Al-Hajj 22:72

Al-Hajj · from ayah 72

22:72

وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الْمُنْكَرَ ؕ— یَكَادُوْنَ یَسْطُوْنَ بِالَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا ؕ— قُلْ اَفَاُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكُمْ ؕ— اَلنَّارُ ؕ— وَعَدَهَا اللّٰهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا ؕ— وَبِئْسَ الْمَصِیْرُ ۟۠وَاِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ اٰيٰـتُـنَا بَيِّنٰتٍ تَعۡرِفُ فِىۡ وُجُوۡهِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا الۡمُنۡكَرَ‌ ؕ يَكَادُوۡنَ يَسۡطُوۡنَ بِالَّذِيۡنَ يَتۡلُوۡنَ عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا‌ ؕ قُلۡ اَفَاُنَبِّئُكُمۡ بِشَرٍّ مِّنۡ ذٰ لِكُمُ‌ ؕ اَلنَّارُؕ وَعَدَهَا اللّٰهُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا‌ ۚ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ

اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی تو (ان کی شکل بگڑ جاتی ہے اور) تم ان کے چہروں میں صاف طور پر ناخوشی (کے آثار) دیکھتے ہو۔ قریب ہوتے ہیں کہ جو لوگ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں ان پر حملہ کردیں۔ کہہ دو کہ میں تم کو اس سے بھی بری چیز بتاؤں؟ وہ دوزخ کی آگ ہے۔ جس کا خدا نے کافروں سے وعدہ کیا ہے۔ اور وہ برا ٹھکانا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And when Our verses are recited to them as clear evidences, you recognize in the faces of those who disbelieve disapproval. They are almost on the verge of assaulting those who recite to them Our verses. Say, "Then shall I inform you of [what is] worse than that? [It is] the Fire which Allah has promised those who disbelieve, and wretched is the destination."

— Saheeh International

Juz 17 · Ruku 9 of surah · Ruku 16 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Hajj

All translations of 22:72

اور جب ان کو ہماری صاف صاف آیات سنائی جاتی ہیں تو تم دیکھتے ہو کہ منکرین حق کے چہرے بگڑنے لگتے ہیں اور ایسا محسُوس ہوتا ہے کہ ابھی وہ اُن لوگوں پر ٹوٹ پڑیں گے جو انہیں ہماری آیات سناتے ہیں ان سے کہو "میں بتاؤں تمہیں کہ اس سے بدتر چیز کیا ہے؟ آگ، اللہ نے اُسی کا وعدہ اُن لوگوں کے حق میں کر رکھا ہے جو قبول حق سے انکار کریں، اور وہ بہت ہی برا ٹھکانہ ہے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی تو (ان کی شکل بگڑ جاتی ہے اور) تم ان کے چہروں میں صاف طور پر ناخوشی (کے آثار) دیکھتے ہو۔ قریب ہوتے ہیں کہ جو لوگ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں ان پر حملہ کردیں۔ کہہ دو کہ میں تم کو اس سے بھی بری چیز بتاؤں؟ وہ دوزخ کی آگ ہے۔ جس کا خدا نے کافروں سے وعدہ کیا ہے۔ اور وہ برا ٹھکانا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جب ان کے سامنے ہمارے کلام کی کھلی ہوئی آیتوں کی تلاوت کی جاتی ہے تو آپ کافروں کے چہروں پر ناخوشی کے صاف آﺛار پہچان لیتے ہیں۔ وه تو قریب ہوتے ہیں کہ ہماری آیتیں سنانے والوں پر حملہ کر بیٹھیں، کہہ دیجئے کہ کیا میں تمہیں اس سے بھی زیاده بدتر خبر دوں۔ وه آگ ہے، جس کا وعده اللہ نے کافروں سے کر رکھا ہے، اور وه بہت ہی بری جگہ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جب ان کو ہماری آیتیں اپنی پوری وضاحتوں کے ساتھ پڑھ کر سنائی جاتی ہیں، تو تم ان کافروں کے چہروں پر ناگواری کے اثرات صاف پہچان لیتے ہو، ایسا لگتا ہے کہ یہ ان لوگوں پر حملہ کردیں گے جو انہیں ہماری آیتیں پڑھ کر سنا رہے ہیں۔ کہہ دو کہ : لوگو ! کیا میں تمہیں ایسی چیز بتلا دوں جو اس سے زیادہ ناگوار ہے ؟ آگ ! اللہ نے کافروں سے اس کا وعدہ کر رکھا ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جب ان پر ہماری روشن آیتیں پڑھی جائیں تو تم ان کے چہروں پر بگڑنے کے آثار دیکھو گے جنہوں نے کفر کیا، قریب ہے کہ لپٹ پڑیں ان کو جو ہماری آیتیں ان پر پڑھتے ہیں، تم فرمادو کیا میں تمہیں بتادوں جو تمہارے اس حال سے بھی بدتر ہے وہ آگ ہے، اللہ نے اس کا وعدہ دیا ہے کافروں کو، اور کیا ہی بری پلٹنے کی جگہ،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جب ان (کافروں) پر ہماری روشن آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں (تو) آپ ان کافروں کے چہروں میں ناپسندیدگی (و ناگواری کے آثار) صاف دیکھ سکتے ہیں۔ ایسے لگتا ہے کہ عنقریب ان لوگوں پر جھپٹ پڑیں گے جو انہیں ہماری آیات پڑھ کر سنا رہے ہیں، آپ فرما دیجئے: (اے مضطرب ہونے والے کافرو!) کیا میں تمہیں اس سے (بھی) زیادہ تکلیف دہ چیز سے آگاہ کروں؟ (وہ دوزخ کی) آگ ہے، جس کا اﷲ نے کافروں سے وعدہ کر رکھا ہے، اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جب ان کے سامنے ہماری واضح آیات کی تلاوت کی جائے تو تو ان لوگوں کے چہروں میں جنھوں نے کفر کیا، صاف انکار پہچان لے گا، قریب ہوں گے کہ ان لوگوں پر حملہ کردیں جو ان پر ہماری آیات کی تلاوت کریں۔ کہہ دے تو کیا میں تمہیں اس سے بری چیز بتاؤں ؟ وہ آگ ہے جس کا اللہ نے ان لوگوں سے وعدہ کیا ہے جنھوں نے کفر کیا اور وہ برا ٹھکانا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جب ان پر ہماری آیات پڑھی جاتی ہیں تو آپ ان کے چہروں پر ناگواری کے آثار دیکھتے ہیں۔ (ایسا معلوم ہوتا ہے کہ) ابھی وہ ان لوگوں پر چھپٹ پڑیں جو انھیں ہماری آیات سناتے ہیں۔ آپ ان سے کہئے : میں آپ کو بتاؤں اس سے بدتر چیز کیا ہے ؟ آگ جس کا اللہ نے کافروں سے وعدہ کر رکھا ہے اور بہت برا ٹھکانا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جب ہماری واضح آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو تم ان کافروں کے چہروں پر ناگواری پاتے ہ۔ گویا یہ ان لوگوں پر حملہ کر بیٹھیں گے جو ان کو ہماری آیات پڑھ کر سنا رہے ہیں۔ ان سے کہو کہ کیا میں تمہیں اس سے بڑھ کر ناگوار چیز کی خبر نہ سنائوں ؟ وہ ہے دوزخ ! اس کا اللہ نے ان لوگوں کے لئے وعدہ کر رکھا ہے جنہوں نے کفر کیا ہے اور وہ کیا ہی برا ٹھکانا ہے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور حق واہل سے ان کے بغض وعناد کا عالم یہ ہے کہ جب ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ہماری کھلی اور واضح آیتیں اور تم ان لوگوں کے چہروں میں ناگواری وناپسندیدگی کے آثار ابھرتے دیکھو گے جو اڑے ہوئے اپنے کفر پر ایسا لگتا ہے کہ یہ ابھی ٹوٹ پڑیں گے ان علمبرداران حق پر جو ان کو پڑھ کو سناتے ہیں ہماری آیتیں ان سے کہو کہ کیا میں تم کو اس سے بھی بڑھ کر ایک ناگوار چیز نہ بتادوں ؟ وہ جہنم کی وہ آگ ہے جس کا اللہ نے وعدہ فرما رکھا ہے ان بدبختوں سے جو اڑے ہوئے ہیں اپنے کفر وباطل پر اور بڑا ہی برا ٹھکانا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اور جب ان پر ہماری کھلی کھلی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو آپ کافروں کے چہروں پر برے آثار دیکھتے ہیں۔ گویا یہ لوگ ان پر حملہ کربیٹھیں گے جو انہیں ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں۔ آپ کہہ دیجیے کہ کیا میں تمہیں اس سے بڑھ کر ناگوار چیز بتاؤں ؟۔ (وہ) دوزخ ہے اللہ نے اس کا کافروں سے وعدہ کر رکھا ہے اور وہ برا ٹھکانا ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جب ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ہماری روشن آیات تو تم دیکھتے ہو ان کافروں کے چہروں پر نا گواری کے آثار قریب ہوتے ہیں کہ ٹوٹ پڑیں ان پر جو ان کو ہماری آیت پڑھ کر سنا تے ہیں آپ ﷺ کہیے : کیا میں تمہیں اس سے بدتر چیز کی خبر دوں وہ ہے آگ ! جس کا وعدہ کیا ہے اللہ نے کافروں سے۔ اور وہ بہت ہی برا ٹھکانہ ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کی شکل بگڑ جاتی ہے اور آپ ان کے چہروں پر صاف طور پر ناگواری کے آثار دیکھتے ہیں ایسا لگتا ہے کہ جو ہماری آیتیں ان کو پڑھ کر سناتے ہیں ان پر حملہ کردیں۔ فرمادیں کہ میں تم کو اس سے بھی بری چیز بتائوں ؟ وہ دوزخ کی آگ ہے جس کا اللہ نے کافروں سے وعدہ کیا ہے اور وہ برا ٹھکانا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

