Al-Muminoon 23:12

Al-Muminoon · from ayah 12

23:12

وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ طِیْنٍ ۟ۚوَلَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ مِنۡ سُلٰلَةٍ مِّنۡ طِيۡنٍ‌

اور ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصے سے پیدا کیا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And certainly did We create man from an extract of clay.

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Muminoon

All translations of 23:12

ہم نے انسان کو مٹی کے ست سے بنایا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصے سے پیدا کیا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یقیناً ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ہم نے انسان کو مٹی کے ست سے پیدا کیا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بیشک ہم نے آدمی کو چنی ہوئی (انتخاب کی) مٹی سے بنایا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور بیشک ہم نے انسان کی تخلیق (کی ابتداء) مٹی (کے کیمیائی اجزاء) کے خلاصہ سے فرمائی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بلاشبہ یقینا ہم نے انسان کو حقیر مٹی کے ایک خلاصے سے پیدا کیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور ہم نے انسان کو مٹی کے ست سے پیدا کیا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کیا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور بلاشبہ ہم ہی نے پیدا کیا انسان کو مٹی کے ست اور خلاصہ سے۔

— مولانا اسحاق مدنی

اور بالیقین ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ہم نے پیدا کیا انسان کو مٹیّ کے خلاصی سے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور یقینا ہم نے انسان کو مٹی کے ست سے پیدا کیا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

We created man out of the extract of clay,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

We have created man from an extract of clay.

— Muhammad Taqi Usmani

We have created man from an extract of clay.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And indeed We created man out of an extract of Tin.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Verily We created man from a product of wet earth;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And certainly did We create man from an extract of clay.

— Saheeh International

We have created the human being from an extract of clay

— Muhammad Sarwar

And certainly We created man of an extract of clay,

— Muhammad Habib Shakir

And assuredly We created man of an extract of clay.

— Abdul Majid Daryabadi

Man We did create from a quintessence (of clay);

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 23:12

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 12–16

انسان کی پیدائش مرحلہ وار اللہ تعالیٰ انسانی پیدائش کی ابتدا بیان کرتا ہے کہ اصل آدم مٹی سے ہیں، جو کیچڑ کی اور بجنے والی مٹی کی صورت میں تھی پھر حضرت آدم ؑ کے پانی سے ان کی اولاد پیدا ہوئی۔ جیسے فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں مٹی سے پیدا کرکے پھر انسان بنا کر زمین پر پھیلادیا ہے۔ مسند میں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو خاک کی ایک مٹھی سے پیدا کیا، جسے تمام زمین پر سے لیا تھا۔ پس اسی اعتبار سے اولاد آدم کے رنگ روپ مختلف ہوئے، کوئی سرخ ہے، کوئی سفید ہے، کوئی سیاہ ہے، کوئی اور رنگ کا ہے۔ ان میں نیک ہیں اور بد بھی ہیں۔ آیت (ثم جعلنہ)۔ میں ضمیر کا مرجع جنس انسان کی طرف ہے جیسے ارشاد ہے آیت (ثُمَّ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 11–13

سورة الْمُؤْمِنُوْن 10 فردوس، جنت کے لیے معروف ترین لفظ ہے جو قریب قریب تمام انسانی زبانوں میں مشترک طور پر پایا جاتا ہے۔ سنسکرت میں پردِیْشَا، قدیم کلدانی زبان میں پردیسا، قدیم ایرانی (ژند) میں پیری وائزا، عبرانی میں پردیس، ارضی میں پرویز، سُریانی میں فردیسو، یونانی میں پارا دئسوس، لاطینی میں پاراڈائسس، اور عربی میں فردوس۔ یہ لفظ ان سب زبانوں میں ایک ایسے باغ کے لیے بولا جاتا ہے جس کے گرد حصار کھنچا ہوا ہو، وسیع ہو، آدمی کی قیام گاہ سے متصل ہو، اور اس میں ہر قسم کے پھل، خصوصاً انگور پائے جاتے ہوں۔ بلکہ بعض زبانوں میں تو منتخب پالتو پرندوں اور جانوروں کا بھی پایا جانا اس کے مفہوم میں شامل ہے۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر (اول بیان ہے ایجاد انسان کا) اور ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصہ (یعنی غذا) سے بنایا (یعنی اول مٹی ہوتی ہے پھر اس سے بذریعہ نباتات کے غذا حاصل ہوتی ہے) پھر ہم نے اس کو نطفہ سے بنایا جو کہ (ایک مدت معینہ تک) ایک محفوظ مقام (یعنی رحم) میں رہا (اور وہ غذا سے حاصل ہوا تھا) پھر ہم نے اس نطفہ کو خون کا لوتھڑا بنایا پھر ہم نے اس خون کے لوتھڑے کو (گوشت کی) بوٹی بنادیا پھر ہم نے اس بوٹی (کے بعض اجزاء) کو ہڈیاں بنادیا پھر ہم نے ان ہڈیوں پر گوشت چڑھا دیا (جس سے وہ ہڈیاں ڈھک گئیں) پھر (ان سب انقلابات کے بعد) ہم نے (اس میں روح ڈال کر) اس کو ایک دوسری ہی (طرح کی) مخلوق بنادیا (جو حالات سابقہ سے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 12–14

