تک وسیع کردیا ہے جس میں ہر طرح کی امانتیں آجاتی ہیں۔ عام طور پر امانت کا مفہوم صرف یہ سمجھاجاتا ہے کہ اگر کسی نے کسی دوسرے شخص پر اعتماد اور بھروسہ کرکے کوئی چیز یا رقم اس کے حوالے کردی اور طلب کرنے پر واپس مل گئی تو کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص نے نہایت دیانت سے اس کی امانت واپس کردی۔ لیکن قرآن و حدیث کے مطالعہ سے معلوم…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–11

مسلمانوں کی جنت میں جانے کی شرائط۔ (ف 1) یہ سورت مومنون مکیہ ہے۔ مسند امام احمد بن حنبل ، ترمذی، نسائی میں حضرت عمر سے روایت ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے کہ اس سورت کے شروع کی دس آیتیں جب نازل ہوئیں تو نبی ﷺ نے دعا مانگی اس دعا کا حاصل یہ ہے کہ یا اللہ اپنی نعمت کو روز بروز ہم پر بڑھا ، اور اپنی نعمت سے ہم کو محروم نہ رکھ، اور اپنی رضامندی کے کام ہم سے لے اور پھر آپ نے آیتوں کو پڑھ کر فرمایا جو کوئی ان دس آیتوں کے موافق عمل کرے گا بلاشک جنت میں داخل ہوگا، ان آیتوں میں فرمایا کہ بیشک ایمان والے کامیاب ہوئے وہ جو اپنی نمازوں میں عاجزی کیا کرتے ہیں خشوع کا مطلب ، نماز میں عاجزی سے کھڑا ہو اور دنیا سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[6] مراد تمام امانتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ یا معاشرے نے یا افراد نے کسی شخص کے سپرد کی ہوں۔ اس ضمن میں ملاحظہ ہو سورة حج آیت 41

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(8) اور وہ جو اپنے پاس رکھی ہوئی امانتوں کی اور اپنے عہد کی نگہداشت کرنے والے اور خبر رکھنے والے ہیں یعنی کسی کی کوئی امانت رکھی ہو یا کسی سے کوئی عہد کیا ہو تو اس کا دھیان رکھتے ہیں یعنی امانت ادا کرتے ہیں اور عہد کو پورا کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 7–19

ف 4۔ اس کے علاوہ طلبگار ہو اس میں زنا و لواطت و وطی بہائم و عاریت جواری اجماعا اور بعض کے نزدیک استمنا بالید بھی داخل ہے۔ اور اگر یہ آیت مدنی ہو تو حرمت متعہ پر بھی اس سے استدلال صحیح ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ایمان والوں کی پانچویں نشانی یہ ہے کہ وہ امانت اور عہد کو پورا کرتے ہیں : 8۔ آپس میں لین دین کے معاملوں میں جو اخلاقی جوہر مرکزی حیثیت رکھتا ہے وہ امانت ودیانت ہے اس سے مقصود یہ ہے کہ انسان اپنے کاروبار میں ایماندار ہو اور جس کا حق جس کسی پر جتنا ہو اس کو پوری دیانت سے رتی رتی دے دے اس کو عربی میں امانت کہتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے خود اپنی شرعی تکلیف کو جسے اس نے نوع انسانی کے سپرد کیا ہے امانت کے لفظ سے ادا کیا ہے جیسا کہ ارشاد فرمایا کہ ” ہم نے اپنی امانت آسمانوں پر اور زمین پر اور پہاڑوں پر پیش کی تو انہوں نے اس کو اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے وہ ڈر گئے اور انسان نے اس کو اٹھا لیا بلاشبہ وہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Fifth Attribute of a good Muslim is that he should discharge his trust truly and faithfully. وَالَّذِينَ هُمْ لِأَمَانَاتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَ‌اعُونَ (And [ success is attained ] by those who honestly look after their trusts and covenant, - 23:8). The word اَمَنَات (trusts) covers everything which a person has undertaken to perform or which have been placed under his care as trust. Since it may be of many kinds, the word is used in plural, so that it may include all sorts of trusts whether they may relate to the rights of Allah or to the rights of human beings. To perform scrupulously all the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

8. The believers fulfill the terms of the trusts which are placed in their charge. In this connection it should be noted that the Arabic word amanat is very comprehensive and includes all those trusts which are placed in their charge by Allah or society or individuals. Likewise aahd includes all those compacts, pledges, and promises which are made between Allah and man, and man and man. The Prophet (peace be upon him) himself used to impress the importance of the fulfillment of pledges in his addresses: The one, who does not fulfil the terms of his trust, has no faith, and the one, who does…

Read the full tafseer →