Explained with ayahs 73–74
کم عقل پجاری
اللہ کے ماسوا جن کے عبادت کی جاتی ہے ان کی کمزوری اور ان کے پجاریوں کی کم عقلی بیان ہو رہی ہے کہ اے لوگو یہ جاہل جس جس کی بھی اللہ کے سوا عبادت کرتے ہیں، رب کے ساتھ یہ جو شرک کرتے ہیں، ان کی ایک مثال نہایت عمدہ اور بالکل واقعہ کے مطابق بیان ہو رہی ہے ذرا توجہ سے سنو۔ کہ ان کے تمام کے تمام بت، بزرگ وغیرہ جنہیں یہ اللہ کا شریک ٹھہرا رہے ہیں، جمع ہوجائیں اور ایک مکھی بنانا چاہیں تو سارے عاجز آجائیں گے اور ایک مکھی بھی پیدا نہ کرسکیں گے۔ مسند احمد کی حدیث قدسی میں فرمان الٰہی ہے اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو میری طرح کسی کو بنانا چاہتا ہے۔ اگر واقعہ میں کسی کو یہ قدرت حاصل ہے تو ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
سورة الْحَجّ 123
یعنی مدد چاہنے والا تو اس لیے کسی بالا تر طاقت کی طرف استمداد کے لیے ہاتھ پھیلاتا ہے کہ وہ کمزور ہے۔ مگر اس غرض کے لیے یہ جن کے آگے ہاتھ پھیلا رہے ہیں ان کی کمزوری کا حال یہ ہے کہ وہ ایک مکھی سے بھی عہدہ برا نہیں ہوسکتے۔ اب غور کرو کہ ان لوگوں کی کمزوری کا کیا حال ہوگا جو خود بھی کمزور ہوں اور ان کی امیدوں کے سہارے بھی کمزور۔
Read the full tafseer →مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ یعنی کیسے بیوقوف احسان فراموش ہیں ان لوگوں نے اللہ کی کچھ قدر نہ پہچانی کہ ایسے عظیم الشان قدرت والے کے ساتھ ایسے بےبس بےشعور پتھروں کو برابر کردیا۔ واللہ اعلم
Read the full tafseer →انہوں نے خدا کی شان اور اس کی عظمت وقدرت بالکل نہیں پہچانی خدا ان کے معبود کی طرح کوئی عاجز و بےبس ہستی نہیں ہے بلکہ وہ نہایت ہی طاقتور اور غالب ہستی ہے۔ وہ جو ارادہ فرماتا ہے اس کو پورا کرنے پر پوری قدرت رکھتا ہے اور مجال نہیں ہے کہ کوئی اس کے ارادے میں مزاحم ہو سکے۔
Read the full tafseer →74۔ 1 یہی وجہ ہے کہ لوگ اس کی بےبس مخلوق کو اس کا ہمسر اور شریک قرار دے لیتے ہیں۔ اگر ان کو اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلالت، اس کی قدرت و طاقت اور اس کی بےپناہی کا صحیح صحیح اندازہ اور علم ہو تو وہ کبھی اس کی خدائی میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–75
33: کونسے فرشتے پیغمبروں کے پاس وحی کا پیغام لے کر جائیں، اور کن انسانوں کو پیغمبری کے مقام پر سرفراز کیا جائے، ان سب باتوں کا تعین اللہ تعالیٰ ہی کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →ما قدروا اللہ حق قدرہ ط ان اللہ لقوی عزیز (47)
٭لوگوں نے اللہ کی قدر نہیں کی کہ وہ اللہ کے ساتھ ایسے عاجز ، حقیر اور بیچارہ چیزوں کو شریک کرتے ہیں ، جو اگر سب کے سب بھی جمع ہوں تو مکھی پیدا نہیں کرسکتے۔
٭انہوں نے اللہ کی کوئی قدر نہ پہنچانی۔ حالانکہ وہ اللہ کے آثار قدرت دیکھتے ہیں ، اس کی عجیب و غریب مخلوق کی طرف دیکھتے ہیں اور پھر اس کے ساتھ ایسے الہوں کو شریک کرتے ہیں جو مکھی کا مقابلہ بھی نہیں کرسکتے۔
٭ انہوں نے اللہ کی قدر نہیں پہچانی کی وہ مدد طلب کرتے ہیں تو ان سے جن میں مدد دینے کی قوت ہی نہیں ہے بلکہ اگر ان سے مکھی کوئی چیز لے کر بھاگے تو وہ اسے بھی نہیں چھڑا سکتے۔
یہ ایسے حالات میں…
Read the full tafseer →2 سمجھتے تو ایسی گستاخی کیوں کرتے۔ کیا اللہ کی شان رفیع اور قدرو منزلت اتنی ہے کہ ایسی کمزور چیزوں کو اس کا ہمسر بنادیا جائے ؟ (العیاذ باللہ) اس کی قوت و عزت کے سامنے تو بڑے بڑے مقرب فرشتے اور پیغمبر بھی مجبور و بےبس ہیں۔ آگے ان کا ذکر کیا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 74 مَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہٖ ط ”
ایسے لوگ اللہ کی کما حقہّ معرفت حاصل نہ کرسکے اور جلال و جمالِ الٰہی کی کوئی جھلک نہ دیکھ سکے اور یوں دنیا اور اس کی چیزوں کو اصل مطلوب و مقصود سمجھ کر اس عروس ہزار داماد کے عاشق بن بیٹھے !
