23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsسراج البیان

Ayah 23:1

قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 23:1 in the Quran reader

ایمان دار کامیاب ہوگئے ۔

Ayah 23:2

الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَۙ Open ayah 23:2 in the Quran reader

جو اپنی نماز مین عاجزی کرتے ہیں ۔

Ayah 23:3

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَۙ Open ayah 23:3 in the Quran reader

اور وہ جو بیہودہ بات سے منہ موڑتے ہیں ۔

Ayah 23:4

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوْنَۙ Open ayah 23:4 in the Quran reader

اور جو زکوۃ ادا کرتے ہیں ۔

Ayah 23:5

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ Open ayah 23:5 in the Quran reader

اور وہ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ۔

Ayah 23:6

اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ Open ayah 23:6 in the Quran reader

مگر اپنی بیویوں یا اپنے ہاتھ کے مال سے کہ اس میں اس پر ملامت نہیں ۔

Ayah 23:7

فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْعٰدُوْنَۚ Open ayah 23:7 in the Quran reader

پھر جس نے سوا ان عورتوں کے کچھ اور چاہا تو وہی حد سے بڑھنے والے ہیں ۔

Ayah 23:8

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ Open ayah 23:8 in the Quran reader

اور وہ جو اپنی امانتوں ، اور اپنے عہد کی رعایت کرتے ،

Ayahs 23:9–11

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَوٰتِهِمْ یُحَافِظُوْنَۘ Open ayah 23:9 in the Quran reader

اور جو اپنی نمازوں سے خبردار ہیں (ف 1) ۔

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَۙ Open ayah 23:10 in the Quran reader

وہی میراث لینے والے ہیں ۔

الَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَ١ؕ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 23:11 in the Quran reader

جنت الفردوس کے وارث ہوں گے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے ۔

