Al-Muminoon 23:11

Al-Muminoon · from ayah 11

23:11

الَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَ ؕ— هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ ۟الَّذِيۡنَ يَرِثُوۡنَ الۡفِرۡدَوۡسَؕ هُمۡ فِيۡهَا خٰلِدُوۡنَ

(یعنی) جو بہشت کی میراث حاصل کریں گے۔ اور اس میں ہمیشہ رہیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Who will inherit al-Firdaus. They will abide therein eternally.

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Muminoon

All translations of 23:11

جو میراث میں فردوس پائیں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(یعنی) جو بہشت کی میراث حاصل کریں گے۔ اور اس میں ہمیشہ رہیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جو فردوس کے وارث ہوں گے جہاں وه ہمیشہ رہیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

جنہیں جنت الفردوس کی میراث ملے گی۔ یہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کہ فردوس کی میراث پائیں گے، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یہ لوگ جنت کے سب سے اعلیٰ باغات (جہاں تمام نعمتوں، راحتوں اور قربِ الٰہی کی لذتوں کی کثرت ہوگی ان) کی وراثت (بھی) پائیں گے، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جو فردوس کے وارث ہوں گے، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو فردوس کے مالک ہوں گے اور اس میں ہمشیہ رہیں گے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جو فردوس کے وارث ہوں گے اس میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جو وارث ہوں گے فردوس بریں کے۔ جہاں ہمیشہ رہنا نصیب ہوگا ان خوش نصیبوں کو

— مولانا اسحاق مدنی

جو فردوس کے وارث ہوں گے اور اس میں ہمیشہ ہمیش) رہیں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ وارث ہوں گے ٹھنڈی چھاؤں والے باغات کے اس میں وہ ہمیشہ ہمیش رہیں گے (اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ ! اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ ! !)

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو میراث میں فردوس پائیں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

that shall inherit Paradise; and in it they shall abide for ever.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

who will inherit Firdaus (the Paradise). They will be there forever.

— Muhammad Taqi Usmani

who will inherit Firdaus (the Paradise). They will be there forever.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Who shall inherit Firdaws. They shall dwell therein forever.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Who will inherit paradise. There they will abide.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Who will inherit al-Firdaus. They will abide therein eternally.

— Saheeh International

These are the heirs of Paradise wherein they will live forever.

— Muhammad Sarwar

Who shall inherit the Paradise; they shall abide therein.

— Muhammad Habib Shakir

Who shall inherit Paradise; therein they shall be abiders.

— Abdul Majid Daryabadi

Who will inherit Paradise: they will dwell therein (for ever).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 23:11

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–11

دس آیتیں اور جنت کی ضمانت نسائی، ترمذی اور مسند احمد میں مروی ہے کہ حضرت رسول ﷺ پر جب وحی اترتی تو ایک ایسی میٹھی میٹھی، بھینی بھینی، ہلکی ہلکی سی آواز آپ کے پاس سنی جاتی جیسے شہد کی مکھیوں کے اڑنے کی بھنبھناہٹ کی ہوتی ہے۔ ایک مرتبہ یہی حالت طاری ہوئی۔ تھوڑی دیر کے بعد جب وحی اترچکی تو آپ نے قبلہ کی طرف متوجہ ہو کر اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر یہ دعا پڑھی کہ اے اللہ تو ہمیں زیادہ کر، کم نہ کر، ہمارا اکرام کر، اہانت نہ کر، ہمیں انعام عطا فرما، محروم نہ رکھ، ہمیں دوسروں پر کے مقابلے میں فضیلت دے، ہم پر دوسروں کو پسند نہ فرما، ہم سے خوش ہوجا اور ہمیں خوش کر دے۔ عربی کے الفاظ یہ ہیں۔ دعا (الہم زدنا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 11–13

سورة الْمُؤْمِنُوْن 10 فردوس، جنت کے لیے معروف ترین لفظ ہے جو قریب قریب تمام انسانی زبانوں میں مشترک طور پر پایا جاتا ہے۔ سنسکرت میں پردِیْشَا، قدیم کلدانی زبان میں پردیسا، قدیم ایرانی (ژند) میں پیری وائزا، عبرانی میں پردیس، ارضی میں پرویز، سُریانی میں فردیسو، یونانی میں پارا دئسوس، لاطینی میں پاراڈائسس، اور عربی میں فردوس۔ یہ لفظ ان سب زبانوں میں ایک ایسے باغ کے لیے بولا جاتا ہے جس کے گرد حصار کھنچا ہوا ہو، وسیع ہو، آدمی کی قیام گاہ سے متصل ہو، اور اس میں ہر قسم کے پھل، خصوصاً انگور پائے جاتے ہوں۔ بلکہ بعض زبانوں میں تو منتخب پالتو پرندوں اور جانوروں کا بھی پایا جانا اس کے مفہوم میں شامل ہے۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 10–11

اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَ ، الَّذِيْنَ يَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَ ، اوصاف مذکورہ کے حامل لوگوں کو اس آیت میں جنت الفردوس کا وارث فرمایا ہے۔ لفظ وارث میں اشارہ اس طرف ہے کہ جس طرح مورث کا مال اس کے وارث کو پہنچنا قطعی اور لازمی ہے اسی طرح ان اوصاف والوں کا جنت میں داخلہ یقینی ہے اور قد افلح کے بعد اوصاف مفلحین پورے ذکر کرنے کے بعد اس جملے میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ فلاح کامل اور اصلی فلاح کی جگہ جنت ہی ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 10–11

آیت 11-10 فردوس کی وراثت کے اصلی حقدار فرمایا کہ یہ لوگ ہیں جو اپنحے باپ کی کھوئی ہوئی جنت کے وارث ہوں گے اور پھر ان کو اس سے نکالے جانے کا کوئی اندیشہ نہ ہوگا، جیسا کہ آدم کو پیش آیا بلکہ وہ اس میں اپنے باپ کے ساتھ ہمیش رہیں گے اس لئے کہ وہ اس میں اپنے دشمن شیطان کو ہمیشہ کے لئے شکست دے کر داخل ہوں گے۔ فردوس جنت کے اعلیٰ ترین مقامات میں سے ہے اور یہ ان لوگوں کا حصہ ہے جو اس دنیا میں حق کی سربلندی کے لئے سرد ھڑ کی بازیاں لگائیں گے۔ 2۔ مجموعہ آیات 1-11 کے مطالب کا خلاصہ اگرچہ آیات کی وضاحت کرتے ہوئے ہم تمام ضرور باتوں کی طرف اشارہ کرتے آئے ہیں لیکن چونکہ انہی باتوں پر تمام صالح و فلاح کا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

11-1ان صفات مذکورہ کے حامل مومن ہی فلاح یاب ہونگے جو جنت کے وارث یعنی حق دار ہوں گے۔ جنت بھی جنت الفردوس، جو جنت کا اعلٰی حصہ ہے۔ جہاں سے جنت کی نہریں جاری ہوتی ہیں (صحیح بخاری، کتاب الجہاد، باب درجات المجاہدین، فی سبیل اللہ، و کتاب التوحید، باب وکان عرشہ علی ماء)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

8: جنت کو مومنوں کی میراث اس لئے کہا گیا ہے کہ ملکیت کے اسباب میں سے میراث ہی ایک ایسا طریقہ ہے جس میں ایک چیز خود بخود اس طرح انسان کی ملکیت میں آجاتی ہے کہ اس ملکیت کو منسوخ نہیں کیا جاسکتا، چنانچہ اشارہ اس طرف ہے کہ جنت کے مل جانے کے بعد اس کے چھن جانے کا کوئی اندیشہ نہیں ہوگا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–11

درس نمبر 145 تشریح آیات (1 تا 22) قد افلح خلدون (ا تا 11) یہ ایک پختہ وعدہ ہے بلکہ یہ عالم بالا کی ایک وہ ٹوک قرار داد ہے کہ مومنین فلاح پائیں گے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ اللہ تو کبھی اپنے عہد کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ پھر یہ اللہ کا فیصلہ ہے اور اللہ کے فیصلے کو کوئی رد نہیں کرسکتا کہ مومنین دنیا میں بھی فلاح پائیں گے اور آخرت میں بھی فلاح پائیں گے ۔ ایک مومن انفرادی طور پر فلاح پائے گا اور اہل ایمان کی جماعت بھی فلاح پائیں گی۔ ایسی کامیابی جسے ایک مومن اپنے دل اپنی حقیقی زندگی میں محسوس کرتے ہوں اور اس کے اندر فلاح کے وہ تمام مفہوم پائے جاتے ہوں جن سے دنیا با خبر ہے اور وہ مفاہیم بھی پائے جاتے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 9–11

آیت 9 وَالَّذِیْنَ ہُمْ عَلٰی صَلَوٰتِہِمْ یُحَافِظُوْنَ ” یہاں یہ نکتہ قابل توجہ ہے کہ اس مضمون کا آغاز بھی نماز کے ذکر سے کیا گیا تھا اور اس کا اختتام بھی نماز کے ذکر پر کیا جا رہا ہے۔ آیت 2 میں کامیاب و بامراد مؤمنین کی پہلی صفت یہ بتائی گئی تھی : الَّذِیْنَ ہُمْ فِیْْ صَلَاتِہِمْ خٰشِعُوْنَ کہ وہ لوگ اپنی نمازوں میں خشوع اختیار کرنے والے ہیں۔ یعنی اس مضمون کے آغاز میں نماز کی باطنی کیفیت کے حسن کا ذکر کیا گیا تھا ‘ جبکہ اختتام پر آیت زیر نظر میں نماز کے نظام کی بات کی گئی ہے کہ سچے اہل ایمان نماز پر مداومت کرتے ہیں اور اس کے تمام آداب و قوانین کوّ کماحقہ ملحوظ رکھتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

