Al-Muminoon 23:9

Al-Muminoon · from ayah 9

23:9

وَالَّذِیْنَ هُمْ عَلٰی صَلَوٰتِهِمْ یُحَافِظُوْنَ ۟ۘوَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَلٰى صَلَوٰتِهِمۡ يُحَافِظُوۡنَ‌ۘ

اور جو نمازوں کی پابندی کرتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And they who carefully maintain their prayers -

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Muminoon

All translations of 23:9

اور اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جو نمازوں کی پابندی کرتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

جو اپنی نمازوں کی نگہبانی کرتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جو اپنی نمازوں کی پوری نگرانی رکھتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور وہ جو اپنی نمازوں کی نگہبانی کرتے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جو اپنی نمازوں کی (مداومت کے ساتھ) حفاظت کرنے والے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور وہی جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اپنی نمازوں پر محافظت کرتے ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جو محافظت و پاسداری کرتے ہیں اپنی نمازوں کی۔

— مولانا اسحاق مدنی

اور جو اپنی نمازوں کی پابندی رکھنے والے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور وہ جو اپنی نمازوں کی پوری محافظت کرتے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جو نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

and who consistently observe their prayers.

— Muhammad Taqi Usmani

and who consistently observe their prayers.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And those who strictly guard their Salawat.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And they who carefully maintain their prayers -

— Saheeh International

to their promise,

— Muhammad Sarwar

And those who keep a guard on their prayers;

— Muhammad Habib Shakir

And those who of their prayers are observant.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 23:9

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–11

دس آیتیں اور جنت کی ضمانت نسائی، ترمذی اور مسند احمد میں مروی ہے کہ حضرت رسول ﷺ پر جب وحی اترتی تو ایک ایسی میٹھی میٹھی، بھینی بھینی، ہلکی ہلکی سی آواز آپ کے پاس سنی جاتی جیسے شہد کی مکھیوں کے اڑنے کی بھنبھناہٹ کی ہوتی ہے۔ ایک مرتبہ یہی حالت طاری ہوئی۔ تھوڑی دیر کے بعد جب وحی اترچکی تو آپ نے قبلہ کی طرف متوجہ ہو کر اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر یہ دعا پڑھی کہ اے اللہ تو ہمیں زیادہ کر، کم نہ کر، ہمارا اکرام کر، اہانت نہ کر، ہمیں انعام عطا فرما، محروم نہ رکھ، ہمیں دوسروں پر کے مقابلے میں فضیلت دے، ہم پر دوسروں کو پسند نہ فرما، ہم سے خوش ہوجا اور ہمیں خوش کر دے۔ عربی کے الفاظ یہ ہیں۔ دعا (الہم زدنا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 9–10

سورة الْمُؤْمِنُوْن 9 اوپر خشوع کے ذکر میں " نماز " فرمایا تھا اور یہاں " نمازوں " بصیغۂ جمع ارشاد فرمایا ہے۔ دونوں میں فرق یہ ہے وہاں جنس نماز مراد تھی اور یہاں ایک ایک وقت کی نماز فرداً فرداً مراد ہے۔ " نمازوں کی محافظت " کا مطلب یہ ہے کہ وہ اوقات نماز، آداب نماز، ارکان و اجزائے نماز، غرض نماز سے تعلق رکھنے والی ہر چیز کی پوری نگہداشت کرتے ہیں۔ جسم اور کپڑے پاک رکھتے ہیں۔ وضو ٹھیک طرح سے کرتے ہیں اور اس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ کبھی بےوضو نہ پڑھ بیٹھیں۔ صحیح وقت پر نماز ادا کرنے کی فکر کرتے ہیں، وقت ٹال کر نہیں پڑھتے۔ نماز کے تمام ارکان پوری طرح سکون و اطمینان کے ساتھ ادا کرتے ہیں، ایک بوجھ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

ساتواں وصف نماز پر محافظت ہے والَّذِيْنَ هُمْ عَلٰي صَلَوٰتِهِمْ يُحَافِظُوْنَ ، نماز کی محافظت سے مراد اس کی پابندی کرنا اور ہر ایک نماز کو اس کے وقت مستحب میں ادا کرنا ہے۔ (کذا فسّرہ ابن مسعود، روح) یہاں صلوات کا لفظ جمع اس لئے لایا گیا ہے کہ مراد اس سے پانچ وقت کی نمازیں ہیں جن کو اپنے اپنے وقت مستحب میں پابندی سے ادا کرنا مقصود ہے اور شروع میں جہاں مقصود بالذکر خشوع تھا وہاں لفظ مفرد لایا گیا ہے کہ مطلقاً جنس نماز خواہ فرض ہو یا واجب، سنت ہو یا نفل سب کی روح خشوع ہے۔ غور کیا جائے تو ان سات اوصاف مذکورہ میں تمام حقوق اللہ اور حقوق العباد اور ان سے متعلقہ احکام آجاتے ہیں جو شخص ان اوصاف کے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

