Explained with ayahs 73–74
کم عقل پجاری
اللہ کے ماسوا جن کے عبادت کی جاتی ہے ان کی کمزوری اور ان کے پجاریوں کی کم عقلی بیان ہو رہی ہے کہ اے لوگو یہ جاہل جس جس کی بھی اللہ کے سوا عبادت کرتے ہیں، رب کے ساتھ یہ جو شرک کرتے ہیں، ان کی ایک مثال نہایت عمدہ اور بالکل واقعہ کے مطابق بیان ہو رہی ہے ذرا توجہ سے سنو۔ کہ ان کے تمام کے تمام بت، بزرگ وغیرہ جنہیں یہ اللہ کا شریک ٹھہرا رہے ہیں، جمع ہوجائیں اور ایک مکھی بنانا چاہیں تو سارے عاجز آجائیں گے اور ایک مکھی بھی پیدا نہ کرسکیں گے۔ مسند احمد کی حدیث قدسی میں فرمان الٰہی ہے اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو میری طرح کسی کو بنانا چاہتا ہے۔ اگر واقعہ میں کسی کو یہ قدرت حاصل ہے تو ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
سورة الْحَجّ 123
یعنی مدد چاہنے والا تو اس لیے کسی بالا تر طاقت کی طرف استمداد کے لیے ہاتھ پھیلاتا ہے کہ وہ کمزور ہے۔ مگر اس غرض کے لیے یہ جن کے آگے ہاتھ پھیلا رہے ہیں ان کی کمزوری کا حال یہ ہے کہ وہ ایک مکھی سے بھی عہدہ برا نہیں ہوسکتے۔ اب غور کرو کہ ان لوگوں کی کمزوری کا کیا حال ہوگا جو خود بھی کمزور ہوں اور ان کی امیدوں کے سہارے بھی کمزور۔
Read the full tafseer →معارف و مسائل
شرک و بت پرستی کی احمقانہ حرکت کی ایک مثال سے توضیح
ضُرِبَ مَثَلٌ، ضرب مثل کا لفظ عام طور پر جو کسی خاص قصہ کی تمثیل کے لئے استعمال ہوتا ہے یہاں ضرب مثل سے یہ صورت مراد نہیں بلکہ شرک و بت پرستی کی حماقت کو ایک واضح مثال سے بیان کرنا ہے کہ یہ بت جن کو تم لوگ اپنا کارساز سمجھتے ہو یہ تو ایسے بیکس بےبس ہیں کہ سب ملا کر ایک مکھی جیسی حقیر چیز بھی پیدا نہیں کرسکتے اور پیدا کرنا تو بڑا کام ہے تم روز ان کے سامنے مٹھائی اور پھل وغیرہ کھانے کی چیزیں رکھتے ہو اور مکھیاں اس کو کھا جاتی ہیں، ان سے اتنا تو ہوتا نہیں کہ مکھیوں سے اپنی چیز ہی کو بچا لیں یہ تمہیں کسی آفت سے کیا بچائیں گے اسی…
Read the full tafseer →یعنی جب تم اپنے معبودوں کی بےحقیقیتی کا بیان سن کر ایسے ہی چڑتے ہو تو آذان کی بےبسی کی ایک حقیقت افروز تمثیل سن لو۔ یہ تمہارے سارے دیوی دیوتا، جن کو تم پکارت یہو، اگر ایک مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں تو نہیں پیدا کرسکتے اگرچہ اس کے لئے سب مل کر اپنا پورا راز در صرف کر ڈالیں۔ اور یہی نہیں کہ ایک مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے بلکہ ان کی بےبسی کا حیال ہے کہ جو حلوا تم ان کے آگے پیش کرتے ہوا اگر اس میں مکی کو کچھ چھین لے جاتے تو یہ اس کو بھی بھی نہیں بچا سکتے۔ اطلب اور مطلوب دونوں ہی ناتواں ! !