When Our Signs are plainly recited to them, you will perceive utter repugnance on their faces and it all but seems as if they will soon pounce upon those who recite Our Signs to them. Say: "Shall I tell you what is worse than that? The Fire with which Allah has threatened those who disbelieve. That is truly an evil end."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

When Our verses are recited to them in all their clarity, you (can) recognize disgust on the faces of the disbelievers. They seem to attack those who recite to them Our verses. Say, :Shall I, then, tell you about something more disgusting than that? The Fire! Allah has promised it to those who disbelieve. And it is an evil end.

— Muhammad Taqi Usmani

When Our verses are recited to them in all their clarity, you (can) recognize disgust on the faces of the disbelievers. They seem to attack those who recite to them Our verses. Say, :Shall I, then, tell you about something more disgusting than that? The Fire! Allah has promised it to those who disbelieve. And it is an evil end.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And when Our clear Ayat are recited to them, you will notice a denial on the faces of the disbelievers! They are nearly ready to attack with violence those who recite Our Ayat to them. Say: "Shall I tell you of something worse than that The Fire which Allah has promised to those who disbelieved, and worst indeed is that destination!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And when Our revelations are recited unto them, thou knowest the denial in the faces of those who disbelieve; they all but attack those who recite Our revelations unto them. Say: Shall I proclaim unto you worse than that? The Fire! Allah hath promised it for those who disbelieve. A hapless journey's end!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And when Our verses are recited to them as clear evidences, you recognize in the faces of those who disbelieve disapproval. They are almost on the verge of assaulting those who recite to them Our verses. Say, "Then shall I inform you of [what is] worse than that? [It is] the Fire which Allah has promised those who disbelieve, and wretched is the destination."

— Saheeh International

When Our authoritative revelations are recited to the unbelievers, you can clearly read the dislike on their faces. They almost attack those who read Our revelations to them. Say to them, "Should I tell you about what is the worst thing for you than these revelations? It is the fire which God has prepared for the unbelievers. What a terrible destination!

— Muhammad Sarwar

And when Our clear communications are recited to them you will find denial on the faces of those who disbelieve; they almost spring upon those who recite to them Our communications. Say: Shall I inform you of what is worse than this? The fire; Allah has promised it to those who disbelieve; and how evil the resort!

— Muhammad Habib Shakir

And when Our manifest signs are rehearsed unto them, thou recognizest repugnance on the countenaces of those who disbelieve; well- nigh they rush upon these who rehearse unto them Our Signs. Say thou: shall declare unto you something more grievous than that-the Fire--Allah hath promised it to those who disbelieve? An evil destination!

— Abdul Majid Daryabadi

When Our Clear Signs are rehearsed to them, thou wilt notice a denial on the faces of the Unbelievers! they nearly attack with violence those who rehearse Our Signs to them. Say, "Shall I tell you of something (far) worse than these Signs? It is the Fire (of Hell)! Allah has promised it to the Unbelievers! and evil is that destination!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 22:72