والذین ھم علی صلوتھم یحافظون (9) یہاں غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ نماز ہی سے اہل ایمان کی صفات کا ذکر شروع ہوا تھا اور اسی پر آکر ختم ہوا۔ شروع میں نماز کا ذکر اس کی روح یعنی خشوع کے پہلو سے ہوا اور آخر میں اس کی محافظت اس کے رکھ رکھائو اور اس کی دیکھ بھال کے پہلو سے ہوا۔ اس لئے کہ وہ برکات جو نماز کی بیان ہوئی ہیں اسی صورت حال میں حال ہوتی ہیں جب اس کے اندر خشوع کی روح ہو اور اس کی برابر رکھوالی بھی ہوتی رہے۔ یہ باغ جنت کا پودا ہے جو پوری نگہداشت کے بغیر پروان نہیں چڑھتا ذرا غفلت اور ناقدری ہوجائے تو یہ بےثمر ہو کے رہ جاتا ہے۔ بلکہ اس کے بالکل ہی سوکھ جانے کا ڈر پیدا ہوجاتا ہے۔ اگر اس کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 9–10

9-1آخر میں پھر نمازوں کی حفاظت کو فلاح کے لئے ضروری قرار دیا، جس سے نماز کی اہمیت و فضیلت واضح ہے۔ لیکن آج مسلمان کے نزدیک دوسرے اعمال صالح کی طرح اس کی بھی کوئی اہمیت سرے سے باقی نہیں رہ گئی ہے۔ فانا للہ وان الیہ راجعون

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 9–10

7: نمازوں کی نگرانی میں یہ بات بھی داخل ہے کہ نماز کی پوری پابندی کی جائے، اور یہ بھی کہ ان کو صحیح طریقے سے آداب اور شرائط کے ساتھ ادا کیا جائے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–11

درس نمبر 145 تشریح آیات (1 تا 22) قد افلح خلدون (ا تا 11) یہ ایک پختہ وعدہ ہے بلکہ یہ عالم بالا کی ایک وہ ٹوک قرار داد ہے کہ مومنین فلاح پائیں گے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ اللہ تو کبھی اپنے عہد کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ پھر یہ اللہ کا فیصلہ ہے اور اللہ کے فیصلے کو کوئی رد نہیں کرسکتا کہ مومنین دنیا میں بھی فلاح پائیں گے اور آخرت میں بھی فلاح پائیں گے ۔ ایک مومن انفرادی طور پر فلاح پائے گا اور اہل ایمان کی جماعت بھی فلاح پائیں گی۔ ایسی کامیابی جسے ایک مومن اپنے دل اپنی حقیقی زندگی میں محسوس کرتے ہوں اور اس کے اندر فلاح کے وہ تمام مفہوم پائے جاتے ہوں جن سے دنیا با خبر ہے اور وہ مفاہیم بھی پائے جاتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 نمازیں اپنے اوقات پر آداب و حقوق کی رعایت کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ بندوں کے معاملات میں پڑ کر عبادت الٰہی سے غافل نہیں ہوتے۔ یہاں تک مومنین مفلحین کی چھ صفات و خصال بیان کیں۔ (1) خشوع و خضوع سے نمازیں پڑھنا، یعنی بدن اور دل سے اللہ کی طرف جھکنا۔ (2) باطل لغو اور نکمی باتوں سے علیحدہ رہنا۔ (3) زکوٰۃ یعنی مالی حقوق ادا کرنا یا اپنے بدن، نفس اور مال کو پاک رکھنا۔ (4) شہوات نفسانی کو قابو میں رکھنا۔ (5) امانت و عہد کی حفاظت کرنا گویا معاملات کو درست رکھنا۔ (6) اور آخر میں پھر نمازوں کی پوری طرح حفاظت کرنا کہ اپنے وقت پر آداب و شروط کی رعایت کے ساتھ ادا ہوں، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نماز کا حق تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 9–11

آیت 9 وَالَّذِیْنَ ہُمْ عَلٰی صَلَوٰتِہِمْ یُحَافِظُوْنَ ” یہاں یہ نکتہ قابل توجہ ہے کہ اس مضمون کا آغاز بھی نماز کے ذکر سے کیا گیا تھا اور اس کا اختتام بھی نماز کے ذکر پر کیا جا رہا ہے۔ آیت 2 میں کامیاب و بامراد مؤمنین کی پہلی صفت یہ بتائی گئی تھی : الَّذِیْنَ ہُمْ فِیْْ صَلَاتِہِمْ خٰشِعُوْنَ کہ وہ لوگ اپنی نمازوں میں خشوع اختیار کرنے والے ہیں۔ یعنی اس مضمون کے آغاز میں نماز کی باطنی کیفیت کے حسن کا ذکر کیا گیا تھا ‘ جبکہ اختتام پر آیت زیر نظر میں نماز کے نظام کی بات کی گئی ہے کہ سچے اہل ایمان نماز پر مداومت کرتے ہیں اور اس کے تمام آداب و قوانین کوّ کماحقہ ملحوظ رکھتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 9–10