ضعف الطالب و المطلوب میں نہایت لطیف وبلیغ اشارہ اس حقیقت کی طرف ہے کہ انسان کسی کو معبود مانتا ہے تو اس وجہ سے…
Read the full tafseer →73۔ 1 یعنی یہ معبودان باطل، جن کو تم، اللہ کو چھوڑ کر، مدد کے لئے پکارتے ہو، یہ سارے کے سارے جمع ہو کر ایک نہایت حقیر سی مخلوق مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں، تو نہیں کرسکتے۔ اس کے باوجود بھی تم انہی کو حاجت روا سمجھو، تو تمہاری عقل قابل ماتم ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے سوا جن کی عبادت کی جاتی رہی ہے، وہ صرف پتھر کی بےجان مورتیاں ہیں جو ایک مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتیں ہیں۔
73۔ 2 طالب سے مراد، خود ساختہ معبود اور مطلوب سے مراد مکھی یا بعض کے نزدیک طالب سے، پجاری اور مطلوب سے اس کا معبود مراد ہے، حدیث قدسی میں معبود ان باطل کی بےبسی کا تذکرہ ان الفاظ میں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–75
33: کونسے فرشتے پیغمبروں کے پاس وحی کا پیغام لے کر جائیں، اور کن انسانوں کو پیغمبری کے مقام پر سرفراز کیا جائے، ان سب باتوں کا تعین اللہ تعالیٰ ہی کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →یایھا الناس ……والمطلوب (27)
یہ عام پکار ہے ، بلند آواز سے اعلان عام ہے۔
یا یھا الناس (22 : 38) اے لوگو ، جب لوگ جمع ہوگئے تو ان کے سامنے ایک مثال ہے۔ ایک عجیب منظر کی شکل میں ۔ یہ کوئی مخصوص مجلس نہیں ہے ، نہ کوئی اتفاقی بات ہے بلکہ لوگوں کو بلایا گیا ہے۔
ضرب مثل فاستمعوا لہ (22 : 8) ” مثال دی جاتی ہے غور سے سنو ، اس کو۔ “ یہ مثال ایک قاچدہ اور اصول مقرر کرتی ہے اور حقیقت بتاتی ہے۔
ان الذین ……اجتمعوالہ (22 : 38)
” جن معبودوں کو تم خدا کو چھوڑکر پکارتے ہو وہ سب مل کر ایک مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں تو نہیں کرسکتے۔ ‘ یعنی اللہ کے سوا تم جن بتوں کو پوجتے ہو ، یا جن اشخاص کی بندگی کرتے ہو ، یا…
Read the full tafseer →7 یہ توحید کے مقابلہ میں شرک کی شناعت و قبح ظاہر کرنے کے لیے مثال بیان فرمائی جسے کان لگا کر سننا اور غور وفکر سے سمجھنا چاہیے تاکہ ایسی رکیک و ذلیل حرکت سے باز رہو۔
1 یعنی مکھی بہت ہی ادنیٰ اور حقیر جانور ہے۔ جن چیزوں میں اتنی بھی قدرت نہیں کہ سب مل کر ایک مکھی پیدا کردیں، یا مکھی ان کے چڑھاوے وغیرہ میں سے کوئی چیز لے جائے تو اس سے واپس لے سکیں ان کو " خالق السموات والارضین " کے ساتھ معبودیت اور خدائی کی کرسی پر بٹھا دینا کس قدر بےحیائی، حماقت اور شرمناک گستاخی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ مکھی بھی کمزور مکھی سے زیادہ ان کے بت کمزور اور بتوں سے بڑھ کر ان کا پوجنے والا کمزور ہے جس نے ایسی حقیر اور…
Read the full tafseer →اس سورة مبارکہ کا آخری رکوع اپنے مضامین کے اعتبار سے بہت اہم ہے۔ اسی اعتبار سے یہ ہمارے ”مطالعہ قرآن حکیم کے منتخب نصاب“ میں بھی شامل ہے۔ چناچہ اس رکوع کے مطالعہ سے پہلے میں ”منتخب نصاب“ اور اس کی غرض وغایت کے حوالے سے بھی چند باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں۔
الحمدللہ ! ہم نے ”رجوع الی القرآن“ کی جو تحریک شروع کر رکھی ہے اور اللہ کی توفیق سے اب تک میں اس میں اپنی زندگی کے 35 سال صرف کرچکا ہوں واضح رہے کہ یہ دروس جن پر ”بیان القرآن“ مشتمل ہے ‘ 1998 ء کے ہیں۔ اسی تحریک کی کو کھ سے تنظیم اسلامی اور تحریک خلافت نے جنم لیا ہے ‘ ہماری اس دعوت ”رجوع الی القرآن“ کی بنیاد ”مطالعہ قرآن حکیم کا منتخب نصاب“ ہے۔…
Read the full tafseer →102 اللہ تعالیٰ نے اس مثال میں مکھی کا انتخاب اس لیے فرمایا کہ وہ بہت چھوٹی اور حقیر سے مخلوق ہے۔ جس سے سب لوگوں کو نفرت اور گھن آتی ہے۔ اب جو لوگ اللہ کے علاوہ کسی دوسرے سے اپنی حاجات طلب کرتے ہیں۔ انہوں نے خود اپنے آپ کو کمزور سمجھ کر ہی اپنے معبود سے حاجت طلب کی۔ لہذا اس کمزوری میں تو کوئی شبہ ہی نہ رہا۔ اور جس سے مراد طلب کی جارہی ہے اس کا اپنا یہ حال ہے کہ وہ ایک مکھی جیسی حقیر مخلوق بھی پیدا نہیں کرسکتا۔ بلکہ ان کے سامنے جو نذریں، نیازیں پیش کی جارہی ہیں ان پر مکھی پیٹھ کر اس کا حقیر سا حصہ اڑا لے جائے تو وہ اس سے واپس بھی نہیں لے سکتا۔ پھر یہ کسی ایک معبود کا مسئلہ نہیں سارے معبود مل…