10 فردوس بمعنی سرسبز وادی (منجد) اور بمعنی اودبار میں واقع باغ جس میں ہر قسم کے پھل اور پوھل موجود ہوں (منتہی الادب) گویا جنت الفردوس سے مراد جنت کا وہ حصہ ہے جس میں گسی اور ٹھندی چھاؤں والے سرسبز درخت بکثرت ہوں۔ پھولوں کی خوشبو سے معطر ہو اور اس میں ہر قسم کے پھل باافراط ہوں۔ اور جنت الفردوس جنت کا سب سے بلند طبقہ اور عین وسط میں ہوگا۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے : حضرت انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ ربیع بن نضر کا بیٹا حارثہ بن سراقہ بدر کے دن ایک غیبی تیر سے شہید ہوگیا۔ وہ آپ کے آکر کہنے لگے : مجھے حارثہ کا حال بتلائیے اگر وہ خیر کو پہنچا تو میں ثواب کی امید رکھوں اور صبر کرو اور اگر نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 10–11

8۔ وارث ہونے کے معنی ہیں کہ جنت پر قابض و متصرف ہوں گے اور گویا اس کے مالک ہوجائیں گے۔ (آیت) ” اولئک ھم الورثون “ جو حصر ہے وہ باعتبار استحقاق فردوس کے ہے جو بحسب احادیث جنت کا اعلی درجہ ہے۔ ورنہ نفس جنت مطلق مومنین کے لیے عام ہوگی گوصفات مذکورہ میں کمی ہو “۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–22

بسم اللہ الرحمن الرحیم آیت نمبر 1 تا 22 ترجمہ : بلاشبہ مومنین کامیاب ہوئے جو اپنی نمازوں میں تواضع اختیار کرنے والے ہیں، قَدْ تحقیق کیلئے ہے اور جو لغو باتوں وغیرہ سے اعراض کرنے والے ہیں اور جو زکوۃ ادا کرنے والے ہیں اور جو حرام سے اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں لیکن اپنی بیبیوں سے یا ان عورتوں سے جن کے وہ مالک ہیں یعنی باندیوں سے کیونکہ ان کے پاس آنے میں (جماع کرنے میں) ان پر کوئی الزام نہیں ہاں جو ان کے علاوہ یعنی بیبیوں اور باندیوں کے علاوہ مثلاً استمنا بالید کا طالب ہو تو ایسے لوگ حد سے بڑھنے والے ہیں یعنی ایسی چیز کی طرف تجاوز کرنے والے ہیں جو ان کیلئے حلال نہیں ہے اور جو اپنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الذین یرثون الفردوس : جو فردوس کے وارث ہوں گے۔ اُولٰءِکَیعنی یہی لوگ جو اوصاف مذکورہ کے حامل ہیں۔ اَلْوَارِثُوْنَیعنی اس بات کے مستحق ہیں کہ صرف انہی کو (فردوس کا) وارث کہا جائے گا۔ اَلَّذِیْنَ یَرِثُوْنَیہ الْوَارِثُوْنَ کا وصف ہے اور جس چیز کے وارث ہوں گے اس کا بیان ہے۔ پہلے بلا تعیین وراثت کا ذکر کیا گیا پھر تعیین کے ساتھ وراثت فردوس کا ذکر کیا۔ اس سے وراثت کی عظمت اور بلندئ شان ظاہر ہوگئی۔ (شبہ کیا جاسکتا ہے کہ وارث ہونے کا لفظ چاہتا ہے کہ پہلے فردوس کسی اور کی تھی پھر مؤمنوں کو دے دی جائے گی ‘ حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں۔ اس شبہ کو دور کرنے کیلئے حضرت مفسر نے فرمایا) مراد یہ ہے کہ فردوس…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 8–11

(8۔ 11) اور جو لوگ اپنی امانتوں کو جو شرعا ان کے سپرد کی گئی ہیں جیسا کہ روزہ، وضو، غسل، جنابت اور امانت کا مال اور اپنے عہد کا خواہ وہ اللہ تعالیٰ اور بندہ کے درمیان ہو یا حقوق العباد میں سے ہو پورا کرنے کا پورا خیال رکھنے والے ہیں اور جو اپنی نمازوں کو ان کے اوقات پر ادا کرتے ہیں، ایسے ہی لوگ وارث ہونے والے ہیں اور یہی جنت کے وارث ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا اصل مقام ہے اور یہ لوگ جنت میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے نہ وہاں موت آئے گی اور نہ یہ لوگ وہاں سے نکالے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 10–11

اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَ۔۔ : ان سات صفات کے مالک فردوس کے وارث ہوں گے۔ انھیں وارث کہنے کی تین وجہیں ہیں، ایک یہ کہ وراثت کسی چیز کے حق دار ہونے کا سب سے مضبوط سبب ہے، یعنی یہ لوگ جنت کے سب سے زیادہ مستحق ہیں۔ دوسری وجہ یہ کہ جنت ان کے والد مکرم آدم ؑ کی ملکیت تھی، جب وہ وہاں سے نکلے تو ان کی اولاد جو یہ اعمال کرے گی اپنے والد کی جائداد کی وارث ہوگی۔ تیسری وجہ حدیث میں آئی ہے، ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَا مِنْکُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا لَہُ مَنْزِلَانِ ، مَنْزِلٌ فِي الْجَنَّۃِ ، وَ مَنْزِلٌ فِي النَّارِ ، فَإِذَا مَاتَ ، فَدَخَلَ النَّارَ ، وَرِثَ أَھْلُ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 8–11

