Al-Hajj 22:76

Al-Hajj · from ayah 76

22:76

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ ؕ— وَاِلَی اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ ۟يَعۡلَمُ مَا بَيۡنَ اَيۡدِيۡهِمۡ وَمَا خَلۡفَهُمۡ‌ؕ وَاِلَى اللّٰهِ تُرۡجَعُ الۡاُمُوۡرُ‏

جو ان کے آگے ہے اور جن ان کے پیچھے ہے وہ اس سے واقف ہے۔ اور سب کاموں کا رجوع خدا ہی کی طرف ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

He knows what is [presently] before them and what will be after them. And to Allah will be returned [all] matters.

— Saheeh International

Juz 17 · Ruku 10 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hajj

All translations of 22:76

جو کچھ اُن کے سامنے ہے اُسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ اُن سے اوجھل ہے اس سے بھی وہ واقف ہے، اور سارے معاملات اسی کی طرف رجوع ہوتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو ان کے آگے ہے اور جن ان کے پیچھے ہے وہ اس سے واقف ہے۔ اور سب کاموں کا رجوع خدا ہی کی طرف ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

وه بخوبی جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے، اور اللہ ہی کی طرف سب کام لوٹائے جاتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ ان کے آگے اور پیچھے کی ساری باتوں کو جانتا ہے، اور اللہ ہی پر تمام معاملات کا دارومدار ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جانتا ہے جو ان کے آگے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اور سب کاموں کی رجوع اللہ کی طرف ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ ان (چیزوں) کو (خوب) جانتا ہے جو ان کے آگے ہیں اور جو ان کے پیچھے ہیں، اور تمام کام اسی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ جانتا ہے جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اور اللہ ہی کی طرف سب کام لوٹائے جاتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ اسے بھی جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے ہے اور اسے بھی جو ان سے اوجھل ہے اور تمام معاملات اسی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہ جو کچھ ان کے آگی اور ان کے پیچھے ہے سب کو جانتا ہے اور اللہ ہی کی طرف سارے معاملات لوٹتے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

وہ سب کچھ جو کہ ان لوگوں کے سامنے ہے اور وہ سب کچھ بھی جو کہ ان کے پیچھے ہے اور اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں سب کام

— مولانا اسحاق مدنی

وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے۔ اور اللہ ہی پر (تمام) کاموں کا مدار ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے اور اللہ ہی کی طرف تمام معاملات لوٹا دیے جائیں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو ان کے آگے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے وہ اس سے واقف ہے اور سب کاموں کا انجام اللہ ہی کی طرف ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

He knows all that is before them and that which is hidden from them. And it is to Allah that all affairs are returned.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He knows what is in front of them and what is behind them, and to Allah all matters are to be returned.

— Muhammad Taqi Usmani

He knows what is in front of them and what is behind them, and to Allah all matters are to be returned.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He knows what is before them, and what is behind them. And to Allah return all matters.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He knoweth all that is before them and all that is behind them, and unto Allah all things are returned. $$A

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

He knows what is [presently] before them and what will be after them. And to Allah will be returned [all] matters.

— Saheeh International

God knows all that they have and all that is behind them, and to Him do all things return.

— Muhammad Sarwar

He knows what is before them and what is behind them and to Allah are all affairs turned back.

— Muhammad Habib Shakir

He knoweth whatsoever is before them and whatsoever is behind them; and unto Allah are returned all affairs

— Abdul Majid Daryabadi

He knows what is before them and what is behind them: and to Allah go back all questions (for decision).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 22:76

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 75–76

منصب نبوت کا حقدار کون ؟ اپنی مقرر کردہ تقدیر کے جاری کرنے اور اپنی مقرر کردہ شریعت کو اپنے رسول ﷺ تک پہنچانے کے لئے اللہ تعالیٰ جس فرشتے کو چاہتا ہے، مقرر کرلیتا ہے اسی طرح لوگوں میں سے بھی پیغمبری کی خلعت سے جسے چاہتا ہے نوازتا ہے۔ بندوں کے سب اقوال سنتا ہے ایک ایک بندہ اور اس کے اعمال اس کی نگاہ میں ہیں وہ بخوبی جانتا ہے کہ منصب نبوت کا مستحق کون ہے ؟ جیسے فرمایا آیت (اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ ۭسَيُصِيْبُ الَّذِيْنَ اَجْرَمُوْا صَغَارٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَعَذَابٌ شَدِيْدٌۢ بِمَا كَانُوْا يَمْكُرُوْنَ01204) 6۔ الانعام :124) رب ہی کو علم ہے کہ منصب رسالت کا صحیح طور اہل کون…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْحَجّ 125 یہ فقرہ قرآن مجید میں بالعموم شفاعت کے مشرکانہ عقیدے کی تردید کے لیے آیا کرتا ہے۔ لہٰذا اس مقام پر پچھلے فقرے کے بعد اسے ارشاد فرمانے کا مطلب یہ ہوا کہ ملائکہ اور انبیاء و صلحاء کو بذات خود حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ کر نہ سہی، اللہ کے ہاں سفارشی سمجھ کر بھی اگر تم پوجتے ہو تو یہ غلط ہے۔ کیونکہ سب کچھ دیکھنے اور سننے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے، ہر شخص کے ظاہر اور مخفی حالات وہی جانتا ہے، دنیا کے کھلے اور چھپے مصالح سے بھی وہی واقف ہے، ملائکہ اور انبیاء سمیت کسی مخلوق کو بھی ٹھیک معلوم نہیں ہے کہ کس وقت کیا کرنا مناسب ہے اور کیا مناسب نہیں ہے، لہٰذا اللہ نے اپنی مقرب ترین مخلوق…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 75–76