Read the full tafseer →124۔ جو بالکل واضح ہے اور ہر ایک کی سمجھ میں آجانے والی ہے۔
125۔ تو ایسی عاجز، درماندہ مخلوق کو معبود ٹھہرالینا کس درجہ حماقت وسفاہت ہے۔ یہ ساری مورتیاں مل ملا کر ایک مکھی جیسی حقیر وبے حقیقت مخلوق کو پیدا بھی تو نہیں کرسکتیں اور پیدا کرنا تو پھر بڑی چیز ہے، ان کے آگے نذر اور چڑھا وے کے جو ڈھیر لگے رہتے ہیں ان میں سے اگر وہ کچھ اٹھایا چاہے تو ان میں اتنی سکت بھی تو نہیں کہ اسی کو اس سے واپس لے لیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–78
آیت نمبر 73 تا 78
ترجمہ : اے لوگو ! یعنی مکہ والو ایک عجیب بات بیان کی جاتی ہے اس کو کان لگا کر سنو اور وہ بات یہ ہے کہ اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ جن کو تم خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو یعنی بندگی کرتے ہو غیر اللہ کی وہ بت ہیں وہ ایک مکھی کو تو پیدا کر ہی نہیں سکتے ذباب اسم جنس ہے اس کا واحد ذبابہ ہے اس کا اطلاق مذکر اور مؤنث دونوں پر ہوتا ہے گو اس تخلیق کے لئے سب کے سب جمع ہوجائیں اور اگر ان سے مکھی کچھ چھین لیجائے اس میں سے جو ان پر خوشبو اور زعفران لگی ہوئی ہے (جس میں وہ لتھڑے ہوئے ہوتے ہیں) تو اس کو وہ ان سے واپس نہیں لے سکتے ان کے عاجز ہونے کی وجہ سے، پھر کیوں بندگی کرتے ہیں (ان کی) اللہ کا…
Read the full tafseer →یایہا الناس ضرب مثل فاستمعوا لہ اے لوگو ! ایک عجیب بات بیان کی جاتی ہے اس کو کان لگا کر سنو۔
مَثَلٌعجیب حالت یا عجیب قصہ۔
فَاسْتَمِعُوْا لَہٗیعنی اس مثال کو کان لگا کر اور غور کے ساتھ سنو۔
بعض اہل تفسیر نے لکھا ہے ‘ آیت کا مطلب یہ ہے کہ میری (مثل دوسروں کو قرار دیا گیا ہے ‘ یعنی کافروں نے استحقاق عبادت میں اللہ کی طرح دوسروں کو قرار دے رکھا ہے۔ اللہ مستحق عبادت ہے انہوں نے بتوں کو بھی معبود بنا رکھا ہے۔ سو ان کی حالت سنو اور خود فیصلہ کرو کہ اللہ کی مثل کسی کو قرار دینا کیا جائز ہے اس کے بعد اگلی آیت میں تفصیل بیان کی گئی ہے۔
ان الذین تدعون من دون اللہ لن یخلقوا ذبابا ولو اجتمعوا لہ (وہ یہ ہے…
Read the full tafseer →(73) اے کفار مکہ تمہارے بتوں کی ایک عجیب حالت بیان کی جاتی ہے اس کو غور سے سنو اور قبول کرو وہ یہ کہ جن بتوں کی تم عبادت کرتے ہو وہ ایک مکھی تو پیدا کر ہی نہیں سکتے اگرچہ یہ سارے عابد اور یہ سب معبود مل کر بھی کوشش کریں تب بھی ایک مکھی نہیں پیدا کرسکتے (اور یہ تو بڑی بات ہے وہ معبود تو ایسے عاج ہیں) اور اگر مکھی تمہارے ان معبودوں سے کچھ چھین لے جائے جو کچھ تم ان پر شہد ملتے ہو تو تمہارے یہ معبود اس مکھی سے چھڑا ہی نہیں سکتے اور نہ اس کو بھگا سکتے ہیں۔
ایسے ہی یہ بت بہیودہ ہیں اور ایسی ہی مکھی یا یہ کہ ایسا ہی ان کی پرستش کرنے والا بیہودہ ہے اور ایسے ہی ان کے یہ معبود بیہودہ ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ : اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ مشرکین کی اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کی کوئی نقلی دلیل ہے نہ عقلی۔ اس سورت کی ابتدا ”يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ“ سے ہوئی تھی، اختتام کے قریب بھی ”يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ“ کے ساتھ خطاب ہے۔ ”يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ“ سے مراد یہاں مشرکین ہیں، کیونکہ اللہ کے سوا دوسروں کو وہی پکارتے ہیں، سب لوگ ایسا نہیں کرتے۔ یا سب لوگوں ہی کو خطاب ہے، جیسے کسی قبیلے کا ایک آدمی کوئی کام کرے تو کہہ دیا جاتا ہے، قبیلے والو ! تم نے یہ کام کیا ہے۔ (روح المعانی) فرمایا، لوگو ! ایک مثال بیان کی گئی ہے، اسے کان لگا کر سنو۔ یہاں مثال…
Read the full tafseer →معبودانِ باطلہ کی تحقیر :
جب انکا دعویٰ یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کے شرکاء تو عجیب و غریب اور مشہور ہونے میں ضرب الامثال کی طرح مشہور ہیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ ضُرِبَ (اے لوگو ! بیان کی جاتی ہے) واضح کی جاتی ہے۔ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَہٗ (ایک مثال تم اس کو غور سے سنو ! ) ہم یہ مثال بیان کرتے ہیں۔ اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ (بیشک وہ جن کی تم عبادت کرتے ہو۔ )