آگے کے مضمون …… آیات 22-12 اوپر اہل ایمان کو جو بشارت دی گئی ہے اگرچہ وہ ایک حقیقت ہے اور اس کے اندر ایمان سے محروم منکرین قرآن کے لئے جو انذار مضمر ہے وہ بھی ایک حقیقت ہے لیکن جو لوگ سرے سے آخرت ہی کے قائل نہ ہوں، مرنحے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کو نہایت مستبعد سمجھ رہے ہیں ان پر اس انذار و بشارت کا کیا اثر ہوسکتا تھا وہ ان ساری باتوں کو محض واہمہ کی خلاقی سمجھتے اور ان کا مذاق اڑاتے۔ ان کے اعتراضات کو سامنے رکھ کر آگے، نفس و آفاق کی ان نشانیوں کی طرف توجہ دلائی ہے جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسان کے وجود کی تشکیل جن مراحل سے گزرتی ہے اگر کوئی اسی پر غور کرے تو اس کو اس بات میں ذرا بھی شبہ نہیں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

12-1مٹی سے پیدا کرنے کا مطلب، ابو البشر حضرت آدم ؑ کی مٹی سے پیدائش ہے یا انسان جو خوراک بھی کھاتا ہے وہ سب مٹی سے ہی پیدا ہوتی ہیں، اس اعتبار سے اس نطفے کی اصل، جو خلقت انسانی کا باعث بنتا ہے، مٹی ہی ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

9: انسان کا مٹی سے پیدا ہونا یا تو اس اعتبار سے ہے کہ تمام انسانوں کے باپ حضرت آدم ؑ مٹی سے پیدا کیے گئے تھے، پھر تمام انسان ان کی پشت سے پیدا ہوئے، اس لیے بالواسطہ تمام انسانوں کی اصل مٹی ہے، یا پھر اس کا مقصد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انسان کی تخلیق منی کے قطرے سے ہوتی ہے، اور وہ غذا سے پیدا ہوتی ہے جس کے اگنے اور بننے میں مٹی کا دخل واضح ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 12–14

ولقد تبعثون (12 تا 16) یہ انداز تخلیق ، یہ منظم انداز نشونما اس کے اندر پایا جانے وا لا تسلسل ۔ سب سے پہلے تو یہ بتاتا ہے کہ اس پورے نظام کا ایک خالق ہے اور پھر اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ پورا عمل اس کے ارادہ مدبرہ کے مطابق ہے۔ یہ نہایت ہی پچیدہ عمل محض اتفاق سے یونہی نہیں ہوجاتا اور نہ یہ پورا عمل بغیر کسی ارادے اور تدبیر کے یونہی اتفاقاً ہوتا ہے۔ خصوصاً اس کا یہ پہلو کہ اس پورے نظام واقعات میں کبھی بھی یہ سلسلہ منقطع نہیں ہوتا۔ انسان کا یہ نظام تخلیق عقلاً کئی دوسرے طریقوں سے ممکن ہے لیکن کبھی یہ طریق کار تبدیلی کو قبول نہیں کرتا۔ یہ پہلوخصوصاً ٓاس بات کا اظہار کرتا ہے کہ ایک مخصوص ارادہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 کیونکہ سب کے باپ حضرت آدم (علیہ السلام) منتخب مٹی سے پیدا ہوئے اور ویسے بھی تمام بنی آدم نطفہ سے پیدا ہوتے ہیں اور نطفہ بھی مٹی سے نکلی ہوئی غذاؤں کا خلاصہ ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

اب جو مضمون آ رہا ہے وہ اس سے پہلے سورة الحج کی آیت 5 میں بھی آچکا ہے ‘ مگر وہاں اختصار کے ساتھ آیا تھا ‘ جبکہ یہاں زیادہ وضاحت اور جامعیت کے ساتھ آیا ہے۔ اس سے سورة الحج کے ساتھ اس سورت کی مشابہت کا پہلو بھی نظر آتا ہے۔ آیت 12 وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلَۃٍ مِّنْ طِیْنٍ ” تلوار کو نیام سے باہر کھینچنے کے عمل کو ”سَلَّ یَسُلُّ“ جبکہ نیام سے باہر نکلی ہوئی ننگی تلوار کو ”مَسْلُوْل“ کہا جاتا ہے۔ کسی بھی چیز کا اصل جوہر جو اس میں سے کشید کیا گیا ہو ”سُلَالَۃ“ کہلاتا ہے۔ چناچہ اس آیت کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کو براہ راست مٹی کے جوہر سے تخلیق کیا گیا اور پھر…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

11 ضَلاَلَۃٌ بمعنی خلاصہ، نچوڑ، ست، جوہر، کسی بھی چیز سے نکالا ہوا کارآمد حصہ (مفردات القرآن) اور انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کرنے کے دو مطلب ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کا پتلا مٹی سے بنایا گیا۔ پہلے یہ خشک مٹی تھی۔ پھر اس میں پانی ملایا گیا تو یہ گاڑا بن گیا۔ پھر اس کا خمیر اٹھایا گیا جس میں بدبو پیدا ہوگئی۔ پھر اسے گوندھ کر اس کا چیکدار اور لیسدار حصہ لیا گیا اور اسے خشک کرلیا گیا۔ پھر اسے حرارت پہنچائی گئی حتیٰ کہ وہ ٹن کی طرح بجنے لگا۔ جبکہ مٹی کے برتن اور ان کی مختلف شکلیں بنائی اور آگ میں پکائی جاتی ہیں۔ اور ان میں مٹی کا صرف چیکدار اور کارآمد حصہ ہی استعمال ہوتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