خلاصہ تفسیر اللہ تعالیٰ (کو اختیار ہے رسالت کے لئے جس کو چاہتا ہے) منتخب کرلیتا ہے فرشتوں میں سے (جن فرشتوں کو چاہے) احکام (الٰہیہ نبیوں کے پاس) پہنچانے والے (مقرر فرما دیتا ہے) اور (اسی طرح) آدمیوں میں سے بھی جس کو چاہے عامہ ناس کے لئے احکام پہنچانے والے مقرر کردیتا ہے یعنی رسالت کا مدار اصطفاء خداوندی پر ہے اس میں کچھ ملکیت یعنی فرشتہ ہونے کی خصوصیت نہیں بلکہ جس طرح ملکیت کے ساتھ رسالت جمع ہو سکتی ہے جس کو مشرکین بھی مانتے ہیں چناچہ فرشتوں کے رسول ہونے کی وہ خود تجویز کرتے تھے اسی طرح بشریت کے ساتھ بھی وہ جمع ہو سکتی ہے رہا یہ کہ اصطفا کسی ایک خاص کے ساتھ کیوں واقع ہوا تو ظاہری سبب تو اس کا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ان فرشتوں کے آگے اور پیچھے جو کچھ ہے سب خدا کے علم کے احاطہ میں ہے اس وجہ سے نہ وہ خدا کے علم میں کوئی اضافہ کرسکتے، نہ ان کا کوئی قول و فعل خدا کی نگرانی سے بالاتر ہوسکتا اور نہ وہ کسی کے باب میں خدا سے یہ کہنے کے پوزیشن میں ہیں کہ ان کو اس کے بارے میں علم ہے، خدا کو نہیں ہے۔ سارے امور خدا ہی کے حضور میں پیش ہوتے ہیں۔ نہ ان فرشتوں کے آگے پیش ہوتے ہیں، نہ پیش ہوں گے۔ خود ان فرشتوں کو جو امور تفویض ہوتے ہیں ان کی رپورٹ بھی خدا ہی کے حضور ان کو پیش کرنی ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

76۔ 1 جب تمام معاملات کا مرجع اللہ ہی ہے تو پھر انسان اس کی نافرمانی کرکے کہاں جاسکتا ہے اور اس کے عذاب سے کیونکر بچ سکتا ہے ؟ کیا اس کے لئے یہ بہتر نہیں ہے کہ وہ اس کی اطاعت اور فرماں برداری کا راستہ اختیار کر کے اس کی رضا حاصل کرے ؟ چناچہ اگلی آیت میں اس کی صراحت کی جا رہی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 75–76

اللہ یصطفی من ……الامور (67) ملائکہ اور رسولوں کو جو اختیارات دیئے گئے ہیں وہ صاحب قوت بادشاہ کے دربار سے ملے ہیں۔ حضرت محمد ﷺ اس عزیز و جابر کے نمائندے ہیں۔ ان کے پاس بادشاہ کے اختیارات ہیں۔ ان کے مقابلے میں ان لوگوں کی کیا حیثیت ہے جو ان بیچارہ بتوں کے آگے جھکتے ہیں۔ اللہ توسیع وبصیر ہے ، سنتا ہے اور دیکھتا ہے ۔ جو لوگوں کے سامنے ہو وہ بھی جو ان کے پیچھے ہو ، یا ان سے خفیہ ہو اس کو بھی۔ اس کا علم کامل و شامل ہے۔ اس سے کوئی قریب و بعید کی چیز غائب نہیں ہو سکتی۔ تمام باتوں اور مقدموں کا رجوع اور آخری فیصلے کا اختیار اللہ ہی کا ہے۔ ہر قوم کے مناسک ہوتے ہیں اور مشرکین کے یہ مناسک ہیں جو مکھی سے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

وَاِلَی اللّٰہِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ ” اس آیت میں آخرت کا ذکر بھی آگیا اور یوں اس دعوت عمومی میں امور ثلاثہ یعنی توحید ‘ رسالت اور آخرت کا ذکر کردیا گیا۔ یاد رہے کہ اس دعوت میں یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ آیت 37 کے الفاظ سے نوع انسانی کے تمام افراد کو مخاطب کیا گیا ہے۔ اب دوسرے مرحلے کی دعوت ان خصوصی لوگوں کے لیے ہے جنہوں نے اس پہلی دعوت پر لبیک کہا کہ ہم ایک اللہ کو معبود مانتے ہیں ‘ محمد ﷺ کو اللہ کا رسول تسلیم کرتے ہیں ‘ بعث بعد الموت پر بھی یقین رکھتے ہیں اور اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ کے فلسفے پر بھی ایمان رکھتے ہیں ‘ وہ لوگ اہل ایمان قرار پائے۔ اب اگلے مرحلے میں انہی لوگوں کو…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