یعقوب اور سہل نے یدعون پڑھا ہے۔ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کے سوا) بطور معبود لَنْ یَّخْلُقُوْا ذُبَابًا (وہ ہر گز مکھی پیدا نہ کرسکیں گے)
صرف : نفی وتاکیدِ مستقبل کیلے لنؔ استعمال ہوتا ہے اور اس کی مزیدتاکید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
ا۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت یا ایہا الناس ضرب مثل فاستمعوا لہ، یہ مثال ایک بت کے بارے میں نازل ہوئی۔
2۔ ابن جریر اور ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ضعف الطالب، یعنی (کمزور ہیں) تمہارے معبود، والمطلوب یعنی مکھی۔
3۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت لن یخلقوا ذبابا، یعنی یہ بت ہرگز ایک مکھی کو پیدا نہیں کرسکتے۔ آیت وان یسلبہم الذباب شیئا۔ یعنی وہ لوگ جو بتوں کے لیے کھانے رکھتے تھے ان پر مکھی بیٹھتی تھی تو ان میں سے کھاتی تھی اور یہ بت طاقت نہیں رکھتے تھے کہ اس سے چھڑا لیں۔ پھر کلام کا رخ فرمایا لوگوں اور بتوں کی طرف اور فرمایا۔ آیت ضعف الطالب یعنی جو…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ [ اے لوگو ] ضُرِبَ [ بیان کی گئی ] مَثَلٌ [ ایک مثال ] فَاسْتَمِعُوْا [ تو تم لوگ غور سے سنو ] لَهٗ ۭ [ اس کو ] اِنَّ الَّذِيْنَ [ بیشک وہ جن کو ] تَدْعُوْنَ [ تم لوگ پکارتے ہو ] مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ [ اللہ کے علاوہ ] لَنْ يَّخْلُقُوْا [ ہرگز پیدا نہیں کریں گے ] ذُبَابًا [ ایک مکھی ] وَّلَوِ اجْتَمَعُوْا [ اور اگرچہ وہ سب اکٹھا ہوں ] لَهٗ ۭ [ اس کے لئے ] وَاِنْ يَّسْلُبْهُمُ [ اور اگر چھین لے ان سے ] الذُّبَابُ [ مکھی ] شَيْـــــًٔـا [ کوئی چیز ] لَّا يَسْتَنْقِذُوْهُ [ تو وہ چھڑا نہ سکیں گے اس (چیز) کو ] مِنْهُ ۭ [ اس (مکھی ) سے ] ضَعُفَ [ لاچار ہوا ] الطَّالِبُ [ طلب…
Read the full tafseer →مشرکین کے معبودوں کی عاجزی کا حال
غیر اللہ کی عبادت کرنے والوں اور ان کے معبودوں کے بارے میں عجیب بات بیان فرمائی ہے اور اس کو مثل سے تعبیر فرمایا مثل کہاوت کو کہتے ہیں اور یہ ایسی بات ہے جسے مشرکوں کے سامنے بار بار ذکر کرنا چایئے۔ مشرکوں کو سنائیں اور ان سے کہیں کہ خوب دھیان سے سنو تاکہ تمہیں اپنی حماقت اور گمراہی کا خوب پتہ چل جائے۔
ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر تم جن کی عبادت کرتے ہو اور جنہیں مدد کے لیے پکارتے ہو یہ ایک مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے سب مل کر بھی ایک مکھی پیدا کرنا چاہیں تو عاجز ہو کر رہ جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ اتنی بڑی کائنات کا خالق ہے اس کی عبادت چھوڑ کر عاجز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–76
بیان مثال معبودات باطلہ برائے ابطال شرک
قال اللہ تعالیٰ یایھا الناس ضرب مثل فاستمعوا لہ .... الیٰ .... والی اللہ ترجع الامور۔
(ربط) گزشتہ آیات میں مشرکین کی جہالت کو بیان کیا کہ جن چیزوں کی یہ لوگ پرستش کرتے ہیں ان کے پاس اس کی کوئی دلیل اور سند نہیں اب ان آیات میں شرک کی شناعت اور قباحت کو اور مشرکین کی حماقت کو ایک مثال کے ذریعہ واضح کرتے ہیں کہ جن چیزوں کو یہ معبود بنائے ہوئے ہیں وہ چیزیں قابل عبادت نہیں۔ عبادت کے لائق تو وہ ذات ہے کہ جو قادر مطلق ہو اور یہ بت تو عاجز مطلق ہیں۔ ان میں کسی چیز کے پیدا کرنے کی قدرت نہیں یہ تو اس قدرت عاجز ہیں کہ اپنے اوپر سے مکھی دفع کرنے کی بھی قدرت نہیں…
Read the full tafseer →86:۔ ” یَا اَیُّھَا النَّاسُ الخ “ یہ سورت کے دونوں مضمونوں کے ساتھ متعلق ہے پہلے سے بالذات اور دوسرے سے بالتبع یعنی اللہ کے سوا تم جن خود ساختہ معبودوں کو مصائب میں پکارتے ہو وہ بالکل عاجز ہیں تمہاری مدد کرنا تو درکنار وہ اپنی مدد بھی نہیں کرسکتے اور اپنے نفی نقصان کے مالک بھی نہیں لہذا وہ نذر و نیاز کا استحقاق بھی نہیں رکھتے اس طرح اس سے شرک اعتقادی اور شرک فعلی دونوں کی نفی ہوگئی ابتدائے سورت سے یہاں تک مسئلہ توحید کے اثبات اور اعتقادی اور عملی شرک کے رد پر دلائل عقلیہ اور نقلیہ پیش کیے گئے۔ یہاں معبودان باطلہ کے عاجز و بےبس ہونے اور غیر اللہ کی پکار کے بےسود ہونے کو ایک تمثیل سے واضح کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–76
