Explained with ayahs 77–78
سورة حج کو دوسجدوں کی فضلیت حاصل ہے
اس دوسرے سجدے کے بارے میں دو قول ہیں۔ پہلے سجدے کی آیت کے موقعہ پر ہم نے وہ حدیث بیان کردی ہے جس میں ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا " سورة حج کو دو سجدوں سے فضیلت دی گئی جو یہ سجدے نہ کرے وہ یہ پڑھے ہی نہیں "۔ پس رکوع سجدہ عبادت اور بھلائی کا حکم کرکے فرماتا ہے۔
امت مسلمہ کو سابقہ امتوں پر فضیلت
اپنے مال، جان اور اپنی زبان سے راہ اللہ میں جہاد کرو اور حق جہاد ادا کرو۔ جیسے حکم دیا ہے کہ اللہ سے اتنا ڈرو جتنا اس سے ڈرنے کا حق ہے، اسی نے تمہیں برگزیدہ اور پسندیدہ کرلیا ہے۔ اور امتوں پر تمہیں شرافت و کرامت عزت و بزرگی عطا فرمائی۔ کامل رسول اور کامل شریعت سے تمہیں…
Read the full tafseer →سورة الْحَجّ 127
یعنی فلاح کی توقع اگر کی جاسکتی ہے تو یہ روش اختیار کرنے سے کی جاسکتی ہے۔ لیکن جو شخص بھی یہ روش اختیار کرے اسے اپنے عمل پر گھمنڈ نہ ہونا چاہیے کہ میں جب ایسا عبادت گزر اور نیکو کار ہوں تو ضرور فلاح پاؤں گا، بلکہ اسے اللہ کے فضل کا امیدوار رہنا چاہیے اور اسی کی رحمت سے توقعات وابستہ کرنی چاہییں۔ وہ فلاح دے تب ہی کوئی شخص فلاح پاسکتا ہے۔ خود فلاح حاصل کرلینا کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔
" شاید کہ تم کو فلاح نصیب ہو۔ " یہ فقرہ ارشاد فرمانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس طرح فلاح نصیب ہونا مشکوک ہے۔ بلکہ دراصل یہ شاہانہ انداز بیان ہے۔ بادشاہ اگر اپنے کسی ملازم سے یہ کہے کہ فلاں کام کرو،…
Read the full tafseer →معارف و مسائل
سورة حج کا سجدہ تلاوت
يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا ارْكَعُوْا وَاسْجُدُوْا وَاعْبُدُوْا رَبَّكُمْ ، سورة حج میں ایک آیت تو پہلے گزر چکی ہے جس پر سجدہ تلاوت کرنا باتفاق واجب ہے۔ اس آیت پر جو یہاں مذکور ہے سجدہ تلاوت کے وجوب میں ائمہ کا اختلاف ہے۔ امام اعظم ابو حنیفہ، امام مالک، سفیان ثوری رحمہم اللہ کے نزدیک اس آیت پر سجدہ تلاوت واجب نہیں کیونکہ اس میں سجدہ کا ذکر رکوع وغیرہ کے ساتھ آیا ہے جس سے نماز کا سجدہ مراد ہونا ظاہر ہے جیسے واسْجُدِيْ وَارْكَعِيْ مَعَ الرّٰكِعِيْنَ میں سب کا اتفاق ہے کہ سجدہ نماز مراد ہے اس کی تلاوت کرنے سے سجدہ تلاوت واجب نہیں ہوتا اسی طرح آیت مذکورہ…
Read the full tafseer →آگے کا مضمون …… آیات 78-77
خاتمہ سورة
یہ خاتمہ سورة کی آیات ہیں اوپر آپ نے دیکھ لیا کہ کفار قریش کو غدار اور خائن ثابت کر کے وراثت ابراہیمی اور تولیت بیت اللہ کے لئے ان کو بالکل نااہل قرار دے دیا اور ساتھ ہی یہ اشارہ بھی فرما دیا کہ اس کی تولیت کے اصلی حقدار یہ مسلمان ہیں جو وہاں سے نکالے گئے ہیں اور ان کو یہ اجازت بھی دے دی کہ وہ بیت اللہ کی آزادی اور تطہیر کے لئے جہاد کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ اب آگے کی آیات میں مسلمانوں کو وہ ہدایات دی جا رہی ہیں جو اس عظیم ذمہ داری کے تقاضوں سے عہدہ برآ ہونے کے لئے ضروری ہیں … آیات ملاحظہ فرمائیے۔
مسلمانوں کے منصب امامت کے تقاضے
اوپر ہم نے اشارہ کیا کہ یہ اس…
Read the full tafseer →77۔ 1 یعنی اس نماز کی پابندی کرو جو شریعت میں مقرر کی گئی ہے۔ آگے عبادت کا بھی حکم آرہا ہے۔ جس میں نماز بھی شامل تھی، لیکن اس کی اہمیت و افضلیت کے پیش نظر اس کا خصوصی حکم دیا۔
77۔ 2 یعنی فلاح (کامیابی) اللہ کی عبادت اور اطاعت یعنی افعال خیر اختیار کرنے میں ہے، نہ کہ اللہ کی عبادت و اطاعت سے گریز کرکے محض مادی اسباب و وسائل کی فراہمی اور فراوانی میں، جیسا کہ اکثر لوگ سمجھتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