نجات اور کامرانی کی سات شرطیں !: (ف 1) ان آیات میں قرآن حکیم نے فلاح و بہبود کی راہوں کی تفصیل بتائی ہے ارشاد ہوتا ہے کہ نجات اور کامیابی کیلئے صرف عقیدہ کافی نہیں اور نہ صرف احسان وانی ، بلکہ ان اصلاحی واخلاقی امور کی تکمیل لازمی اور ضروری ہے جن کا ذکر ان آیات میں ہے ۔ یعنی نماز میں خشوع و خضوع ، لغویات سے احتراز زکوۃ کی ادائیگی پرہیز گاری اور امانت اور پاس عہد ، نماز کے تیں درجے ہیں ، ایک یہ کہ دائما اور عادتا ان وضائف و اعمال کا اعادہ کرتا جو نماز کے ارکان ضروریہ ہیں ، ایک یہ کہ سوچ سمجھ کر پڑھنا اور معانی ومطالب تک رسائی حاصل کرنا ، تیسرا درجہ یہ ہے کہ الفاظ کی روح تک پہنچ جانا اور پیکر نیاز مندی وعقیدت ہوجانا ۔ جسے حدیث میں درجہ احسان سے تعبیر کیا گیا ہے ” کانک تراہ “۔ پہلا درجہ نماز کے حقیقی مقاصد کا حاصل نہیں ، اللہ تعالیٰ قبول فرما لے تو اور بات ہے ورنہ اس کی افادی حیثیت محض یہ ہے کہ عادت کا اعادہ اور تکرار ہے جس میں کوئی زندگی اور روح نہیں ۔ دوسرا درجہ تیسرے درجہ کا زینہ ہے کیونکہ اگر الفاظ کے معانی تک رسائی نہ ہو ، تو پھر اس کی روحانیت کو پانا دشوار ہے ۔ قرآن حکیم کا مقصد یہ ہے کہ مسلمان نماز کی سچی روح سے آشناہوں اور واقعی ان اوصاف سے متصف ہوں جن کو لازما نماز پیدا کردیتی ہے ۔ لغو سے مراد بعض کے نزدیک وہ باتیں ہیں جن کا ارتکاب شرعا حرام ہے بعض کے نزدیک لغویات ان امور کو کہتے ہیں جو مباح تو ہیں مگر ان سے کوئی فائدہ مرتب نہیں ۔ لغۃ : لغو کے معنی بیہودہ کلام کے ہیں ابوعبیدہ کہتے ہیں اللغا ورفث التکلم ۔ اور اخلاق کے عرف میں ہر وہ بات جو مفید نہ ہو اور بےمعنی ہو بہرحال مقصد یہ ہے کہ جو لوگ سچے مومن ہیں ، وہ زندگی کی اہمیت کو سمجھتے ہیں اس لئے غیر ضروری اور غیر نافع باتوں میں نہیں الجھتے ، اور اپنا پورا وقت کامیابی و کامرانی کیلئے صرف کرتے ہیں ، گویا وہ ہمہ سعی اور ہمہ عمل ہوتے ہیں ۔ نجات و فلاح کیلئے عفاف وعصمت کی بھی ضرورت ہے یعنی مسلمان کردار وعمل کے لحاظ سے بہت مضبوط ہوتا ہے اور اپنی قوتوں کو ضائع نہیں کرتا ۔ (آیت) ” اوماملکت ایمانہم “۔ سے مراد لونڈیاں ہیں ، یہاں یہ بات ملحوظ رکھنا چاہئے کہ عسکری ضروریات کے ماتحت لونڈیوں سے تمتع شرعا درست ہے اور اس میں بہت سے فائدے مضمر ہیں ، دشمن ذلیل ورسوا ہوجاتا ہے ، مسلمانوں کے حوصلے بڑھ جاتے ہیں لونڈیوں کی تربیت کا بہتر اور موزوں انتظام ہوجاتا ہے ، اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ غیور وباحمیت دلوں میں جنگ کے خلاف جذبات نفرت و حقارت پیدا ہوجاتے ہیں ، مگر ہماری غلام قوم چونکہ مدت سے اس مجاہدانہ فضا سے دور ہوچکی ہے اس لئے اس تمتع کو اخلاقی لحاظ سے شک وشبہ کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں اور نہیں سمجھتے کہ اسلام سے قطع نظر عسکری دواعی کے ماتحت یہ رسم ہر غریب اور ہر قوم میں عملا موجود اور ناگزیر ہے ، اسلام نے صرف اتنا کیا ہے کہ لونڈیوں کے لئے ایک تفصیلی فقہ کو پیش کردیا ہے جس میں ان کے حقوق وفرائض کو باقاعدہ واضح کیا گیا ہے ۔ کہ ہم عسکری ضروریات وداعیات اور عسکری حالات کو نہیں پہنچانتے اس لئے مجبور ہیں کہ اس قسم کے احکام اور اس قسم کی رخصتوں کو نہ سمجھیں اور غلامانہ اطوار و عادات کو اس اخلاق کے لئے معیار قرار دیں ۔ سب سے آخر معاملات کے باب میں امانت اور پاس عہد کو ضروری قرار دیا ہے اور بتایا ہے کہ مسلمان کو خائن اور دھوکہ باز نہیں ہونا چاہئے کیونکہ یہ وہ وصف ہے جس کی وجہ سے قومیں ترقی کے فراز اعلی تک پہنچتی ہیں ، اور یہی وہ نعمت ہے جس کے معدوم ہونے سے قومیں باہمی امدادوتعاون کے جذبات کھو دیتی ہیں ۔ حل لغات : معرضون : اجتناب کرنے والے اور منہ پھیرنے والے ۔ زکوۃ : اقتصادی تنظیم کے لیے سے مشابہ ہے ۔ العدون : عدوان سے ہے بمعنی حد سے تجاوز کرنا ، ظلم کرنا ۔
Ayahs 23:12–19

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ طِیْنٍۚ Open ayah 23:12 in the Quran reader