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ نے مشرکین کا ر د فرمایا تھا ویعبدون من دون اللہ مالم ینزل بہ سلطنا یہ لوگ ایسی ہستیوں کی عبادت کرتے ہیں جن کے بارے میں اللہ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ پھر کفر اور شرک کرنے والوں کی قباحت بیان کہ کہ وہ حق بات یعنی آیات الٰہی کو سننے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ تاہم جب کبھی وہ یہ آیات سن لیتے ہیں تو ان کے چہرے بگڑ جاتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا کہ تم کو جو ناگواری آیات الٰہی کے سننے سے ہوتی ہے۔ اس سے بھی زیادہ بری بات یہ ہے کہ تم دوزخ کی آگ کا شکار ہونے والے ہو۔
مشرکوں کے لئے مکھی کی مثال :
اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے ایک مثال کے ذریعے کفر وشرک کا رد فرمایا ہے۔ اس…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّہَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَہٗ 0ۭ اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ لَنْ يَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّلَوِ اجْتَمَعُوْا لَہٗ 0ۭ وَاِنْ يَّسْلُبْہُمُ الذُّبَابُ شَـيْـــــًٔـا لَّا يَسْتَنْقِذُوْہُ مِنْہُ 0ۭ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوْبُ 73
نوس
النَّاس قيل : أصله أُنَاس، فحذف فاؤه لمّا أدخل عليه الألف واللام، وقیل : قلب من نسي، وأصله إنسیان علی إفعلان، وقیل : أصله من : نَاسَ يَنُوس : إذا اضطرب،
قال تعالی: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1]
( ن و س ) الناس ۔
بعض نے کہا ہے کہ اس کی اصل اناس ہے ۔ ہمزہ کو حزف کر کے اس کے عوض الف لام لایا گیا ہے ۔ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
1 ؎ عابد و معبود۔
اس کے بعد ان کے معبودوں کے عجزونا طاقتی ظاہر کرنے کے لیے فرماتا ہے یا ایہا الناس ضرب مثل فاستمعوا لہ کہ ایک مثل بیان کرتے ہیں اس کو سنو اور وہ مثل یہ ہے کہ ان الذین تدعون من دون اللہ لن یخلقوا فرمایا کہ جس کو پکارنا اور اس سے مدد چاہنا جائز ہے اس کو قدرت تو ہونی چاہیے اور وہ خالق بھی ہو اور خدا کے سوا جن کو تم پکارتے ہو وہ سب حیوانات میں کم مرتبہ مکھی ہے۔
اس کو تو بنا ہی نہیں سکتے ولو اجتمعوا لہ اگر وہ سب بھی جمع ہو کر پیدا کریں تو نہیں کرسکتے پھر دوسری بات اس سے بھی کمتر ہے اور وہ یہ کہ ان یسلبہم الذباب الخ اگر مکھی ان سے کوئی چیز لے اڑے تو اس سے چھین بھی نہیں سکتے پس جب یہ…
Read the full tafseer →یٰٓاَیُّھَاالنَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْالَہٗ ط اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ لَنْ یَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّلَوِاجْتَمَعُوْا لَہٗ ط وَاِنْ یَّسْلُبْھُمُ الذُّبَابُ شَیْئًا لَّایَسْتَنْقِذُوْہُ مِنْہُ ط ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوْبُ ۔ (الحج : 73)
(اے لوگو ! ایک مثال بیان کی جارہی ہے پس اسے غور سے سنو۔ بیشک تم اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی پیدا کرنے پر قادر نہیں ہیں۔ اگرچہ اس کام کے لیے وہ سب جمع ہوجائیں اور اگر مکھی ان سے کوئی چیزچھین لے تو وہ اس مکھی سے اسے بچا بھی نہیں سکتے۔ کتنا بےبس ہے ایسا طالب اور کتنا بےبس ہے ایسا مطلوب۔ )
مشرکین کے شرکاء کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
فہم القرآن
ربط کلام : شرک کے ناپائیدار اور بلا دلیل ہونے کی ایک اور دلیل۔
شرک کا عقیدہ اس قدر ناپائیدار اور کمزور ترین ہے کہ اگر اس پر معمولی سا غور کرلیا جائے تو اسے چھوڑنا انسان کے لیے نہایت ہی آسان ہوجاتا ہے۔ کیونکہ مشرک شرک کے بارے میں انتہائی جذباتی ہوتا ہے جس وجہ سے مثال بیان کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے لوگو ! تمہارے سامنے ایک مثال بیان کی جاتی ہے اسے پوری توجہ کے ساتھ سنو۔ یعنی اس سے بدکنے کی بجائے اس پر ٹھنڈے دل کے ساتھ غور کرو۔ بیشک جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے بیشک وہ سب کے سب اس کام کے لیے اکٹھے ہوجائیں۔ مکھی پیدا کرنا تو درکنار، اگر…
Read the full tafseer →معبودانِ باطلہ کی تحقیر :
