اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَ ۟ۙاُولٰٓئِكَ هُمُ الْوٰرِثُوْن
یہ ہی لوگ میراث حاصل کرنے والے ہیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
Those are the inheritors
— Saheeh International
Juz 18 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz
اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَ ۟ۙاُولٰٓئِكَ هُمُ الْوٰرِثُوْن
یہ ہی لوگ میراث حاصل کرنے والے ہیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
Those are the inheritors
— Saheeh International
Juz 18 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Muminoon
یہی لوگ وہ وارث ہیں
یہ ہی لوگ میراث حاصل کرنے والے ہیں
یہی وارث ہیں
یہ ہیں وہ وارث۔
یہی لوگ وارث ہیں،
یہی لوگ (جنت کے) وارث ہیں،
یہی لوگ ہیں جو وارث ہیں۔
یہی لوگ ایسے وارث ہیں
یہی لوگ وارث ہونے والے ہیں
یہی لوگ ہیں وراثت پانے والے
(بس) یہی لوگ وارث ہونے والے ہیں
یہی لوگ ہیں جو وارث ہوں گے
یہی لوگ وہ وارث ہیں۔
Such are the inheritors
Those are the inheritors
Those are the inheritors
These are indeed the heirs.
These are the heirs
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Those are the inheritors
and who are steadfast in their prayer.
These are they who are the heirs,
These! they are the inheritors.
These will be the heirs,
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–11
دس آیتیں اور جنت کی ضمانت نسائی، ترمذی اور مسند احمد میں مروی ہے کہ حضرت رسول ﷺ پر جب وحی اترتی تو ایک ایسی میٹھی میٹھی، بھینی بھینی، ہلکی ہلکی سی آواز آپ کے پاس سنی جاتی جیسے شہد کی مکھیوں کے اڑنے کی بھنبھناہٹ کی ہوتی ہے۔ ایک مرتبہ یہی حالت طاری ہوئی۔ تھوڑی دیر کے بعد جب وحی اترچکی تو آپ نے قبلہ کی طرف متوجہ ہو کر اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر یہ دعا پڑھی کہ اے اللہ تو ہمیں زیادہ کر، کم نہ کر، ہمارا اکرام کر، اہانت نہ کر، ہمیں انعام عطا فرما، محروم نہ رکھ، ہمیں دوسروں پر کے مقابلے میں فضیلت دے، ہم پر دوسروں کو پسند نہ فرما، ہم سے خوش ہوجا اور ہمیں خوش کر دے۔ عربی کے الفاظ یہ ہیں۔ دعا (الہم زدنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
سورة الْمُؤْمِنُوْن 9 اوپر خشوع کے ذکر میں " نماز " فرمایا تھا اور یہاں " نمازوں " بصیغۂ جمع ارشاد فرمایا ہے۔ دونوں میں فرق یہ ہے وہاں جنس نماز مراد تھی اور یہاں ایک ایک وقت کی نماز فرداً فرداً مراد ہے۔ " نمازوں کی محافظت " کا مطلب یہ ہے کہ وہ اوقات نماز، آداب نماز، ارکان و اجزائے نماز، غرض نماز سے تعلق رکھنے والی ہر چیز کی پوری نگہداشت کرتے ہیں۔ جسم اور کپڑے پاک رکھتے ہیں۔ وضو ٹھیک طرح سے کرتے ہیں اور اس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ کبھی بےوضو نہ پڑھ بیٹھیں۔ صحیح وقت پر نماز ادا کرنے کی فکر کرتے ہیں، وقت ٹال کر نہیں پڑھتے۔ نماز کے تمام ارکان پوری طرح سکون و اطمینان کے ساتھ ادا کرتے ہیں، ایک بوجھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَ ، الَّذِيْنَ يَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَ ، اوصاف مذکورہ کے حامل لوگوں کو اس آیت میں جنت الفردوس کا وارث فرمایا ہے۔ لفظ وارث میں اشارہ اس طرف ہے کہ جس طرح مورث کا مال اس کے وارث کو پہنچنا قطعی اور لازمی ہے اسی طرح ان اوصاف والوں کا جنت میں داخلہ یقینی ہے اور قد افلح کے بعد اوصاف مفلحین پورے ذکر کرنے کے بعد اس جملے میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ فلاح کامل اور اصلی فلاح کی جگہ جنت ہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