Read the full tafseer →103 یعنی انہوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرت پر کبھی غور ہی نہیں کیا۔ جو اس پوری کائنات کو اور خود ان کو بھی عدم سے وجود میں لایا ہے۔ اور انھیں زندگی بخشی ہے اگر وہ اللہ تعالیٰ کے کسی بھی کارنامے پر غور کرتے تو کبھی اس کے اختیار و تصرف میں کمزور اور بےبس قسم کی مخلوق کو شریک بنانے کی حماقت نہ کرتے۔ مثلاً :
کائنات کی وسعت کا یہ حال ہے کہ موجودہ تحقیقات کی رو سے سورح کے گرد نو سیارے گردش کر رہے ہیں جن میں تیسرے نمبر پر ہماری زمین ہے اور اس کا سورج سے فاصلہ 9 کروڑ 30 لاکھ میل ہے۔ آخری نواں سیارہ پلوٹو ہے جس کا سورج سے 3 ارب 68 کروڑ میل فاصلہ ہے جسامت کے لحاظ سے بھی ہماری زمین دوسرے سیاروں کی نسبت بالکل…
Read the full tafseer →126۔ یعنی اس کی وہ عظمت جو اس سے رشتہ عبدیت وتعلق عبودیت پیدا کرنے کے لیے کافی ہے۔ انسان اسی کا مکلف ہے اور اسی درجہ کی عظمت نہ محسوس کرنے کا کافروں پر الزام ہے۔ باقی اللہ کی شایان شان، اور سزاوار الوہیت عظمت کا اندازہ تو وہ کون کرسکتا ہے۔ اور نہ اس کا کوئی بشر یا کوئی مخلوق مکلف ہے۔ آیت کے مخاطب تمام منکرین توحید ہیں، خواہ ثنویہ ہوں یا اہل تثلیث ہوں یا مشرکین ہوں۔
127۔ معبودیت والوہیت کا حق صرف اسی کو پہنچتا ہے نہ کہ بےقدرت، بےبس مخلوقات میں سے کسی کو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–78
آیت نمبر 73 تا 78
ترجمہ : اے لوگو ! یعنی مکہ والو ایک عجیب بات بیان کی جاتی ہے اس کو کان لگا کر سنو اور وہ بات یہ ہے کہ اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ جن کو تم خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو یعنی بندگی کرتے ہو غیر اللہ کی وہ بت ہیں وہ ایک مکھی کو تو پیدا کر ہی نہیں سکتے ذباب اسم جنس ہے اس کا واحد ذبابہ ہے اس کا اطلاق مذکر اور مؤنث دونوں پر ہوتا ہے گو اس تخلیق کے لئے سب کے سب جمع ہوجائیں اور اگر ان سے مکھی کچھ چھین لیجائے اس میں سے جو ان پر خوشبو اور زعفران لگی ہوئی ہے (جس میں وہ لتھڑے ہوئے ہوتے ہیں) تو اس کو وہ ان سے واپس نہیں لے سکتے ان کے عاجز ہونے کی وجہ سے، پھر کیوں بندگی کرتے ہیں (ان کی) اللہ کا…
Read the full tafseer →ما قدور اللہ حق قدرہ ان اللہ لقوی عزیز انہوں نے اللہ کے مرتبہ کا اندازہ ویسا نہیں کیا جیسا
کرنا چاہئے تھا بیشک اللہ بڑی قوت والا (اور سب پر) غالب ہے۔ یعنی اللہ کی جیسی تعظیم کرنی چاہئے تھی ویسی تعظیم انہوں نے نہیں کی اور اللہ کو ویسا نہیں پہچانا جیسا مناسب تھا ‘ اور نہ اس کی صفات کا صحیح اندازہ کیا۔ اسی لئے حقیر ترین چیزوں کو اس کی عبادت میں شریک قرار دے لیا۔
قوی ہے یعنی تمام ممکنات کی تخلیق پر قدرت رکھتا ہے۔
عزیز ہے ‘ یعنی وہ سب پر غالب ہے اس پر کوئی چیز غالب نہیں اور دوسرے معبود ‘ عاجز ‘ بےبس ہیں حقیر ترین مخلوق بھی ان پر غالب ہے وہ ادنیٰ چیز سے بھی اپنا دفاع نہیں کرسکتے۔