مسئلہ نمبر 8 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : و الذین ھم لامنتھم وعھدھم راعون۔ والذین ھم علیٰ صلوتھم یحافظون۔ جمہور نے لاماناتھم پڑھا ہے جمع کے ساتھ۔ ابن کثیر نے مفرد پڑھا ہے۔ امانت اور عہد دین کے ہر قول اور عمل کو جامع ہے جس کو انسان اٹھاتا ہے۔ یہ لوگوں کی معاشرت، وعدہ وغیرہ کو عام ہے۔ اس کی انتہاء یہ ہے کہ عہد و پیمان کی پاسداری اور حفاطت کی جائے۔ امانت عہد سے اعم ہے۔ ہر عہد امانت ہوتا ہے اس میں قول، فعل اور عقیدہ سب شامل ہیں۔ مسئلہ نمبر 9 ۔ جمہور نے صلواتھم پڑھا ہے۔ حمزہ اور کسائی نے صلاتھم پڑھا ہے۔ یہ افراد اسم جنس ہے جو جمع کے معنی میں ہے۔ نماز کی محافظت سے مراد نماز کا قائم کرنا ہے اور اول…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 10–11

1۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر والحاکم وصححہ نے روایت کیا ہے کہ ابوہریرہ ؓ نے ” الوارثون “ کے بارے میں فرمایا کہ وارثوں سے مراد وہ اپنے گھروں کے اور اپنے بھائیوں کے گھروں کے مالک بنتے جو ان کے لیے تیار کیے گئے تھے اگر وہ اللہ کی اطاعت کرتے (تو ان کو ہی ملتے) 2۔ سعید بن منصور وابن ماجہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والبیہقی فی البعث نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے کہ جس کے دو گھر نہ ہوں ایک گھر جنت میں اور ایک گھر دوزخ میں جب ایک آدمی مرا اور وہ دوزخ میں داخل ہوا تو جنت والے اس کے گھر کے وارث بن جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے قول…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

الَّذِيْنَ [ وہ لوگ جو ] يَرِثُوْنَ [ وارث ہوں گے ] الْفِرْدَوْسَ ۭ [ فردوس کے ] هُمْ [ وہ لوگ ] فِيْهَا [ اس میں ] خٰلِدُوْنَ [ ہمیشہ رہنے والے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 10–11

مومنین کے خاص سات اوصاف بیان فرمانے کے بعد (جن میں اول نمبر خشوع کے ساتھ نماز پڑھنا اور آخر میں نماز کی پابندی کرنا ہے) ان مومنین کو بشارت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا (اُولٰٓءِکَ ھُمُ الْوَارِثُوْنَ الَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَ ھُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْنَ ) (یہ وہ لوگ ہیں جو فردوس کے وارث ہونگے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے) رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ جب تم اللہ سے سوال کرو تو فردوس کا سوال کرو کیونکہ وہ جنت کا سب سے اچھا اور سب سے بلند مقام ہے اور اس کے اوپر رحمن کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی چاروں نہریں پھوٹتی ہیں۔ (رواہ البخاری)

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–11

صفات مومنین مفلحین قال اللہ تعالیٰ ۔ قد افلح ال مومن ون .... الیٰ .... ہم فیہا خلدون۔ (ربط) گزشتہ سورت کے اخیر میں اعمال خیر کا حکم اور فلاح کی امید کا ذکر تھا۔ اب ان آیات میں مومنین صالحین کے لیے وقوع فلاح کی خبر دیتے ہیں کہ بلاشبہ وہ مسلمان کامیاب ہیں جن میں یہ سات صفتیں پائی جاتی ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں تحقیق فلاح پائی اہل ایمان نے جس کی پہلے ہی سے اہل ایمان کو امید اور توقع تھی۔ اہل ایمان سے اہل تصدیق اور اہل اطمینان مراد ہے۔ اب اس بشارت کے بعد ان مومنین کی صفات بیان کرتے ہیں۔ ؂ اول صفت خشوع ان میں سے پہلی صفت یہ ہے جو اپنی نماز میں خشوع اور خضوع اور عجزو زاری کرنے والے ہیں یعنی ان کے دل…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 10–11

10:۔ ” اُوْلٰئِکَ ھُمُ الْوَارِثُوْنَ الخ “ یہ مومنون کے لیے بشارت اخروی ہے۔ ” اُولٰئِکَ “ سے ” المومنون “ مراد ہیں جو مذکورہ بالا اوصاف ثلٰثہ سے متصف ہوں یعنی خداوند تعالیٰ سے ڈرتے رہیں۔ ہر قسم کے شرک اور ہر قسم کے ظلم سے بچتے رہیں ایسے مومن ہی جنت الفردوس کے مستحق اور وارث ہیں ” ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ “ اور وہ جنت الفردوس میں ہمیشہ رہیں گے نہ جنت فنا ہوگا نہ جنتی فنا ہوں گے اور نہ انہیں اس سے نکالا ہی جائے گا۔ ومعنی الکلام لا یموتون ولا یخرجون منھا (روح ج 18 ص 12) عذاب سے بچنے کے لیے امور ثلاثہ کا ذکر کرنے کے بعد آگے اصل دعوے پر دلائل کا سلسلہ شروع ہورہا ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–11