9۔ مٹی کا خلاصہ یعنی غذا، غذائے نباتی کا مٹی سے اگنا اور پیدا ہونا بالکل ظاہر ہے۔ اور غذائے حیوانی کا آخری ماخذ بھی جا کرنباتات کے واسطہ سے مٹی ہی ٹھہرتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–22

بسم اللہ الرحمن الرحیم آیت نمبر 1 تا 22 ترجمہ : بلاشبہ مومنین کامیاب ہوئے جو اپنی نمازوں میں تواضع اختیار کرنے والے ہیں، قَدْ تحقیق کیلئے ہے اور جو لغو باتوں وغیرہ سے اعراض کرنے والے ہیں اور جو زکوۃ ادا کرنے والے ہیں اور جو حرام سے اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں لیکن اپنی بیبیوں سے یا ان عورتوں سے جن کے وہ مالک ہیں یعنی باندیوں سے کیونکہ ان کے پاس آنے میں (جماع کرنے میں) ان پر کوئی الزام نہیں ہاں جو ان کے علاوہ یعنی بیبیوں اور باندیوں کے علاوہ مثلاً استمنا بالید کا طالب ہو تو ایسے لوگ حد سے بڑھنے والے ہیں یعنی ایسی چیز کی طرف تجاوز کرنے والے ہیں جو ان کیلئے حلال نہیں ہے اور جو اپنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولقد خلقنا الانسان من سللۃ من طین۔ اور بلاشبہ ہم نے (جنس) انسان (یعنی آدم) کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کیا۔ اللہ کی عبادت اور طاعت واجب ہے اور ہر وہ عبادت کا استحقاق رکھتا ہے اس کی وجہ اور سبب کا اس آیت میں بیان ہے گویا یوں فرمایا ہم کو استحقاق ہے کہ بندے ہماری عبادت کریں اور ہم کو واحد مانیں کیونکہ ہم نے ان کو پیدا کیا ہے۔ سُلٰلٰۃ خلاصہ۔ جوہر۔ مِنْ طِیْنٍمیں مِن بیانیہ ہے یعنی روئے زمین کا خلاصہ۔ حضرت آدم کو خلاصۂ ارضی سے پیدا کیا گیا اور باقی انسانوں کو نطفہ سے اور نطفہ غذا سے پیدا ہوتا ہے اور غذا زمین سے پیدا ہوتی ہے۔ کلبی نے کہا طین سے مراد حضرت آدم ( علیہ السلام) ہیں عبدالرزاق ‘ ابن جریر اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 12–14

(12۔ 14) اور ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصہ یعنی غذا سے بذریعہ آدم ؑ پیدا کیا پھر ہم نے اس خلاصہ یعنی غذا کو منی بنادیا جو چایس دن تک ایک محفوظ مقام یعنی رحم میں رہا پھر ہم نے اس نطفہ کو خون کا لوتھڑا بنادیا جو چالیس روز تک اسی حالت میں رہا پھر ہم نے اس خون کے لوتھڑے کو گوشت کی بوٹی بنادی جو چالیس دن تک اسی حالت میں رہی، پھر ہم نے اس بوٹی کے بعض اجزا کو ہڈیاں بنادیا پھر ہم نے ان بوٹیوں پر گوشت اور رگ اور پٹھے چڑھائے، پھر ہم نے اس میں روح ڈال کر ایک دوسری طرح کی مخلوق بنا دیا، سو کیسی بڑی شان ہے اللہ کی جو تمام ہنرمندوں سے بڑھ کر ہے۔ شان نزول : (آیت) ”۔ ولقد خلقنا الانسان“۔ (الخ) اور ابن ابی حاتم…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰـلَـةٍ مِّنْ طِيْنٍ : ”سُلٰـلَـةٍ“ ”سَلَّ یَسُلُّ“ کوئی چیز نرمی کے ساتھ کھینچتے ہوئے نکالنا۔ ”سَلَلْتُ السَّیْفَ“ ”میں نے میان سے تلوار نکالی۔“ ”اَلسُّلَالَۃُ“ بمعنی ”اَلشَّيْ ءُ الْمَسْلُوْلُ“ یعنی کسی چیز کا خلاصہ۔ ”فُعَالَۃٌ“ کے وزن میں قلت کا مفہوم پایا جاتا ہے، جیسے ”قُلَامَۃٌ“ قلم کا تراشہ اور ”صُبَابَۃٌ“ تھوڑا سا گرا ہوا پانی۔ 3 ان آیات کی پچھلی آیات کے ساتھ مناسبت یہ معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فلاح پانے والے مومنوں کے فردوس کے وارث ہونے کا ذکر فرمایا، تو ظاہر ہے کہ یہ قیامت کے دن ہی ہوگا، اس لیے قیامت اور موت کے بعد زندگی کی دلیل کے طور…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 12–13