Read the full tafseer →(74) افسوس ہے کہ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی جیسی بڑائی بیان کرنا چاہیے تھی نہ کی یہ آخری آیت یہود کے اقوال کی تردید میں نازل ہوئی ہے کیوں کہ وہ حضرت عزیز ؑ کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم غنی اور معاذ اللہ اللہ تعالیٰ فقیر ہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ بند ہیں اور یا یہ کہ آسمان و زمین کے پیدا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے آرام کیا ان بدتمیزیوں کی اللہ تعالیٰ نے تردید فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کی جیسی بڑائی بیان کرنی چاہیے تھی وہ نہ کی، اللہ تعالیٰ اپنے دشمنوں کے مقابلہ میں بڑی طاقت والا اور یہودیوں کو سزا دینے میں بڑے غلبہ والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ : اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ مشرکین کی اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کی کوئی نقلی دلیل ہے نہ عقلی۔ اس سورت کی ابتدا ”يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ“ سے ہوئی تھی، اختتام کے قریب بھی ”يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ“ کے ساتھ خطاب ہے۔ ”يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ“ سے مراد یہاں مشرکین ہیں، کیونکہ اللہ کے سوا دوسروں کو وہی پکارتے ہیں، سب لوگ ایسا نہیں کرتے۔ یا سب لوگوں ہی کو خطاب ہے، جیسے کسی قبیلے کا ایک آدمی کوئی کام کرے تو کہہ دیا جاتا ہے، قبیلے والو ! تم نے یہ کام کیا ہے۔ (روح المعانی) فرمایا، لوگو ! ایک مثال بیان کی گئی ہے، اسے کان لگا کر سنو۔ یہاں مثال…
Read the full tafseer →عاجز و عزیز کا مقابل کیسے ؟
74 : مَاقَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہٖ (انہوں نے اللہ تعالیٰ کے مرتبہ کا اندازہ ویسا نہیں کیا جیسا کرنا چاہیے) انہوں نے اس کو اس طرح نہیں پہچانا جیسا پہچاننا چاہیے تھا۔ وہ اس طرح کہ اس کمزور بت کو اس طرح شریک بناڈالا۔ اِنَّ اللّٰہَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ (بیشک اللہ تعالیٰ البتہ زبردست قوت والے ہیں) یعنی اللہ تعالیٰ غالب اور قادر مطلق ہیں پھر کس طرح عاجز و مغلوب کو اس کے مشابہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ نمبر 2۔ وہ اپنے اولیاء کی نصرت کی طاقت رکھتے ہیں۔ عزیز یعنی وہ زبردست ہیں ان کے دشمنوں سے انتقام لے سکتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
ا۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت یا ایہا الناس ضرب مثل فاستمعوا لہ، یہ مثال ایک بت کے بارے میں نازل ہوئی۔
2۔ ابن جریر اور ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ضعف الطالب، یعنی (کمزور ہیں) تمہارے معبود، والمطلوب یعنی مکھی۔
3۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت لن یخلقوا ذبابا، یعنی یہ بت ہرگز ایک مکھی کو پیدا نہیں کرسکتے۔ آیت وان یسلبہم الذباب شیئا۔ یعنی وہ لوگ جو بتوں کے لیے کھانے رکھتے تھے ان پر مکھی بیٹھتی تھی تو ان میں سے کھاتی تھی اور یہ بت طاقت نہیں رکھتے تھے کہ اس سے چھڑا لیں۔ پھر کلام کا رخ فرمایا لوگوں اور بتوں کی طرف اور فرمایا۔ آیت ضعف الطالب یعنی جو…
Read the full tafseer →مَا قَدَرُوا [ ان لوگوں نے قدر نہیں کی ] اللّٰهَ [ اللہ کی ] حَقَّ قَدْرِهٖ ۭ [ جیسا اس کی قدر کرنے کا حق ہے ] اِنَّ اللّٰهَ [ بیشک اللہ ] لَقَوِيٌّ [ یقینا قوت والا ہے ] عَزِيْزٌ [ بالادست ہے ]