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 71–72

شیطان کی تقلید بلاسند، بغیر دلیل کے اللہ کے سوا دوسرے کی پوجا پاٹ عبادت و بندگی کرنے والوں کا جہل وکفر بیان فرماتا ہے کہ شیطانی تقلید اور باپ دادا کی دیکھا دیکھی کے سوا نہ کوئی نقلی دلیل ان کے پاس ہے نہ عقلی۔ چناچہ اور آیت میں ہے (وَمَنْ يَّدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰــهًا اٰخَرَ01107) 23۔ المؤمنون :117) جو بھی اللہ کے ساتھ دوسرے معبود کو بےدلیل پکارے اس سے اللہ خود ہی باز پرس کرلے گا۔ ناممکن ہے کہ ایسے ظالم چھٹکارا پاجائیں۔ " یہاں بھی فرمایا کہ ان ظالموں کا کوئی مددگار نہیں کہ اللہ کے کسی عذاب سے انہیں بچالے۔ ان پر اللہ کے پاک کلام کی آیتیں، صحیح دلیلیں، واضح حجتیں جب پیش کی جاتی ہیں تو ان کے تن…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْحَجّ 122 یعنی کلام الہٰی کی آیات سن کر جو غصے کی جلن تم کو لاحق ہوتی ہے اس سے شدید تر چیز، یا یہ کہ ان آیات کو سنانے والوں کے ساتھ جو زیادہ سے زیادہ برائی تم کرسکتے ہو اس سے زیادہ بد تر چیز، جس سے تمہیں سابقہ پیش آنے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 71–72

خلاصہ تفسیر اور یہ (مشرک) لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جن (کے جواز عبادت) پر اللہ تعالیٰ نے کوئی حجت (اپنی کتاب میں) نہیں بھیجی اور نہ ان کے پاس اس کی کوئی (عقلی) دلیل ہے اور (قیامت میں) جب (ان کو شرک پر سزا ہونے لگے گی تو) ان ظالموں کا کوئی مددگار نہ ہوگا (نہ قولاً کہ ان کے فعل کے استحسان پر کوئی حجت پیش کرسکے نہ عملاً کہ ان کو عذاب سے بچا لے) اور (ان لوگوں کو اسی گمراہی اور اہل حق سے عناد رکھنے میں یہاں تک غلو ہے کہ) جب ان لوگوں کے سامنے ہماری آیتیں (متعلق توحید وغیرہ کے) جو کہ (اپنے مضامین میں) خوب واضح ہیں (اہل حق کی زبان سے) پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو تم کافروں کے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

سطا یسطو کے معنی حملہ کردینے اور پل پڑنے کے ہیں اصنام کی بےحقیقتی کی تمثیل اور ان کے حامیوں کو جاب مطلب یہ ہے کہ ان معبودوں کے حق میں کوئی دلیل ان کے پاس اگرچہ نہیں ہے لیکن اس کے باوجود ان کے لئے انت کی حمایت کا حال یہ ہے کہ جب توحید کے قح میں ان کو نہایت واضح اور مدلل آیات سنائی جاتی ہیں تو ان کے تن بدن میں ٓگ لگ جاتی ہے، ان کے چہرے بگڑ جاتے اور بھویں تن جاتی ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیتیں سنانے والوں پر پل پڑیں گے۔ فرمایا کہ اگر اللہ کی آیات اور ان کے سنانے والوں سے یہ ایسے ہی چراغ پا ہوتے ہیں تو ان سے کہو کہ کیا میں تمہیں ایک ایسی چیز کی خبردوں جو ان چیزوں سے کہیں زیادہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

72۔ 1 اپنے ہاتھوں سے دست درازی کرکے یا بد زبانی کے ذریعے سے۔ یعنی مشرکین اور اہل ضلالت کے لئے اللہ کی توحید اور رسالت و قیامت کا بیان ناقابل برداشت ہوتا ہے، جس کا اظہار، ان کے چہرے سے اور بعض دفعہ ہاتھوں اور زبانوں سے ہوتا ہے۔ یہی حال آج کے اہل بدعت اور گمراہ فرقوں کا ہے، جب ان کی گمراہی، قرآن و حدیث کے دلائل سے واضح کی جاتی ہے تو ان کا رویہ بھی آیات قرآنی اور دلائل کے مقابلے میں ایسا ہی ہوتا ہے، جس کی وضاحت اس آیت میں کی گئی ہے (فتح القدیر) 72۔ 2 یعنی ابھی تو آیات الٰہی سن کر صرف تمہارے چہرے ہی حیران ہوتے ہیں۔ ایک وقت آئے گا، اگر تم نے اپنے اس روئیے سے توبہ نہیں کی، کہ اس سے کہیں زیادہ بدتر…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

32: مطلب یہ ہے کہ ابھی تو تم ان آیتوں ہی کو ناگوار سمجھ رہے ہو، آخرت میں جب آگ سامنے آئے گی تو پتہ چلے گا کہ اصل ناگوار چیز کیا تھی

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

واذا ……ایتنا ط یہ لوگ دلیل کا جواب دلیل سے نہیں دیتے۔ نہ دلیل کو دلیل سے رد کرتے ہیں بلکہ یہ دلیل کے مقابلے میں غصہ کر کے مخالف کو کھا جانا چاہتے ہیں اور یہ دلیل نہ ہونے کی علامت ہے اور سرکشوں کی آخری دلیل یہ ہوتی ہے کہ وہ لڑ پڑتے ہیں اور تشدد کرتے ہیں۔ وہ حق کا کلمہ سننا ہی نہیں چاہتے۔ ڈنڈے کی دلیل سے بات کرتے ہیں کیونکہ ان کو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے پاس ڈنڈے کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید ان کو یہ جواب دیتا ہے : قل افانبئکم ……(27) ” ان سے کہو میں بتائوں تمہیں کہ اس سے بد تر چیز ہے ؟ آگ ، اللہ نے اسی کا وعدہ ان لوگوں کے حق میں رکر رکھا ہے جو قبول حق سے انکار کریں اور وہ بہت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی قرآن کی آیتیں (جو توحید وغیرہ کے صاف بیانات پر مشتمل ہیں) سن کر کفار و مشرکین کے چہرے بگڑ جاتے اور مارے ناخوشی کے تیوریاں بدل جاتی ہیں۔ حتی کہ شدت غیظ و غضب سے پاگل ہو کر چاہتے ہیں کہ آیات سنانے والوں پر حملہ کردیں۔ چناچہ بعض اوقات کر بھی گزرتے ہیں۔ 6 یعنی تمہارے اس غیظ و غضب اور ناگواری سے بڑھ کر جو آیات اللہ کے پڑھے جانے پر پیدا ہوتی ہے، ایک سخت بری ناگوار چیز اور ہے جس پر کسی طرح صبر ہی نہ کرسکو گے اور وہ دوزخ کی آگ ہے جس کا وعدہ کافروں سے کیا جا چکا ہے۔ دونوں کا موازنہ کر کے فیصلہ کرلو کہ کونسا تلخ گھونٹ پینا تم کو نسبۃً آسان ہوگا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 72 وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْہِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْہِ الَّذِیْنَ کَفَرُوا الْمُنْکَرَ ط ” اللہ عزوجل کا کلام سن کر خوشی سے کھل اٹھنے کی بجائے ان کے چہروں پر بیزاری اور ناگواری کے آثار پیدا ہوجاتے ہیں۔ قُلْ اَفَاُنَبِّءُکُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِکُمْط ” یعنی جس قدر ناگواری تمہیں اس وقت ہو رہی ہے اور جس قدر سختی تم پر اس وقت بیت رہی ہے جب تمہیں اللہ تعالیٰ کی آیات پڑھ کر سنائی جا رہی ہیں ‘ کیا میں تمہیں بتاؤں کہ اس سے بڑھ کر ناگوار اور سخت چیز تمہارے لیے کیا ہوگی ؟