آیت 11-10 فردوس کی وراثت کے اصلی حقدار فرمایا کہ یہ لوگ ہیں جو اپنحے باپ کی کھوئی ہوئی جنت کے وارث ہوں گے اور پھر ان کو اس سے نکالے جانے کا کوئی اندیشہ نہ ہوگا، جیسا کہ آدم کو پیش آیا بلکہ وہ اس میں اپنے باپ کے ساتھ ہمیش رہیں گے اس لئے کہ وہ اس میں اپنے دشمن شیطان کو ہمیشہ کے لئے شکست دے کر داخل ہوں گے۔ فردوس جنت کے اعلیٰ ترین مقامات میں سے ہے اور یہ ان لوگوں کا حصہ ہے جو اس دنیا میں حق کی سربلندی کے لئے سرد ھڑ کی بازیاں لگائیں گے۔ 2۔ مجموعہ آیات 1-11 کے مطالب کا خلاصہ اگرچہ آیات کی وضاحت کرتے ہوئے ہم تمام ضرور باتوں کی طرف اشارہ کرتے آئے ہیں لیکن چونکہ انہی باتوں پر تمام صالح و فلاح کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
9-1آخر میں پھر نمازوں کی حفاظت کو فلاح کے لئے ضروری قرار دیا، جس سے نماز کی اہمیت و فضیلت واضح ہے۔ لیکن آج مسلمان کے نزدیک دوسرے اعمال صالح کی طرح اس کی بھی کوئی اہمیت سرے سے باقی نہیں رہ گئی ہے۔ فانا للہ وان الیہ راجعون
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
7: نمازوں کی نگرانی میں یہ بات بھی داخل ہے کہ نماز کی پوری پابندی کی جائے، اور یہ بھی کہ ان کو صحیح طریقے سے آداب اور شرائط کے ساتھ ادا کیا جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
درس نمبر 145 تشریح آیات (1 تا 22) قد افلح خلدون (ا تا 11) یہ ایک پختہ وعدہ ہے بلکہ یہ عالم بالا کی ایک وہ ٹوک قرار داد ہے کہ مومنین فلاح پائیں گے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ اللہ تو کبھی اپنے عہد کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ پھر یہ اللہ کا فیصلہ ہے اور اللہ کے فیصلے کو کوئی رد نہیں کرسکتا کہ مومنین دنیا میں بھی فلاح پائیں گے اور آخرت میں بھی فلاح پائیں گے ۔ ایک مومن انفرادی طور پر فلاح پائے گا اور اہل ایمان کی جماعت بھی فلاح پائیں گی۔ ایسی کامیابی جسے ایک مومن اپنے دل اپنی حقیقی زندگی میں محسوس کرتے ہوں اور اس کے اندر فلاح کے وہ تمام مفہوم پائے جاتے ہوں جن سے دنیا با خبر ہے اور وہ مفاہیم بھی پائے جاتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
7 جنت کے میراث ہونے پر پہلے کسی جگہ ہم لکھ چکے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
آیت 9 وَالَّذِیْنَ ہُمْ عَلٰی صَلَوٰتِہِمْ یُحَافِظُوْنَ ” یہاں یہ نکتہ قابل توجہ ہے کہ اس مضمون کا آغاز بھی نماز کے ذکر سے کیا گیا تھا اور اس کا اختتام بھی نماز کے ذکر پر کیا جا رہا ہے۔ آیت 2 میں کامیاب و بامراد مؤمنین کی پہلی صفت یہ بتائی گئی تھی : الَّذِیْنَ ہُمْ فِیْْ صَلَاتِہِمْ خٰشِعُوْنَ کہ وہ لوگ اپنی نمازوں میں خشوع اختیار کرنے والے ہیں۔ یعنی اس مضمون کے آغاز میں نماز کی باطنی کیفیت کے حسن کا ذکر کیا گیا تھا ‘ جبکہ اختتام پر آیت زیر نظر میں نماز کے نظام کی بات کی گئی ہے کہ سچے اہل ایمان نماز پر مداومت کرتے ہیں اور اس کے تمام آداب و قوانین کوّ کماحقہ ملحوظ رکھتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
9 ایمان لاکر کامیاب ہونے کی صفات کی ابتداء بھی نماز سے کی گئی اور اختتام بھی نماز پر ہوا۔ اس سے نماز کی دوسرے خصائل پر اہمیت اور فضیلت معلوم ہوئی۔ پہلی آیت میں نماز میں خشوع کا ذکر تھا۔ اور اس آخری آیت میں سب نمازوں کی حفاظت کا ذکر ہے۔ حفاظت سے مراد نمازوں کو مقررہ اوقات پر بروقت ادا کرنا اور ہمیشہ ادا کرنا۔ تسلی سے نماز ادا کرنا اس کے پورے ارکان بجا لانا یعنی جسم کا، کپڑوں کا اور جگہ کا پاک ہونا پھر وضو اور طہارت پوری طرح کرنا وغیرہ وغیرہ سب کچھ شامل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