اس میں پانچ مسئلے ہیں۔ مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولقد خلقنا الانسان یہاں انسان سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں۔ یہ قتادہ وغیرہ کا قول ہے کیونکہ وہ مٹی سے بنائے گئے تھے پھر ثم جعلنہ کی ضمیر کا مرجع ابن آدم ہے اگرچہ اس کا پہلے ذکر نہیں کیا لیکن شہرت امر کیو جہ سے یہ صحیح ہے کیونکہ معنی صرف اسی صورت میں صحیح ہوتا ہے اس کی مثال یہ ہے حتیٰ توارت بالحجاب۔ (ص) بعض علماء نے فرمایا : سللۃ سے مراد ابن آدم ہے یہ حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ کا قول ہے اس بناء پر السلالۃ سے مراد صاف پانی یعنی منی ہوگی۔ السلالۃ، السل سے فعالہ کا وزن ہے۔ اس کا مطلب کسی چیز کو دوسری چیز سے نکالنا۔ کہا جاتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 12–16

1۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ولقد خلقنا الانسان من سلٰلۃ من طین۔ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ آدم (علیہ السلام) کی پیدائش مٹی سے شروع کی، آیت ثم جعلنٰہ نطفۃ یعنی آدمی (علیہ السلام) کی اولاد کی پیدائش نطفہ سے ہوئی۔ 2۔ عبد بن حمید ووابن المنذر وابن ابی حاتم مجاہد (رح) سے آیت ولقد خلقنا الانسان من سلٰلۃ من طین، کے بارے میں فرمایا کہ وہ مٹی جب تو اس کو اپنے ہاتھ میں لے تو اس کا پانی انگلیوں میں سے نکل جائے۔ 3۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولقد خلقنا الانسان من سلٰلۃ، سے مراد ہے کہ انسان کو مٹی کے جوہر سے نکالا گیا۔ 4۔ ابن جریر وابن…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَلَقَدْ خَلَقْنَا [ اور بیشک ہم نے پیدا کیا ] الْاِنْسَانَ [ انسان کو ] مِنْ سُلٰـلَـةٍ [ ایک جوہر سے ] مِّنْ طِيْنٍ [ مٹی میں سے ] س ل ل : (ن) سلا ۔ (1) کسی چیز میں سے کوئی چیز آہستہ آہستہ نکالنا ۔ (2) کہیں سے کوئی چیز چپکے سے لے جانا ۔ سلالۃ کسی چیز سے نکالی ہوئی چیز ۔ خلاصہ ، جوہر ۔ ست ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 12 ۔ (تفعل) تسلل ۔ بھیڑ میں سے چپکے سے کھسک جانا ، آیت ۔ قَدْ يَعْلَمُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ يَتَسَلَّـلُوْنَ مِنْكُمْ (جان لیا ہے اللہ نے ان کو جو چپکے سے سٹک جاتے ہیں تم میں سے ) 24:63 ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 12–13

اللہ تعالیٰ کی شان خالقیت، تخلیق انسانی کا تدریجی ارتقاء حیات دنیاوی کے بعد موت، پھر وقوع قیامت ان آیات میں تخلیق انسانی کے مختلف ادوار بتائے ہیں اور آخر میں فرمایا ہے کہ دنیا کا وجود دائمی نہیں ہے آخر مرجاؤ گے اور یہاں سے چلے جاؤگے، اور مرنے پر ہی بس نہیں ہے اس کے بعد قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے۔ (پھر زندگی کے اعمال کا حساب ہوگا) اولاً حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق بیان فرمائی جو اول الانسان ہیں اور فرمایا کہ ہم نے انسان کو طین یعنی کیچڑ کے خلاصہ سے پیدا کیا۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے پوری زمین سے ایک مٹھی مٹی لے لی (اس مٹھی سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 12–30

ذکر مبدأ ومعاد۔ و دلائل توحید قال اللہ تعالیٰ ولقد خلقنا الانسان من سللۃ من طین .... الیٰ .... وعلیٰ الفلک تحملون۔ (ربط) گزشتہ آیات میں اہل سعادت اور اہل فلاح کا ذکر تھا۔ اب آئندہ آیات میں ان کے مبداء اور معاد کو بیان کرتے ہیں۔ (ربط دیگر) کہ گزشتہ آیات میں مومنین مفلحین کے لیے جنت الفردوس کا وعدہ تھا تو منکرین حشر اس بات کو نہیں مانتے تھے اس لیے آئندہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی ابتدائی پیدائش کا حال ذکر فرمایا تاکہ اس کی کمال قدرت ثابت ہو اور قیامت کے لیے دلیل بنے اور انسان کو اپنا مبداء اور معاد معلوم ہوجائے۔ (ربط دیگر) کہ گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت اور بندگی کو فلاح اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

11:۔ ” وَلَقَدْ خَلَقْنَا الخ “ یہ توحید پر پہلی عقلی دلیل ہے اور اس سے نفی شرک فی التصرف مقصود ہے۔ ” وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَان “ تا ” یَوْمَ الْقِیٰمَةِ تُبْعَثُوْنَ “ میں انسانی زندگی کے مختلف چار ادوار کا ذکر کیا گیا ہے۔ (1) رحم مادر میں رہنے کا زمانہ (2) دنیوی زندگی کا دور (3) برزخی زندگی کا دور (4) اخروی زندگی کا دور۔ مقصد یہ ہے کہ انسانی زندگی کے یہ تمام انقلابات خداوند تعالیٰ کے اختیار و تصرف میں ہیں اور کسی غیر اللہ کو ان میں کوئی دخل نہیں لہذا وہی سب کا کارساز ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی پیدائش کا تفصیل سے ذکر کرکے انسان کو اس طرف متوجہ فرمایا کہ ہم نے کس طرح تجھے پیدا فرمایا۔…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 12–17