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

101 یعنی مشرکوں کے سامنے جب اللہ تعالیٰ کی ایسی آیات پڑھی جاتی ہیں جن میں خالص توحید کا ذکر ہوتا ہے اور یہ بتلایا جاتا ہے کہ تصرف امور کے جملہ اختیارات صرف اللہ کو ہیں اور کوئی دوسرا ان میں شریک نہیں تو ان مشرکوں کے تیور بگڑنے لگتے ہیں اور وہ یوں کعیدہ خاطر ہونے لگتے ہیں کہ کبھی ایسی آیات سنانے والے پر حملہ کردیں گے یا چپت رسید کردیں گے۔ آپ انھیں کہئے کہ بیشک تمہیں یہ آیات ناگوار ہیں۔ لیکن اس ناگواری کا انجام اس سے بھی زیادہ ناگوار ہوگا اور وہ ہے آگ کا عذاب۔ اب تم خود ہی فیصلہ کرلو کہ ان دونوں ناگوار باتوں میں سے کون سی بات تمہیں قابل قبول ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

121۔ (ان کی ناگواری اور غصہ کو ظاہر کرنے والے، مثلا ان کے تیور پر بل پڑجانا) قرآن مجید کے واضح احکام وہدایات سے تسلی حاصل کرنے کے بجائے شدت عناد سے الٹے غصہ سے بھر بھر جاتے تھے۔ اور ان کے دلی بغض کے آثار ان کے چہرے بشرے سے ظاہر ہوہوکر رہتے تھے۔ آج بھی بہت سے دشمنان دین اور بعض ” روشن خیالوں “ کے چہروں کا انقباض سے کیا حال ہوجاتا ہے جب ان پر احکام الہی کی تبلیغ کی جاتی ہے۔ 122۔ (آیت) ” یکادون “۔ کے لفظی معنی کسی فعل یا عمل کے قریب ہوجانے کے ہیں۔ منکرین معاندین جب قرآن کی آیتیں سنتے تو غصہ سے بھر جاتے۔ معلوم ایسا ہونے لگتا کہ بس اپنے سنانے والوں پر حملہ کر ہی بیٹھیں گے۔ اور کبھی کبھی حملہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 65–72

آیت نمبر 65 تا 72 ترجمہ : (اے مخاطب) کیا تجھ کو معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے کاموں میں لگا رکھا ہے زمین کی چیزوں کو حیوانات میں سے اور کشتیوں کو کہ وہ دریا میں بار برداری اور سواری کے لئے اس کے حکم سے چلتی ہیں، اور وہی آسمانوں کو زمین پر گرنے سے تھامے ہوئے ہے (یا تھامے ہوئے ہے تاکہ نہ گرے کہ سب ہلاک ہوجائیں) ہاں مگر یہ کہ گرنے کا حکم ہوجائے بلاشبہ اللہ تعالیٰ لوگوں پر تسخیر و امساک میں بڑی مشفقت اور رحمت فرمانے والا ہے وہ وہی ہے جس نے تم کو زندگی دی پیدا کرکے پھر تم کو موت دے گا تمہاری مدت عمر پوری ہونے کے بد پھر تم کو زندہ کرے گا بعث کے وقت واقعی مشرک انسان خدا کی نعمتوں کا اس کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واذا تتلی علیہم ایتنا بینت تعرف فی وجوہ الذین کفروا المنکر اور جب ان کے سامنے ہماری کھلی کھلی آیات (یعنی جن کے مضامین کی حقانیت واضح ہے) پڑھی جاتی ہیں تو آپ ان کافروں کے چہروں پر ناگواری کے آثار پہچان لیں گے۔ اٰیٰتُنَا یعنی قرآن کی آیات۔ بَیِّنٰتٍیعنی جن کا اللہ کی طرف سے نازل ہونا کھلا ہوا ہے۔ یا صحیح عقائد پر جن کی دلالت واضح ہے۔ الْمُنْکَرَیعنی غصہ و ناگواری و ترش روئی کی وجہ سے آثار انکار ان کے چہروں پر نمودار ہوجاتے ہیں۔ وُجُوْہِہِمْکی جگہ وُجُوْہِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا صراحت کے ساتھ کہنے سے اس طرف اشارہ ہے کہ انکار کا باعث سوائے شدت کفر کے اور کوئی نہیں یا منکر سے مراد ہے وہ شرارت جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(72) اور جب ان لوگوں کے سامنے قرآن حکیم کی آیتیں جو کہ اوامرو نواہی کے بیان میں خوب واضح ہیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو آپ ان منکرین قرآن کے چہروں پر قرآن کریم سے ناگواری کے آثار دیکھتے ہیں۔ قریب ہے کہ یہ ان لوگوں پر ابھی حملہ کردیں جو ان کو قرآن کریم کی آیات پڑھ کر سناتے ہیں، آپ ان کفار مکہ سے فرما دیجیے کیا میں تمہیں اس سے زیادہ ناگواری کی چیز بتا دوں جو کہ تم اس دنیا میں مسلمانوں سے کہتے ہو وہ دوزخ ہے کیونکہ وہ مسلمانوں سے کہتے تھے کہ ہم نے تم سے زیادہ کم نفع والا کسی دین والے کو نہیں دیکھا اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان سے یہ کہنے کا حکم دیا کہ وہ دوزخ ہے اور اس کا اللہ تعالیٰ نے کافروں سے…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيٰتُنَا۔۔ : ”الْمُنْكَرَ“ مصدر میمی ہے یعنی انکار، یا اسم مفعول ہے یعنی ایسی حالت جو مانوس اور پہچانی ہوئی نہیں بلکہ انوکھی اور بری ہے۔ ”يَسْطُوْنَ“ ”سَطَا یَسْطُوْ سَطْوَۃً“ سخت پکڑنا یا حملہ کردینا، یعنی ان باطل کے پجاری مشرکوں کا اپنے بےحقیقت اور بےبنیاد داتاؤں اور جھوٹے خداؤں کی حمیت کا یہ حال ہے کہ جب ان پر ہماری آیات پڑھی جاتی ہیں یعنی ان کے سامنے کوئی بھی ہماری آیات پڑھ دیتا ہے، جو ہماری توحید وصفات اور آخرت وغیرہ کے بیان میں بالکل واضح ہیں اور جو اتنی پر حکمت اور بلیغ ہیں کہ ان کا ہمارا کلام ہونا بالکل واضح ہے، تو ان کافروں کے چہروں ہی سے ان کا صاف انکار…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واذا تتلی علیہم ایتنا بینت آیات سے مراد قرآن ہے۔ تعرف فی وجوہ الذین کفروا المنکر، المنکر سے مراد غضب اور یبوست ہے۔ یکادون یسطون وہ پکڑتے ہیں۔ السطوۃ کا معنی شدت سے پکڑنا ہے۔ کہا جاتا ہے : سطابہ یسطو جب کوئی کسی چیز کو پکڑ لے خواہ یہ مارنے کے ساتھ ہو یا گالی گلوچ کے ساتھ ہو۔ اور سطاعلیہ بھی استعمال ہوتا ہے۔ بالذین یتلون علیہم ایتنا، حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : یسطون کا معنی ہے وہ ان کی طرف ان کے ساتھ لڑتے ہیں۔ ضحاک نے کہا : وہ انہیں سختی سے ہاتھ پکڑتے ہیں۔ تمام معانی ایک جیسے ہیں۔ السطو کی اصل قہر ہے۔ اللہ تعالیٰ ذوسطوت ہے اور سخت گرفت کرنے والا ہے۔ قل افانبئکم بشر من…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد سے اور مجاہد نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت یکادون یسطون سے مراد ہے یبطشون یعنی وہ پکڑ لیں گے۔ 2۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت یکادون یسطون کہ وہ کفار قریش ان پر حملہ کردیں گے ان کو پکڑ لیں گے (جو انکے سامنے ہماری آیات پڑھتے ہیں)