اور ہم نے انسان کو مٹی کے ست سے بنایا (ف 1) ۔

ثُمَّ جَعَلْنٰهُ نُطْفَةً فِیْ قَرَارٍ مَّكِیْنٍ۪ Open ayah 23:13 in the Quran reader

پھر ہم نے اسے قرار گاہ استوار میں نطفہ بنایا ۔

ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظٰمًا فَكَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْمًا١ۗ ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَ١ؕ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَؕ Open ayah 23:14 in the Quran reader

پھر نطفہ کو لہو کی پھٹکی بنایا ، پھر پھٹکی کر بوٹی بنایا ، پھر ہم نے بوٹی کو ہڈیاں بنایا ، پھر ہڈیوں کو گوشت پہنایا ، پھر ہم اسے ایک دوسری صورت میں لائے ، سو بڑی برکت والا ہے اللہ جو سب سے اچھا پیدا کرنے والا ہے ۔

ثُمَّ اِنَّكُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ لَمَیِّتُوْنَؕ Open ayah 23:15 in the Quran reader

پھر تم اس کے بعد مروگے ۔

ثُمَّ اِنَّكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ تُبْعَثُوْنَ Open ayah 23:16 in the Quran reader

پھر تم قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے ۔

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعَ طَرَآئِقَ١ۖۗ وَ مَا كُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غٰفِلِیْنَ Open ayah 23:17 in the Quran reader

اور ہم نے تمہارے اوپر سات راہیں بنائیں ، اور ہم خلقت سے غافل نہیں ۔

وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ فَاَسْكَنّٰهُ فِی الْاَرْضِ١ۖۗ وَ اِنَّا عَلٰى ذَهَابٍۭ بِهٖ لَقٰدِرُوْنَۚ Open ayah 23:18 in the Quran reader

اور ہم نے اندازہ کے ساتھ آسمان سے پانی اتارا ، پھر اس کو زمین میں ٹھہرایا ، اور ہم اس پانی کے دور کرنے پر قادر ہیں ۔

فَاَنْشَاْنَا لَكُمْ بِهٖ جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ١ۘ لَكُمْ فِیْهَا فَوَاكِهُ كَثِیْرَةٌ وَّ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَۙ Open ayah 23:19 in the Quran reader

پھر ہم نے اس پانی سے تمہارے لئے کھجور اور انگوروں کے باغ پیدا کئے ، ان میں تمہارے لئے بہت سے میوے ہیں ، اور ان ہی میں سے تم کھاتے ہو ۔