105 ( يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا 110۔ ) 20 ۔ طه :110) یہ جملہ قرآن کریم میں چار مقامات سورة بقرہ آیت 255 (آیہ الکرسی) سورة طٰہ، آیت نمبر 110، سورة انبیائ، آیت نمبر 28، اور یہاں سورة حج کی آیت نمبر 76 میں استعمال ہوا ہے۔ اور ہر مقام پر اس جملہ سے پہلے یا آخر میں سفارش اور معبودان باطل کا ذکر ہے۔ اس جملہ میں سفارش پر پابندیوں کی وجہ بیان کی گئی ہے۔ سفارش پر پابندیاں یہ ہیں۔ (1) کوئی شخص اللہ کے اذن کے بغیر سفارش نہ کرسکے گا (2) سفارش اسی کے حق میں کی جاسکے گی جس کے حق میں اللہ چاہے گا اور (3) صرف اس جرم یا خطا کے لئے جاسکے گی جس اللہ کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 73–78

آیت نمبر 73 تا 78 ترجمہ : اے لوگو ! یعنی مکہ والو ایک عجیب بات بیان کی جاتی ہے اس کو کان لگا کر سنو اور وہ بات یہ ہے کہ اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ جن کو تم خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو یعنی بندگی کرتے ہو غیر اللہ کی وہ بت ہیں وہ ایک مکھی کو تو پیدا کر ہی نہیں سکتے ذباب اسم جنس ہے اس کا واحد ذبابہ ہے اس کا اطلاق مذکر اور مؤنث دونوں پر ہوتا ہے گو اس تخلیق کے لئے سب کے سب جمع ہوجائیں اور اگر ان سے مکھی کچھ چھین لیجائے اس میں سے جو ان پر خوشبو اور زعفران لگی ہوئی ہے (جس میں وہ لتھڑے ہوئے ہوتے ہیں) تو اس کو وہ ان سے واپس نہیں لے سکتے ان کے عاجز ہونے کی وجہ سے، پھر کیوں بندگی کرتے ہیں (ان کی) اللہ کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یعلم ما بین ایدیہم وما خلفہم وہ ان (سب فرشتوں اور آدمیوں کی) آئندہ اور گزشتہ حالتوں کو جانتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے آگے پیچھے کی تشریح میں فرمایا جو کچھ انہوں نے اپنے آگے بھیج دیا اور جو کچھ پیچھے چھوڑ آئے (اچھا یا برا عمل آگے بھیج دیا یا مرنے کے بعد اچھا برا طریقہ جاری کر کے چھوڑ آئے) حسن نے کہا جو کچھ عمل کرچکے اور جو آئندہ کرنے والے ہیں ‘ بعض اہل تفسیر نے کہا کہ ہُمْ : ضمیر پیغمبروں کی طرف راجع ہے یعنی پیغمبروں کی پیدائش سے پہلے کے احوال اور ان کے مرنے کے بعد کے احوال سے اللہ واقف ہے۔ والی اللہ ترجع الامور۔ اور تمام امور کا رجوع اللہ ہی کی طرف ہوتا ہے۔ وہی مالک ہے اس سے کوئی نہیں پوچھ سکتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(76) اور وہ ان فرشتوں اور انسانوں کے امور آخرت دنیا اور ان سب چیزوں کو اچھی طرح جانتا ہے اور آخرت میں تمام کاموں کا انجام اللہ تعالیٰ بتا دے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ۚيَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ : یہ جملہ قرآن مجید میں چار مقامات پر آیا ہے، سورة بقرہ (255)۔ سورة طٰہٰ (110) ، سورة انبیاء (28) اور یہاں سورة حج میں۔ ہر مقام پر اس جملے سے پہلے یا بعد میں سفارش یا معبودان باطلہ کا ذکر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ فرشتوں اور انبیاء و اولیاء کو اگر بذات خود حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ کر نہیں بلکہ اللہ کے ہاں سفارشی سمجھ کر پکارتے ہو، تو یہ بھی غلط ہے، کیونکہ سب کچھ دیکھنے اور سننے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ ہر شخص کے ظاہر اور مخفی حالات وہی جانتا ہے، دنیا کی کھلی اور چھپی ضرورتیں اور مصلحتیں بھی وہی جانتا ہے، فرشتوں اور نبیوں سمیت کسی مخلوق کو بھی پوری…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