9 ایمان لاکر کامیاب ہونے کی صفات کی ابتداء بھی نماز سے کی گئی اور اختتام بھی نماز پر ہوا۔ اس سے نماز کی دوسرے خصائل پر اہمیت اور فضیلت معلوم ہوئی۔ پہلی آیت میں نماز میں خشوع کا ذکر تھا۔ اور اس آخری آیت میں سب نمازوں کی حفاظت کا ذکر ہے۔ حفاظت سے مراد نمازوں کو مقررہ اوقات پر بروقت ادا کرنا اور ہمیشہ ادا کرنا۔ تسلی سے نماز ادا کرنا اس کے پورے ارکان بجا لانا یعنی جسم کا، کپڑوں کا اور جگہ کا پاک ہونا پھر وضو اور طہارت پوری طرح کرنا وغیرہ وغیرہ سب کچھ شامل ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

7۔ ابھی مومینن ومفلحین کی صفات حسنہ کا آغاز خشوع نماز کے ذکر سے کیا تھا۔ اختتام بھی نماز ہی کی محافظت و مداومت پر کیا۔ مقام عبرت ہے کہ جس امت کو انفرادی واجتماعی ہر حیثیت سے فلاح کیلیے نماز کی اس قدر تاکید ہورہی ہے وہ نماز ہی کی طرف سے اس غفلت میں پڑجائے !

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–22

بسم اللہ الرحمن الرحیم آیت نمبر 1 تا 22 ترجمہ : بلاشبہ مومنین کامیاب ہوئے جو اپنی نمازوں میں تواضع اختیار کرنے والے ہیں، قَدْ تحقیق کیلئے ہے اور جو لغو باتوں وغیرہ سے اعراض کرنے والے ہیں اور جو زکوۃ ادا کرنے والے ہیں اور جو حرام سے اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں لیکن اپنی بیبیوں سے یا ان عورتوں سے جن کے وہ مالک ہیں یعنی باندیوں سے کیونکہ ان کے پاس آنے میں (جماع کرنے میں) ان پر کوئی الزام نہیں ہاں جو ان کے علاوہ یعنی بیبیوں اور باندیوں کے علاوہ مثلاً استمنا بالید کا طالب ہو تو ایسے لوگ حد سے بڑھنے والے ہیں یعنی ایسی چیز کی طرف تجاوز کرنے والے ہیں جو ان کیلئے حلال نہیں ہے اور جو اپنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

والذین ہم علی صلوتہم یحافظون۔ اور جو اپنی نماز کی پابندی رکھتے ہیں۔ یعنی ہمیشہ ہر نماز کو اس کے وقت پر پابندی کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ شروع میں نماز کا ذکر خصوصیت کے ساتھ کیا گیا تھا آخری وصف میں بھی ادائے نماز کو ہی قرار دیا گیا۔ اس سے نماز کی اہمیت ظاہر ہو رہی ہے۔ لیکن ابتدائی آیت میں نماز میں خشوع رکھنے کا ذکر کیا گیا تھا اور اس جگہ نماز کی حفاظت کا۔ دونوں صفتیں الگ الگ ہیں تکرار اوصاف نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 8–11

(8۔ 11) اور جو لوگ اپنی امانتوں کو جو شرعا ان کے سپرد کی گئی ہیں جیسا کہ روزہ، وضو، غسل، جنابت اور امانت کا مال اور اپنے عہد کا خواہ وہ اللہ تعالیٰ اور بندہ کے درمیان ہو یا حقوق العباد میں سے ہو پورا کرنے کا پورا خیال رکھنے والے ہیں اور جو اپنی نمازوں کو ان کے اوقات پر ادا کرتے ہیں، ایسے ہی لوگ وارث ہونے والے ہیں اور یہی جنت کے وارث ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا اصل مقام ہے اور یہ لوگ جنت میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے نہ وہاں موت آئے گی اور نہ یہ لوگ وہاں سے نکالے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَالَّذِيْنَ هُمْ عَلٰي صَلَوٰتِهِمْ يُحَافِظُوْن : فلاح پانے والے مومنوں کی پہلی صفت نماز میں خشوع بیان فرمائی اور دوسرے اوصاف بیان کرنے کے بعد آخر میں پھر نماز ہی سے تعلق رکھنے والی ایک صفت بیان فرمائی کہ وہ اپنی نمازوں کی خوب حفاظت کیا کرتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں نماز کی کس قدر اہمیت ہے۔ ”يُحَافِظُوْن“ باب مفاعلہ سے مبالغے کے لیے ہے، کیونکہ یہاں مقابلے کا معنی مراد نہیں ہوسکتا۔ ”یَحْفَظُوْنَ“ ”حفاظت کرتے ہیں“ اور ”يُحَافِظُوْن“ ”خوب حفاظت کرتے ہیں۔“ محافظت سے مراد نماز ہمیشہ ادا کرنا اور ہر نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا ہے۔ عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا : ”میں نے نبی ﷺ سے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 8–11