Read the full tafseer →(مَا قَدَرُوْا اللّٰہَِ حَقَّ قَدْرِہٖ ) (لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی وہ تعظیم نہ کی جو تعظیم اس کی شان کے لائق ہو) اللہ تعالیٰ اپنی ذات وصفات میں یکتا ہے خالق ومالک ہے تنہا عبادت کا مستحق ہے وہ نفع بھی دیتا ہے اور ضرر بھی وہ ہر چیز پر قادر ہے ہر چیز کو دیکھتا ہے ہر اونچی اور ہلکی سے ہلکی آواز کو سنتا ہے سب بندوں پر لازم ہے کہ اسے وحدہ لا شریک مانیں اور اس کی تمام صفات جلیلہ پر ایمان لائیں جو قرآن و حدیث میں مذکور ہیں ایسی ذات وحدہ لا شریک کو چھوڑ کر اس کی پیدا کی ہوئی مخلوق کو معبود بنا لینا اللہ تعالیٰ کی تعظیم سے بہت بعید ہے اور گمراہی ہے جب مشرکین سے مسلمان کہتے ہیں کہ تم خالق کائنات جل مجدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–76
بیان مثال معبودات باطلہ برائے ابطال شرک
قال اللہ تعالیٰ یایھا الناس ضرب مثل فاستمعوا لہ .... الیٰ .... والی اللہ ترجع الامور۔
(ربط) گزشتہ آیات میں مشرکین کی جہالت کو بیان کیا کہ جن چیزوں کی یہ لوگ پرستش کرتے ہیں ان کے پاس اس کی کوئی دلیل اور سند نہیں اب ان آیات میں شرک کی شناعت اور قباحت کو اور مشرکین کی حماقت کو ایک مثال کے ذریعہ واضح کرتے ہیں کہ جن چیزوں کو یہ معبود بنائے ہوئے ہیں وہ چیزیں قابل عبادت نہیں۔ عبادت کے لائق تو وہ ذات ہے کہ جو قادر مطلق ہو اور یہ بت تو عاجز مطلق ہیں۔ ان میں کسی چیز کے پیدا کرنے کی قدرت نہیں یہ تو اس قدرت عاجز ہیں کہ اپنے اوپر سے مکھی دفع کرنے کی بھی قدرت نہیں…
Read the full tafseer →87:۔ ” مَا قَدَرُوْا اللّٰهَ الخ “ ان ظالموں نے خدا کی قدر نہ پہچانی۔ اس حی وقیوم اور قادر و متصرف کے علاوہ ایسے عاجز معبودوں کو پکارنے لگے جو ان کے نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتے نہ ان میں حاجت پوری کرنے اور مصیبتیں دور کرنے کی طاقت ہے بلکہ وہ تو ایک مکھی سے بھی عاجز ہیں۔ ماقدروا اللہ حق قدرہ حیث اشرکوا بہ شیئا لا یقاوم اضعف مخلوقاتہ (جامع البیان ص 297) ۔ حالانکہ عبادت اور پکار صرف اللہ تعالیٰ ہی کا حق ہے اللہ تعالیٰ کا حق اس کی عاجز مخلوق کو دینا بہت بڑی بےانصاری اور بدترین قدر ناشناسی ہے۔ ” اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِيٌّ عَزِیْزٌ“ اللہ تعالیٰ جو طاقت وقدرت کا مالک ہے اور سب پر غالب اس کے مقابلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–76
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ نے مشرکین کا ر د فرمایا تھا ویعبدون من دون اللہ مالم ینزل بہ سلطنا یہ لوگ ایسی ہستیوں کی عبادت کرتے ہیں جن کے بارے میں اللہ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ پھر کفر اور شرک کرنے والوں کی قباحت بیان کہ کہ وہ حق بات یعنی آیات الٰہی کو سننے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ تاہم جب کبھی وہ یہ آیات سن لیتے ہیں تو ان کے چہرے بگڑ جاتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا کہ تم کو جو ناگواری آیات الٰہی کے سننے سے ہوتی ہے۔ اس سے بھی زیادہ بری بات یہ ہے کہ تم دوزخ کی آگ کا شکار ہونے والے ہو۔
مشرکوں کے لئے مکھی کی مثال :
اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے ایک مثال کے ذریعے کفر وشرک کا رد فرمایا ہے۔ اس…
Read the full tafseer →مَا قَدَرُوا اللہَ حَقَّ قَدْرِہٖ 0ۭ اِنَّ اللہَ لَقَوِيٌّ عَزِيْزٌ 74
قَدْرُ والتَّقْدِيرُ
والقَدْرُ والتَّقْدِيرُ : تبيين كمّيّة الشیء . يقال :
قَدَرْتُهُ وقَدَّرْتُهُ ، وقَدَّرَهُ بالتّشدید : أعطاه الْقُدْرَةَ.
يقال : قَدَّرَنِي اللہ علی كذا وقوّاني عليه،
فَتَقْدِيرُ اللہ الأشياء علی وجهين :
أحدهما : بإعطاء القدرة .