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاِذَا [ اور جب بھی ] تُتْلٰى عَلَيْهِمْ [ پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ان کو ] اٰيٰتُنَا [ ہماری آیتیں ] بَيِّنٰتٍ [ واضح ہوتے ہوئے ] تَعْرِفُ [ تو آپ پہنچانیں گے ] فِيْ وُجُوْهِ الَّذِيْنَ [ ان کے چہروں میں جنھوں نے ] كَفَرُوا [ انکار کیا ] الْمُنْكَرَ ۭ [ ناگواری کو ] يَكَادُوْنَ [ وہ ایسے لگتے ہیں کہ ] يَسْطُوْنَ [ حملہ کرکے مغلوب کریں ] بِالَّذِيْنَ [ ان کو جو ] يَتْلُوْنَ عَلَيْهِمْ [ پڑھ کر سناتے ہیں ان کو ] اٰيٰتِنَا ۭ [ ہماری آیتیں ] قُلْ [ آپ کہئے ] اَفَاُنَبِّئُكُمْ [ تو کیا میں خبردوں تم لوگوں کو ] بِشَرٍّ [ ایک ایسی برائی کی جو ] مِّنْ ذٰلِكُمْ ۭ [ اس سے ( زیادہ بری ) ہے ] اَلنَّارُ ۭ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

کافر قرآن سنتے ہیں تو ان کے چہروں سے نا گواری محسوس ہوتی ہے ان آیات میں مشرکین کی تردید فرمائی ہے اور ان کا طریقہ کار بیان فرمایا ہے اور ساتھ ہی عذاب کا تذکرہ بھی فرمایا جو آخرت میں ہوگا۔ اول تو یہ فرمایا کہ یہ لوگ ان چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جن کے معبود ہونے کی اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی اور ان کے پاس کوئی عقلی دلیل بھی نہیں ہے جس سے شرک کرنے کا جواز معلوم ہوتا ہو، یہ لوگ شرک کر کے ظالم بنے ہوئے ہیں اور اس ظلم کی سزا انہیں مل جائے گی جب انہیں عذاب ہونے لگے گا تو ان کے لیے کوئی بھی مددگار نہ ہوگا۔ اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ جب ان مشرکوں کو ہماری آیات سنائی جاتی ہیں جن کے مضامین…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 67–72

تہدید مجادلین دربار احکام شریعت قال اللہ تعالیٰ لکل امۃ جعلنا منسکا .... الیٰ .... وبئس المصیر۔ (ربط) گزشتہ آیات میں دلائل الوہیت کو بیان کیا، اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ قرون ماضیہ میں ہر امت کو ایک خاص شریعت عطاء کی گئی جو اس زمانے کے مناسب تھی اور اب اخیر میں آپ کو یہ شریعت عطاء کی گئی تمام شریعتیں اپنے اپنے وقت میں حق تھیں اور واجب الاتباع تھیں اب اخیر زمانہ میں یہ شریعت کاملہ ہے جو آخری شریعت ہے سب پر اس کا اتباع واجب ہے کسی کو اس میں مجادلہ اور منازعت کا حق نہیں چناچہ فرماتے ہیں، ہر امت کے لئے ہم نے ایک شریعت اور بندگی کی ایک راہ مقرر کردی جس پر وہ چلتے ہیں اسی طرح ہم نے آپ کو ایک…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

85:۔ ” وَ اِذَا تُتْلٰی الخ “ یہ بھی شکوی ہے مشرکین کو جب ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں جن میں خالص توحید کا ذکر ہوتا ہے تو ان کے چہروں پر نفرت اور عداوت کے آثار نمودار ہوجاتے ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ ابھی آیتیں پڑھنے والوں پر حملہ کردیں گے۔ ” قُلْ اَفَاُنَبِّئُکُمْ “ تخویف اخروی ہے آپ ان مشرکین سے فرما دیں کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتاؤں جو تمہارے توحید سنانے والوں پر غیظ و غضب اور توحید سے تمہاری نفرت سے بدرجہا بدتر ہے النار ای ھو النار (مدارک) ۔ وہ آگ ہے جو ایسے منکرین ہی کے لیے تیار کی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 70–72

ربط آیات : گزشتہ آیات میں قربانی کا ذکر اور کفروشرک کا رد تھا۔ اللہ نے توحید کے کچھ دلائل بیان فرمائے اور قربانی کے متعلق فرمایا کہ ہم نے ہر امت کے لئے قربانی کا ایک طریقہ مقرر کیا ہے۔ اور اگر یہ لوگ اس معاملہ میں کوئی جھگڑا کریں تو اللہ نے اپنے نبی کو فرمایا کہ آپ انہیں توحید کی طرف دعوت دیں ، نیز بتادیں کہ اللہ تعالیٰ تمہاری کار گزاریوں کو جانتا ہے ، اور جو کچھ تم کر رہے ہو اس کے متعلق وہ قیامت کو فیصلہ کردے گا۔ متعلقات قربانی : گزشتہ آیات میں قربانی کا خصوصی ذکر آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے ہر امت کے لئے قربانی کا طریقہ مقرر کیا ہے تاکہ معلوم دنوں میں لوگ حلال مویشیوں کو اللہ کے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِذَا تُتْلٰى عَلَيْہِمْ اٰيٰتُنَا بَيِّنٰتٍ تَعْرِفُ فِيْ وُجُوْہِ الَّذِيْنَ كَفَرُوا الْمُنْكَرَ۝ 0ۭ يَكَادُوْنَ يَسْطُوْنَ بِالَّذِيْنَ يَتْلُوْنَ عَلَيْہِمْ اٰيٰتِنَا۝ 0ۭ قُلْ اَفَاُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكُمْ۝ 0 ۭ اَلنَّارُ۝ 0ۭ وَعَدَہَا اللہُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا۝ 0ۭ وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ۝ 72ۧ تلو تَلَاهُ : تبعه متابعة ليس بينهم ما ليس منها، وذلک يكون تارة بالجسم وتارة بالاقتداء في الحکم، ومصدره : تُلُوٌّ وتُلْوٌ ، وتارة بالقراءة وتدبّر المعنی، ومصدره : تِلَاوَة وَالْقَمَرِ إِذا تَلاها [ الشمس/ 2] ( ت ل و ) تلاہ ( ن ) کے معنی کسی کے پیچھے پیچھے اس طرح چلنا کے ہیں کہ ان کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 71–72