مسئلہ نمبر 8 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : و الذین ھم لامنتھم وعھدھم راعون۔ والذین ھم علیٰ صلوتھم یحافظون۔ جمہور نے لاماناتھم پڑھا ہے جمع کے ساتھ۔ ابن کثیر نے مفرد پڑھا ہے۔ امانت اور عہد دین کے ہر قول اور عمل کو جامع ہے جس کو انسان اٹھاتا ہے۔ یہ لوگوں کی معاشرت، وعدہ وغیرہ کو عام ہے۔ اس کی انتہاء یہ ہے کہ عہد و پیمان کی پاسداری اور حفاطت کی جائے۔ امانت عہد سے اعم ہے۔ ہر عہد امانت ہوتا ہے اس میں قول، فعل اور عقیدہ سب شامل ہیں۔ مسئلہ نمبر 9 ۔ جمہور نے صلواتھم پڑھا ہے۔ حمزہ اور کسائی نے صلاتھم پڑھا ہے۔ یہ افراد اسم جنس ہے جو جمع کے معنی میں ہے۔ نماز کی محافظت سے مراد نماز کا قائم کرنا ہے اور اول…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 3–9

1۔ ابن جریر، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت والذین ہم عن اللغو معرضون میں لغو سے مراد باطل ہے۔ 2۔ عبد الرزاق، ابن جریر اور ابن المنذر نے روایت کیا ہے کہ حسن (رح) سے نے فرمایا کہ آیت والذین ہم عن اللغو میں لغو سے مراد گناہ ہیں۔ 3۔ ابن المبارک (رح) نے روایت کیا ہے کہ قتادہ (رح) نے آیت والذین ہم عن الغو معرضون کے بارے میں فرمایا کہ اللہ کی قسم جب ان کے پاس اللہ کا حکم آیا تو انہوں نے باطل میں سے ہر چیز کو گرادیا (یعنی باطل باتوں اور کاموں سے اعراض کرتے ہیں) ۔ 4۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر رحمۃ الہ علیہ سے روایت کیا کہ آیت والذین ہم للزکوۃ فعلون، یعنی وہ مالوں کی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَالَّذِيْنَ [ اور وہ لوگ ] هُمْ [ جو ] عَلٰي صَلَوٰتِهِمْ [ اپنی نمازوں کو ] يُحَافِظُوْنَ [ رائیگاں جانے سے بچاتے رہتے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اہل ایمان کے اوصاف بیان کرتے ہوئے مزید ارشاد فرمایا (وَالَّذِیْنَ ھُمْ عَلٰی صَلَوَاتِہِمْ یُحَافِظُوْنَ ) (اور وہ اپنی نمازوں کی پابندی کرتے ہیں) اس میں تمام نمازیں پابندی سے پڑھنے کی فضیلت بیان فرمائی۔ جو لوگ ایسی نماز پڑھتے ہیں کہ کبھی پڑھی کبھی نہ پڑھی وہ لوگ اس فضیلت کے مستحق نہیں جس کا یہاں بیان ہو رہا ہے۔ حضرت عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا پانچ نمازیں اللہ تعالیٰ نے فرض کی ہیں، جس نے اچھی طرح وضو کیا اور انہیں بروقت ادا کیا اور ان کا رکوع اور سجود پورا کیا اس کے لیے اللہ کا عہد ہے کہ اس کی مغفرت فرما دے گا، اور جس نے ایسا نہ کیا تو اس کے لیے اللہ کا کوئی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–11

صفات مومنین مفلحین قال اللہ تعالیٰ ۔ قد افلح ال مومن ون .... الیٰ .... ہم فیہا خلدون۔ (ربط) گزشتہ سورت کے اخیر میں اعمال خیر کا حکم اور فلاح کی امید کا ذکر تھا۔ اب ان آیات میں مومنین صالحین کے لیے وقوع فلاح کی خبر دیتے ہیں کہ بلاشبہ وہ مسلمان کامیاب ہیں جن میں یہ سات صفتیں پائی جاتی ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں تحقیق فلاح پائی اہل ایمان نے جس کی پہلے ہی سے اہل ایمان کو امید اور توقع تھی۔ اہل ایمان سے اہل تصدیق اور اہل اطمینان مراد ہے۔ اب اس بشارت کے بعد ان مومنین کی صفات بیان کرتے ہیں۔ ؂ اول صفت خشوع ان میں سے پہلی صفت یہ ہے جو اپنی نماز میں خشوع اور خضوع اور عجزو زاری کرنے والے ہیں یعنی ان کے دل…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