والثاني : بأن يجعلها علی مقدار مخصوص ووجه مخصوص حسبما اقتضت الحکمة، وذلک أنّ فعل اللہ تعالیٰ ضربان :
ضرب أوجده بالفعل، ومعنی إيجاده بالفعل أن أبدعه کاملا دفعة لا تعتريه الزّيادة والنّقصان إلى إن يشاء أن يفنيه، أو يبدّله کالسماوات وما فيها . ومنها ما جعل أصوله موجودة بالفعل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
1 ؎ عابد و معبود۔
اس کے بعد ان کے معبودوں کے عجزونا طاقتی ظاہر کرنے کے لیے فرماتا ہے یا ایہا الناس ضرب مثل فاستمعوا لہ کہ ایک مثل بیان کرتے ہیں اس کو سنو اور وہ مثل یہ ہے کہ ان الذین تدعون من دون اللہ لن یخلقوا فرمایا کہ جس کو پکارنا اور اس سے مدد چاہنا جائز ہے اس کو قدرت تو ہونی چاہیے اور وہ خالق بھی ہو اور خدا کے سوا جن کو تم پکارتے ہو وہ سب حیوانات میں کم مرتبہ مکھی ہے۔
اس کو تو بنا ہی نہیں سکتے ولو اجتمعوا لہ اگر وہ سب بھی جمع ہو کر پیدا کریں تو نہیں کرسکتے پھر دوسری بات اس سے بھی کمتر ہے اور وہ یہ کہ ان یسلبہم الذباب الخ اگر مکھی ان سے کوئی چیز لے اڑے تو اس سے چھین بھی نہیں سکتے پس جب یہ…
Read the full tafseer →مَاقَدَرُواللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہٖ ط اِنَّ اللّٰہَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ۔ (الحج : 74)
(انھوں نے اللہ کی قدر نہ پہچانی جیسے اس کی قدر پہچاننے کا حق تھا۔ بیشک اللہ تعالیٰ بڑا طاقتور اور سب پر غالب ہے۔ )
ان مشرکین نے اللہ کی قدر نہیں پہچانی۔ اگر انھیں ذرا بھی اس کی عظمت اور قدرت کا اندازہ ہوتا تو وہ کبھی کسی مخلوق کو اس کا شریک کرنے کی جسارت نہ کرتے۔ چہ جائیکہ ایسی چیزوں کو اللہ کا شریک بنادیا جائے جو مکھی اڑانے پر بھی قادر نہ ہوں۔ ان کے بتوں اور دیوی دیوتائوں کی بےبسی اور کمزوری تو ایک حقیقت ہے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح اس سے بھی بڑھ حقیقت یہ ہے کہ اللہ قوی ہے یعنی اس کی قوتوں کا کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
فہم القرآن
ربط کلام : شرک کے ناپائیدار اور بلا دلیل ہونے کی ایک اور دلیل۔
شرک کا عقیدہ اس قدر ناپائیدار اور کمزور ترین ہے کہ اگر اس پر معمولی سا غور کرلیا جائے تو اسے چھوڑنا انسان کے لیے نہایت ہی آسان ہوجاتا ہے۔ کیونکہ مشرک شرک کے بارے میں انتہائی جذباتی ہوتا ہے جس وجہ سے مثال بیان کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے لوگو ! تمہارے سامنے ایک مثال بیان کی جاتی ہے اسے پوری توجہ کے ساتھ سنو۔ یعنی اس سے بدکنے کی بجائے اس پر ٹھنڈے دل کے ساتھ غور کرو۔ بیشک جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے بیشک وہ سب کے سب اس کام کے لیے اکٹھے ہوجائیں۔ مکھی پیدا کرنا تو درکنار، اگر…
Read the full tafseer →عاجز و عزیز کا مقابل کیسے ؟
74: مَاقَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہٖ (انہوں نے اللہ تعالیٰ کے مرتبہ کا اندازہ ویسا نہیں کیا جیسا کرنا چاہیے) انہوں نے اس کو اس طرح نہیں پہچانا جیسا پہچاننا چاہیے تھا۔ وہ اس طرح کہ اس کمزور بت کو اس طرح شریک بناڈالا۔ اِنَّ اللّٰہَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ (بیشک اللہ تعالیٰ البتہ زبردست قوت والے ہیں) یعنی اللہ تعالیٰ غالب اور قادر مطلق ہیں پھر کس طرح عاجز و مغلوب کو اس کے مشابہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ نمبر 2۔ وہ اپنے اولیاء کی نصرت کی طاقت رکھتے ہیں۔ عزیز یعنی وہ زبردست ہیں ان کے دشمنوں سے انتقام لے سکتے ہیں۔
