Al-Muminoon 23:13

Al-Muminoon · from ayah 13

23:13

ثُمَّ جَعَلْنٰهُ نُطْفَةً فِیْ قَرَارٍ مَّكِیْنٍ ۪۟ثُمَّ جَعَلۡنٰهُ نُطۡفَةً فِىۡ قَرَارٍ مَّكِيۡنٍ

پھر اس کو ایک مضبوط (اور محفوظ) جگہ میں نطفہ بنا کر رکھا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then We placed him as a sperm-drop in a firm lodging.

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Muminoon

All translations of 23:13

پھر اسے ایک محفوظ جگہ ٹپکی ہوئی بوند میں تبدیل کیا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پھر اس کو ایک مضبوط (اور محفوظ) جگہ میں نطفہ بنا کر رکھا

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر اسے نطفہ بنا کر محفوظ جگہ میں قرار دے دیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر ہم نے اسے ٹپکی ہوئی بوند کی شکل میں ایک محفوظ جگہ پر رکھا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر اسے پانی کی بوند کیا ایک مضبوط ٹھہراؤ میں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر اسے نطفہ (تولیدی قطرہ) بنا کر ایک مضبوط جگہ (رحمِ مادر) میں رکھا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر ہم نے اسے ایک قطرہ بنا کر ایک محفوظ ٹھکانے میں رکھا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر ہم نے اسے ایک محفوظ مقام (رحم مادر) میں نطفہ بناکر رکھا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پھر ہم نے پانی کی ایک بوند کی شکل میں اس کو ایک محفوظ مستقر میں رکھا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر ہم ہی نے اس کو رکھا ایک مدت تک ایک بوند کی شکل میں ایک محفوظ قرارگاہ میں۔

— مولانا اسحاق مدنی

پھر ہم نے اسے نطفہ بنایا ایک محفوظ مقام میں پھر ہم نے نطفہ کو خون کا لوتھڑا بنا دیا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر ہم نے اسے بوند کی شکل میں ایک محفوظ ٹھکانے میں رکھا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پھر اس کو ایک مضبوط اور محفوظ جگہ میں نطفہ بنا کر رکھا

— محترمہ رفعت اعجاز

then We made him into a drop of life-germ, then We placed it in a safe depository,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Then We made him a sperm-drop in a firm resting place.

— Muhammad Taqi Usmani

Then We made him a sperm-drop in a firm resting place.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Thereafter We made him a Nutfah in a safe lodging.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then placed him as a drop (of seed) in a safe lodging;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then We placed him as a sperm-drop in a firm lodging.

— Saheeh International

which was then turned into a living germ and placed in safe depository.

— Muhammad Sarwar

Then We made him a small seed in a firm resting-place,

— Muhammad Habib Shakir

Thereafter We made him of a Sperm In a receptacle safe.

— Abdul Majid Daryabadi

Then We placed him as (a drop of) sperm in a place of rest, firmly fixed;

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 23:13

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 12–16

انسان کی پیدائش مرحلہ وار اللہ تعالیٰ انسانی پیدائش کی ابتدا بیان کرتا ہے کہ اصل آدم مٹی سے ہیں، جو کیچڑ کی اور بجنے والی مٹی کی صورت میں تھی پھر حضرت آدم ؑ کے پانی سے ان کی اولاد پیدا ہوئی۔ جیسے فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں مٹی سے پیدا کرکے پھر انسان بنا کر زمین پر پھیلادیا ہے۔ مسند میں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو خاک کی ایک مٹھی سے پیدا کیا، جسے تمام زمین پر سے لیا تھا۔ پس اسی اعتبار سے اولاد آدم کے رنگ روپ مختلف ہوئے، کوئی سرخ ہے، کوئی سفید ہے، کوئی سیاہ ہے، کوئی اور رنگ کا ہے۔ ان میں نیک ہیں اور بد بھی ہیں۔ آیت (ثم جعلنہ)۔ میں ضمیر کا مرجع جنس انسان کی طرف ہے جیسے ارشاد ہے آیت (ثُمَّ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 11–13

سورة الْمُؤْمِنُوْن 10 فردوس، جنت کے لیے معروف ترین لفظ ہے جو قریب قریب تمام انسانی زبانوں میں مشترک طور پر پایا جاتا ہے۔ سنسکرت میں پردِیْشَا، قدیم کلدانی زبان میں پردیسا، قدیم ایرانی (ژند) میں پیری وائزا، عبرانی میں پردیس، ارضی میں پرویز، سُریانی میں فردیسو، یونانی میں پارا دئسوس، لاطینی میں پاراڈائسس، اور عربی میں فردوس۔ یہ لفظ ان سب زبانوں میں ایک ایسے باغ کے لیے بولا جاتا ہے جس کے گرد حصار کھنچا ہوا ہو، وسیع ہو، آدمی کی قیام گاہ سے متصل ہو، اور اس میں ہر قسم کے پھل، خصوصاً انگور پائے جاتے ہوں۔ بلکہ بعض زبانوں میں تو منتخب پالتو پرندوں اور جانوروں کا بھی پایا جانا اس کے مفہوم میں شامل ہے۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