9:۔ ” وَالَّذِیْنَ ھُمْ عَلیٰ صَلٰوتِھِمْ الخ “ یہ امر دوم کا اعادہ ہے اور اعادہ کا فائدہ یہ ہے کہ پہلے ” اَلَّذِیْنَ ھُمْ فِیْ صَلَاتِھِمْ خٰشِعُوْنَ “ میں نماز میں خشوع و خضوع کرنے کا ذکر تھا اور یہاں فرائض و واجبات، آداب و مستحبات اور وقتوں کی پابندی کی رعایت سے بلا ناغہ نماز قائم کرنے کا ذکر فرمایا کیونکہ لفظ محافظت ان تمام باتوں کو شامل ہے المراد بالمحافظۃ التعھد لشروطھا من وقت و طھارۃ و غیرھما والقیام علی ارکانھا واتمامھا حتی یکون ذالک دابۃ فی کل وقت الخ (کبیر ج 6 ص 372) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–11

نام اور کوائف : اس سورة کا نام اس کی پہلی آیت میں آمدہ لفظ المومنون کے نام رکھا گیا ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی۔ مفسرین کے قول کے مطابق یہ سورة سابقہ سورة الحج کے معاً بعد نازل ہوئی۔ سورة ہذا ایک سو اٹھارہ آیات ، چھ رکو ، 1840 الفاظ اور 4801 حروف پر مشتمل ہے۔ گزشتہ سورة کے ساتھ ربط : گزشتہ سورة کے آخری رکوع میں ہم پڑھ چکے ہیں یایھا الذین امنوا ارکعوا واسجدوا واعبدوا ربکم وافعلوا الخیر لعلکم تفلحون ، اے ایمان والو ! رکوع و سجود کرو اور اپنے پروردگار کی عبادت کرو۔ اور بھلائی کے کام کرو تاکہ تم فلاح پاجائو۔ اب اس سورة کی ابتداء میں بھلائی کے کاموں کی تشریح کی گئی ہے جن پر دنیا وآخرت کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَالَّذِيْنَ ہُمْ عَلٰي صَلَوٰتِہِمْ يُحَافِظُوْنَ۝ 9ۘ صلا أصل الصَّلْيُ الإيقادُ بالنار، ويقال : صَلِيَ بالنار وبکذا، أي : بلي بها، واصْطَلَى بها، وصَلَيْتُ الشاةَ : شویتها، وهي مَصْلِيَّةٌ. قال تعالی: اصْلَوْهَا الْيَوْمَ [يس/ 64] والصَّلاةُ ، قال کثير من أهل اللّغة : هي الدّعاء، والتّبريك والتّمجید يقال : صَلَّيْتُ عليه، أي : دعوت له وزكّيت، وقال عليه السلام : «إذا دعي أحدکم إلى طعام فلیجب، وإن کان صائما فَلْيُصَلِّ» أي : ليدع لأهله، وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ [ التوبة/ 103] وصَلَاةُ اللهِ للمسلمین هو في التّحقیق : تزكيته إيّاهم . وقال : أُولئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَواتٌ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 9–11

(7) والذین ھم علی صلوتھم یحافظون وہ جو اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں یعنی ہمیشہ وقت پر شرائط و مستحبات کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ ان ساتوں باتوں کے عمل میں لانے والے کے لیے اس نے اپنے فضل سے جنت میں آٹھویں درجہ کی اعلی جنت کا وعدہ دیا جس کو جنت الفردوس کہتے ہیں اور اس کا ان کو وارث یعنی مالک بھی قرار دیا اور وہاں ہمیشہ رہنے کا بھی مژدہ دیا۔ یہ ہے فلاح۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَالَّذِیْنَ ھُمْ عَلٰی صَلَوٰ تِھِمْ یُحَافِظُوْنَ ۔ (المومنون : 9) (اور وہ اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں۔ ) ایک اور صفت کا بیان اس آیت کریمہ میں اہل ایمان کی ایک اور صفت کو بیان کیا گیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ وہ اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں۔ ان صفات کا ذکر نماز ہی سے شروع ہوا تھا اور نماز ہی پر ختم کیا جارہا ہے۔ البتہ ! فرق یہ ہے کہ پہلے نماز کی روح یعنی نماز کے اندر خشوع کا ذکر کیا گیا تھا اور اب نماز کی محافظت یعنی اس کی دیکھ بھال اور اس کے اہتمام کا ذکر کیا جارہا ہے۔ اور دوسرا فرق یہ ہے کہ پہلے صلوٰۃ کے لفظ کو واحد لایا گیا تھا اور اس آیت میں جمع لایا گیا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ وہاں جنسِ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 9–11

فہم القرآن ربط کلام : مومنوں کی ساتویں صفت اور ان اوصاف کے حامل حضرات کا آخرت میں صلہ :۔ یہاں مومنوں کی بیان ہونے والی صفات میں ساتویں صفت یہ ہے کہ وہ اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ نماز کی حفاظت سے مراد پنجگانہ نماز کو اول وقت پر ادا کرنا اور نماز کے متعلقہ مسائل کا خیال رکھنا ہے اس میں طہارت سے لے کر نماز سے سلام پھیرنے تک کے مسائل شامل ہیں جن کا خلاصہ یہاں ذکر کیا جاتا ہے۔ جن لوگوں نے ان پر عمل کیا اور مذکورہ اوصاف کے ساتھ متصف ہونے کی کوشش کی ان کے لیے خوشخبری ہے کہ وہ جنت الفردوس کے مالک اور وارث ہوں گے جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے یاد رہے کہ جنت کی سو منزلیں ہیں سب سے اعلیٰ اور آخری…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