نام اور کوائف : اس سورة کا نام اس کی پہلی آیت میں آمدہ لفظ المومنون کے نام رکھا گیا ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی۔ مفسرین کے قول کے مطابق یہ سورة سابقہ سورة الحج کے معاً بعد نازل ہوئی۔ سورة ہذا ایک سو اٹھارہ آیات ، چھ رکو ، 1840 الفاظ اور 4801 حروف پر مشتمل ہے۔ گزشتہ سورة کے ساتھ ربط : گزشتہ سورة کے آخری رکوع میں ہم پڑھ چکے ہیں یایھا الذین امنوا ارکعوا واسجدوا واعبدوا ربکم وافعلوا الخیر لعلکم تفلحون ، اے ایمان والو ! رکوع و سجود کرو اور اپنے پروردگار کی عبادت کرو۔ اور بھلائی کے کام کرو تاکہ تم فلاح پاجائو۔ اب اس سورة کی ابتداء میں بھلائی کے کاموں کی تشریح کی گئی ہے جن پر دنیا وآخرت کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

الَّذِيْنَ يَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَ۝ 0ۭ ہُمْ فِيْہَا خٰلِدُوْنَ۝ 11 خلد الخُلُود : هو تبرّي الشیء من اعتراض الفساد، وبقاؤه علی الحالة التي هو عليها، والخُلُودُ في الجنّة : بقاء الأشياء علی الحالة التي عليها من غير اعتراض الفساد عليها، قال تعالی: أُولئِكَ أَصْحابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيها خالِدُونَ [ البقرة/ 82] ، ( خ ل د ) الخلودُ ( ن ) کے معنی کسی چیز کے فساد کے عارضہ سے پاک ہونے اور اپنی اصلی حالت پر قائم رہنے کے ہیں ۔ اور جب کسی چیز میں دراز تک تغیر و فساد پیدا نہ ہو۔ قرآن میں ہے : ۔ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ [ الشعراء/ 129] شاید تم ہمیشہ رہو گے ۔ جنت میں خلود کے معنی یہ ہیں کہ اس میں تمام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 9–11

(7) والذین ھم علی صلوتھم یحافظون وہ جو اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں یعنی ہمیشہ وقت پر شرائط و مستحبات کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ ان ساتوں باتوں کے عمل میں لانے والے کے لیے اس نے اپنے فضل سے جنت میں آٹھویں درجہ کی اعلی جنت کا وعدہ دیا جس کو جنت الفردوس کہتے ہیں اور اس کا ان کو وارث یعنی مالک بھی قرار دیا اور وہاں ہمیشہ رہنے کا بھی مژدہ دیا۔ یہ ہے فلاح۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 10–11

اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْوٰرِثُوْنَ ۔ الَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَ ط ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ ۔ (المومنون : 10، 11) (یہی لوگ وہ وارث ہیں جو میراث میں فردوس پائیں گے۔ اور اس میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے۔ ) فردوس کی وراثت کے اصل حقدار وہ اہل ایمان جو متذکرہ بالا صفات سے موصوف ہوں گے اور زندگی بھر انھوں نے اپنے اندر ان صفات کو پیدا کرنے اور باقی رکھنے میں محنت کی ہوگی تو وہ اپنے اس ایمان وعمل کے باعث اللہ کے فضل کے مستحق ٹھہریں گے۔ جس کا نتیجہ اور ثمرہ یہ ہوگا کہ اللہ انھیں وہ جنت عطا فرمائے گا جس سے ان کے جدِ امجد کو نکالا گیا تھا۔ چناچہ اب وہ اپنے جدِ امجد سمیت اس میراث کو حاصل کرنے میں کامیاب…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 9–11

فہم القرآن ربط کلام : مومنوں کی ساتویں صفت اور ان اوصاف کے حامل حضرات کا آخرت میں صلہ :۔ یہاں مومنوں کی بیان ہونے والی صفات میں ساتویں صفت یہ ہے کہ وہ اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ نماز کی حفاظت سے مراد پنجگانہ نماز کو اول وقت پر ادا کرنا اور نماز کے متعلقہ مسائل کا خیال رکھنا ہے اس میں طہارت سے لے کر نماز سے سلام پھیرنے تک کے مسائل شامل ہیں جن کا خلاصہ یہاں ذکر کیا جاتا ہے۔ جن لوگوں نے ان پر عمل کیا اور مذکورہ اوصاف کے ساتھ متصف ہونے کی کوشش کی ان کے لیے خوشخبری ہے کہ وہ جنت الفردوس کے مالک اور وارث ہوں گے جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے یاد رہے کہ جنت کی سو منزلیں ہیں سب سے اعلیٰ اور آخری…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