ربط آیات : سورۃ کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی بعض صفات بیان فرمائی ہیں اور نوید سنائی ہے کہ جن لوگوں میں یہ اوصاف پائے جائیں گے ان کو کامیابی نصیب ہوگی اور وہ آخرت میں جنت الفردوس کے مالک بن جائیں گے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مسئلہ تخلیق انسانی بیان فرمایا ہے کہ اس نے انسان کی تخلیق کن کن مراحل کے بعد کی۔ پھر ایک وقت آتا ہے کہ انسان اپنی طبعی عمر پوری کرکے فوت ہوجاتا ہے اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن دوبارہ اٹھائے گا اور پھر حساب کی منزل آئیگی اور جزا اور سزا کا فیصلہ ہوگا۔ انسان کی اولین تخلیق مٹی سے : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے تخلیق انسان کی دو صورتیں بیان فرمائی ہیں۔ اس نے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰـلَـۃٍ مِّنْ طِيْنٍ۝ 12ۚ خلق الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما، ( خ ل ق ) الخلق ۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے سل سَلُّ الشیء من الشیء : نزعه، كسلّ السّيف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 12–16

مگر اس کے بعد ہی منکرین حشر و نشر یہ کہتے ہیں کہ مر کر کون زندہ ہوگا اس لیے اس کے بعد دلائلِ حشر شروع کئے فقال و لقد خلقنا الانسان من سلالۃ الخ کہ ہم نے انسان کو قطرہ منی سے پیدا کیا اور وہ قطرہ مٹی سے بنایا تھا کیونکہ غذائیں جن سے منی پیدا ہوتی ہے مٹی سے بنتی ہیں پھر اس قطرہ کو خون بنایا پھر گوشت کا لوتھڑا بنا کر اس کے ہاتھ پائوں بنائے ‘ ہڈیاں اور پٹھے بنائے اور اس کو انسان بنا کر ماں کے پیٹ سے باہر لائے اور پھر وہ ایک روز مرتا ہے پھر جس نے ایسا کردیا کیا وہ دوبارہ پیدا نہیں کرسکتا ؟ ضرور کرسکتا ہے کماقال ثم انکم یوم القیامۃ تبعثون یہ دلیل کا نتیجہ ہے یہاں تک دلائل النفس تھے کہ سب سے پہلے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 12–14

وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلَۃٍ مِّنْ طِیْنٍ ۔ ثُمَّ جَعَلْنٰہُ نُطْفَۃً فِیْ قَرَارٍ مَّکِیْنٍ ۔ ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَۃَ عَلَقَۃً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَۃَ مُضْغَۃً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَۃَ عِظٰمًا فَکَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْمًا ق ثُمَّ اَنْشَاْنٰہُ خَلْقًا اٰخَرَ ط فَتَبٰرَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَ ۔ (المومنون : 12 تا 14) (بےشک ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا۔ پھر ہم نے اسے پانی کی بوند بنا کر ایک محفوظ مستقر میں رکھا۔ پھر ہم نے اس پانی کی بوند کو خون کا لوتھڑا بنایا، پھر ہم نے اس لوتھڑے کو گوشت کی بوٹی بنادیا، پھر اس بوٹی سے ہڈیاں پیدا کردیں، پھر ہم نے ان ہڈیوں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرما کر جنت میں داخل فرمایا اس لیے جنت الفردوس کے ذکر کے بعد انسان کو اس کی تخلیقی مراحل سے آگاہ فرما کر اس کے حقیقی خالق کی پہچان کروائی گئی ہے۔ انسانِ اوّل یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے مٹی سے پیدا کیا۔ مٹی کو مختلف مراحل سے گزار کر اس سے آدم (علیہ السلام) کا ڈھانچہ تیار کیا اس لیے جب حضرت آدم یا انسان کی تخلیق کا ذکر ہوتا ہے تو کبھی ایک مرحلہ سے اس کا آغاز کیا جاتا ہے اور کبھی دوسرے مرحلہ سے ابتداء کی جاتی ہے ایک جگہ فرمایا کہ انسان کو ہم نے کھڑکھڑاتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا ہے۔ دوسرے موقعہ پر فرمایا ہم نے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

تخلیق آدم۔ : 12: وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ (تحقیق ہم نے جنس انسان کو پیدا کیا) یعنی آدم (علیہ السلام) کو۔ مِنْ سُلٰلَۃٍ (خلاصہ سے) نحو : منؔ ابتدائیہ ہے۔ السلالۃؔ۔ خلاصہ نچوڑ، کیونکہ اس کو گدلے پن میں سے نکالا جاتا ہے۔ ایک قول جس مٹی سے آدم (علیہ السلام) کو بنایا اسی کو سلالہ فرمایا کیونکہ وہ ہر مٹی کا جوہر تھا۔ مِّنْ طِیْنٍ (مٹی سے) من بیانیہ ہے۔ جیسا اس آیت میں : من الاوثان۔ ] الحج : 30[