8۔ وارث ہونے کے معنی ہیں کہ جنت پر قابض و متصرف ہوں گے اور گویا اس کے مالک ہوجائیں گے۔ (آیت) ” اولئک ھم الورثون “ جو حصر ہے وہ باعتبار استحقاق فردوس کے ہے جو بحسب احادیث جنت کا اعلی درجہ ہے۔ ورنہ نفس جنت مطلق مومنین کے لیے عام ہوگی گوصفات مذکورہ میں کمی ہو “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
بسم اللہ الرحمن الرحیم آیت نمبر 1 تا 22 ترجمہ : بلاشبہ مومنین کامیاب ہوئے جو اپنی نمازوں میں تواضع اختیار کرنے والے ہیں، قَدْ تحقیق کیلئے ہے اور جو لغو باتوں وغیرہ سے اعراض کرنے والے ہیں اور جو زکوۃ ادا کرنے والے ہیں اور جو حرام سے اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں لیکن اپنی بیبیوں سے یا ان عورتوں سے جن کے وہ مالک ہیں یعنی باندیوں سے کیونکہ ان کے پاس آنے میں (جماع کرنے میں) ان پر کوئی الزام نہیں ہاں جو ان کے علاوہ یعنی بیبیوں اور باندیوں کے علاوہ مثلاً استمنا بالید کا طالب ہو تو ایسے لوگ حد سے بڑھنے والے ہیں یعنی ایسی چیز کی طرف تجاوز کرنے والے ہیں جو ان کیلئے حلال نہیں ہے اور جو اپنی…
Read the full tafseer →اولئک ہم الوارثون۔ ایسے ہی لوگ وارث ہونے والے ہیں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
(8۔ 11) اور جو لوگ اپنی امانتوں کو جو شرعا ان کے سپرد کی گئی ہیں جیسا کہ روزہ، وضو، غسل، جنابت اور امانت کا مال اور اپنے عہد کا خواہ وہ اللہ تعالیٰ اور بندہ کے درمیان ہو یا حقوق العباد میں سے ہو پورا کرنے کا پورا خیال رکھنے والے ہیں اور جو اپنی نمازوں کو ان کے اوقات پر ادا کرتے ہیں، ایسے ہی لوگ وارث ہونے والے ہیں اور یہی جنت کے وارث ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا اصل مقام ہے اور یہ لوگ جنت میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے نہ وہاں موت آئے گی اور نہ یہ لوگ وہاں سے نکالے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَ۔۔ : ان سات صفات کے مالک فردوس کے وارث ہوں گے۔ انھیں وارث کہنے کی تین وجہیں ہیں، ایک یہ کہ وراثت کسی چیز کے حق دار ہونے کا سب سے مضبوط سبب ہے، یعنی یہ لوگ جنت کے سب سے زیادہ مستحق ہیں۔ دوسری وجہ یہ کہ جنت ان کے والد مکرم آدم ؑ کی ملکیت تھی، جب وہ وہاں سے نکلے تو ان کی اولاد جو یہ اعمال کرے گی اپنے والد کی جائداد کی وارث ہوگی۔ تیسری وجہ حدیث میں آئی ہے، ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَا مِنْکُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا لَہُ مَنْزِلَانِ ، مَنْزِلٌ فِي الْجَنَّۃِ ، وَ مَنْزِلٌ فِي النَّارِ ، فَإِذَا مَاتَ ، فَدَخَلَ النَّارَ ، وَرِثَ أَھْلُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
مسئلہ نمبر 8 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : و الذین ھم لامنتھم وعھدھم راعون۔ والذین ھم علیٰ صلوتھم یحافظون۔ جمہور نے لاماناتھم پڑھا ہے جمع کے ساتھ۔ ابن کثیر نے مفرد پڑھا ہے۔ امانت اور عہد دین کے ہر قول اور عمل کو جامع ہے جس کو انسان اٹھاتا ہے۔ یہ لوگوں کی معاشرت، وعدہ وغیرہ کو عام ہے۔ اس کی انتہاء یہ ہے کہ عہد و پیمان کی پاسداری اور حفاطت کی جائے۔ امانت عہد سے اعم ہے۔ ہر عہد امانت ہوتا ہے اس میں قول، فعل اور عقیدہ سب شامل ہیں۔ مسئلہ نمبر 9 ۔ جمہور نے صلواتھم پڑھا ہے۔ حمزہ اور کسائی نے صلاتھم پڑھا ہے۔ یہ افراد اسم جنس ہے جو جمع کے معنی میں ہے۔ نماز کی محافظت سے مراد نماز کا قائم کرنا ہے اور اول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
1۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر والحاکم وصححہ نے روایت کیا ہے کہ ابوہریرہ ؓ نے ” الوارثون “ کے بارے میں فرمایا کہ وارثوں سے مراد وہ اپنے گھروں کے اور اپنے بھائیوں کے گھروں کے مالک بنتے جو ان کے لیے تیار کیے گئے تھے اگر وہ اللہ کی اطاعت کرتے (تو ان کو ہی ملتے) 2۔ سعید بن منصور وابن ماجہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والبیہقی فی البعث نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے کہ جس کے دو گھر نہ ہوں ایک گھر جنت میں اور ایک گھر دوزخ میں جب ایک آدمی مرا اور وہ دوزخ میں داخل ہوا تو جنت والے اس کے گھر کے وارث بن جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے قول…
Read the full tafseer →اُولٰۗىِٕكَ [ وہ لو گ ] هُمُ الْوٰرِثُوْنَ [ ہی وارث بننے والے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
مومنین کے خاص سات اوصاف بیان فرمانے کے بعد (جن میں اول نمبر خشوع کے ساتھ نماز پڑھنا اور آخر میں نماز کی پابندی کرنا ہے) ان مومنین کو بشارت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا (اُولٰٓءِکَ ھُمُ الْوَارِثُوْنَ الَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَ ھُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْنَ ) (یہ وہ لوگ ہیں جو فردوس کے وارث ہونگے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے) رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ جب تم اللہ سے سوال کرو تو فردوس کا سوال کرو کیونکہ وہ جنت کا سب سے اچھا اور سب سے بلند مقام ہے اور اس کے اوپر رحمن کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی چاروں نہریں پھوٹتی ہیں۔ (رواہ البخاری)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
صفات مومنین مفلحین قال اللہ تعالیٰ ۔ قد افلح ال مومن ون .... الیٰ .... ہم فیہا خلدون۔ (ربط) گزشتہ سورت کے اخیر میں اعمال خیر کا حکم اور فلاح کی امید کا ذکر تھا۔ اب ان آیات میں مومنین صالحین کے لیے وقوع فلاح کی خبر دیتے ہیں کہ بلاشبہ وہ مسلمان کامیاب ہیں جن میں یہ سات صفتیں پائی جاتی ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں تحقیق فلاح پائی اہل ایمان نے جس کی پہلے ہی سے اہل ایمان کو امید اور توقع تھی۔ اہل ایمان سے اہل تصدیق اور اہل اطمینان مراد ہے۔ اب اس بشارت کے بعد ان مومنین کی صفات بیان کرتے ہیں۔ اول صفت خشوع ان میں سے پہلی صفت یہ ہے جو اپنی نماز میں خشوع اور خضوع اور عجزو زاری کرنے والے ہیں یعنی ان کے دل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
10:۔ ” اُوْلٰئِکَ ھُمُ الْوَارِثُوْنَ الخ “ یہ مومنون کے لیے بشارت اخروی ہے۔ ” اُولٰئِکَ “ سے ” المومنون “ مراد ہیں جو مذکورہ بالا اوصاف ثلٰثہ سے متصف ہوں یعنی خداوند تعالیٰ سے ڈرتے رہیں۔ ہر قسم کے شرک اور ہر قسم کے ظلم سے بچتے رہیں ایسے مومن ہی جنت الفردوس کے مستحق اور وارث ہیں ” ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ “ اور وہ جنت الفردوس میں ہمیشہ رہیں گے نہ جنت فنا ہوگا نہ جنتی فنا ہوں گے اور نہ انہیں اس سے نکالا ہی جائے گا۔ ومعنی الکلام لا یموتون ولا یخرجون منھا (روح ج 18 ص 12) عذاب سے بچنے کے لیے امور ثلاثہ کا ذکر کرنے کے بعد آگے اصل دعوے پر دلائل کا سلسلہ شروع ہورہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
نام اور کوائف : اس سورة کا نام اس کی پہلی آیت میں آمدہ لفظ المومنون کے نام رکھا گیا ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی۔ مفسرین کے قول کے مطابق یہ سورة سابقہ سورة الحج کے معاً بعد نازل ہوئی۔ سورة ہذا ایک سو اٹھارہ آیات ، چھ رکو ، 1840 الفاظ اور 4801 حروف پر مشتمل ہے۔ گزشتہ سورة کے ساتھ ربط : گزشتہ سورة کے آخری رکوع میں ہم پڑھ چکے ہیں یایھا الذین امنوا ارکعوا واسجدوا واعبدوا ربکم وافعلوا الخیر لعلکم تفلحون ، اے ایمان والو ! رکوع و سجود کرو اور اپنے پروردگار کی عبادت کرو۔ اور بھلائی کے کام کرو تاکہ تم فلاح پاجائو۔ اب اس سورة کی ابتداء میں بھلائی کے کاموں کی تشریح کی گئی ہے جن پر دنیا وآخرت کی…