اس کو لفظ ثم سے فرمایا ثُمَّ جَعَلْنٰهُ نُطْفَةً کیونکہ مٹی سے غذا کا پیدا ہونا پھر غذا کا جزو بدن ہونا پھر اس میں سے جزء خاص کا نطفہ کی صورت میں تبدیل ہونا انسانی قیاس کی رو سے بڑا وقت چاہتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 12–14

آگے کے مضمون …… آیات 22-12 اوپر اہل ایمان کو جو بشارت دی گئی ہے اگرچہ وہ ایک حقیقت ہے اور اس کے اندر ایمان سے محروم منکرین قرآن کے لئے جو انذار مضمر ہے وہ بھی ایک حقیقت ہے لیکن جو لوگ سرے سے آخرت ہی کے قائل نہ ہوں، مرنحے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کو نہایت مستبعد سمجھ رہے ہیں ان پر اس انذار و بشارت کا کیا اثر ہوسکتا تھا وہ ان ساری باتوں کو محض واہمہ کی خلاقی سمجھتے اور ان کا مذاق اڑاتے۔ ان کے اعتراضات کو سامنے رکھ کر آگے، نفس و آفاق کی ان نشانیوں کی طرف توجہ دلائی ہے جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسان کے وجود کی تشکیل جن مراحل سے گزرتی ہے اگر کوئی اسی پر غور کرے تو اس کو اس بات میں ذرا بھی شبہ نہیں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

13-1محفوظ جگہ سے مراد رحم مادر ہے، جہاں نو مہینے بچہ بڑی حفاظت سے رہتا اور پرورش پاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 12–14

ولقد تبعثون (12 تا 16) یہ انداز تخلیق ، یہ منظم انداز نشونما اس کے اندر پایا جانے وا لا تسلسل ۔ سب سے پہلے تو یہ بتاتا ہے کہ اس پورے نظام کا ایک خالق ہے اور پھر اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ پورا عمل اس کے ارادہ مدبرہ کے مطابق ہے۔ یہ نہایت ہی پچیدہ عمل محض اتفاق سے یونہی نہیں ہوجاتا اور نہ یہ پورا عمل بغیر کسی ارادے اور تدبیر کے یونہی اتفاقاً ہوتا ہے۔ خصوصاً اس کا یہ پہلو کہ اس پورے نظام واقعات میں کبھی بھی یہ سلسلہ منقطع نہیں ہوتا۔ انسان کا یہ نظام تخلیق عقلاً کئی دوسرے طریقوں سے ممکن ہے لیکن کبھی یہ طریق کار تبدیلی کو قبول نہیں کرتا۔ یہ پہلوخصوصاً ٓاس بات کا اظہار کرتا ہے کہ ایک مخصوص ارادہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 13 ثُمَّ جَعَلْنٰہُ نُطْفَۃً فِیْ قَرَارٍ مَّکِیْنٍ ” رحم uterus کو ایک محفوظ ٹھکانہ قرار دیا گیا ہے ‘ جس کی دیوار بہت مضبوط ہوتی ہے۔ نطفہ رحم مادر میں پہنچتا ہے اور بیضۂ انثی کے ساتھ مل کر ovum fertilized رحم کی دیوار کے اندر embed ہوجاتا ہے ‘ گویا دفن ہوجاتا ہے جیسے بیج زمین کے اندر دفن ہوجاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

12 یعنی رحم مادر ایسا محفوظ مقام ہے جہاں نطفہ کو نشوونما کے لئے مناسب حرارت تو ملتی رہتی ہے لیکن شدید گرمی یا سردی وغیرہ کے اثرات سے بالکل محفوظ ہوتا ہے اور وہ وہاں سے ہل بھی نہیں سکتا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 13–14

10۔ (جس سے وہ ہڈیاں ڈھک گئیں اور ڈھانچہ پر جلد چڑھ گئی) (آیت) ” فی قرار مکین “۔ یعنی رحم مادر میں۔ رحم کی مضبوطی اور محفوظیت پر تشریح الابدان کی کتابیں گواہ ہیں۔ (آیت) ” فخلقنا المضغۃ عظما “۔ یعنی بوٹی کے بعض اجزاء کو ہڈیوں میں تبدیل کردیا۔ خلقت انسانی کے ان مراتب کی تفصیل طب قدیم وجدید کی کتابوں میں ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔ 11۔ (روح انسانی ڈال کر اور حالات سابق سے بالکل ممتاز بنا کر) جمادیت ونباتیت کا ذکر نہیں۔ حیوانیت بلکہ حیوانیت اعلی سے بھی انسان جس قدر ممتاز وبلند ہے اس کی شرح کے لیے ایک دفتر چاہیے، کچھ مختصر حوالے انگریزی تفسیر القرآن میں ملیں گے۔ یہ (آیت) ” خلقا اخر “ ‘۔ ہی وہ چیز ہے جہاں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–22