9: وَالَّذِیْنَ ھُمْ عَلٰی صَلَوٰتِھِمْ (اور وہ لوگ جو اپنی نماز کی محافظت کرنے والے ہیں) صَلَا تِھِمْ ابوبکر کے علاوہ کو فیین نے واحد پڑھا ہے۔ یُحَافِظُوْنَ (ان کے اوقات میں مداومت کرنے والے ہیں۔ ) وجہ اعادۃِ صلاۃ : اہمیت کی وجہ سے نماز کو دوبارہ لایا گیا اور اول آیت میں خشوع صلاۃ کا ذکر تھا اور اس میں محافظت کا تذکرہ فرمایا۔ پہلی آیت میں صلاۃ کو واحد لائے تاکہ جنس صلاۃ میں خشوع کا لازم ہونا ظاہر ہو اور پچھلی آیت میں صلواتؔ جمع لائے تاکہ انواع صلاۃ فرائض واجبات، سنن ونوافل تمام کی محافظت ثابت ہونے کا فائدہ حاصل ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

9۔ والذین ھم علی صلواتھم، حمزہ اور کسائی نے ، صلاتھم، واحد ذکر کیا ہے۔ اور دوسرے قراء نے جمع کے ساتھ ذکر کیا ہے، یحافظون ، ا اور ان کی ادائیگی میں مداومت اختیار کرتا ہے اور اوقات کی رعایت رکھتے ہیں نماز کو تکرار کے ساتھ ذکر کیا ہے کیونکہ ان کی محافظت واجب ہے جیسا کہ ان میں خشوع واجب ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–11

1۔ 11:۔ امام احمد بن حنبل ‘ ترمذی ‘ نسائی اور مستدرک حاکم میں حضرت عمر ؓ سے صحیح روایت 1 ؎ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اس سورت کے شروع کی یہ دس آیتیں جب نازل ہوئیں تو آنحضرت ﷺ نے 2 ؎ دعا مانگی ‘ جس دعا کا حاصل یہ ہے کہ یا اللہ اپنی نعمت کو روز بروز ہم پر بڑھا اور اپنی نعمت سے ہم کو محروم نہ رکھ اور اپنی رضا مندی کے کام ہم سے لے اور پھر آپ نے ان آیتوں کو پڑھ کر فرمایا جو کوئی اس دس آیتوں کے موافق عمل کرے گا بلا شک جنت میں داخل ہوگا۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور صحابہ ؓ نے ان آیتوں کی جو تفسیر 3 ؎ کی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آدمی کا ایمان مضبوط ہونا چاہیے اور نماز پڑھتے وقت ادھر ادھر نظر نہ ڈالنی چاہیے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–11

آیت نمبر 1 یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کی تعریف و تعظیم اور ان کی فلاح وسعادت کا ذکر ہے، نیز اس امر کا بیان ہے کہ وہ فلاح وسعادت کیسے حاصل کرسکتے ہیں اور اس ضمن میں اہل ایمان کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ان مذکورہ صفات سے متصف کریں۔ پس بندہ مومن ان آیات کی میزان پر اپنے آپ کا وزن کرے، اور یہ معلوم کرے کہ اس کے پاس اور دوسروں کے پاس قلت و کثرت یا اضافے اور کمی کے اعتبار سے کتنا ایمان ہے۔ پس فرمایا (قد افلاح المومنون) یعنی اہل ایمان کامیابی اور سعادت سے بہرہ مند ہوئے اور انہوں نے ہر دو چیز حاصل کرلی جس کا حصول اہل ایمان کا مقصود و مطلوب ہے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 9–59

نمازوں کی محافظت قول باری ہے (والذین ھم علی صلوتھم یحافظون اور اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں) قول باری (یحافظون) کی تفسیر میں سلف کی ایک جماعت سے مروی ہے کہ نمازیں ان کے اوقات میں ادا کی جائیں ۔ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا (لیس التفریط فی النوم انما) التفریط ان یترک الصلوۃ حتی یدخل وقت الاخری نماز کی ادائیگی میں کوتاہی نیند کی بنا پر نہیں ہوتی بلکہ کوتاہی کی صورت یہ ہے کہ ایک شخص نماز ادا نہ کرے اور بیٹھا رہے یہاں تک کہ دوسری نماز کا وقت آ جائے) مسروق کا قول ہے کہ نماز کی محافظت کا مفہوم یہ ہے کہ نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کیا جائے۔ ابراہیم نخعی کا قول ہے کہ وہ نمازوں پر دوام کرتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