Read the full tafseer →اُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْوٰرِثُوْنَ 10ۙ ورث الوِرَاثَةُ والإِرْثُ : انتقال قنية إليك عن غيرک من غير عقد، ولا ما يجري مجری العقد، وسمّي بذلک المنتقل عن الميّت فيقال للقنيةِ المَوْرُوثَةِ : مِيرَاثٌ وإِرْثٌ. وتُرَاثٌ أصله وُرَاثٌ ، فقلبت الواو ألفا وتاء، قال تعالی: وَتَأْكُلُونَ التُّراثَ [ الفجر/ 19] وقال عليه الصلاة والسلام : «اثبتوا علی مشاعرکم فإنّكم علی إِرْثِ أبيكم» «2» أي : أصله وبقيّته، قال الشاعر : 461- فينظر في صحف کالرّيا ... ط فيهنّ إِرْثٌ کتاب محيّ «3» ويقال : وَرِثْتُ مالًا عن زيد، ووَرِثْتُ زيداً : قال تعالی: وَوَرِثَ سُلَيْمانُ داوُدَ [ النمل/ 16] ، وَوَرِثَهُ أَبَواهُ [ النساء/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
(7) والذین ھم علی صلوتھم یحافظون وہ جو اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں یعنی ہمیشہ وقت پر شرائط و مستحبات کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ ان ساتوں باتوں کے عمل میں لانے والے کے لیے اس نے اپنے فضل سے جنت میں آٹھویں درجہ کی اعلی جنت کا وعدہ دیا جس کو جنت الفردوس کہتے ہیں اور اس کا ان کو وارث یعنی مالک بھی قرار دیا اور وہاں ہمیشہ رہنے کا بھی مژدہ دیا۔ یہ ہے فلاح۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْوٰرِثُوْنَ ۔ الَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَ ط ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ ۔ (المومنون : 10، 11) (یہی لوگ وہ وارث ہیں جو میراث میں فردوس پائیں گے۔ اور اس میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے۔ ) فردوس کی وراثت کے اصل حقدار وہ اہل ایمان جو متذکرہ بالا صفات سے موصوف ہوں گے اور زندگی بھر انھوں نے اپنے اندر ان صفات کو پیدا کرنے اور باقی رکھنے میں محنت کی ہوگی تو وہ اپنے اس ایمان وعمل کے باعث اللہ کے فضل کے مستحق ٹھہریں گے۔ جس کا نتیجہ اور ثمرہ یہ ہوگا کہ اللہ انھیں وہ جنت عطا فرمائے گا جس سے ان کے جدِ امجد کو نکالا گیا تھا۔ چناچہ اب وہ اپنے جدِ امجد سمیت اس میراث کو حاصل کرنے میں کامیاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
فہم القرآن ربط کلام : مومنوں کی ساتویں صفت اور ان اوصاف کے حامل حضرات کا آخرت میں صلہ :۔ یہاں مومنوں کی بیان ہونے والی صفات میں ساتویں صفت یہ ہے کہ وہ اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ نماز کی حفاظت سے مراد پنجگانہ نماز کو اول وقت پر ادا کرنا اور نماز کے متعلقہ مسائل کا خیال رکھنا ہے اس میں طہارت سے لے کر نماز سے سلام پھیرنے تک کے مسائل شامل ہیں جن کا خلاصہ یہاں ذکر کیا جاتا ہے۔ جن لوگوں نے ان پر عمل کیا اور مذکورہ اوصاف کے ساتھ متصف ہونے کی کوشش کی ان کے لیے خوشخبری ہے کہ وہ جنت الفردوس کے مالک اور وارث ہوں گے جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے یاد رہے کہ جنت کی سو منزلیں ہیں سب سے اعلیٰ اور آخری…
Read the full tafseer →10: اُولٰٓىِٕكَ (وہ جو ان صفات کے جامع ہیں۔ ) ھُمُ الْوَارِثُوْنَ (وہی وارث ہیں) اس بات کے حقدار ہیں کہ ان کو وارث کہا جائے اور کوئی اس کا حقدار نہیں۔ پھر وارثین کی اس ارشاد سے ترجمانی فرمائی۔
Read the full tafseer →10۔ اولئک۔ اس صفت والے ، ھم الوارثون، دوزخیوں کے جو درجات جنت میں تھے یہ اہل جنتی ان درجات کے وارث ہوں گے۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا تم میں سے ہر ایک کے لیے دو گھر ہیں ایک گھر جنت میں دوسرا دوزخ میں ، جب کوئی مر کر دوزخ میں چلاجاتا ہے تو اہل جنت اس کے جنت والے گھر کے وارث ہوجاتے ہیں اللہ کے فرمان، اولئک ھم الوارثون، کا یہی مطلب ہے۔ مجاہد (رح) کا قول ہے کہ ہر ایک کے لیے منزل ہے۔ ایک منزل جنت میں ایک منزل آگ میں، مومن کے لیے جنت میں اس کی جگہ ہے اور اس کے لیے جو دوزخ میں مقام ہوتا ہے اس کو گرادیاجاتا ہے اور کافر کے لیے جو جگہ جنت میں متعین ہوتی ہے وہ گرا دی جاتی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