73: جب انکا دعویٰ یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کے شرکاء تو عجیب و غریب اور مشہور ہونے میں ضرب الامثال کی طرح مشہور ہیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ ضُرِبَ (اے لوگو ! بیان کی جاتی ہے) واضح کی جاتی ہے۔ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَہٗ (ایک مثال تم اس کو غور سے سنو ! ) ہم یہ مثال بیان کرتے ہیں۔ اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ (بیشک وہ جن کی تم عبادت کرتے ہو۔ )
قراءت : یعقوب اور سہل نے یدعون پڑھا ہے۔ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کے سوا) بطور معبود لَنْ یَّخْلُقُوْا ذُبَابًا (وہ ہرگز مکھی پیدا نہ کرسکیں گے)
نحو، صرف : نفی و تاکید مستقبل کیلے لنؔ استعمال ہوتا ہے اور…
Read the full tafseer →73۔ یا ایھالناس ضرب مثل ، ضرب کا معنی ہے جعل ۔ جیسا کہ مقولہ مشہور ہے بادشاہ نے لوگوں کی ایک جماعت بھیجی یا بادشاہ نے ذمیوں پر جزیہ لازم کردیا، یعنی ان پر ڈال دیا۔ مشرکین نے بتوں کے ہی ساتھ ساتھ شریک کرلیا اور انہی بتوں کو شریک کرکے ان کی عبادت کرتے۔ فاستمعوالہ، آپ ان کی حالت اور ان کے وصف کو سن لو، پھر اس کو بیان کردیا، اور فرمایا، ان الذین تدعون من دون اللہ، اس سے مراد بت پرست ہیں جو بتوں کی پوجا کرتے ہیں ، لن یخلقواذبابا، ان کے چھوٹا ہونے کی وجہ سے ان کو واحد ذکر کیا۔ وہ کسی چیز پر قادر نہیں ہوتیں، اس کی واحد اور جمع بھی استعمال ہوتی ہے، تھوڑی کے لیے ، اذبہ، اور کثیر کے لیے ذباب بولاجاتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
73۔ 74:۔ اوپر ذکر تھا کہ جب ان بت پرستوں کو بتوں کی مذمت کی آیتیں سنائی جاتی ہیں تو ان آیتوں کے سنانے والے مسلمانوں پر یہ مشرک حملہ کرنے کو تیار ہوجاتے ہیں ‘ ان آیتوں میں مشرکوں کے قائل کرنے کے لیے فرمایا کہ یہ مشرک جن بتوں کی مذمت سے ایسے جڑتے ہیں ‘ آخر وہ بت اپنے پوجا کرنے والوں کی کیا مدد کرسکتے ہیں وہ تو ایسے عاجز ہیں کہ تمام دنیا کے بت بھی جمع ہوجاویں تو اللہ کی مخلوقات میں کی ایک ادنیٰ چیز مکھی کو بھی نہیں پیدا کرسکتے بلکہ مکھی کا پیدا کرنا تو درکنار یہ بت زعفران پانی میں گھول کر خوشبو کے لیے ان بتوں پر جو مل دیتے ہیں اور مکھیاں اس کو چاٹنا اور اس کے ریزے منہ میں لے کر اڑنا شروع کردیتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
آیت 73
اللہ تبارک و تعالیٰ نے بتوں کی عبادت کی قباحت، ان کی عبادت کرنے والوں میں عقل کی کمی اور ان سب کی کمزوری کو بیان کرنے کے لئے ایک مثال بیان کی ہے۔ فرمایا : (یایھا الناس) ” اے لوگو ! “ یہ خطاب مومنین اور کفار دونوں کے لئے ہے۔ اس سے اہل ایمان کے علم و بصیرت میں اضافہ ہوتا ہے اور کفار کے خلاف حجت قائم ہوتی ہے۔ (ضرب مثل فاستمعوا لہ) یعنی اس بیان کردہ مثال کو غور سے سنو اور اس کے مطالب کو سمجھنے کی کوشش کرو۔ یہ تمہارے دلوں کو غافل اور تمہارے کانوں کو اس سے اعراض کرنے والا نہ پائے، بلکہ اپنے کانوں اور دلوں سے خوب غور سے سنو۔
وہ مثال یہ ہے۔ (ان الذین تدعون من دون اللہ) ” بیشک وہ لوگ جن کو تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–78
جہاد فی سبیل اللہ
قول باری ہے (وجاھدوا فی اللہ حق جھادہ ھوا جتبکم وما جعل علیکم فی الدین من حرج ملۃ ابیکم ابراہیم اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ جہاد کرنے کا حق ہے اس نے تمہیں اپنے کام کے لئے چن لیا ہے اور دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔ قائم ہو جائو اپنے باپ ابراہیم کی ملت پر) ایک قول کے مطابق آیت کا مفہوم یہ ہے کہ ” اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ جاد کرنے کا حق ہے اور اپنے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت کی پیروی کرو۔ “ اسی بنا پر (ملۃ ابیکم) منصوب ہے بعض مفسرین کا قول ہے کہ اس کے منصوب ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یہاں کملۃ ابیکم مراد ہے۔ تاہم جب حرف جار محذوف ہوگیا تو اسم فعل کے ساتھ…
Read the full tafseer →135 شرک کی تردید کیلئے ایک حقیقت افروز تمثیل : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اے لوگو ایک عظیم الشان مثال بیان کی گئی ہے۔ پس اس مثال کو تم لوگ غور سے سنو اور کان لگا کر سنو تاکہ شرک اور مشرکوں کی حقیقت اور ان کے حال کو تم اچھی طرح جان اور پہچان سکو۔ سو جن کو تم اے مشرکو اپنا حاجت روا و مشکل کشا سمجھ کر پوجتے پکارتے ہو۔ وہ اتنے عاجز اور اس قدر بےبس ہیں کہ مکھی جیسی حقیر مخلوق بھی نہیں پیدا کرسکتے، اگرچہ وہ سب اس کیلئے مل کر بھی کوشش کریں اور مکھی پیدا کرنا درکنار ان کی بےبسی کا تو یہ عالم ہے کہ اگر کوئی مکھی ان کے پاس رکھی ہوئی مٹھائی وغیرہ نذر و نیاز میں سے کچھ چھین لے، تو یہ اس کو بھی اس سے چھڑا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–78