یَعْلَمُ مَابَیْنَ اَیْدِیْھِمْ (وہ جانتے ہیں اس کو جو ان کے سامنے ہے) یعنی گزر چکا وَمَاخَلْفَھُمْ (اور جو ان کے پیچھے ہے) جو ابھی نہیں آیا۔ یا نمبر 2۔ جو اعمال وہ حال میں کر رہے ہیں۔ اور جو مستقبل میں کریں گے۔ نمبر 3۔ ان کی دنیا کے معاملے کو اور انکی آخرت کے متعلق وَاِلَی اللّٰہِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ (اور تمام معاملات اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹتے ہیں) یعنی اس کی طرف تمام امور کا لوٹنا ہے اور وہ ذات جس میں یہ صفات پائی جائیں لا یسئل عما یفعل ] الانبیاء : 23] اس سے اس بات کا سوال نہیں کیا جاسکتا جو وہ کرے۔ اس کے فیصلوں میں کسی کو اعتراض کا حق حاصل نہیں اور اس کی تدابیر اور اختیار رسل پر کسی کو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 75–77

1۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ آیت اللہ یصطفی یعنی اللہ تعالیٰ لوگوں میں سے انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام چن لیتے ہیں۔ 2۔ الحاکم وصححہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے چن لیا موسیٰ (علیہ السلام) کو کلام کے ساتھ اور ابراہیم (علیہ السلام) کو خلت کے ساتھ۔ 3۔ الحاکم وصححہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ موسیٰ بن عمران صفی اللہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے منتخب بندے 4۔ بغوی نے معجم میں اور باوردی اور ابن قانع والطبرانی وابن عساکر نے زید بن ابی اوفی ؓ سے روایت کیا کہ میں مدینہ منورہ کی مسجد میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا۔ آپ نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

يَعْلَمُ [ وہ جانتا ہے ] مَا [ اس کو جو ] بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ [ ان کے آگے ہے ] وَمَا [ اور اس کو جو ] خَلْفَهُمْ ۭ [ ان کے پیچھے ہے ] وَاِلَى اللّٰهِ [ اور اللہ کی طرف ہی ] تُرْجَعُ [ لوٹائے جائیں گے ] الْاُمُوْرُ [ تمام معاملات ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْھِمْ وَ مَا خَلْفَھُمْ ) (وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے) یعنی اسے انسانوں کے اگلے پچھلے احوال و اعمال سب معلوم ہیں۔ (وَ اِلَی اللّٰہِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ ) (اور تمام امور اللہ ہی کی طرف لوٹتے ہیں) اللہ تعالیٰ کو ہر طرح کا اختیار ہے دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے وہ بھی اس کی مشیت اور ارادہ سے ہوتا ہے اور آخرت میں بھی صرف اسی کے ارادہ اور مشیت کے مطابق سب کچھ ہوگا اور اسی کا حکم چلے گا اور سارے فیصلے اسی کے ہونگے اور حق ہونگے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 73–76

بیان مثال معبودات باطلہ برائے ابطال شرک قال اللہ تعالیٰ یایھا الناس ضرب مثل فاستمعوا لہ .... الیٰ .... والی اللہ ترجع الامور۔ (ربط) گزشتہ آیات میں مشرکین کی جہالت کو بیان کیا کہ جن چیزوں کی یہ لوگ پرستش کرتے ہیں ان کے پاس اس کی کوئی دلیل اور سند نہیں اب ان آیات میں شرک کی شناعت اور قباحت کو اور مشرکین کی حماقت کو ایک مثال کے ذریعہ واضح کرتے ہیں کہ جن چیزوں کو یہ معبود بنائے ہوئے ہیں وہ چیزیں قابل عبادت نہیں۔ عبادت کے لائق تو وہ ذات ہے کہ جو قادر مطلق ہو اور یہ بت تو عاجز مطلق ہیں۔ ان میں کسی چیز کے پیدا کرنے کی قدرت نہیں یہ تو اس قدرت عاجز ہیں کہ اپنے اوپر سے مکھی دفع کرنے کی بھی قدرت نہیں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

89:۔ ” یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْھِمْ الخ “ عالم الغیب صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں۔ ” وَ اِلَی اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ “ اور متصرف و مختار بھی وہی ہے لہذا دور و نزدیک سے حاجات میں پکارنا اور نذریں نیازیں دینا صرف اسی کے لیے جائز ہیں اس کے سوا کسی اور کے لیے جائز نہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 73–76

ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ نے مشرکین کا ر د فرمایا تھا ویعبدون من دون اللہ مالم ینزل بہ سلطنا یہ لوگ ایسی ہستیوں کی عبادت کرتے ہیں جن کے بارے میں اللہ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ پھر کفر اور شرک کرنے والوں کی قباحت بیان کہ کہ وہ حق بات یعنی آیات الٰہی کو سننے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ تاہم جب کبھی وہ یہ آیات سن لیتے ہیں تو ان کے چہرے بگڑ جاتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا کہ تم کو جو ناگواری آیات الٰہی کے سننے سے ہوتی ہے۔ اس سے بھی زیادہ بری بات یہ ہے کہ تم دوزخ کی آگ کا شکار ہونے والے ہو۔ مشرکوں کے لئے مکھی کی مثال : اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے ایک مثال کے ذریعے کفر وشرک کا رد فرمایا ہے۔ اس…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْہِمْ وَمَا خَلْفَہُمْ۝ 0ۭ وَاِلَى اللہِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۝ 76 خلف ( پیچھے ) خَلْفُ : ضدّ القُدَّام، قال تعالی: يَعْلَمُ ما بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَما خَلْفَهُمْ [ البقرة/ 255] ، وقال تعالی: لَهُ مُعَقِّباتٌ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ [ الرعد/ 11] ( خ ل) خلف ( پیچھے ) یہ قدام کی ضد ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ يَعْلَمُ ما بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَما خَلْفَهُمْ [ البقرة/ 255] جو کچھ ان کے روبرو ہو راہا ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہوچکا ہے اسے سب معلوم ہے ۔ لَهُ مُعَقِّباتٌ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ [ الرعد/ 11] اس کے آگے پیچھے خدا کے جو کیدار ہیں ۔ الله الله :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 75–78

بتوں کی حقیقت تو معلوم ہوگئی اب رہے وہ لوگ کہ جو خدا کے برگزیدہ ہیں ملائکہ و انبیاء جن کو کہ اکثر بت پرست یا مشرکین پوجتے ہیں اور معبود حقیقی کے برابر ان کے درجات تسلیم کر کے ان سے حاجات کا سوال کرتے ہیں جیسا کہ عیسائی حضرت مسیح (علیہ السلام) کو اور ہنود اپنے بزرگوں کو آج کل کے جاہل مسلمان اولیائِ کرام اور بزرگان دین کو پوجتے ہیں اور عرب کے مشرکین اور صائبین ملائکہ کو پوجتے تھے پس ان کی نسبت فرماتا ہے اللہ یصطفٰی من الملائکۃ رسلاومن الناس کہ ملائکہ اور لوگوں میں سے جو ممتاز اور رسول ہیں ان کو بھی تو اللہ ہی نے برگزیدہ کیا ہے یعنی ان کے کمالات اپنے گھر کے نہیں ان کی بزرگی اللہ کی عطا کی ہوئی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

یَعْلَمُ مَابَیْنَ اَیْدِ یْھِمْ وَمَاخَلْفَھُمْ ط وَاِلَی اللّٰہِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ ۔ (الحج : 76) (وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے۔ اور اللہ ہی کی طرف سارے معاملات لوٹتے ہیں۔ ) اللہ کے علم اور قدرت کی وسعت مشرکین کی گمراہیوں میں سے ایک گمراہی یہ بھی تھی کہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ ہم جیسی بھی زندگی گزاریں فرشتے اللہ سے سفارش کرکے ہمیں چھڑالیں گے۔ اس لیے وہ اپنے سب معاملات میں فرشتوں ہی کی طرف رجوع کرتے تھے۔ یعنی ان سے مدد طلب کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ جو کچھ فرشتوں کے سامنے ہے جسے وہ کسی حد تک دیکھ سکتے ہیں۔ اللہ اسے بھی جانتا ہے اور جو کچھ ان کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 75–76

فہم القرآن ربط کلام : مشرکوں کو یہ اعتراض تھا کہ اللہ نے محمد ﷺ کو نبی کیوں منتخب کیا ہے ؟ حالانکہ دولت اور اثر رسوخ کے اعتبار سے اس سے فلاں فلاں آدمی زیادہ موزوں تھے۔ یہودیوں کو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) پر اعتراض ہے کہ اس نے ہمارے آباو اجداد پر عذاب نازل کیا ہے۔ اس لیے اس کی بجائے وحی لانے پر کسی اور فرشتے کو مامور کرنا چاہیے تھا۔ اب یہ ارشاد فرمایا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا حسن انتخاب ہے کہ وہ ملائکہ میں جس کو چاہے اپنی وحی کے لیے منتخب فرمائے اور بندوں میں سے جس کو چاہیے نبی بنائے۔ وہ ہر بات سنتا اور ہر چیز کو دیکھنے والا ہے۔ یعنی اسے اچھی طرح معلوم ہے کہ کون کس نیت کے ساتھ اعتراض کرتا ہے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

76: یَعْلَمُ مَابَیْنَ اَیْدِیْھِمْ (وہ جانتے ہیں اس کو جو ان کے سامنے ہے) یعنی گزر چکا وَمَاخَلْفَھُمْ (اور جو ان کے پیچھے ہے) جو ابھی نہیں آیا۔ یا نمبر 2۔ جو اعمال وہ حال میں کر رہے ہیں۔ اور جو مستقبل میں کریں گے۔ نمبر 3۔ ان کی دنیا کے معاملے کو اور انکی آخرت کے متعلق وَاِلَی اللّٰہِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ (اور تمام معاملات اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹتے ہیں) یعنی اس کی طرف تمام امور کا لوٹنا ہے اور وہ ذات جس میں یہ صفات پائی جائیں لا یسئل عما یفعل ] الانبیاء : 23] اس سے اس بات کا سوال نہیں کیا جاسکتا جو وہ کرے۔ اس کے فیصلوں میں کسی کو اعتراض کا حق حاصل نہیں اور اس کی تدابیر اور اختیار رسل پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