بسم اللہ الرحمن الرحیم آیت نمبر 1 تا 22 ترجمہ : بلاشبہ مومنین کامیاب ہوئے جو اپنی نمازوں میں تواضع اختیار کرنے والے ہیں، قَدْ تحقیق کیلئے ہے اور جو لغو باتوں وغیرہ سے اعراض کرنے والے ہیں اور جو زکوۃ ادا کرنے والے ہیں اور جو حرام سے اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں لیکن اپنی بیبیوں سے یا ان عورتوں سے جن کے وہ مالک ہیں یعنی باندیوں سے کیونکہ ان کے پاس آنے میں (جماع کرنے میں) ان پر کوئی الزام نہیں ہاں جو ان کے علاوہ یعنی بیبیوں اور باندیوں کے علاوہ مثلاً استمنا بالید کا طالب ہو تو ایسے لوگ حد سے بڑھنے والے ہیں یعنی ایسی چیز کی طرف تجاوز کرنے والے ہیں جو ان کیلئے حلال نہیں ہے اور جو اپنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ثم جعلنہ نطفۃ فی قرار مکین۔ ثم خلقنا النطفۃ علقۃ فخلقنا العقلہ مضغۃ فخلقنا المضغۃ عظما فکسونا العظم لحما پھر ہم نے اس کو نطفہ سے بنایا جو کہ (ایک مدت معینہ تک) ایک محفوظ مقام (یعنی رحم) میں رہا پھر ہم نے اس نطفہ کو خون کا لوتھڑا بنایا پھر ہم نے اس خون کے لوتھڑے کو (گوشت کی) بوٹی بنایا پھر ہم نے اس بوتی (کے بعض اجزاء) کو ہڈیاں بنا دیا پھر ہم نے ان ہڈیوں پر گوشت (کا لباس) پہنا دیا۔ جَعَلْنٰہُہم نے اس خلاصہ کو نطفہ سے بنایا ہ ضمیر سُلٰلٰۃ کی طرف راجع ہے کیونکہ سلالۃ بمعنی مسلول (اسم مفعول) ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ضمیر کا مرجع انسان ہو۔ نطفہ سے پہلے حرف جر محذوف ہے۔ حرف جر کو حذف کر کے نطفہ کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 12–14

(12۔ 14) اور ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصہ یعنی غذا سے بذریعہ آدم ؑ پیدا کیا پھر ہم نے اس خلاصہ یعنی غذا کو منی بنادیا جو چایس دن تک ایک محفوظ مقام یعنی رحم میں رہا پھر ہم نے اس نطفہ کو خون کا لوتھڑا بنادیا جو چالیس روز تک اسی حالت میں رہا پھر ہم نے اس خون کے لوتھڑے کو گوشت کی بوٹی بنادی جو چالیس دن تک اسی حالت میں رہی، پھر ہم نے اس بوٹی کے بعض اجزا کو ہڈیاں بنادیا پھر ہم نے ان بوٹیوں پر گوشت اور رگ اور پٹھے چڑھائے، پھر ہم نے اس میں روح ڈال کر ایک دوسری طرح کی مخلوق بنا دیا، سو کیسی بڑی شان ہے اللہ کی جو تمام ہنرمندوں سے بڑھ کر ہے۔ شان نزول : (آیت) ”۔ ولقد خلقنا الانسان“۔ (الخ) اور ابن ابی حاتم…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

جَعَلْنٰهُ نُطْفَةً فِيْ قَرَارٍ مَّكِيْنٍ : اس میں آدم ؑ کے بعد نسل انسانی کی پیدائش کا ذکر ہے، یعنی پھر اس مٹی کو یا مٹی سے بنی ہوئی اس مخلوق کو پانی کا ایک قطرہ بنا کر ایک نہایت محفوظ ٹھکانے (رحم مادر) میں رکھا۔ مٹی سے پانی کا قطرہ بنانا، جس میں مٹی کا نام و نشان نہیں اور اسے ماں کے رحم کے نہایت محفوظ ٹھکانے میں رکھ کر پانی کے قطرے کو نو (9) ماہ میں مکمل انسان بنادینا سب اس کی قدرت کا کمال ہے۔ ”قَرَارٍ مَّكِيْنٍ“ کی مزید تفسیر کے لیے دیکھیے سورة مرسلات (20 تا 22)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 12–13

اس میں پانچ مسئلے ہیں۔ مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولقد خلقنا الانسان یہاں انسان سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں۔ یہ قتادہ وغیرہ کا قول ہے کیونکہ وہ مٹی سے بنائے گئے تھے پھر ثم جعلنہ کی ضمیر کا مرجع ابن آدم ہے اگرچہ اس کا پہلے ذکر نہیں کیا لیکن شہرت امر کیو جہ سے یہ صحیح ہے کیونکہ معنی صرف اسی صورت میں صحیح ہوتا ہے اس کی مثال یہ ہے حتیٰ توارت بالحجاب۔ (ص) بعض علماء نے فرمایا : سللۃ سے مراد ابن آدم ہے یہ حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ کا قول ہے اس بناء پر السلالۃ سے مراد صاف پانی یعنی منی ہوگی۔ السلالۃ، السل سے فعالہ کا وزن ہے۔ اس کا مطلب کسی چیز کو دوسری چیز سے نکالنا۔ کہا جاتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 12–16

1۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ولقد خلقنا الانسان من سلٰلۃ من طین۔ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ آدم (علیہ السلام) کی پیدائش مٹی سے شروع کی، آیت ثم جعلنٰہ نطفۃ یعنی آدمی (علیہ السلام) کی اولاد کی پیدائش نطفہ سے ہوئی۔ 2۔ عبد بن حمید ووابن المنذر وابن ابی حاتم مجاہد (رح) سے آیت ولقد خلقنا الانسان من سلٰلۃ من طین، کے بارے میں فرمایا کہ وہ مٹی جب تو اس کو اپنے ہاتھ میں لے تو اس کا پانی انگلیوں میں سے نکل جائے۔ 3۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولقد خلقنا الانسان من سلٰلۃ، سے مراد ہے کہ انسان کو مٹی کے جوہر سے نکالا گیا۔ 4۔ ابن جریر وابن…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

ثُمَّ جَعَلْنٰهُ [ پھر ہم نے بنایا اس کو ] نُطْفَةً [ ایک نطفہ ] فِيْ قَرَارٍ مَّكِيْنٍ [ ایک مضبوط ٹھکانے میں ] ترکیب : (آیت ۔ 13) فعل جعل کے دو مفعول آتے ہیں ۔ کس کو بنایا اور کیا بنایا ۔ اس طرح جعلنا کے ساتھ ضمیر مفعولی اس کا مفعول اول ہے اور نطفۃ اس کا مفعول ثانی ہے ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 12–13

اللہ تعالیٰ کی شان خالقیت، تخلیق انسانی کا تدریجی ارتقاء حیات دنیاوی کے بعد موت، پھر وقوع قیامت ان آیات میں تخلیق انسانی کے مختلف ادوار بتائے ہیں اور آخر میں فرمایا ہے کہ دنیا کا وجود دائمی نہیں ہے آخر مرجاؤ گے اور یہاں سے چلے جاؤگے، اور مرنے پر ہی بس نہیں ہے اس کے بعد قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے۔ (پھر زندگی کے اعمال کا حساب ہوگا) اولاً حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق بیان فرمائی جو اول الانسان ہیں اور فرمایا کہ ہم نے انسان کو طین یعنی کیچڑ کے خلاصہ سے پیدا کیا۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے پوری زمین سے ایک مٹھی مٹی لے لی (اس مٹھی سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 12–30

ذکر مبدأ ومعاد۔ و دلائل توحید قال اللہ تعالیٰ ولقد خلقنا الانسان من سللۃ من طین .... الیٰ .... وعلیٰ الفلک تحملون۔ (ربط) گزشتہ آیات میں اہل سعادت اور اہل فلاح کا ذکر تھا۔ اب آئندہ آیات میں ان کے مبداء اور معاد کو بیان کرتے ہیں۔ (ربط دیگر) کہ گزشتہ آیات میں مومنین مفلحین کے لیے جنت الفردوس کا وعدہ تھا تو منکرین حشر اس بات کو نہیں مانتے تھے اس لیے آئندہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی ابتدائی پیدائش کا حال ذکر فرمایا تاکہ اس کی کمال قدرت ثابت ہو اور قیامت کے لیے دلیل بنے اور انسان کو اپنا مبداء اور معاد معلوم ہوجائے۔ (ربط دیگر) کہ گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت اور بندگی کو فلاح اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

12:۔ ” ثُمَّ جَعَلْنٰهُ الخ “ یہ انسانی زندگی کے ادوار اربعہ میں سے پہلے دور کا ذکر ہے پھر اس دور میں یعنی رحم مادر میں انسان کو چھ حالتوں سے گذرنا پڑتا ہے۔ پہلی حالت وہ ہے جب نطفہ رحم مادر میں ٹھہرتا ہے اس آیت میں اسی حالت اولیٰ کا ذکر ہے۔ ضمیر مفعول الانسان کی طرف راجع ہے اور اس سے پہلے مضاف مقدر ہے۔ ای ثم جعلنا نسلہ ویکون (النطفۃ) منصوبا بنزع الخافض واختارہ بعض المھققین ای ثم خلقنا الانسان من نطفۃ کائنۃ فی قرار الخ (روح ج 18 ص 13) اور ” قرار مکین “ یعنی قرار کی محفوظ جگہ سے مراد رحم مادر ہے۔ (فی قرار) مستقر یعنی الرحم (مدارک ج 3 ص 87) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 12–17

ربط آیات : سورۃ کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی بعض صفات بیان فرمائی ہیں اور نوید سنائی ہے کہ جن لوگوں میں یہ اوصاف پائے جائیں گے ان کو کامیابی نصیب ہوگی اور وہ آخرت میں جنت الفردوس کے مالک بن جائیں گے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مسئلہ تخلیق انسانی بیان فرمایا ہے کہ اس نے انسان کی تخلیق کن کن مراحل کے بعد کی۔ پھر ایک وقت آتا ہے کہ انسان اپنی طبعی عمر پوری کرکے فوت ہوجاتا ہے اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن دوبارہ اٹھائے گا اور پھر حساب کی منزل آئیگی اور جزا اور سزا کا فیصلہ ہوگا۔ انسان کی اولین تخلیق مٹی سے : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے تخلیق انسان کی دو صورتیں بیان فرمائی ہیں۔ اس نے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ثُمَّ جَعَلْنٰہُ نُطْفَۃً فِيْ قَرَارٍ مَّكِيْنٍ۝ 13۠ جعل جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها، ( ج ع ل ) جعل یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔ نطف النُّطْفَةُ : الماءُ الصافي، ويُعَبَّرُ بها عن ماء الرَّجُل . قال تعالی: ثُمَّ جَعَلْناهُ نُطْفَةً فِي قَرارٍ مَكِينٍ [ المؤمنون/ 13] ، وقال : مِنْ نُطْفَةٍ أَمْشاجٍ [ الإنسان/ 2] ، أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِنْ مَنِيٍّ يُمْنى [ القیامة/ 37] ويُكَنَّى عن اللُّؤْلُؤَةِ بالنَّطَفَة، ومنه : صَبِيٌّ مُنَطَّفٌ: إذا کان في أُذُنِهِ لُؤْلُؤَةٌ ، والنَّطَفُ : اللُّؤْلُؤ .…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 12–16