اللہ کی حاکمیت اور اللہ کے لیے انسان کی بندگی
تشریح : اخلاقیات کا ایک بہت بڑا سبق اللہ تعالیٰ دہرا رہے ہیں۔ وہ یہ کہ مسلمان کے لیے اصول بنا دیا گیا ہے کہ ظلم و زیادتی کا جواب اتنا ہی دیں جتنی زیادتی ان پر کی گئی ہو۔ کیونکہ اللہ ظلم کو پسند نہیں کرتا اس لیے اس نے وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ مظلو موں کی مدد ضرور کرتا ہے۔ یہ وعدہ اور یہ اخلاقی اصول کسی معمولی ہستی کے بنائے ہوئے نہیں بلکہ یہ اس رب العلمین کے بنائے ہوئے ہیں جس نے انسان کو پیدا کیا پھر اسکی نشوونما اور آرام و سکون کے لیے آسمانوں کو بلند کیا زمین بنائی اس میں ہر قسم کے چرند ‘ پرند ‘ حیوانات ‘ نباتات ‘ چاند، سورج، ستارے ‘ ندی نالے، دریا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–78
(رکوع نمبر 10)
اسرارومعارف
لوگو اس بات پر غور کرو اور اچھی طرح سوچو کہ اللہ جل جلالہ کے علاوہ جس جس کی پوجا کی جاتی ہے اگر وہ سب معبودان باطلہ اکھٹے ہو کر بھی کوشش کریں تو ایک مکھی جیسی حقیر مخلوق بھی بنا نہیں سکتے نہ صرف یہ بلکہ ان پر جو چڑھاوے چڑھاتے ہو ان کے سامنے پڑی ہوئی اشیاء کو مکھی کھاتی رہتی ہے وہ تو مکھی اڑا بھی نہیں سکتے کہ اپنے شے کو اس سے بچا لیں بھلا وہ تمہاری مدد کریں گے ، کتنے حقیر ہیں ان سے مانگنے والے اور کس قدر بےبس یہ تمہارے مطلوب ومعبود بنے ہوئے ہیں ، افسوس کہ تم نے اللہ جل جلالہ کی عظمت کو نہ جانا اور اس کی قدر نہ کرسکے لیکن اے کفار تمہارے نہ ماننے سے اس کی عظمت میں کوئی…
Read the full tafseer →8 ۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کی لاتعداد اور عظیم الشان مخلوقات کے مقابلہ میں مکھی کی کیا حیثیت ہے ؟ 9 ۔ یعنی چاہنے والا کافر اور جس بت کو وہ چاہتا ہے دونوں کمزور و بےبس ہیں۔ شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں : ” مکھی چاٹتی ہے بت کو، نہ وہ مورت اڑاتی ہے اور نہ اس کا شیطان۔ (موضح) اس سے زیادہ بےبسی اور کیا ہوسکتی ہے ؟
Read the full tafseer →(22:73) تدعون۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ تم پکارتے ہو۔ دعاء مصدر۔ لن یخلقوا۔ مضارع نفی تاکید بلن جمع مذکر غائب۔ وہ ہرگز پیدا نہیں کرسکیں گے۔ ذبابا۔ مکھی۔ اذبۃ۔ ذبان وذب۔ جمع۔ یسلبہم۔ مضارع مجزوم بوجہ ان شرطیہ واحد مذکر غائب ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب (اگر) وہ ان سے چھین لے۔ سلب مصدر جس کا مطلب ہے چھیننا۔
لا یستنقذوہ۔ لا یستنقذون۔ فعل مضارع منفی جمع مذکر غائب۔ مجزوم بحذف نون اعرابی۔ جواب شرط ہے۔ استنقاذ (استفعال) مصدر ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب جس کا مرجع شیئا ہے۔ وہ اس کو نہیں چھڑا سکتے۔ اس کو واپس نہیں لے سکتے۔ اس کی خلاصہ نہیں کرسکتے ۔ انقذ ینقذ (باب افعال) چھڑانا۔ بچا لینا۔ قرآن مجید میں ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–78
لغات القرآن : آیت نمبر 73 تا 78 :
ضرب (بیان کیا گیا۔ مارا گیا) ‘ استمعوا (غور سے سنو) ‘ لن یخلقوا (وہ ہرگز پیدا نہ کریں گے۔ وہ ہرگز پیدا نہیں کرسکتے) ‘ ذباب مکھی۔ کوئی ایک مکھی) ‘ یسلب (وہ کھینچ لیتا ہے۔ وہ چھین لیتا ہے) ‘ لایستنقذوہ (وہ نہ چھڑا سکیں گے) ‘ الطالب (چاہنے والا) ‘ مطلوب (چاہا گیا) ‘ یصطفی (وہ منتخب کرتا ہے) ‘ افعلوا (تم کرو) ‘ الخیر (بھائی ۔ نیک کام) ‘ اجتبی (اس نے چنا۔ منتخب کیا) ‘ حرج (تنگی) ‘ سمی (اس نے نام رکھا) ‘ شھید (گواہ) ‘ اعتصموا (تم مضبوط تھام لو) ‘ مولی (مالک) ‘ نعم المولی (بہترین مالک) ‘ نعم النصیر (بہترین مدد گار) ۔
تشریح : آیت نمبر 73 تا 78 :
اللہ وہ ہے جو کائنات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
مشرکین اور ان کے باطل معبودوں کی بےبسی کا ذکر۔