34: شافعی مذہب میں یہاں سجدہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
یایھا الذین ……النصیر (47)
ان دو آیات میں ایک پورا منہاج امت مسلمہ کے سامنے رکھ دیا گیا ہے۔ وہ فرئاض اور تقاضے بھی رکھ دیئے جو اس منہاج اور نظام کے ساتھ لازمی شرط کے طور پر لگے ہوئے ہیں۔ اس کی اہمیت کیا ہے ؟ اور ماضی اور حال میں اس کی جڑیں کہاں تک پھیلتی ہیں ، جب اس منہاج اور نظام کو اللہ کی خاہش کے مطابق قائم کردیا گیا ، یہ منہاج کیا ہے ؟
٭ اہل ایمان کو سب سے پہلے رکوع و سجود کا حکم دیا جاتا ہے۔ رکوع و سجود اسلام کے ممتاز بنیادی ارکان ہیں۔ قرآن کریم نماز کی تعبیر اکثر رکوع و سجود سے کرتا ہے کیونکہ یہ نماز کے اہم اجزاء اور نماز کا منظر پیش کرتے وقت ظاہری افعال ہیں جن کا تعلق منظر کشی سے ہے۔…
Read the full tafseer →6 شرک کی تقبیح اور مشرکین کی تفضیح کے بعد مومنین کو خطاب فرماتے ہیں کہ تم اکیلے اپنے رب کی بندگی پر لگے رہو۔ اسی کے آگے جھکو، اسی کے حضور میں پیشانی ٹیکو، اور اسی کے لیے دوسرے بھلائی کے کام کرو۔ تاکہ دنیا اور آخرت میں تمہارا بھلا ہو۔
Read the full tafseer →آیت 77 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ارْکَعُوْا وَاسْجُدُوْا وَاعْبُدُوْا رَبَّکُمْ ”
یہاں صرف اصطلاحی رکوع اور سجدہ ہی مراد نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے ہر حکم کے سامنے مکمل طور پر سر تسلیم خم کردینے کا حکم ہے۔ اسی طرح ”عبادت“ کے حکم میں بھی ”مکمل بندگی“ کا مفہوم پنہاں ہے۔
زندگی آمد برائے بندگی زندگی بےبندگی شرمندگی !
وَافْعَلُوا الْخَیْرَ ”
یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ واعْبُدُوْا بندگی کرو ! کے حکم میں تو گویا سب کچھ آگیا۔ اب اس کے بعد مزید نیک کام کون سے ہیں ؟ دراصل ”فعل خیر“ سے یہاں مراد خدمت خلق ہے۔ اس حکم سے مراد یہ ہے کہ اپنے آپ کو خدمت خلق میں لگا دو ! اور خدمت خلق صرف بھوکے کو کھانا…
Read the full tafseer →107 اس آیت کے دو مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ یہ خطاب انفرادی طور پر ہو۔ اس صورت میں اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اخروی نجات اور کامیابی کے لئے تین کاموں کا سرانجام دینا نہایت ضروری ہے۔ نماز کی درست طور پر ادائیگی۔ خالصتؤہ اللہ تعالیٰ کی عبادت جس میں مشرک کی آمیزش نہ ہو۔ اور نیک اعمال کی بجا آوری اور اور یہ خطاب مجموعی طور پر بحیثیت امت سمجھا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ جس قوم میں یہ صفات موجود ہوں ان کی اخروی کامیابی تو یقینی ہے ہی، ان کی دنیا میں بھی کامیابی کی توقع کی جاسکتی ہے۔
سورة حج کے فضیلت یہ ہے کہ اس میں دو سجدے آئے ہیں (لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ 189۔ ) 2 ۔ البقرة :189) بھی مقام سجدہ تلاوت…
Read the full tafseer →131۔ یعنی یہ سب اعمال اصل ایمان کی شاخیں ہیں۔ قبول اسلام کے بعد نماز اور اور سب عبادتوں کو بجالاتے رہو۔ اور دوسروں نیکیوں میں بھی لگے رہو۔ (آیت) ” وافعلوا الخیر “۔ ہر فعل مباح، نیت عبادت کرلینے کے بعد مفہوم پیدا کردے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–78
آیت نمبر 73 تا 78
ترجمہ : اے لوگو ! یعنی مکہ والو ایک عجیب بات بیان کی جاتی ہے اس کو کان لگا کر سنو اور وہ بات یہ ہے کہ اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ جن کو تم خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو یعنی بندگی کرتے ہو غیر اللہ کی وہ بت ہیں وہ ایک مکھی کو تو پیدا کر ہی نہیں سکتے ذباب اسم جنس ہے اس کا واحد ذبابہ ہے اس کا اطلاق مذکر اور مؤنث دونوں پر ہوتا ہے گو اس تخلیق کے لئے سب کے سب جمع ہوجائیں اور اگر ان سے مکھی کچھ چھین لیجائے اس میں سے جو ان پر خوشبو اور زعفران لگی ہوئی ہے (جس میں وہ لتھڑے ہوئے ہوتے ہیں) تو اس کو وہ ان سے واپس نہیں لے سکتے ان کے عاجز ہونے کی وجہ سے، پھر کیوں بندگی کرتے ہیں (ان کی) اللہ کا…