ایک تشریحی نکتہ : (ف 1) ان آیات میں قرآن حکیم نے انسانی پیدائش اور اس کے مختلف مراحل کا ذکر فرمایا ہے اور بتایا ہے کہ کس حکمت و دانائی سے اللہ تعالیٰ نے انسان کو خلعت وجود عطا فرما کر اس دنیائے عجائب میں بھیجا ہے اس روح وعقل کے مجرمجسمہ کا اٹھان اور درمیان کی حیرت نہ زار منزلیں کیا یہ سب کی سب چیزیں اللہ کی اعلی ترین قوت تخلیق پر دال نہیں ؟ یہاں لفظ علقہ : مگر قرآن حکیم نے جدید ترین جنسیاتی تشریح فرمائی ہے موجودہ حکماء کی رائے ہے کہ نطفہ میں زندگی کے جراثیم ہوتے ہیں اور وہ جراثیم رحم میں پہنچ کر بڑھنا شروع کردیتے ہیں اور آہستہ آہستہ جنس کی شکل اختیار کرلیتے ہیں ۔ قرآن بھی کہتا ہے کہ ہم اس قطرہ آب کو جراثیم میں تبدیل کردیتے ہیں ، یہ واضح رہے علقۃ کے معنے خون بستہ کے نہیں ، بلکہ جرثومہ حیات کے ہیں ، جو رحم کے ساتھ چپک جاتا ہے اور جنین کا باعث ہوتا ہے ۔ غور فرمائیے کیا آج سے چودہ سو سال قبل علم التشریح کی یہ تفصیلات بغیر امداد الہام ووحی کے ممکن نہیں ؟ کیا یہ ہو سکتا ہے کہ ایک انسان حقائق کے چہرے سے اس طرح پردہ کشائی کرے ، حالانکہ اس وقت ابتدائی علوم کا بھی وجود نہ تھا ، اور قوم محض خرافات وادہام میں مبتلا تھی ، ان آیات میں قرآن نے کچھ ایسی ترتیب اور حسن بیانی سے کام لیا ہے کہ بےاختیار منہ سے (آیت) ” فتبارک اللہ احسن الخالقین “۔ نکل جاتا ہے ۔ چنانچہ حضور ﷺ کا کاتب وحی عبداللہ یہ سن چکا ، تو بول اٹھا (آیت) ” فتبارک اللہ احسن الخالقین “۔ حضور ﷺ نے فرمایا لکھ لو یہی الہام ہوا ہے اس کی بدبختی اور محرومی دیکھئے کہ یہ : اس کیلئے ٹھوکر اور گمراہی کا باعث ہوگیا ۔ اس نے سمجھا کہ شاید حضور ﷺ اسی طرح صلاح ومشورہ سے قرآن کو ترتیب دیتے ہیں حالانکہ یہ کمال بلاغت ہے کہ معافی اور ترتیب آسودہ آنے والے الفاظ کا پتہ دے دیں ، غالب کہتا ہے ۔ دیکھنا تقریر کی لذت کو اس نے یہ کہا میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے : چنانچہ حضرت فاروق ؓ حواس بلاغت کو سمجھتے تھے ، انہوں نے جب یہ آیات سنیں ، تو وہ بھی فتبارک اللہ “ بول اٹھے ، اور جب ان کو حضور ﷺ نے بتایا کہ قرآن کی آیت میں بھی اسی طرح ہے تو خوش ہوئے کہ میرے ذوق نے اللہ نے آیت کے ساتھ توافق کیا ہے ۔
Ayah 23:20

وَ شَجَرَةً تَخْرُجُ مِنْ طُوْرِ سَیْنَآءَ تَنْۢبُتُ بِالدُّهْنِ وَ صِبْغٍ لِّلْاٰكِلِیْنَ Open ayah 23:20 in the Quran reader

اور وہ درخت پیدا کیا جو سینا (پہاڑ) سے نکلتا ہے ، کہ تیل اور کھانے والوں کے لئے سالن اگاتا ہے (ف 1) ۔

(ف 1) اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنی مختلف نعمتوں کا ذکر سے مقصد ہے کہ جس طرح تمہاری مادی ضروریات کیلئے اس کائنات میں وافر پیدا کیا ہے اسی طرح تمہاری روحانی ضروریات سے بھی وہ آگاہ رہے ، ان آیات میں انعام اور وحی کو بارش کے ساتھ تشبیہ دی ہے گویا جس طرح بارش کے بعد کھیت لہلہا اٹھتے ہیں اور اس کا پانی ضرورت کا سبب بن جاتا ہے ، اسی طرح جب دل کی زمین خشک ہوجاتی ہے تو سیرابی کے لئے ترستی ہے ۔ حل لغات : طرائق : جار کہنہ ، واشراف قوم وگرو ، مراد آسمان راہیں مختلف آسمان ہے ۔
Ayahs 23:21–24

وَ اِنَّ لَكُمْ فِی الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً١ؕ نُسْقِیْكُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْنِهَا وَ لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ كَثِیْرَةٌ وَّ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَۙ Open ayah 23:21 in the Quran reader

اور چوپایوں میں تمہارے لئے عبرت ہے کہ ان کے پیٹوں میں سے ہم تمہیں (دودھ) پلاتے ہیں اور ان میں تمہارے لئے حجت سے نفعے ہیں اور بعض کو تم کھاتے ہو (ف 1) ۔