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

12۔ ولقد خلقنا الانسان، ہم نے جنس انسان آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا۔ انسان اسم جنس ہے یہ واحد اور جمع دونوں استعمال ہوتے ہیں۔ من سلالہ۔ حضرت ابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے کہ سلالہ سے مراد پانی خلاصہ ہے۔ 2۔ مجاہد کا قول ہے کہ اس سے مراد بنی آدم ہیں۔ 3۔ عکرمہ کا قول ہے کہ سلالہ سے مراد وہ پانی ہے جو پشت سے کھینچا جاتا ہے ۔ عرب نطفے کو سلالہ کہتے ہیں اور ولد کو سلیل کہتے ہیں کیونکہ وہ ان دونوں سے ہی کھینچاجاتا ہے۔ من طین۔ اس سے مراد طین آدم ہیں۔ سلالہ کہتے ہیں مٹی سے پیدا ہونا اور حضرت آدم مٹی سے بنائے گئے تھے چونکہ دوسرے انسان نطفہ سے پیدا ہوتے ہیں اور غذا زمین سے پیدا ہوتی ہے۔ کلبی کا بیان ہے طین…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 12–17

12۔ 17:۔ ابوداود، ترمذی کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری ؓ کی روایت جس روایت کو ابن حبان نے صحیح بتلایا 2 ؎ ہے اوپر گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ( علیہ السلام) کی مٹی ساری زمین سے ہر طرح کی اچھی بری ‘ سخت نرم سب سے لی تھی ‘ اسی تاثیر سے مختلف مزاج مختلف عادت کے انسان اولاد آدم میں پیدا ہوئے اور قیامت تک پیدا ہوں گے ‘ غرض اب دیکھنے میں اگرچہ آدمی کی پیدائش نطفہ سے ہے لیکن اس کی پیدائش میں مٹی کا اثر بھی ہے جو حضرت آدم سے لے کر قیامت تک سلسلہ بہ سلسلہ چلا آتا ہے اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں انسان کی پیدائش کی اصل مٹی اور منی دونوں چیزیں فرمائی ہیں ‘ ترمذی ‘ نسائی ‘ مسند بزار ‘ صحیح…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 12–16

آیت نمبر 12 اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان آیات کریمہ میں انسان کی ابتدائے تخلیق سے لے کر آخر تک مختلف اطوار اور مراحل کا ذکر کیا ہے، چناچہ اللہ تعالیٰ نے نوع بشری کے جد امجد آدم علیہٗ اسلام کی پیدائش کا ذکر فرمایا کہ (من سللۃ من طین) ، ، اسے زمین کے ست سے پیدا کیا۔ ، ، جو کہ تمم زمین سے حاصل کیا گیا تھا۔ بنا بریں حضرت آدم علیہ اسلام کے بیٹے زمین کی نوعیت کے مطابق ہیں، ان میں کچھ پاک، کچھ خبیث اور کچھ ان دونوں کے درمیان ہیں اور کچھ نرم دل، کچھ سخت دل اور کچھ ان دونوں کے درمیان ہیں۔ (ثمہ جعلنہ) ، ، پھر ہم نے اس کو بنایا، ، یعنی جنس آدم علیہ اسلام کو (نطفۃ) ، ، نطفہ، ، جو انسان کی پیٹھ اور سینے کے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 9–59

نمازوں کی محافظت قول باری ہے (والذین ھم علی صلوتھم یحافظون اور اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں) قول باری (یحافظون) کی تفسیر میں سلف کی ایک جماعت سے مروی ہے کہ نمازیں ان کے اوقات میں ادا کی جائیں ۔ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا (لیس التفریط فی النوم انما) التفریط ان یترک الصلوۃ حتی یدخل وقت الاخری نماز کی ادائیگی میں کوتاہی نیند کی بنا پر نہیں ہوتی بلکہ کوتاہی کی صورت یہ ہے کہ ایک شخص نماز ادا نہ کرے اور بیٹھا رہے یہاں تک کہ دوسری نماز کا وقت آ جائے) مسروق کا قول ہے کہ نماز کی محافظت کا مفہوم یہ ہے کہ نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کیا جائے۔ ابراہیم نخعی کا قول ہے کہ وہ نمازوں پر دوام کرتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

13 انسان کے لیے اپنے وجود میں غور و فکر کی دعوت : کہ خود اس کے اپنے جسم و جان میں بڑے درسہائے عبرت و بصیرت ہیں۔ سو ارشاد فرمایا گیا " اور بلاشبہ ہم ہی نے انسان کو پیدا کیا مٹی کے ست سے "۔ پھر ذرا غور کرو کہ کس پر حکمت طریقے سے مٹی کا یہ ست اور خلاصہ تیار کیا گیا جس سے انسان جیسی اشرف المخلوقات ہستی کو پیدا کیا گیا اور اس کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا گیا۔ اور کیا سے کیا بنادیا گیا۔ اور پھر تم لوگ خود سوچو کہ کیا حق بنتا ہے ہمارے اس خالق ومالک کا ہم پر جس نے اس طرح ہمیں وجود بخشا ؟۔ سبحانہ وتعالیٰ -