Read the full tafseer →یایہا الذین امنوا ارکعوا واسجدوا وعبدوا ربکم وافعلوا الخیر لعلکم تفلحون۔
اے اہل ایمان تم رکوع اور سجدے کیا کرو اور اپنے رب کی عبادت کرو اور نیک کام کیا کرو۔ یہ امید رکھتے ہوئے کہ تم فلاح پاؤ گے۔
رکوع اور سجود سے مراد ہیں نماز یہ دونوں نماز کے ضروری ارکان ہیں جن کے بغیر نماز کا وجود ہی نہیں ہوتا قراءت و قیام وغیرہ میں بھی ارکان ہیں لیکن اتنے اہم نہیں ہیں ضرورت کے وقت ساقط ہوجاتے ہیں گونگے سے قراءت ساقط ہے جو کھڑا نہ ہوسکتا ہو اس سے قیام ساقط ہے رکوع و سجود کا سقوط کسی وقت نہیں ہوتا اسی لئے امام ابوحنیفہ (رح) : کا قول ہے کہ جو شخص سر کے اشارہ سے رکوع و سجود بھی نہ کرسکتا ہو وہ نماز مؤخر کر دے…
Read the full tafseer →(77) لہذا اے ایمان والو نماز میں رکوع کیا کرو اور سجدہ کیا کرو اور اپنے رب کی تابعداری کیا کرو اور نیک اعمال کیا کرو امید ہے کہ تم غضب الہی اور عذاب الہی سے نجات پاؤ گے۔
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا ارْكَعُوْا۔۔ : یہ ساری سورت قیامت اور توحید کے حق ہونے کے دلائل اور انکار قیامت اور شرک کی تردید اور مذمت کے دلائل پر مشتمل ہے۔ آخر میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو خطاب فرمایا جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لے آئے ہیں کہ ایمان لائے ہو تو اس کا ثبوت بھی پیش کرو۔ سب سے پہلا کام جو ایمان لانے کے بعد سب سے اہم اور ضروری ہے اور کافر و مسلم کی پہچان ہے، وہ نماز ہے، سو نماز ادا کرو۔ ”نماز ادا کرو“ کے بجائے ”رکوع کرو اور سجدہ کرو“ کے الفاظ استعمال فرمائے، کیونکہ یہ دونوں آدمی کی عام حالت مثلاً قیام و قعود وغیرہ سے مختلف ہیں اور ان سے اللہ تعالیٰ کے سامنے انتہائی…
Read the full tafseer →یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا ارْکَعُوْا وَاسْجُدُوْا (اے ایمان والو ! تم رکوع کرو اور سجدہ کرو) اپنی نمازوں میں جب پہلے پہلے اسلام لائے تو وہ بلارکوع و سجود کے نماز پڑھتے تھے۔ پھر ان کو حکم ہوا کہ رکوع و سجود کیا کریں۔
مسئلہ : اس میں دلیل ہے کہ اعمال ایمان کا حصہ نہیں ہیں۔ اور یہ سجدہ نماز کا ہے۔ سجدہ تلاوت نہیں ہے۔
وَاعْبُدُوْا رَبَّکُمْ (اور تم اپنے رب کی عبادت کرو) تم اپنے رکوع و سجود سے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کا قصد کرو۔ نہ کہ بتوں کا وَافْعَلُوْا الْخَیْرَ (اور بھلائی کے کام کرو) ایک قول یہ ہے جبکہ ذکر کو دیگر طاعات پر مقام و مرتبہ حاصل ہے تو اولاً ایمان والوں کو نماز کی طرف بلایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–77
1۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ آیت اللہ یصطفی یعنی اللہ تعالیٰ لوگوں میں سے انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام چن لیتے ہیں۔
2۔ الحاکم وصححہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے چن لیا موسیٰ (علیہ السلام) کو کلام کے ساتھ اور ابراہیم (علیہ السلام) کو خلت کے ساتھ۔
3۔ الحاکم وصححہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ موسیٰ بن عمران صفی اللہ ہیں۔
اللہ تعالیٰ کے منتخب بندے
4۔ بغوی نے معجم میں اور باوردی اور ابن قانع والطبرانی وابن عساکر نے زید بن ابی اوفی ؓ سے روایت کیا کہ میں مدینہ منورہ کی مسجد میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا۔ آپ نے…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ [ اے وہ لوگو جو ] اٰمَنُوا [ ایمان لائے ] ارْكَعُوْا [ تم لوگ رکوع کرو ] وَاسْجُدُوْا [ اور سجدہ کرو ] وَاعْبُدُوْا [ اور بندگی کرو ] رَبَّكُمْ [ اپنے ربک کی ] وَافْعَلُوا [ اور عمل کرو ] الْخَــيْرَ [ بھلائی کے ] لَعَلَّكُمْ [ شاید تم لوگ ] تُفْلِحُوْنَ السجدہ عند الشافعی [ فلاح پاؤ]