مگر اس کے بعد ہی منکرین حشر و نشر یہ کہتے ہیں کہ مر کر کون زندہ ہوگا اس لیے اس کے بعد دلائلِ حشر شروع کئے فقال و لقد خلقنا الانسان من سلالۃ الخ کہ ہم نے انسان کو قطرہ منی سے پیدا کیا اور وہ قطرہ مٹی سے بنایا تھا کیونکہ غذائیں جن سے منی پیدا ہوتی ہے مٹی سے بنتی ہیں پھر اس قطرہ کو خون بنایا پھر گوشت کا لوتھڑا بنا کر اس کے ہاتھ پائوں بنائے ‘ ہڈیاں اور پٹھے بنائے اور اس کو انسان بنا کر ماں کے پیٹ سے باہر لائے اور پھر وہ ایک روز مرتا ہے پھر جس نے ایسا کردیا کیا وہ دوبارہ پیدا نہیں کرسکتا ؟ ضرور کرسکتا ہے کماقال ثم انکم یوم القیامۃ تبعثون یہ دلیل کا نتیجہ ہے یہاں تک دلائل النفس تھے کہ سب سے پہلے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 12–14

وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلَۃٍ مِّنْ طِیْنٍ ۔ ثُمَّ جَعَلْنٰہُ نُطْفَۃً فِیْ قَرَارٍ مَّکِیْنٍ ۔ ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَۃَ عَلَقَۃً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَۃَ مُضْغَۃً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَۃَ عِظٰمًا فَکَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْمًا ق ثُمَّ اَنْشَاْنٰہُ خَلْقًا اٰخَرَ ط فَتَبٰرَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَ ۔ (المومنون : 12 تا 14) (بےشک ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا۔ پھر ہم نے اسے پانی کی بوند بنا کر ایک محفوظ مستقر میں رکھا۔ پھر ہم نے اس پانی کی بوند کو خون کا لوتھڑا بنایا، پھر ہم نے اس لوتھڑے کو گوشت کی بوٹی بنادیا، پھر اس بوٹی سے ہڈیاں پیدا کردیں، پھر ہم نے ان ہڈیوں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : آدم کی تخلیق کا دوسرا مرحلہ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں آسمان اور ستارے کی قسم کھا کر انسان کو توجہ دلائی ہے کہ انسان کو اپنی تخلیق پر غور کرنا چاہیے کہ اسے کس طرح پیدا کیا گیا ہے۔ انسان اچھل کر نکلنے والے پانی کے قطرہ سے پیدا کیا گیا ہے یہ اچھل کر نکلنے والا قطرہ کہاں سے نکلتا ہے اس کی وضاحت فرمائی کہ یہ مرد کی پشت اور عورت کی چھاتی کی ہڈیوں سے نکلتا ہے پھر عورت کے رحم میں مخصوص جگہ پہنچ کر ایک مدت تک ٹھہرجاتا ہے۔ علم الجنین (embryology) کی رو سے یہ ثابت شدہ حقیقت ہے کہ جنین (Foetus) کے اندر انثیین (Testes) یعنی وہ غدود جن سے مادّۂ منویہ پیدا ہوتا ہے، ریڑھ کی ہڈی اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

نسل کے مراحل تخلیق : 13: ثُمَّ جَعَلْنٰہُ (پھر اس کو بنایا) یعنی اس کی نسل کو۔ نحو : مضاف کو حذف کر کے مضاف الیہ کو اس کے قائم مقام بنادیا کیونکہ آدم (علیہ السلام) کو نطفہ سے نہیں بنایا گیا۔ وہ اسی طرح ہے جیسے فرمایا : وبدأ خلق الانسان من طین ثم جعل نسلہ من سلالۃ من مائِ مھین ] السجدہ : 7: 8[ ایک قول الانسان سے بنو آدم مراد ہیں اور السلالہ سے نطفہ اہل عرب نطفہ کو سلالۃ کہتے ہیں : ای ولقد خلقنا الانسان میں من سلالۃ یعنی ایسے نطفہ سے جو مٹی سے نکالا اور بنا ہوا ہے اور وہ آدم (علیہ السلام) ہیں۔ نُطْفَۃً (معمولی پانی) فِیْ قَرَارٍ (ایک قرار گاہ میں) یعنی رحم مَّکِیْنٍ (مضبوط۔ )