مابین ایدیھم وماخلفھم کی مختلف تفاسیر۔ 76۔ یعلم مابین ایدیھم، حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے آگے پیچھے کی تشریح میں فرمایا جو کچھ انہوں نے آگے بھیجا، وماخلفھم، اور جو کچھ انہوں نے پیچھے چھوڑا۔ حسن کا قول ہے کہ مابین ایدیھم، سے مراد جو کچھ وہ عمل کرچکے اور وماخلفھم سے مراد جو اس کے بعد وہ عمل کریں گے بعض نے کہا کہ ، مابین ایدیھم سے مراد فرشتے آسمانی کتابیں اور رسول ہیں جوان کے پیدا کرنے سے پہلے گزرچکے ہیں اور وماخلفھم سے مراد ان پیغمبروں کے بعد کے احوال سے اللہ واقف ہیں۔ والی اللہ ترجع الامور۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 75–76

75۔ 76:۔ سورة الزخرف میں آوے گا کہ اکثر مشرکین مکہ جب یہ سمجھ گئے کہ جس طریقہ پر وہ لوگ ہیں ‘ ملت ابراہیمی کے وہ طریقہ بالکل خلاف ہے تو ان لوگوں نے یہ کہنا شروع کردیا تھا کہ ہم لوگ مالدار اور محمد ﷺ تنگ دست ہیں اس واسطے مکہ کے ولید بن مغیرہ یا طائف کے عمرو بن مسعود جیسے مالدار شخص کو ہم اپنا رسول بنانا اور اس سے ملت ابراہیمی کو سیکھنا چاہتے ہیں مشرکین مکہ کی اس بات کا جواب اللہ تعالیٰ نے سورة الزخرف میں تفصیل سے دیا ہے اور یہاں مختصر طور پر اتنا ہی جواب دیا ہے کہ جس طرح یہ لوگ اللہ کی قدرت کے پہچاننے سے بےبہرہ ہیں اسی طرح اللہ کی حکمت کا علم ان لوگوں کو نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے جس کو چاہا اپنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 75–76

آیت 75 اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنا کمال اور بتوں کی کمزوری اور عجز بیان کرنے کے بعد، نیزیہ کہ وہی معبود برحق ہے۔۔۔. انبیاء و رسل کا حال بیان کیا ہے اور ان کے وہ امتیازی فضائل بیان کئے جن کے ذریعے سے وہ دیگر مخلوق سے ممتاز ہیں، تو فرمایا : (اللہ یصطفی من الملء آ رسلا و من الناس) یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ فرشتوں اور انسانوں میں سے رسول منتخب کرتا ہے جو اپنی نوع میں بہترین فرد اور صفات مجد کے سب سے زیادہ جامع اور منتخب کئے جانے کے سب سے زیادہ اہل اور مستحق ہوتے ہیں۔ پس رسول علی الاطلاق مخلوق میں سے چنے ہوئے لوگ ہوتے ہیں اور جس ہستی نے ان کو رسالت کے منصب کے لئے منتخب کیا ہے وہ اشیاء کے حقائق سے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 68–78

جہاد فی سبیل اللہ قول باری ہے (وجاھدوا فی اللہ حق جھادہ ھوا جتبکم وما جعل علیکم فی الدین من حرج ملۃ ابیکم ابراہیم اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ جہاد کرنے کا حق ہے اس نے تمہیں اپنے کام کے لئے چن لیا ہے اور دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔ قائم ہو جائو اپنے باپ ابراہیم کی ملت پر) ایک قول کے مطابق آیت کا مفہوم یہ ہے کہ ” اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ جاد کرنے کا حق ہے اور اپنے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت کی پیروی کرو۔ “ اسی بنا پر (ملۃ ابیکم) منصوب ہے بعض مفسرین کا قول ہے کہ اس کے منصوب ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یہاں کملۃ ابیکم مراد ہے۔ تاہم جب حرف جار محذوف ہوگیا تو اسم فعل کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

143 اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ ایک برابر جانتا ہے وہ سب کچھ جو کہ ان کے آگے ہے اور جو کچھ کہ ان کے پیچھے ہے "۔ جگہ و مکان کے اعتبار سے بھی اور وقت و زمان کے لحاظ سے بھی ‘ سو اس کے بندوں اور اس کے رسولوں سے احوال میں سے کچھ بھی اس مالک الملک سے مخفی اور پوشیدہ نہیں، فرشتے نوری مخلوق میں سے بھی ہوتے ہیں اور بشر و انسان میں سے بھی، بس وہ ہوتے بہرحال انسان ہی ہیں، ان میں کسی خدائی صفت کا کوئی شائبہ نہیں ہوتا، خداوند قدوس ایسے تمام شوائب سے پاک اور اعلی وبالا ہے، سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے اللہ تعالیٰ کے کمال علم کے ایک پہلو کا ذکر وبیان فرمایا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 60–78