Read the full tafseer →(یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ارْکَعُوْا وَ اسْجُدُوْا) (اے ایمان والو رکوع کرو اور سجدہ کرو) یعنی نماز پڑھو نماز میں کیونکہ رکوع سجدہ دو بڑے رکن ہے اس لیے ان کا خصوصی حکم دیا جس میں پوری نماز پڑھنے کا حکم آگیا (وَ اعْبُدُوْا رَبَّکُمْ ) (اور اپنے رب کی عبادت کرو) نماز کے علاوہ جو دیگر عبادات ہیں یہ حکم ان سب عبادات کو شامل ہوگیا (وَ افْعَلُوا الْخَیْرَ ) (اور خیر کے کام کرو) اس کا عموم تمام نیک اعمال کو شامل ہے اور جانی عبادات اور فرائض واجبات، مکارم اخلاق، محاسن افعال، محاسن آداب، انفرادی اور اجتماعی زندگی کے احکام سب کو حکم شامل ہے (لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ ) (تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ) یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
خاتمہ سورت برترغیب اعمال و تاکید اعتصام بملت اسلام
قال اللہ تعالیٰ یایھا الذین امنوا ارکعوا واسجدوا .... الیٰ .... ونعم النصیر۔
(ربط) گزشتہ آیات میں شرک کا ابطال اور توحید و رسالت کا اثبات فرمایا اب ان آیات میں مسلمانوں کو اعمال خیر کی ترغیب اور دین اسلام پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہنے کی تاکید اکید فرماتے ہیں جو نجات اور فلاح کا ذریعہ ہیں اور اعمال خیر میں تمام خیرات و صدقات اور مکارم اخلاق اور محاسن اور افضل ترین عمل ہے اور ساتھ ساتھ یہ بتلایا کہ دین اسلام بہت آسان دین ہے اس پر عمل کرنا کوئی مشکل نہیں لہٰذا تم کو چاہئے کہ دن رات سرگرم عبادت رہو۔ اور ملت ابراہیمی پر قائم و دائم رہو اور اللہ کی…
Read the full tafseer →90:۔ ” یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا الخ “ مضامین سورت کا بالاجمال اعادہ ہے۔ ” اِرْکَعُوْا وَاسْجُدُوْا وَاعْبُدُوْا الخ “ صرف اللہ تعالیٰ ہی کو متصرف و کارساز سمجھو صرف اسی کو پکارو اور نذریں منتیں بھی اسی کے نام کی والغرض ہر قسم کی عبادت اللہ تعالیٰ کے لیے مختص کرو اور کسی کو اس کی عبادت میں شریک نہ کرو۔ اعبدوہ ولا تعبدوا غیرہ (کبیر ج 6 ص 263) ۔ ” وَافْعَلُوْا الْخَیْرَ الخ “ اور اللہ تعالیٰ کے باقی تمام احکام بجا لاؤ۔ کیونکہ اللہ توحید اور اس کے احکام کی پیروی ہی پر نجات اخروی اور فلاح سرمدی موقوف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں مشرکین کی برائی اور قباحت کا ذکر تھا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کو صحیح طریقے پر نہیں پہچانا وہ ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جنہیں کچھ اختیار حاصل نہیں۔ اس ضمن میں اللہ نے معبودان باطلہ کی بےبسی کو مکھی کی مثال دے کر بیان فرمایا کہ وہ تو مکھی جیسی حقیر چیز کو پیدا کرنے پر بھی قادر نہیں ، بلکہ اگر مکھی کوئی چیز چھین لے جائے تو اسے واپس لینے کی طاقت بھی نہیں رکھتے چہ جائیکہ وہ دوسروں کی حاجت براری کریں۔ اللہ کی ساری مخلوق خواہ وہ جاندار ہو یا بےجان اللہ کے سامنے عاجز ہے ، لہٰذا ان میں الوہیت کا پایا جانا بعید از قیاس ہے۔ مشرکین کی طرف سے ان کی پرستش نہایت ہی بےوقوفی کی…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا ارْكَعُوْا وَاسْجُدُوْا وَاعْبُدُوْا رَبَّكُمْ وَافْعَلُوا الْخَــيْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ 77ۚ۞
أمن
والإِيمان
يستعمل تارة اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] .
وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–78
بتوں کی حقیقت تو معلوم ہوگئی اب رہے وہ لوگ کہ جو خدا کے برگزیدہ ہیں ملائکہ و انبیاء جن کو کہ اکثر بت پرست یا مشرکین پوجتے ہیں اور معبود حقیقی کے برابر ان کے درجات تسلیم کر کے ان سے حاجات کا سوال کرتے ہیں جیسا کہ عیسائی حضرت مسیح (علیہ السلام) کو اور ہنود اپنے بزرگوں کو آج کل کے جاہل مسلمان اولیائِ کرام اور بزرگان دین کو پوجتے ہیں اور عرب کے مشرکین اور صائبین ملائکہ کو پوجتے تھے پس ان کی نسبت فرماتا ہے اللہ یصطفٰی من الملائکۃ رسلاومن الناس کہ ملائکہ اور لوگوں میں سے جو ممتاز اور رسول ہیں ان کو بھی تو اللہ ہی نے برگزیدہ کیا ہے یعنی ان کے کمالات اپنے گھر کے نہیں ان کی بزرگی اللہ کی عطا کی ہوئی…
Read the full tafseer →یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوا ارْکَعُوْاوَاسْجُدُوْاوَاعْبُدُوْارَبَّکُمْ وَافْعَلُوا الْخَیْرَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ ۔ (الحج : 77)
(اے لوگوجو ایمان لائے ہو ! رکوع کرو اور سجدہ کرو اور اپنے رب کی بندگی کرو اور بھلائی کے کام کروتا کہ تم فلاح پائو۔ )
امتِ مسلمہ کا منصب
پیشِ نظر آیات خاتمہ سورة کی آیات ہیں۔ اس سے پہلے مشرکینِ مکہ کی بداعمالیوں اور حدود پامالیوں کے حوالے سے یہ بات واضح کی گئی ہے کہ اللہ نے اپنا گھر ان کی تولیت میں دیا تھا کیونکہ یہ اپنے عظیم باپ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی ذمہ داریوں کے وارث تھے لیکن انھوں نے اس کا حق ادا کرنا تو دور کی بات ہے اللہ کے گھر کی عظیم حیثیت کو…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : مشرک اور کافر انکار کرتے ہیں تو کریں مومنوں تمہیں تو ہر صورت اپنے رب کے سامنے جھکنا اور اس کی غلامی میں زندگی بسر کرنا ہے۔
جب ہر چیز کا انجام اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹایا جاتا ہے تو ایمانداروں کا فرض ہے کہ وہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی بندگی کے لیے وقف کردیں۔ اس آیت کریمہ میں انسان کی زندگی کا مقصد نہایت مختصر الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ اس لیے انسان کا فرض ہے کہ وہ اپنے رب کے حضور رکوع و سجود اور اس کی بندگی کرے اور جس کام کو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے خیر قرار دیا ہے اسے بجالانے کی اخلاص کے ساتھ…
Read the full tafseer →اصولِ کامیابی :
77: یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا ارْکَعُوْا وَاسْجُدُوْا (اے ایمان والو ! تم رکوع کرو اور سجدہ کرو) اپنی نمازوں میں جب پہلے پہلے اسلام لائے تو وہ بلارکوع و سجود کے نماز پڑھتے تھے۔ پھر ان کو حکم ہوا کہ رکوع و سجود کیا کریں۔
مسئلہ : اس میں دلیل ہے کہ اعمال ایمان کا حصہ نہیں ہیں۔ اور یہ سجدہ نماز کا ہے۔ سجدہ تلاوت نہیں ہے۔
وَاعْبُدُوْا رَبَّکُمْ (اور تم اپنے رب کی عبادت کرو) تم اپنے رکوع و سجود سے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کا قصد کرو۔ نہ کہ بتوں کا وَافْعَلُوْا الْخَیْرَ (اور بھلائی کے کام کرو) ایک قول یہ ہے جبکہ ذکر کو دیگر طاعات پر مقام و مرتبہ حاصل ہے تو اولاً ایمان والوں…
Read the full tafseer →77۔ یا ایھا الذین امنوارکعوا واسجدوا۔۔۔ اس سے مراد نماز پڑھو کیونکہ نماز ہی ایسی عبادت ہے جس میں رکوع اور سجود ہوتے ہیں۔ وعبدواربکم ، اور تم اکیلے رب کی عبادت کرو۔ ووافعلوالخیر، اور نیکی کرو۔ حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے فرمایا اس سے مراد قرابت داروں سے اچھاسلوک کرنا ان کو جوڑے رکھنا، لعلکم تفلحون، تاکہ تم سعادت مندی اختیار کرو اور جنت کے حصول میں کامیاب ہوجاؤ۔
یہاں پر سجدہ تلاوت ہے کہ نہیں ائمہ کے اقوال ہیں۔
اس آیت کے پڑھنے کے بعد سجدہ تلاوت واجب ہوتا ہے یا نہیں اس کے متعلق اہل علم کا آپس میں اختلاف ہے ۔ بعض حضرات کا قول ہے کہ اس کے بعد سجدہ واجب ہوتا ہے۔ یہ قول عمرو علی ، ابن مسعود اور ابن عباس…