9 فریضہ نماز کی اساسی اور کلیدی حیثیت کا ذکر وبیان : سو اس سے فریضہ نماز کی اصولی اور کلیدی حیثیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ سو اس بارے ارشاد فرمایا گیا " جو حفاظت کرتے ہیں اپنی نمازوں کی "۔ سو وہ ان سے غفلت نہیں برتتے اور ان نمازوں کو وہ ان کے آداب و ارکان کی رعایت کے ساتھ اپنے اپنے وقت پر پابندی سے ادا کرتے ہیں۔ سو اس سے نماز کی اہمیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ یہاں پر ان صفات فلاح و نجاح کے بیان کا آغاز بھی نماز ہی کے ذکر سے ہوا اور ان کا خاتمہ اور تکمیل بھی نماز ہی کے ذکر اور بیان سے فرمائی گئی۔ شروع میں تو نماز کا ذکر اس کی اصل اور حقیقی روح کے اعتبار سے ہوا۔ یعنی خشوع و خضوع کے اعتبار سے۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–11

مؤمنوں کی صفات اور وعدہ جنت الفردوس تشریح : یہاں پر ان سات فرائض کا ذکر کیا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر فرض کیے ہیں۔ اگر بندہ واقعی اپنے آقا کا نمک حلال، یعنی فرمانبردار غلام ہے تو پھر وہ اپنے مالک کے دیے گئے احکامات سے کبھی غافل نہیں ہوسکتا بلکہ ان کی بجا آوری میں ہرگز تھوڑی سی بھی غفلت یا لاپرواہی نہیں کرسکتا۔ اللہ ہمارا مالک ہے اس نے ہی ہمیں پیدا کیا ہے اسی کے پاس واپس جانا ہے۔ اسی نے ہمارے کیے گئے کاموں کا حساب لینا ہے۔ وہی اس کے بدلے میں جنت یا جہنم دے گا۔ وہی ہر وقت ہر جگہ ہر صورت میں ہمیں دیکھ رہا ہے۔ ہم اس کی نگاہ سے ہرگز چھپ نہیں سکتے۔ خلاصہ یہ ” کہ مسلم پر واجب ہے کہ جس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–22

سورة المؤمنون : (رکوع نمبر 1) اسرارومعارف سورة مومنون بھی مکی سورتوں میں شمار کی گئی ہے اور اسی سابق مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے ایمان لانے والوں کے اوصاف کا تذکرہ فرماتے ہوئے شروع ہوتی ہے کہ جنہیں ایمان نصیب ہوا وہ فلاح پاگئے کامیاب ہوگئے فلاح کا ترجمہ اردو میں تو کامیابی ہی ہے مگر عربی زبان کے اعتبار سے اس کا معنی بہت وسیع ہے فلاح سے مکمل کامیابی مراد ہے ہر کام میں ہر وقت اور ہر عالم میں ، دنیا ہو دنیا کی تجارت ، سیاست یا امور ذاتی ہر جگہ کامیاب موت کے لمحات ہوں یا برزخ کا عرصہ کامیاب ، میدان حشر ہو یا آخرت کی زندگی کامیاب اور یہ کامیابی ایمان کا پھل ہے رہا یہ سوال کہ دنیا میں کون ہے جسے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

7 ۔ یہ نہیں فرمایا کہ وہ نماز پڑھتے ہیں بلکہ فرمایا کہ وہ اپنی نمازوں کی پابندی کرتے ہیں یعنی تمام نمازیں ان کے وقت پر باجماعت ادا کرتے ہیں کبھی ناغہ نہیں کرتے نیز دیکھئے سورة بقرہ :2 ۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 9–11

(23:9) یحافظون۔ مضارع جمع مذکر غائب (باب مفاعلہ) محافظۃ مصدر نگرانی رکھتے ہیں۔ پابندی کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 8–11

(5) مومن کی پانچویں صفت یہ ہے کہ وہ دیانت و امانت کا پیکر ہوتا ہے۔ یعنی وہ امانتوں کی ادائیگی کی حفاظت اور لحاظ میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کرتا اور ہر معاملے میں نہایت امانت دار ثابت ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے امانت کے بجائے ” امانات “ کہہ کر امانت کے مفہوم کو زندگی کے تمام معاملات تک وسیع کردیا ہے جس میں ہر طرح کی امانتیں آجاتی ہیں۔ عام طور پر امانت کا مفہوم صرف یہ سمجھاجاتا ہے کہ اگر کسی نے کسی دوسرے شخص پر اعتماد اور بھروسہ کرکے کوئی چیز یا رقم اس کے حوالے کردی اور طلب کرنے پر واپس مل گئی تو کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص نے نہایت دیانت سے اس کی امانت واپس کردی۔ لیکن قرآن و حدیث کے مطالعہ سے معلوم…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–11