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

13۔ ثم جعلناہ نطفہ، یعنی وہ انسان جس کو ہم نے نطفہ سے بنایا۔ فی قرار مکین۔ ٹھہرنے کی جگہ اور وہ رحم مادر ہے۔ اور وہ ایک مقررہ مدت تک اس میں قرار پکڑتا ہے۔ ” ثم خلقنا النطفۃ علقۃ۔۔۔ تا۔۔ عظاما۔ ابن عامر اور ابوبکر کے نزدیک عظما پڑھا ہے ۔ فکسونا العظام ، ظاء کے سکون کے ساتھ واحد استعمال ہوتا ہے اور دوسرے قراء نے جمع کے صیغہ کے ساتھ نقل کیا ہے کیونکہ انسان کئی عظام پر مشتمل ہے۔ اس آیت میں ہر خلق پر چالیس دن کا وقفہ ہوتا ہے چالیس دن کے بعد یہ ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف منتقل ہوتا ہے۔ فکسوناالعظام لحما، ہم نے ان ہڈیوں پر گوشت کالباس چڑھایا ، ثم انشاناہ خلقا آخر۔ مفسرین کا اس بارے میں اختلاف ہے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 12–17

12۔ 17:۔ ابوداود، ترمذی کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری ؓ کی روایت جس روایت کو ابن حبان نے صحیح بتلایا 2 ؎ ہے اوپر گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ( علیہ السلام) کی مٹی ساری زمین سے ہر طرح کی اچھی بری ‘ سخت نرم سب سے لی تھی ‘ اسی تاثیر سے مختلف مزاج مختلف عادت کے انسان اولاد آدم میں پیدا ہوئے اور قیامت تک پیدا ہوں گے ‘ غرض اب دیکھنے میں اگرچہ آدمی کی پیدائش نطفہ سے ہے لیکن اس کی پیدائش میں مٹی کا اثر بھی ہے جو حضرت آدم سے لے کر قیامت تک سلسلہ بہ سلسلہ چلا آتا ہے اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں انسان کی پیدائش کی اصل مٹی اور منی دونوں چیزیں فرمائی ہیں ‘ ترمذی ‘ نسائی ‘ مسند بزار ‘ صحیح…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 12–16

آیت نمبر 12 اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان آیات کریمہ میں انسان کی ابتدائے تخلیق سے لے کر آخر تک مختلف اطوار اور مراحل کا ذکر کیا ہے، چناچہ اللہ تعالیٰ نے نوع بشری کے جد امجد آدم علیہٗ اسلام کی پیدائش کا ذکر فرمایا کہ (من سللۃ من طین) ، ، اسے زمین کے ست سے پیدا کیا۔ ، ، جو کہ تمم زمین سے حاصل کیا گیا تھا۔ بنا بریں حضرت آدم علیہ اسلام کے بیٹے زمین کی نوعیت کے مطابق ہیں، ان میں کچھ پاک، کچھ خبیث اور کچھ ان دونوں کے درمیان ہیں اور کچھ نرم دل، کچھ سخت دل اور کچھ ان دونوں کے درمیان ہیں۔ (ثمہ جعلنہ) ، ، پھر ہم نے اس کو بنایا، ، یعنی جنس آدم علیہ اسلام کو (نطفۃ) ، ، نطفہ، ، جو انسان کی پیٹھ اور سینے کے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 9–59

نمازوں کی محافظت قول باری ہے (والذین ھم علی صلوتھم یحافظون اور اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں) قول باری (یحافظون) کی تفسیر میں سلف کی ایک جماعت سے مروی ہے کہ نمازیں ان کے اوقات میں ادا کی جائیں ۔ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا (لیس التفریط فی النوم انما) التفریط ان یترک الصلوۃ حتی یدخل وقت الاخری نماز کی ادائیگی میں کوتاہی نیند کی بنا پر نہیں ہوتی بلکہ کوتاہی کی صورت یہ ہے کہ ایک شخص نماز ادا نہ کرے اور بیٹھا رہے یہاں تک کہ دوسری نماز کا وقت آ جائے) مسروق کا قول ہے کہ نماز کی محافظت کا مفہوم یہ ہے کہ نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کیا جائے۔ ابراہیم نخعی کا قول ہے کہ وہ نمازوں پر دوام کرتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

14 انسان کے مادئہ تخلیق کی حفاظت قرار مکین میں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " انسان کی تخلیق مٹی کے ست سے نہایت پر حکمت طریقے سے کی گئی۔ پھر ہم نے اس کو ایک بوند کی شکل میں ایک محفوظ قرارگاہ میں رکھا "۔ یعنی رحم مادر میں۔ جو کہ ایسی محفوظ قرارگاہ ہے کہ اس کی حفاظت سے متعلق انتظام پر غور کرنے سے انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ اور حضرت خالق ۔ جل مجدہ ۔ کی قدرت و عنایت کے عظیم الشان مظاہرے سامنے آتے ہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور اس کو ان مختلف مراحل سے تدریج کے ساتھ گزار کر پیدا کیا تاکہ یہ خود اپنے بارے میں غور کرکے اپنے خالق ومالک کی معرفت حاصل کرسکے۔ سو اس کو ایسا بنایا کہ اس کو اپنے وجود سے باہر کسی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 12–16