Read the full tafseer →77:۔ صحیح مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت 2 ؎ ہے۔ جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس وقت کوئی آدمی سجدہ کی کوئی آیت پڑھتا ہے تو شیطان بھاگ جاتا ہے اور رو کر یہ کہتا ہے کہ افسوس انسان کو سجدہ کا حکم ہوا اور اس نے اس حکم کی تعمیل کی اس سبب سے وہ جنت کا مستحق ٹھہرا اور مجھ کو سجدہ کا حکم ہوا ‘ میں نے اس حکم کی نافرمانی کی ‘ اس سبب سے میں دوزخ کے قابل ٹھہرا ‘ اگرچہ بعض علماء نے اس سورت میں دو سجدے ہونے کے باب میں اختلاف کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سورت میں ایک ہی سجدہ ہے لیکن امام احمد بن حنبل اور ترمذی اور ابوداود وغیرہ کی روایتوں میں خود صاحب وحی ﷺ سے اس سورت میں دو سجدے ہونے کی صراحت آچکی ہے لیکن اس باب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
آیت 77
اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو نماز کا حکم دیتا ہے اور اس نے رکوع و سجود کا، ان کی فضیلت اور ان کے رکن نماز ہونے کی بنا پر خاص طور پر ذکر کیا ہے۔ نماز اس کی عبادت ہے جو آنکھوں کی ٹھنڈک اور غمزدہ دل کے لئے تسلی ہے۔ اس کی ربوبیت اور بندوں پر اس کا احسان ان سے تقاضا کرتے ہیں کہ وہ عبادت کو اس کے لئے خالص کریں۔ نیز اللہ تعالیٰ عمومی طور پر ان کو بھلائی کے کاموں کا حکم دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے فلاح کا انہی امور سے وابستہ کیا ہے، چناچہ فرمایا : (لعلکم تفلحون) یعنی تم اپنے مطلوب و مرغوب کے حصول اور ناپسندیدہ اور خوفناک امور سے نجات پانے میں کامیاب ہوجاؤ گے۔ پس اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–78
جہاد فی سبیل اللہ
قول باری ہے (وجاھدوا فی اللہ حق جھادہ ھوا جتبکم وما جعل علیکم فی الدین من حرج ملۃ ابیکم ابراہیم اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ جہاد کرنے کا حق ہے اس نے تمہیں اپنے کام کے لئے چن لیا ہے اور دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔ قائم ہو جائو اپنے باپ ابراہیم کی ملت پر) ایک قول کے مطابق آیت کا مفہوم یہ ہے کہ ” اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ جاد کرنے کا حق ہے اور اپنے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت کی پیروی کرو۔ “ اسی بنا پر (ملۃ ابیکم) منصوب ہے بعض مفسرین کا قول ہے کہ اس کے منصوب ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یہاں کملۃ ابیکم مراد ہے۔ تاہم جب حرف جار محذوف ہوگیا تو اسم فعل کے ساتھ…
Read the full tafseer →145 رب کی عبادت و بندگی کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم سب اپنے رب ہی کی بندگی کرو : کہ معبود برحق وہی ہے اور ہر طرح کی عبادت و بندگی کا حق دار ‘ وہی اور صرف وہی وحدہ لاشریک ہے ‘ اور ہر کسی کی حاجت روائی اور مشکل کشائی بھی وہی قادر مطلق کرتا ہے ‘ اور اس کی رحمت سب کو اپنی آغوش میں لئے ہوئے ہے ‘ پس اس کے در کو چھوڑ کر اور کسی طرف جھکنا اپنے لیے ذلت اور تباہی کا سامان کرنا ہے، والعیاذ باللہ العزیز۔ بہرکیف اس آیت کریمہ میں پہلے رکوع و سجود کا حکم و ارشاد فرمایا گیا جو کہ نماز کی تعبیر ہے کہ یہ دونوں نماز کے اہم ترین ارکان ہیں اور نماز کو اس کے معروف لفظ الصلاۃ سے تعبیر کرنے کی بجائے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–78
اللہ کی حاکمیت اور اللہ کے لیے انسان کی بندگی
تشریح : اخلاقیات کا ایک بہت بڑا سبق اللہ تعالیٰ دہرا رہے ہیں۔ وہ یہ کہ مسلمان کے لیے اصول بنا دیا گیا ہے کہ ظلم و زیادتی کا جواب اتنا ہی دیں جتنی زیادتی ان پر کی گئی ہو۔ کیونکہ اللہ ظلم کو پسند نہیں کرتا اس لیے اس نے وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ مظلو موں کی مدد ضرور کرتا ہے۔ یہ وعدہ اور یہ اخلاقی اصول کسی معمولی ہستی کے بنائے ہوئے نہیں بلکہ یہ اس رب العلمین کے بنائے ہوئے ہیں جس نے انسان کو پیدا کیا پھر اسکی نشوونما اور آرام و سکون کے لیے آسمانوں کو بلند کیا زمین بنائی اس میں ہر قسم کے چرند ‘ پرند ‘ حیوانات ‘ نباتات ‘ چاند، سورج، ستارے ‘ ندی نالے، دریا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–78