1۔ 11:۔ امام احمد بن حنبل ‘ ترمذی ‘ نسائی اور مستدرک حاکم میں حضرت عمر ؓ سے صحیح روایت 1 ؎ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اس سورت کے شروع کی یہ دس آیتیں جب نازل ہوئیں تو آنحضرت ﷺ نے 2 ؎ دعا مانگی ‘ جس دعا کا حاصل یہ ہے کہ یا اللہ اپنی نعمت کو روز بروز ہم پر بڑھا اور اپنی نعمت سے ہم کو محروم نہ رکھ اور اپنی رضا مندی کے کام ہم سے لے اور پھر آپ نے ان آیتوں کو پڑھ کر فرمایا جو کوئی اس دس آیتوں کے موافق عمل کرے گا بلا شک جنت میں داخل ہوگا۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور صحابہ ؓ نے ان آیتوں کی جو تفسیر 3 ؎ کی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آدمی کا ایمان مضبوط ہونا چاہیے اور نماز پڑھتے وقت ادھر ادھر نظر نہ ڈالنی چاہیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
آیت نمبر 1 یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کی تعریف و تعظیم اور ان کی فلاح وسعادت کا ذکر ہے، نیز اس امر کا بیان ہے کہ وہ فلاح وسعادت کیسے حاصل کرسکتے ہیں اور اس ضمن میں اہل ایمان کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ان مذکورہ صفات سے متصف کریں۔ پس بندہ مومن ان آیات کی میزان پر اپنے آپ کا وزن کرے، اور یہ معلوم کرے کہ اس کے پاس اور دوسروں کے پاس قلت و کثرت یا اضافے اور کمی کے اعتبار سے کتنا ایمان ہے۔ پس فرمایا (قد افلاح المومنون) یعنی اہل ایمان کامیابی اور سعادت سے بہرہ مند ہوئے اور انہوں نے ہر دو چیز حاصل کرلی جس کا حصول اہل ایمان کا مقصود و مطلوب ہے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–59
نمازوں کی محافظت قول باری ہے (والذین ھم علی صلوتھم یحافظون اور اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں) قول باری (یحافظون) کی تفسیر میں سلف کی ایک جماعت سے مروی ہے کہ نمازیں ان کے اوقات میں ادا کی جائیں ۔ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا (لیس التفریط فی النوم انما) التفریط ان یترک الصلوۃ حتی یدخل وقت الاخری نماز کی ادائیگی میں کوتاہی نیند کی بنا پر نہیں ہوتی بلکہ کوتاہی کی صورت یہ ہے کہ ایک شخص نماز ادا نہ کرے اور بیٹھا رہے یہاں تک کہ دوسری نماز کا وقت آ جائے) مسروق کا قول ہے کہ نماز کی محافظت کا مفہوم یہ ہے کہ نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کیا جائے۔ ابراہیم نخعی کا قول ہے کہ وہ نمازوں پر دوام کرتے…
Read the full tafseer →10 جنت کے اصل حقداروں کا ذکر وبیان : یعنی ان اور ان صفات کے مالک ہی جنت کے اصل حقدار ہیں۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر کے ساتھ فرمایا گیا کہ " یہی لوگ ہیں وراثت پانے والے جو وارث ہوں گے جنت فردوس کے "۔ اور وراثت ملکیت پانے کا سب سے اعلیٰ ، عمدہ اور پکار ذریعہ ہوتا ہے۔ سو یہ اپنے باپ کی کھوئی ہوئی وراثت یعنی جنت سے سرفراز ہوں گے اور پھر اس کو اس سے نکالے جانے کا کوئی اندیشہ نہیں ہوگا۔ سو جنت کی میراث حسب و نسب وغیرہ کے مصنوعی امتیازات سے نہیں اپنے عمل و کردار کی بنا پر ملے گی ۔ وباللہ التوفیق -
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