مسلمانوں کی جنت میں جانے کی شرائط۔ (ف 1) یہ سورت مومنون مکیہ ہے۔ مسند امام احمد بن حنبل ، ترمذی، نسائی میں حضرت عمر سے روایت ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے کہ اس سورت کے شروع کی دس آیتیں جب نازل ہوئیں تو نبی ﷺ نے دعا مانگی اس دعا کا حاصل یہ ہے کہ یا اللہ اپنی نعمت کو روز بروز ہم پر بڑھا ، اور اپنی نعمت سے ہم کو محروم نہ رکھ، اور اپنی رضامندی کے کام ہم سے لے اور پھر آپ نے آیتوں کو پڑھ کر فرمایا جو کوئی ان دس آیتوں کے موافق عمل کرے گا بلاشک جنت میں داخل ہوگا، ان آیتوں میں فرمایا کہ بیشک ایمان والے کامیاب ہوئے وہ جو اپنی نمازوں میں عاجزی کیا کرتے ہیں خشوع کا مطلب ، نماز میں عاجزی سے کھڑا ہو اور دنیا سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 9–10

[7] یعنی نمازوں کو ان کے مقررہ اوقات میں ان کی شرائط و آداب کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ اہل ایمان کے صفات حسنہ کا ذکر نماز سے شروع کیا تھا اور اختتام بھی اسی پر کیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نماز کا اللہ کے ہاں کیا درجہ ہے اور یہ کس قدر مہتمم بالشان چیز ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 9–11

نجات اور کامرانی کی سات شرطیں !: (ف 1) ان آیات میں قرآن حکیم نے فلاح و بہبود کی راہوں کی تفصیل بتائی ہے ارشاد ہوتا ہے کہ نجات اور کامیابی کیلئے صرف عقیدہ کافی نہیں اور نہ صرف احسان وانی ، بلکہ ان اصلاحی واخلاقی امور کی تکمیل لازمی اور ضروری ہے جن کا ذکر ان آیات میں ہے ۔ یعنی نماز میں خشوع و خضوع ، لغویات سے احتراز زکوۃ کی ادائیگی پرہیز گاری اور امانت اور پاس عہد ، نماز کے تیں درجے ہیں ، ایک یہ کہ دائما اور عادتا ان وضائف و اعمال کا اعادہ کرتا جو نماز کے ارکان ضروریہ ہیں ، ایک یہ کہ سوچ سمجھ کر پڑھنا اور معانی ومطالب تک رسائی حاصل کرنا ، تیسرا درجہ یہ ہے کہ الفاظ کی روح تک پہنچ جانا اور پیکر…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(9) جو اپنی نمازوں کی مداومت کے ساتھ پابندی کرنے والے ہیں یعنی نمازکو پابندی کے ساتھ ادا کرتے ہیں اوپر نماز کے ساتھ خشوع کی تاکید تھی یہاں مداومت کی تاکید فرمائی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 7–19

ف 4۔ اس کے علاوہ طلبگار ہو اس میں زنا و لواطت و وطی بہائم و عاریت جواری اجماعا اور بعض کے نزدیک استمنا بالید بھی داخل ہے۔ اور اگر یہ آیت مدنی ہو تو حرمت متعہ پر بھی اس سے استدلال صحیح ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ایمان والوں کی چھٹی نشانی نمازوں کی حفاظت قرار دی گئی : 9۔ مومنوں کی فلاح و کامیابی کی صفات کا آغاز خشوع نماز کے ذکر سے کیا تھا اور اختیام بھی اس جگہ نماز ہی کی محافظت و مداومت پر کیا ہے ۔ مقام عبرت ہے کہ جس امت کو انفرادی واجتماعی ہر حیثیت سے فلاح و کامیابی کے لئے نماز کی اس قدر تاکید ہو رہی ہے وہ نماز ہی کی طرف سے اس غفلت میں پڑجائے جس طرح آج قوم مسلم غفلت میں پڑچکی ہے ، نماز کے متعلق ذرا تفصیلی بیان پیش کرنے کا ہم نے وعدہ کیا تھا اس لئے اس جگہ اس کو بیان کرنا بھلا معلوم ہوتا ہے ۔ نماز کے حقیقی معنی کیا ہیں اور اس کی حقیقت کیا ہے ؟ نماز کے لئے اصلی عربی لفظ ” صلوۃ “ ہے صلوۃ کے معنی عربی اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Seventh attribute وَالَّذِينَ هُمْ عَلَىٰ صَلَوَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ (And who consistently observe their prayers -23:9). To observe one’ s prayers here means to offer them regularly at the appointed time, and the word صَلَوَات (Prayers) has been used in the plural form to include all the five prayers. In an earlier verses the word صَلَوَاتِ (Salah: prayers) was used in the singular because the emphasis was on Khushu` which is the essence of all prayers whether they are fard, wajib, sunnah or nafl. A careful study of the above seven attributes would show that they encompass all the duties…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 9–10

9. Salawat is plural of Salat. In(verse 2) the act of Salat itself was implied, but here the plural number implies the individual Prayers offered in their own times. They strictly guard their Prayers: they strictly adhere to the prescribed times of the Prayers: they perform them with due regard for their pre-requisites, conditions and articles with clean body and dress and necessary ablutions: they do not regard their Prayers as an unnecessary burden, which has to be cast off somehow: they do not recite mechanically but understand what they recite and are conscious that they are supplicating…

Read the full tafseer →