اللہ کی حاکمیت اور اللہ کے لیے انسان کی بندگی تشریح : اخلاقیات کا ایک بہت بڑا سبق اللہ تعالیٰ دہرا رہے ہیں۔ وہ یہ کہ مسلمان کے لیے اصول بنا دیا گیا ہے کہ ظلم و زیادتی کا جواب اتنا ہی دیں جتنی زیادتی ان پر کی گئی ہو۔ کیونکہ اللہ ظلم کو پسند نہیں کرتا اس لیے اس نے وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ مظلو موں کی مدد ضرور کرتا ہے۔ یہ وعدہ اور یہ اخلاقی اصول کسی معمولی ہستی کے بنائے ہوئے نہیں بلکہ یہ اس رب العلمین کے بنائے ہوئے ہیں جس نے انسان کو پیدا کیا پھر اسکی نشوونما اور آرام و سکون کے لیے آسمانوں کو بلند کیا زمین بنائی اس میں ہر قسم کے چرند ‘ پرند ‘ حیوانات ‘ نباتات ‘ چاند، سورج، ستارے ‘ ندی نالے، دریا،…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 73–78

(رکوع نمبر 10) اسرارومعارف لوگو اس بات پر غور کرو اور اچھی طرح سوچو کہ اللہ جل جلالہ کے علاوہ جس جس کی پوجا کی جاتی ہے اگر وہ سب معبودان باطلہ اکھٹے ہو کر بھی کوشش کریں تو ایک مکھی جیسی حقیر مخلوق بھی بنا نہیں سکتے نہ صرف یہ بلکہ ان پر جو چڑھاوے چڑھاتے ہو ان کے سامنے پڑی ہوئی اشیاء کو مکھی کھاتی رہتی ہے وہ تو مکھی اڑا بھی نہیں سکتے کہ اپنے شے کو اس سے بچا لیں بھلا وہ تمہاری مدد کریں گے ، کتنے حقیر ہیں ان سے مانگنے والے اور کس قدر بےبس یہ تمہارے مطلوب ومعبود بنے ہوئے ہیں ، افسوس کہ تم نے اللہ جل جلالہ کی عظمت کو نہ جانا اور اس کی قدر نہ کرسکے لیکن اے کفار تمہارے نہ ماننے سے اس کی عظمت میں کوئی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

4 ۔ لہٰذا اس کے انتخاب میں کسی غلطی یا نقص کا امکان نہیں ہے اور نہ اس سے بہتر کسی کا انتخاب ہوسکتا ہے۔ 5 ۔ یعنی وہ پیغمبر خود کوئی اختیار نہیں رکھتے۔ اختیار ہر چیز میں اللہ کا ہے۔ (موضح)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 75–77

(22:75) یصطفی۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ اصطفی مصدر باب افعال وہ چن لیتا ہے وہ منتخب کرلیتا ہے ۔ وہ برگزیدہ بنا لیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 73–78

لغات القرآن : آیت نمبر 73 تا 78 : ضرب (بیان کیا گیا۔ مارا گیا) ‘ استمعوا (غور سے سنو) ‘ لن یخلقوا (وہ ہرگز پیدا نہ کریں گے۔ وہ ہرگز پیدا نہیں کرسکتے) ‘ ذباب مکھی۔ کوئی ایک مکھی) ‘ یسلب (وہ کھینچ لیتا ہے۔ وہ چھین لیتا ہے) ‘ لایستنقذوہ (وہ نہ چھڑا سکیں گے) ‘ الطالب (چاہنے والا) ‘ مطلوب (چاہا گیا) ‘ یصطفی (وہ منتخب کرتا ہے) ‘ افعلوا (تم کرو) ‘ الخیر (بھائی ۔ نیک کام) ‘ اجتبی (اس نے چنا۔ منتخب کیا) ‘ حرج (تنگی) ‘ سمی (اس نے نام رکھا) ‘ شھید (گواہ) ‘ اعتصموا (تم مضبوط تھام لو) ‘ مولی (مالک) ‘ نعم المولی (بہترین مالک) ‘ نعم النصیر (بہترین مدد گار) ۔ تشریح : آیت نمبر 73 تا 78 : اللہ وہ ہے جو کائنات…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 75–76

مشرکین کا اعتراض۔ (ف 1) شان نزول : یہ آیت ان کفار کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے بشر کے رسول ہونے کا انکار کیا تھا اور کہا تھا کہ بشر کیسے رسول ہوسکتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ جس طرح یہ لوگ اللہ کی قدرت کے پہچاننے سے بےبہرہ ہیں اسی طرح اللہ کی حکمت کا علم ان لوگوں کو نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے جس کو چاہا اپنی حکمت کے موافق فرشتوں اور بنی آدم میں سے رسول بنایا ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی حکمت کانہ کچھ بھید معلوم ہے نہ ان کو اللہ تعالیٰ کی حکمت میں دخل دینے کا کچھ حق حاصل ہے آگے فرمایا کہ یہ مشرک لوگ اللہ کے رسول کی شان میں جو باتیں بناتے ہیں وہ اللہ سب سنتا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 76–78