انسانی پیدائش کے مختلف مراحل اور قدرت کا کمال تشریح : آج کے سائنسی تجربات اور تحقیقات انسان کی ابتدا سے انتہا تک قرآن پاک کی بیان کردہ معلومات کے عین مطابق ثابت ہو رہے ہیں۔ ڈاکٹر موریس بوکائے قرآنی آیات کی روشنی میں اس تمام سلسلے کو بڑے اچھے انداز میں بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ” لفظ سُلٰلَۃِ کسی ایسی چیز کو ظاہر کرتا ہے جو کشید کی گئی ہو، یعنی جو کسی چیز کا بہترین جزو ہو۔ “ یعنی نطفہ جو مٹی سے حاصل کی گئی خوراک سے بنتا ہے۔ پھر لکھتے ہیں : ” بیضہ کا بارآور ہونا اور افزائش نسل ‘ ایک خلیے سے وجود پاتے ہیں۔ جو نہایت لمبوترا ہوتا ہے۔ یہ ایک ملی میٹر کے دس ہزارویں حصے کے برابر ہوتا ہے۔ عام حالات…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–22

سورة المؤمنون : (رکوع نمبر 1) اسرارومعارف سورة مومنون بھی مکی سورتوں میں شمار کی گئی ہے اور اسی سابق مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے ایمان لانے والوں کے اوصاف کا تذکرہ فرماتے ہوئے شروع ہوتی ہے کہ جنہیں ایمان نصیب ہوا وہ فلاح پاگئے کامیاب ہوگئے فلاح کا ترجمہ اردو میں تو کامیابی ہی ہے مگر عربی زبان کے اعتبار سے اس کا معنی بہت وسیع ہے فلاح سے مکمل کامیابی مراد ہے ہر کام میں ہر وقت اور ہر عالم میں ، دنیا ہو دنیا کی تجارت ، سیاست یا امور ذاتی ہر جگہ کامیاب موت کے لمحات ہوں یا برزخ کا عرصہ کامیاب ، میدان حشر ہو یا آخرت کی زندگی کامیاب اور یہ کامیابی ایمان کا پھل ہے رہا یہ سوال کہ دنیا میں کون ہے جسے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 13–14

10 ۔ یعنی روح پھونکتے ہیں تو اس میں حرکت و اضطراب، سمع اور بصر (بینائی) پیدا ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح گویا اس کی صرت ہی بدل جاتی ہے جس کو پہلی صورت سے کوئی مناسبت نہیں ہوتی۔ اسی طرح موت تک جتنے اطوار و احوال انسان پر آتے ہیں سب کو ” خلقاً آخر “ کا مفہوم شامل ہے۔ (ابن کثیر) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 13–15

(23:13) جعلنہ۔ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع الانسان ہے ہ اصل میں مضاف الیہ ہے جس کا مضاف محذوف ہے اصل میں جعلنا نسلہ ہے مضاف کو حذف کر کے مضاف الیہ کو اس کے قائم لایا گیا ہے۔ نطفۃ۔ اصل میں آب صافی کو کہتے ہیں مگر اس سے مراد مرد کی منی لی جاتی ہے۔ کنایہ کے طور پر موتی کو بھی نطفۃ کہا جاتا ہے۔ قرار۔ ٹھہرنے کی جگہ (یعنی رحم) آرام کی جگہ۔ قرارگاہ ۔ ٹھکانا۔ مکین۔ کون مصدر سے صفت مشبہ (باب نصر) مضبوط۔ محفوظ۔ حصین۔ علقۃ۔ جمے ہوئے خون کی پھٹکی۔ خون کی وہ پھٹکی جو اس میں لگی رہتی ہے معلق ہوتی ہے۔ مضغۃ۔ گوشت کا ٹکڑا۔ بوٹی۔ مضغ مصدر (باب فتح ونصر) بمعنی چبانا۔ مضاغ چبانے کی چیز۔ فکسونا۔ ماضی جمع…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 12–16

لغات القرآن : آیت نمبر 12 تا 16 : سلالۃ (سل) (منتخب چیز۔ خلاصہ۔ نچوڑ) ‘ طین (مٹی) ‘ نطفۃ (ٹپکی ہوئی بوند) ‘ قرار مکین (محفوظ مقام) ‘ علقۃ (جما ہوا خون) ‘ مضغۃ (بوٹی۔ لوتھڑا) ‘ عظام (عظم) (ہڈیاں) ‘ کسونا (ہم نے پہنایا۔ ہم نے چڑھایا) ‘ لحم (گوشت) ‘ انشأنا (ہم نے اٹھا کھڑا کیا) ‘ خلق (مخلوق) ‘ احسن (زیادہ بہتر۔ زیادہ خوبصورت) ‘ میتون (مرنے والے) ‘ تبعثون (تم اٹھائے جائو گے) ۔ تشریح : آیت نمبر 12 تا 16 : موجودہ دور سائنسی ترقیات ‘ ٹیکنالوجی اور نت نئی مشینوں کی ایجاد کا دور ہے۔ معلومات کی دنیا میں انسان کے قدم ہر روز آگے بڑھ رہے ہیں۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ سائنسی ترقیات سے دین اسلام کے کسی اصول کی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 12–17