(رکوع نمبر 10)
اسرارومعارف
لوگو اس بات پر غور کرو اور اچھی طرح سوچو کہ اللہ جل جلالہ کے علاوہ جس جس کی پوجا کی جاتی ہے اگر وہ سب معبودان باطلہ اکھٹے ہو کر بھی کوشش کریں تو ایک مکھی جیسی حقیر مخلوق بھی بنا نہیں سکتے نہ صرف یہ بلکہ ان پر جو چڑھاوے چڑھاتے ہو ان کے سامنے پڑی ہوئی اشیاء کو مکھی کھاتی رہتی ہے وہ تو مکھی اڑا بھی نہیں سکتے کہ اپنے شے کو اس سے بچا لیں بھلا وہ تمہاری مدد کریں گے ، کتنے حقیر ہیں ان سے مانگنے والے اور کس قدر بےبس یہ تمہارے مطلوب ومعبود بنے ہوئے ہیں ، افسوس کہ تم نے اللہ جل جلالہ کی عظمت کو نہ جانا اور اس کی قدر نہ کرسکے لیکن اے کفار تمہارے نہ ماننے سے اس کی عظمت میں کوئی…
Read the full tafseer →6 ۔ یعنی اپنے جملہ اطوار و اخلاق و معاملات کی بنیاد نیکی پر رکھو اس لئے حضرت ابن عباس ؓ نے اس جگہ ” خیر “ کی تفسیر صلۃ الرحم و مکارم اخلاق سے کی ہے۔ (معالم) 7 ۔ اس مقام پر سجدہ کا حکم دیا گیا ہے اس لئے یہاں سجدہ کرنا مستحب ہے۔ صحابہ ؓ میں حضرت عمر ؓ ، علی ؓ ، ابن مسعود ؓ اور ابن عباس ؓ کا، اور ائمہ (رح) میں سے عبد اللہ بن مبارک (رح) ، شافعی (رح) ، احمد (رح) ( اور دوسرے محدثین) کا یہی قول ہے (معالم) اس بارے میں بعض مرفوع احادیث بھی آئی ہیں۔ مثلاً عمرو بن عاص سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے مجھے قرآن مجید میں پندرہ سجدے پڑھائے جن میں سے تین سورة مفصل ہیں اور دو سورة حج میں ہیں۔ (ابو دائود) احناف کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–77
(22:75) یصطفی۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ اصطفی مصدر باب افعال وہ چن لیتا ہے وہ منتخب کرلیتا ہے ۔ وہ برگزیدہ بنا لیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–78
لغات القرآن : آیت نمبر 73 تا 78 :
ضرب (بیان کیا گیا۔ مارا گیا) ‘ استمعوا (غور سے سنو) ‘ لن یخلقوا (وہ ہرگز پیدا نہ کریں گے۔ وہ ہرگز پیدا نہیں کرسکتے) ‘ ذباب مکھی۔ کوئی ایک مکھی) ‘ یسلب (وہ کھینچ لیتا ہے۔ وہ چھین لیتا ہے) ‘ لایستنقذوہ (وہ نہ چھڑا سکیں گے) ‘ الطالب (چاہنے والا) ‘ مطلوب (چاہا گیا) ‘ یصطفی (وہ منتخب کرتا ہے) ‘ افعلوا (تم کرو) ‘ الخیر (بھائی ۔ نیک کام) ‘ اجتبی (اس نے چنا۔ منتخب کیا) ‘ حرج (تنگی) ‘ سمی (اس نے نام رکھا) ‘ شھید (گواہ) ‘ اعتصموا (تم مضبوط تھام لو) ‘ مولی (مالک) ‘ نعم المولی (بہترین مالک) ‘ نعم النصیر (بہترین مدد گار) ۔
تشریح : آیت نمبر 73 تا 78 :
اللہ وہ ہے جو کائنات…
Read the full tafseer →رکوع اور سجدہ کا حکم۔
(ف 1) اس آیت میں ارشاد ہے کہ اے ایمان والو ! تم رکوع کرو اور سجدہ کرو، جب اسلام کی ابتدا تھی تو نماز بغیر رکوع و سجود کے تھی پھر نماز میں رکوع و سجود کا حکم فرمایا گیا یعنی رکوع اور سجود خاص اللہ کے لیے ہوں اور عبادت میں اخلاص اختیار کرو اور نیک کاموں میں لگے رہو برے کاموں سے بچتے رہوتا کہ تم فلاح پاؤ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–78
[53] یعنی جب آخرت میں تمام انسانوں کو حساب کے لئے جمع کیا جائے گا اس وقت نبی ﷺ گواہی دیں گے کہ جو احکام اللہ نے آپ کو دیئے تھے وہ آپ نے بےکم وکاست اپنی امت کو پہنچا دیئے اور عملاً ان کے مطابق کام کر کے دکھا دیا۔ اس کے بعد رسول کے قائم مقام ہونے کی حیثیت سے امت محمدیہ کو تمام انسانوں پر گواہی دینی ہوگی کہ نبی ﷺ نے جو کچھ انھیں پہنچایا ہے اور عملاً کر کے دکھایا اس کے پہنچانے اور اس پر عمل کر کے دکھانے میں اس سے کوئی کوتاہی نہیں ہوئی ہے۔
[54] اللہ کی رسی سے مراد قرآن مجید ہے، نبی ﷺ نے قرآن مجید کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے ہو حبل اللہ المتین (یہ اللہ کی مضبوط رسی ہے) قرآن کو اللہ کی رسی اس لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–78