11: اَلَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ (وہ لوگ جو کہ وارث ہونگے) کفار کی متروکات سے۔ حدیث میں ہے تم میں سے ہر ایک کے دو مکان ہیں ایک آگ میں مکان اور ایک جنت میں مکان۔ اگر مر کر جنت میں گیا تو اہل نار کو اس کا دوزخی مکان مل جائے گا۔ اور اگر مر کر دوزخ میں گیا تو اہل جنت اس کے مکان کے وارث ہونگے ] رواہ ابن ماجہ، ابن مردو یہ، بیہقی فی البعث[ الْفِرْدَوْسَ (فردوس کے) وہ وسیع باغ ہے جس میں پھلوں کی تمام اقسام ہیں۔ قطرب کا قول یہ ہے : یہ جنتوں میں سے اعلیٰ جنت ہے : ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ (وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے) الفردوسؔ کے لفظ کی طرف ھاؔ کی ضمیر تاویل جنت کی بناء پر لوٹائی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر۔ 11۔ الذین یرثون الفردوس، ، فردوس جنت کا اعلی درجہ ہے یہ ہم نے سورة کہف میں ذکر کیا ہے ۔ ھم فیھا خالدون۔ اس میں نہ ان کو موت آئے گی اور نہ وہ اس جہنم سے نکل سکیں گے ۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تین اشیاء اپنے ہاتھ سے بنائیں حضرت آدم کو اپنے ہاتھ سے بنایا توریت کو اپنے ہاتھ سے لکھا ورفردوس کو اپنے ہاتھ سے بنایا، پھر فرمایا میری عزت کی قسم کہ اس میں کوئی شرابی داخل نہیں ہوگا اور نہ ہی دیوث۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–11

1۔ 11:۔ امام احمد بن حنبل ‘ ترمذی ‘ نسائی اور مستدرک حاکم میں حضرت عمر ؓ سے صحیح روایت 1 ؎ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اس سورت کے شروع کی یہ دس آیتیں جب نازل ہوئیں تو آنحضرت ﷺ نے 2 ؎ دعا مانگی ‘ جس دعا کا حاصل یہ ہے کہ یا اللہ اپنی نعمت کو روز بروز ہم پر بڑھا اور اپنی نعمت سے ہم کو محروم نہ رکھ اور اپنی رضا مندی کے کام ہم سے لے اور پھر آپ نے ان آیتوں کو پڑھ کر فرمایا جو کوئی اس دس آیتوں کے موافق عمل کرے گا بلا شک جنت میں داخل ہوگا۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور صحابہ ؓ نے ان آیتوں کی جو تفسیر 3 ؎ کی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آدمی کا ایمان مضبوط ہونا چاہیے اور نماز پڑھتے وقت ادھر ادھر نظر نہ ڈالنی چاہیے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–11

آیت نمبر 1 یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کی تعریف و تعظیم اور ان کی فلاح وسعادت کا ذکر ہے، نیز اس امر کا بیان ہے کہ وہ فلاح وسعادت کیسے حاصل کرسکتے ہیں اور اس ضمن میں اہل ایمان کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ان مذکورہ صفات سے متصف کریں۔ پس بندہ مومن ان آیات کی میزان پر اپنے آپ کا وزن کرے، اور یہ معلوم کرے کہ اس کے پاس اور دوسروں کے پاس قلت و کثرت یا اضافے اور کمی کے اعتبار سے کتنا ایمان ہے۔ پس فرمایا (قد افلاح المومنون) یعنی اہل ایمان کامیابی اور سعادت سے بہرہ مند ہوئے اور انہوں نے ہر دو چیز حاصل کرلی جس کا حصول اہل ایمان کا مقصود و مطلوب ہے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 9–59

نمازوں کی محافظت قول باری ہے (والذین ھم علی صلوتھم یحافظون اور اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں) قول باری (یحافظون) کی تفسیر میں سلف کی ایک جماعت سے مروی ہے کہ نمازیں ان کے اوقات میں ادا کی جائیں ۔ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا (لیس التفریط فی النوم انما) التفریط ان یترک الصلوۃ حتی یدخل وقت الاخری نماز کی ادائیگی میں کوتاہی نیند کی بنا پر نہیں ہوتی بلکہ کوتاہی کی صورت یہ ہے کہ ایک شخص نماز ادا نہ کرے اور بیٹھا رہے یہاں تک کہ دوسری نماز کا وقت آ جائے) مسروق کا قول ہے کہ نماز کی محافظت کا مفہوم یہ ہے کہ نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کیا جائے۔ ابراہیم نخعی کا قول ہے کہ وہ نمازوں پر دوام کرتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

11 فردوس بریں کے وارثوں کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا " جو وارث ہوں گے فردوسِ (بریں) کے "۔ جو کہ جنت کا سب سے اعلیٰ مقام ہے اور جس کے لئے صحیح حدیث میں دعا کی تلقین فرمائی گئی ہے۔ سو یہی ہے سب سے بڑی اور اصل اور حقیقی کامیابی۔ حضرت عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھ پر دس ایسی آیتیں نازل ہوئیں کہ جس نے ان پر پوری طرح عمل کیا وہ جنت میں داخل ہوگیا۔ پھر آپ ﷺ نے یہی آیات کریمہ تلاوت فرمائیں۔ (المراغی وغیرہ) ۔ سو جنت جو انکے باپ کی میراث نہیں تھی وہ ان کو واپس مل جائے گی۔ 12 جنت میں ہمیشہ رہنے کی خوشخبری : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے خوش نصیب اس بہشت بریں کے وارث ہوں گے جہاں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–11