(ف 1) شان نزول۔ ان آیتوں میں مشرکوں کے قائل کرنے کے لیے فرمایا کہ یہ مشرک جن باطل معبودوں کی پوجا کرتے ہیں آخر وہ بت اپنے پوجا کرنے والوں کی کیا مدد کرسکتے ہیں وہ تو ایسے عاجز ہیں کہ تمام دنیا کے بت بھی جمع ہوجاویں تو اللہ کی مخلوقات کی ایک ادنی چیز مکھی کو بھی نہیں پیدا کرسکتے، بلکہ کا پیدا کرنا تو درکنار ان کو تو اتنی بھی قوت نہیں کہ اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے جائے تو یہ اس پھر چھین سکیں، پھر جو اس قدر ضعیف ہیں کہ ایک ادنی سے چیز یعنی مکھی پر غالب نہیں اسکتے وہ کیا خدائی کے قابل ہیں رہی یہ بات جن باطل معبودوں کو یہ پوجا کرتے ہیں عقبی میں…
Read the full tafseer →[51] یعنی پرستار بھی عاجز اور ان کے معبود بھی عاجز۔
Read the full tafseer →(ف 1) اس سے قبل کی آیت میں شرک کی مذمت فرمائی تھی اور یہ بتایا تھا کہ ان مشرکوں کے پاس اس کی تائید کے لئے کوئی دلیل موجود نہیں ، اب اس عقیدے کی بےمائگی کا اظہار فرمایا ہے ، ارشاد ہے کہ انکے تمام معبود جمع ہوجائیں ، اور اپنی پوری قوت صرف کردیں ، جب بھی ایک مکھی تک پیدا کرنے میں قاصر رہیں گے ، حالانکہ مکھی ایک نہایت ہی ادنی درجہ کی مخلوق ہے ، اور مکھی کا پیدا کرنا تو بڑی بات ہے اگر وہ انکے کھانے میں سے کچھ چھین لے جائے تو یہ اس کو چھڑا بھی نہیں سکتے ۔
جب مطلوب و معبود کی یہ کیفیت ہے کہ ادنی درجے کی مخلوق کے پیدا کرنے پر بھی وہ قادر نہیں ، اور ماننے والوں کی یہ حالت ہے کہ مکھی پر بھی اختیار…
Read the full tafseer →(73) اے انسانو ! ایک عجیب بات اور توحید کے مقابلے میں شرک کی برائی کی ایک مثال بیان کی جاتی ہے تم اس کو کان لگا کر توجہ سے سنو۔ بلاشبہ ! تم لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا جن معبودوں کی عبادت اور پرستش کرتے ہو وہ ایک مکھی بھی پیدا کرنے کے قابل نہیں ہیں اور وہ ہرگز ایک مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے۔ اگرچہ وہ سب کے سب مکھی پیدا کرنے کے لئے جمع بھی ہوجائیں اور اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین کرلے جائے تو یہ اس مکھی سے اس چیز کو چھڑا بھی نہیں سکتے۔
طالب یعنی عابد بھی ضعیف و ناتواں اور مطلوب یعنی معبود بھی کمزور و ضعیف یعنی مکھی ایک بہت ہی ذلیل و حقیر جانور ہے یہ تمام معبودان باطلہ مل کر بھی اس کی تخلیق نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
ف 5۔ جیسے چہرے پر بل پڑجا نا ناک چڑھ جانا، تیور بدل جانا۔
6۔ یعنی قرآن سے ناگواری کا نتیجہ ناگوار دوزخ ہے۔
Read the full tafseer →عام انسانوں سے خطاب کہ ایک مثال کان کھول کر سن لو اور سبق حاصل کرو :
73۔ ” ضرب المثل “ کے معنی مثال بیان کرنے کے ہیں (ضرب اللہ مثلا) کے معنی ہیں اللہ نے مثال بیان کی ہے اور ” مثال “ کا لفظ نظیر ‘ مثل ‘ مانند ‘ تصویر ‘ صورت ‘ نمونہ ‘ تمثال ‘ کہانی ‘ حکایت ‘ کہاوت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے (یسلبھم) کا مادہ س ل ب ہے اور ” سلب “ غالب ہو کر کسی چیز کے حاصل کرنے کو کہتے ہیں ، واحد مذکر غائب مضارع مجزوم بالشرط (سلب) مصدر (باب نصر) سے ہم ضمیر مفعول ” ان سے چھین لے “ غیر اللہ کو حاجت روا ‘ مشکل کشا ‘ بگڑی بنانے والے سمجھنے والوں کو مخاطب کیا گیا ہے کہ اے مشرکین تم تو (من دون اللہ ) کا نام سنتے ہی آگ…
Read the full tafseer →Commentary
Illustrating the futility of polytheism and idol-worship by citing a parable
Generally the words ضُرِبَ مَثَلُ are used for quoting an incident as an example. However, it is not used here in that sense but the foolishness of idol worship has been illustrated by citing a parable. The infidels are told that the idols from which they seek the gratification of their desires are so utterly helpless that all of them together cannot create a humble thing like a fly. Indeed they cannot even protect the offerings of eatables, which their worshippers bring them daily, against the inroads of…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
123. This parable has been cited to impress upon the idolworshipers that their deities are absolutely powerless, for even if they all collaborated to create an insignificant thing like a fly, they could not; nay, even if a fly snatched away anything from them they could not prevent it. This shows how weak they themselves are and how powerless are the idols they supplicate.
Read the full tafseer →