نہ خدا ہی مددگارہوتا نہ ان کے وہ خیالی معبود جن کو وہ مددگار سمجھ کر پوج رہے ہیں۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْھِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ تَعْرِفُ فِی وُجُوْہِ الَّذِیْنَ کَفَرُوا الْمُنْکَرَ ط یَکَادُوْنَ یَسْطُوْنَ بِالَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ عَلَیْھِمْ اٰیٰتِنَا ط قُلْ اَفَاُنَبِّئُکُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِکُمْ ط اَلنَّارُ ط وَعَدَ ھَا اللّٰہُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ط وَبِئْسَ الْمَصِیْرُ ۔ (الحج : 72) (جب ان پر ہماری واضح آیات پڑھی جاتی ہیں تو آپ ان کے چہروں پر جنھوں نے کفر کیا، ناگواری کو پہچان سکتے ہیں۔ گویا یہ ان لوگوں پر حملہ کردیں گے جو ان کو ہماری آیات پڑھ کر سنا رہے ہیں۔ ان سے کہئے کہ کیا میں تمہیں اس سے بڑھ کر ناگوار چیز کی خبر نہ دوں ؟ وہ ہے دوزخ کی آگ۔ اس کا اللہ تعالیٰ نے ان…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : شرک کی دلیل نہ ہونے کے باوجود مشرک کا ردِّ عمل۔ مشرکانہ طبیعت کا یہ خاصہ ہے کہ جب اس کے سامنے اللہ کی ذات، صفات اور اسی ایک کی عبادت کرنے کا ذکر کیا جائے تو اسے ایسی بات اور واعظ اچھا نہیں لگتا۔ حتٰی کہ ایسی آیات کے ساتھ بےاعتنائی ظاہر کرتے ہیں۔ اہل مکہ کے سامنے سرورگرامی ﷺ توحید پر مبنی آیات کی تلاوت کرتے تو طیش میں آکر ان کے چہروں کے رنگ بدل جاتے یہاں تک کہ وہ آپ پر ٹوٹ پڑنے کی کوشش کرتے اور اس پر سرور گرامی ﷺ کو ارشاد ہوا کہ آپ انھیں فرمائیں کہ آج عقیدہ توحید کے ذکر کی وجہ سے تمہارے چہرے متغیر ہوجاتے ہیں لیکن وہ وقت یاد کرو جب تمہیں جہنم میں پھینکا جائے گا اور جہنم کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

تلاوت پر کفار کا غصہ : 72: وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْھِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ (اور جب ان پر ہماری واضح آیات پڑھی جاتی ہیں) یعنی قرآن مجید تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْہِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْاالْمُنْکَرَ (تو تم کفار کے چہروں پر انکار کو پہچانو گے) انکار جو ترش روئی اور کراہت سے پہچانا جاتا ہے۔ المنکرؔ مصدر میمی ہے انکار کرنا۔ یَکَادُوْنَ یَسْطُوْنَ (قریب ہے کہ وہ حملہ آور ہوجائیں) یسطونؔ پکڑ لیں۔ السطو : (کو دنا اور پکڑنا) ۔ بِالَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ عَلَیْھِمْ ٰایٰتِنَا (ان لوگوں پر جو ان کے سامنے ہماری آیات پڑھتے ہیں) یتلون کی ضمیر سے مراد نبی اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ ہیں۔ قُلْ اَفَاُنَبِّئُکُمْ بِشَرٍّ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر۔ 72۔ واذا تتلی علیھم آیاتنا بینات۔ بینات سے مراد قرآن مجید ہے۔ تعرف فی وجوہ الذین کفروا لمنکر، غصہ اور ناگواری وترش روئی کی وجہ سے آثار انکار ان کے چہروں پر نمودار ہوجاتے ہیں۔ یکادون یسطون ، پکڑلیں گے یاضرر پہنچانے کے لیے تلاوت کرنے والوں کی طرف ہاتھ بڑھائیں گے۔ اور بعض نے کہا کہ وہ پھیلائیں گے ، بالذین یتلون علیھم آیاتنا، اس سے مراد محمد اور ان کے صحابہ جو آیات پڑھتے ہیں ان پر شدت غصہ کی وجہ سے ان کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہیں۔ کہاجاتا ہے ، سطا علیہ، سطابہ ، دونوں ہم معنی ہیں سطو اورسطوۃ مصدر ہے اس پر حملہ کیا یاپکڑنے کے لیے جبر کیا۔ قل، اے محمد، افانبئکم بشر من ذلکم، یہ تمہارے لیے زیادہ بری…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 71–72

71۔ 72:۔ اوپر ذکر تھا کہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق ہر فرقہ کا طریقہ لوح محفوظ میں لکھا جا چکا ہے۔ اسی کے موافق ہر فرقہ کا طریقہ دنیا میں پایا جاتا ہے ‘ اس بات کو پورا کرنے کے لیے ان آیتوں میں مشرکین مکہ کے غلط طریقہ کا حال بیان فرمایا کہ یہ لوگ رات دن بت پرستی کی کوئی سند نہیں ہے ‘ پھر فرمایا بت پرستی کے جائز ہونے پر کوئی سند نقلی موجود نہ ہونے کے علاوہ ان لوگوں کے پاس کوئی عقلی سند بھی بتوں کے معبود ٹھہرانے کی نہیں ہے کیونکہ یہ بت تو پتھر کی مورتیں ہیں ‘ ان میں نہ بولنے چالنے کی طاقت ہے نہ اپنی پوجا کرانے کی خواہش ‘ اب رہے وہ لوگ جن کی شکل کی یہ مورتیں ہیں وہ ان مشرکوں کی صورت سے بیزار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 71–72