مؤمنوں کی صفات اور وعدہ جنت الفردوس تشریح : یہاں پر ان سات فرائض کا ذکر کیا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر فرض کیے ہیں۔ اگر بندہ واقعی اپنے آقا کا نمک حلال، یعنی فرمانبردار غلام ہے تو پھر وہ اپنے مالک کے دیے گئے احکامات سے کبھی غافل نہیں ہوسکتا بلکہ ان کی بجا آوری میں ہرگز تھوڑی سی بھی غفلت یا لاپرواہی نہیں کرسکتا۔ اللہ ہمارا مالک ہے اس نے ہی ہمیں پیدا کیا ہے اسی کے پاس واپس جانا ہے۔ اسی نے ہمارے کیے گئے کاموں کا حساب لینا ہے۔ وہی اس کے بدلے میں جنت یا جہنم دے گا۔ وہی ہر وقت ہر جگہ ہر صورت میں ہمیں دیکھ رہا ہے۔ ہم اس کی نگاہ سے ہرگز چھپ نہیں سکتے۔ خلاصہ یہ ” کہ مسلم پر واجب ہے کہ جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
سورة المؤمنون : (رکوع نمبر 1) اسرارومعارف سورة مومنون بھی مکی سورتوں میں شمار کی گئی ہے اور اسی سابق مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے ایمان لانے والوں کے اوصاف کا تذکرہ فرماتے ہوئے شروع ہوتی ہے کہ جنہیں ایمان نصیب ہوا وہ فلاح پاگئے کامیاب ہوگئے فلاح کا ترجمہ اردو میں تو کامیابی ہی ہے مگر عربی زبان کے اعتبار سے اس کا معنی بہت وسیع ہے فلاح سے مکمل کامیابی مراد ہے ہر کام میں ہر وقت اور ہر عالم میں ، دنیا ہو دنیا کی تجارت ، سیاست یا امور ذاتی ہر جگہ کامیاب موت کے لمحات ہوں یا برزخ کا عرصہ کامیاب ، میدان حشر ہو یا آخرت کی زندگی کامیاب اور یہ کامیابی ایمان کا پھل ہے رہا یہ سوال کہ دنیا میں کون ہے جسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
8 ۔ حدیث میں ہے، ” جب تم اللہ سے جنت مانگو تو جنت الفردوس کی طلب کرو۔ اس لئے کہ وہ جنت کا سب سے اعلیٰ اور بہترین طبقہ ہے اور اسی سے جنت کے دریا نکلتے ہیں اور اسی کے اوپر رحمن کا عرش ہے۔ (ابن کثیر بحوالہ صحیحین) ایک مرتبہ حضرت عائشہ ؓ نے سورة مومنون کی یہ دس آیات تلاوت کر کے فرمایا : ” یہ تھا نبی ﷺ کا خلق۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
(23:9) یحافظون۔ مضارع جمع مذکر غائب (باب مفاعلہ) محافظۃ مصدر نگرانی رکھتے ہیں۔ پابندی کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
(5) مومن کی پانچویں صفت یہ ہے کہ وہ دیانت و امانت کا پیکر ہوتا ہے۔ یعنی وہ امانتوں کی ادائیگی کی حفاظت اور لحاظ میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کرتا اور ہر معاملے میں نہایت امانت دار ثابت ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے امانت کے بجائے ” امانات “ کہہ کر امانت کے مفہوم کو زندگی کے تمام معاملات تک وسیع کردیا ہے جس میں ہر طرح کی امانتیں آجاتی ہیں۔ عام طور پر امانت کا مفہوم صرف یہ سمجھاجاتا ہے کہ اگر کسی نے کسی دوسرے شخص پر اعتماد اور بھروسہ کرکے کوئی چیز یا رقم اس کے حوالے کردی اور طلب کرنے پر واپس مل گئی تو کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص نے نہایت دیانت سے اس کی امانت واپس کردی۔ لیکن قرآن و حدیث کے مطالعہ سے معلوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
مسلمانوں کی جنت میں جانے کی شرائط۔ (ف 1) یہ سورت مومنون مکیہ ہے۔ مسند امام احمد بن حنبل ، ترمذی، نسائی میں حضرت عمر سے روایت ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے کہ اس سورت کے شروع کی دس آیتیں جب نازل ہوئیں تو نبی ﷺ نے دعا مانگی اس دعا کا حاصل یہ ہے کہ یا اللہ اپنی نعمت کو روز بروز ہم پر بڑھا ، اور اپنی نعمت سے ہم کو محروم نہ رکھ، اور اپنی رضامندی کے کام ہم سے لے اور پھر آپ نے آیتوں کو پڑھ کر فرمایا جو کوئی ان دس آیتوں کے موافق عمل کرے گا بلاشک جنت میں داخل ہوگا، ان آیتوں میں فرمایا کہ بیشک ایمان والے کامیاب ہوئے وہ جو اپنی نمازوں میں عاجزی کیا کرتے ہیں خشوع کا مطلب ، نماز میں عاجزی سے کھڑا ہو اور دنیا سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