وَ عَلَیْهَا وَ عَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَ۠ Open ayah 23:22 in the Quran reader

اور ان پر اور کشتیوں میں تم لدے پھرتے ہو ،

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 23:23 in the Quran reader

اور ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تو اس نے کہا اے قوم اللہ کی عبادت کرو ، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ، کیا تم ڈرتے نہیں ۔

فَقَالَ الْمَلَؤُا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۙ یُرِیْدُ اَنْ یَّتَفَضَّلَ عَلَیْكُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَنْزَلَ مَلٰٓئِكَةً١ۖۚ مَّا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَۚ Open ayah 23:24 in the Quran reader

تب اس کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا کہ یہ تو تمہاری ہی مانند ایک آدمی ہے ، چاہتا ہے ، کہ تم پر بڑائی کرے ، اور اگر اللہ چاہتا ، تو ضرور فرشتے اتارنا ہم نے تو یہ بات اپنے پہلے باپ دادوں میں نہیں سنی ۔

حیوانات سے عبرت پذیری ! (ف 1) قرآن حکیم کا یہ خاصہ ہے کہ وہ ہر نوع کے حالات و کیفیات بیان کرتا ہے اور معمولی باتوں سے حقائق وعبر کے موتی نکال لاتا ہے ، وہ کہتا ہے تمہاری نظریں عمیق اور گہری ہونی چاہئیں تم ہر واقعہ اور ہر چیز پر مبصرانہ غور کرو ، تم کو معلوم ہوجائے گا کہ قدرت کا نظام کس قدر حکیمانہ اور جامع ہے ارشاد ہوتا ہے کہ حیوانات اور جانوروں کو دیکھو ، تم روزانہ دودھ پیتے ہو ، مگر کبھی اس بات پر بھی غور کرنے کی توفیق ہوئی ہے کہ دودھ کس طرح پیدا ہوتا ہے ، وہ چارہ جو گائے اور بھینس کھاتی ہے ایک کیمیاوی عمل میں پہنچتا ہے اور وہاں کئی تبدیلیوں کے بعد دودھ کی شکل میں تھنوں میں آجاتا ہے ، پھر اسی چارہ کا خون بھی بنتا ہے اور جانور کے سارے جسم میں بھی ڈور جاتا ہے اور جو فضلہ رہ جاتا ہے وہ ایک مقرر راستہ سے خارج ہوجاتا ہے ۔ غور فرمائیے ، ایک ہی چیز دودھ بھی ہے اور خون صالح بھی ، طاقت وقوت کا باعث بھی ہے اور فضلہ بھی ، پھر ہم جانوروں کو کئی طرح سے استعمال میں لاتے ہیں ان کا دودھ پیتے ہیں ، گوشت کھاتے ہیں ، سواری کا کام لیتے ہیں اور بہت سے منافع حاصل کرتے ہیں ۔ کشتی پر تم اکثر سوار ہوئے ہو گے لیکن کبھی غور کیا ہے کہ کس قدر قاعدے اور طبعی ضابطے حرکت میں آتے ہیں تب جا کر کہیں پانی کے سینہ پر کشتی قدم رکھتی ہے غرض یہ ہے کہ تم ان مہربانیوں اور عنایتوں پر غور کرو اور سوچو کہ کیا یہ عنایات بےمعنی ہیں ، اور کوئی مقصد ان کے پس پردہ کار فرما نہیں ؟ کیا کائنات کا سارا نظام بلاوجہ حرکت میں ہے یا اس کار گاہ تگ ودو میں کوئی منزل بھی ہے ، اور اس کا کوئی مقصد بھی ہے ، جس کا حاصل کرنا انسانی زندگی کے لئے ضروری ہے ۔
Ayahs 23:25–27

اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ فَتَرَبَّصُوْا بِهٖ حَتّٰى حِیْنٍ Open ayah 23:25 in the Quran reader