آیت 71 اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کی حالت کا ذکر کرتا ہے جنہوں نے خود ساختہ معبودوں کو اللہ تعالیٰ کے ہمسر ٹھہرا رکھا ہے کہ ان کی حالت بدترین حالت ہے۔ ان افعال پر ان کے پاس کوئی سند ہے نہ نہ ان کے پاس کوئی علم ہی ہے۔ یہ تو محض مقلد ہیں یہ سب کچھ انہوں نے اپنے گمراہ آباؤ اجداد سے حاصل کیا ہے۔۔۔. اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان جو کوئی کام کرتا ہے اس کے پاس۔۔۔. فی نفس الامر۔۔۔. کوئی علمی دلیل نہیں ہوتی چناچہ یہاں اللہ تعالیٰ نے خبردی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس شرک پر کوئی دلیل نازل نہیں کی جو اس کے جواز پر دلالت کرتی ہو بلکہ اس کے برعکس اللہ تعالیٰ نے ایسی براہین قاطعہ نازل فرمائی ہیں جو…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 68–78

جہاد فی سبیل اللہ قول باری ہے (وجاھدوا فی اللہ حق جھادہ ھوا جتبکم وما جعل علیکم فی الدین من حرج ملۃ ابیکم ابراہیم اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ جہاد کرنے کا حق ہے اس نے تمہیں اپنے کام کے لئے چن لیا ہے اور دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔ قائم ہو جائو اپنے باپ ابراہیم کی ملت پر) ایک قول کے مطابق آیت کا مفہوم یہ ہے کہ ” اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ جاد کرنے کا حق ہے اور اپنے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت کی پیروی کرو۔ “ اسی بنا پر (ملۃ ابیکم) منصوب ہے بعض مفسرین کا قول ہے کہ اس کے منصوب ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یہاں کملۃ ابیکم مراد ہے۔ تاہم جب حرف جار محذوف ہوگیا تو اسم فعل کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

133 سماعِ حق سے ابنائے کفر و شرک کے چہروں پر ناگواری کے آثار : سو اس سے تصریح فرما دی گئی کہ اللہ کی کھلی آیتیں سننے سے کفار و مشرکین کے چہروں پر ناگواری کے آثار ابھرتے اور ظاہر ہوتے ہیں۔ یعنی ان آیات کے سننے پر۔ جن میں عقائد حقہ اور خاص کر توحید خدا وندی کا بیان ہوتا ہے ‘ (ابن کثیر ‘ صفوۃ التفاسیر ‘ جامع البیان وغیرہ) اور یہی حال ایسے لوگوں کا آج بھی ہے ‘ کہ عقیدہ توحید کے ذکر وبیان سے ان کو آج بھی اسی طرح ناگواری ہوتی ہے ‘ والعیاذ باللہ العظیم سو ان کی محرومی اور قساوت قلبی کا عالم یہ ہے کہ جن فرضی اور وہمی خودساختہ معبودوں کی پوجا پاٹ میں یہ لوگ لگے ہوئے ہیں، ان کے بارے میں عقل و نقل کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 60–78

اللہ کی حاکمیت اور اللہ کے لیے انسان کی بندگی تشریح : اخلاقیات کا ایک بہت بڑا سبق اللہ تعالیٰ دہرا رہے ہیں۔ وہ یہ کہ مسلمان کے لیے اصول بنا دیا گیا ہے کہ ظلم و زیادتی کا جواب اتنا ہی دیں جتنی زیادتی ان پر کی گئی ہو۔ کیونکہ اللہ ظلم کو پسند نہیں کرتا اس لیے اس نے وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ مظلو موں کی مدد ضرور کرتا ہے۔ یہ وعدہ اور یہ اخلاقی اصول کسی معمولی ہستی کے بنائے ہوئے نہیں بلکہ یہ اس رب العلمین کے بنائے ہوئے ہیں جس نے انسان کو پیدا کیا پھر اسکی نشوونما اور آرام و سکون کے لیے آسمانوں کو بلند کیا زمین بنائی اس میں ہر قسم کے چرند ‘ پرند ‘ حیوانات ‘ نباتات ‘ چاند، سورج، ستارے ‘ ندی نالے، دریا،…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 65–72

(رکوع نمبر 9) اسرارومعارف (جدید تکنیک کا علم ضروری ہے) انسان یہ بھی دیکھ رہا ہے کہ اللہ جل جلالہ نے روئے زمین کی ہر شے کو اس کی خدمت پہ لگا دیا اور مختلف اشیاء کے بارے علم حاصل کرکے ان سے بیشمار خدمات لیتا ہے گویا جدید سے جدید تر ٹیکنا لوجی بندہ مومن کا حق ہے اور اسے حاصل کرنا اہل ایمان کی ذمہ داری ہے نیز یہ مطلق انسان کے لیے ہے اس لیے کافر بھی حاصل کرسکتا ہے اور اللہ جل جلالہ ہی کی قدرت سے انسانی سفینے سطح سمندر پہ تیرتے ہیں انسانی عقل اور علوم بھی تو اسی کی عطا ہیں اور پھر ایسے امور بھی تو ہیں جن میں انسانی علم یا عقل کو دخل نہیں مگر وہ سب چیزیں بھی اس کی خدمت پہ لگی ہیں جیسے سورج چاند…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

6 ۔ یعنی غصہ سے ایسی شکل بناتے ہیں گویا ابھی کاٹ کھائیں گے۔ قاضی شوکانی (رح) لکھتے ہیں : ” یہی کیفیت اہل بدعت کی ہوتی ہے جب انہیں قرآن کی کوئی ایسی آیت یا نبی ﷺ کی کوئی ایسی صحیح حدیث سنائی جاتی ہے جو ان کے باطل عقائد کی تردید کرتی ہو۔ (فتح القدیر) 7 ۔ یعنی کلام الٰہی کی آیات سن کر تم میں غصہ کی جو کیفیت پیدا ہوتی ہے یا ان آیات کے سنانے والوں کے ساتھ جو برے سے برا سلوک تم کرسکتے ہو کیا میں تمہیں اس سے بھی بری چیز نہ بتائوں جس سے تمہیں سابقہ پڑنے والا ہے ؟ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(22:72) تتلی۔ مضارع مجہول واحد مؤنث غائب۔ بمعنی جمع مؤنث غائب تلاوۃ مصدر (جب) وہ پڑھی جاتی ہیں۔ یا اس کی تلاوت کی جاتی ہے۔ بینت۔ وضاحت کے ساتھ۔ کھول کھول کر۔ صاف صاف (ایت سے حال ہے) تعرف۔ مضارع واحد مذکر حاضر۔ تو پہچان لے گا۔ تو پہچانا گا۔ (بمعنی تو دیکھے گا) تو پہچان لیتا ہے۔ معرفۃ وعرفان مصدر۔ (باب ضرب) ۔ المنکر۔ ناخوشی۔ ناخوشی ونفرت کے آثار ۔ اسم مفعول واحد مذکر۔ وہ قول وفعل جس کو عقل سلیم برا جانتی ہو یا شریعت نے اسے برا قرار دیا ہو۔ (یعنی جب ہماری آیات ان کو وضاحت کے ساتھ کھول کھول کر سنائی جاتی ہیں تو تو ان کے چہرے پر ناپسندیدگی اور نفرت کے آثار دیکھے گا) ۔ یکادون۔ مضارع جمع مذکر…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 67–72