Read the full tafseer →74۔ ماقدرواللہ حق قدرہ، اس طرح اس کی تعظیم نہیں کی جس طرح تعظیم کرنی چاہیے تھی ، اور اس کے پہچاننے کا جس طرح حق تھا اس طرح اسکو نہیں پہچانا، اور جن اوصاف کا حق تھا اور وہ اوصاف آپ نے بیان نہیں کیے اس لیے حقیرترین چیزوں کو اس کی عبادت میں شریک قرار دے لیا، ان اللہ لقوی عزیز۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
73۔ 74:۔ اوپر ذکر تھا کہ جب ان بت پرستوں کو بتوں کی مذمت کی آیتیں سنائی جاتی ہیں تو ان آیتوں کے سنانے والے مسلمانوں پر یہ مشرک حملہ کرنے کو تیار ہوجاتے ہیں ‘ ان آیتوں میں مشرکوں کے قائل کرنے کے لیے فرمایا کہ یہ مشرک جن بتوں کی مذمت سے ایسے جڑتے ہیں ‘ آخر وہ بت اپنے پوجا کرنے والوں کی کیا مدد کرسکتے ہیں وہ تو ایسے عاجز ہیں کہ تمام دنیا کے بت بھی جمع ہوجاویں تو اللہ کی مخلوقات میں کی ایک ادنیٰ چیز مکھی کو بھی نہیں پیدا کرسکتے بلکہ مکھی کا پیدا کرنا تو درکنار یہ بت زعفران پانی میں گھول کر خوشبو کے لیے ان بتوں پر جو مل دیتے ہیں اور مکھیاں اس کو چاٹنا اور اس کے ریزے منہ میں لے کر اڑنا شروع کردیتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
آیت 73
اللہ تبارک و تعالیٰ نے بتوں کی عبادت کی قباحت، ان کی عبادت کرنے والوں میں عقل کی کمی اور ان سب کی کمزوری کو بیان کرنے کے لئے ایک مثال بیان کی ہے۔ فرمایا : (یایھا الناس) ” اے لوگو ! “ یہ خطاب مومنین اور کفار دونوں کے لئے ہے۔ اس سے اہل ایمان کے علم و بصیرت میں اضافہ ہوتا ہے اور کفار کے خلاف حجت قائم ہوتی ہے۔ (ضرب مثل فاستمعوا لہ) یعنی اس بیان کردہ مثال کو غور سے سنو اور اس کے مطالب کو سمجھنے کی کوشش کرو۔ یہ تمہارے دلوں کو غافل اور تمہارے کانوں کو اس سے اعراض کرنے والا نہ پائے، بلکہ اپنے کانوں اور دلوں سے خوب غور سے سنو۔
وہ مثال یہ ہے۔ (ان الذین تدعون من دون اللہ) ” بیشک وہ لوگ جن کو تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–78
جہاد فی سبیل اللہ
قول باری ہے (وجاھدوا فی اللہ حق جھادہ ھوا جتبکم وما جعل علیکم فی الدین من حرج ملۃ ابیکم ابراہیم اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ جہاد کرنے کا حق ہے اس نے تمہیں اپنے کام کے لئے چن لیا ہے اور دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔ قائم ہو جائو اپنے باپ ابراہیم کی ملت پر) ایک قول کے مطابق آیت کا مفہوم یہ ہے کہ ” اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ جاد کرنے کا حق ہے اور اپنے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت کی پیروی کرو۔ “ اسی بنا پر (ملۃ ابیکم) منصوب ہے بعض مفسرین کا قول ہے کہ اس کے منصوب ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یہاں کملۃ ابیکم مراد ہے۔ تاہم جب حرف جار محذوف ہوگیا تو اسم فعل کے ساتھ…
Read the full tafseer →140 اللہ جل جلالہ کی قدر نہ کرنے کا نتیجہ مہالک شرک میں گرنا ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ انہوں نے اللہ کی قدر نہ کی جیسا کہ اس کی قدر کرنے کا حق تھا۔ ورنہ یہ اس طرح کی ان عاجز اور بےحقیقت ہستیوں کو اس کی شریک ماننے کی جسارت کبھی نہ کرتے ۔ سُبْحَانَہ ‘ وَتَعَالٰی عَمَّا یَقُوْلَُ الظَّالِمُوْنَ عُلوًّا کَبِیْرًا ۔ سو وہ ایسا قوی اور قادر مطلق ہے کہ جو چاہے کرے اور ایسا عزیز اور زبردست ہے کہ جو کچھ کرنا چاہے یا جس کو پکڑنا چاہے، نہ کوئی اس کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے اور نہ اس کے کسی ارادہ میں حائل ہوسکتا ہے، سو ایسے قادر مطلق اور قوی و عزیز رب ذوالجلال کا ایسی بےحقیقت چیزوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–78