[53] یعنی جب آخرت میں تمام انسانوں کو حساب کے لئے جمع کیا جائے گا اس وقت نبی ﷺ گواہی دیں گے کہ جو احکام اللہ نے آپ کو دیئے تھے وہ آپ نے بےکم وکاست اپنی امت کو پہنچا دیئے اور عملاً ان کے مطابق کام کر کے دکھا دیا۔ اس کے بعد رسول کے قائم مقام ہونے کی حیثیت سے امت محمدیہ کو تمام انسانوں پر گواہی دینی ہوگی کہ نبی ﷺ نے جو کچھ انھیں پہنچایا ہے اور عملاً کر کے دکھایا اس کے پہنچانے اور اس پر عمل کر کے دکھانے میں اس سے کوئی کوتاہی نہیں ہوئی ہے۔ [54] اللہ کی رسی سے مراد قرآن مجید ہے، نبی ﷺ نے قرآن مجید کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے ہو حبل اللہ المتین (یہ اللہ کی مضبوط رسی ہے) قرآن کو اللہ کی رسی اس لئے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 76–78

(ف 1) ان آیات میں کئی چیزیں بیان کی ہیں ، پہلے تو یہ تاکید فرمائی کہ رکوع اور سجود سے اللہ کی عبادت کرو اور اس قسم کے نیک افعال جاری رکھو ، کہ نجات اور روحانی کامیابی کے لئے یہ ضروری ہیں پھر جہاد کی تلقین کرکے یہ نکتہ سمجھایا کہ عبادت سے غرض تحفظ دین کا جذبہ پیدا کرنا ہے یعنی نیاز مندی اور عقیدت کے معنے یہ ہیں کہ جب دشمنان دین تمہاری نمازوں سے تمہیں روکیں ، اور تمہارے دین کو مٹانا چاہیں اور ان تعلقات کا امتحان لینا چاہیں تو تم نے اپنے مولا سے استوار کر رکھے ہیں تو پھر میدان جہاد میں کود پڑو ۔ اس کے بعد اسلام کی خوبی اور فضیلت بیان کی کہ اس میں کہیں دشواری تنگی موجود نہیں ، نہایت سہل اور آسمان…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(76) وہ ان سب فرشتوں اور انسانوں کے اگلے پچھلے حالات کو جانتا ہے اور سب کاموں کی بازگشت اور جملہ امور کا مدار اسی پر ہے۔ یعنی اللہ ان کے گزشتہ اور آئندہ حالات کو جانتا ہے اس لئے اس کو معلوم ہے کہ کون خدمت رسالت کا اہل ہے اور کون نہیں ہے۔ پس جس کو مناسب سمجھتا ہے منتخب فرماتا ہے اس میں کسی دوسرے کو دخل نہیں۔ اس سے کسی کو اس انتخاب میں دریافت کرنے اور پوچھنے کا حق نہیں۔ اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی وے بھی اختیار نہیں رکھتے اختیار ہرچیز میں اللہ کا ہے۔ 12

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 76–77

ف 3۔ غرض سب احوال مسموعہ و مبصرہ اس کو معلوم ہیں، ان میں بعض کا حال مقتضی اس اصطفاء کا ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے اور پیچھے ہے : 76۔ یہ ماضی ‘ حال ‘ اور مستقبل کا استعمال انسانوں کے حق میں ہے اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے لئے سب کچھ حال ہی حال ہے لہذا وہ سب کے متعلق خوب اچھی طرح جانتا ہے کہ اس کا ماضی کیسا تھا ‘ حال کیسا ہے اور مستقبل کیسا ہوگا ؟ گویا انبیاء کرام (علیہ السلام) ہوں یا فرشتے جیسا کہ گزشتہ آیت میں ان دونوں فریقوں کا ذکر گزرا ان سب کے آگے اور پیچھے سے وہ خوب واقف ہے اور سب کچھ اس کے احاطہ علم میں ہے اس لئے نہ وہ اللہ تعالیٰ کے علم میں کوئی اضافہ کرسکتے ہیں اور نہ ہی ان کا کوئی قول وفعل اللہ تعالیٰ کی نگرانی سے بالاتر ہو سکتا ہے اور نہ ہی وہ کسی کے حق میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 74–76

مَا قَدَرُ‌وا اللَّـهَ حَقَّ قَدْرِ‌هِ (They did not recognize Allah in His true esteem - 22:74). It means that these people are so foolish and ungrateful that they did not recognize the power of Allah Ta’ ala and place their helpless idols at the same level with Him.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

125. The Quran employs this sentence to refute the creed of the mushriks in regard to intercession, as if to say: You imagine that angels, prophets, saints and the like can intercede with Allah on your behalf and therefore you worship them. You are absolutely wrong. For none of your deities knows what is good for you and what is not. Allah alone hears everything, sees everything and knows everything. Therefore He has not given the right of intercession and recommendation to anyone except when He Himself is pleased to give such permission. 126. This is to impress upon them that every affair…

Read the full tafseer →