اور کچھ نہیں یہ ایک آدمی ہے کہ اسے سودا ہے پس ایک وقت تک اسے مہلت دو (ف 1) ۔

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا كَذَّبُوْنِ Open ayah 23:26 in the Quran reader

وہ بولا اے رب تو میری مدد کر کہ انہوں نے مجھے جھٹلایا ۔

فَاَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِ اَنِ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا فَاِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوْرُ١ۙ فَاسْلُكْ فِیْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْهِ الْقَوْلُ مِنْهُمْ١ۚ وَ لَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 23:27 in the Quran reader

پھر ہم نے اس کی طرف وحی کی کہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہمارے حکم کے مطابق ایک کشتی بنا پھر جب ہمارا حکم آئے ، اور تنور جوش مارے ، تو تو اس کشتی میں ہر جنس کا دوہرا جوڑا اور اپنے گھر کے لوگ بٹھا لے ، مگر نہ اس شخص کو جس پر ان میں سے بات قائم ہوگئی ہے ، اور ظالموں کے بارہ میں مجھ سے نہ بول ، وہ ضرور غرق ہوں گے ۔

(ف 1) ان آیات میں حضرت نوح (علیہ السلام) کا واقعہ بیان فرمایا ہے کہ انہوں نے قوم کو کیا پیغام دیا ، اور ان کے مخالفین نے کس طرح کے بیہودہ اعتراضات سے ان کا غیر مقدم کیا ، ارشاد ہے کہ نوح (علیہ السلام) نے محض توحید کی تلقین کی اور قوم سے کہا کہ صرف ایک خدا کی پرستش کرو ، اس کے سوا تمہارا کوئی چارہ ساز نہیں ہے ، پرہیزگاری اور تقوی کا تقاضا بھی ہے ، کہ تمہارے دلوں میں توحید کی روشنی ہو اور تم بجز اس کی ذات بےآتا کہے اور کسی کے آگے نہ جھکو ۔ قوم کے سرداروں اور بڑوں کو یہ تعلیم پسند نہ آئی کیونکہ وہ بجائے خود اپنی قوم کے معبود بنے ہوئے تھے انہوں نے کہا ہم نوح (علیہ السلام) کی نبوت کو تسلیم نہیں کرتے ، یہ تو معمولی انسان ہے اور اس میں وہ تمام باتیں پائی جاتی ہیں ، جو عام انسانوں میں موجود ہیں اس کی نبوت کا مقصد محض اظہار برتری اور علو ہے ، یہ چاہتا ہے کہ تم پر رعب گانٹھے اور حکومت کرے اگر اللہ کو یہ منظور ہوتا کہ تمہاری طرف راہنما بھیجے تو وہ فرشتوں کو حکم دیتا کہ وہ خدا کے احکام تم تک پہنچائیں اس نوع کی باتیں کہ ایک معمولی انسان اللہ کی طرف دعوت دے پاکبازی کی طرف بلائے اور بتوں کی مذمت کرے ہم نے تو کبھی اپنے باپ دادا سے سنی نہیں معلوم ہوتا ہے کہ اس کے دماغ میں خلل ہے اس لئے اس کے بارہ میں کچھ دنوں انتظار کرنا چاہئے ۔ حل لغات : التنور : زمین ، وادی ، وہ جگہ جہاں سے پانی برآمد ہو ۔ کل : یعنی ہر ضرورت کی چیز ، قرآن میں لفظ کل کا استعمال استغراق منطقی کے لئے نہیں ہوتا ، بلکہ عام ضروری اشیاء کے لئے ہوتا ہے ۔
Ayahs 23:28–31

فَاِذَا اسْتَوَیْتَ اَنْتَ وَ مَنْ مَّعَكَ عَلَى الْفُلْكِ فَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ نَجّٰىنَا مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:28 in the Quran reader

پھر جب تو اور تیرے ساتھی کشتی میں چڑھ چکیں ، تو کہہ ، اللہ کا شکر ہے ، جس نے ہمیں ظالموں سے نجات دی (ف 1) ۔