اللہ کی حاکمیت اور اللہ کے لیے انسان کی بندگی
تشریح : اخلاقیات کا ایک بہت بڑا سبق اللہ تعالیٰ دہرا رہے ہیں۔ وہ یہ کہ مسلمان کے لیے اصول بنا دیا گیا ہے کہ ظلم و زیادتی کا جواب اتنا ہی دیں جتنی زیادتی ان پر کی گئی ہو۔ کیونکہ اللہ ظلم کو پسند نہیں کرتا اس لیے اس نے وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ مظلو موں کی مدد ضرور کرتا ہے۔ یہ وعدہ اور یہ اخلاقی اصول کسی معمولی ہستی کے بنائے ہوئے نہیں بلکہ یہ اس رب العلمین کے بنائے ہوئے ہیں جس نے انسان کو پیدا کیا پھر اسکی نشوونما اور آرام و سکون کے لیے آسمانوں کو بلند کیا زمین بنائی اس میں ہر قسم کے چرند ‘ پرند ‘ حیوانات ‘ نباتات ‘ چاند، سورج، ستارے ‘ ندی نالے، دریا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–78
(رکوع نمبر 10)
اسرارومعارف
لوگو اس بات پر غور کرو اور اچھی طرح سوچو کہ اللہ جل جلالہ کے علاوہ جس جس کی پوجا کی جاتی ہے اگر وہ سب معبودان باطلہ اکھٹے ہو کر بھی کوشش کریں تو ایک مکھی جیسی حقیر مخلوق بھی بنا نہیں سکتے نہ صرف یہ بلکہ ان پر جو چڑھاوے چڑھاتے ہو ان کے سامنے پڑی ہوئی اشیاء کو مکھی کھاتی رہتی ہے وہ تو مکھی اڑا بھی نہیں سکتے کہ اپنے شے کو اس سے بچا لیں بھلا وہ تمہاری مدد کریں گے ، کتنے حقیر ہیں ان سے مانگنے والے اور کس قدر بےبس یہ تمہارے مطلوب ومعبود بنے ہوئے ہیں ، افسوس کہ تم نے اللہ جل جلالہ کی عظمت کو نہ جانا اور اس کی قدر نہ کرسکے لیکن اے کفار تمہارے نہ ماننے سے اس کی عظمت میں کوئی…
Read the full tafseer →1 ۔ اس لئے انہوں نے بتوں کو اس کا شریک قرار دے لیا حالانکہ جانتے ہیں کہ بت قطعی لاچار اور بےبس ہیں۔ 2 ۔ اس کے باوجود بتوں کو یا کسی اور کو اس کا ہمسر سمجھنا نری بیوقوفی نہیں تو اور کیا ہے ؟
Read the full tafseer →(22:74) قوی۔ قوۃ سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ طاقتور۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ میں سے ہے۔ عزیز۔ غالب ۔ زبردست۔ قوی۔ عزۃ سے فعیل کے وزن پر بمعنی فاعل۔ مبالغہ کا صیغہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–78
لغات القرآن : آیت نمبر 73 تا 78 :
ضرب (بیان کیا گیا۔ مارا گیا) ‘ استمعوا (غور سے سنو) ‘ لن یخلقوا (وہ ہرگز پیدا نہ کریں گے۔ وہ ہرگز پیدا نہیں کرسکتے) ‘ ذباب مکھی۔ کوئی ایک مکھی) ‘ یسلب (وہ کھینچ لیتا ہے۔ وہ چھین لیتا ہے) ‘ لایستنقذوہ (وہ نہ چھڑا سکیں گے) ‘ الطالب (چاہنے والا) ‘ مطلوب (چاہا گیا) ‘ یصطفی (وہ منتخب کرتا ہے) ‘ افعلوا (تم کرو) ‘ الخیر (بھائی ۔ نیک کام) ‘ اجتبی (اس نے چنا۔ منتخب کیا) ‘ حرج (تنگی) ‘ سمی (اس نے نام رکھا) ‘ شھید (گواہ) ‘ اعتصموا (تم مضبوط تھام لو) ‘ مولی (مالک) ‘ نعم المولی (بہترین مالک) ‘ نعم النصیر (بہترین مدد گار) ۔
تشریح : آیت نمبر 73 تا 78 :
اللہ وہ ہے جو کائنات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
مشرکین اور ان کے باطل معبودوں کی بےبسی کا ذکر۔
(ف 1) شان نزول۔ ان آیتوں میں مشرکوں کے قائل کرنے کے لیے فرمایا کہ یہ مشرک جن باطل معبودوں کی پوجا کرتے ہیں آخر وہ بت اپنے پوجا کرنے والوں کی کیا مدد کرسکتے ہیں وہ تو ایسے عاجز ہیں کہ تمام دنیا کے بت بھی جمع ہوجاویں تو اللہ کی مخلوقات کی ایک ادنی چیز مکھی کو بھی نہیں پیدا کرسکتے، بلکہ کا پیدا کرنا تو درکنار ان کو تو اتنی بھی قوت نہیں کہ اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے جائے تو یہ اس پھر چھین سکیں، پھر جو اس قدر ضعیف ہیں کہ ایک ادنی سے چیز یعنی مکھی پر غالب نہیں اسکتے وہ کیا خدائی کے قابل ہیں رہی یہ بات جن باطل معبودوں کو یہ پوجا کرتے ہیں عقبی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