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 12–16

انسانی پیدائش کے مختلف مراحل اور قدرت کا کمال تشریح : آج کے سائنسی تجربات اور تحقیقات انسان کی ابتدا سے انتہا تک قرآن پاک کی بیان کردہ معلومات کے عین مطابق ثابت ہو رہے ہیں۔ ڈاکٹر موریس بوکائے قرآنی آیات کی روشنی میں اس تمام سلسلے کو بڑے اچھے انداز میں بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ” لفظ سُلٰلَۃِ کسی ایسی چیز کو ظاہر کرتا ہے جو کشید کی گئی ہو، یعنی جو کسی چیز کا بہترین جزو ہو۔ “ یعنی نطفہ جو مٹی سے حاصل کی گئی خوراک سے بنتا ہے۔ پھر لکھتے ہیں : ” بیضہ کا بارآور ہونا اور افزائش نسل ‘ ایک خلیے سے وجود پاتے ہیں۔ جو نہایت لمبوترا ہوتا ہے۔ یہ ایک ملی میٹر کے دس ہزارویں حصے کے برابر ہوتا ہے۔ عام حالات…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–22

سورة المؤمنون : (رکوع نمبر 1) اسرارومعارف سورة مومنون بھی مکی سورتوں میں شمار کی گئی ہے اور اسی سابق مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے ایمان لانے والوں کے اوصاف کا تذکرہ فرماتے ہوئے شروع ہوتی ہے کہ جنہیں ایمان نصیب ہوا وہ فلاح پاگئے کامیاب ہوگئے فلاح کا ترجمہ اردو میں تو کامیابی ہی ہے مگر عربی زبان کے اعتبار سے اس کا معنی بہت وسیع ہے فلاح سے مکمل کامیابی مراد ہے ہر کام میں ہر وقت اور ہر عالم میں ، دنیا ہو دنیا کی تجارت ، سیاست یا امور ذاتی ہر جگہ کامیاب موت کے لمحات ہوں یا برزخ کا عرصہ کامیاب ، میدان حشر ہو یا آخرت کی زندگی کامیاب اور یہ کامیابی ایمان کا پھل ہے رہا یہ سوال کہ دنیا میں کون ہے جسے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(23:12) سللۃ۔ سل سے اسم مشتق ہے ۔ سل کے معنی ہیں کسی چیز کو کسی چیز سے کھینچنا اور نچوڑنا۔ جیسے تلوار کا نیام سے سونتنا۔ یا کوئی شے چوری کھسکا لینا۔ جیسے یتسللون منکم لواذا (24:63) جو تم میں سے آنکھ بچا کر کھسک گئے۔ سلالۃ من طین مٹی کا جوہر۔ مٹی سے نچوڑ کر حاصل کیا ہوا خلاصہ ۔ صاحب ضیاء القرآن لکھتے ہیں :۔ مٹی کے خمیر سے جو جوہر نکلا اس سے آدم (علیہ السلام) کا جسم پاک تیار ہوا۔ پھر آپ سے جو نسل انسانی چلی اس کے لئے نطفہ اصل قرار پایا جو ان غذائوں سے پیدا ہوتا ہے جو مٹی سے اگتی ہیں اس لئے جنس انسانی کی تخلیق کے متعلق فرمایا کہ اسے مٹی سے پیدا کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 12–16

لغات القرآن : آیت نمبر 12 تا 16 : سلالۃ (سل) (منتخب چیز۔ خلاصہ۔ نچوڑ) ‘ طین (مٹی) ‘ نطفۃ (ٹپکی ہوئی بوند) ‘ قرار مکین (محفوظ مقام) ‘ علقۃ (جما ہوا خون) ‘ مضغۃ (بوٹی۔ لوتھڑا) ‘ عظام (عظم) (ہڈیاں) ‘ کسونا (ہم نے پہنایا۔ ہم نے چڑھایا) ‘ لحم (گوشت) ‘ انشأنا (ہم نے اٹھا کھڑا کیا) ‘ خلق (مخلوق) ‘ احسن (زیادہ بہتر۔ زیادہ خوبصورت) ‘ میتون (مرنے والے) ‘ تبعثون (تم اٹھائے جائو گے) ۔ تشریح : آیت نمبر 12 تا 16 : موجودہ دور سائنسی ترقیات ‘ ٹیکنالوجی اور نت نئی مشینوں کی ایجاد کا دور ہے۔ معلومات کی دنیا میں انسان کے قدم ہر روز آگے بڑھ رہے ہیں۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ سائنسی ترقیات سے دین اسلام کے کسی اصول کی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 12–17