مؤمنوں کی صفات اور وعدہ جنت الفردوس تشریح : یہاں پر ان سات فرائض کا ذکر کیا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر فرض کیے ہیں۔ اگر بندہ واقعی اپنے آقا کا نمک حلال، یعنی فرمانبردار غلام ہے تو پھر وہ اپنے مالک کے دیے گئے احکامات سے کبھی غافل نہیں ہوسکتا بلکہ ان کی بجا آوری میں ہرگز تھوڑی سی بھی غفلت یا لاپرواہی نہیں کرسکتا۔ اللہ ہمارا مالک ہے اس نے ہی ہمیں پیدا کیا ہے اسی کے پاس واپس جانا ہے۔ اسی نے ہمارے کیے گئے کاموں کا حساب لینا ہے۔ وہی اس کے بدلے میں جنت یا جہنم دے گا۔ وہی ہر وقت ہر جگہ ہر صورت میں ہمیں دیکھ رہا ہے۔ ہم اس کی نگاہ سے ہرگز چھپ نہیں سکتے۔ خلاصہ یہ ” کہ مسلم پر واجب ہے کہ جس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–22

سورة المؤمنون : (رکوع نمبر 1) اسرارومعارف سورة مومنون بھی مکی سورتوں میں شمار کی گئی ہے اور اسی سابق مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے ایمان لانے والوں کے اوصاف کا تذکرہ فرماتے ہوئے شروع ہوتی ہے کہ جنہیں ایمان نصیب ہوا وہ فلاح پاگئے کامیاب ہوگئے فلاح کا ترجمہ اردو میں تو کامیابی ہی ہے مگر عربی زبان کے اعتبار سے اس کا معنی بہت وسیع ہے فلاح سے مکمل کامیابی مراد ہے ہر کام میں ہر وقت اور ہر عالم میں ، دنیا ہو دنیا کی تجارت ، سیاست یا امور ذاتی ہر جگہ کامیاب موت کے لمحات ہوں یا برزخ کا عرصہ کامیاب ، میدان حشر ہو یا آخرت کی زندگی کامیاب اور یہ کامیابی ایمان کا پھل ہے رہا یہ سوال کہ دنیا میں کون ہے جسے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 10–11

8 ۔ حدیث میں ہے، ” جب تم اللہ سے جنت مانگو تو جنت الفردوس کی طلب کرو۔ اس لئے کہ وہ جنت کا سب سے اعلیٰ اور بہترین طبقہ ہے اور اسی سے جنت کے دریا نکلتے ہیں اور اسی کے اوپر رحمن کا عرش ہے۔ (ابن کثیر بحوالہ صحیحین) ایک مرتبہ حضرت عائشہ ؓ نے سورة مومنون کی یہ دس آیات تلاوت کر کے فرمایا : ” یہ تھا نبی ﷺ کا خلق۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 9–11

(23:9) یحافظون۔ مضارع جمع مذکر غائب (باب مفاعلہ) محافظۃ مصدر نگرانی رکھتے ہیں۔ پابندی کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 8–11

(5) مومن کی پانچویں صفت یہ ہے کہ وہ دیانت و امانت کا پیکر ہوتا ہے۔ یعنی وہ امانتوں کی ادائیگی کی حفاظت اور لحاظ میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کرتا اور ہر معاملے میں نہایت امانت دار ثابت ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے امانت کے بجائے ” امانات “ کہہ کر امانت کے مفہوم کو زندگی کے تمام معاملات تک وسیع کردیا ہے جس میں ہر طرح کی امانتیں آجاتی ہیں۔ عام طور پر امانت کا مفہوم صرف یہ سمجھاجاتا ہے کہ اگر کسی نے کسی دوسرے شخص پر اعتماد اور بھروسہ کرکے کوئی چیز یا رقم اس کے حوالے کردی اور طلب کرنے پر واپس مل گئی تو کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص نے نہایت دیانت سے اس کی امانت واپس کردی۔ لیکن قرآن و حدیث کے مطالعہ سے معلوم…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–11

مسلمانوں کی جنت میں جانے کی شرائط۔ (ف 1) یہ سورت مومنون مکیہ ہے۔ مسند امام احمد بن حنبل ، ترمذی، نسائی میں حضرت عمر سے روایت ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے کہ اس سورت کے شروع کی دس آیتیں جب نازل ہوئیں تو نبی ﷺ نے دعا مانگی اس دعا کا حاصل یہ ہے کہ یا اللہ اپنی نعمت کو روز بروز ہم پر بڑھا ، اور اپنی نعمت سے ہم کو محروم نہ رکھ، اور اپنی رضامندی کے کام ہم سے لے اور پھر آپ نے آیتوں کو پڑھ کر فرمایا جو کوئی ان دس آیتوں کے موافق عمل کرے گا بلاشک جنت میں داخل ہوگا، ان آیتوں میں فرمایا کہ بیشک ایمان والے کامیاب ہوئے وہ جو اپنی نمازوں میں عاجزی کیا کرتے ہیں خشوع کا مطلب ، نماز میں عاجزی سے کھڑا ہو اور دنیا سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[8] اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا کر کے ان کو رہنے کے لئے بہشت دے دی تھی پھر ان سے ایک قصور سرزد ہوا کہ انہوں نے درخت ممنوعہ کا پھل کھالیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو بہشت سے نکال دیا مگر ان کی جائیداد ضبط نہیں کی بلکہ ان کی توبہ و استغفار پر ان کی اولاد سے وعدہ کیا کہ دنیا میں نیک عمل کرو گے تو میراث پدری حاصل کرسکو گے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 9–11