لغات القرآن آیت نمبر 67 تا 72 : امۃ (امت۔ جماعت) ‘ منسکا (طریقہ عبادت و بندگی) ‘ ناسکون (وہ اس (طریقہ) پر عبادت کرتے ہیں۔ عبادت کرنے والے) ‘ ینازعن (وہ جھگڑا کرتے ہیں) ‘ ادع (بلائیے۔ دعوت دی جئے) ھدی (ہدایت) ‘ جادلو (وہ جھگڑنے والے ہیں) ‘ یسیر (آسان) ‘(لم ینزل ( نہیں اتارا) ‘ سلطان (سند۔ دلیل) ‘ المنکر (ناگوار) ‘ یکادون (وہ قریب ہوتے ہیں) ‘ یسطون (وہ حملہ کرتے ہیں) ‘ انبئی (میں بتاتا ہوں) ۔ تشریح : آیت نمبر 67 تا 72 : اللہ تعالیٰ نے تمام لوگوں کی ہدایت و رہنمائی کے لئے جتنے رسول بھیجے انہوں نے اللہ کے حکم سے اپنی امتوں کو طریق عبادت سکھایا۔ خاتم الانبیا حضرت مصطفیٰ ﷺ کو بھی اللہ نے عبادت کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 71–72

کفار کا ذکر۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ یہ مشرک لوگ کیسے بیوقوف ہیں کہ سوا اللہ کے اور چیزوں کی پرستش کرتے ہیں حالانکہ ان کی معبودیت کی کوئی دلیل نہیں اور اللہ کی طرف سے بھی ان کے پاس کوئی بھی سند نہیں اور ان کا یہ مقولہ ہے کہ یہ بت بروز قیامت ہماری شفاعت کریں گے خدا نے ان کی نام کوئی پروا نہ بھیجا ہے جس کی وجہ سے وہ اس بات کے مدعی ہیں اور ان ظالموں کا کوئی بھی مددگار نہیں پھر فرمایا کہ اللہ کے علم غیب کے موافق ان میں جو لوگ گمراہ ٹھہرچکے ہیں ان کا حال یہ ہے کہ جب قرآن کی آیتیں ان کے سامنے پڑھی جاتی ہیں جس میں بیان احکام اور تفصیل حلال و حرام ہے حالانکہ یہ ایسی روشن ہیں کہ ان آیات کو مانتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 71–72

[50] یعنی تمہاری اس ناگواری سے بڑھ کر جو اللہ کی آیات پڑھے جانے پر پیدا ہوتی ہے ایک ناگوار تر چیز اور وہ ہے دوزخ کی آگ جس پر تم کسی طرح صبر نہ کرسکو گے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 2) ارشاد ہے کہ گو قرآن ہمہ خیر و برکت ہے اور اس کے دلائل واضح اور روشن ہیں مگر منکرین کے دلوں میں اس کے خلاف بغض وعناد ہے کہ وہ شائستگی کے ساتھ اس کو سن بھی نہیں سکتے حضور ﷺ جب ان تمام بدبختوں کو قرآن سناتے اور چاہتے کہ ان کو محرومی اور بدنصیبی کی دنیا سے نکال کر سعادت و فلاح کی دنیا میں پہنچا دیا جائے ، تو یہ شقیان ازلی نہایت تنفص اور تنفر کا اظہار کرتے ہیں گویا قرآن بہت تلخ جرعون کا نام ہے جو ان کے حلق میں نہیں اڑتے ۔ فرمایا تم قرآن حکیم کی آیتوں کو ناگوار سمجھ کر نہیں ، سنتے ہو مگر میں تمہیں بتاؤں ایک اس سے بھی کہیں ناگوار چیز تمہیں برداشت کرنا پڑے گی اور وہ آگ ہے ، جہنم کی آگ ، کیا اس…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(72) اور جب ان لوگوں پر ہماری کھلی اور واضح آیات تلاوت کی جاتی ہیں اور ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو آپ کافروں کے چہروں پر برے آثار دیکھتے ہیں اور منکروں کی بری شکل دیکھتے ہیں اور ان برے آثار سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قریب ہے یہ ان لوگوں پر جھپٹ پڑیں جو ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں آپ ان کافروں سے کہہ دیجئے کہ میں تم کو اس سے بڑھ کر ناگوار اور بری چیز بتادوں وہ دوزخ کی آگ ہے اس آگ کا اللہ تعالیٰ نے کافروں سے وعدہ کیا ہے اور وہ واپس جانے کی بہت بری جگہ ہے۔ یعنی ان منکرین دین کی حق کی یہ حالت ہے کہ جب ان کے سامنے قرآن کریم کی وہ آیتیں پڑھی جاتی ہیں جو واضح اور کھلے دلائل پر مشتمل ہیں اور…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 72–73

ف 5۔ جیسے چہرے پر بل پڑجا نا ناک چڑھ جانا، تیور بدل جانا۔ 6۔ یعنی قرآن سے ناگواری کا نتیجہ ناگوار دوزخ ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جب ان لوگوں پر ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو ان کے تیور بدل جاتے ہیں : 72۔ مشرکین ومعاندین کے پاس دلیل تو ہے نہیں کہ وہ پیش کردیں پھر جب ان کے بےدلیل نظریات عقائد کی تردید میں آیات بینات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو اس وقت ان کی حالت دیدنی ہوتی ہے ان پر نظر ڈالو تو غصہ سے وہ لال پیلے ہوتے ہیں اور آنکھیں ہیں کہ پھٹی جا رہی ہوتی ہیں ایسے جیسے ان کے تن بدن میں آگ لگ گئی ہے اگر ان کے بس میں ہو تو وہ آیات بینات پڑھ کر سنانے والوں کو یکبارگی حملہ سے ہلاک کرکے رکھ دیں ، فرمایا یہ تو ان کی ظاہری حالت ہے جس سے ان کو نکالا نہیں جاسکتا کیوں ؟ اس لئے کہ اس کا باعث ان کی جہالت ہے کیا کسی کی جہالت کو فورا علم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 67–72

Commentary لِّكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنسَكًا (For every ummah (religious community) We have appointed a way of worship - 22:67). This sentence has come earlier in almost identical words in verse number 34 of this Surah, but the word مَنسَكً (mansak) conveys a different meaning in each verse. In the earlier verse the words مَنسَكً and نسَكً have been used in the context of the rites of Hajj and mean sacrifice of animals, while in the present verse the word مَنسَكً has been used in the sense of the rules of slaughter or general rules of worship. That is why, unlike the verse 34, the present…

Read the full tafseer →