انسان کی پیدائش کی کیفیت۔ دنیا کو پیدا کرنے کا نتیجہ۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ بیشک ہم نے آدمی کو چنی ہوئی مٹی سے پیدا کیا پھر ہم نے جوہر کو پانی یعنی نطفہ بنا کر ایک مدت معینہ تک ایک محفوظ مقام پر یعنی رحم میں رکھا، پھر ہم نے اس نطفہ کو جماہوا خون بنایا، پھر ہم نے اس جمے ہوئے خون کو ایک گوشت کا ٹکڑا سابنایا، پھر اس میں ہڈیوں کا ڈھانچا بنایا، پھر ڈھانچے پر گوشت چڑھایا، رگیں پٹھے جوڑ وغیرہ سب بنائے اور پتلا تیار ہوگیا پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے جان پڑجاتی ہے اور رحم پر جو فرشتہ تعینات ہے اس کو اس پتلے کی عمر، رزق، نیک وبد لکھنے کا حکم جس طرح ہوتا ہے وہ فرشتہ اس کے موافق لکھ لیتا ہے پس کیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[9] مٹی کا خلاصہ یعنی غذا۔ غذائے نباتاتی کا مٹی سے پیدا ہونا تو ظاہر ہے۔ غذائے حیوانی کا آخری ماخذ بھی نباتات کے واسطے سے مٹی ہی ٹھہرتی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 12–19

ایک تشریحی نکتہ : (ف 1) ان آیات میں قرآن حکیم نے انسانی پیدائش اور اس کے مختلف مراحل کا ذکر فرمایا ہے اور بتایا ہے کہ کس حکمت و دانائی سے اللہ تعالیٰ نے انسان کو خلعت وجود عطا فرما کر اس دنیائے عجائب میں بھیجا ہے اس روح وعقل کے مجرمجسمہ کا اٹھان اور درمیان کی حیرت نہ زار منزلیں کیا یہ سب کی سب چیزیں اللہ کی اعلی ترین قوت تخلیق پر دال نہیں ؟ یہاں لفظ علقہ : مگر قرآن حکیم نے جدید ترین جنسیاتی تشریح فرمائی ہے موجودہ حکماء کی رائے ہے کہ نطفہ میں زندگی کے جراثیم ہوتے ہیں اور وہ جراثیم رحم میں پہنچ کر بڑھنا شروع کردیتے ہیں اور آہستہ آہستہ جنس کی شکل اختیار کرلیتے ہیں ۔ قرآن بھی کہتا ہے کہ ہم اس…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(12) اور بلاشبہ ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصے اور نچوڑ سے بنایا یعنی آدم (علیہ السلام) کو منتخب مٹی سے بنایا جو مختلف زمین کے حصوں سے لی گئی تھی یا یہ کہ جنس انسان مراد ہو سب سے پہلا انسان خالص مٹی سے بلاواسطہ بنایا گیا پھر بہ واسطہ غذا جو مٹی سے پیدا ہوتی ہے اور اس غذا سے خون اور منی نکلتی ہے جیسا کہ آگے فرمایا۔ قرآن شریف کے بعض نسخوں میں حضرت شاہ صاحب (رح) کا منہیہ ملا وہ فرماتے ہیں خلاصہ سلالہ بمعنی نچڑا پانی یعنی منی اور جو چیز کہ باہر نکالی جائے کسی چیز سے اور منی آدمی کی۔ 12 خلاصہ ! یہ ہے کہ جو کسی چیز سے نکالا جائے جیسے جوہر یاست۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 7–19

ف 4۔ اس کے علاوہ طلبگار ہو اس میں زنا و لواطت و وطی بہائم و عاریت جواری اجماعا اور بعض کے نزدیک استمنا بالید بھی داخل ہے۔ اور اگر یہ آیت مدنی ہو تو حرمت متعہ پر بھی اس سے استدلال صحیح ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کیا گیا ہے جس کو ” جوہر “ بھی کہا جاتا ہے : 12۔ (سلالۃ) چنی ہوئی ‘ نچوڑی ہوئی ‘ نچوڑ ‘ خلاصہ سل سے جس کے معنی کسی چیز کو کسی چیز سے کھینچنے سوتنے اور نچوڑنے کے ہیں اسم مشتق ہے ۔ (سلالۃ) کا لفظ دو بار قرآن کریم میں استعمال ہوا ہے اور اسی مادہ سے (یتسللون) کا لفظ بھی ہے جو سورة النور کی آیت 63 میں آیا ہے جس کے معنی ہیں کہ ” وہ کھسک جاتے ہیں “ جمع مذکر غائب کا صیغہ ۔ قرآن کریم میں انسان کی پیدائش کا ذکر بہت سی جگہوں میں آیا ہے اور تقریبا ہر جگہ یہی بیان کیا گیا ہے کہ انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کیا گیا ہے اور پھر انسان اول کی پیدائش کے بعد خواہ وہ کتنی ہی تعداد…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary In the earlier verses it was explained that man can achieve falah (success) in this world and in the Hereafter by spending his time in assiduously worshipping Allah and, in compliance with His commands, by keeping his body and soul pure at all times and by discharging the claims and duties which he owes to fellow human beings. The present verse gives an account of the universal and supreme power of Allah the Almighty and a manifestation of His power in the process leading to the creation of the human race. If a person whom Allah has given wisdom and intelligence ponders seriously…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 11–13

10. Firdaus (Paradise) is a common word found in almost all human languages in very nearly similar forms. It means a vast garden adjoining the dwelling of a person and enclosed by defence walls and containing all kinds of fruit trees, especially vines. In some languages, the word has the sense of containing pet birds and animals, too. Firdaus was in common use in pre-Islamic Arabic literature. The Quran, however, has used it for a plurality of gardens as in (Surah Al-Kahf, Ayat 107). This gives the idea that Firdaus is a vast place containing a great number of gardens, vineyards, etc. The…

Read the full tafseer →