[52] لیکن اس برگزیدگی کی وجہ سے انھیں معبود ہونے کا درجہ نہیں مل گیا جیسا کہ ان گمراہوں نے سمجھ رکھا ہے۔
Read the full tafseer →(ف 2) وہ خدا جو ادراک وفہم کی حدود سے بالا ہے جسے نظر نہیں پاسکتی ، اور جو زمان ومکان سے منزہ وپاک ہے جو سب کا خالق اور پیدا کرنے والا ہے ، جس نے اعلی وادنی اور دوست و دشمن سب پر عنایات کی بارش فرمائی ہے ، اس کا کیونکر شریک اور ساجھی ہو سکتا ہے ، جو سب پر غالب ہے ، جس کی حکومت کے دائرے سے کوئی چیز خارج نہیں ، جو قاہر ، مختار ہے اور قوی و عزیز ہے ، اس کے متعلق خیال بھی نہیں کیا جاسکتا ، کہ خود اسی کی ادنی مخلوق اس کی ہمسر ہو سکے ۔
حقیقت یہ ہے کہ لوگوں نے اللہ کی عظمت و جلال کا صحیح صحیح اندازہ ہی نہیں کیا ، اور کما حقہ اس کو نہیں پہچانا ۔
حل لغات :
مثل : ہر وہ بات جس میں کوئی باریک نکتہ پہناں…
Read the full tafseer →(74) ان مشرکوں نے اللہ تعالیٰ کی وہ قدر اور تعظیم نہ کی جو اس کی تعظیم کرنے کا حق تھا۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑی قوت والا اور سب پر غالب ہے۔ یعنی جیسی اس کی عزت و عظمت کا حق تھا وہ ان مشرکوں نے پورا نہیں کیا کہ کہاں وہ صاحب قوت اور کہاں یہ کمزور و ضعیف کہاں وہ سب پر غالب اور کہاں یہ عاجز و بےبس اس زبردست کو چھوڑ کر عاجزوں اور بےبسوں کی پوجا کرتے ہیں۔ نعوذ باللہ من ذالک۔
Read the full tafseer →ف 1۔ عبادت اس کا خالص حق تھا نہ کہ غیر قوی غیر عزیز کا۔
Read the full tafseer →ان ناقدروں نے اللہ کی قدر نہیں جانی جیسا کہ قدر جاننے کا حق تھا :
74۔ فرمایا ان لوگوں کی عقل کا جنازہ تو اس وقت نکل گیا جب انہوں نے خالق و مخلوق کو ایک مقام پر لا کر کھڑا کیا حالانکہ یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے جب کہ وہ خود بھی مالک اور مملوک دونوں کو ایک جیسا تصور نہیں کرتے حالانکہ اللہ تو وہ ذات ہے کہ جب کچھ نہ تھا تو وہ تھا اور جب کچھ نہ رہے گا تو وہ رہے گا وہ سب ظاہروں سے بڑھ کر ظاہر ہے کیونکہ دنیا میں جو کچھ بھی ظہور میں آیا اس کی صفات اور اسی کے افعال اور اسی کے نور کا ظہور ہے اور وہ ہر مخفی سے بڑھ کر مخفی ہے کیونک حواس سے اس کی ذات کو محسوس کرنا تو درکنار عقل وفکر اور خیال تک اس کی کہنہ و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–76
مَا قَدَرُوا اللَّـهَ حَقَّ قَدْرِهِ (They did not recognize Allah in His true esteem - 22:74). It means that these people are so foolish and ungrateful that they did not recognize the power of Allah Ta’ ala and place their helpless idols at the same level with Him.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
123. This parable has been cited to impress upon the idolworshipers that their deities are absolutely powerless, for even if they all collaborated to create an insignificant thing like a fly, they could not; nay, even if a fly snatched away anything from them they could not prevent it. This shows how weak they themselves are and how powerless are the idols they supplicate.
Read the full tafseer →