وَ قُلْ رَّبِّ اَنْزِلْنِیْ مُنْزَلًا مُّبٰرَكًا وَّ اَنْتَ خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ Open ayah 23:29 in the Quran reader

اور کہہ کہ اے رب تو مجھے مبارک (جگہ) اتارنا اور تو اچھا اتارنے والا ہے ۔

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ وَّ اِنْ كُنَّا لَمُبْتَلِیْنَ Open ayah 23:30 in the Quran reader

اس بیان میں نشانیاں ہیں اور بیشک ہم جانچنے والے ہیں ۔

ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَۚ Open ayah 23:31 in the Quran reader

پھر ان کے بعد ہم نے ایک اور قرن کے لوگ پیدا کئے ۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعا سن لی : (ف 1) حضرت نوح (علیہ السلام) کے مخاطبین نے جب اس قسم کے اعتراضات کئے کہ آپ بشر ہیں بعد ایسی عجیب باتیں کہتے ہیں جو ہم نے اپنے بڑوں سے نہیں سنیں اور گناہوں کے ارتکاب میں بیباک ہوگئے ، حضرت نوح (علیہ السلام) کو جھٹلانے لگے ، تو آپ نے نصرت الہی کی دعا مانگی ، فرمایا کہ اللہ میں نے ان تک تیرے پیغام کو پورے خلوص اور شوق سے پہنچا دیا ، اور تقریبا ایک ہزار سال تک ان کو دعوت حق دی ، مگر انہوں نے ہمیشہ تکذیب کی ہمیشہ ستایا ، اور دکھ دیا ، اب ان کے گناہوں کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے اور ادھر بھی مزید صبر اور برداشت کی گنجائش نہیں ، اس لئے انکو عذاب سے دو چار کر ۔ اللہ نے یہ دعا سن لی اور حکم دیا کہ اس قوم کو پانی میں اس طرح غرق کر دو کہ پھر کبھی نہ ابھر سکیں ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) سے فرمایا کہ ایک کشتی بناؤ اور جس وقت ہمارے حکم سے تنور (پانی سے بھر کر) جوش مارنے لگے تو تم سب قسم کے حیوانات میں جوڑا جوڑا (یعنی نرومادہ) کشتی میں بٹھا لو ، تاکہ ان کی نسل باقی رہے اور تم ان سے استفادہ کرسکو ، اور اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں بٹھا لو لیکن ظالموں کے حق میں سفارش نہ کرنا وہ ضرور ڈبودیئے جائیں گے ۔ یعنی اللہ کے غصے اور غضب کا تعلق محض گناہوں سے ہے اشخاص مدنظر نہیں ، جو نافرمان اور متمرد ہے اس کے لئے عذاب میں مبتلا ہونا ضروری ہے ، اس بات میں کسی نوع کی تخصیص نہیں ہوگی ارشادہ ہے کہ جب تم اور تمہارے ساتھی کشتی میں بیٹھ جائیں تو خدا کا شکریہ ادا کریں ، کہ اس نے تمہاری مخلصی کا سامان بہم پہنچا دیا ، اور تمہیں ظالموں سے نجات بخشی ۔ عذاب کے متعلق یہ حقیقت سمجھ لینا چاہئے کہ یہ محض غضب وغصہ کی بنا پر نہیں آیا کرتا ، بلکہ اس کا آنا دیگر اسباب ووجوہ پر موقوف ہے ، اور انسانیت کیلئے خیروبرکت کا موجب ہے جب قومیں مفاسد میں مبتلا ہوجاتی ہیں ، اور قالب انسانی اس حد تک بگڑ جاتا ہے کہ بغیر عمل جراحت اصلاح ممکن نہ ہو تو اس وقت عذاب آتا ہے تاکہ انسانیت کا آپریشن ہوجائے اور جسم مفاسد سے سراپا پاک ، یہ عذاب اور طوفان اس محدود رقبے میں آیا تھا جہاں نوح (علیہ السلام) کی قوم آبا دتھی بقیہ دنیا محفوظ رہی ۔ حل لغات : رسولا : بعض روات کے نزدیک اس سے مراد حضرت ہود (علیہ السلام) ہیں ۔
Ayahs 23:32–37