نجات اور کامرانی کی سات شرطیں !: (ف 1) ان آیات میں قرآن حکیم نے فلاح و بہبود کی راہوں کی تفصیل بتائی ہے ارشاد ہوتا ہے کہ نجات اور کامیابی کیلئے صرف عقیدہ کافی نہیں اور نہ صرف احسان وانی ، بلکہ ان اصلاحی واخلاقی امور کی تکمیل لازمی اور ضروری ہے جن کا ذکر ان آیات میں ہے ۔ یعنی نماز میں خشوع و خضوع ، لغویات سے احتراز زکوۃ کی ادائیگی پرہیز گاری اور امانت اور پاس عہد ، نماز کے تیں درجے ہیں ، ایک یہ کہ دائما اور عادتا ان وضائف و اعمال کا اعادہ کرتا جو نماز کے ارکان ضروریہ ہیں ، ایک یہ کہ سوچ سمجھ کر پڑھنا اور معانی ومطالب تک رسائی حاصل کرنا ، تیسرا درجہ یہ ہے کہ الفاظ کی روح تک پہنچ جانا اور پیکر…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(11) جو لوگ فردوس بریں کی میراث پائیں گے وہ اس فردوس بریں میں ہمیشہ رہیں گے۔ یعنی جو لوگ مذکورہ بالا صفات سے متصف ہوں گے وہ ہمیشہ فردوس بریں میں رہیں گے اور جس طرح ورثے میں پائی ہوئی چیز کو کوئی چھین نہیں سکتا اسی طرح جنت الفردوس سے بھی کوئی ان کو بےدخل کرنے والا نہ ہوگا یا یہ مطلب ہے کہ ہر شخص کے دو گھر ہوں گے ایک جنت میں ایک دوزخ میں جب دوزخی دوزخ میں چلے جائیں گے تو جہنم والوں کے گھر بھی اہل جنت کو مل جائیں گے جیسا کہ حدیث میں وارد ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 7–19

ف 4۔ اس کے علاوہ طلبگار ہو اس میں زنا و لواطت و وطی بہائم و عاریت جواری اجماعا اور بعض کے نزدیک استمنا بالید بھی داخل ہے۔ اور اگر یہ آیت مدنی ہو تو حرمت متعہ پر بھی اس سے استدلال صحیح ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ الفردوس میں داخل کئے جائیں گے ‘ جہاں ہمیشہ کے لئے وہ رہیں گے : 11۔ ” الفردوس “ جنت کے ناموں میں سے ایک نام ہے اور فردوس کے معنی بھی باغ ہی کے کئے جاتے ہیں ۔ قرآن کریم نے اس کو صرف (الجنۃ) سے بھی موسوم کیا ہے اور کہیں کہیں اس کو مناسب اضافتوں کے ساتھ بھی بیان کیا گیا ہے اور اس طرح اس کو دوسرے الفاظ سے بھی بیان کیا گیا ہے جیسے زیر نظر آیت میں اس کو (الفردوس) کہا گیا اور (ھم فیھا خلدون) سے اس کے دوام کی اطلاع دے دی گئی ہے بلاشبہ دنیا میں بھی لذتیں اور مسرتیں ہیں مگر جو چیز یہاں نہیں وہ بلاشبہ بقائے دوام ہے گویا اس جگہ کی ہر لذت عارضی اور ہر مسرت فانی ہے یہاں خوشی کا کوئی ایسا ترانہ نہیں جس کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 10–11

أُولَـٰئِكَ هُمُ الْوَارِ‌ثُونَ الَّذِينَ يَرِ‌ثُونَ الْفِرْ‌دَوْسَ Those are the inheritors who will inherit Firdaus (Paradise) - 23:10, 11. The good Muslims who possess the attributes described above have been declared in this verse to be the heirs to the garden of Paradise. There is a suggestion here that just as the assets of a deceased person must devolve on his heirs, similarly the possessors of these attributes will, without doubt, enter Paradise. It should be noted that the possessors of these seven qualities have been mentioned in the beginning as those who attain falah or success,…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 11–13

10. Firdaus (Paradise) is a common word found in almost all human languages in very nearly similar forms. It means a vast garden adjoining the dwelling of a person and enclosed by defence walls and containing all kinds of fruit trees, especially vines. In some languages, the word has the sense of containing pet birds and animals, too. Firdaus was in common use in pre-Islamic Arabic literature. The Quran, however, has used it for a plurality of gardens as in (Surah Al-Kahf, Ayat 107). This gives the idea that Firdaus is a vast place containing a great number of gardens, vineyards, etc. The…

Read the full tafseer →