(ف 1) ان آیات میں کئی چیزیں بیان کی ہیں ، پہلے تو یہ تاکید فرمائی کہ رکوع اور سجود سے اللہ کی عبادت کرو اور اس قسم کے نیک افعال جاری رکھو ، کہ نجات اور روحانی کامیابی کے لئے یہ ضروری ہیں پھر جہاد کی تلقین کرکے یہ نکتہ سمجھایا کہ عبادت سے غرض تحفظ دین کا جذبہ پیدا کرنا ہے یعنی نیاز مندی اور عقیدت کے معنے یہ ہیں کہ جب دشمنان دین تمہاری نمازوں سے تمہیں روکیں ، اور تمہارے دین کو مٹانا چاہیں اور ان تعلقات کا امتحان لینا چاہیں تو تم نے اپنے مولا سے استوار کر رکھے ہیں تو پھر میدان جہاد میں کود پڑو ۔
اس کے بعد اسلام کی خوبی اور فضیلت بیان کی کہ اس میں کہیں دشواری تنگی موجود نہیں ، نہایت سہل اور آسمان…
Read the full tafseer →(77) اے دعوت ایمانی کو قبول کرنے والو ! رکوع کیا کرو اور سجدہ کیا کرو اور اپنے رب کی عبادت کیا کرو اور بھلے کام کرتے رہا کرو امید ہے کہ تم فلاح پائوگے یعنی عقائد اسلام کو تسلیم کرنے کے بعد اور اعمال بھی بجالائو نماز اداکرو رکوع اور سجدہ کرو جو ارکانِ نماز ہیں اور یہ عبادت صرف اپنے پروردگار کی کیا کرو یعنی نماز میں کسی دوسرے کی شرکت نہ ہو، ہر عبادت خالص اللہ تعالیٰ کی ہو اور فرائض و واجبات کے علاوہ اور بھی اعمال خیر اور بھلے کام کرتے رہو امید ہے کہ تم فلاح پائوگے اور اپنے مقاصد میں کامیاب ہوگے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
ف 3۔ غرض سب احوال مسموعہ و مبصرہ اس کو معلوم ہیں، ان میں بعض کا حال مقتضی اس اصطفاء کا ہوگیا۔
Read the full tafseer →ایمان والوں کو ہدایت کہ خالصتا اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو تاکہ تم فلاح پاؤ :
77۔ زیر نظر آیت میں ایمان والوں کو مخاطب کیا گیا ہے کہ بیت اللہ کی تولیت قریش مکہ کے ہاتھ میں دے کر ان کو ازمایا جا چکا ہے اور وہ اس تولیت کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کی اس امانت میں غدار اور خائن ثابت ہوچکے ہیں اور وراثت ابراہمی یعنی تولیت بیت اللہ تمہارے ہاتھوں میں دی جانے والی ہے لیکن اس کے لئے مسلمانوں کو جو کچھ کرنا چاہئے وہ یہ ہے کہ وہ ایمان کے دعوی کے بعد اس ایمان کی تکمیل کریں اور اب ان کو مخاطب کرکے بتایا جا رہا ہے کہ ایمان کی تکمیل کیسے ممکن ہے فرمایا قبول اسلام کے بعد ایمان کی تکمیل کے لئے غیر اللہ کی طرف سے…
Read the full tafseer →Commentary
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ارْكَعُوا وَاسْجُدُوا وَاعْبُدُوا رَبَّكُمْ (0 those who believe, bow down in Ruku' and bow down in Sajdah and worship your Lord - 22:77) Verse 18 of this Surah is a verse of sajdah by consensus of the jurists, which means that whoever recites verse 18 or listens to someone reciting it must offer a sajdah. However, there is a difference of opinion about the present verse. Imam Abu Hanifah, Imam Malik and Sufyan Thauri رحمۃ اللہ علیہم are among those who think that the present verse is not a verse of sajdah in the sense that reciting this verse or…
Read the full tafseer →127. This is the right way of attaining the success, but even after adopting these ways of worship and performing good deeds one should not rest content or be proud that he would surely attain success because he is worshiping Allah and is doing good deeds. He should only expect that Allah will by His grace accept his services and bless him with the success.
Imam Shafai, Ahmad bin Hanbal, Abdullah bin Mubarak and Ishaq bin Rahawayah hold the view that this verse of Surah Al-Hajj requires a prostration. But Imam Abu Hanifah, Imam Malik, Hasan Basri, Said bin al-Musayyab, Said bin Jubair,…
Read the full tafseer →