فَاَرْسَلْنَا فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 23:32 in the Quran reader

پھر ہم نے ان میں انہیں کے درمیان سے ایک رسول بھیجا ، کہ اللہ کی عبادت کرو ، اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں ، کیا تم ڈرتے نہیں ؟ (ف 2) ۔

وَ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ الْاٰخِرَةِ وَ اَتْرَفْنٰهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۙ یَاْكُلُ مِمَّا تَاْكُلُوْنَ مِنْهُ وَ یَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُوْنَ۪ۙ Open ayah 23:33 in the Quran reader

اور اس کی قوم کے شریفوں نے جو کافر تھے اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلاتے تھے اور دنیا کی زندگی میں ہم نے انہیں آسودہ کیا تھا ، کہا کہ یہ رسول تو تمہاری ہی مانند ایک بشر ہے ، جو تم کھاتے ہو ، وہی یہ کھاتا ہے ‘ اور تم پیتے ہو ‘ وہی یہ پیتا ہے ۔

وَ لَئِنْ اَطَعْتُمْ بَشَرًا مِّثْلَكُمْ اِنَّكُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَۙ Open ayah 23:34 in the Quran reader

اور اگر تم آپ جیسے آدمی کی اطاعت کرو گے تو بیشک تم زیان کار ہو گے ۔

اَیَعِدُكُمْ اَنَّكُمْ اِذَا مِتُّمْ وَ كُنْتُمْ تُرَابًا وَّ عِظَامًا اَنَّكُمْ مُّخْرَجُوْنَ۪ۙ Open ayah 23:35 in the Quran reader

کیا تم کو یہ وعدہ دیتا ہے کہ جب تم مر گئے اور مٹی اور ہڈیاں ہوگئے ، تو تم نکالے جاؤ گے ۔

هَیْهَاتَ هَیْهَاتَ لِمَا تُوْعَدُوْنَ۪ۙ Open ayah 23:36 in the Quran reader

کہاں ہو سکتا ہے ، کہاں ہو سکتا ہے تو تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے ۔

اِنْ هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ۪ۙ Open ayah 23:37 in the Quran reader

اور کچھ نہیں یہی ہمارا دنیا کا جینا ہے ہم مرتے اور جیتے ہیں ، اور ہم اٹھائے نہ جائیں گے ،

(ف 2) اس ہلاکت کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد کو خیر و برکت سے نوازا اور وہ ساری دنیا میں پھیل گئے پھر ان ہی میں سے ایک ان میں رسول بھیجا جس نے اسی پیغام کو دہرایا اور وہی نغمہ توحید سنایا ، جس کو اس سے قبل حضرت نوح (علیہ السلام) بارہا سنا چکے تھے ، اور عجیب بات ہے کہ ان کو اسی قسم کے سرداروں سے وہی جواب سننا پڑا ، جو نوح (علیہ السلام) کو دیا گیا تھا ، کہ تم آخر ہماری ہی طرح کے ایک انسان ہو ، تم میں ایسی کون سی خصوصیات ہیں ؟ کہ تمہیں رسول اور پیغمبر جانیں ۔ یہ واقعات اس لئے بیان فرمائے ہیں کہ حضور ﷺ کو معلوم ہوجائے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کا پیغام ایک ہے اس کی دعوت ایک ہے اور پروگرام ایک اسی طرح انکار کرنے والے بھی نوح (علیہ السلام) کے زمانے سے لیکر اب تک ایک ہی قسم کے ہیں ، ان کے اعتراضات میں کوئی تحقیق کوئی جدت ، کوئی ندرت نہیں ، ان سب لوگوں کی ذہینت یکساں ہی ہے ۔