[7] یعنی نمازوں کو ان کے مقررہ اوقات میں ان کی شرائط و آداب کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ اہل ایمان کے صفات حسنہ کا ذکر نماز سے شروع کیا تھا اور اختتام بھی اسی پر کیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نماز کا اللہ کے ہاں کیا درجہ ہے اور یہ کس قدر مہتمم بالشان چیز ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
نجات اور کامرانی کی سات شرطیں !: (ف 1) ان آیات میں قرآن حکیم نے فلاح و بہبود کی راہوں کی تفصیل بتائی ہے ارشاد ہوتا ہے کہ نجات اور کامیابی کیلئے صرف عقیدہ کافی نہیں اور نہ صرف احسان وانی ، بلکہ ان اصلاحی واخلاقی امور کی تکمیل لازمی اور ضروری ہے جن کا ذکر ان آیات میں ہے ۔ یعنی نماز میں خشوع و خضوع ، لغویات سے احتراز زکوۃ کی ادائیگی پرہیز گاری اور امانت اور پاس عہد ، نماز کے تیں درجے ہیں ، ایک یہ کہ دائما اور عادتا ان وضائف و اعمال کا اعادہ کرتا جو نماز کے ارکان ضروریہ ہیں ، ایک یہ کہ سوچ سمجھ کر پڑھنا اور معانی ومطالب تک رسائی حاصل کرنا ، تیسرا درجہ یہ ہے کہ الفاظ کی روح تک پہنچ جانا اور پیکر…
Read the full tafseer →(10) یہی لوگ وارث ہونے والے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–19
ف 4۔ اس کے علاوہ طلبگار ہو اس میں زنا و لواطت و وطی بہائم و عاریت جواری اجماعا اور بعض کے نزدیک استمنا بالید بھی داخل ہے۔ اور اگر یہ آیت مدنی ہو تو حرمت متعہ پر بھی اس سے استدلال صحیح ہے۔
Read the full tafseer →(سابقہ آیت کی تفسیر ) نماز کے اوقات دوسرے مذہبوں میں : اسی لئے اوقات کے تقرر اور تعیین کی اس مصلحت کو دنیا کے تمام مذہبوں نے یکساں تسلیم کیا ہے اور اپنے اپنے نطریوں اور اصولوں کے مطابق عبادتوں کے مختلف اوقات مقرر کر رکھے ہیں ‘ ہندو آفتاب کے طلوع و غروب کے وقت پوجا پاٹ کرتے ہیں ‘ زردشتی صرف طلوع آفتاب کے وقت زمزمہ خواں ہوتے ہیں ۔ رومن کیتھولک عیسائی صبح کو طلوع آفتاب سے پہلے ‘ پھر شام کو ‘ پھر رات کو سوتے وقت دعا مانگتے ہیں ‘ یہودیوں میں تین وقت کی نمازیں ہیں جن کو ” تفلا “ کہتے ہیں ‘ دانیال نبی کی کتاب میں ہے : ” جب دانیال کو معلوم ہوا کہ نوشتہ پر دستخط ہوگئے تو وہ اپنے گھر آیا اور اپنی کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
أُولَـٰئِكَ هُمُ الْوَارِثُونَ الَّذِينَ يَرِثُونَ الْفِرْدَوْسَ Those are the inheritors who will inherit Firdaus (Paradise) - 23:10, 11. The good Muslims who possess the attributes described above have been declared in this verse to be the heirs to the garden of Paradise. There is a suggestion here that just as the assets of a deceased person must devolve on his heirs, similarly the possessors of these attributes will, without doubt, enter Paradise. It should be noted that the possessors of these seven qualities have been mentioned in the beginning as those who attain falah or success,…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
9. Salawat is plural of Salat. In(verse 2) the act of Salat itself was implied, but here the plural number implies the individual Prayers offered in their own times. They strictly guard their Prayers: they strictly adhere to the prescribed times of the Prayers: they perform them with due regard for their pre-requisites, conditions and articles with clean body and dress and necessary ablutions: they do not regard their Prayers as an unnecessary burden, which has to be cast off somehow: they do not recite mechanically but understand what they recite and are conscious that they are supplicating…
Read the full tafseer →