انسان کی پیدائش کی کیفیت۔ دنیا کو پیدا کرنے کا نتیجہ۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ بیشک ہم نے آدمی کو چنی ہوئی مٹی سے پیدا کیا پھر ہم نے جوہر کو پانی یعنی نطفہ بنا کر ایک مدت معینہ تک ایک محفوظ مقام پر یعنی رحم میں رکھا، پھر ہم نے اس نطفہ کو جماہوا خون بنایا، پھر ہم نے اس جمے ہوئے خون کو ایک گوشت کا ٹکڑا سابنایا، پھر اس میں ہڈیوں کا ڈھانچا بنایا، پھر ڈھانچے پر گوشت چڑھایا، رگیں پٹھے جوڑ وغیرہ سب بنائے اور پتلا تیار ہوگیا پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے جان پڑجاتی ہے اور رحم پر جو فرشتہ تعینات ہے اس کو اس پتلے کی عمر، رزق، نیک وبد لکھنے کا حکم جس طرح ہوتا ہے وہ فرشتہ اس کے موافق لکھ لیتا ہے پس کیا…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 12–19

ایک تشریحی نکتہ : (ف 1) ان آیات میں قرآن حکیم نے انسانی پیدائش اور اس کے مختلف مراحل کا ذکر فرمایا ہے اور بتایا ہے کہ کس حکمت و دانائی سے اللہ تعالیٰ نے انسان کو خلعت وجود عطا فرما کر اس دنیائے عجائب میں بھیجا ہے اس روح وعقل کے مجرمجسمہ کا اٹھان اور درمیان کی حیرت نہ زار منزلیں کیا یہ سب کی سب چیزیں اللہ کی اعلی ترین قوت تخلیق پر دال نہیں ؟ یہاں لفظ علقہ : مگر قرآن حکیم نے جدید ترین جنسیاتی تشریح فرمائی ہے موجودہ حکماء کی رائے ہے کہ نطفہ میں زندگی کے جراثیم ہوتے ہیں اور وہ جراثیم رحم میں پہنچ کر بڑھنا شروع کردیتے ہیں اور آہستہ آہستہ جنس کی شکل اختیار کرلیتے ہیں ۔ قرآن بھی کہتا ہے کہ ہم اس…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(13) پھر ہم نے اس کو یعنی آدم (علیہ السلام) کی نسل کو نطفے سے بنایا جس کو ہم نے ایک محفوظ مقام میں رکھا یعنی نسل انسانی کو نطفہ سے پیدا کیا جو مٹی ہی کا جوہر ہے پھر اس کو ایک مدت معینہ تک ایک محفوظ مقام یعنی ماں کے رحم میں رکھا۔ بعض حضرات نے مکین کا ترجمہ مضبوط کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 7–19

ف 4۔ اس کے علاوہ طلبگار ہو اس میں زنا و لواطت و وطی بہائم و عاریت جواری اجماعا اور بعض کے نزدیک استمنا بالید بھی داخل ہے۔ اور اگر یہ آیت مدنی ہو تو حرمت متعہ پر بھی اس سے استدلال صحیح ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

پیدائش اول کے بعد دوسری پیدائش انسانی کا ضابطہ : 13۔ (قرار مکین) سے مفسرین نے جو کچھ سمجھا تھا اس کو اس طرح بیان کیا گیا کہ (قرار) ٹھہرنے کی جگہ (مکین) محفوظ اور اس سے مراد رحم مادر ہے گویا (مکین) درحقیقت مکان قرار کی صفت نہیں ہے بلکہ قرار پکڑنے والے کی ہے مجازا قرار کی صفت کردیا گیا ہے اور پھر اس کی تشریح شروع کی اور چلتے چلتے کن کن وادیوں میں گھومتے پھرتے رہے تفصیل کے لئے ابن جریر “ درمنثور ‘ کبیر اور معالم التنزیل وغیرہ کے اس مقام تفسیر پر نظر ڈال لیں لیکن آج یہ سب کچھ پڑھ کر ہنسی آتی ہے اور جدید علوم سے واقف طبقہ کے لوگ اس کو قرآن کریم سمجھ کر اس سے منہ پھیرتے ہیں اور ان بیچاروں کو کوئی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

In the next verse : ثُمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَةً (then We made him a sperm-drop) this same point has been mentioned differently. The meaning of all this is that the first life i.e. Sayyidna 'Adam علیہ السلامٍ was created from earth and continued further with the sperm which is a refined element of the same earth. This is how a majority of commentators have explained this verse. Another view is that (extract of clay) may also mean human seed because it is produced from the food which a man takes and the food grows out of the earth.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 11–13

10. Firdaus (Paradise) is a common word found in almost all human languages in very nearly similar forms. It means a vast garden adjoining the dwelling of a person and enclosed by defence walls and containing all kinds of fruit trees, especially vines. In some languages, the word has the sense of containing pet birds and animals, too. Firdaus was in common use in pre-Islamic Arabic literature. The Quran, however, has used it for a plurality of gardens as in (Surah Al-Kahf, Ayat 107). This gives the idea that Firdaus is a vast place containing a great number of gardens, vineyards, etc. The…

Read the full tafseer →